Categories
شاعری

بے وطن عورت کا مارچ اور دیگر نظمیں – سدرہ سحر عمران

ہمارے شناختی کارڈ میں ولدیت کا خانہ نہیں ہے

آپ کے سونے جیسے ہاتھ سائیں
ہمارے ہونٹوں کی کالک سے
نیلے پڑ جاتے ہیں

آپ کے چاندی جیسے پیر سائیں
ہماری گناہ گارپیشانیوں سے
داغدار ہو گئے

آپ کے سفید سوٹ سائیں
ہمارے کفنوں کو خدا غارت کرے
ان کی برابری کا سوچتے ہیں

آپ کے اونچے شملے سائیں
ہمارے جھونپڑوں کا تاج ہیں

آپ کے حکم کے صدقے سائیں
ہماری نمازیں
پچھلی صفوں میں مری پڑی ہیں

آپ کی اوطاق سائیں
ہماری اوقات کا پیمائشی فیتہ ہے

آپ کی مسہریاں سائیں
ہماری عورتوں کی گندمی مہک سے
بھری ہوئی ہیں

آپ کے مزار سائیں
ہمارے جسم کے چراغوں سے
روشن رہتے ہیں

آپ کا حسب نسب سائیں
شاہوں اور سیدوں کی لڑیوں کا
سنہری پھول

اور ۔۔
ہم سائیں
آپ کی پاک زمینوں پر بندھے ہوئے
حرام زادے۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عورت ایک ایبسٹریکٹ پینٹگ ہے

عورت کی ہنسی کے سو رنگ ہوتے ہیں
اور آنسوؤں کا ایک بھی نہیں
عورت کی آنکھیں
کسی بادشاہ کے محل کی بارہ دری جیسی ہیں
ایک دروازے سے کئی دروازے نکلتے ہیں
(یا پھر کئی مرد)
جیسے ایک ٹہنی سے کئی پھول
عورت کی محبت بھی
کسی مرد کی محبت جیسی ہے
اتنی ہی شدید، پوزیسو اور بے وفا
مرد عورت کے بارے میں
اپنے پیروں سے سوچتا ہے
عورت مرد کے بارے میں
اپنی بے زبانی سے
بھلا کوئی رات کے کاغذ پر اپنے آپ کو
بارش جیسی باتیں لکھ کر روتا ہے
ہاں ۔۔ ایک عورت
خود سے محبت کے دنوں میں
خودکشی پر نظمیں لکھتا ہے
ہاں۔۔۔عورت
کوئی خوشبودار لکڑی سے گڑیا بنا کر
اسے ماچس سے بیاہتا ہے
ہاں۔۔
ایک عورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قبر ہمارا قومی پھول ہے

کیا تمہیں ایک ایسا ملک چاہئے تھا؟
جس پر اپنے جوتے صاف کرنے کے بعد
تم ایک خوب صورت چھٹی منا سکتے
اپنی محبوبہ کے ہونٹوں سے سرخ رنگ چنتے ہوئے
تمہیں کبھی وہ پھول یاد آئے ہیں
جو ایک نابالغ ماں کی قبر تک نہیں پہنچے
تم نے 5 فروری کا کاغذ پھاڑ کر
اپنے بیٹے کے لئے جہاز بنایا
اور ہمارے لئے ایک جھنجھنا
تمہاری آواز بہت بد صورت ہے
بالکل کسی زنجیر کی طرح
جب بھی گلیوں سے بھونکنے کی آواز آتی ہے
ہم مسجدوں میں اعلان کرتے ہیں
کہ۔۔۔ ہما ری بیٹیاں مر گئیں
ہماری مائیں اپنے دوپٹے پھاڑ کر
دروازے اور کھڑکیاں بناتی ہیں
ہمارے باپ دادا ایسے تہہ خانے
جہاں حرام زادوں کی قلقاریاں
تھوکی نہ جاسکیں!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بایاں ہاتھ اور ماچس کا گیت

فساد فی الارض کا اعلان ہوتے ہی
ترازو والوں نے ایک پلڑے میں
ذلت۔۔
اور دوسرے میں خود کو رکھا
ان کا پلڑا جھک گیا
یہ بائیں ہاتھ والے ہیں

زمین نے اپنا گریبان پھاڑ ڈالا
اور سیاہ چہروں والے
ایک ایک کفن کا حساب دیتے
پہاڑ کے مانند ریزہ ریزہ ہو گئے
یہ دوزخ خریدنے والے ہیں

