Categories
فکشن

اُداس ماسی نیک بخت (محمد جمیل اختر)

وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔

میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں دیکھا تھا، اُس وقت وہ بہت ضعیف تھیں۔ بعض لوگوں کو دیکھ کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ بچپن میں یا جوانی میں وہ کیسے رہے ہوں گے، سو میں کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ بچپن میں یا جوانی میں کیسی رہی ہوں گی میں نے انہیں جب دیکھا اُداس دیکھا شاید وہ بچپن میں بھی اُداس ہی رہتی ہوں۔

وہ پرانے محلے میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے ہمارے چھوٹے سے شہر کا پرانا محلہ ہی اصل میں آباد محلہ تھا اور یہاں بڑی رونق تھی یہاں سارے گھر پرانی طرز پر بنے ہوئے تھے تقسیم کے بعد بھی یہاں کافی آبادی تھی لیکن پھر لوگ پرانے مکانوں سے اُکتا نے لگے یا شاید چھوٹے مکانوں میں ان کا دم گھٹنے لگا تھا اور انسان ویسے بھی ایک جگہ پر زیادہ عرصہ رہ نہیں سکتاسو لوگ اب اس محلے سے نکل کر ارد گرد مکان بنانے لگے تھے لیکن ماسی نیک بخت کہاں جاتیں اور کیسے جاتیں اُن کا اِس دنیا میں اب تھا ہی کون۔

اُن کے شوہر کو پانچ سال پہلے ٹی بی ہوئی اور وہ چل بسا، کوئی اولاد تھی نہیں کہ بوڑھی نیک بخت کا سہارا بنتی سو زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے انہوں نے گھر ہی میں بچوں کی ٹافیاں اور کھلونے بیچنے شروع کردیئے۔ جب پرانے محلے میں آبادی تھی تو ان کی دُکان پر بچوں کا کافی رش رہتااور پھر ہر سال جب لوگ زکوۃٰ دیتے تو کسی نہ کسی کو بوڑھی نیک بخت کاخیا ل آجاتا کہ اِدھر محلے میں ایک بوڑھی بیوہ بھی رہتی ہے جس کو زکوۃٰ دی جا سکتی ہے۔

ماسی نیک بخت کے سارے گھر میں بس ایک کمرہ تھا جس میں دو چارپائیاں پڑی رہتی تھیں پہلے ایک چارپائی پر خیردین (ماسی کا شوہر)سارا دن پڑا کھانستا رہتا پھر جب وہ چل بسا تو ماسی نے اُس چارپائی پربچوں کی ٹافیوں اور کھلونوں کی دکان کھول لی، غریب کی کوئی بھی چیز بیکار نہیں جاتی۔

خیردین کے فوت ہونے کے بعد کسی نے بھی ماسی نیک بخت کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا وہ ہمیشہ ہی اُداس رہتیں اتنی اُداس کہ ایسا اُداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔

جوں جوں محلے کی آبادی کم ہوتی جارہی تھی اداسی بڑھتی جارہی تھی مجھے ابھی بھی یاد ہے اُن دنوں جب ہم ماسی کی دکان پر جاتے تو وہ روز ہم سے یہی سوال پوچھتیں

’’مسجد گئے تھے؟ــ‘‘

’’جی ماسی‘‘

’’کتنی صفیں تھیں؟‘‘

’’ماسی تین‘‘

اور وہ ایک آہِ سرد کھینچتیں اور کہتیں

’’خیر دین تمہارے ہوتے پانچ صفیں بنتی تھیں۔‘‘

سارا محلہ ویران ہوتا جارہا تھا لوگ باغوں کے پاس بننے والی نئی ہاوسنگ سوسائیٹی میں جانے لگے تھے۔

پھر ہوتے ہوتے ایک صف بننے لگی، اُداسی اور بڑھ گئی۔

ان کے پڑوسی اشرف چچا ابھی بھی ساتھ والے مکان میں آباد تھے، جس سے ماسی کو بڑی ڈھارس ہوتی کہ چلو دیوار کے اُس پار کوئی تو ہے۔لیکن اب اشرف چچا کو بیٹھے بٹھائے پرانے محلے میں سو عیب نظر آنے لگے تھے’’ یہاں گلیاں تنگ ہیں، صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے، نیا محلہ باغو ں کے پاس بنا ہے اس میں خوبیاں ہی خوبیا ں ہیں ‘‘۔

سوآخر وہ بھی پرانے محلے سے اُکتا گئے اور انہوں نے نئے محلے میں مکان بنواناشروع کردیا۔

اُن دنوں اشرف چچا کا بیٹا ناصر اور میں جب ماسی کے گھر جاتے تو ماسی برآمدے کی دیوار سے ٹیک لگائے پتہ نہیں کس سے باتیں کر رہی ہوتی تھیں۔

’’بن گیا تمہارا مکان؟‘‘ماسی ناصر سے پوچھتیں ۔

’’ بس ماسی کچھ دنوں میں بن جائے گا‘‘ ناصر جواب دیتا۔

’’اتنا پیارا مکان چھوڑ کر جارہے ہو میں کہتی ہوں پھر یہ محلہ اور ایسے لوگ نہیں ملیں گے تمہیں۔ اور یہ تم لوگوں کے پودے سارے کے سارے برباد ہوجائیں گے اور یہ آم کا درخت یہ بھی سوکھ جائے گا‘‘۔

’’ماسی ابا کہتا ہے اُدھر سکون ہی سکون ہے۔‘‘

’’ابا کو کہو جگہیں بدلنے سے سکون نہیں ملتا ‘‘۔

’’نہیں ماسی اِدھر بڑے مسئلے ہیں یہاں گلیاں تنگ ہیں وہ جو گاڑی چلاتے ہیں نا وہ ہماری گلی میں نہیں آسکتی اور ماسی اُدھر باغ بھی ہیں ‘‘۔

’’باغ ہیں تو کیا ہواتم نہیں جاو ٔگے تو باغ اکیلے ہوجائیں گے، اداس ہوں گے، روئیں گے کیا؟‘‘

’’نہیں ماسی وہ تو درخت ہیں۔۔۔۔وہ بھلا کیوں روئیں گے‘‘۔

’’یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ وہ درخت ہیں اکیلا تو بندہ ہوتا ہے۔۔۔‘‘

ماسی جو بھی چیزیں بیچتی تھیں وہ سارا سامان گلی کے نکڑ پر بنی امام بخش کی دکان سے آتا تھا، جوں جوں آبادی کم ہوتی جارہی تھی امام بخش کی بِکری بھی کم ہوتی جارہی تھی اور ایک دن وہ بھی پرانے محلے سے اکتا گیا اور اس نے بھی نئے محلے میں ایک دکان کرائے پر لے لی اور وہیں چلا گیا، ا ب ماسی کو سامان کون لاکر دیتا، بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی طاقت نہیں تھی کہ بازار تک جا کر سامان خریدیں سو اس پریشانی میں بیمار ہوگئیں، پڑوسی تیمارداری کو آئے تو ماسی نے اپنی پریشانی بتائی کہ اب کھاؤں گی کہاں سے، تو اُس وقت اشرف چچانے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ’’ ماسی تو پریشان نہ ہو کھانا میرے گھر سے آئے گا‘۔‘

ماسی جو کئی روز سے اپنی دکان کے بند ہونے کے غم کو سینے سے لگائے پریشان تھیں ان کا کچھ بوجھ کم ہوا، اُٹھ کے اشرف پتر کی پیشانی چومی اور ڈھیروں دعائیں دیں۔

اور پھر کچھ دن بعد اشرف صاحب کا مکان بن گیا اور جس روز سامان منتقل ہورہا تھا اس دن ماسی بہت اداس تھیں، بار بار گلی کے دروازے سے دیکھتیں کہ یہ لوگ چلے تونہیں گئے اتنا غم شاید اشرف چچا کو اپنے پرکھوں کا گھر چھوڑنے پر نہیں ہوگا جتنا ماسی کو ان کے جانے کا تھا۔ اب تو دیوار کے اُس پار بھی کوئی نہیں ہوگا ا ور اب تو دکان بھی نہیں چلتی۔

شام تک سار ا سامان منتقل ہوگیا تھا سو اشرف چچا اپنے بیوی بچوں سمیت ماسی کو ملنے آئے۔

’’اچھا ماسی اجازت، بڑا اچھا وقت گزرا پتہ نہیں اب وہاں آپ جیسے اچھے پڑوسی ملیں نہ ملیں، آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو کوئی بھی کام ہو، آپ کا بیٹا حاضر ہے ‘‘۔

’’جیتے رہو بچو، جیتے رہو، سدا سکھی رہو، رونقیں لگی رہیں ــ‘‘ ماسی کی آنکھیں نم تھیں او ر لب دعاگو تھے۔

اشرف صاحب اور ان کی فیملی جب گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ماسی اپنے گھر کے دروازے کا پردہ ہٹاکر انہیں دیکھ رہی تھیں اس وقت میں نے جو آنکھیں دیکھیں تھیں وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنی اُداس آنکھیں میں نے پھر کسی کی نہیں دیکھیں۔۔۔۔

Categories
فکشن

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔

چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔

’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘

شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔
اس پر قہقہہ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟
کس کی ہے؟
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔
ہم سمجھے نہیں۔
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

Categories
فکشن

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin

Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹِک ٹِک ٹِک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ٹِک ٹِک ٹِک
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔
ٹِک ٹِک ٹِک
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔
’’کوئی نہیں آرہی‘‘
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔
’’سنو، آرہی ہے‘‘
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا
’’السلام علیکم ـ‘‘
’’وعلیکم السلام
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘
۔
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔
’’اوہ میرے خدا
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘

Categories
فکشن

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “
“نہیں جناب، یہی حل ہے”
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔
“اچھا “ جواب ملا۔
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔

ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔

ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔

اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا
“جی ہاں۔”

“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”
“جی جانتا ہوں“
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”

“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”
“خدا حافظ”
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔

Categories
شاعری

قتل گاہیں (ایک ٹیلی ڈاکیومنٹری)

کورس : chorus: دو مرد، دو عورتیں
راوی ایک : کیمرہ رولنگCamera rolling
راوی دو : کیمرہ ذوُم Camera zoom
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کورس :
وہ لاشیں جن کو شمال مغرب سے آنے والے
ہلاکوؤں نے
یہیں کہیں، اس زمیں میں دفنا دیا تھا۔۔۔
سوچا تھا، اب قیامت تلک یہ زیر زمیں
رہیں گی ۔۔۔۔۔ وہ پھوٹ نکلی ہیں، لاکھوں لاشوں
کی شکل میں ۔۔۔۔کھیت جھومتے ہیں
کہ مردہ جسموں کی فصل اب لہلہا رہی ہے

راوی ۔۱
بھرے پُرے گھر کی ماں، بہن ، یا کسی کی بیوی
ضعیف عورت، جو اب بھی زندہ ہے، جی رہی ہے
اکیلی نکلی ہے گھر سے باہر
وہ گھر جسے شب گزیدہ صبح کی تیرگی نے
کچھ اور تاریک کر دیا ہے
درون ِ خانہ کوئی نہیں ہے !

راوی ۔۲
۔۔۔۔گلی بھی کیا ہے، پچاس پچپن
سے کچے پکے گھروں کا اک سلسلہ ، جو گاؤں
کی ساری گلیوں کو جوڑتا ہے

راوی۔۱
گلی میں خاموش آہٹیں، اُن پلٹتے قدموں
کی بھولی بھٹکی نشانیاں، جو
گذشتہ شب آنے والے دہشت پسند اپنے
جلو میں لائے تھے ۔۔۔ اب کہیں باز گشت بن کر
سسک رہی ہیں
ہوا بھی چلتی ہے، آہیں بھرتی ہوئی
سسکتی ہوئی کہ اذنِ فغاں نہیں ہے!!

راوی ۔۲
گلی سے کچھ دور کھیت ہیں ۔۔دور دور ، حدِ نظر تلک
بیچوں بیچ پگڈنڈیاں ہیں
پنچائتی کنواں ہے
چبوترے کے قریب چاروں طرف
بچھی ریتلی زمیں پر
پڑے ہیں کچھ لوگ ۔۔۔ایسے لگتا ہے
جیسے تھک ہار کر مسافر
تکان سے گر گئے ہیں رستے میں
سو گئے ہیں !
کنوئیں کے اُس پار اک سگِ نیم جاں
نقاہت سے بھونکتا ہے

راوی ۔۱
کسی طرف زندگی کے آثار تک نہیں ہیں
کہ صبحِ صادق تو اب بھی شاید
گذشتہ شب کے اندھیرے گنبد
میں بند ہے، بیٹھی رو رہی ہے

راوی۔۲
قدم تو اُٹھ ہی نہیں رہے ہیں
کنوئیں کے اُس پار تک پہنچنا
بہت کٹھن ہے

راوی۔۱
یہ راستہ تو ہزاروں برسوں کے فاصلے سے
طویل تر ہے
وہ فاصلہ جو ضعیف مائیں جوان بیٹوں
کی میتوں میں
قدم قدم گِن کے ماپتی ہیں!

راوی ۔۲
ضعیف عورت کی انگلیاں جب بھی کانپتی ہیں
تو لیمپ اپنی اُداس آنکھوں سے صبحِ کاذب
کی دھند کو چیرنے کو کوشش میں
ڈگمگاتا ہے، بجھنے لگتا ہے
نیم جاں سا !
کنوئیں کے اُس پار کیا ہے، دیکھیں ۔۔۔۔
کنوئیں کے اُس پر لوگ اُدھڑے پڑے ہیں جیسے ۔۔۔
ٖٖٖٖ لحاف پھاڑے گئے ہوں ۔۔۔۔
روئی کے گٹھے گٹھے، لہو میں لتھڑے ہوئے پڑے ہوں
راوی۔۲
کٹے پھٹے ہاتھ، پاؤں، ٹانگیں
لہو لہو چاک گردنیں، اُدھڑے اُدھڑے چہرے
سبھی طرف خالی کارتوسوں کے خول ۔۔۔
راوی ۔۱
محشر کی یاد گاریں
راوی۔۲
ضعیف عورت پہنچ گئی ہے
لہو سے لت پت ۔۔۔ یہ ایک چہرہ
جو ہو بہو اس کے چھوٹے بیٹے سا لگ رہا ہے
مگر نہیں ہے!
راوی ۔۱
جھکایا یوں لیمپ کو کہ پہچاننے میں مشکل نہ ہو ۔۔۔
راوی۔۲
کہاں ہیں وہ لال چاروں جو
مامتا کی انمٹ نشانیاں ہیں!

کورس (چار بار)
کہاں ہیں وہ لال چاروں جو
مامتا کی انمٹ نشانیاں ہیں

راوی۔۱
کٹی ہوئی ایک شاخ
ٹوٹا ہوا تناور درخت
؎ کڑیل جوان کی لاش ۔۔۔
کورس
ہائے ، ہائے

راوی ۔۲
جھکی ، خمیدہ کمر سے ، تکلیف سے کراہی
ضعیف عورت!
کسی نصیبوں جلی کے بیٹے کی لاش تھی ۔۔۔
آنکھیں وا تھیں، ہاتھوں سے گال سہلائے ۔۔۔
بند کر دیں!
راوی ۔۱
یہ کون ہے؟
اس کو جانتی ہے، ضعیف عورت؟

راوی۔۲
کٹا پھٹا، گولیوں سے چھلنی
وہ جسم اک مردِ پیر کا ۔۔۔
شکستہ عینک قریب ہی ریت پر پڑی ہے
بزرگ، عزت ماّب ، اسکول کا معلم
راوی۔۱
۔۔۔ ہاں، وہی ہے
ضعیف عورت کا بھائی، ماں جایا، چھوٹا بھائی
راوی۔۲
وہ چیخ ۔۔۔جو رات سے گلے میں پھنسی ہوئی تھی
کچھ ایسے پھوٹی ہے ۔۔۔
راوی۔۱
۔۔۔پھڑ پھڑا کر اُڑا ہے اک رات کا پرندہ
قریب کی سبز جھاڑیوں سے ۔۔۔
راوی ۔۲
یہ میرا ہمشیر ، ہائے، ماں جایا، میرا بھائی!!
راوی ۔۱
کٹی ہوئی چند اور شاخیں ۔۔۔
راوی۔۲
گرے پڑے زندگی کے ٹُکڑے ۔۔۔ کہاں ہیں ، لیکن
وہ اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے؟
کہاں ہے اس کا میاں؟ کہاں ہے؟؟
راوی ۔۱
چلو ذرا اور، آگے دیکھو
راوی۔۲
اُٹھی، خمیدہ کمر کو اک ہاتھ سے سنبھالے
کچھ اور آگے
کچھ اور آگے
قدم تو اُٹھ ہی نہیں رہے ہیں
مگر ذرا اور ۔۔۔۔اور آگے!
راوی۔۱
نہیں، یہ اس کا بدن نہیں ہے
نہیں کوئی اور ہے، یقینا
یہ اس کا خاوند نہیں ہے، لیکن
ذرا سے شک کو بھی رفع کرنا
بہت ضروری ہے ۔۔۔
راوی۔۲
ضعیف عورت نے ۔۔۔۔ دیکھو ، دیکھو
وہ لیمپ نیچے کیا، جھکی ، اور جھک کے دیکھا
تو گر گئی وہ۔۔۔
راوی۔۱
ہائے، ہائے
راوی۔۲
وہی ہے یہ تو!
یہ اُس کا سینہ، یہ ُاس کے بازو، یہ ُاس کا چہرہ
یہ پائوں ۔۔۔ سب گولیوں سے چھلنی ہیں ۔۔۔

کورس ۔ ہائے ہائے
ہائے ہائے
ہائے ہائے
ہائے ہائے
راوی ۔۱
لہو جو مٹی میں جذب ہوتا رہا ہے
۔۔۔۔اب جم گیا ہے، سُرخ و سیاہ سا ۔۔۔
راوی ۔۲
ہائے ہائے
راوی۔۱
پلٹ کے پھر لیمپ کو اُٹھایا
یہ ایک منزل تو طے ہوئی، اب
کہاں ہیں اس کے و ہ لال چاروں
وہ چاروں ، کڑیل ، جوان بیٹے؟
راوی۔۱
ہوا سبک کر ذرا چلی، تو
ہری بھری فصل ساتھ کے کھیت میں سسکنے لگی
کہ اُس کو لتاڑ کر جانے والے دہشت پسند خود تو
چلے گئے تھے
مگر جنہیں گولیوں سے چھلنی کیا تھا، وہ سب
مرے پڑے ہیں
کمر کمر اونچی فصل چاروں طرف
نگہبان سنتری کی طرح کھڑی ہے!
راوی۔۲
وہ چار بیٹے۔۔۔
راوی۔۱
کمر کمر فصل ہے، مگر بیچوں بیچ
چاروں کے جسم ۔۔۔۔
راوی ۔۲
ایسے پڑے ہیں جیسے ابھی اُٹھیں گے!
راوی۔۱
کٹی پھٹی چار سُرخ شاخیں
جو گرتے گرتے
الجھ گئی ہیں
لہو کے سب پھول جھڑ گئے ہیں !
راوی۔۱
ضعیف ماں کے جوان بیٹوں کی سرد لاشیں
پڑی ہیں، ہاتھوں میں ہاتھ
اک دوسری سے لپٹی ہوئی
کہ جیسے
حیات میں بھائی بھائی چاروں
الگ نہیں تھے!
راوی۔۲
ضعیف عورت کے ہاتھ سے لیمپ گر گیا
اور ایسے اُلٹا
کہ بجھ گیا، تو پچھاڑ کھا کر گری، وہ ۔۔۔۔
راوی۔۲
وہ بیٹوں کی موت خود مر گئی
کہ ماں تھی!
کورس
ہزاروں لاشیں
جو آج دفنائی جا رہی ہیں
مری نہیں ہیں
کہ وہ تشدد جو آج لاشوں کو بو رہا ہے
کبھی اُگے گا
تو لاکھوں لاشوں کے کھیت کھلیان لہلہائیں گے۔۔
قتل گاہیں ہیں کھیت، کھلیان
قتل گاہیں ہیں گاوں، چوپال اور پنگھٹ
کنوئیں، کنووں کی منڈیریں، کھیتوں کی باڑ
پگڈنڈیاں، چو رستے
یہ قتل گاہیں ہیں!
قتل گاہیں ہیں !!
(فیڈ آوٹ)

Categories
فکشن

گورکھ دھندہ

دلدل کے ساتھ میرا رشتہ میری پیدائش سے پہلے کا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میں پوری طرح سے جنم نہیں لے سکا تھا۔ میرا بہت سا حصہ ایک دلدل میں رہ گیا تھا۔ میں چاہ کر بھی اس سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ہمہ وقت میرا پیچھا کرتا رہتا تھا میں جتنا اس سے نکلنے کی کوشش کرتا اتنا اس میں دھنستا چلا جاتا۔ ایک لڑکے کے لئے اس کا دلدلی ماضی کافی بھیانک تجربہ ہوتا ہے۔ میں ایک سادہ سے دیہاتی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ میں ایک گم صم اور اداس رہنے والا بچہ تھا جسے تاریکی سے ڈر لگتا تھا اور رشنی سے بیگانگی سی محسوس ہوتی تھی۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ رات کو ہم سبھی صحن میں چارپائیاں ڈال کر سو جاتے تھے مگر مجھے بہت دیر تک نیند نہ آتی میں اندھیرے میں کچھ کھوجنے کی کوشش کرتا رہتا۔ کچھ سائے کچھ پرچھائیاں ہوتیں جن کے نقوش قدرے واضح ہوتے ذرا غور کرنے سے تصویر مکمل ہو سکتی تھی مگر میں قصداً ایسا نہیں کرتا تھا۔ میں اس خوف اور تجسس کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ رات صحن میں نامعلوم آوازیں گونجنے لگتی جو میری چارپائی کی داہنی سمت سے آیا کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی کیچڑ بھری زمین میں تیز تیز قدموں سے چل رہا ہے۔ اس دھپ دھپ کی آوازوں کے ساتھ کچھ پسینے بھری آوازیں بھی ابھرتی تھی۔ جی ہاں کچھ آوزیں پسینے سے بھری ہوتی ہیں۔ ان کو سنتے ہی آپ اپنے وجود میں چپچپی سی گیلاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کچھ ہاتھ بہت تیزی سے میری چارپائی کی پائنتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں خوفزدہ نظروں سے ان کی سمت دیکھنے کی کوشش کرتا مگر مجھے کچھ سایوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا اور میں چارپائی کے ایک کونے میں دبک جاتا اور ان ہاتھوں کا اپنی چارپائی تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگتا۔ یہ سنسنی بھر ا انتظار ایک خوف، اداسی اور بے چینی بھری لذت کا مرکب ہوتا۔ میں تیزی سے بھیگنے لگتا اور میرا اپنے دلدلی وجود سے رابطہ بحال ہونے لگتا۔ میری نیند کبھی پوری نہیں ہوتی تھی اور ہر صبح میں ایک تھکے ہوئے ٹیس اور تقریباًً بخار بھرے وجود کے ساتھ بیدار ہوتا۔ آہستہ آہستہ میرا رابطہ اپنے دلدلی وجود سے کم ہونے لگتا اور سورج نکلنے کے ساتھ ہی میرا رابطہ اپنے ادھورے وجود سے محض ایک تار جتنا باقی رہ جاتا۔ میں یہ تار کبھی نہیں توڑ پاتا تھا۔ دن میں ایسے کئی واقعات ہو جاتے جو میرے احساس کو کھنچتے ہوئے وہیں دلدلی زمین میں لے جاتے۔

دن میں میں گلیوں میں گھومتا، سکول میں دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور فراموش کر دیتا کہ میں ایک دلدلی زمین کا باسی ہوں۔ میں چاہ کر بھی اپنے دوستوں کو اس راز میں شریک نہیں کر پاتا۔ دوپہر سکول سے آنے کے بعد میں تندور پر روٹیاں لگوانے جاتا۔ گرمی جھلستی ہوئی حبس بھری دوپہر ہوتی تھی۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھر جاتا۔ میرے پاوں جوتے میں پھسلنے لگتے جو مجھے اس تکلیف دہ احساس کے قریب کر دیتا۔ کچھ دور چلنے کے بعد جب یہ پھسلن حد سے بڑھنے لگتی تو میں آٹے والا برتن ایک طرف رکھ دیتا اور جوتی اتار کے پاوں کو زمین پر رگڑ کر اس پر مٹی لگا دیتا۔ لیکن کچھ قدم چلنے کے بعد یہ مٹی پاوں کے پسینے سے مل کر چلنا مزید دشوار کر دیتی۔ چند قدم کا یہ فاصلہ صرف مجھے بوڑھا کر دیتا۔ میں نے کبھی کسی کو بتایا نہیں لیکن اکثر بے بسی کے عالم میں میری آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ تندور پر عورتوں کا رش ہوتا۔ وہ عجیب گفتگو کر رہی ہوتی۔ میں ان کی گفتگو میں دلچسپی لینا چاہتا تھا پر میں اس سے لا تعلق رہتا۔ فضاء میں روٹی کی خوشبو، جلتی لکڑیوں کی بو، عورتوں کے پسینے کی بو، گیلے آٹے کی مہک اور مٹی کی خوشبو مجھے اداس کر دینے کے لئے کافی ہوتی تھی۔ میرا سارا دھیان اس برتن کی طرف ہوتا جس میں پانی پڑا ہوتا تھا جو تندور والی ہر روٹی بناتے وقت اپنے ہاتھوں پہ لگایا کرتی۔ کبھی کبھی اس کے پسینے کے چند قطرے بھی پانی میں گر جاتے تھے۔یہ دودھیا سا پانی ہمہ وقت چھلکتا رہتا۔ گھر پہنچنے تک میں اس پانی بھرے کٹورے اور تندور کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا تھا کہ تندور میں جلنے کے بعد سوختہ لکڑیوں کو باہر کب نکالا جاتا ہو گا۔ میں ان لکڑیوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں عموماً نلکے پہ نہانے چلا جاتا۔ تندور کے بعد مجھے دوسری بڑی وحشت غسل خانے میں ہوتی تھی۔ غسل خانے کی اینٹوں بھری دیواروں میں جگہ جگہ بالوں کے گچھے پھنسے ہوتے تھے۔ کچھ بالوں کو میں نالی میں بہتا ہوا بھی دیکھتا تھا۔ جس سے مجھے بڑی گھن آتی تھی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں نے کئی بار نالی سے بال نکال کر ان کو انگلیوں سے رگڑا بھی تھا۔ لیکن جلد ہی مجھ پر کراہت طاری ہونے لگتی تھی اور میں صابن سے مل مل کر ہاتھ دھوتا تھا پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ وہ بال میرے ہاتھ سے چپک کر رہ گئے ہیں۔ میں نہانے کے بعد کافی دیر تک کسی کھانے والی چیز کو چھوتے ہوئے ڈرتا تھا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ میں نے غسل خانے کی اینٹوں والی درز وں میں سفید لفافے پھنسے دیکھے۔ جب میں نے ان کو اپنے گیلے ہاتھوں سے کھینچ کر باہر نکال کر پھیلا کر دیکھا تو اس پر نیم عریاں سی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مجھ پر لذت بھر ا خوف طاری ہو گیا۔ جانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے دو آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ میں کئی دن تک اس خوف میں مبتلا رہا جس نے میرا رابطہ میرے دلدلی وجود سے بحال رکھا۔ ایسا ہی سنسنی بھرا احساس مجھے تب بھی ہوا تھا جب میں نے اپنی گائے کے نوزائیدہ بچے کو چھوا تھا اور کچھ چپچپا سا میری انگلیوں سے چپک گیا تھا۔ میں نے چور نظروں سے گائے کی شرم گاہ کی طرف بھی دیکھا جس سے لیس دار خون ٹپک رہا تھا۔ اس کے بعد میں جب بھی دودھ پینے لگتا مجھے ابکائیں آنے لگتیں۔ امی کے بے حد اصرار اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود میں نے کئی سال تک دودھ پینا چھوڑ دیا تھا۔ تندور، غسل خانہ اور رات کی مثلث مسلسل میرے تعاقب میں رہتی۔ میں رات سسکیوں میں اللہ سے باتیں کرتا لیکن یکایک میرا وجود اسی دلدل میں اتر جاتا اور مجھے یقین ہو جاتا کہ خدا دلدل میں رہنے والوں سے اپنا رشتہ توڑ دیتا ہے۔ میں نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی تھی۔ تندور کے راستے میں آٹے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے دبانا اور اس کی سنسی کو وجود میں محسوس کرنا میرا نیا مشغلہ بن گیا تھا۔ اسی طرح غسل خانے میں میں نے نئے مشاغل ڈھونڈ لیے تھے۔

ایک رات مجھے یوں لگا کہ میں چپ چاپ اپنے بستر سے اٹھا ہوں اور تندور کی طرف جانا شروع کر دیا۔ تندور کے اوپر ایک بڑی سی پرات پڑی تھی جس کو ہٹا کر میں اس تندور کے اندر اتر گیا۔ شاید میں دھڑام سے گرا تھا۔ ایسے میں مجھے لگا کہ کسی شخص نے اوپر سے پرات سے تندور کو ڈھک دیا ہے۔ خوف کی شدید لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی ۔ میں چیخنا چاہتا تھا مگر یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے چیخنے سے روک دیا ہے۔اس کے بعد شاید میں بے ہوش ہو گیا تھا۔ جانے کتنے سال تک میں اسی طرح تندور میں پڑا رہا۔ بالاآخر میں نے پایا کہ تندور میں ایک سوراخ ہے جو شاید دھوئیں کے اخراج کے لئے بنایا گیا تھا۔ میں اس سوراخ سے لگ کر بیٹھ گیا۔ اب میں خوفزدہ نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے اس سوراخ کی دوسری سمت سے آتی روشنی محسوس ہونے لگی۔ اس روشنی کو تکتے ہوئے کچھ اور عرصہ بیتا۔ پھر میں نے وہاں کچھ چہروں کو ابھرتے دیکھا۔ کافی عرصے تک تو مجھے لگا کہ یہ ایک ہی چہرہ ہے لیکن پھر میں ان میں فرق کو شناخت کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔ یہ تین چہرے تھے پہلا شخص جس سے موٹا سا چشمہ لگایا ہوتا تھا اور مجھے ہمیشہ بہت پیار سے بلاتا تھا۔ اس کا ماتھا کافی کشادہ تھا سر کے آگے کے بال جھڑ چکے تھے اور آگے کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا۔ یہ مجھے اوپر سے بسکٹ پھینکتا تھا جو میں ان چوہوں کو کھلا دیتا تھا جو مسلسل میرا پاوں کترنے میں مصروف ہوتے تھے یوں میں کچھ پل کو آرام حاصل کر لیتا تھا۔ دوسرا شخص جس نے سر پر ہیٹ پہنی ہوتی تھی عموماً سورج کی روشنی کے ساتھ ہی دہانے پر نمودار ہوتا تھا۔ یہ کسی اجنبی زبان میں گفتگو کیا کرتا تھا اور مجھے کچھ کاغذ اور نقشے دکھایا کرتا تھا جس پر عجیب و غریب علامات بنی ہوتی تھیں۔ نہ میں ان علامات کو سمجھ پاتا تھا اور نہ ہی اس کی زبان کا کوئی لفظ میرے پلے پڑتا تھا۔ مگر وہ بہت تحمل کے ساتھ مسلسل مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ تیسرا شخص سب سے آخر میں آتا اس وقت دن ڈھلنے والا ہوتا تھا اور انتہائی کم روشنی ہوتی اس لئے میں اس کے چہرے کے نقوش اچھی طرح سے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ شاید اپنے ساتھ کوئی لالٹین بھی لاتا تھا جس کی پیلی پیلی روشنی میں مجھے اس کا چہرہ خوفناک لگتا تھا۔ یہ ایک بوڑھا شخص تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور بات کرتے ہوئے اکثر کھانستا رہتا تھا۔ یہ کچھ دعائیں اور وظائف پڑھتا رہتا تھا جسے یہ مجھے دہرانے کا کہتا مگر یا تو یہ بہت آہستہ بولتا تھا یا اس کی آواز بہت کانپتی تھی اسی لئے ہمیشہ میں کوئی نہ کوئی جملہ دہرانے سے رہ جاتا۔

