پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے […]
یاد آتا رہا

سارے اُس نے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے
معنیٰ کے اثبات میں اور دیگر نظمیں

لکیر کے پار کچھ نہیں ہے
نہ تم کہیں ہو نہ میں کہیں ہوں
ہمیں اپنی محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور دیگر نظمیں

ہمیں محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہماری تمام خوشیاں ان کے جسموں میں دفن ہیں
اختر حسین جعفری: ایک مطالعہ، ایک مشاہدہ

رسالہ فنون کے تاثرات کے گوشے میں محترمہ منصورہ احمد کی نظم بعنوان مجھے رستہ نہیں ملتا پر اپنا تاثر رقم کرتے ہوئے معروف شاعر اور نقاد جناب غافر شہزاد فرماتے ہیں: “منصورہ احمد اپنی نظم اس سطر سے آغاز کرتی ہیں مجھے رستہ نہیں ملتا منصورہ احمد کے قریب کھڑا دوسرا شخص بھی یہی […]
آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے! (ایچ-بی-بلوچ)

یہ ہماری گلی کا نکڑ ہے !
یہاں گھوڑے باندھنے کی کوئی جگہ نہیں !
سدِ راہ (اسد فاطمی)

دفعہ نمبر 55: “(1) پولیس سٹیشن کا کوئی افسر مجاز ہے کہ اسی طرح گرفتار کرے یا کرائے۔۔۔ ۔۔۔(ب) ایسے ہر شخص کو جو ویسے سٹیشن کی حدود کے اندر بظاہر کوئی ذریعۂ معاش نہ رکھتا ہو، یا تسلی بخش وجہ نہ بتا سکتا ہو۔” دفعہ نمبر 109: “جب کسی [مجسٹریٹ درجہ اوّل] کو یہ […]
تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
ہم قیدی ہیں (صدیق شاہد)

ہم قیدی ہیں
اور ہمارے چاروں طرف دیواریں ہیں
دو نظمیں (عبدالودود دائم)

میں نے نظمیں کہیں
جن کی آنکھیں نہیں تھیں!
یہ کوئی نظم نہیں ہے اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

میرے پاس اب صرف دل بچا ہے
جس کے ذریعے
میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں
قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
چائے کے لیے ایک نظم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

شاعر کی آنکھ کھلتی ہے
اور وہ خود کو زندہ پاکر خوشی سے پاگل ہونے لگتا ہے
پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن اور دیگر نظمیں (روش ندیم)

بچارے وقت کو بس دوڑنے
اور ہانپنے
یا بیت جانے کے سوا
آتا ہی کیا کچھ ہے؟
خواب دیکھنے سے پہلے اور دیگر نظمیں (نصیر احمد ناصر)

زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر
محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!