Categories
شاعری

تنہا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تنہا

[/vc_column_text][vc_column_text]

مایا اینجلو
ترجمہ: رابعہ وحید

 

پچھلی رات میں لیٹی سوچ کے تانے بانے بنتی رہی
کہ میں اپنی روح کے لیے کس طرح ایک گھرتلاش کروں
جہاں پانی کی پیاس نہ ہو
اور روٹی کا پھلکا پتھر جیسا سخت نہ ہو
میں اس نتیجہ پر پہنچی
اور میں تذبذب کا شکار ہوں کہ میں غلط نہیں
کہ کوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس گھر کاسُراغ نہیں لگا سکتا

 

تنہا، بالکل تن تنہاکوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا

 

دنیا میں ایسے کروڑ پتی لوگ بھی ہیں
جو دولت رکھتے ہیں لیکن استعمال نہیں کرتے
ان کی بیویاں بھاگتی پھرتی ہیں
اُن روحوں کی طرح
جو قریب آتی ہوئی موت سے متنبہ کرتے ہوئے ماتم کر رہی ہیں
جن کے بچے اداسی بھرے گیت گاتے ہیں
جن کے پاس مہنگے ڈاکٹروں کی سہولت ہے
اپنے پتھر جیسے دلوں کا علاج کرانے کے لیے
لیکن کوئی شخص
نہیں نہیں بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے ، تنہا اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا
تنہا بالکل تنہا
کوئی شخص بھی نہیں
بلکہ کوئی بھی نہیں
اکیلے اس کا حل ڈھونڈ سکتا

 

اب اگر تم توجہ سے میری بات سنو
تو میں تمہیں وہ کچھ بتاﺅں گی جو میں جانتی ہوں
طوفانی کیفیات سے بادل اکٹھے ہو رہے ہیں
ہوا چلنا ہی چاہتی ہے
نسلِ انسانی ایک کرب سے گزر رہی ہے
اور میں یہ کراہیں سُن سکتی ہوں
کیوں کہ کوئی شخص نہیں
بلکہ کوئی بھی شخص
تنہا اس کا حل ڈھونڈ نہیں سکتا

 

تنہا، تن تنہا
کوئی شخص نہیں ، بلکہ کوئی بھی شخص نہیں
اکیلے اس کا حل ڈھونڈ سکتا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گزرتا ہُوا وقت

[blockquote style=”3″]

مایا کی شادی ایک ماہر جہاز ران Tosh Angelou کے ساتھ ہوئی جو نسلی اعتبار سے امریکی سفید فام تھا۔مایا کی ایک نظم Passing timeمایا کی ذاتی ازدواجی زندگی کی گرہیں کھولتی ہے۔ مایا لکھتی ہیں کہ خاوند اور بیوی کا تعلق ایسا ہے جیسے صبح اور رات کا تعلق۔ اس نظم میں مایا اینجلو کی ذاتی زندگی کا عکس نظر آ رہا ہے اور وسیع معنوں میں لیا جائے تو میاں بیوی کے ازدواجی تعلق کی ہمہ گیریت واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ دونوں کا تعلق ایسا ہے جیسے صبح اور رات، ایک سے دوسرے کا نقطہ اختتام اور دوسرے سے پہلے کا نقطہ آغاز جڑا ہُوا ہے۔ ایک سے دوسرے کا وجود جنم لیتا ہے۔ مایا اینجلو نے اپنی سیاہ رنگت میں چھپی غلامی اور بے مائیگی کو فطرت کے لازوال قانون کے ساتھ جوڑ کے جس خوبصورتی کے ساتھ عروج کے لبادے میں پیش کیا ہے وہ انتہائی متاثر کن ہے ۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گزرتا ہُوا وقت

[/vc_column_text][vc_column_text]

مایا اینجلو
انگریزی سے ترجمہ اور تعارف: رابعہ وحید

 

تمہاری جِلد ایسی کہ جیسی صبح
میری جیسے رات
تمہاری (جلد) ایسے آغاز کا اشارہ کرتی ہے
جس کا اختتام یقینی ہے
میری (جلد) اشارہ کرتی ہے اُس اختتام کا
جس کا آغاز یقینی ہے