بہت عرصہ گزرنے بعد میں ان لوگوں کی آمد کا مقصد سمجھ گیا تھا۔ میں ابھی آپ لوگوں کو مکمل تفصیلات سے تو آگاہ نہیں کر سکتا مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ یہ لوگ ایک انتہائی اہم معاملے پر کام کر رہے تھے اور اس میں میری مدد چاہتے تھے۔یقین جانیے میں ہرگز بھی خبط عظمت کا شکار نہیں ہوں مگر انسانیت کی بقاء ہمارے منصوبے کی کامیابی سے مشروط تھی۔ ان تینوں میں سے پہلا ایک ڈاکٹر تھا، دوسرا سراغ رساں تھا جب کہ تیسرا ایک گورکن تھا۔ انہوں نے مجھ سے وفاداری اور رازداری کا حلف لیا اور کسی طرح سے مجھے اس تندور سے باہر کھینچ نکالا۔ باہر نکلنے کے بعد سب سے پہلے تو میرا سامنا تندو تیز روشنی سے ہوا۔ کافی دیر تک تو میری آنکھیں چندھیائی رہیں پھر جب میں دیکھنے کے قابل ہوا تو میں نے خود کو ایک وسیع و عریض دلدلی میدان میں پایا جہاں تاحد نگاہ قبریں ہی قبریں تھیں۔ یہ ایک عجیب قبرستان تھا جہاں کچھ عمودی تھی تو کچھ افقی، میں نے کئی کئی منزلہ قبریں بھی دیکھیں۔ تمام قبروں پر رنگ برنگ نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ مگر کسی بھی قبر پر کوئی کتبہ نصب نہیں تھا۔ کچھ قبروں کے بیچ و بیچ اونچے اونچے ستون ایستادہ تھے۔ قبروں کی تعمیر میں مخصوص زوایے کو مد نظر رکھا گیا تھا اس طرح کے سورج کی روشنی تمام قبروں سے منعکس ہوتی ہوئی اور بڑا سا گول دائراہ بناتی تھی جو اوپر کو اٹھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ پہلے گورکن نے مجھے قبرستان کی تاریخ سے آگاہ کیا کہ کیسے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں پر صرف چند قبریں تھیں جو اب بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی ہیں کہ گورکن کو بھی اس کی صحیح تعداد معلوم نہیں تھی۔ کیا ساری قبریں اس نے بنائی تھیں؟ میرے اس سوال پر اس نے اس حیرانی سے میری سمت دیکھا گویا یہ کہنا چاہتا ہو کہ کیا میں واقعی اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔ میں خاموش ہو کر رہ گیا۔ سراغ رساں نے مجھے بتایا کہ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ ریس کے گھوڑے جب رات اصطبل میں باندھے جاتے ہیں تو وہ آپس میں کن امور سے متعلق گفتگو کرتے ہوں گے، اس سوال کی کھوج اسی اصطبل لے گئی اور اپنی اسی تحقیق کے دوران اس کو اس قبرستان کے متعلق معلوم ہوا۔ جب اس نے اپنی تحقیق کا دائرہ آگے بڑھایا تو وہ اس سازش سے آگاہ ہوا تھا۔ جب کے ڈاکٹر کی کہانی کچھ یوں تھی وہ انسانی بستیوں میں رہنے والے چوہوں کی نفسیات کے متعلق کچھ تجربے کر رہا تھا تو اسے چوہوں کی ایک نئی قسم سے آشنائی ہوئی۔ یہ چوہے بارش برسنے کے بعد اپنی بلوں سے نکلتے تھے اور پھر شہر شہر پھیل جایا کرتے تھے۔ ان کا آپسی رابطے کا میکنزم بہت جدید پیمانے پر کام کرتا تھا۔ جب اس قبیلے کے ایک چوہے کو تجربے کے لئے اس نے پہلے سے تیار کردہ ایک گورکھ دھندے میں چھوڑا تو چوہا بنا کوئی غلطی کئے کھانے تک پہنچ گیا۔ اس نے کئی گورکھ دھندے بدل کر دیکھے مگر چوہے کو کبھی بھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس نے بالا آخر چوہے کو آزاد کر دیا اور ایک سراغ رساں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ سراغ رساں نے اسے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی اسی معاملے کی کھوج میں ہے۔ یہ سراغ رساں چوہے کے پیچھے پیچھے اس قبرستان تک پہنچا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات گورکن سی ہوئی جو قبرستان کے گرد باڑ لگانے میں مصروف تھا۔ اس نے گورکن سے پوچھا کہ کیا وہ اس قبرستان کو انسانوں کی نظر سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔ گورکن کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں بلکہ اس نے قبرستان میں چوہوں کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے جس کے نتیجے میں قبرستان کے پھیلاو میں زبردست تیزی آ گئی ہے۔ یہ اتنا عجیب و غریب معاملہ تھا کہ اس نے گورکن کو چکرا کے رکھ دیا تھا۔

ان تینوں افراد نے جب چوہوں پر اپنی تحقیقات بڑھائیں، جن میں ان کی آپسی گفتگو کی ریکارڈنگ، ان کی حرکات و سکنات کے زاویوں کی پیمائش، ان کے داخلی پیچیدہ خاندانی معاملات کی چھان بین اور ان کے منفرد جنسی تجربات وغیرہ کو پرکھا گیا تو ان لوگوں پر اس سازش کی حقیقت آشکار ہوئی۔ اب انہیں ایک ایسا فرد چاہیے تھا جو دلدل کی خوشبو، اس کے زائقے اور لمس کو اچھی طرح سے پہچانتا ہو نیز اس کی چھٹی حس غیر معمولی طریق پر کام کرتی ہو ۔ یوں یہ مجھ تک پہنچے۔ ہم نے مل بیٹھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی پر کام شروع کر دیا تھا۔ میرا کہنا یہ تھا کہ باڑ لگانا مسئلے کا ہرگز بھی پائیدار حل نہیں۔ بلکہ ہمیں چوہوں کو دھوکا دینے کے حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام تھا۔ ماحول میں زرا سی بھی تبدیلی چوہوں کی تیز حس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا جو کچھ بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔ چوہوں نے کھلے عام قبروں کے اوپر اچھل کود شروع کر دی تھی۔ ہم نے قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عظیم کائناتی گورکھ دھندے کے لئے کھدائی شروع کر دی تھی۔

Categories
فکشن

جنم جلی

وہ ان گنت نسلوں سے جھونپڑیوں میں یا جھاڑیوں کے کنارے پیدا ہو رہے تھے ۔ ان کا شجرہ نسب عموماً نامعلوم ہوتا تھا ۔ وہ بھی ایک انتہائی تھکی ہوئی شام جھونپڑی میں پیدا ہوئی۔ اُس کے ماں باپ نسلاً بھکاری تھے۔ اس کے باپ کو مانگنے کے علاوہ نشے کی بھی لت لگی ہوئی تھی۔ وہ اکثر غائب رہتا اور شہر کے وسط میں موجود ایک نالے کی نیچے مارفین کے انجکشن لگایا کرتا تھا۔ وہ ایک منحنی سی کالے رنگ کی بچی تھی جس کو پیدائش کے کچھ ماہ بعد ہی چیچک نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ چیچک نے اُس کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ عمر بھر اس رفاقت کے داغ اپنے چہرے پر سجائے رکھے۔ اس نے پیدائش کے فوراً بعد سے اپنا آبائی پیشہ سنبھال لیا تھا۔ وہ ماں کی گود میں پڑی وقت بے وقت روتی رہتی اور اس کے آنسووں کی قیمت کے طور پر سکے اس کی ماں کی گود میں گرتے رہتے۔
وقت بدلے بغیر چلتا رہا۔ اُس نے بھیک مانگنے کے لئے بولنا سیکھا ، چلنا سیکھا ، یہاں تک کہ کچھ کچھ سوچنا بھی سیکھ لیا۔ اسی دوران اس کی دو اور بہنیں بھی پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھی تو اُس کے باپ کو پولیس والے نشہ بیچنے کے الزام میں پکڑ کر لے گئے۔ دو دن بعد ہی پولیس والوں نے اس کی لاش جھونپڑیوں والوں کے حوالے کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی موت نشہ نہ ملنے کے سبب ہوئی ہے۔ جب کہ بستی میں ایسی چہ مگوئیاں بھی سنی گئیں کہ وہ پولیس تشدد سے مرا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی لاش نہ دیکھی تھی ورنہ اسکو نظر آ جاتا کہ اسکے باپ کے جسم پر جا بجا پولیس اور نشے کےتشدد کے نشان تھے۔ اس کے باپ کے جانے کا کسی بھی جھونپڑی میں سوگ نہیں منایا گیا۔ سوگ تب شروع ہوا جب ارد گرد کی جھونپڑیوں سے لوگ وقتاً فوقتاً ان کی جھونپڑی میں آتے اور کبھی کمبل ، تکیہ، جگ یا کوئی اور چیز یہ کہہ کر لے جاتے کہ اس کے باپ نے یہ چیز اپنی زندگی ہی میں نشے کے عوض فروخت کر ڈالی تھی۔ وہ اس پر خوش رہی کہ اس کی ماں کو نشے کے لئے نہیں بیچا گیا یہاں تک کہ اس کا چچا اکثر راتیں ان کی جھونپڑی میں گزارنے لگا۔ یوں زندگی کے متعلق اس کی پہلی غلط فہمی ختم ہوئی۔ رات نامانوس آوازوں سے اُس کی نیند کُھل جاتی اور وہ خوف سے دوبارہ اپنی آنکھیں بھینچ لیتی اور چھوٹی بہنوں کی آنکھوں کے آگے ہاتھ کر لیتی حالنکہ اندھیرے میں ویسے بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ روز صبح اس کا دل کرتا کہ وہ ٹریفک سگنل کے پاس کھڑے پولیس والے کو ( جو اکثر اسے ڈانٹ کر بھگا دیا کرتا تھا) رات کی ساری حقیقت بتا دے اور وہ اسکی ماں اور چچا کو جیل میں لے جائے کیونکہ بُرے لوگ جیل میں ہوتے ہیں ۔ اُس وقت تک بُرے لوگوں کے بارے میں اس کو تصور بہت کچا تھا۔

وہ تیزی سے بڑی ہو رہی تھی ۔ اب اکثر لوگ اُسے بھیک دیتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیتے یا پاس بٹھا لیتے ، کئی ایک تو ادھر اُدھر دیکھ کر اسے اپنے ساتھ چپکا لیتے تھے اور پانچ دس روپے دے دیتے۔ وہ یہ پیسے لئے اپنی ماں کے پاس آتی اور فخر سے پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی کہ آج اس نے اتنی زیادہ کمائی کی ہے۔ اس کی ماں اسے پیار سے چمکارتی ۔ وہ کبھی نہ دیکھ سکی کہ ایسے میں اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے ہوتے تھے۔

ایک شام وہ ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھی پاخانہ کر رہی تھی کہ ایک شناسا چہرہ قریب سے نمودار ہوا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی وہ اس نے اسے وہیں گرا دیا۔ وہ اپنے ہی پاخانے کے اوپر گری وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اُس شخص کو ناخن بھی نہ مار سکی ۔ اس کی مٹھیاں بس زمین سے مٹی بھرتی رہیں۔ شام کا وحشی اندھیرا ، ناک کو چڑھتی بدبو، گردن پہ چبھتے دانت ، نیچے کہیں چیرے جانے کا شدیداحساس اور بے بسی کے عذاب نے اس کی آنکھوں سے آنسو نکال دئے۔ ۔۔ اس کی نتھ روندی جا چکی تھی۔اس کی ماں جب اس پر مگ بھر بھر کر پانی ڈال رہی تھی تو یکایک روتے ہوئے وہ دوہتڑ اس کی کمر پر مارنے لگے جس پر یہ اور شدت سے رونے لگی۔ اتنا درد تو اسے جھاڑیوں کے کنارے بھی نہیں ہوا تھا۔ رات اس کی ماں دودھ میں ہلدی ڈال کر لائی اور اس کو پیار سے سہلانے لگی۔ وہ اس کو ہلدی ملا دودھ پلا رہی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس سے زخم مندمل نہیں ہونے والے۔

اُسے بخار ہو گیا اور وہ دو دن تک بھیک مانگنے نہ جاسکی۔ بس وہ سارا دن جھونپڑی میں پڑی چھت کے پردے کو گھورتی رہتی جیسے وہاں اوپر کوئی درد شناس رہتا ہو۔ اب وہ قدرے خوفزدہ سی رہنے لگی ۔ اُسے لگتا تھا کہ وہ یکایک بہت بڑی ہو گئی ہے بالکل اپنی ماں جتنی۔ اس کے سینے کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گٹھلیاں نمودار ہو رہی تھیں۔ جب وہ پیٹ کے بل سونے کے لئے لیٹتی تو ان میں ہلکا ہلکا لذت بھرا درد جاگ جاتا۔ وقت کے ساتھ درد اور گٹھلیوں کے سائز میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنی ماں سے نظر بچا کر ان کو انگلیوں سے دباتی تو میٹھی سے ٹیس سارے بدن میں دوڑ جاتی اور یہ تن سی جاتی۔ کبھی کبھی تو ان میں سے لیس دار پانی بھی نکلتا جس کو انگلیوں کی پوروں سے لگا کر وہ ان کی چپچپاہٹ محسوس کرتی۔

وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے کھڑا ایک نوجوان آتے جاتے اکثر اسے بہت پیار سے دیکھتا ہے۔ رات اکثر وہ خواب میں آتا۔ یہ ایک پینگ پر بیٹھی ہوتی اور وہ اُسے جُھلا رہا ہوتا۔ یہاں تک کہ جھولا کہیں بہت اوپر آسمانوں میں تیرنے لگتا۔ وہ لڑکا یکایک نیچے سے غائب ہو جاتا اور اسے یوں لگتا کہ وہ آسمان سے گرنے والی ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگتا اور اس کی اآنکھ کُھل جاتی۔ وہ پسینے سے شرابور ہوتی اور چور نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھتی۔ ایسی راتوں میں پھر اسے صبح تک نیند نہ آتی۔ اس کا دل کرتا کہ وہ جھونپڑی کا پردا ہٹا کر کھلی ہوا میں تاروں بھرے آسمان کے نیچے جا بیٹھے۔ایک دن جب اس کی ماں اس کے ساتھ نہیں تھی اور یہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے سے جا رہی تھی اُس لڑکے نے اسے اشارے سے اپنے پیچھے بلایا۔ یہ چپ چاپ اُس کے پیچھے چلنے لگی۔ وہ فلیٹس کے نیچے پانی کی موٹر والے ایک کمرے میں داخل ہو گیا اور اسے اشارہ کیا۔ جب یہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں مکمل تاریکی تھی اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کنڈی لگنے کی آوازآئی پھر کسی نے اسے دیوار کی طرف دھکیلا۔ اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی تھی حلق خشک ہو رہا تھا ۔ اس کو کسی نے مضبوطی سے بھینچ لیا۔ اس کو اپنی شلوار نیچے کی جانب سرکتی ہوئی محسوس ہوئی پھر اس نے کسی گرم چیز کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کیا۔ مسلسل رگڑ سے کمرے کی کھردری دیوار سے چپکی اس کی کمر چھلی جا رہی تھی۔ اس نے اپنی رانوں پر نمی محسوس کی۔ اس کی شلور کو کھینچ کر اوپر کر دیا گیا۔ کنڈی کھلنے کی آواز آئی۔ لڑکے نے ایک کاغذ اس کی مٹھی میں تھمایا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اُسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔ جب وہ باہر نکلی تو سورج کی تیز روشنی اسے آنکھوں میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب اُس کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو اس نے کچھ دیر پہلے گزرے لمحوں کو یاد کیا۔ پھر اس کی توجہ مڑتی ہوئی اس کی بند مٹھی پہ جا ٹکی۔ اس نے ہتھیلی کو کھولا تو مڑے تڑے ہوئے بیس روپے اس کے پسینے سے گیلے ہو رہے تھے۔ وہ حیران نظروں سے ان پیسوں کی طرف دیکھتی رہی۔ جھولا زمین پر آ چکا تھا۔ وہ مزید پسینے میں ڈوب گئی۔ وہ عجیب کھسیانے انداز میں قہقے مار کر ہنسنے لگی۔ پھر اس نے غصے سے وہ پیسے زمین پہ دے مارے اور پیروں سے زور زور سے اُسے کچلنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے نامعلوم گوشوں سے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا تھا۔ وہ باقاعدہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ اس کے پیروں کے نیچے اس کی محبت بیس روپے کی شکل میں کچلی پڑی تھی۔ وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھی رہی پھر چلنے لگی۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ یکایک کچھ سوچ کر رُکی واپس مڑی اور وہ بیس روپے اُٹھا لئے۔

ایک دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے ایک دن برئیزئر لٹکتے ہوئے دیکھے۔ اس کے دل میں ان کو خریدنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اگلے دو دن وہ بھیک میں سے کچھ پیسے بچا کر اس دکان میں داخل ہوئی ۔ اُسے آج پہلی دفعہ مانگتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ بالاخر اس نے دکان دار سے کہا “بھائی صاحب ایک باڈی دے دیں۔ دکاندر نے اسے ٹٹولتے ہوئے کہا کہ” بی بی سائز کیا ہے تمہارا”۔ یہ گم صم کھڑی رہی دوکاندار نے کچھ دیر مزید ٹٹولا پھر شاید اسے رحم آ گیا۔ وہ بولا ” کتنے والا چاہے سو یا دو سو یا پانچ سو”۔ اس نے سامنے کاونٹر کر پیسے پھیلائے جو کہ کل ملا کر پچھتر روپے بنے۔ یہ بولی ” میرے پاس تو پچھتر ہی ہیں”۔ ” لاو دو” دکان دار نے پیسے رکھے اور ایک کالے رنگ کا برئزئر تھما دیا۔ جس کو اس نے دکان سے باہر نکلتے ہی اپنے نیفے میں اڑوسا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ اپنی جھونپڑی میں گھستے ہی اس نے دیکھا کہ ماں نہیں ہے اس نے جلدی سے قمیص اتاری اور کافی کوشش کے بعد برئزئر پہن لیا۔ اب وہ ٹہل ٹہل کر چل رہی تھی۔ وہ عجیب سی خوشی محسوس کر رہی تھی۔ پھر ایک دن جب وہ واپس لوٹی تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں اور دو بہنیں غائب ہیں۔ وہ کئی دن تک انہیں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ اسے نہ ملیں۔ اس نے پولیس والے سے بھی کہا۔ پہلے تو پولیس والے نے کہا ” بھاگ گئی ہو گی تیری ماں کسی یار کے ساتھ “۔ جب اس نے بہت زیادہ منت سماجت کی تو پولیس والے نے بیلٹ اوپر کرتے ہوئے اس کے چہرے کو مایوسی سے دیکھا اور کہا۔ “پانچ ہزار لگیں گے اور تو کچھ ہے نہیں تمہارے پاس دینے کو”۔ بہرحال اس رات کے بعد کچھ راتوں تک تو اس کو اکیلے ڈر لگتا رہا ۔ پھر اسے رہنا آ گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ اب وہ بھیک حاصل کرنے کے مخصوص ٹھکانوں کا اچھی طرح دورہ کر چکی تھی جن میں ٹرکوں کے اندر، پلیٹ فارم پر مال گاڑی کے بند ڈبوں کے اندر، لاری اڈے کی غلیظ لیٹرینوں میں، قبرستان میں قبروں کی اوٹ میں، کھیتوں میں، خشک نالوں میں ، یہاں تک کے مسجد کے طہارت خانوں میں۔ اس نے ہر جگہ سے اپنے حصے کی بھیک وصول کی اور لوگوں کے حصے کی بھیک ان کو بانٹی۔ لوگوں کی دریا دلی رنگ لائی اور یہ حاملہ ہو گئی۔ جوں جوں اس کا پیٹ بڑھتا جا رہا تھا ملنے والی بھیک کی مقدار کم ہوتی جا رہی تھی۔ اب یہ زیادہ چلنے سے تھک جاتی تھی۔ اکثر تو پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔ اس کا رنگ مزید سیاہ ہو گیا تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے آنکھوں کی رنگت اختیار کر چکے تھے۔ وہ تین دفعہ چلتے چلتے بے ہوش ہو کر گڑ پڑی ۔ ایک شام جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ نالے کے کنارے موجود جھونپڑیوں میں سے ایک بھی باقی نہیں رہی تھی۔ سب لوگ چلے گئے تھے کیوں کہ نالا اپنی حدوں سے باہر نکل کر اس میدان تک آ گیا تھا جہاں یہ لوگ آباد تھے۔ وہ نالے کے کنارے پھسلن سے بچتی بچاتی نسبتاً خشک جگہ پر تقریباً گڑ پڑی۔ وہ رات بھر یہی پڑی رہی۔ صبح اس کے پیٹ میں شدید درد ہو رہا تھا۔ وقفے وقفے سے درد کی ٹیسیں اس کے بدن میں ابھرتی پھر ڈوب جاتیں۔ دن کے تقریباً گیارہ بجے اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ وہ اتنی اکیلی تھی کہ بچی کا ناڑو کاٹنے کے لئے بھی کوئی موجود نہ تھا۔۔ دن کے وقت کھیس بیچنے والی ایک خاتون یہاں سے گزری اس نے اس کی مدد کی بچی کو کھیس اڑایا، اس کا لباس بدلا۔ وہ بھاگ کر کہیں سے زچہ بچہ کے لئے دودھ لے کر آئی۔ جب یہ قدرے بحال ہوئی تو اُس نے کہا۔ “بہن اللہ تمہیں ہمت دے مجھے جانا ہے۔ میرا گھر والا میرا نتظار کر رہا ہو گا”۔ وہ جاتے ہوئے سو روپے کا ایک نوٹ بھی اس کی مٹھی میں تھما گئی۔ خاتون کی دی ہوئی رقم اور دودھ تو دو دن میں ختم ہو گئے۔

بچی تو کہیں سے نازل ہو گئی تھی مگر اسے دودھ نہ اترا تھا۔ وہ بچی کو کبھی ایک چھاتی تو کبھی دوسری چھاتی سے لگاتی وہ کچھ دیر تک نپل کو اس امید پر چوستی رہتی کہ شاید دودھ آ جائے۔ پھر منہ ہٹا کر زور زور رونے لگتی۔ بچی کو سینے سے لگائے وہ روز دودھ کی تلاش میں بھیک مانگنے لگتی۔ ایسے ہی مانگتے ہوئے وہ حاجی صدیق کریانہ سٹور پر پہنچی۔ حاجی نے اسے اندر بلایا دوکان کا شٹر نیچے کیا۔ پھر یکایک اسے کوئی خیال آیا تو اس نے پوچھا “بچی کتنے عرصے کی ہے”۔ “جی ہفتہ بھر کی تو ہو گی ” اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔ حاجی صاحب کی آنکھوں میں مایوسی بھر آئی۔ قریب تھا کہ وہ شٹر اوپر کر کے اسے جانے کو کہتا ایک خیال اس کے زہن میں کوندا۔ وہ واپس مڑا اس کو سر دبا کر نیچے کیا۔ اس نے تھوڑی سی مزاحمت دکھائی تو اُس نے سختی کے ساتھ اس کا سر نیچے کرتے ہوئے کہا “چل منہ میں لےلے۔۔۔ بڑی آئی پاک باز کہیں کی” اس نے ایک نظر حاجی صاحب کی طرف دیکھا پھر جلدی سے اپنی قمیص کا پلو بچی کی آنکھوں کے اوپر ڈال دیا۔تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب نے دوکان کاشٹر اوپر کیا دائیں بائیں دیکھ کر جلدی سے پچاس روپے ان کو تھما کر دوکان سے باہر نکالا۔ یہ آگے نکلے تو حاجی صدیق کو یاد آیا کہ آج تو جمعہ ہے وہ جلدی سے دوکان بند کر کے غسل کے لئے گھر کو روانہ ہو گیا۔ اسے یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ صبح تو وہ نہا کر آیا تھا اب بیگم سے کیا بہانہ کرے گا۔ یکایک اس کی نظر سامنے کیچڑ پر پڑی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

وہ اپنی بچی کو اٹھائے جب سڑک پر پہنچی تو اسے احساس ہوا کہ وہ جلدی میں جوتے پہننا بھول آئی تھی۔ گرم تارکول اس کے پاوں کو بری طرح سے جلا رہا تھا۔ ۔ وہ سڑک کے کنارے موجود گندگی کے اوپر چلنے لگی یہ نسبتاً ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ یکایک اس کے پاوں کے نیچے کانچ کا ایک بڑا سا ٹکڑا آیا۔ یہ بے قابو ہو کر نیچے گری۔ بچی کو بچاتے ہوئے اس کی کہنی پوری قوت سے فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔ کچھ دیر وہ وہیں پڑی رہی پھر ہمت کر کے اُٹھ بیٹھی۔ پاوں کے آنگھوٹھے سے خون بہہ رہا تھا۔ کہنی کے آگے بازو جھول رہا تھا شاید ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے بچی کو ایک نظر دیکھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی۔کافی دیر بعد وہ نالے کے پل کے اوپر سے گزر رہی تھی اس نے نیچے دیکھا کیچڑ زدہ پانی میں اسے اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا وہ نظر ہٹانا چاہتی تھی لیکن اسے نظر آ ہی گیا کہ کیچڑ میں اس کی بچی کا عکس بھی اتنا ہی واضح تھا۔

Image: Ernst Barlach

Categories
فکشن

نام بختاور سنگھ

روز کی طرح آج بھی ماسٹر بدری ناتھ صاحب تشنہ کی بیٹھک پر ان کے شاگرد اور دیگر اہلِ محلہ جمع تھے اوران کے کلامِ تازہ اور حُقے سے لُطف اندوز ہو رہے تھے کہ دارا پٹھان گانجا فروش آدھمکا؛

‘‘اُستاد صاحب! سُنتے ہو؟ آج آپ کے شاگرد خسرو طلعت کی سگائی کی رسم میں اُن کے سُسر اورمیر مُلا میں خوب ٹھنی، تلواریں کھنچ گئیں، خیر گزری کہ چلی نہیں’’

‘‘کیوں؟ کس لئے بچے کی سگائی بے مزہ کر دی میر مُلا نے؟’’

‘‘میر مُلا نے کہاں بد مزہ کی، میرزا عماد الدین نے میر خسرو سے اپنی بیٹی بیاہنے سے ہی انکار کر دیا ہے’’

‘‘جنم جنم کے کم بخت، نام بختاور سنگھ۔۔۔ بے چارہ میر خُسرو طلعت۔۔۔’’

اُستاد صاحب نے کہا تو سامعین مسکرائے۔

‘‘یہ صاحبزادہ جس روز مدرسے داخل ہوا تھا، اس روز مدرسے کی چھت گر گئی تھی’’

اُستاد نے اپنا ٹیڑھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تو سامعین محفل نے یوں بے ساختہ قہقہہ لگایا گویا یہ واقعہ بھی پہلی بار سُن رہے ہوں۔ میر خُسرو کا تو نام ہی بختاور سنگھ پڑگیا، بعد میں فقط ‘بختو’ رہ گئے۔

میر صاحب دلی کے محلہ سیدواڑہ میں جمعدار میر ابوالمعالی مہابت جنگ کے ہاں پیدا ہوئے جوکہ محبوب علی خاں نظام دکن کے توپ خانے میں بڑے یگانہ روزگار اور نام ورتوپچی تھے۔ جمعدار صاحب ان کے اوائلِ عمر ہی میں وفات پاگئے تو میر بختو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی ننھیال آرہے جو کہ دریبے میں تھی۔ یہاں ماموں میر مُلا کے ہاں پروان چڑھے جو کہ اپنے زہد و تقویٰ ، نجابت اور بددماغی کی وجہ سے بڑے معزز تھے۔ میر بختُو مدرسے کی عُمر کو پہنچے تو دریبے کے سب سے اچھے مدرسے میں داخل کروائے گئے لیکن جس روز مدرسے میں قدم رکھا، اتفاق سے مدرسے کی چھت آن گری۔ اسے بد شگونی قرار دے کر دوسرے مدرسے میں جابٹھایا تو سؤ اتفاق کہ پہلے ہی روز اس میں وہ آگ لگی کہ مدرسہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کسی دشمن نے کہ دیا کہ میر خسرو طلعت اپنے نام کے بر عکس واقع ہوئے ہیں، میرصاحب کی ماں نے بات دل پر لے لی اور پھر انہیں کبھی مدرسے نہ بھیجا، لیکن پڑھی لکھی خاتون تھیں، گھر میں مدرسے سے اچھی تعلیم دی۔

میر صاحب کو بچپن سے ایک ہی سودا سوار تھا ۔ اقارب سے اپنے والد مرحوم کے کمال و ہنر کا تو سُن رکھا تھا، والد سے انس بھی انہیں بے حد تھا ، پھر پیشۂ آبأ کسے نہیں بھاتا، ٹھان لی کہ والد معظم جمعدار میر ابوالمعالی کے سے اوجِ کمال کو پہنچیں گے۔ بچپن میں اپنے نانا کی جریب تھامے ، بندوق بنائے اپنے ہم سنوں کو ڈراتے پھرتے تھے اور لڑکپن میں تو لکڑی کی ایسی کھلونا توپ بنائی کہ اصل دِکھتی تھی جسے میِر مُلا سمیت سبھی نے بے حد سراہا اوررسالدار تفضل حسین خاں بہادر نے تو ایک رُپیہ انعام بھی کیا۔ سولہ سال سے کچھ اوپر کے ہوئے تو میر صاحب کی منگنی قرار پائی لیکن شومئی قسمت کہ منگنی کی شب لڑکی کے سرسام کا ایسا تھپییڑا لگا کہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ایک سال بعد کہیں میرزا عماد الدین کی صاحب زادی سے نسبت طے پائی لیکن کسی دُشمن نے وہ کان بھرے کہ وہمی میرزا عمادالدین نے عین موقع پر میر صاحب کی کُنڈلی نکلوانے کا حُکم دے دیا۔ میر مُلا اس ہندوانہ چلن پر سخت سیخ پأ ہوئے اور شدید بد مزگی ہو گئی۔ قصہ مختصر میرزا عماد نے انکار کر دیا اور میر بختو کی والدہ نے وہ صدمہ دل پر لیا کہ چند ہی ماہ میں عدم سدھار گئیں۔

اب میر بختو کی زندگی کو ایک تکلیف دہ جمود کا سامنا تھا ، کوئی کام کرسکتے نہ کہیں دل لگتا۔ میر مُلا سمیت کئی رشتہ داروں کے مزاج بدل گئے اور میر صاحب تنہائی کے گرداب میں پھنس گئے۔ غم غلط کرنے کو ماسٹر بدری ناتھ صاحب المتخلص تشنہ کے ہاں شاعری میں شاگرد ہو گئے۔ طبع بھی موزں تھی لیکن شعر نہ کہہ سکے۔ خُدا اپنے بے یارومونس لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ قدرت نے رسالدار تفضل حسین خاں بہادر کی لڑکی رخشندہ بانو کے دل میں میر صاحب کے لئے مہرومحبت کے لالہ و گل اُگا دیئے۔ اگرچہ میر صاحب واجبی سی شکل و صورت رکھتے تھے، ننھالیوں کی طرح لمبے اور گورے چٹے لیکن دُبلے پتلے سے تھے۔ ہنستے تو گالوں پر دو لمبی جھریاں پڑ جاتیں جنہیں وہ نہرِ ذقن کہہ کر خوش ہو لیتے۔ رخشندہ بانو نے ان کے ولولوں اور مزاج کی گمشدہ رعنائیوں کو ازسرِ نو زندہ کردیا۔ تب میر صاحب نے پہلی بار کوئی ایسی غزل کہی کہ ماسٹر صاحب سُن کر پھڑک اُٹھے ، فرمایا:

