Categories
شاعری

گوتم کی انوکھی پرکھشا

کپل وستو کے شہزادے!
تم نے انسانی دکھ کی ایک جھلک دیکھی تو
محل تیاگ دیا
اپنی ماں اور اپنے بچے کی ماں پر
آخری نظر بھی نہ ڈالی
باپ کے جھکے کاندھے پہ ہاتھ بھی نہ رکھا
کہ تم انسانوں کو غم کے انفیکشن سے بچانے کا کوئی اینٹی بائیوٹک
دریافت کرنے نکلے تھے
دکھ کی گھمبیر کثافتوں کو
فلٹر کرنے کا فارمولا ایجاد کرنا
تمہارے دماغ میں گھوم رہا تھا

شاکیہ منی!
تمہارے سفر کے ایک ایک پڑاؤ کا سمے
انسانوں کو دکھوں سے نجات دلانے کی تحقیق میں صرف ہوا
اس کانٹوں بھرے سفر میں
ننگے پاؤں چلتے
تم برگد تک پہنچے
جہاں تپسیا کے انتہائی لمحوں میں
تم نے بھوک اور بھوگ کو
اپنے اندر اتار لیا
دُکھی پرجا کے بھاگ کے اندھے بیج اپنے اندر بوتے رہے
اور یہاں تک کہ تمہارے من میں روشنی آگ آئی
اے انسانی دکھوں سے نجات
کا بھید پانے والے!
تیری روشنی نے بڑے بڑے ہنسا کے پجاری بدل دیئے
فتوحات کے سخت دل شکاریوں کو
نرم خو بنا دیا
ایسا نہیں کہ تیرے خلاف
سازشیں نہیں ہوئیں
تاریخ کے کیلنڈر پہ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات ہے
دور سنگلاخ پہاڑوں
میں جب تمہارے قد آور مجسمے کو توڑا گیا تو
جنگی جنونیوں کی لعن طعن کرنے والوں میں
دنیا بھر کے امن پسندوں نے حصہ لیا
لیکن آج ۔۔۔۔
تمہاری روشنی کی پھڑپھڑاتی ہوئی لو
اس کی اپنی ہی رکھوالی ہواؤں کو آندھیوں میں بدلتے دیکھ رہی ہے
تمہارے نام لیوا
تمہارے مقدس نام پر پاپ کے چھینٹے اڑا رہے ہیں
اے انسانی دکھوں کے آنت بھید کی پرتیں کھولنے والے!
تمہارے نروان کی روشنی خطرے میں ہے
چنڈ اشوک کو اشوکِ اعظم میں بدلنے والے!
نروان کی اس انوکھی پرکھشا میں
ہنسا کے نئے پجاریوں کو اہنسا کا دان بخش!!

Categories
شاعری

گلیڈی ایٹرز

گلیڈی ایٹرز
(ہجوم کی وحشت کا شکار ہونے والوں کے نام ایک نظم)

اے خدا!
یہ ہے مرے دیس کی بستی
کہ کوئی روم کےاس عہد کا منظر
کہ اکھاڑے میں جہاں چار طرف
خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے
کچھ وحشی درندوں کا ہجوم
جن کے نرغے میں گھرے
درد کی شدت سے بلگتے یہ نہتےانساں
اور اطراف میں ہنستی ہوی احساس سے عاری مخلوق
جس کو تہذیب کوئی نام نہیں دے پائی
آج بھی محض تماشائی کہا جاتا ہے

اے خدا!
یہ تو مرے دیس کا دستور نہ تھا
مری تعلیم کا، تہذیب کا منشور نہ تھا
اور گر خون میں بہتی ہوی دیرینہ جبلت کی بدولت پھر سے
جاگ اٹھی ہے کوئی لذتِ وحشت
تو ہوئے کیا
مری تاریخ پہ پھیلے
وہ محبت کے الوہی قصے
دردِ انساں کے زمینی دعوے
وہ ترے عشق میں ڈوبے نعرے
وہ طریقت کی کتابیں
وہ صحیفوں کے ورق
وہ محبت کی رسومات
وہ صوفی کے سبق