Image: Adam Martinakis
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

غیر معمولی عورت

[blockquote style=”3″]

اس نظم میں مایا اینجلو کا اپنی ذات پر اعتماد اور یقین واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور عام عورت کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ عورت کواُس کے غیر معمولی پن اُس کی شخصیت کے سحر، پُر اسراریت اور خوبصورتی کا احساس دلانا چاہ رہی ہیں۔ عورت جسے مردانہ حاکمیت پر استوار معاشروں میں دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔ اس نظم میں حد سے زیادہ پُر اعتماد اور اپنی شخصیت کی خوبیوں سے آشنا دکھائی دے رہی ہے اور شاید مایا اینجلو ہر عورت کو ایسا ہی غیر معمولی طور پُر اعتماد دیکھنا چاہتی ہیں۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غیر معمولی عورت

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا ایجلو
تعارف و ترجمہ: رابعہ وحید

 

حسین عورتیں حیرت زدہ ہیں کہ میری (سحر زدہ شخصیت) کا راز کس چیز میں ہے
میں نہ تو پُر کشش ہوں اور نہ ہی میرے خد و خال
کسی ماڈل (گرل) سے مطابقت رکھتے ہیں
لیکن جب میں اپنی (سحر زدہ شخصیت) کا راز انہیں بتانا شروع کرتی ہوں
وہ سوچتی ہیں کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری بانہوں کی دسترس میں ہے
یہ میرے کولہوں کے احاطے میں ہے
یہ میرے اٹھتے ہوئے قدموں میں ہے
میرے ہونٹوں کے کٹاؤ میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر یقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

میں بھی کمرے میں جاتی ہوں
ایک مرد کے پاس
اُسی پُر سکون انداز میں جیسے تم مطمئن کرنے جاتی ہو
اُن محبوبوں کو جو تمہارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
یا گھٹنوں کے بَل جھکے ہوتے ہیں

 

پھروہ میرے گرد اشتیاق سے جمع ہو جاتے ہیں
جیسے شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے کے گرد

 

میں کہتی ہوں
یہ میری آنکھوں کی دہکتی ہوئی آگ ہے
اور میرے دانتوں کی چمک ہے
میری بَل کھاتی ہوئی کمر ہے
اور میرے پیروں میں بھری مستی ہے

 

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

خود مرد بھی حیرت زدہ ہیں
کہ ان کو مجھ میں کیا دکھائی دیتا ہے
وہ بہت کوشش کرتے ہیں
لیکن وہ میری ذات کی پُر اسرایت کو نہیں چھو پاتے
جب میں ان پر اپنی (ذات) آشکار کرتی ہوں
تو وہ کہتے ہیں
ہم پھر بھی کچھ نہیں دیکھ پائے

 

میں کہتی ہوں
یہ (سحر) میری کمر کے خَم میں ہے
میری مسکراہٹ کے چمکتے سورج میں ہے
میرے پستانوں کے اُبھار میں ہے
میرے پُر وقار نازو ادا میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیریقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

اب تم سمجھ سکتی ہو
صرف اسی وجہ سے میرا سر کبھی نہیں جھکا
میں چیختی چلاتی نہیں
یا ادھر ادھر اچھلتی نہیں پھرتی
یا مجھے کبھی حاکمانہ انداز میں بات نہیں کرنا پڑتی
تمہیں تو اس بات پر ہی نازاں ہو جانا چاہیے
جب تم مجھے اپنے پاس سے گزرتا ہُوا دیکھو

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری ایڑیوں کی ٹک ٹک میں پوشیدہ ہے
مرے گھنگریالے بالوں میں ہے
میری ہاتھ کی ہتھیلی میں ہے
میری نوک پلک سنوارنے کی ضرورت میں ہے
کیوں کہ میں ایک عورت ہوں
غیر معمولی_______
وہ غیر معمولی عورت_______
میں ہی ہوں