‘‘دیکھو اب رعنائیِ خیال تمہارے کلام میں عود کر آئی ہے، کس شخص کا تصور در آیا ہے؟’’

میر مُسکرائے؛ ‘‘بس اُستادِ معظم، ایک بنتِ حوا ہے جو ابنِ مریم بن کر آئی ہے’’

ماسٹر جی بھی ہنس دیئے کہ لونڈا صنائع بھی سیکھنے برتنے لگا ہے۔ اب تک میر صاحب کا دل کاروبارِ حیات سے ایسا اُٹھ چکا تھا کہ انہیں اپنا سپہ گری کا شوق بھی پہلے کی طرح بے چین نہ کرتا تھا لیکن اس ‘رسالدار زادی’ نے جہاں میر صاحب کو نئی زندگی دی ، وہاںان کے شوق کو بھی زندہ کر دیا ۔ اُسی کے کہنے پر ہی میر صاحب اپنا شجرۂ نسب اور والد کے کاغذات لے کر دکن کے انگریز کپتان صاحب سے بھرتی کی سفارش حاصل کرنے روانہ ہوئے جو کہ میر ابوالمعالی کے واقف کار تھے۔ قدرت کو اب کچھ اور ہی منظور تھا کہ جس روز میر صاحب دکن پہنچے، کپتان برنابی صاحب بہادر ملکِ سندھ کی کسی ولائیت کو جا چکے تھے۔ میر دلگیر واپس آئے اور بہت آزردہ ہوئے۔ رخشندہ بانو نے حوصلہ افزائی کا خط بھیجا اوران سے وعدہ لیا کہ اب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گے، اور اب کے دلی چھوڑیں گے تو پھر میر ابوالمعالی مرحوم کی طرح نامور سپاہی بن کر لوٹیں گے، رخشندہ بانو عمر بھر ان کا انتظار کرے گی۔

کئی دن گزرے تھے کہ میر صاحب گھر کے چھجے میں بیٹھے ، قلم تھامے، کاغذ پسارے، غزل کہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات مطلع سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی؛

ہرروز سنور بن کے ترا یاں سے گزرنا
ٹُک دیکھ ہمارا بھی کبھو جاں سے گزرنا

بہت دیر سوچا کئے لیکن جب کچھ نہ بن پڑا تو ناگواری سے کاغذ مروڑ ا اور چھجے سے نیچے پھینک دیا۔ اتفاق کہیئے یا میر صاحب کی بد بختی، کہ گلی میں ماسٹر بدری ناتھ کی لڑکی کاویری اپنی ہمجولیوں کے ساتھ حسبِ معمول بن ٹھن کر پوجا پاٹ کیلئے جا رہی تھی ۔ مطلع کاویری کے سامنے آ کر گرا تو اُس نے اُٹھا کر پڑھا، انہی قدموں پر واپس لوٹی اور مطلع باپ کے حوالے کردیا اور لگی پھسر پھسررونے۔ کاویری شریف لڑکی تھی اور لاڈلی بھی۔ ماسٹر صاحب تو وہ آگ بگولا ہوئے کہ لٹھ سنبھالی اور آدھمکے میر صاحب کے گھر۔ نیچے بُلوا کر میر بختو کی وہ خبر لی کہ کھال اُدھیڑ کر رکھ دی۔ میر صاحب حماقت کی حد تک نیازمند تھے، اپنی صفائی بھی بخوبی پیش نہ کر سکے ، شکا یت میر مُلا تک پہنچی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گویا پہلے سے ہی عذر کی تلاش میں تھے، فوراً میر بختو کو گھر سے نکال دیا۔

گھنشام بابو میر صاحب کا بچپن کا یار تھا، انگریزی جانتا تھا جس وجہ سے ‘بابُو ’ مشہور تھا اور لاہور میں نوکر تھا۔ میر صاحب کی بے دخلی کی خبر سُنی تو گھنشام بابو نے انہیں ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ پورے سفر میں میر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے، جلا وطنی کے دکھ میں نہیں بلکہ اُس آخری پیغام پر جو رخشندہ بانو نے یہ خبر سُنتے ہی بھیجا تھا:

‘خُسرو طلعت! آپ بد بخت تو مشہور تھے ہی، لیکن بد نیت بھی ہیں، اس کی ہمیں خبر نہ تھی۔ شائد کاویری جی ہی آپ کے لائق تھیں،یہ باندی نہیں۔۔۔’

گھنشام بابو نے بہتیرا سمجھایا ، بہلانے کے حیلے کئے لیکن میر صاحب بجائے سلجھنے کے، اُلجھتے ہی جا رہے تھے۔ بات شکررنجی تک پہنچی تو لاہور سے پہلے ہی کسی ہالٹ پر ریل سے اُتر گئے۔ مغرب سے آنے والی کیس گاڑی میں سوار ہو ئے اور مُلکِ حیدرآباد کا قصد کیا۔حیدر آباد میں ایک سرائے میں آٹھہرے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر صاحب نے گھنشام بابو کو خط لکھا اور معافی مانگی کہ ناحق دوست سے خفا ہوا۔ گھنشام بابو کا جواب آیا کہ رخشندہ بانو کے بیاہ کی خبریں ہیں اور وہ ہاپُڑ جانے والی ہے۔ انہیں بجا طور پر افسوس تھا کہ رخشندہ بانو نے انہیں کس عجلت سے ہرجائی سمجھ لیا تھا۔میر صاحب اور دلگرفتہ ہوئے۔

وہ حیدرآباد میں جس مہمان سرائے کے برآمدے میں پناہ گزین تھے، وہاں کسی نے انہیں بتایا کہ اورنگ آباد میں کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر نے چند ماہ کیلئےتو پ خانے کی تربیت کی پلٹن کھڑی کی ہے اور رنگروٹ تیار کرکے ریاستی توپ خانوں میں بھیجیں گے۔ میر صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آ ئی کہ شائد بھرتی کی کوئی راہ نکل آئے کیونکہ صاحب موصوف میر ابوالمعالی کے رفیق کار بھی تھے اور دوست دار بھی۔ میر ابوالمعالی اس دور کے توپ خانہ جمعدار تھے جب دیسی سپاہیوں میں کم ہی لوگ توپ خانے کے ماہر تھے اور اس صیغہ پر انگریز کا براہِ راست اختیار تھا۔ دراصل ۱۸۵۷ کے بعد دیسی سپاہیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو حتی الوسع اس صیغے سے دور رکھا گیا تھا۔ کپتان برنابی اور میر ابوالمعالی میں خوب گاڑھی چھنتی تھی اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی رہتا تھا۔ کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر شعرو سخن کا ذوق بھی رکھتے تھے اور توپ خانہ سے انہیں عشق تھا۔ ہندوستانیوں سے کمال شفقت سے پیش آتے تھے لیکن انگریزوں میں غیر مقبول ہی رہے۔ سارجنٹ سے صاحب بنے تھے اور حال ہی میں فوجی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں پلٹن کھڑی کرنے کا مقصد صرف اپنا دل لگائے رکھنا اور فراغت کا مشغلہ بنائے رکھنا تھا۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی لیکن میم صاحب اس ڈھلتی عمر میں بھی بے حد محبت روا رکھتی تھیں۔

میر صاحب کا بچپن کا شوق ایک بار پھر سے جوان ہو گیا اور وہ کپتان برنابی صاحب سے امیدیں وابستہ کئے اورنگ آباد روانہ ہو گئے۔ اُمید نے وہ سرشاری بخشی کہ گزشتہ تلخیاں بھی وقتی طور پر ذہن سے اُتر گئیں۔ اورنگ آباد پہنچ کر پہلے اُستاد چُغری خاں سے مُلاقات ہوئی جو میر صاحب کے والد مرحوم کے ہم پیشہ و ہم جلیس تھے۔ اُستاد چُغری خاں جو آج کل کپتان برنابی صاحب کے ایجٹن تھے، میر صاحب کو کپتان صاحب کے بنگلے پر لے گئے جہاں صاحب بہادر اور میم صاحب باغیچے میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔ اُستاد چغری خاں نے کپتان صاحب سے میر صاحب کا تعارف کرایا تو کپتان صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور میر صاحب کو گلےلگا لیا۔ چند جملے انگریزی میں اپنی میم صاحب کے گوش گزار کر کے دیر تک میر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔

‘‘خُسرو طلعت ! تُم پیدا ہوئے تھے، تب ہم لفٹین تھے، اب تُم نوجوان۔۔۔ہم کپتان! ہاہاہا!’’ کپتان صاحب کا یوں ہنس کر اور اس اپنائیت سے ملنا میر صاحب کو بہت اچھا لگا۔

‘‘پیارا بچہ ہائے۔۔۔’’ میم صاحب نے بھی میر صاحب کو دیکھا اور کہا۔

کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر کے ہاں بھی قریب قریب صلہ داری نظام کے تحت پلٹن کا کاروبار تھا، یعنی رنگروٹوں کو اپنی وردی اور رہائش کا خرچ خود کرنا ہوتا تھا لیکن میر خُسرو کو جنہیں کوئی بھی یہاں میر بختو نہیں کہتا تھا، کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ میر خسرو اپنے نئے اُستاد ، جمعدار ایجوٹنٹ چغری خاں کے ساتھ رہتے تھے۔ چغری خاں عمر رسیدہ فارسی بان توپچی تھا اور اپنی زبان کی طرح اخلاق بھی شیریں رکھتا تھا۔ میر صاحب کو وہ کمال شفقت سے موچی کے ہاں چھوڑ آیا اور ان کے لئے ان کے ناپ کا فوجی بُوٹ، کمر بند اور نیام بنانے کا حُکم دیا۔

‘دِلی کے ہو جوان؟’ موچی نے میر صاحب کو سرتاپا دیکھ کر سوال کیا تو میر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا نام بتایا۔

‘آئیے قبلہ۔۔۔ میرا نام ولائیت حُسین ہے اور میں بھی دِلی سے ہوں!’ ولائیت حسین دراصل موچی نہ تھا بلکہ غدر کے وقت میرٹھ کے ویلی بازار کا نامی طبلہ نواز تھا اور نتھُو پکھاوجی کے نام سے مشہور تھا۔ جب اہلِ کمال کو چُن چُن کر قتل کیا جانے لگا، جبکہ نتھوُ کی بھی ہندوؤں سے عداوت چل رہی تھی، تو رسالدار بہرام سنگھ نے اسے وہاں سے نکالا اور یہ ہمیشہ کیلئے اورنگ آباد کا ہو رہا ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں کے قتل کے بعد طبلہ پھینک کر چرم چمڑے کا کام اپنایا جو اس کے باپ کا پیشہ تھا۔ اس سے بھی میر صاحب کو خُوب ربط بن گیا۔

کپتان صاحب کبھی کبھار میر خسرو کو شام کے کھانے پر بلاتے تھے اور اُستاد چُغری خاں سے ان کا خاص خیال رکھنے کو کہتے۔ اب میر خُسرو نے اُمید باندھی کہ یہاں سے وہ ایک دن نامور توپچی بن کر نکلیں گے اور ضرور مہابت جنگ جیسا کوئی لقب پائیں گے۔ اُنہوں نے ٹھان لی کہ اب ان کی زندگی میں بندوق اور توپ کے سوا کوئی‘ مؤنث’ نہیں ہو گی۔

تربیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل میر خُسرو کو بتایا گیا کہ پہلے وہ بندوق کے استعمال میں مہارت حاصل کریں گے، پھر توپچی کی تربیت پائیں گے۔ اس پلٹن کے پاس درجن بھر بندوقیں ہوں گی اور تین توپیں۔ یہ بندوقیں اور توپیں لگ بھگ تیس سال پُرانی تھیں اور کسی ہندُو راجہ سے کپتان صاحب نے سستے داموں خریدی تھیں۔ ذیادہ تر بندوقیں دیسی ساختہ تھیں اور نالی سے بھری جاتی تھیں۔ ولائیت کی انفیلڈ کی بنی بندوقیں بھی بھرنے میں ایسی تھیں لیکن ہزار گز تک گولی پھینکتی تھیں ۔ البتہ ان کا بارود اور کارتوس کم یاب تھا اور محدود مقدار میں دستیاب تھا اسی لئے تربیت کے کچھ اسباق خالی بندوقوں سے پڑھائے جاتے۔ ہفتہ میں تین روز اُستاد بندوق سر کرنا، توپ بھرنا اور ہر دو کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ سکھاتا تھا۔ ہر اتوار کی شام کپتان صاحب خوُد آتے تھے اور ہر رنگروٹ اُن کی موجودگی میں بندوق سر کرتا۔

میر خسرو طلعت کی تربیت کا آغاز ہوا۔ پہلے تین ہفتے بندوق اور توپ کی دیکھ بھال اور صفائی سیکھی، بندوق سر کرنا سیکھی اور پھر جا کے اتوار کے ملاحظے میں حاضر ہوئے۔ کپتان برنابی صاحب نے میر صاحب کو رنگروٹوں کی قطار میں دیکھا تو زیرِلب مسکرائے، اُستاد چُغری خاں نے بھی ان کے جواب میں باچھیں پھیلائیں۔ کپتان صاحب ہمراہ جے صاحب (جمعدار ایجوٹنٹ صاحب) اور دبیر سنگھ توپچی کے، میدانِ مشق میں کھڑی رنگروٹوں کی قطار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے، باری باری ہر رنگروٹ کے پاس آکھڑے ہوتے، رنگروٹ بندوق بھرتا، سر کرتا ، پھر سے بھرتا، دوبارہ گولی داغتا اور پھر ہوشیار کھڑا ہو جاتا۔ کپتان صاحب اپنی رائے سے نوازتے اور اگلے رنگروٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ میر خسرو طلعت پُر جوش بھی تھے اور متذبذب بھی۔ ہتھیلیوں پر پسینہ آرہا تھا اور دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ کپتان صاحب ان کے پاس آئے تو میر صاحب نے فوجی سلام کیا، کپتان صاحب مسکرائے ، احوال پرسی کی اوربندوق بھرنے کا حُکم دیا۔ فرطِ جوش سے میر صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بارود بھرنے لگے تو بہت سا گرا ڈالا۔ پھر بندوق چلائی تو ٹُھس کی آواز کے ساتھ کارتوس میر صاحب کے سامنے ہی گر گیا۔ کپتان صاحب نے اُستاد چُغری خاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، اُستاد نے میر صاحب کی طرف دیکھا اور میر صاحب نے نظریں جھکا لیں کپتان برنابی صاحب نے کندھے اچکائے اور آگے چل دیئے۔ میر بےحد اداس ہوئے لیکن استاد چُغری خاں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تشفی دی کہ ایک رنگروٹ سے یہ بعید نہیں ، پھر جھوٹ موٹ ایک ایسا قصہ میر ابوالمعالی مرحوم کی بابت بھی سُنا ڈالا۔ میر صاحب بھانپ تو گئے لیکن خاموش رہے اور سنبھل گئے۔ تربیت میں تیغ زنی اور بانک بنوٹ کے فن بھی شامل تھے لیکن میر صاحب کی دُبلی جسامت اور ان کے توپ و تفنگ کے شوق نے انہیں اس طرف ذیادہ نہ آنے دیا۔

ایک بار پھر استاد چغری خاں نے انہیں اتوار کی مشق میں لا کھڑا کیا کہ اب کی بار ہمت کیجئے اور خوب نشانہ باندھیں۔ میر صاحب میدانِ مشق میں کھڑے بار بار گتے کے کارتوس کو مٹھی میں بھینچے اُس سمت دیکھ رہے تھے جس طرف سے کپتان برنابی نے آنا تھا ۔ وقتِ مقررہ پر کپتان صاحب آئے، اُستاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ توپچی نے اُن کا استقبال کیا ، میر صاحب نےاپنی باری آنے سے قبل کارتوس کا ایک بار پھر جائزہ لیا جو شائد پُرانا تھا کہ نرم پڑ چکا تھا لیکن میر صاحب کا خیال تھا کہ خوب چلے گا۔ ان کی باری آئی تو کارتوس کو دانت سے کاٹا، بندوق میں بھرا اور بندوق چلا دی۔ شومئی قسمت کہ بارود پرانا تھا، اب کے بار رنجک چاٹ گئی اور بندوق سر نہ ہو سکی۔ کپتان صاحب کچھ دیر سر جھکا کر سوچتے رہے، اور مونچھ کو تاؤ دیتے رہے۔ اس دوران اُستاد چغری خاں اور دبیر سنگھ پر خاموشی طاری رہی۔ ‘‘اُستاذ! مشق کی ضرورت ہے!’’ کپتان صاحب نے کہا اور رخصت ہو گئے۔ میر صاحب نے بندوق پرے پھینکی اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا اور رات دیر تک بے قراری کے عالم میں جاگتے رہے۔ کبھی والد مرحوم کو یاد کر کے بہت روئے تو کسی دم والدہ مرحومہ کو۔ اپنی بدبختی کو کوستے اورسسکیاں لیتے خُدا جانے رات کے کس پہر آنکھ لگی۔ اگلی صبح اُستاد چُغری خاں نے میر صاحب کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا لیا کہ صاحبزادے نے معاملہ دل پر لے لیا ہے۔ کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو استاد نے سرِ راہے بتا دیا کہ صاحب بہادر کا لاڈلا اداس ہے۔ کپتان صاحب نے حکم دیا کہ میر صاحب شام کا کھانا ان کے ہمراہ کھائیں گے۔ کپتان صاحب اکثر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عشق اور سپہ گری کسی کا رنگ ، مذہب اور نسل نہیں دیکھتے۔ کم سن میر صاحب سے انس شائد فقط بے اولادی کی وجہ سے ہی نہیں، سپہ گری کے پیشے کی دین بھی تھا کہ میر ابوالمعالی کا بھی کپتان صاحب ایک اچھے اور کہنہ سال سپاہی ہونے کی وجہ سے از حد احترام کرتے تھے۔ میر صاحب جب کپتان برنابی صاحب کے ہاں گئے تو کپتان صاحب نے ان کی آزردگی کی وجہ پوچھی اور پھر دیر تک ان کی ہمت بڑھاتے اور غم غلط کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ لطائف اورشعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوا اور میر صاحب کی طبیعت ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہوگئی۔

کپتان برنابی صاحب کی حوصلہ افزائی نے میر صاحب کو پھر سے تربیت پر آمادہ کیا تو وہ ایک بار پھر میدان کی مشق میں آکھڑے ہوئے۔ اب کی بار میر صاحب کو سب سے پہلی باری دی گئی تھی۔ان کے ساتھی بڑے تجسس سے دیکھ رہے تھے کہ کپتا ن صاحب بہادر کا چہیتا کیوں کر بندوق سر کرتا ہے ۔ آج انہیں ولائیتی انفیلڈوالی بندوق دی گئی جس کا کارتوس بھی اچھا تھا۔ یہ بندوقیں ۱۸۵۷ کے بعد اب آکر کپتان برنابی صاحب نے استعمال کی تھیں جبکہ باقاعدہ افواج میں ان کے متنازعہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال قریباً ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ اب مارٹینی ہنری اور سنائیڈر کی بندوق نے لے لی تھی۔ میر صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ بندوق بھری، نشست باندھ کر لبلبی دبا دی لیکن گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اس مردود پرزے نے عین وقت پر بے وفائی کی تو میر صاحب گھبرا گئے۔ اسی لمحے اُستاد چغری خاں نے آگے بڑھ کر بندوق تھام لی جبکہ کپتان صاحب انگریزی میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ اس سے پہلے کہ استاد ٹھونک بجا کر بندوق کے نقص کا اندازہ لگاتے، بندوق استاد کے ہاتھ میں ازخود چل گئی اوردبیر سنگھ توپچی کا، جو کہ لپک کر اُستاد کے پاس آگیا تھا اور بندوق کی نال کے سامنے کھڑا تھا، بایاں پاؤں زخمی کر گئی۔ کپتان برنابی نے جو یہ منظردیکھا تو پہلے بے ساختہ ہنس پڑے، پھر سنجیدہ ہو کر واپس چلے گئے۔ میر صاحب دیر تک یہی سوچتے رہے کہ کپتان صاحب نے قہقہہ لگا کر اُن کی نحوست اور بدبختی کی داد دی ہے۔ بہت خفا ہوئے، رات دیر تک شہر سے ہٹ کر ایک مندر کے پچھواڑے میں، ندی کنارے بیٹھے رہے۔ رات بھی چاندنی تھی اوردل بھی اداس ۔ بڑی مدت کے بعد آج میر صاحب کو رخشندہ بانو کا خلوص یاد آیا۔ اس کی بہت کمی محسوس کی لیکن جب اس کا ترکِ تعلق یاد آیا تو ہر تلخ و شیریں یاد کو ذہن سے جھٹک کر اُٹھ آئے۔ میر صاحب اگر اس قدر حساس نہ ہوتے تو شائد قدرت بھی ان کے ساتھ اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرتی۔ میر صاحب کی رنجیدگی اور دلگرفتگی کا قصہ پھر کپتان صاحب تک پہنچا تو وہ میم صاحب کے ہمراہ خود ہی اُستاد چُغری خاں کے ہاں چلے آئے۔ میر صاحب کو پاس بٹھایا اور کہا؛

‘‘میر صاحب، تُم فقط تھوڑے سے بدقسمت واقع ہوئے ہو ورنہ سپہ گری میں تُم ہرگز نالائق نہیں ہو، لیکن بہادر بنو!’’

میم صاحب نے فرمایا: ‘میر، ٹُوم جس دن نظام کی فوج میں بھرتی ہو گا، میں ٹُومارا شادی بناؤں گی’ میر صاحب مسکرا کر چپ ہو رہے۔
میم صاحب نے سفارش کی کہ میر خسرو کو توپ کی تربیت دی جائے، شائد اسے ہماری پلٹن کی بندوق راس نہیں ہے۔ کپتان صاحب نے سفارش مان لی ۔ پلٹن میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے تو شرطیں بدنا بھی شروع کر دیں کہ میر خسرو کیسے توپ چلائے گا۔ اب استاد چغری خاں نے میر صاحب پر سخت محنت شروع کر دی اور کئی روز مشق اور قواعد کے بعد کپتان صاحب سے اجازت طلب کی کہ میر صاحب کو مشق کروائی جائے کہ وہ توپ چلا کر دکھائیں۔ کپتان صاحب نے پلٹن کی سب سے چھوٹی توپ (توپک) میر صاحب کے لئے نکلوائی ۔ یہ توپ پیندے سے بھری جاتی تھی جس میں گولہ ڈال کر دندانے دار بیلن کا پیندا گھما کر کس دیا جاتا تھا۔ بہت ہلکی توپ تھی اور استاد قالی خاں نے بیجا پور میں پہاڑی توپ خانےکیلئے ڈھالی تھی۔جب سے یہ توپ استاد قالی خاں نے کپتان صاحب کو تحفہ کی تھی، یہ توپ کم ہی چلی تھی۔ مقررہ روز جب میر صاحب نے مشق کے میدان میں توپ چلانا تھی ، اس روز استاد چغری خاں اچانک بیمار پڑ گئے، جس وجہ سے کپتان صاحب کے ہمراہ دبیر سنگھ توپچی کو آنا پڑا جس کا پاؤں ہنوز زخمی تھا۔ وقت مقررہ پر کپتان صاحب کی موجودگی میں جب میر صاحب نے توپ بھری، تمام پلٹن دیکھ رہی تھی، سب نے میر صاحب کے ماہرانہ انداز کی داد دی اور کپتان صاحب بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔ میر صاحب نے بڑے اعتماد سے توپ میں سلامی کا گولہ ڈالا اور دبیر سنگھ کے، جو کہ چند قدم پیچھے کھڑا تھا، اشارہ کرنے پر مہتابی دکھا دی۔ چھوٹا سا دھماکا ہوا اور پیندے کا دندانے دار بیلن (بریچ) ٹوٹ کر کسی پٹاخے کی طرح پھٹ گیا جس کا ایک ٹکڑا دبیر سنگھ کی دائیں ٹانگ پر لگا جبکہ دوسرا اپنی پوری شدت سے عقب میں ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ آگ کے شعلے سے میر صاحب کی بھنویں اور سر کے بال بھی کچھ جھلس گئے۔ دراصل کسی نے غور نہیں کیا کہ پیندے کے بیلن میں پرانا پڑ جانے کی وجہ سے بال کے برابر دراڑ پڑ گئی تھی۔ یہ تو خیر گزری کہ سلامی کا گولہ ڈالا گیا تھا ورنہ اُلٹی توپ چلنے سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ کپتا ن بے حد خفا ہو کر وہاں سے چل دیے۔ تمام لوگوں نے اسے دبیر سنگھ کی نااہلی قرار دیا لیکن کپتان صاحب ناروا میر خسرو سے ناراض ہو گئے ۔ اسی شام کپتان صاحب دبیر سنگھ کی عیادت کے بعد استاد چغری خاں کی عیادت کو بھی آن پہنچے تو میر صاحب سے بھی سامنا ہوا لیکن بات نہ کی۔ استاد نے میر کی وکالت کرنے کی کوشش کی تو کپتان برنابی صاحب آگ بگولہ ہو گئے؛

‘‘اُستاذ، من ہرگز باور نکنم کہ اُو خلفِ ابوالمعالی است’’ کپتان صاحب نے سخت غصے میں کہا اور چلے گئے۔ میر صاحب نے بھی سُن لیا اور سخت بُرا مان گئے اور اسی شب اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اورنگ آباد سے روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے استاد چغری خاں سے کہا؛ ‘‘اُستادِ من، ہم سپہ گری پر تین حرف بھیج چکے، اب جاتے ہیں اجمیر، خواجہ کی درگاہ میں ٹھکانہ کرنے ’’ استاد سن کر پریشان سے ہوگئے ، ‘‘میر خسرو طلعت! خدارا دل میلا نہ کیجو، ابھی تو آپ رنگروٹ ہیں!’’ استاد نے ملتجیانہ کہا لیکن میر صاحب ، کپتان صاحب کی بات دل پر لے چکے تھے، ہرگز نہ رُکے اور اجمیر روانہ ہو گئے۔ اگلے روز جب کپتان صاحب کو واقعہ کا علم ہوا تو پہلے سخت برہم ہوئے، لیکن استاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ کے سمجھانے پر انہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے ناروا غُصے سے کام لیا ہے۔ توپ کی خرابی کی ذمہ داری سنگھ نے اپنے سر لے لی اور معقول بات بھی یہی تھی۔ کپتان برنابی نے اگلے ہی روز ایک جوان کو میر صاحب کے نام کا ایک رقعہ دے کر اجمیر روانہ کردیا ۔ اس نامہ بر کو بصد مشکل میر صاحب ملے تو کپتان صاحب کا رقعہ میر صاحب کے حوالے ہوا، لکھا تھا؛

‘‘سیدزادے! کیوں خفا رہ کر گنہ گار کرتے ہو؟ اب تھوکو غصہ اور آبھی چکو، دیکھو بہت نادم ہوں اور میم صاحب بھی افسردہ ہیں’’

میر صاحب تیوری چڑھا کر بولے، ‘‘ایک فرنگی کاہے کو ہمارے تئیں اس لائق گردانے؟ یہ تحریر استاد چغری خاں کی ہے’’ قاصد نے جا کر کپتان صاحب کو بتایا تو وہ بھی ناراض ہوئے مگر استاد چغری خاں کے مشورے پر اُنہوں نے گھنشام بابو کو خط لکھا جس چغری خاں خوب جاننے لگے تھے۔ میر صاحب گھنشام بابو کی بات ٹالنے والے نہ تھے، لہٰذا اس کے ہمراہ ہی اورنگ آباد آگئے ۔ آنے سے پہلے درگاہ میں خوب دعائیں مانگ کر آئے، راہ میں گھنشام بابو نے کسی جوتشی سے میر صاحب کی پریشانی بیان کی تو اس نے فقط اتنا کہا؛ ‘‘میر صاحب کے ہاتھ میں تفنگ ضرور چلے گی!’’ گھنشام بابو کو تو میر صاحب کی بپتا پر ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا تاوقتیکہ اورنگ آباد پہنچ کر کپتان صاحب کی پلٹن سے سُن نہ لی۔ گھنشام بابو کے ساتھ میر صاحب نے ریاست میں چند روز خوب سیر کی، یوں ان کا مزاج اچھا ہوا اور وہ معمول پر آگئے۔

یہ ۱۸۸۲ کی کوئی تاریخ تھی جب کپتان برنابی صاحب بہادر اور میم صاحب کے دیرینہ دوست اور بے حد محبوب رشتہ دار کرنیل گورڈن صاحب بہادر کی خبر ملی کہ تل الکبیر کے معرکے میں مارے گئے ہیں، یعنی ایک دھاوے میں گھوڑے سے زخمی ہو کر گرے اور رسالے بھر کی ٹاپوں نے روند دیا۔ پلٹن میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پلٹن کے پرانے لوگ آنجہانی کرنیل صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کرنیل صاحب کبھی کپتان صاحب کے مہمان ہوتے تو پلٹن کا دورہ بھی کرتے۔ آخری بار میر صاحب کے آنے سے کچھ قبل دورہ کیا ہوگا لیکن میر صاحب نے ان کی سپاہیانہ وجاہت اور ہیبت کے قصے سُن رکھے تھے۔کپتان برنابی صاحب بہادر نے پلٹن میں دربار لگایا اور کرنیل صاحب کے پرانے دوست اور شاعر میرزا محی السنت احقر کو بلوا کر ان سے مرثیہ کہلوایا۔ استاد چغری خاں نے فارسی میں قطعۂ تاریخ کہا جبکہ ایک شعر میر خسرو طلعت نے بھی اہلِ دربار کے گوش گزار کیا؛

جنگ جوئے قہر ساماں پر یہ قہرِ واژگوں
تفو تجھ پر، حیف تجھ پر اے سپہرِ واژگوں!

کپتان صاحب چونکے۔ ‘‘میر صاحب! سپہر ِ واژگوں نے جو قہر میرے مرحوم دوست پر ڈھایا، یہ قہرِ واژگوں کیسے ہو گیا؟’’ کپتان صاحب کے سوال پر میر صاحب کا جواب بھی خوب تھا؛ ‘‘حضور، صاحب بہادر خُلد آشیانی کے قہر سے بھی تو فلکِ پیر کانپ اُٹھتا تھا!’’

