ابھی دہشت کا موسم ہے
(١) گھروں میں بند بچے ورد کرتے ہیں خموشی کا کہ زنداں خیریت سے ہیں وہاں زنجیر میں جکڑے ہوئے…
(١) گھروں میں بند بچے ورد کرتے ہیں خموشی کا کہ زنداں خیریت سے ہیں وہاں زنجیر میں جکڑے ہوئے…
ہوائے رنگِ گریزاں میں برگِ آوارہ اڑا تو اڑ کے نجانے کدھر کو جا نکلا کہاں تھی مہلتِ تعبیرِ خوابِ…
اور پھر ہم چلتے رہے ٹیڑھے میڑھے مگر ہموار ٹریک پر ہاتھوں میں موبائل پکڑے ہیڈ فون کانوں پہ چڑھائے…
ہمیشہ سوچتا ہوں میں یہ اک نیلی سی چھتری جو مرے سر پر تنی ہے اس کے پیچھے اور کیا…
کِھلے ہوئے گلاب رخ ہرے بھرے جوان تن دزار پیڑ وقت کی زمین پر کھڑے ہوئے پرکاش کی تلاش میں…
پلکیں خون سے جم رہتی ہیں، آنکھیں رو رو تھم رہتی ہیں راتیں بستر پر نہیں سوتیں، برف کی سل…
میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا یہ بہت خوشگوار تھاتمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیاتم کوئی…