جب تابوتوں پر جوتے برسائے جارہے تھے
قیامت اپنے آپ میں غرق ہو گئی
آنسو ۔۔ بہت سارے آنسو
خدا کے پیروں سے لپٹ گئے
جیسے ٹانگ سے محرومی کے بعد
ہاتھ میں بیساکھی آ جاتی ہے
ایسے رحم کے چھن جانے پر
آگ کے پاؤں دیے جاتے ہیں
یہ آگ والے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں تمہاری آواز کی تصویر کھینچ سکتا ہوں؟

میں اپنی کلہاڑی کے دستے سے
تمہارے لئے
ایک بنسری بنانا چاہوں گا
تم وہ سارے پہاڑی گیت
اونچی حویلی کی خوابگاہ سے
باہر انڈیل دینا
جو تمہاری ریشمی آواز کو
دیمک کی طرح چاٹ گئے

میں اپنے ڈول سے تمہارے لئے
ایک کشتی بنانا چاہوں گا
تم اپنی سبز آنکھوں میں بہہ کر
کسی دروازے کو اپنا رازداں بنا لینا
میں دریا کی چوکھٹ پر
تمہارا منتظر رہوں گا

میں جولاہا ہوں
تمہارے لئے وطن کا ایک ٹکڑا
کاشت نہیں کر سکتا
تمہیں میری زمین پر رہنا ہوگا
کسی درخت،پھول
یا پھر کسی پہاڑ کا حصہ بن کر

میں تمہارے لئے
اپنی سانسیں ادھیڑ کر
ایک چراغ بُننا چاہوں گا
جس کی حدت سے
تمہارے ہونٹوں کے سرد پتھر
آگ ہو جائیں
اور میں۔۔۔
تمہاری آواز کا ریشم چرا سکوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(1)

۔۔۔۔
کوئی رنگ سفیدی کے علاوہ؟
پانی ۔۔ آنسوؤں کے سوا
سرخی ۔۔۔ لہو سے الگ تھلگ
چوڑیاں ۔۔۔ جن میں بیڑیوں سی کھنک نہ ہو
پازیبیں ۔۔ جن کی صورت زنجیروں سے علیحدہ
ایک آزادی میرے کاجل کے لئے
ایک نعرہ میری زندگی کے لئے
ایک دیوار ایسی ہو
جس پر میری مرضی کی سانسیں ٹنگی ہوں
کوئی ایسی زمین
جس پرمیں اپنی مرضی کا وقت کاشت کر سکوں
میرے لیے کوئی بینر
جس پر میرے وطن کا نقشہ ہو
کوئی سڑک
جو میرے ملک کو جاتی ہو
اور راستے میں کوئی قبرستان نہ پڑے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(2)

میرے بیٹے
کچھ دیر کے لئے
کیا تو مرنا موخر نہیں کرسکتا تھا
کرتے کا آخری بٹن ٹانکنا باقی تھا
ایسی بھی کیا ناراضی
تو بغیر بٹنوں والا ان سلا لباس پہن کر آگیا
ارے اس میں تو کوئی جیب بھی نہیں ہے
میں یہ چاروں قل والا تعویذ کہاں رکھوں
تیری حفاظت کے لئے جو پانی دم کیا تھا
تیرا باپ بالٹی میں انڈیل کر لے گیا
بیری کے پتے
اور وہ تختہ
جس پر بیٹھ کر تو آزادی کے نعرے لکھا کرتا تھا
میرے لعل
ذرا ٹھہر میں طاق میں سے عطر اٹھا لاؤں
یہ کافور بھی کوئی لگانے کی چیز ہے
دیکھ باورچی خانے میں چولہا جل رہا ہے
کہیں میری سانسیں تو نہیں جل رہیں
یہ میرا دوپٹہ بھیگتا کیوں جارہا ہے
میرے چاند
تیرے ماتھے پر سرخ پھول کھلا ہوا ہے
مجھے اس کی خوشبو سونگھنے دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(3)