کپتان برنابی بہت خوش ہوئے اور اپنی کارتوس بھری قرابین وہیں میر صاحب کو انعام کر دی۔ میر صاحب نے بصد شکریہ قرابین کمربند میں اُڑس لی اور خوش خوش واپس آگئے۔

اگلے روز شور ہوا، ‘میر صاحب کی قرابین چلی ہے!’ ‘میر صاحب نے قرابین سے گولی داغی ہے!’ جو سچ تھا، جلد ہی سب کو پتہ چل گیا ۔ میر صاحب نے جو قرابین جامے میں اُڑس لی تھی، وہ کسی لمحے اُن کا ہاتھ پڑ جانے سے از خود چل گئی اور گولی ان کی ران پہ لگی ۔ بمشکل ایک رات جان بر رہ سکے، خون ذیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پہلے بے ہوشی ہوئی، پھر دم توڑ دیا۔ دمِ مرگ وصیت کر گئے تھے لہٰذا پلٹن کی لین میں دفن ہوئے۔

قبر پر مٹی پھینکی جارہی تھی، ضابطے مطابق سپاہ کی گارد نے سلامی کی بندوقیں سر کیں تو اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ولائیت حسین موچی کے شاگرد کا ہاتھ رک گیا۔ پاس بیٹھے کسی بچے نے کہا، ‘‘پلٹن میں کوئی سنتری مر گیا ہے، سپاہی لوگ اُسے دفنا رہے ہیں’’

‘‘بالآخر اس کا بھی بخت جاگا۔۔۔’’ نوجوان موچی نے کہا، بچے نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ‘‘اچھا ہی ہوا، فرنگی کے احسانوں کے بار سے آزاد ہوا اور عدم کے ملک میں اپنا ایمان سلامت لیے جا بسا ہے، خُدا بخشے۔۔۔’’

بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(38)

جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔ لاشوں سے مسلسل رِستے ہوئے خون کی وجہ سے گَڈوں کی حالت بھی لاشوں سے بد تر تھی اورگَڈوں کے اُوپر جُڑے ہوئے تختوں کے فرش سے لے کر لکڑی کے پہیوں تک خون میں نہا چکے تھے۔ بہت ساخون تختوں پر جم کر سیاہ ہو چکا تھا۔ لاشیں اگرچہ تازہ تھیں اور قتل ہوئے مشکل سے ہی پانچ یا چھ گھنٹے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی کی وجہ سے اُن کی حالت بہت ہی خوفناک اور بدبو پیدا کر دینے والی تھی۔ اُن کو دیکھنا تو الگ بات،قریب جانا بھی اذیت ناک تھا۔ لاشیں پولیس کی نگرانی میں جھنڈووالا پہنچی تھیں،اِس لیے پولیس کی بھی کافی نفر ی وہاں موجود تھی لیکن وہ اب لا تعلق سی ایک طرف کھڑی تھی،جیسے اُنہیں اس بات سے صرف اتنی غرض ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے ان کا کریا کرم ہو جائے اور اس بدبو،پسینے،اور شور شرابے سے جان چھوٹے۔ جھنڈووالا کے مرد تو ایک طرف بینت کور سمیت وہاں کی تمام عورتیں لاشوں کے اُوپر گری پڑی تھیں اور ایسے ایسے بین اُٹھا رہی تھیں کہ خدا پناہ۔ سر کے بال بکھیر کر اوراُن میں راکھ ڈال کر اپنے آپ کودوہتھڑ پیٹ رہی تھیں،جیسے چڑیلیں بن گئی ہوں۔ بیہوش ہو کر کبھی نیچے گرتیں کبھی اُوپر اُٹھ کر گڈے پر چڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کسی کو جرات نہ تھی،اُن کے قریب جا کر دلاسا ہی دے۔ سب سے بُری حالت بینت کور کی تھی۔ لوگوں کی بھی زیادہ تر ہمدردیاں سردار سودھا سنگھ اور بینت کور ہی کے ساتھ تھیں۔ لاشیں کافی دیر اسی طرح گڈوں پر پڑی رہیں۔ مردوں اور عورتوں نے جی بھر کر ماتم اور رونا پیٹنا مچایا۔ مرنے والوں کے ا قربا غش کھا کھا کر گرتے تھے جبکہ لوگ بھاگ بھاگ کر اُن کے منہ میں پانی ڈالتے تھے۔ پانی پلانے والے کم تھے اور رونے پیٹنے والے زیادہ کیونکہ پوری دس لاشیں تھیں۔ وہ بھی ساری کی ساری جھنڈووالا کی۔ یہ سب قتل ہونے والے پورے گاؤں کے کسی نہ کسی طرح قریبی رشتہ دار تھے۔ جو آدمی بھی لاشوں کو دیکھتا اور اُن کی بُری حالت پر نظر کرتا تو کلیجہ پھٹ کے رہ جاتا۔ وہیں لاشوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا۔ تھوڑی دیر پہلے صبح کے وقت اچھے بھلے شینہہ جوان اور سوہنے سنکھنے تھے اور اب گڈوں پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کبھی دھرتی پر چلے پھرے ہی نہ ہوں۔ پولیس نے دیر تک اُنہیں یونہی اُن کے حال پر چھوڑے رکھا اور الگ بیٹھی رہی لیکن جب رونے دھونے اور پیٹ پٹہیے کے عذاب کودو گھنٹے گزر گئے تو اُنہوں نے مداخلت کر کے لاشیں گڈوں سے اُتارنا شروع کر دیں۔ بینت کور اور دو تین خواتین ویسے بھی روتے پیٹتے غش کھا کر اپنے حواس سے بیگانہ ہو چکی تھیں۔ مردوں کو پیچھے کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے تمام لاشیں گڈوں سے اُتار کر سودھا سنگھ کی حویلی میں لائی گئیں اور اُنہیں چارپائیوں پر لٹا دیا گیا۔ سودھا سنگھ کو اُسی چار پائی پر لٹایا گیا جو اُس نے خاص اپنے لیے بنوائی تھی اور اُس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جب تک لاشیں اُتاری گئیں،بینت کور کو دوبارہ ہوش آچکا تھا۔ وہ بھاگ کر پھر لاش سے لپٹ گئی۔ سودھا سنگھ کی شکل خوفناک حد تک مسخ ہوچکی تھی اور دیکھنے سے کراہت محسوس ہوتی لیکن بینت کور اُسے اُسی طرح چوم رہی تھی جیسے اُس میں خوبصورتی کے شعلے دہک رہے ہوں۔ پورا دو تین سو بندہ حویلی میں جمع ہو تھا۔ اُن کے علاوہ ارد گرد گاؤں کے لوگ بھی اس ہیبت ناک خبر کو سن کر وہاں آگئے۔ اِس طرح جھنڈو والا میں لوگوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ زیادہ تر لوگ لاشوں سے دور حویلی کے باہر ہی مختلف ٹولیوں میں ادھر اُدھر بیٹھے اور کھڑے،اِس واقعے پر طرح طرح کے تبصرے بکھیر رہے تھے۔ اُنہیں اِس سانحے پر دُکھ سے زیادہ تعجب اور غلام حیدر کی جرات پر حیرانی تھی۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کو لاشیں دیکھنے سے دلچسپی نہیں تھی،نہ ہی وہ چاہتے تھے،اُن کا نام گواہی کے طور پر استعمال ہو۔ فقط تماشا دیکھنے میں اُن کی طبیعت کو ایک قسم کا سکون ملتا تھا۔ جھنڈووالا میں اب سکھ،مسلمان سب ہی جمع ہو چکے تھے۔ مسلمان بظاہر مرنے والوں کے لیے چہروں کو سنجیدہ بنا کر پھر رہے تھے لیکن دل ہی دل میں اُن کا ایمان انہیں غلام حیدر کو داد دینے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ جی میں بغلیں بجا رہے تھے اور غلام حیدر کی بہادری پر اُن کے سینے فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ بعض چپکے چپکے آپس میں اِس بات کر اظہار بھی کر رہے تھے کہ بھائی مُنڈے نے اپنے اُوپر نیودرا نہیں رکھا۔ بدلے کا حساب پورا پورا کھول کے چکایا ہے۔ غلام حیدر آخر شیر حیدر کا بیٹا تھا۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ لوہے کی گولیاں مار مار کے بچاروں کے حلیے ہی بگاڑ دیے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ظلم کی انتہا بُری ہوتی ہے۔ پھر بھی جیسا بھی تھا،میاں سودھا سنگھ تھا اچھا آدمی۔ اپنی رعایا پر بچارا بڑا مہربان تھا۔ غلام حیدر کو حوصلے سے کام لینا چاہیے تھا۔ معاف کر دیتا تو زیادہ اچھا تھا،پرغصہ بُری چیز ہے،بھائی ہوا بُرا۔ بچارے سودھا سنگھ کو کیا پتا تھا،اُس کے دن گنے جا چکے ہیں؟ چلو مولا بھلی کرے،اب بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔ جتنی جلدی ہو سکے،ان کی ہوا کوآگ دے دینی چاہیے۔ غرض یہ کہ مسلمان،جو اِس وقت جھنڈووالا میں کھڑے تھے،وہ بظاہر تو ہمدردی کے کلمات کہہ رہے تھے لیکن دل میں ایک مسلمان کی بہادری پر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر سکھوں کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی،وہ یا تو کچھ بول نہیں رہے تھے اور زبانوں پر مہر یں لگی ہوئی تھیں یا وہ رو رہے تھے،بولیں تو کیا؟ کہ ایک مُسلے نے دس سرداروں کی ایک وقت میں چتا کی راکھ اُڑا دی۔

تھانہ گرو ہر سا کی پولیس حادثے کے فوراً بعد ہی وہاں پہنچ گئی تھی حتیٰ کہ جھنڈووالا کے لوگوں سے بھی پہلے۔ تھانیدار ضمیر شاہ نے وقوعے کی تمام رپورٹ درج کرکے گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے۔ جس کے مطابق سودھا سنگھ اور اُس کے بندوں پر حملہ کرنے والے صرف دو ہی آدمی تھے،جن کے پاس پکی رائفلیں تھیں اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ مگر اُن کے چہروں پر منڈاسا ہونے کی وجہ سے وہ پہچانے نہیں جاسکے۔ البتہ سودھا سنگھ کے بھاگے ہوئے بندوں کے مطابق،اُن دو کے علاوہ اور بھی کافی سارے آدمی تھے،جن کے پاس ڈانگیں اور برچھیاں تھیں اور وہ بھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُنہیں یہ بھی شبہ تھا،کہ رائفلوں والے جو دو آمی تھے۔ اُن میں سے ایک غلام حیدر تھا،مگر اُن کی یہ بات پولیس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اگر سودھاسنگھ کے اُن گواہوں کے بیانات کو مان لیا جائے،تو مسلۂ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے اور زخمی ہونے والے یا بھاگنے والے پر تیز دھار لوہے کا ایک بھی زخم موجود نہیں تھا۔ نہ ہی اُن لوگوں کا نام نشان وہاں موجود تھا،جن کے پاس ڈانگیں یا برچھیاں تھیں۔ یااُن میں سے کیوں کوئی بھی آدمی سودھا سنگھ کے ہاتھوں زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام باتیں جزیات کے ساتھ تھانیدار ضمیر شاہ نے اپنے نقشے اور پہلی انکوائیری میں درج کر لیں۔ باقی پورے کیس کی بنیاد اِسی پہلی انکوائیری پر تھی۔ عصر تک تھانیدار نے واقعے کے شاہدین،جگہ کا نقشہ اور وقوعے کی رپورٹ تیار کر کے لاشیں چھوٹے تھانیدار دیوان سنگھ اور حوالدار چندن لعل سمیت چھ سپاہیوں کی نگرانی میں جھنڈووالا کی طرف روانہ کر دیں اور خود ڈی ایس پی لوئیس صاحب کو رپورٹ کرنے کے لیے جلال آباد روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھوڑے دلکی چال چل رہے تھے۔ غلام حیدر براستہ سلیمانکی حویلی لکھا پہنچا،تو رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ گرمیوں کی راتیں مختصر اور نہایت گرم ہونے کی وجہ سے لوگ اتنی جلدی چارپائیوں پر کم ہی جاتے ہیں۔ غلام حیدر کے اس پورے علاقے میں کئی رشتے دار اور دوست پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہیں بھی قیام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا،واقعے کے فوری بعد مشرقی اور وسطی پنجاب کے تمام تھانوں میں اُس کے متعلق اطلاع کر دی گئی ہو گی۔ اِس لیے وہ کوئی بھی خطرہ فی الحال مول نہیں لینا چاہتا تھااور کسی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا،جہاں اُس کی رشتہ داری یا دوستی کا لوگوں کو کچھ پتا تھا۔ غلام حیدر نے چلتے چلتے امانت خاں سے کہا،میاں امانت،تم نے جو آج میرے لیے کیا ہے،اُس کی قیمت تو میں کسی بھی طرح ادا نہیں کر سکتا لیکن میں چاہتا ہوں،اِس دوستی کے عوض تم سے کچھ نہ کچھ ضرور سلوک کرو ں۔ مجھے نہیں پتا،کتنا عرصہ اب مسافرت میں گزارنا پڑے لیکن میرا وعدہ ہے،اِس غربت کے بعد میں تمھیں اپنا سگا بھائی بنا کر رکھوں گا۔ مگر اس وقت میرا خیال ہے،ہمیں اکٹھے نہیں رہنا چاہیے اور الگ الگ ہو جائیں۔ یہ کہ کر غلام حیدر نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ایک بھاری تھیلی کھولی اور چلتے چلتے ہی اُسے امانت خاں کی طرف بڑھا دیا اور کہا،اِس میں ایک پاؤ سونا ہے۔ یہ میری طرف سے تحفہ سمجھو اور اِسی وقت سیدھے اپنے علاقے میں چلے جاؤ۔

امانت خاں نے تھیلی غلام حیدر سے پکڑ لی اور کہا،چوہدری غلام حیدر،میں تیرے ساتھ اِن پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا تھا لیکن یہ سونا مَیں ضرور اپنے پاس رکھوں گا،اُس وقت تک جب تم دوبارہ نہیں ملتے۔ یہ سونا میرے پاس تمھاری امانت ہے۔ اگر مشکل پڑی اور اِن کی ضرورت ہوئی تو اپنی امانت مجھ سے آ کر لے لینا۔ ملک بہزاد،میرا ماماہے اور اُس کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں۔ مَیں یہ کام پیسوں کے لیے نہیں کرتا،۔ اِس کے بعد دونوں گلے ملے اور دونوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں مخالف سمت میں موڑ دیں۔ غلام حیدر نے اپنا گھوڑا نواب سرفراز کی حویلی کی طرف دوڑا دیا،جہاں کچھ دن آرام کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق اُسے نواب افتخار کے ماموں کے پاس کشمیر جا کر پتا نہیں کتنے برس تک روپوش ہونا تھا۔ تاکہ وقت کا انتظار کیا جا سکے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گرمی کی وجہ سے لاشوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے بھی تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔ اِس لیے پولیس چاہتی تھی کہ لاشوں کو اپنی نگرانی میں ٹھکانے لگا دے تاکہ لاشیں خراب ہو کر بدبو نہ مارنے لگ جائیں۔ اب رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اِس سخت گرمی میں اِتنا وقت بہت زیادہ تھا۔ ورنہ مزید کوفت پھیل جاتی۔ خون،بد بو اور لوگوں کا ہجوم اس میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ لوگوں نے ایک ہی وقت میں اتنی لاشیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں،نہ اِس طرح کا قہر پہلے نازل ہوا تھا۔ اِس لیے ہر کوئی دور دور سے بھاگا ہوا آیا اور یہاں جمع ہو گیا تھا۔ سردارسودھا سنگھ کے رشتے داروں کے بھی سینکڑوں لوگ تھے،جو لاشوں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ اِس ساری آنے والی خرابی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنا کردار شروع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ اب چتاؤں کو آگ دینے اور راکھ بنانے میں دیر نہ کی جائے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے کے قریب سردار سودھا سنگھ،دما سنگھ،جگبیر،پیت سنگھ،بیدا سنگھ،ہرے سنگھ،کڑے مان،لہنگا سئیواور دوسرے متروں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں لے جا کے آگ اور لکڑیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار سودھا سنگھ کا تین سالہ بیٹا سرداو جیوا سنگھ،جسے ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کون سی قیامت اُس کے سر سے گزر چکی ہے،کے ہاتھ میں جلتی ہوئی لام دے دی گئی تاکہ وہ سردار سودھا سنگھ کے گولیوں سے چھلنی بدن کو دکھا دے،جو سوکھی لکڑیوں کے درمیان بے خبر پڑا تھا۔

اِدھر سردار سودھا سنگھ کی لاش کا کریاکرم ہونے لگا،اُدھر لوئیس صاحب پولیس کو لے کر اپنی کارروائی کرنے کے لیے جلال آباد میں چوہدری غلام حیدر کی حویلی پر چڑھ دوڑا۔ چالیس سنتریوں اور تھانیداروں سمیت گھوڑوں نے پوری حویلی کو گھیرے میں لے کر اُس کا اپریشن شروع کر دیا۔ مگر وہاں دو ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا،جو حویلی کا دروازہ بند کرنے اور کھولنے کے لیے موجود تھے۔ لوئیس نے دونوں ملازم حراست میں لے کر کونے کونے کی تلاشی شروع کر دی۔ لیکن وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ رات بارہ بجے تک لالٹینوں کی روشنی میں تلاشی جاری رہی۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بالآخر لوئیس صاحب نے وہاں دو سنتری متعین کر کے اور دونوں ملازموں کو،جنہیں خود بھی کسی بات کا پتا نہیں تھا،اُنہیں اٹھا کر اپنے دفتر لے آیااور باقی کارروائی اگلے دن پر ڈال دی۔

لوئیس صاحب کے لیے معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا تھا۔ اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ غلام حیدر اتنا بڑا قدم اُٹھا لے گا اور اِس میں اپنے نفع نقصان کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اِدھر اُسے ولیم صاحب سے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اُس نے مطمئن رہنے کا سرٹیفیکیٹ عطا کر دیا تھا۔ اب مجرم موجود نہیں تھا،جسے گرفتار کر لیا جاتا۔ جبکہ اُس کے تمام آدمی تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں ناجائزاسلحہ کے جرم میں بند پڑے تھے۔ اُن کا موقعہ واردات پر موجود ہونا ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ پورا تھانہ گواہی دے رہا تھا کہ ِانہیں دو دن پہلے ناجائز اسلحے اور ایک دوسرے گروہ کے ساتھ دنگا کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے فیروز پور عدالت میں پیش کرنے کے لیے چالان تیار کیا جا چکا ہے اور واقعہ کے عین روز اُنہیں پولیس کی حراست میں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ سردار سودھا سنگھ،شریف بودلہ،عبدل گجر اور دوسرے کئی آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ لوئیس صاحب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔ ضمیر شاہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک یا دو بندے کس طرح اِتنے قتل اِس قدر قلیل وقت میں کر سکتے ہیں؟ مگروہ اُن بندوں کو وہاں کیسے ثابت کرے؟ جن کی خبر سردار سودھا سنگھ کے بھاگنے والے بندے دے چکے تھے۔ دوسری طرف سردار دیوے کھوہ کے مالک کے بیان کے مطابق بھی دو بندے تھے،جن کو وہ نہیں پہچانتا تھا۔ اُس نے بس اتنا دیکھا تھا کہ اُنہی دونوں نے ریفلوں سے فائرنگ کر کے اِن سب کو قتل کیا تھا اور اُن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اِس لیے پہچانے نہیں گئے۔ اِس بات کی تصدیق اِس سے بھی ہوتی تھی کہ عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل کے گواہوں نے بھی دو بندوں ہی کی تصدیق کی تھی۔ لوئیس صاحب جانتا تھا،کہیں دال میں کالا ضرور ہے۔ لیکن اتنی جلدی پتہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ مگر اُسے پوری تحقیق کرنے کے لیے وقت بھی ملتا ہے کہ نہیں؟ اب اِس کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ولیم اب کسی بھی طرح کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اُس کے خلاف کاروائی کر دے گا۔

تفتیش کو تیسرا دن تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر ولیم شادی میں مصروف تھا۔ اور اِس وقت اُسے اِن کاموں میں اُلجھانا نامناسب ہی نہیں،اصولوں کے بھی خلاف تھا۔ اگرچہ لوئیس صاحب نے فیروزپور جا کر ساری بات ضلع پولیس افسر کے سامنے رکھ دی تھی اور اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ لیکن معاملہ اُلجھتا ہی جا رہا تھا۔ البتہ غلام حیدر کی پوری زمین اور جائداد قبضہ میں لے لی گئی اور تمام لوگوں کو خبردار کر دیا کہ جو اِس معاملے میں ملوث ہے،وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ورنہ گورنمنٹ انتہائی سخت ایکشن لے گی۔ لیکن اِس کی نوبت نہیں آئی۔ کیونکہ اِس ہولناک واقعہ کی اطلاع جب ولیم صاحب کو پہنچی تو اُنہوں نے ڈپٹی کمشنرصاحب کو صاف لکھ دیا کہ یہ پولیس افسراُسے نہیں چاہیے۔ یوں ولیم کے تقاضے پر ڈی ایس پی جلال آباد مسٹر لوئیس صاحب کو دس دن کے اندر ہی تبدیل کر کے لدھیانے بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ لاہور سے تحصیل پولیس آفیسر مسٹر جان میلکم کو جلال آباد تعینات کر دیا گیا۔ جس کی سفارش کچھ دن پہلے سر شاہنواز نواب ممدوٹ نے بھی کی تھی۔ جان میلکم کے آنے کے بعد کیس کی تحقیق نئے سرے سے شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے چند دنوں میں سودھا سنگھ کے قتل کے متعلق اپنی پچاس صفحات کی رپورٹ تیار کرلی۔ اُس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

سودھا سنگھ اور شیر حیدر کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی،جودونوں طرف سے ایک دوسرے کے معمولی نقصان کرنے پرمنحصر تھی۔ یہاں تک کہ شیر حیدرفوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا غلام حیدر تعلیم کے سلسلے میں اکثر لاہور میں رہتا تھا اور اُس کے وہاں کافی بااثر دوست تھے،جن میں کچھ انگریز بھی تھے اور کچھ نواب حضرات۔ اِن لوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُس کے اندر ایک قسم کی خود سری پیداہو گئی۔ جس کو ہوا اُس وقت ملی جب سودھا سنگھ نے شیر حیدر کے مرنے کے بعد فور اُس کی زمینوں پر حملہ کر کے ایک بندہ قتل کر دیا اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی۔ اِس حملے کے بعد پولیس کی سُستی نے سودھاسنگھ کی مزید ہمت بندھائی۔ اُس نے شیر حیدر کے مزید دو دشمنوں عبدل گجر اور شریف بودلہ کے ساتھ مل کر ایک اور حملہ شاہ پور پر کر دیا،جو غلام حیدر کاآبائی گاؤں تھا۔ اِس میں غلام حیدر کے مزید تین بندے مارے گئے اور بہت سی بھینسیں لوٹ کر لے گئے۔ اسی بنا پرغلام حیدر نے جوابی حملے کا منصوبہ تیار کیا،جو انتہائی کامیاب رہا۔ لیکن اُس میں غلام حیدر نے اپنے بندوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک اور آدمی کا سہارا لیا،جس کا ابھی تک کوئی نام ونشان نہیں ملا۔ اُس کا پتا صرف غلام حیدر سے چل سکتا ہے لیکن وہ تا حال فرار ہے۔ پولیس اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے جلدگرفتارکرلیاجائے گا۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایران نکل گیا ہے۔

(39)

مولوی کرامت پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اپنی گدھی پر گاؤں گاؤں اور بستی بستی پھرتا رہا۔ اِس سفر اور سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات میں مولوی کرامت کو بات چیت کرنے اور کام کرنے میں بہت تجربہ حاصل ہو گیا۔ اُس کی گدھی ایسی سواری تھی،جسے بغیر کسی خرچے کے جہاں چاہتا،لے کر نکل جاتا۔ راستے میں کسی نہ کسی کھیت سے اُس کے لیے مفت میں چارا بھی حاصل کر لیتا۔ کبھی تین تین دن واپس نہ پلٹتا،جہاں رات پڑتی سو جاتا اور لوگوں کو تعلیم کے فوائد سمجھانے اور اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے متعلق ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا کہ وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ اب ان بچوں کی تعداد ہندو اور سکھوں کے بچوں کے نزدیک پہنچنے لگی تھی۔ مولوی کرامت نے سوچ لیا تھا،اگراُسے کچھ عرصہ اسی طرح کام کرنے دیا جائے تو وہ یہ تعداد آیندہ سال تک اِن سب سے زیادہ کر دے گا۔ اس کام میں مولوی کرامت کو سہولت بھی بہت تھی۔ نہ کوئی ڈیوٹی کا مقررہ وقت تھا اور نہ کسی کی پابندی تھی۔ کام کے سلسلے میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ جلال آباد سے دس دس میل دور سے بھی لڑکے سکول آنے کے لیے تیار ہو گئے۔

آج مولوی کرامت نے سکول میں حاضری دینا تھی۔ ایک ہفتے میں مولوی کرامت جتنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتا تھا،ہفتے کے آخری دن اُنہیں سکول میں لا کر پکا اندراج کروا دیتا۔ اُس کے بعد وہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ آج مولوی کرامت کے بستی جنڈوکا کے سولہ بچے ساتھ لے کر آیا تھا،جن کی عمر آٹھ سال سے لے کر بارہ سال تک تھی۔ مولوی کرامت انہیں نائب ہیڈ منشی کے حوالے کر کے،جب ہیڈ منشی کو سلام کرنے اُن کے کمرے میں پہنچا،تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ البتہ اُس کے بابو نے مولوی کرامت کو اطلاع دی کہ اُسے تعلیم افسرتُلسی داس اپنے دفتر میں یاد فرماتے ہیں۔ مولوی کرامت اُسی گدھی پر سوار ہو کرڈرتے ڈرتے تحصیل ایجوکیشن افسر کے دفترپہنچا کہ نجانے حاکموں نے اُسے کیوں بلایا ہے؟ اللہ جانے وہ اُس کی خدمت سے خوش ہوئے ہیں کہ ناراض۔ اوراب نوکری برقرار رہ سکے گی کہ نہیں؟ پچھلے تین مہینے کی تنخواہ مولوی صاحب کو مل چکی تھی،جسے وہ جودھا پور میں اپنی بیوی شریفاں کے حوالے کر آیا تھا۔ بلکہ اب جلال آباد میں گھر کے لیے اپنی جگہ بھی مول لینے کی سوچ رہا تھا۔ وہ پہلا مہینہ غلام حیدر کی حویلی میں عزت سے رہ رہا تھا لیکن وہاں انتہائی خوف میں مبتلا تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سُرخ انگارہ آنکھوں والے گبرو جوانوں سے حویلی بھری رہتی تھی،جن کو دیکھنے ہی سے اوسان خطا ہو جاتے۔ اس کے ساتھ،ہر طرف ڈانگوں،برچھیوں اور تلواروں کا معاملہ تھا اور لڑائی بھڑائی کی باتیں،جن سے مولوی کرامت کوسوں دور بھاگتا۔ وہ سوچتا تھا،جانے کس وقت حملہ ہو جائے اور وہ اپنے ثالے کی طرح مفت میں مارا جائے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو نماز روزے سے غرض تھی اور نہ اس بات سے کہ اُن کے درمیان ایک مولوی رہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ پہلی تنخواہ ملنے کے فوراً بعد وہاں سے اُٹھ کر چار روہے کرایہ کے ایک کمرے میں اُٹھ آیا تھااور شکر خدا کا یہ جگہ اُس نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی تبدیل کر لی تھی ورنہ مفت میں مارا جاتا۔ اب ایک مصیبت جو سب سے اہم تھی،مولوی کرامت اپنی بیوی شریفاں کے بغیر آج تک کہیں ایک رات بھی نہیں رہا تھااور اب اُسے پورے تین مہینے ہو گئے تھے۔ مولوی نے سوچا تھا،اُس کی تین مہینوں کی تنخواہ اور جو قصور سے آتے ہوئے کچھ پیسے جمع ہوگئے تھے،اُن سب کو ملا کر جلال آباد کے اندر نہ سہی،شہر کے مضاف میں تو پانچ چھ مرلے کی جگہ مل ہی سکتی ہے۔ جہاں باقی روپوں کا ایک دو کمرے کا مکان بن جاتا۔ اُس کے لیے مولوی کرامت نے سوچ رکھا تھا،کچھ پیسے وہ رحمت بی بی سے لے گا۔ لیکن اب اس کھتری افسر نے اُسے کیوں بلایاتھا؟اگر اُس نے نوکری ختم کردی تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو جائے گا۔ اُدھر راڑے والوں نے بھی کوئی نہ کوئی مولوی رکھ لیا ہو گا۔ ہاتھ سے مسجد بھی جائے گی،حالانکہ وہ کام تو اپنی بساط سے زیادہ ہی کر رہا تھا۔ اُس کے لیے اُسے دوسرے ملاؤں اور مسلمانوں سے غدار،کرسٹان اور کس کس قسم کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ مولوی کرامت نے سوچا،کیا ہی اچھا ہو،اگر گورنمنٹ اُسے آرام سے تنخواہ دیے جائے اور وہ کام کیے جائے۔ لیکن یہ بیچ میں جو بابو لوگ ہیں،یہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ بُری بُری باتیں کر کے افسروں کا دماغ خراب کر ہی دیتے ہیں اور یہ افسر بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں،جو بابووں کی ایسی ویسی باتوں میں آکر غریبوں کی نوکری چھین لیتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے،پہلے نوکری ہی نہ دیں۔ مولوی کر امت کسی انجانے خوف میں یہ سوچتا جاتا تھا اور چلا جاتا تھا۔

سچ بات تو یہ تھی،مولوی کرامت کو صرٖ ف اب تحصیل کے سب سے بڑے فرنگی افسر ولیم صاحب سے ہی ملنا اچھا لگتا تھا۔ کتنا نیک دل افسر ہے،جس نے بغیر سفارش کے،اُسے اتنی بڑی نوکری دے دی لیکن نجانے وہ ایک دفعہ اُسے نوکری دے کر بھول کیوں گیا تھا؟دوبارہ کبھی بلایا ہی نہیں اور نہ کوئی حساب کتاب لیا۔ مولوی کرامت جانتا تھا،دوسرے منشی اور تعلیم کا تحصیل افسر اُس کے کام سے جلتے تھے اور کسی بھی وقت اُسے نوکری سے نکلواسکتے تھے۔ اِسی اندیشے کے تحت اُس نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بڑے صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے صاحب کے کمرے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ جب صاحب اپنے دفتر سے نکل کر بنگلے کی طرف جا رہا تھا اور وہ صاحب کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے دو پہر سے دفترکی راہ داری کے باہر کھڑا تھا۔ اُس وقت بھی نہ صاحب نے اُس پر توجہ دی تھی اور نہ ہی کسی نے اُسے آگے ہونے کے لیے رستہ دیا تھا۔ سارے بابوؤں اور پولیس والوں نے رستہ ہی روک لیا۔ پھر بھی اُسے صاحب کی نیک دلی پر پورا یقین تھا لیکن تعلیم افسر تو ایک کھتری ہی تھا،جو شکل ہی سے مسلمانوں کا دشمن نظر آتا تھا۔

یہ سب سوچتا ہوا مولوی کرامت تُلسی داس کے کمرے کے باہر پہنچا تو تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ باہر ایک بنچ پر ہی بیٹھ گیا،یہاں تک کہ اپنے آنے کا اندر پیغام بھی نہ بھیجا۔ نہ ہی کسی نے مولوی کرامت سے پوچھا،کہ وہ کس لیے آیا ہے؟ مولوی کرامت کو بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تو ایک بابو نے بالآخر مولوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کون ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اُس کے جواب نے مولوی کرامت نے وہ رقعہ نکال کر بابو کو تھما دیا،جو اُسے صبح سکول میں حاضری کے وقت نائب ہیڈ منشی ہری چند نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خط تعلیم افسر کے دفتر سے آیا ہے اور آپ کو حاضر ہونے کو کہا ہے۔ بابو نے رقعہ دیکھ کر اپنی عینک،جو ایک میلی ڈوری سے باندھ کر گلے سے لٹکائی ہوئی تھی،اُٹھا کر آنکھوں پر لگائی اور رقعہ پڑھنے لگا۔ رقعہ پڑھ کر ایک نظر اُس نے مولوی کرامت کو دیکھا اور بولا،مولوی صاحب،کچھ دیر یہیں بیٹھو۔ وہ رقعہ لے کر تُلسی داس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مولوی کرامت دوبارہ اُسی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس گرمی کے موسم میں صبح سے دوپہر تک مولوی کرامت کا بھوکا پیا سا بیٹھنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا معاملہ تھا۔ ابھی مولوی کرامت سوچ رہا تھا،خدا جانے کب اِس ہندو کھتری کے ہاں پیشی ہو گی کہ اُسی بابو کی آواز مولوی کرامت کے کان میں پڑی،مولوی صاحب،اندر چلو صاحب نے بلایا ہے۔ مولوی کرامت اُٹھا اور جلدی سے سورہ الناس پڑھتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ سورہ پڑھ کر دل ہی دل میں میز کی دوسری طرف بیٹھے تلسی داس کے اُوپر پھونک مار دی۔ مولوی کو دیکھتے ہی تُلسی داس ہلکے سے مسکرایا اور ایک کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،آؤ مولوی کرامت بیٹھو۔