Image: Amy Toensing
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں پھر اٹھوں گی

[blockquote style=”3″]

مایا اینجلو ایک سیاہ فام شاعرہ ہیں جوصیغہ واحد متکلم میں بات کرتی ہیں لیکن سیاہ فام عورت کی اجتماعی آواز بن جاتی ہیں جو غلامی سے نجات پانے، زندگی میں حق حاصل کرنے اور باوقار مقام پانے کی خواہش رکھتی ہے۔ مایا نے ساری زندگی عورت کی تانیثیت کی جنگ لڑی۔ وہ بےک وقت سیاہ فارم عورت اور پوری دنیا کی اُس عورت کی نمائندگی کرتی ہیں جو مرد معاشرے میں ایک دوسرے درجے کی جنس تصور کی جاتی ہے۔”میں اٹھوں گی“ مایاکی وہ نظم ہے جو ان کے پختہ عزم کا احاطہ کرتی ہے جس میں مایا کی زندگی کے کچھ سوانحی(Autobiographical) نقوش بھی جلوہ گر ہیں

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں پھر اٹھوں گی

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا اینجلو
مترجم: رابعہ وحید

 

تم تاریخ میں میراذکر کر سکتے ہو
اپنے تلخ اور من گھڑت جھوٹے انداز میں
تم مجھے مٹی میں رَول سکتے ہو
لیکن اسی مٹی سے میں ایک بار پھر اٹھوں گی

 

کیا میری حد سے بڑھی پُر اعتمادی تمہیں پریشان کرتی ہے؟
تم کیوں مایوسی سے بھرے ہوئے ہو!
کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں
کہ میں یوں چلتی ہوں جیسے میں نے
تیل کے کنویں حاصل کر لیے ہوں
جو میرے رہائشی کمرے سے نکل رہے ہوں

 

بالکل چاند اور سورج کی طرح
لہروں کے یقین کے ساتھ
بالکل اُن امیدوں کی طرح
جو بہت اونچی اڑانیں بھر رہی ہیں
میں بھی اڑان بھروں گی

 

کیا تم مجھے شکست خوردہ دیکھنا چاہتے تھے؟
خمیدہ سر اورجھکی آنکھوں کے ساتھ
آنسوﺅں کے قطروں کی طرح، بے حوصلہ کاندھوں کے ساتھ
اپنی روح میں بھری ہوئی چیخوں سے کمزور ہوتا ہُوا

 

کیا میرا پُر اعتماد رویہ تمہیں غصہ دلاتا ہے؟
کیا یہ تمہارے لیے ایک انتباہ نہیں
کیوں کہ میں اس طرح ہنستی ہوں
جیسے میں نے سونے کی کانیں حاصل کر لی ہوں
جو میرے(گھر کے) پچھلے صحن میں کھودی جا رہی ہیں

 

تم چاہو تو مجھے اپنے لفظوں (کی کرواہٹ) سے مار دو
تم مجھے اپنی نظروں سے زخمی کر دو
تم مجھے اپنی نفرت سے قتل کر دو
لیکن اس سب کے باوجود میں ہوا کی طرح اڑان بھروں گی

 

کیا تم میری جنسی خواہش سے مضطرب ہوتے ہو؟
کیا یہ بات تمھارے لےے باعثِ حیرت ہے؟
کہ میں اس طرح رقص کرتی ہوں جیسے میں نے ہیرے جواہرات پا لیے ہوں
عین اُس مقام پر جہاں میرا چست پاجامہ(آپس میں) ملتا ہے

 

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے

 

خوف اور دہشت کی سیاہ راتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے
میں اڑان بھروں گی
دن کی پہلی کرن بن کر
جو حیران کن حد تک واضح اور چمک دار ہوتی ہے
میں اٹھوں گی
وہ تحائف لے کر جو میرے آباﺅ اجداد نے دیے
میں ایک غلام کی اُمید اور اُس کا خواب ہوں
میں اڑان بھروں گی
میں اٹھوں گی
میں اٹھوں گی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]