مٹی خارش کی طرح
میرے جسم سے چمٹی ہوئی ہے
آزادی کی سرخ چیونٹیاں
میری آنکھوں میں بل بناتے ہوئے
آٹے کی بوریوں پر نعرے لکھتی ہیں
“ایک عورت کے بدلے ،وطن کی ایک اینٹ”
نہیں، نہیں
وطن عورتوں کا متبادل نہیں ہوتے
عورتیں تو غنمیت کی لاٹھیوں سے ہانک کر
کتوں کی شکار گاہ میں لائی جاتی ہیں
اور بدن سونگھنے والے
مٹی کو کھجلی میں بدل دیتے ہیں
دوسری عورتوں کو
سورہ نور والے مرد ملتے ہیں
اور ہمیں
خارش زدہ کتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(4)

میں زوجہ فلاں ابن فلاں
تمہاری وردیوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
میرا خاوند
تمہارے بوٹوں کے نیچے آ کر مر گیا
لیکن میں اس کا جنازہ لینے سے انکاری ہوں
نکاح نامے سے بیوگی کاخانہ پھاڑ کر
میں تمہاری لئے پھانسی کا پھندہ بناؤں گی
یہ میرا بیٹا ایک درخت ہے
اس کی لکڑی ایک دن تختہ دار میں بدل جائے گی
اور میں تمہاری وردیوں سے
اپنے خاوند کے پھٹے پرانے جوتے صاف کرتے ہوئے
تمہاری ماں بہنوں کو گالیوں جیسی بددعائیں دوں گی
میں زوجہ فلاں شہید ابن شہیدابن شہید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ

بجھاؤ۔۔یہ موم بتیاں
اور اس آگ سے اپنے چولہے آباد کرو
اٹھاؤ! ۔۔۔ پھولوں کی چادریں
اور اپنے بدن کی نالیاں ڈھانپ لو
سمیٹو!۔۔۔ خیرات کی تھالیاں
بھوک کے رنگوں سے جسم کی دیواروں پر
عزت کی روٹیاں پینٹ کرو
پھینکو!۔۔پیروں سے سلی ہوئی قمیضیں
اپنی برہنگی پر رقص کرو
ناچو!۔۔۔موت کی مسجدوں میں
جھومو!۔۔۔کلیسا کے سرد خانوں میں
گاؤ۔۔۔مندروں کے اسٹریچرز پر
خدا کے گیت
موت کے قفل توڑ کر
پھلانگو ۔۔ زندگی کی دیواریں
اپنی زبانوں سے پرچم بناؤ
اپنی آوازوں سے ایک سمندر
جو ان ساری مچھلیوں کو پھاڑ کھائے
جو تمہارے یونس نگل گئیں

Categories
شاعری

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے
روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے
یہ پرندے کون ہیں
ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں
ہوا کو موت
یہ پتے ہمارے آنسو ہیں
ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ
تمہارے لہجے کی طرح
نیلا کیوں ہے؟
ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے
ہم دیواروں میں آنکھیں لپیٹ کے سوتے ہیں

ہم نے پھولوں کو جنازہ گاہوں سے پہچانا
بارشوں کو اپنی آنکھوں سے
جس رات ہماری باتوں میں کم نمک ہوتا ہے
ہم سوکھی لکڑیوں پر
اپنے دن پینٹ کرتے ہیں
دیکھو ہمارے خواب سوکھ گئے
اب ہمارے لئے
بغیر کھڑکیوں والے مکان پیدا کرو
Image: Yves Tanguy

Categories
شاعری

مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

برف باری کاشت کرنے کے موسم میں
ہم نے آگ سے بوریاں بنا ئیں
ہماری آنکھیں کلہاڑی سے زیادہ تیز
اور درختوں سے زیادہ سایہ دار نکلیں
تم مجسمے کی طرح باغ میں کھڑے تھے
میں نے سورج کے آنے سے پہلے
پرندے آزاد کر دیئے
تم آسمان کی پرتوں میں چھپ گئے
سورج تمہیں رات کے نام سے پکارتا رہا
دیکھو۔۔۔ گھنگرو ہوا کے پیر سے پھسل چکے
اور میری آوارگی مجھے راس آ گئی
میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں

Image: Gabriel Isak

Categories
شاعری

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہم وہ روشن دان تھے جن سے
ہوائیں بے دخل کر دی گئیں
ہم نے خود کو جوڑ توڑ کر آسمان بنایا
اور اپنی مرضی کا سورج ٹانک دیا
ہم نے رات بھر جاگ کر پتھر جیسی آنکھوں سے
ستارے کُوٹے
قلعے بنائے ۔۔۔۔
اور خود کو قید کر لیا
ہم نے اونچے میناروں پر خدا سے چغل خوریاں کیں
زندگی پرفحش نگاری کا بہتان لگایا
اور موت پر جھوٹا الزام لگا کر اسے زنداں میں ڈال دیا
زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ ۔۔۔