مولوی کرامت جھجکتے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گیا اور ٹک ٹک تُلسی داس کی طرف دیکھنے لگا،لیکن منہ سے کچھ نہیں بولافقط سلام کیا۔ سلام کے جواب میں تلسی داس نے رام رام کہا اور بولا،مولوی صاحب کیسا چل رہا ہے کام؟

جی سرکار کی مہربانی سے میں تو اپنی محنت کر رہا ہوں،باقی اللہ مالک ہے،مولوی کرامت بولا،سو بچوں کو سکول میں داخل کروا چکا ہوں،صرف دو مہینوں میں۔ میں تو جی مسجدوں میں جا کر اور لو گو ں کے گھر گھر جا کر بڑی محنت سے کام کر رہا ہوں۔ لوگ حجتیں بہت کرتے ہیں۔ پر مَیں بھی اُن کو حدیثیں سنا سنا کر قائل کر ہی لیتا ہوں۔

مولوی صاحب،آپ کو زیادہ مشکل تو نہیں پیش آتی اس معاملے میں؟ تُلسی داس نے مولوی کرامت کی طرف دیکھ کر اور اپنی چُندیا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مربیانہ سے انداز میں پوچھا۔

مہاراج،آپ کی دیا سے کچھ مشکل نہیں،مولوی نے داڑھی کھجاتے ہوئے جواب دیا،اگر سرکار تنخواہ دیتی ہے تو کام تو ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ بس یہاں ابھی اکیلا ہوں۔ جودھا پور روز روز جایا نہیں جاتا،سوچتا ہوں کسی طرح بال بچوں کو یہا ں لے ہی آؤں پھر بے فکری سے کام کروں۔

تُلسی داس نے مولوی کرامت کی بات سن کر کہا،مولوی صاحب کمشنر صاحب کو آپ کے کام کی رپورٹ کردی گئی تھی۔ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے ایک حکم فرمایا ہے،جس کے تحت تحصیل کمپلیکس میں آپ کے رہنے کے لیے ایک گھر دے دیا جائے گا،جہاں تم اپنے بیوی بچوں کو لا سکتے ہو۔ اب تم گورنمنٹ کے پکے ملازم ہو اور بے فکری سے کام کرو۔ مکان تم کو جب تک دیا جائے گا،جب تک گورنمنٹ کے ملازم رہو گے۔ اُس میں ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تم پر ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔

وہ کیا سرکار؟مولوی کرامت خوشی سے کانپتے ہوئے بولا،مہاراج آپ جو کام بھی دیں گے, میں حاضر ہوں۔ سرکار مجھ پر اتنی مہربان ہے تو میں کیسے اُن کے کہے پر عمل نہ کروں گا۔

مولوی صاحب،اب آپ تین دن سکول میں پڑھائیں گے اور تین دن جلال آباد سے باہر جا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں کو اس کام پر اُکسائیں گے۔ اس کام کے لیے آپ مزید چارایسے مولوی ڈھونڈیں،جن کو گورنمنٹ آپ ہی کی طرح تنخواہ دے گی،لیکن اُن کی نگرانی تم خود کرو گے اور ہمیں رپورٹ کیا کرو گے۔ اس معاملے میں تم کو اختیار ہے،جو مولوی مناسب سمجھو،انہیں گورنمنٹ میں ملازمت دلوا سکتے ہو،لیکن یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔ ان چھ مہینوں میں ہم سکولوں کی تعداد دُگنی کر رہے ہیں۔ جس کے لیے کم ازکم مسلمان بچوں کی تعداد تین سو ہو جانی چاہیے۔ اس کے بعد تُلسی داس نے اُسی بابو کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،میکا رام،یہ مولوی صاحب وہی ہیں،جن کے لیے مکان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ اُس کی کنجیاں مولوی صاحب کو دے دیں۔ اِس کے بعد تُلسی داس نے اُٹھ کر مولوی کرامت کو ہاتھ جوڑکر رام رام کہا۔ جس کا مطلب تھا کہ مولوی کرامت اب جا سکتا ہے۔

میکا رام نے کہا،آئیے مولوی صاحب اور آگے چل دیا۔ باہر نکل کر اُس نے میز کی دراز سے کچھ چابیاں نکالیں اور ایک چوکیدار کو آواز دی،جو تیس سال کا مسلمان لڑکا ہی تھا۔ اُسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہا،میاں دُلًے،یہ کنجیاں لے جاو اور کونے والے سیتا رام کے سامنے والا گھر مولوی صاحب کو دکھا آؤ۔ اُس کے بعد مولوی صاحب سے کہا،جائیے مولوی صاحب،یہ آپ کو گھر دکھا آتا ہے۔ پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے دوبارہ بولا،کوئی بڑی سفارش ڈھونڈی ہے مولوی جی آپ نے۔ کبھی ہما ری بھی سفارش کروا دیں۔

مولوی کو اپنے اُو پر گورنمنٹ کی اتنی نوازشات کی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ اُسے بس اتنا پتا تھا،اُس نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہے،جس کا خدا اُس کو یہ صلہ دے رہا ہے۔ وہ بھی کرسٹان اور ہندوبنیے کے ہاتھوں۔ مولوی کرامت نے سوچا،ایساتو پہلے بھی ہوا ہے،خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہی فایدہ دلواتا ہے۔ جس کی مثال موسیٰ اور فرعون کے باب میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ مکان اور ترقی حاصل ہونے کی اتنی بڑی خوشی مولوی صاحب کے قدموں کو اُڑا اُڑا رہی تھی۔ اُس کا جی چاہ رہا تھا،ابھی جودھا پور پہنچ کر یہ خبر شریفاں کو دے۔ لیکن جودھا پور جلال آباد سے پورے اَٹھارہ کوس ہونے کی وجہ سے وہاں جانے سے قاصر تھا۔ جبکہ جلال آباد میں مولوی کرامت کاکوئی رشتے دار نہیں تھا،جس کو یہ خبر سناتا۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک چوڑی سی گلی کے آخری کونے پر پہنچ کر،جہاں سے آگے یہ گلی بند ہو جاتی تھی،ایک مکان کے سامنے دُلا چپڑاسی رُک گیا اور بولا،لایے مولوی صاحب،پانچ روپے مٹھا ئی کے اور یہ کنجیاں لے کر دروازہ کھول لیں۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ گھر کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اِتنا اچھا اور پکا گھر تو اُس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن پانچ روپے کا سُن کر مولوی کو غصہ آ گیا۔ مولوی کرامت نے کہا،بھائی پانچ روپے کس بات کے،؟ مجھے تو بڑے بابو صاحب نے کہا تھا کہ گھر مفت ملے گا۔
دُلًے نے عورتوں کی سی طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا،واہ مولوی صاحب بھلا اس گھر کی قیمت پانچ روپے ہے؟ یہ پانچ روپے تو مٹھائی کی قیمت ہے۔ گھر تو آپ کو مفت ہی ملا ہے،میکا رام نے کہا تھا،مولوی صاحب سے مٹھا ئی کے پانچ روپے لیے بغیر گھر کی کنجیاں نہیں دینی۔ یہ پیسے کوئی میں نے تو نہیں رکھنے۔ آپ شکر کریں،آپ کو گھر مل رہا ہے۔ باقی بھلا کسی کو اس طرح کبھی گھر ملا ہے؟ کنجیاں تو تب ہی ملیں گی جب پانچ روپے دو گے،ورنہ اور بہت سے لوگ اس گھر کو لینے والے موجود ہیں،جو پچاس پچاس دینے کو بھی تیار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے افسر کے پاس بڑی سفارش پہنچ جائے اور وہ یہ گھر کسی دوسرے کے نام جاری کرنے کا حکم فرما دے۔ پھر آپ منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ وہ تو میں نے بھی اپنے تُلسی داس صاحب سے آپ کی سفارش کی تھی،جس کی وجہ سے یہ مکان آپ کے نام الاٹ ہو گیا۔ اگر آپ کی نہیں مرضی تو واپس چلے چلتے ہیں۔ جا کر میکا رام کو کہ دوں گا،مولوی صاحب کو آپ کی شرط منظور نہیں۔

مولوی کرامت دُلے کی بات سُن کر خاموش سا ہو گیا اور سوچنے لگا،اگر مَیں نے پیسے نہ دیے تو شاید یہ گھر نہ ملے۔ کیوں کہ جب نوکری ملی تھی تب بھی پانچ روپے مٹھا ئی کے دیے ہی تھے پھر مَیں فایدے میں ہی رہا۔ جب مَیں وہ پانچ روپے مٹھا ئی کے بھول چکا ہوں تو یہ پانچ روپے بھی دے ہی دو ں۔ کہیں بڑے صاحب کے سامنے میری بُرائی کر کے یہ بھی نہ لینے دیں۔ یہ سوچتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی ناف سے بندھی روپوں کی تھیلی کھولی اور گن کے پورے پانچ روپے کے سکے دُلے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اتنے زیادہ پیسے دیکھ کر دُلے کی آنکھیں چمک گئیں،تیر عین نشانے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے جلدی سے چابیاں نکال کر مولوی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔

گھر ملنے کے دوسرے دن بعد ہی مولوی کرامت جودھا پور گیا۔ پھر تیسرے دن ہی جو کچھ مال اسباب تھا،لپیٹا،شریفاں،فضل دین،رحمت بی بی اور اُس کی یتیم بیٹی کو لے کر جلال آباد کے نئے گھر میں آن داخل ہوا۔ مولوی کرامت کی صرف تین مہینوں کی محنت نے یہ رنگ نکالا تھا کہ جلال آبادکے مرکزی اسکول میں ہی مسلمان بچوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر ایک سو دس ہو گئی تھی۔ جس کا صلہ مولوی صاحب کو یہ ملا کہ اُسے اسسٹنٹ کمشنر ولیم کی منظوری سے جلال آباد تحصیل کمپلیکس میں ہی ایک تین کمروں کا کوارٹر رہنے کو مل گیا۔ جس میں اور تو اور پانی کا نلکا بھی لگا ہوا تھا اور گھر بھی پورے کا پورا پکی اینٹوں سے بنا تھا اور کرایہ اُس کا صرف تین روپے ماہانہ تنخواہ سے کٹنا تھا۔ گھر کے سامنے ایک ٹاہلی کا درخت بھی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گھر پکا ہونے کی وجہ سے مولوی کرامت کی بیوی کو روز روز بھوسے میں گُندھی ہوئی مٹی سے اُس کی دیواروں اور چھت کو لیپنا نہیں پڑنا تھا،جو کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے گھروں میں روز روز کا سیاپا تھا۔ اس طرح کے کچے گھر بارشوں کے موسم میں مصیبت بن جاتے ہیں۔ یہ پہلا رعب تھا،جو حقیقت میں مولوی کرامت شریفاں پر ڈالنے کے لائق ہوا تھا۔ شریفاں کے ساتھ اب اُس کی نند رحمت بی بی اور رحمت بی بی کی یتیم بیٹی بھی تھی۔ اِن کے علاوہ فضل دین تو موجود ہی تھا۔ رحمت بی بی سے نہ مولوی کرامت اور نہ ہی شریفاں نے کوئی بات کی تھی لیکن یہ قصہ خموشی سے طے ہو چکا تھا کہ رحمت بی بی کی بیٹی کا فضل دین سے اب نکاح ہونا لازمی قرار پا چکا ہے،جس کا بس اشارہ ہی رحمت بی بی کے لیے کافی تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر اب کون سی بات تھی کہ جب چراغ دین قتل ہوا تو اُن ماں بیٹی کا دور دور تک کوئی پُرسان حال نہیں تھا۔ یہ مولوی کرامت ہی تھا،جس نے آخری وقت پر اُن کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ وہ اُنہیں جودھا پور کے اکیلے پن سے نکال کر تحصیل جلال آباد اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ لہذا رحمت بی بی جس قدر بھی مولوی کرامت کی شکر گزار ہوتی،وہ کم تھا۔

تحصیل کمپلیکس عین ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا،جس میں مولوی صاحب اور اُس کی فیملی کو ولیم کی برکت سے رہنے کو اب ایک مکان بھی مل گیا تھا۔ کمروں میں اینٹوں کا فرش بھی لگا ہوا تھا۔ اب اُنہیں کہیں اور سے پانی ڈھونے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مولوی یا اُس کی بیوی جب چاہتے وضو کر سکتے تھے،نہا سکتے تھے اور وہی پانی پی بھی سکتے تھے۔ مولوی کرامت،فضل دین اور دونوں عورتوں نے مل کر اونٹ گاڑی سے سامان اُتارااور اُسے ترتیب سے گھر میں رکھتے گئے۔ گھر دیکھ کرشریفاں کے دیدے کھلے ہوئے تھے،جو اَب گھر کی مالکن ہونے کے ناتے ہدایات بھی دے رہی تھی کہ فلاں چیز اِدھر رکھو،فلاں چیز اُدھر رکھو۔ چیزیں کیاتھیں،تین چارپائیاں کچھ بسترے،کھانے کے چند ایک برتن،دو لکڑی کے صندوق،جن میں سلوٹوں سے بھر ے ہوئے کپڑے اور کچھ شادی کے وقت کی باقیات جمع تھیں اور بس۔ یہی کچھ دونوں گھروں کا اثاثہ تھا،جو ایک ہی گھر میں جمع ہو کر بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ اس گھر میں تین کمروں کے علاوہ اچھا خاصا صحن بھی تھا۔ موسم گرمیوں کا تھا۔ اِس لیے چارپائیاں رات کو صحن میں ہی بچھائی جانی تھیں۔ البتہ دن کے وقت اُنہیں کمروں میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں موجود ٹاہلی کے درخت نے یہ مشکل بھی دور کر دی۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے دن کو چارپائیاں ٹاہلی کے سائے میں بچھائی جا سکتی تھیں۔ صحن کچا تھااور اُس میں گھاس پھونس اتنا اُگا تھا کہ گرد غبار بالکل نہیں تھا۔ گھاس کاٹنے کی ضرورت تھی،جو فضل دین آرام سے کر سکتا تھا۔ مولوی کرامت نے سامان اُتروا کر اونٹ گاڑی والے کو پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کیااور عصر کے وقت جب گرمی کا کچھ زور تھما تو دونوں عورتوں کو گھر پر چھوڑفضل دین کو لے کر جلال آباد کے بازار میں چلا آیا تاکہ کھانے پکانے کے لیے دال،چاول،آٹا اور گھی وغیرہ خرید لے۔ بازار جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے،کوئی خاص نہیں تھا۔ ٖفضل دین نے تو خیر کبھی نہیں،البتہ مولوی کرامت نے تو قصور کابازار دیکھا ہی تھا۔ وہ اِس سے کہیں بڑا تھا۔ پورے جلال آباد میں ایک ہی بازار تھا۔ کوئی دو سو گز لمبی اور بارہ گز چوڑی سڑک تھی۔ جس کے دونوں طرف کچی پکی اور لکڑی کے بڑے تختوں والی چند ایک کھلی کھلی دکانیں تھیں۔ دکانوں کے بنیروں کے اُوپر دورویہ بانس کی لکڑیاں ڈال کراُن کو رسیوں سے باندھ دیا گیا اور اُوپر کٹی پھٹی ترپالیں بچھا دی گئیں تاکہ بازار سے گزرنے والوں پر دھوپ نہ پڑے جو مئی،جون،جولائی میں اتنی بڑھ جاتی کہ ننگے سر والوں کی چیں بول جائے۔ تر پالیں دوکانداروں نے خود ہی اپنے خرچے سے ڈال کر بازار میں چھاؤں بنا رکھی تھی۔ اِس میں دوکانداروں کی یہ حکمت بھی تھی کہ زیادہ تر سودادوکان سے باہر ہی پڑا ہوتا تھا۔ ایک تو اُس پر سایہ ضروری تھا۔ دوسرا اُس سودے کو آکر دیکھنے یا خریدنے والادھوپ کی شدت سے بچ کر آرام سے سودے کو ملاحظہ کر سکتا تھا۔ اگر گاہک کو مسلسل دھوپ تنگ کر رہی ہو،تووہ جلد ہی کھسکنے کی کرتا ہے اور دوسری دوکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ دکاندار،جس قدر زیادہ امیر ہوتا،اُس کی دکان کے اُوپر ترپال اتنی ہی اچھی ہوتی۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ پورے بازار کا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگا یا۔ فضل دین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بازار میں کس لیے آئے تھے کیونکہ نہ تو اُس نے پچھلے دو تین مہینوں سے روٹیاں اکٹھی کی تھیں،جو بیچنا ہو اور نہ ہی فضل دین کے خیال کے مطابق مولوی کرامت کے پاس پیسے تھے،کہ ٹانگر یا کھجوریں خریدنی ہوں۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے دوکانوں کو دیکھتا جاتا۔ جہاں سے اکثر سکھ،ہندو اور مُسلے کچھ نہ کچھ خریداری کر رہے تھے یا بیچ رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر عورتیں تھی۔ بوڑھی،جوان،سبھی قسم کی۔ اِن میں سکھ اور مسلمان عورتوں کے لباس گفتگو اور چال ڈھال میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اکثر عورتوں نے لہنگے اور کگھرے پہنے ہوئے تھے اور اُن کگھروں کے آزار بندوں کے ساتھ اُن کے گھروں کے صندوقوں اور کمروں کی چابیاں لٹکی چھن چھن بجتی جا رہی تھیں اور بازار میں اِن عورتوں کے چلنے سے ایک قسم کے ساز میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بازار کے آخری کونے پر جا کر جہاں اب سوائے دھوپ کے آگے کوئی شے نظر نہیں تھی،مولوی کرامت واپس پلٹا اور ایک کھتری کی دوکان پر رُک گیا۔ وہ ضرور کسی مسلمان کی دوکان پر رُکتالیکن وہاں مسلمان کی دوکان تو ایک طرف،کسی مسلمان نے چھابڑی تک نہیں لگائی تھی۔ دکانوں کے مالک اکثر ہندو تھے،۔ چھابڑیاں سکھوں نے لگا رکھی تھیں۔ چھابڑیوں میں بھی زیادہ تر چِبڑ، رینڈیاں، تربوز، تریں اور اِسی طرح کی سستی اشیا آنے کی تین کلو بکنے والی تھیں۔ پھل تو کسی کے پاس نہیں تھا۔ البتہ سڑے ہوئے دیسی آم اور کچے پکے کیڑوں والے امرودوں کی الگ بات تھی۔ جنہیں دیکھ کر مولوی کرامت نے سوچ لیا کہ جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اِن اَمرودوں اور کھجوروں میں سے رحمت بی بی اور شریفاں کے لیے لے جائے گا۔ قصہ مختصر اُس نے کھتری سے ایک آنے کا دیسی گھی،دو آنے کی دال اور اِسی طرح کچھ دوسری چیزیں خرید کر دو روپیہ کا پورا گٹو بھر کے فضل دین کے سر پر رکھ دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مولوی کرامت کے دل میں خیال آیا،وہ پیچھے مُڑا اور ایک آنے کا ٹانگر،امرود اور کھجوریں بھی خرید لیں۔ اُس میں سے تھوڑا سا ٹانگر مولوی کرامت نے فضل دین کو بھی دے دیا،جسے پا کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ گٹو سر پر اُٹھائے ٹانگر چبانے لگا اور مولوی کرامت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ۔ مولوی کرامت اب سر پر کُلے دار پگڑی رکھے اور ہاتھ میں عصا تھامے بازار کے بیچوں بیچ بڑی طمطراقی سے چل رہا تھا۔ خشک چمڑے کی جُوتی میں آواز تو پیدا نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کی کھدر کی سفید چادر اور کُرتے کے نیچے جوتی کا ہونا ہی اِس بات کی دلیل تھی کہ اب وہ عوام سے نکل کر اَشراف میں داخل ہو رہا تھا۔ عوام میں تو اکثر کے پاس جوتی نہیں تھی یا چادر کی بجائے ڈیڑھ گز کی دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں قمیض کے بدلے میں فقط جانگیہ ہوتا،جس کے ہاتھ بھر کے سلوکے ہوتے۔ اَصل میں مولوی کرامت کی زندگی میں یہ پہلا دن تھا،جب اُس نے بازار سے پیسوں کے ذریعے خریدار ی کی تھی۔ ورنہ اُسے کبھی اِس طرح کی شاہانہ کاروائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتاتھا،جو لوگ بازار سے خریداری کرتے ہیں،وہ یا تو ذیلدار ہوتے ہیں یا بابو لوگ۔ اُسے یہ تصور ہی نہیں تھا،ایک دن وہ خود منشی بن جائے گا اور جلال آباد کے بازار سے گھر کے لیے سودا سلف خریدا کرے گا۔ اور اب تو یہ موقع اُسے ہر روز یا جب چاہے مل جایا کرے گا۔ کیونکہ اب وہ بھی ایسی سرکار کا نوکرتھا جو بہت امیر تھی۔ سرکار اُسے اُس کی تنخواہ ہر ماہ اب ضرور ہی دے دیا کرے گی،جس میں وہ زیادہ پیسے بچا کر رکھ لیا کرے گا اور کچھ کا سودا سلف خرید لیا کرے گا۔ اِسی رو میں اُس کا دماغ کہیں کا کہیں جا نکلا۔ جامع مسجد جلال آباد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک خیال پیدا ہوا،اگراُسے منشی گیری کے ساتھ اِس مسجد میں امامت کا کام بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا۔ اِس طرح آمدنی بھی دگنی ہو جائے گی اور مسجد میں پُرانی خدمت بھی بحال ہو جائے گی۔ لیکن اِس کے لیے اُسے اِس مسجد کے پہلے امام کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ اُسے منشی بنوا کر منڈی گرو ہر سا بھجوا دوں اور یہاں کی امامت خود لے لوں۔ مگر پہلے اچھی طرح سے یہاں کے نمازیوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھانی ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ دو چار مہینوں کے لیے مفت میں کچھ لیے دیے بغیر ہی لوگوں کے مُردوں کو نہلا دیا کروں یا اُن کی قبروں پر جا کر فاتح خوانی کر آیا کروں،یا کبھی صبح اور عشا کی اذان دے دی جائے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ خود ہی اُس کی طرف رجوع کر لیں گے۔ جب لوگ اُس پر مکمل اعتماد کر لیں تو اِس امام کو گورنمنٹ سے نوکری دلوا کر کہیں اور بھجوا دوں گا۔ اِس طرح کسی کو محسوس بھی نہ ہو گا اور مسجد بھی ہاتھ میں آ جائے گی۔ اِس کے بعد فضل دین کی شادی رحمتے کی بیٹی ہاجرہ سے ہو جائے تو چراغ دین کے نام،جو غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین نام کروائی ہے،وہ بھی اُنہیں مل جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتاہے،وہ خود رحمت بی بی سے نکاح کر لے،توسارا معاملہ بالکل ہی سیدھا ہو جائے لیکن اُسے فوراً شریفاں کا غصے سے سُرخ ہوتا ہوا چہرا دکھنے لگا۔ اُس نے ایک جھر جھری لے کر یہ خیال جلد ہی دماغ سے جھٹک دیا اور بازار سے گزرتے ہوئے لوگوں کو سلام علیکم کہنے لگا۔ اب تھوڑی دیر میں مولوی صاحب کا گھر آنے والا تھا۔ اُس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا دِلوں کے بھید کسی دوسرے پر نہیں کھولتا۔ ورنہ اگر آج اُس کے رحمتے سے شادی والے خیال کو شریفاں جان جائے تو ابھی گھر میں صفِ ماتم بچھ جائے بلکہ وہ گھر میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

Categories
فکشن

وَاپسی

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔

حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ آخری لمحے تک جدوجہد کرتا تھا۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ دوسرا روز ہونے کو تھا اور وہ دفتر سے نہ نکلا تھا۔

اُن دو دنوں میں وہ ایک خط بار بار پڑھ چکا تھا۔

یہ وہ خط تھا‘ جو بہت دِن پہلے اُسے موصول ہوا تھا اور اُسے کھولے بغیر خط کا مضمون جان گیا تھا۔ یہی کہ اُس کے اَباّ نے اُسے گاﺅں آنے کو کہا ہو گا اور یہ کہ ُان کی آنکھیں اُسے دِیکھنے کو ترس گئی ہوں گی۔

اُس کا اِرادہ تھا کہ وہ کلوزنگ کے بعد ہی جائے گا۔ لہٰذا کئی روز سے بند لفافہ یونہی اُس کے ٹیبل پر پڑا رہا۔

مگر کل اُسے صبح ہی صبح کھولا اور تب سے اَب تک کئی بار پڑھ چکا تھا۔

اس نے اپنے اِمی جیٹ باس کو فون کر کے شارٹ لیو اور اسٹیشن لیو لے لی اور یوں آج اَڑھائی بجے والی بس سے وہ گاﺅں جا رہا تھا۔
اُس کا اِرادہ تھا وہ ویک اِنڈاَپنے والدین کے ساتھ گزارے گا‘ حالاں کہ قبل ازیں وہ چھٹیوں والے دن بھی سرکل افسران کے ساتھ مسلسل دورے کرتا رہا تھا جس کے نتیجے میں ٹارگٹ تک پہنچنے کی امید بندھ چلی تھی۔ جب پہلے روز اُس نے انٹر کام پر متعلقہ سرکل افسر کو بتایا کہ وہ ٹور پر ساتھ نہیں جارہا تو وہ حیران ہوا تھا اور خود اُسے دیکھنے آیا تھا۔

وہ بجھا بجھا سا تھا اورسرکل اَفسر سے کُریدکُرید کر فضل احمد کے بارے میں پوچھتا رہا۔
اُسے بتایا گیا کہ بوڑھے فضل احمد کی حالت سنبھل گئی تھی۔ دِل کا معمولی دورہ تھا اور اب اس کی زِندگی کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
مگر نہ جانے اُسے کیوں یقین نہ آرہا تھا۔

یقین نہ کرنے کی بہ ظاہر کوئی وجہ نہ تھی لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو ایک لمحے میں مقید کر لیتا ہے۔

وہ بھی ایک ایسے ہی لمحے میں قید تھا۔

وہ لمحہ کہ جب بوڑھا فضل احمد عین دروازے کے بیچ لڑکھڑا کر گرپڑا تھا۔

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب مالی سال ختم ہونے میں دو اَڑھائی ماہ باقی تھے۔ وہ اَپنی سی کوششیں کر بیٹھا تھا مگر یوں لگتا تھا ‘مطلوبہ نتائج اس کی دَسترَس سے پرے تھے۔

اُس نے میٹنگ کال کی‘ تمام متعلقہ اَفسروں کی سرزنش کی تو ہر ایک یہ ثابت کرنے پر تُلا بیٹھا تھا کہ کوتاہی اُس کی جانب سے نہیں ہورہی۔

اس نے نئی حکمت عملی تیار کرنے سے پہلے متعلقہ سرکل افسروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے ایسے کیسز کی فہرست بنائیں جن کی وصولیاں اِس سال کسی صورت ممکن نہ تھیں۔

فہرستیں دوسرے ہی روز اُس کے میز پر تھیں۔

اُس نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا اور کچھ غیر معمولی اِختیارات حاصل کیے جن میں بہ وقت ضرورت پولیس کے تعاون کا حصول بھی شامل تھا۔

اُس کا اِرادہ تھا ان مشکل کیسز کے آپریشن کی خود نگرانی کرے گا۔

ایک مرتبہ پھر سرکل افسروں کو طلب کیا‘ ہر باقی دار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں اورخدا کا نام لے کر چھاپے مار کر مہم کا آغاز کر دیا ۔

اُسے باہر نکلتے دیکھ کر سرکل افسروں کے حوصلے بڑھ گئے اور پہلے سے کہیں زیادہ جاں فشانی سے کام کرنے لگے یوں وصولیوں کی شرح بڑھنے لگی مگر وہ ابھی تک مطمئن نہ تھا کہ بڑھوتری کی یہ شرح بہت معمولی تھی۔

اُس کے لےے اصل رکاوٹ بااثر اَفراد تھے یا پھر وہ لوگ جو ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ کچھ کیسز خواتین کے نام پر تھے اور کچھ باقی دار انتہائی ضعیف ‘معذور یا پھر لاچار تھے۔ ایسے تمام کیسز میں نہ تو اس کے پاس وقت تھا کہ رہن شدہ جائیدادوں کی ڈگری کے لےے طویل قانونی جنگ لڑی جائے اور نہ ہی وہ براہ راست ان لوگوں پر ہاتھ ڈال سکتا تھا۔

اِن حوصلہ شکن حالات میں اُسے ایک باقی دار فضل احمد کے گھر لے جایا گیا۔ اس کیس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے ڈاکٹر شہباز فضل نے مشترکہ طور پر ایک ہیچری لگانے کے لےے قرض لیا تھا۔ ڈاکٹر شہباز فضل کچھ ہی عرصے کے بعد اِنتہائی خاموشی سے ہیچری کی مشینری بیچ کر اور عمارت کو طویل مُدّت کے ٹھیکے پر دینے کے عوض ایک معقول رقم اینٹھ کر ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ جب کہ فضل احمد نہ صرف ضعیف العمر تھا‘ بل کہ فالج زدہ بھی تھا۔

اُس نے سرکل افسر سے پوچھا:
” فضل احمد کا بیٹا جو رقم باہر سے بھیجتا ہے‘ یہ اسے اپنے واجبات کی مد میں کیوں جمع نہیں کراتا؟“
جواب ملا :
” وہ کچھ نہیں بھیجتا۔“
اُس نے حیرت سے سرکل افسر کو دیکھا اور کہا:
”تعجب ہے۔“
فضل احمد کا گھر اَندرون شہر تھا۔ گاڑی بڑے چوک تک جاتی تھی۔ وہیں کھڑی کر دی گئی۔ وہ دونوں ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں سے پیدل ہی آگے گزرنے لگے۔
”سر ‘یہ رہا فضل احمد کا گھر۔“
چلتے چلتے اچانک سرکل افسر نے ایک دو منزلہ عمارت کی جانب انگلی اٹھائی۔
”گھر تو شاندار ہے“
اُس نے دیکھا تو تبصرہ کیا۔
”جی ہاں ! مگر نچلا حصہ کرائے پر ہے اور فضل احمد کا واحد ذریعہ آمدن بھی یہی ہے۔“
مکان کے پہلو میںتنگ سی لوہے کی سیڑھی بل کھاتی اوپر جاتی تھی۔
وہ دروازے پر تھے۔ کال بیل کے پش بٹن پر اُس نے انگلی رکھ دی۔ سرکل افسر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹ کھٹایا اور کہا:
”بٹن دبا کر اِنتظار کرنا بے کار ہے سر۔ گھنٹی خراب ہے“
”اوہ“
”میں جب سے آرہا ہوں سر‘ تب سے ایسے ہی ہے‘سر“

دوسری طرف پہلے کوئی کھانستا ہی چلا گیا پھر کھانسنے کی آواز وہیں ٹکی رہی اور لاٹھی کے گھسیٹنے اور ٹک ٹک کرنے کی آواز دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔ دروازے کے پاس آکرآواز رُک گئی اور یوں لگا جیسے کوئی سانس بحال کر رہا ہو۔ تیسری آواز جو اندر سے آئی وہ دروازے پر لگی زنجیر کی تھی جو جھولنے اور رگڑکھانے سے پیدا ہو رہی تھی۔ دروازہ بھی ”چوں اوں“ کرتا ہوا کھلا۔ سامنے اِنتہائی ضعیف العمر خاتون لاٹھی کے سہارے بہ مشکل کھڑی تھی۔ سارے چہرے پر یا جھریاں تھیں یا پھر موٹے شیشوں اور ٹوٹی ہوئی کمانی کی میلی کچیلی عینک ‘ جسے ڈوری باندھ کر ناک پر ٹکایا گیا تھا۔ بال روئی کے گالوں جیسے سفید اور کمر ضعیفی نے دوہری کردی تھی ۔

اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے عینک کے اوپر اوٹ بنائی‘ چہرے کو اوپر کیا تو عینک کے شیشوں سے موٹی موٹی آنکھوں نے اُسے پہچاننے کی کوشش کی۔

