Categories
شاعری

جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
ماں کی نظروں سے مجبور
اٹھا کر نہیں کھائے گی
آپ کے ہاتھوں سے گرے
چپس کے ٹکڑے

پیار کرتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
عزت سے مجبور
آپ کے تقاضوں پر
چھوڑ دے گی آپ کو
ہمیشہ کے لیے

اچھی بیوی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
بچوں سے مجبور
چھین لے گی واپس آپ سے
اپنے چرائے ہوئے پیسے

دعائیں دیتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
خودداری سے مجبور
چلی جائے گی
آپ کے گھر سے
فٹ پاتھوں پر رہنے

ٹھیک لگتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
کمر درد سے مجبور
اٹھا کر دے دیجئے
زمین پر پڑے
بھیک کے پیسے

Categories
شاعری

کاری

جس نے میرے کان میں پگھلا سیسہ ڈالا
بہرا تھا
جس نے میری آنکھیں پھوڑیں خنجر سے
نابینا تھا
جس نے میرے چلتے پاؤں کاٹے تھے
وہ لنگڑا تھا
جس نے میرے ہونٹ سیۓ تھے کانٹوں سے
وہ گونگا تھا
جس نے خدوخال مٹائے میرے
وہ بے چہرہ تھا
جس نے میری سانسیں مجھ سے چھینی تھیں
وہ مردہ تھا

اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
اپنے ہی پاؤں پہ اٹھ کر
چل پڑنے کی ہمت بھی
اپنی بات سنانے کو
یہ گویائی کی طاقت بھی
اپنے دل کی چاہت بھی ہے
اپنے نام کی عزت بھی
سوچوں کا سندیسہ لاتی
جاں افروز بشارت بھی!

Image: Farah Mahmood Adnan

Categories
شاعری

میں پھر اٹھوں گی

[blockquote style=”3″]

مایا اینجلو ایک سیاہ فام شاعرہ ہیں جوصیغہ واحد متکلم میں بات کرتی ہیں لیکن سیاہ فام عورت کی اجتماعی آواز بن جاتی ہیں جو غلامی سے نجات پانے، زندگی میں حق حاصل کرنے اور باوقار مقام پانے کی خواہش رکھتی ہے۔ مایا نے ساری زندگی عورت کی تانیثیت کی جنگ لڑی۔ وہ بےک وقت سیاہ فارم عورت اور پوری دنیا کی اُس عورت کی نمائندگی کرتی ہیں جو مرد معاشرے میں ایک دوسرے درجے کی جنس تصور کی جاتی ہے۔”میں اٹھوں گی“ مایاکی وہ نظم ہے جو ان کے پختہ عزم کا احاطہ کرتی ہے جس میں مایا کی زندگی کے کچھ سوانحی(Autobiographical) نقوش بھی جلوہ گر ہیں

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں پھر اٹھوں گی

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا اینجلو
مترجم: رابعہ وحید

 

تم تاریخ میں میراذکر کر سکتے ہو
اپنے تلخ اور من گھڑت جھوٹے انداز میں
تم مجھے مٹی میں رَول سکتے ہو
لیکن اسی مٹی سے میں ایک بار پھر اٹھوں گی

 

کیا میری حد سے بڑھی پُر اعتمادی تمہیں پریشان کرتی ہے؟
تم کیوں مایوسی سے بھرے ہوئے ہو!
کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں
کہ میں یوں چلتی ہوں جیسے میں نے
تیل کے کنویں حاصل کر لیے ہوں
جو میرے رہائشی کمرے سے نکل رہے ہوں

 

بالکل چاند اور سورج کی طرح
لہروں کے یقین کے ساتھ
بالکل اُن امیدوں کی طرح
جو بہت اونچی اڑانیں بھر رہی ہیں
میں بھی اڑان بھروں گی

 

کیا تم مجھے شکست خوردہ دیکھنا چاہتے تھے؟
خمیدہ سر اورجھکی آنکھوں کے ساتھ
آنسوﺅں کے قطروں کی طرح، بے حوصلہ کاندھوں کے ساتھ
اپنی روح میں بھری ہوئی چیخوں سے کمزور ہوتا ہُوا

 

کیا میرا پُر اعتماد رویہ تمہیں غصہ دلاتا ہے؟
کیا یہ تمہارے لیے ایک انتباہ نہیں
کیوں کہ میں اس طرح ہنستی ہوں
جیسے میں نے سونے کی کانیں حاصل کر لی ہوں
جو میرے(گھر کے) پچھلے صحن میں کھودی جا رہی ہیں

 

تم چاہو تو مجھے اپنے لفظوں (کی کرواہٹ) سے مار دو
تم مجھے اپنی نظروں سے زخمی کر دو
تم مجھے اپنی نفرت سے قتل کر دو
لیکن اس سب کے باوجود میں ہوا کی طرح اڑان بھروں گی

 

کیا تم میری جنسی خواہش سے مضطرب ہوتے ہو؟
کیا یہ بات تمھارے لےے باعثِ حیرت ہے؟
کہ میں اس طرح رقص کرتی ہوں جیسے میں نے ہیرے جواہرات پا لیے ہوں
عین اُس مقام پر جہاں میرا چست پاجامہ(آپس میں) ملتا ہے

 

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے

 

خوف اور دہشت کی سیاہ راتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے
میں اڑان بھروں گی
دن کی پہلی کرن بن کر
جو حیران کن حد تک واضح اور چمک دار ہوتی ہے
میں اٹھوں گی
وہ تحائف لے کر جو میرے آباﺅ اجداد نے دیے
میں ایک غلام کی اُمید اور اُس کا خواب ہوں
میں اڑان بھروں گی
میں اٹھوں گی
میں اٹھوں گی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]