
کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص تمام رنگ
کلام: محمد علی جوہر نعت خواں: قاری وحید ظفر قاسمی تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں اب ہونے لگیں ان سے خلوت
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
میں اس خوبصورت سی لکڑی کی بینچ پر بیٹھ کر قریب پچیس ہزار بار خود کو سمجھا چکا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے
نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے
اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام
[blockquote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں
ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار
ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں” ’’مبارک ہو
میں اس سے جب ملی تھی وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ بڑے سبھاؤ سے گزار چکا تھا میں بھی __
اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار میرے یار تم جیو بہتر سال میری اس
زندگی اور موت میں ایک سانس کا فرق ہے ایک سوچ کا سانس اکھڑ سکتی ہے انکاری دل کی دہلیز پر پس سکتی ہے آخری