”جی“

اَپنی کوشش میں ناکام ہو کر اس نے مختصر سوال کیا۔

”اماں جی ہمیں فضل احمد سے ملنا ہے اُن کے ذمہ حکومت کا کچھ قرضہ باقی ہے۔“

بڑھیا نے ایک مرتبہ پھر اُسے دیکھنے کی کوشش کی۔ اب کے اس کے چہرے پر تجسس کی بہ جائے پریشانی تھی۔ وہ لڑکھڑاتی دروازے سے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

اس لڑکھڑاہٹ میں بڑھاپے اور پریشانی دونوں کا دخل تھا۔ کہنے لگی۔

”اندر آجاﺅ بچے‘ وہ سامنے کمرے میں پڑا ہے۔“

وہ اَندر داخل ہو گئے۔ بڑھیا نے دروازے کو بند کیا۔ ٹٹول کر زنجیر تلاش کی اور دروازے پر ڈال دی۔ پھرلاٹھی ٹیکتی کمرے کی طرف چل پڑی۔

اندر کا ماحول عجب آسیب زدہ تھا۔ ہر چیز بکھری ہوئی۔ روشنی بھی معقول نہ تھی۔ ایک خاص قسم کی باس بھی چاروں طرف پھیل رہی تھی‘ کچی کچی اور ناگوار۔ سامنے چارپائی پر ہڈیوں کا ایک پنجر پڑا تھا۔ یقینا وہی فضل احمد تھا۔ اُسے کھانستے ہوے بھی دِقت ہو رہی تھی۔ ہمارے گھر میں داخل ہونے کے بعد کھانسنے کے علاوہ اس نے تین مرتبہ اَپنی بیوی کو بلایا تھا۔

”مل لی آں“

اس نے اندازہ لگایا۔ وہ مریم یا مریاں کَہ رہا تھا۔ فالج نے ایک پہلو ناکارہ کرنے کے علاوہ ا س کی زبان بھی لکنت زدہ کر دی تھی۔

وہ دونوں اس کے قریب پہنچ گئے۔ بوڑھا بے قراری سے بستر پر اُوپر ہی اوپر اُٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگرجوں ہی اس نے اُس کے پیچھے سرکل افسر کا چہرہ دیکھا‘ دھچکے سے بستر میں دھنس کر بے سدھ ہو گیا۔ وہ ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مزید گہرا سکوت چھا گیا۔

”یہ ہمارے بڑے افسر ہیں۔“

سرکل افسر نے اُس کا تعارف فضل احمد سے کرایا ۔ بوڑھے نے بجھی بجھی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔ اُس نے جواباً فائل کھولی۔ اُس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے کے وارنٹ دیکھے اور بے بسی سے فائل بند کر دی۔ اسے یہاں آنا بے سود لگا۔ بوڑھا حواس بحال کر چکا تھا مریل سی آواز میں بڑبڑانے لگا۔ اُس نے یونہی ایک سوال پھینک دیا:

”بزرگو! اب کیا ہوگا؟“

بوڑھے نے اُس کی جانب دیکھا۔ مایوسی کی زردی اُس کے چہرے پر بکھر گئی۔ لکنت زدہ آواز میں کہنے لگا:
”اب کیا ہونا ہے بچے؟ ہو بھی کیا سکتا ہے؟ اِس سے بڑھ کر تو میں ذلیل و رسوا نہیں ہو سکتا نا!۔“
ایک مرتبہ پھر بوڑھا چپ ہو گیا۔

ان خاموش لمحوں کی گونج اُسے صاف سنائی دِے رہی تھی۔ اُس نے اُکتاہٹ سے پہلو بدلا ۔ بوڑھے کی کھانسی نے خاموشی کو توڑا۔ جب وہ اچھی طرح کھانس چکا تو اَپنی بیوی کو پکارا:

”مل لی آں“

مریاں ‘ جو دروازے کے بیچ ہی چوکھٹ پر بیٹھ گئی تھی‘ کراہنے کے بعد اُٹھی۔ لاٹھی ٹیکتی بوڑھے کی چارپائی کے پائیتانے ہاتھ ٹیک کر کھڑی ہو گئی:

”بچوں کے لیے چائے بناﺅ۔“

اُسے پہلے ہی اُلجھن ہورہی تھی۔ چائے کا سُن کر وہ بے قراری سے اُٹھا اور سختی سے منع کر دیا۔ بوڑھا دوبارہ بے سُدھ لیٹ گیا۔ بڑھیا دائیں کونے میں رَکھے چولہے کے پاس دَھرے موڑھے پر بیٹھ گئی۔

وہ مزید بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ کہنے لگا:

”اچھا بزرگو‘ خدا حافظ‘ اور ہاں بیٹے کو لکھیں کہ وہ بقایا جات جمع کرانے کا بندوبست کرے ورنہ اس مکان سمیت آپ کی ساری جائیداد نیلام ہو جائے گی۔“

بوڑھا زور سے ہنسا۔ اِس قدر زور سے کہ اُس کی آنکھوں میں سے آنسو نکل آئے پھر اپنے آنسو صاف کرتے ہوے سچ مچ رونے لگا۔ دفعتاً رونا موقوف کیا اور کچھ بڑبڑانے لگا ۔ اسے تجسس ہوا‘ نہ جانے بوڑھا کیا کَہ رہاتھا؟ وہ ایک مرتبہ پھر قریب ہو کر بیٹھ گیا اور سماعت بوڑھے کی طرف مبذول کر دی۔ فضل احمد اپنے بیٹے کو گالیاں دیتے ہوے کَہ رہا تھا:

”کہتا ہے بچوں کو عین دوراہے میں کیسے چھوڑے‘ ہم چاہے موت اور زِندگی کے بیچ لٹکتے رہیں“
مغلظات کا ایک اور ریلا اُس کے منھ سے بہہ نکلا۔ مریاں پہلی مرتبہ اس کی بات کا ٹ کر بولی۔

”نہ دے‘ نہ دے بددعائیں۔ اَپنا خُون ہے‘ اپنا کلیجہ ‘ دُعا کر‘ خدا اُسے سُکھی رکھے۔ جہاں رہے اللہ کی امان میں رہے۔ ہمارا کیا ہے۔ ہم قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہیں۔آج ہیں تو ہیں۔ کل نہیں ہوں گے“

اُس نے بوڑھے سے پوچھا:

”کوئی خط وغیرہ؟“
کہنے لگا:
”ہاں لکھتا ہے۔ جب ادھر سے دَس بارہ مسلسل لکھ چکتا ہوں تب ایک آدھ سطر میں جواب دے دِیتا ہے۔ کہتا ہے وہاں بہت مصروف ہے۔ ماں کا۔۔۔“

اُس نے فضل احمد سے کہا:

”آپ اس کا پتا ہی دِے دِیں۔“
”پتا؟ مگر کیوں؟“
”ہم اَپنے طور پر اُس سے رابطہ کریں گے۔“
بوڑھا فضل احمد تڑپ کر اُٹھ بیٹھا:
”نا بیٹا نا۔ تم اُسے کسی مشکل میں ڈال دو گے۔ تم اُسے ستاﺅ گے۔ سفارت خانے کو لکھو گے۔ نا بیٹا نا۔“
بوڑھا پوری طرح حواس میں آکرچوکس ہوگیا تھا۔ اُسے حیرت ہوئی۔ ابھی ابھی وہ اپنے بیٹے سے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوے گالیاں دے رہا تھا اور اب اسے اس کی اتنی فکر تھی کہ وہ ہمیں اس کا پتا تک نہ دینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند ہی روز بعد اسے بتایا گیاکہ فضل احمد کی بیوی جل مری۔ بچاری کھانا پکاتے پکاتے اُٹھی اور لڑکھڑا کر عین چولہے کے اوپر جا گری۔ اُس کی چیخیں سن کر بوڑھا گرتا پڑتا ‘ اُس کی جانب لپکا ‘ اسے بچانے کی کوشش کی۔ خود جھلس گیا مگر اُسے بچا نہ سکا۔
اس کا دِل چاہا کہ وہ بوڑھے فضل احمد سے اَفسوس کرنے جائے مگر جا نہ سکا۔

اُس کے لیے ایک ایک دِن قیمتی تھا۔

آخری مہینہ شروع ہو چکا تھا اور منزل تک پہنچنے کی اُمید بھی بندھ چلی تھی۔

ابھی اس واقعے کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ سرکل افسر نے بتایا:

”ڈاکٹر شہباز فضل آیا ہوا ہے۔“

یقینا اُسے ماں کے جل مرنے کی خبر ملی ہوگی۔ ا ُس نے اندزہ لگایا۔ اسی لمحے اس نے محسوس کیا کہ اس کے دِل میں ڈاکٹر شہباز کے لیے اِنتہائی نفرت جنم لے چکی تھی ۔ جذباتی ہو گیا اور سرکل افسر کو ہدایت کی کہ چھاپہ مارنے کے اِنتظامات کیے جائیں۔
مغرب ڈھل چکی تھی۔ اسے یقین تھا وہ گھر میں ہی ہوگا۔

وہ گھر میں ہی تھا۔ دروازہ اُسی نے کھولا اور گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اندرداخل ہوگیا ‘ پوچھا:
”آپ ہی ڈاکٹر شہباز فضل ہیں؟“
”جی“
وہ کچھ اور پیچھے ہٹا۔
”آپ حکومت کے نادہندہ ہونے کے سبب مطلوب ہیں۔ یہ رہے آپ کے وارنٹ۔“
اُس نے اُسے وارنٹ دِکھاتے ہوئے کہا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور کمرے میں گھس گیا۔ اِسی اثنا میں بوڑھا فضل احمد گرتاپڑتا کمرے کے دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
”نہیں بیٹے نہیں۔“

اُس نے دروازے کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
”تم اِسے گرفتار نہیں کر سکتے۔“
وہ آگے بڑھا اور کہا۔
”دیکھیں بابا جی ‘ آپ کار سرکار میں مداخلت نہ کریں۔ آپ ایک طرف ہو جائیں“
اُس نے اَپنا ہاتھ بوڑھے کے ہاتھ پر رکھا۔ بوڑھے کا پورا بدن کپکپانے لگا۔ چہرے کے مسام پسینے سے بھر گئے۔ اس نے بوڑھے کو ایک طرف کرنے کے لےے اُس کے ہاتھ پر دباﺅ ڈالا تو وہ چیخنے لگا:

”مت گرفتار کرو میرے بیٹے کو۔ مجھے لے جاﺅ۔ ہاں لے جاﺅ مجھے۔ وہ۔۔۔۔“

اس کے آگے وہ کچھ نہ بول سکا اور لڑکھڑا کر کٹے ہوے درخت کی طرح عین دروازے کے بیچ گرگیا۔

اس نے کمرے اندر سہمے ہوے ڈاکٹر شہباز فضل کو دیکھا پھر اُس کے باپ کے لڑکھڑا کر گرتے وجود پر ایک نظر ڈالی اور واپس پلٹ آیا۔
اِس واقعے کو دوسرا روز ہو چلا تھا۔

اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(36)

معاملات تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جن کی نہج کے بارے میں نہ غلام حیدر کو پتا تھا اور نہ ہی ملک بہزاد جانتا تھا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ البتہ غلام حیدر کی نواب افتخار حسین سے تار پر ہونے والی بات اور نواب افتخار کے والد نواب سر شاہنوازسے ملاقات کے بعد کام کافی آسان ہو گیا تھا۔ بلکہ اتنا آسان کہ اب غلام حیدر کو خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اُسے پہلے ہی یہ بات کیوں نہ سوجھی،اور وہ ممدوٹ ولا زمیں جا کر سر شاہنواز سے کیوں نہ ملا؟ جو غلام حیدر کو اپنے بیٹے نواب افتخار کا دوست ہونے کے ناتے اچھی طرح نہ صرف جانتا تھا بلکہ کہہ بھی چکا تھا،بیٹا افتخار لندن جا رہا ہے تو یہ نہ ہو،تم اپنے چچا کو ملنے ہی نہ آؤ۔ گاہے گاہے آتے رہنا۔ اگر مجھ تک کام ہو تو بلا جھجھک کہہ دینا۔ مگر غلام حیدر کو آپا دھاپی میں یہ خیال ہی نہ آیا کہ سر شاہنواز سے مل کر اُسے اپنی ساری کتھا سنا دے۔ بہر حال دیر آید درست آید۔ نواب صاحب نے تھوڑی بہت ردوکد کے بعد غلام حیدر کی بات مشروطی طور پر مان لی،جس کا سارا منصوبہ ملک بہزاد نے تیار کیا تھا۔ اب جب کہ نواب صاحب نے تھانیدار ضمیر شاہ کو بلا کر اُسے غلام حیدر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کرنے کا حکم دے دیا تومزید دیر کرنے کی تُک نہیں تھی۔ غلام حیدر نے نواب صاحب سے ملنے کے بعد گھر آ کرتین چار دن میں اپنا سارا کام نپٹا یا اور سیدھا ملک بہزاد کے گاؤں کا رُخ کیا،۔ اُسے ساری تفصیل سے آگاہ کر کے اُس کی عملی شکل تیار کرنے کی کارروائی کی طرف متوجہ ہوا۔ ملک بہزاد غلام حیدر کی نواب صاحب کے بنگلے سے واپسی کا بے چینی سے منتظر تھا۔ اُسے خوف تھا،نواب صاحب کہیں انکار نہ کر دیں۔ لیکن جو قیمت ملک بہزاد نے غلام حیدر کو اس کام کے عوض ادا کرنے کا کہا تھا،اُس پر اُسے یقین تھا کہ نواب صاحب ضرور مان جائیں گے اور وہی ہوا۔ اب اگلی پیشی بالکل قریب تھی،جس پر سردار سودھا سنگھ کا پیش ہونا قرین قیاس تھا،تومزید دیرکام میں بھنگ ڈال سکتی تھی۔ پندرہ دن پہلے غلام حیدر کو اپنی رائفل اور دوسرا ضبط شدہ اسلحہ واپس مل چکا تھا لیکن اُ س کی ملک بہزاد کے مشورے کے مطابق ہوا بھی باہر نہیں نکالی تھی۔ لوگوں کی نظرمیں رائفل اور دوسرا اسلحہ ابھی تک گورنمنٹ کے قبضے میں تھا۔

غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اپنے معاملات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا،چاچا بہزاد،اماں جان کو میں نے پاکپتن کی بجائے کہیں اور بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ مال کافی سارا بیچ کر بقیہ نواب صاحب کی فرید کوٹ والی حویلی میں منتقل کر دیا ہے۔ نواب صاحب پوری طرح دوستی کا حق ادا کرنے کو تیا ر ہیں۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے مجھے اپنی ایک جیپ بھی ڈرائیور سمیت بھیج دی ہے،جو نواب صاحب کی گرو ہرسا والی حویلی میں موجود ہے۔ اگر اُس کی ضرورت پڑی تو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ گرو ہر سا کے تھانیدار کو بلا کر منصوبے پر عمل کروانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ تھانیدار نے کہا ہے،اگرمیں کارروائی کر کے دوگھنٹوں کے اندر دوبارہ تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں پہنچ جاوں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ پھر ساری بات وہ سنبھال لے گا۔ وہ مجھے ناجائیز اسلحہ رکھنے کے عوض حوالات میں بند کر کے عین واردات کے وقت باہر نکال دے گا۔ میں اور میرے بندے کارروائی کر کے دوبارہ وہیں پہنچ جا ئیں گے۔ اِس طرح یہ کارروائی مکمل ہو جائے گی لیکن مجھے اِس میں خطرہ ہے کہ کام صرف سودھا سنگھ کا ہی ہو گا،دوسرے دونوں بچ جائیں گے۔ کیونکہ اُس کے لیے وقت نہیں ہو گا۔

ملک بہزاد نے غلام حیدر کی بات سُن کر ایک لمبی،ہوں،کی پھر حقے کی نَے ہاتھ سے رکھ کر بولا،غلام حیدر اُن دونوں کی باکل پروا نہ کر۔ ہم ایک ہی ہلے میں یہ دونوں قصے پاک کر دیں گے بلکہ یہ اور بھی اچھا ہوا نواب صاحب نے اپنی جیپ عنایت کر دی جس سے کوسوں کا پینڈا چھپاکوں میں نکل جائے گا لیکن ایک بات یاد رکھنا جیپ تجھے پھنسا بھی سکتی ہے۔ اس لیے اُس کا استعمال اُس وقت ہی کرنا جب کوئی چارانہ رہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات کہ تُو کبھی بھی اپنے آپ کو حوالات میں بند نہ کروانا۔ نہ کام کرنے کے بعد تھانے کا رخ کرنا۔ اگر تھانیدار پر انگریز سرکار کا دباؤ بڑھا تو تھانیدار یہ وزن نہیں اُٹھا سکے گا۔ پھر تجھے ریشمی رسے میں سر دینا پڑے گا۔ ہاں اپنے بندو ں کو اِس پیشی سے کم از کم دو دن پہلے گرو ہرسا تھانے میں بند کروا دینا۔ اُنہیں عین وقت پر تھانے سے نکلوانا اور کاروائی کرتے وقت اپنی پشت پر رکھنا۔ مَیں نے دریا پار چک ڈھبی سے اپنے بھانجے امانت خاں وٹو کو بلا لیا ہے۔ اُس کے پاس اپنی رائفل بھی ہے۔ وہ اس معاملے میں تیرا صحیح جوڑ ثابت ہو گا۔ کاروائی مکمل کر کے تُواور امانت خاں وٹو ہر صورت فرار ہو جانا اورتیرے بندے اس کے بعد آرام سے اُسی تھانے میں جا بیٹھیں۔ اس طرح سودھا سنگھ کا صفایا کرنے کے بعد چک میگھا جانے کا اور پھر وہاں سے کسی بھی طرف فرار ہونے کا تیرے پاس بہت وقت ہو گا۔ جیسا کہ نواب صاحب نے حامی بھری ہے وہ تجھے پناہ دے سکتا ہے۔ یہی بات اُس سے پکی کر کہ تُو کاروائی کرنے کے بعدحوالات میں نہیں جائے گا۔ خود کو حوالات میں بند کروا لینا ایسے ہی ہے کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی کاٹ کے دے دینا۔ اگر کسی انگریز افسر کو شک بھی پڑ گیا تو تھانیدار کی تو صرف نوکری جائے گی یا تھوڑی بہت سزا ہو جائے گی لیکن تیری گردن لازمی کنویں کے تختے پر کسی جائے گی۔ قانونی طور پر تھانے میں حاضری ہو نے کی وجہ سے تیرے بندوں پرشک کم ہو گا۔ اگر وہ شک کی بنا پر پکڑے بھی گئے تو بمشکل دو یا تین سال کی سزا ہو گی۔ کیونکہ سودھا سنگھ کے وارث ہر حالت میں تجھے ہی نامزد ملزم قرار دیں گے۔ امانت خاں وٹو تیری اُمید پر پورا اُترے گا،اُسے یہاں کوئی پہچانتا بھی نہیں،وہ کام کر کے واپس چلا جائے گا۔ انشاء اللہ کل تک یہاں پہنچ جائے گا اور پرسوں ہم مل کر سب پروگرام مکمل کر لیں گے۔ سودھا سنگھ اس دفعہ جیسے بھی اور جدھر سے بھی جائے گا،اُس کی ایک ایک لمحے کی خبر ہمیں ملے گی۔ میں نے ایک بندہ وہاں،خاص،اسی کام پر لگا دیا ہے۔ اور وہ ہے اُن کے گاؤں کا لوہار نندا،جو جگبیر کا بڑا یار ہے۔ کل وہ ایک خبر دے گیا ہے۔ ہم اُسی کے مطابق اگلا پروگرام بنائیں گے لیکن،ملک بہزاد وضاحت کرتے ہوئے بولا،اِس کام میں اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اُس کے لیے بھی تیار رہو۔ ضروری نہیں ہر کام منصوبے کے عین مطابق ہی ہو۔

چاچا بہزاد اُس کے لیے میں بالکل تیار ہوں،غلام حیدر نے پورے جوش اور دلیری سے جواب دیا،نواب صاحب ایسی حالت میں بھی اُس وقت تک پناہ دیں گے،جب تک بہتر صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے چاہے کئی سال ہی کیوں نہ لگ جائیں۔ اُنہوں نے یہ بھی ذمہ داری لی ہے کہ وہ میری زمین کی ضبطی بھی نہیں ہونے دیں گے۔ میرے تمام آدمی اُس کو اُسی طرح کاشت کرتے رہیں گے جیسے وہ کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں صاف بتا دیا ہے کہ میں یہ کام کیے بغیر نہیں ٹلوں گا۔ لہذانواب صاحب کی طرف سے آپ بے فکر ہو جائیں اور اپنا پروگرام بتائیں۔ میرا تو یہی خیال ہے،اِس دفعہ بھی سودھا سنگھ فیروزپور نہیں آئے گا۔ اُسے ہماری طرف سے اب بھی ڈر موجود ہے۔ میں نے اپنی تیاری ہر طرح سے مکمل کرلی ہے۔ اب ہمارے پاس چار سانڈنیاں اور پچیس گھوڑے،ایک جیپ اوردو ریفلیں ہیں،مگرمیدان لگتا دکھائی نہیں دیتا۔

بس ٹھیک ہے غلام حیدر،ہم اِس دفعہ بھی پچھلی بار کی طرح منصوبہ بنائیں گے،ملک بہزاد نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،مجھے سب سے زیادہ فکر نواب صاحب کی طرف سے تھی،وہ تمھارا ساتھ دیتا ہے کہ نہیں؟ اب میدان ضرور لگے گا،یہ مجھے پکا یقین ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کارروائی کر جائیں۔ اس دن کا مجھے عرصے سے ا نتظار تھا۔

لیکن چاچا بہزاد،چوہا بِل سے باہر نکلے تو کڑَکًی میں آْئے،غلام حیدر غصے سے بولا،اتنا عرصہ ہو چکا ہے اور مَیں کچھ نہیں کر سکا۔ رعایا میرے منہ کو آ رہی ہے۔ میں جانتا ہوں،لوگ میرے منہ پر کچھ نہیں کہتے لیکن میری غیبت میں مجھے ضرور بزدل کہتے ہیں۔ مَیں اتنا عرصہ انہیں باتوں میں لگا کر لے آیا ہوں۔ اب اُن کی پکی ضمانتوں نے تو اُنہیں اور بھی شیر کر دیا ہے۔ اِدھر مَیں مرنے والوں کے وارثوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

ملک بہزاد غلام حیدر کا شکوہ سن کر بولا،میں جانتا ہوں غلام حیدر یہ صبر کے گھونٹ تیرے لیے زہر کے اچھو ہیں لیکن مجھے پکا یقین ہے،اِس دفعہ چوہا کڑکی میں آ ہی جائے گا۔ میرے مخبر کی رپورٹ کچی نہیں ہو سکتی۔ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہے۔ اب دیکھ،اگر تیرا اور اُس کا ٹاکرا تیری رائفل کی ضبطی اوربغیرمنصوبہ بندی کے ہو جاتا تومعاملہ خراب ہو سکتا تھا۔ ڈانگ سوٹے کی لڑائیوں میں اکثر وار اوچھے پڑتے ہیں۔ پھر مجھے تیرے بندوں پر بھی اعتبار نہیں۔ غریب آدمی کے ہاتھ چوہدریوں پر اُٹھتے ہوتے کانپ جاتے ہیں۔ سودھا سنگھ کے علاوہ تُو سارے جھنڈو والا کو قتل کر دے تو کوئی فایدہ نہیں۔ یاد رکھ،سودھا سنگھ کا قتل ہوا نہیں،اُدھر جھنڈو والا تیرے قدموں میں ہو گا اور سارے علاقے کے بدمعاش تیری ذات سے خدا کی پناہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ رہا تجھ پر پُلس اور مقدمہ،اُس کی حالت گواہوں اور ثبوت کے بغیر وہی ہو گی،جو اِس وقت ہمارے مقدمے کی ہے۔

لیکن چاچا،اگر تُو نہ روکتا تو مَیں عبدل گجر اور شریف بودلہ کا تو کب کا گھونٹ بھر دیتا۔ کچھ تو دل کو تسلی ہوتی۔

بھتیجے میری بات سمجھ،ملک بہزاد کہنے لگا،پھر اس کے بعد کیا ہوتا؟ دیکھ،ہم جس کو بھی قتل کرتے،اُس کے بعد ہمارے پاس آزادی کا کوئی دن نہ ہوتا۔ نہ ہی دوسری کارروائی کے لیے ہمیں سکون ملتا اور نہ وقت۔ بلکہ ہم خود پولیس سے بھاگتے اور چھپتے پھرتے۔ ہمارے قابو میں سودھا سنگھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِن دونوں حرامیوں،عبدل اور شریف کو تو ہم جاہی پہنچیں گے۔ یہ تو ہمارے لیے گھڑے کی مچھلی ہیں۔ جس کے لیے اگر وقت کم ہوا تو نواب افتخار کی جیپ بھی تمھارے کام آ سکتی ہے،جو اِن میں سے کسی کے پاس نہیں۔ مگر میرا خیال ہے اُس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سارا کام اُس کے بغیر ہی ہو جائے گا۔ ہم سودھا سنگھ سے فارغ ہو کر سیدھا چک میگھا جا نکلیں گے۔ جہاں عبدل گجر صبح ایک پہر دن نکلے سے لے کر شام ڈیگر تک نیم کی گہری چھاؤں میں دُلے ماچھی سے ٹانگیں دبواتا ہے اور پندرہ بیس گیدڑوں کے ساتھ بیٹھا سارا دن ڈیگیں سنتا ہے۔ وہیں منجی پر بیٹھے بٹھائے سُلا دیں گے۔
اور تاریخ پر پیشی؟ غلام حیدر نے پوچھا:

ہماری پیشی اب دو جگہ پر ہو گی،ملک بہزاد نے منصوبے کی وضاحت کی،ایک گرو ہر سا اسٹیشن پر دوسری چک میگھا۔ چک میگھا عبدل گجر اور شریف بودلہ کو ہم چار تاریخ دوپہر ملیں گے لیکن پہلے سودھا سنگھ کی بار گاہ میں۔

اگر سودھا سنگھ نے واصل کے سے جا کر ریل پکڑی اور ہم گرو ہر سا ہی بیٹھے رہ گئے،تو؟ پھر ساری پلاننگ خاک میں مل جائے گی،غلام حیدر نے شُبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

واصلکے اسٹیشن سے وہ دو وجہ سے نہیں چڑھے گا،ملک بہزا د نے داڑھی کو انگلیوں سے کھرچتے ہوئے اپنا فلسفہ بیان کیا،ایک تو یہ،وہ اتنا نادان نہیں کہ اپنے آپ کو خود موت کے چونبے میں جھونک دے۔ اُسے سراسر پتا ہے،واصلکے غلام حیدر کا علاقہ ہے۔ دوم اُسے اگرچہ گرو ہرسا سے ریل پر بیٹھ کر فیروزپور جانے میں لمبا چکر کاٹنا پڑے گا لیکن اُس کو جھنڈو والا سے گرو ہر سا تک بہت کم گھوڑوں پر طے کرنا پڑے گا۔ جبکہ واصلکے آتے آتے اُس کے جانوروں کی اس گرمی میں تباہی بول جائے گی اور سفر بھی محفوظ نہیں ہے۔ اِس لیے اُسے کسی کتے نے نہیں کاٹاکہ گرو ہر سا کو چھوڑ کر واصلکے کی طرف آئے۔ ہمارے مخبر کی پکی اطلاع بھی یہی ہے لہذا ہم اُسے گرو ہرسا پر ہی ملیں گے اور اگر بالفرض ایک فیصدوہ واصلکے سے گیا بھی،تو ہمارے آدمی سانڈنیوں پر مٹی تو نہیں چاٹنے کے لیے بیٹھے ہوں گے؟ وہ ہم کو آ کر فوراً بتا دیں گے،پھر جیپ پر کوئی دیر نہیں لگے گی اور وہ کوئی بڈاوے نہیں کہ غائب ہو جائیں گے۔

اِس کے بعد ملک بہزاد نے غلام حیدر کو تمام منصوبہ سمجھا دیا اور منصوبے کے ہر پائے کی چوہلیں اچھی طرح سے ٹھونک بجا کر سیدھی کر لیں۔ جس میں غلام حیدر اور ملک بہزاد کا بھانجا امانت خاں وٹومنصوبے کے مرکزی کردار نبھانے والے تھے۔ منصوبے کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے کے مطابق کل صبح برچھیوں،کرپانوں اور چھویوں سمیت گرو ہرسا تھانے کے سامنے جا کر دو پارٹیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دنگا شروع کر نا تھا۔ جس میں ایک دو بندے بھی پھٹڑہونا تھے۔ اِن دو پارٹیوں میں ایک پارٹی غلام حیدر کے بندوں کی تھی اور دوسری ملک بہزاد کی۔ اِس لڑائی کے بعد تھانیدار ضمیرشاہ کا کام اُن سب کو،سا ت اکیاون،میں حوالات میں بند کرنا تھا۔ اِس کے بعد اگلا کام غلام حیدر اور میاں امانت خاں کاتھا،جو بصیرپور کا منًا پرونًا رائفل چلانے والا تھا۔ اِن دونوں کے ساتھ وقتی طور پر حوالات میں بیٹھے ہوئے سب لوگ عین وقت پر شامل ہونا تھے لیکن لڑائی میں حصہ اُنہیں نہیں لینا تھا۔ کیونکہ تمام کام رائفلوں کے ذریعے ہونا تھا۔ کارروائی کرنے کے فوراً بعد ہی اُنہیں دوبارہ آ کر حوالات میں بیٹھ جانا تھا۔ جبکہ غلام حیدر اور امانت خاں نے فرار اختیار کرنا تھی۔

(37)

جولائی کی گرمی نے آسمان کو تانبے کا کڑاہا بنا رکھا تھا۔ بادلوں کا تو کہیں مہینو ں تک بھی نام نشان نہیں تھا اور ہَوا ایسی گرم جیسے دوزخ کی بھٹی سے آگ کی لپکیں پھیلتی جارہی ہوں،جو ہٹ ہٹ کر یوں تھپیڑے مارتی تھیں کہ انسان تو کیا صحرا بوندلا جائیں۔ دور تک کوئی ذی روح اول تو نظر نہ آتا تھا،اگر کوئی تھا،تو کفن کے چار کپڑوں میں لپٹا ہوا۔ دھوپ ایسی روشن اور تیز کہ پسینہ بھی بوکھلا گیاتھا۔ جو بار بار پیدا ہوتا اور اُسی کی وجہ سے سوکھتا بھی جاتا۔ گرمی اور دھوپ کے یہی حرارے بھوتوں کی طرح گھوم گھوم کو آسمان کو چڑھ رہے تھے۔ چری اور گاچے کی فصلیں تو خیر ویسے ہی اپنی نزاکت کی وجہ سے کب کی جھلس چکی تھیں،اس گرمی میں برگد اور پیپل تک مرجھا گئے۔ الغرض جانور وں سے لے کر پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں،سب نے گویا فیروزپور ضلع سے فرار کی راہ اختیار کر لی۔ ایالی اور چرواہوں کے علاوہ ہر ایک اپنے ہی گھر کا مہمان بن چکا تھا۔ گرمی کیا تھی خدا نے مخلوقات کو عذاب دینے کا جولائی ایک بہانہ گھڑا تھا۔

