اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں ہم خود کو ہلاک کر لیں گے وہ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں اور جب ہم وہاں سیر […]
دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا ___یا شاید___ متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات […]
اجنبیت سے بھرا دن (ثاقب ندیم)

اجنبیت سے بھرا دن اہم شخص کو غیر اہم بنا سکتا ہے میں ایک اجنبی دن کے اندر سے گُزرا جہاں خاموشی کمرے کی درزوں سے بہہ رہی تھی جہاں تمہاری آنکھوں میں ایک اجنبی اداسی تھی یہ میرا پہلا تعارف تھا اُس لہجے سے جِس میں اجنبی دن بولا کرتے ہیں اور پاس سے […]
غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !! غلام گردشوں کے نگہبان ستارے فرق نہیں کرتے کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں اتر آتے ہیں بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے یا کسی بھی روزن سے کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی ہمیں روک نہیں پاتے تمہارے گال […]
میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند میں پرانی ہو چکی ہوں کسی پوسیدہ تحریر کی مانند کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف اپنے معنی کھو چکے ہیں میں پرانی ہو چکی ہوں اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے میں […]
پہلے کئی بار کہا گیا سوچا گیا خیال (عظمیٰ طور)

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وقت کا پہیہ اچھی طرح سے گھوم کر ایک نئے چکر کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے پھر سے گھمایا جاتا ہے کہ دنیا رک جانے کے لیے تو نہیں ہے ناں یہاں کوئی رک جائے اگر اسے کھڑے پانی کی مثالوں سے تم تشبیہ دیتے ہو میرا […]
Vibes اور دیگر نظمیں (ماریہ حبیب)

[blockquote style=“3”] یوتھ یلزایک رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید […]
سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں مگر ٹوٹ چکی ہیں اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت کہاں ہے میں اس سماعت کے مفلوج ہونے کی بھی گواہ ہوں جو گفتار کو اپاہج سمجھ کر خود اپنی ہی سناٹوں میں گونجتی اپنی آوازوں سے محظوظ ہونے کی […]
مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]
دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے لیے؟ دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے فلسفی قاصر رہے ہم تمام عمر ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے ہمیں معلوم نہ ہو سکا اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے یا شاید اپنے […]
ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا ہمیں بھول جانا چاہیئے اس بوسے کو جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا اور نہیں نکلتا اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا […]
جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]
ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں اور […]
خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں کے لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے نابود ہو گئے میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے اور زمانے نے اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے روشن خوابوں کو اغوا […]
نو سال (عظمیٰ طور)

وہ جب کتاب ہاتھ میں لیے “حسن کوزہ گر” پڑھتا تو اس کے لہجے میں اِک عجیب درد اتر آتا شروع کی سطریں پڑھتے ہوئے وہ اُسے مخاطب کئے اُسے پکارتا “جہاں زاد یہ میں حسن کوزہ گر ہوں” اُس کی آواز کے زیروبم سے “نظم” دلوں میں گھر کئے ہوئے تھی وہ اکثر یہ […]