اے خدا!
کچھ بھی نہیں
کچھ بھی نہیں کہنےکو
جھوٹ کی نذر کئے سب ترے
فرماں برحق
تجھ سے کیا عشق کریں گے
کہ نہیں ہے باقی
ہم میں انساں سے محبت کی ذرا سی بھی رمق
شرمساری ترے دربار میں لائی ہے ہمیں
جرم ثابت ہے
کہ ہم تیری خلافت کے تقاضوں سے وفادار نہیں
تری امید کو جو زخم دیا ہے ہم نے
وہ ہماری ہے، تری ہار نہیں
چھین لے ہم سے مقدس عہدہ
کہ زمیں پر ترے نائب ٹھہریں
ہم کسی طور سے حق دار نہیں
Categories
شاعری

کاری

جس نے میرے کان میں پگھلا سیسہ ڈالا
بہرا تھا
جس نے میری آنکھیں پھوڑیں خنجر سے
نابینا تھا
جس نے میرے چلتے پاؤں کاٹے تھے
وہ لنگڑا تھا
جس نے میرے ہونٹ سیۓ تھے کانٹوں سے
وہ گونگا تھا
جس نے خدوخال مٹائے میرے
وہ بے چہرہ تھا
جس نے میری سانسیں مجھ سے چھینی تھیں
وہ مردہ تھا

اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
اپنے ہی پاؤں پہ اٹھ کر
چل پڑنے کی ہمت بھی
اپنی بات سنانے کو
یہ گویائی کی طاقت بھی
اپنے دل کی چاہت بھی ہے
اپنے نام کی عزت بھی
سوچوں کا سندیسہ لاتی
جاں افروز بشارت بھی!

Image: Farah Mahmood Adnan

Categories
شاعری

پکچر پزل

پکچر پزل
یہ خواب دیکھے
تو اس کی آنکھیں
سلگتی سیخوں کی تیز نوکوں سے چھید دینا
کہ اس کی آنکھوں میں خواب کوئی نہ پھر سمائے

اگر یہ چیخے
تو اس کے ہونٹوں کو سخت دھاگوں میں یوں پرونا
کہ کوئی سسکی بھی اس کے لب سے نکل نہ پائے

زبان کھولے تو
کند خنجر سے کاٹ دینا زبان اس کی
کہ اس کے لفظوں کا خون بہہ کر
اسی کے ہونٹوں پہ پھیل جائے

سماعتوں پر یہ دھیان بھی دے
تو اس کے کانوں کی نالیوں میں
پگھلتا سیسہ انڈیل دینا
کہ اس کے اندر
نوائے دل کاغرورِ تاباں رہے نہ باقی

سفر کا سوچے
تو اس کے پاؤں ہی کاٹ دینا
کہ اس کے دل میں مسافتوں کا
کوئی بھی ارماں رہے نہ باقی

یہ بادلوں کی ردائیں مانگے
برہنہ سورج کا قہر دینا
سمندروں کی طلب کرے تو
زمین۔ تشنہ کی لہر دینا
حقیقتوں کا پیام چاہے
فریب کاری کا سحر دینا
یہ شہد مانگے تو زہر دینا
خیال رکھنا
یہ فکر۔نو کا پیامبر ہے
نۓ خیالوں، نئی امیدوں،
نئ امنگوں کا ہمسفر ہے
یہ آنے والی نئی رتوں کا بھی
چارہ گر ہے
خیال رکھنا
وجوداس کا تم اتنے ٹکڑوں میں
بانٹ دینا
یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پچھلی ترتیب بن نہ پائے
یہ اپنی پہچان بھول جائے!
Categories
شاعری

پتھر کی زنجیر

پتھر کی زنجیر
کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
جنبش کا احساس نہ کوئی
مدھم سی آواز
ٹھہرے لمحے کے قصے میں
آخر نہ آغاز
شورش گر آغاز کرے تو
منصف کرے سوال
پوچھے تو میں کھولوں سارے
ظالم شب کے راز
راز کھلیں تو شاید اپنی
کھل جاۓ تقدیر
لیکن بےحس عادل گھر میں
ایک وہی تاخیر
مدت سے ہے یہ بھی ساکن
اور میں بھی تصویر
منصف کے گھر پر آویزاں
پتھر کی زنجیر!

Image: Oswaldo Guayasamin