سورج طلوع ہوتے ہی اِس قدر جوش میں اُٹھتا جیسے ہر شے کو بھون کے کھا جائے گا۔ ایک پہر گزرنے کے بعد تو اُس کی جولانی آنکھیں دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ دھوپ کی لپٹوں سے دھندلا کے رہ جاتیں۔ اِس شدید گرمی میں سردار سودھاسنگھ نے اپنے سفر میں تھوڑی سی مزید ترمیم کر لی۔ ایک تو اُس نے تمام حالات کے پیش نظر اسٹیشن گرو ہر سا پر پہنچنے کا وقت دو بجے کر لیا اور دوسرا تیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد پندر ہ کر دی۔ سردار سودھا سنگھ نے اپنی اِس تر میم کی اطلاع ہرے سنگھ کو رات ہی چھدو کو بھیج کر سمجھا دی تھی اور فیصلہ کر لیا گیاتھا کہ دن چڑھتے ہی اسٹیشن گرو ہر سا پہنچ کرریل کے آنے تک نتھا سنگھ کے پاس،اُس کے ڈیرے پر آرام کریں گے اور چاربجے ریل پر سوار ہو جائیں گے۔ فیروز پور ایک دن کی بجائے تین دن رہیں گے۔ پھر کسی بھی وقت وہاں سے جھنڈوو الا آپس آجائیں گے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سردار سودھا سنگھ رات کے تیسرے پہر اُٹھ کر گردوارہ چلا گیا۔ وہاں اشنان کرنے کے بعد دیرتک گرنتھ پڑھتا رہا اور دل میں واہگرو سے وعدہ کرتا رہا کہ آج کا دن سلامت نکل جائے۔ اُس کی دشمنوں اور مقدمے سے جان چھوٹ جائے تو وہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرے گا۔ ویسے بھی اُس کے دل میں شیر حیدر کے خلاف جو ایک کسک تھی،وہ اب دور ہو چکی تھی۔ گرنتھ پڑھنے کے بعد سودھا سنگھ نے سَنت کو چاندی کے دس روپے دیے اور باہر نکل آیا۔ واپس حویلی پہنچا تو دروازے پر ہرے سنگھ،جگبیر سنگھ اور بیدا سنگھ دوسرے بندوں کے ساتھ انتظار میں کھڑے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر سب نے ست سری اکال کا نعرہ مارا،جس کا سودھا سنگھ نے بھی واہگرو کے نعرے سے جواب دیا اور حویلی کے زنانہ حصے میں داخل ہو گیا۔ سردار سودھاسنگھ کو دیکھ کربینت کورگرنتھ ہاتھ میں لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سات چکر سر پر سے وارے،پھر اُسے طاق میں رکھ کر سردار صاحب کے پاس آگئی۔ سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا،بنتو چھیتی نال روٹی دے دے،سفرلمبا ہے اور دھپ دا کڑاہا تپ دا جاندا۔

بینت کو ر نے آج پہلی دفعہ کامی کو آواز نہیں دی۔ بھاگ کر خود روٹی کا سامان کرنے لگی۔ بینت کور کی اِس قدر محبت اور چاہت دیکھ کر سردار سودھا سنگھ کی آنکھوں میں بینت کور کے لیے جذبے سے بھرپور محبت غالب آگئی۔ وہ اُسے چپکے سے دیکھنے لگا۔ بینت کور اپنے ہاتھوں سے لقمے توڑ کر سردار سودھا سنگھ کو کھلانے پر مصر ہو ئی تو سودھا سنگھ منع نہ کر سکا۔ وہ اُسی کے ہاتھ سے کھانے لگا اور کہا،بنتو آج تو نے مجھے کل کا مُنڈا بنا دیا ہے۔

بینت کور سودھا سنگھ کی بات سُن کر مسکرائی اور بولی،سردار جی تسیں لوکاں واسطے وڈے سردار ہون گے۔ میرے واسطے تاں کل دے مُنڈے ای جے۔

کھانا کھانے کے بعد سردار سودھا سنگھ بینت کورکے ساتھ کم سے کم دو گھنٹے تک پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ اُس وقت تک دن کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ تب سردار سودھا سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بینت کور نے سودھا سنگھ کو اپنے ہاتھ سے پانچوں ہتھیار باندھے۔ جُوڑے لپیٹ کر پگڑی درست کی،پھر گرنتھ کو سات دفعہ سر پر سے دوبارہ پھیرے دیے۔ اُس کے بعد حویلی کے اندرونی دروازے تک رخصت کرنے آئی۔ جب تک سردار سودھا سنگھ بگھی پر قدم رکھ کے آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گیا،بینت کور وہیں کھڑی دیکھتی رہی اور اُس کے اوجھل ہوتے ہی اپنے سینے کو پکڑ کر دروازے پر ہی بیٹھ گئی۔ بنت کور کو اِس طرح بیٹھے دیکھ کر،شماں اور اجیت بھاگی ہوئی آئیں اور اُسے اُٹھانے لگیں۔ ساتھ ہی اونچی اونچی رونا شروع کر دیا۔ سودھا سنگھ بگھی پر بیٹھ کر جھنڈووالا کی گلیوں سے نکلا تو دس بجے کا سورج سامنے آ چکا تھا۔ گاؤں والے بعض لوگوں نے واہگرو کی سرکار میں،اُس کی رکھ کے لیے جی سے دعا کی پھر اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔

سودھا سنگھ کی بگھی اور اُس کے متروں کے گھوڑے گرو ہر سا کی طرف دوڑنے لگے۔ سڑک کچی گرد غبار سے اِس قدر بھری تھی کہ گھوڑوں کی ایک ایک ٹاپ سے دو دو کلو گرد کا میدہ اُٹھ اُٹھ کر منہ کو آتا،جو نتھنوں سے ہوتا ہوا تلی تک چلا جاتا۔ یہ گرد اِس لیے بھی زیادہ تھی کہ ایک تو پورے چھ ماہ سے بارش کا قطرہ نہیں گرا تھا،دوسرا ہر وقت لکڑی کے پہیوں والے گڈے چلنے اور چاراڈھونے والی گدھیوں اور بیلوں کے کُھروں سے پس پس کر اتنا باریک ہو گیا کہ اُسے مٹی کا میدہ ہی کہ لیجیے۔ سڑک کے دونوں طرف سر کنڈوں کے کَت والے اُونچے جھاڑ او رکیکر کے سیاہ پیڑسردار سودھا سنگھ کی بگھی کے اُلٹی سمت بھاگتے جاتے تھے۔ دھوپ اتنی زیادہ تھی کہ اُس سے کیکروں کے سائے بھی ڈر کر کہیں روپوش ہو گئے تھے۔ خشک ٹہنیوں پر بیجٹروں کے آہلنے لٹکتے ہوئے ایسے ہلتے جیسے اُن کے اند ربھوت ہونکتے ہوں۔ کبھی کبھی سرمئی فاختہ یا بِجڑا سامنے سے ایک دم پھڑ پھڑا کر اُڑتا اور دور تک دھوپ میں غائب ہو جاتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھاڑیوں سے چوہے،کِرلے اور گلہریاں بھی ایک طرف سے نکل کر دوسری طرف کو بھاگ اُٹھتیں۔ جن کی پروا نہ گھوڑوں کوتھی اور نہ ہی اسواروں کو۔ سودھاسنگھ کو پٹیالے سے آئے ایک مہینہ ہوگیا تھا لیکن وہ ابھی تک جھنڈو والاسے باہر نہیں نکلا تھا۔ جس کی ایک وجہ تو دشمنی تھی لیکن اصل میں اِس بار گرمی بھی اتنی تھی کہ گھر سے باہر نکلنا بھٹی میں سر دینے کے برابر تھا۔ گرو ہر سا جھنڈووالاسے پندرہ میل تھا،جو بگھی اور گھوڑوں کے لیے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ لیکن لُو کے تھپیڑوں اور دھوپ کے غبار سے جانوروں کو بخار سا چڑھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اُنہیں تیز دوڑانا بھی درست نہیں تھا۔ لہذا وہ دُلکی چال چلتے گئے۔ ریل میں ابھی کافی دیر تھی۔ ادھر اُدھر خطرے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی تھی۔ اِس لیے جانوروں کو دوڑانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھوڑے چلتے چلتے جب بارہ میل کے فاصلے پر دیوے کھوہ پہنچے،تو سردار سودھا سنگھ نے کہا،مترو کچھ دیر کے لیے سواریاں روک دو اور جانوروں کو پانی پلا لو۔ خود بھی آرام کر لو۔

دیوے کھوہ کی یہ جگہ سردار دیوے سنگھ کی ملکیت تھی،جو سودھا سنگھ کے والد کا بڑا ہی گہرا متر تھا اور اب اُس پر اُس کے بیٹے سردار ٹہل سنگھ کا قبضہ تھا۔ یہاں ایک بڑے سے بوڑھ کے سائے والی ٹھنڈی جگہ تھی۔ جس کے نیچے ایک ٹھنڈے پانی کا رہٹ بھی چل رہا تھا۔ ہریاول پینے والے اور بھنگ کوٹنے والے سارا دن اِس کھوہ پر بیٹھے باتوں کے طوطے اُڑاتے اور نشے میں غین ہوئے لیٹے رہتے اور سارے جہان کی خبریں یہیں بیٹھے لیتے دیتے۔ اکثر راہی پاندھیوں کا بھی یہی ٹھکانا تھا۔ سردار سودھا سنگھ گرو ہر سا منڈی آتے جاتے یہاں آرام کر کے بوڑھ کی چھاؤں سے لطف لیا کرتا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا تھا کہ سردار صاحب کو اِس بوڑھ سے خاص رغبت تھی۔ آج بھی سودھا سنگھ یہاں پہنچا تو اُس کا بوڑھ کو دیکھ کر جی للچا گیا۔ اُس نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر رُکنے پر ہی اکتفا کیا۔ اگرچہ یہ قیام منصوبے میں شامل نہیں تھا اور منڈی گرو ہر سا بھی اب تین میل ہی رہ گیا تھا۔ سردار ہرے سنگھ نے سودھا سنگھ کو ایک دفعہ نہ رکنے کا ہلکا ساکہا بھی،لیکن سردار سودھا سنگھ نے کہا،ہرے سنگھ بہہ جا،کجھ دیر آرام کر لے،جانور گرمی سے بوندلا گئے ہیں۔

سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر ٹہل سنگھ اور دوسرے تمام لوگوں نے اُٹھ کرپرنام کیا،پھربھاگ کر مونڈھے اور چارپائیاں اکٹھی کرنے لگے تاکہ سب بیٹھ جائیں۔ سردار سودھا سنگھ نے ہر ایک کو الگ الگ پرنام کا جواب دیااورایک بڑی سی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا،لو بئی،مترو کسی نے اشنان کرناہے تو کر لو اور جانوروں کو بھی پانی وانی پلا کے تازہ دم کر لو۔ (پھر ٹہل سنگھ کی طرف منہ کر کے )او بھلیا لوکا،سب متروں کو اور مجھے لسی پلا،گرمی نے تو پورے ہڈوں سے پانی کھینچ لیا۔ اِتنا کہ کر سردار سودھا سنگھ اُسی چار پائی پر لیٹ گیا۔ اِسی اثنا میں ایک پاندھی جو وہاں بیٹھا آرام کر رہا تھا،اُٹھااور اپنی سانڈنی پر سوار ہو گیا،جو تھوڑے فاصلے پر بیٹھی جگالی میں مصروف تھی۔ ٹہل سنگھ لسی لینے کے لیے اپنی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا اور سودھا سنگھ کے بندے گرمی کے مارے رہٹ کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لیے لنگوٹ کسنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں تیس فٹ لمبے چوڑے کھاڈے میں داخل ہو گئے۔ اِتنے میں سانڈنی سوار نظروں سے اوجھل ہو گیا،جس کی کسی نے بھی پروا نہ کی۔

برگد کا تنا کم سے کم بھی بیس فٹ قطر کا تھااور اُس کے بڑے بڑے ٹاہنوں کاپھیر قریب چار کنال میں تھا۔ بوڑھ کی شاخوں پر چوڑے پتوں کی سبز چادریں،سینکڑوں پرندوں کی سریلی آوازیں اور پھریریاں لیتی اُن کی اُڈاریاں،اُن کے بار بار ایک شا خ سے دوسری شاخ پر پھدکنے اور چہچہانے کے ساتھ رہٹ کی ٹینڈوں سے نالیوں میں بہتے شفاف اور ٹھنڈئے پانی کے تریڑے موسم کی حدت کو اتنا کم کر رہے تھے کہ سردار سودھا سنگھ کو نیند آنے لگی۔ مگر اُسے خوب پتا تھا کہ ریل کا وقت اُس کی اپنی ملکیت میں نہیں،جسے تبدیل کر کے دو گھنٹے مزید بڑھا دیا جاتا۔ پھر بھی دوبجنے میں کافی دیر تھی کیونکہ ابھی تک بارہ ہوئے تھے۔ اِس لیے کچھ دیر آرام کر لینے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا۔ سودھا سنگھ آرام سے چارپائی پر لیٹ گیا تو ٹھنڈی چھاؤں نے اتنا سرور دیا کہ اُس نے ارادہ کیا،اب نتھا سنگھ کی حویلی میں جا کر آرام کرنے کی بجائے یہیں پر ٹکتے ہیں۔ ریل جانے میں ایک گھنٹا رہ جائے گا،تو یہیں سے اُٹھ کر بھاگ چڑھیں گے۔ کون سا اب منڈی گرو ہرسا دور رہ گیا ہے۔

تھوڑی دیر گزری تھی،ٹہل سنگھ لسی کے دو دونے بھر لایا۔ لسی کافی گاڑھی تھی،اِس لیے اُس نے اُس میں رہٹ کا ٹھنڈا پانی بھی ڈال دیا۔ پھرپیتل کے قلعی شدہ چھَنًے بھر بھر کے سب کو پلانے لگا۔ پیت سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ وغیرہ کو نہاتے ہوئے دیکھ کر ہرے سنگھ کا بھی دل کر رہا تھا کہ وہ بھی کپڑے اُتار کر پانی کے کھڈے میں اُتر جائے لیکن وہ لسی پی کر وہیں بیٹھ گیا۔

سودھا سنگھ لسی پی کر دوبارہ چار پائی پر لیٹ چکا تھا بلکہ اب اُس کے خراٹے بھی شروع ہو گئے تھے۔ اُدھر سب متر کھاڈے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اُ ن کے گنڈاسے،چھویاں اور کرپانیں چارپائیوں پر پڑی اُونگھ رہی تھیں۔ حتیٰ کہ پیپل نے اپنا تمام سایہ مغرب کی طرف سے کھینچ کر شاخوں کے نیچے کر لیا اوردوپہر ایک بجے کا طبل بجا دیا۔ ہرے سنگھ پہلے تو اس ساری کیفیت سے اُکتا رہا تھا لیکن جب اُسے بھی بیٹھے بیٹھے بہت دیرہوگئی تو اُس نے بھی چند لمحے لیٹ کر آرام کرنے کی ٹھانی۔ ہرے سنگھ سر سے پگڑی اُتار کر ابھی سیدھا ہی ہوا تھا کہ اُسے دُور سے دھوپ کی چندھیا دینے والی سفیدی میں گہرا گرد غبار اُٹھتا دکھائی دیا۔ ہرے سنگھ کے دل میں جو چھپا ہوا ڈر اور ہول تھا،وہ اب بالکل سامنے آنے لگا۔ اُس نے جلدی سے پگڑی دوبارہ سر پر رکھی،برچھی پکڑی اور اُٹھ کر سودھا سنگھ کو سختی سے جھنجھوڑ ا۔ سودھا سنگھ اُٹھ کر آنکھیں ملنے لگا مگر اُسے ابھی تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ ہرے سنگھ نے نہانے والوں کو بھی اضطراب انگیز آواز میں پکارا،جسے سُن کر سب ایک مرتبہ دہل گئے۔ کچھ نہا کر پہلے ہی نکل چکے تھے۔ جو نہا رہے تھے وہ ہرے سنگھ کی آواز سُن کر پٹکے باندھے کھاڈے سے باہرچھلانگیں مارنے لگے لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ سچ پوچھیں تو سردار ہرے سنگھ کے سوا کوئی بھی اِس اچانک موقع کے لیے تیار نہ تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے،چوہدری غلام حیدر اُن کے سر پر آن پہنچا اور چند قدم کے فاصلے پر رک کر چنگھاڑتے ہوئے ایک بلند آہنگ نعرہ مارا اور گولیوں سے بھری ہوئی ولائتی رائفل سیدھی کر لی،جس کا گھوڑا پہلے ہی چڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر کے علاوہ امانت خاں کے ہاتھوں میں بھی رائفل تھی۔ باقی سب کے ہاتھوں میں برچھیاں اورڈانگوں پر چڑھی ہوئی چھویاں چمک رہی تھیں۔ جن کی تعداد پینتیس کے قریب تھی۔ وہ سب بھی نعرے مارنے لگے اور ہتھیار کس کے دس بندوں نے آناً فاناًبرگد کے پیڑ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تاکہ کوئی بھاگنے نہ پائے۔ دوسرے پچیس آدمی ہر طرح سے مسلح غلام حیدر کی پشت پر جم گئے۔

ہرے سنگھ،جو سودھا سنگھ کے باقی بندوں کی نسبت لڑنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کر وار کرتا،امانت خاں وٹونے پہلے سیدھا اُسی پر فائر کھو ل دیا۔ گولی ہرے سنگھ کے سینے میں لگی اور وہ لڑکھڑا گیا۔ اِس کے باوجود اُس نے آگے بڑھ کر انتہائی بہادری کے ساتھ واہگرو کا نعرہ مارااور امانت خاں کے اُوپر برچھی کا ایک بھرپور وار کیا،جو امانت خاں کے گھوڑے پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے دائیں ٹانگ پر لگا اور اُس کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی۔ پھر اِس سے پہلے کہ ہرے سنگھ دوسرا وار کرتا،امانت خاں رائفل میں کار توس دوبارہ بھر چکا تھا،اُس نے رائفل کی نال ہرے سنگھ کے سینے پر رکھ کر دوسرا فائر کر دیا۔ اِس فائر کے لگتے ہی ہرے سنگھ کی آنکھیں بے نور ہوگئیں اور وہ ایک ہی دم لڑکھڑا کر نیچے گر گیا۔ اِسی اثنا میں غلام حیدر بھی اپنی میگزین سودھا سنگھ کے بندوں پر خالی کر چکا تھا۔ اچانک اِن بلاؤں کو دیکھ کر سودھا سنگھ کے بندوں نے ہتھیار تو سنبھال لیے تھے مگروہ جم کر مقابلہ کرنے سے قاصر تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ چوہدری غلام حیدر اور امانت خاں کی رائفلوں کا اپنی ڈانگوں کے ساتھ کیسے مقابلہ کریں؟ دوسری طرف غلام حیدر کے ڈانگوں اور برچھیوں والے ساتھی بھی اِن سے دگنی تعداد میں وہاں کھڑے تھے۔ اِس لیے بجائے اِس کے کہ آگے بڑھ کر حملے کا جواب دیتے،گولیوں سے بچنے کے لیے ادھر اُدھر اوٹوں کا سہارا لینے لگے۔ لیکن غلام حیدر نے اُن کو اس طرح گھیر لیا کہ ہر طرف سے اُن کی پشتیں خالی ہو گئیں۔ اِس سوڑ کو دیکھتے ہوئے آخر جگبیر اور پیت سنگھ نے واہگرو کا نعرہ مار ااور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے ہجوم میں داخل ہو گئے۔ مگر اُن کو بھی اپنے جوہر دکھانے کی مہلت نہیں ملی۔ گولیوں نے اُنہیں بھی ہرے سنگھ کی طرح اوٹ سے نکلتے ہی زمین بوس کر دیا۔ غلام حیدر کی رائفل ولایتی ہونے کی وجہ سے اُس کی میگزین میں چھ گولیاں موجود تھیں،جنہیں وہ ایک ایک کر کے لگاتار چلا رہا تھا۔ ایک میگزین ختم ہو جاتی تو وہ اُسے اُتار کر اپنے پیچھے کھڑے جانی چھینبے کی طرف بڑھا دیتا اور بھری ہوئی میگزین اُس سے پکڑ لیتا۔ جانی اگلی میگزین خالی ہونے تک پہلی میگزین میں گولیاں بھر دیتا۔ اِس افراتفری میں سودھا سنگھ کو سنبھلنا تو ایک طرف چارپائی سے بھی اُٹھنے کا موقع نہ مل سکا۔ چارپائی پر بیٹھے ہی غلام حیدر اور امانت خاں کے فائروں اور اپنے بندوں کو گرتے دیکھتا رہا۔ سودھا سنگھ کی چارپائی کو غلام حیدر کے بندے گھیر چکے تھے اور اُس کو اُٹھنے کی نوبت نہیں دی۔ فائر سودھاسنگھ کے کئی بندوں کو لگے،جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گر کر لوٹنیاں لینے لگے۔ فائر بہت نزدیک سے کیے گئے تھے۔ اِس لیے بہت موئثر ہوئے۔ جب تک غلام حیدر کی رائفل سے گولیاں نکلتی رہتیں،امانت خاں اپنے بندوں کی اوٹ میں جا کر بندوق میں نیا کارتوس بھر لیتا اور گھوڑا دوڑا سودھا سنگھ کے بندوں میں سے کسی ایک کو تاک کر نشانہ مارتا۔ سودھا سنگھ کے بندے بھاگنے لگے تو غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور پیچھے بھاگ کر اُن پر فائر کرنے لگا۔ نعروں کی گونج اور گولیوں کی آگ میں اِتنا شور بلند ہوا کہ انسان تو کیا،برگد کی شاخوں میں پھدکنے والے پرندے بھی ایک ہی دم اُڑ کردھوپ کی پناہ میں چلے گئے اور دہکتی سفید فضا میں اُڑنے اور شور مچانے لگے۔ اِن پے بہ پے دو رائفلوں کے فائروں میں سودھا سنگھ کے بندے ایک طرف،خود غلام حیدر کے بندوں کو بھی ڈانگ برچھی کے جوہر دکھانے کا موقع نہ مل سکا۔ اِتنا ضرور ہوا غلام حیدر کے بندے دُگنے ہونے کی وجہ سے سودھا سنگھ کے لوگوں کو آگے بڑھنے کی ذرا بھی جرات نہ ہوئی۔ اِس مار دھاڑ میں سودھا سنگھ کے جگرے والے آدمی ہرے سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ اور پیت سنگھ تو پہلے ہی گر چکے تھے۔ باقی کوبھی غلام حیدر اورامانت خاں آگے بڑھ کر اور اُنہیں گھیر گھیر کا فائر مار رہے تھے۔ سودھا سنگھ چارپائی پر صدمے سے گرا ہوا تھااور اُسے جانی چھینبے نے جُوڑوں سے پکڑ رکھا تھا۔ آپا دھاپی اتنی بڑھی،کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا اور سودھا سنگھ کے دس بندے وہیں ڈھیر ہوگئے۔ دو بندے بھنگ پینے والے بھی اسی فائرنگ میں چل بسے۔ باقی کے پانچ چھ بندے گھوڑوں پر چڑھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ غلام حیدر نے اُن کا پیچھا کرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس بوڑھ کے نیچے سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے پاس آگیا۔ سودھا سنگھ کا جُوڑا کھل چکا تھا اور چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ لیکن ابھی ہوش حواس ضایع نہیں ہوئے تھے۔ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کو جُوڑوں سے پکڑ کر سیدھا کیا اور کہا،سودھے مجھے پہچان،مَیں ہوں شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر،جس کی ملاقات کا تجھے بڑا شوق تھا اور جس کے بندوں کو تو نے ناجائزمار دیا۔ تجھے اپنے ہرے سنگھ،جگبیرے اور دمے پر بڑا مان تھا۔ وہ دیکھ مَیں نے اُن کی چھاتیاں کھول دی ہیں۔ کہاں گئے اُن کی دیگی لوہے والی بر چھیاں اور گنڈاسے؟اب تُو سمجھ لے،غلام حیدر نے اسی برگد کے نیچے تجھے سزائے موت سنا دی ہے۔ اب چل تو بھی اِنہی کے پا س۔ مگر تیرا اور اُن کا ٹھکانا ایک جگہ پر نہیں ہو گا۔ سودھا سنگھ نے آنکھیں اُوپر کر کے غلام حیدر کی طرف دیکھا،جو موت کا فرشتہ بن کر اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ غلام حیدر کا لمبے بَر والا لال رنگ کا لاچا،سفید کُرتہ اور سنہری تلے والا کھُسہ،سودھا سنگھ کی آنکھوں میں تیر بن کر لگا۔ غلام حیدر کی آنکھیں سُرخ انگارا تھیں اور اُن میں خون چڑھا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ میں رائفل،جس کی نال سے بارود کی بُو دھواں بن کر نکل رہی تھی اور سودھا سنگھ کی ناک کو چڑھ رہی تھی۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کو آج سے بارہ تیرہ سال پہلے جب وہ یہی دس سال کا ہو گا،اپنے باپ شیر حیدر کے ساتھ تحصیل مکھسرمیں ایک پنچایت میں دیکھا تھا۔ اُس وقت تو یہ لڑکیوں کی طرح چٹا گورا،ایک بچونگڑا سا لگتا تھا،مگر اب کتنا بڑا قاتل ہو گیا تھا۔ سودھا سنگھ نے اِسی حالت میں سوچا،بنتو سچ کہتی تھی،یہ مُسلے بڑے بگھیاڑ ہوتے ہیں۔ اِن کے بچے بھی بگھیاڑ ہوتے ہیں،آخر یہ غلام حیدر مجھے کھا ہی گیا۔ جب سودھا سنگھ کوبچنے کا گمان نہ رہا،تو اُسے پھر بنتو یاد آئی،اُس نے آنکھیں بند کر لیں اور بینت کور کو دو ہتھڑزور زور سے پیٹتے اور بین کر تے دیکھنے لگا۔ اِسی اثنا میں اُس نے دوبارہ غلام حیدر کی آواز سنی،سودھے،یہ نہ کہنا،مَیں تیری ہی موت بن کر آیا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد عبدل گجر اور شریف بودلہ بھی تیرے ساتھ آ ملیں گے۔ مَیں نے فیصلہ کر لیا تھا،اِس دفعہ کی پیشیاں فیروز پور کی عدالت کی بجائے تحصیل جلال آباد میں ہی لگا دی جائیں۔ میرے پاس بار بار فیروز پور جا کر تا ریخیں بھگتنے کا وقت نہیں۔ اِس لیے میں نے یہیں عدالت لگا کر فیصلہ کر دیا۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کی بات سنی،تو ایک دم تڑک کر بولا،غلام حیدر،کوئی گل نئیں،سودھا سنگھ مردہے،زنانی نہیں کہ تیرے آگے بینتی کر ے گا،مار دے گولی۔ پَر گولی سینے پر مارنا اور یاد رکھنا،کسی مرد کو مارا تھا۔ غلام حیدر نے سردار سودھا سنگھ کے دل پر رائفل کی نال رکھ کرگھوڑا دبا دیا۔ غلام حیدر نے میگزین ایک دفعہ پھر بھر لی تھی۔ اِس لیے وہ پوری کی پوری سودھا سنگھ پر خالی کر دی۔ اِس فائر کے چلنے کے ساتھ ہی خون کے تیز فوارے نے پوری چار پائی لال کر دی۔

سودھا سنگھ کو مارنے کے بعد غلام حیدر نے کچھ دیر تک تمام لاشوں کا جائزہ لیا۔ پھر اپنے گھوڑے پر بیٹھ گیا اور سب ساتھیوں سے کہا،بھائیو،امانت خاں کے علاوہ تم سب سیدھے تھانے گرو ہر سا جا کر حوالات میں بیٹھ جاؤ اور یہ برچھیاں اور ڈانگیں وہیں تھانے میں جمع کرا دو اور سمجھ لو،تم ہمارے ساتھ آئے ہی نہیں(پھرامانت خاں کی طرف منہ کر کے )مَیں اور امانت،اللہ نے چاہا تو جلد ہی چک میگھا پہنچتے ہیں۔ پھرگھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ غلام حیدر کے تمام بندوں نے تڑپتی ہوئی لاشوں کو وہیں چھوڑا،جن میں اب کوئی بھی زندہ نہیں رہا تھا،اور سیدھے تھانہ گرو ہر سا کی طرف سانڈنیوں اور گھوڑوں پر چڑھ کرچل پڑے۔

ایک گھنٹے بعد جب چک میگھا ایک میل رہ گیا تو غلام حیدر نے کہا،میاں امانت،تھوڑی دیر کے لیے گھوڑوں کو آرام دے لیں تاکہ تازہ دم ہو جائیں۔ آگے ہمیں اِس قہر کی گر می میں مسلسل بھاگنا پڑے گا۔ دونوں شرینہہ کے سائے میں ا پنے گھوڑوں کو ٹھہرا کر نیچے اُترے۔ گھوڑوں کوشرینہہ کے نیچے کھڑے ہوئے نلکے سے پانی پلا یا،خود پیا،پھر گھوڑوں کو سانس دلانے لگے۔ غلام حیدر نے،کہاامانت خاں گھبرانا نہیں،اپنی رائفل کی نال کو اچھی طرح صاف کر لے۔ مجھے پکا یقین ہے،ابھی سودھا سنگھ کے مرنے کی خبر چک میگھا نہیں پہنچی۔ البتہ تھانہ گرو ہر سا اِس خبر سے گونج گیا ہو گا۔

امانت خاں بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہنس پڑا اور کہنے لگا،چوہدری غلام حیدر،گھبرانا نامردوں کے حصے میں لکھا گیا ہے۔ مَیں تو پیدا ہوا ہوں تو اِنہی چکروں میں پڑگیا تھا۔ یہ میری پہلی لڑائی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگرمنڈی گرو ہرسا میں خبر پہنچ گئی تو مجھے پکا یقین ہے،فرنگیوں کی جیپیں ہمارے کُھرے میں ہوں گی۔ لیکن خطر ے امانت کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اِتنا کہہ کر امانت خاں اُٹھ کر گھوڑے کو کھولنے لگا۔ غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کی لگام شرینہہ کے تنے سے کھول لی۔ اُس کے بعد دونوں چھلانگیں مار کر پر چڑھ گئے او ر رائفلیں کاندھوں پر رکھ کر چک میگھا کی طرف چل پڑے۔

چک میگھا تین سو نفر کی آبادی کا چھوٹا سا گاؤ ں تھا۔ جس میں زیادہ بڑے زمیندار نہیں تھے۔ لوگوں کے پاس پچاس پچاس یا سو سو ایکڑ کے قریب رقبہ تھا۔ اُس میں وہ گندم اور چاراکاشت کرتے۔ اِس کے علاوہ ایک دو سیؤ بیریوں کے باغ بھی تھے۔ چک میگھا کے مغرب کی طرف سے ایک نہر حکومت نے کافی پہلے نکال دی تھی،جو قصور کے مقام سے دریاے ستلج سے نکال کر فیروز پور کو کاٹتی ہوئی بنگلہ فاضلکاتک چلی جاتی۔ چک میگھا کی زمینوں کو اِسی نہر کا پانی سیراب کرتا اور لوگ قدرے خوش حال تھے۔ گاؤں کے چھوٹے چھوٹے زمین داروں میں عبدل گجر اور شریف بودلہ ہی کچھ بڑے تھے،جن کی زمین ڈھائی تین تین سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ زمین غلام حیدر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن اِن دونوں میں خود سری اِنہیں کسی نہ کسی دشمنی میں ضرور اُلجھائے رکھتی اور گاؤں میں بھی اُن کا فساد اپنے سے چھوٹے زمینداروں کے ساتھ چلتا رہتا۔ ا کثر کو یہ دونوں مل کر دبائے رکھتے۔ ڈیرہ کافی کھلا تھا۔ جس کے اندر نیم کے دو پیڑ انتہائی گہرا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اس سائے میں پانچ چھ چارپایؤ ں پر کچھ لوگ بیٹھے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے تھے،جن میں عبدل گجر اور شریف بودلہ صاف نظر آ رہے تھے۔ گھوڑوں کے رُکتے ہی لوگوں میں ایک ہڑبونگ مچ گیا۔ وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن ڈیرے سے باہر نکل کر بھاگنے کی جرات کسی کوبھی نہیں ہو رہی تھی کیونکہ دروازے پر غلام حیدر اورامانت خاں رائفلیں لیے کھڑے تھے۔ غلام حیدر نے عبدل گجر کو مخاطب کر کے کہا،او حرامی تیار ہو جا،غلام حیدر نیودرا ڈالنے آگیا ہے۔ یہ بھی جان لے،تیرے باپ سودھاسنگھ کو اُس کے گرو جی کے حوالے کر آیا ہوں لیکن افسوس کہ تو اُس کی چتا کی آگ نہ سیک سکے گا،وہ بچارا بھی تیرے سیاپے اور تیری چارپائی کو کندھا دینے جوگا نہیں رہا۔