Categories
شاعری

دل سے اتری ہوئی نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دل سے اتری ہوئی نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

تمہارے حصے کی عورت
میرے گملوں سے پھول نہیں توڑ سکتی
اور میرے حصے کا مرد
تمہاری شاخوں سے وہ باغ نہیں بنا سکتا
جہاں پہلی بار بھولنا سکھانا گیا تھا
ہم ایک دوسرے کی زندگی کا سیاہ باب ہیں
مجھے جہیز میں تابوت دیا گیا
اور تم نے بہت ساری کیلیں خرید لیں
آ خری کیل دیکھو
اس پہ میرا نام لکھا ہو گا

 

میرا مرد اس ٹیلی فون کی طرح خاموش ہے
جس کا نمبر کسی کو نہیں دیا گیا
لیکن وہ ہر ماہ بل کی ادا ئیگی کے لئے
اپنی چیزیں بیچ دیتا ہے
اس کے پاس اب ایک گھڑی کے سوا کچھ نہیں ہے

 

میں نے اس کے جوتوں کے تلووں میں وہ کیل

 

ٹھونک دیئے
جو مجھے تمہاری جیب سے ملے تھے
تمہاری عورت مجھ سے ملنے آئے گی
تو میں یہ گھڑی اس کو دے دوں گی
لیکن۔۔۔۔
تم اسے اپنی کلائی میں نہیں باندھ سکو گے
کیونکہ تمہاری عورت اسے راستے میں
پھینک جائے گی
اور وقت ہماری زندگی سے نکل جائے گا !

Image: Eric Petersen
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب گہری کھائیوں سے کسی کے چیخنے کی
آواز آتی ہے
ہم ہتھیلی پہ ایمبولینیس بناتے ہیں
بے ساکھیاں اونچے نیچے رستوں پر
جھک کر چلتی ہیں
تو بادل ہمارا ہاتھ پکڑ کر بھاگنے لگتے ہیں
پہاڑ ہمیں ایسے کیوں گھورتے ہیں
جیسے ان کے پاؤں میں زنجیریں ہم نے ڈالی ہوں
کوئی ہمارے کانوں پہ پردہ بھی تو ڈال سکتا ہے
کیا ضروری ہے ۔۔۔۔
کہ
ہمارے جسم کونوں کھدروں میں ڈال کر
موت کے گیت گائے جائیں
ہم بہرے بھی تو ہو سکتے تھے !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

پچھلی گلی کا دروازہ

شام سے ہی اچھا خاصا سناٹا درودیوار سے لپٹا تھا۔ اس گھر میں تھا ہی کیا وحشت اور تنہائی کے سوا۔ سارا دن ویرانی کا مرگھلا پرند مکان کی چھت سے الٹا لٹکا کریہہ آوازوں میں ہیبت نا ک کلمے پڑھتے رہتا تھا۔ وہ کافی دیر سے ذہن کے اندرو نی حصے میں روشن خیالا ت کے عکس کو آنکھوں کی تاریک اسکرین پر دیکھ رہا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس کئی چہرے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے اور وہ ایک کھمبے کے پیچھے چھپ کر افراتفری کے عالم کو دیکھ رہا تھا۔ کتنی ہی دیر تک تو اسے سمجھ ہی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔اور جب اس کے حواس قدرے بیدار ہوئے اس نے ذہن پہ زور دینا شروع کیا۔وہ ان چہروں کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ شاید وہ راستہ بھول کر کسی اور بستی میں آ گیا تھا۔ لیکن وہ گھر سے کس کام کے لئے نکلا تھا۔ اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ دم سادھے لیٹا اپنے خواب کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر تا رہا۔ پھر اکتا کر اس نے خود کو آزاد چھوڑ دیا۔ معاً اس کی سماعت میں پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سرسرانے لگی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کئی سانپ ایک ساتھ پھنکار رہے ہوں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔ حبس زدہ فضا میں عجیب سی باس تھی اس نے نتھنے سکیڑ کر خوشبو سونگھنے کی کوشش کی تو اسے چھینک آ گئی۔ایک جھنجھناہٹ نے بدن کو چیر دیا تھا۔ اس کے منہ میں خشک مٹی کا ذائقہ گھلنے لگا تو اس نے بائیں طرف تھوکنے کی کوشش کی۔مگر سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ اس سے بالکل بھی ہلا نہیں گیا۔ سر تک چادر اوڑھے ہوئے وہ نیم غنو د کیفیت میں تھا۔ دفعتاً اسے لگا کہ کوئی اس کا شانہ ہلا رہا ہے۔ اس کی آنکھ کھل گئی تھی مگر اس نے خود کو سوتا ظاہر کیا۔ وہ مزید کچھ دیر سونا چاہتا تھا مگر جب اسے زبردستی اٹھا دیا گیا تو وہ بارہ بجاتی شکل کے ساتھ اس گستاخ کو کوسنے لگا جس نے اسے پھر بے آرامی کے برزخ میں دھکیل دیا تھا۔ آج مدت بعد تو سکھ چین کی نیند آئی تھی۔ گو کہ کرنے کو بہت سارے کام باقی تھے۔ کام کیا زندگی کے جھنجھٹ کہئے۔۔۔جو ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس کی ملوکیت میں آ چکے تھے۔ پہلے تو اپنے جی کا جنجال تھا اب پانچ جانیں مزید ساتھ تھیں۔اس کی کرخت انگلیاں تو اسی جمع توڑ میں لگی رہتی تھیں۔ مکان کا کرا یہ، بجلی، گیس کا بل، بچوں کی فیسیس، گھریلو اخراجات اور پھر کچھ عرصے بعد بڑی بیٹی کی شادی بھی طے تھی۔ گو اس کی نیک بخت شریک حیات نے کافی کچھ جوڑ رکھا تھا مگر پھر بھی سو بکھیڑے تھے۔اس نے اپنی ماں سے مکان کے حصے کی بات کی جو اس کے بھائی کے زیر استعمال تھا۔ پہلے سب اکھٹے رہتے تھے مگر پھر چھ کمروں کا مکان چھوٹا پڑنے لگا تو اسی نے قربانی دی اور کرائے کے مکان میں آ پڑا۔پانچ سال ہو گئے تھے اسے مختلف مکانوں میں دھکے کھا ؎تے۔ چھوٹے بھائی نے الگ ہو نے کے بعد نیا کا روبار شروع کیا تو اسے خاطر خواہ فائدہ ہوا اور اب تو اس نے کئی پلاٹ بھی لے لئے تھے اس لئے جب ماں اور بھائی کو احساس نہ ہوا تو اس نے خود ہی منہ سے کہہ دیا۔ماں تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی اور بکتی جھکتی چھوٹے کے ہاں چلی گئی تھی۔

 

“میرے جیتے جی اس گھر کا بٹوارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر میرا وجود کھٹکتا ہے تو زہر دے دو تم دونوں میاں بیوی مجھے ” وہ شدید غصے میں کا نپنے لگی تھی۔اس کی بیوی نے تو کبھی ضرورت سے زیادہ مانگا تھا نہ وہ چا در سے پاؤں با ہر نکا لنے کی قا ئل تھی پھر بھی اس کی ماں کو لگتا وہی اس کے بیٹے کو پٹیاں پڑھاتی رہتی ہے۔ اس کا دل برا ہو گیا تھا۔ ماں رو ٹھ کر چلی گئی اور کچھ دیر بعد ما لک مکا ن کا لڑ کا کرا یہ لینے آیا تو اس کا دل مزید افسردہ ہو گیا۔

 

“بیٹا ! ابا سے کہو اگلے مہینے اکھٹا دے دوں گا دونوں مہینوں کا ” اس نے بے چارگی کی انگلی تھام کر کہا۔

 

“ک ئی نہیں چاچا۔ابا نے کہا تھا کرایہ ضرور ہی لے کے آئیو۔ اسٹور والے کا حسا ب چکتا کرنا ہے۔” بد لحاظ سا نوجوان اکھڑ پن سے بولا۔

 

“اچھا۔۔میں کل ان کی خدمت میں حا ضر ہو تا ہوں” وقتی طور پہ یہی عذر ذہن میں آیا تھا۔ لڑکا تو چلا گیا۔وہ کمرے میں آ کر حساب کتاب کرنے لگا۔ اس کی بیٹی اس سے کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔ اس نے گھڑی کی بدرنگ سوئیوں پہ وقت شمار کیا تو رات کے نو بجنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔ اور طبیعت اس قدر مکدر تھی کہ رہی سہی بھوک پیاس بھی اڑ چکی تھی۔

 

“ابھی بھو ک نہیں ہے بیٹا۔۔۔ بعد میں کھا لوں گا” اس نے نر می سے کہا۔

 

“جی اچھا۔۔۔ امی نے بھی نہیں کھایا کہتیں بھو ک نہیں ہے۔ آج کسی کو بھی بھو ک نہیں لگی ابا۔۔ “

 

“تم لو گوں نے کھا لیا؟” اس نے چا روں بچوں کے متعلق پو چھا۔
“نہیں ابا۔۔۔سب نے منع کر دیا۔ میں نے اتنے شوق سے بگھا رے بیگن بنائے تھے۔ دا دی اماں نے فرما ئش کی تھی اب وہ تو خفا ہو کر چلی گئیں۔ کسی اور نے بھی نہیں کھائے۔”

 

“چلو کھا نا لگا ؤ۔۔۔سب مل کے کھا تے ہیں۔” اس نے اپنی پریشا نی کا تھیلا اٹھا کر الما ری میں رکھا۔جن بچوں کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا ان کے ملول چہرے دیکھ کر اسے دکھ تو ہوا مگر خود پر زبردستی بشاشت طاری کرتے ہوئے وہ خوش گپیوں میں مصروف ہو گیا تھا۔

 

اور اگلی صبح طمانیت کی نرم کرنیں لئے طلو ع ہو ئی تھی۔ وہ دفتر سے گھر آ یا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ وہ بھیڑ چیر کربد حواسی کے عا لم میں اندر آیا تو اس کی بیوی بچے، بہن بھا ئی، ماں، بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے، بھانجیاں، عزیز و اقربا سب ہی جمع تھے۔درمیان میں رکھی چارپا ئی پہ سفید چادر اوڑھے وہ کون تھا؟

 

اسے دھچکا لگا۔ وہ حیرت سے آنکھیں ملتا آ گے بڑھا تو سب سے پہلے اسے اپنی بیوی کا چہرہ دکھائی دیا۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔ بکھرے بال، ٹوٹی چوڑیاں، سوجی آنکھیں۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر اسے اس پہ بے تحاشہ ترس آیا۔وہ اسے دلاسہ دینے کے لئے آگے بڑھنا چا ہتا تھا مگر اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹیاں سر جھکائے سسکیاں بھر رہی تھیں۔وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔رشتے دار خواتین میں سب سے زیادہ بلند آواز اس کی ماں کی تھی وہ ہاتھ پھیلا پھیلا کر بین کر رہی تھی۔پچھا ڑیں کھا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اس کے لبوں پر تمسخرانہ مسکرا ہٹ بکھر گئی۔ اسے وہ سوانگ بھرے کردار کسی ڈاکیومنٹری کا حصہ لگے۔ وہ ان کی ادا کاری پہ جی بھر کر داد دینا چاہتا تھا مگر اس کی طرف کوئی دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو پکارنے کی کوشش کی تو اس کے حلق سے عجیب سی غر غراہٹ نکلی جسے سن کر وہ خود بھی حیران ہو گیا۔ حلق میں انگلی ڈا ل کر اس نے پھنسے ہوئے لفظوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس کی زبان تا لو سے چپکی ہوئی تھی جیسے کسی نے اسے ایلفی سے چپکا دیا ہو۔ وہ گردن لٹکائے الٹے قدموں پیچھے کھسکنے لگا۔اسے اس بھر ے مجمع میں کسی سے دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ پا نچ مہرباں اور جانے پہچانے چہرے جو اس کے اپنے چہرے تھے۔اس کے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔وہ انہیں ایک بار سینے سے لگا کر محسوس کرنا چاہتا تھا۔مگر شاید دیر ہو چکی تھی۔اس کی بیوی کی چو ڑیاں دور تک بکھری ہو ئی تھی۔بیو گی کی سفید چا در اس کے ما تھے تک آئی ہوئی تھی تاہم وہ خود بے بس ہو چکا تھا۔اس نے رو تے، پیٹتے، کرلا تے مجمع پر ایک طا ئرا نہ نگاہ ڈالی اور پچھلی گلی میں کھلتے دروازے سے نکل کر اپنی قبر میں جا کر ساکت لیٹ گیا۔ وہ گہری نیند سو جانا چاہتا تھا۔ایک پرسکون اور طویل نیند۔۔ اب تو اسے روزِ محشر تک کسی نے بیدار کر نے نہیں آنا تھا۔

Image: Joanna Kuhling

Categories
شاعری

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

[/vc_column_text][vc_column_text]

خشک ٹہنیوں پہ سبز موسم طلوع ہو سکتا ہے
اس زندگی کی آ خری لگام کھینچتے تک
جس کی ہنہناہٹ میں سمندر خود کشی کے بارے میں سو چا کرتا تھا
لوگ ہمارے دریا اپنی مٹھیوں سے پھسلنے نہیں دیتے
ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے
جب پیاس بدن کی کھونٹیو ں سے اتار لی جائے گی
ایک نیا جہنم ہمیں خوش آمدید کہے گا
اور ۔۔۔۔ہم
پانی ذخیرہ کرنے کے جرم میں
خدا کی ساری بارشیں خود پر حرام کر لیں گے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گونگے درختوں کے گائے ہوئے گیت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گونگے درختوں کے گائے ہوئے گیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

خواب گلہریوں کی طرح
ان درختوں کی چھال چبا تے رہے
جنہیں ہماری جگہ اگایا گیا

 

ہم نے پتوں کا رنگ
اپنی قومیت کے خانے میں بھرنے سے پہلے
سرخ پرچم خریدے
اور چالیس راتیں قربان کیں

 

جڑیں ہمارے پیرو ں میں پہنائی گئی ہیں
ہم اپنے علاوہ
اب کہیں اور نہیں جا سکتے
شہر اور گاؤں کی تصویریں جمع کرتے کرتے
ساری تتلیاں بوڑھی ہو گئیں
بچے رسالوں میں خوبصورت اور جوان)
لڑکیاں ڈھو نڈتے ہیں)

 

خشک لکیروں والے پتے
جھگڑالو ہواﺅں کے بال نوچتے ہیں
تو تتلیاں پیروں میں گھنگھرو باندھ لیتی ہیں
لیکن۔۔۔۔ ہم مقامی گیت نہیں گا سکتے
ہمیں اس زبان سے بے دخل کر دیا گیا
جو درختوں کی قومی زبان تھی !!

Image: Vladimir Kush
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

تم عورت سے باہر نہیں آ سکتے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تم عورت سے باہر نہیں آ سکتے

[/vc_column_text][vc_column_text]

تمہاری آنکھیں سنبھال سکتی ہیں
دنیا بھر کی بے لباسی
اور۔۔۔ تمہارے ہاتھ کی لکیریں منسوب ہو سکتی ہیں
فحش اشارے والی بالکونیوں سے
تم اپنے جسم کے مسئلے پر
خدا سے دوبارہ مذاکرات کر سکتے ہو
کاش
ثواب کے معنوں میں
کثرت سے استعمال ہونے والے
مرد
ان جملوں میں برتے جا سکیں
جن کی معنی خیزی نے
تمہاری آ نکھیں ٹیڑھی
اور۔۔۔ زبان لذت سے دوہری کر دی ہے

Image: Sarah Charlesworth
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وہیل چیئرز پہ چلتے ہوئے مکان

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہیل چیئر زپہ چلتے ہو ئے مکان

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاہی دربار میں جوتے اتارنے سے پہلے
جان، مال اور عزت کی تختیاں
اتار لی جا تی ہیں ہماری گردنوں سے ۔۔۔
اور۔۔۔۔ ہمارے مکانوں کے نقشے پھاڑ کر
باندھ دئے جاتے
ہیں ان زخموں پر
جو حادثو ں کے خوف سے
گہرے ہو گئے

 

بُھربھرے ہو کر بہہ گئے جن کے کنارے
ان پانیوں کے ساتھ
سی دی گئی ہیں ہماری کشتیا ں
ڈال دی گئی ہے
تیزاب
ہمارے گھر کی بنیادوں میں
اور۔۔۔ جھلسی ہوئی اینٹیں ادھیڑ کر
بُنا گیا ہے
ایک نارنجی راستہ

 

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]