موت کو اتنا سامنے دیکھ کر عبدل اور شریف کے ایک بار اوسان تو خطا ہو گئے لیکن اُنہوں نے پھر بھی ہمت کر کے اپنے بندوں کو کہا،دُلے کیا دیکھتے ہو؟پکڑو اِس کو اور ڈانگوں سے کچل دو۔ عبدل کی آواز سُن کر کچھ لوگ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن اتنا وقت کہاں تھا،دونوں نے فائر کھول دیا اور لگاتار گولیاں برسانے لگے۔ جس سے تین چار بندے گر گئے۔ کافی سارے چارپائیوں کے نیچے گھس گئے۔ اِسی اثنا میں موقع پا کر عبدل گجر بھاگنے لگا،اِتنے میں غلام حیدراور امانت خاں رائفل میں دوبارہ گولیاں بھر چکے تھے۔ اُنہوں نے دوبارہ تاک تاک کے فائر کرنے شروع کر دیے،جو عبدل گجر اور شریف بودلے کے جسموں کو چھیدتے ہوئے نکل گئے اور ڈیرے کا ویہڑا منٹو ں میں لہولہان ہو گیا۔ ہر طرف لاشیں اور خون ہی خون پھیل گیا۔ نیم کے درختوں سے پرندے اُڑ اُڑ کر شاخوں کو چھوڑنے لگے۔ باقی لوگ یا تو بھاگ گئے یا چارپائیوں کے نیچے گھسے ہوئے تھے اور کسی کی جرات نہیں تھی کہ سامنے آجائے۔ اِس کے بعد غلام حیدر اور امانت خاں گھوڑے آگے بڑھا کر لاشوں کے قریب آئے اور دوبارہ عبدل اور شریف پر ایک دو دو فائر کیے پھر واپس چل دیے۔ باہر نکلتے ہی دونوں نے گھوڑوں کو ایڑیاں لگا دیں۔ اِدھر چک میگھا میں ہر طرف چیخ چنگھاڑا اور ماتم شروع ہو گئے۔ عبدل گجر اور شریف بودلے کے ساتھ تین اور لاشیں بھی اُوندھے منہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا،جیسے لوگوں پر ایک خواب کا سماں گزرا ہو۔

Categories
فکشن

پیالہ پاؤں

وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا یا اس طرح کہا جائے کہ آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں، سایہ بھی ٹین کے ایک پترے کا تھا، تپش ایسی تھی کہ لوگوں کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں۔ آسمان پر دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ جس لکڑی کی بینچ پر وہ بیٹھا تھا، اس میں لوہے کا ایک بڑا سکریو آدھا پیوست تھا، اس طرح کہ دو انگلیوں کی مدد سے گھماؤ تو گھوم جاتا، مگر باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا، غالبا بھوسے نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ کانچ کی چھوٹی سی پیالی اس کے سوکھے ہونٹوں پر گرم اور خاکی بوسہ دینے کو تیار تھی، گلے کی بنجر سرنگ میں یہ خاکی تیر تیزی سے اترتا اور سینے کو سینکتا ہوا، پیٹ میں پھیلے لمبی آنتوں کے جال میں پتہ نہیں کس طرف کو نکل جاتا۔ جب وہ کرسی پر بیٹھا تووہ خاصی گرم تھی، اتنی زیادہ کہ سائے والا حصہ بھی ہانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ کولہے کو ایک گہری تپن سے داغدار کرنے کے بعد کچھ دیر میں اس کے بدن کی گرمی نے بینچ کے ساتھ مصالحت کرلی تھی۔ وہ کھسک کربیٹھ جاتا مگر ذرا سی دور پر ایک شخص بیٹھا تھا، جس نے غالبا تین چار روز سے کپڑے نہیں بدلے تھے، اس کے مٹیالے پنجے اور پنڈلیاں بتارہی تھیں کہ وہ بہت دور تک پیدل چلتا رہا ہے۔ سر پر ایک انگوچھا بندھا تھا اور ہاف شرٹ کی بغلیں کسی بیمار گٹر کی طرح ہوا کے بلبلے چھوڑ رہی تھیں، جن کو برداشت کرنا بڑا مشکل کام تھا،اس کے دماغ نے بڑے حساب سے فاصلے کا ایک نقشہ تیار کیا اور اس کی ہتھیلیاں ، ہلتی ہوئی رانیں اور زمین بجاتے ہوئے بوٹ سب ایسی جگہ براجمان ہوگئے، جہاں سے اس شخص کی بدبو ہوا کے کسی اور رخ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل جارہی تھی، بالکل ہوائی جہازوں کی طرح بدبوؤں اور خوشبوؤں کے بھی اپنے راستے ہوتے ہیں، وہ انہی مصور نقشوں کے مطابق بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور راستوں میں آنے والے مختلف نتھنوں میں اپنی سڑاند، بساند یا پھر مہک کے گھونسلے بنالیتی ہیں۔

وہ ایک عورت کا پیچھا کررہا تھا۔ ورنہ اس بری دھوپ میں اپنے سات سالہ بچے اور جوان بیوی کو چھوڑ کر کون باہر نکلتا ہے۔شادی کے نو سال ہوچکے تھے، پہلا بچہ پیدا ہوا اور دوسری بار چیچک کے حملے کی تاب نہ لاکر دنیا سے چل بسا۔دوسرے ہی سال اس نے پھر کوشش کی ،کامیابی ملی اور اس کی بیوی کی زندہ اولاد کا سکھ بھوگنے کی خواہش مکمل ہوئی۔دراصل وہ اپنی بیوی کو کہیں سے بھگا کر لایا تھا، شادی سے پہلے کوئی ٹٹ پنجیہ سے قسم کے کیس میں جہاں اس کی بڑی تضحیک ہوئی تھی، ذلت اٹھانی پڑی تھی اور پورے پیسے بھی نہیں ملے تھے، صرف یہی ایک عورت تھی، جو اس کے ہاتھ لگی۔کسی انسپکٹر کی رکھیل تھی ، حالات سے پریشان اور تنگ دست۔منہ سے کچھ بولتی ہی نہ تھی، انسپکٹر نے حالانکہ اس کیس میں تھوڑی بہت مدد بھی کی تھی، مگر عشق نے مروت کو بالائے طاق رکھ کر ان دونوں کو ساتھ بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔شادی کے بعد یہ پہلا کیس تھا، جس میں اسے دس ہزار دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ ایک بڑے شہر کا چھوٹا پرائیوٹ جاسوس تھا۔ابتدا میں اس کام میں اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی، اس نے ایک پرائیوٹ ڈیکٹٹو ایجنسی میں کچھ مہینوں نوکری بھی کی، مگر کیسز بہت کم ملتے تھے، تنخواہ بھی زیادہ نہیں تھی اور بہت سے کام کمیشن پر ہی کرنے پڑتے تھے۔کمیشن بھی کیا طے ہوتا، تین ہزار یا چار ہزار۔اس نے سوچا اس سے بہتر ہے کہ اپنا ہی کام شروع کیا جائے، تھوڑا بہت دھکا دینے سے گاڑی چل نکلے گی۔ویسے بھی جاسوس کا دفتر بھی کیا ہوتا ہے، ایک موبائل فون، کچھ تفصیلات اور پھر گلیوں، چوراہوں کی خاک کے ساتھ جیب میں پڑی ہوئی طویل تعاقبوں کی ایک فہرست۔پچھلے کئی برسوں سے وہ ایسے ہی تعاقب پر گزارہ کررہا تھا، جن میں قدموں کی چھاپ سے سکوں کی چھن چھن تک کا بہت معمولی سا سفر اس نے طے کیا تھا۔بریڈ بٹر کے پیسے جٹانے مشکل ہوجاتے، اتفاق سے شادی ہوگئی تو دوجانوں کا بوجھ اور سر پر آن پڑا۔بیوی نے بچے کی ضد کی تھی، ورنہ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا۔بیوی بھی کیا کرتی، وہ ہمیشہ سےعدم تحفظ کا شکار رہی تھی، اسے لگا کہ کہیں یہ بھی ایک وقت کے بعد بغیر نکاح نامے کی اس بیوی کو رکھیل نہ سمجھنے لگے اور جاسوس سے انسپکٹر میں تبدیل ہوجائے، چمڑے کے پٹے سے مارے، شراب سے بھری ہوئی تھوتھنی کو اوک بنا کر اودے ہونٹوں میں انڈیلنا نہ شروع کردے۔چنانچہ وہ درمیان میں اولاد کا لگھڑ ڈال کر دیکھنا چاہتی تھی، جس کی مدد سے وہ جب چاہے اپنے نام نہاد شوہر کو اپنی جانب گھسیٹ سکتی تھی۔

وہ سوچتا تھا کہ ہماری فلموں میں بھی تو جاسوس دکھائے جاتے ہیں، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ، ہمیشہ ان کے عقب میں ایک مہیب موسیقانہ لہر رواں رہتی ہے، خوبصورت لڑکیوں سے چالاکی کےساتھ بنائے جانے والے جنسی تعلقات۔دل میں اترجانے والا چہرہ، دو پل میں ہپنٹائز کردینے والی صلاحیت اور کیسے بھی مشکل حالات میں خود کو بچا لینے والا انداز۔اف! کیا جاسوس ہوتے ہیں، مگر وہ آج تک کسی بھی ایسے جاسوس سے نہیں ملا تھا۔اب تو اس کا پیٹ بھی نکل آیا تھا۔پتلی بانہیں، گہرا سانولا چہرا، آنکھوں میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی کہ دیکھنے والا ہپنائز کیا جاسکے۔زیادہ بھاگنے سے ہانپنے لگتا اور ٹانگیں جواب دے جاتیں، کسی کا تعاقب کرتے وقت اکثر اسے بیچ میں ہی رک جانا ہوتا کیونکہ کوئی ضروری فون آجاتایا بیوی پڑوس کا کوئی نیا دکھڑا سنانے کے لیے فون کردیتی۔پھر اس نئے شہر میں اس کے زیادہ تعلقات بھی نہ تھے، نیا کاروبار اور وہ بھی اس قدر انفرادی اور پراسرار۔اب تو وہ بال اور داڑھی مونچھ کٹوانے بھی زیادہ نہیں جاتا تھا۔شادی سے پہلے بھی بغل اور ناف کے بالوں سے اسے اتنی الجھن کبھی نہیں ہوتی تھی، مگر وہ مونچھیں اور داڑھی ترشوا لیا کرتا تھا۔مگر اب یہ سب مشکل تھا، وہ ٹائٹ جینز اور دھاری دار شرٹ پہنے، کالا چشمہ لگائے کسی دوسری دنیا کے سادھو جیسا لگتا تھا۔اسے اپنی بھگل پر اتنا افسوس نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ جاسوسی کا کام اس کا پسندیدہ کام ہے۔ورنہ ماں باپ نے بہت ضد کی تھی کہ پرچون کی دکان پر بیٹھ جائے اور آج بھی گاؤں میں اس کا بوڑھا باپ بمشکل وہ دکان چلاتا تھا۔کئی دفعہ اس کے جی میں آئی کہ لوٹ جائے،مگر سوچتا تھا کہ اس صورت میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ہے، اسے لگتا تھا کہ بھاگ بدلیں گے، بس کسی کیس میں اس کا نام اخبار میں آجائے اور ذرا سی شہرت مل جائے تو لوگ خود اس کی خدمات لینے آجایا کریں گے۔

رات کو تھک ہار کر جب بیوی کے پاس بیٹھتا تو اس کے کھردرے اور سوراخ دار چہرے کو اپنی سخت انگلیوں سے چھوتے ہوئے بڑے پیار سے باتیں کیا کرتا۔اس کا بیٹا اب پہلی جماعت میں داخل ہوگیا تھا۔وہ رات کو اکثر لنگی پہنا کرتا تھا۔بیوی دنیا بھر کے خرچے بتانے لگتی اور وہ اس فراق میں رہتا کہ بیوی کے بدن کے کون سے پنے سے اسے پڑھنے کی ابتدا کرے۔ایک جاسوس ہونے کی وجہ سے دن بھر وہ اتنے سارے رازوں اور گتھیوں کے ساتھ گزارا کرتا تھا کہ بیوی کو کسی مبہم عبارت کی طرح نہیں پڑھنا چاہتا تھا، اسے بغل میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی جس کا جمپر اٹھا کر وہ پیٹ پر گہرے لمبےرنگ بکھیرتا تھا،جب سسکیاں بھرتے کسی معمے میں تبدیل ہوتی نظر آتی تو وہ اس کی گول اور چکنے نقش بنانے والی پسینے دار بغلوں میں اپنا منہ دفن کردیتا۔بیوی کے پسینے سے اٹھتی ہوئی مخلوط گرم و سرد لہریں اس کے منہ میں بھاپ بن کر داخل ہوتیں اور تالو پر چمگادڑوں کی طرح لٹک کر رقص کرنے لگتیں۔وہ اس ہلکی بھیگی دنیا میں دبے پاؤں داخل ہوجاتا اور بیوی کے گدگدے اور فربہ بدن کی سفید چربی اور سرخ گوشت میں اپنی ہانپ کے بیج بونے لگتا،درمیان میں جب نظر اٹھتی تو اس کی بیوی آنکھیں بندکیے ہوئے ایک ایسی ہی بالکل الگ دنیا میں تیررہی ہوتی، جہاں کسی بچے کے ہوم ورک کا سردرد نہیں تھا، پڑوسن کے اوندھے سیدھے نخرے نہیں تھے، دودھ اور راشن والے کی چڑچڑاہٹیں نہیں تھیں، برتنوں کی کھنکھناہٹ اور سندور یا دوپٹے کا تکلف بھی نہیں تھا، بس خلا میں بجتے ہوئے دو گھنگھرو تھے، جن کی صدائیں اس کے جسم میں غوطے لگاتی تھیں،اور انگوٹھی اور انگلی کی شکل میں تبدیل ہوکر اس کے شکن آلود بدن کی چادر کو چٹکیوں میں سمیٹ لیتی تھیں۔۔۔اسے اپنی بیوی کو یوں دیکھنا بہت پسند تھا،ہلکے گہرے اندھیرے میں جب اس کے پسینہ اگاتے ہوئے چہرے پر بیوی کے چپچپے بال دلدل میں پھنسے ہوئے سانپوں کی طرح جم جاتے تھے۔اور پھر وہ دونوں اس پندرہ بیس منٹ کی سخت محنت کے بعد ایک دوسرے کی ٹانگوں پر ٹانگیں پسارے سو جاتے یا کبھی کبھار جاسوس اٹھتا اور گھر کی بالکنی میں جاکر سگریٹ سلگایا کرتا اور دن کے کسی الجھے ہوئے کیس کے بارے میں از سر نو غور کرتا۔سوچنے کا اسے آج تک اس سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں لگا تھا، بہت سے معاملات انہی لمحوں میں روشن ہوتے تھے، وہ سوچتا تھا کہ وہ کون سے بدنصیب جاسوس ہونگے، جن کے پاس عورت کے بدن سے دماغ کو تیزتر کردینے والا یہ منتر نہیں ہوگا۔

وہ ان لمحوں کو سوچ کر مسکرایا، چائے آدھی ہی ختم ہوئی تھی ، مگر ہنوز گرم تھی۔لو کے ایک تھپیڑے نے اس کے گال کو تھپتھپایا، اب وہ عورت سامنے موجود بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔اتنے میں کوئی بس آئی، عورت جب بھیڑ کے ساتھ بس میں سوار ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر بس کا نمبر دیکھا۔چائے کی دکان کے برابر کھڑی ہوئی ایک پولیس موبائل وین میں بیٹھے ہوئے ڈرائیور نے اسے گھور کر دیکھا، وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔اس نے چائے والے سے معلوم کیا کہ یہ بس کہاں جاتی ہے۔کیونکہ اب اس میں زیادہ پیچھا کرنے کی قوت نہیں تھی، اس نے چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنے گھر کی جانب واپس آنے کے لیے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔قریب ہی سڑک پر دھول اڑاتی ہوئی گاڑیاں گزر رہی تھیں، وہ سوچ رہا تھا کہ ان شیشوں کے پیچھے ٹھنڈی ہوا کھانے والے لوگ کیا کام کرتے ہوں گے، کیا گاڑیوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثلا سوئفٹ ڈزائر کے پرانے اور ٹاپ موڈل میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ تو ایک کمرشیل گاڑی ہے، مگر اب شہروں میں ذاتی ملکیت کے طور پر بھی زیادہ مقبول ہورہی ہے۔جگہ کم گھیرتی ہے اور بہ آسانی ڈرائیورسمیت پانچ لوگ اس میں بیٹھ سکتے ہیں۔یہ تو عام لوگوں کی گاڑی ہے، مثلا اس بڑے شہر میں یہ چائے بیچنے والا بھی اگر ارادہ کرے تو ایک سکینڈ ہینڈ سوئفٹ ڈزائر خرید سکتا ہے۔ نینو گاڑی کم نظر آتی ہے، لوگ اسے دیکھ کر مذاق اڑایا کرتے ہیں، وہ لگتی بھی کسی حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح ہے، اس سے بہتر تو وہ سولر گاڑیاں ہیں، جو ہوتی تو ٹو سیٹر ہیں، مگر ان کی شکل و صورت کتنی کیوٹ ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی بہت بڑی اور رئیس گاڑی کی معصوم اولادیں ہوں۔بہت سی گاڑیا ں ہیں، ورنا، آئی ٹین ، آئی ٹوئنٹی۔ ان گاڑیوں میں کون لوگ ہوں گے۔ سرکاری نوکر، پروفیسر، کلرک، پرائیوٹ کمپنیوں کے ملازمین یا پھر کچھ چھوٹے نجی کاروباری۔اسی سڑک پربی ایم ڈبلیو اور پجیرو جیسی بڑے سائز اور بڑی قیمتوں کی گاڑیاں بھی دوڑتی ہیں۔آٹومیٹک گیئر والی۔بالکل پیروں کی طرح، جن کو کہاں رکنا ہے،کتنی رفتار بڑھانی ہے،کتنا چلنا ہے اچھی طرح پتا ہے۔فٹ پاتھ پر کھل اٹھنے والے ایک ادھ موئے سریے پر سے اس نے چھلانگ لگائی اور ان بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کی حیثیت کا اندازہ کرنے لگا۔ابھی اس کے اندازے کی مٹھیاں ان مخصوص اور بڑے لوگوں کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت ہی جٹارہی تھیں کہ اوپر والی جیب میں موجود فون پر ہمنگ کی دائرہ بناتی لہریں پیدا ہونے لگیں۔اس کے فیچر فون میں کانٹے جیسے نمبروں کے اوپر چکنی سکرین کا ایک گنجا اور ہلکا سبز سر تھا، جس پر نئے کلائنٹ کا نام ابھر رہا تھا۔اس وقت وہ کسی کا بھی فون ریسیو کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، اس نے فون کو جینز کی جیب میں ٹھونسا مگر اس کا وائبریشن بند نہیں کیا۔اسے وائبریشن کی آواز اورننھی سی گرج بہت پسند تھی۔

گھر پہنچا تو بیوی کھانا کھارہی تھی، اس نے ہاتھ منہ دھویا، لنگی پہنی اور بیوی کی بغل میں بیٹھ گیا۔بچہ پڑوس کے ایک گھر میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، دوپہر تھی اور دور دور تک شانتی اور چین کاراج تھا۔اس نے بیوی کے ہاتھ سے نوالہ کھایا اور بیوی کو نئے کیس کے بارے میں بتانے لگا۔یہ کیس ایک دیوالیہ ہو جانے والے رئیس کی طلاق شدہ بیوی کا تھا، رئیس کو اپنی مطلقہ بیوی میں بھی پتہ نہیں کیا دلچسپی تھی کہ وہ اس کے سارے ٹھور ٹھکانوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، مگر مشکل یہ تھی کہ اسے سب کچھ سمجھانا آسان نہ تھا، وہ اونچا سنتا تھا، اس لیے سامنے بیٹھ کر تو کسی نہ کسی طرح ہانپتے کانپتے اسے تفصیلات بتائی جاسکتی تھیں، شور اور دھول بھری سڑک پر ، فون پر چلا چلا کر سب بتانا مشکل تھا۔مگر عجیب قسم کا شکی تھا کہ خود سے الگ ہوجانے والی عورت کا بھی حساب رکھنا چاہتا تھا، بقول اس رئیس کے ، اس کے پاس اب چند لاکھ روپے کی ملکیت باقی رہ گئی تھی، سارا کاروبار تباہ ہوچکا تھا، عمر کے اس پڑاؤ پر تھا، جہاں پتہ نہیں کب دل کا دورہ طعمہ ہوس بن کر اس کی روح کو نگل لے ، مگر وہ باز آنا نہیں چاہتا تھا، پچھلی بار جب جاسوس نے اسے اس کی بیوی یا مطلقہ بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ اکیلی رہ رہی ہے اور کسی ایڈورٹزمنٹ ایجنسی میں کام کررہی ہے تو رئیس کے چہرے پر ایک چمک پیدا ہوگئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے شاید بمجبوری اپنی بیوی سے الگ ہونا پڑا ہوگا، یا پھر اسی عورت نے دیوالہ نکل جانے کے بعد طلاق لی ہوگی، ورنہ وہ آج بھی اپنی بیوی کے ذکر کی بوچھار میں بھیگ کر ہرا ہوجاتا تھا۔اس کے بوڑھے اور اکڑے ہوئے سخت گیر چہرے پر اپنی بیوی کا ذکر سنتے ہوئے بہت سی ملائم پرتیں جاگا کرتی تھیں، جن میں مختلف رنگ ہوتے تھے، کبھی غصہ، کبھی جھنجھلاہٹ، کبھی بے حد پیار اور ترحم کا جذبہ۔وہ چاہتا تھا کہ اس عورت کی کچھ مدد کی جائے، کسی طرح وہ اس کی زندگی میں واپس آجائے یا پھر اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کچھ رقم پہنچا سکے۔جاسوس نے ایک دفعہ کوشش کی تھی کہ رئیس کی دی ہوئی کچھ رقم اس کی بیوی تک ایک بچے کے ذریعے پہنچائی جائے مگر اس نے رئیس کا نام لفافے پر دیکھتے ہی وہ رقم بچے کو واپس لوٹادی تھی اور بہت ڈانٹا پھٹکارا بھی تھا۔رئیس یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ رقم کسی ایسے طریقے سے عورت تک پہنچے جس سے اسے پہنچانے والے کا نام نہ معلوم ہوسکے، وہ عشق میں بھی ایک کاروباری کے ذہن سے کام لے رہا تھا اور یہ توقع رکھتا تھا کہ عورت کبھی نہ کبھی پیسے کی چمکتی ہوئی ہتھیلی پر اپنا سونے جیسا گال رکھ دے گی۔اب تک اس کیس میں اسے تین ہزار روپے مل چکے تھے، باقی رقم کام ہوجانے کے بعد ملنی تھی۔بیوی نے پوچھا:

‘اب کیا کام باقی رہ گیا ہے، سب تو صاف ہوچکا ہے، بیوی اس بڈھے سے ملنا نہیں چاہتی۔اسے تو اس کے پیسوں میں بھی اب دلچسپی نہیں رہی۔’
‘ہاں بات تو سچ ہے، مگر بوڑھے رئیس کی پرابلم کچھ اور ہے؟’
‘کیا؟’
‘وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ چھٹی کے روز اس کی بیوی کیا کرتی ہے؟’
‘عجیب بے وقوف آدمی ہے، ایک عورت نے جب اسے چھوڑ دیا ہے تو اس سے فرق ہی کیا پڑے گا کہ وہ چھٹی یا کام کے دنوں میں کیا کرتی پھر رہی ہے؟’

جاسوس خود اس قصے کو پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا، مگر اس نے بیوی کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہمیں تو اس کام کو کرکے بقیہ سات ہزار روپے لینے ہیں، ہمارا اس بوڑھے کی رنگین دلچسپیوں سے کیا لینا دینا۔بیوی مطمئن ہوگئی ، مگر جاسوس اپنے اندر، بہت اندر غیر مطمئن تھا۔رات کے کسی پہر وہ اٹھا اور نہادھوکر باہر نکل گیا۔ آج اس نے اپنی آنکھوں پر لگانے کے لیے کالا چشمہ بھی نہیں لیا تھا۔وہ اس عورت کے گھر کے باہر جاکر ایک کھمبے سے ٹک کر کھڑا ہوگیا، رات کا وقت تھا، لوہے کی گریل اور ہلکے سانولے ، غیر شفاف کانچ میں سے چھلکتی ہوئی ڈم لائٹ کی روشنی دکھائی پڑرہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ ڈگ بھرتا ہوا عورت کے فلیٹ کی طرف چل پڑا، دوسری منزل پر پہنچنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے کچھ تیز چاپوں کی آواز آئی، چابی کا ایک گچھا جیسے ہوا میں لہرایا اور اس کی آواز نے جاسوس کے کانوں کے ٹنل سے ہوتے ہوئے چھٹی حس کے خانے میں دھم سے ایک ضرب لگائی، وہ اگلی منزل کی سیڑھیوں پر چڑھا اور دبک کر بیٹھ گیا۔ایک نسوانی وجود کا احساس اس اندھیرے میں موجود تھا۔دروازہ لاک کرنے کی آواز آئی اور عورت نیچے کی طرف اتر گئی، وہ اگلے چند منٹوں تک یونہی دبکا رہا۔انہی چند منٹو ںمیں اس نے ایک خیالاتی دنیا آباد کرلی۔اس دنیا میں اس نے دیکھا کہ عورت کے جاتے ہی وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا ہے، اچانک اس کا پھیلا ہوا بدہنگم پیٹ اندر کی طرف چلا گیا، سینہ ابھر آیا، رانوں کے پٹھوں میں نہ جانے کون سی مردانہ طاقت اتر آئی ہے، گال نکل آئے ہیں اور مضبوط مچھلیوں والے بازوؤں سے وہ گھر کی ایک ایک طاق اور دراز کو کھنگال رہا ہے، کاغذوں کے پلندے اتھل پتھل ہوچکے ہیں، باہر سے چھلک چھلک کر آنے والی روشنی میں اس کا پراسرار وجود کسی سرد ملک کے انگریز جاسوس کی طرح سائے جیسا دکھائی دے رہا ہے، دیکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس لیے جاسوس کی ہر حرکت احتیاط اور توجہ سے زیادہ ریاکاری کا تقاضا کررہی ہے۔ہوائی شیشے کھل گئے ہیں، روشنیاں بکھر گئی ہیں اور لیزر بیم کے جال سے بچتے بچاتے جب وہ ایک ایسے لاکر تک پہنچ گیا ہے، جہاں اس کہانی کا سب سے مخفی راز جاسوس کےتیز دماغ اور گرم ہاتھوں کی زیرکی سے بے خبر خاموشی کے دامن میں پڑا سورہا ہے، تو اچانک اس کے گردن پر ریوالرر کی سرد نوک سرسراہٹ پیدا کردیتی ہے۔مگر وہ سرد سرسراہٹ ایک گرم بوسے میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کی گردن پر زبان سے ایک جوان عورت گلابی رنگ کی گیلی لکیریں پیدا کرنے لگتی ہے، جاسوس آہستگی سے پلٹتا ہے ،یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں مزید روشن ہوجاتی ہیں کہ پچھلے روز ساڑی میں بس کا انتظار کرنے والی بوڑھے رئیس کی بیوی ، سٹریٹ بالوں اور مہنگے پرفیوم کی مہک کے ساتھ اپنےفیشیئل کرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے کھڑی ہے،اس نے سانسوں کی گرم دھاریوں میں جاسوس کی احتیاط زدہ آہوں کو لپیٹ لیا ہے اوراس کے حیرت سے کھل جانے والے ہونٹوں پر اپنے دائمی سرخ اورطلسمی ہونٹ رکھ دیے ہیں۔وہ ہر پرت کے ساتھ جاسوس کے اودے ہونٹوں پر اپنی لال لپ سٹک کی تھاپ جگاتی جارہی ہے اور وہ پھر لمحہ آتا ہے جب وہ جاسوس کی پینٹ کا بٹن کھول کر، اس کا لیدر جیکٹ اتار کر پلنگ پر اسےبستر کے ملائم دریا میں ڈوبنے کے لیے دھکا دے دیتی ہے۔

اس خیالاتی دنیا سے دھکیل دیے جانے کے بعد اتر کر اس نے پہلے دروازہ ٹٹولا، پھر اپنے موبائل فون میں موجود ٹارچ کی ننھی اور تیز روشنی میں دروازے کو دیکھا، اسے کھولنا ممکن نہیں تھا، اس نے آس پاس کوئی اوزار ٹٹولا، ایک چھوٹی سی پن اسے زمین پر پڑی دکھائی دی، اٹھاکر لاک کے پیٹ میں اس نے پن کا پتلا وجود اتار دیا، مگر کافی کوششوں کے بعد بھی لاک نہیں کھل سکابلکہ مصیبت یہ ہوئی کہ پن اس میں اتنی بری طرح اٹک گئی کہ اس کا باہر نکلنا دشوار ہوگیا۔زیادہ دیر تک ٹارچ جلانے کا مطلب تھا کہ آس پڑوس میں کسی کو بھی اس پر شک ہوسکتا تھا، اس نے ٹارچ بند کی اور پن کو جھنجھوڑنے لگا، مگر اس احتیاط سے کہ آواز نہ پیدا ہو اور اچانک جھٹ سے پن کا ایک ٹوٹا ہوا سرا اس کے ہاتھ میں آگیا۔اوپر کہیں کھڑکھڑاہٹ سی سنائی دی تو بوکھلاہٹ میں اس نے لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے بلڈنگ سے نیچے اترنا شروع کردیا، پسینہ اس کے ہاتھوں اور کنپٹی پر بہہ رہا تھا،نیچے اترا تو دو کتے بھونکتے ہوئے اس کی طرف بڑھے، وہ نہ چاہتے ہوئے ایک گلی میں بھاگنے لگا، مگر کچھ دور جانے کے بعد معلوم ہوا کہ گلی بند ہے، اس نے آس پاس موجود پتھروں کو اٹھانا چاہا مگر کتوں کی رفتار بہت تیز تھی، ابھی وہ جینز پر لگی بیلٹ کو کھولنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتوں نے اس کے پیروں پر حملہ بول دیا ، ایک کتے نے پنڈلی میں دانت گاڑے تو ہول سے اس کی چیخ نکل پڑی۔اس نے بوکھلاہٹ میں گلی کی دوسری طرف بھاگنا شروع کیا، پنڈلی سے خون بہہ رہا تھا اور درد بھی ہورہا تھا، مگر اس وقت ان کٹ کھنے کتوں سے خود کو بچانا بہت ضروری تھا، اسے لگا جیسے آج اس کے پیچھے بھی ایک مہیب موسیقانہ لہر دوڑ رہی ہے، کتوں کی آوازوں نے اپنی پوشاک تبدیل کی تو آس پاس کی اندھیرے میں اونگھ لگاتی بلڈنگیں بھی شطرنج کے مہروں میں بدل گئیں اور اسے لگا جیسے وہ ایک طویل ، لمبی بساط پر دوڑنے والا بے بس بادشاہ ہے، جسے وزیرکی گھات سے بچنے کے لیے جہاں تک ممکن ہو، خانے بدلتے جانا ہے۔

‘پھر ہر طرف اجالا ہوگیا، اتنا گھنا اجالا کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا، بس ایک دھاپ کی آواز سنائی دی، جس میں گونجتے ہوئے دو لبلبلے ڈرم جیسے ہوش کی ڈانڈیوں سے بے نیاز ہوجائیں۔بہت دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو ایک عورت اس کی پنڈلی پر پٹی باندھ رہی تھی۔

اور وہ عورت جاسوس کی بیوی تھی۔

Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام