Categories
فکشن

اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ کوئی بہت متاثر کن یا اعلیٰ نسل کا کتا نہیں تھا۔ یہ ان کتوں میں سے تھا جو ہر جگہ ادھر ادھر عام نظر آتے ہیں۔ اس کا رنگ سفید اور مٹیالا تھا، دم کٹی ہوئی تھی جو خدا جانے کس نے کب کاٹی تھی۔گلی میں ہی جنم ہوا تھا۔ بازار کی بچی کھچی اور پھینکی ہوئی اشیا کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔اس کی گول گول چتکبری آنکھیں تھیں۔انداز بھی کوئی نرالا نہیں تھا اور وہ بلا وجہ ہی بھونکتا رہتا۔

دو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ دیگر کتوں سے اس کی سینکڑوں لڑائیاں ہوئی ہوں گی۔ گرم دوپہروں میں اسے آرام کی ضرورت پیش آتی تو بازار کے مشرقی دروازے کی طرف بدرو کے نیچے آڑا ترچھا پڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کے معمول کے چکر شروع ہو جاتے وہ ارد گرد کی گلیوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا۔ اس دوران وہ گلی کی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی شریک رہتا۔ سڑک کنارے سے کھانے کی چیزیں اٹھا کر رات پڑے بازار کے مشرقی دروازے پر لوٹ آتا۔

عرصہ تین سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تب آئی جب ایک اندھا بھکاری بازار میں آ کر وہاں بیٹھنے لگا۔ ایک بڑھیا اسے صبح سویرے وہاں چھوڑ جاتی۔ دن میں وہ کچھ کھانے کو لے کر آتی۔ شام کو اپنے سکے گنتی اور رات کو گھر لے جاتی۔

کتا بھی اندھے بھکاری کے قریب سو رہا تھا۔ وہ کھانے کی خوشبو سے کسمسایا۔ وہ اپنے ٹھکانے سے نکلا اور بھکاری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اپنی دم کو ہلایا اور اور اس کے پیالے پر اس امید سے نظریں جما دیں کہ اسے بھی کچھ بچا کھچا کھانے کو ملے گا۔ بوڑھے نے ہوا میں ہاتھ لہرائے اور پوچھا ” کون ہے یہاں؟” اس پر کتا اس کے قریب آ گیا اور ہاتھ چاٹنے لگا۔ بوڑھے نے سر سے لےکر دم تک اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔

” تم کتنے پیارے ہو! آؤ میرے ساتھ_” اس نے مٹھی بھر کھانا کتے کو دیا جو اس نے شکر گزاری سے کھایا۔ یہ ایک مبارک گھڑی تھا جب ان کی دوستی کا آ غاز ہوا۔ ان کی روزانہ وہاں ملاقات ہوتی۔

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کتا بھی لوگوں کو بھکاری کو بھیک دینے کے لئے مجبور کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتے کو سمجھ آ گئی کہ راہ گیروں کا اندھے بھکاری کے سامنے سکے گرانا لازمی تھا۔ اگر لوگ سکے نہ دیتے تو کتا ان کا پیچھا کرتا ، ان کے کپڑے دانتوں میں دبا لیتا ، انھیں واپس بھکاری کے پاس کھینچ لاتا اور انھیں مجبور کرتا کہ بھکاری کے کشکول میں سکے ڈالیں۔

ایک شرارتی بچہ بھکاری کو تنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے ذہن میں شیطانی شرارتیں سمائی رہتی تھیں۔ وہ بھکاری کو برے برے ناموں سے پکارتا اور اس کے سکے چرا کر بھاگ جاتا۔ بھکاری بے بسی سے اس پر چلّاتا اور اپنی لاٹھی بچے پر گھماتا۔ یہ لڑکا جمعرات کو سبزیاں اور کھیرے سر پر لاد کر لایا کرتا تھا کیونکہ اس دن جمعرات بازار لگتا تھا۔ ہر جمعرات کو یہ لڑکا اندھے بھکاری کی زندگی میں اک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ ایک عطر فروش بھی اپنے چھکڑے پر سامان لاد کر آیا کرتا تھا۔ ایک آدمی زمین پر بوریا بچھا کر اس پر اپنی سستی کتابوں کی نمائش لگاتا۔ ایک اور آدمی ایک بڑے فریم پر رنگ برنگے ربن لٹکا کر لاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسی محراب کے نیچے اپنی اشیاء فروخت کے لئے لایا کرتے تھے۔

ایک جمعرات اس لڑکے کو آتا دیکھ کر ایک پھیری والا بولا
” بوڑھے میاں ! تمھاری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی _”

” اوہ خدایا! آج جمعرات ہے؟” اس نے تڑپ کر کہا۔ اس نے اِدھر اُدھر ہوا میں اپنے ہاتھ چلائے اور پکارا ” کتے! کتے! ادھر آؤ، تم کہاں ہو؟” اس نے ایک مخصوص آواز نکالی اور کتا وہاں آن کھڑا ہوا۔ کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بڑ بڑایا ” اس ننھے شیطان کو ادھر مت آنے دینا۔” اسی لمحے لڑکا چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا۔

”بوڑھے میاں! تم ابھی تک اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی اندھے ہوتے تو تمھیں یہ سب معلوم نہ ہوتا_” وہ رک گیا۔ اس کا ہاتھ کشکول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کتے نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور زندگی بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتا اس کے پیچھے بھاگا اور اسے بازار سے بھگا کر دم لیا۔ ” اس معمولی نسل کے کتے کی اس بوڑھے سے محبت تو دیکھو!” عطر فروش نے حیرت کا اظہار کیا۔

ایک شام معمول کے وقت پر بڑھیا نہ آئی۔ اندھا آدمی پریشانی سے دروازے پر اس کا انتظار کرتا رہا کیونکہ شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تو ایک پڑوسی آیا اور بتایا کہ بڑھیا کا انتظار نہ کرو وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج دوپہر کو وہ چل بسی۔

بھری دنیا میں اندھے آدمی کی واحد پناہ گاہ اس کا گھر بھی چھن گیا اور وہ اس تنہا فرد سے بھی محروم ہو گیا جو اس کا خیال رکھتا تھا۔ ربن فروش نے تجویز پیش کی ” یہ لو سفید ربن۔۔۔۔۔” اس نے سفید ربن فروخت کرنے کے لئے پکڑا ہوا تھا ” میں تمہیں یہ مفت دوں گا۔ اسے کتے کے گلے میں باندھ دو۔ اگر اسے تم سے واقعی انسیت ہے تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گا۔ ”

اب کتے کی زندگی میں اک نیا موڑ آ گیا تھا۔ اس نے بڑھیا کی جگہ لے لی تھی۔ اس کی آزادی مکمل طور پر کھو گئی تھی۔ اس کی زندگی سفید ربن کے اسی دائرے تک محدود ہو گئی تھی جتنی کہ ربن فروش نے اس کی لمبائی رکھی تھی۔ اسے اپنی تمام سابقہ زندگی اور پرانی سر گرمیوں کو بھولنا پڑا۔ وہ اس رسی کی درازی کی آخری حد تک ہی رہتا تھا۔ اگر وہ فطرت سے مجبور ہو کر اپنے دوست یا دشمن کتوں کو دیکھتا اور رسی تڑاتے ہوئے ان پر جھپٹتا تو اسے اپنے مالک سے گھونسا پڑتا۔ ” بدمعاش! مجھے گرانا چاہتے ہو؟ __ ہوش کرو_” کچھ ہی دنوں میں کتا اپنی فطرت اور خواہشات پر قابو پانا سیکھ گیا۔ اس نے دوسرے کتوں پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ اگرچہ وہ اب بھی اس کی طرف بڑھتے اور غراتے تھے۔ اس کا اپنے ساتھی مخلوق کے ساتھ رابطے اور حرکت کا دائرۂِ کار کھو گیا۔

اس نقصان کی قیمت پر اس کے مالک کو بہت فائدہ ہوا۔ وہ اب اس طرح نقل و حرکت کرتا تھا جیسے اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سارا دن وہ کتے کی رہنمائی میں پیدل چلتا رہتا۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور ایک ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے وہ کتے کی رہنمائی میں گھر سے پیدل نکلتا_ جو کہ بازار سے چند گز کے فاصلے پر ایک سرائے کے برآمدے کے کونے میں تھا۔ وہ بڑھیا کی موت کے بعد یہا ں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے ہی کام کا آغاز کر دیتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ایک ہی جگہ رکے رہنے کی بجائے چل پھر کر بھیک مانگنے سے اس کی کمائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا اور جہاں کہیں لوگوں کی آواز سنتا بھیک کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا۔ دکانیں، سکول، ہسپتال، ہوٹل _ غرض اس نے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ جب اسے رکنا ہوتا تو کتے کی رسی کو کھینچتا اورجب اسے چلانا ہوتا تو بیل ہانکنے والے کی طرح چِلّاتا۔ کتا اسے گڑھے میں گرنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے بچاتا۔ قدم بہ قدم بحفاظت اسے سیڑھیوں پر لے جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ بھکاری کو سکے دیتے اور اس کی مدد کرتے۔ بچے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور اسے اشیائے خورد پیش کرتے۔ کتا یقیناً ایک چست مخلوق ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے تھکن زدہ معمولات کے بعد مناسب وقفوں سے آرام کرتا ہے۔ مگر یہ کتا _جو اب ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا _ کا تمام چین آرام ختم ہو گیا تھا۔ اسے تب ہی آرام کا موقع ملتا جب بوڑھا کہیں بیٹھتا۔ رات کو بوڑھا کتے کی رسی اپنی انگلی سے لپیٹ کر سوتا۔

” میں تمھیں کوئی موقع فراہم نہیں کر سکتا” وہ کہتا۔ روز بروز زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس کا مالک آرام کو موقع گنوانا سمجھتا تھا اور کتے کو مسلسل اپنے قدموں پر چلنا پڑتا تھا۔ بسا اوقات اس کی ٹانگیں چلنے سے انکاری ہو جاتیں مگر وہ معمولی سی بھی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتا تو اس کا مالک غصے میں اپنی لاٹھی سے اسے مارتا۔ کتا اس ظلم پر تلملاتا اور احتجاج کرتا ” کراہو مت بدمعاش! کیا میں تمھیں خوراک نہیں دیتا؟ تم بے کار وقت گزارنا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسا کرو گے؟” اندھے بوڑھے نے گالی دی۔اندھے ظالم کے ساتھ بندھا ہوا کتا سست قدموں سے سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے پھرتا رہتا۔ جب بازار میں خرید و فروخت بند ہو جاتی تو رات گئے دیر تک تھکے ماندے کتے کی درد بھری کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ظاہری شکل کھو گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزرا اس کی ہڈیاں اس کی جلد میں کھبتی گئیں۔اس کی پسلیاں جلد سے جھانکتی صاف نظر آتی تھیں۔

ربن فروش، ناول فروش اور عطر فروش اس کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ ایک شام جب کاروبار میں مندا تھا تینوں نے بیٹھ کر مشاورت کی۔ ” اس کتے کو غلامی کرتے دیکھ کر میرا دل پسیجتا ہے۔ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟” ربن فروش نے تبصرہ کیا۔ ” اب تو اس بد معاش نے ساہو کاری بھی شروع کر دی ہے۔ _ میں نے سبزی فروش سے یہ بات سنی ہے __ وہ اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ وہ پیسے کی خاطر شیطان بن چکا ہے ___” اسی لمحے عطر فروش کی نظر قینچی پر پڑی جو ربن کے فریم پر جھول رہی تھی۔ ” یہ ذرا مجھے پکڑاؤ” وہ بولا اور قینچی ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا۔

اندھا بھکاری مشرقی دروازے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کتا رہنمائی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ راستے میں ہڈی کا ٹکڑا پڑا تھا اور کتا اسے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

رسی اندھے بھکاری کے ہاتھ میں تن گئی جس سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچی۔ اس نے رسی کھینچی اور کتے کو ٹھوکر ماری۔ کتا چلّایا اور کراہا مگر آسانی سے ہڈی تک نہ پہنچ سکا۔ اس نے ہڈی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔ اندھا آدمی اس پر لعنتوں کے انبار لگا رہا تھا۔ عطر فروش نے قدم آگے بڑھایا، قینچی چلائی اور ربن کاٹ دیا۔ کتے نے چھلانگ ماری اور لپک کر ہڈی اٹھا لی۔ اندھا آدمی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ ربن کا بقیہ حصہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ” ٹائیگر! ٹائیگر! تم کہاں ہو؟” وہ پکارا۔ عطر فروش چپکے سے کھسک آیا اور بڑ بڑایا، ” بے رحم شیطان! تم اسے کبھی دوبارہ نہیں پاسکتے۔ اس نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ” کتا تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔ اس نے خوشی خوشی سارے نالوں میں ناک گھسیڑی۔ بھاگ کر دوسرے کتوں میں شامل ہو گیا اور بازار کے فوارے کے ارد گرد بھونکتے ہوئے آزادی سے چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ جگہوں قصاب کی دکان، چائے کے کھوکھے اور بیکری پر گیا۔

ربن فروش اور اس کے دوست بازار کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اندھے بھکاری کو راستہ ٹتولتے دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا لاٹھی گھما رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہے۔ وہ گریہ کر رہا تھا ” ہائے ! میرا کتا کہاں ہے؟ میرا کتا کہاں ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو مجھے میرا ٹائیگر لوٹا دے؟” اگر وہ پھر سے مجھے مل جائے تو میں اس کا خون کر دوں گا۔ ” اس نے ٹتولتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ درجنوں گاڑیوں کے نیچے آنے سے بچا، کئی بار لڑھکا اور آخر کار ہانپنے لگا۔ ” اگر وہ کچلا جاتا تو اسی کا مستحق تھا۔ بے رحم انسان_” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ تاہم بوڑھا کسی نہ کسی طرح کسی کی مدد سے سرائے کے بر آمدے کے کونے میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے بوریے کے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سفر کے تناؤ کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھا۔

پھر وہ نظر نہ آیا۔ دس_ پندرہ_ حتیٰ کہ بیس روز گزر گئے۔ نہ ہی کتے کی کوئی بھنک ملی۔ وہ آپس میں تبصرے کیا کرتے۔ ”کتا یقیناً آزادی کی خوشی اور سرمستی میں دنیا گھوم رہا ہو گا۔ بھکاری بہر حال اب تک گزر گیا ہو گا۔ ” بمشکل ہی یہ جملہ ادا ہوا ہو گا کہ انھوں نے بھکاری کی لاٹھی کی مخصوص ٹپ ٹپ کی آواز سنی۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر بھکاری کو کتے کی رہنمائی میں دوبارہ آتے ہوئے دیکھا۔ ” دیکھو ! دیکھو ! ” وہ چِلّائے، ” اس نے دوبارہ اس پر قابو پا لیا اور رسی باندھ دی_” ربن فروش خود کو باز نہ رکھ سکا اور پوچھا ” تم ان تمام دنوں میں کہاں رہے؟”

”جانتے ہو کیا ہوا!” اندھا آدمی کراہا ” یہ کتا بھاگ گیا تھا۔ میں تو اس کونے میں پڑا پڑا ایک دو دن تک مر ہی جاتاکھانے کو کچھ تھا نہ کوئی آنے کی کمائی تھی وہاں پر قید چل بستا اگر کل بھی ایسا ہوتا مگر یہ کتا لوٹ آیا_”

”کب؟ کب؟ ”

”کل رات، آدھی رات کا وقت ہو گا جب میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا وہ آ گیا اور میرا چہرہ چاٹنے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اسے مار ڈالوں۔ میں نے اسے زور کا دھکا دیا۔ جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ” بوڑھے آدمی نے بتایا۔ ”میں نے اسے معاف کر دیا۔ بہر حال وہ ایک کتا ہی تو تھا۔ وہ اتنے دن آزادی سے گھوما پھرا جب تک سڑک کنارے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ مگر بھوک اسے میرے پاس واپس کھینچ لائی۔ مگر اب وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ دیکھو! اب مجھے یہ مل گئی ہے__” اس نے رسی لہرائی۔ اس مرتبہ یہ لوہے کی زنجیر تھی۔

ایک مرتبہ پھر کتے کی آنکھوں میں بے دلی اور نا امیدی کی تصویر در آئی تھی۔ ” اپنی راہ لو احمق! ” اندھا بھکاری ایک بیل ہانکنے والے کی طرح ہنکارا۔ اس نے رسی کو جھٹکا دیا اور اپنی لاٹھی سے اسے ٹھوکر ماری اور کتے نے سستی سے اپنے قدم آگے بڑھا دئیے۔ وہ ٹپ ٹپ کی آواز کو دور جاتے ہوئے سنتے رہے۔

” اب تو موت ہی کتے کی جان چھڑا سکتی ہے۔” ربن فروش نے آہ بھری اور اس پر افسردہ نگاہ ڈالی۔ ” ہم ایسی مخلوق کا کیا کر سکتے ہیں جو اتنی خوش دلی سے اپنی بد بختی کی طرف لوٹ آئے۔”

Categories
فکشن

چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

رومانیہ نور کا تعلق ملتان سے ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اب تک غیرملکی زبانوں کے ادب سے 18 افسانوں، 10 نظموں، 2 خطوط، اور مختلف کتابوں کے 9 اقتباسات کے اردو تراجم کیے ہیں۔ ان کے کچھ تراجم سہ ماہی “ادبیات”، روزنامہ “اوصاف” اور دیگر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ایک کتاب “عورت کتھا” میں ان کے تراجم کا انتخاب بھی شائع ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر بھی تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

…………

کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔اس قدر شدید درجہ حرارت موسم گرما کے لیے بھی ایک ریکارڈ تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیئے۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت سے بچاو کا سوچنا بھی حماقت معلوم ہوتاہے۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ اچھے خاصے سوریہ ونشی بھی تائب ہوجائیں۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب مقام نہ تھا۔ لیکن اس بار کی گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔

انیتا نے ڈوری کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے سے پہلے وہ چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔

اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال جھاڑ جھنکار کی طرح منتشر تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجنے کو تھے لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔

“صاحب آ گیا؟”

جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے اپنے انگریزی زدہ اردو لہجے میں پوچھا۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں کامو بے عیب تھا۔

“ نہیں میم صاحب!”

اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔

“شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔
“ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب رات کے کھانے تک اس سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔
اسے ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جانا ہے، سو وہ کلب میں ہی کپڑے بدلنے والا ہے۔
“وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”۔

اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔

باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں ان کا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ انگریزوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائش گاہوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔

چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر گھنٹی کی عدم موجودگی میں عملے کے افراد کو ہی لوگوں کو گیٹ بند ہونے سے پہلے روانہ ہو نے کی تلقین کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلا رہے تھےکہ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو ان کے اندر ہی قید ہو جانے کا خدشہ تھا۔

اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انہیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن برآمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس ان کی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔

انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انہیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔

حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ سب جانتے تھے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انہیں خطوط لکھے اور بالآخرانہیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔

جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک موزوں اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔

اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔

گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔

انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو چنبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش کے باعث انیتا کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کے پیچھے پیچھے چکر لگائے۔

پھولوں کی تیز خوشبو اورجانوروں کے پنجروں سے اٹھتی بو کے مابین کشمکش جاری تھی۔ گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی کمی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے ہر تین میں سے دو بار بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر یہ سوچتے ہوئے اپنا کتابچہ کھولا کہ آیا انہیں معالجِ حیوانات سے رابطہ کرنا چاہیئے یا پھر نگرانی سخت کر دینی چاہیئے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انہوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ اُس عورت پر نظر پڑتے ہی وہ خود بخود اوٹ میں ہو گئی۔ اس عورت نے نہ تو انیتا کو آتے ہوئے دیکھا تھا اور نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ سفید جنگلے کے اس پار ممنوعہ علاقے میں یکسوئی سے پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔ صرف اراکینِ عملہ کو اس اندرونی حصار میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔

عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی، وہ ضرورت سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انیتا کی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انہیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جوصرف ہیرا سے ہی منسوب کی جا سکتی ہے۔

ملگجے اندھیرے میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔

اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ سیر کے اوقات کے بعد چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں بند جانوروں کواپنے آپ میں مگن ہوتے دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔

یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی دیوار کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔

اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔

“ تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”

“نہیں” انیتا اس کے استہزاء سے بے چین ہو گئی۔” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟”

“تمہارا خدائی فوجدار بننا: اور یہ اخلاقی بحران ۔۔۔۔جو تمہیں درپیش ہے۔”

سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔

“اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی۔

“میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”۔

وہ پوری توجہ سے انگلیوں کی مدد سے مچھلی کے سانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا:

کیا میں نے تمہیں کبھی مسز ہاؤ کا قصہ سنایا ہے؟”

“میرا نہیں خیال۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

“ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور بیمار اور بدسلوکی کے شکار گھوڑوں کی تلاش میں شہر کا چکر لگاتی تاکہ انہیں گھر لے آئے۔

وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انہیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا،انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”

“پھر؟”

“پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انہیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”

” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جوکچھ میں یہاں کرنا چاہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”

“ہاں ، امید ہے ایسا ہی ہو گا۔۔۔ تم اپنے گھڑ سواری کے لباس میں نہیں تھی اور تم نے پولیس نہیں بلائی۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات آج کی نسبت کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی اس بات کا تعین نہیں کر پایا کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”

انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔

” کیا ہو گیا تھا انہیں۔۔ “انیتا کو ذرا سی بات کا تماشہ بنانے سے نفرت تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں وہ خالی نظروں سےاڑتے ہوئے جگنوؤں کو تکتی رہی ۔

کیمبرج کے دنوں میں ان کے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک تو یہ معاملہ اپنے وجود سے جڑے حقائق کے لیے ہمہ وقت مبہم مدافعانہ پن میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا کہ تمام سفید فام اقوام کے اجتماعی جرم کو اپنے زہریلے پن میں لپیٹ کر اس کی روح پر لیپ دینا سلیم کی عادت بن گیا ہے۔ تنازعات اور غصہ تلخی بن کر ان کے مابین معلق تھے۔

سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔

وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔

Categories
فکشن

قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

[blockquote style=”3″]
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔

’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘

’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘

ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔

اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘

ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘

ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔

کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔

’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘

اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔

’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘

حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘

گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘

’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘

گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔

’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘

یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔

ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔

صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔

اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔

وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘

ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟

میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔

Image: Tyrone Hart
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)

[blockquote style=”3″]

1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ لیا، یونی ورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ جاپانی زبان میں اتنی استعداد حاصل کر لی کہ اس کی ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا۔ 2006 میں جاپان میں مقیم غیر ملکی طالب علموں کا ادبی انعام حاصل کیا۔ 2009 میں بنگاکیکائی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ دوسری غیر جاپانی اور مشرق بعید سے تعلق نہ رکھنے والی پہلی مصنفہ ہیں۔

[/blockquote]

مسٹر تناکا نے ‘درخواست برائے ملاقات’ کے دو فارم پر کیے اور استقبالیہ کھڑکی میں جمع کرائے۔ چند منٹ بعد ہمارے سامنے لوہے کا ایک دروازہ کھلا اور پولیس کا ایک لمبا تڑنگا، ہٹا کٹا سپاہی نمودار ہوا، اس کا جسم اتنا گٹھیلا تھا جیسا کسی جاپانی کا ہونا چاہیے۔ اس کی مچھلیاں اس کی وردی میں پھنسی ہوئی تھیں۔

وہ بولا، “اس طرف آئیے۔”اس نے دروازے کی دوسری جانب ہماری راہ نمائی کی، پھر خود بھی اس جانب آیا اور دروازے کو تالا لگا دیا۔ ہم نے خود کو ایک طویل تاریک راہ داری میں پایا۔ دونوں جانب آہنی دروازوں کا سلسلہ تھا، جس میں کہیں کہیں چھوٹی کھڑکیاں تھیں، اگرچہ دن کا پہلا پہر تھا، لیکن بہت کم روشنی یہاں تک پہنچ پاتی تھی، جس کے نتیجے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تاہم کہیں کہیں لگے ہوئے چھوٹے بلب صرف اتنی روشنی مہیا کرتے تھے کہ ہم صرف راستہ دیکھ سکتے تھے۔ یہ راہ داری رات کے وقت کسی ڈراؤنی فلم کی طرح اچھی خاصی خوفناک ہوتی ہو گی۔

جسیم سپاہی ہمیں راہ داری سے ملحق ایک کمرے میں لے گیا۔ کمرے کی دیواروں پر بہت سے لاکرز نصب تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنا سامان یہیں چھوڑ دیں۔ جس وقت ہم عمارت میں داخل ہوئے اس وقت بھی میرے بیگ کی تلاشی لی گئی تھی، ہم اپنے موبائل اور چابیاں وہاں جمع کروا آئے تھے، چناں چہ میں سمجھتی تھی کہ ہم تلاشی کے کسی اور مرحلے سے گزرے بغیر ملاقات والے کمرے یک پہنچ جائیں گے۔ مسٹر تناکا بدمزگی سے بڑبڑا رہے تھے۔ انھیں بغیر بیگ کے کئی فائلیں لے جانی تھیں، جو کافی مشکل کام تھا۔ ناگواری سے تلملاتے ہوئے انھوں نے اپنا بیگ خالی کیا۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی جائے گی تو اس میں کاسمیٹکس کا چمک دار گلابی پاؤچ یا نائلون کی اضافی جرابیں نہ لاتی۔ صرف یہی نہیں، نزلے سے میری ناک بَہ رہی تھی اور میرا بیگ استعمال شدہ ٹشوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ جس وقت سپاہی کی نظر ان پر پڑی، میں شرم سے پانی پانی ہو گئی۔

میں نے اپنا ضرورت کی اشیا، لغت اور قلم، اٹھائیں اور کمرے سے باہر آ گئی۔ مسٹر تناکا نے اپنا بیگ ساتھ لے جانے پر بہت اصرار کیا لیکن آخر میں انھوں نے اپنا بیگ لاکر میں رکھا، اپنا قلم اور چند موٹی فائلیں اٹھا لیں۔ ہم جسیم سپاہی کی معیت میں راہ داری میں مزید آگے بڑھے، جہاں پولیس کا ایک اور سپاہی نمودار ہوا، اس نے مسٹر تناکا کا استقبال کیا، ہمارے سامنے والا دروازہ کھولا اور ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ ہم اندر داخل ہو سکیں۔ مسٹر تناکا کے پیچھے میں بھی کمرے میں داخل ہوئی۔ ہمارے بعد جسیم سپاہی اندر آیا، دروازہ بند کیا اور نگرانی پر کھڑا ہو گیا۔

یہ کمرا نسبتاً اور چھوٹا اور باقی عمارت کی مانند تاریک تھا۔ شیشے کی ایک دیوار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا لگتا تھا۔ شیشے کی دیوار کے ساتھ تین کرسیاں دھری تھیں۔ مسٹر تناکا نے ایک جانب کی کرسی منتخب کی، درمیانی کرسی خالی چھوڑتے ہوئے میں دوسری جانب بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد شیشے کی دیوار کے دوسری جانب والا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی کمرے میں داخل ہوا، اس نے سر خم کر کے ہمیں تعظیم دی، پھر واپس مڑا اور کسی کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ اس کے پیچھے درمیانے قد کی ایک دبلی پتلی لڑکی، جس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ پرانے انداز کا ڈھیلا ڈھالا رنگین لباس پہنےہوئے تھی۔ مٹیالے رنگ کے ایک لمبے دوپٹے سے، جس پر چمک دار بیل کڑھی ہوئی تھی، اس نے اپنے بال سمیٹے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر مجھےکہیں دور پار کی خانہ بدوش عورت یاد آگئی، جو آپ کو صرف فلموں میں دکھائی دیتی ہے۔ سپاہی نے دیوار کی دوسری جانب موجود اکلوتی کرسی کی جانب اشارہ کیا اور دروازے کے پاس اپنی مخصوص جگہ لوٹ گیا۔ اب وہ ایک لفظ ادا کیے بغیر، گود میں ہاتھ دھرے، بت بنی، بیٹھی تھی، وہ ہمیں نہیں بلکہ نیچے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ بھی ہم سے آنکھیں نہیں ملائیں، حالاں کہ ہماری نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

مسٹر تناکا نے کھنکھار کر اپنا گلا صاف کیا اور بات شروع کی۔

“سلام!” وہ دری زبان میں بولے تاکہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ میری نظر ان کے قدموں میں فائلوں کے ایک شفاف فولڈر پر پڑی۔ جس میں بچوں کا ایک رنگین تعلیمی ورق نظر آ رہا تھا، جس پر “ملکوں ملکوں خیر سگالی کے الفاظ” چھپے ہوئے تھے۔
لڑکی نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا، نگاہیں اٹھائے بنا نیچے دیکھتے رہی۔

مسٹر تناکا نے میری جانب دیکھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ترجمے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

“میں تناکا ہوں۔” کچھ تذبذب کے ساتھ وہ بولے، “یقیناً! تمھیں بتا دیا گیا ہو گا کہ یہاں میں تمھارا دفاع کرنے کے لیے آیا ہوں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، چناں چہ ہمیں چاہیے کے ایک دوسرے سے مل کر کام کریں۔” خیر سگالی کا یہ خالص جاپانی انداز تھا۔ یہ الفاظ، جو وہ کہنا چاہتے تھے، کہنے کے بعد وہ مطمٔن نظر آنے لگے۔ وہ اپنی نشست پر مڑے اور مجھے دیکھا، لیکن جوں ہی میں نے ترجمہ شروع کیا، اچانک وہ، شاید خود سے مخاطب ہو کر “ارے، معاف کرنا” کہتے ہوئے، اپنی نشست سے اٹھے، اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے تعارفی کارڈ نکالا اور شیشے کی دیوار کے سوراخ سے دوسری جانب کھسکا دیا۔ ان کی اچانک حرکت پر وہ اپنی حیرت چھپا نہ سکی اور آنکھیں اٹھا کر اچٹتی ہوئی نظر ہم پر ڈالی۔

یہ صرف ایک لمحے کے لیے تھی، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے میں لرز گئی۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں دھندلی اور ہر نوع کے تاثر سے محروم تھیں، جیسے ان کی چمک ختم ہو گئی ہو۔ وہ کسی پہلو سے زندہ انسان کی آنکھیں نہیں لگتی تھیں، کچھ ایسے، جیسے پلاسٹک سے بنی ہوں، ان میں کوئی تاثر نہیں تھا، کوئی حرکت نہیں تھی، اور میں سوچے بنا نہ رہ سکی کی کیا وہ ان آنکھوں سے دیکھ بھی سکتی ہے۔

“پلیز!”

مسٹر تناکا کی آواز سے میں اپنے آپ میں لوٹ آئی۔ جب انھوں نے میری جانب دیکھا، میں نے آہستہ آہستہ ان کے الفاظ کا ترجمہ شروع کیا، تاکہ اسے میرا تلفظ سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔

اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔ میرا خیال تھا، ایک لمبے عرصے کے بعد دری سُن کر وہ خوش ہو گی لیکن اس نے کوئی دل چسپی ظاہر نہ کی۔ مسٹر تناکا نے مشکوک نظروں نے مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔

“مل کر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے سب سوالوں کا جواب دو۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں پوچھنی ہیں، ممکن ہے یہ سب تمھارے لیے مشکل ہو، لیکن یہ تمھارے فائدے کے لیے ہے۔ اس لیے کوشش کر کے جواب دو۔”

اب بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مسٹر تناکا نے ٹیڑھی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے دھیمی آواز میں احتجاج کیا، “جو آپ نے کہا، میں نے وہی ترجمہ کیا۔”

اس نے ایک ہاتھ میں مٹیالے دوپٹے کا پلو پکڑا اور اسے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے گرد لپیٹنے لگی۔ دھوپ سے جھلسائے ہوئے، جھریوں والے کھردرے ہاتھوں کی انگلیوں کی جلد پھٹی ہوئی تھی۔ اس کے چھوٹے ناخنوں کے سرے مٹی بھرنے سے سیاہ ہو چکے تھے۔ یہ ہاتھ کسی ایسے فرد کے تھے، جس نے کبھی ہینڈ کریم کا نام نہیں سنا تھا۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے یا مسٹر تناکا کو نہیں سُن رہی، ان کا تعارفی کارڈ اس کی توجہ سے محروم وہیں پڑا ہوا تھا۔ مسٹر تناکا نے اپنے شفاف فولڈر سے کاغذات کا ایک پلندہ نکالا اور سوالات کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔
“تمھارا نام کیا ہےَ؟”

میں نے اس کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ مختصر خاموشی کے بعد اس نے جواب دیا، “لیلیٰ۔” اس کی مشکل سے سنائی دینے والی آواز حیرت انگیز حد تک خشک اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یونی ورسٹی کے طالب عملوں کے لیے یہ کتنی دل فریب اور ہیجان خیز ہو گی۔ جوں ہی انھوں نے اس کا جواب سنا، مسٹر تناکا اس کی طرف جھکے، خوشی سے اسے دیکھا، پھر اپنے کاغذات کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے دوسرا سوال کیا تو ان کے پرجوش لہجے سے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے ان کی بیٹری چارج ہو گئی ہو۔

“تمھارا خاندانی نام کیا ہے؟”
“غلام علی۔”
“تمھاری پیدائش کب ہوئی؟”
“گرمیوں میں۔”
“میرا مطلب ہے۔ تاریخ یا سال۔۔۔” انھوں نے میری جانب دیکھا۔ سیدھے سادے الفاظ “تاریخ پیدائش” کا دری متبادل میرے ذہن سے نکل گیا۔ میں نے جلدی جلدی لغت میں، جو میں بیگ سے نکال کر لائی تھی، اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیا۔ جب مجھے وہ لفظ مل گیا، میں نے مسٹر تناکا کا سوال دہرایا۔ میں نے لغت بند کر کے اپنی آنکھیں اٹھائیں تو اسے حیرت سے اپنی جانب تکتے پایا۔ شاید میرا الفاظ تلاش کرنے کا عمل اس کی دل چسپی کا باعث تھا۔ ہماری نظریں ٹکرائیں تو خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

“مجھے معلوم نہیں۔ میری ماں نے صرف اتنا بتایا ہے کہ میں گرمیوں میں پیدا ہوئی تھی۔”

لیلیٰ نے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اس کے خوب صورت نقوش والے چہرے جلد دھوپ سے جھلسائی ہوئی تھی۔ وہ بولی تو اس کی آنکھوں اور دہانے کے گرد جھریاں نمایاں ہو گئیں۔ وہ جوانی کی حدود میں داخل ہو رہی تھی لیکن اس کی جلد تیس سال کی نظر آتی تھی۔ اس کی عمر زیادہ نہیں تھی مگر اس کی خشک جلد کسی ادھیڑ عمر محنت کش عورت سے زیادہ کھردری تھی۔

مسٹر تناکا متذبذب نظر آئے۔ “کیا تم جانتی ہو، تمھاری عمر کیا ہےَ؟”
اس نے اپنی بھویں اچکائیں۔ “سترہ یا شاید اٹھارہ سال۔”
“کون سی؟”
مسٹر تناکا اس بات پر مایوس دکھائی دیئے کہ ایسی لڑکی کا دفاع کیسے کریں، جو اتنا بھی نہیں جانتی کہ اس کی عمر کیا ہے۔
مجھے پَتا نہیں۔ میرے بھائی کا کہنا ہے، میں سترہ سال کی ہوں لیکن ماں نے ہمیشہ ایک سال زیادہ بتایا۔

پریشان ہو کر مسٹر تناکا نے دروازے کے سامنے کھڑے سپاہی کی طرف دیکھا، جیسے اس سے مدد مانگ رہے ہوں۔ سپاہی یقینی لہجے میں بولا۔ “بہت سے لوگوں کو اپنی عمر کا علم نہیں ہوتا۔ ان کے پاس کوئی مصدقہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔”
“اچھا! میں کیا کر سکتا ہوں؟”

مسٹر تناکا نے ایک ہاتھ سے اپنا سر پکڑ لیا، پھر تھوڑا سا جھکے، دوسرےہاتھ سے اپنے ٹراؤزر کی جیب سے دستی تولیہ نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔

“اس قدر محتاط ہونے کی ضرورت نہیں، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔” سپاہی جو اس نوع کے جوابات کا عادی تھا، کہنے لگا۔
“اچھا! تو سترہ لکھوں یا اس کی ماں کی مانوں اور اٹھارہ لکھوں؟”
انھوں نے اپنے سامنے رکھے کاغذ پر کچھ لکھاَ۔
“تمھاری پیدائش کہاں ہوئی؟”
“مزار شریف۔” اس نے مشکل سے سنائی دینے والی آہستہ آواز میں جواب دیا۔
“مزار۔۔۔” یقیناً، تم کٹھن حالات سے گزری ہو گی؟”
مسٹر تناکا نے اپنے کاغذات پر نظر ڈالی۔
“تم ہزارہ ہو۔ کیا ایسا نہیں؟”
وہ سمٹی، تھوڑی دیر ایک لفظ بولے بغیر اقرار میں سر ہلایا۔
“ٹھیک۔۔۔” مسٹر تناکا بڑبڑائے۔
“تمھارے والدین کہاں ہیں؟”
اس نے فرش کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ “ماں مر چکی ہےَ۔”
“اوہ! بڑا افسوس ہوا۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔”
اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے وہ ہم دردی کے دو لفظ ادا کرنا نہ بھولے۔ پھر وہ کچھ بڑبڑائے، جس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
“اور تمھارے والد؟”

میں سوال کا ترجمہ کیا تو لیلیٰ نے اچانک نظریں اٹھائیں اور اپنی پراسرار خالی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس رنگ کی آنکھیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ انھیں نہ تو بھورا کہا جا سکتا تھا اور نہ ہی کالا، البتہ اس کے بالوں کے گرد لپٹے مٹیالے دوپٹے کا عکس کہا جا سکتا ہے۔

مسٹر تناکا نے اس کی تشویش کو بھانپ لیا اور تیزی سے کہنے لگے، “تم تو جانتی ہو، ہم دوست ہیں۔ ہم یہاں تمھاری مدد کے لیے ہیں۔ اس لیے مجھے کچھ بتاتے ہوئے نہ گھبراؤ۔”

ترجمہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں بھی دوستوں کے اس حلقے میں شامل ہوں، جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ایک بے کار طالب علم اور ایک ٹھس وکیل، جو ہاتھوں کو ملائم کرنے والی کریم سے ناآشنا اس لڑکی کے دوست ہیں۔

” پاکستان میں ہیں۔”
اس نے اپنی انگلیوں کے درمیان مٹیالا کپڑا لپیٹنا چھوڑ دیا لیکن چمک سے محروم، بے حرکت، خالی آنکھوں سے وہ اب بھی کہیں دور دیکھ رہی تھی۔
“کس لیے؟”
“مجھے معلوم نہیں۔”
“وہ کیا کرتے ہیں؟”

لیلیٰ نے سر جھکا لیا۔ چند منٹ تک کوئی نہ بولا۔ظاہر ہے، وہ اپنے باپ کے بارے میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ مسٹر تناکا نے گہری سانس لی۔

“جب تک تم وہ سب نہیں بتاتیں، جو تم جانتی ہو، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
اس نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہ کیا۔ یقینی طور پر اس نے طے کر لیا تھا کہ اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔
“تمھارے کوئی بھائی بہنیں ہیں؟”
باپ کو چھوڑ کر مسٹر تناکا موضوع بدل چکے تھے۔
“مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں۔”
“اب وہ کہاں ہیں؟”
“ایک مر چکا ہے۔ دوسرا والد کے ساتھ ہے۔”
“اوہ! بہت افسوس ہوا۔ کیا تم بتا سکتی ہو، اس کی موت کیسی ہوئی؟”
“جنگ میں، بم کا ایک ٹکڑا اس کے سر پر لگا تھا۔ میں نے اس کی لاش نہیں دیکھی۔”
جس وقت میں اس کی بلا تاثر آواز میں سنائے گئےتلخ حقائق کا ترجمہ کر رہی تھی، میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پسینہ بہتا محسوس کیا۔
“تمھارا بھائی، والد کے ساتھ کیا کرتا ہے؟”
“وہ میرے والد کی مدد کرتا ہے۔”
“کیا کام کی تفصیل بتا سکتی ہو؟”
ایک مرتبہ پھر لیلیٰ کے کوئی لفظ ادا کیے بغیر کئی منٹ گزر گئے۔
مسٹر تناکا نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
“وقت ہو گیا ہے۔”

میں نے ان کی نگاہ کے تعاقب میں ان کی گھڑی دیکھی۔ اتنا وقت ہو گیا! دو گھنٹے گزر چکے تھے لیکن وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ ملاقات کے بارے میں جو ہمارا خیال تھا، اس طرح نہیں ہوا۔ مسٹر تناکا نے مجھے متنبہ کیا تھا کہ پہلی ملاقات ہمیشہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بہت سی معلومات حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔

عموماً لوگ پسند نہیں کرتے کہ وکیل ان سے سوالات کریں۔ آپ کو کسی ایسے شخص کے تابڑ توڑ سوالات کا سامنا ہوتا ہے، جسے حقیقت میں آپ نہیں جانتے۔ ان سوالات کا معین جواب درکار ہوتا ہے، جس کے لیے زبردست یاداشت ضروری ہوتی ہے۔ وکیل، جوتوں سمیت آپ کی نجی زندگی میں گھس جاتے ہیں، تاکہ ان معلومات کو حاصل کر لیں، جو عدالت کا متاثر کر سکیں۔ تاہم، آپ نے دیکھا، سوالات اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں کوئی معاملہ نجی نہیں رہتا۔ وکیل نے موکل کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ سوالات کا جواب دیتا ہے، مگر وہ کبھی دل کی بات نہیں بتاتا۔ یقیناً مسٹر تناکا اپنے کام کو سمجھتے اور یہ جانتے ہوں گے کہ انھیں اپنا کام شائستگی سے کرنا ہو گا، تاکہ ان کی موکل اپنے ہاتھ باندھ کر سر ہلاتے ہوئے، منہ بند نہ کر لے۔ انھوں نے مجھے کہا تھا:

“ہم انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں، اس میں کچھ نوجوان اتنے غیر محتاط ہیں کہ اپنے موکل کی ذاتی معلومات اس کے سامنے کمپیوٹر پر ٹائپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ کتنے کٹھور اور سنگ دل دکھائی دیتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم موکل کے سامنے معلومات کا اندراج نہیں کرتا۔ اگرچہ بعد میں یاداشتوں کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے، البتہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ میں قیمتی وقت موکل کے ساتھ، دوستوں کی مانند، باتیں کرنے میں گزارتا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ موکل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں۔ باتیں کرتے ہوئے موکل سے آنکھوں کے ذریعے رابطہ بہت ضروری ہے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو اس قابل ہوں گے کہ مخاطب کےچہرے کے تاثرات اور ردِعمل کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد ہی آپ ہر موضوع پر گفتگو کر سکیں گے۔”

حیرت انگیز طور پر مسٹر تناکا نےاس ملاقات سے قبل پرجوش آواز میں موکلوں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طریقِ کار کے بارے میں بتایا تھا۔ مگر کیا یہ نسخہ شیشے کی دیوار کے اس پار اپنی نگاہیں جھکائے، انگلیوں کے گرد دوپٹے کا پلو لپیٹتی اس لڑکی پر بھی کار گر ہو گا؟
“آج میرے ساتھ بات کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ میرا ارادہ ہے اگلے منگل کے روز پھر چکر لگاؤں۔”
لیلیٰ سے بات کرتے ہوئے مسٹر تناکا نے اس کے عقب میں کھڑے سپاہی کی جانب دیکھا، جیسے تصدیق چاہ رہے ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے۔
“بالکل! باہر ڈیوٹی پر موجود گارڈ کے پاس دراز میں اپنا نام اور وقت چھوڑ جائیں۔”
“شکریہ!” مسٹر تناکا اٹھ کھڑے ہوئے اور کچھ بڑبڑائے۔
سپاہی نے لیلیٰ کو اشارہ کیا اور کمرے کا عقبی دروازہ کھولا۔ وہ ایک لفظ بولے بغیر کھڑی ہوئی اور ہمارے طرف دیکھے بغیر دروازے کے پیچھے غائب ہو گئی۔

ہمارے پیچھے کھڑے سپاہی نے ہمارے دروازے کا تالا کھولا، تھوڑی دیر بعد ہم اس امانت خانے میں تھے، جہاں ہم پہلے آئے تھے۔ ہمارے موبائل اور چابیاں میز پر موجود تھیں۔ ہم نے اپنا سامان وصول کیا اور رجسٹر پر رسید دی۔ مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ ہم دونوں عمارت سے اکٹھے نکلے اور ان کی کار میں بیٹھ گئے۔باہر نکلنے سے قبل صدر دروازے پر آخری مرتبہ تلاشی کے مرحلے سے گزرے۔ جہاں عقبی آئینے میں ہمارے پیچھے دیوار پر چمک دار روشن حروف میں کندہ “بارڈر ایجنسی” کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔

مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن چھوڑا لیکن میں اسی وقت گاڑی میں سوار نہیں ہوئی۔ دن کے باقی حصے میں میری کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ اس کا مطلب نہیں کہ میں جو چاہے کر سکتی تھی، لیکن میں واپس یونی ورسٹی نہیں جانا چاہتی تھی۔ مجھے تو بس بارڈر ایجنسی سنٹر کے کے باہر تازہ ہوا میں سانس لینے کی طلب تھی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا چناں چہ سٹیشن کے وسیع شاپنگ مال میں لوگوں کا ہجوم تھا، طالب علم جو اپنی کلاسز سے جلد فارغ ہو گئے تھے، دیہاڑی دار جن کے پاس جن کے پاس کرنے کچھ زیادہ نہیں تھا اور نوکری پیشہ افراد کھانے کے ٹھکانے دیکھ رہے تھے، خانہ دار خواتین سپر مارکیٹ میں سودا سلف خرید رہی تھیں۔

صرف چند میل دور واقع تاریک، خوف ناک بارڈر ایجنسی سنٹر کی دنیا یہاں سے بالکل مختلف تھی۔ مصروف سٹیشن، روشن اور فراخ مصروف تھا، جس میں ایک چھوٹا باغیچہ اور پلے ایریا بھی تھا۔ ہر جانب مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرانے والے اسکولوں اور انگریزی سکھانے والےکالجوں کے اشتہارات لگے ہوئے تھے۔ مختلف اقسام کے اتنے اسکول کہ یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کوئی ایسی لڑکی ہےجو اپنی مادری زبان بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتی۔ وہاں ایزاکائس ، کراووک بار اور وڈیو گیمز سنٹر کے بورڈ آویزاں تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں لیلیٰ نے سنا تک نہیں تھا۔ اس نے تو کبھی ہینڈ کریم بھی استعمال نہیں تھی۔

میں ایک چھوٹی کافی شاپ میں گھس گئی، کافی کا آرڈر دیا اور کھڑکی سے قریبی نشست پر بیٹھ گئی۔ بھنی ہوئی کافی کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ کافی اتنی گرم تھی کہ اس وقت گھونٹ بھرنا مشکل تھا، اس کے تھوڑا ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتے ہوئے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے میں حقیقت کی دنیا میں واپس پہنچ گئی۔ حقیقت کی وہ دنیا، جہاں میں ایک خوش حال ملک میں رہ رہی تھی۔ میں نے کافی کا مگ اٹھایا اور اسے اپنے ہونٹوں کے قریب لائی۔ اس کی مہک لاجواب تھی۔

Categories
فکشن

بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔

اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔

’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘

اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔

اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔

ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔

فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔

قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔

ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔

گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔

جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔

اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

التوائے مرگ (حوزے سارا ماگو)

پرتگالی سے انگریزی: مارگریٹ یُل کوسٹا
انگریزی سے اردو: مبشر احمد میر

نئے سال کے پہلے دن کوئی نہیں مرتا۔ جس کے نتیجے میں سیاسی حکمرانوں، مذہبی پیشواؤں، تکفین و تدفین کاروں اور علاج گاہوں کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ دوسری جانب عوام میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے کیوں کہ انھیں بنی نوع انسان کے دیرینہ عظیم خواب کی تعبیر، دائمی زندگی، مل گئی ہے۔ گھروں کی بالکونیوں پر پرچم لہرائے جاتے ہیں، گلیوں میں لوگ ناچتے پھرتے ہیں۔ پھر ان کا سامنا تلخ حقیقت سے ہوتا ہے؛ شفا خانوں میں لاعلاج مریضوں کا ہجوم بڑھتا چلا جاتا ہے، لوگوں کو مردوں سے بدتر دائم المریض عزیزوں کی مستقل نگہ داشت کرنی پڑتی ہے۔ زندگی بیمہ کی پالیساں بے معنی ہو جاتی ہیں، معیشت پر بے کار افراد کا بوجھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ تکفین و تدفین کی صنعت کتوں، بلیوں، چوہوں اور طوطوں کی تدفین تک محدود ہو جاتی ہے۔

موت اپنے برفانی حجرے میں زنگ آلود آنکڑے کے ساتھ تنہا رہتی ہے، جہاں وہ اپنے تجربات میں مصروف ہے۔ آئندہ کوئی نہ مرا تو کیا ہو گا؟ موت عورت بن کر محبت میں گرفتار ہو گئی تو کیا ہو گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“موت کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے نئے حقائق اور نئی لسانی ساختیات سے واسطہ نہ پڑنا تعجب خیز ہو گا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1

اگلے روز، کوئی نہیں مرا، اس حقیقت نے، ان حالات میں، زندگی کے اصولوں کے بالکل برعکس ہوتے ہوئے، لوگوں کے ذہنوں میں قابلِ جواز شدید ہیجان پیدا کیا، اس لیے کہ تاریخِ عالم کے چالیس ادوار کا مطالعہ کریں تو کہیں بطور مثال بھی ذکر نہیں ملے گا کہ اس نوع کا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہو، جب اپنے دن کے اور رات کے، صبح کے اور شام کے چوبیس گھنٹوں کے طویل دورانیے کا پورا ایک دن کسی موت، بیماری سے، ہلاکت خیز گرنے سے، یا کامیاب خود کشی کے بغیر گزرا ہو۔ کوئی نہیں، ایک بھی موت نہیں، نہ ہی کسی کار کے حادثے میں، جو تہواروں کے مواقع پر اکثر ہوتے ہیں، جب بے فکرے، غیر ذمہ دار اور ڈٹ کر شراب پیے سوار سڑک پر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، دیکھیں موت تک پہلے کون پہنچتا ہے۔ سالِ نو کا جشن اپنے پیچھے معمول کے، آفت کے تباہ کن اثرات چھوڑنے میں ناکام ہوا، جیسے خوف ناک دانتوں والی موت کی کھوسٹ دیوی نے فیصلہ کیا ہو کہ ایک دن کے لیے اپنا حصّہ چھوڑ دے۔ تاہم، وہاں خون کی کوئی کمی نہ تھی، سٹپٹائے، بدحواس، بوکھلائے، اپنی متلی پر قابو پانے کی کوشش کرتے فائرمینوں نے بد نصیب انسانی جسموں کے بچے کھچے بگڑے حصّے نکالے جنھیں حادثے کی شدت کے پیشِ نظر، منطقی اعتبار سےقطعاً اور یقیناً مردہ ہونا چاہیے تھا، لیکن شدید زخموں اور گہری چوٹوں کے باوجود زندہ رہے اور ایمبولینسوں کے سائرنوں کی چیختی چلاتی آوازوں کے جلو میں ہسپتال لائے گئے۔ ان تمام افراد میں سے ایک بھی راستے میں نہیں مرا، سب نے طبی تحقیقات پر مبنی منفی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کیا، اس غریب کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا، سرجن نے نرس سے کہا، جب وہ اس کا ماسک درست کر رہی تھی، یہ آپریشن کے قابل بھی نہیں، صرف وقت کا ضیاع ہے، ایک دن پہلے اسی مریض کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی، لیکن یہ بات واضح تھی کہ آج مریض نے مرنے سے انکار کر دیا اور جو یہاں ہو رہا تھا، وہی پورے ملک میں ہو رہاتھا۔ نصف شب کے آخری لمحے تک، سال کے آخری دن، وہاں لوگ تمام قواعد سے گزرتے ہوئے، جو معاملے کے مرکزی نکتے، زندگی کی موقوفی اور ان متعدد طریق میں سے جو مذکورہ بالا مرکزی نکتے سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے آخری لمحات کے لیے، وقار اور تمکنت کے مختلف درجات، چنتے ہوئے مرے۔ ایک خصوصی دل چسپی کا حامل کیس، دل چسپ کیوں کہ جس فرد کے بارے میں ہے، بہت عمر رسیدہ اور انتہائی قابلِ احترام مادر ملکہ تھیں۔ اکتیس دسمبر کے روز نصف شب سے ایک منٹ قبل، کوئی بھی اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ شاہی خاتون کی زندگی پر بجھی ہوئی ماچس کی تیلی کی شرط لگاتا۔ تمام امیدیں ہار کر، سنگین طبی حقائق کے سامنے بے بس ڈاکٹروں کے ہم راہ، شاہی خاندان کے افراد، حسب مراتب بستر کے گرد کھڑے، خاندان کی سربراہ کی آخری سانس کے منتظر تھے، ممکن ہے چند الفاظ، الوداعی بصیرت افروز الفاظ، اپنے پیارے شہزادوں، اپنے پوتوں کی اخلاقی تربیت سے متعلق، ممکن ہے، مستقبل کے موضوعات سے متعلق، ناشکرگزار یادوں کے بارے میں ایک خوب صورت دل آویز قول ادا کریں۔ اور پھر، جیسے وقت تھم گیا، کچھ نہ ہوا۔ مادر ملکہ کی کیفیت نہ تو بہتر ہوئی، نہ ہی بگڑی، وہ اسی کیفیت میں لٹک سی گئیں، اُن کا نحیف وجود، ڈراتے ہوئے کہ کسی لمحے دوسری جانب لڑھک جائے گا، زندگی کے کنارے پر اٹک گیا، اس جانب ایک کمزور دھاگے سے بندھے ہوئے جس پر موت سے ہٹ کر، کیوں کہ یہ موت ہی سے ممکن تھا، ایک اجنبی افتاد گرفت برقرار رکھے ہوئے تھی۔ ہم دوسرے دن میں پہنچ گئے، اور اس دن، جیسا کہ ہم اس کہانی کے آغاز میں کَہ آئے ہیں، کوئی نہیں مرے گا۔

اس سے کہیں پہلے تیسرا پہر ڈھل چکا تھا، جب افواہ پھیلنا شروع ہوئی، جب سے نیا سال چڑھا ہے، یا معین طور پر جنوری کے پہلے دن کے صفر بجے سے، سارے ملک میں کسی کے مرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ بطور مثال، آپ گمان کر سکتے ہیں، افواہ کی شروعات اپنی بچی کھچی زندگی سے دست بردار ہوتے ہوئے مادر ملکہ کی حیران کُن مزاحمت سے ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہی محلات سے میڈیا کو جاری ہونے والے معمول کے اعلامیے میں بیان کیا گیا کہ شاہی مریضہ کی عمومی حالت نے رات کو افاقے کی واضح علامات ظاہر کیں،اس میں اس خیال کا اظہار کیا گیا، یقینا اشارہ دیا، محتاط الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے کہ خاتونِ عالیہ کی صحت مکمل طور پر بحال ہونے کا امکان ہے۔ اپنی ابتدا میں، غالباً افواہ قدرتی طور پر اُڑی، کسی گورکُن کے ذریعے، لگتا ہے کہ نئے سال کے پہلے دن کوئی مرنا نہیں چاہتا، یا کسی ہسپتال سے، بستر نمبر ستائیس والا، محسوس ہوتا ہے، اِدھر اور اُدھر کے مابین فیصلہ نہیں کر پایا، یا ٹریفک پولیس کے ترجمان سے، کتنی عجیب بات ہے، تم جانتے ہو، سڑک پر ہونے والے تمام حادثات کے باوجود ایک بھی موت نہیں ہوئی، جسے ہم دوسروں کے لیے بطور عبرت دکھا سکیں۔ افواہ، جس کے اصل ماخذ کا کبھی سراغ نہ ملا، اگرچہ، یقیناً، بعد میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں اس کی کوئی اہمیت نہیں، جلد ہی اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک پہنچ گئی اور اسی وقت ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور سنیر ایڈیٹرز کے کان کھڑے کر دیے، کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخِ عالم کے اہم واقعات کو دور سے سونگھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اُن کی اس صلاحیت کو چمکایا جاتا ہے کہ جب مناسب ہو، واقعات کو اس سے کہیں زیادہ اہم بنا کر دکھائیں، جتنے حقیقت میں وہ ہوں۔ چند منٹوں میں درجنوں تفتیشی صحافی، کسی ایرے غیرے کی موت کے بارے میں پوچھتے، باہر گلیوں میں گھوم رہے تھے، جب کہ اخبارات کے دفاتر میں ٹیلی فونوں کی قطاروں کی گھنٹیاں، پر تجسس، پُروحشت معلومات کے متلاشیوں کی فون کالز سے مسلسل بجنے لگیں۔ ٹیلی فون کیے گئے، ہسپتالوں میں، ریڈ کراس کو، مردہ خانوں کو، تکفین و تدفین کے منتظمین کو،پولیس کو، جی ہاں، ان سب کو، سیکرٹ برانچ کے قابلِ فہم استثنا کے ساتھ، لیکن دیے گئے جوابات کو یک ساں جچے تُلے الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے، کوئی موت نہیں ہوئی۔ ایک نوجوان ٹیلی ویژن رپورٹر زیادہ خوش قسمت تھی، جب اس نے ایک راہ گیر سے دریافت کیا، جو مسلسل باری باری اسے اور کیمرے کو دیکھ رہا تھا اور جس نے اپنا ذاتی مشاہدہ، جو مادر ملکہ کو پیش آنے والے واقعہ سے مشابہ تھا، بیان کیا، کلیسا کا گھڑیال نصف شب کا گجر بجا رہا تھا، اس نے کہا، جب، دل کی آخری دھڑکن سے لمحہ بھر پہلے میرے دادا نے، جو محسوس ہوتا تھا آخری لمحات میں ہیں، اچانک آنکھیں کھولیں، جیسے انھوں نے اس قدم کے بارے میں، جو وہ اُٹھانے والے تھے، اپنا ذہن بدل لیا ہو اور نہیں مرے۔ رپورٹر اتنی پرجوش ہوئی، اس سے جو اس نے سناکہ اس کی منتیں اور احتجاج نظر انداز کرتے ہوئے، نہیں سینورا، میں نہیں جا سکتا، مجھے دوا فروش کے پاس جانا ہے، میرے دادا اپنی دوائیوں کا انتظار کر رہے ہیں، اس نے اسے نیوز وین میں دھکیلا، میرے ساتھ آؤ،تمھارے دادا کو مزید دوائیوں کی ضرورت نہیں، وہ چلائی اور ڈرائیور کو حکم دیا،سیدھے ٹی وی سٹوڈیو چلو، جہاں عین اس وقت افراتفری میں بلائے گئے، تین ماہرین، دو نامور جادوگر اور ایک معروف غیب دان کے مابین، مافوق الفطرت مظاہر پر مذاکرے کے لیے ہر چیز تیار تھی کہ اس مخصوص تبدیلی، وہ تبدیلی جسے کسی کا لحاظ نہیں، جسے پہلے ہی نام دیا جا چکا تھا، موت کی ہڑتال، کا تجزیہ کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ دلیر رپورٹر، تاہم، التباس کی شدت کے زیرِ اثر محنت کر رہی تھی، کیوں کہ اس نے اطلاع کنندہ کے الفاظ کا یہ مفہوم لیا کہ مرنے والے آدمی نے، اس قدم سے جو وہ اُٹھانے والا تھا، جسے مرنا، کھیل ختم ہونا، زندگی کو ٹھوکر مارنا، کہتے ہیں کے بارے میں مکمل لغوی معانی میں اپنا ذہن بدل لیا اور اس طرح اس نے واپس مڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اب، جو الفاظ مسرور پوتے نے ادا کیے، جیسے انھوں نے اپنا ذہن بدل لیا، دو ٹوک الفاظ، اس نے اپنا ذہن بدل لیا، سے بالکل مختلف تھے۔ نحو کا بنیادی علم اور افعال کی نازک تبدیلیوں سے بہتر آشنائی ایسی فاش غلطی سے بچا لیتی، اس طرح وہ سرزنش جو غریب لڑکی نے، ندامت اور احساسِ ذلت سے، بیر بہوٹی کی طرح لال ہوتے، اپنے سے ایک درجہ بڑے آفیسر سے سنی، کم ہو سکتی تھی۔ وہ، آفیسر یا رپورٹر، اس کا کچھ اندازہ کر سکتے تھے کہ انٹرویو دینے والے کے ان الفاظ سے، براہِ راست اور بعد ازاں شام کی خبروں کے بعد نشرِ مکرر میں، لکھوکھا آدمی معین طور پر ان ہی غلط معانی کو اخذ کریں گے، جس کا ایک فوری اور پریشان کُن تسلسل ایک گروہ پیدا کرے گا، جو شدت سے قائل ہو گا کہ سیدھے سبھاؤ قوتِ ارادی کے استعمال کرنے سے وہ بھی موت پر برتری حاصل کر سکتے ہیں اور ماضی میں اتنے زیادہ لوگوں کے بلا جواز غائب ہونے کا ذمہ دار صرف سابقہ نسلوں کی کمزور قوتِ ارادی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن معاملہ یہیں نہیں ٹھہرے گا، لوگوں نے بغیر کسی قابلِ مشاہدہ سعی کے، نہ مرنا جاری رکھا، اس طرح ایک اور مقبول عوامی تحریک، مستقبل کے بارے میں بہتر روشن مطمحِ نظر کے ساتھ اعلان کرے گی کہ وقت کے آغاز سے نوعِ انسان کا سب سے بڑا خواب، اسی دنیا میں پرمسرت دائمی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا، ایک ایسا عطیہ بن گیا ہے جوسورج جو ہر روز طلوع ہوتا ہے اور ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں کی مانند، ہر شخص کے لیے ہے۔ کہنے کواگر چہ دونوں تحریکیں، ایک ہی حلقہ انتخاب میں، ایک دوسرے کے مقابل تھیں، تاہم ایک نکتہ ایسا تھا، جس پر دونوں متفق ہو سکتی تھیں اور وہ نکتہ تھا، حوصلہ مند جہاں دیدہ بزرگ کو متفقہ طور پر مجاہدِ اوّل قرار دیتے ہوئے بحیثیت اعزازی صدر نام زدگی، جنھوں نے آخری لمحات میں موت کو للکارتے ہوئے شکست دی۔ جہاں تک کسی کو بھی علم ہے، اس حقیقت کو کوئی اہمیت نہ دی گئی کہ دادا جان ایک گہرے کومے کی حالت، جو ہر پہلو سےناقابلِ واپسی دکھائی دیتی ہے، میں پڑے رہے۔

اگرچہ یہ واضح ہے کہ بحران کا لفظ ان غیر معمولی واقعات کو بیان کرنےکے لیے مناسب نہیں، کیوں کہ یہ مضحکہ خیز، بے محل اور انتہائی بنیادی دانش کے بارے میں توہین آمیز ہو گا کہ ایک ایسی صورتِ حال کو، جو موت کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ظاہر ہوئی ہے، بحران قرار دیا جائے، ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیوں کچھ شہری حقیقت کو جاننے کے اپنے حق کی دھن میں اپنے آپ سے اور ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے، حکومت کو کیا موت پڑی ہے کہ اس نے اب تک زندگی کی کوئی علامت ظاہر نہیں کی۔ جب دو اجلاسات کے درمیان مختصر وقفے کے دوران گزرتے ہوئے وزیر صحت سے دریافت کیا گیا، یہ صحیح ہے، اس نے صحافیوں کے سامنے وضاحت کی، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ان کے پاس معلومات کی کمی ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچیں، کسی قسم کا سرکاری بیان، لامحالہ، قبل از وقت ہو گا، ہم ملک بھر سے بھیجی جانے والی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، اس نے مزید اضافہ کیا، یہ کہنا درست ہے کہ کسی موت کی اطلاع درج نہیں ہوئی، لیکن جیسا کہ آپ اندازہ کر سکتے ہیں، ہم بھی باقی سب کی مانند واقعات کی اس تبدیلی سے حیران ہیں اور ان غیر معمولی واقعات کے بارے میں یا ان کے فوری اور دور رس اثرات کے بارے میں تاحال بنیادی نتیجہ اخذ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ گفتگو کو وہیں چھوڑ سکتا تھا، جو صورتِ حال کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے شکریے کے ساتھ سنی جاتی، لیکن ہر معاملےمیں، خصوصاً جب وہ اقتدار میں ہوں، سیاست دانوں کی یہ جانی پہچانی خواہش کہ خواہ کچھ ہو یا نہ ہو، لوگ پرسکون رہیں، ان کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے، معاملات کو مخصوص سمت موڑنے کی کوشش، جو خود کار یا میکانکی نہیں ہوتی، اسے انتہائی غلط انداز میں بیان ختم کرنے کی جانب لے گئی، بطور ایک ذمہ دار وزیر صحت میں ہر سننے والے کو یقین دلاتا ہوں کہ تشویش کا قطعاً کوئی سبب نہیں ہے، اگر میں آپ کو صحیح سمجھا ہوں، صحافی نے تبصرہ کیا، پوری کوشش کرتے ہوئے کہ طنزیہ نہ لگے، یہ حقیقت کہ کوئی نہیں مر رہا، آپ کی نظر میں قطعاً تشویش کُن نہیں ہے، بالکل، درست، ممکن ہے میرے الفاظ معین طور پر یہ نہ ہوں، لیکن، ہاں، جو میں نے کہا، بنیادی طور پر یہی ہے، کیا، میں آپ کو یاد دلا سکتا ہوں، وزیرِ محترم، لوگ کل بھی مر رہے تھے اور ایسا کبھی نہیں ہوا، یقینا نہیں ہو ا کہ کسی نے اسے خطرہ سمجھا ہو، مرنا معمول ہے اور موت تشویش ناک اسی وقت ہوتی ہے، بطور مثال، جب جنگ یا وبا کی صورت میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جب معاملات معمول سے انحراف کرتے ہیں، آپ اسے اس طرح دیکھ سکتے ہیں، جی، لیکن موجودہ صورتِ حال میں، جب بظاہر، کوئی مرنے کے لیے تیار نہیں، آپ ہمیں کہتے ہیں کہ تشویش میں مبتلا نہ ہوں، کیا آپ میرے ساتھ اتفاق نہیں کریں گے، وزیرِ محترم، اس نوع کی اپیل، کم از کم، بے معنی ہے، یہ صرف عادت کے زیرِ اثر ہے، اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے تشویش کا لفظ موجودہ صورتِ حال پر منطبق نہیں کرنا چاہیے تھا، تو پھر آپ کیا لفظ استعمال کریں گے، وزیرِ محترم، میں نے صرف اس لیے پوچھا کیوں کہ بطور ایک ذمہ دار صحافی، جو میں سمجھتا ہوں، میں ہوں، میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں، جہاں تک ممکن ہو درست اصطلاح استعمال کروں۔ صحافی کے اصرار پر تھوڑا جھنجلاتے ہوئے وزیر نے فوراً جواب دیا، میں ایک نہیں، چھ لفظ استعمال کروں گا، اور وہ کیا ہوں گے، وزیرِ محترم، ہمیں جھوٹی امیدیں نہ دلائیں۔ دوسرے دن کے اخبار کے لیے لاریب یہ ایک بہترین، حقیقی شہ سرخی تھی، لیکن ایڈیٹر ان چیف نے اپنے منیجنگ ڈائریکٹر سے مشورے کے بعد، کاروباری نقطۂ نظر سے، اشتیاق کے حاوی ہوتے جذبات پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیلتے ہوئے، اسے غیر مناسب قرار دیا، ہمیں معمول کی شہ سرخی، نیا سال نئی زندگی، استعمال کرنی چاہیے، اس نے کہا۔

سرکاری اعلامیے میں، جو رات گئے نشر ہوا، وزیراعظم نے تصدیق کی کہ نئے سال کے آغاز سے ملک بھر میں مرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اس نے اس انوکھی حقیقت کو جانچتے اور اس کی توجیح کرتے وقت معقولیت اور ذمہ داری سے کام لینے کی درخواست کی، اس نے عوام کو یاد دلایا، یہ مفروضہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب کچھ لے دے کر غیر حقیقی، ایک بے ڈھنگی سماوی تبدیلی ہے جس کے جاری رہنے کا امکان نہیں، مکان و زمان سے تجاوز کرتے ہوئے، معمول سے ہٹ کر اتفاقات کا ملاپ ہے، لیکن یہ کہ حکومت نے پہلے ہی متعلقہ عالمی تنظیموں سے معلومات کا تبادلہ شروع کر دیا ہے تا کہ حکومت اس قابل ہو کہ جب ضرورت پڑے، مربوط اقدام اٹھا سکے۔ یہ فضول، ناقابلِ فہم، غیر سائنسی بیان دے کر، جس کا مقصد اس افراتفری پر قابو پانا تھا، جو قوم کو گرفت میں لے رہی تھی، وزیراعظم نے اس بیان پر اختتام کیا، حکومت انسانی تصور میں آنے والے تمام احتمالات کے لیے تیار ہے، اورپرعزم ہے کہ جرأت سے، پر جوش عوامی تائید کے ساتھ ان پے چیدہ معاشرتی، معاشی، سیاسی، اور اخلاقی مسائل کا مقابلہ کرے گی، جو موت کے یقینی خاتمے کے نتیجے میں نمودار ہوں گے۔ جیسا کہ ہر چیز اشارہ کر رہی ہے، اگر یہ صورتِ حال یقینی ہے، ہم جسم کے دوام کا چیلنج قبول کریں گے، اس نے بلند آواز میں کہا، اگر خداوند کی رضا یہی ہے، تو ہم ہمیشہ سجدۂ شکر ادا کرتے رہیں گے کہ اس نے اس ملک کے نیک لوگوں کو اپنے تجربے کے لیے منتخب کیا۔ اس کا مطلب ہے، وزیراعظم نے سوچا، جب اس نے بیان پڑھنا بند کیا، پھندا مضبوط اور بالکل ہماری گردنوں کے گرد ہے۔ اس نے تصور کرنے کی کوشش کہ یہ پھندا کہاں تک کسا جائے گا۔ ابھی نصف گھنٹہ نہیں گزرا تھا، جب وہ گھر لے جانے والی سرکاری کار میں بیٹھا تھا، اس نے کارڈینل کا فون وصول کیا، شب بخیر، وزیرِ اعظم، شب بخیر، تقدس مآب، وزیرِ اعظم، میں فون کر رہا ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ میں شدید صدمے کی کیفیت میں ہوں، اوہ، میں بھی، تقدس مآب، یہ انتہائی سنگین صورتِ حال ہے، سنگین ترین صورت، جس کا کبھی بھی ملک کو سامنا کرنا پڑا، یہ نہیں جو میرا مطلب ہے، آپ کا مطلب کیا ہے، تقدس مآب، یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جب آپ نے وہ بیان لکھا جو میں نے ابھی سنا، آپ یاد رکھنا بھول گئے، مرکزی ستون کو، کونے کے پتھر کو، کلیدی پتھر کو، جس پر ہمارے مقدس مذہب کی بنیاد تشکیل پاتی ہے، مجھے معاف فرمائیں، تقدس مآب، مگر میں سمجھ نہیں پایا کہ آپ کس جانب اشارہ کر رہے ہیں، موت بنا، وزیرِ اعظم، موت کے بغیر جی اُٹھنا نہیں، اور جی اُٹھنے کے بغیر کلیسا نہیں، صدائے جہنم، مجھے افسوس ہے، میں صحیح سُن نہیں پایا، جو آپ نے فرمایا، کیا آپ دوبارہ دہرا سکتے ہیں، عنایت ہو گی، مجھے، نہیں، میں نے کچھ نہیں کہا، تقدس مآب، غالباً لائن میں گڑبڑ تھی، آسمانی بجلی کی پیدا کردہ، سسٹم جام ہونے سے، یا سگنلز کی وجہ سے، بسا اوقات سٹلائیٹ سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، لیکن آپ فرما رہے تھے، تقدس مآب، ہاں، میں کَہ رہا تھاکہ ہر کیتھولک کو لازماً علم ہونا چاہیے، جس سے آپ کو بھی استثنا نہیں کہ جی اُٹھنے کے بغیر کلیسا نہیں، اس سے بڑھ کر، آپ کو، خداوند کے خود کو ختم کرنےکا خیال بھی کیسے آیا، اس طرح کی سوچ سو فی صد بے حرمتی، شاید مذہب کی بدترین توہین ہے، تقدس مآب، میں نے نہیں کہا کہ خداوند نے اپنے اختتام کا ارادہ کر لیا ہے، ان معین الفاظ میں نہیں، نہیں، لیکن آپ نے تسلیم کیا کہ انسانی جسم کی بقا خداوند کی رضا ہو سکتی ہے اور کسی کا خالص منطق میں ڈاکٹریٹ کرنا ضروری نہیں، یہ سمجھنے کے لیے کہ اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے، تقدس مآب، مجھ پر یقین کیجیے، میں نے یہ صرف تاثر کے لیے، ایک تاثر پیدا کرنے کے لیے کیا، یہ تو بس تقریر کو سمیٹنے کا ایک طریقہ تھا، بس اتنی بات ہے، آپ جانتے ہیں کہ ان باتوں کی سیاست میں کتنی اہمیت ہوتی ہے، یہ باتیں کلیسا میں بھی اسی طرح اہم ہوتی ہیں، وزیرِ اعظم، لیکن ہم منہ کھولنے سے پہلے اچھی طرح سوچتے ہیں، ہم صرف بولنے کے لیے نہیں بولتے، یقیناً، ہماری تخصیص ہے کہ ہم دیرپا اثرات کے بارے میں غور کرتے ہیں، اگر آپ پسند کریں تو آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں، یہ آگ سے کھیلنا ہے، جی، میں بہت شرمندہ ہوں، تقدس مآب، اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو میں بھی شرمندہ ہوتا۔ کاڈینل خاموش ہو گیا، جیسے اندازہ لگا رہا ہو کہ گرنیڈ پھٹنے میں کتنا وقت لے گا، پھر ایک مہذب دوستانہ لہجے میں گفتگو کا سلسلہ جوڑا، کیا میں دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ نے بیان، میڈیا پر پڑھنے سے پہلے، شاہ معظم کو دکھایا تھا، حسبِ معمول، تقدس مآب، جیسا کہ بیان کیا، ایسے نازک موضوع سے عہدہ برا ہوتے ہوئے، یقیناً، اور شاہ معظم نے کیا فرمایا، لامحالہ، سوچتے ہوئے، یہ کوئی ریاستی راز نہیں، ان کی رائے تھی، یہ مناسب ہے، کیا انھوں نے کوئی تبصرہ کیا، اسے پڑھنے کے بعد، بہترین، بہترین سے کیا مراد ہے آپ کی، یہ وہ لفظ تھاجو شاہ معظم نے فرمایا، کیا آپ کا مطلب ہے کہ وہ بھی،توہین، کے مرتکب ہوئے، تقدس مآب، میرا یہ مقام نہیں کہ اس کا فیصلہ کروں، میری اپنی کوتاہیوں کی موجودگی میں یہ انتہائی دشوار ہے، خوب، مجھے خود شاہ معظم سے ملنا اور انھیں یاد دلانا ہو گا کہ ایسی پریشان کُن نازک صورتِ حال میں صرف کلیسا کے مسلمہ عقائد پر وفادارانہ ثابت قدمی ہی ملک کو تباہ کُن افراتفری سے، جو ہمیں ڈبو سکتی ہے، بچا سکتی ہے، یہ آپ پر منحصر ہے، تقدس مآب، یہ آپ کا منصب ہے، ہاں، میں شاہ معظم سے دریافت کروں گا کہ وہ کسے ترجیح دیتے ہیں، کیا، مادر ملکہ کو دیکھنا، ہمیشہ مرتے ہوئے، بستر پر بے حال چت لیٹے ہوئے، جس سے وہ کبھی دوبارہ اُٹھ نہ پائیں گی، ان کا مادی وجود شرم ناک انداز میں ان کی روح سے چمٹے ہوئے، یا،انھیں مر کر، موت پر فتح پاتے ہوئے، ابدیت میں، جنت کی شان دار شکوہ میں، یقینا کوئی تامل نہیں کرے گا کہ کس جواب کا انتخاب کرے، لیکن، جو آپ سوچ سکتے ہیں اس کے برعکس، وزیرِ اعظم، میں سوالات کی نسبت جوابات میں کم دل چسپی لیتا ہوں، یاد رہے، ہمارے سوالات واضح مقاصد اور پوشیدہ محرکات دونوں کے حامل ہوتے ہیں، جب ہم سوال کرتے ہیں، تو صرف ایسا نہیں کہ فرد جس سے سوال کیا گیا، جو اس وقت جواب دیتا ہے، ہم اس سے چاہتے ہیں کہ وہ خود کو کہتے ہوئے سنے، یہ اس سلسلے میں بھی ہوتا ہے کہ مستقبل کے جوابات کے لیے تیار کریں، کچھ سیاست دانوں کی مانند، تقدس مآب، بالکل، سوائے اس کے کہ اگرچہ ایسا دکھائی دیتا ہے، ایسا نہیں ہے، کلیسا کو فوقیت حاصل ہے کہ یہ ترتیب دے کراسے جو بلندی پر ہے، اس کی نگرانی کرتا ہے جو نیچے پستی میں ہے۔ گفتگو میں ایک اور وقفہ آیا، جسے وزیرِ اعظم نے توڑا، میں گھر پہنچ رہا ہوں، تقدس مآب، لیکن اگر اجازت ہو، ایک سوال ہے جو میں آپ سے کرنا چاہوں گا، کیجیے، کلیسا کیا کرے گا اگر آئندہ کبھی کوئی نہ مرے، کبھی نہ، وزیرِ اعظم، بہت طویل دورانیہ ہے، حتا کہ جب کوئی موت سے نبرد آزما ہوتا ہے، آپ نے میرے سوال کا جواب، میں سمجھتا ہوں، نہیں دیا، تقدس مآب، آپ مجھے سوال اپنی جانب واپس لوٹانے دیں، ریاست کیا کرے گی، اگر کبھی کوئی نہ مرا، ریاست عہدہ برا ہونے کی کوشش کرے گی، اگر چہ مجھے شک ہے کہ وہ ایسا کر پائے گی، لیکن کلیسا، کلیسا، وزیرِاعظم،دائمی جوابات کا اس قدر عادی ہے کہ میں کسی اور صورت میں سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، خواہ حقیقت اس کو جھٹلا کر رہی ہو، ہم نے، حقیقت سے خارج کو جھٹلانے کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اس کے باوجود ہم اب تک یہاں موجود ہیں، اور پاپائے اعظم کیا فرمائیں گے، اگر میں پاپائے اعظم ہوتا، خداوند مجھے ایسی غیر حقیقی لغو، سوچ پر معاف فرمائے، میں فوراً ایک نیا نظریہ، موت کا التوا، پیش کر دیتا، بغیر کسی مزید وضاحت کے،کلیسا سے کبھی کوئی وضاحت نہیں مانگی گئی،ہماری خصوصیت ہمیشہ ہی، روح کی اڑان کے علاوہ، یقین کی معرفت متجسس ذہن کو بے اثر بنانا رہی ہے، شب بخیر، تقدس مآب، صبح ملاقات ہو گی، اگر خداوند نے چاہا، وزیرِ اعظم، اگر خداوند نے چاہا، حالات جس نہج پر ہیں انھیں دیکھتے ہوئے، یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس کے پاس کوئی انتخاب ہے، مت بھولیں، وزیرِ اعظم، ہمارے ملک کی سرحدوں سے ورے لوگ معمول کے مطابق مر رہے ہیں، جو ایک اچھی علامت ہے، اس کا انحصار آپ کے زاویۂ نظر پر ہے، تقدس مآب، شاید وہ ہمیں ایک نوع کے نخلستان، ایک گلشن، ایک نئی جنت کے روپ میں دیکھ رہے ہیں، یا ایک نئے جہنم کے روپ میں، اگر وہ کوئی فہم رکھتے ہیں، شب بخیر، آپ کے لیے پرسکون، تازہ دم کرنے والی نیند کی خواہش کے ساتھ، شب بخیر، تقدس مآب، شب بخیر، وزیرِ اعظم، اگر موت نے آج شب واپسی کا فیصلہ کیا، مجھے امید ہے، وہ آپ کے پاس حاضر ہونے کا ارادہ نہیں کرے گی، اگر انصاف صرف ایک خالی لفظ سے بڑھ کر کچھ ہے، مادر ملکہ مجھ سے پہلے رخصت ہوں گی، خوب، میں وعدہ کرتا ہوں، کل شاہ معظم کے پاس آپ کی شکایت نہیں کروں گا، یہ آپ کی بڑی نوازش ہے، تقدس مآب، شب بخیر، شب بخیر۔

اس وقت صبح کے تین بجے تھے جب کارڈینل کو اپنڈیکس کی اچانک ہونے والی تکلیف کے نتیجے میں،جس کا فوری آپریشن مطلوب تھا، عجلت سے ہسپتال لایا گیا، بے ہوشی کی دوا کے موثر ہونے سے پہلے، حواس گم ہونے کے عمل کے مختصر لمحات میں، اس نے سوچا، جو بہت سے دوسروں نے سوچا تھا، وہ آپریشن کے دوران مر جائے گا، تب اسے یاد آیا کہ اب ایسا ممکن نہیں ہے، اپنی ہوش کے آخری لمحے میں اس نے سوچا، ہر بات سے قطع نظر، اگر وہ مر گیا تو, متناقص منطق کی رو سے، اس کا مطلب ہو گا کہ اس نے موت پر غلبہ پا لیاہے۔ قربانی کی ناقابلِ مزاحمت خواہش سے مغلوب ہو کر، وہ خداوند سے دعا مانگنے والا تھا کہ اسے مار دے، لیکن اس کے پاس الفاظ ترتیب دینے کا وقت نہیں تھا، بے ہوشی نے اسے اس بڑی غلط کاری سے بچا لیا کہ موت کا کام اس خداوند کو منتقل کرنے کی خواہش کرے، جو بالعموم زندگی عطا کرنے والے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

2

اگرچہ حریف اخبارت نے اسے فوری طور پر مضحکہ خیز بنا دیا، جنھوں نے انتظام کیا کہ اپنے اہم لکھاریوں کے تخیل کی مدد سے انتہائی متنوع اور چٹخارے دار، کچھ چونکانے والی، کچھ شاعرانہ، سرخیاں گھڑی جائیں، جب کہ دوسری جو لگ بھگ فلسفیانہ یا متصوفانہ تھیں، متاثر کُن اور عام فہم نہیں تھیں، جیسا کہ معروف اخبار کے معاملے میں تھا جو سرخی، اب ہمارا کیا بنے گا، کا بہت بڑے سوالیہ نشان پر اختتام کر کے مطمٔن تھا، قبل ازیں بیان کردہ سرخی، نیا سال نئی، زندگی، نے اپنی بے تکی چمک دمک کے سبب، کچھ لوگوں کے دلوں کے تار کو چھیڑا، جو اپنی فطرت یا تربیت کے زیرِ اثر، بھلے ان کے پاس شواہد ہوں کہ لے دے کر یہ ہے، لا حاصل فریبِ نظر، ہمیشہ رجائیت پر مبنی نتائج کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب تک ابہام کے وہ دن رہے، ان میں رہتے ہوئے وہ سمجھتے تھے، وہ تمام ممکنہ اور متوقع دنیاؤں سے بہتر ہیں، مسرت کے ساتھ وہ جان کاری حاصل کر رہے تھے کہ بہترین، یقیناً بہترین، حالات عین اس وقت، اسی مقام پر، ان کے گھر کے دروازے پر وقوع پذیر ہو رہے ہیں، ہر روز قسمت کی دیوی کی قینچی سے کترے جانے کے خوف سے آزاد، ایک منفرد اور ناقابلِ یقین زندگی، سلامت رہے وہ سرزمین جس نے ہمیں ہمارا وجود عطا کیا، ہر نوع کی سماوی الجھنوں سے آزاد اور سب کے لیے مفت، جس میں کوئی سر بمہر حکم نامہ نہیں جو ہماری موت کے وقت، اس چوراہے پر، جسے دھرتی کے نام سے جانا جاتا ہے، مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے پیاروں کے الوداعی آنسوؤں میں جدا ہوں، کھولا جاتا ہے، اعلان کرتے ہوئے، چلیں اور اگلے جہان میں اپنی مختلف منزلوں کی جانب روانہ ہوں، تم جنت میں، تم روح کے تطہیر خانے میں، تم نیچے جہنم میں جاؤ۔ اسی وجہ سے، نسبتاً محتاط یا قدرے سنجیدہ اخبارات نیز اسی طرح کی سوچ رکھنے والے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سٹیشنز کے پاس، اجتماعی مسرت کی بلند لہروں میں، جو سارے ملک کو، شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک، خوف زدہ ذہنوں کو حوصلہ عطا کرتے ہوئے اور مطالعاتِ موت کے گہرے سائے کو نظروں سے اوجھل کرتے ہوئے، بہائے جا رہی تھیں، میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ گزرتے دنوں کے ساتھ، قنوطی اور شکی مزاج افراد نے، جب انھوں نے دیکھا کہ ابھی تک کوئی نہیں مرا، شروع شروع میں اکا دکا، پھر اجتماعی طور پر، بھر پور قوت کےساتھ اپنا وزن ان شہریوں کے پلڑے میں ڈالا ساتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ باہر گلیوں میں نکلیں اور بلند آواز سے منادی کریں، اب زندگی سچ مچ خوبصورت ہے۔

ایک روز ایک عورت، جو حال ہی میں بیوہ ہوئی تھی، اپنے وجود میں دوڑتی مسرت، گو یہ غم کی دبی دبی ٹیس کے بغیر نہیں تھی کہ سوچے، اگر وہ نہ مری تو اپنے شوہر کو، جس کا اس نے خوب سوگ منایا، کبھی دیکھ نہ پائے گی،کے اظہار کا کوئی اور راستہ نہ پا کر اسے سوجھا، اپنے کھانے کے کمرے کی پھولوں سے لدی بالکونی پر قومی پرچم لہرا دے۔ بقول شخصے، یہ کہنے سے پہلے کرنا تھا۔ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر سارے ملک میں پرچم لہرانے کی وبا پھیل گئی، پرچم کے رنگ اور اس کی علامات تمام منظر پر چھا گئیں، اگرچہ شہروں میں زیادہ، یقیناً، شہروں میں دیہات کے مقابلے میں بالکونیاں اور کھڑکیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ حب الوطنی کے اس بخار کی مزاحمت ممکن نہیں تھی، بالخصوص جب بظاہر دھمکی آمیز دکھائی نہ دینے والے، پریشان کُن بیانات، جیسے، جو ہمارا جاودانی قومی پرچم اپنے گھر کی کھڑکی سے نہیں لہراتے، زندہ رہنے کے مستحق نہیں، ہمارے ساتھ شامل ہوں، محبِ وطن بنیں، ایک پرچم خریدیں، ایک اور خریدیں، اور خریدیں، مرگ بر دشمنانِ حیات، ان کے نصیب اچھے ہیں کہ اب مزید موت نہیں، کا اعلان کرتے ہوئے نہ جانے کہاں سے آ رہے تھے، تقسیم ہونا شروع ہوئے۔گلیوں میں لہراتے پرچموں سے صحیح معنوں میں جشن برپا تھا، جو چلنے والی ہوا سے پھڑپھڑا رہے ہوتے، اگر ہوا نہ چل رہی ہوتی تو احتیاط سے مناسب زاویے پر رکھا بجلی کا پنکھا یہی کام کرتا اور اگر پنکھا اتنا طاقت ور نہ ہوتا کہ معیاری زور دار، لہراتے ہوئے کوڑے کی شائیں شائیں، جو آمادۂ پیکار ذہن کا جوش بڑھاتی ہے، جیسی پھڑپھڑاہٹ پیدا کر سکے، یہ کم از کم اس امر کا مظہر تھا کہ وطن کی محبت کے رنگ بڑی شان سے لہرا رہے ہیں۔ گنتی کے چند لوگ تنہائی میں بڑبڑاتے کہ یہ سب حد سے بڑھی ہوئی نامعقولیت ہے، جلد یا بدیر ان تمام پرچموں اور پھریروں کو ہٹانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا اور یہ جتنا جلد ہو بہتر ہو گا، کیوں کہ جس طرح میٹھے کی زیادتی کھانے کو بدمزہ کرتی اور ہاضمے کے نظام کو بگاڑتی ہے، اسی طرح اگر ہم نے عجز و انکسار کے برعکس دیدہ دلیری کے اس سلسلے کو، ان چھچھوروں کو، جنھیں رونے والا کوئی نہیں، بگڑنے دیا، تو ہماری حبِ وطن کی عمومی اور بہترین علامت مضحکہ خیز بن جائے گی۔ علاوہ ازیں، ان کا کہنا تھا، اگر اس وجہ سے پرچم لہرائے جا رہے ہیں کہ اس بات کا جشن منایا جائے کہ موت مزید قتلام نہیں کرے گی، تو ہمیں دو میں سے ایک کام کرنا ہو گا، یا تو انھیں اس سے پہلے اتار لیا جائے کہ ہم اِن سے اتنا اُکتا جائیں کہ اپنے ہی قومی نشانات سے بے زار ہونے لگیں، یا دوسری صورت میں اپنی باقی تمام زندگی، جو ہمیشہ ہمیش کی ہے، ہر مرتبہ جب یہ بارشوں سے گلنا شروع ہوں یا آندھیوں سے پھٹ کر دھجی دھجی ہونے لگیں یا سورج سے بدرنگ ہونے لگیں، انھیں بدلنا ہو گا۔ بہت کم لوگ اتنے جرأت مند تھے کہ کھلے بندوں مسئلے کی نشاندہی کر سکیں، ایک غریب آدمی کو تو اپنی اس وطن دشمنی کی قیمت غیظ و غضب سے بھرپور زبردست ٹھکائی کی صورت میں ادا کرنا پڑی جس کی خستہ و خراب زندگی کا اختتام، اگر موت نے سالِ نو کے آغاز سے اس ملک میں اپنی کارروائی بند نہ کی ہوتی، تو، اسی مقام پر اسی وقت ہو جاتا۔

البتہ، کوئی شے ہر پہلو سے مکمل نہیں ہوتی، ان لوگوں کے ساتھ ہی جو ہنستے ہیں، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو روتے ہیں اور بسا اوقات، جیسا کہ موجودہ معاملہ میں ہوا، بالکل ان ہی وجوہات کی بنا پر متعدد اہم شعبوں نے، جن کا اس صورت حال سے گہرا تعلق تھا، پہلے ہی ان اربابِ اختیار کو اپنے اضطراب سے آگاہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جیسا کہ ہر ایک توقع کر ے گا، اولین باضابطہ شکایات تکفین و تدفین کے کاروبار سے متعلقین کی جانب سے آئیں، جو ظالمانہ طریق پر اپنی روزی کے بنیادی ذریعے سے محروم کیے گئے تھے، کاروبار کے مالکان نے روایتی انداز میں اپنے سروں پر ہاتھ رکھ لیے اور اجتماعی طور پر آہ و بکا، اب ہمارا کیا بنے گا، شروع کر دی۔ لیکن پھر، ناگہانی اُفتاد کے نتیجے میں دکھائی دینے والی تباہی، جس سےجنازے کے دھندے سے تعلق رکھنے والا کوئی نہیں بچ پائے گا، کا توڑ کرنے کے لیے انھوں نے ایک اجلاسِ عام بلایا، جس کے اختتام پر گرما گرم بحثوں کے بعد، جوسب کی سب بے کار تھیں کیوں کہ وہ سب، موت، وہی موت جس کے وہ، نسلاً بعد نسلاً عادی ہو چکے تھے، جیسے کوئی ایسی چیز جو اُن کا فطری حق ہو، کے تعاون سے انکار کی ناقابلِ شکست رُکاوٹ کے خلاف افراتفری میں کی گئی تھیں، آخر کار انھوں نے اربابِ حکومت کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے، انھیں توجہ دلانے کے لیے ایک عرض داشت تیار کی، عرض داشت میں صرف ایک تعمیری تجویز تھی، بہت خوب، تعمیری، لیکن ساتھ ہی ظریفانہ تجویز، جو دورانِ بحث پیش کی گئی تھی، وہ ہم پر ہنسیں گے، صدرِ مجلس نے متنبہ کیا تھا، لیکن میں جانتا ہوں، ہمارے پاس نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں، اب یا تو یہی کیا جائے یا تکفین و تدفین کے کاروبار کو تباہ ہونے دیا جائے۔ عرض داشت میں عرض کی گئی، ملک میں اموات کے فقدان سے پیدا ہونے والے شدید بحران جس سے وہ دو چار تھے کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا، جنازہ گاہوں کے ڈائریکٹرز کے نمائندگان، ایک زور دار بحث، جس کے سارے دورانیے میں قوم کا اعلا مفاد سب پر مقدم رہا، کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ قوم کے آغازسے اس کی تاریخ میں پیش آنے والی بدترین اجتماعی آفت کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجے میں پیش آنے والے تباہ کُن نتائج سے اب بھی بچا جا سکتا ہے، مراد یہ ہے، اصطلاح کی گہری معنویت میں ماضی میں عوامی خدمت کی ہماری قابلِ تحسین خدمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جن میں ہم نسلاً بعد نسلاً ہمیشہ مصروف رہے ہیں، حکومت قدرتی یا حادثاتی موت کا شکار ہونے والے تمام پالتو جانوروں کی تدفین یا کریا کرم قانوناً لازمی قرار دے اور یہ کہ ایسی تدفین یا کریا کرم باضابطہ اور منظور شدہ ہو، جسے تکفین و تدفین کی صنعت سرانجام دے۔ عرض داشت آگے چلتی ہے، ہم حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہیں کہ صنعت میں معقول سرمایہ کاری کیے بنا حیات آفریں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، کیوں کہ ایک انسان کو دفنانا اور ایک بلی یا کنیاری چڑیا، اسی طرح ایک سرکس کے ہاتھی یا آرائشی مگر مچھ کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچانا یک ساں نہیں ہیں، اس کی خاطر ہمارے روایتی طریق کار کی مکمل تشکیلِ نو کی ضرورت ہو گی اور پالتو جانوروں کے قبرستانوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے کا وہ تجربہ جو پہلے ہی ہو چکا ہے، صنعت کو جدید بنانے کے عمل میں انتہائی مفید ثابت ہو گا۔ باالفاظ دیگر، ہماری صنعت میں اب تک جو بہت حد تک ضمنی لیکن مسلمہ طور پر منافع بخش مصروفیت رہی ہے، اب ہماری واحد مصروفیت ہو گی، چناں چہ، اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بے لوث اور جرات مند کارکنوں، جنھوں نے اپنی عملی زندگی کے ہر دن بہادری کے ساتھ موت کے بھیانک چہرے کا مقابلہ کیا اور جن سے اب موت نے بلا جواز پیٹھ پھیر لی ہے، کی برطرفی سے جہاں تک ممکن ہے، گریز کرتے ہوئے، اور اسی طرح، وزیراعظم، ایک مستحق پیشے کو، جو قرنوں پہلے عوامی خدمت کا مقام حاصل کر چکا ہے، تحفظ فراہم کرنے کے نقطۂ نظر سے، ہم آپ سے التماس کرتے ہیں کہ صرف فوری ہمدردانہ فیصلے کا متقاضی نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ ہی، اس کے پہلو بہ پہلو، یا تو امدادی قرضوں کا سلسلہ شروع کیا جائے، یا اس سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے، یہ ہو گا سونے پر سہاگہ، یا شاید میں کہنا چاہوں، تابوت پر پیتل کے آرائشی ہینڈل، بنیادی انصاف قرار نہ دیتے ہوئے، ناقابلِ واپسی قرضے جاری کیے جائیں جو اس شعبے کے تیز انقلاب میں معاون ہوں گے جس کی بقا کو تاریخ میں اسی طرح، تاریخ کے آغاز سے بہت پہلے، قبل از تاریخ تمام ادوار میں، یقناً، پہلی مرتبہ خطرہ لاحق ہوا ہے، کیوں کہ کبھی کوئی انسانی لاش محروم نہیں رہی کہ جلد یا بدیر کوئی وہاں پہنچے اور اسے دفنائے، خواہ یہ صرف فیاض دھرتی تھی جس نے اسے وصول کرنے کے لیے اپنی آغوش وا کی، مودبانہ امید کرتے ہوئے کہ ہماری استدعا کو قبول کیا جائے گا، ہم حاضر ہیں۔

ہر دو، سرکاری اور نجی اقامتی ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز اور ایڈمنسٹر یٹرز جلد ہی متعلقہ وزیر، وزیرِ صحت، کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے تاکہ اپنی عوامی خدمات کے ساتھ اپنی پریشانیوں اور بے چینیوں کے بارے میں بتائیں، جو بظاہر عجیب لگتا ہے، طبی مسائل کے بجائے نقل و حمل سے متعلق تھیں۔ ان کا بیان تھا، بیماری کی شدت کے باعث یا حادثات کا شکار ہونے والے مستقل قیام پذیر مریضوں کی کثیر تعداد، جو معمول کے حالات میں اگلے جہان سدھار چکی ہوتی، کے نتیجے میں مریضوں کے داخل ہونے اور صحت یاب ہونے یا مرنے کا معمول کا تسلسل متاثر ہوا ہے، جسے ہم، سرکٹ شارٹ ہونا، یا اگر آپ غیر تکنیکی اصطلاح استعمال کرنا چاہیں تو، بند گلی میں پھنسنا،بھی کَہ سکتے ہیں۔ صورتِ حال انتہائی خراب ہے، انھوں نے دلیل دیتے ہوئے بتایا، ہم پہلے ہی مریضوں کو، معمول سے کہیں بڑھ کر، راہ داریوں میں لٹانا شروع کر چکے ہیں اور تمام معاملات اشارہ کر رہے ہیں، ایک ہفتے کے اندر تمام راہ داریوں اور کمروں کے بھر جانے کے نتیجے میں، صرف بستروں قلت نہیں ہو گی جس سے ہمیں نبرد آزما ہونا ہو گا، بلکہ جگہ کی قلت اور کام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے، ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا، دستیاب بستر کہاں لگائے جائیں۔ ہسپتالوں کے ذمہ دار انچارج صاحبان پر اس نتیجے پر پہنچے کہ مسئلے کو حل کرنے کا ایک راستہ ہے، اگرچہ یہ بقراطی حلف سے تھوڑا سا ہٹ کر ہے، اور فیصلہ جو کیا جانا تھا وہ، نہ تو طبی تھا اور نہ ہی انتظامی، بلکہ سیاسی تھا۔ جیسا کہ عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہے، وزیر صحت نے وزیراعظم سے مشورہ کرکےیہ مراسلہ بھجوایا۔ ناگزیر اژدہام، جس نے شدید مخاصمانہ انداز میں، بہترین کارکردگی کے حامل، ہمارے اقامتی معالجانہ نظام کو تباہ کرنا شروع کیا ہے اور جو معطل زندگی کے حامل افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کا نتیجہ ہے، جو یقینا اسی حالت میں رہیں گے جس کے علاج کا یا کسی بہتری کا کم از کم اس وقت تک کوئی امکان نہیں، جب تک طبی تحقیق اپنے لیے طے کیے گئے نئے اہداف حاصل نہیں کر لیتی، کے حوالے سے حکومت ہسپتالوں کی انتظامیہ اور نگرانوں کو، جو خود کو اس صورتِ حال میں پاتے ہیں، ہدایت اور تجویز کرتی ہے، ہرمعاملے میں، طبی نقطۂ نظر سے مریض کی حالت کے فرداً فرداً ایک غیر جانب دارانہ تجزیے کے بعد، اگر مریضانہ عمل کے ناقابلِ تبدیل ہونے کی تصدیق ہو جائے تو مریض کو نگہ داشت کے لیے اس کے لواحقین کے سپرد کر دیا جائے، جو ہسپتالوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مریض کی تمام ادویات اور ٹسٹوں کو یقینی بنائیں گے، جو اُن کے معالج ضروری سمجھیں یا جن کی ہدایت کریں گے۔ حکومتی فیصلے کی بنا ایک ایسے مفروضے پر ہے جس سے سب آگاہ ہیں، جس کا مطلب ہے، مریض ہمیشہ کے لیے موت، جو مستقلاً اس سے گریزاں ہے، کی کگر پر اٹکا ہوا ہے، وہ اپنے حواس کے مختصر لمحات میں بھی اس سے لاتعلق ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے، آیا اپنے خاندان کی پیار بھری بانھوں میں ہے یا کسی ہسپتال کے پرہجوم کمرے میں، جس کا مطلب ہے، وہ نہ تو مرنے والا ہے اور نہ ہی صحت کی جانب لوٹنے والا ہے۔ حکومت چاہے گی کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عوام کو مطلع کرے کہ تیزی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جو، ہم امید کرتے اور یقین رکھتے ہیں، اطمینان بخش ہوں گی اور موت کے غائب ہونے کے پراسرار اسباب سمجھنے کی جانب رہ نمائی کریں گی، ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ ایک بڑی بین الکلیاتی علمی مجلس تشکیل دی گئی ہے، جس میں مختلف مذاہب کے نمائندگان اور مختلف مکاتب فکر کے فلسفی شامل ہیں، جو ہمیشہ اس نوع کے موضوعات پر بحث کرتے آئے ہیں، جو موت کی عدم موجودگی میں مستقبل کیسا ہو گا، پر روشنی ڈالنے کا حساس فریضہ ادا کرے گی، دوسری جانب کوشش کرے گی کہ نئے مسائل کی معقول پیش بینی ہو، جن کا معاشرے کو سامنا کرنا پڑے گا، جس کی اصل کچھ افرادشاید اس تلخ سوال کی صورت میں مختصراً بیان کریں،اگر موت نہیں ہے کہ خواہشات کا خاتمہ کرے تو ہم بوڑھوں کا کیا کرنے جا رہے ہیں، جنھیں ممکنہ طور پر انتہائی طویل زندگی بسر کرنا ہو گی۔

ادھیڑ عمر اور بوڑھوں کی نگہ داشت کے لیے قائم اقامت گاہوں، ان خیراتی اداروں، جو ان خاندانوں کے ذہنی سکون کی خاطر قائم کیے جاتے ہیں، جن کے پاس نہ تو وقت ہوتا ہے اور نہ ہی برداشت کہ بہتی ہوئی ناک صاف کریں اور مفلوج مقعد کا خیال رکھتے ہوئے مریض کا بول و براز کا برتن لانے کے لیے رات کو اُٹھیں، کو دیر نہ لگی کہ آئیں اور سر ٹکرائیں دیوارِ گریہ سے، جیسا کہ ہسپتال اور تکفین و تدفین والے ان سے پہلے کر چکے تھے۔ جو حق دار ہیں اُن کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہمیں صورتِ حال، جس میں انھوں نے خود کو پایا، سمجھنا ہو گی، جو تھی،داخلہ برائے رہائش کو جاری رکھا جائے یا نہیں، جو افرادی قوت کے ہر منتظم کی پیش بندی کی مہارت کے لیے اسی طرح چیلنج ہو گا، جیسے کوئی مکمل غیر جانب دار رہنے کی خواہش کرے۔ کیوں کہ بڑے پیمانے پر حتمی نتائج، اور یہی ہیں جو اصل پریشانی کی نشان دہی کرتے ہیں، ہمیشہ یک ساں ہوں گے، جیسا کہ وریدوں میں ٹیکے لگانے والے اور ارغوانی ربن والے پھولوں کے گل دستے بنانے والے ان کے رونے دھونےمیں شامل تھے۔تاحال معمول وہ یقینی حالت رہی تھی، جو موت اور زندگی کے مسلسل اور بلا روک ادل بدل کا نتیجہ تھی، کچھ اندر آتے اور کچھ باہر جاتے ہوئے، ادھیڑ عمروں اور بوڑھوں کی اقامت گاہیں کام کے ایسے مستقبل کا تصور بھی نہیں کر سکتیں، جس میں اُن کے زیرِ نگرانی چہرے اور جسم کبھی بدل نہ پائیں، سوائے اس کے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید قابلِ رحم حالت میں دکھائی دیں، مزید گرتے ہوئے، مزید بگڑتے ہوئے، چہرہ تیزی سے سکڑتے ہوئے، جھریاں ہی جھریاں، جیسے کشمش، ڈھلمل اور لرزتے بازو، جیسے کوئی جہاز عرشے سے سمندر میں گرنے والی قطب نما کو تلاش کر رہا ہو۔ ان ضعیف خانوں میں ہمیشہ ہر نیا مہمان جوش و جذبے کی لہر کا محرک ہوتا تھا، اس کا مطلب ہوتا تھا، ایک نیا کردار، جو اس کے ذریعے دوسروں کی یاداشت پر ثبت ہونا تھا، باہر کی دنیا سےاپنے ساتھ مخصوص عادات لانے والے اپنی نوع کے منفرد سنکی، مثلاً، وہ رٹائرڈ سول سرونٹ جو ہر روز اپنے دانتوں کا برش رگڑ رگڑ کر صاف کرتا کیوں کہ وہ برش کے بالوں پر پیسٹ کا ذرہ دیکھنا برداشت نہ کرتا تھا، یا وہ بوڑھی خاتون جو خاندانی شجرہ تیار کرنے میں مصروف رہتی تھی لیکن شاخوں پر درج کرنے کے لیے درست نام کبھی نہ ڈھونڈپاتی۔ یہ سب چند ہفتوں تک چلتا، یہاں تک کہ معمول تمام مکینوں کو ملنے والی توجہ کی مقدار مساوی کر دیتا، نیا آنے والا وہ بوڑھا یا نئی آنے والی وہ بڑھیا اپنی زندگی میں آخری مرتبہ سب سے چھوٹا بنتا یا سب سی چھوٹی بنتی، چاہے یہ زندگی ہمیشہ جتنی طویل ہوجو، جیسے لوگ سورج کے بارے میں کہتے ہیں، چمکنے کے لیے ظاہر ہوا تھا نصیبوں والی اس دھرتی کے تمام لوگوں پر، ہم سب پر، جو ہر روز سورج کو غروب ہوتے دیکھنے کے باوجود، گو کوئی نہیں جانتا، کیسے اور کیوں، زندہ پاتے ہیں۔ البتہ اب ہم کسی نئے مہمان کو، کوئی ایسا جس کا مقدر پہلے ہی معلوم ہے کہ وہ آئے اور کسی خالی بستر کو پُر کرے تاکہ ادارے کی آمدنی میں اضافہ کرے، یہاں سے رخصت ہوتا نہیں دیکھ پائیں گے، کہ جائے اور گھر میں یا ہسپتال میں مرے، جیسا اگلے بھلے وقتوں ہوتا تھا، جب دوسرے مکین اپنے کمروں کی دروازے جلدی سے بند کر لیتے تھے مبادا موت انھیں بھی اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اندر داخل ہو جائے، نہیں، ہم جانتے ہیں، یہ سب ماضی کی باتیں ہیں، ایسا ماضی جو کبھی لوٹ کر نہ آئے گا، لیکن حکومت میں کسی کو ہمارے نصیب پر غور کرنا ہو گا، ہمارا، ضعیف خانوں کے مالکان، منتظمین اور ملازمین کا مقدر، جو ہمارا منتظر ہے، یہ ہے کہ جب ہمارے کام چھوڑنے کا وقت آئے گا تو، وہاں کوئی نہیں ہو گا کہ ہمیں داخل کرے، ہمیں تو اس پر بھی اختیار نہیں جو ایک طرح سے ہماری بھی تھی، کم از کم ان مہ و سال کو دیکھتے ہوئے جو ہم نے اس کی خدمت میں صرف کیے، اس جگہ یہ بتانا ہے، اب ملازمین کی باری تھی کہ بولیں، ہماری مراد ہے کہ ان ضعیف خانوں میں ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں ہو گی، تاآں کہ ہم ان کے کچھ مقیموں سے چھٹکارا حاصل کریں، ایک تجویز جو پہلے بھی اس بحث، جو ہسپتالوں میں مریضوں کے اژدہام سے متعلق تھی، کے بعد حکومت کے سامنے آ چکی تھی، خاندان، اس کا کہنا تھا، یہ ذمہ داری ادا کرے گا، لیکن اس کے لیے درکار ذہانت اور مطلوبہ جسمانی قوت کے حامل کم از کم ایک فرد کا خاندان میں ہونا ضروری ہے، جس کی صلاحیتیں حال ہی میں نافذ ہونے والے دوام کے مقابلے میں، جیسا کہ ہم ذاتی تجربے اور دنیا کے مشاہدے سے جانتے ہیں، ایک محدود وقت تک، صرف اتنے وقت تک، جتنی ایک ٹھنڈی سانس، رہیں گی، بہرحال علاج، جب تک کسی بہتر تجویز کے ساتھ سامنے نہیں آتا، یہی ہو گا کہ مزید ضعیف خانے بنائے جائیں، ایسے نہیں جیسے تاحال ہوتے تھے، ان مکانات اور حویلیوں کو استعمال کرتے ہوئے جن کے بھلے دن بیت چکے، بلکہ عالی شان عمارات تعمیر کی جائیں، بطور مثال، پینٹاگون، بابل کے مینار، نوسیس کی بھول بھلیاں جیسی، یا، بے ڈھنگے پن سے بیان کرتے ہوئے، زندوں کے قبرستان جہاں خستہ حال اور ناقابلِ بحالی بوڑھوں کہ نگہ داشت کی جائے، نواح سے آغاز کرتے ہوئے، پھر شہر، اور پھر میٹروپولیٹن میں جو، جیسا کہ ان حالات کا کوئی اختتام نہیں، معاملات کی پےچیدگی کے پیشِ نظر کون جانے کب ہو گا، اور اسے ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ متعلقہ حکام کو توجہ دلائیں، جو یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ، ان ضعیف خانوں میں صرف بوڑھوں کی کثیر تعداد ہی مقیم نہیں ہو گی، بلکہ ان کی نگہ داشت کے لیے مزید افراد، پھر اور مزید افراد کی ضرورت ہو گی، نتیجہ یہ ہو گا کہ اوپر تلے آنے والی کئی نسلیں ان کی ذمہ داری بن جائیں گی، مضحکہ خیز انداز میں بوڑھے افراد کا مسلسل بڑھتا ہوا ہجوم، نئی نسلوں کو اژدہے کی مانند نگلتے ہوئے، جنھوں نے وقت کا زیادہ دورانیہ ان ضعیف خانوں میں نگہ داشت کرتے یا انتظامی فرائض ادا کرتے، ہر عمر کے بوڑھوں کی خدمت میں اپنی زندگی کا بہترین دور گزارا، دونوں طرح کے، عام بوڑھے اور سینکڑوں سال کے فرتوت، آبا کا ہجوم، دادے، پڑدادے، سگڑدادے، لگڑ دادے، علیٰ ھذالقیاس، تا ابد، ڈھیر ہوں گے، ایک پر دوسرا، جیسے گزشتہ خزاں میں گرنے والے پتوں پر درختوں سے گرنے والے پتے، لاانتہا ہجوم ان کا جو دھیرے دھیرے اپنے دانتوں اور بالوں سے محروم ہوتے ہوئے زندگی بتاتے ہیں، کمزور بینائی اور کمزور شنوائی والے، ہرنیا کے شکار، سردی کے مارے، ٹوٹے کولہے والے، ادھرنگ کے مریض، ایسے دائمی بوڑھوں جو اپنی ٹھوڑی پر بہنے والی رال بھی نہ روک سکیں کا انبوہِ کثیر، معزز اراکینِ حکومت، آپ شاید ہماری باتوں پر یقین نہ کرنا چاہیں، لیکن یہ مستقبل، شاید کبھی بھی نوعِ انسان پر دھاوا بول سکنے والا خوف ناک تریں سانحہ ہو گا، اس نوع کی صورت حال غاروں کے دور میں بھی پیش نہیں آئی ہو گی، جب ہر آن ڈر اور خوف تھا، اور ہم جنھیں اولین ضعیف خانوں کا تجربہ ہے یہ کَہ رہے ہیں کہ، اُن دنوں، لاریب، ظاہر ہے ہر کام چھوٹے پیمانے پر تھا، لیکن ہماری سوچ لازماً بامقصد ہونی چاہیے اور حقیقت میں صاف گوئی سے، وزیرِ اعظم، دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے، موت بہتر ہے کسی حد تک ایسے نصیب سے۔

ہماری صنعت کو ایک بھیانک خطرہ لاحق ہے، بیمہ کمپنیوں کی فیڈریشن کے صدر نے میڈیا کو ہزارہا خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، جو کم و بیش مخصوص اصطلاحات میں نیزے تانے ہوئے، جیسے وہ ایک ہی مسودے سے نقل کیے گئے ہوں، گزشتہ چند دنوں سے، ہر دستخط کنندہ کے بیمہ زندگی کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے، اُن کے دفاتر میں سیلاب کی طرح آ رہے تھے۔ جانی پہچانی حقیقت کہ موت نے خود کو ختم کر لیا ہے کا ذکر کرتے ہوئے، صاف صاف حماقت نہ کہتے ہوئے، ان خطوط میں لکھا گیا تھا، یہ نامعقولیت ہو گی، اُن کے نقصان کی تلافی کے لیے کسی نوع کا توازن قائم نہ کرنے کے باوجود مزید بھاری اقساط ادا کرنا جاری رکھنا، جو صرف بیمہ کمپنیوں کی دولت میں مزید اضافہ کریں، ایک غیر مطمٔن پالیسی ہولڈر نے نفسِ مضمون کے اِختتام پر حاشیے میں لکھا، مجھے دولت نالی میں نہیں بہانی۔ کچھ ان اقساط، جو وہ ادا کر چکے تھے، کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید آگے تک گئے، لیکن ان کیسز میں واضح تھا، وہ اپنی قسمت آزماتے ہوئے اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں۔ صحافیوں کی جانب سے ناگزیر سوال، بیمہ کمپنیاں توپ خانے کی اس اچانک باڑھ سےاپنا بچاؤ کیسے کریں گی، کے جواب میں فیڈریشن کے صدر نے کہا، جب کہ فیڈریشن کے مشیران عین اس وقت پالیسی شرائط کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے تھے، کسی نوع کی توضیحی گنجائش کے لیے، جو انھیں موقع فراہم کرے کہ ہمیشہ قانون کے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے، یقیناً، ان ہراساں پالیسی ہولڈرز پر نافذ کی جائے، خواہ وہ اُن کی خواہشات کے برعکس ہو، تسلیم کریں کہ جب تک وہ زندہ ہیں اقساط کا ادا کرنا جاری رکھیں گے، یہ ہے، جو سب کے لیے دائمی، بہترین ممکنہ راہ ہو گی کہ کسی نوع کے اتفاق رائے، شریفانہ معاہدے پر پہنچا جائے، جو پالیسی کے معاہدے میں، ایک جانب موجودہ تبدیل شدہ حالات اور دوسری جانب مستقبل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ایک اضافی ضمیمے پر مشتمل ہو گا، جو طے کرے گا، اسی برس، بطور قانون، موت کی عمر، خالصتاً مجازی معنوں میں، صدر نے مسکراتے ہوئے مخیرانہ انداز میں تیزی سے بات بڑھائی۔ اس طرح، کمپنیاں معمول کے مطابق اقساط وصول کریں گی، اس وقت تک جب مطمٔن پالیسی ہولڈر اپنی اسیویں سالگرہ منائے، اس وقت، وہ ایک ایسا فرد ہو گا جو، مجازی الفاظ میں، مردہ، ہو گا، اسے معاہدے میں طے شدہ تمام رقم ادا کی جائے گی۔ وہ یہ اضافہ بھی کر سکے گا، اگر وہ ایسا چاہے، اور یہ کوئی معمولی فائدہ نہیں ہو گا، یہ کہ، خریدار اپنے معاہدے کی مزید اسی سال کے لیے تجدید کر سکیں گے، جس کے اختتام پر، وہ کریں گے، تمام فوائد اور مقاصد کے لیے، دوسری موت کا اندراج، اور پہلے والا عمل پھر سے دُہرایا جائے گا، اسی طرح مزید اور، علیٰ ھذٰالقیاس۔ اُن صحافیوں کے درمیان جو حسابی علم سے آگاہ تھے، کچھ ستائشی کھسر پھسر ہوئی اور تالیاں بجیں، جنھیں صدر نے سر جھکا کر قبول کیا۔ پرحکمت اور مدبرانہ، چال کامیاب رہی، اتنی کارگر کہ اگلے ہی روز کمپنیوں کو اپنے سابقہ خط کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے خطوط آنا شروع ہو گئے۔ تمام پالیسی ہولڈرز نے واضح کیا، وہ مجوزہ شریفانہ معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیں، اور بلا مبالغہ، یقیناً، کوئی بھی کہہ سکتا ہے، یہ اُن انتہائی غیر معمولی منفرد مواقع میں سے تھا جب کسی کا نقصان نہیں ہوا اور سب فائدے میں رہے۔ بالخصوص بیمہ کمپنیاں، جو ناگہانی آفت سے بال بال بچ گئیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں، فیڈریشن کا صدر اس عہدے پر، جسے اس نے غیر معمولی ذہانت سے سرانجام دیا، دوبارہ منتخب ہو جائے گا۔

3

بین الکلیاتی رابطہ کار کمیشن کے اولین اجلاس کے بارے میں، سوائے اس کے کہ بخیر و خوبی ہوا، کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ الزام، اگر یہ سخت اصطلاح یہاں منطبق کی جا سکتی ہے، اس ڈرامائی یاداشت کے سر ہے، جو ضعیف خانوں کی جانب سےحکومت کو ارسال کی گئی، بالخصوص اس کے سہما دینے والے آخری الفاظ، وزیرِ اعظم،دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے، موت بہتر ہے کسی حد تک ایسے نصیب سے۔ فلاسفر، ہمیشہ کی مانند ماتھے پر بل ڈالے قنوتیوں اور مسکراتے ہوئے رجائیوں میں تقسیم ہو گئے، جنھوں نے خود کو آمادہ کیا کہ ہزارویں مرتبہ نئے سرے سے قدیم مناقشے، آیا گلاس آدھا بھرا ہے یا آدھا خالی ہے، پر دلائل دیں، ایک ایسا مناقشہ جسے جب اس معاملے پر منطبق کیا جائے، جس پر گفتگو کے لیے انھیں مدعو کیا گیا تھا، امکانی طور پر، لے دے کر مرنے یا ہمیشہ زندہ رہنے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کی جانب مڑ جائے گی، جب کہ مذہبی وفود نے بظاہر، ایک متفقہ موقف پیش کیا، امید کرتے ہوئے کہ بحث کو منطقی دائرے تک، جس میں انھیں دل چسپی ہے، محدود رکھا جائے، جو واضح طور پر تسلیم کرنا ہے، موت، خداوند کے اقتدار کے قیام کی اساس ہے، چناں چہ موت کے بغیر مستقبل کے موضوع پر گفتگو نہ صرف توہینِ مذہب ہو گی بلکہ بے معنی بھی ہو گی، کیوں کہ لامحالہ یہ پہلے سے، خداوندِ ناموجود، یا اس سے بھی بڑھ کر، خداوندِ معدومِ، فرض کر لینا ہو گا۔ یہ کوئی نیا رویہ نہیں تھا، قبل ازیں کارڈینل نے بھی دائرے کا مربع بنانے کے نظریاتی نقطۂ نظر کی نشان دہی کی تھی، جب وزیرِ اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے تسلیم کیا، اگرچہ اتنے واضح الفاظ میں نہیں، اگر موت نہیں تو احیائے موتیٰ بھی ممکن نہیں، اور اگر احیائے موتیٰ نہیں تو کلیسا کو تسلیم کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ اب، جب کہ واضح طور پر خداوند کا یہ تصور زرعی ہے، جس کی مدد سے اس کے تخت کی جانب راستہ ہم وار کیے جانے کا بین، ناقابلِ تردید نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ تمام مقدس روایات، ناگزیر طور پر بند گلی میں اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ یہ تلخ دلیل سب سے بزرگ قنوطی فلسفی کی زبان نے بیان کی، جو وہیں نہ ٹھہری بلکہ جاری رہی،بھلے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، تمام مذاہب کے وجود کا واحد جواز موت ہے، انھیں موت کے اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ہمیں کھانے کے لیے روٹی کی۔ نمائندگانِ مذہب نے احتجاج کی زحمت نہ کی۔ اس کے برعکس، ان میں سے ایک، کیتھولک فرقے کا انتہائی قابلِ احترام رکن گویا ہوا، آپ بالکل درست فرماتے ہیں، میرے فلاسفر دوست، یقینا، وہ اس لیے ہے کیوں کہ ہم لوگ ہیں، تاکہ لوگ اپنی تمام زندگی اپنی گردن کے گرد جکڑے خوف میں بسر کریں اور جب ان کا وقت آئے تو اسے بطور نجات دہندہ خوش آمدید کہیں، آپ کا مطلب ہے، جنت، جنت یا جہنم، یا کچھ بھی نہیں، مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے، ہمارا اس سے کہیں کم واسطہ ہے، جتنا بالعموم سمجھا جاتا ہے، جناب، مذہب ایک دنیوی معاملہ ہے، جس کا اگلے جہان سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ بات وہ نہیں جو ہمیں عموماً بتا ئی جاتی ہے، ہمیں سامانِ تجارت کو پرکشش بنانے کے لیے کچھ تو کرنا ہوتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے، آپ دائمی زندگی پر یقین نہیں رکھتے، ہم ظاہر کرتے ہیں، ہم رکھتے ہیں۔ ایک منٹ تک کوئی نہیں بولا۔ قنوطیوں میں سے سب سے بزرگ نے اپنے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلنے دی اور ایک ایسے شخص کا رویہ اپنا لیا جس نے ابھی ابھی تجربہ گاہ میں ایک مشکل تجربے کا کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچنے کا مشاہدہ کیا ہو۔ اس صورت میں، رجائی گروہ میں سے ایک فلاسفر بولا، آپ اس حقیقت پر متفکر کیوں ہیں کہ موت کا اختتام ہو گیا، ہم نہیں جانتے ایسا ہوا ہے، ہم صرف اتنا علم رکھتے ہیں کہ اس نے مارنا بند کر دیا ہے، یہ ایک ہی بات نہیں ہے، بالکل ٹھیک، لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ ابہام، ابہام رہتا ہے، میں اپنا سوال دہراتا ہوں، کیوں کہ اگر انسان نہ مریں تو سب کچھ روا ہو گا، تو کیا یہ غلط ہو گا، اتنا ہی غلط جتنا کچھ نہ روا ہونا، بوڑھے فلاسفر نے سوال کیا۔ ایک مرتبہ پھر خاموشی طاری ہو گئی۔ آٹھ افراد سے، جو میز کے گرد بیٹھے تھے، درخواست کی گئی تھی کہ موت کے بغیر مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالیں اور دستیاب معلومات کی مدد سے، یقیناً، پہلے مسائل کی ناگزیر شدت سےصرفِ نظر کرتے ہوئے، اندازہ لگائیں کہ آنے والے دور میں معاشرے کو کن نئے مسائل سے عہدہ برا ہونا پڑے گا۔ دقت یہ ہے کہ مستقبل پہلے ہی یہاں موجود ہے، قنوطیوں میں سے ایک بولا، ہمارے سامنے، ہمارے پاس، دوسرے بیانات جو تحریر کیے گئے کے علاوہ، نام نہاد ضعیف خانوں کی جانب سے، ہسپتالوں کی جانب سے، تکفین و تدفین کے منتظمین کی جانب سے، بیمہ کمپنیوں کی جانب سے، اور آخری بیمہ والوں سے قطع نظر، جو کسی بھی صورتِ حال میں ہمیشہ منافع کمانے کی کوئی تدبیر کر لیتے ہیں، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ قرائن صرف تاریک ہی نہیں، یہ خوف ناک، تباہ کن، تخیل کی حد جس کا تصور کر سکتی ہے، سے بھی بڑھ کر خطرناک ہیں، طعن کرنے کی سوچ، جو موجودہ حالات میں نامناسب رویہ ہو گا، کے بنا پروٹسٹنٹ فرقے کے انتہائی قابلِ احترام ممبر نے تبصرہ کیا، مجھے لگتا ہے، یہ کمیشن اپنے جنم سے پہلے مر گیا ہے، ضعیف خانوں والے درست کہتے ہیں، موت بہتر ہے، ایسے نصیب سے، کیتھولک ترجمان نے کہا، پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے، آپ کیا تجویز کرتے ہیں، قنوطیوں میں سب سے بوڑھے نے دریافت کیا، اس کمیشن کی فوری تحلیل، بظاہر جو آپ چاہتے ہیں سے قطع نظر، ہمارا، پاپائے اعظم کا کیتھولک کلیسا، خداوند سے بے بس انسانیت کو بدترین دہشت سے بچانے کی خاطر موت کو واپس لانے کی بِنتی کرتے ہوئے پراتھنا کی قومی مہم شروع کرے گا، کیا خداوند کو موت پر اختیار حاصل ہے، رجائیوں میں سے ایک نے سوال کیا، وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ایک جانب بادشاہ اور دوسری جانب تاج، اس صورت یہ شاید خداوند تھا جس نے موت سے دست بردار ہونے کا کہا، ایک دن ہم جان جائیں گے کہ اس نے ہمیں اس آزمائش میں کیوں ڈالا، اس دوران ہم مقدس مریم کی تمجیدی تسبیح جاری رکھیں گے، ہم بھی یہی کریں گے، البتہ، تمجیدی گیتوں کے بغیر، پروٹسٹنٹ مسکرایا، ہم ملک بھر میں موت سے واپسی کی درخواست کرنے کی تقریبات کا انتظام کریں گے، اسی طرح جیسے ہم بارش کے لیے دعائیہ تقریب میں بارش کے لیے درخواست کرتے ہیں، کیتھولک نے ترجمہ کیا، ہم اس حد تک نہیں جاتے، ایسی رسوم ہماری روایت میں شامل نہیں، پروٹسٹنٹ ایک مرتبہ پھر مسکراتے ہوئے بولا، اور ہم کیا، ایک رجائی نے اس لہجے میں سوال کیا، جو اس کے قریب الوقوع حزبِ اختلاف میں شامل ہونے کا اعلان کرتا محسوس ہوتا تھا، اب، جب لگتا ہے کہ ہم پر سب دروازے بند ہو گئے ہیں، ہم کیا کرنے جا رہے ہیں، آغاز کرتے ہوئے، بوڑھے فلاسفر نے جواب دیا، ہمیں یہ اجلاس برخاست کرنا چاہیے، پھر کیا، ہم غور و فکر کرتے رہیں گے، کیوں کہ یہی کام ہے جسے کرنے کے لیے ہم پیدا ہوئے ہیں، بھلے ہمارا تمام غور و خوض بے سود ہو، کس لیے، میں نہیں جانتا کس لیے، ٹھیک ہے، پھر، کیوں، کیوں کہ فلسفہ کو بھی موت کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مذہب کو، اگر ہم یہ جاننے کے لیے سوچتے ہیں کہ ہم مریں گے، جیسا کہ موسیو مونٹینیو کا کہنا ہے، تو سوچنا یہ جاننا ہے کہ کیسے مرا جائے۔

ان میں سے بھی، جو کم از کم اصطلاح کے عمومی مفہوم میں فلاسفر نہیں تھے، کچھ نے کوشش کی کہ راستہ تلاش کریں۔ اختلافی طریق پر انھوں نے خود مرنا نہیں سیکھا، کیوں کہ ابھی ان کا وقت نہیں آیا تھا، لیکن موت کی مدد کرتے ہوئے دوسروں کا مرنا سہل بنایا۔ طریق کار جو اپنایا گیا، جیسا کہ آپ جلد ہی دیکھیں گے، نسلِ انسانی کی نئی راہیں تلاش کرنے کی لامحدود صلاحیتوں کا ایک اور مظہر تھا۔ ایک ہم سایہ ملک کی سرحد سے چند میل دور، ایک بستی میں، ایک غریب دیہاتی خاندان تھا، جس نے اپنے گناہوں کی پاداش میں ایک نہیں بلکہ دو افراد کو اس معطل زندگی میں یا جیسا کہ وہ ترجیحاً کہنا پسند کرتے تھے، اسیرِ مرگ، پایا۔ ان میں سے ایک پرانی پیڑھی کے نانا جان تھے، خاندان کا قوی ہیکل سربراہ، جو بیماری سے صرف چھایا رہ گئے تھے، اگرچہ وہ ان سے قوتِ گویائی نہیں چھین سکی تھی۔ دوسرا صرف چند ماہ کا ایک بچہ تھا، جسے زندگی اور موت کے الفاظ سکھلانے کا انھیں وقت نہیں ملا اور جسے حقیقی موت نے اپنا چہرہ دکھانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ نہ تو مرے تھے اور نہ ہی زندہ تھے، اور دیہاتی معالج، جو ہفتے میں ایک مرتبہ ان کا معائنہ کرنے آتا تھا،کا کہنا تھا، ان کی بھلائی یا برائی کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا، دونوں کو مہلک دوا کا انجکشن لگا کر بھی نہیں، جو زیادہ عرصہ نہیں گزرا اس نوع کے مسائل کا آخری حل تھا۔ یہ زیادہ سے زیادہ، انھیں وہاں تک پہنچا دے گا، جہاں امکانی طور پر موت ہوتی تھی، لیکن یہ بے معنی ہوتا کیوں کہ، وہ ہمیشہ کی طرح ناقابلِ پہنچ ہوتی، عین اس وقت ایک قدم پیچھے ہٹے گی اور اپنا فاصلہ برقرار رکھے گی۔ خاندان مدد کے لیے پادری کے پاس گیا، اس نے سنا، نگاہیں آسمان کی جانب اٹھائیں اور بولا، ہم سب خداوند کے ہاتھوں میں ہیں اور یہ کہ اس کی رحمت بے پایاں ہے۔ ٹھیک ہے، یہ بے پایاں ہو گی، لیکن اتنی بھی بے پایاں نہیں کہ غریب چھوٹے بچے کی مدد کرے، جس نے اس دنیا میں کچھ غلط نہیں کیا۔ یہ تھی حالات کی موجودہ صورت، جس میں آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں، جس میں مسئلے کا کوئی حل نہیں اور نہ ہی ملنے کی کوئی امید، جب بڑے میاں نے پکارا، کوئی ہے، میرے پاس آؤ، کیا آپ کو پینے کو پانی چاہیے، اس کی بیٹیوں میں سے ایک نے پوچھا، نہیں، مجھے پانی بالکل نہیں چاہیے، میں مرنا چاہتا ہوں، ڈاکٹر کا کہنا ہے، یہ ممکن نہیں، ابا، یاد رہے، اب کسی نے نہیں مرنا، ڈاکٹر نہیں جانتا وہ کس کے بارے میں کَہ رہا ہے، جب سے یہ دنیا، دنیابنی ہے، اس میں ہمیشہ ہی مرنے کا کوئی وقت یا مقام رہا ہے، پر اب مزید نہیں، یہ صحیح نہیں، سکون سے، ابا، آپ کا بخار بگڑ جائے گا، مجھے کوئی بخار نہیں اور اگر ہو بھی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اب میری بات غور سے سنو، ٹھیک ہے، میں سُن رہی ہوں، قریب آؤ، بیشتر اس سے کہ میری آواز بیٹھ جائے، جی کہیے۔ بوڑھے نے اپنی بیٹی کے کان میں کچھ کہا، بیٹی نے نفی میں سر ہلایا، لیکن اس نے بار بار اصرار کیا، لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، ابا، وہ خوف سے ششدر اور پیلے پڑتے ہوئے ہکلائی، ایسا ہو گا، اور اگر ایسا نہ ہوا، کوشش کرنے میں کیا حرج ہے، اور اگر یہ کارگر نہ ہوا، سیدھی سادی بات ہے، تم مجھے واپس گھر لے آنا، اور بچہ، بچہ بھی جائے گا، اور اگر میں وہیں رہوں، وہ میرے ساتھ رہتا ہے، بیٹی نے سوچنے کی کوشش کی، جذباتی تشویش نے اس کے چہرے پر کھنچاؤ پیدا کیا، تب اس نے سوال کیا، ہم تم دونوں کو واپس لا کر یہاں کیوں نہیں دفن کر سکتے، تم تصور کر سکتی ہو یہ کیسا لگے گا، دو موتیں، ایک ایسے ملک میں جہاں، بھلے وہ جتنی کوشش کریں، کوئی نہیں مرتا، تم کیسے وضاحت کرو گی، قطع نظر اس کے، موجودہ حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، مجھے یقین نہیں کہ موت ہمیں واپسی کا موقع دے گی، یہ پاگل پن ہے، ابا، شاید، لیکن ان حالات سے نکلنے کی کوئی دوسری راہ مجھے دکھائی نہیں دیتی، ہم آپ کی زندگی چاہتے ہیں، موت نہیں، لیکن میری موجودہ حالت میں نہیں، زندہ لیکن مردہ، مردہ لیکن بظاہر زندہ، اگر آپ کی یہی خواہش ہے، ہم وہی کریں گے جو آپ چاہتے ہیں، مجھے بوسہ دو۔ بیٹی نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور روتی ہوئے کمرے سے باہر نکلی۔ ابھی اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا، جب اس نے جا کر خاندان کے باقی افراد کو اپنے باپ کا منصوبہ بتایا کہ وہ اسے اسی رات سرحد کے پار لے جائیں، جہاں موت تاحال فعال تھی اور جہاں، شاید اسے یقین تھا، موت کے پاس سوائے اس کے کوئی متبادل نہیں ہو گا کہ انھیں اپنی آغوش میں لے لے۔ یہ اعلان تفاخر و طمانیت کے پے چیدہ ملے جلے احساس سے سنا گیا، تفاخر اس لیے کہ ہر روز ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایسا بوڑھا ملے، جو خود کو ناقابلِ فہم موت کو پیش کرتے ہوئے خود اپنی نفی کرے، اور طمانیت کیوں کہ کسی بھی صورت ان کا کچھ نقصان نہیں، وہ کیا کر سکتے ہیں، مقدر سے تو نہیں لڑا جا سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ زندگی میں ہر شے نہیں ملتی اور دلیر بوڑھا اپنے پیچھے ایک غریب دیانت دار کنبہ چھوڑے گا، جو ہمیشہ اسے احترام سے یاد کرے گا۔ کنبہ صرف اس لڑکی، جو آنسو بہاتے ہوئے اس کے کمرے سے رخصت ہوئی تھی، اور اس کے بچے، جس نے اس دنیا میں کوئی خطا نہیں کی تھی، پر مشتمل نہیں تھا، وہاں تھی، ایک اور بیٹی مع اپنے شوہر، تین بچوں کے والدین جو تمام خوش قسمتی سے تن درست تھے، ان کے علاوہ ایک غیر شادی شدہ خالہ بھی تھی، جس کی شادی کی عمر بہت پہلے گزر چکی تھی۔ دوسرا داماد، اس بیٹی کا خاوند، جس نے آنسوبہاتے ہوئے کمرا چھوڑا تھا، کہیں دور رہتا ہے، جہاں وہ روزی کمانے گیا ہے اور کل اسے معلوم ہو گا کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے اور سسر جس سے وہ محبت کرتا تھا کو کھو دیا ہے۔ یہی زندگی ہے،یہ ایک دن جو ایک ہاتھ سے دیتی ہے، دوسرے دن اسے دوسرے ہاتھ سے لے لیتی ہے۔ ہم کسی دوسرے سے زیادہ اس کا ادراک رکھتے ہیں کہ کسی دیہاتی پس منظر والے گھرانے، جسے ہم امکانی طور پر پھر کبھی نہیں دیکھیں گے، کے باہمی تعلقات کتنے غیراہم محسوس ہوتے ہیں، لیکن خالصتاً تکنیکی نقطۂ نظر سے اور بیانیہ نقطۂ نظر سے بھی یہ ہمیں غلط لگتا ہے کہ ان مخصوص افراد کو دو سطروں میں بھگتا دیں، جو موت اور اس کے تلون سے متعلق اس حقیقی، مگر غیر حقیقی کہانی کے ایک انتہائی ڈرامائی دور کے مرکزی کردار ہیں۔ چناں چہ وہ یہاں موجود ہیں۔ ہم یہ بتانا بھول گئے کہ غیر شادی شدہ خالہ نے ایک شبہ کا اظہار کیا تھا، ہم سائے کیا کہیں گے جب وہ ان دو افراد کو غیر حاضر پائیں گے،جو موت کی دہلیز پر تھے، لیکن مر نہیں سکتے تھے۔غیر شادی شدہ خالہ بالعموم اس طرح معنی خیز، جدا گانہ انداز میں بات نہیں کرتیں، لیکن اگر اب انھوں نے ایسا کیا تو یہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں، یہ سب وہ پہلے کر چکی تھیں، جب انھوں نے بچہ، جس نے دنیا میں کچھ غلط نہیں کیا اور میرا بھائی، کے الفاظ ادا کیے تھے۔ تین دوسرے بچوں کے باپ نے کہا، ہم انھیں صرف اتنا بتائیں گے کہ کیا ہوا اور نتائج کا انتظار کریں گے، ممکنہ طور پر ہمیں خفیہ تدفین، قبرستان سے باہر، اربابِ اختیار کو مطلع کیے بغیر اور اس سے بھی بڑھ کر، ایک غیر ملک میں، کا ملزم گردانا جائے گا، ٹھیک ہے، خالہ نے کہا، ہمیں امید کرنی چاہیے، وہ اس پر جنگ شروع نہیں کریں گے۔

تقریباً آدھی رات کا وقت ہو گا جب وہ سرحد کی جانب روانہ ہوئے۔ دوسرے دیہاتی خلافِ معمول اپنے بستروں میں سونے کے لیے دیر سے گئے، جیسے انھیں توقع تھی کہ کوئی ان ہونی ہونے والی ہے۔ بالآخر، گلیوں میں سناٹا چھا گیا اور گھروں کی روشنیاں ایک ایک کر کے بجھنے لگیں۔ پہلے خچر کو چھکڑے میں جوتا گیا، پھر بڑی دقت کے ساتھ نانا کو، اگرچہ اُن کا وزن بہت کم تھا، ان کی دو بیٹیاں اور داماد سیڑھیوں سے نیچے لائے، انھوں نے انھیں ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی، جب انھوں نے نقاہت کے عالم میں پوچھا، کیا کدال اور بیلچہ رکھ لیا ہے، رکھ لیے ہیں، آپ فکر نہ کریں، پھر ماں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی، بچے کو اپنی آغوش میں لیا اور کہا، خدا حافظ، میرے بچے، میں تمھیں پھر کبھی نہ دیکھ پاؤں گی، اگرچہ یہ درست نہیں تھا، اسے بھی چھکڑے میں اپنی بہن اور بہنوئی کے ہم راہ جانا تھا، کیوں کہ اگلے کام کے لیے کم از کم تین افراد کی ضرورت تھی۔ غیر شادی شدہ خالہ نے مسافروں، جنھوں نے کبھی واپس نہیں آنا تھا، کو رخصت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، اس کے بجائے اس نے خود کو بچوں کے ساتھ کمرے میں بند کر لیا، چوں کہ چھکڑے کے فولادی پہیوں سے اونچے نیچے راستے پر اذیت ناک شور اٹھتا تھا، جس سے شدید اندیشہ تھا کہ متجسس مکین اُٹھیں، اپنی کھڑکیوں تک آ کر جھانکیں کہ اُن کے پڑوسی اس وقت کہاں جا رہے ہیں، چناں چہ وہ ایک کچے راستے کی طرف مڑ گئے، جس نے آخر کار انھیں بستی کی دوسری جانب سڑک تک پہنچا دیا۔ وہ سرحد سے زیادہ دور نہیں تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ سڑک وہاں تک نہیں جاتی تھی، ایک خاص مقام پر اُنھیں اسے چھوڑنا اور ایک ایسا راستہ اختیار کرنا تھا جہاں چھکڑا مشکل سے چل سکتا تھا، جب کہ آخری حصہ جھاڑیوں میں سے، کسی نہ کسی طرح، نانا جان کو لے جاتے ہوئے پیدل طے کرنا تھا۔ خوش قسمتی سے داماد اَس علاقے سےبخوبی آشنا تھا، کیوں کہ وہ ایک شکاری کی حیثیت سے اس علاقے میں گھومنے کے علاوہ شوقیہ، جز وقتی سمگلنگ کرنے کے زمانے میں وقتاً فوقتاً اِن راستوں کو استعمال کر چکا تھا۔ انھیں وہاں، جہاں انھوں نے چھکڑے کو چھوڑنا تھا، پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگے اور یہ مقام وہ تھا، جہاں داماد جانور کی مضبوط ٹانگوں پر بھروسہ کرتے ہوئے نانا کو خچر کی پشت پر لادنا چاہتا تھا۔ انھوں نے جانور کو کھولا، غیر ضروری ساز اتارے اور بڑے میاں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔ دونوں عورتیں رو رہی تھیں، اُوں، میرے بے چارے ابا، اُوں، میرے بے چارے ابا،اور اُن کے آنسوؤں نے اُن کی بچی کھچی توانائی بھی سلب کر لی۔ غریب آدمی نیم بے ہوشی کے عالم میں تھا، جیسے وہ موت کی اولین دہلیز عبور کر رہا ہو۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے، داماد نے مایوسی سے اظہار کیا، اچانک اسے خیال آیا، اس کا حل یہی ہے کہ اسے پہلے خود خچر پر چڑھنا اور پھر بڑے میاں کو کھینچ کر، خچر کی پشت پر لادنا ہو گا، مجھے انھیں بانھوں سے پکڑ کر سوار کرانا ہو گا، کوئی اور صورت نہیں، تم نیچے سے مدد کر سکتی ہو۔ بچے کی ماں چھکڑے تک گئی، تسلی کرنے کے لیے کہ وہ تاحال کمبل میں لپٹا ہوا ہے، وہ نہیں چاہتی تھی کہ ننھے معصوم کو سردی لگے اور پھر اپنی بہن کی مدد کرنے لوٹی، ایک، دو، تین، انھوں نے نعرہ لگایا، لیکن کچھ نہ ہوا، اب جسم سیسے کی طرح وزنی محسوس ہوتا تھا، وہ اسے بمشکل زمین سے اُٹھا سکیں۔ تبھی، معجزے جیسی ایک حیرت انگیز، تعجب خیز ان ہونی ہوئی، ایک لمحے کے لیے جیسے کششِ ثقل کا قانون معطل ہو گیا یا اُلٹ گیا، نیچے کے بجائے اوپر کھنچتے ہوئے نانا جان بڑے آرام کے ساتھ اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں سے اپنی رضامندی سے اُڑتے ہوئے اپنے داماد کی کھلی بانھوں میں منتقل ہو گئے۔ آسمان نے، جو رات کے آغاز سے اس وقت تک گہرے،خوف ناک بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اچانک صاف گیا اورچاند کو اپنا مکھڑا دکھانے کی دعوت دی۔ اب ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، داماد نے اپنی بیوی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، تم خچر کے آگے چلو۔ بچے کی ماں نے اپنے بیٹے کو دیکھنےکے کمبل کو تھوڑا سا سرکایا، جس کی بند آنکھیں دو چھوٹے زرد داغوں کی مانند تھیں،اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا۔تب اس نے اپنی چیخ کو بلند ہونے دیا، جس نے اردگرد کی فضا کو چیر دیا اور کچھاروں میں درندوں کو لرزا دیا، میں وہ نہیں بنوں گی جو اپنے بیٹے کو دوسری جانب لے جائے، میں اسے دنیا میں اس لیے نہیں لائی کہ اسے موت کے حوالے کر دوں، تم ابا کو لے جاؤ، میں یہیں ٹھہروں گی۔ اس کی بہن اس کے پاس آئی اور سوال کیا، کیا تم اس کے بجائے سال ہا سال مرتا ہوا دیکھو گی، تمھارے لیے یہ کہنا آسان ہے، تمھارے تین تن درست بچے ہیں، لیکن میں تمہارے بیٹے کا اسی طرح خیال رکھتی ہوں جیسے یہ میرا اپنا ہو، اس صورت میں، اسے تم لے جا‍‍‏ؤ‍‍‍‍، کیوں کہ میں ایسا نہیں کر سکتی اور نہ میں کروں گی، کیوں کہ یہ اسے قتل کرنے کے مترادف ہو گا، فرق ہے، کسی کو اس کی موت تک لے جانا اور اسے قتل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں، بچے کی ماں تم ہو، میں نہیں، کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ اپنے بچوں میں سے ایک کو، یا سب کو لے جاؤ، ہاں میرا خیال ہے، لیکن میں اس کا دعویٰ نہیں کر سکتی، تب میں ٹھیک کَہ رہی ہوں، اگر یہی ہے جو تم چاہتی ہو تو یہیں ہمارا انتظار کرو، ہم ابا کو لے کر جا رہے ہیں۔ بہن خچر کے پاس گئی، لگام پکڑی اور بولی، چلنا چاہیے، اس کے خاوند نے جواب دیا، ہاں، لیکن آرام سے، میں نہیں چاہتا کہ وہ پھسل جائیں۔ پورا چاند چمک رہا تھا۔ آگے کہیں سرحد تھی، وہ لکیر جو صرف نقشوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں کیسے علم ہو گا کہ ہم وہاں پہنچ گئے ہیں، عورت نے پوچھا، ابا کو پَتا چل جائے گا، وہ سمجھ گئی اور مزید کوئی سوال نہ کیا۔ وہ بڑھتے گئے، مزید سو گز، دس قدم اور، پھر اچانک مرد بولا، ہم پہنچ گئے، کیا گزر گئے، ہاں،اُن کے پیچھے ایک آواز نے دہرایا، گزر گیا، بچے کی ماں آخری مرتبہ اپنے مردہ بچے کو بائیں بازو سے بھینچ رہی تھا، کیوں کہ اس کے دائیں کندھے پر کدال اور بیلچہ، دونوں، جنھیں دوسرے بھول آئے تھے، دھرے تھے۔ ہم تھوڑا سا اور آگے، اس دیودار تک چلیں، بہنوئی نے کہا۔ دور، ایک پہاڑی پر، وہ ایک بستی کی روشنیاں دیکھ سکتے تھے۔ خچر جس طرح قدم اُٹھا رہا تھا، اس سے وہ اندازہ کر سکتے تھے کہ زمین نرم ہے اور اسے کھودنا آسان ہو گا۔ یہ جگہ مناسب دکھائی دیتی ہے، مرد بولا، یہ درخت نشان دہی کرے گا، جب ہم ان کے لیے پھول لائیں گے۔ بچے کی ماں نے کدال اور بیلچے کو پھینکا اور احتیاط سے اپنے بچے کو زمین پر لٹایا، پھر دونوں بہنوں نے پوری احتیاط کے ساتھ، کہ نہ پھسلے، اپنے باپ کا جسم وصول کیا اور مرد، جو اب خچر سے اُتر رہا تھا، کی مدد کا انتظار کیے بغیر لاش کو لے جا کر اسے اس کے نواسے کے ساتھ لٹا دیا۔ بچے کی ماں سسک رہی تھی اور بار بار دہرا رہی تھی، میرا بیٹا، میرے ابا، اس کی بہن روتی ہوئی آئی، یہی بہتر ہے، یہی بہتر ہے، جو زندگی یہ بدنصیب بسر کر رہے تھے، قطعاً زندگی نہیں تھی، کہتے ہوئے اسے گلے لگا لیا، وہ دونوں گھٹنوں پر جھکیں کہ اُن مرنے والوں کا ماتم کریں جو موت کو چکمہ دینے وہاں آئے تھے۔ مرد پہلے ہی کدال سے کام کر رہا تھا، پھر اس نے بیلچے سے نرم کی گئی مٹی ہٹائی اور دوبارہ زمین کھودنے لگا۔ نیچے زمین سخت، ٹھوس بلکہ پتھریلی تھی اور قبر کو مناسب گہرا کرنے میں نصف گھنٹا سخت محنت کرنی پڑی۔ وہاں نہ کوئی کفن تھا اور نہ ہی کوئی چادر، نعشوں کو صرف ان کپڑوں میں جو وہ پہنے ہوئے تھے، ننگی زمین پر لٹانا تھا۔ مرد اور دونوں عورتوں نے مل کر زور لگایا، اس نے قبر میں کھڑے ہو کر اور اُنھوں نے اوپر سے، عورتیں نے بانھوں سے پکڑے ہوئے، مرد نے وزن سنبھالتے ہوئے کوشش کہ کہ دھیرے دھیرے بوڑھے آدمی کے جسم کو گڑھے میں اتاریں، حتا کہ جسم نے زمین کو چھو لیا۔ عورتیں متواتر آنسو بہا رہی تھیں، مرد کی آنکھیں اگرچہ خشک تھیں، تاہم، اس کا سارا وجود کپکپا رہا تھا، جیسے بخار کی گرفت میں ہو۔ بدترین وقت ابھی آنے والا تھا۔ آنسوؤں اور سسکیوں میں بچہ نیچے پکڑایا اور نانا کے پہلو میں لٹایا گیا، لیکن وہ وہاں ٹھیک نہیں دکھتا تھا، کسی معمولی، حقیر گٹھڑی، غیر اہم، حاشیے پر پڑے وجود جیسا، جس کا اس کا خاندان سے کوئی تعلق نہ ہو۔ تس پر مرد نیچے جھکا، بچے کو اُٹھایا، اس کا چہرہ نیچے کی جانب کرتے ہوئے اسے نانا کی چھاتی پر لٹا دیا اور نانا کی بانھوں کو اس طرح رکھا کہ وہ نحیف وجود کو تھامے ہوئے تھیں، اب وہ سکون سے ہیں، آرام کے لیے تیار، ہم انھیں مٹی سے ڈھانپنا شروع کر سکتے ہیں، ابھی احتیاط سے، تھوڑی تھوڑی کر کے، اس طرح وہ الوداع کَہ سکیں گے، سنو، وہ کیا کَہ رہے ہیں، خدا حافظ میری بچیو، خدا حافظ میرے داماد، خدا حافظ میری خالہ اور خالو، خدا حافظ میری امی۔ جب قبر بھر گئی تو مرد نے اسے دبا کر ہم وار کیا، تاکہ یقینی بنائے کہ کسی راہ گیر کو شبہ نہ ہو کہ یہاں کوئی دفن ہے۔ اس نے ایک پتھر سرہانے اور ایک چھوٹا پتھر قدموں کی جانب رکھا،پھر کدال سے وہ گھاس بکھیری جو پہلے اکھاڑی تھی، دوسرے سرسبز پودے جلد ہی اس مرجھائی، خشک، مردہ گھاس کی جگہ لے لیں گے، جو جلد ہی اس زمین، جس سے وہ پھوٹے ہیں، کے نباتاتی چکر میں شامل ہو جائیں گے۔ آدمی نے درخت اور قبر کے درمیان فاصلہ ناپا، بارہ قدم، پھر اس نے کدال اور بیلچے کو اپنے کندھے پر رکھا اور کہا، ہمیں چلنا چاہیے۔ چاند غائب ہو گیا تھا، آسمان پر ایک مرتبہ پھر بادل چھا چکے تھے۔ جیسے ہی انھوں نے خچر کو چھکڑے میں جوتا، بارش شروع ہو گئی۔

4

ان تحیر خیز واقعات کے مرکزی کرداروں کو، جنھیں، متجسس قاری کے لیے، ایک ایسی کہانی میں غیر معمولی تفصیل سے بیان کیا گیا، جسے ہم حقائق کا ہمہ جہتی نظارہ کَہ سکتے ہیں، اس وقت، جس وقت وہ کہانی میں داخل ہوئے، ایک غریب دیہاتی خاندان قرار دیا گیا۔ یہ غلطی راوی کی جانب سے جلد بازی میں کیے گئے فیصلے کا نتیجہ تھی، جس کی بنیاد زیادہ سے زیادہ سطحیت پر تھی، جس کی سچائی کا احترام کرتے ہوئے تصحیح کی جانی چاہیے۔ ایک غریب دیہاتی خاندان، اگر وہ واقعی غریب تھا، ایک چھکڑے کا مالک نہ ہوتا، نہ ہی ان کے پاس اتنی رقم ہوتی کہ خچر جیسے ڈھیروں کھانے والے چوپائے کو کھلا سکے۔ حقیقت میں وہ معمولی حیثیت کا، مناسب حد تک کھاتا پیتا خاندان تھا، اس سیدھے سادے معاشرے میں، جس میں وہ رہتا تھا، اچھے ماحول میں پرورش پانے والے افراد گزارے لائق پڑھے ہوئے، جو نہ صرف قواعد کی رو سے درست گفتگو کر سکیں، بلکہ کسی حد تک جسے، مناسب الفاظ کی کمی کے باعث کچھ، اطمینان، دوسرے اسباب، اور کچھ اور، شاید عوامی زبان میں دال روٹی کہتے ہیں، کا حامل تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا، غیر شادی شدہ خالہ کبھی اس اہل نہ ہوتیں کہ ایسا دل آویز جملہ، جس پر ہم نے پہلے تبصرہ کیا، ادا کرتیں، ہم سائے کیا کہیں گے جب وہ ان دو افراد کو غیر حاضر پائیں گے،جو موت کی دہلیز پر تھے، لیکن مر نہیں سکتے تھے۔ جلدی سے غلطی کی تصحیح کرتے اور سچائی کو اس کا صحیح مقام عطا کرتے ہوئے، ہمیں چاہیے کہ وہ سنیں، جو ہمسایوں نے کہا۔ خاندان کی تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود کسی نے چھکڑے کو دیکھ لیا اور اچنبھے میں پڑ گیا کہ یہ تین افراد اتنی رات گئے باہر کیوں جا رہے ہیں، یہ وہ معین سوال تھا جو چوکس ہم سائے نے خود سے کیا، معمولی تبدیلی کے ساتھ، بوڑھے کسان کے داماد سے سوال جو اگلی صبح کیا گیا، تم تینوں رات کے اس پہر کہاں جا رہے تھے۔ داماد نے جواب دیا کہ انھیں کسی کام سے جانا تھا، لیکن ہم سایہ قائل نہ ہوا، کام کے لیے، آدھی رات کو، چھکڑے پر اور تمھاری بیوی ا ور سالی کے ہم راہ، یہ کچھ عجیب ہے، کیا ایسا نہیں، اس نے کہا، عجیب ہو گا، لیکن ایسا ہی تھا، اور تم کہاں سے آ رہے تھے جب آسمان پر روشنی نمودار ہو رہی تھی، یہ تمھارا مسئلہ نہیں ہے، تم ٹھیک کہتے ہو، معافی چاہتا ہوں، واقعی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں، آپ کے سسر کے بارے میں دریافت کرنے پر آپ برا نہیں منائیں گے، بس ویسے ہی ہیں، آپ کا چھوٹا بھانجا، وہ بھی ویسا ہی ہے، ٹھیک ہے، میں امید کرتا ہوں کہ دونوں بہتر ہو جائیں گے، شکریہ، خدا حافظ، خدا حافظ، ہم سایہ چلا، ٹھہرا، اور واپس مڑا، میرا خیال ہے آپ چھکڑے میں کوئی چیز لے جا رہے تھے، میرا خیال ہے کہ آپ کی سالی اپنی بانھوں میں ایک بچہ اٹھائے ہوئے تھی، اگر ایسا ہے تو وہ وجود جو کمبل سے ڈھکا ہوا تھا، غالباً آپ کے سسر تھے، اس کے علاوہ، اس کے علاوہ، کیا، اس کے علاوہ، جب آپ واپس آئے تو چھکڑا خالی تھا اور آپ کی سالی کی بانھوں میں کوئی بچہ نہیں تھا، آپ یقینا رات کو زیادہ نہیں سوتے، نہیں، میں بہت ہلکی نیند سوتا ہوں اور ذرا کھٹکے پر جاگ جاتا ہوں، آپ جاگ گئے جب ہم روانہ ہوئے اور جاگ گئے جب ہم واپس آئے، یہ ہے وہ، جسے لوگ اتفاق کہتے ہیں، یہ درست ہے، اور اب آپ مجھ سے چاہتے ہیں کہ آپ کو بتاؤں کہ کیا ہوا، صرف اس صورت میں، اگر آپ بتانا چاہیں، میرے ساتھ آئیے۔ وہ گھر میں گئے، ہم سائے نے تینوں خواتین کو آداب کہا، میرا مقصد دخل اندازی نہیں، شرمندگی سے انتظار کرتے ہوئے اس نے کہا۔ تم پہلے ہو گے جاننے والے، داماد بولا، اور تم اسے راز بھی نہ رکھنا کیوں کہ ہم تمھیں ایسا کرنے کا کہیں گے بھی نہیں، مہربانی کر کے مجھے صرف وہی بتائیے جو آپ چاہیں، میرے سسر اور میرا بھانجا گزشتہ شب فوت ہو گئے، ہم انھیں سرحد پر لے گئے، جہاں موت تاحال فعال ہے۔ تم نے انھیں مار دیا، پڑوسی نے تعجب کا اظہار کیا، ایک طرح، ہاں، اس طرح کہ وہ خود وہاں نہیں جا سکتے تھے، لیکن ایک طرح،نہیں، کیوں کہ ہم نے یہ سسر کی درخواست پر کیا، اور بچے کے بارے میں، غریب جان، اس معاملے میں اس کی کوئی آواز نہیں تھی اور نہ ہی زندہ رہنے کے قابل زندگی، وہ ایک دیودار کے درخت کے پاس، تم کَہ سکتے ہو، ایک دوسرے کی بانھوں میں دفن ہیں، ہم سائے نے سر پکڑ لیا، اور اب، اب تم جاؤ گے اور ساری بستی کو بتاؤ گے، ہم گرفتار کیے جائیں گے اور پولیس کے پاس لے جائے جائیں گے اور غالباً ہم پر مقدمہ چلایا جائے گا اور سزا دی جائے گی، اس کی جو ہم نے نہیں کیا، لیکن تم نے ایسا کیا ہے، سرحد سے ایک گز پہلے وہ زندہ تھے، ایک گز آگے گئے اور وہ مردہ تھے، معین طور پر کب، بقول تمھارے، کیا ہم نے انھیں قتل کیا، کیسے، اگر تم انھیں وہاں نہ لے جاتے، ہاں، وہ یہاں ہوتے، ایک ایسی موت کے منتظر جو آنے کی نہیں۔ چپ چاپ بیٹھی، تینوں عورتیں ہم سائے کو دیکھ رہی تھیں۔ میں جا رہا ہوں، وہ بولا، میرا خیال تھا کہ کچھ ہوا ہے، لیکن مجھے گمان بھی نہیں تھا، ایسا ہونے کا، مہربانی کیجیے، میں ایک مدد جاہتا ہوں، داماد نے کہا، کیا، میرے ساتھ پولیس کے پاس چلیں، اس طرح آپ کو ہر دروازہ کھٹکھٹانا نہیں پڑے گا، یہ بتانے کے لیے کہ ہم نے کتنا بھیانک جرم کیا ہے، میرا مطلب ہے، والد کا قتل اور معصوم بچے کا قتل، اُف، اس گھر میں کیسے وحشی رہتے ہیں، ایسا نہیں، جو میں بیان کروں گا، ہاں، میں جانتا ہوں، پس میرے ساتھ چلیں، کب، ابھی، چوٹ لگاؤ جب لوہا گرم ہے، تو ہمیں چلنا چاہیے۔

نہ تو ان کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ہی انھیں سزا دی گئی، بجلی کی مانند یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی، میڈیا نے مکروہ مخلوق، قتل کرنے والی بیٹیوں اور شریک جرم داماد، پر لعنت ملامت کی، انھوں نے بوڑھے آدمی اور معصوم بچے کے لیے آنسو بہائے جیسے وہی نانا اور نواسہ ہیں جنھیں ہر شخص چاہے گا کہ اس کے ہوتے، ہزارویں دفعہ، صحیح سوچ رکھنے والے اخبارات نے، جو عوامی اخلاقیات کے پیمانے کا کردار ادا کرتے تھے، خاندانی قدروں کی روایت میں نہ رک سکنے والے اخلاقی انحطاط کی نشان دہی کی، جو ان کی دانست میں سب بیماریوں کا سرچشمہ، سبب اور بنیاد تھا، اور پھر صرف اڑتالیس گھنٹے بعد تمام سرحدی علاقوں سے اسی نوع کے واقعات کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ چھکڑے اور خچر دوسرے ناقابل دفاع جسموں کو منتقل کر رہے تھے، اسی دوران جعلی ایمبولینسیں ویران راستوں پر اس مقام تک پہنچنے کے لیے ہچکولے کھا رہی تھیں، جہاں اپنی نشستوں پر سیٹ بیلٹس سے بندھے جسموں کو اتار سکیں، اگرچہ اجسام کی تذلیل کے کچھ واقعات میں انھیں قدموں میں کمبل سے ڈھانپا گیا، تمام کمپنیوں، ماڈلوں اور قیمتوں کی کاریں نئے گلوٹین کی جانب گامزن تھیں، جس کی دھار، اس کھلے موازنے پر معاف فرمائیں، وہ باریک لکیر تھی جو ننگی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، ہر سواری لے جا رہی تھی، ان بدنصیبوں کو جنھیں لکیر کی اس جانب موت نے، مستقل کیفیتِ مرگ، میں روکا ہوا تھا۔ تمام خاندان جنھوں نے ایسا کیا، اپنے دفاع میں، چند پہلوؤں سے قابلِ احترام، اس کے باوجود قابلِ اعتراض، یہی عذر پیش نہیں کر سکتے تھے، جیسے اذیت میں مبتلا ہمارا کاشت کار کنبہ جس نے، اپنے عمل کے نتائج کا کوئی اندازہ نہ کرتے ہوئے، یہ سلسلہ شروع کیا۔ کچھ جنھوں نے اپنے باپ، دادا سے، ایک اجنبی زمین میں نجات پانے کے لیے اس کا استعمال مناسب سمجھا، اسے محض ایک صاف ستھرے مناسب طریقے کے طور پر دیکھا، اگرچہ حقیقی لاشے کے بوجھ سے، جو ان کے مرتے ہوئے ان کے عزیز گھر میں بن گئے تھے، رہائی دلانے کے جارہانہ الفاظ، شاید مناسب لفظ نہ ہوں۔ میڈیا، جس نے شروع میں زور شور سے بیٹیوں اور داماد کو، بوڑھے آدمی کو اس کے نواسے کے ساتھ دفن کرنے کا مجرم قرار دیا، جب کہ غیر شادی شدہ خالہ کو اس سازش میں شریک ہونے اور چشم پوشی کا الزام دھرتے ہوئے مطعون کیا، اب ظلم اور حبَِّ وطن کے فقدان کا ماتم کر رہا تھا، بظاہر مہذب انبوہ، جس نے اس شدید قومی بحران کے وقت، منافقانہ نقاب کو اترنے دیا، جس نے ان کے اصل چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا۔ تین ہم سایہ ملکوں کی حکومتوں اور حزب مخالف کے جماعتوں کے دباؤ میں، وزیرِ اعظم نے انسانی زندگی کے احترام کا ذکر کرتے ہوئے ان غیر انسانی سرگرمیوں کو برا بھلا کہا اور اعلان کیا، مسلح افواج فوری طور پر پوزیشن سنبھال لیں گی، تاکہ کسی شہری کو، جو جسمانی انحطاط کی آخری منزل پر ہو، سرحد عبور کرنے سے روکیں، چاہے اس کی اپنی تحریک پر ہو یا کسی من مانے ظالمانہ رشتے کی بنا پر ہو۔ بین السطور، یقینا وزیرِ اعظم نے کھل کر کہنے کی جرأت نہ کی کہ حکومت فرار کی قطعاً مخالف نہیں جو حتمی تجزیے کے مطابق، شماریاتی دباؤ، جو گزشتہ تین ماہ سےمسلسل بڑھ رہا تھا، اگرچہ، تاحال حقیقی پریشان کُن سطح سے کافی نیچے ہے، کو کم کرتے ہوئے ملک کے مفاد میں ہو گا۔ وزیرِ اعظم نے یہ کہنا بھی نظر انداز کیا کہ اسی دن اس نے وزیرِ داخلہ سے احتیاطی ملاقات کی تھی جس کا مقصد تھا، جال بچھایا جائے ملک بھر میں، شہروں میں، قصبوں میں، دیہاتوں میں نگہ داروں کا یا جاسوسوں کا، جن کی ذمہ داری ہو گی کہ ان لوگوں کے قریبی رشتہ کی مشکوک حرکات کی انتظامیہ کو اطلاع دیں، جو موت اور زندگی کے درمیان معلق ہوں۔ یہ فیصلہ کہ مداخلت کی جائے یا نہیں، ہر کیس کا انفرادی طور پر کیا جائے گا، جب کہ حکومت کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ مکمل طور پر نئی نوع کی اس تمنائے ہجرت کو روکے، لیکن یہ سب ان ملکوں کی حکومتوں کے تحفظات کو، جن کے ساتھ ان کی سرحدیں مشترک تھیں، وقتی طور پر دور کرنے کی خاطر کیا گیا۔ ہم یہاں اس لیے نہیں کہ صرف وہ کریں، جو وہ ہم سے چاہیں، وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا، فی الحال، چھوٹی بستیاں، وسیع جاگیریں اور الگ تھلگ گھر مستثنا ہوں گے، وزیرِ اطلاعات نے تبصرہ کیا، ہم انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے، وہ کر سکتے ہیں، جو وہ چاہیں، جیسا کہ آپ تجربے سے جانتے ہیں، میرے دوست، یہ ممکن نہیں کہ ہر فرد کے لیے ایک سپاہی ہو۔

دو ہفتوں تک، منصوبہ کم و بیش ٹھیک چلا، لیکن، اس کے بعد، نگہ داروں میں سے کچھ کی جانب سے شکایات آنا شروع ہوئیں کہ انھیں متنبہ کرتے ہوئے فون پر دھمکیاں مل رہی ہیں، اگر وہ سلامتی اور سکون سے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بہتر ہو گا، قریب المرگ مریضوں کی خفیہ آمد و رفت کو اَن دیکھا کر دیں، یہاں تک کہ اپنی آنکھیں بالکل بند رکھیں، اگر وہ خود کو ان افراد کی گنتی میں شامل کرنا نہیں چاہتے، جن کی نگرانی پر وہ متعین کیے گئے ہیں۔ یہ خالی دھمکیاں نہیں تھیں، جیسا کہ اس وقت ظاہر ہوا، جب چار نگہ داروں کے خاندان والوں کو نامعلوم فون کرنے والوں کی طرف سے بتایا گیا، اپنے پیاروں کو فلاں اور فلاں جگہ سے اٹھا لیں۔ وہ وہیں اور وہیں ملے، مردہ نہیں تھے، لیکن اس کے برعکس زندہ بھی نہیں تھے۔ صورتِ حال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، وزیرِ داخلہ نے فیصلہ کیا کہ اَن دیکھے دشمن کو اپنی طاقت دکھائے، ایک جانب اپنے جاسوسوں کو حکم دیتے ہوئے کہ اپنی تحقیق تیز کریں، اور دوسری جانب اکیلے وکیلے کو گزرنے کی اجازت دینے کا نظام منسوخ کرتے ہوئے، لیکن وہ نہیں جو وزیرِ اعظم کی تکنیک کے مطابق نافذ کیا گیا تھا۔ ردِ عمل فوری تھا، چار مزید نگہ دار اسی بد نصیبی سے دو چار ہوئے جس سے پہلے چار ہوئے تھے، لیکن اس مرتبہ صرف ایک فون، خود وزیرِ داخلہ کو متوجہ کرتے ہوئے آیا، جس سے مراد، اشتعال انگیزی، لی جا سکتی ہے، لیکن ایک ایسا عمل بھی سمجھا جا سکتا ہے، جو خالصتاً منطق پر مبنی ہے، جیسے کوئی کَہ رہا ہو، ہم موجود ہیں۔ تاہم، پیغام وہیں نہیں رکا، یہ اپنے ساتھ ایک تعمیری تجویز لایا، ہمیں چاہیے، ایک شریفانہ معاہدہ کریں، دوسرے سرے پر آواز نے کہا، آپ اپنے نگہ داروں کو دست بردار ہونے کا حکم دیں، مرتے ہوؤں کو سرحد پر پہنچانا، ہم مناسب طور پر سنبھال لیں گے، آپ کون، صدر شعبہ جس نے فون وصول کیا، دریافت کیا، صرف اُن افراد کا گروپ جو ترتیب اور تنظیم کا خیال رکھتا ہے، ہم سب اپنے شعبے پر مکمل عبور رکھنے والے، تذبذب کو ناپسند کرتے اورہمیشہ اپنا وعدہ نبھاتے ہیں، مختصراً، ہم قول کے پکے ہیں، اس گروپ کا کوئی نام ہے، سول سرونٹ نے سوال کیا، کچھ ہمیں ماپیا کہتے ہیں، پ، کے ساتھ، پ، کے ساتھ کیوں، تاکہ ہمیں اصل مافیا سے ممتاز کر سکیں، ریاست مافیاؤں سے معاہدے نہیں کرتی، نوٹری کے دست خط شدہ پکے کاغذات پر نہیں، نہیں، نہ ہی کسی اور کاغذ پر، تم کس عہدے پر فائز ہو، صدر شعبہ، یہ بات، ایک ایسا فرد جو عملی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، لیکن میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں، ہمیں اس وقت اس میں دل چسپی ہے کہ تم ہماری تجویز اس شخصیت تک پہنچا دو، جو بااختیار ہے، وزیر تک، اگر تمہاری اس تک رسائی ہے، نہیں، میری رسائی وزیر تک نہیں، لیکن یہ گفتگو فوری طور پراپنے اعلا آفیسران تک پہنچا دی جائے گی، حکومت کے پاس تجویز کا جائزہ لینے کے لیے اڑتالیس گھنٹے ہوں گے، مزید ایک منٹ نہیں، لیکن اپنے اعلا آفیسران کو متنبہ کر دینا کہ اگر ہمیں وہ جواب نہ ملا، جو ہم چاہتے ہیں، وہاں مزید نگہ دار ہوں گے، کوما میں، ٹھیک ہے، میں ایسا ہی کروں گا، تو میں پھر فون کروں گا، پرسوں اسی وقت، جاننے کے لیے کہ ان کا فیصلہ کیا ہے، ٹھیک ہے، میں ایک نوٹ تیارکروں گا، تم سے بات کر کے خوشی ہوئی، کاش میں بھی ایسا کَہ سکتا، اچھا، مجھے یقین ہے، تم اپنا لہجہ بدل لو گے، جب سنو گے کہ نگہ دار خیریت کے ساتھ واپس آ گئے ہیں، اور اگرتم تاحال تک اپنے بچپن کی دعائیں نہیں بھولے، دعا شروع کرو کہ وہ ایسا ہی کریں، میں سمجھ گیا، مجھے جانتا ہوں، ٹھیک اسی وقت، اڑتالیس گھنٹے بعد، مزید ایک منٹ نہیں، لیکن یقیناً میں وہ نہیں ہوں گا جو آپ سے بات کرے گا، اوہ، مجھے یقین ہے کہ تم ہی ہو گے، وہ کیو ں، کیوں کہ وزیر نہیں چاہے گا کہ براہ راست مجھ سے بات کرے، علاوہ ازیں، اگر معاملہ بگڑ گیا، تم وہ ہو گے، جو مارا جائے گا، آخر کار، جو ہم تجویز کر رہے ہیں، ایک شریفانہ معاہدہ ہے، بالکل جناب، خدا حافظ، خدا حافظ، صدر شعبہ نے ٹیپ ریکارڈر سے ٹیپ اتاری اور اپنے آفیسر سے بات کرنے گیا۔

نصف گھنٹے بعد، کیسٹ وزیرِ داخلہ کی میز پر تھی۔ اس نے سنا، پھر سنا، ایک مرتبہ پھر سنا اور دریافت کیا، اس صدر شعبہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، بالکل، اعلا آفیسر نے جواب دیا، اس وقت تک مجھے شکایت کا کوئی چھوٹا سبب بھی نہیں ملا، میں امید کرتا ہوں، نہ ہی کوئی بڑا، معنویت کو نہ سمجھتے ہوئے آفیسر نے جواب دیا، نہ بڑا نہ چھوٹا۔ وزیر نے کیسٹ کو ٹیپ ریکارڈر سے نکالا اور فیتے کو ادھیڑنا شروع کیا۔ فیتے کو ادھیڑ کر شیشے کے بڑے راکھ دان میں رکھا اور اپنے لائیٹر کا شعلہ دکھایا، فیتہ مڑنے تڑنے اور سکڑنے لگا، ایک منٹ سے پہلے وہاں بے ہیئت، سیاہ، بھربھری بکھری راکھ تھی۔ ممکن ہے انھوں نے بھی صدر شعبہ کی گفتگو ریکارڈ کی ہو، بڑے آفیسر نے کہا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی بھی فون کی جعلی گفتگو تیار کر سکتا ہے، آپ کو صرف دو آوازیں اور ایک ٹیپ ریکارڈر درکار ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی ٹیپ ضائع کر دی ہے، اصل کو جلانے کا مطلب ہے، کسی امکانی نقل کو بھی جلانا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ٹیلی فون آپریٹر ہر کال کا ریکارڈ رکھتا ہے، ہم یقینی بنائیں گے کہ وہ بھی غائب ہو جائے، کیا ہم، جی جناب،اب اگر اجازت ہو، میں رخصت چاہوں گا، تاکہ آپ معاملہ دیکھ لیں، ضرورت نہیں، میں فیصلہ کر چکا ہوں، مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں، جناب، یہ جان کر کہ آپ اتنی تیزی سے فیصلہ کرتے ہیں، یہ صرف خوشامد ہوتی، اگر د رست نہ ہوتی، کیوں کہ میں فوراً غور کرتا ہوں، آپ تجویز منظور کرنے جا رہے ہیں، نہیں، میں متبادل تجویز دینے جا رہا ہوں، مجھے ڈر ہے، وہ اسے مستردنہ کر دیں، اصطلاحات،جو نمائندے نے استعمال کیں، حتمی اور دھمکی آمیز تھیں، اگر ہمیں جواب نہ ملا، جو ہم چاہتے ہیں، وہاں مزید نگہ دار ہوں گے، کوما میں، یہ الفاظ تھے اس کے، میرے عزیز دوست، ہم انھیں جو جواب دینے جا رہے ہیں، بالکل وہی ہے جس کی وہ توقع کرتے ہیں، معافی چاہتا ہوں، جناب، میں سمجھا نہیں، میرے عزیز دوست، یہی تمھارا مسئلہ ہے، جب میں یہ کہتا ہوں، میں تمھارے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتا، لیکن تمھارا مسئلہ یہ ہے کہ تم ایک وزیر کی مانند سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، سراسر میری خطا، ارے، جانے دو، خود کو الزام نہ دو، اگر کبھی تمھیں بحیثیت وزیر ملک کی خدمت کرنے کے لیے کہا کیا گیا، تم دیکھو گے، جس لمحے تم اس طرح کی کرسی پر بیٹھتے ہو تمھارا دماغ کیسے کلانچیں بھرتا ہے، فرق ناقابلِ تصور ہے، لیکن میں تو فقط سول سرونٹ ہوں، اس طرح خواب پال کر کچھ نہیں پانے کا، تمھیں پرانی کہاوت کا علم ہے، کبھی نہ کہو، اس چشمے سے میں نہیں پیوں گا، عین اس وقت، جناب، یقیناً، آپ کے پاس پینے کا پانی انتہائی تلخ ہے، بڑا آفیسر ٹیپ کی جلی ہوئی باقیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، جب واضح حکمتِ عملی آپ کے پاس ہو اور آپ معاملے کے تمام حقائق سے آگاہ ہوں، تب یہ مشکل نہیں ہو گا کہ ایک محفوظ منصوبہ بنائیں، میں ہمہ تن گوش ہوں، جناب، کل کے دن کے بعد کا دن، جو دیا گیا ہے، جو خفیہ نمائندے سے بات کرے گا، وہ، کوئی دوسرا نہیں، تمھارا صدر شعبہ ہو گا، وزارت کا مذاکرات کار، وہ انھیں بتائے گا، ہم تجویز، جو انھوں نے ہمیں دی ہے، کا جائزہ لینے کے لیے آمادہ ہیں، لیکن انھیں متنبہ بھی کرے گا کہ، عوامی رائے عامہ اور حزبِ مخالف ہمیں کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ ہزاروں نگہ داروں کی خدمات، بغیر کسی معقول وضاحت کے، واپس لی جائیں، اور یقیناً اس بیان کو معقول وضاحت قرار دینا مشکل ہے کہ ماپیا نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں، ظاہر ہے، اگرچہ آپ اسے کچھ ڈھکے چھپے انداز میں پیش کر سکتے ہیں، معاف کیجیے، جناب، یہ اسی طرح دکھائی دے گا، بہر حال، اس مرحلے پر، صدر شعبہ، مقابل پر ایک تجویز، یا جسے ہم، متبادل تجویز، کَہ سکتے ہیں، پیش کرے گا کہ، نگہ داروں کو کام سے نہیں ہٹایا جائے گا، وہ وہیں رہیں گے جہاں وہ اب ہیں، مگر کام نہیں کریں گے، کام نہیں کریں گے، میرا خیال ہے، یہ کوئی مشکل الفاظ نہیں ہے، اوہ، یقینا، جناب، میں تو صرف اپنی حیرت کا اظہار کر رہا تھا، حیرت کس پر، آخر، صرف یہی صورت ہے کہ ہم بدمعاشوں کی بلیک میلنگ کے سامنے ہتھیار ڈالتے دکھائی نہ دیں، بھلے ہم ڈال چکے ہوں، اہم بات یہ ہے، یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ہم نے نقاب کے پیچھے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے، اس نقاب کے پیچھے کیا ہو گا، آئندہ سے ہماری ذمہ داری نہیں ہو گی،کیا مطلب، چلیں فرض کریں، ہم ایک گاڑی روکتے ہیں اور اس کے نگران کو گرفتار کر لیتے ہیں، بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ خدشات اس بل میں شامل ہیں، جو رشتہ داروں نے ادا کرنے ہیں، اس میں کوئی بل یا رسید نہیں ہو گی، ماپیا ٹیکس ادا نہیں کرتا، یہ صرف کہنے کا ایک طریق ہے، جو بات ہے، یہ سب کے لیے منافع کا سودا ہے، ہمارے لیے کیوں کہ ہمارے ذہن سے بوجھ اترنا ہے، نگہ داروں کے لیے کیوں کہ وہ جسمانی نقصان کے مزید خطرے میں نہیں ہوں گے، خاندانوں کے لیے کیوں کہ انھیں اطمینان ہو گا کہ اُن کے زندہ لاشے بالآخر مُردوں میں شامل ہو جائیں گے، ماپیا کے لیے کیوں کہ انھیں اُن کی محنت کا اجر مل جائے گا، ایک بے عیب انتظام، جناب، جو ایک ایسی مضبوط ضمانت کے ساتھ ہے، جس کا افشا ہونا کسی کے فائدے میں نہیں، بالکل نہیں، تم غالباً ٹھیک کہتے ہو، شاید میں کچھ خود غرض لگتا ہوں، بالکل نہیں، جناب، جس طرح آپ نے ایسا ٹھوس، منطقی، مربوط منصوبہ بنایا، میں نے صرف اس کی تحسین کی، تجربہ، میرے دوست، تجربہ، درست، میں صدر شعبہ کے پاس جاؤں گا اور آپ کی ہدایات اسے پہنچاؤں گا، مجھے یقین ہے وہ اچھی کارکردگی دکھائے گا، کیوں کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اس وقت تک مجھے شکایت کا کوئی چھوٹا سبب بھی نہیں ملا، نہ ہی کوئی بڑا،مجھے امید ہے، نہ پہلا، نہ ہی دوسرا، بڑے آفیسر نے جواب دیا، جس نے آخر کار چھوٹا سا مذاق سمجھ لیا تھا۔

سب کچھ، یا بہتر الفاظ میں معین طور پر، تقریباً سب کچھ ایسے ہی ہوا جیسے وزیر نے سوچا تھا، ٹھیک اس متفقہ وقت پر، نہ ایک منٹ پہلے نہ ہی ایک منٹ بعد،نمائندہ مجرمانہ ایسوسی ایشن، اپنے رنگ کی منفرد ماپیا کے، نے فون کیا کہ جانے، وزارت کے پاس کہنے کو کیا ہے۔ صدر شعبہ پورے نمبروں کا مستحق ہے، کیوں کہ جس طرح اس نے اپنا کردار نبھایا، وہ بنیادی سوالات کے حوالے سےمضبوط اور واضح اور مرتب تھا، جو یہ تھا کہ نگہ دار، ہر چند غیر فعال ہوں گے، اپنی ملازمت پر رہیں گے، اسے ان حالات میں تمام ممکنہ جوابات میں سے بہترین جواب پانے اور اپنے آفیسر کو منتقل کرنے پر اطمینان تھا، جو تھا، حکومت کی متبادل تجاویز کا بَغور جائزہ لیا جائے گا اور چوبیس گھنٹوں میں ایک اور فون تصدیق کرے گا۔ اور یہی تھا جو ہوا۔ باریک بینی سے مطالعہ اس نتیجے پر پہنچا، حکومت کی تجویز قبول کی جا سکتی ہے، لیکن ایک شرط کے ساتھ، نگہ دار جو غیر فعال کیے جائیں گے، وہ ہوں گے، جو حکومت کے وفادار رہیں گے، یا باالفاظِ دیگر، وہ جنھیں ماپیا قائل کرنے میں ناکام رہی کہ نئے باس، جو خود ماپیا ہے، سے تعاون کریں۔ چلیں، ہم جرائم پیشہ کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھتے ہوئے، قومی سطح کی ایک بڑی، پے چیدہ مہم، رکھتے ہوئے بہت سے، وسیع تجربے والے کے حامل بہت سے کارکن، جو اُن خاندانوں سے رابطہ کر سکیں، جو کم از کم اصولی طور پر خود کو اپنے پیاروں سے، انھیں نہ صرف بلا مقصد جینے بلکہ دائمی تکلیف سے آزاد کرنے کی قابلِ تحسین بنا پر، چھٹکارہ دلانے پر آمادہ ہوں، یہ واضح طور پر ماپیا کی ایک بڑی اعانت ہو گی، اگر وہ حکومتی معلومات کا وسیع نیٹ ورک استعمال کر سکیں، مزید برآں یہ سہولت کہ انھیں اپنے کرپشن، رشوت، اور دھمکانے کے پسندیدہ حربے جاری رکھنے کی اجازت ہو گی۔ یہ اچانک سڑک کے درمیان پھینکےگئے پتھر کی مانند تھا، وزیرِ داخلہ کی حکمتِ عملی نے ریاست اور حکومت کے اقتدار کو مجروح کرتے ہوئے اس کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔ خود کو چٹان اور کھائی کے درمیان، سمندری بلا اور گرداب کے درمیان، ابلیس اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسا پا کر وہ بھاگا کہ اس غیر متوقع پے چیدہ گرہ کے بارے میں وزیرِ اعظم سے رہ نمائی لے۔ بدترین پہلو یہ تھا کہ حالات اتنے آگے نکل گئے تھے کہ اب انھیں واپس لانا ممکن نہیں تھا۔ اُن کے لیے، وزیرِ داخلہ سے زیادہ تجربہ کار ہونے کے باوجود، وزیرِ اعظم اس مصیبت سے نکلنے کی کوئی راستہ نہ نکال سکا، سوائے مشورہ دینے کے، مزید مذاکرات کا، تجویز کرتے ہوئے کچھ شقیں کچھ اس طرح کی، زیادہ سے زیادہ پچیس فی صد موجودہ نگہ داروں کی تعداد کا، دوسری جانب کے کام کرنے جائے گا۔ ایک مرتبہ پھر یہ صدر شعبہ کے ذمے لگا کہ پہنچائے، اپنے بے صبر مخاطب کو، وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کا مصالحانہ فارمولہ، جو تاحال پر امید تھے، معاملہ بالآخر معاہدے کو منظور کرانے پر منتج ہو گا۔ تاہم یہ معاہدہ دست خطوں کے بغیر ہو گا، کیوں کہ، جیسا کہ لغت بتاتی ہے، گریز کرتے ہوئے، کسی نوع کے قانونی ضابطے سے، یہ ایک شریفانہ معاہدہ ہو گا جس میں فریقین کی زبان کافی ہو گی۔ اُنھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ماپیا کے شیطانی دماغوں میں کون سی چال ہے۔ اوّل، ماپیا نے جواب کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، غریب وزیرِ داخلہ کو، سوکھنے کے لیے لٹکا کر تا اس نتیجے پر پہنچے کہ استعفا دے کر ہی جان چھوٹے گی۔ دوم، کئی دنوں بعد، جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں فون کرنا چاہیے، وہ صرف یہ بتانے کے لیے تھا، وہ تاحال اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ آیا یہ پلیٹ فارم واقعی ثابت ہو گا، ضرورت کے مطابق مصالحانہ، یا نہیں، اور پھر، چلتے چلتے، جیسے یہ کوئی اہمیت کی بات نہیں تھی، انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں مطلع کیا کہ وہ کسی طرح ذمہ دار نہیں، اس حقیقت کے کہ گزشتہ روز چار مزید نگہ دار مخدوش حالت میں پائے گئے۔ سوم، چوں کہ ہر معاملے کا کوئی انجام ہوتا ہے، بھلے خوش گوار ہو یا ناگوار، جواب، جو حکومت کو دیا گیا، قومی ماپیا بورڈ کی جانب سے، صدر شعبہ اور اس کے اعلا آفیسر کی معرفت، دو شقوں پر منقسم تھا،شق الف، شماریات سے متعلق شق، پچیس فی صد نہیں بلکہ پینتیس ہو گی، شق ب، جب بھی وہ محسوس کریں کہ یہ اُن کے مفاد میں ہے، صاحبان اختیار سے، کم از کم ان کی مرضی جاننے کی خاطر، پیشگی مشورہ کیے بنا،آرگنایزیشن نے مطالبہ کیا کہ اسے حق دیا جائے کہ تبادلہ کرے، اپنے لیے کام کرنے والوں کا، جنھیں وہ تبدیل کریں گے، یقیناً، اِن آسامیوں پر جن پر غیر فعال نگہ دار تعینات ہیں۔ چاہے ان شرائط کو قبول کریں، چاہے رد کریں۔ کیا تمھیں اس بھنور سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے، وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ سے سوال کیا، جی، جناب، مجھے تو اس کا بھی یقین نہیں کہ کوئی ہے، اگر ہم انکار کر دیں، میرا اندازہ ہے کہ ہم ہر روز پائیں گے، چار نگہ داروں کو حوالے ہوتے ہوئے بے کاری کے، کام اور زندگی، ہر دو کے لیے، اگر ہم قبول کر لیں، ہم اُن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جو کون جانتا ہے کب تک، ہمیشہ ہمیش کے لیے، یا کم از کم جب تک ایسے خاندان موجود ہیں جو اپنی نجات چاہتے ہیں کسی بھی قیمت پر، اس بوجھ سے جو ان کے گھروں میں موجود ہے، اس سے مجھے ایک آئیڈیا آیا ہے، مجھے یقین نہیں کہ اسے سُن کر خوش ہونا چاہیے یا نہیں، دیکھیں، میں نے آخری حد تک کوشش کی، جو مجھ سے ہو سکی، وزیرِ اعظم، لیکن اگر میں ایک اور نوع کا بوجھ بن گیا ہوں، پھر آپ کو صرف یہ الفاظ کہنے ہیں، ارے، اتنے مایوس نہ ہو، بتاؤ، تمھارا آئیڈیا کیا ہے، جی، وزیرِ اعظم، مجھے یقین ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے رسد اور طلب کا سیدھا سادہ کیس ہے، اس کا اس سے کیا تعلق، یہاں ہم عوام کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جن کے پاس مرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور اس بارے میں روایتی سوال کہ پہلے کون آیا، مرغی یا انڈہ، کی مانند کبھی آسان نہیں ہوتا، یہ بتانا کہ طلب، رسد سے پہلے آئی یا اس کے برعکس، یہ رسد تھی جس نے طلب پیدا کی، شاید مجھے سوچنا پڑے، داخلہ سے مالیات کے محکمہ میں تبدیل کرنے کے بارے میں، یہ زیادہ مختلف نہیں ہیں، وزیرِاعظم، وزارتِ داخلہ کی اپنی مالیات ہوتی ہے اور محکمہ مالیات کی اپنی داخلیت ہوتی ہے، یہ ابلاغ کی باتیں ہیں، کہنا یہ ہے، موضوع پر آؤ اور اپنا آئیڈیا بتاؤ، اگر ایسا نہ سوجھتا اولین خاندان کو کہ مسئلے کا حل شاید اُن کا انتظار کر رہا ہے سرحد کی دوسری جانب، صورت حال جس میں ہم خود کو آج پاتے ہیں، شاید مختلف ہوتی، اگر بہت سے خاندان اُن کی مثال کی پیروی نہ کرتے، ماپیا نہ پہنچتا یہ خواہش لے کر کہ لوٹ کھسوٹ کرے، ایک ایسے کاروبار کے ذریعےجس کا، نظریاتی اعتبار سے، کوئی وجود نہیں،بالکل، اگرچہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں،عملی طور پر وہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ پتھر سے پانی نچوڑ لیں، اور پھر اسے منافع پر بیچ دیں، لیکن مجھے اب بھی سمجھ نہیں آیاکہ تمھارا منصوبہ کیا ہے، یہ سیدھا سادہ ہے، وزیرِ اعظم، ایسا ہے تو کُھل کر بتاؤ، ہمیں رسد بند کر دینی چاہیے، ہم یہ کیسے کریں گے، خاندانوں تک رسائی کے ذریعے، انتہائی مقدس انسانی قدروں محبت اور اخوت کے نام پر، اپنے پیارے قریب المرگ پیارے مریضوں کو گھر میں رکھیں، تم کتنے یقین سے کہتے ہو کہ یہ معجزہ ہو جائے گا، میرا خیال ہے کہ تمام میڈیا، اخبارات، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر وسیع پبلسٹی مہم چلائی جائے، بشمول گلیوں میں مارچ، بیداریٔ ضمیر گروپس، پمفلٹوں اور سٹکرز کی تقسیم، عوامی اور روایتی تھیٹر، فلموں، بالخصوص جذباتی اور کارٹونوں والی، جو اتنی متاثر کُن ہوں کہ لوگوں کی آنکھوں کو نم کر سکیں، کی مہم، ایک ایسی مہم جو ایسے رشتہ داروں کو تائب کرے، جو اپنی ذمہ داریوں اور روایات سے بھٹک گئے ہیں، وہ جو لوگوں میں جذباتِ اخوت، جاں نثاری اور ہم دردی کے پیدا کرے، میں مانتا ہوں، اس میں تھوڑا وقت لگے گا کہ خطا کار گھرانے اپنے اعمال کی ناقابلِ معافی زیادتی کا ادراک کریں اور لوٹیں اعلا اقدار کی طرف جن کی مبادیات سے ہم نے بہت عرصہ نہیں گزرا تجاوز کیاہے، میرے اندیشے لمحہ نہ لمحہ بڑھ رہے ہیں،میں اب سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ تمھارا تبادلہ کلچر میں یا شاید، مذہب میں کر دوں، جس کی محسوس ہوتا ہے تم میں خاصی اہلیت ہے، اور یا، وزیرِ اعظم، تینوں پورٹ فولیو ایک وزارت کے تحت کر دیے جائیں، تمھارا مطلب ہے اسی طرح مالیات بھی، ٹھیک، اگر وہ واقعی ابلاغ کا ذریعہ ہیں، جس کے لیے تم قطعاً غیر مناسب ہو، میرے دوست، پروپیگنڈا، تمھارا گمان کہ ایک پبلسٹی مہم کنبوں کو دردمند دل رکھنے انسانوں میں بدل دے گی، نری بکواس ہے، کیسے، وزیرِ اعظم، مہم صرف اُن کے لیے مفید ہوتی ہے جو اِنھیں چلا کر پیسہ کماتے ہیں، ہم اس طرح کی بہت سے مہمات پہلے بھی چلا چکے ہیں، جی ہاں، جن کے نتائج بھی تم دیکھ چکے ہو، اگر تمھاری مہم کا کوئی نتیجہ نکلنا بھی ہے، یہ ایک دو دن میں نہیں ہو گا، جب کہ مجھے ابھی فیصلہ کرنا ہے، یقینا، وزیرِ اعظم۔ وزیرِ اعظم مایوسی سے مسکرایا، یہ تمام صورتِ حال لغو اور مضحکہ خیز ہے، وہ بولا، ہم اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے پاس کوئی انتخاب نہیں، اور یہ کہ ہم جو تجویز کریں گے صورتِ حال کو مزید ابتر کرے گی، اور اس صورت میں، اس صورت میں، اگر ہم نہیں چاہتے کہ روزانہ ہمارے چار ذمے دار نگہ دار، توڑ مروڑ کر زندگی کی حد سے ایک انچ دور، موت کی دہلیز پر ڈال دیے جائیں، ہم یہی کر سکتے ہیں کہ اُن کی شرائط مان لیں، ہم پولیس کو اچانک برق رفتار بزن کا حکم دے کر درجنوں ماپیاؤں کو گرفتار کر سکتے ہیں، جو شاید اُنھیں مجبور کر دے کہ ایک قدم پیچھے ہٹائیں، ڈریگن کو مارنے کا واحد طریقہ اس کا سر قلم کرنا ہے، ناخن تراشنے کا قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہو گا، شاید یہ مدد کرے، چار نگہ دار ہر روز، منسٹر، یاد رکھو، چار نگہ دار ہر روز، بہتر یہی ہو گا کہ ہم تسلیم کر لیں، ہمارے ہاتھ بندھے ہیں، حزبِ اختلاف یومِ احتجاج کی کال دے گی، وہ ہم پر ملک کو ماپیا کے ہاتھ فروخت کرنے کا الزام لگائے گی، وہ ملک نہیں کہیں گے، اس سے بھی بڑھ کر، وہ قوم کہیں گے، ہمیں بس یہی امید ہے کہ کلیسا مدد کے لیے آمادہ ہے، انھیں چند کارآمد قربانیاں فراہم کرتے ہوئے، مجھے امید ہے، کم از کم، وہ دلائل تسلیم کر لیں گے کہ یہ فیصلہ کرتے ہوئے ہمارا مقصد زندگی بچانا تھا، آپ زندگیاں بچانے کی مزید بات نہیں کر سکتے، وزیرِ اعظم، یہ پہلے ممکن تھا، تم درست کہتے ہو، ہمیں کسی اور تاثر کے ساتھ آنا ہو گا، وہاں خاموشی چھا گئی، پھر وزیرِ اعظم بولا، یہ کافی ہے، اپنے صدر شعبہ کو ضروری ہدایات دو اور غیر فعالیت کے منصوبے پر کام شروع کرو، ہمیں ماپیا کی سوچ، پچیس فی صد نگہ داروں، جو بہت سی شقوں میں تقسیم ہوں گے، کو کس حساب سے تقسیم کیا جائے، جاننے کی ضرورت ہے، پینتیس فی صد، وزیرِ اعظم، مہربانی کر کے مجھے یاد نہ دلاؤ کہ ہماری حزیمت اس سے بھی بری ہے جتنا ہمارا شروع میں خیال تھا، یہ ایک بوجھل دن ہے، اگر اگلے چار نگہ داروں کے گھر والوں کو پَتا چلے، یہاں کیا ہو رہا ہے، وہ ایسا نہیں کہیں گے، جب کہ یہ سوچنا کہ شاید کل کو وہ چار نگہ دار ماپیا کے لیے کام کر رہے ہوں،یہی زندگی ہے، میرے پیارے سربراہ وزارت ذرائع ابلاغ، وزارتِ داخلہ، وزیرِ اعظم، داخلہ، ارے، یہ تو وہی شریان ہے جو تمام شریانوں کو باہم مربوط کرتی ہے۔

5

آپ سوچ سکتے ہیں، حکومت کی جانب سے، ماپیا کے ساتھ کیے گئے شرمناک اطاعت گذاری کا معاہدہ، مذاکرات کے دوران تمام تر اُتار چڑھاؤ کے بعد، اتنی آگے جاتے ہوئے کہ عاجز، ایمان دار ملازمینِ سرکار جرائم پیشہ آرگنائزیشن کے لیے کُل وقتی کام کریں، آپ سوچ سکتے ہیں، اصولی نقطۂ نظر سے، وہ مزید پستی میں نہیں گر سکتے تھے۔ افسوس، جب کوئی آنکھیں بند کر کے عملی سیاست کے نامعقول میدان میں آگے بڑھتا ہے، جب نتائجیت، نغمے کے متن کی تحریر کو نظرانداز کرتے ہوئے ہدایت کار کی چھڑی سنبھالتی اور آرکسٹرا بجواتی ہے، آپ یقین کیجیے، ذلت کی ناگزیر منطق بتائے گی، وہاں اس کے باوجود پھسلنے کو اب بھی چند مزید قدم ہیں۔ دفاع کی متعلقہ وزارت کی جانب سے، جو زیادہ صاف گو وقتوں میں وزارتِ جنگ کی حیثیت سے جانی جاتی تھی، دستوں کو جو سرحدوں پر متعین تھے، احکامات جاری کیے گئے، خود کو صرف، الف سڑکوں، بالخصوص جو ہم سایہ ممالک کو جاتی تھیں، کی نگرانی تک محدود کریں، ب، اور، ج کے تمام کچے راستوں، پگ ڈنڈیوں، گذرگاہوں اور مختصر فاصلوں کی مقامی سڑکوں کے پے چیدہ جال کو اہم وجوہات کی بنا پر مستثنا کرتے ہوئے کہ پر سکون ماحول میں آرام فرمائیں۔ لامحالہ، اس کا مطلب تھا، اکثر دستوں کی چھاؤنی کو واپسی، جو جوانوں، بشمول کارپورل اور کوارٹر ماسٹرز کے دلوں کو مسرت بخشتی ہے، جو شب و روز نگرانی اور گشت کی ڈیوٹی سے مکمل طور پر اکتا چکے تھے، دوسری جانب، بے اطمینانی کے شدید جذبات پیدا کیے سارجنٹس میں، جو بظاہر دوسروں کی نسبت فوج کے وقار اور قومی خدمت کا زیادہ احساس رکھتے ہیں، اگر ناپسندیدگی کی یہ خفیف لہر اتنی بڑھے کہ سیکنڈ لیفٹیننٹوں تک پہنچے اور اس اضطراب کے کچھ اثرات فرسٹ لیفٹیننٹوں تک پہنچ پائیں، حقیقت یہ ہے، جب یہ کپتان کے درجے تک پہنچے گی، شدت میں دو گُنی ہو جائے گی۔ قدرتاً اُن میں سے کوئی بھی حوصلہ نہ کرے گا کہ بلند آواز سے ماپیا کا خطرناک لفظ ادا کرے، تاہم، جب وہ باہم اس بارہ میں گفتگو کرتے، وہ یہ کہنے سے رُک نہ پاتے کہ کیسے چھاؤنی واپسی سے پہلے کے دنوں میں انھوں نے متعدد لاریوں کو روکا جو قریب المرگ مریضوں کو لے جا رہی تھیں اور یہ کہ ہر ڈرائیور کے ساتھ وہاں ایک سرکاری نگہ دار بیٹھا ہوتا جو دریافت کیے بنا بھی تمام مطلوبہ مہروں، دست خطوں اور سِیلوں والے وہ کاغذات پیش کرتا، جو قومی مفاد کی بنا پر مریض مسمی یا مسمات فلاں فلاں کی کسی غیر معین مقام تک فوری منتقلی کا فوری اختیار عطا کرتے، اور تحریر ہوتا کہ فوج ذمہ داری کے ساتھ ہر نوع کی معاونت کرے یا یقینی بنائے کہ ہر لاری کے مسافر باحفاظت اور کامیاب سفر کریں۔ اِن میں سے کسی نے بھی معزز سارجنٹوں کے ذہنوں میں کوئی شبہات نہ پیدا کیے، کم از کم سات مواقع پریہ عجیب اتفاق ہوا کہ نگہ دار نےان کو پڑتال کے لیے کاغذات پکڑاتے ہوئے واضح طور پر آنکھ ماری۔ اِن مقامات کے درمیان زمینی فاصلے کو ذہن میں لاتے ہوئے، جن میں دیہاتی زندگی کی یہ واقعات پیش آئے، سارجنٹوں نے فوری طور پر یہ مفروضہ رد کر دیا کہ شاید یہ ہوتا ہے، جسے ہم کہیں گے، ترجیحاً، ہم جنس افراد کے مابین، یا یقیناً، مختلف جنسوں کے درمیان جنسی ترغیب کے کھیل کا ذومعنی اشارہ، اگرچہ اس معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم، اِن نگہ داروں کا تذبذب عیاں تھا، یہ درست ہے کہ کچھ میں دوسروں کی نسبت زیادہ واضح، لیکن اُن میں سے سب کا رویہ ایسا تھا، جیسے سمندر میں بوتل پھینک رہے ہوں جس کے اندر مدد کے لیے پیغام ہو، جس نے عقابی نگاہوں والے سارجنٹوں کی رہ نمائی کی کہ سوچیں، اِن لاریوں میں دبکے ہوئے، اُن بلیوں کی مانند ہیں، جو جب خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہیں، ہمیشہ پیچھے دم کا سرا دکھائی دیتا ہے۔ پھر چھاؤنیوں میں واپسی کے ناقابلِ توضیح احکامات آئے، اُن کے بعد سرگوشیوں میں افواہیں آئیں، جنھوں نے کون جانے کیسے یا کہاں کا سوال اٹھایا، لیکن جو چند خبریں پھیلانے والوں نے رازدارانہ اشارہ دیا، شاید خود وزیرِ داخلہ سے ملی ہیں۔ حزبِ اختلاف کے اخبارات نے چھاؤنیوں میں پھیلے غیر صحت مند متذبذب ماحول کا ذکر کیا، جب کہ حکومت کے قریبی اخبارات نے پوری قوت سے اسے رد کیا کہ ایسی زہر آلود افواہیں مسلح افواج کے حوصلوں کو خراب کر رہی تھیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ممکنہ فوجی انقلاب کی افواہیں، اگرچہ کوئی اس ممکنہ بغاوت کے مفروضہ اسباب کی وضاحت نہیں کر سکتا، ہر جگہ پھیل گئیں، اور کچھ وقت کے لیے، عوامی مفاد کے سلگتے مسئلے کو، ان مریضوں کو جو مرنے کے قابل نہیں تھے، پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ ایسا نہیں کہ مسئلہ بھلا دیا گیا، جیسا کہ اس وقت گردش کرتے ایک قول سے ثابت ہوا، جو کافی ہاؤسز کے باسیوں نے اکثر دہرایا، کوئی فوجی انقلاب آئے تو، اب ہمیں کم از کم اس بات کا یقین ہے، بھلے جتنی ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں، وہ کسی کو مارنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہر ایک توقع کر رہا تھا، کسی بھی وقت، قومی یک جہتی کی ایک ڈرامائی اپیل بادشاہ سلامت کی جانب سے، ایک اعلامیہ، حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کے پیکج کا اعلان کرتا ہوا، بری افواج اور فضائیہ کی اعلا کمانڈ کی جانب سے ایک اعلان، ماسوائے بحریہ کے، جو خشکی میں گھرے ملک کے لیے غیر ضروری ہے، ان کی آئینی، قانونی اختیارات پر غیر متزلزل وفاداری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہوا، اہلِ قلم کی جانب سے ایک منشور، فن کاروں کا اپنایا ہوا کوئی موقف، یک جہتی پر موسیقی کی کوئی تقریب، انقلابی اشتہارات کی کوئی نمائش، عمومی ہڑتال جس کا بلاوہ دو ٹریڈ یونینوں کی طرف سے ہو، بشپ کی جانب سے جاری کردہ پراتھنا اور برت کی درخواست، اعتراف کی ایک تقریب، وسیع پیمانے پر پیلے، نیلے، سبز، سرخ، سفید،پمفلٹوں کی تقسیم، وہاں ایک عوامی مظاہرے کی باتیں بھی ہو رہی تھیں، جس کے شرکا ہوں گے، وہ ہزارہا افراد، جو خود کو پاتے تھے، معطل موت میں، دارالحکومت کی مرکزی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے، سٹریچروں پر، ہتھ گاڑیوں پر، ایمبولینسز میں یا اپنے تنومند بچوں کی پشت پر، ماتمی جلوس کے آگے، ایک بڑا بینز، جس پر چند وقفوں کو قربان کرتی تحریر ہو، تا نعرہ بن سکے، نہیں سکتے جو مر،ہم یہاں ہیں منتظر، تم سب کے سب، تا کرو ہمیں رخصت۔ آخر میں، اِن میں سے کوئی بھی توقع پوری نہ ہوئی۔ یہ درست ہے کہ مرنے والوں کی منتقلی میں ماپیا کی براہ راست مداخلت پر تشویش ختم نہ ہوئی، یہ درست ہے کہ بعد میں پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں اِن کو دوبارہ نافذ کیا گیا، لیکن دشمن کی جانب سے ایک دھمکی نے صرف ایک گھنٹہ لیا کہ برادر کُشی پر آمادہ رویے کو ٹھنڈا کر دے اور کلیسا، اشرافیہ اور عوام کے تین طبقات کو تقویت بخشے۔ کیوں کہ ملک کے ترقی پسندانہ نظریات سے قطع نظر، تینوں طبقات تاحال موجود تھے کہ اپنے شاہِ معظم کر گرد اور کچھ قابلِ جواز تذبذب کے ساتھ، حکومت کے گرد بھی، جمع ہوں۔ حقائق، جیسا کہ معاملہ تھا، چند الفاظ میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔

اپنی سرزمین پر گورکُن کمانڈوز کے مسلسل حملوں سے، بھلے ماپیا کے ملازموں کے ہوں یا اپنے طور پر خلاف ورزی کرنے والوں کے، جو آتے تھے، اس غیر معمولی سرزمین سے جہاں کوئی نہیں مرتا، جھنجھلا کر اور متعدد لاحاصل سفارتی احتجاجوں کے بعد تین ہم سایہ ممالک کی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ ایک متفقہ ایکشن میں اپنی افواج کو باہر نکالیں اور سرحدوں کی حفاظت کریں، سخت احکامات کے ساتھ کہ تیسری تنبیہ کے بعد گولی مار دیں۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ چند ماپیاؤں کی موت تقسیم کرنے والی لکیر کو عبور کرنے کے فوراً بعد غیر مملوکہ علاقے میں گولی لگنے سے ہوئی، کچھ ایسا جس کا ہم حوالہ دیتے ہیں، بالعموم، بطور پیشہ وارانہ خطرات، فوری طور پر استعمال کیا، بطور ایک عذر کے، آرگنائزیشن نے کہ اپنی بیان کردہ خدمات کی فہرست میں انفرادی تحفظ اور مہماتی خطرات کے نام پر معاوضے میں اضافہ کریں۔ ماپیا کی انتظامیہ کے کچھ جزوی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے، آئیں، اس جانب چلیں، جو اصل مسئلہ ہے۔ ایک مرتبہ پھر معصومانہ حربے بَروئے کار لاتے ہوئے، تاکہ گھیریں، حکومت کے تذبذب اور مسلح افواج کی اعلا کمان کے شبہات کو، سارجنٹوں نے ابتدا کی اور سب کی نگاہوں میں قرار پائے، بڑھاوا دینے والے اور انجام کار ہیرو بھی، اس عوامی تحریک کے، جو آگے بڑھی کہ عوام، چوراہوں پر، سڑکوں پر اور گلیوں میں، فوج کی محاذِ جنگ پر واپسی کا مطالبہ کریں۔ ملک کو سرحد کی اس جانب جدوجہد کرتے ہوئے جن تشویش ناک مسائل، جیسا کہ اس چار جہتی، شماریاتی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی بحران، کا سامنا تھا، کو بنا چھوئے، لا تعلق رہتے ہوئے، دوسرے ممالک نے بالآخر اپنے نقاب ہٹا دیے اور دن دہاڑے اپنے پردے اٹھاتے ہوئے سفاک حملہ آور اور سنگ دل سامراجی والا اپنا حقیقی چہرہ آشکار کر دیا۔ گھروں اور دکانوں میں، ریڈیو پر، ٹیلی ویژن پر، اخبارات میں ہر کوئی پڑھتا اور سنتا، وہ ہم سے حسد کرتے ہیں، وہ جلتے ہیں، اس حقیقت سے کہ یہاں کوئی نہیں مرتا، یہی سبب ہے، وہ ہم پر حملہ کرنا اور قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہماری سرزمین پر کیوں کہ اس طرح انھیں مرنا نہیں ہو گا۔ دو دن بعد مارچ کرتے، پوری قوت سے حبِ وطن کے ماسیلز، انقلابِ فرانس، عظیم پرتگالیہ، جرمنی اے جرمنی، شہنشاہ زندہ باد، ستاروں کی سرزمین، سرخ سلام اور لینن گراڈ جیسے ترانے گاتے اور پرچم لہراتے سپاہی اپنے مورچوں کو، جو انھوں نے چھوڑے تھے، لوٹے اور وہاں اسلحے میں غرق، استقامت کے ساتھ متوقع حملے اور نام وری کے منتظر رہے، وہاں نہ تو حملہ ہوا، نہ ہی تو نام وری ملی۔ وہاں تھیں، اِکا دکا فتوحات اور اس سے بھی کم سلطنت کی تعمیر، کیوں کہ مذکورہ بالا ہم سایہ ممالک صرف یہ چاہتے تھے کہ روکیں، بغیر کسی حقیقی جواز کے دفن ہونے زبردستی گھُس آنے والی اس نئی مخلوق کو، اور یہ اتنا برا نہ ہوتا، اگر وہ اتنا ہی کرتے کہ انھیں دفن کرتے، لیکن وہ اُنھیں وہاں لاتے کہ مریں، قتل ہوں، دفع ہوں، ختم ہوں، کیوں کہ یہ اس معین نتیجہ خیز لمحے پر ہوتا، جب وہ سرحد عبور کرتے، پاؤں پہلے تا سر آگاہ رہے کہ باقی جسم پر کیا گزر رہی ہے، یہ کہ غریب بد نصیب گزر گیا، اپنی آخری سانس لی۔ دو جی دار لشکر ایک دوسرے کے مقابل تھے، لیکن دریا اب کے قطعاً سرخ نہ ہوں گے۔ اس کا سرحد کے اس جانب کے لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیوں کہ وہ جانتے تھے، وہ نہیں مریں گے، بھلے مشین گن کے برسٹ سے انھیں دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اگر تسلیم شدہ سائنسی تجسس سے ہم اپنے آپ سے سوال کریں، اس صورت میں جب اوجھڑی ایک جانب ہو اور آنتیں دوسری جانب، دو ٹکڑے کیسے بچ سکتے ہیں۔ معاملے کی نوعیت کچھ بھی ہو صرف پورا پاگل ہی پہلی گولی چلانے کا سوچے گا۔ اور خدا کا شکر ہے، یہ کبھی نہ چلائی گئی۔ یقینا دوسری جانب کے چند سپاہیوں کے فیصلے کہ اس سنہری سرزمین کو برباد کریں جہاں کوئی نہیں مرتا، کا نتیجہ یہی تھا کہ انھیں سیدھا واپس بھیجا جائے، وہاں، جہاں سے وہ آئے تھے، جہاں ایک فوجی عدالت اُن کی منتظر تھی۔ یہ حقیقت اس پے چیدہ کہانی سے،جو ہم بیان کر رہے ہیں، بالکل ہٹ کر ہے اور جس کے بارے میں ہم آئندہ بات نہیں کریں گے، لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسے دوات کی سیاہی میں گھول دیں۔ ممکنہ طور پر فوجی عدالت طے کرے گی کہ اپنے فیصلے میں دائمی زندگی کی اصل تمنا کو، جو ہمیشہ سے انسانی دل میں مقیم رہی ہے، زیرِ غور نہ لائے، کیا ہو گا اگر ہم سب ہمیشہ رہیں، یہ کہاں ختم ہو گی، مستغیث دریافت کرے گا، سہارا دیتے ہوئے اپنے کم زور دعاوی کو، اور مدعا علیہ، بتانے کی ضرورت نہیں، اتنے حاضر دماغ نہیں کہ کوئی پھبتا جواب دیں، کیوں کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں، یہ کہاں ختم ہو گی۔ ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں، وہ غریب مجرموں پر گولی نہ چلائیں گے۔ تب واقعی، یہ کہا جا سکے گا کہ، وہ اُون لینے گئے اور سر منڈوا آئے۔

چلیے موضوع بدلتے ہیں، جب ہم نے، مافیا کے مرتے ہوؤں کی سرحدوں تک منتقلی میں براہِ راست ملوث ہونے کے شکوک میں مبتلا ہوتے سارجنٹوں اور اُن کے ساتھی سیکنڈ لیفٹیننٹوں اور کپتانوں کا ذکر کیا، ہم نے کہا کہ یہ شکوک اس کے بعد پیش آنے والے کچھ خاص واقعات کے نتیجے میں بڑھے۔ وقت آ گیا ہے کہ آشکار کیا جائے کہ وہ کیا تھے اور وہ کیسے پیش آئے۔ اس کم مایہ گھرانے کی مثال دیتے ہوئے، جس نے یہ سارا سلسلہ شروع کیا، جو ماپیا کر رہا تھا، سادہ الفاظ میں، سرحد عبور کرنا، مُردوں کو دفن کرنا اور اس خدمت کے عوض معمولی رقم لینا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ انھوں نے کوئی توجہ نہ دی، جگہ کی خوب صورتی پراور نہ کبھی زحمت کی کہ اپنی یاداشت میں پہاڑیوں یا راستوں کا اندراج کریں، جو ممکنہ طور پر مستقبل میں آنسو بہاتے اور اپنے مذموم اعمال پر تاسف کا اظہار کرتے افرادِ خاندان کی مدد کریں کہ پھر سے قبر تلاش کریں اور اپنے فعل پر مردے سے معافی کے خواست گار ہوں۔ یہ سمجھنے کے لیے غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کی ضرورت نہیں کہ محاذ کی دوسری جانب متعین افواج نے تدفین کے سلسلے میں، جو اس وقت تک بلا روک ٹوک جاری تھا، سنجیدہ رکاوٹیں ڈالنا شروع کیں۔ ماپیا، ماپیا نہیں ہو گا، اگر وہ مسئلے کا حل تلاش نہ کرے۔ حقیقت میں یہ باعثِ شرمندگی ہے، اگر آپ ہمیں غیر معمولی ذہین دانش مند افراد، جو اِن مجرمانہ تنظیموں کو چلا رہے ہیں، کے بارے میں کچھ کہنے کی اجازت دیں، وہ قانون کے احترام اور بائیبل کی دانش مندانہ نصیحت کے سیدھے اور تنگ راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں، جو ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہمیں آج کی روٹی خون پسینا کر کے کمانی چاہیے، لیکن حقائق حقائق ہیں اور جب منتظم کے افسوس ناک الفاظ دہراتے ہوئے، آہ، یہ بتاتے ہوئے میرا دل دکھی ہے، ہم یہاں اس ترکیب کی تکلیف دہ تفصیل بیان کریں گے، جو ماپیا نے اس مشکل سے عہدہ برا ہونے کے لیے استعمال کی، جو ایسا کرنے سے پہلے ہر جہت سے ناقابلِ حل نظر آتی تھی۔ تاہم، یہ شاید ہو اسی طرح کہ وضاحت کی جائے کہ لفظ سِک sick، جو رزمیہ شاعر نے عفریت ایڈم سٹور کے منہ سے ادا کروایا، عمیق معنوں میں اس حوالے سے مراد افسردہ، رنجیدہ یا غم زدہ ہے، لیکن اب کچھ برسوں سے عام لوگ سمجھتے ہیں، اور بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں کہ وہ اس شان دار لفظ کا استعمال بے زاری، تنفر اور کراہت کے احساسات کا اظہار کرنے کے لیے کر سکتے ہیں، جن کا، جیسا کہ کوئی بھی جان سکتا ہے، اِن احساسات کوئی تعلق نہیں ہے، جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ کوئی بھی الفاظ کے استعمال میں زیادہ احتیاط نہیں برت سکتا، وہ بھی انسان کی مانند اپنی سوچ بدلتے ہیں۔ ترکیب اتنی سادہ نہیں تھی، ساسیج بنانے کی طرح، اِنھیں بھریں، اِنھیں دبائیں اور بھٹی میں رکھ دیں، معاملات سلجھانے میں وقت لگا، اسے مصنوئی مونچھوں اور ہیٹ، جن کے چھجے آنکھوں پر جھکے ہوں، والے ایجنٹوں کی، کوڈ والے ٹیلی گرام کی، خفیہ لائین والے سرخ ٹیلی فون پر گفتگو کی، چوراہوں پر نصف شب کی ملاقاتوں کی، پتھروں کے نیچے دبائے گئے پیغامات کی، ان تمام طریق کی جن کی پہلے مذاکرات میں نشان دہی کی گئی، ضرورت تھی، جب وہ بساطِ حیات پر، بقول شخصے، نگہ داروں کی زندگیوں سے کھیل رہے تھے۔ کسی کو قطعاً نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ منتقلیاں پہلے والے معاملے کی مانند مکمل طور پر دو طرفہ تھیں۔ اس ملک جس میں کوئی نہیں مرتا کے ماپیا اسی طرح ہم سایہ ممالک کے ماپیاز نے بھی اِن مذاکرات میں شرکت کی، کیوں کہ یہی واحد راستہ تھا جس سے ہر مجرمانہ تنظیم کی، اس قومی نظام میں، جس میں وہ کام کرتی ہے، اور اس کی متعلقہ حکومت کی آزادی محفوظ رکھی جائے۔ اِن ممالک میں سے ایک کے ماپیا کے لیے دوسرے کی انتظامیہ سے براہ راست بات کرنا، شدید قابلِ مذمت اور قطعاً ناقابلِ قبول ہوتا۔ تاہم، معاملات اس حد تک نہ پہنچے، تاحال ایسا کرنے سے روکے گئے تھے، جیسے اقدار کی بچی کھچی نشانی، قومی خود مختاری کے مقدس نظریے سے، ایک اصول جو ماپیاز کے لیے بھی اتنا اہم ہے جتنا حکومتوں کے لیے اور جب کہ یہ مکمل طور پر قابلِ فہم ہے آخرالذکر کے لیے، شاید آپ رکھیں اپنے تحفظات جب یہ ہوں جرائم پیشہ تنظیموں سے متعلق، تاآں کہ آپ کو یاد آئے کہ کتنی حاسدانہ بہیمیت کے ساتھ اپنی مقبوضات کی، اپنے پیشہ وارانہ رقیبوں کے غلبے کی آرزو سے حفاظت کرتے ہیں۔ اِن سب کو منضبط کرتے ہوئے، عام اور خاص کو اکٹھا کرنا، کچھ کے مفادات کو کچھ کے مفادات سے متوازن کرنا، کوئی آسان کام نہیں تھا، جو واضح کرتا ہے، طویل، اُکتا دینے والے، اِنتظار کے ان ہفتوں، سپاہیوں نے وقت گزارا، لاؤڈ سپیکروں پر ایک دوسرے کی اہانت کرتے ہوئے، اگرچہ، ہمیشہ اس امر کا خیال رکھتے ہوئے کہ حد سے نہ بڑھیں، زیادہ درشت نہ ہوں، اس صورت میں جارح کسی مخصوص مرکھنے لیفٹیننٹ کرنل کے پاس جائے گااور جہنم کے بند ٹوٹ جائیں گے۔ مذاکرات کو لمبا کھینچنے والا سب سے پے چیدہ عنصر، یہ حقیقت تھی کہ دوسرے ملکوں کا کوئی ماپیا اپنی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے ناقابلِ مزاحمت ذرائع سے محروم تھا، کیوں کہ وہ قدر و قیمت کے حامل نگہ داروں کی ٹیم نہیں رکھتا تھا۔ اگرچہ مذاکرات کا یہ تاریک پہلو، سوائے افواہوں کے، کبھی آشکار نہیں ہوا، یہ سوچنے کی مثبت وجوہات ہیں کہ ہم سایہ ممالک کی افواج کے درمیانی عہدوں پر فائز کمانڈرز نے، اپنے اعلا آفیسران کی فیاضانہ آشیرباد کے ساتھ، اپنے آپ کو یہ باور کرنے کی اجازت دی، صرف خدا جانتا ہے، کس قیمت پر، مقامی ماپیا کے ترجمان کے دلائل، جن میں مسئلے کا حل موجود تھا، کے نتیجے میں ناگزیر آمد و رفت، آگے بڑھنے اور پیچھے پلٹنے سے اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ کسی بچے کو بھی یہ خیال سوجھ سکتا تھا، لیکن اسے حقیقت کا روپ دینے کی خاطر اسے جانا ہو گا، جسے ہم سنِ شعور کہتے ہیں پہنچ کر، ماپیا کے بھرتی کے دفتر کے دروازے تک، اور کھٹکھٹا کر کہنا، مجھے یہاں میری اہلیت لائی ہے، مجھ سے وہ کام لیں جو آپ چاہتے ہیں۔

جامع، جچی تُلی اور محتاط زبان استعمال کرنے والے بلا شبہ سوال اُٹھائیں گے، اگر یہ تجویز اتنی ہی سادہ ہے تو ہمیں، کم از کم پریشان کُن صورت حال تک، اتنا اوٹ پٹانگ ہونے دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جواب اتنا ہی سادہ ہے اور ہم اسے بیان کریں گے، ایک تازہ اور مروج اصطلاح استعمال کرتے ہوئے، جو ہمیں امید ہے، ہو گی، کچھ کے ممکنہ خیال میں، بہی کھاتے کو کیچڑ سے لت پت کرنا، اور یہ اصطلاح سیاق و سباق ہے۔ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ سیاق و سباق سے ہماری کیا مراد ہے، لیکن اس میں شکوک ہو سکتے ہیں کہ کیا ہم نے متروک ذومعنی پس منظر کو ترجیحاً استعمال کیا ہے، جو حقیقت سے کاملاً ہم آہنگ بھی نہیں ہے۔ بیان کیا گیا سیاق و سباق صرف پس منظر ہی نہیں بتاتا، بلکہ وہ تمام، ان گنت مشاہدہ کیے گئے موضوع اور افقی خط کے درمیان پائے جانے والے اسباب کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ پھر تو یہی بہتر ہو گا کہ ہم اسے بنیادی ڈھانچے، جی ہاں، بنیادی ڈھانچے کا نام دیں، اور اب جب کہ ہم نے بالآخر اسے واقعی اچھی طرح تشکیل دے دیا ہے، وہ وقت آ گیا ہے کہ سامنے لایا جائے تکنیک کی نوعیت کو جس سے ماپیا سمجھتا تھا کہ کسی بھی تصادم کے امکان، جو اُن کے مفادات کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ ہو، سے بچا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم کَہ چکے ہیں، ایک بچہ بھی اس نتیجے پر پہنچ سکتا تھا۔ وہ یہ تھا کہ بیمار کو سرحد پار لے جایا جائے، جب وہ مریض یا مریضہ مر جائے، تب اس مریض یا مریضہ کو واپس لایا جائے، تاکہ اسے مادرِ وطن کی مادرانہ آغوش میں دفن کیا جائے۔ ایک بے عیب، صحیح ترین اور لفظ کے حتمی، معین معانی میں شہ مات۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، مسئلہ حل کیا گیا، کسی فریق کی ساکھ کم کیے بنا، اور چاروں افواج،جن کے پاس اب کوئی جواز نہیں تھا، حالتِ جنگ میں سرحدوں پر موجود رہنےکا، اطمینان سے پیچھے ہٹ سکتی تھیں، جب سے ماپیا نے تجویز دی، سیدھی سادی، کہ اندر جائیں اور واپس لوٹ جائیں، مرنے والے اسی لمحے گزر جاتے، جب اُنھیں دوسری جانب منتقل کیا جاتا، چناں چہ اُنھیں ضرورت نہیں تھی کہ ایک منٹ کے لیے بھی لٹکائیں، لے دے کر وہ وقت جو یہ مرنے کے لیے لیتا، وہ وقت جو ہمیشہ سے مختصر ترین لمحہ رہا ہے، صرف ایک سانس، بس یہی کچھ، چنانچہ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس معاملے میں یہ کیسے ہو گا، ایک شمع جو کسی کے پھونک مارے بنا اچانک بجھ جاتی ہے۔ انتہائی آرام دہ موت بھی اتنی آسان اور پرسکون نہیں ہو گی۔ نئی صورت حال کا سب سے دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ملک جس میں کوئی نہیں مرتا کا نظامِ عدل خود کو پاتا ہے، بنا کسی قانون کے، جس کی بنا پر حرکت میں آیا جائے، تدفین کرنے والوں کے خلاف، ہمیشہ فرض کرتے ہوئے، کہ وہ واقعی چاہتے تھے، اور صرف اس بنا پر نہیں،کہ وہ شریفانہ معاہدہ، جسے حکومت، ماپیا سے کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ یہ اُنھیں قتلِ انسانی کا موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا، کیوں کہ تکنیکی اعتبار سے کسی کا قتل نہیں ہوا، اور اس قابلِ مذمت عمل سے بھی، اور اگر کوئی اسے بیان کرنے کا بہتر راستہ تلاش کر سکتا ہے، تو مہربانی کر کے کرے، واقعہ دوسرے ملک میں ہوتا ہے، اُنھیں بھی مردے کو دفن کرنے کا الزام نہیں دیا جاسکتا، جب کہ وہ مرنے والے کا قدرتی مقدر ہے، اور اُنھیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہاں کوئی ہے، جو یہ ذمہ داری اُٹھانے پر آمادہ ہے، تاہم آپ یہ دیکھیں،یہ ہر دو، جسمانی اور نفسیاتی،نقطۂ نظر سے تکلیف دہ ہے۔ ان پر زیادہ سے زیادہ یہ الزام عائد کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا، جو موت کی تصدیق کرتا، یہ کہ تدفین قواعد پر پورا نہیں اُترتی، جو اِنھیں دفن کرنے کے لیے طے کیے گئے، اور کہ جیسے اسی طرح کی بات سُنی اَن سُنی کر دی گئی، نہ صرف قبر پر نشانی نہیں لگائی گئی، بلکہ جوں ہی پہلی مرتبہ شدید بارش ہوئی اور زرخیز زمین میں نرم و گداز، لہلہاتے، بھرپور پودے اُگے، وہ منظر سے غائب ہو جائے گی۔ تمام مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اور سوچتے ہوئے کہ کہیں اپیلوں کے سیلاب میں نہ پھنس جائے، جس میں ماپیا کےگھاگ، عیار، پکے سازشی دکلا اسے بے رحمی سے غرق کر دیں، قانون نے صبر سے اتظار کرنے کا فیصلہ کیا کہ معاملات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی دانش مندانہ رویہ تھا، جو شَک کے شائبے کے بغیر اپنایا جا سکتا ہے۔ ملک بے مثل اضطراب کی کیفیت میں ہے، جو طاقت ہونی چاہیے، متذبذب ہے، مقتدرہ کھوکھلی، اخلاقی قدریں تیزی سے بدل رہی ہیں، معاشرتی آداب کے احترام کا زوال سماج کے تمام طبقات کو بہائے جا رہا ہے، شاید تقدیر کو بھی علم نہیں کہ وہ ہمیں کہاں لیے جا رہی ہے۔ وہاں افواہ پھیلی ہے، ماپیا تکفین و تدفین کی صنعت سےایک اور زبانی معاہدے کی کوشش کر رہی ہے، اس امید پر کہ اپنی کاوشوں کو معقولیت عطا کریں اور کام پھیلائیں، جس کا عمومی روزمرہ زبان میں مطلب ہے، وہ مردے فراہم کریں گے، تکفین و تدفین والے دفن کرنے کے وسائل اور تکنیکی مہارت کے ذریعے اُن کی مدد کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے، ماپیا کی تجویز کو تکفین و تدفین والوں کی جانب سے کھلی بانھوں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا، جو اپنا ہزار سالہ علم، اپنا تجربہ، اپنی مہارت اور اپنے پیشہ ور ماتمیوں کا طائفہ، کتوں کے، بلیوں کے اور کنیاریوں کے جنازوں کے انتظام پر، اسی طرح کبھی کبھار کاکاتوئنی طوطے، تشنج زدہ کچھوے، پالتو گلہری یا گرگٹ کے بچے، جسے اس کا مالک کندھے پر اُٹھائے پھرتا تھا، ضائع کرتے کرتے اکتائے ہوئے تھے۔ اُنھوں نے کہا، ہم اتنی پستی میں کبھی نہیں گرے تھے۔اب مستقبل روشن دکھائی دیتا تھا، توقعات، پھولوں کے تختوں کی مانند کِھل اُٹھیں، تناقص کی قیمت پر، یقینا، کوئی یہ بھی کَہ سکتا ہے، تدفین کی صنعت نے دوبارہ جنم لیا۔ اور یہ سب ماپیا کے مہربان دفتر اور ختم نہ ہونے دولت کی تجوریوں کی عنایت سے ہوا۔ یقیناً، ماپیا نے ہر جہت سے بھرپور اعانت کی، اس نے کاروبار کو امدادی رقوم دیں کہ نئی شاخیں قائم کریں، دارالحکومت میں اور ملک بھر کے دوسرے شہروں میں، سرحدوں کے نزدیک مقامات پر انتظامات کیے، جب مرنے والے شخص کو سرحد سے واپس لایا جائے اور کسی کو ضرورت ہو، اس کے مرنے کی تصدیق کروانے کی تو ایک ڈاکٹر دست یاب ہو، مقامی کونسلوں کے ساتھ معاملات طے کیے، دن یا رات کے وقت سے قطع نظر، جب وہ اس پر عمل کرنا چاہے، ماپیاکے زیرِ تحویل متوفی کی فوری تدفین کو ترجیح دی جائے۔لامحالہ، یہ سب بہت بڑی رقم کا متقاضی تھا، لیکن، اب جب کہ مزید اور اضافی خدمات ادائیگی کا بڑا حصّہ تھیں، منافع بخش کاروبار چلتا رہا۔ پھر متنبہ کیےبنا نَل، جس سے قریب المرگ مریضوں کی فیاضانہ فراہمی مسلسل جاری تھی، بند ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے، خاندان نے ضمیر کے کچوکے سہتے ہوئے، ایک دوسرے تک یہ بات پہنچائی کہ وہ اپنے پیاروں کو مرنے کے لیے اتنا دور نہیں بھیجیں گے، مجازی معنوں میں، اگر ہم نے اُن کا گوشت کھایاہے تو ہمیں اُن کی ہڈیاں بھی چبانا ہوں گی، ہم یہاں صرف اچھے وقتوں کے لیے نہیں ہیں، جب ہمارے پیاروں کی طاقت اور صحت قائم تھی، ہم یہاں برے اور بدترین وقت کے لیے بھی ہیں، جب وہ بدبودار چیتھڑوں جیسے ہو جائیں، جنھیں دھونے کا کوئی جواز نہیں۔ تکفین و تدفین والے مسرت کی لہروں سے مایوسیوں میں ڈوب گئے، کنیاریوں اور بلیوں، کتوں اور دوسرے پالتو جانور، کچھوے، کاکاتونئی طوطے، گلہری کو دفنانے کی پستی میں واپس گرا دیے گئے، لیکن گرگٹ نہیں کیوں کہ صرف وہی تھا جو اپنے آپ کو مالک کے کندھے پر گھمانے لے جانے دیتا۔ ماپیا پر سکون رہا، اپنے اعصاب قائم رکھے اور فوری طور پر تحقیق شروع کی کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ بالکل سادہ تھا۔ اگر چہ ہمیشہ اِن الفاظ میں نہیں، خاندانوں نے اُنھیں بتایا، رازداری سے کام کرنا ایک چیز تھی، اپنے پیاروں کو رات کی تاریکی میں موت تک پہنچانا، جب کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم سائے جان سکیں کہ تاحال وہ اپنے تکلیف دہ بستر پر اذیت سہہ رہے ہیں، یا سیدھے اوپر جا چکے ہیں۔ جھوٹ بولنا، دکھی لہجے میں کہنا، ابھی ہیں، بے چارے، آسان تھا، جب آپ دوسرے دروازے والی ہم سائی سے سیڑھیوں پر ملے اور اس نے پوچھا، دادا اب کیسے ہیں۔ اب ہر شَے مختلف ہو گی، وہاں موت کا تصدیق نامہ ہو گا، قبرستان میں کتبے ہوں گے، جن پر نام اور خاندانی نام کندہ ہوں گے، چند گھنٹوں کے اندر تمام حاسد، افواہ ساز ہم سائے جان جائیں گے،دادا جان فوت ہوئے، صرف اس طرح، جس طرح مر سکتے تھے، جس سے مراد ہے، سیدھے سبھاؤ، اُن کے اپنے ظالم، احسان فراموش خاندان نے اُنھیں سرحد پر بھیجا، اس سے ہمیں شرمندگی کا احساس ہوتا ہے، اُنھوں سے اعتراف کیا۔ ماپیا نے سنا اور کہا، وہ اس پر غور کریں گے۔ اس نے چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں لیے۔ پرانی پیڑھی کے نانا جان کی مثال سامنے رکھتے ہوئے، مرنے والے نے مرنا چاہاتھا، چناں چہ، موت کے تصدیق نامے پر، اُن کی موت کا سبب لکھا جائے گا، خود کُشی۔ نَل ایک مرتبہ پھر کُھل گیا۔

6

اس ملک میں جہاں کوئی نہیں مرتا ہر شَے اتنی خراب نہ تھی، جیسی ہم نے ابھی بیان کی ہے، نہ ہی، اس معاشرے میں جو ہمیشہ زندہ رہنے کی امید اور کبھی نہ مرنے کی تشویش میں منقسم تھا، حریص ماپیا روحوں کو بگاڑتے، جسموں کو مطیع بناتے اور باقی ماندہ پرانی قدروں کو، جن میں کسی ایسی شَے کا حامل لفافہ، جس سے رشوت کی مہک آتی، فوراً مرسل کو لوٹا دیا جاتا، بین السطور کچھ ایسا مضبوط اور واضح موقف اپناتے ہوئے، اس رقم سے آپ اپنے بچوں کے لیے کھلونے خرید لیں، یا آپ کو یقیناً غلط پتہ بتایا گیا ہے، تباہ کرتے ہوئے اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہو سکا تھا۔ عزت، اس وقت بھی ایک قابل فخر تھی، جو تمام طبقات کی پہنچ میں تھی۔ تمام باتوں کے باوجود، سرحد پر فرضی خود کشیوں اور گھناؤنی سودے بازیوں کے باوجود، روح پانیوں پرلہراتی رہی، عظیم سمندر کے پانیوں پر نہیں، کیوں کہ وہ دور دوسری دھرتیوں پر ٹھاٹھیں مارتے تھے، البتہ جھیلوں اور دریاؤں پر، ندیوں اور نالوں پر، بارشوں کے بعد بچنے والے پانی کے تالابوں پر، کنوؤں کی چمکتی تہوں پر، وہ مقام جہاں اندازہ کیا جا سکتا ہےکہ آسمان کتنا بلند ہے، اگرچہ یہ عجیب لگے گا، آرائشی مچھلی گھر کی پر سکون سطح پر بھی لہراتی رہی۔ یہ خاص وہ وقت تھا جب وہ خالی ذہن سے اس سنہری مچھلی کو، جو اس وقت سانس لینے سطح پر آئی، تک رہا تھا، تبھی اس نے قدرے الجھے ذہن سے سوچا، مجھے پانی بدلے کتنا عرصہ ہوا ہے، کیوں کہ وہ جانتا تھا، مچھلی کیا کہنا چاہتی ہے، جب وہ بار بار پانی کی ہم وار سطح کوتوڑتی ہے، یہ وہ خاص القائی لمحہ تھا جب نو سکھیے فلسفی کو عطا کیا گیا ایک واضح، مکمل سوال، جو اٹھائے گا شدید جذباتی اور پر جوش تنازعہ، ایک ایسے ملک کی تاریخ میں جہاں کوئی نہیں مرتا۔ آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح نے نو سکھیے فلسفی سے جو سوال کیا، یہ تھا، تم نے کبھی سوچا، کیا تمام جان داروں کے لیے یک ساں موت ہے، بھلے وہ جانور ہوں، بشمول انسان، یا پودے، گھاس جس پر تم چلتے ہو سےسو میٹر اونچے “sequoiadendron giganteum” تک، کیا موت جو کسی ایسے آدمی کو مارتی ہے جو جانتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے،ویسی ہی ہے، جیسے ایک گھوڑے کی جو کبھی نہیں جانے گا۔ اس نے بات بڑھاتے ہوئے کہا، خود کو کویے میں بند کرنے، اندر سے چٹخنی لگانے کے بعد کس مرحلے پر ریشم کا کیڑا مرتا ہے، ایک کی زندگی کی شروعات دوسرے کی موت سے کیسے ممکن ہے، پتنگے کی زندگی لاروے کی موت سے، ایک ہی ہے یا مختلف ہیں، یا کیا ریشم کا کیڑا نہیں مرتا کیوں کہ پتنگا ابھی زندہ ہے۔ نو سکھیے فلسفی نے جواب دیا، ریشم کا کیڑا نہیں مرتا لیکن انڈے دینے کے بعد پتنگا مر جائے گا، خوب، میں تمھاری پیدائش سے بھی پہلے کی جانتی ہوں، آرائشی مچھلی گھر کے پانیوں پر لہراتی روح نے کہا، ریشم کا کیڑا نہیں مرتا، جب پتنگے نے پرواز کی تو کویے میں کوئی لاشہ نہیں تھا، لیکن جیسا کہ تم نے کہا، ایک کا جنم ہوا دوسرے کی موت سے، اسے کایا کلپ کہا جاتا ہے، یہ سب جانتے ہیں، نو سکھیے فلسفی نے شفقت سے کہا، یہ ایک زبردست خوش آہنگ لفظ ہے، پیمان اور یقین دہانیوں سے لبریز، تم نے کایا کلپ کہا اور آگے بڑھ گئے، لگتا ہے تم نہیں سمجھتے کہ الفاظ نشان ہیں جنھیں ہم اشیا پر چسپاں کر دیتے ہیں، بذاتِ خود اشیا نہیں ہیں، تم کبھی نہ جانو گے کہ اشیا حقیقت میں کیسی ہیں، نہ ہی یہ کہ ان کےاصل نام کیا ہیں، کیوں کہ جو نام تم انھیں دیتے ہو وہ صرف وہ نام ہیں جو تم نے انھیں دیے،ہم میں فلاسفر کون ہے، نہ ہی تم نہ ہی میں، تم بس ایک طالب علم ہو، اور میں بس وہ روح جو آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہرا رہی ہے، ہم موت کے بارے میں بات کر رہے تھے، نہیں، موت کے بارے میں نہیں، اموات کے بارے میں، جو میں نے پوچھا تھا، وہ تھا، ایسا کیوں ہے کہ انسان نہیں مر رہے، جب کہ باقی جانور مر رہے ہیں، کچھ کی عدم موت باقیوں کی بھی عدم موت کیوں نہیں، سنہری مچھلی کی زندگی کا اختتام کب ہوتا ہے، ہاں، میں تمھیں متنبہ کرتی ہوں، اس کے آنے میں دیر نہیں لگے گی، اگر تم نے یہ پانی نہ بدلا، آیا تم اس اہل ہو گے کہ اس کی موت سے جان پاؤ کہ وہ دوسری موت کیسی ہو گی، اُن وجوہ سے جو تم نہیں جانتے،تم محفوظ دکھائی دیتے ہو، پہلے، جب لوگ مرتے تھے، چند مواقع پر جب میں نے خود کو ان لوگوں میں، جو گزر گئے، موجود پایا، میں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان کی موت ویسی ہی ہو گی، جس طرح ایک دن میں مروں گا، کیوں کہ تم میں سے سب کی اپنی اپنی موت ہے، جب تم پیدا ہوتے ہو اسی وقت سے تم میں ایک پوشیدہ مقام پر چھپی رہتی ہے، یہ تمھاری ہے اور تم اس کے ہو، جانوروں اور پودوں کا کیا معاملہ ہے، خوب، میرا خیال ہے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، ہر ایک کی اپنی موت ہے، اتنی اموات، جتنے جان دار، وجود میں آئے ہیں، موجود ہیں اور وجود میں آئیں گے، ایک طرح سے، ہاں، تم اپنی ہی نفی کر رہی ہو، نو سکھیے فلسفی نےتعجب کا اظہار کیا، اموات جو ہر فرد کی نگرانی کرتی ہیں کو محدود دورانیہ کی زندگی کی مطیع اموات کَہ سکتے ہیں، جو خود بھی اس کے ساتھ، جسے مارتی ہیں، مر جاتی ہیں، ان کے اوپر ایک بڑی موت ہو گی، وہ جو جان داروں کے آغاز سے بنی نوع انسان کی نگران ہے، یعنی ان میں سلسلۂ مراتب ہے، بالکل، میرا یہی خیال ہے، جیسے جانوروں کے لیے ہے، یک خلوی امیبیا سے نیلی وہیل تک، ان کے لیے بھی، اور پودوں کے لیے، کائی سے عظیم امریکن تاڑ کے درخت تک، جو چوں کہ بہت بڑا ہے، اس لیے تھوڑی دیر پہلے تم نے اس کا ذکر لاطینی نام سے کیا، جہاں تک مجھے علم ہے، ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، پس ہر شے کی اپنی ذاتی، ناقابل بیان موت ہوتی ہے، ہاں، اور پھر مزید دو عمومی موتیں، پہلی فطرت کی ہر عمل داری کے لیے، بے شک، اور یہ ہے جہاں اس کا اختتام ہوتا ہے، اموات کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کا سلسلہ مراتب، نو سکھیے فلسفی نے دریافت کیا، اگر میں اپنے تخیل کی ممکنہ حد تک جاؤں، میں ایک اور موت، سب سے بالا، سب سے عظیم موت دیکھ سکتی ہوں، وہ کون سی موت ہے، وہ جو کائنات کو تباہ کرے گی، وہ جو موت کے نام کی حقیقی مستحق ہے، اگرچہ جب وہ برپا ہو گی، وہاں کوئی نہیں ہو گا، جو اس کا نام بتا سکے، باقی سب، جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں، معمولی سے بڑھ کے کچھ نہیں، بس غیرضروری تفصیلات ہیں، یعنی صرف ایک موت نہیں ہے، نو سکھیے فلسفی نے بلا ضرورت گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا، بالکل یہی ہے جو میں کَہ رہی ہوں، یعنی اس موت نے، جو ہماری موت ہوتی تھی، کام کرنا چھوڑ دیا ہے، لیکن باقی، جانوروں اور پودوں کی اموات اپنا اپنا کام کر رہی ہیں، یعنی وہ خود مختار ہیں،کیا اب تم سمجھ گئے، ہاں،ٹھیک ہے، اب جاؤ اور باقی سب کو بتاؤ، آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح نے کہا۔ اور یہ تھا، جس سے تنازعے کا آغاز ہوا۔

آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح کے جرات مندانہ نظریے کے خلاف پہلی دلیل یہ تھی کہ اس کا پیش کنندہ، باضابطہ فلاسفر نہیں تھا، بلکہ صرف ایسا طالب علم تھا جو بس بنیادی نصابی یک خلوی نامیے جیسی ابتدائی کتب سے کبھی آگے نہیں گیا، اور جیسے وہ کافی نہیں تھیں، یہ مبادیاِت اِدھر سے، اُدھر سے اور ہر جگہ سے، بکھرے ٹکڑوں میں، رنگ و صورت کے شدید اختلاف کے باوجود، پرونے کے لیے سوئی تاگے بنا، اکٹھی کی گئی تھیں، یہ تھا، مختصراً، جسے اضافی بارھواں کھلاڑی یا بھان متی کا کنبہ کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ، مسئلہ اصل میں یہ نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ نظریے کا خلاصہ آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح کی کاوش تھا، تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ گزشتہ صفحات کے مکالمے کو دوبارہ پڑھا جائے تا اس دل چسپ سوچ کی تخلیق میں نو سکھیے فلسفی کی، اگرچہ صرف سامع کے کردار میں، معاونت کی نشان دہی ہو، ایک ایسا جدلیاتی عنصر، جیسا کہ سب جانتے ہیں، جو سقراط کے وقتوں سے ناگزیر رہا ہے۔ کم از کم ایک بات ایسی تھی، جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی،صرف انسان تھے، جو نہیں مر رہے تھے،جب کہ باقی جان دار مر رہے تھے۔ جہاں تک پودوں کا تعلق ہے، کوئی بھلے حیاتیات سے بے بہرہ ہو،بہ آسانی دیکھ سکتا تھا، وہ پہلے کی مانند اُگ رہے تھے، پتیاں نکال رہے تھے، مرجھا اور مکمل خشک ہو رہے تھے، اگر گلتے سڑتے ہوئے یا گلے سڑے بنا، اس آخری مرحلے کو مرنا نہیں کہا جا سکتا، تب شاید کوئی ہو، جو ایک بہتر تعریف تخلیق کراور پیش کر سکے۔ کچھ معترضین کا کہنا تھا، یہ حقیقت کہ یہاں انسان نہیں مر رہے، جب کہ باقی تمام جان دار مر رہے ہیں، صرف بطور ثبوت دیکھا جا سکتا ہے کہ معمول دنیا سے مکمل طور پر نہیں اٹھایا گیا، بتانے کی ضرورت نہیں، معمول کا مطلب ہے، سیدھے سادے لفظوں میں، جب ہمارا وقت آئے گا، ہمیں مرنا ہو گا۔ مرنا اور اس بحث میں نہ پڑنا کہ آیا یہ موت ہماری پیدائش کے ساتھ ہماری تھی، یا یہ وہاں سے گزر رہی تھی اور اس کی ہم پر نظر پڑ گئی۔ دوسرے ملکوں میں لوگوں کا مرنا جاری رہا اور لگتا نہیں تھا کہ وہاں کے باسی اس سے کسی جہت سے ناخوش ہوں۔ آغاز میں، جیسا کہ فطری ہے، وہاں حسد تھا، وہاں سازشیں تھیں، یہاں تک کہ ہم نے یہ سب کیسے کیا، جاننے کی خاطر جاسوسی کی غیر معمولی سائنٹفک کاوش تھی، لیکن جب انھوں نے دیکھا، مسائل ہمیں گھیر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے اُن ملکوں کے لوگوں کے احساسات، ان الفاظ سے بہترین انداز میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس خوش قسمتی کا بہترین راستہ موجود ہے۔

حسب توقع، ہمیشہ کی مانند، پراسرار انداز میں، کلیسا، عمل خداوندی، نامی اپنا معروف اسپِ جنگی دوڑاتامناظرے کے میدان میں کودا، عامیوں کے زبان میں، قواعدِ زبان کی چند اغلاط کے ساتھ، جس سے مراد ہے، وہاں کیا ہو رہا ہے، دیکھنے کی خاطر، ہم جنت کے دروازے کی جھری سے اندر نہیں جھانک سکتے۔ کلیسا نے یہ بھی کہا، قدرتی علت و معلول کا عارضی اور مختصر یا طویل انقطاع حقیقت میں اَن ہونا نہیں، معترض کو صرف یاد کرنا ہوں گے، گزشہ بیس صدیوں کے دوران واقع ہونے والے بے شمار معجزات، جن کا موازنہ کرتے ہوئے، اس سے جو اس وقت ہو رہا تھا، فرق صرف پیمانے کی وسعت کا ہے، جو کبھی کسی فرد کو اس کے ایمان کے بدلے میں انفرادی طور پر عطا کیا جاتا تھا، اسے اجتماعی طور پر بحیثیت عالمی تحفہ پورے ملک کو عطا کرنے سے بدل دیا گیا تھا، چناں چہ کَہ سکتے ہیں، دائمی زندگی عطا کرنے والے آب حیات سے صرف ایمان لانے والے ہی، جو بخشے جانے کی توقع کر سکتے تھے، مستفید نہیں ہو رہے تھے، جیسا کہ خالصتاً منطقی ہے، بلکہ دہریے، مادہ پرست، بدعتی، مرتد، ہر قسم کے کافر، دوسرے مذاہب کے پیروکار، اچھے، برےاور بد ترین، پاک باز اور ماپیا کے رکن، جلاد اور پھانسی کے منتظر، چور اور سپاہی، خون بہانے والے اور خون عطیہ کرنے والے، فاتر العقل اور ذی عقل، بلا استثنا سبھی معجزات کی ساری تاریخ میں پیش آنے والے،وجود کی دائمی زندگی کا روح کی حیاتِ ابدی سے بندھن، کے عظیم ترین معجزے کے شاہد تھےاور مستفید ہو رہے تھے۔ کیتھولک اکابرین، بشپ سے بالا، اپنے سلسلہ کے ثانوی مراتب پر فائز تحیرات کے متلاشی مخصوص افراد کی پیش کردہ اِن سری حکایات سے محظوظ نہ ہوئے، انھوں نے ایک واضح پیغام، جس میں خداوند کے ناقابل فہم بھیدوں بھرے طریق کا ناگزیر حوالہ دینے کے بعد قبل ازیں کارڈینل کا افراتفری میں بیان کردہ نظریہ، بحران کے ابتدائی چند گھنٹوں میں، ٹیلی فون پر اس گفتگو کے دوران جو انھوں نے وزیر اعظم سے کی تھی، دہرایا، جب خود کو پاپائے اعظم فرض کرتے اور ایسی لغو سوچ پر خداوند سے معافی کا خواست گار ہوتے ہوئے، اس نے التوائے موت کا ایک نیا نظریہ پیش کرنے کا سوچا تھا، بھروسا کرتے ہوئے، بالعموم سراہی گئی دانشِ دوراں پر، جو ہمیں بتاتی ہے، وہ کل بھی لازماً آئے گی، جس میں آج ناقابلِ حل دکھائی دینے والے مسائل حل ہوں گے۔ اپنے پسندیدہ اخبار کے مدیر کے نام خط میں، ایک قاری نے موت کے خود کو التوا میں ڈالنےکے نظریے کو تسلیم کرنے پر کامل آمادگی ظاہر کی، تاہم نہایت ادب سے دریافت کیا، کیا اسے بتایا جا سکتا ہے کہ کلیسا کو اس کا علم کیسے ہوا اور اگر وہ یہ سب جانتا ہے تولازماً یہ بھی جانتا ہو گا کہ یہ التوا کب تک جاری رہے گا۔ ایک ادارتی نوٹ میں،اخبار نے قاری کو یاد دلایا کہ یہ صرف ایک رائے تھی، ایک ایسی رائے جس پر تاحال عمل نہیں کیا گیا، جس سے یقیناً مراد ہے، اس نے بحث سمیٹی، کلیسا کو حقیقت کا اتنا ہی علم ہے جتنا ہمیں، یعنی، کچھ علم نہیں۔ اس مرحلے پر کسی نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا، بحث کو اس سوال پر واپس لایا جائے، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا، کیا موت ایک ہے یا بہت سی موتیں ہیں، ہم موت کا ذکر واحد میں کریں گے یا جمع میں، اس وقت، جب میرا قلم میرے ہاتھ میں ہے، میں صرف یہ کہنا چاہوں گا، ایسا مبہم موقف اپنا کر کلیسا صرف وقت ٹالنے اور کچھ کرنے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ حسبِ معمول شد و مد سے مینڈک کی ٹانگ پر کھپچی باندھنے کی کوشش کر رہا ہے، بَیک وقت خرگوش کے ساتھ دوڑتے ہوئے کتوں کے ساتھ شکار کر رہا ہے۔ ان عوامی کہاوتوں میں سے پہلی نے صحافیوں کو الجھن میں مبتلا کر دیا، جنھوں نے اسے اس سے پہلے اپنی زندگی میں نہ پڑھا تھا نہ سنا تھا۔ چناں چہ اس چیستاں کو اپنے سامنے پا کر صحت مند پیشہ وارانہ مسابقت سے تحریک پاتے ہوئےانھوں نے الماریوں سے لغات نکالیں، جن سے وہ مضامین اور خبریں لکھتے ہوئے کبھی کبھی استفادہ کرتے تھے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ آبی مخلوق وہاں کیا کر رہی ہے۔ انھیں کچھ نہ ملا، یا صحیح الفاظ میں انھیں مینڈک ملا، انھیں ٹانگ ملی، انھیں کھپچی ملی، لیکن وہ یہ نہ جان پائے کہ جب ان تینوں لفظوں کو اکٹھا کیا جائے تو کیا مطلب ہو گا۔ تب ان میں سے کسی کو اس بوڑھے چوکی دار کو بلانے کا خیال سوجھا، جو سالوں پہلے دور دیہات سے آیا تھا، جس پر سب ہنستے تھے،جو اتنا عرصہ شہر میں گزارنے کے باوجود اب بھی ایسے بولتا تھا، جیسے آگ تاپتے ہوئے پوتے پوتیوں کو کہانیاں سنا رہا ہو۔ انھوں نے اس سے دریافت کیا،کیا تم نے یہ کہاوت سنی ہے، اس نے جواب دیا، ہاں، سنی ہے، انھوں نے سوال کیا، اس کا مطلب جانتے ہو، جواب تھا، ہاں، جانتا ہوں، تو پھر سمجھاؤ، مدیر ِاعلا نے کہا، کھپچی، لکڑی کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، جناب، جسے ٹوٹی ہڈی باندھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اتنا تو ہم جانتے ہیں، لیکن اس کا مینڈک سے کیا لینا دینا، مینڈک سےہی تو لینا دینا ہے، کیوں کہ کوئی بھی مینڈک کی ٹانگ پر کھپچی نہیں رکھ سکتا، کیوں نہیں، کیوں کہ مینڈک اتنی دیر تک اپنی ٹانگ ایک حالت میں نہیں رکھتا، تو پھر اس کہاوت کا مطلب کیا ہے، اس کا مطلب ہے، کوشش کا کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ مینڈک آپ کو کرنے نہیں دے گا،لیکن قاری نے جو کہا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا، بالکل، یہ اس وقت بھی استعمال ہوتا ہے جب کوئی واضح طور پر وقت ٹالنے کی کوشش کر رہا ہو، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم کہتے ہیں، وہ مینڈک کی ٹانگ پر کھپچی باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جو کلیسا کر رہا ہے، یہی ہے، ہاں، جناب، یعنی جس قاری نے یہ لکھا، بالکل صحیح لکھا، بالکل، میرا یہی خیال ہے، اگرچہ میرا کام یہ ہے کہ اس دروازے سے اندر آنے اور باہر جانے والوں پر نظر رکھوں، تم نے بڑی مدد کی، کیا آپ نہیں چاہتے کہ میں دوسری کہاوت کی وضاحت کروں، کون سی، خرگوش اور کتوں والی، نہیں، ہمیں اس کا علم ہے، یہ ہمارا روز مرہ کا معمول ہے۔

موت واحد یا جمع اموات کے تنازعے کا انجام، جس کا آغاز آرائشی مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح اور نو سکھیے فلسفی نے کیا،ظاہر نہ ہوا کہ طربیہ ہوتا یا وہ المیہ، جو معیشت دان کے مضمون میں بیان کیا گیا۔ اگرچہ خود اس نے اعتراف کیا، شماریات اس کی تخصیص نہیں، اس نے خود کو موضوع پر گزارے لائق شناسا گردانا تا کہ عوام کے سامنے یہ سوال رکھے کہ کم و بیش، تقریباً بیس سال کے بعد،ملک کیسے سمجھتا ہے، اس قابل ہو گا کہ ان لکھوکھاافراد کو پنشن ادا کرے،جو مستقلاً ازکار رفتہ ہونے کی بنا پر پنشن پائیں گےاور ہمیشہ ہمیش اسی طرح رہیں گے، جن میں بلا سوچے سمجھے مزید لاکھوں شامل ہوتے چلے جائیں گے، اب قطع نظر اس کےکہ آپ نے ریاضیاتی عمل کیا یا جدلیاتی، تباہی یقینی تھی، جس کا مطلب ہو گا افراتفری، بدنظمی، ریاست کا دیوالیہ ہونا اور کامل بے بسی، جس کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔ اس ہولناک تصور کے سامنے، مابعدالطبعیات دانوں کے پاس کوئی راہ نہ تھی، سوائے منہ بند رکھنے کے، کلیسا کے پاس کوئی راہ نہ تھی، سوائے اکتا دینے والی تسبیحات دہرانے کے اور وقتِ موعودکا انتظار کرنے کے، جو ان کے، تصور آخرت کے، مطابق بالآخر ہر مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دے گا۔ معیشت دان کے پریشان کن دلائل کی جانب لوٹتے ہوئے، حقیقت میں، حساب سیدھا سادہ ہے، اگر فعال آبادی کا ایک معین حصّہ اپنی قومی بیمہ ادا کر رہا ہے اور غیر فعال آبادی کا ایک معین حصّہ، بھلے بڑھاپے سے یا معذوری سے رٹائرڈ ہےاور نتیجے میں اپنی پنشن کے لیے فعال آبادی سے وصولی کر رہا ہے، اب جب کہ فعال آبادی غیر فعال آبادی کے مقابل میں مسلسل کم ہو رہی ہے اور غیر فعال آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فوری طور پر کیوں کسی نے نہ دیکھا، بظاہر بلند و بالا مسرتِ عظیم دکھائی دینے والا، موت کا غائب ہونا، در حقیقت کوئی اچھی چیز نہیں۔ بیشتر اس کے کہ شعور غیر رومانوی انداز میں، کاغذ اور قلم ہاتھ میں لیے آئے، الف +ب +ج کے ذریعے بتائے کہ کچھ اہم معاملات فوری توجہ کے طالب ہیں، فلاسفر اور تجزیہ کار اپنے استغراق کے جنگل، لگ بھگ اور صفر میں، جو غیر مہذب لوگوں کا وجود اور عدم کہنے کا طریق ہے، گم ہو گئے۔ جیسا کہ انسانی فطرت کا تاریک پہلوسامنے رکھتے ہوئے قیاس کیا جا سکتا ہے، جب معیشت دان کا متنبہ کرنے والا مضمون شائع ہوا، بستر مرگ پر مرتے ہوؤں کی جانب، آبادی کے صحت مند افراد کا رویہ، خراب تر ہوتا گیا۔ اگرچہ اس وقت تک ہر فرد متفق تھا کہ بوڑھے اور بیمار بہت سی مشکلات اور مسائل پیدا کرتے ہیں، اس کے باوجود یہ سمجھا جاتا تھا، ان سے احترام کا سلوک مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، نتیجتاً، ان کی نگہ داشت سے کبھی غفلت نہ برتی جاتی، اگرچہ اس سلسلے میں کبھی کبھار کچھ کوشش بھی کرنا پڑتی، جب کہ چند استثنائی معاملات میں تو روشنیاں گل کرنے سے قبل تسلی آمیز اور پیار بھری باتوں سے اس نگہ داشت کو شیریں بھی بنایا جاتا تھا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، یہ بھی سچ ہے، وہاں کچھ ایسے ظالم خاندان بھی تھے جو اپنی ناقابلِ علاج غیر انسانی رویوں کے زیر اثر بڑھتے بڑھتے اتنا آگے نکل گئے کہ پسینے میں شرابور اور انسانی فضلات سے داغ دار چادروں کے درمیان لامتناہی مرتے ہوئے خستہ حال انسانی باقیات سے نجات حاصل کرنے کی خاطر ماپیا کی خدمات حاصل کریں، تاہم وہ ہماری ناپسندیدگی کے مستحق ہیں، جیسا کہ بارہا بیان کی گئی لکڑی کے پیالے کی کہانی میں بیان کیا گیا کنبہ تھا، اگر چہ، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، وہ آخری لمحے پر آٹھ سالہ بچے کے مہربان دل کی عنایت سے حتمی لعنت سے بچ گیا۔ جسے ہم یہاں نئی نسل جو اسے نہیں جانتی کی بصیرت کے لیے اس امید پر جلدی سے بیان کریں گے کہ وہ بچگانہ یا جذباتی ہونے کی بنا پر اس کا مذاق نہیں اڑائیں گے۔ تو، اس اخلاقی سبق کو سنو۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے، قدیم کہانیوں کے دیس میں ایک خاندان رہتا تھا، جو ما ں، باپ، دادا، جو باپ کا باپ تھا، اور قبل ازیں بیان گئے آٹھ سالہ بچے پر مشتمل تھا۔ دادا بہت بوڑھے تھے، اسی وجہ سے ان کے ہاتھ رعشہ سے کپکپاتے تھےاور جب وہ میز پر ہوتے تو بسا اوقات اپنا کھانا گرا دیتے، یہ ان کے بیٹے اور بہو کے لیے شدید جھنجھلاہٹ کا باعث بنتا، جو ہمیشہ انھیں تاکید کرتے، کھانا احتیاط سے کھائیں، لیکن غریب بڑے میاں، بھلے جتنی بھی کوشش کرتے، اپنی لرزش پر قابو نہ پا سکتے، جو مزید بڑھ جاتی، جب بھی وہ انھیں روکتے، چناں چہ وہ ہمیشہ میز پوش کو داغ دار کر دیتے یا فرش پر کھانا گرا دیتے، علاوہ رومالوں کے، جو وہ ان کی گردن کے گرد اڑستے، اور جو دن میں تین مرتبہ، ناشتے پر، دوپہر کے کھانے پر اور رات کے کھانے پر تبدیل کیے جاتے تھے۔ یہ تھی صورتِ حال، جس میں بہتری کی کوئی امید نہیں تھی، تب بیٹے نے نا خوش گوار صورتِ حال کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایک لکڑی کا پیالہ لے کر گھر آیا اور اپنے باپ سے کہا، آئندہ آپ یہاں دہلیز پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے، کیوں کہ اسے صاف کرنا آسان ہے اور آپ کی بہو کو ان گندے رومالوں اور میز پوشوں سے نمٹنا نہیں پڑے گا۔ اور ایسا ہی ہوا، ناشتے، دوپہر اور رات کےکھانے پر بڑے میاں تنہا دہلیز پر بیٹھتے، کھانا منہ تک لے جانے کی کوشش میں نصف راستے میں گرا دیتے، جب کہ بقایا نصف میں سے کچھ ٹھوڑی پر گر جاتا، بچا کھچا تھوڑا سا اندر، جسے عام آدمی حلق کہے گا، اترتا۔ ایسا لگتا تھا، پوتا اپنے دادا سے روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک سے لاتعلق ہے، وہ انھیں دیکھتا، اپنے ماں، باپ کو دیکھتا اور کھانا کھاتا رہتا، جیسے اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پھر ایک سہ پہر باپ جب کام سے گھر آیا، اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا، جو لکڑی کا ایک ٹکڑا چھیل رہا تھا، وہ سمجھا، جیسا اس پرانے زمانے کا معمول تھا، اپنے لیے کوئی کھلونا بنا رہا ہے۔ البتہ، اگلے روز اسے احساس ہوا، لڑکا کوئی کھلونا گاڑی نہیں بنا رہا، اگر ایسا تھا تو اسے کم از کم دکھائی دیتا کہ اس کے پہیے کہاں لگیں گے، چناں چہ اس نے دریافت کیا، تم کیا بنا رہے ہو۔ لڑکے نے ظاہر کیا، اس نے نہیں سنا اور چاقو کی نوک سے لکڑی چھیلتا رہا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب والدین کم ڈَرُّو ہوتے تھے اور بچوں کے ہاتھ سے کھلونے بنانے کا اتنا کار آمد آلہ چھیننے میں جلدی نہیں کرتے تھے۔ تم نے بات نہیں سنی، میں نے پوچھا ہے تم اس لکڑی کےٹکڑے سے کیا بنا رہے ہو، باپ نے سوال دہرایا، اس کے بیٹے نے اپنے کام سے نظر ہٹائے بغیر جواب دیا، میں پیالہ بنا رہا ہوں تا کہ جب آپ بوڑھے ہوں اور آپ کے ہاتھ لرزنے لگیں تب آپ کھانا کھانے کے لیے دہلیز پر بھیجے جائیں، جس طرح آپ نے دادا سےکیا۔ ان الفاظ میں جادو تھا، اس کی آنکھوں سے پٹی اتر گئی، اس نے سچ اور اس کی روشنی دیکھ لی، وہ فوراً اپنے والد سے معافی مانگنے گیا اور جب شام کے کھانے کا وقت ہوا، اس نے کرسی پر بیٹھنے میں ان کی مدد کی، چمچ سے انھیں کھانا کھلایا اور احتیاط سے ان کی ٹھوڑی صاف کی، کیوں کہ اس وقت تک وہ یہ کر سکتا تھا، جب کہ پیارے ابا نہیں کر سکتے تھے۔ پھر کیا ہوا، تاریخ بتانے سے قاصر ہے لیکن ہم یقینی طور پر کَہ سکتے ہیں، لڑکے کا چھیلنا رک گیااور لکڑی کا ٹکڑا تاحال وہیں ہے۔ کسی نے اسے پھینکنے کی کوشش نہ کی، کیوں کہ شاید وہ اس سبق کو بھولنا نہیں چاہتے تھے، یا شاید انھوں نے سوچا، شاید کبھی کوئی ہو، جو اس کام کو مکمل کرنا چاہے، جو یقیناً ممکن ہے، اگر ہم فطرتِ انسانی کے تاریک پہلو کے بچ نکلنے کی بے پناہ صلاحیت کا تصور کریں۔ جیسا کہ کسی کا کہنا ہے، ہر وہ کام جو ہو سکتا ہے ہو گا، یہ صرف وقت کی بات ہے، اگر ہم اسے دیکھ نہ پائے، جب ہم موجود ہیں، تو یہ اس وجہ سے ہے، کہ ہم اس وقت تک جی نہ پائے۔ تاہم، ایسا ہے کہ ہم ہر تصویر، تختۂ نقاشی کے بائیں جانب کے رنگوں سے بنانے کے ملزم نہیں، کچھ کا ماننا ہے کہ اس اخلاقی حکایت کو، جسے کسی اخبار نے اجتماعی یاداشت کی گرد سے اَٹی الماری سے نکالا اور اس کے جالے جھاڑے، ٹیلی وژن کے مطابق ڈھالنا ممکن ہے، جو روحانیت کی غیر مادی روایت، جس کی کبھی معاشرہ پرورش کرتا تھا، کے پروان چڑھانے کو بحال کرنے میں خاندانوں کے غیر مطمئن ضمیروں کی مدد کرے۔ مادیت پرستی نے، جو حال ہی میں حاوی ہوئی ہے، ان عزائم پر قبضہ کیا، جنھیں ہم مضبوط سمجھتے تھے، لیکن جو حقیقت میں، ایک ناگوار اور ناقابلِ علاج اخلاقی کمزوری کی حقیقی تصویر تھے۔ تاہم، ہمیں امید ترک نہیں کرنی چاہیے۔ جوں ہی لڑکا پردے پر نمودار ہوا، ہم قائل ہو گئے، ملک کی نصف آبادی رومال کی تلاش میں جُت جائے گی، تاکہ اپنے آنسو خشک کرے، جب کہ بقایا نصف، شاید زیادہ صابر مزاج ہوتے ہوئے، خاموشی سے اپنے چہرےپر آنسو بہنے دیں۔ کسی غلط کام پر ندامت یا تلافی کے اظہار کا بہترین طریق ضروری نہیں، بے روح الفاظ ہوں۔ آئیں، امید کریں، اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ دادا، نانا کو بچائیں۔

غیر متوقع طور پر وقت کے تقاضے سے نابلد ہونے کا قابلِ مذمت اظہار کرتے ہوئے، جمہوریت پسندوں نے اس حساس وقت کا انتخاب کیا کہ اُن کی آواز سنی جائے۔ تعداد میں وہ کچھ زیادہ نہ تھے، ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے اور باقاعدگی سے انتخابات میں حصّہ لینے کے باوجود، مقننہ میں بھی ان کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ معاشرے میں، بالخصوص ادب اور فنونِ لطیفہ کے حلقوں میں، خاصا رسوخ رکھنے کی ڈینگیں مارتے تھے، مختلف مواقع پر، بحیثیت مجموعی، خوب بنا سنوار کر لکھے ہوئے منشورشائع کرتے، جو ہمیشہ شائستہ اور تشفی آمیز ہوتے۔ جب سے موت غائب ہوئی تھی انھوں نے زندگی کی کوئی علامت ظاہر نہیں کی تھی، نہ ہی، جیسا کہ کوئی انتہا پسند حزبِ اختلاف سے توقع کر سکتا ہے، قریب المرگ مریضوں کی شرم ناک منتقلی میں ماپیا کی حصّہ داری کے بارے میں وضاحت مانگی۔ اب ملک میں پھیلتے ہوئے اضطراب، جو خود کو پورے کرۂ ارض پر منفرد گرداننے کے گھمنڈ اور پوری دنیا میں کہیں اور ایسا نہیں، کی شدید بے چینی کے درمیان منقسم تھا، سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ دائیں بائیں نہ ہوتے ہوئےصرف نظامِ حکومت پر سوال اٹھا رہے تھے۔ از روئے تشخص بادشاہت کے مخالف اور تاج کے دشمن ہونے کے ناطے، انھوں نے سوچا کہ انھوں نے جمہوریہ کے لازمی اور فوری قیام کے حق میں ایک دلیل ڈھونڈی ہے۔ انھوں نے کہا یہ عقلِ انسانی کے خلاف ہے کہ کسی ملک کا کوئی ایسا بادشاہ ہو جو کبھی نہیں مرے گا، عمر کے بڑھنے یا ذہن کے گھٹنے کی بنا پر بھلے وہ حکومت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کرے، بادشاہ ہی رہے گا، وہ تاج وروں اور دست بردار ہونے والوں کے لا مختتم سلسلے میں اولین ہو گا، جس کے عقب میں اپنے بستروں پر پڑےموت کے منتظر، جو کبھی نہیں آنے کی، بادشاہوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو گا، نیم زندہ، نیم مردہ بادشاہوں کی ندی ہو گی، اِلا یہ کہ انھیں محل کی راہ داریوں میں رکھا جائے، جو بالآخر ٹھونسے جائیں گے اور انجام کار سما نہ پائیں گے، ان شاہی مقابر میں، جہاں ان کے اجل گرفتہ آبا وصول کیے گئے تھے، جو اب بافتوں اور بوسیدہ وجود سے جدا ہڈیوں یا حنوط شدہ بقایا جات کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ اس سے زیادہ مناسب کیا ہو گا کہ معین مدتِ عہدہ کے ساتھ جمہوریہ کا ایک صدر ہو، ایک یا زیادہ سے زیادہ دو مدت کا اختیار، پھر وہ اپنی پسند کی راہ چنے، اپنی مرضی کی زندگی بسر کرے،خطبات دے، کتابیں لکھے، موضوعاتی اجلاسات، مذاکرت اور محافل میں شریک ہو، علمی نشستوں میں اپنا موقف پیش کرے، دنیا کی سیر کرتے ہوئے استقبالیوں میں شرکت کرے، سکرٹ کی لمبائی کا فیشن بدلنے اور اوزون کی کمی کے ماحول پر، اگر کوئی ماحول ہے، اثرات پر تبصرہ کرے، مختصراً، جو اس کا من چاہے، وہ کر سکے۔ یہ بہتر ہو گا اس سے کہ روزانہ اخبارات میں پڑھیں، جب کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر سنیں، غیر متبدل خبر نامہ، تاحال کوئی تبدیلی نہیں، مریضوں کی کیفیت میں، شاہی شفا خانوں کے، جنھیں، نوٹ کیا جائے، پہلے ہی دو مرتبہ وسیع کیا جا چکا ہے، جلد ہی ایک مرتبہ پھر وسیع کرنا ہو گا۔ یہاں شاہی شفا خانوں کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنا اس امر کی علامت ہے، جیسا ہمیشہ ہسپتالوں اور ایسے دوسرے مقامات پر ہوتا ہے، مردوں کو عورتوں سے الگ رکھا جاتا ہے، یعنی، بادشاہ اور شہزادے ایک جگہ ہوں گے، ملکائیں اور شہزادیاں دوسری جگہ ہوں گی۔ جمہوریت پسند اب لوگوں کو للکار رہے تھےکہ اپنی اصل ذمہ داریوں کو سمجھیں، اپنی قسمت اپنے ہاتھوں میں لیں تا کہ نئی زندگی کی شروعات کریں اور نئی آنے والی صبحوں کی جانب جانے والی پھولوں بھری راہوں سے لطف اندوز ہوں۔ ان کا منشور اب صرف ادیبوں اور فن کاروں کا ذکر نہیں کرتا تھا، معاشرے کے باقی طبقات بھی مستقبل کی صبحوں کو جانے والی پھولوں بھری راہوں پر چلنے کے لیے اتنے ہی آمادہ تھے، جس کا نتیجہ حمایت میں نکلنے والے نئے جنگ جوؤں کا غیر معمولی سیلِ رواں تھا، جو مرنے مارنے پر تلُا تھا۔ قبل اس کے کہ کوئی سمجھتا، یہ ایک تاریخی واقعہ ثابت ہو گا، وہ تاریخ میں کھو گئے، بالکل ایسے جیسےمچھلی پکنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی مچھلی ہی ہوتی ہے۔بد قسمتی سے، آنے والے دنوں میں، ان مستقبل بیں، جمہوریت پسندوں کے نئے حامی اتنے مہذب نہیں تھے، جتنا ان کے با اخلاق ہم عصر جمہوریت پسند توقع کرتے تھے۔ کچھ نے تو بے ہودگی کی ہر حد پار کر لی، بطور مثال، اپنے شہنشاہ معظم کا ذکر یہ کہتے ہوئے کرتے کہ وہ نتھنوں میں چھلوں والے گدھوں یا سماعت سے محروم چوپایوں کو کیک کھلانے کے لیے تیار نہیں، نفیس ذوق کے حامل تمام لوگ متفق تھے، یہ الفاظ صرف ناقابلِ قبو ل نہیں، ناقابلِ معافی بھی ہیں۔ اتنا کہنا کافی ہے، ریاستی خزانہ اس اہل نہ تھا کہ شاہی خاندان اور اس کے متعلقات کے اخراجات میں مسلسل اضافے کی اعانت جاری رکھے،ہر فرد کو یہ سمجھنا ہو گا، یہ حقیقت تھی، لیکن ناگوار نہیں تھی۔

یہ روشن خیالوں کی جانب سے شدید حملہ تھا، لیکن اُس زیادہ اہم مضمون کے پریشان کن احتمال نے کہ بہت جلد ریاستی خزانہ متحمل نہیں ہو گا، بڑھاپے اور معذوری کی پنشن کو جاری رکھنے پر، جس کی کوئی انتہا دکھائی نہیں دیتی، شاہِ معظم کو آمادہ کیا، وزیرِ اعظم کو مطلع کیا جائے کہ وہ تخلیے میں، ٹیپ ریکارڈر یا کسی نوع کے گواہ کے بنا ایک غیر رسمی ملاقات چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم وقتِ مقررہ پر پہنچا، مزاجِ شاہی دریافت کرنے کے بعدخاص طور پر مادر ملکہ کے بارے میں دریافت کیا، جو سال کے آغاز سے کیفیتِ مرگ میں تھیں، اس کے باوجود، بہت سے دوسروں کی مانند، تاحال فی منٹ تیرہ مرتبہ سانس لے رہی تھیں،اگر چہ ان کا وجود تنی شاہی شبنمی تلے بستر پر چت پڑا تھا، وہ زندگی کی چند اور علامات بھی ظاہر کرتا تھا۔ شاہِ معظم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور گویا ہوئے، مادر ملکہ اپنی تکالیف اس خون کے شایانِ شان، جو ان کی رگوں میں تاحال دوڑ رہا ہے، وقار سے برداشت کر رہی ہیں، پھر ایجنڈے کی جانب آئے، جس کی اولین شق جمہوریت پسندوں کا اعلانِ جنگ تھا۔ میں قطعاً سمجھ نہیں پایا، یہ لوگ کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں، انھوں نے کہا، اِدھر ملک تاریخ کے بد ترین بحران میں پھنسا ہوا ہے، اُدھر وہ نظام بدلنے کی باتیں کر رہے ہیں، اوہ، مجھے کوئی پریشانی نہیں، جناب والا، جو وہ کر رہے ہیں، وہ ہے، صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس منصوبے کی تشہیر کرنا، جسے وہ اپنا نظامِ حکومت کہتے ہیں، اندر سے، وہ کچھ نہیں، صرف مچھلی کے غریب شکاری، جو کیچڑ میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں، یہ بھی کہنا چاہیے، حبِ وطن کے فقدان کا افسوس ناک مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یقیناً، جناب والا، جمہوریت پسندوں کے قوم کے بارے میں جو نظریات ہیں انھیں صرف وہی سمجھ سکتے ہیں، اگر ایسا ہے، وہ انھیں سمجھتے رہیں، مجھے ان کے نظریات میں ذرہ برابر دل چسپی نہیں،جو میں تم سے جاننا چاہتا ہوں، کوئی ایسا امکان تو نہیں کہ وہ نظام بدلنے کی کوشش کریں، جناب والا، ان کی تو پارلیمان میں نمائندگی تک نہیں، میں جس طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ ہے، انقلاب یا تختہ الٹنے کی کوشش، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جناب والا، عوام مضبوطی سے اپنے شاہِ معظم کے ساتھ ہیں، اسی طرح مسلح افواج بھی قانونی حکومت کی وفادار ہیں، مطلب، میں اطمینان رکھوں، جی، جناب، پوری طرح۔ شاہِ معظم نے اپنی ڈائری میں جمہوریت پسند کے الفاظ کو کاٹتے ہوئے فرمایا، بہت خوب، پھر انھوں نے دریافت کیا، ہاں، یہ پنشنوں کی عدم ادائیگی کا کیا معاملہ ہے، ہم انھیں ادا کر رہے ہیں، جناب والا، البتہ آثار اچھے نہیں، پھرضرور میں نے غلط پڑھا ہو گا، میں سمجھا تھا ایسا ہو چکا ہے، کیا ہم کہیں گے، ادائیگیوں کی معطلی، جی نہیں، جناب والا، تاہم، جیسا میں نے عرض کیا، مستقبل یقیناًانتہائی پریشان کن ہے، کس جہت سے، ہر جہت سے، جناب والا، ریاست گتے کے گھر کی طرح بکھر سکتی ہے، صرف ہمارا ملک ہے جو خود کو اس صورتِ حال میں پاتا ہے، شاہِ معظم نے دریافت کیا، جی نہیں، جناب والا، طویل دورانیے میں مسئلہ سب کو متاثر کرے گا، لیکن اہمیت مرنے اور نہ مرنے کے درمیان فرق کی ہے، ایک بنیادی فرق، اگر آپ مجھے کھل کر کہنے پر معاف فرمائیں، معذرت چاہتا ہوں، لیکن میں سمجھ نہیں پایا، دوسرے ملکوں میں لوگوں کا مرنا معمول ہے، لیکن یہاں، ہمارے ملک میں، جناب والا، کوئی نہیں مرتا، صرف مادر ملکہ کی مثال لیں، یہ یقینی نظر آتا تھا کہ وہ مر رہی ہیں، لیکن، نہیں، وہ تاحال زندہ موجود ہیں، ہمارے لیے باعثِ مسرت، یقیناً، لیکن در حقیقت، میں مبالغے سے کام نہیں لے رہا، پھندا مضبوط ہے اوربالکل ہماری گردنوں کے گرد، اور اس کے باوجود افواہیں سنی ہیں کہ کچھ لوگ مر رہے ہیں، یہ سچ ہے، جناب، لیکن یہ سمندر میں سے بمشکل ایک قطرہ ہے، سب خاندان اتنا آگے نہیں جا سکتے کہ یہ قدم اٹھائیں، کیسا قدم، اپنے مرنے والے کو خود کشی کی نگرانی کرنے والی تنظیم کے حوالے کرنے کا، میں سمجھا نہیں، وہ مر نہیں سکتے تو خود کشی کیسے، اوہ، وہ کر سکتے ہیں، جناب والا، کیسے کرتے ہیں وہ ایسا، یہ پے چیدہ کہانی ہے، جناب والا، خوب، مجھے بتاؤ، ہم تخلیے میں ہیں، سرحد کی دوسری جانب، جناب والا، لوگ اب بھی مر رہے ہیں، تمھارا مطلب ہے، یہ تنظیم انھیں وہاں لے جاتی ہے، بالکل، یہ ایک فلاحی تنظیم ہے، یہ بسترِ مرگ پر پڑے ہوؤں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو روکنے میں ہماری کچھ مدد کرتی ہے،لیکن، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ سمندر میں ایک قطرہ ہے، کون سی ہے، یہ تنطیم، وزیرِ اعظم نے ایک گہری سانس لی اور بولا، ماپیا، جناب والا، ماپیا، جی، جناب والا، ماپیا، کبھی کبھی ریاست کے پاس اس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے کو تلاش کرے،جو اس کے غلیظ کام کرے، تم نے اس سے پہلے مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، نہیں، جناب والا، میں آپ کو اس معاملے سے الگ رکھنا چاہتا تھا اس لیے میں نے سب کچھ اپنے سر لیا، اور وہ دستے جو سرحدوں پر تھے، ان کا ایک مقصد تھا، وہ مقصد کیا تھا، خود کشوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ دکھائی دے، حال آں کہ حقیقت میں قطعاً کوئی رکاوٹ نہیں، جب کہ میں یہ سمجھا کہ وہ وہاں حملہ روکنے کے لیے تھے، وہاں کبھی ایسا خطرہ نہیں تھا، اس کے علاوہ، ہم نے ان ہم سایہ ملکوں کی حکومتوں سے معاہدے کیے ہوئے ہیں اور تمام معاملات ہمارے ہاتھ میں ہیں، پنشن کے مسئلے کے علاوہ، موت کے مسئلے کے علاوہ، جناب والا، اگر ہم نے دوبارہ مرنا شروع نہ کیا، ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ بادشاہ سلامت نے پنشن کے لفظ کو کاٹا اور بولے، کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے، یقیناً، جناب والا، کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔

7

لفافہ ڈائرکٹر جنرل کی میز پر تھا، جب سکرٹری دفتر میں داخل ہوئی۔ اس کا رنگ بنفشی تھا اور اس لیے تھا، خلافِ معمول، کاغذکی سطح لینن کی مانند ملائم تھی، جو کچھ پرانا اور پہلے بھی استعمال کیا گیا لگتا تھا۔ اس پر پتَا درج نہیں تھا، نہ تو بھیجنے والے کا، جو کبھی کبھی ہوتا ہےاور نہ ہی وصول کرنے والے کا، جو کبھی نہیں ہوتا، مزید براں یہ ایک ایسے دفتر میں پایا گیا جس کا مقفل دروازہ، جس میں سے رات کے دوران کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا، اسی وقت کھولا گیا تھا۔ جس وقت اس نے، یہ دیکھنے کی خاطر کہ پشت پر کیا لکھا ہے، لفافے کو پلٹا، سکرٹری نے خود کو مبہم انداز میں سوچتا محسوس کیا، جب میں نے چابی کو تالے میں ڈال کر گھمایا تو لفافہ وہاں نہیں تھا، ایسا سوچنا یا محسوس کرنا، دونوں احمقانہ ہیں۔ مضحکہ خیز، وہ بڑبڑائی، کل جب میں گئی، یقیناً، میں نے اسے یہاں نہیں دیکھا ہو گا۔ اس نے تسلی کرنے کی خاطر کہ ہر چیز ٹھیک ہے، کمرے میں چاروں طرف نگاہ دوڑائی، پھر اپنے ڈیسک کو لوٹ گئی۔ بطور سکرٹری، اور ایک با اعتماد ذمہ دار سکرٹری، اسے اختیار تھا کہ اس یا کسی دوسرے لفافے کو کھول لے، خصوصاً جب اس پر ممنوعہ ہونے کا کوئی اشارہ نہ ہو اور نہ ہی ذاتی، نجی یا خفیہ کے الفاظ ہوں، اس کے باوجود اس نے اسے نہ کھولا، لیکن کیوں، وہ سمجھ نہ پائی۔ دو مرتبہ وہ اپنی کرسی سے اٹھی اور دروازے کو جھری برابر کھولا، لفافہ اب بھی وہیں تھا، میں خواہ مخواہ بے چین ہو رہی ہوں، اس نے سوچا، ضرور یہ رنگ کی وجہ سے ہے، کاش اب وہ آ جائے اور اس اسرار کو ختم کرے۔ وہ اپنے باس، ٹیلی وژن کے ڈائرکٹر جنرل، جسے دیر ہو گئی تھی، کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ بالآخر جب وہ آیا، سوا دس ہو چکے تھے، کم گو ہونے کے ناطے اس نے صرف صبح بخیر کہا اور اپنی سکرٹری کو حکم دیتے ہوئے کہ پانچ منٹ بعد اس کے پاس پہنچے، اپنے دفتر میں چلا گیا، وقت جس کی وہ تازہ دم ہونے اور دن کا پہلا سگریٹ سلگانے کے لیے ضرورت سمجھتا تھا۔ جب سکرٹری کمرے کے اندر گئی، اس وقت تک ڈائرکٹر جنرل نے نہ کوٹ اتارا تھا، نہ ہی سگریٹ سلگایا تھا۔ وہ ایک کاغذ تھامے ہوئے تھا جس کا رنگ وہی تھا جو لفافے کا تھا، جب کہ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ جب وہ میز تک پہنچی، وہ سکرٹری کی جانب مڑا، لیکن یوں لگتا تھا جیسے اس نے اسے پہچانا نہیں۔ اس نے ایک ہاتھ بلند کیا تا کہ اسے قریب آنے سے روکے اور ایسی آواز میں، جو کسی دوسرے کے حلق سے بلند ہوتی محسوس ہوتی تھی، بولا، نکل جاؤ فوراً، دروازہ بند کر دو اور کسی کو، کسی کو بھی اجازت نہ دو، سمجھیں تم، اندر نہ آئے، بھلے کوئی ہو۔ سکرٹری نے پریشانی سے پوچھا، کوئی گڑبڑ ہے، مگر وہ غراتے ہوئے بولا، سنا نہیں تم نے، وہ بولا، میں نے تمھیں کہا ہے نکل جاؤ، دھاڑتے ہوئے اس نے اضافہ کیا، فوراً، نکل جاؤ۔ بے چاری عورت آنکھوں میں آنسو لیے نکل گئی، وہ اس رویے کی عادی نہیں تھی، سب لوگوں کی مانند، یہ سچ ہے، ڈائرکٹر جنرل میں بھی خامیاں ہیں، لیکن مجموعی طور پر وہ بہت شائستہ ہے،اس کی یہ عادت نہیں کہ سکرٹری سے غلاموں جیسا سلوک کرے۔کوئی ایسی بات ہے جس کا تعلق اس خط سے ہے، کوئی اور توجیہ نہیں، اس نے سوچا جب وہ آنکھیں خشک کرنے کے لیے رومال نکال رہی تھی۔ وہ بالکل صحیح تھی۔ اب اگر وہ حوصلہ کرتے ہوئے دفتر میں واپس جاتی، وہ دیکھتی، ڈائرکٹر جنرل، چہرے پر زلزلے کے آثار لیے، کمرے میں تیزی سے ایک جانب سے دوسری جانب آ جا رہا ہے،جیسے وہ نہیں جانتا کہ کیا کرے لیکن اس کے باوجود، اس کے ساتھ ہی، اس سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ وہی، صرف اور صرف وہی ہے، جو یہ کر سکتا ہے۔ اس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی، کاغذ دیکھا اور سرگوشی میں اپنے آپ سے مخاطب ہوا، ابھی وقت ہے، ابھی وقت ہے، پھر وہ کرسی پر بیٹھ گیا، وہ پر اسرار خط پھر سے پڑھا، اس دوران بے اختیار اپنا دوسرا ہاتھ اپنے سر پر پھیرتا رہا، مانو تسلی کر رہا ہو کہ وہ تاحال اپنی جگہ پر ہے، کہیں اس کے پیٹ میں گھومتے خوف کے بھنور میں کھو تو نہیں ہو گیا۔ اس نے پڑھنا بند کیا اور خلا میں گھورتے ہوئے سوچنے لگا، لازماً، مجھے کسی سے بات کرنا ہو گی، پھر ایک خیال اس کی مدد کو آیا، شاید یہ کوئی مذاق ہو، ممکنہ بدترین ذوق کا مذاق، کوئی ناراض ناظر، جیسا کہ بہت سے ہیں، کوئی ایسا جو یقیناً انتہائی خوف ناک سوچ کا حامل ہے، جیسا کہ ٹیلی وژن کی دنیا میں بلند مقام کا حامل کوئی بھی یہ جانتا ہے، یقیناً یہ پھولوں کی سیج نہیں، اس نے سوچا، لیکن اپنا غصّہ نکالنے کے لیے بالعموم مجھے نہیں لکھتے۔ بتانے کی ضرورت نہیں، یہ خیال تھا جس نے بالآخر اس کی رہ نمائی کی کہ اپنی سکرٹری سے فون ملائےاور دریافت کرے، یہ خط کون لایا، میں نہیں جانتی، جناب، صبح جب میں نے آ کر آپ کے دفتر کا تالا کھولا، جیسا کہ میں ہمیشہ کرتی ہوں، یہ وہاں تھا، لیکن یہ ممکن نہیں، اس دفتر میں رات کو کوئی نہیں آ سکتا، بالکل، جناب، پھر تم اس کی کیا وضاحت کرتی ہو، مجھ سے نہ پوچھیے، میں نے کوشش کی، جو ہوا، وہ بتاؤں، لیکن آپ نے مجھے موقع نہ دیا، ہاں، مجھے افسوس ہے، میں تمھارے ساتھ سختی سے پیش آیا، کوئی بات نہیں، جناب، لیکن اس سے مجھے بہت پریشانی ہوئی، ڈائرکٹر جنرل ایک مرتبہ پھر ہتھے سے اکھڑ گیا، اگر میں تمھیں بتاؤں، اس خط میں کیا ہے، تمھیں پریشانی کے اصل معانی معلوم ہو جائیں گے، ساتھ ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر گھڑی دیکھی اور اپنے آپ کو کہا، نکلنے کی صرف یہی راہ ہے، کوئی اور دکھائی نہیں دیتی، کچھ فیصلے ایسے ہیں جو میں نہیں کر سکتا۔ اس نے اپنی ایڈریس بک نکالی، وہ نمبر، جس کی اسے ضرورت تھی، تلاش کیا اور بولا، یہ رہا۔ اس وقت بھی اس کے ہاتھ اِتنے لرز رہے تھے کہ اسے صحیح نمبر دبانے میں مشکل پیش آئی، جب کسی نے جواب دیا تو اسے اپنی آواز پر قابو پانے میں اس سے بھی زیادہ دشواری پیش آئی، میرا وزیرِ اعظم کے دفتر سے رابطہ کرائیں، آپ، میں، ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن۔ کیبنٹ سکرٹری لائن پر آیا، صبح بخیر، ڈائرکٹر جنرل، آپ کو سن کر خوشی ہوئی، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں، دیکھیے، جتنی جلد ممکن ہو مجھے ایک انتہائی ہنگامی معاملے میں وزیرِ اعظم سے بات کرنی ہے، کیا آپ مجھے بتا سکتے، یہ کس بارے میں ہے،تا کہ میں پیشگی وزیرِ اعظم کو مطلع کر سکوں، نہیں، معذرت، لیکن میں، معاملہ، اسی طرح ہنگامی نوعیت، نہیں بتا سکتا، یہ انتہائی راز ہے، آپ صرف اشارہ دے دیں، سنیے، میرے پاس ایک ایسی دستاویز ہے، جسے صرف اِن آنکھوں نے دیکھا ہے، جو ایک دن خاک کا رزق بن جائیں گی، انتہائی قومی اہمیت کی حامل دستاویز، آپ مجھے وزیرِ اعظم سے، جہاں بھی ہیں، فوری طور پر ملائیں، اگر اتنا کافی نہیں تو مجھے آپ کے ذاتی اور سیاسی مستقبل کے بارے میں شدید اندیشہ ہے، تو معاملہ سنجیدہ ہے، میں یہی کَہ سکتا ہوں کہ ہے، اس وقت کے بعد سے ضائع ہونے والے ہر منٹ کے تمام تر ذمہ دار آپ ہوں گے، اس صورت میں، میں دیکھتا ہوں، میں کیا کر سکتا ہوں، لیکن وزیرِ اعظم بہت مصروف ہیں، اچھا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ تمغا حاصل کریں، انھیں غیر مصروف کریں، ابھی، اسی وقت، ٹھیک، میں لائن پر ہوں، اس سے ہٹ کر ایک سوال کر سکتا ہوں، اوہ، ضرور، آپ کیا جاننا چاہتے ہیں، آپ نے اِن آنکھوں کے متعلق یہ کیسے کہا، ایک دن خاک کا رزق بن جائیں گی، یہ تو وہ ہے جو پہلے ہوا کرتا تھا، دیکھیں، میں نہیں جانتا آپ پہلے کیا تھے، لیکن میں جانتا ہوں، اب آپ کیا ہیں، نرے احمق، اب مجھے اسی وقت وزیرِ اعظم سے ملائیں۔ ڈائرکٹر جنرل کے غیر متوقع جارہانہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا ذہن کتنا زیادہ الجھا ہوا تھا۔ وہ متذبذب تھا، وہ اپنے آپ کو سمجھ نہیں پا رہا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کس طرح کسی ایسے کی بے عزتی کر سکتا ہے، جس نے اس سے صرف ایک سوال کیا، جو وضاحت اور غایت، ہر دو پہلو سے جواز کا حامل تھا۔ مجھے معذرت کرنا ہو گی، ندامت سے اس نے سوچا، کیا معلوم کب مجھے اس کی مدد کی ضرورت پڑ جائے۔ وزیرِ اعظم کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی، کیا مسئلہ ہے، اس نے سوال کیا، جہاں تک مجھے علم ہے، میں ٹیلی وژن سے متعلق مسائل نہیں دیکھتا، یہ میرا شعبہ نہیں، اس کا ٹیلی وژن سے تعلق نہیں، وزیرِ اعظم، مجھے ایک خط ملا ہے، ہاں، انھوں نے مجھے بتایا ہے، تمھیں کوئی تحریر ملی ہے، اس کے بارے میں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو، بس سنا دو، یہ کافی ہے، اس سے کہیں بڑھ کر، آپ ہی کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے، یہ میرا شعبہ نہیں، تم پریشان لگتے ہو، جی، وزیرِ اعظم، میں سخت پریشان ہوں، یہ پراسرار خط کیا کہتا ہے، آپ کو فون پر نہیں بتا سکتا، یہ محفوظ لائن ہے، نہیں، اس کے باوجود میں نہیں بتا سکتا، کوئی اتنا محتاط نہیں ہو سکتا، چلو اسے مجھے بھیج دو، نہیں، مجھے خود اسے پہنچانا ہو گا، میں اسے کسی ہرکارے کے ذریعے بھیجنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا،ٹھیک، میں یہاں سے کسی کو بھیج سکتا ہوں، مثلاً، کیبنٹ سکرٹری، وہ مجھ سے اتنا قریب ہے جتنا کوئی ہو سکتا ہے، وزیرِ اعظم، استدعا ہے، میں آپ کو پریشان نہ کرتا اگر میرے پاس انتہائی اہم وجہ نہ ہوتی، واقعی، مجھےآپ سے ملنا ہے، لازماً، کب، ابھی، لیکن میں مصروف ہوں، وزیرِ اعظم، بِنتی ہے، ٹھیک ہے، اگر تم اصرار کرتے ہو، آؤ اور مجھے ملو، میں صرف امید کر سکتا ہوں کہ یہ سارا اسرار واقعی اہم ہو، بہت بہت شکریہ، میں پہنچتا ہوں۔ ڈائرکٹر جنرل نے فون رکھا، خط واپس لفافے میں ڈالا، اسے اپنے اوور کوٹ کی اندرونی جیبوں میں سے ایک میں ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے ہاتھوں نے لرزنا بند کر دیا تھا لیکن چہرے سے پسینا بَہ رہا تھا، اس نے رومال سے پسینا خشک کیا، پھر اپنی سکرٹری کو داخلی فون پر بتایا کہ وہ باہر جا رہا ہے اور اسے کار منگوانے کا کہا، ذمہ داری دوسرے فرد کو منتقل کرنے کی حقیقت سے اسے کچھ سکون کا احساس ہوا، آدھے گھنٹے میں اس معاملے میں اس کا کردار ختم ہو جائے گا۔ سکرٹری دروازے میں نمودار ہوئی، کار انتظار کر رہی ہے، جناب، شکریہ، میں یقین سے نہیں کَہ سکتا، مجھے کتنا وقت لگے گا، میری وزیرِ اعظم سے ملاقات ہے، لیکن یہ اطلاع صرف تمھارے لیے ہے، بے فکر رہیں، جناب، میں کسی کو نہیں بتاؤں گی، خدا حافظ، خدا حافظ، جناب، مجھے امید ہے معاملات کا رخ بہتری کی جانب ہو گا، موجودہ حالات میں، ہم نہیں جانتے، بہتری کس میں ہے، ابتری کس میں ہے، تم ٹھیک کہتی ہو، ویسے، تمھارے والد کیسے ہیں، اسی طرح، جناب، بظاہر حقیقت میں تکلیف محسوس کرتے دکھائی نہیں دیتے، وہ بس بے کار، نڈھال پڑے ہیں، گذشتہ دو ماہ سے وہ اسی کیفیت میں ہیں، اور جہاں تک معاملات کے رخ کا معاملہ ہے، مجھے تو صرف اپنی باری، ان کے ساتھ والے بستر پر پڑنے کی، کا انتظار ہے، کون جانے، ڈائرکٹر جنرل نے کہا، اور چل دیا۔

کیبنٹ سکرٹری نے دروازے پر ڈائرکٹر جنرل کا، دکھائی دیتی سرد مہری سے، استقبال کیا، پھر اس نے کہا، میں آپ کو وزیر ِاعظم کے پاس لے جاؤں گا، ایک منٹ، میں چاہتا ہوں کہ پہلے معذرت کروں، اگر ہماری گفتگو میں کوئی نرا احمق تھا تو وہ میں تھا، شاید ہم میں سے کوئی نہیں تھا، کیبنٹ سکرٹری مسکراتے ہوئے بولا، اگر آپ وہ پڑھ لیں، جو میری جیب میں ہے، آپ میری ذہنی کیفیت سمجھ جائیں گے، فکر نہ کریں، جہاں تک میرا تعلق ہے، آپ سے ناراضگی ختم، شکریہ، اب بم پھٹنے میں زیادہ وقت نہیں، پھر سب لوگ اس کے بارے میں جان جائیں گے، امید کرنی چاہیے کہ جب یہ پھٹے تو بہت شدید دھماکہ نہ ہو، دھماکہ اب تک سنے جانے والے دھماکوں سے شدید ہو گا، جب کہ چمک اب تک دیکھی جانے والی چمکوں سے زیادہ بڑھ کر ہو گی، آپ مجھے ڈرا رہے ہیں، اس موقعے پر میرے دوست، مجھے یقین ہے آپ ایک مرتبہ پھر مجھے معاف کر دیں گے، چھوڑیں، چلیں، وزیرِ اعظم انتظار کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک کمرا عبور کیا، جسے گئے دنوں میں، انتظار گاہ، کہا جاتاتھا، ایک منٹ بعد ڈائرکٹر جنرل، وزیرِ اعظم کے سامنے کھڑا تھا، جس نے مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کیا، کیا ہے، وہ زندگی اور موت کا مسئلہ، جسے تم میرے پاس لائے ہو، تمام تر احترام کے ساتھ، وزیرِ اعظم، مجھے شک ہے،اس سے زیادہ مناسب الفاظ، کبھی آپ نے کہے ہوں۔ اس نے اپنی جیب سے لفافہ نکالا اور میز کی دوسری طرف اس کی جانب بڑھایا۔ وزیرِ اعظم متذبذب تھا، اس پر کوئی پَتا نہیں ہے، نہ ہی اس فرد کا نام جس نے اسے بھیجا، ڈائرکٹر جنرل نے کہا، کچھ ایسے جیسے یہ خط سب کے نام ہے، گم نام، نہیں، وزیرِ اعظم جیسا کہ آپ پائیں گے، یہ دست خط شدہ ہے، لیکن، اسے پڑھیں، پڑھ کر تو دیکھیں، لفافہ آہستگی سے کھولا گیا، کاغذ کی تہیں صاف کی گئیں، لیکن صرف پہلی چند سطریں پڑھنے کے بعد وزیرِ اعظم نے نگاہ اٹھائی اور بولا، ضرور یہ کوئی مذاق ہے، ہاں، ہو سکتا ہے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا، یہ میری میز پر نمودار ہوا، کیسے، کسی کو پتا نہیں، یہ کوئی جواز نہیں کہ اس میں جو لکھا ہے ہم مان لیں، مہربانی فرمائیے، آگے پڑھیے۔ جب وہ خط کے اختتام تک پہنچا، وزیرِ اعظم نے بہت آہستگی سے خاموشی کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے ہوئے وہ لفظ ادا کیا، جو خط میں بطور دست خط استعمال ہوا تھا۔ اس نے خط کو نیچے میز کے او پر رکھا، دوسری جانب ڈائرکٹر جنرل کو غور سے دیکھا اور بولا، چلو فرض کریں یہ ٖصرف مذاق ہے، یہ نہیں، نہیں، میں یہ ماننے کو تیار ہوں کہ یہ نہیں ہے لیکن جب میں کہتا ہوں چلو فرض کریں، یہ صرف اس لیے ہے کہ جس وقت ہم کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے، اس میں زیادہ وقت نہیں ہے، دیکھتے ہوئے کہ اس وقت دوپہر ہے، بارہ گھنٹے ہیں، میرا نکتہ یہ ہے، اگر جو یہ خط بتاتا ہے ہونے جا رہا ہے، واقعی ہو جاتا ہے اور ہم عوام کو متنبہ نہیں کرتے، یہاں دہرایا جائے گا، صرف اس کے برعکس جو سالِ نو کے موقع پر ہوا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بھلے ہم انھیں متنبہ کریں یا متنبہ نہ کریں، وزیرِ اعظم اثر یک ساں ہو گا، لیکن ہو گا، برعکس، ہاں برعکس، لیکن یک ساں، بالکل، تو اگر ہم انھیں متنبہ کر دیں اور بعد میں پتا چلے، سب مذاق تھا، ہم عوام کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنے کے مرتکب ہوں گے، اگر چہ اس بیان کے جواز میں کہنے کو بہت کچھ ہو گا، نہیں، میں واقعی نہیں سمجھتا کہ اس کی اتنی اہمیت ہے، جب کہ آپ پہلے ہی کَہ چکے ہیں، آپ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی مذاق ہے، نہیں، میں نہیں سمجھتا، چناں چہ کیا کیا جائے، سوال یہ ہے، متنبہ کیا جائے یا متنبہ نہ کیا جائے، میرے عزیز ڈائرکٹر جنرل، لازماً، ہمیں سوچنا ہو گا، غور کرنا ہو گا، تدبیر کرنا ہو گی، معاملہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے، وزیرِ اعظم، فیصلہ آپ کو کرنا ہے، یقیناً ایسا ہہی ہے، میں یہ بھی کر سکتا ہوں، کاغذ کے اس ٹکڑے کے پرزے پرزے کر دوں، پھر انتظار کروں اور دیکھوں کہ کیا ہوتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ آپ ایسا کریں گے، تم ٹھیک کہتے ہو، میں نہیں کرنے کا، لیکن کوئی فیصلہ تو لازماً کرنا ہو گا، کہنا کہ عوام کو متنبہ کیا جائے کافی نہیں ہے، ہمیں سوچنا ہو گا کیسے، اس کام کے لیے ذرائع ابلاغ ہیں، میڈیا ہے، وزیرِ اعظم، ہمارے پاس، ٹیلی وژن ہے، اخبارات ہیں، ریڈیو ہے، تو تمھارا خیال ہے کہ سارے میڈیا کو اس خط کی ایک ایک نقل تقسیم کی جائے بشمول حکومت کی جانب سے ایک اعلامیہ کے، پر امن رہنے کی درخواست کرتے اور چند ہدایات دیتے ہوئے کہ ہنگامی حالات کے دوران کیا کرنا ہے، آپ نے اسے اس سے بہتر پیش کیا جو میں کبھی بھی کر سکتا ہوں، توصیف کا شکریہ، البتہ میں تم سے یہ ضرور کہوں گا، اب دماغ لڑاؤ اور سوچو، اگر ہم بالکل ایسا کریں تو کیا ہو گا، ہوں، میں سمجھا نہیں، وزیرِ اعظم، اوہ، میں ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن سے کچھ زیادہ توقع کر رہا تھا، اس صورت میں، آپ کی توقع پر پورا نہ اترنے پر میں معذرت خواہ ہوں، وزیرِ اعظم، یہ تو قدرتی ہے، تم ذمہ داری میں گھرے ہوئے ہو، آپ نہیں، وزیرِ اعظم، ہاں، میں بھی ہوں، البتہ میرے معاملے میں گھرے ہونے کا مطلب مفلوج ہونا نہیں، ملک کی خوش قسمتی، مکرر شکریہ، ڈائرکٹر جنرل، یہ مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ حقیقت میں ہمارے درمیان پہلے کبھی زیادہ گفتگو نہیں ہوئی، عمومی طور پر جب مجھے ٹیلی وژن کے بارے میں بات کرنا ہوتی ہے میں متعلقہ وزیر سے بات کرتا ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں، وقت آ گیا ہے کہ تمھیں ایک قومی شخصیت بنایا جائے، اب میں واقعی نہیں سمجھا، وزیرِ اعظم، سیدھی سادی بات ہے، آج رات نو بجے تک یہ بات صرف تمھارے اور میرے درمیان ہو گی، اس وقت ٹیلی وژن پر خبروں کا آغاز سرکاری اعلامیہ سے، جو وضاحت کرے گا، آج نصف شب کیا ہونے جا رہا ہے، اسی طرح خط کا خلاصہ پڑھنے سے ہو گا، ان دونوں کاموں کی ادائیگی کا ذمہ دار ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن ہو گا، اوّل، کیوں کہ خط اسے بھیجا گیا، اگرچہ وہ اس کے نام نہیں، اوردوم، کیوں کہ ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن، تمھی وہ شخص ہو، جس پر میں اعتماد کرتا ہوں، جو ہم دونوں کو اس مہم میں سرخ رو کرے گا، جس کی،اس خاتون کی جانب سے ہم پر ذمہ داری عاید کی گئی ہے، جس نے اس خط پر دست خط کیے ہیں، ایک نیوز ریڈر یہ کام بہتر کر سکتا ہے، وزیرِ اعظم، نہیں، مجھے نیوز ریڈر نہیں چاہیے، میں چاہتا ہوں، ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن، اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو میں اسے ایک اعزاز سمجھوں گا، صرف ہم دو ہیں جو جانتے ہیں، آج کی رات نصف شب کیا ہونے جا رہا ہے اور جس وقت عام لوگوں کو علم ہو گا، اس وقت تک ہم ہی رہیں گے،اگر ہم وہ کرتے جو تم نے پہلے تجویز کیا، یعنی، خبر ابھی ذرائع ابلاغ کو پہنچا دی جائے، ہمارے پاس غیر یقینیت کے، شور و غوغا کے، عوامی ہیجان کے اور کون جانے کیا کیا کے بارہ گھنٹے ہوں گے، چناں چہ، چوں کہ اس قسم کے ردِ عمل سے بچنا ہمارے بس میں نہیں ہے، میرا اشارہ حکومت کی جانب ہے، کم از کم ہم اسے تین گھنٹوں تک محدود کر سکتے ہیں، اس کے بعد یہ ہمارے بس سے باہر ہو گا، وہاں ہر نوع کے ردِ عمل ہوں گے، آنسو، مایوسی، تاسف کے پردے میں طمانیت، زندگی پر از سرِ نو فکر کی ضرورت، یہ منصوبہ ٹھیک لگتا ہے، ہاں، صرف اس لیے کہ ہمارے پاس کوئی بہتر منصوبہ نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم نے پھر سے خط اٹھایا، پڑھے بنا اس پر نظر دوڑائی اور بولا، عجیب بات ہے، دست خط کا پہلا حرف بڑا ہونا چاہیے، لیکن یہ نہیں ہے، یہ عجیب بات میں نے بھی دیکھی، نام یا اسم معرفہ کا آغاز چھوٹے حرف سے شروع کرنا خلافِ معمول ہے، تم نے اس سارے بکھیڑے میں کوئی بات معمول کے مطابق دیکھی، نہیں، واقعی نہیں، ویسے، کیا تم فوٹو کاپی کرنا جانتے ہو، جی، میں ماہر تو نہیں، لیکن چند مرتبہ کی ہے، زبردست، وزیرِ اعظم نے خط اور لفافے کو ایک فائل میں، جس میں کاغذات ٹھنسے ہوئے تھے، رکھا اور کیبنٹ سکرٹری کو بلایا، اسے کہا، وہ کمرا خالی کراؤ، جس میں فوٹو کاپیر ہے، اس کمرے میں سرکاری اہل کار کام کرتے ہیں، وزیرِ اعظم، یہ اُن کا دفتر ہے، ٹھیک ہے، اُن سے کہو کہ کہیں اور چلے جائیں، راہ داری میں انتظار کریں یا باہر جا کر سگریٹ پییں، ہمیں اس کی صرف تین منٹ کے لیے ضرورت ہے، یہ کافی ہیں، ڈائرکٹر جنرل، اتنے بھی نہیں، وزیرِ اعظم، دیکھیں، میں مکمل راز داری سے فوٹو کاپی کر سکتا ہوں، جو، جیسا کہ میں سمجھا ہوں، آپ چاہتے ہیں، کیبنٹ سکرٹری نے کہا، بالکل، ہم یہی چاہتے ہیں، سکرٹری، لیکن، اس مرتبہ یہ کام میں خود کروں گا، ہم کَہ سکتے ہیں، ڈائرکٹر جنرل کی تکنیکی معاونت سے، یقیناً، وزیرِ اعظم، میں کمرا خالی کرنے کا کَہ دیتا ہوں۔ چند منٹوں میں وہ واپس آیا، کمرا خالی ہے، وزیرِ اعظم، اب اگر مجھے اجازت ہو، میں اپنے دفتر جاؤں گا، مجھے خوشی ہے کہ مجھے تمھیں ایسا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، ہاں، مہربانی کرتے ہوئےہماری جانب سے اس بظاہر سازشی کارروائی سے علاحدہ کیے جانے پر ناراض نہ ہونا، آج بعد میں تم اس احتیاط کا سبب جان جاؤ گے اور تمھیں میرے بتانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، یقناً، وزیرِ اعظم، مجھے آپ کے محرکات کی حکمت پر کبھی شبہ نہ ہو گا، یہ ہے جذبہ، میرے دوست۔ جب کیبنٹ سکرٹری چلا گیا، وزیرِ اعظم نے فائل اٹھائی اور کہا، ٹھیک ہے، ہمیں چلنا چاہیے۔ کمرا خالی تھا۔ ایک منٹ کے اندر، فوٹو کاپی تیار تھی، حرف بہ حرف، لفظ بہ لفظ، لیکن یہ مختلف تھی، اس میں بنفشی کاغذ کی سنسی خیز سطح مفقود تھی، اب یہ صرف ایک عام رسمی خط تھا، اسی طرح کا جو شروع ہوتا ہے، میں امید کرتا ہوں یہ تحریر آپ کو پائے گی خیریت سے، خوشیوں میں، اپنے اہلِ خانہ کے درمیان، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں یقیناً شکوہ نہیں کر سکتا۔ وزیرِ اعظم نے نقل ڈائرکٹر جنرل کو تھمائی، تم یہ لو، اصل میں رکھوں گا، اس نے کہا، حکومتی اعلامیہ، وہ مجھے کب ملے گا، بیٹھ جاؤ، میں تمھیں لکھوا دیتا ہوں، اس میں وقت نہیں لگے گا، یہ بالکل سادہ ہے، عزیز ہم وطنو، حکومت سمجھتی ہے، اس کا یہ فرض ہے کہ ملک کو ایک خط کے بارے میں مطلع کرے، جو اس کے ہاتھوں میں آج ہی پہنچا ہے، ایک خط جس کی معنویت اور اہمیت میں اضافہ ممکن نہیں، اگرچہ ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ اس کی حقیقت کی تصدیق کریں اور لازماً تسلیم کریں، اس کے پیغام کا تجزیہ کیے بنا اس کا امکان ہےکہ دستاویز میں جو بیان کیا گیا ہے شاید واقع نہ ہو، تاہم، اس مقصد سے کہ عوام ذہنی طور پراس صورتِ حال کے لیے، جو تناؤ اوربحران کے بغیر نہیں ہو گی، تیار رہیں، اب حکومت کی رضا مندی کے ساتھ، ڈائرکٹر جنرل ٹیلی وژن کی زبانی خط پڑھا جائے گا، ایک بات بیشتر اس کے کہ ہم سمیٹیں، یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان گھڑیوں میں حکومت ہمیشہ کی مانند عوام کے مفادات اور ضروریات کی خاطر مستقل تیار ہے گی، جو جس وقت سے ہم عوام اور قوم ہیں اور جن کا ہمیں تجربہ ہوا ہےمیں سے لا ریب مشکل ترین ہوں گے، اور یہی سبب ہے کہ ہم آپ سب سے درخواست کرتے ہیں کہ امن اور سکون کو برقرار رکھیں، جس کا آپ نے پہلے بھی کئی مرتبہ ابتلاؤں اور آزمائشوں کے دوران،جن کا ہم سال کے آغاز سے نشانہ ہیں، مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی، ہم یقین رکھتے ہیں، ایک مزید بہتر مستقبل ہم پر امن اور مسرتیں بحال کر دے گا، جس کے ہم مستحق ہیں اور جس سے ہم پہلے بھی مستفید ہو چکے ہیں، عزیز ہم وطنو، یاد رکھو، ہم متحد کھڑے ہیں، یہ ہے ہمارا رہ نما اصول، ہمارا نگہ بان قول، اگر ہم متحد رہے، مستقبل ہمارا ہے، یہ تیار ہے، یہ سرکاری اعلامیے کسی بڑی تخیلاتی کاوش کا مطالبہ نہیں کرتے، جیسا کہ تم نے دیکھا، تم کَہ سکتے ہو، یہ خود کو لگ بھگ خود ہی لکھتے ہیں،یہاں ایک ٹائپ رائیٹر وہاں پڑا ہے، اعلامیے کی ایک کاپی ٹائپ کرو، اسے آج رات نو بجے تک سنبھال کر رکھنا، ایک لمحے کے لیے اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینا، بے فکر رہیے، وزیرِ اعظم، مجھے اپنی اس وقت کی ذمے داریوں کا پورا احساس ہے، مجھے یقین ہے آپ کو مایوسی نہیں ہو گی، بہت خوب، اب تم کام پر واپس جا سکتے ہو، میں جانے سے پہلے آپ سے دو سوال کر سکتا ہوں، بالکل ضرور، آپ نے فرمایا، آج رات نو بجے تک صرف دو آدمی اس معاملے سے آگاہ ہوں گے، ہاں، تم اور میں،کوئی تیسرانہیں، حکومت بھی نہیں،اور شاہِ معظم، مجھے معاف کیجیے اگر میں وہاں مداخلت کر رہا ہوں جہاں میرا کام نہیں، شاہِ معظم اس وقت جانیں گے، جب باقی سب جانیں گے، ایسا ہو گا، اگر وہ ٹیلی وژن دیکھ رہے ہوئے، لیکن وہ نہیں ہوں گے، میرا خیال ہے، خوش ہوں گے کہ پہلے نہیں بتایا، فکر نہ کرو، ایک زبردست خوبی جس میں تمام بادشاہ شریک ہیں، میرا اشارہ یقیناً، آئینی فرماں رواؤں کی جانب ہے، انھیں سمجھنا غیر معمولی آسان ہے، اچھا، اور تمھارا وہ دوسرا سوال، درحقیقت یہ کوئی سوال نہیں ہے، پھر یہ کیا ہے، بغیر کسی تکلف کے، صرف اتنا کہنا ہے، مجھے آپ کے پر سکون رہنے پر حیرت ہے، وزیرِ اعظم، میرا خیال ہے، آج رات ملک میں جو ہونے جا رہا ہے،وہ ایک ایسی ناگہانی آفت، معاشرتی تباہی ہے، جس کی کوئی مثال نہ ہو، ایک نوع کی قیامت، لیکن جب آپ کو دیکھتا ہوں، ایسے لگتا ہے جیسے آپ روزمرہ کا کوئی سرکاری معاملہ نمٹا رہے ہیں، آپ نے اطمینان سے احکامات دیے، کچھ دیر پہلے تو مجھے یہ بھی محسوس ہوا، جیسے آپ مسکرائے ہیں، اگر تمھیں علم ہوتا، یہ خط، میرے انگلی ہلائے بنا، میرے کتنے مسائل حل کرے گا، مجھے یقین ہے تم بھی مسکرا دیتے، ڈائرکٹر جنرل، اب مجھے اپنا کام کرنے دو، مجھے کچھ احکامات جاری کرنے ہیں، مجھے وزیرِ داخلہ کو بتانا ہو گا، پولیس کو انتہائی چوکس کر دیا جائے، مجھے کوئی معقول جواز گھڑنا ہو گا، نقصِ امن کی کسی کارروائی کا اندیشہ، وہ ایسا آدمی نہیں، جو سوچنےمیں وقت ضائع کرتا ہو، وہ عمل کو ترجیح دیتا ہے، اسے کرنے کو کچھ دو، وہ خوش ہے، وزیرِ اعظم، کیا میں اتنا کَہ سکتا ہوں، میری خوش نصیبی کہ یہ فیصلہ کن گھڑیاں آپ کی معیت میں گزریں، بالکل،مجھے خوشی ہے، تم نے اسے اس طرح دیکھا، لیکن تم یقین کر سکتے ہو کہ تم فوراً اپنی سوچ بدل لو گے، اگر کبھی اس کا ایک لفظ، جو اس دفتر میں کہا گیا، میری یا تمھاری جانب سے، اِن چار دیواروں سے باہر کسی کےکانوں میں پہنچا، بالکل، میں سمجھتا ہوں، مثال کے طور پر آئینی فرماں روا کے کانوں میں پہنچا، جی، وزیرِ اعظم۔

لگ بھگ آٹھ بج کر تیس منٹ تھے جب ڈائرکٹر جنرل نے اس آدمی کو، جو ٹیلی وژن کے شعبہ خبر کا انچارج تھا، اپنے دفتر میں بلایا، یہ بتانے کے لیے کہ آج رات پروگرام کا آغاز حکومت کی جانب سے بحیثیت مجموعی پورے ملک کے نام پیغام سے ہو گا، جسے معمول کے مطابق ڈیوٹی پر موجود نیوز ریڈر پڑھے گا، اس کےبعد ڈائرکٹر جنرل خود ایک دستاویز پڑھے گا جو پہلے پیغام کی تکمیل کرے گی۔ اگر پروڈیوسر نے اس طریق کار کو عجیب، خلافِ معمول اور مروج طریقے سے ہٹ کر پایا، اس نے اس کا اظہار نہ کیا، فقط اتنا کہا کہ اسے دونوں دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ انھیں لوحِ معاون teleprompter، یعنی اس زبردست آلے پر رکھا جائے، جو ایسا شان دار التباسِ نظر پیدا کرتا ہے کہ بولنے والا ناظرین میں سے ہر فرد سےبراہ راست اور انفرادی طور پر مخاطب لگتا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل نے جواب دیا، اس معاملے میں لوحِ معاون استعمال نہیں کی جائے گی،ہم انھیں سیدھے سادے انداز میں پڑھیں گے، جیسے لوگ پڑھتے ہیں،اس نےمزید یہ کہا کہ وہ ٹھیک نو بجنے میں پانچ منٹ پر سٹوڈیو میں داخل ہو گا اور اسی وقت وہ حکومتی مراسلہ نیوز ریڈر کو دے گا، جسے سختی سے ہدایت کی جائے گی کہ وہ صرف اسی وقت اس فائل کو، جس میں یہ ہے، کھولے گا جب وہ پڑھنا شروع کرے گا۔ پروڈیوسر نے سوچا اب واقعی جواز ہے کہ معاملے میں کچھ دل چسپی ظاہر کی جائے، یہ اتنا اہم ہے، اس نے سوال کیا، تمھیں آدھے گھنٹے میں پَتا چل جائے گا، اور پرچم، جناب، کیا آپ نشست کے عقب میں پرچم رکھا جانا پسند کریں گے، نہیں، کوئی پرچم نہیں، بہر حال، نہ تو میں وزیرِ اعظم ہوں نہ ہی کوئی وزیر، نہ ہی بادشاہ، پروڈیوسر نے خوشامدانہ مسکراہٹ سے کہا، جیسے کَہ رہا ہو، وہ بادشاہ ہے، ٹیلی وژن کا بادشاہ۔ ڈائرکٹر جنرل نے اسے نظر انداز کیا، اب تم جا سکتے ہو، بیس منٹ بعد میں سٹوڈیو میں ہوں گا، میک اپ کے لیے وقت نہیں بچے گا، میں کوئی میک اپ نہیں چاہتا، جو مجھے پڑھنا ہے بہت مختصر ہے، اور ناظرین کے ذہنوں میں اس وقت، بجائے اس کے کہ میں نے میک اپ کیا ہے یا نہیں، بہت سی دوسری سوچیں ہوں گی، بالکل درست، جناب، جیسے آپ کی مرضی، لیکن خیال رہے کہ میرے چہرے پر بہت زیادہ روشنیاں نہ پڑیں، میں نہیں چاہتا،خصوصاً آج کی رات، میں سکرین پر ایسے دکھائی دوں جیسے کسی کو اسی وقت کھود کر اس کی قبر سے نکالا گیا ہو۔ نو بجنے میں پانچ منٹ پر ڈائرکٹر جنرل سٹوڈیو میں داخل ہوا، نیوز ریڈر کے حوالے وہ فائل کی جس میں حکومتی مراسلہ تھا اور جا کر اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا۔ خبروں کی عدیم المثال نوعیت سے، جیسا کہ گمان کیا جا سکتا ہے، تیزی سے پھیلنے والے تجسس کے نتیجے میں سٹوڈیو میں معمول سے زیادہ لوگ تھے۔ پروڈیوسر نے خاموشی کا اشارہ کیا۔ ٹھیک نو بجے، جانی پہچانی شناختی دھن کے ساتھ، اہم خبروں کی جھلکیاں نمودار ہونے لگیں، متنوع شبیہوں کا تیزی سے بدلتا تسسلسل تاکہ ناظر کو قائل کرے کہ ٹیلی وژن سٹیشن دن کے چوبیس گھنٹے، جیسا کہ ذاتِ خداوندی کے بارے میں کہا جاتا ہے، ہر جگہ سے بھیجی گئی، دن کی خبر، ہر جگہ، اُن کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔ جیسے ہی نیوز ریڈر نے حکومتی مراسلہ پڑھنا ختم کیا، دوسرا کیمرا ڈائرکٹر جنرل کو سکرین پر لایا۔ وہ واضح طور پر ہراساں تھا، اس کا منہ خشک تھا، اس نے کھنگار کر اپنا گلا صاف کیا اورپڑھنا شروع کیا، محترم جناب، میں آپ کو اور جن کا اِس سے تعلق ہے، اُن سب کو مطلع کرنا چاہتی ہوں، آج نصف شب سے لوگ پھر سے مرنا شروع کر دیں گے، جیسا کہ ہمیشہ سے، تھوڑے سے احتجاج کے ساتھ، وقت کے آغاز سے،گزشتہ سال دسمبر کے اکتیس تاریخ تک ہوتا آیا تھا، میں وہ اسباب بیان کروں گی، جنھوں نے مجھے اپنی سرگرمیاں روکنے پر آمادہ کیا، مارنا بند کرنا اور علامتی آنکڑے کو، جو میرے ہاتھوں میں قدیم زمانوں سے تخیل پرست مصوروں اور نقاشوں نے تھمایا ہے، ایک طرف رکھنا، اس لیے تھا کہ ان لوگوں کو تھوڑا سا مزا چکھایا جائے، جو مجھ سے شدید نفرت کرتے ہیں، انھیں سمجھایا جائے ہمیشہ کی، دوام کی زندگی کے معانی کیا ہیں، اگر چہ، میرے اور آپ کے درمیان ہے، جناب، مجھے تسلیم کرنا ہو گا، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ کیا واقعی ہمیشہ اور دوام، یہ دو لفظ اتنے ہی ہی ہم معانی ہیں جتنے عموماً سمجھے جاتے ہیں، بہر حال، چند ماہ کے اس دورانیے کے بعد، جسے ہم برداشت کی آزمائش یا معمولی سا اضافی وقت کَہ سکتے ہیں، ذہن میں تجربے کے افسوس ناک نتائج رکھتے ہوئے، اخلاقی نقطۂ نظر، جو ہے، فلسفیانہ، اور نتائجی نقطۂ نظر، جو ہے، معاشرتی، ہر دو پہلو سے میں سمجھتی ہوں کہ خاندانوں کے اور معاشرے کے لیے مجموعی طور پر، ہر دو عمودی اور افقی پہلو سے، یہی بہتر ہو گا کہ میں کھلے بندوں اپنی غلطی کا اعتراف کروں اور معمول کی جانب فوری واپسی کا اعلان کروں، جس کا مطلب ہے، تمام وہ لوگ جنھیں مرا ہونا تھا، لیکن جو اس کے باوجود، صحت کے ساتھ یا اس کے بغیر، اس دنیا میں موجود رہے، کی زندگی کی شمع آج نصف شب کے گھنٹے کی آخری ضرب کی گونج ہوا میں تحلیل ہونے پر بجھ جائے گی، مہربانی فرماتے ہوئے یاد رکھیں، آخری ضرب کا حوالہ صرف علامتی ہے، صرف اس لیے کہ کسی فرد کو یہ احمقانہ خیال نہ سوجھےکہ تمام گھنٹہ گھروں کی گھڑیوں کو بند کر دیا جائے، یا گھنٹوں سے لٹکن نکال دی جائیں، سمجھتے ہوئے کہ یہ وقت کو روک دے گا اور انسانوں کے دلوں میں عظیم خوف کی بحالی کے میرے ناقابلِ واپسی فیصلے کو واپس لوٹا دے گا، سٹوڈیو میں موجود اکثر افراد اس وقت تک غائب ہو چکے تھے، جو بچے تھے، ایک دوسرے سے کھسر پھسر کر رہے تھے، ان کی سرگوشیوں کی بھنبھناہٹ پروڈیوسر کو، جو خود حیرت سے منہ کھولے کھڑا تھا، غصّہ دلانے میں ناکام تھی کہ انھیں اپنی جھنجھلاہٹ کے تاثرات کے ساتھ خاموش کرائے، جن کا وہ عموماً اس کے کہیں کم ڈرامائی حالات میں اظہار کرتا تھا،چناں چہ، خود سے دست بردار ہو جائیں اور احتجاج کیے بنا مر جائیں کیوں کہ اس سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا، تاہم، یہاں ایک نقطہ ہےجسے غلط تسلیم کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں، یہ تھا، وہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ طریق، جو میں نے اختیار کیا، خفیہ طور پر لوگوں کی زندگیاں لینا، پیشگی اطلاع کے بغیر، اتنی بھی نہیں کہ خدا حافظ کَہ سکیں، میں سمجھتی ہوں کہ صریح ظلم تھا، اکثر میں انھیں اتنی مہلت بھی نہ دیتی کہ وصیت لکھ لیں، اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ راہ ہم وار کرنے کی خاطر زیادہ تر میں انھیں کوئی بیماری بھیجتی ہوں، لیکن بیماری کے بارے میں یہ بات عجیب ہے کہ انسان ہمیشہ یہ امید کرتے ہیں کہ اس سے پیچھا چھڑا لیں گے، وہ صرف اس وقت اس امر کا ادراک کرتے ہیں، یہ ان کی آخری بیماری ہے، جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، بہر حال، آئندہ ہر شخص پیشگی اطلاع وصول کرے گا، اسے ایک ہفتہ دیا جائے گا، اپنی زندگی کے باقی ماندہ معاملات سمیٹ لے، وصیت تیار کر لے، اپنے اہلِ خانہ کو خدا حافظ کہ لے، غلطیوں کی معافی مانگ سکے، اس رشتہ دار سے صلح کر سکے، جس سے وہ گزشتہ بیس سال سے نہیں بولا، پھر یہ لکھا، میں یہی چاہوں گی، ڈائریکٹر جنرل، آپ یقینی بنائیں، اس دھرتی کا ہر گھر ہر قیمت پر آج یہ پیغام وصول کر لے، جس پر میں اس نام سے دست خط کر رہی ہوں جس سے میں بالعموم جانی جاتی ہوں، موت۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی شبیہ سکرین سے غائب ہو گئی ہے، ڈائرکٹر جنرل اپنی نشست سے اٹھا،خط کو تَہ کیا اور اپنی جیکٹ کی اندرونی جیبوں میں سے ایک میں رکھ لیا۔ اس نے بوکھلائے ہوئے زرد چہرے والے پروڈیوسر کو اپنی جانب آتے دیکھا، تو یہ ہے، بمشکل سنائی دینے والی آواز میں وہ بڑبڑایا، تو یہ ہے۔ ڈائرکٹر جنرل نے خاموشی سے سر ہلایا اور باہر کا رخ کیا۔ اس نے وہ الفاظ نہ سنے، جو ہکلاتا ہوا نیوز ریڈر کَہ رہا تھا، ابھی آپ سن رہے تھے، بعد میں سنائی جانے والی خبروں کی کوئی اہمیت نہیں تھی، ملک بھر میں کوئی شخص ان پر ذرہ برابر توجہ نہیں دے رہا تھا، اُن گھروں میں جہاں کوئی شدید بیمار پڑا تھا، افرادِ خانہ اٹھے اور بسترِ مرگ کے گرد جمع ہو گئے، لیکن اس کے باوجود مرتے ہوئے آدمی کو بتا نہ پائے کہ تین گھنٹوں میں وہ مر جائے گا، وہ اسے بتا نہ سکے، بچے ہوئے وقت کا استعمال کرتے ہوئے وصیت لکھ لے، جسے لکھنے سے وہ ہمیشہ انکاری رہا تھا، یا دریافت کر سکیں، وہ اپنے چچا زاد کو فون کرنا اور اس سے ناراضگی دور کرنا پسند کرے گا، نہ ہی وہ منافقانہ چلن پر چلتے ہوئے دریافت کر سکے، وہ کوئی افاقہ محسوس کر رہا ہے، وہ تو بس کھڑے بے رنگ، نحیف چہرے کو، پھر کن انکھیوں سے گھڑی کو تکتے رہے، وہ منتظر رہے، وقت گزرے، دنیا کی گاڑی واپس اپنی پٹڑی پر چڑھے اور اپنا معمول کا سفر شروع کرے۔ بہت سے خاندانوں نے جو قابلِ افسوس باقیات لے جانے کے لیے ماپیا کو ادائیگی کر چکے تھے اور گمان کر رہے تھے کہ وہ خرچ ہونے والی رقم کو نہیں روئیں گے، اب دیکھا کہ وہ تھوڑی سے مزید ہم دردی اور برداشت دکھاتے تو اس سے مفت میں چھٹکارا حاصل کر سکتے تھے۔ گلیوں میں دردناک مناظر تھے، لوگ حیران، پریشان، گم سم بت بنے کھڑے تھے، سمجھ نہیں آتا تھا کدھر جائیں، کچھ بے قراری سے رو دیے، دسرے یوں گلے ملے جیسے انھوں نے اسی جگہ سے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا ہو، جب کہ باقیوں نے بحث شروع کر دی، کیا اس تمام صورتِ حال کا الزام حکومت پر ہے، میڈیکل سائنس پر ہے، یا پاپائے روم پر ہے، ایک متشکک نے اعتراض کیا، ماضی میں موت کی جانب سے خط لکھے جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس لیے فوری طور پر اسے کسی ماہرِ تحریر کے پاس بھیجا جائے، اس کا کہنا تھا، صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ کبھی اس قابل نہیں ہوتا کہ دوڑتے لہو، وریدوں، اعصابی بافتوں، نسیجوں اور گوشت پوست سمیت ایک مکمل حقیقی ہاتھ کی مانند لکھ سکے، علاوہ ازیں، جیسا کہ ظاہر ہے، ہڈیاں کاغذ پر انگلیوں کا کوئی نشان نہیں چھوڑتیں، جس کا مطلب یہ ہوا، وہ اس قابل نہیں ہوں گے کہ اس طرح خط لکھنے والے کی شناخت کر سکیں، شاید ڈی،این،اے ٹسٹ کسی ہستی، اگر موت کوئی ہستی ہے، کے اس غیر متوقع خط کے ظہور پر کچھ روشنی ڈال سکے، جو اپنی تمام زندگی، اس وقت تک، خاموش رہی ہے۔ اس وقت وزیرِ اعظم فون پر شاہِ معظم سے ٹیلی فون پر یہ وضاحت کر رہا ہے کہ کیوں اس نے انھیں خط کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ کیا، بادشاہ کہتا ہے، ہاں، وہ اچھی طرح سمجھتا ہے، پھر وزیرِ اعظم اسے بتاتا ہے، اسے اس انجام پر شدید دکھ ہے، جو نصف شب کا آخری لمحہ مادر ملکہ کے ماندہ وجود کے لیے لائے گا، تس پر بادشاہ نے کندھے اچکائے، اس طرح کی زندگی قطعاً کوئی زندگی نہیں، آج وہ ہیں، کل میں ہوں گا،خصوصاً، اب جب تاج کا وارث بے صبری کا مظاہرہ کر رہا اور سوال کر رہا ہے، آئینی سربراہ بننے کی اس کی باری کب آئے گی۔ خلافِ معمول پر خلوص لمحات کی حامل اس نجی گفتگو کے بعدوزیرِ اعظم نے کیبنٹ سکرٹری کو حکم دیا، تمام ارکانِ حکومت کو ایک ہنگامی اجلاس کی اطلاع دے، میں ٹھیک پنتالیس منٹ بعد، جب سوئی دس پر ہو، انھیں یہاں دیکھنا چاہتا ہوں، اس نے کہا، ہمیں حفاظتی اقدامات سے متعلق مشورہ، فیصلہ اور بندوبست کرنا ہو گا، تا کہ ممکنہ غیر یقینیت اور بد امنی کم سے کم ہو، لامحالہ، جنھیں آنے والے چند دنوں میں نئی صورت حال پیدا کرے گی،کیا آپ مرنے والوں کی تعداد کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، جنھیں انتہائی مختصر وقت میں ٹھکانے لگانا ہو گا، وزیرِ اعظم، ہمارے مسائل کا وہ معمولی سا جزو ہے، میرے دوست، اس نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے تکفین و تدفین کے ناظمین موجود ہیں، علاوہ ازیں، اُن کے نزدیک بحران ختم ہو گیا ہے، وہ یقیناً بہت خوش ہوں گے، جمع تفریق کر رہے ہوں گےکہ وہ کتنی رقم کمانے جا رہے ہیں،چناں چہ انھیں مردے دفنانے دو، کیوں کہ یہ انھی کا کام ہے، ہمیں جو کرنا ہے، وہ زندوں سے نمٹنا ہے، بطور مثال، نفسیاتی معالجین کی ٹیمیں تیار کرنا، جو لوگوں کی مرنے کی دہشت سے عہدہ برا ہونے میں مدد کریں، کیوں کہ وہ یقین کر چکے تھے، انھوں نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے، ہاں، خود میں نے بھی اس بارے غور کیا تھا اور یہ بہت مشکل ہو گا، مزید وقت ضائع نہ کرو، تمام وزیروں کو بتا دو کہ متعلقہ سکرٹریوں کو اپنے ہم راہ لائیں، میں چاہتا ہوں کہ ٹھیک دس بجے وہ یہاں ہوں۔ اگر کوئی پوچھتا ہے تو اُن میں سے ہر ایک کو یہی کہو، وہ سب سے پہلا ہے جسےبلایا کیا گیا ہے، یہ سب چھوٹے بچوں کی مانند ہیں جنھیں اپنے لیے ٹافیاں چاہئیں۔ فون کی گھنٹی بجی، یہ وزیرِ داخلہ تھا، وزیرِ اعظم، مجھے تمام اخبارات سے فون آ رہے ہیں، وہ بولا، وہ اس خط کے دکھائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ابھی موت کے نام سے ٹیلی وژن پر سنایا گیا ہے، افسوس، جس کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں، افسوس کی کوئی ضرورت نہیں، اسے خفیہ رکھنے کا فیصلہ میں نے اس لیے کیا تھا، تا کہ ہمیں بارہ گھنٹے تک بے یقینی اور ہیجان کا سامنا نہ کرنا پڑے، پھر مجھے کیا کرنا ہے، اس بارے میں فکر نہ کرو، اس وقت میرے دفتر سے تمام میڈیا میں یہ خط تقسیم ہونے لگا ہے، زبردست، وزیرِ اعظم، کابینہ ٹھیک دس بجے اکٹھی ہو گی، اپنے سکرٹری کو ساتھ لانا، انڈر سکرٹری بھی، نہیں، اسے گھر کی نگرانی کے لیے رہنے دو، میں نے یہ کہاوت اکثر سنی ہے، زیادہ باورچی مل جائیں تو کھانے کا ستیاناس کر دیتے ہیں، جی، وزیرِ اعظم،وقت کا خیال رکھنا، اجلاس دس بج کر ایک منٹ پر شروع ہو جائے گا، پہنچنے والوں میں ہم پہلے ہوں گے، وزیرِ اعظم، تب تو یقینی طور پر تم اپنا تمغا حاصل کر لو گے، یہ کون سا تمغا ہے، یہ صرف مذاق تھا، کوئی توجہ نہ دو۔

عین اسی وقت، منتظمینِ تکفین و تدفین، چوبیس گھنتے تدفین، کریا کرم، جنازے کا انتظام کرنے والوں کے نمائندےاجلاس کے لیے تنظیم کے صدر دفتر جا رہے تھے۔ پہلے کبھی پیش نہ آنے والے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، جو ملک بھر میں ہزارہا افراد کی بَیک وقت موت اور بعد ازاں جنازوں کی ترسیل کا زبردست ہجوم اپنے ہم راہ لائے گا، صرف ایک حقیقی حل، جو اخراجات میں معقول کمی کی عنایت سے زبردست منافع کی یقین دہانی بھی کراتا ہے، یہی ہو گا کہ وہ ہم آہنگی اور قرینے کے ساتھ ساجھے داری کریں، شرکا کا کیک میں حصّہ طے کرتے ہوئے، جسے وہ حاصل کر سکتے ہیں، اگر تمام عملہ اور تکنیکی ذرائع، دوسرے لفظوں میں نقل و حمل ان کی صوابدید پر ہو، جب تنظیم کے صدر نےاحتیاط کو اشتعال دلاتے ہوئے رال ٹپکا کر پیش کیا، لیکن دوسرے ممبران کی جانب سے پر مسرت ستائش تھی۔ انھیں ذہن میں رکھنا ہو گا، بطور مثال، انسانوں کے لیے کفنوں، تابوتوں،صندقچوں، ریڑھیوں اور آرائشی سٹینڈوں کی تیار کیے جانے کا کام اسی دن بند ہو گیا تھا، جس دن انسانوں نے مرنا بند کیا، اگر غیر متوقع طور پر کسی روایتی سوچ کے بڑھئی کی دکان میں کچھ سٹاک بچا ہو گا، یہ مالبری کے پھولوں کی کیاری کی مانند ہو گا، جو ایک مرتبہ کھل کر گلاب بن جائے، ایک صبح سے زیادہ نہیں رہ پاتی۔ یہ ادبی حوالہ صدر کی جانب سے آیا، جس نے کسی حد تک موذ خراب کرنے کی بات جاری رکھی، اس کے باوجود سامعین کے جانب سے ستائشی تحسین تھی، کم از کم ہمیں مزید کتے، بلیاں، ننھے کنیاری دفن کرنے کی ذلت برداشت نہیں کرنی پڑے گی، اور طوطے، عقب سے آواز آئی، بالکل، طوطے، صدر نے اتفاق کیا، اور استوائی مچھلی، ایک اور آواز نے اضافہ کیا، یہ صرف رنگین مچھلی گھر کے پانی پر لہراتی روح کے پیدا کردہ تنازعے کا اثر تھا، روداد نویس سکرٹری نے کہا، اب سے وہ بلیوں کے آگے ڈالی جائیں گی، کیوں کہ جیسا لاوُوزی کا کہنا ہے، فطرت میں، نہ کچھ تخلیق ہوتا ہے، نہ ہی کچھ ختم ہوتا ہے، سب کچھ منتقل ہوتا ہے۔ ہم کبھی نہ جان سکے، اس تاریخی موقع پر تکفین و تدفین کرنے والے کس حد تک فراست کا مظاہرہ کرتے، کیوں کہ ان کے ایک نمائندے نے اپنی گھڑی کے مطابق نصف شب میں پندرہ منٹ پر وقت کے بارے میں فکرمند ہوتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا، تاکہ بڑھئیوں کی انجمن کو فون کرنے کی تجویز دے، ان سے دریافت کیا جائےان کے پاس کتنے تابوت ہیں، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کل سے کتنی فراہمی کی توقع کر سکتے ہیں، اس نے بات سمیٹی۔ جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اس تجویز کو گرم جوشی سے سراہا گیا، لیکن صدر نے بمشکل اپنی جھنجھلاہٹ چھپاتے ہوئے تبصرہ کیا، کیوں کہ یہ تجویز اسے نہیں سوجھی تھی، غالباً اس وقت وہاں کوئی نہیں ہو گا، مجھے اجازت دیجیے،میں اختلاف کر سکوں، صدر صاحب، وہ اسباب جنھوں نے ہمیں یہاں اکٹھا کیا ہے لازماً ان سے بھی یہی کچھ کروا رہے ہوں گے۔ تجویز کنندہ ٹھیک کہتا تھا۔ بڑھئیوں کی انجمن نے جواب دیا، جوں ہی انھوں نے موت کا پڑھا جانے والا خط سنا، انھیں جتنی جلد ممکن ہو دوبارہ تابوتوں کی تیاری شروع کرنے کی ضرورت واضح کرتے ہوئے انھوں نے اپنے متعلقہ ممبران کو مطلع کر دیا ہے، اس دوران آنے والی تمام اطلاعات کے مطابق، صرف یہی نہیں کہ بہت سے اداروں نے فوری طور پر اپنے کاری گروں کو بلا لیا تھا بلکہ بہت سے پہلے ہی کام میں جت چکے تھے۔ یہ یقیناً اوقاتِ کار کے قوانین کے برعکس ہے، انجمن کے ترجمان نے کہا، لیکن ہنگامی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہمارے وکیلوں کو یقین ہے، حکومت کے پاس اپنی آنکھیں بند رکھنے کے علاوہ کوئی راہ نہیں ہو گی، صرف یہی نہیں بلکہ ہماری شکر گزار بھی ہو گی، البتہ، اِس کی ہم ضمانت نہیں دے سکتے، پہلے مرحلے میں، یہ ہے کہ فراہم کیے جانے والے تابوت اس اعلا معیار اور نفاست کے حامل نہیں ہوں گےجس کے ہمارے گاہک عادی ہو چکے تھے، پالش، وارنش اور ڈھکن پر صلیب گودنا، دوسرے مرحلے کے لیے چھوڑنا پڑے گا، جب جنازوں کا دباؤ کم ہونا شروع ہو جائے گا، تاہم، اس کے باوجود، ہمیں اس عمل کا بنیادی حصّہ ہونے کی ذمہ داری کا احساس ہے۔ تکفین و تدفین کرنے والوں کے نمائندگان کے اس مجمعے میں مزید پرجوش تالیاں تھیں، کیوں کہ اب واقعی ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا جواز تھا، کوئی کھیپ دفن کیے بنا نہیں رہے گی، کوئی کام ادائیگی کیے بنا نہیں رہے گا۔ اور گورکنوں کا کیا، اس آدمی نے سوال کیا، جس نے تجویز دی تھی، گورکن کریں گے جیسا انھیں کہا گیا ہے، صدر نے جھنجھلاتے ہوئے جواب دیا۔ یہ درست نہیں تھا۔ ایک اور فون نے منکشف کیا کہ گورکن معاوضوں میں بھاری اضافے کا، نیز کسی اضافی وقت کا معاوضہ جاری معاوضےکا تین گناکیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوکل کونسلوں کا مسئلہ ہے، صدر نے کہا، انھیں خود یہ مسئلہ حل کرنے دیں۔ اگر ہم قبرستان پہنچیں، وہاں قبر کھودنے والا کوئی نہ ہو، کیا کیا جائے گا، سکرٹری نے سوال کیا۔ بحث شدید ہو گئی، تیئیس بج کر پچاس منٹ پر صدر کو دل کا دورہ پڑا۔ نصف شب کو آخری گھنٹی بجتے ہی وہ مر گیا۔

8

یہ بہت بڑے پیمانے پر کی جانے والی کسی اجتماعی قربانی سے بہت بڑھ کر تھا۔ سات مہینوں کے دوران، جب یک طرفہ طور پر موت کی موقوفی جاری رہی، مرنے کے مرحلے پر پڑے ساٹھ ہزار سے زیادہ، یا معین طور پر باسٹھ ہزار پانچ سو اسی منتظرین کی فہرست تیار ہوئی، سب ایک لمحے میں ٹھنڈے ہو گئے، وقت کا مختصر ترین وقفہ، جو اتنی تباہ کن قوت کا حامل تھا کہ صرف گنے چنے قابلِ مذمت انسانی جرائم سے ہی اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ، ہم سمجھتے ہیں، ہمیں لازماً تسلیم کرنا چاہیے، موت نے کسی بیرونی اعانت کے بغیر اپنے طور پر تنہا اس سے کہیں کم مارے ہیں، جتنے بنی نوع انسان نے مارے ہیں۔ کوئی متجسس ذہن والی شخصیت شاید حیران ہو رہی ہو، کس طرح ہم باسٹھ ہزار پانچ سو اسی افراد کی معین تعداد تک پہنچے،جنھوں نے بَیک وقت، ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ بہت آسان ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ جس ملک میں یہ سب ہو رہا ہے، کم و بیش ایک کروڑ باسی بستے ہیں، جب کہ موت کی شرح کم و بیش فی ہزار، دس ہے، کہنے کی ضرورت نہیں، دو سادہ بنیادی حسابی عمل، ضرب، تقسیم اور حاصل نکالنا، اسی طرح ماہانہ اور سالانہ شرح نے ہمیں راستہ دیا کہ اس عددی مقدار تک پہنچیں جس میں یہ تعداد ایک معقول اوسط لگتی ہے، ہم نے معقول کا لفظ استعمال کیا، کیوں کہ ہم باسٹھ ہزار پانچ سو اناسی یا باسٹھ ہزار پانچ سو اکیاسی میں سے کوئی سا عدد ستعمال کر سکتے تھے، اگر انجمن تکفین و تدفین کے صدر کی بالکل اچانک اور غیر متوقع موت ہمارے حساب میں شک کا عنصر پیدا نہ کرتی۔ تاہم، ہمیں اعتماد ہےکہ اگلی صبح شروع کیا جانے والا پہلا کام، اموات کی گنتی سے ہمارے حساب کے درست ہونے کی تصدیق ہو گی۔ متجسس ذہن کی مالک ایک اور شخصیت، اس نوع کی جو ہمیشہ راوی کو ٹوکتی رہتی ہے، پریشان ہو رہی ہو گی، ڈاکٹر کیسے جانیں گے کہ کس گھر میں جائیں، تا وہ فریضہ سرانجام دیں، جس کے بغیر مرنے والا قانوناً مردہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بھلے وہ بلا اختلافِ رائے مردہ ہو۔ بتانے کی ضرورت نہیں، بعض صورتوں میں، گزرنے والے کے گھر والے کسی معاون معالج یا خاندانی معالج کو بلا لیتے ہیں، لیکن واضح طور پر یہ کافی نہ ہو گا، کیوں کہ مقصد یہ کوشش تھی، معلوم تاریخ کی سب سے کم مدت میں، بالکل خلافِ معمول صورت حال میں سرکاری اہل کار کام کریں، اس طرح دوبارہ مشہور کہاوت، مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی، کی تائید سے بچا جائے، جسے اس صورتِ حال پر منطبق کیے جانے سے مراد ہو گی، گھر میں کسی اچانک موت کے بعد تیزی سے گلنے سڑنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ آنے والے واقعات نے ثابت کیا، کسی وزیرِ اعظم کا اتنے عروج تک پہنچنا، محض اتفاق نہیں تھا، جیسا کہ قوم کی مسلمہ فراست نے بارہا ظاہر کیا، ہر ملک کو ملتی ہے وہ حکومت جس کے وہ حق دار ہوں، تب یہ کہنا بھی سچ ہے، اچھی یا بری وجوہات کی بنا پر تمام وزرائے اعظم ایک جیسے نہیں ہوتے، نہ ہی یہ کہنا غلط ہو گا،تمام ممالک بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ قصّہ مختصر، کوئی بھی صورت ہو، اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ اگر آپ اسی قول کی کچھ طویل صورت کو ترجیح دیں، آپ کبھی نہیں بَتا سکتے۔ جیسا کہ آپ دیکھیں گے، کوئی مبصر، حتا کہ جو غیر جانب دار رائے کا حامل نہ ہو، یہ تسلیم کرنے میں تردّد نہیں کرے گا، حکومت نے خود کو سنگین حالات سے عہدہ برا ہونے کا اہل ثابت کیا۔ ہم سب کو وہ مسرت یاد آئے گی، ان لوگوں نے خود کو معصومیت کے ساتھ، ان ابتدائی اور انتہائی مختصر ایام میں، جس کے حوالے کر دیا تھا، جب حال ہی میں ہونے والی ایک بیوہ خاتون نے ملنے والی یہ نئی مسرت اپنے کھانے کے کمرے کی پھولوں سے سجی بالکونی پر قومی پرچم لہرا کر منائی۔ ہمیں یہ بھی یاد آئے گا کہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر، یہ رسم سارے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح، کسی وبا کی مانند پھیل گئی۔ سات ماہ تک متواتر اور بمشکل برداشت کی جانے والی مایوسیوں کے بعد اُن میں سے گنتی کے چند پرچم بچے تھے، جو بچے تھے وہ بھی افسوس ناک دھجیاں رہ گئے تھے، ان کی رنگت دھوپ سے اُڑی اور بارشوں سے دھلی ہوئی تھی، مرکزی علامت، ایک دھندلے دھبے کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔ قابلِ تحسین فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے، حکومت نے موت کی غیر متوقع واپسی سے پیدا ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے دیگر ہنگامی اقدامات تجویز کرنے کے علاوہ اُنھیں بطور علامت قومی پرچم مہیا کیے۔ اِن ہدایات کے ساتھ، وہ خاندان جو ناگوار مقدر کا زخم خوردہ ہے، اپنے کسی فرد کو دکان پر بھیجے، وہ ایک نیا پرچم خریدے، اسے کھڑکی پر آویزاں کرے کہ وہاں، تیسری منزل پر بائیں فلیٹ میں، ایک مردہ منتظر ہے۔ جو اب نہیں رہا، کے چہرے سے مکھیاں اڑاتے، وہ ڈاکٹر کا انتظار کرتے کہ آئے اور موت کی تصدیق کرے۔ تسلیم کرنا ضروری ہے، یہ تجویز صرف موثر ہی نہیں، بلکہ زبردست بھی تھی۔ ہر شہر، قصبے، بستی یا گوٹھ میں ڈاکٹر کار میں، سائیکل پر یا پیدل گلیوں میں پرچم دیکھتے پھرتے، نشانی والے گھر میں جاتے، آلات کی مدد کے بغیر،خالصتاً سرسری معائنے کے بعد، موت کی تصدیق کرتے، کیوں کہ اموات کی کثرت نے تفصیلی معائنہ ناقابلِ عمل بنا دیا تھا، ایک دست خط شدہ کاغذ وہاں چھوڑتے، جو تکفین و تدفین والوں کو جسد کی مخصوص نوعیت کا یقین دلائے گا، جو کہنا ہے، جیسے وہ کہاوت ہے، اگر وہ مرنے والے کے گھر اون کی تلاش میں آئے ہیں، سر منڈوائے بنا گھر نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ آپ ادراک کر چکے ہوں گے، قومی پرچم کےاس پر ذہانت استعمال کے دو مقاصد اور دو فائدے تھے۔ پہلے یہ رہ نما ئی کرے گا، ڈاکٹروں کی، پھر پیغام بنے گا، ان کے لیے جو جسد تیار کرتے ہیں۔ اس نکتۂ نظر سے بڑے شہروں کی صورت میں اور خاص طور پر دارالحکومت میں، جو ملک کے مقابلتاً محدود رقبے کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ایک وسیع میٹروپولیٹن تھا، شہری علاقوں کی حصص میں تقسیم، وقت کے ساتھ اُن کی دوڑ میں، انسانی اجسام کی نقل و حمل کرنے والوں کی ایک بہت بڑی مدد ثابت ہو گی، جیسا کہ منتظمینِ تکفین و تدفین کے بدنصیب صدر نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے، حصّے کے مطابق کیک کا ٹکڑا، پیش کیا تھا۔ پرچم کا ایک اور غیر متوقع، نہ سوچا گیا اثر تھا، جو ظاہر کرتا ہے، ہم کتنے غلط ہو سکتے ہیں جب ہم اپنے آپ کو ایک نظام کے تحت ابہام پیدا کرنے والے رویے کے حوالے کر دیتے ہیں، یہ اُن مخصوص شہریوں کی جانب سے اعلا اخلاق کا اظہار تھا، جو ہر دو، مہذب شہری رویوں کی روایت کا احترام کرنے والے، اسی طرح ہیٹ استعمال کرنے والےتھے، جب بھی وہ کسی ایسی کھڑکی کے پاس سے گزرتے جو پرچم سے سجی ہوتی، وہ احتراماً اپنا ہیٹ اتارتے ہوئے اپنے پیچھے ایک پر لطف سوال چھوڑ جاتے، آیا وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ کوئی مر گیا ہے، یا اس لیے کہ پرچم، قوم کی مقدس علامت، لہرا رہا ہے۔

اخبارات کی فروخت، شاید ہی کہنے کی ضرورت ہو، ایک دم بڑھ گئی، اس سے بھی کہیں زیادہ، جب یہ دکھائی دیتا تھا، موت ماضی کی کوئی چیز تھی۔ بظاہر بہت سے لوگ ٹیلی وژن پر خود پر ٹوٹ پڑنے والی آفت کے بارے میں سن چکے تھے، بہت سوں کے گھر میں، باہر بالکونی پر آنسو بہاتے پرچم کے ساتھ، ڈاکٹر کی آمد کے منتظر مردہ عزیز بھی موجود تھے، لیکن یہ سمجھنا آسان ہے کہ گزشتہ شب چھوٹی سکرین پر بولتے ڈائرکٹر جنرل کے اعتماد سے محروم چہرے میں اور ان لرزہ خیز، چیختی چلاتی سرخیاں بیان کرتے ہوئے پریشان کُن صفحات میں فرق ہے، جو تَہ کیے اور اپنی جیب میں رکھے اور لے جائے جا سکتے ہیں کہ اپنے گھر میں فراغت کے ساتھ پھر سے پڑھیں، ہم ان میں سے کچھ دہلا دینے مثالیں یہاں پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں،جنت کے بعد، جہنم، موت کا رقص، دوام کا اختتام، پھر سے بھگتو، برے پھنسے، اب ہو گی پیشگی اطلاع، اپیل نہ امید، بنفشی کاغذ پر خط، ایک لمحے میں باسٹھ ہزار اموات، موت کا شب خون، تقدیر سے فرار ناممکن، خواب سے دہشت تک، معمول کو واپسی، ہم سے کیا قصور ہوا، جو اس کے مستحق ٹھہرے، وغیرہ، وغیرہ۔ بلا استثنا تمام اخبارات نے موت کا خط پہلے صفحے پر شائع کیا، ان میں سے ایک نے اسے پڑھنے کے لیے آسان بنانے کی خاطر، متن کو ایک چوکھٹے میں دوبارہ چودہ کے فونٹ میں تحریر کیا، ترتیب اور اوقاف درست کیے، افعال کو زمانے کے مطابق کیا، جہاں ضرورت تھی بڑے حروف لکھے، بشمول تصدیقی دست خط کے، جس میں ڈی کو بڑا کر کے نکرہ سے معرفہ بنایا، ایک ایسی تبدیلی جو کانوں کو محسوس نہ ہو، لیکن اسی روز، خود پیغام لکھنے والی کی جانب سے، پھر وہی بنفشی رنگ کا کاغذ استعمال کرتے ہوئے، برہمی کے اظہار کا سبب بنی۔ اخبار کی جانب سے رجوع کیے جانے والے قواعد دان کی ماہرانہ رائے کے مطابق، موت فنِ تحریر کے ابتدائی اصول بھی نہیں جانتی۔ مزید یہ کہ، اس کا کہنا تھا، جو لکھائی ہے،عجیب بے ڈھنگی ہے، کچھ ایسے، جیسے تمام معلوم طریقوں، ممکن اور منفرد، سب کا ملغوبہ ہو، لاطینی حروف تہجی کی لکھت، جیسے ہر حرف مختلف آدمی کا لکھا ہوا ہے، لیکن اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جملوں کی اوٹ پٹانگ ساخت، ختمہ کی عدم موجودگی، انتہائی اہم قوسین کے شدید کمی، خلاف معمول پیراگراف کو ختم کرنے، بلا ضرورت سکتہ کے استعمال کو بھی کوئی معمولی فرگزاشت قرار دے سکتا ہے، لیکن سب سے ناقابلِ معافی گناہ،جان بوجھ کر اور قریباً ناگوار طریق پر بڑے حروف کا ترک کرنا ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں، جنھیں خط کے اصل دست خط میں بھی نظر انداز کرتے ہوئے، بڑی ڈی کی جگہ چھوٹی ڈی کا استعمال کر کے، موت کو معرفہ سے نکرہ بنا دیا ہے۔ یہ شرمناک توہین ہے، قواعد دان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے دریافت کیا، اگر موت، جو ماضی کے انشا پرداز عبقریوں کو دیکھنے کی غیر معمولی برتری کی حامل ہے، اس طرح لکھتی ہے، ہمارے بچوں کا کیا بنے گا، اگر وہ اس عذر کے ساتھ تقلید کے لیے اس عجیب الخلقت تحریر کا انتخاب کریں کہ جب تک موت موجود ہے، وہ علم کی تمام شاخوں کے بارے میں ہر وہ بات جسے جاننا ہے، جان لے گی۔ قواعد دان نے تجزیہ ان الفاظ میں سمیٹا، نحوی لغزشیں، جو اس خوف ناک خط میں بھری پڑی ہیں، مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، یہ قدم جو بہت بڑے، بھونڈے اعتماد پر مبنی ہے، اس تلخ حقیقت اور درد ناک شہادت کا مظہر تو نہیں، جو خوف ناک دھمکی ہے، وہ ہو کر رہے گی۔ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں، اسی روز سہ پہر کے وقت، موت کی جانب سے ایک خط اخبارات کو پہنچا، انتہائی زور دار الفاظ میں مطالبہ کرتے ہوئے کہ اس کے نام کے اصل ہجے بحال کیے جائیں، اس نے لکھا، محترم جناب، میں مرگِ خاص نہیں بلکہ مرگِ عام ہوں، مرگِ خاص کچھ ایسی ہے جسے آپ سمجھ بھی نہیں سکتے، ہاں، قواعد دان صاحب، مہربانی سے ملحوظِ خاطر رکھیں، میں نے اس بیان کو حرفِ جار پر ختم نہیں کیا، تمھارے انسانی وجود صرف روز مرہ زندگی میں پیش آنے والی عمومی موت سے آگاہ ہیں، جو میں، مرگِ عام، ہوں،جو بد ترین بحرانوں میں بھی زندگی کے تسلسل روک دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایک دن تم مرگِ خاص کے بارے میں جان جاؤ گے، جس غیر متوقع عمل کے دوران وہ تمھیں اس کا موقع دے گی، اس وقت تم متعلق اور قطعی کے درمیان، بھرے اور خالی کے درمیان، تاحال زندہ اور مزید زندہ نہیں کے درمیان حقیقی فرق جانو گے، اور جب میں حقیقی فرق کہتی ہوں، میں ایک ایسی کیفیت کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہوں جسے متعلق، قطعی، بھرا، خالی، تاحال زندہ، مزید زندہ نہیں، کے کھوکھلے الفاظ کبھی بیان کر سکنے کے قابل نہ ہوں گے، کیوں کہ، جناب، آپ کے نہ جاننے کی صورت میں بھی الفاظ حرکت کرتے ہیں، ایک دن سے دوسرے دن میں ڈھلتے ہیں، سایوں کی مانند بدلتے رہتے ہیں، بلکہ خود بھی سائے ہیں، جو موجود ہیں لیکن ختم بھی ہو چکے ہیں، جیسے،صابن کی جھاگ، سیپی کا خول، درخت کا ٹھنٹھ، یہ معلومات میں نے ترس کھاتے ہوئے تمھیں مفت دی ہیں، اس دوران اپنے قارئین کو جینا اور مرنا کی گردان سمجھانے کے کام میں مصروف رہو، اب خط کے اصل مقصد کی جانب لوٹتے ہوئے، جیسا کہ جو ٹیلی وژن پر جو پڑھا گیا، میرے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا، میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں، پریس قوانین میں بیان کی گئی شرائط پوری کریں جو تقاضا کرتی ہیں کہ کسی غلطی، سہو یا فروگزاشت کی تصحیح اسی صفحے پر اور اسی فونٹ نمبر میں کی جائے گی، جناب، اگر یہ خط مکمل طور پر شائع نہ کیا گیا، آپ کل صبح فوری طور پر موثر،پیشگی اطلاع، وصول کرنے کا خطرہ مول لیں گے، جو میں نے آپ کے لیے چند سال بعدکے لیے اٹھا رکھی تھی، معین طور پر کتنے، یہ نہیں بتلاؤں گی، مبادہ آپ کی آئندہ زندگی برباد ہو، آپ کی مخلص، موت۔ مدیر کی جانب سے پرزور معذرت کے ساتھ، اگلے روز اصل کے مطابق نقل میں خط شائع ہوا، دوبارہ اسی طرح چوکھٹے میں اور اسی چودہ کے فونٹ میں متن کی صورت میں لکھا گیا تھا۔ جس وقت اخبار تقسیم کیا جا رہا تھا اس وقت ہی مدیر نے ہمت کی کہ اس پناہ گاہ سے باہر نکلے، جس میں وہ اسی وقت چھپ گیا تھاجب اس نے دھمکی آمیزخط پڑھا تھا۔ وہ تو اتنا ڈر گیا تھا کہ اس تحریر کی تجزیاتی رپورٹ شائع کرنے سے انکار کر دیا، جو ایک بڑے ماہرِ تحریر نے ذاتی طور پر اسے پہنچائی تھی۔میں موت کے دست خطوں کی صرف ڈی کو بڑا کرنے کے نتیجے میں اچھی خاصی مصیبت بھگت چکا ہوں، چناں چہ آپ اپنا تجزیہ کسی اور اخبار کو دے دیں، ہمیں چاہیے، اپنی بد نصیبی بانٹ لیں اور آئندہ کے لیے معاملات خداوند پر چھوڑ دیں، اس نوع کے مزید اندیشوں سے بچنےکی ایک ترکیب۔ ماہرِ تحریر ایک اور اخبار کے پاس گیا، پھر ایک اور کے پاس، اور پھر ایک اور کے پاس، آخر چوتھی کوشش میں جب وہ خود بھی امید سے دست بردار ہو رہا تھا، اسے کوئی ایسا ملا جو اس کی گھنٹوں کی دماغ سوزی، محدب عدسے پرجھکے، الجھتے ہوئے رات دن کی مشقت کاپھل قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ مفصل اور تحیر خیز رپورٹ اس توضیح کے ساتھ شروع ہوئی، مطالعٔہ تحریر بنیادی طور پر قیافہ شناسی کی ایک شاخ ہے، اُن لوگوں کی معلومات کے لیے جو اس خالص سائنس سے آگاہ نہیں، دوسرے علوم ہیں، اشاروں کنایوں کا علم، بدن بولی کی پڑھت، چہرے کے اتار چڑھاؤ کا مطالعہ اور صوتیات کا علم، جس کے بعد اس نےاس پے چیدہ موضوع پر مختلف ممالک اور زمانوں کی اہم شخصیات کا ذکر کیا، بطور مثال، کامیلو بالڈیcamillo baldi، جوہان کاسپر لاویٹرjohann caspar lavater، ایڈورڈ اگسٹ پیٹرس حوکرٹedouard auguste patrice hocquart، ایڈولف ہنزadolf henze، جین ہیپولائٹ میشون jean-hippolyte michon، ولیم تھیری پریئر william thierry preyer، شیزئر لمبروسوcesare Lombroso، جولس کریپیو جیمنjules crepieux-jamin، رڈولف پوفل rudolf pophal، لڈوگ کیل جسludwig kalges، ولہیم ہیل متھ میولر wilhelm helmuth muller، ایلس انسکٹ alice enskat، روبرٹ حائس robert heiss، جن کی عنایات سے مطالعاتِ تحریر کی تعمیرِ نو نفسیاتی مطالعہ کے ایک ذریعہ کے کی گئی، جدولی تقابل کی تفصلیات دکھاتے اور انھیں بحیثیت مجموعی بیان کرنے کی ضرورت بیان کرنے کے بعد موضوع سے متعلق انتہائی اہم تاریخی حقائق بتلاتے ہوئے، ہمارے ماہرِ تحریر نے مطالعہ کیے جانے والےاہم پہلوؤں کی تھکا دینے والی تفصیلات بیان کیں، جن کے نام، سائز، دباؤ، وقفہ، حاشیہ، زاویہ، اوقاف، بالائی اور زیریں جنبش، یا، باالفاظِ دیگر، شدت، ہیئت، جھکاؤ، ترسیمی علامات کا بہاؤ ہیں، آخر میں اس نے واضح کیا کہ اس مطالعے کا مقصد معالجاتی تشخیص کرنا شخصیت کا تجزیہ کرنا یا پیشہ وارانہ رجحان جانچنا نہیں ہے۔ ماہر نے اپنی توجہ دنیائے جرم سے تعلق رکھنے والی علامات پر، جو تحریر میں ہر مرحلے پر دکھائی دیتی تھیں، مرکوز رکھی، اس کے باوجود اس نے مایوسی کے عالم میں جھنجھلاہٹ کے ساتھ لکھا، میں خود کو ایک ایسے تضاد کے رُو بَرو پاتا ہوں جسے سلجھانے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی، کسی ممکنہ حل کے امکان کے بارے میں بھی میں شدید بے یقینی کا شکار ہوں، جہاں یہ سچ ہے کہ اس باضابطہ اور محتاط تحریری تجزیے کے تمام نتائچ اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں، خط لکھنے والی کوئی ایسی ہستی ہے جسے لوگ عادی قاتل کہتے ہیں، وہیں اتنے ہی ناقابلِ تردید شواہد نے مجھ سے کچھ ایسا منوایا، جو کسی حد تک پہلے نظریے کو منہدم کرتا ہے اور جس کے مطابق، جس شخصیت نے یہ خط لکھا ہےوہ مردہ ہے۔ چناں چہ، صرف موت ہی اس کی تصدیق کر سکتی ہے، آپ بالکل درست ہیں، جناب، اس نے کہا، جب اس نے شائع ہونے والی یہ فاضلانہ تحریر پڑھی۔ جو کوئی نہ سمجھ پایا، وہ یہ تھا، اگر وہ مردہ تھی اور ہڈیوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا تو وہ کیسے مار سکتی ہے؟ اصل موضوع پر آئیں تو وہ خط کیسے لکھ سکتی ہے؟ یہ وہ اسرار ہیں جو کبھی آشکار نہیں ہوں گے۔

جس وقت ہم یہ وضاحت کرنے میں مصروف تھے کہ باسٹھ ہزار پانچ سو اسی معطل زندگی میں لٹکے ہوئے افراد پر نصف شب کو طے شدہ ضرب کے بعد کیا ہوا، ہم نے بدلی ہوئی صورتِ حال میں ضعیف خانوں، ہسپتالوں، بیمہ کمپنیوں، ماپیا اور کلیسا کے رویے پر اثرات کا بیان، بالخصوص کیتھولک کلیسا پر، جو ملک کی اکثریت کا مذہب تھا، اس حد تک کہ یہ عقیدہ عام تھا کہ ہمارے خداوندِ یسوع اگر انھیں دوبارہ جنم لینا پڑا، الف سے ی تک،اپنا اولین اور جہاں تک ہمیں علم ہے، صرف زمینی ظہور، وہ کہیں اور لینا پسند نہیں کریں گے، کسی مناسب وقت کے لیے ملتوی کر دیا تھا اور اب وہ وقت آ گیا ہے۔ آغاز کرتے ہوئے، ضعیف خانوں سے، جذبات بالعموم وہی تھے جن کی آپ توقع کریں گے۔ اگر آپ ذہن میں لائیں، جیسا کہ ہم نے اِن حیران کن واقعات کے آغاز میں بیان کیا، قیام کرنے والوں کی مسلسل آمد و رفت، جو اُن کاروباری تنظیموں کی معاشی کامیابی کی مطلوبہ شرط تھی، موت کی واپسی سے بندھی تھی، چناں چہ متعلقہ انتظامیہ کے لیے امیدِ نو اور مسرت کا جواز تھا۔ ابتدائی صدمےکے بعد جو ٹیلی وژن پر موت کے جانب سے معروف خط پڑھے جانے سے پیدا ہوا تھا، منتظمین نے فوری طور پر اپنی جمع تفریق شروع کر دی اور وہ سب صحیح ثابت ہوئے۔ معمول کی غیرمعمولی واپسی کا جشن منانے کے لیے رات گئے شمپین کی چند بوتلیں اڑائی گئیں، اگرچہ دوسروں کی زندگیوں کی جانب اس نوع کا رویہ شاید عمومی لاتعلقی کا اور حقارت آمیز دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اس نے ظاہر کیا، مکمل احساسِ طمانیت، کسی ایسے فرد کی گھٹن کے احساس کا اخراج، جو ایسے بند دروازے کے باہر کھڑا ہو جس کی چابی اس سے کھو چکی ہو، اچانک دیکھے، دھڑ سے دروازے کے پٹ کھل گئے اور سورج کی کرنیں اندر داخل ہو گئیں۔ زیادہ تر مہذب افراد کہیں گے، انھیں کم از کم ہاؤ ہو اور غیر سنجیدگی کے ساتھ شمپئن کے اڑتے کارکوں اور چھلکتے گلاسوں کی نمائش سے اجتناب کرنا چاہیے تھا، پورٹ یا مادیرا کا نفیس گلاس، تھوڑی سی کونیاک یا کافی ملی برانڈی کی چسکی کافی تھی، لیکن ہم جانتے ہیں، جب خوشی چھا جاتی ہے تو کتنی آسانی سے نفس دجود کی راسیں ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی آگاہ ہیں، اگرچہ کوئی اس کی اجازت نہیں دےگا، وہ ہمیشہ اسے معاف کر سکتا ہے۔ اگلی صبح منتظمین نے خاندان والوں کو بلایا کہ اپنے مردے لے جائیں، پھر کمروں کو ہوا لگوائی، چادریں بدلیں، اس کے بعد عملے کو اکٹھا کیا، انھیں بتلانے کی خاطر کہ زندگی بہر حال جاری رہتی ہے، وہ درخواستوں کا جائزہ لینے بیٹھے، تاکہ ان گاہکوں کا انتخاب کریں، جو زیادہ منافع بخش لگتے تھے۔ ہر پہلو سے یک ساں نہ ہوتے ہوئے، کم و بیش اتنی ہی اہمیت کے حامل اسباب کی بنا پر، ہسپتالوں کی انتظامیہ اور طبی عملے کا رویہ بھی راتوں رات بہتر ہو گیا۔ تاہم، جیسا کہ ہم پہلے کَہ آئے ہیں، اگرچہ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو علاج کی حدود سے نکل گئی تھی یا جن کا مرض اپنی آخری منزل کی انتہا تک پہنچ چکا تھا، اگر اِس اصطلاح کو مرضیاتی کیفیت کے دائمی قرار دینے پر منطبق کیا جا سکتا ہے، واپس اپنے گھروں میں اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو چکی تھی، کیا غریب قابلِ رحم وجود اُن سے بہتر ہاتھوں میں خود کو پا سکتے ہیں، انھوں نے منافقت سے سوال کیا، سچ یہی ہے کہ اُن میں سے بہت سے،معلوم رشتہ داروں بنا، یا ضعیف خانوں کی جانب سے طلب کیے گئے معاوضےادا کرنے کی رقم نہ ہونےکی بنا پر، کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے، جہاں بھی جگہ تھی، راہ داریوں میں نہیں، جیسا کہ عرصہ دراز اِن معزز اقامت گاہوں میں، کل، آج اور ہمیشہ سے چلن رہا ہے، بلکہ کاٹھ کباڑ کے گوداموں اور اَٹاریوں میں بھی،جہاں اکثر وہ کئی دن پڑے رہتے، بنا کسی کے کہ ان پر نگاہ ڈالے، کیوں کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کا کہنا تھا، قطع نظر اس کے کہ وہ کتنے بیمار ہوں، وہ مر نہیں سکتے۔ اب وہ مر چکے تھے، لے جائے جا چکے تھے اور دفن کیے جا چکے تھے اور ہسپتالوں کی ہوا، اس کی ایتھر، آیوڈین اور جراثیم کشوں کی مخصوص بو کے ساتھ، اتنی خالص اور شفاف تھی جیسے پہاڑوں کی ہوا ہو۔ انھوں نے شمپئن کی بوتلوں کے کارک نہیں اڑائے، لیکن منتظمین اور ناظمینِ طب کی مسکراہٹیں نفس کے زیرِ اثر تھیں، جہاں تک مرد ڈاکٹروں کا تعلق ہے، یہ کہنا کافی ہو گا، ان کی آنکھوں میں، شکاریوں والی، وہ روایتی چمک لوٹ آئی تھی، جس سے وہ خاتون تیمارداروں کو دیکھتے تھے، تمام لغوی معنوں میں، معمول، بحال ہو گیا تھا۔ جہاں تک فہرست میں تیسرے نمبر پر بیمہ کمپنیوں کا تعلق ہے، کہنے کو زیادہ نہیں، کیوں کہ تاحال انھوں نے حساب نہیں کیا، کیا موجودہ صورتِ حال، اُن تبدیلیوں کی روشنی میں جو بیمہ پالیسیوں میں متعارف کرائی گئی تھیں اور جنھیں ہم قبل ازیں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں، اُن کے فائدے میں ہے یا نقصان میں ہے۔ یہ یقین کیے بنا کہ وہ پختہ زمین پر چل رہے ہیں، وہ کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے، لیکن بالآخر جب بھی اٹھائیں گے، معاہدے کی جو بھی تحریر تیار کریں گے، اس میں ایسی شرائط رکھیں گے،جو خود اُن کے بہترین مفاد میں ہوں گی۔ اسی دوران، چوں کہ مستقبل کا علم خداوند کو ہے اور کوئی نہیں جانتا، کل اپنے ساتھ کیا لائے، بیمہ کرانے والا کوئی فرد جو اسی سال کی عمر کو پہنچ گیا ہو کو مردہ تصور کرنا جاری رکھیں گے، یہ وہ پرندہ ہے، کم از کم جو ان کے ہاتھ میں ہے، دیکھنا صرف یہ ہے، کل کلاں شاید جال میں آ پھنسنے والے دو مزیدپکڑ لیں۔ تاہم، کچھ نے مشورہ دیا، معاشرے کی موجودہ بے یقینی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے، جو ہمیشہ سے کہیں بڑھ کر ابلیس اور گہرے سمندر کے درمیان، سمندری عفریت اور بھنور کے درمیان، چٹان اور کھائی کے درمیان پر منطبق ہوتی ہے، اور شاید یہ تجویز بری نہیں کہ شماریاتی موت کی عمر بڑھا کر پچاسی بلکہ نوے کر دی جائے۔ جنھوں نے اس تبدیلی کی حمایت کی، ان کی دلیل پانی کی مانند صاف ہے، ان کا کہنا تھا، جب لوگ اس عمر کو پہنچتے ہیں، اس وقت صرف یہی نہیں کہ اُن کے رشتہ دار نہیں ہوتے، جوضرورت پڑنے پر اُن کی نگہ داشت کر سکیں، کوئی رشتہ دار ہوئے بھی تو بلاشبہ خود بھی اتنے بوڑھے ہوں گے، جس سے کسی طرح کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ افراطِ زر اور ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنی پنشن کی قدر میں حقیقی کمی سے بھی دو چار ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے، بارہا وہ بیمہ کی اقساط بھی نہیں دے پاتے، چناں چہ بیمہ کمپنیوں کو معاہدہ منسوخ کرنے کا بہترین عذر مل جائے گا۔ یہ انسانیت نہیں، کچھ نے اعتراض کیا۔ دھندہ تو دھندہ ہے، دوسروں نے کہا۔ آگے ہم دیکھیں گے، اس کا اختتام کیا ہوا۔

اسی دوران، ماپیا کی گفتگو کا مرکز بھی کاروبار تھا۔ ہم صاف صاف تسلیم کرتے ہیں، جن تاریک راہوں سےگزر کر جرائم پیشہ تنظیموں نے کفن دفن کی دنیا تک رسائی حاصل کی، ان تاریک راہوں کی ہماری بیان کردہ تفصیل نے شاید کسی قاری کو اُکسایا ہو کہ وہ متعجب ہو کر سوال کرے، اس ماپیا کو کیا مصیبت ہے، اس کے پاس دولت کمانے کا کوئی آسان یا زیادہ منافع بخش طریقہ نہیں، ارے، اس کے پاس ہیں، متعدد اور متنوع ہیں،تاہم، دنیا بھر میں پھیلے ہوئےاپنے جیسی تنظیموں کی مانند، حالات میں توازن لانے اور تکنیک و ترکیب کو بہترین مفاد میں استعمال کرنے میں ماہر، مقامی ماپیا صرف وقتی مفاد پر انحصار نہیں کرتی، اُن کا ہدف اس سے بہت بڑھ کر تھا، خاندانوں کو پر سکون موت کی افادیت کے اَن کہے معاہدے کا قائل کرنے اور سیاست دانوں کے دوسری طرف دیکھنے کا ڈھونگ کرنے کی عنایت سے ان کی نگاہ، کم نہ زیادہ، مستقبل تشکیل دینے، انسانی مرن دفن کے اختیار پر تھی، قوم کی شماریات کو اس سطح پر رکھنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئےجو ملک کے لیے کسی ایک وقت میں مناسب ہو، قبل ازیں بیان کردہ تصور کو بیان کرنے کے لیے، نَل کھولتے اور بند کرتے ہوئے، یا ایک بہتر معین تکنیکی اصطلاح کرنے کی خاطر، اخراج پیما کنٹرول کرنا، کہیں گے۔ اگر اس ابتدائی دورانیے میں وہ افزائش کی رفتار بڑھا یا گھٹا نہیں سکتے،کم از کم اُن کے اختیار میں ہے کہ سرحدوں کی جانب، اَب کے جغرافیائی سرحد نہیں، بلکہ ہمیشگی کی طرف سفر کو تیز یا آہستہ کر دیں۔ اس مخصوص لمحے، جب ہم کمرے میں داخل ہوئے، بحث اس نکتے پر مرکوز تھی، اس افرادی قوت کا کیا استعمال کیا جا سکتا ہے، جو موت کی واپسی کے بعد بے کار بیٹھی ہے، اگرچہ شرکائے بحث کی جانب سے تجاویز کی کوئی کمی نہیں تھی، کچھ دوسروں کی نسبت زیادہ زور دار تھیں، انھوں نے بحث کا اختتام، تحفظِ کاروبار، نامی ثابت شدہ طویل ریکارڈ کی حامل، جس کے لیے کوئی پے چیدہ طریق درکار نہیں تھا، تجویز کا انتخاب کرتے ہوئے کیا۔ اگلے ہی روز، شمال سے جنوب تک، ملک کے ہر حصّے میں ناظمینِ تکفین و تدفین نے دیکھا کہ اُن کے دروازے میں دو فرد داخل ہوئے، زیادہ تر دونوں مرد، کہیں ایک مرد اور ایک عورت، خال خال دونوں عورتیں، جنھوں نے مہذب لہجے میں منیجر سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی، جسے انھوں نے اتنی ہی شائستگی سے بتلایا، آپ کے کاروبار کو بم سے یا آگ سے حملے کا اور تباہی کا اندیشہ ہے، شہریوں کے کچھ مخصوص غیر قانونی گروپوں کے کارکنوں کی جانب سے،جو انسانی حقوق کے عالمی منشور میں دائمی زندگی کا حق شامل کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ اپنی خواہشات پر پانی پھرتا دیکھ کر اب تُلے ہوئے ہیں کہ اُن کے غضب کی شدید ضرب معصوم کمپنیوں، جیسی آپ کی ہے، پر پڑے گی، صرف اس بنا پر کہ آپ، وہ لوگ ہیں جو، نعشوں کو اُن کی آخری آرام گاہ تک پہنچاتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے، ایلچیوں میں سے ایک نے کہا، یہ منظم حملے، اگر اُن کی کسی طرح مزاحمت کی گئی، مالک کے اور منیجر کےاسی طرح اُن کے خاندانوں کے، اور اگر اُن کا نہیں تو، ایک یا دو ملازمین کے قتل پر منتج ہو سکتے ہیں، کل سے، شاید یہاں سے، شاید کہیں اور سے شروع ہوں گے، لیکن میں کیا کر سکتا ہوں، غریب منیجر نے کانپتے ہوئے پوچھا، کچھ نہیں، آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ پسند فرمائیں، ہم آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں، ہاں، یقیناً، اگر آپ کر سکیں، کچھ شرائط ہیں جو پوری کرنا ہیں، بھلے کچھ بھی ہوں، مہربانی کر کےمجھے بچائیں، پہلی یہ کہ آپ اس کے بارے میں کسی سےذکر نہیں کریں گے، اپنی بیوی سے بھی نہیں، میری تو شادی بھی نہیں ہوئی،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اپنی ماں سے بھی نہیں، اپنی نانی یا خالہ سے بھی نہیں، میرے ہونٹ بند ہیں، بالکل، کیوں کہ دوسری صورت میں ڈر ہے، آپ انھیں ہمیشہ کے لیے بند پائیں، اور دوسری شرائط کیا ہیں، صرف ایک ہے، جو ہم کہیں وہ ادا کریں، ادا کروں، ہم نے تحفظ کی مہم منظم کرنی ہے، اور جناب، یہ پیسہ مانگتی ہے، اچھا، اب سمجھا، ہم تمام بنی نوع انسان کا تحفظ کر سکتے ہیں، اگر وہ اس کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہوں، لیکن اس دوران، جیسا کہ ہر دور کے بعد ایک اور دور آتا ہے، ہم اب بھی پرامید ہیں، ہوں، ٹھیک ہے، خوش قسمتی ہے، آپ اتنی جلد سمجھ گئے، مجھے کیا ادا کرنا ہو گا، یہ اس کاغذ پر لکھا ہے، یہ تو بہت زیادہ ہے، یہی ریٹ چل رہا ہے، اور یہ سالانہ ہے یا ماہانہ، ہفتہ وار، لیکن میرے پاس اِتنے پیسے نہیں ہیں، ہم کفن دفن والے بہت زیادہ نہیں کماتے، آپ خوش قسمت ہیں، ہم وہ نہیں مانگ رہے جو آپ، اپنی دانست میں، اپنی زندگی کی قیمت سمجھتے ہیں، خوب، میرے پاس صرف ایک ہے، جسے آپ آسانی سے کھو سکتے ہیں اور اسی لیے ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں، اس کی اچھی طرح حفاظت کریں، ٹھیک ہے، میں غور کروں گا، مجھے اپنے شراکت داروں سے بات کرنا ہو گی، آپ کے پاس چوبیس گھنٹے ہیں، مزید ایک منٹ نہیں، اس کے بعد، ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا، اگر آپ کو کچھ ہو گیا، ذمہ داری صرف آپ کی ہو گی، ہمیں پورا یقین ہے، پہلی کوشش مہلک نہیں ہو گی، اس مرحلے پر ہم دوبارہ آئیں گے اور آپ سے بات کریں گے، اس وقت، یقیناً، قیمت دو گنا ہو چکی ہو گی، اس وقت جو ہم طلب کریں گے، اسے ادا کرنے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی راہ نہیں ہو گی، آپ تصور نہیں کر سکتے کہ دائمی زندگی کا مطالبہ کرنے والے اُن شہریوں کا یہ گروہ کتنا سنگ دل ہو سکتا ہے، ٹھیک ہے، میں ادائیگی کر دوں گا، چار ہفتوں کی رقم پیشگی، چار ہفتوں کی، مہربانی کریں، آپ کا معاملہ ہنگامی نوعیت کا ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، تحفظ کی مہم چلانے پر پیسہ لگتا ہے، نقد یا چیک، نقد، چیک اور طرح کے لین دین کے لیے اور دوسری طرح کی رقوم کے لیے ہوتے ہیں، جب رقم ایک ہاتھ سے براہ راست دوسرے ہاتھ میں جانا مناسب نہیں ہوتا۔ منیجر گیا، تجوری کھولی، نوٹ گنے اور ان کے حوالے کرتے ہوئے بولا، مجھے رسید یا میرے تحفظ کی ضامن کوئی تحریر دے دیں، نہ رسید، نہ ضمانت، آپ کو ہماری زبان کی اہمیت کا اعتبار کرنا ہو گا، اہمیت، آپ تصور نہیں کر سکتے کہ ہمارے نزدیک ہماری زبان کی کیا اہمیت ہے، کوئی مسئلہ ہوا تو میں آپ کو کہاں مل سکتا ہوں، پریشان نہ ہوں، ہم آپ کو تلاش کر لیں گے، میں آپ کو دروازے تک رخصت کر آؤں، نہیں، تکلف نہ کیجیے، ہمیں راستہ آتا ہے، کفنوں کے گودام کے بعد بائیں ہاتھ، میک اپ روم سے گزر کر نیچے راہ داری میں، استقبالیہ سے ہوتے ہوئےوہاں گلی والا دروازہ ہے، آپ نہیں بھولیں گے، ہمیں سمتوں کا گہرا ادراک ہے، ہم کبھی نہیں بھولتے، بطور مثال، پانچویں ہفتے، اگلی قسط وصول کرنے کوئی آئے گا، مجھے کیسے علم ہو گا کہ وہ وہی ہے، جب تم اسے دیکھو گے تو تمھیں کوئی شبہ نہیں ہو گا، خدا حافظ،ہاں، خدا حافظ، ہمارا شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

آخر میں، اخیرضرور، پَرَنتُو حقیر نہیں، پاپائی کیتھولک کلیسائے روم کے پاس خوشی منانے کے بہت سے جواز تھے۔ جو آغاز سے قائل تھے کہ موت کا سقوط صرف ابلیس کا کام ہو سکتا ہےاور شیطانی کاموں کا مقابلہ کرنے میں خداوند کی مدد کرنا اس بڑھ کر کچھ نہیں کہ دعا سے چمٹے رہیں، انھوں نے عجز کی صفت کو، جو وہ عموماً ظاہر کرتے تھے، ایک جانب رکھا، معمولی سعی اور قربانی سے نہیں، کہ بلا جھجھک خود کو دعا کی قومی تحریک پر مبارک باد دیں، یاد رہے، جس کامقصد، آسمانی باپ سے استدعاکرنا تھا، بے بس انسانیت کو بد ترین اندیشوں سے محفوظ کرنے کی خاطر جتنا جلد ممکن ہو موت کو واپس لائے، اختتامِ اقتباس۔ فریادوں نے عالمِ بالا تک پہنچنے میں تقریباً آٹھ مہینے لگائے، لیکن جب آپ سوچتے ہیں کہ مشتری سیارے تک پہنچنے میں چھ مہینے لگتے ہیں، تو عالمِ بالا جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں، لازماً اس سے کہیں آگے ہو گا، زمین سے لگ بھگ تین سو کروڑ نوری سال، چنانچہ کلیسا کی جائز طمانیت پر ایک گہرا بادل سایہ فگن ہے۔ علمائے مذہب بحث کرتے اور اس سبب پر، جس نے خداوند کو موت کی اچانک واپسی پر آمادہ کیا، متفق ہونے میں ناکام رہتے۔ کم از کم وقت دیے بنا کہ باسٹھ ہزار مرتے ہوؤں کی آخری رسوم ادا کی جائیں، جو الودائی مسیحی میثاق کے وقار سے محروم رہے، وہ ایسا کہنے سے کم وقت میں گزر گئے۔ آیا خداوند کو موت پر اختیار حاصل ہے، یا اس کے برعکس سلسلۂ مراتب میں موت خدادند سے افضل ہے، یہ پریشان کن سوچیں اس مقدس ادارے کے دلوں اور ذہنوں کو مسلسل مضطرب کیے ہوئے تھیں، جب نمایاں شواہد مل گئے کہ خداوند اور موت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو اب اسے اتنا زیادہ قابلِ نفریں توہینِ مذہب نہ گردانا جائے۔ یہ تھی وہ کم از کم حقیقت جو سطح کے نیچے چل رہی تھی، جب کہ دوسروں کو لگتا تھا کہ کلیسا کی اہم مصروفیت اُن کی مادر ملکہ کے جنازے میں شرکت تھی۔اب جب کہ باسٹھ ہزار عام مرنے والے بَحفاظت اپنی اپنی آخری آرام گاہ میں تھےاور شہر کی ٹریفک پر مزید چھائے ہوئے نہیں تھے، یہ وقت تھا کہ قابلِ احترام خاتون کی شایانِ شان طریق پر، سیسے کے تابوت میں لٹا کر، شاہی قبرستان میں تدفین کی جائے۔ جیسا کہ تمام اخبارات متفق تھے، یہ ایک دور کا اختتام تھا۔

9

ممکن ہے کہ اس مہذب تربیت، اس نوع کی جو تیزی سے کم یاب ہو رہی ہے، شاید توہمات کے حوالے سے لکھا گیا، لفظ مخصوص بزدل کردار پیدا کر سکتا ہے، نے قارئین کو روکا ہو، اگر چہ وہ بالکل حق پر ہیں، کمزوری نظر آنے والی بے صبری دکھانے میں، مفہوم لینے پر اس طویل گریز سے اور مطالبہ کرنے میں کہ بتایا جائے کہ اس فیصلہ کن رات تک، جب اس نے اپنی واپسی کا اعلان کیا، موت کیا کر رہی تھی۔ اب دیکھتے ہوئے اہم کردار جو ضعیف خانوں، ہسپتالوں، بیمہ کمپنیوں، ماپیا اور کیتھولک کلیسا نے اِن غیر معمولی حالات میں ادا کیا، واقعات میں اِن اچانک اور ڈرامائی تبدیلیوں پر انھوں نے جس طرح کا ردِ عمل دکھلایا، صرف غیر ضروری تفصیل بیان کرنا لگتا ہے، لیکن اُس وقت تک، یقیناً، موت نے قافلوں کی غیر معمولی تعداد دیکھتے ہوئے، جنھیں اس کے اعلان کے فوراً بعد کے چند گھنٹوں میں دفن کیا جانا تھا، ہم دردی کے ایک غیر متوقع اور قابلِ ستائش انداز میں فیصلہ کیا کہ مزید چند دنوں کے لیے اپنی غیر حاضری میں توسیع کرے، تا زندگی کو اپنی ڈگر پر واپس آنے کے لیے وقت دے، نئے مرنے والے افراد، جو مرے سابقہ دور کی بحالی کے ابتدائی چند دنوں کے دوران، اُن کو شمار کیا گیا اُن بد نصیبوں میں، جو مہینوں سے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان معلق تھے، اس کے بعد، جیسا کہ قدرتی ہے، ہمیں نئی اموات پر بھی بات کرنا ہو گی۔ تاہم، ایسا نہیں تھا جو ہوا، موت اتنی مہربان بھی نہیں تھی۔ ایک ہفتے کا وقفہ، جس کے دوران کوئی نہیں مرا، جس سے ابتدا میں یہ غلط فہمی پیدا ہوئی، حقیقت میں کچھ نہیں بدلا، ایسا صرف نئے ضوابط کے نتیجے میں ہوا، جو موت اور مرنے کے مابین لاگو ہوئے، یعنی ہر فرد کو پیشگی اطلاع ملے گی کہ اس کے پاس رہنے کو ایک ہفتہ ہے، ہم کَہ سکتے ہیں، بقایا ادئیگی ایک ہفتہ تھی، اس میں اپنے معاملات دیکھیں، وصیت تیار کریں، اپنے بقایا ٹیکس ادا کریں اور اپنے گھر والوں اور قریبی دوستوں کو خدا حافظ کہیں، سوچنے کی حد تک یہ بات اچھی دکھتی ہے، لیکن جلد ظاہر ہو گا، عملاً ایسا نہیں تھا۔ ایک آدمی کا تصور کریں، ایسا آدمی جو شان دار صحت کے مزے اُٹھا رہا ہے، جو کبھی سر درد میں بھی مبتلا نہیں ہوا، وہ جو ہر دو پہلوؤں سے، مزاجاً اور ایسا ہونے کے واضح اور حقیقی اسباب موجود ہونے کی بنا پر، رجائی ہے، ایک صبح وہ اپنے گھر سے نکل کر کام پر جاتے ہوئے، اپنے انتہائی تعاون کرنے والے مقامی ڈاکیے سے ملتا ہے، جو کہتا ہے، خوش قسمتی سے آپ مل گئے، مسٹر فلاں فلاں، میں آپ کے لیے ایک خط لایا ہوں، وہ آدمی اپنے ہاتھ میں ایک بنفشی لفافہ لیتا ہے جس پر وہ شاید کوئی توجہ نہ دے، لے دے کر، یہ بھی اُن براہ راست مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے اشتہاری خط ہو گا، سوائے اس کے کہ لفانے پر اس کا نام عجیب لکھت میں لکھا ہوا ہے، بالکل اخبار میں چھپنے والے مشہور چربے جیسی، اگر اس لمحے اس کا دل خوف سے دھڑکے، اگر اس پر کسی ناگزیر آفت کا وحشت انگیز خوف طاری ہو جائےاور وہ خط وصول کرنے سے انکار کی کوشش کرے تو وہ ایسا نہیں کر پائے گا، یہ ایسے ہی ہو گا جیسے کوئی سیڑھیاں اترتے ہوئے گرے ہوئے کیلے کے چھلکے پر پھسلنے سے بچانے کے لیے، آرام سے اس کی کہنی پکڑ کر، اس کی رہ نمائی کر رہا ہو، اس کی مدد کر رہا ہو کہ موڑ پر اپنے پاؤں کو ٹھوکر نہ لگوا بیٹھے۔ لفافے کو پرزے پرزے کرنے کی کوشش کرنا قطعاً بے کار ہو گا، کیوں کہ سب کو علم ہے کہ موت کے خطوط واضح طور پر غیر فانی ہیں، جنھیں ویلڈنگ پلانٹ کا انتہائی طاقت ور شعلہ بھی نہیں جلا سکتا، جب کہ ہوشیاری دکھاتے ہوئے ظاہر کرنا جیسے گر گیا، اتنا ہی بے کار ہے کیوں کہ خط خود کو گرنے نہیں دے گا، یہ اس کی انگلیوں سے ایسے چپکا رہے گا جیسے گلو سے جوڑا ہو، فرضِ محال اگر کسی معجزے سے یہ ناممکن ہو جائے، آپ یقین کیجیے، کوئی ہم درد شہری اسے فوراً اُٹھائے گا اور اس آدمی کے پیچھے دوڑے گا، جو کوشش کر کے ظاہر کر رہا ہو گا کہ اسے پَتا نہیں چلا، اور کہے گا، یہ خط آپ کا ہے، میرا خیال ہے، یہ اہم ہو گا، تب اس آدمی کو دکھ سے جواب دینا پڑے گا، ہاں، یہ اہم ہے، تکلیف کا بہت بہت شکریہ۔ لیکن ایسا صرف آغاز میں ہو سکتا تھا، جب بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ موت اپنے ناخوش گوار خطوط پہنچانے کے لیے محکمہ ڈاک کا استعمال کر رہی ہے۔ چند دنوں میں بنفشی رنگ سب سے ناپسندیدہ، سیاہ سے بھی بڑھ کر ناپسندیدہ رنگ بن جائے گا، قطع نظر اس کے کہ سیاہ رنگ سوگ کی علامت ہے، لیکن یہ بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ سوگ زندہ ہی مناتے ہیں، مرنے والے نہیں، اگرچہ ثانی الذکر آمادہ ہوتا ہے کہ سیاہ لباس میں دفن ہو۔ چناں چہ،اس آدمی کی سٹ پٹاہٹ،خوف اور سراسیمگی کا تصور کریں، جو کام پر جا رہا ہو اور اچانک اس کے راستے میں موت ایک ایسے ڈاکیے کے روپ میں آئے جو دوسری مرتبہ قطعاً نہیں کھٹکھٹائے گا، کیوں کہ اگر مکتوب الیہ اسے گلی میں نہ ملتا، وہ اسے متعلقہ لیٹر باکس میں ڈال دے گا یا دروازے کے نیچے سے کھسکا دے گا۔ آدمی وہاں کھڑا ہے، سڑک کے کنارے، اپنی شان دار صحت کے ساتھ، اس کا مضبوط سر، اتنا مضبوط کہ اتنے شدید صدمے کے باوجود، اب بھی درد نہیں کر رہا، اچانک دنیا نے اس سے یا اس نے دنیا سے ناتا توڑ لیا، انھوں نے ایک دوسرے کو صرف سات دنوں، مزید ایک دن نہیں، کا وقت دیا ہے، اس بنفشی رنگ کے خط کے مطابق، جسے اس نے ابھی ابھی ڈرتے ڈرتے کھولا ہے،اس کی آنکھیں اتنی ڈبڈبائی ہوئی ہیں کہ اس نے بمشکل خط کی تحریر پڑھی، محترم جناب، میں افسوس سے آپ کو یہ اطلاع دیتی ہوں کہ ایک ہفتے میں آپ کی زندگی ختم ہو جائے گی، ناقابلِ تنسیخ اور اٹل۔ مہربانی فرما کر آپ کے پاس جو وقت بچا ہے اس کا جہاں تک ممکن ہو بہترین استعمال کریں، آپ کی مخلص، موت، دست خط میں موت Death کے لیے چھوٹی ڈی یعنی اسم نکرہ کا استعمال کیا گیا، جیسا کہ ہمیں علم ہے، یہ ایک طرح اس کے اصل ہونے کا ثبوت ہے۔ آدمی متذبذب ہے، پوسٹ مین نے اسے مسٹر فلاں فلاں کہا تھا، جس کا مطلب ہے، جیسا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں، وہ مرد ہے، آدمی سوچتا ہے، گھر جائے اور اپنے گھر والوں کو اس ناقابلِ تنسیخ تحریر کے بارے میں بتائے، یا اس کے برعکس، آنسو پونچھے اور اپنا سفر جاری رکھے جہاں اس کی ذمہ داری اس کا انتظار کر رہی ہے اور جو دن اس کے پاس باقی ہیں انھیں مکمل کرے، پھر اس قابل ہو کہ سوال کر سکے، موت، کہاں ہے تمھاری فتح، اگرچہ جانتا ہے، اسے کوئی جواب نہیں ملے گا، اس لیے نہیں کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی، بلکہ اس لیے کہ وہ نہیں جانتی کہ سب سے بڑے انسانی صدمے پر کیا کہے۔

گلی میں پیش آنے والا یہ واقعہ، جو صرف ایسی چھوٹی جگہ ممکن ہے جہاں ہر شخص باقی سب کو جانتا ہو، موت کے عارضی معاہدے، جسے ہم زندگی یا موجودگی کا نام دیتے ہیں، کی منسوخی کے لیے قائم کردہ اطلاعاتی نظام کے مسائل کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ اسے، بہت سے دوسرے مظالم، جن کا ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں، کی مانند اذیت پسندانہ ظلم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن موت کو ظالم بننے کی کیا ضرورت ہے، لوگوں کی جان لینا ہی کیا کم ہے۔ اس نے تو اِن کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ اور اب،جیسا کہ سات ماہ سے زیادہ کے طویل وقفے کے بعد اسے اپنی امدادی خدمات کو نئے سرے سے منظم کرنے میں مصروف ہونا چاہیے تھا، اس کے پاس کے لیے نہ تو آنکھیں ہیں اور نہ ہی کان، اُن مرد و زن کی مایوسی اور صدمے کی آہ و زاری کے لیے، جنھیں ایک ایک کر کےاُن پر نازل ہونے والی موت کی اطلاع دی جا رہی تھی، بعض کیسز میں، مایوسی اور صدمے کے احساسات، جو اس نے سوچا تھا کے بالکل برعکس نتائج ظاہر ہو رہے ہیں، کیوں کہ غائب ہونے کا مستوجب قرار پانے والے اپنے معاملات نہیں نمٹا رہے، وہ اپنی وصیت نہیں لکھ رہے، وہ اپنے واجب الادا ٹیکس نہیں ادا کر رہے اور جہاں تک اُن کے اپنے گھر والوں اور قریبی دوستوں کو الوداع کہنے کا تعلق ہے، وہ اسے آخری لمحات پر ٹال رہے ہیں، جو یقناً انتہائی دکھ بھری جدائی کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔ موت کی حقیقت، جس کا دوسرا نام ہے، مقدر، سے نا آشنا اخبارات اس پر جارہانہ حملے کرنے میں بہت آگے نکل گئے، اسے بے رحم، ظالم، جابر، بدمعاش، خون آشام، بے وفا اور دھوکے باز، چڑیل، نحوست کی ملکہ سکرٹ والی ڈریکولا، انسانیت کی دشمن، قاتلہ اور ایک مرتبہ پھر عادی قاتلہ قرار دیا، وہاں مسخرہ نوعیت کا ایک ہفت روزہ جریدہ ایسا بھی تھا، جس کے لکھاریوں نے اپنے تمام تر پھکڑ پن کا نچوڑ نکالتے ہوئے اصطلاح گھڑی، کتیا کی بچی۔ خوش قسمتی سے کچھ اخبارات نے مہذب رویے برقرار رکھے۔ مملکت کے انتہائی قابلِ احترام اخبارات میں سے ایک، قومی اخبارات کے گرو، نے ایک دانش مندانہ اداریہ شائع کیا، جس میں اس نے متذبذب ہوئے بنا، دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے قومی جذبے کے ساتھ، موت سے ایک بلا تکلف اور کھلا مکالمہ کرنے کا مشورہ دیا، قدرتاً یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اس کے غار، اس کی پناہ گاہ، اس کے ہیڈ کوارٹر تک، جہاں وہ رہتی ہے، پہنچ جائیں گے۔ ایک دوسرے اخبار نے مشورہ دیا، بااختیار پولیس سٹیشنری کی دکانوں اور کاغذ تیار کرنے والوں سے تحقیق کرے، کیوں کہ بنفشی رنگ کے لفافے استعمال کرنے والے افراد نے، اگر کوئی تھے، جو پہلے ہی بہت کم ہوں گے، یقیناً موجودہ واقعات کے پیشِ نظر اپنا ذوق تبدیل کر لیا ہو گا، چناں چہ اگلی مرتبہ جب وہ کاغذات لینے آئے تو خطرناک خریدار کو پکڑنا انڈہ ابالنے کی طرح آسان ہو گا۔ دوسرے کے شدید مخالف، ایک اور اخبار نے فوراً اس تجویز کو بھونڈی اور واہیات قرار دیا، کیوں کہ کوئی پکا بے وقوف ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ موت، جو ہر فرد جانتا ہے، چادر میں لپٹا ہوا ایک ڈھانچہ ہے، فٹ پاتھ پر ایڑیاں کھٹکھٹاتی، اپنے خط پوسٹ کرنے باہر نکلے گی۔ اخبارات سے پیچھے نہ رہ جانے کی خواہش میں، ٹیلی وژن نے وزیرِ داخلہ کو مشورہ دیا، ہر لیٹر بکس اور پوسٹ آفس پر پولیس تعینات کی جائے، ظاہر ہے، فراموش کرتے ہوئے کہ جس وقت، اس کے نام پہلا خط، ٹیلی وژن کے ڈائرکٹر جنرل کے دفتر میں پایا گیا، دروازے پر دہرا تالا لگا تھا اور کھڑکی کا کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا تھا۔ فرش، دیواروں اور چھتوں پر کوئی درز نظر نہیں آئی تھی، اتنی باریک بھی نہیں، جس سے بلیڈ گزر سکے۔ شاید، واقعی یہ ممکن تھا کہ موت کو مرنے کی سزا پانے والے بد نصیب پر ترس کھانے پر مائل کیا جائے، لیکن ایسا کرنے کے لیے انھیں اسے تلاش کرنا تھا، اور کسی کو علم نہیں تھا کہ کیسے اور کہاں۔
اس وقت، اپنے شعبے سے متعلق، بلا واسطہ یا بالواسطہ، ہر چیز سےبخوبی آگاہ عدالتی امور کا ایک عالم تھا، اس کا خیال تھا کہ کھوپڑی سے چہرہ مکمل کرنے والے ایک قابلِ احترام غیر ملکی ماہر کو بلایا جائے، یہ ماہر قدیم پینٹنگز اور کندہ کی گئی موت کی تصاویر، خصوصاً جن تصاویر میں اس کی کھوپڑی واضح دکھائی دیتی ہے، پر بنا کرتے ہوئے کوشش کرے گا کہ غائب ہونے والے گوشت کی جگہ پر کرے، آنکھوں کے ڈھیلے انپے خانوں میں فٹ کرے، متعلقہ جگہوں پر بال، پلکیں اور بھویں لگائے، اسی طرح اس کے گالوں پر مناسب رنگ کرے، یہاں تک کہ سر مکمل طور ہر تیار ہو جائے، جس کی تصویر کی ایک ہزار نقول تیار کی جائیں، جنھیں اتنی تعداد میں تفتیشی اپنے اپنے والٹ میں رکھیں، جو نظر آنے والی ہر عورت سے اس کا موازنہ کر سکیں۔ مسئلہ یہ ہوا، جب غیر ملکی ماہر نے اپنا کام مکمل کر لیا، انتہائی غیر تربیت یافتہ نگاہ والا کوئی اناڑی کَہ بیٹھا، منتخب کی جانے والی تینوں کھوپڑیاں ایک جیسی ہیں، جس نے تفتیش کاروں کو مجبور کیا کہ ایک کے ساتھ نہیں، بلکہ تین تصویروں کے ساتھ کام کریں، جو ظاہر ہے، پر جوش انداز میں، جرات مندی کے ساتھ اس آپریشن کو دیے گئے نام، موت کی تلاش، میں رکاوٹ تھی۔ صرف ایک بات بلا شُبہ طَے تھی، جس پر بالکل ابتدائی نقاشی، انتہائی پے چیدہ طریقِ تسمیہ اور انتہائی تجریدی علامت نگاری سب متفق تھے،موت، اپنی ساخت، اوصاف اور خصوصیات میں بلا شبہ عورت ہے۔ جیسا کہ بلا شک آپ کو یاد ہو گا، ممتاز تحریر شناس، جس نے موت کے پہلے خط کاتجزیاتی مطالعہ کیا، واضح طور پر اسی نتیجے پر پہنچا جب اس نے خط لکھنے والی کا ذکر بطور اس کی مصنفہ کیا، لیکن یہ صرف عادتاً بھی ہو سکتا ہے، دیکھتے ہوئے کہ صرف چند زبانوں کے استثنا کے ساتھ جو، کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر، مذکر یا بلا جنس استعمال کرتی ہیں، موت ہمیشہ مونث شمار کی گئی ہے۔ قبل ازیں ہم آپ کو بتا چکے ہیں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو، آپ بھول جائیں، علاوہ ازیں یہ اس حقیقت پر اصرار بھی ہو گا کہ تین چہرے، تینوں زنانہ، تینوں نوجوان، ہر ایک کو دکھائی دینے والی واضح مماثلتوں کے باوجود، ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ تین مختلف موتوں کی موجودگی، بطور مثال، تین شفٹوں میں کام کرتی، سیدھے سبھاؤ ناقابلِ تسلیم تھا، چناں چہ اِن میں سے دو کو نکالنا ہو گا، معاملات کو مزید پے چیدہ بنانے کے لیے، اگرچہ یہ بھی ممکن تھا کہ اصلی اور حقیقی موت منتخب کی جانی والی تینوں کھوپڑیوں میں سے کسی کے مشابہ نہ ہو۔ جیسا کہ کہاوت ہے، اندھیرے میں بندق چلانا اور توقع کرنا، مقدر ہو گا تو شکار گولی کے راستے میں آ جائے گا۔

تفتیش کا آغاز، جیسا کہ اسے ہونا تھا، سرکاری محکمہ شناخت کے آثار کی تصاویر کی، جس میں پورے ملک میں بسنے والے تمام مقامی اور غیر ملکی افراد، ہر دو، شامل تھے، مخصوص بنیادی خصوصیات کے اعتبار سے گروہ بندی کرنے اور ترتیب دینے سے ہوا، کتابی چہرے ایک جانب، بیضوی چہرے دوسری جانب کیے گئے۔ نتائج مایوس کن تھے۔ قدرتاً، جب،جیسا کہ ہم پہلے کَہ آئے ہیں، آغازمیں چہرے کی تشکیلِ نو کے لیے ماڈل پرانے کندہ نقوش اور پینٹنگز سے منتخب کیے گئے، حقیقت میں کسی کو موت کی انسانی شبیہ کے موجودہ نظامِ شناخت میں، جو ایک صدی سے کچھ قبل ہی قائم کیا گیا تھا، پائے جانے کی امید نہیں تھی، لیکن دوسری جانب یہ سوچتے ہوئے کہ موت ہمیشہ موجود رہی ہے، اور یہ فراموش نہ کرتے ہوئے کہ اس کے لیے اسرار میں رہتے ہوئے شکوک و شبہات سے محفوظ رہ کر اپنا کام جاری رکھنا لازماً دشوار ہو گا، یہ فرض کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ مختلف ادوار میں اسے چہرہ بدلنے کی ضرورت پیش آئی ہو گا، چوں کہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں، موت کے لیے کچھ ناممکن نہیں، چناں چہ یہ فرض کرنا منطقی ہو گا کہ اس نے شہریوں کی رجسٹریشن ریکارڈ میں اپنا اندراج فرضی نام سے کرایا ہو گا۔ معاملے کی حقیقت کچھ بھی ہو، سچ یہی ہےکہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا ایکسچینج کے ماہرین سے مدد لیے جانے کے باوجود، تفتیش کاروں کو ایک بھی قابلِ شناخت عورت کی تصویر نہیں ملی جو موت کے تین تخیلاتی خاکوں سے کسی طرح کی مماثلت رکھتی ہو۔ جیسا کہ پہلےسے اندیشہ تھا، تب وہاں، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ پولیس کے روایتی طریقِ تفتیش، معلومات کے اجزا کو یک جا کرنا، کی جانب لوٹتے ہوئے ایک ہزار ایجنٹوں، جن کا ذکر گزر چکا، کو طلب کریں، جو ایک ایک گھر میں، ایک ایک دکان میں، ایک ایک دفتر میں، ایک ایک فیکٹری میں، ایک ایک ریسٹورنٹ میں، ایک ایک بار میں، حتا کہ ان مقامات میں جو جنس کے زحمت طلب عمل کے لیے مخصوص ہیں، جا کر اس سر زمین میں موجود تمام عورتوں کو، سوائے کم سِن اور وہ جو بوڑھی یا ادھیڑ عمر ہیں، چیک کریں، کیوں کہ اُن کی جیب میں موجود تین تصویریں واضح کرتی ہیں کہ موت، اگر کبھی مل گئی، چھتیس برس کے لگ بھگ اور لاریب انتہائی خوب صورت عورت ہو گی۔ اُن کو فراہم کیے گئے نمونوں کے مطابق ِان میں سے کوئی بھی موت ہو سکتی تھی، اگر چہ اُن میں کوئی بھی نہیں تھی۔ بڑی کوششوں کے بعد، گلیوں میں، سڑکوں اور پگ ڈنڈیوں پر میل ہا میل پیدل گھسٹنے، ایک سرے سے دوسرے سرے تک بکھری ہوئی چڑھائیوں پر چڑھائیاں، جو اُنھیں آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی تھیں، چڑھنے کے بعد ایجنٹوں نے دو عورتوں کو شناخت کرنے کا معرکہ سر کر لیا، جو ریکارڈ میں موجود تصویروں سے مختلف تھیں، کیوں کہ انھوں نے کاسمیٹک سرجری، جس نے حیران کُن اتفاق سے، غیر متوقع طور پر، ان کے چہروں کی ماڈلوں میں ڈھالے گئے چہروں سے مماثلت پیدا کر دی تھی۔ تاہم، اُن کی زندگیوں کے انتہائی باریک بینی سے کیے گئے مطالعے نے، کسی غلطی کے امکان کے بغیر، ان کے خود کو، پیشہ وارانہ یا صرف شوقیہ، موت کی مہلک سرگرمیوں کے لیے جز وقتی طور پر بھی وقف کرنے کے امکان کو خارج از امکان قرار دیا۔ جہاں تک تیسری عورت کا تعلق ہے، جس کی شناخت صرف خاندانی البم سے ہوئی، گزشتہ برس فوت ہو چکی تھی۔ اخراج کے سادہ عمل کے مطابق، ایسا فرد جو خود موت کا شکار ہوا ہو، خود موت نہیں ہو سکتا۔ یہ بتا نے کی ضرورت نہیں، جن دنوں یہ تفتیش، جو چند ہفتوں جاری رہی، جاری تھی، بنفشی رنگ کے لفافے اپنے مکتوب الیہان کے گھروں میں پہنچتے رہے۔ یہ امر واضح تھا، موت انسانیت کے ساتھ اپنے معاہدے سے سرِ مو انحراف نہیں کرے گی۔

قدرتاً، ضرور کوئی سوال کر سکتا ہے، کیا حکومت بس بے حس اور خاموش کھڑی ملک کے ایک کروڑ شہریوں سے روزانہ کھیلے جانے والا کھیل دیکھ رہی تھی۔ اس کے جواب کی دو جہتیں ہیں، ایک پہلو سے ہاں دوسرے پہلو سے نہیں۔ ہاں، اگرچہ صرف متعلقہ پس منظر میں، اس لیے کہ مرنا لے دے کر، زندگی کا معمول اور ناگزیر امر ہے، خالصتاً روزمرہ کی حقیقت ہے، کم از کم آدم اور حوا کے دور سے نسلاً بعد نسلاً آنے والی نسل کو منتقل ہونےوالے نامختتم ورثے کی ایک قسط ہے، اب اگر اپنے گھر میں مفلسی کے ہاتھوں مرنے والے ہر بوڑھے آدمی کی موت پر ملکی حکومتیں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان شروع کر دیں تو وہ عوام کے غیر محفوظ ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچائیں گی۔ اور نہیں، کیوں کہ بھلے آپ جتنے بھی سنگ دل ہوں، یہ ناممکن ہو گا کہ موت کی جانب سے دیے جانے والے ایک ہفتے کے نوٹس جو حقیقی اجتماعی آفت پر چھا گئے تھے، ہر روز کے صرف وہ تین سو نہیں جن کے دروازے پر بد نصیبی دستک دیتی ہوئی آتی، بلکہ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار اور سات سو، کم نہ زیادہ، ہر عمر، مقام اور کیفیت کے افراد سے لاتعلق رہیں، جو ہر صبح جب بھیانک خواب کے نتیجے میں اذیت ناک رات کے بعد بیدار ہوتے، دیکھتے کہ خطرے کی تلوار اُن کے سر پر لٹک رہی ہے۔ جہاں تک تین صد افراد کا تعلق ہے، جنھوں نے بنفشی رنگ کا قسمت کا لکھا وصول کیا ہوتا، جیسا کہ فطری ہے، ہر فرد کا اپنی شخصیت کے مطابق، نافذ ہونے والی سزا پر ردِ عمل مختلف ہوتا۔ مزید براں اُن لوگوں، جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، کی مانند، جنھوں نے، انتقام کے غیر متوازن نظریے، جسے بجا طور پر تنگ نظری کا گلا سڑا اظہار کہا جا سکتا ہے، فیصلہ کیا کہ وصیت نہ لکھتے ہوئے اور اپنے واجب الادا ٹیکس ادا نہ کرتے ہوئے اپنی معاشرتی اور عائلی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جائیں، وہیں بہت سے ایسے بھی تھےجنھوں نے، ہرکولیس کے قول، آج کو غنیمت کو جانو، کے انتہائی بگڑے مفہوم پر عمل کرتے ہوئے، جو تھوڑی سی زندگی اُن کے پاس بچی تھی، ممکن ہے یہ سوچتے ہوئے، خود کو جنس، نشے اور الکوحل کی قابلِ مذمت بد مستیوں میں ضائع کر دیا، کہ اِن وحشیانہ سرگرمیوں میں غرق ہونے پر، اُن پر کوئی خدائی عذاب نازل ہو گا، یا آسمانی بجلی گرے گی، جو انھیں موقع پر ہلاک کرتے ہوئے، انھیں موت کی گرفت سے چھین لےگی، شاید اس طرح وہ موت کو جُل دینے میں کامیاب ہو جائیں، جو ممکن ہے اسے اپنے طریق بدلنے پر مجبور کر دے۔ کچھ، صابر، باوقار اور باحوصلہ افراد نے بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ موت کی منہ زور قوت کو آداب سکھائیں، خود کشی کا انقلابی قدم اٹھانے کافیصلہ کیا، جسے ہم اس نوع کا منہ توڑ جواب کہتے ہیں، جو وقت کے اعتقاد کے مطابق، مزید تکلیف دہ ہوتا اگر اس کی بنیاد اخلاقی اور سماجی شعبے میں ہو تی اور زمانہ قدیم کی جسمانی انتقام کی خواہش نہ ہوتی۔ قدرتاً، یہ تمام کوشش ناکام ہوئیں، ماسوا، اُن کے جنھوں نے دی گئی تاریخ کے آخری دن خود کُشی کا فیصلہ کیا۔ ایک ماہرانہ چال، جس کا موت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

عمومی طور پر عوامی مزاج کو، حقیقی مفہوم میں، اپنے مفاد میں استعمال کرنے والا ادارہ، کیتھولک کلیسائے پاپائے روم، تھا، جس کے لیے، جب سے ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں روزمرہ کے ابلاغ، نجی اور عوامی، ہر دو، میں مخففات کا چلن تیزی سے پھیلا ہے، شاید یہ ایک اچھی تجویز ہو گی کہ آسان مخفف ک۔ ک۔ پ۔ ر، یا، کک پر، کا استعمال کیا جائے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کلیسا جس طرح لگ بھگ دیکھتے دیکھتے، کسی امید افزا لفظ، کسی تسلی،کسی مرہم، کسی مسکن،کسی روحانی سکون آور کی تلاش میں بوکھلائے ہوئے لوگوں سے بھر گئے، اسے نہ دیکھنے کے لیے آپ کو مادر زاد اندھا ہونا ہو گا۔ جو لوگ اس وقت تک اس سوچ کے حامل تھے کہ موت ناگزیر ہے، جس سے کوئی بچاؤ ممکن نہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سوچتے کہ جب وہاں مرنے والے بہت سے دوسرے افراد موجود ہیں، صرف بدقسمتی کی حقیقی ضرب کے نتیجے میں ہی اُن کی باری آ سکتی ہے، یہ چند افراد بھی اب اپنا وقت پردوں کے پیچھے چھپ کر جھانکتے ہوئے ڈاکیے کے انتظار میں، یا گھر لوٹتے ہوئے لرزنے میں گزارتے، جہاں ممکن ہے دروازے کے پیچھے، جبڑے کھولے عفریت سے کہیں بڑھ کر بنفشی رنگ کا ہیبت ناک خط اُن پر جھپٹنے کے لیے تیار ہو۔ کلیساؤں میں ایک لمحے کے لیے بھی کام نہیں رکا، فیکٹریوں میں تیاری کے ترتیب وار مراحل کی مانند، کلیسا کے مرکزی ہال کے گرد دو چکر لگاتے ہوئے پشیمان گناہ گاروں کی طویل قطاریں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔ اعتراف کرانے کا فریضہ سر انجام دینے والے کبھی نہ رُکتے، کبھی کبھی وہ تھکاوٹ سے الجھ جاتے، بعض مواقع پر کسی چسکے دار تفصیل سے اُن کے کان اچانک کھڑے ہو جاتے، لیکن آخر میں بے شمار فادر، بے شمار الوداعی خطاب، پھر گناہوں سے معافی کے الفاظ کی تیز تیز دہراتے ہوئے ایک کفارہ نامہ تھما دیتے، ایک اعتراف کنندہ کی رخصت اور دوسرے گناہ گار کے گھٹنے ٹیکنے کے درمیان مختصر وقفے کے دوران اعتراف کروانے والے چکن سینڈوچ، جو اُن کا دوپہر کا کھانا ہوتا، کا ایک لقمہ نگلتے ہوئے شام کے کھانے پر کسی حد تک تلافی کا دھندلا سا تصور کرتے، خطبات بلا کسی تبدیلی، آسمانی بہشت، جہاں، یہ کہا گیا، کبھی کوئی زندہ داخل نہیں ہو سکتا، میں داخل ہونے کا واحد راستہ،موت، کے موضوع پر ہوتے، واعظین، اپنے سہمے ہوئے سامعین کی ڈھارس بندھانے کے اشتیاق میں انتہائی پر تکلف اندازِ بیان اور انھیں قائل کرنے کی خاطر مذہبی سوال و جواب کے انتہائی سطحی حربے استعمال کرنے میں تردد نہ کرتے، تا کہ بالآخر وہ خود کو اپنے آبا و اجداد سے زیادہ خوش نصیب سمجھیں، کیوں کہ موت نے انھیں اتناوقت دیا ہے کہ اپنی روحوں کو جنت میں جانے کی خاطر تیار کر لیں۔ تاہم، چند پادری ایسے بھی تھے، جو اعتراف کیے گئے متعفن اندھیروں میں الجھ گئے، انھیں اپنے حوصلے بلند کرنے کی ضرورت تھی، خدا جانے کس قیمت پر، کیوں کہ انھوں نے بھی اسی صبح بنفشی رنگ کا لفافہ وصول کیا تھا، اس طرح جو تسکین بخش الفاظ وہ ادا کر رہے تھے، اُن کی تاثیر پر شک کرنے کا اچھا خاصہ جواز تھا۔

نفسیاتی معالجین کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا، کیوں کہ وزیر صحت نےکلیسا کی، جو خستہ حالوں کی دست گیری کرتے ہوئے معالجاتی امداد فراہم کر رہا تھا، فوری تقلید کی۔ کسی نفسیاتی معالج کے لیے کسی مریض سے مشاورت، اذیت سے پہنچنے والی تکلیف میں افاقے کا بہترین ذریعہ آنسو ہیں، کے دوران اچانک خود اس کا بے اختیار سسکیاں لینا باعثِ تعجب نہیں تھا، اگر اسے خیال آئےکہ اگلے روز ڈاک کے ذریعے ایک مخصوص لفافہ وصول کرنے والوں میں شاید وہ خود بھی شامل ہو گا۔ معالج اور مریض دونوں، یک ساں بدنصیبی کے شکنجے میں گرفتار، اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئےمشاورت کا دورانیہ مکمل کریں، لیکن معالج یہ سوچتے ہوئے کہ اگر بد نصیبی اس پر ٹوٹی، تو بھی اس کے پاس زندہ رہنے کو سات دن، ایک سو بانوے گھنٹے ہوں گے۔ جنس، نشے اور شراب کی چند بدمستیاں، جن کا اہتمام کیے جانے کے بارے میں اس نے سنا تھا، اگلے جہان کو اس کا سفر آسان بنا دیں گی، اگر چہ، قدرتاً، اس صورت میں خطرہ مول لیتے ہوئے کہ جب آپ وہاں آسمانی تخت پر ہوں، ممکنہ طور پر آپ اس دنیا سے مزید شدت سے محروم ہوں۔

10

اقوام کی دانش کے مطابق ہر قاعدے میں، حتا کہ ان قاعدوں میں بھی جنھیں عموماً ناقابلِ تنسیخ قرار دیا جاتا ہے، جیسا کہ بطور مثال، وہ جن کا تعلق موت کے اقتدار سے ہے، جن میں، تعریف کے مطابق کبھی کوئی استثنا ممکن نہیں، کوئی نہ کوئی استثنا ہوتا ہے، اگرچہ بظاہر عجیب ہے، پھر بھی یہ واقعی سچ ہی ہو گا، کیوں کہ،جیسا کہ یہ ہوا، بنفشی رنگ کا ایک خط اس کی ارسال کنندہ کو واپس بھیج دیا گیا۔ کچھ لوگ معترض ہوں گے، ایسا ہونا ناممکن ہے، کیوں کہ ہر جگہ موجود ہونے کے ناطے موت کسی ایک مخصوص مقام پر نہیں ہو سکتی، چناں چہ کوئی بھی تلاش کرنے اور شناخت کرنے کے معانی، جو ہم مجموعی طور پر ارسال کنندہ کے لفظ سے مراد لیتے ہیں، یا وہ مقام جہاں سے خط آیا، کے معانی میں، جو یہاں مقصود ہیں، کا طبعیاتی اور مابعد طبعیاتی، ہر دو اعتبار سے ناممکن ہونا اخذ کر سکتا ہے۔ باقی بھی اعتراض کریں گے، اگر چہ کم قیاس آرائی پر مبنی، جب ایک ہزار پولیس والے موت کو ہفتوں مسلسل تلاش کر رہے تھے، گھر، گھر سارا ملک چھانتے ہوئے تلاش کر رہے تھے، جیسے کسی باریک دندانوں والی کنگھی سے، قابو نہ آنے والی لیکھ، جو فرار ہونے کے طریقوں میں زبردست مہارت رکھتی ہو، کی تلاش میں ہوں، لیکن تاحال نہ تو اس کا ٹھکانہ ملا ہو اور نہ ہی کوئی سراغ، یہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر تاحال اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ موت کے خطوط کس طرح ڈاک میں پہنچتے ہیں، یقیناً ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جانے والا کہ کن پراسرار ذرائع سے واپس لوٹائے جانے والے خطوط اس کے ہاتھوں میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ ہم عاجزی سے تسلیم کرتے ہیں، اس سلسلے میں ہماری وضاحتیں اور بہت سی باتیں افسوس ناک حد تک ناکافی ہیں، ہمیں اعتراف ہے، ہم اس اہل نہیں کہ اُن لوگوں کے سامنے ایسی وضاحتیں پیش کریں جو اُنہیں مطمئن کر دیں جو اِن کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب تک، قاری کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئےاور واقعات کے منطقی جواز کا احترام نظرانداز کرتے ہوئے، ہم اساطیر کی خلقی مافوق الفطریت میں چند مزید مافوق الفطری باتوں کا اضافہ نہ کر لیں، اب ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اِن غلطیوں نے ہماری کہانی کے اعتبار کو شدید نقصان پہنچایا، بہر حال، اِن میں سے کسی کا، ہم دوبارہ کہتے ہیں، اِن میں سے کسی کا یہ مطلب نہیں کہ بنفشی رنگ کا وہ خط جس کا ہم نے ذکر کیا، اس کی ارسال کردہ کو واپس نہیں کیا گیا۔ حقائق حقائق ہیں، اور یہ حقیقت، بھلے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، ناقابل ِتردید نوعیت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا کیا ثبوت ہو گا کہ موت کا ہیولہ اب ہمارے روبرو ہے، ایک کرسی پر اس حالت میں براجمان کہ اس کے گرد چادر لپٹی ہوئی ہے اور استخوانی چہرے کے نشیب و فراز پر شدید حیرت کے تاثرات ہیں۔ وہ بے یقینی سے بنفشی لفافے کو دیکھتی ہے، اس کا جائزہ لیتی ہے، شاید اس پر کوئی ایسا نوٹ ہو جو ایسے مواقع پر ڈاکیے تحریر کرتے ہیں، بطور مثال، واپس لوٹایا، اس ایڈریس پر کوئی نہیں جانتا، مکتوب الیہ رابطے کا پَتا یا واپسی کی تاریخ بتائے بنا کہیں چلا گیا، یا صرف، مر گیا، میں بھی کتنی بے وقوف ہوں، وہ بڑبڑائی، وہ کیسے مر سکتا ہےجب کہ وہ خط جس نے اسے مارنا تھا کھلے بنا واپس آ گیا ہے۔ اس نے یہ آخری الفاظ انھیں کوئی زیادہ اہمیت دیے بنا سوچے، لیکن اس نے فوراً ایک مرتبہ پھر انھیں یاد کیا اور آوازِ بلند خواب ناک لہجے میں دہرایا، بنا کھلے واپس آ گیا ہے۔ یہ جاننے کے لیے آپ کو ڈاکیا بننے کی ضرورت نہیں کہ واپس آنا وہ حالت نہیں ہے جو واپس بھیجنا ہے، واپس آنے کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ بنفشی رنگ کا لفافہ اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہا، راستے میں کچھ ایسا پیش آیا کہ اس نے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈے اور جہاں سے چلا تھا وہیں لوٹ آیا۔ خط وہیں پہنچتے ہیں جہاں وہ لے جائے جاتے ہیں، اُن کی ٹانگیں یا پر نہیں ہوتے اور جہاں تک ہمیں علم ہے، انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار عطا نہیں کیا گیا، اگر انہیں اختیار ہوتا تو ہمیں یقین ہے، وہ اُن اذیت ناک خبروں کو لے جانے سے انکار کر دیتے جنہیں وہ اکثر لے کر جاتے ہیں۔ اس میری خبر کی مانند، موت نے غیر جانب داری سے سوچا، کسی سے کہنا کہ وہ فلاں مخصوص دن مر جائےگا، شاید بدترین خبر ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسےسزائے موت پر عمل درآمد کے انتظار میں کئی برس گزارنے کے بعد جیلر آپ کے پاس آئے اور کہے، یہ رہا خط، تیار ہو جاؤ۔ عجیب بات یہ ہے، پچھلی کھیپ کے تمام خطوط بَحفاظت اپنے مکتوب الیہان تک پہنچ گئےتھے، اگر یہ نہیں پہنچا تھا تو ایسا صرف کسی اتفاق کی بنا پر ہوا ہو گا، جس طرح محبت نامے کے معاملہ میں ہو جاتا ہے جسے، صرف خداوند جانتا ہے کہ کن حالات میں،صرف دو بلاک اور پندرہ منٹ سے بھی کم فاصلے پر رہنے والے مکتوب الیہ تک پہنچنے میں پانچ سال لگ جاتے ہیں،شاید ایسا ہوا ہو، یہ کسی کے علم میں آئے بغیر خطوط کی ایک قطار سے دوسری قطار میں شامل ہو گیا ہو اور پھر اس کے پاس، کسی ایسے مسافر کی مانند، جو صحرا میں کھو گیا ہو، اس کے سوا کوئی چارا نہیں تھا کہ اپنے پیچھے چھوڑے گئے نشانات پر واپس چلتا ہوا اپنی روانگی کے مقام کو لوٹ جائے۔ حل یہی ہو گا کہ اسے پھر سے بھیجا جائے، موت نے آنکڑے سے کہا، جو اس کے پہلو میں دیوار سے ٹیک لگائے تھا۔ کوئی بھی کسی آنکڑے سے جواب ملنے توقع نہیں کرے گا اور یہ بھی کوئی استثنا نہ نکلا۔ موت نے اپنی بات جاری رکھی، اگر میں نے تمھیں، تمھارے تیز رفتار طریق کار کے ساتھ، بھیجا ہوتا، تو معاملہ نمٹ چکا ہوتا، لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں اور سب کو اِن ذرائع اور نظام کو، جو وہ استعمال کرتے ہیں، نئی ٹکنالوجی اپناتے ہوئے جدید بنانا پڑے گا، مثلاً، ای۔ میل کا استعمال کر کے، میں نے سنا ہے، روشنائی کے دھبوں اور انگلیوں کے نشانات سے پاک ہونے کے ناطے یہ حفظانِ صحت کے عین مطابق ہے، مزید برآں تیز رفتارہے، آپ کو صرف مائیکرو سافٹ آؤٹ لک ایکسپریس کھولنا ہے اور یہ گئی، مسئلہ یہ ہے کہ دو مختلف نظاموں کے تحت آثار تیار کرنا اور اُن پر کام کرنا پڑے گا، ایک اُن کے لیے جو کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں کرتے، بہر حال، اس پر غور کرنے کے لیے ہمارے پاس کافی وقت ہے، یہ ہمیشہ نت نئے ماڈلوں اور ڈیزائنز میں، جدید ترقی یافتہ ٹکنالوجی کے ساتھ آتے رہتے ہیں، شاید کسی دن میں اس کا تجربہ کروں، لیکن اس وقت تک میں کاغذ، قلم اور روشنائی سے لکھتی رہوں گی، اس میں روایت کا حسن ہے، اور جب کوئی روایت ختم ہونے لگتی ہے تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ موت نے بنفشی رنگ کے لفافے کو گھور کر دیکھا، اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور خط غائب ہو گیا۔ تو اب ہمیں معلوم ہوا، بہت سے لوگوں کے خیال کے برعکس، موت اپنے خطوط لے کر ڈاک خانے نہیں جاتی۔

ڈیسک پر، معمول سے کچھ کم، دو سو اٹھانوے ناموں کی ایک فہرست ہے، ایک سو باون مرد اور ایک سو چھیالیس عورتیں، اتنی ہی تعداد میں بنفشی رنگ کے لفافے اور کاغذ اگلی ڈاک یا موت بذریعہ خط کے لیے تیار ہیں۔ موت نے اس فہرست میں ارسال کنندہ کو لوٹائے جانے والے خط پر درج نام کا اضافہ کیا، اس کے نیچے لکیر کھینچی اور قلم واپس ہولڈر میں ڈال دیا۔ اگر وہ کوئی اعصاب رکھتی تھی تو ہم کَہ سکتے ہیں، اس نے کچھ بے چینی، معقول جواز کی بنا پر، محسوس کی۔وہ اتنے طویل عرصے سے زندہ تھی کہ خط کی واپسی کو غیر اہم سمجھ سکتی تھی۔ یہ سمجھنا آسان ہے، یہ تصور کرنے کے لیے معمولی تخیل کی ضرورت ہے کہ اس وقت سے موت کے کام کرنے کی جگہ انتہائی بے کیف ہے، جس وقت قابیل نے ہابیل کا قتل کیا، ایک ایسا واقعہ جس کا تمام تر الزام خداوند کے سر ہے۔ اس قابلِ مذمت واقعے سے، جس میں، جب سے دنیا کا آغاز ہوا، عائلی زندگی کی مشکلات کا پہلی مرتبہ اظہار ہوا، آج تک، صدیوں کے بعد صدیاں اور پھر مزید صدیاں مسلسل، لگاتار، بلا تعطل، بغیر رکے، دہراتے ہوئے موجود سے معدوم کے سفر کے متعدد طریقوں کے اختلاف سے ہٹ کر بنیادی طور پر طریق کار ہمیشہ یک ساں رہا، کیوں کہ نتیجہ ہمیشہ یک ساں رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے، جو مرنے کے لیے تھا، مر گیا۔ تاہم، اب استثنائی طور پر، موت کا دست خط شدہ، اس کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا، ایک شخص کے ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ التوا انجام کا اطلاعی خط، ارسال کنندہ کو، اس ٹھنڈے کمرے کی جانب لوٹا دیا گیا، جہاں دست خط کنندہ، پژمردہ کفن، جو اس کا تاریخی لباس ہے، میں ملبوس، سر پر قصابہ اوڑھے بیٹھی، پیش آمدہ پر غور کرتے ہوئے، ڈیسک کو اپنی انگلیوں کی ہڈیوں یا ہڈیوں کی انگلیوں سے بجا رہی ہے۔ وہ کچھ حیران سی ہے، اپنے آپ کو یہ سوچتا پا کر کہ خط ایک مرتبہ پھر لوٹا دیا جائے گا، بطور مثال، تحریر کرتے ہوئے، ایک پیغام، مکتوب الیہ کے اَتے پتے سے لا علمی کا کرتا ہوا، کیوں کہ یہ واقعی ایک نیا تجربہ ہو گا، کسی ایسی کے لیےجس نے، اگر بچگانہ انداز میں یہ سوچتے ہوئے کہ ہم اس سے بچ سکتے ہیں، ہم جہاں بھی چھپے، ہمیشہ ہمیں ڈھونڈ نکالا ہے۔ تاہم، حقیقت میں وہ نہیں سمجھتی کہ مفروضہ لاعلمی کا لفافے کی پشت پر اندراج ہو گا، کیوں کہ یہ آثار ہمارے ہر تاثر اور حرکت کے ساتھ، ہمارے اُٹھائے گئے ہر قدم کے ساتھ، مقام، مرتبے، پیشے، عادت یا رواج کے ساتھ، اگر ہم سگریٹ پیتے ہیں یا نہیں پیتے، اگر ہم ڈٹ کر کھاتے ہیں، کم کھاتے ہیں یا بالکل نہیں کھاتے، اگر ہم فعال ہیں یا سست، اگر ہمیں سر درد ہو یا بدہضمی، اگر ہمیں قبض ہو یا پیچش، اگر ہمارے بال گرتے ہوں یا ہمیں کینسر ہو، اگر یہ ہاں ہے، نہیں ہے یا شاید ہے، خودبَخود تازہ ترین ہوتے جاتے ہیں، اسے صرف اتنا کرنا ہو گا کہ الف بائی ترتیب دی گئی فائلوں کی دراز کھولے، متعلقہ خانے میں دیکھے، اس میں سب کچھ درج ہو گا۔ کم از کم اس صورت میں ہمیں قطعاً حیرت نہ ہو گی، اگر عین اس وقت، جس وقت ہم اپنی ہی فائل کا مطالعہ کر رہے ہوتے، ہم اچانک پاتے، خوف کی اس لہر کا اندراج، جس نے ہمیں منجمد کر دیا۔ موت ہمارے بارے میں ہر بات جانتی ہے اور شاید اسی لیے افسردہ ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ موت نہیں ہنستی، تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس کے ہونٹ نہیں، اور علم الابدان کا یہ سبق ہمیں بتاتا ہے، زندہ چاہے جو مانیں، دانتوں کا ہنسنے سے تعلق نہیں ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جو کہتے ہیں، مزاحیہ انداز میں، جس کا دہشت سے زیاوہ بے ذوقی سے تعلق ہے، وہ ہر وقت چمکتے دانتوں کی نمائش کرتی رہتی ہے، لیکن یہ سچ نہیں، اس کا جو دکھائی دیتا ہے، وہ ہے، درد سے بگڑا ہوا منہ، کیوں کہ جس وقت اس کا ایک منہ تھا، منہ میں ایک زبان تھی، لعابِ دہن تھا، اس وقت کی یادیں کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ آہ بھرتے ہوئے، اس نے ایک کاغذ اٹھایا اور آج کا پہلا خط لکھنا شروع کیا۔ محترمہ، میں افسوس سے آپ کو مطلع کر رہی ہوں، ایک ہفتے بعد آپ کی زندگی ختم ہو جائے گی، ناقابلِ تنسیخ اور ناگزیر۔ مہربانی کر کے اپنے باقی وقت کا بہترین استعمال کریں، آپ کی مخلص، موت۔ دو سو اٹھانوے اوراق، دو سو اٹھانوے لفافے، دو سو اٹھانوے ناموں کا فہرست سے اخراج، یہ کوئی مار ڈالنے والا مشکل کام نہیں ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب یہ اختتام تک پہنچتا ہے، موت نڈھال ہو چکی ہوتی ہے۔ اپنے دائیں ہاتھ سے وہ اشارہ، جسے ہم پہلے جانتے ہیں، کرتے ہوئے، اس نے دو سو اٹھانوے خط روانہ کر دیے، پھر اپنے استخوانی بازو ڈیسک پر دہرے کرتے ہوئے، اگرچہ موت کبھی نہیں سوتی،اپنا سر اُن پر ٹکا دیا، تاکہ آرام کر سکے۔ نصف گھنٹے بعد، جب اس کی تھکاوٹ دور ہو چکی تھی، اس نے اپنا سر اٹھایا، وہ خط، جو ارسال کنندہ کو لوٹائے جانے کے بعد دوبارہ بھیجا گیا تھا، واپس، اس کی آنکھوں کے خالی، حیران گڈھوں کے سامنے موجود تھا۔

اگر موت نے اس امید پر کسی اچنبھے کی خواہش کی تھی کہ معمول کی اکتاہٹ سے جان چھٹے گی، تو اس کی تمنا بر آئی۔ یہ تھا، وہ اچنبھا،جو بمشکل ہی بہتر ہوسکتا تھا۔ پہلی مرتبہ خط کے واپس کیے جانے کوراستے میں پیش آنے والا کوئی معمولی حادثہ سمجھا جا سکتا ہے، جیسے، پہیہ دھرے سے نکل گیا، گریس کا مسئلہ، نیلے آسمانی خط نے منزل پر پہنچنے کی جلدی میں آگے نکلتے ہوئے دھکا دیا، مختصراً، یقیناً، مشین کے اندر یا انسانی جسم میں ہونے والی غیر متوقع باتوں میں سے کوئی، جو انتہائی باریک بینی سے کیے گئے حساب کو جھٹلا دیتی ہیں۔ اس کا دو مرتبہ لوٹایا جانا، یہ بالکل مختلف حقیقت تھی، یہ واضح طور پر اس کا اظہار تھا کہ وہاں مکتوب الیہ کے گھر کو جانے والے راستے پر کسی جگہ کوئی رکاوٹ، کوئی ایسی رکاوٹ ہے، جس نے خود سے ٹکرانے والے خط کو، جہاں سے وہ آیا تھا، وہیں پلٹا دیا۔ یہ سوچتے ہوئےکہ پہلی مرتبہ اسے روانہ کیے جانے کےدوسرے دن واپسی ہوئی، ممکن ہے کہ ڈاکیے نے اس آدمی کو، جس تک خط پہنچانا تھا، ڈھونڈنے میں ناکام ہو کر، لیٹر باکس میں ڈالنے یا دروازے کے نیچے کھسکانے کے بجائے، وجہ لکھے بغیر، خط ارسال کنندہ کو لوٹا دیا۔ یقنیاً، یہ صرف مفروضہ ہے، لیکن یہ واضح کر سکتا ہے کہ کیا ہوا ہو گا۔ تاہم، اب معاملات مختلف تھے۔ آنے اور جانے کے درمیان، خط نے آدھے گھنٹے سے کم، غالباً بہت کم وقت لیا، کیوں کہ جب اس نے سر کو اپنی کلائی اور ہاتھوں کی ہڈیوں پر مشتمل بازوؤں، خاص اسی مقصد سے باہم گوندھے گئے آرام کرنے کے سخت مقام، سے اٹھایا، تو یہ وہاں ڈیسک پر موجود تھا۔ کوئی عجیب، پر اسرار، ناقابلِ بیان قوت اس آدمی کی موت کی مزاحمت کرتی محسوس ہوتی تھی، باوجود اس کے کہ اس کی وفات کی تاریخ طے تھی، جیسا کہ ہر ایک کی اس کی پیدائش کے دن سے طے ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا، خاموش آنکڑے سے موت نے کہا، کسی کے پاس، اس دنیا میں یا اس سے ورے، مجھ سے زیادہ طاقت نہیں، میں موت ہوں، باقی سب صفر ہے۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھی اور کاغذات کی دراز کی جانب گئی، جہاں سے وہ مطلوبہ کاغذات لے کر لوٹی۔ اس کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا، نام وہی تھا، اسی طرح پَتا بھی، جو لفافے پر لکھا تھا، آدمی کا پیشہ، سیلو نواز، درج تھا اور ازدواجی حیثیت کا خانہ خالی تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ نہ تو شادی شدہ تھا، نہ ہی رنڈوہ یا طلاق یافتہ، کیوں کہ موت کے کاغذات میں، کنوارہ، کا کبھی اندراج نہیں کیا جاتا، اچھا، آپ سمجھ سکتے ہیں، یہ کتنا احمقانہ ہوتا، ایک پیدا ہونے والے بچےکا کارڈ پر کرتے وقت، پیشے کا اندراج نہ کیا جائے، کیوں کہ ابھی وہ نہیں جانتا کہ وہ کس شعبے میں جائے گا، لیکن اس کی ازدواجی حیثیت، کنوارہ، لکھی جائے۔ جہاں تک عمر کا تعلق ہے جو اس کارڈ پر لکھی ہے، جو موت نے تھاما ہوا ہے، ہم پڑھ سکتے ہیں، سیلو نواز انچاس سال کا ہے۔ اس وقت، اگر ہمیں موت کے آثار کے بے عیب ہونے کا ثبوت درکار ہے، تو یہ ہمیں ابھی مل جائے گا، جب ایک سیکنڈ کے دسویں حصّے، یا اس سے بھی کم میں، ہماری حیران آنکھوں کے سامنے، انچاس کا نمبر پچاس سے بدل گیا۔ آج اس سیلو نواز کا، جس کا نام کارڈ پر درج ہے، جنم دن ہے، آج وہ پھول وصول کرے گا نہ کہ یہ اطلاع کہ ایک ہفتے بعد وہ مر جائے گا۔ موت ایک مرتبہ پھر اٹھی، کمرے میں چند چکر لگائے، آنکڑے کے پاس سے گزرتے ہوئے دو مرتبہ رکی، اپنا منہ کھولا، گویِا کچھ کہنا چاہتی ہے، یا رائے لینا چاہتی ہے، یا صرف یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ متذبذب ہے، پریشان ہے، جو ہمیں ماننا پڑے گا، شاید ہی حیران کن ہو،اگر ہم سوچیں، اب تک، جتنی مدت سے وہ یہ کام کر رہی ہے، انسانوں کے ریوڑ کی جانب سے، جس کی وہ مقتدر چرواہی ہے، ہمیشہ ہی اس کی اہانت کی گئی ہے۔یہ وہ لمحہ تھا جب موت پر یہ تلخ حقیقت آشکار ہوئی کہ شاید یہ واقعہ اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ تھاجتنا آغاز میں دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنے ڈیسک پر بیٹھی اور گزشتہ ہفتے مرنے والوں کی فہرست والے کاغذات پلٹنے شروع کیے۔ اس کی توقع کے برعکس، اس نے دیکھا، ناموں کی اولین فہرست، کل والی، میں سیلو نواز کا نام موجود نہیں۔ وہ ایک، پھر ایک، پھر ایک اور، اور ایک اور، مزید ایک اور ورق پلٹتی گئی، بالآخر آٹھویں فہرست میں اس نے اس کا نام ڈھونڈ نکالا۔ غلطی سے وہ سمجھتی تھی کہ نام کل والی فہرست میں ہو گا، لیکن اب اس نے خود کو ایک ایسی الجھن میں گھرا پایا، جس کی کوئی مثال نہ ہو، وہ آدمی جسے دو دن قبل مرنا تھا، تاحال زندہ تھا۔ اور صرف یہی نہیں، واہیات سیلو نواز، جس کی پیدائش کے وقت ہی یہ لکھ دیا گیا تھا، صرف انچاس بہاریں دیکھ کر جوانی میں مرے گا، ان تمام قوتوں کی تقدیر، قسمت، نصیبے، کنڈلی پر ذلت کا داغ لگاتے ہوئے، بڑی ڈھٹائی سے پچاسویں سال میں داخل ہو گیا ہے، جو خود کو ہر ممکنہ معقول اور نامعقول ذریعے سے ہماری زندہ رہنے کی انسانی تمنا کو ناکام کرنے کے لیے وقف کرتی ہیں۔ یہ اُن سب کے لیے رسوا کن تھا۔ اب میں اس غلطی کو، جو ہو ہی نہیں سکتی تھی، اس مسئلے کو جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، جس کے بارے میں قواعد میں سوچا تک نہیں گیا، کس طرح درست کرنے جا رہی ہوں، موت نے سوچا، بالخصوص جب وہ آدمی جس کے بارے میں فرض کیا گیا تھا، انچاس سال کا مرے گا، نہ کہ پچاس کا، جتنے کا وہ اس وقت ہے۔ غریب موت پریشانی سے بوکھلائی ہوئی تھی، نڈھال تھی اور مایوسی کے عالم میں جلد ہی دیوار سے سر ٹکرانے لگےگی۔ ہزاروں صدیوں کے مسلسل کام کے دوران ایک بھی مہم ناکام نہیں ہوئی تھی، لیکن اب جب اس نے اجل گرفتگان اور اُن کے صرف اور صرف اکلوتے باعثِ فنا کے روایتی رشتے میں ایک نیا طریقہ متعارف کرایا، اس کی محنت سے کمائی ہوئی ساکھ کو شدید دھچکا لگا تھا۔ میں کیا کروں، اس نے سوال کیا، اگر اس حقیقت کہ وہ نہیں مرا، جب اسے مرنا تھا، اس نے خود کو میرے اختیار سے ماورا کر لیا، آسمان کے نیچے اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے میں کیا کرنے جا رہی ہوں۔ اس نے بے شمار مہمات اور قتال میں ساتھ دینے والے آنکڑے کو دیکھا، لیکن آنکڑے نے اسے نظر انداز کر دیا، وہ کبھی جواب نہیں دیتا، اور اب سب سے لاتعلق، جیسے دنیا سے اکتایا ہوا، وہ اپنی تھکی ہاری، زنگ آلود دھار سفید دیوار سے ٹکائے سستا رہا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب موت کو زبردست خیال سوجھا، لوگ کہتے ہیں، کوئی ایک دوسرے کے بغیر نہیں ہوتا، کوئی دوسرا تیسرے کے بغیر نہیں ہوتا، اور تین کا مطلب ہے، خوش نصیبی، کیوں کہ یہ وہ نمبر ہے جو خداوند نے چنا، چلیں دیکھتے ہیں، کیا واقعی یہ حقیقت ہے۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ لہرایا اور وہ خط جو دو مرتبہ واپس آ چکا تھا ایک مرتبہ پھر غائب ہو گیا۔ دو منٹ کے اندر وہ پہلے کی مانند وہیں، اسی جگہ، واپس موجود تھا۔ ڈاکیے نے اسے دروازے سے نیچے نہیں ڈالا، اس نے گھنٹی نہیں بجائی، وہ وہیں تھا۔

ظاہر ہے، ہمارے پاس کوئی جواز نہیں کہ موت کے لیے دکھی ہوں۔ ہماری شکایات اتنی زیادہ اور اتنی باجواز رہی ہیں کہ اس پر ترس کھانا دشوار ہے، جس نے ماضی میں، باوجود اس کے کہ وہ سب سے زیادہ جانتی تھی کہ ہم اس کی من مانی کو، جس کے ساتھ وہ ہر قیمت پر ہمیشہ اپنی مرضی چلاتی ہے، کتنا ناپسند کرتے ہیں، کبھی بھی ہم سے شائستگی کا اظہار نہیں کیا۔ تاہم، اس کے باوجود، کچھ دیر کے لیے، جو ہمارے سامنے ہے، وہ بسترِ مرگ پر پڑے کچھ غیر معمولی زیرک افراد کے مطابق ہمارے آخری لمحات میں، اسی طرح کا اشارہ کرنے، جس طرح کا وہ خط روانہ کرتے ہوئے کرتی ہے، مگر اس اشارے سے مراد اِدھر آؤ ہوتا ہے، نہ کہ اُدھر جاؤ، پلنگ کی پائینتی نمودار ہونے والی دہشت ناک روح کے بجائےکھنڈر لگ رہی ہے۔ کسی ناقابلِ توجیح بصری رجحان کے نتیجے میں، اس وقت موت، حقیقت میں یا تصور میں، بہت چھوٹی لگتی ہے، جیسے اس کی ہڈیاں سکڑ گئی ہوں، یا شاید وہ ہمیشہ سے ایسی تھی اور یہ ہماری خوف سے پھٹی آنکھیں ہوتی ہیں، جو اسے بہت بڑا کر کے دکھاتی ہیں۔ بے چاری موت۔ ہمیں لگتا ہے، جیسے آگے بڑھ کر اس کے استخوانی کندھے پر ایک ہاتھ رکھتے ہوئے، ہم اس کے کان میں، یا صحیح الفاظ میں، اس کے سر کے عقبی بالائی حصّے میں، جہاں کبھی اس کا کان ہوتا تھا، ہم دردی کے چند لفظ کَہ رہے ہوں۔ پریشان نہ ہوں، مادام موت، ایسا تو ہوتا رہتا ہے، ہم انسان، بطور مثال، مایوسیوں، ناکامیوں اور پریشانیوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اس کے باوجود ہم ہمت نہیں ہارتے، یاد کرو وہ پرانے دن، جب تم ہمیں ہماری جوانی کے پھول کو، تاسف کی ٹمٹماہٹ یا کسی ازالے بنا، نوچ لیا کرتی تھیں، آج کے بارے میں سوچو، اسی سنگ دلی کے ساتھ، اُن لوگوں کے ساتھ جو زندگی کی تمام ضروریات سے محروم ہیں، تم وہی کچھ کر رہی ہو، ظاہر ہے، ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کون پہلے تھکتا ہے، تم یا ہم، میں تمھاری مایوسی کو سمجھتا ہوں، اولین شکست شدید ترین ہوتی ہے، پھر ہم اس کے عادی ہو جاتے ہیں، لیکن، مہربانی کرتے ہوئے اسے غلط نہ سمجھنا، جب میں نے کہا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آخری نہیں ہو گی، میں نے ایسا کسی انتقامی جذبے سے نہیں کہا، خوب، یہ ایک خوب صورت غریبانہ بدلہ ہو گا، کیا ایسا نہیں، بہتر الفاظ میں، میں، اس جلاد کو، جو میری گردن اڑانے آ رہا ہے، اپنی زبان نکال کر چڑاؤں، اگرچہ، سچی بات یہ ہے کہ، ہم انسان اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتے کہ اس جلاد کو، جو ہماری گردن اڑانے لگا ہے، زبان نکال کر چڑائیں۔ یہی سبب ہے کہ میں انتظار نہیں کر سکتا کہ تم اس بحران سے کیسے نکلتی ہو، جس میں تم اس وقت ہو، اس خط کی وجہ سے، جو جا اور آ رہا ہے، یا اس سیلو نواز کی وجہ سے، جو انچاسویں میں نہیں مرا، کیوں کہ وہ ابھی ابھی پچاس کا ہوا ہے۔ موت نے بے چینی سے حرکت کی، ہمارا برادرانہ ہاتھ، جو ہم نے اس کے کندھے پر رکھا تھا، ناگواری سے جھٹکا اور کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اب قد آور، عظیم، اصل، مہا رانی، ایڑی مار کر دھرتی ہلانے والی موت دکھائی دیتی تھی، اس کا کفن اس کے ہر قدم کے ساتھ اس کے پیچھے گھسٹ رہا تھا۔ پھنکارتی ہوئی موت غیض و غضب میں ہے۔ یہ مناسب وقت ہے، ہم نے اپنی زبان نکال کر اسے چڑایا۔
ƱƱƱ

11

اِکا دُکا واقعات، جن میں اُن غیر معمولی زیرک افراد نے، جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، جس وقت وہ مر رہے تھے، اپنے پلنگ کی پائینتی، سفید چادر میں لپٹی، روایتی بدروح کے روپ میں اس کی نشان دہی کی، یاجیسے سیاہ لبادے میں ملبوس، فربہ عورت کے روپ میں، پراؤسٹ کو دکھائی دی، سے قطع نظر، موت بالعموم انتہائی محتاط رہتی ہے اور اگر حالات اسے باہر نکلنے پر مجبور کریں، ترجیح دیتی ہے کہ اس پر توجہ نہ دی جائے۔ یہ خیال عام ہے، جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، چوں کہ موت سکے کا ایک رخ ہے جس کا دوسرا رخ خداوند ہے، چناں چہ، اسی کی مانند، لازماً، وہ بھی اپنی فطرت میں دکھائی نہ دینے والی ہے۔ یقیناً، ایسا نہیں ہے۔ ہم اس حقیقت کے قابلِ اعتماد گواہ ہیں کہ موت چادر میں لپٹا ہوا ایک ڈھانچہ ہے جو اشاراتی کارڈوں سے ٹھنسی ہوئی بڑی درازوں والی چند درجن الماریوں میں گھرے، مکڑی کے جالوں والے ایک ٹھنڈے یخ کمرے میں، ایک پرانے زنگ آلود آنکڑے، جو کبھی کیے گئے سوال کا جواب نہیں دیتا، کے ساتھ رہتی ہے۔ چناں چہ، ہر ایک سمجھ سکتا ہے، کیوں موت اس حلیے میں لوگوں کے سامنے آنا پسند نہیں کرتی، اوّل، ذاتی تفاخر کی بنا پر، دوم، غریب راہ گیر، کوئی موڑ مڑتے ہوئےجب اُن کا سامنا آنکھوں کے اِن کھوکھلے گڈھوں سے ہو، دہشت سے مر نہ جائیں۔عوام کے سامنے، لامحالہ، موت خود کو غائب کر لیتی ہے، لیکن تخلیے میں اور اہم مواقع پر ایسا نہیں کرتی، جیسا کہ مصنف مارسل پراؤسٹ اور دوسرے غیر معمولی زیرک افراد نے تصدیق کی ہے۔ خداوند کا معاملہ مختلف ہے۔ اگرچہ وہ بڑی کوشش کرتا ہے، وہ خود کو انسانی آنکھ کے دیکھنے کے قابل نہیں بنا سکتا، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، کیوں کہ کچھ بھی اس کے لیےناممکن نہیں، بل کہ، صرف اس سبب سے کہ وہ نہیں جانتا کہ اُن کے سامنے جاتے ہوئےکون سا روپ دھارے، جنھیں غالباًاسی نے بنایا ہے، اور جو شاید اسے کسی طرح پہچان نہ پائیں گے۔ وہاں، کچھ ایسے بھی ہیں، جن کا کہنا ہے، ہم انتہائی خوش قسمت ہیں کہ خداوند نے ہمارے سامنے نہ آنے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ ایسا ہونے کی صورت میں لگنے والے جھٹکے سے موازنہ کرتے ہوئے ہمارا، موت کا ڈر، محض بچوں کا کھیل ہو گا۔ علاوہ ازیں، وہ تمام باتیں جو خداوند کے بارے میں اور موت کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، صرف کہانیاں ہیں، اور یہ بھی ایک ہے۔

بہر حال، موت نے قصبے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے چادر کھولی، جسے وہ اپنے گرد لپیٹے ہوئے تھی، احتیاط سے اسے تَہ کیا اور کرسی، جس پر ہم نے اسے بیٹھے دیکھا تھا، کی پشت پر لٹکا دی۔ ڈیسک اور کرسی کو چھوڑ کر، کاغذات کی الماریوں اور آنکڑے کو بھی چھوڑ کر، اس تنگ دروازے کے علاوہ، کمرا بالکل خالی ہے، جو کوئی نہیں جانتا، کہاں کھلتا ہے۔ چوں کہ باہر نکلنے کا یہی ایک راستہ دکھائی دیتا ہے، اس لیے یہ سوچنا منطقی ہو گا کہ قصبے میں جانے کے لیے موت اس سے گزرے گی، تاہم، یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ چادر کے بغیر، موت چھوٹی دکھائی پڑتی ہے، انسانی پیمانے سے شاید وہ زیادہ سے زیادہ ایک میٹر اور چھیاسٹھ یا سڑسٹھ ہو گی، جب کہ عریانی کی حالت میں، کسی دھجی بنا، وہ اور بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے، جیسے کسی کم عمر عورت کا ڈھانچہ ہو۔ کوئی نہیں کہے گا کہ یہ وہی موت ہے جس نے ہمارے ہاتھ کو سختی سے جھٹک دیا تھا، جب ہم نے اس کے دکھ میں، ہم دردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر بے اختیار اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔ در حقیقت دنیا میں ڈھانچے سے بڑھ کر عریاں کوئی نہیں ہوتا۔ زندگی بھر یہ دہرے لباس میں گھومتا ہے، پہلے گوشت پوست کے ذریعےاسے چھپایا جاتا ہے، پھر کپڑوں کے ذریعے یہ گوشت پوست کپڑوں کے ذریعے خود کا ڈھانپنا پسند کرتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ نہانے یا کسی انتہائی پرلطف سرگرمی میں سرگرم ہونے کی خاطر انھیں اتارے۔ خود کو اپنے حقیقی وجود، کسی ایسے وجود کا نیم شکستہ ڈھانچہ جو مدتوں پہلے اپنے وجود سے دست بردار ہو چکا ہو، تک گھٹا کر، موت کے پاس یہی راستہ ہے کہ غائب ہو جائے، اور بالکل یہی ہے، جو اس کے ساتھ، اس کے سر سے پاؤں تک، اس وقت ہو رہا ہے۔ ہماری حیران آنکھوں کے سامنے، اس کی ہڈیاں اپنا وجود اور استحکام کھو رہی ہیں، اس کے سرے دھندلا رہے ہیں، جو ٹھوس تھا، لطیف دھند کی مانند ہر طرف پھیلتے ہوئے، گیس میں بدل رہا ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے اس کا ڈھانچہ تحلیل ہو رہا ہو، اب وہ صرف ایک مجہول خاکہ ہے جس کے پار کوئی بھی لاتعلق آنکڑے کو دیکھ سکتا ہے، اور اچانک موت اس جگہ مزید موجود نہیں، ابھی تھی، اب نہیں ہے، یا وہ ہے، لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے، یا یہ بھی نہیں، وہ تو بس اس خفیہ کمرے کی چھت سے، اوپر کی مٹی کی تہوں سے گزرتی ہوئی باہرنکلی اور روانہ ہو گئی، جیسا کہ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا، جب بنفشی رنگ کا خط اسے تیسری مرتبہ لوٹایا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ وہ سیلو نواز کو قتل نہیں کر سکتی، تاہم، وہ اس کے جانے بغیر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا، اسے چھونا چاہتی ہے۔ اسے یقین ہے کہ کسی دن وہ بہت سے اصول توڑے بنا اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر لے گی، لیکن اسی دوران وہ پتا لگائے گی، یہ آدمی، جس تک موت کا اطلاع نامہ نہیں پہنچ سکا، کون ہے، اس کے پاس کون سی قوت ہے، اگر کوئی ہے، یا وہ کسی بے وقوف کی مانند، یہ سوچے بغیر کہ اسے مر جانا تھا، جیے جا رہا ہے۔ ایک تنگ دروازے، جو نہ جانے کہاں کھلتا ہے، والے بغیر کھڑکیوں کےاس ٹھنڈے کمرے میں بند،ہمیں احساس نہیں ہوا کہ وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔ اس وقت صبح کے تین بجے ہیں اور موت لازماً سیلو نواز کے گھر پہنچ چکی ہو گی۔

تو یہ، تمام معاملات کی بَیک وقت ہر جگہ نگرانی کرنے سے خود کو روکنا، اُن کاموں میں سے ایک ہے، جنھیں موت انتہائی اکتا دینے والا پاتی ہے۔ اس پہلو سے بھی وہ بہت حد تک خداوند جیسی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت انسانی حسیاتی تجریات کے قابلِ تصدیق اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتی، جب ہم بچے تھے، اس وقت سے ہمیں عادی بنایا گیا کہ یقین کریں، خداوند اور موت، تسلیم شدہ برتر ہستیاں، ہمیشہ ہر جگہ موجود ہوتی ہیں، جو ہے، ایک اصطلاح، ہمہ وقت ہر جا، جو بہت سی اور اصطلاحات کی مانند، وقت اور مقام سے اخذ کی گئی ہے۔ البتہ، اس کا بہت امکان ہے، جب ہم اسے سوچتے ہیں، اور شاید جب ہم اسے الفاظ میں ڈھالتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ الفاظ بڑی آسانی کےساتھ ادا ہوتے ہیں، ہمیں معین علم نہیں ہوتا کہ، ہماری مراد کیا ہے۔ یہ کہنا کہ، خداوند ہر جگہ موجود ہے، اور یہ کہ، موت بھی ہر جگہ موجود ہے، بہت آسان ہے، لیکن شاید ہمیں اس کا ادراک نہیں کہ اگر واقعتاً وہ ہر جگہ موجود ہیں، تو لامحالہ، اُن تمام ان گنت اجزا میں، جن میں وہ خود کو پاتے ہیں، وہ دیکھنے والی ہر شے کو دیکھتے ہیں۔ چوں کہ خداوند نے خود پر لازم کیا ہےکہ بَیک وقت، کائنات میں ہر جگہ موجود رہے،بَصورت دیگر، اس کا اسے تخلیق کرنے کا کوئی جواز نہیں ہو گا، ُاس کا چھوٹے سے سیارے ارض میں خصوصی دل چسپی لینے کا تصور احمقانہ ہو گا، جہاں، ایک ایسا معاملہ جو کہیں کسی اور جگہ پیش نہیں آیا، وہ کسی بالکل مختلف نام سے جان سکتا ہے، لیکن موت، یہ والی موت، جیسا کہ ہم چند صفحات پہلے کَہ آئے ہیں، بلا شرکت غیرے نسلِ انسانی سے جڑی ہے، ایک منٹ کے لیے بھی ہم سے نظریں نہیں ہٹاتی، حتا کہ وہ بھی جنھیں ابھی نہیں مرنا، ہر وقت اس کی نگاہوں کواپنا پیچھا کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں کسی حد تک اس انتہائی پر مشقت مساعی کا اندازہ ہو گا، جب موت کو اپنی تفویض کردہ صلاحیتوں کو گھٹاتے ہوئے ہم انسانوں کی سطح، جو ہے، ایک وقت میں صرف ایک چیز کو دیکھنا، کسی ایک لمحے میں صرف ایک مقام پر ہونا، جو ہماری معلوم تاریخ میں، موت کو، کسی ایک یا دوسری وجہ سے، کبھی کبھار کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس خاص سوال،کیوںوہ تاحال سیلو نواز کے اپارٹمنٹ کی راہ داری سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ پائی، جس میں آج ہمیں دل چسپی ہے، سمجھانے کا واحد ذریعہ ہے۔ ہر وہ قدم جو وہ اٹھاتی ہے، ہم اسے قدم صرف اس لیے کہتے ہیں تا کہ قاری کے تصور کی مدد کر سکیں، اس لیے نہیں کہ اسے چلنے کے لیے حقیقت میں ٹانگیں اور پاؤں درکار ہیں، موت کو اپنے فطرت میں ودیعت کردہ شدید رجحان کو قابو میں رکھنے کے لیے شدید جدوجہدکرنی پڑتی ہے، جسے اگر کھلی چھٹی ملے، فوری طور پر پھٹ پڑے اور اتنی دشواری سے حاصل کیے گئے قیمتی اور غیر مستحکم استحکام کو پارہ پارہ کر دے۔ سیلو نواز، جو بنفشی رنگ کا لفافہ وصول نہ کر سکا، ایک ایسےاپارٹمنٹ میں رہتا ہے جسے آرام دہ کا نام دیا جا سکتا ہے، چنانچہ موسیقی کی دیوی کے کسی پجاری کی نسبت محدود سوچ والے نچلے متوسط طبقے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ آپ راہ داری کے راستے داخل ہوتے ہیں، وہاں تاریکی میں آپ کو لگ بھگ پانچ دروازے دکھائی دیتے ہیں، ایک دروازہ، جو آخر میں ہے، صرف اس لیے کہ ہمیں بار بار نہ بتانا پڑے، غسل خانے میں کھلتا ہے، کی دونوں جانب دو، دو دروازے ہیں۔ جب آپ آگے بڑھتے ہیں تو بائیں جانب کا پہلا دروازہ، جہاں سے موت جائزہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، ایک چھوٹے کھانے کے کمرے میں کھلتا ہے، جس کے تمام آثار اس کے بہت کم استعمال میں لائے جانے کی گواہی دیتے ہیں، اس سے آگے اس سے بھی چھوٹا باورچی خانہ ہے، جس میں صرف ضروری سامان ہے۔ وہاں سے آپ واپس راہ داری میں آتے ہیں، بالکل سامنےایک دروازہ ہے، یہ جاننے کے لیے کہ یہ زیرِ استعمال نہیں، یعنی، نہ کھلتا ہے نہ بند ہوتا ہے، موت کو اسے ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں، ایک قول جو یہ سادہ حقیقت بیان کرتا ہے، ایک دروازہ جس کے بارے میں آپ کہتے ہیں، نہ کھلتا ہے نہ بند ہوتا ہے، لے دے کر ایک ایسا بند دروازہ ہے جسے آپ کھول نہیں سکتے، یا ایک متروک دروازے کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔ لامحالہ، موت اس سے، اور جو اس کے عقب میں ہے، سے گزر سکتی ہے، لیکن باوجود اس کے کہ وہ اس وقت بھی عام آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتی، تاہم، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اس نے خود کو کم و بیش انسانی حلیے میں ڈھالنے اور شناخت دینے کے لیے اچھی خاصی جدوجہد کی ہے، اگرچہ، ٹانگیں اور پاؤں رکھنے کی حد تک نہیں، اور اب وہ، ڈھیلی پڑتے ہوئے، لکڑی کے دروازے کے اندر یا کپڑوں سے بھری الماری میں، جو یقیناً دوسری جانب ہے، غائب ہونے کا خطرہ مول لینے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ چناں چہ موت راہ داری میں دائیں جانب پہلے باقاعدہ دروازے کی طرف جاتی ہے، اور دروازے سے گزر کر خود کو موسیقی کے کمرے میں پاتی ہے، کیوں کہ ایک ایسے کمرے کو، جس میں ایک کھلا پیانو، ایک سیلو، ایک میوزک سٹینڈ پر موجود رابرٹ شومان کے خیالیہ نمبر تین کی دھن تہتر، جسے موت دو کھڑکیوں کے راستے آنے والی، گلی کے لیمپ پوسٹ کی دھندلی نارنجی، روشنی میں پڑھ سکتی ہے، یہاں وہاںموسیقی کی شیٹوں کے ڈھیر اور کتابوں کی بڑی الماریاں ہوں، جہاں ادب اور موسیقی میں مثالی ہم آہنگی نظر آتی ہو، اور کیا نام دے سکتے ہیں۔ موت نے، جو کسی وقت ایروس اور ایفروڈایٹ کی بیٹی تھی لیکن اب اعضا کی سائنس ہے، سیلو کے تاروں کو چھوا، پیانو کی کلیدوں پر آرام سے اپنی انگلیاں چلائیں، لیکن وہ صرف سازوں کی آواز، ایک گہری فغاں اور اس کے بعد پرندے جیسی تھرتھراہٹ، ہر دو انسانی کانوں کے لیے ناقابلِ سماعت، لیکن کسی ایسے کے لیے واضح اور ان مول جو بہت پہلے دھنیں اور اُن کا مطلب سمجھ چکا ہے، ہی سن پائی۔ وہ، اگلے دروازے والا کمرا، لازماً وہ ہو گا، جہاں وہ آدمی سوتا ہے۔ دروازہ کھلا ہے، اگر چہ یہ کمرا موسیقی کے کمرے سے زیادہ تاریک ہے، تاہم، اندھیرے میں آپ کو ایک پلنگ اور اس پر لیٹے ہوئے کسی فرد کا ہیولا دکھائی دیتا ہے۔ موت آگے بڑھتی ہے، دہلیز عبور کرتی ہے، لیکن تذبذب سے رُک جاتی ہے، جب وہ کمرے میں دو زندہ وجودوں کی موجودگی محسوس کرتی ہے۔ زندگی کے کچھ مخصوص حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے، فطرتاً، اگرچہ، ذاتی تجربے سے نہیں، موت کو کچھ یوں محسوس ہوا جیسے اس آدمی کے ساتھ کوئی ہے، اور وہ دوسرا فرد، کوئی ایسا فرد جسے اس نے تاحال بنفشی رنگ کا خط نہیں بھیجا، لیکن جو اس اپارٹمنٹ میں، بستر کی انھی چادروں کے تحفظ اور اسی کمبل کی حرارت میں شریک، اس کے پہلو میں سو رہا ہے۔ وہ دبے پاؤں کھسکتی ہوئی، اگر یہ بات موت کے بارے میں کہی جا سکتی ہے، پلنگ کے سائیڈ ٹیبل کے تک پہنچی تو دیکھا کہ وہ آدمی اکیلا ہے۔ تاہم، ایک درمیانی جسامت کا گہرے، غالباً سیاہ بالوں والا کتا، پلنگ کی دوسری جانب، قالین پر اونی گولے کی مانند سمٹا ہوا سو رہا تھا۔ جہاں تک موت کی یاداشت کام کرتی ہے، یہ پہلا موقع تھا، جب اس نے خود کو یہ سوچتے ہوئے پایا کہ یہ جانور اس کے علامتی آنکڑے کی گرفت سے باہر تھا، یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ صرف انسانی اموات کو نمٹاتی ہے، اس کی قوت، چاہے جتنی لطیف ہو، اسے چھو نہیں سکتی اور یہ کتا بھی لافانی ہو سکتا ہے، اگرچہ کون کَہ سکتا ہے، کتنی مدت کے لیے، اگر اس کی موت، وہ دوسری والی موت جو باقی تمام جان داروں،جانوروں اور پودوں کی موت ہے،خود کو اسی طرح غیر حاضر کر لے، جس طرح اس نے کیا تھا، کسی کو یقینی جواز فراہم کرتے ہوئے کہ کتاب کا آغاز اِن الفاظ سے کرے، اگلے روز کوئی کتا نہیں مرا۔ آدمی کسمسایا، شاید وہ خواب دیکھ رہا تھا، شاید وہ اب بھی شومان کی دُھن بجا رہا تھا اور کوئی سُر غلط بج گیا تھا، سیلو، پیانو کی مانند نہیں ہوتا، پیانو میں سُر ہمیشہ اسی جگہ، ہر کلید کے تحت ہوتے ہیں، جب کہ سیلو میں یہ سارے تاروں میں بکھرے ہوتے ہیں، اور آپ کو، اُنھیں چھیڑنے کے لیے، اُنھیں تلاش کرنا پڑتا ہے، معین مقام تلاش کریں، کمانچے کو درست زاویے اور صحیح دباؤ سے حرکت دیں، چناں چہ، سوتے ہوئے ایک یا دو سُر غلط بجانے سے بڑھ کر آسان آپ کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے۔ جوں ہی موت اس کا چہرہ غور سے دیکھنے کے لیے جھکی، اس کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا، اسے یاد آیا کہ اس کے آثار میں موجود ہر اشاراتی کارڈ پر متعلقہ فرد کی تصویر، عام تصویر نہیں، بلکہ بالکل تازہ ہوتی ہے، جس طرح لوگوں کی زندگیوں کی تفصیلات متواتر خودبَخود تازہ ہوتی رہتی ہیں، اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی تصویر بھی، گود میں جھریوں والے لال بچے سے اب تک، خودبَخود بدلتی رہتی ہے، تب ہم حیران ہوتے ہیں کہ کیا ہم واقعی وہی ہیں، جو کبھی تھے، یا کیا ہر گزرے گھنٹے کے ساتھ کوئی چراغ کا جن ہمیں متواتر کسی اور میں بدل رہا ہے۔ آدمی ایک مرتبہ پھر کسمسایا، ایسا لگتا ہے کہ وہ جاگنے والا ہے، لیکن نہیں، اس کی سانسیں پھر سے معمول، تیرہ سانسیں فی منٹ، پر آ گئیں، اس کا بایاں ہاتھ اس کے دل پر ہے، جیسےوہ اس کی دھڑکنیں گِن رہا ہو، بالائی حرکت انبساط کے لیے، زیریں حرکت انقباض کے لیے، جب کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کھلی ہے اور انگلیاں تھوڑی سی مڑی ہوئی ہیں، جیسے دوسرے ہاتھ کو تھامنے کا منتظر ہو۔ آدمی اپنے پچاس سال سے بڑا دکھائی دیتا ہے، شاید بڑا نہیں دکھائی دیتا، شاید وہ صرف تھکا ہوا، یا شاید افسردہ ہے، لیکن ہمیں اس کا اسی وقت علم ہو گا،جب وہ اپنی آنکھیں کھولے گا۔ وہ اپنے کچھ بالوں سے محروم ہو چکا ہے، جو باقی بچے ہیں اُن میں سے زیادہ سفید ہیں۔ سر سے پاؤں تک وہ نہ بدصورت ہے نہ خوب صورت، بس ایک عام آدمی ہے۔ اس وقت، اسے چادر ہٹنے سے نظر آنے والے دھاری دار قمیص پاجامے میں پشت کے بل لیٹے دیکھ کر کسی کو خیال نہیں آئے گا کہ وہ شہر کی ایک سنگیت منڈلی کا پہلا سیلو نواز ہے، جس کی زندگی، کون جانے، شاید، موسیقی کی گہرائی تک پہنچنے کی خاطر، تحریری موسیقی کے علامتی ستاروں کے درمیان،سکوت، صدا، انقباض، انبساط، سے گزرتی ہے۔ موت تاحال ریاست کے خطوط کی ترسیل کےنظام سے نالاں ہے، لیکن اتنی جھنجلائی ہوئی نہیں جتنی وہاں پہنچتے وقت تھی، وہ سوئے ہوئے آدمی کے چہرے کو دیکھتی ہے اور الجھے ہوئے انداز میں سوچتی ہے کہ اسے مرنا ہو گا، اس کے بائیں ہاتھ کے نیچے محفوظ دل کو آخری ہچکی کے ساتھ، ہمیشہ کے لیے سرد، ساکن اور خالی ہونا ہو گا۔ وہ اس آدمی کو دیکھنے آئی تھی اور اب جب اس نے اسے دیکھ لیا ہے، اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں، جس سے پَتا چلے کہ کیوں تین مرتبہ بنفشی رنگ کا خط لوٹایا گیا، اس کے بعد وہ صرف یہی کر سکتی ہے کہ اسی سرد زیرِ زمین کمرے کو، جہاں سے وہ آئی تھی، لوٹ جائے اور تقدیر کے اس گھٹیا وار کا، جس نے اس سیلو گھسنے والےکو اپنی جان بچانے والا بنا دیا، کوئی حل تلاش کرے۔ موت نے یہ دو جارہانہ الفاظ، گھٹیا اور گھسنے والا، استعمال کیے، تاکہ اپنے انحطاط پذیر احساسِ بدمزگی کو بہتر کرے، لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔ وہاں سوئے ہوئے آدمی کو جو بنفشی رنگ کے خط کے ساتھ ہوا کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، نہ ہی اسے اس کا کوئی شائبہ تک ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ ایک ایسی زندگی بسر کر رہا ہے، جو اب اس کی نہیں کہلا سکتی، کیوں کہ اگر واقعات اسی طرح ہوتے جس طرح انھیں ہونا تھا تو اسے مرے اور دفن ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہوتا اور اس کا کتا شہر میں، اپنے مالک کو تلاش کرتا، کسی پاگل کی مانند بھاگ رہا ہوتا، یا اس کے بجائے بھوکا پیاسا عمارت کے دروازے پر بیٹھا، اس کی واپسی کا انتظار کر رہا ہوتا۔ لمحے بھر کے لیے، موت نے خود کو دیواروں تک پھیلتے ہوئے پورے کمرےکو پر کرنےاور اگلے کمرےمیں پہنچنے کی ڈھیل دی، جہاں ایک کرسی پر موجود موسیقی کی شیٹ دیکھنے کے لیے اس کا ایک حصّہ رکا، یہ گوٹن kothen میں ترتیب دی گئی جوہان سبسٹین باخ کے غنائیہ ایک ہزار بارہ کی چھٹی دھن تھی اور یہ جاننے کےلیے اسے موسیقی سیکھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ بنتھوون کی نویں سمفنی کی مانند فرد، دوستی اور پیار کے مابین ہم آہنگی سے متعلق، انبساط کے عالم میں ترتیب دی گئی ہے۔ تبھی کچھ ان ہونی ہوئی، کچھ ایسا جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، موت اپنے گھٹنوں کے بل جھکی، چوں کہ اس وقت وہ ایک جسم رکھتی تھی، اس لیےاس کے گھٹنے اور ٹانگیں اور پاؤں اور باہیں اور ہاتھ اور ایک چہرہ بھی تھا، جسے اس وقت وہ اپنے ہاتھوں سے ڈھانپے ہوئے تھی، اس کے علاوہ کندھے بھی تھے، جو کسی وجہ سے کپکپا رہے تھے، وہ رو نہیں سکتی، آپ کسی ایسی سے اس کی توقع نہیں کر سکتے، جو جہاں جاتی ہے، اپنے پیچھے آنسوؤں کی ایک ندی چھوڑتی جاتی ہے، حال آں کہ اُن میں سے ایک آنسو بھی اس کا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ وہ تھی، نہ تو حاضر نہ ہی غائب،نہ تو ڈھانچہ نہ ہی عورت، وہ اپنے قدموں پر، ہوا کے جھونکے کی مانند، کھڑی ہوئی اور واپس سونے کے کمرے کو لوٹ گئی۔ آدمی نے حرکت نہیں کی تھی۔ موت نے سوچا، اس جگہ اب میرا کوئی کام نہیں، میں چلتی ہوں، حقیقت میں یہاں آ کر ایک آدمی اور ایک کتے کو سوتے ہوئے دیکھنا شاید ہی کسی اہمیت کا حامل ہو، شاید وہ ایک دوسرے کے بارے میں خواب دیکھ رہےہیں، آدمی کتے کے بارےمیں، کتا آدمی کے بارے میں، کتا دیکھ رہا ہے، صبح ہو چکی ہےاور وہ آدمی کے سر کے قریب اپنا سر رکھے ہوئے ہے، آدمی دیکھ رہا ہے، صبح ہو چکی ہے اور اس کا بایاں بازو کتے کے نرم و گرم جسم کو تھامے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ کپڑوں کی الماری، جو اس دروازے کے سامنے موجود ہے، جوبَصورتِ دیگر راہ داری میں کھلتا، جہاں موت کو جانا تھا، کے پہلو میں ایک چھوٹا صوفہ ہے، جس پر موت بیٹھنے گئی ہے۔ اس کا ارادہ تو نہیں تھا، تاہم، شاید یہ سوچتے ہوئے، بیٹھنے کی خاطر، اس کونے میں گئی کہ اس وقت اس کے آثار کا زیرِ زمین خفیہ کمرا شدید سرد ہو گا۔اس وقت، اس کی نگاہیں آدمی کے سر پر مرکوز ہیں، وہ کھڑکی کے راستے آتی نارنجی روشنی کے دھندلے پس منظر میں اس کے پروفائل کا ہیولہ صاف دیکھ سکتی ہے، اس نے خود کو یاد دلایا، یہاں رکنے کا کوئی عقلی جواز نہیں، لیکن فوراً ہی اس نے خود کو سمجھایا، ہے، ایک سبب ہے، ایک بڑا اہم سبب ہے، کیوں کہ یہ واحد گھر ہے، اس شہر میں، اس ملک میں، ساری دنیا میں، جہاں کوئی فرد قدرت کے انتہائی جارحانہ ضابطے، وہ ضابطہ جو ہم پر زندگی اور موت ہر دو کو مسلط کرتا ہے، کے حاشیے پر اٹکا ہوا ہے، وہ ضابطہ، جو ہم سے دریافت نہیں کرتا، کیا تم زندہ رہنا چاہتے ہو، جو دریافت نہیں کرے گا، کیا تم مرنا چاہتے ہو۔ یہ آدمی مر چکا ہے، موت نے سوچا، وہ تمام لوگ جنھیں مرنا تھا، پہلے ہی مر چکے ہیں، مجھے صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اپنے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ اُنھیں زندگی کے درخت سے جھاڑ دوں یا اُنھیں بنفشی رنگ کا خط، جسے وصول کرنے وے وہ انکار نہیں کر سکتے، بھیج دوں۔ یہ آدمی نہیں مرا، اس نے سوچا، چند گھنٹے تک وہ جاگے گا، ہر روز کی مانند بستر سے نکلے گا، وہ عقبی دروازہ کھولے گاتاکہ کتا باہر باغیچے میں جا کر فارغ ہو، وہ ناشتہ کرے گا، وہ غسل خانے میں جائے گا، جہاں سے وہ نہانے اور داڑھی مونڈنے کے بعد تازہ دم ہو کر برآمد ہو گا، ممکن ہے وہ کتے کے ہم راہ، گلی کی نکڑ والے سٹال سے صبح کا اخبار خریدنے، ٹہلتا ہوا باہر نکلے، ممکن ہے وہ میوزک سٹینڈ کے سامنے بیٹھ کے سامنے بیٹھ کر ایک مرتبہ پھر شومان کا خیالیہ نمبر تین بجائے، ممکن ہے اس کے بعد وہ موت کے بارے میں، بحیثیت بنی نوع انسان کا مقدر، غور کرے، اگرچہ وہ نہیں جانتا کہ اس وقت وہ ایسا ہےجیسے وہ لافانی ہو، کیوں کہ موت کا وجود، جو اسے دیکھ رہا ہے، نہیں جانتا کہ اسے کس طرح ختم کرے۔ آدمی نے کروٹ بدلی، دروازے کے سامنے موجود کپڑوں والی الماری کی جانب اپنی پشت کی اور اپنے دائیں ہاتھ کو اس جانب لٹکنے دیا جس طرف کتا سو رہا ہے۔ ایک منٹ بعد وہ جاگ رہا تھا۔ وہ پیاسا تھا۔ اس نے پلنگ کے پہلو والا لیمپ جلایا، اٹھا، پاؤں سلیپروں میں، جو ہمیشہ کی مانند،کتےکے سر کے لیے تکیے کا کام کر رہے تھے، ڈالےاور باورچی خانے میں گیا۔ موت اس کے پیچھے گئی۔ آدمی نے ایک گلاس میں پانی ڈالا اور اسے پی گیا۔ اس وقت، کتا نمودار ہوا، عقبی دروازے کے پاس دھرے پانی کے برتن سے اپنی پیاس بجھائی اور اپنے مالک کو تکنے لگا۔ میرا خیال ہے تم باہر جانا چاہتے ہو، سیلو نواز نے کہا۔ اس نے دروازہ کھول دیا اور کتے کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔ گلاس میں تھوڑا سا پانی باقی بچا تھا۔ موت نے اسے دیکھا اور یہ تصور کرنے کی کوشش کی کہ پیاسا محسوس کرنا کیسا ہوتا ہے، لیکن ناکام رہی۔ وہ اس وقت بھی اس کا تصور کرنے سے اتنی ہی معذور ہوتی ہو گی، جب وہ صحرا میں لوگوں کو پیاس کے ہاتھوں ختم کرتی ہو گی، لیکن اس وقت وہ اس بارے میں سوچتی تک نہیں تھی۔ کتا دم ہلاتا ہوا واپس آیا۔ چلو، آدمی بولا، واپس چل کر سوئیں۔ وہ پھر سے سونے کے کمرے میں گئے، کتے نے دو چکر لگائے، پھر سمٹ کر گولا بن گیا۔ آدمی نے چادر کو گردن تک کھینچا، دو مرتبہ کھانسا، تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے سو رہا تھا۔ موت، ایک کونے میں بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ کافی دیر بعد، کتا قالین سے اٹھا اور چھلانگ لگا کر صوفے پر چڑھ گیا۔ اپنی تمام زندگی میں پہلی مرتبہ موت کو علم ہوا کہ اپنی گود میں کتے کو پا کر کیسا محسوس ہوتا ہے۔

12

ہم سب پر کمزوری کے لمحات آتے ہیں، اگر ہم آج اِن سے بچنے کا انتظام کر لیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے، کل کوئی آ جائے گا۔ جیسے کبھی بھی ڈھالی جانے والی کانسی کی مضبوط ترین زرہ بکتر کے اندر، جس کی گارنٹی دی گئی تھی، وقت کے اختتام تک ناقابلِ شکست رہے گی، کبھی ایکلیز کا جذباتی دل دھڑکا تھا، ذرا ہیرو کےان دس برسوں کے بارے میں سوچیے، جب اگامیم نن اس کی محبوبہ بریسس کو اغوا کر کے لے گیا، پھر وہ بے چین کر دینے والا غضب، جس نے اسے جنگ کی جانب لوٹایا، ٹرائے میں اس کی غضب ناک گرج، جب اس کا دوست پیٹرو کولس، ہیکٹر کے ہاتھوں مارا گیا، بلا شبہ، یہاں ہم ذکر کر رہے ہیں، موت کے ڈھانچے کا، ہمیشہ اس بات کا امکان ہے کہ کسی روز کوئی شے خلافِ معمول خود کو ہیبت ناک لاشےمیں بدلنے لگے، جیسے، سیلو کے دھیمے سروں کا توڑا، پیانو کی مدھر تھرتھراتی لہر، یا کسی کرسی پر کھلی میوزک شیٹ پر اچٹتی نگاہ، جو آپ کو وہ بات یاد دلائے، جس کے بارے میں سوچنا آپ رد کر چکے ہیں کہ آپ کبھی موجود نہیں تھے، بھلے آپ جو کر لیں، آپ کبھی نہیں رہیں گے، تا آں کہ۔۔۔ تم سرد نگاہوں سے سوئے ہوئے سیلو نواز، وہ آدمی جسے تم مار نہیں سکتیں، کو دیکھ رہی تھیں، کیوں کہ تم اس وقت اس تک پہنچیں جب بہت دیر ہو چکی تھی، تم نے قالین پر سمٹے ہوئے کتے کو دیکھا، تم اس مخلوق کو بھی نہیں چھو سکتی تھیں، کیوں کہ تم اس کی موت نہیں ہو، وہ دو زندہ وجود، اس امر سے بے خبر کہ تم وہاں حاضر ہو، تمھارے شعور کو تمھاری ناکامی کے احساس کی گہرائی سے آشنا کرتے ہوئے، خود کو نیند کے حوالے کر چکے تھے۔ اس اپارٹمنٹ میں تم نے، جسے اس مقصد سے پیدا کیا تھا کہ وہ کر سکو جو کوئی دوسرا نہ کر سکے، جانا کہ تمھارے ہاتھ پاؤں باندھ کر، تمھارے قتل کرنے کے زیرو زیرو سیون لائسنس کو منسوخ کرتے ہوئے، تمھیں کتنا بے بس بنا دیا گیا ہے، تسلیم کر لو، تم نے بحیثیت موت اپنی زندگی میں کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں، خود کو اتنا بے بس محسوس کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب تم موسیقی کے کمرے میں جانے کی خاطر سونے کے کمرے سے نکلیں، تم وہاں سیلو کے لیے جوہان سبسٹین باخ کی چھٹی دھن کے سامنے جھکیں اور اپنے کندھوں کو تیزی سے حرکت دینے لگیں، جو انسانوں میں بالعموم شدید سسکیوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہ وہ وقت تھا جب تمھارے سخت گھٹنےسخت فرش پر ٹکے ہوئے تھے، تمھارےتاثرات اچانک، ایسے جیسے، بسا اوقات جب تم مکمل طور پر مخفی ہونا چاہتی ہو، خود کو غیر واضح دھند میں ڈھال لیتی ہو، غائب ہو گئے۔ تم سونے کے کمرے میں واپس آئیں، تم سیلو نواز کے پیچھے گئیں، جب وہ باورچی خانے میں پانی پینے اور کتے کے لیے عقبی دروازہ کھولنے گیا، تم نے پہلے اسے سوتے ہوئے لیٹا دیکھا، اب تم نے اسے جاگتے ہوئے کھڑا دیکھا، اور شاید شب خوابی کے لباس کی عمودی دھاریوں سے پیدا ہونے والے بصری التباس کی بنا پر وہ قد میں تم سے کافی بڑا لگا، حال آں کہ یہ ناممکن، صرف نظر کا دھوکا، تناظر سے پیدا ہونے والا بگاڑ تھا، خالص حقائق پر مبنی منطق ہمیں بتاتی ہے کہ موت، تم، سب سے، باقی سب سے، ہم سب سے بڑی ہو۔ یا شاید تم ہمشہ بڑی نہیں ہوتیں، یا شاید دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی وضاحت، اتفاقات، سے ہو سکتی ہے، بطور مثال، موسیقار اپنے بچپن سے وابستہ جس مسحور کن چاندنی کو یاد کرتا ہے، وہ بے سود ہوتی، اگر وہ سو رہا ہوتا، جی ہاں، اتفاق، تم پھر سے ایک انتہائی حقیر موت تھیں جب تم سونے کے کمرے میں لوٹیں اور جا کر صوفے پر بیٹھ گئیں اور اس وقت بھی حقیر تھیں جب کتا قالین سے اٹھا اور اچھل کر تمھاری نسائی گود میں آ گیا اور اس وقت تمھارا دل پیار سے بھر گیا، تم نے سوچا، یہ کتنا غیر منصفانہ ہے کہ موت، تم نہیں، دوسری والی، ایک دن آئے گی اور ملائم گرمائش والے اس جان دار کی جان لے لے گی، یہ تھا، جو تم نے سوچا، ذرا تصور کرو، تم جو قطب شمالی اور انٹارکٹکا کی برفانی سردی والے اس کمرے کی عادی ہو، جس میں تم واپس لوٹی ہو، جہاں اس آدمی کو قتل کرنے کی منحوس ذمہ داری نے تمھیں طلب کیا ہے، جو جب سویا تو اس کےچہرے پر ایسے شخص کی تلخ مسکراہٹ محسوس ہوتی تھی جس نے اپنے بستر میں کبھی کسی جیتے جاگتے انسان سے ساجھے داری نہ کی ہو، جس کا اس کتے کے ساتھ معاہدہ تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خواب دیکھیں گے، کتا آدمی کے بارے میں، آدمی کتے کے بارے میں، آدمی جو رات کو پانی پینے باورچی خانے جانے کے لیے اپنے شب خوابی کے دھاری دار لباس میں اٹھتا ہے، یقیناً، یہ آسان ہوتا اگر بستر میں جاتے وقت وہ اپنے کمرے میں پانی کا گلاس لے جاتا، لیکن وہ ایسا نہیں کرتا، وہ ترجیح دیتا ہے کہ رات کو، آدھی رات کے سکون اور خاموشی میں، کتے کے ہم راہ، جو ہمیشہ اس کے پیچھے آتا ہے اور ہمیشہ نہیں، کبھی کبھی باہر باغیچے میں جانا چاہتا ہے، چند لمحات راہ داری سے ہو کر باورچی خانے تک جائے، اس آدمی کو ہر صورت مرنا ہے، تم بولیں۔

موت ایک مرتبہ پھر کفن میں لپٹا ہوا ڈھانچہ ہے، جس کا قصابہ اس کی پیشانی پر جھکا ہوا ہے تاکہ اس کی کھوپڑی کا بد ترین حصّہ ڈھکا رہے، اگر واقعی اس کا یہ خیال تھا، حال آں کہ شاید ہی اس کی اتنی اہمیت تھی کہ اسے چھپانے کا تردد کیا جائے، کیوں کہ وہاں کوئی نہیں تھا جو ِاس ہولناک منظر سے خوف زدہ ہوتا، خصوصاً جب کہ ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی ہڈیوں کے جوڑ دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں سے ثانی الذکر پتھریلے فرش پر ٹکے ہوئے ہیں، جس کی برفانی ٹھنڈک انھیں محسوس نہیں ہوتی، جب کہ اوّل الذکر موت کے تاریخی فرامین کی تمام جلدوں کے کاغذات اور ضوابط میں سے اولین، جو، تم قتل کرو گی، کے الفاظ پر مشتمل تھا، سے تازہ ترین اضافےاور ضمیموں تک کے اوراق کسی ریتی کی مانند کھرچتے ہوئے الٹ رہے ہیں، جن میں مرنے کے تمام دستور اور طریق، جو تاحال معلوم ہیں اور جس کے بارے میں آپ کَہ سکتے ہیں، یہ فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔ موت اپنی تحقیق کے منفی نتائج سے حیران نہیں تھی، حقیقت میں یہ حوصلہ افزا، اضافی طور پر اس سے بھی بڑھ کر ہوں گے، یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کتاب میں نسلِ انسانی کے تمام گروہوں اور افراد کی زندگی، زندہ ہونے، میں ہوں اور میں رہوں گا، کے لیے ختمہ، اختتامیہ، انجام، موت طے کی گئی ہے۔ اس کتاب میں صرف موت کی گنجائش ہے، اگر کوئی موت سے بچ جائے تو کیا کرنا ہو گا، جیسے مہمل مفروضوں کی جگہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں سنا گیا۔ ممکن ہے، اگر آپ باریک بینی سے تلاش کریں تو شاید کسی غیر ضروری حاشیے میں، ایک مرتبہ اور صرف ایک مرتبہ آپ کو، میں زندہ رہا، کے الفاظ ملیں، لیکن ایسی تلاش کبھی سنجیدگی سے نہیں کی گئی، جو ہماری اس نتیجے تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے کہ موت کی کتاب میں زندہ رہنے کی حقیقت کا ذکر نہ کیے جانے کا ایک معقول جواز ہے۔ وہ جواز، جیسا کہ وہ اپنے رویے سے ہم کو بتاتی ہے، موت کی کتاب کا دوسرا نام، کتابِ عدم، بھی ہے۔ ڈھانچے نے ضوابط ایک طرف سرکائے اور اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسا کہ اس کا دستور تھا جب اسے کسی مسئلے کی گہرائی تک پہنچنا ہوتا، اس نے کمرے میں دو چکر لگائے، پھر کاغذات کی الماری سے، جس میں سیلو نواز کا کارڈ تھا، سیلو نواز کا کارڈ باہر نکالا۔ اس کے انداز نے ہمیں احساس دلایا کہ یہ، اب یا کبھی نہیں، کا وقت ہے، غلط فہمی دور کرنےکے امکان کی ایک اور مثال، اِن دستاویزات کی افادیت سے متعلق ایک اہم پہلو، جس کا ہم نے، راوی کی قابلِ مذمت لاپرواہی کے باعث، تاحال ذکر نہیں کیا۔ اوّل، شاید جو آپ کا خیال تھا، اس کے برعکس، ان درازوں میں ترتیب سے رکھے دس ملین اشاراتی کارڈ موت نے ترتیب نہیں دیے، نہ ہی، یقیناً، نہ ہی اُنھیں موت نےلکھا تھا۔ موت، موت ہے، کوئی معمولی کلرک تھوڑی ہے۔ کارڈ اپنی جگہ پر، الف بائی ترتیب سے، جس لمحے جب کوئی جنم لیتا ہے، نمودار ہوتے ہیں، اور جوں ہی وہ مرتا ہے غائب ہو جاتے ہیں۔ بنفشی رنگ کے خطوں کی ایجاد سے قبل موت دراز کھولنے کا تردد بھی نہیں کرتی تھی، کارڈوں کی آمد و رفت کا نظام کسی افراتفری اور الجھن کے بغیر چلتا تھا، کبھی شرمندہ کرنے والا ایسا واقعہ نہیں ہوا، جس میں کچھ لوگ کَہ رہے ہوں کہ وہ پیدا ہونا نہیں چاہتے، دوسری جانب کچھ لوگ کَہ رہے ہوں کہ وہ مرنا نہیں چاہتے۔ جو لوگ مرتے اُن کے کارڈ، کسی کے لے جائے بنا، اس کمرے کے نیچے ایک کمرے میں چلے جاتے، یا شاید، اُنھیں اُن میں سے کسی کمرے میں جگہ ملتی جو اس زیرِ زمین تہ کے بعد والی تہ میں ہیں، جو مسلسل گہرائی کی جانب جاتے ہوئے پہلے ہی زمیں کے دہکتے مرکز کی طرف رواں ہیں، جہاں یہ تمام کاغذات ایک دن بھسم ہو جائیں گے۔ یہاں، وہ کمرا جس میں موت اور آنکڑے کا قبضہ ہے، یہ ممکن نہیں ہو گا کہ اسی طرح کا ضابطہ لاگو کیا جائے جیسا اس رجسٹرار، جس نے طے کیا کہ اس کے دائرہ کار میں آنے والے تمام زندوں اور مردوں، جی ہاں،ایک ایک، کے نام اور کوائف کا ایک ہی جگہ ریکارڈ رکھا جائے، یہ دعوا کرتے ہوئے کہ جب وہ سب اکٹھےکیے گئے تب ہی سمجھا گیا کہ وہ زمان و مکان سے قطع نظر وہ تمام نوعِ انسان کی نمائندگی کرتے ہیں اور اُنھیں اس وقت تک کے لیے مستثنا کر دیا جب تک کہ روح پر کوئی حملہ نہ ہو۔ یہ بڑا بھاری فرق ہے، زندگی اور موت کے آثار کے ذمہ دار رجسٹرار میں اور اس موت میں جسے اب ہم دیکھ رہے ہیں، جو اُن سے، جو مر چکے ہیں، اپنی فوق البشر حقارت کی بنا پر خود پر فخر کرتی ہے، ہمیں بارہا دہرایا گیا وہ سفاک قول یاد آئے گا، جو کہتا ہے، جو گزر گیا سو گزر گیا، دوسری جانب، جسے ہم موجودہ طرزِ بیان کی عنایت سے تاریخی شعور کہتے ہیں، وہ یقین رکھتا ہے کہ زندہ کو کبھی بھی مردہ سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ اگر ایسا ہو، صرف مردہ ہی ہمیشہ مردہ نہیں رہیں گے، بلکہ زندہ بھی، بھلےوہ، متوسلح جتنی لمبی زندگی پائیں، جس کے بارے میں، ویسے بھی، اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ نو سو انہتر سال کا ہو کر مرا، جیسا کہ تورات کے قدیم نسخوں میں بیان کیا گیا ہے، یا، سات سو بیس سال کی عمر میں، جیسا کہ سامریہ کے صحائف میں درج ہے، اپنی زندگی کا نصف جی پائیں گے۔ظاہر ہے ہر ایک رجسٹرار کے انقلابی منصوبے اور اس کے مطابق اندراج کیے گئے اور کیے جانے والے ناموں سے اتفاق نہیں کرے گا، لیکن، اس امید پر کہ یہ مستقبل میں کار آمد ثابت ہو گا، ہم اسے یہیں چھوڑتے ہیں۔

موت کارڈ کا معائنہ کرتی ہے،وہ اس پر ایسا کچھ نہیں پاتی جو اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا، یہ اس موسیقار کی سوانح ہے، جسے ایک ہفتہ قبل مرنا تھا، اس کے باوجود جس نے اپنے شان و شوکت سے عاری فن کار کے گھر میں اپنے کالے کتے کے ساتھ، جو اچھل کر خاتون کی گود میں آیا تھا، اپنے پیانو اور اپنے سیلوکے ساتھ آدھی رات کو شب خوابی کے دھاری دار لباس میں پیاس سے بیدار ہونا اور زندہ رہنا جاری رکھا۔ اس مشکل صورتِ حال سے نکلنے کی ضرور کوئی ترکیب ہو گی، موت نے سوچا، لامحالہ، بہتر یہی ہوگا، اگر اسے ذہن پر سوار کیے بنا معاملہ سلجھایا جائے، لیکن اگر مقتدر قوتوں کا کوئی مقصد ہے، اگر وہ صرف اس لیے نہیں کہ اس اعزاز اور مدح کو سمیٹیں، جو اُن سے منسوب کر دی گئی ہے، تو اُن کے پاس یہ ثابت کرنے کا سنہری موقع ہے کہ وہ اُن سے, جو اس دھرتی پر سختیاں جھیل رہے ہیں، لاتعلق نہیں ہیں، اُنھیں چاہیے کہ ضوابط بدلیں، اُنھیں چاہیے کہ کچھ خصوصی اقدامات اٹھائیں، اُنھیں چاہیے کہ اختیارات کا استعمال کریں، کوئی ایسا غیر متوقع قانونی قدم اٹھایا جائے، کوئی ایسی بات ہو جائے، جو موجودہ رسوائی کے جاری رہنے سے ہٹ کر ہو۔ اس معاملے میں دل چسپ بات یہ ہے کہ موت کو کوئی اندازہ نہیں کہ حقیقت میں وہ مقتدر قوتیں کون ہیں، جو نظری طور پر اس مشکل صورت کو حل کریں گی۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنے لکھے گئے خطوط میں سے ایک میں، اگر ہم غلط نہیں ہیں تو دوسرا، جو اخبارات میں شائع ہوا، اس نے کائناتی موت کا ذکر کیا تھا، اگرچہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب کائنات میں پائے جانے والے ہر مظہرِ حیات، آخری جرثومے تک کو ختم کر دے گی، تاہم، عمومی شعور کے مطابق بھی چوں کہ کوئی، حتا کہ موت بھی ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتی، عقلِ سلیم کے عملی طور پر طویل عرصے تک مختلف گروہوں میں مختلف نوع کی اموات کے متعدد ادوار کا مشاہدہ کرنے اور ان کے نتائج اخذ کرنے سے اس کا آغاز ہوا، اگرچہ دست یاب معلومات اور تجربات سے اس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ ہماری گروہی موتیں ہیں، موت نے سوچا، جو ہر نوع کی مضرت کا صفایا کرتی ہیں، اور کم از کم مجھے قطعاً حیرت نہیں ہو گی اگر کبھی کائنات غائب ہو جائے، یہ اس عالم گیر موت کی جانب سےکسی حتمی منادی، کہکشا‍‍ؤں اور بلیک ہول کے گرد گونج کے سلسلے میں نہیں ہو گا، بلکہ محض اِن معمولی انفرادی اور ذاتی اموات کی، جو ہماری ذمہ داری ہیں، فرداً فرداً یک جائی ہو گی، اسی طرح جیسے کہاوت والی مرغی بجائے اس کے کہ ایک ایک دانہ کھاتی، احمقانہ طریق پر اسے خالی کر دیا، کیوں کہ میرے خیال میں بہت ممکن ہے کہ ایسا زندگی کے ساتھ ہو، جو بڑی تن دہی سے ہماری کسی مدد کے بغیر، یہاں تک کے ہمارا انتظار کیے بغیر، اپنے انجام کی تیاری کر رہی ہے۔ یقیناً، موت کی الجھن قابلِ فہم ہے۔ وہ اس دنیا میں اتنے عرصے سے متعین ہے کہ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے سلسلے میں اس نے ہدایات کس سے لی تھیں۔ انھوں نے قواعد و ضوابط اس کے ہاتھ میں تھمائے، اس کی مستقبل کی سرگرمیوں کے رہنما اصول، تم قتل کرو گی، کے الفاظ کی نشان دہی کی اور سنگین ستم ظریفی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے حکم دیا، اپنی زندگی کے مقصد کو سرانجام دینا شروع کر دو، اس نے ایسا ہی کیا، یہ سوچتے ہوئےکہ تذبذب یا غیر متوقع غلطی کی صورت میں اس کی پشت ہمیشہ محفوظ ہو گی، وہاں ہمیشہ کوئی ہو گا، کوئی افسر، کوئی برتر، کوئی روحانی گرو، جس سے وہ ہدایت اور رہ نمائی حاصل کر سکے گی۔

اس پر یقین کرنا مشکل ہے، چناں چہ،بالآخر اب ہم ٹھنڈے دماغ سے اس معروضی تجزیے کا آغاز کرتے ہیں جس کا سیلو نواز اور موت کے مابین صورت حال دیر سے تقاضا کر رہی تھی کہ کوئی ایسا مکمل معلوماتی نظام موجود ہو، جس میں ہزار سال کے تاریخ وار آثار کے اعداد و شمار کی مسلسل نظرِ ثانی ہوتی ہو، لوگوں کے پیدا ہونے پر کارڈ ظاہر اور مرنے پر غائب ہو جاتے ہوں، اس پر یقین کرنا مشکل ہے، ہم پھر سے کہتے ہیں، اس پر یقین کرنا مشکل ہے کہ اس نوع کا نظام اتنا قدیم اور اتنا بے عیب ہو گا کہ معلومات کا ماخذ اپنی اپنی باری پر اُن تمام کوائف کا مسلسل اندراج کر رہا ہے جو بھلے وہ جہاں ہیں، نہیں ہیں، اپنے شعبے میں موت کی معمول کی سرگرمیوں کے نتیجے میں نمودار ہوتے ہیں۔ اگر وہ یہ غیر معمولی خبر موصول ہونے پر کوئی ردِ عمل نہیں دکھاتی کہ کوئی ایسا ہے جو اس وقت، جب اسے مرنا تھا، نہیں مرا، تو دونوں میں سے ایک بات ہے، یا تو ہماری تمام منطقی اور فطری توقعات کے برعکس، اسے صورتِ حال میں کوئی دل چسپی نہیں، چناں چہ وہ ذمہ داری محسوس نہیں کرتی کہ سامنے آنے والی مشکلات کو ختم کرے، یا ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ حقیقت موت کے اپنے بارے میں گمان، اسے کھلی چھٹی ہے، جیسا مناسب سمجھے کرے، اِن مشکلات کو حل کرنے کے لیے، جو ُاسے روز مرہ کے فرائض کی ادائیگی کے دوران پیش آئیں، کے برعکس ہے۔ لفظ، شک، کا اس جگہ ایک یا دو مرتبہ استعمال کیا جانا چاہیے، بیشتر اس کے کہ موت کی یاداشت میں گھنٹی بجے، کیوں کہ ضوابط میں ایک گنجائش تھی، چوں کہ یہ انتہائی باریک حروف میں لکھی گئی تھی اور زیریں حاشیے میں درج تھی، اس لیے نہ تو قاری توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے، نہ ہی دل چسپ ہے۔ سیلو نواز کا اشاراتی کارڈ رکھ کر موت نے کتاب اٹھائی۔ وہ جانتی تھی کہ جو وہ تلاش کر رہی ہے، نہ تو ضمیمے میں ملے گا نہ تتمے میں، یہ ضوابط کے قدیم ترین ہونے کے ناطےسب سے کم استفادہ کیے جانے والے اولین جزو میں ہو گا، جیسا کہ بنیادی تاریخی متون کے سلسلے میں ہوتا ہے اور اس میں اس نے اسے ڈھونڈ لیا۔ جو وہاں درج ہے، وہ یہ ہے، شک کی صورت میں، ہر صورت میں موت کو جلد از جلد وہ قدم اٹھانا ہو گاجس سے اس کا تجربہ بتاتا ہے کہ مطلوبہ ہدف حاصل ہو گا، جو ہے، انسانی زندگی کو اس وقت ختم کرنا، جب اس کی پیدائش کے وقت معین کردہ موت کا وقت آئے، بھلے اسے غیر روایتی طریقوں سے کام لینا پڑے، اِن صورتوں میں، جب کوئی فرد معمول سے بڑھ کر تقدیر کی تحریر کا مقابلہ کرے، یا، جب معمول سے ہٹ کرعوامل، جن کا اس وقت، جس وقت، یہ ضوابط تحریر کیے گئے، اندازہ نہیں۔ اس سے زیاوہ واضح کیا ہو سکتا ہے، موت کو مکمل اختیار ہے، جو مناسب سمجھے، وہ کرے۔ جیسا کہ ہمارا معاملے کا تجزیہ ظاہر کرے گا، یہ شاید ہی منفرد تھا۔ ذرا حقائق کا جائزہ لیں۔ جب موت نےاپنی مرضی سے، اپنے برتے پر سال کے آغاز پر جنوری کی پہلی تاریخ سے اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس کی خالی کھوپڑی میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ سلسلہ مراتب میں کوئی بڑی ہستی اس سے جواب طلب کر سکتی ہے، اپنے مضحکہ خیز رویے کا جواز پیش کرو، بالکل اسی طرح اس نے سوچنا بھی گوارا نہیں کیا کہ اس کی بنفشی رنگ کے خطوط کی خوب صورت اختراع اسی بڑی یا اس سے بھی بڑی کسی ہستی کو ناراض کر دے گی۔ یہ خود کار کمان کے بے کیف تسلسل کے، لمبے عرصے تک ایک ہی کام کرنے کے خطرناک نتائج ہیں۔ اسے ایک فرد کہیں یا ایک موت، اس سے فرق نہیں پڑتا، وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ، روزانہ، بنا کسی مسئلے کا سامنے کیے، بنا کسی تذبذب کے، اوپر والوں کے طے کردہ ضوابط پر کامل یک سوئی سے عمل کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتی ہے، اب ایک مدت بعد اگر کوئی ایرا غیرا سونگھتا ہوا آتا ہےکہ وہ اپنا کام کیسے کرتی ہے، اور یہی ہے جو موت کے ساتھ ہوا، تب یقینی ہے کہ وہ فرد، اس کا ادراک کیے بغیر، وہ کام کرنا چھوڑ دے، گویا جو کچھ وہ کرتی ہے اس کی اور صرف اس کی نہیں بلکہ اس کی بھی کہ وہ اس کو کب اور کیسے کرے گی، وہی بااختیار اور کمان دار تھی۔ صرف یہی مناسب جواز ہےاس کا کہ کیوں موت نے اپنے سے بالا ہستیوں سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی، جب اس نےوہ اہم فیصلے کیے، جن کا ہم نے ذکر کیا، اور جن کے بغیر یہ کہانی، اچھی یا بری، وجود میں نہ آ سکتی تھی۔ اس نے ایسا کرنے کا سوچا بھی نہیں۔ اور اب متناقصانہ طور پر، مختصراً، اس وقت جب وہ اپنی مسرت برقرار نہیں رکھ سکتی، یہ جان کر کہ انسانوں کو جس طرح مناسب سمجھے ٹھکانے لگانے کی صلاحیت صرف اس کی ہے اور وہ طلب نہیں کی جائے گی، نہ آج اور نہ کبھی آئندہ، کہ کسی کے حضور جواب دہ ہو، عین اس وقت جب برتری کا نشہ اس کے حواس کو مدہوش کرتا ہے، وہ اس بھیانک سوچ کو، جو کسی پر حملہ آور ہو سکتی ہے، دبا نہیں سکتی، اسی طرح جیسے وہ معجزانہ طور پر جاننے والے تھے، بالکل آخری لمحے پر، سامنے آنے سے بچ گئے، واہ، یہ بال بال بچنا تھا۔

اس کے باوجود، موت جو اس وقت اپنی کرسی سے اٹھتی ہے ایک ملکہ ہے۔وہ اس یخ بستہ زیرِ زمین کمرے میں پڑی نہیں رہے گی، جس میں جیسے اسے زندہ دفن کر دیا گیاہے، بلکہ دنیا کی قسمتوں پر اختیار رکھتے ہوئے بلند ترین پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے گی، پستیوں میں انسانوں کے انبوہ پر فیض رساں نظر رکھتے ہوئے، یہ جانے بغیر کہ وہ ایک ہی سمت رواں ہیں، انھیں اِدھر اُدھر دوڑتا دیکھتے ہوئے، کیوں کہ آگے بڑھایا ہوا ایک قدم انھیں موت کے اتنا ہی قریب لے جائے گا، جتنا پیچھے اٹھایا ہوئے ایک قدم، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ ہر شئے کا ایک ہی انجام ہے،وہ انجام جس کے بارے میں تمھاری شخصیت کے ایک حصّے کو ہمیشہ سوچنا ہو گا اور جو تمھاری مایوس انسانیت پر سیاہ داغ ہے۔موت اشاراتی کارڈ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے ہے۔ وہ جانتی ہے، اس کا کچھ کرنا ہے، لیکن نہیں جانتی، کیا کرنا ہے۔ اوّل، اسے چاہیے کہ پرسکون ہو اور خود کو یاد دلائے کہ وہ وہی موت ہے جو پہلے تھی، نہ کم، نہ زیادہ، گزرے کل اور آج میں صرف ایک فرق ہے، آج وہ زیادہ جانتی ہے کہ وہ کون ہے۔ دوم، یہ حقیقت کہ اسے ہر صورت سیلو نواز کا مسئلہ طے کرنا ہے، اس امر کا جواز نہیں کہ وہ آج کے خطوط روانہ کرنا فراموش کر دے۔ اس کا صرف اتنا سوچنا تھا کہ دو سو چوراسی اشاراتی کارڈ، آدھے مردوں کے اور آدھے عورتوں کے ان کے ساتھ ہی دو سو چوراسی ورق اور دو سو چوراسی لفافے، ڈیسک پر نمودار ہو گئے۔ موت دوبارہ بیٹھ گئی، اشاراتی کارڈ ایک طرف رکھا اور خط لکھنے شروع کر دیے۔ جب اس نےدو سو چوراسیویں خط پر دست خط کیے، چار گھنٹے کے شیشۂ ساعت سے ریت کا آخری ذرہ گر رہا تھا۔ ایک گھنٹے بعد لفافے بند ہو کر ارسال کیے جانے کے لیے تیار تھے۔ موت نےاس خط کو، جسے تین مرتبہ بھیجا کیا گیا اور تین مرتبہ لوٹایا گیا تھا اٹھایا، بنفشی رنگ کے لفافوں پر رکھا، اور بولی، میں تمھیں آخری موقع دے رہی ہوں۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے معمول کا اشارہ کیا اور خط غائب ہو گئے۔ دس سیکنڈ بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ موسیقار کو ارسال کیا گیا خط خاموشی سے ڈیسک پر دوبارہ نمودار ہو گیا۔ موت بولی، ٹھیک ہے، اگر یہی ہے، جو تم چاہتے ہو۔ اس نے اشاراتی کارڈ پر تاریخ پیدائش کاٹی اور اسے اگلے سال سے بدل دیا، پھر اس نے اس کی عمر تبدیل کی اور جہاں پچاس لکھا تھا اسے انچاس سے بدل دیا۔ تم ایسا نہیں کر سکتیں، آنکڑے نے کہا، یہ ہو چکا ہے، اس کے نتائج ہوں گے، صرف ایک، وہ کیا، موت، بالآخر، اس واہیات موسیقار کی، جو میری ناکامی پر ہنس رہا ہے، لیکن غریب آدمی کیا جانے کہ اسے مرنا تھا، جہاں تک میرا تعلق ہے، اسے اچھی طرح علم ہونا تھا، پھر بھی، تمھارے پاس کوئی طاقت یا اختیار نہیں کہ کسی اشاراتی کارڈ میں تبدیلی کرو، تم غلط کہتے ہو، میرے پاس پوری طاقت اور اختیار ہے، جس کی مجھے ضرورت پڑے، میں موت ہوں، اور آج کے بعد سے مزید ایسا نہیں ہو گا، تم نہیں جانتیں کہ تم کس میں الجھ رہی ہو، آنکڑے نے متنبہ کیا، دنیا میں صرف ایک مقام ہے جہاں موت نہیں جا سکتی، کون سا، جسے وہ کفن، تابوت، قبر، جنازہ، انتم سنسکار کلش، مقبرہ، گور کہتے ہیں، میں ان میں نہیں جا سکتی، صرف زندہ جا سکتے ہیں، جب میں انہیں مارچکتی ہوں، لا محالہ، یہ تمام الفاظ ایک ہی افسوس ناک صورتِ حال بیان کرنے کے لیے ہیں، جو یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ہی ہیں، انھیں کبھی یقین نہیں ہوتا کہ وہ کیا کَہ رہے ہیں۔

13

موت کا ایک منصوبہ ہے۔ موسیقار کی پیدائش کا سال بدلنا اس منصوبے کی اولین چال تھی، جو، اب ہم آپ کو بتا سکتے ہیں، کچھ ایسے حربوں کی پیش رو ہو گی، جو نسلِ انسانی اور اس کے اولین، مہلک ترین دشمن کے مابین تعلقات کی تاریخ میں کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔شطرنج کی بساط کی مانند، موت نے اپنی ملکہ کو آگے بڑھایا، چند مزید چالیں، شہ مات کی راہ ہم وار کریں گی، اور کھیل ختم ہو جائے گا۔ اس مرحلے پر کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کہ موت سیدھا صورت حال کو پلٹا کیوں نہیں دیتی، جب لوگ صرف اس لیے مرتے تھے کیوں کہ انھیں، بنفشی رنگ کا خط پہنچانے والے ڈاکیے کا انتظار کیے بنا، مرنا ہوتا تھا۔ اس سوال کا اپنا جواز ہے، لیکن جواب بھی بلا جواز نہیں۔ پہلے نمبر پر، یہ معاملہ ہے، عزت، عزم اور پیشہ وارانہ وقار کا، کیوں کہ موت اگر گزرے وقتوں کی سادگی کی طرف لوٹتی، تو سب کی نگاہوں میں، یہ شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا۔ چوں کہ موجودہ طریق میں بنفشی رنگ کے خط شامل ہیں، اس لیےیہی وہ ذریعہ ہو گا جس سے سیلو نواز مرے گا۔ ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ خود کو موت کی جگہ رکھیں تا کہ اس کی منطق سمجھ سکیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے چار مواقع پر ہم دیکھ چکے ہیں، اصل مسئلہ اس خط کو، جو اب مضمحل ہو چکا ہے، اس کے مکتوب الیہ تک پہنچانا ہے، چناں چہ اگر مطلوبہ ہدف حاصل کرنا ہے، اوپر بتائے گئے غیر معمولی طریق اپنانا ہوں گے۔ البتہ ہمیں مستقبل کے اندازے نہیں لگانے چاہیں، چلیں، دیکھیں، موت اس وقت کیا کر رہی ہے۔ اس وقت، موجودہ محاورے کے مطابق، موت اس سے ہٹ کر کچھ نہیں کر رہی، جو وہ کرتی ہے، اطمینان سے بیٹھی ہے۔ اگر چہ، سچی بات تو یہ ہے، کہنا یہ چاہیے کہ موت کبھی اطمینان سے نہیں بیٹھتی، موت تو بس ہر وقت ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ اسے لوگوں کو مارنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں، وہ ہمیشہ، جہاں وہ ہوں، وہیں ہوتی ہے۔ اب، لوگوں کو مطلع کیے جانےکے اس نئے طریق کی بدولت، اب بھلے، اپنے زمین دوز کمرے میں آرام سے بیٹھے اور ڈاک کے نظام کو اپنا کام کرنے دے، لیکن فطرتاّ، وہ توانا، مستعد اور فعال ہے۔ جیسا کہ پرانی کہاوت ہے، تم جنگلی مرغ کو پنجرے میں بند نہیں کر سکتے، علامتی اعتبار سے، موت جنگلی مرغ ہے، جوہ نہ تو اتنی بے وقوف ہے اور نہ ہی اتنی کم زور ہے کہ اس کی بہترین صلاحیت، اس کی اَن مول فطرت کو کچلا جا سکے، چناں چہ وہ اپنی تمام توانائیوں سے دیوار کے پار گئے بنا دکھائی دینے کی سرحد پر موجود رہنے کے تکلیف دہ عمل کو نہیں دہرائے گی، جیسا کہ اس نے گزشتہ شب، ان گھنٹوں کے دوران کیا، جو اس نے موسیقار کے اپارٹمنٹ میں، اور کس قیمت پر، گزارے۔ چوں کہ، جیسا کہ ہم ایک ہزار ایک مرتبہ کَہ چکے ہیں، وہ ہر جگہ ہے، وہ یہاں بھی ہے۔ کتا باغیچے میں، دھوپ میں اپنے مالک کا انتظار کرتے ہوئے اونگھ رہاہے۔ وہ نہیں جانتا، اس کا مالک کہاں گیا ہے، یا کیا کرنے گیا ہے، اور اس کی بو پر پیچھا کرنے کا خیال، جس کی اس نے کسی زمانے میں کوشش کی تھی، ایسی سوچ ہے جس کے بارے میں سوچنا اس نے چھوڑ دیا ہے، کیوں کہ دارالحکومت میں ان گنت، چکرا دینے والی خوش بوئیں اور بد بوئیں ہیں۔ ہم سوچتے بھی نہیں کہ کتے ہمارے بارے میں ایسی باتیں بھی جانتے ہیں جن کا ہمیں ذرہ برابر احساس نہیں ہوتا۔ البتہ، موت، جانتی ہے کہ سیلو نواز ایک تھیٹر کے سٹیج پر، کنڈکٹر کے دائیں ہاتھ، اس جگہ بیٹھا ہے، جہاں وہ ساز ہوتا ہے، جو وہ بجاتا ہے، وہ اسے ماہر دائیں ہاتھ سے کمانچے کو چلاتے، جب کہ اتنے ہی ماہر بائیں ہاتھ کو تاروں پر اوپر نیچے حرکت کرتے، دیکھتی ہے، بالکل اسی طرح، جس طرح خود اس نے نیم تاریکی میں کیا، حال آں کہ اس نے کبھی موسیقی، اس کی مبادیات، لے تال بھی نہیں سیکھی۔ کنڈکٹر نے ریہرسل روکی، چھڑی سے، تبصرہ کرنے اور حکم دینے کے لیے، میوزک سٹینڈ تھپتھپایا، وہ چاہتا ہے کہ اس ٹکڑے میں سیلو نواز، صرف سیلو نواز اپنے ساز سے المیہ موسیقی کی ایک قسم، جو بظاہر موسیقار آسانی سے بجا لیتے ہیں، اس طرح بجائیں کہ بظاہر دکھائی یہ دے، وہ کوئی آواز پیدا نہیں کر رہے، فن تو ہوتا ہی یہ ہے کہ عام آدمی کو دکھائی دینے والا، ناممکن، ناممکن نہیں رہتا۔ موت، بتانے کی ضرورت نہیں، سارے تھیٹر میں، اوپر، چھت کی علامتی تصاویر پر، بڑے غیر روشن فانوس پر، ہر جگہ موجود ہے، لیکن جو منظر اس وقت اس کی ترجیح ہے، وہ سٹیج کے اوپر، انتہائی نزدیک اس زاویے والے باکس سے دکھائی دینے والا وہ منظر ہے، جو نچلے سروں والے والے، وائلن کی قسم کے نچلے سروں والے ساز، دہرے کھرج کے مساوی، گہرے کھرج والے سیلوز پر مشتمل ہے، جن کی آواز سب سے گہری ہوتی ہے۔ موت، وہاں ارغوانی پوشش والی ایک تنگ کرسی پر بیٹھی پہلے سیلو نواز کو غور سے دیکھ رہی ہے، جسے اس نےاس وقت دیکھا تھا، جب وہ شب خوابی کا دھاری دھار لباس پہنے سو رہا تھا، جس کا ایک کتا ہے، جو اس وقت اپنے مالک کی واپسی کا انتظار کرتے ہوئے، باغیچے میں، دھوپ میں اونگھ رہا ہے۔ یہ آدمی، ایک موسیقار، صرف ایک موسیقار، ایک سو کے لگ بھگ مرد و زن معمول موسیقاروں میں سے ایک ہے، جو اپنے عامل، کنڈکٹر کے گرد نیم دائرے میں بیٹھے ہیں، جن میں ہر ایک، آنے والے کسی ہفتے، مہینے یا سال کے کسی دن، بنفشی رنگ کا ایک خط وصول کرے گا، اپنی جگہ خالی کرے گا، یہاں تک کہ کوئی دوسرا وائلن نواز، نفیری نواز یا شہنائی نواز، ممکن ہے، چھڑی سے سُر برآمد کرنے کا کرتب دکھانے والے کسی دوسرے عامل کا معمول بنتے ہوئے، وہ جگہ پر کرنے آ جائے، زندگی، ایک ایسا آرکسٹرا ہے جو ہمیشہ سُروں میں یا بے سُرا بجتا رہتا ہے، ایک ایسا ٹائی ٹینک ہے جو ہمیشہ ڈوبتا اور ابھرتا رہتا ہے، اور پھر موت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہوتا، اگرڈوبتا ہوا جہاز ابھرنے کی کوشش نہ کرتا، اس کے سطح آب چیرنے سے پیدا ہونے والا نغمہ، امفیٹریٹ دیوی کی یاد دلاتے ہوئے، وہ جو سمندروں پر حاوی ہے، کیوں کہ یہی معانی ہیں اس نام کے جو اسے اس کی پیدائش پر دیا گیا، اس کے وجود پر بہتے پانی کی سرسراہٹ کی مانند، جو تہنیتی نغمۂ آب، دیوتاؤں نے گایا۔ موت سوچ رہی ہے کہ امفیٹریٹ، جو نیریوس اور ڈورس کی بیٹی تھی، اب کہاں ہے، وہ امفیٹریٹ، اب کہاں ہے، جو حقیقت میں شاید تھی ہی نہیں، اس کے باوجود وہ انسانی ذہن میں موجود رہی، تا کہ، دنیا کو معنویت عطا کرنے، حقیقت کو سمجھنے کی راہ تلاش کرنے، کا ایک طریق، اسے سمجھائے۔ لیکن وہ اسے نہیں سمجھتے، موت نے سوچا، نہ ہی سمجھیں گے، بھلے جتنی کوشش کریں، کیوں کہ ان کی زندگی میں دیوتا، انسان، ماضی ہر شَے غیر یقینی، وقتی، عارضی ہے، سب کچھ گزر گیا، جو ہے ہمیشہ نہیں رہے گا، میں، موت بھی، جب مارنے کو کوئی نہیں بچے گا، روایتی طریق پر، یا مراسلے کے ذریعے ختم ہو جاؤں گی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب یہ سوچ اس کے وجود کے اس حصےمیں آئی، جو سوچتا ہے، لیکن یہ پہلی مرتبہ تھی جب اس سوچ سے اسے کسی ایسے کی مانند، جو کام مکمل ہونے پر تازہ دم ہونے کے لیے جسم ڈھیلا چھوڑتا ہے، گہری طمانیت کا احساس ہوا۔ اچانک آرکسٹرا نے خاموشی کو توڑا، ایک سیلو کی آواز تھی جو سنائی دے رہی تھی، یہ وہ ہے جسے ایکل کہا جاتا ہے، سادہ ایکل جو زیادہ سے زیادہ دو منٹ چلے گا، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی عامل کی طلب کردہ روحوں میں سے ایک، شاید ان تمام روحوں کی نمائندگی میں، جو اس وقت خاموش ہیں، بول رہی ہو، کنڈکٹر تک حرکت نہیں کرتا، وہ اس موسیقار کو دیکھ رہا ہے، جس نےجوہان سبستین باخ کے ڈی میجر کے غنائیہ ایک ہزار بارہ کی دھن نمبر چھ، ایک ایسی دھن، جو وہ کبھی اس تھیٹرمیں نہیں بجائے گا، ایک کرسی پر کھلی چھوڑی تھی، کیوں کہ وہ اس آرکسٹرا میں، اپنے شعبے کا لیڈر ہونے کے باوجود، ایک معمولی سیلو نواز ہے، کوئی معروف فن کار نہیں، جو اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، انٹرویو دیتے، ستائش، تالیاں اور میڈل وصول کرتے ہوئے دنیا کی سیر کرتے ہیں، وہ خوش قسمت ہے کہ کبھی کبھی، کسی کمپوزر کی عنایت سے، جس نے آرکسٹرا کے عمومی سازوں کو یاد رکھا، جن میں عمومی دل چسپی کا کوئی سامان ہو، کسی بار میں ایکل بجانے کا موقع مل جاتا ہے۔ جب ریہرسل ختم ہو گی، وہ اپنے سیلو کو اس کے غلاف میں بند کرے گا اور گھر کے لیے، بڑی ڈگی والی، ٹیکسی کرے گا، شاید وہ آج رات، رات کے کھانے کے بعد، باخ کی دھن والی شیٹ سٹینڈ پر رکھے، ایک گہرا سانس لےاور تاروں پر کمانچہ چلائے، تاکہ اس سے اٹھنے والی پہلی لہر اس کی دنیاوی محرومیوں پر مرہم رکھے، تا کہ دوسری لہر، اگر ممکن ہو، اسے اس اہل بنائے کہ انھیں بھلا دے، ایکل ختم ہوتا ہے، آرکسٹرا کے دوسرے ساز سیلو کی گونج پر حاوی ہو جاتے ہیں، اور عامل نے اپنی جادوئی چھڑی کو حرکت دیتے ہوئے، دوبارہ ارواحِ صوت کے نگران اور رہ نما کا اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ موت اپنے سیلو نواز کی اعلا کارکردگی پر خوشی محسوس کر رہی ہے، جیسے وہ اس کے خاندان کی ایک رکن، اس کی ماں، اس کی بہن، اس کی منگیتر، ہو۔ البتہ، بیوی نہیں، کیوں کہ اس آدمی نے کبھی شادی نہیں کی۔

اگلے تین دن، اس وقت کے علاوہ جس میں وہ اپنے زمین دوز کمرےکی جانب بھاگتی، جلدی جلدی خط لکھتی اور انھیں روانہ کرتی، موت موسیقار کے سائے سے کچھ بڑھ کر وہ ہوا تھی جس میں وہ سانس لیتا تھا۔ کیوں کہ سایوں میں ایک بڑی خامی پائی جاتی ہے، روشنی کی عدم موجودگی میں، وہ اپنا وجود کھو دیتے ہیں، وہ غائب ہو جاتے ہیں۔ موت نے اسے گھر لے جانے والی ٹیکسی میں اس کے ہم راہ سفر کیا، جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں گیا، وہ اس کے ساتھ گئی، اس نے کتے کے اپنے مالک کی آمد پر دیوانہ وار منڈلانے کو شفقت سے دیکھا اور کسی ایسے فرد کی مانند جسے وہاں کچھ وقت گزارنے کے لیے مدعو کیا گیا ہو، وہ ماحول میں رچ بس گئی۔ یہ کسی ایسے کے لیے، جسے حرکت کرنے کی حاجت نہ ہو، کوئی مشکل نہیں، اسے فرق نہیں پڑتا کہ وہ فرش پر بیٹھی ہے یا کپڑوں کی الماری کے اوپر ٹکی ہے۔ آرکسٹرا کی ریہرسل دیر سے ختم ہوئی تھی، جلد ہی اندھیرا ہو جائے گا۔ سیلو نواز نے کتے کو کھانا دیا، پھرٹِن کے دو ڈبوں سے اپنے لیے کھانا نکالا، جسے گرم کرنا تھا، گرم کیا، باورچی خانے کی میز پر میز پوش بچھایا، چھری، کانٹا اور رومال رکھا، ایک گلاس میں تھوڑی سے وائن ڈالی اور آہستہ سے، جیسے کچھ سوچ رہا ہو، پہلا لقمہ منہ میں ڈالا۔ کتا اس کے پاس بیٹھ گیا، پلیٹ میں مالک کا بچا کھچا، اور اپنے ہاتھ سے دیا گیا کھانا اس کے لیے شیرینی کا کام کرے گا۔ موت سیلو نواز کو دیکھتی ہے۔ اصل میں وہ خوب صورت اور بد صورت افراد کے درمیان تمیز نہیں کر سکتی، کیوں کہ، وہ صرف اپنی کھوپڑی سے آشنا ہے، اس میں، چہرے، جو ہماری دکان کی سجاوٹ کا کام کرتا ہے، کے اندر چھپی کھوپڑی کا تصور کرنے کا شدید رجحان پایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر، اگر سچ کہا جائے، موت کی نگاہوں میں ہم سب ایک ہی جیسے بد صورت ہیں، حتا کہ ان دنوں بھی، جب ہم ملکہ حسن یا اس جیسے مردِ رعنا ہوں۔ وہ سیلو نواز کی مضبوط انگلیوں کو سراہتی ہے، اس کا خیال ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیاں دھیرے دھیرے سخت، شاید کسی حد تک بے حس بھی ہوئی ہوں گی، زندگی اس بائیں ہاتھ کے معاملےاور دیگر معاملات میں نا انصافی کر سکتی ہے، کیوں کہ اگرچہ سیلو کا مشقت طلب کام یہ ہاتھ کرتا ہے، لیکن ناظرین سے دائیں ہاتھ کے مقابلے میں کہیں کم ستائش وصول کرتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد سیلو نواز نے برتن دھوئے، میز پوش اور رومال احتیاط سے تَہ کیے، انھیں برتنوں کی الماری کی ایک دراز میں رکھا اور باورچی خانہ چھوڑنے سے پہلےاِدھر اُدھر دیکھا،کہیں کوئی چیز تو اِدھر اُدھر نہیں ہوئی۔ کتا اس کے پیچھے موسیقی کے کمرے میں آیا، جہاں موت ان کی منتظر تھی۔ ہماری اس وقت کی سوچ، جب ہم تھیٹرمیں تھے، کے برعکس سیلو نواز نے باخ کی دھن نہیں بجائی۔ ایک دن اپنے ساتھیوں سے موسیقارانہ مصوری کے امکانات، روایتی تصاویر نہیں، بلکہ حقیقی، جیسے ماسوگسکی musisorgsky کے بنائےگئے، سموئیل گولڈن برگ اور شموئیل کے پورٹریٹ، کے بارے میں، ہلکی پھلکی گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا، فرض کرتے ہوئے کہ موسیقی میں ایسا واقعی ہو سکتا ہے، وہ اس کا پورٹریٹ کسی سیلو کمپوزیشن میں نہیں، بل کہ شوپن کے جی فلیٹ میجر کی دھن پچیس، نمبر نو کی لہراتی موسیقی میں پائیں گے۔ جب پوچھا گیا، کیوں، اس نے جواب دیا، وہ اپنے آپ کو کسی دوسری دھن میں تصور نہیں کر پاتا، اس کے نزدیک یہی سب سے بڑا جواز ہے۔ مزید برآں، ان اٹھاون سیکنڈوں میں شوپن نے کسی ایسی شخصیت کے بارے میں، جس سے شاید وہ کبھی نہیں ملا، سب کچھ کَہ دیا، جو کہنے والا تھا۔ کچھ دنوں تک آرکسٹرا کے شغلی ارکان اسے، دوستانہ مذاق میں، اٹھاون سیکنڈ کہتے رہے، لیکن یہ عرفیت اتنی طویل تھی کہ طویل عرصہ نہ چل سکی، اس کے علاوہ کسی ایسے فرد سے مکالمہ جاری رکھنا ناممکن ہے، جس نے یہ ٹھانی ہو کہ کیے گئے ہر سوال کا جواب دینے میں اٹھاون سیکنڈ لے گا، بالآخر سیلو نواز نے یہ دوستانہ مقابلہ جیت لیا۔ جیسے اس نے اپنے مکان میں کسی تیسرے فرد کی موجودگی محسوس کی، جسے نامعلوم وجوہات کی بنا پر، اس نے اپنے بارے میں بتانا چاہا اور طویل تقریر، جو سادہ ترین زندگی کو بھی اصل بات بیان کرنے کے لیے درکار ہو گی، سے گریز کی کوشش کرتے ہوئے سیلو نواز پیانو پر بیٹھا اور مختصر وقفے کے بعد، تاکہ ناظرین متوجہ ہوں، اس نے موسیقی کی ایک دھن چھیڑی۔ میوزک سٹینڈ کے پاس اونگھتے ہوئے کتے نے بظاہر آوازوں کے اس طوفان کو کوئی اہمیت نہ دی، جو اس کے سر پر بج رہا تھا، شاید اس وجہ سے کہ وہ اسے پہلے بھی سن چکا تھا، شاید اس سبب سے کہ اس نے اس کے علم میں، جو وہ اپنے مالک کے بارے میں رکھتا تھا، کوئی اضافہ نہیں کیا۔ البتہ، موت، جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں بارہا موسیقی، بالخصوص اسی موسیقار شوپن کی ماتمی دھن اور بیتھوون کے تیسرے غنائیہ میں سے، دھیرے دھیرے adagio assai، سن چکی تھی، کو اپنی طویل زندگی میں پہلی مرتبہ، جو کہا گیا اور جس طرح کہا گیا کے کامل امتزاج کا ادراک ہوا۔ اسے اس میں کوئی دل چسپی نہیں تھی کہ یہ سیلو نواز کا میوزیکل پورٹریٹ ہے یا نہیں، گمانِ غالب ہے کہ سیلو نواز نے اپنے ذہن میں مشابہتیں، حقیقی یا فرضی، بُنی تھیں، لیکن جس بات نے موت کو متاثر کیا، وہ اس کا کسی انسانی زندگی کو، بھلے کولھو کے بیل جیسی ہو یا غیر معمولی، موسیقی کے ان اٹھاون سیکنڈوں میں سُر اور تال میں ڈھلتے ہوئے، اس کا الم ناک اختصار، اس کی خوف ناک شدت اور اس کے آخری راگ ہونے کا تاثر تھا، جیسے کوئی بات جسے کہنا ابھی باقی ہو کے حذف شدہ الفاظ ہوا میں معلق ہوں۔ سیلو نواز ایک ناقابل تلافی خطا، کبر، کا مرتکب ہوا، جب اس نے سوچا کہ وہ اپنا، اور صرف اپنا چہرہ ایک ایسے پورٹریٹ میں دیکھ سکتا ہے جس میں ہر ایک نظر آ سکتا ہے، ایک ایسا گمان جس کے بارے میں اگر ہم، بالائی سطح پر نہ رہتے ہوئے، غور کریں تو اس کے بالکل برعکس، عجز، بھی برآمد کر سکتے ہیں، چوں کہ پورٹریٹ ہر فرد کا ہے، اس لیے لازماً یہ میرا بھی ہے۔ موت متردد ہے، وہ کبر اور عجز کے مابین فیصلہ نہیں کر پاتی، اور اب وہ جمود کو توڑنے کے لیے، قطعی فیصلہ کرنےکے لیے سیلو نواز کو دیکھ رہی ہے، اس کے چہرے پر آنے والے تاثرات کو، جو اس پر منکشف کریں، جو وہ جاننا چاہتی ہے، یا شاید اس کے ہاتھوں کو، کیوں کہ ہاتھ دو کھلی کتابوں کی مانند ہوتے ہیں، حقیقی یا مفروضہ وجوہات جو دست شناسی نے اس کے دل کی لکیر اور زندگی کی لکیر، جی ہاں، زندگی، خواتین و حضرات، آپ نے صحیح سنا، زندگی کی لکیر کے ذریعے بیان کی ہیں، کیوں کہ وہ بولتے ہیں، جب وہ کھلتے اور بند ہوتے ہیں، جب وہ تھپتھپاتے یا ضرب لگاتے ہیں، جب وہ آنسو پونچھتےیا مسکراہٹ چھپاتے ہیں، جب وہ کندھے کا سہارا لیتے یا رخصت کرتے ہوئے لہراتے ہیں، جب وہ کام کرتے ہیں، جب وہ ساکن ہوتے ہیں، جب وہ سوتے ہیں اور جب وہ جاگتے ہیں، اور پھر موت اپنے مشاہدات ختم کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی، یہ درست نہیں کہ کبر کا متضاد عجز ہے، بھلے دنیا کی تمام لغات آنکھیں بند کر کے قسم کھائیں، متضاد ہے، بے چاری لغات، جو خود کو اور ہمیں صرف وہی الفاظ بتاتی ہیں جو موجود ہیں، جب کہ تاحال بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو موجود نہیں، بطور مثال، یہ لفظ جو کبر کے بالکل برعکس ہے، لیکن عجز سے جھکا ہوا نہیں ہے، وہ لفظ جو ہمیں سیلو نواز کے چہرے اور ہاتھوں پر لکھا ہوا صاف دکھائی دے رہے ہے، لیکن جو ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے کیا کہتے ہیں۔

اگلے روز، ایسا ہوا کہ اتوار تھا۔ موسم خوش گوار ہونے کی صورت میں، جیسا کہ آج ہے، اپنے کتے اور ایک دو کتابوں کے ساتھ صبح کا وقت شہر کے ایک پارک میں گزارنا سیلو نواز کا معمول ہے۔ کتا، جب جبلت اسے اکساتی ہے کہ اپنے ہم جنس کتوں کے پیشاب کی بو سونگھے، اس وقت بھی درختوں درختوں مارا مارا نہیں پھرتا۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی ٹانگ اٹھاتا ہے، لیکن اخراجی تقاضوں کو پورا کرنے کی خاطر کچھ نہیں کرتا۔ دوسرا عمل، جسے ہم، تقاضے کی تکمیل، کَہ سکتے ہیں، اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ گھر کے باغیچے میں، جہاں وہ رہتا ہے، انجام دیتا ہے، چناں چہ سیلو نواز کو اس کا فضلہ اٹھا کر، اسی مقصد سے بنائے گئےچھوٹے کھرپےکی مدد سے، پلاسٹک بیگ میں ڈالنے کے لیے اس کے پیچھے نہیں پھرنا پڑتا، شاید یہ کتوں کی اچھی تربیت کی مثال کے بجائے اس امر کی شاہد ہے کہ سیلو نواز نے یہ نظریہ کتے سے لیا، جس کا خیال ہے کہ کوئی موسیقار، کوئی سیلو نواز، کوئی فن کار جو کوشش کر رہا ہے کہ باخ کے ڈی میجر کی دھن نمبر چھ غنائیہ ایک ہزار بارہ کو بہترین طریق پر بجائے، اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ اپنے یا کسی دوسرے کے کتے کا بھاپ چھوڑتا فضلہ اٹھاتا پھرے۔ سیدھے سبھاؤ یہ درست نہیں ہے۔ جیسا کہ اس نے ایک روز اپنے مالک سے دورانِ گفتگو کہا، باخ کو کبھی یہ نہ کرنا پڑا۔ موسیقار کا جواب تھا، اب حالات بہت بدل چکے ہیں، تاہم، اسے تسلیم کرنا پڑا کہ باخ کو کبھی یہ نہ کرنا پڑا۔موسیقار بحیثیت مجموعی ادب کا شوقین ہے، اس کی لائیبریری کے عمومی شیلف پر نظر ڈالنے سے اس کی فلکیات، طبعی علوم اور مظاہرِ فطرت سے متعلق موضوعات میں اس کی دل چسپی منکشف ہو گی، آج وہ اپنے ساتھ حشرات پر ایک کتابچہ لایا ہے۔ اسے اس کی مبادیات کا علم نہیں، چناں چہ وہ اس سے بہت زیادہ جان کاری کی توقع نہیں کر رہا تھا، تاہم وہ یہ جان کر خوشی محسوس کر رہا ہے کہ دنیا میں حشرات کی لگ بھگ دس لاکھ انواع پائی جاتی ہیں، جو دو اقسام، ٹیری گوٹس terygotes جن کے پر ہوتے ہیں اور اپٹیری گوٹس apterygotes جن کے پر نہیں ہوتے، میں بٹی ہوئی ہیں، اور یہ کہ آگے چل کر انھیں آرتھوپٹیرس orthopterus جیسے گھاس کا ٹڈا، یا بلاٹوڈیا blattodea جیسے کاکروچ، مان ٹوڈیا mantodeaجیسے دعاگو ٹڈا، نیوروپٹیرا neuropteran جیسے کیری سوپا، اوڈوناٹا odonatan جیسے ڈریگن فلائی، افیمروپٹیرا ephemeroptera جیسے مےفلائی، ٹرائی شوپٹیرا trichptera، جیسے کاڈس فلائی، آئی سپٹیرا isopteran، جیسے دیمک، آفنیٹیرا aphaniptera، جیسے پسو، انوپلورا anoplura جیسے لیکھ، میلوپھیگا mallophaga جیسےپرندوں کی جوئیں، ہیٹروپٹیرا hetroptera جیسے کھٹمل، ہوموپٹیرا homoptera جیسے بھڑ، لپیڈو پٹیرا leoidoptera جیسے کاسہ مرگ پروانہ، کولیوپٹرا coleopetra جیسے بھنورا، اور تھائیسونورا thysanura جیسے روپہلی مچھلی نامی کیڑا کے زمرے میں تقسیم کیا گیا ہے۔جیسا کہ آپ کتاب میں دی گئی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں، کاسہ مرگ پروانہ، شب بے دار پروانہ، جس کا لاطینی نام “acherontia atropos” ہے، کی پشت پر انسانی کھوپڑی سے مشابہ قالب ہوتا ہے، اس کے پروں کا پھیلا‍‍ؤ بارہ سینٹی میٹر تک جب کہ رنگ سیاہ ہوتا ہے، اس کے نچلے پروں کا رنگ زرد اور سیاہ ہوتا ہے۔ اور اسے ہم اٹروپس atrops، ڈور کا کٹنا کہتے ہیں، جو ہے، موت۔ موسیقار یہ نہیں جانتا، اس نے تو کبھی اس کا تصور تک نہیں کیا، جب کہ مسحور موت، اس کے کندھے کے اوپر سے پروانے کی رنگین تصویر کو بَیک وقت سحرزدہ اور بوکھلائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ یاد رہےکہ یہ نہیں، بلکہ موت کی ایک اور دیوی حشرات کے وجود سے عدم کو راستے کی، یا انھیں ختم کرنے کی، نگران ہے، اگرچہ اکثر معاملات میں ہر دو کے لیے ضوابط یک ساں ہو سکتے ہیں، تاہم، استثنائی صورتیں بھی بہت سی ہیں، اتنا کہنا کافی ہے کہ حشرات ان عمومی انسانی امراض، بطور مثال، نمونیہ، تپ دق، سرطان، قوتِ مدافعت کا منتقل ہونے والا زوال جسے بالعموم ایڈز کے نام سے جانا جاتا ہے، امراضِ قلب یا کار کے حادثات سے نہیں مرتے۔ اتنا تو کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔ جسے سمجھنا دشوار ہے اور و ہ بات، جو موت کو، جب وہ سیلو نواز کے کندھے کے اوپر سے جھانک رہی ہے، الجھا رہی ہے، یہ ہے کہ انسانی کھوپڑی کتنی خوب صورتی سے، کون جانے، تخلیق کے کس مرحلے پر، ایک پتنگے کی بالوں والی پشت پر، نمودار ہوئی ہو گی۔ یقیناً، ننھے بھنوروں اور تتلیوں کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ انسانی جسم پر ظاہر ہوتے ہیں، تاہم، یہ پیدائشی طور پر انسان کے ساتھ نہیں ہوتے، انھیں کبھی بھی ازمنہ قدیم کی صناعی،، بس معمولی گودا ہوا، سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ شاید کسی زمانے میں، موت نے سوچا، جب تمام زندہ وجود ایک ہی نوع کے تھے، لیکن پھر، خصوصیات کے ارتقاء کے ساتھ، انھوں نے خود کو پانچ گروہوں میں منقسم پایا، جن کے نام، مونیرا، پروٹسٹا، فنگس،پلانٹ اور انیمل ہیں، جن میں، یہ جو گروہ ہیں، کلی علاحدگی اور جزوی علاحدگی ہونے میں قرنوں لگے، اگرچہ یہ کچھ عجیب لگتا ہے، اس تمام غیر یقینی دور میں، اس حیاتیاتی افراتفری کے دوران، بعض جان داروں کی خصوصیات کچھ دوسروں میں بھی در آئیں۔ بطور مثال، یہ واضح ہو گا، اس پتنگے کی پشت پر ایک حیران کن سفید کھوپڑی کے پائےجانے سے، جس کا نام ”acherontia atropos”، حیرت انگیز طور پر، موت کا ایک اور نام، بلکہ عالمِ ارواح میں بہنے والے ایک دریا کا بھی نام ہے، یہ ادویاتی پودے مردم گیاہ سے بھی واضح ہو گا، جس کی جڑ حیرت انگیز طور پر انسانی جسم سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ کیا سمجھا جائے، جب قدرت کے ان کرشموں، ان عجوبوں کا سامنا ہو۔ تاہم، موت پر، جو سیلو نواز کے کندھے کے اوپر سے جھانکنا جاری رکھےہوئے تھی، جو خیالات حاوی ہو رہے تھے، اس سے پہلے ہی ایک اور رخ اختیار کر چکے تھے۔ اب وہ پچھتا رہی ہے، وہ سوچ رہی ہے، کیسا رہتا اگر وہ بطور پیغام بر، ان فضول بنفشی رنگ خطوط کی جگہ، جو اس وقت اسے ایک زبردست آئیڈیا لگتا تھا، کاسۂ مرگ پروانوں سے استفادہ کرتی۔ ایسا کبھی نہ ہوتا کہ ان پروانوں میں سے کسی کو واپس لوٹنا پڑتا، وہ سینہ تان کر اپنا فریضہ ادا کرتا، وہ اسی لیے پیدا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، منظر اور اس کا تاثر بالکل مختلف ہوتا، بجائے اس کے کہ کوئی معمولی ڈاکیا ہمیں خط تھمائے، ہم بارہ سینٹی میٹر کا اندھیروں کا راہی ایک پروانہ اپنے سر پر منڈلاتا، اپنے کالے اور پیلے پروں کی جھلک دکھلاتا دیکھتے، جو اچانک، زمین پر لہرانے اور ہمارے گرد ایک چکر لگانے کے بعد، جس سے ہم کبھی نہ نکل سکیں گے، عمودی اڑان بھرتا اور اپنی کھوپڑی ہماری کھوپڑی کے مقابل کر دیتا۔ ہم، لا محالہ، پرجوش انداز میں اس کے جسمانی کرتب کی داد دیتے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہم انسانوں کی نگران موت کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ جیسا کہ ہمیںبخوبی علم ہے، پروانے اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے، نہ وہ اور نہ ہی ان گنت حیوانی گروہوں میں سے کوئی اور آتا ہے۔ اسے اپنے حیاتیاتی شعبے کے رفقا ۓ کار سے، اس مخلوق کی ذمہ داری سے متعلق، ایک معاہدہ کرنا ہو گا، اور چند acherontia atropos عاریتاً مانگنے ہوں گے، اگر چہ، تاسف سے، ان کی متعلقہ حدود میں اور ان سے متعلقہ زیرِ مراسلت آبادی کے دائرۂ عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یہ امر تقریباً یقینی ہےکہ قبل ازیں بیان کیے گئے رفقائے کار متکبرانہ اور دو ٹوک اندا ز میں نفی میں جواب دیں گے، کیوں کہ موت کے سلطنت میں بھی باہمی تعاون کا فقدان صرف تاثر نہیں ہے۔ ذرا حشرات کی دس لاکھ انواع اور ہر نوع کی تعداد، جن کا ذکر حشرات کی بنیادی کتاب میں کیا گیا ہے، کا صرف تصور کریں، اگر آپ کر سکتے ہیں، اور کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جتنے آسمان پر ستارے ہیں، کرۂ ارض پر یقیناً اس سے کہیں زیادہ تعداد میں یہ ننھے منے جان دار موجود ہوں گے، اگر آپ ترجیح دیتے ہیں کہ اس کائنات کی ہیجان انگیز حقیقت کو ایک شاعرانہ نام دیں، جس میں ہم خاک کا رزق بنتی گھاس کی پتی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔ نسلِ انسانی، جو اس وقت محض سات ارب مرد و زن پر مشتمل ہے، جو سات برِ اعظموں پر غیر مساوی انداز میں بکھرے ہوئے ہیں، کی انچارج موت ایک ثانوی، ایک ماتحت موت ہے، وہ مماتیات کے سلسلہ مراتب میں اپنے مقام، اپنی حیثیت سےبخوبی آگاہ ہے، جیسا کہ اس نے صاف گوئی سے اس خط میں تسلیم کیا، جو اس نے اس اخبار کو لکھا، جس نے اس کا نام اسم معرفہ میں شائع کیا تھا۔ اسی دوران، یہ دیکھتے ہوئےکہ خوابوں کا دروازہ کھولنا کتنا آسان ہے، اور کہ خواب اتنی آزادی سے ہر ایک کو دست یاب ہیں کہ ان کے لیےکوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرنا پڑتا، موت، جس نے اب سیلو نواز کے کندھے کے اوپر سے جھانکنا بند کر دیا تھا، یہ تصور کر کے محظوظ ہو رہی تھی کہ، اپنے ڈیسک پر قطار میں کھڑے پتنگوں کی بٹالین کی قیادت کرنا، ان کی حاضری لگانا اور احکامات دینا، وہاں جاؤ، فلاں فلاں آدمی کو تلاش کرو، انھیں اپنی پشت پر لدی موت کی کھوپڑی دکھاؤ اور واپس آ جاؤ، کیسا لگے گا۔ موسیقار سمجھے گا کہ اس کا acherontia atrops اس کی کتاب کے کھلے ورق سے اڑا ہے، یہ اس کی آخری سوچ اور آخری نظارہ ہو گا، جو وہ اپنی آنکھ کے قرنیہ پر پائے گا، نہ کہ سیاہ لبادے میں ملبوس، اس کی موت کا اعلان کرتی ہوئی کسی فربہ عورت کا، جیسا کہ وہ مارسل پراؤسٹ کے الفاظ میں کہتے ہیں، یا سفید چادر میں لپٹی ہوئی کوئی بدروح، جیسا کہ زیرک افراد اپنے بستر مرگ پر دیکھنے کا دعوا کرتے ہیں۔ ایک بڑے کالے پتنگے کے ریشمی پروں کی سرسراہٹ، ایک بڑا کالا پتنگا جس کی پشت پر ایک کھوپڑی جیسا سفید نقش ہے۔

سیلو نواز نے گھڑی پر نگاہ ڈالی اور دیکھا کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوئے کافی وقت ہو چکا ہے، کتا، جو تقریباً دس منٹ سے یہی سوچ رہا تھا، اپنے مالک کے پاس بیٹھا، اپنا سر مالک کے گھٹنے پر ٹکائے، صبر سے اس کے دنیا میں واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ پاس ہی ایک چھوٹا ریستوران تھا، جہاں سینڈوچ اور اسی طرح کی کھانے کی دوسری اشیاء ملتی تھیں۔ ان صبحوں میں جب وہ پارک جاتا، سیلو نواز وہاں سے باقاعدہ خریداری کرتا، اس کا آرڈر ہمیشہ یک ساں ہوتا۔ اپنے لیے دو ٹیونا سینڈوچ اور وائن کا ایک گلاس، جب کہ کتے کے لیے بیف سینڈوچ۔ اگر موسم خوش گوار ہوتا، جیسا کہ آج ہے، وہ کسی درخت کے سائے میں گھاس پر بیٹھتے اور جب وہ کھانا کھا رہے ہوتے، وہ باتیں کرتے۔ کتا ہمیشہ لذیذ حصّہ آخر کے لیے بچا لیتا، وہ بریڈ کے سلائسز سے آغاز کرتا، اور اس کے بعد بڑے اطمینان سے، آرام سے چباتے ہوئے، عروق کا مزہ لیتے ہوئے، گوشت کے ذائقے سے لطف اندوز ہوتا۔ سیلو نواز، بے خیالی سے، سوچے بنا کہ وہ کیا کھا رہا ہے، کھانے لگا، وہ باخ کی دھن ڈی میجر، خاص طور پر تمہیدی ٹکڑے،اور کم بخت وہ دشوار حصّہ، جو کبھی کبھی اسے تذبذب، غیر یقینیت، وہ بدترین کیفیت جو کسی موسیقار کی زندگی میں پیش آ سکتی ہے، کا نشانہ بنا کر رکنے پر مجبور کر دیتی ہے، میں الجھا ہوا تھا۔ جب وہ کھانا کھا چکے، وہ قریب قریب لیٹ گئے، سیلو نواز اونگھنے لگا، جب کہ ایک منٹ بعد کتا سو چکا تھا۔ جب وہ اٹھے اور گھر گئے، موت ان کے ہم راہ گئی۔ جب کتا باغ کی طرف اپنی آنتیں خالی کرنے دوڑا، سیلو نواز نے سٹینڈ پر باخ کی دھن لگائی، مشکل ٹکڑا، حقیقت میں مدھم شیطانی دھن تلاش کی اور ایک مرتبہ پھر اس کٹھور لمحے کی ہچکچاہٹ کے تجربے سے گزرا۔ موت کو اس پر تاسف ہوا، بے چارہ، اس کا بدترین پہلو یہ ہے کہ اس کے پاس اسے درست کرنے، جو کبھی کسی نے کیا، کا وقت نہیں، یقیناً، نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ جو قریب پہنچ جاتے ہیں، بھی ہمیشہ منزل سے دور ہوتے ہیں۔ تب، پہلی مرتبہ، موت نے نوٹ کیا کہ پورے اپارٹمنٹ میں کسی جگہ کسی عورت کی ایک بھی تصویر نہیں تھی، سوائے ایک بزرگ خاتون کی تصویر کے، جو واضح طور پر سیلو نواز کی ماں تھی، ایک آدمی اس کے ساتھ تھا، جو لازماً اس کا باپ تھا۔

14

مجھے تم سے ایک اہم معاملے میں مدد کی درخواست کرنی ہے، موت نے کہا۔ حسبِ معمول آنکڑے نے کوئی جواب نہ دیا، اس بات کی علامت کہ اس نے سن لیا ہے بمشکل محسوس ہونے والی تھرتھراہٹ، جسمانی اضطراب کی عمومی علامت تھی، کیوں کہ مدد کی درخواست اور اہم معاملے میں مدد کے الفاظ اس سے قبل کبھی موت کے منہ سے ادا نہیں ہوئے تھے۔ ایک ہفتے کے لیے میں باہر جا رہی ہوں، موت کَہ رہی تھی، اس دوران میں چاہتی ہوں کہ اس دوران خطوط کی روانگی کا فریضہ میری جگہ تم ادا کرو، ظاہر ہے میں تمھیں انھیں لکھنے کا نہیں کَہ رہی، تم صرف انھیں بھیجو گے، تمھیں صرف اتنا کرنا ہو گا کہ اپنے دل میں حکم دو، تصور کرو اور اپنی دھار میں تھرتھراہٹ، ایک جذبہ، کوئی ایسی بات جو ظاہر کرے کہ تم زندہ ہو، پیدا کرو، یہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہو گا کہ خطوط اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ آنکڑا خاموش رہا لیکن یہ خاموشی ایک سوال کے مترادف تھی۔ بات صرف یہ ہے کہ میں ڈاک نمٹانے کے لیے بار، بار آ، جا نہیں سکتی، موت نے کہا، مجھے اس سیلو نواز کا مسئلہ حل کرنے، یہ کم بخت خط اس تک پہنچانے کا کوئی طریقہ ڈھونڈنے پر پوری توجہ دینی ہو گی۔ آنکڑا خاموشی سے سن رہا تھا۔ موت نے اپنی بات جاری رکھی، میں نے جو منصوبہ بنایا ہے، وہ یہ ہے، معاملے کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر، میں پورے ہفتے، جب میں باہر ہوں گی، کے تمام خطوط لکھوں گی، اور جیسا کہ میں نے کہا ہے، تمھیں صرف انھیں روانہ کرنا ہو گا، تمھیں اس جگہ سے، دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے، ہلنا بھی نہیں پڑے گا، اور تم جانتے ہو، میں اس معاملے میں شرافت سے کام لیتے ہوئے، تم سے بحیثیت ایک دوست مدد کی درخواست کر رہی ہوں، جب کہ میں اخلاق کو ایک طرف رکھتے ہوئے صاف صاف حکم بھی دے سکتی ہوں، کیوں کہ اس حقیقت کا، کہ چند برسوں سے میں نے تم سے زیادہ کام نہیں لیا، یہ مطلب نہیں کہ تم میرے ماتحت نہیں رہے۔ آنکڑے کی خاموشی نے تصدیق کی کہ یہ سچ تھا۔ تو، ہمارا اس پر اتفاق ہے، موت نے گفتگو سمیٹی، میں دن کا باقی وقت خط لکھنے میں گزاروں گی، یہ ہوں گے، میرے حساب سے، تقریباً دو ہزار پچاس، ذرا سوچو، اس کا مطلب ہے مجھے اپنے انگلیوں کی ہڈیوں تک زور لگانا پڑے گا، میں انھیں تمھارے لیے ڈیسک پر، الگ الگ ڈھیریوں میں، بائیں سے دائیں، یہاں سے یہاں تک رکھ جاؤں گی، سمجھے، بھول نہ جانا، اگر لوگوں کو متنبہ کرنے والے خطوط غلط وقت پر، پہلے یا بعد میں، ملنے لگے تو میں ایک اور مصیبت میں پھنس جاؤں گی۔ کہتے ہیں، خاموشی، رضامندی کا اظہار ہوتا ہے، آنکڑا خاموش رہا، اس طرح اس نے اپنی رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ اپنے لبادے میں لپٹی، قصابہ پیچھے لٹکائے، تاکہ دیکھنے میں رکاوٹ نہ ڈالے، موت نے کام شروع کر دیا۔ وہ لکھتی گئی، گھنٹوں گزر گئے اور وہ اب بھی لکھے جا رہی تھی، خط ہی خط تھے، لفافے ہی لفافے تھے، اس کے بعد اسے خط تَہ کرنے اور لفافوں میں بند کرنے تھے، کوئی سوال کر سکتا ہے کہ وہ یہ سب کیوں کر کرے گی، جب کہ اس کی نہ تو زبان ہے اور نہ ہی لعابِ دہن کا کوئی اور ماخذ، میرے دوستو، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے جب بنایا، توڑا اور جوڑا جاتا تھا، جب ہم ترقی کے ابتدائی دور میں تھے، جب جدید دور کی صبح طلوع ہو رہی تھی، آج کل لفافے، صرف کاغذ کی پنی الگ کریں، خودبَخود چپک جاتے ہیں، آپ کَہ سکتے ہیں، جن کاموں میں زبان کا استعمال ہوتا تھا، ان میں سے یہ استعمال ماضی کی بات ہے۔ موت نے واقعی انگلیوں کی ہڈیوں تک زور لگایا، کیوں کہ، وہ تو سر تا پا ہڈیاں ہی ہڈیاں ہے۔ یہ کہاوتوں کی، جو زبان کا جزو بن چکی ہیں، خصوصیت ہے جن کا ہم اپنے اصل معنوں سے ہٹ جانے کے بعد بھی استعمال جاری رکھتے ہیں، بطور مثال، فراموش کرتے ہوئے کہ موت، ایک ڈھانچے، ہڈیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے، آپ کو صرف ایکس رے دیکھنا ہو گا۔ برخاستگی کے معمول کے اشارے نے اس روز دو سو اسی یا اس کے لگ بھگ لفافے ماورائے مقام روانہ کیے، جس کا مطلب ہے، آنکڑااگلے دن سے باضابطہ روانگی کی ذمہ داریاں، جو اسے تفویض کی گئی ہیں، سنبھالے گا۔ کوئی لفظ، یہاں تک کہ خدا حافظ یا پھر ملیں گے، کہے بنا، موت اپنی کرسی سے اٹھی، کمرے کے واحد دروازے تک گئی، وہ چھوٹا تنگ دروازہ جس کا ہم نے بارہا ذکر کیا، اگرچہ ہمیں اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں کہ وہ کہاں کھلتا ہے، اس میں سے گزری، اپنے پیچھے اسے بند کر دیا۔ اس کی سنسنی نے آنکڑے کو دھار سے دستے تک لرزا دیا۔ آنکڑے کی یاداشت میں یہ دروازہ کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

کئی گھنٹے گزر گئے، وہ گھنٹے جو سورج کو نمودار ہونے کے لیے درکار تھے، اس سرد، تاریک کمرےمیں نہیں، جہاںزرد بلب ہر وقت جلتے رہتے تھے، جو شاید ان کے لیے لگائے گئے تھے، جو تاریکی سےڈرتے ہیں۔ ابھی کافی وقت تھا، جب آنکڑے نے وہ حکم دینا تھا، جس سے خطوط کی دوسری ڈھیری نے کمرے سے غائب ہونا تھا، چناں چہ وہ تھوڑی دیر اور سو سکتا تھا۔ بے خوابی کے غریب مریض، جب تمام رات آنکھ بھی نہیں جھپک سکتے، سمجھتے ہیں، وہ نیند کو، تھوڑی اور، بس تھوڑی سی اور، کَہ کر بے وقوف بنا سکتے ہیں، جب کہ انھیں اب تک آرام کا ایک منٹ نہیں ملا۔ تنہائی کے ان تمام گھنٹوں کے دوران آنکڑا اس اہم سوال کا جواب تلاش کرتا رہا، موت اس دروازے سے، اس بند دروازے سے، جسے ازل سے، یقینی طور پر اس وقت سے، جب سے وہ یہاں ہے، رد کیا گیاتھا، باہر کیسے نکلی۔ تھک کر، اس نے جواب ڈھونڈنےنے کی کوشش ترک کر دی، جلد یابَدیر اسے معلوم ہو جائے گا، دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، کیوں کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ موت اور آنکڑے کے درمیان کوئی پردہ رہے، بالکل اسی طرح، جس طرح درانتی اور اسے چلانے والے کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ آنکڑے کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ صرف آدھا گھنٹا گزرا ہو گا کہ دروازہ کھلا اور ایک عورت اندر داخل ہوئی۔ آنکڑے نے سنا تھا، یہ بات ممکن ہے کہ موت خود کو انسانی وجود، ترجیحاً زنانہ میں، اس کی عمومی جنس ہونے کے ناطے، ڈھال سکتی ہے، لیکن اسے ہمیشہ باقی کہانیوں، اساطیر اور روایات کی مانند سمجھا تھا، جیسے بطور مثال، فینکس کا اپنی ہی راکھ سے جی اٹھنا، سبت کے دن کام کرنے کی پاداش میں چاند میں اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھانا، منچاؤس کا گھوڑے سمیت خود کو دلدل میں دھنسنے سے بچانے کے لیے اپنے بال کھینچنا، ٹرانسلوانیہ کے ڈریکولا کا، بھلے کتنی مرتبہ قتل ہو، نہ مرنا، جب تک کوئی بَلّی اس کے دل کے آر پار نہ ہو، کچھ لوگوں کا اس کے باوجود اس کے مر سکنے پر یقین نہ کرنا، قدیم آئر لینڈ کے معروف پتھر کا اصلی بادشاہ کے چھونے پر رونا، اپیائرس کے چشمے کا روشن شمعوں کو بجھا نااور بجھی شمعوں کو روشن کرنا، عورتوں کا اچھی فصل کے لیے کھیتوں میں خونِ حیض چھڑکنا، کتے جتنی چیونٹیاں ہونا، چیونٹیوں جتنے کتے ہونا، تیسرے دن جی اٹھنا، کیوں کہ دوسرے دن جی نہ سکنا، وغیرہ وغیرہ۔ تم بہت خوب صورت لگ رہی ہو، آنکڑے نے کہا، یہ سچ تھا، موت واقعی بہت خوب صورت جوان، تقریباً چھتیس یا سینتیس برس کی، جیسا کہ بشریات دان نے اندازہ لگایا تھا، دکھائی دے رہی تھی، تم بولے، موت حیرت سے بولی، میرے نزدیک اس کا ایک اہم سبب ہے، روزمرہ زندگی میں تو یہ ہوتا نہیں کہ ہم موت کو اس مخلوق کے روپ میں دیکھیں جس کی وہ دشمن ہے، تو اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ میں تمھیں خوب صورت لگی، ارے، تھا، یہ بھی تھا، لیکن اگر تم موسیو مارسل پراؤسٹ کے سامنے ظاہر ہونے والی فربہ سیاہ پوش عورت کا بھیس بدلتیں تو بھی میں یہی کہتا، اچھا، میں نہ تو موٹی ہوں اور نہ ہی سیاہ پوش، اور تمھیں کیا پتا کہ مارسل پراؤسٹ کون تھا، ظاہر ہے، ہم آنکڑوں کو، گردنیں اتارنے والے ہوں یا ٹہنیاں توڑنے والے، کبھی پڑھنا سکھایا نہیں جاتا، لیکن ہمارے یاداشت، میری لہو کی اور ان کی رس کی، بہت اچھی ہے، اور میں نے بارہا پراؤسٹ کا ذکر سنا ہے، وہ ایک زبردست لکھاری، تاریخ کے عظیم مصنفوں میں سے ایک تھا، اس کی فائل پرانے آثار میں کہیں موجود ہو گی، ہاں، لیکن میرے آثار میں نہیں، میں وہ موت نہیں جس نے اسے ختم کیا، تو اس موسیو مارسل پراؤسٹ کا تعلق یہاں سے نہیں تھا، نہیں، وہ ایک اور ملک کا تھا، جسے فرانس کہا جاتا ہے، موت نے جواب دیا، اس کے الفاظ میں افسردگی گھلی ہوئی تھی، دل چھوٹا نہ کرو، تم خود کو اس حقیقت کی بنا پر تسلی دے سکتی ہو کہ یہ تم نہیں تھیں جس نے پراؤسٹ کو اس حسن سے، جو آج تم سے جھلک رہا ہے، قتل کیا، آنکڑے نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا، جیسا کہ تمھیں علم ہے، میں نے تمھیں ہمیشہ دوست سمجھا ہے، لیکن میری افسردگی کا پراؤسٹ کو قتل نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں، پھر کیا ہے، ٹھیک ہے، میں کَہ نہیں سکتی کہ میں کَہ سکتی ہوں۔ آنکڑے نے تعجب سے موت کو دیکھا اور مناسب سمجھا کہ موضوع بدل دے، یہ کپڑے، جو تم پہنے ہوئے ہو، کہاں سے لیے، اس نے پوچھا، اس دروازے کے دوسری جانب انتخاب کرنے کے لیے بہت سے مقامات ہیں، جو کسی گودام کی مانند، کسی بڑے تھیٹر کے وسیع وارڈ روب کی مانند ہیں، جہاں لاریب سیکڑوں وارڈ روب ہیں، سیکڑوں پتلے ہیں، ہزاروں ہینگر ہیں، مجھے وہاں لے چلو، آنکڑے نے منت کی، بات یہ ہے کہ تمھیں فیشن یا ڈیزائن کی کوئی شد بد نہیں، اچھا، تم پر ایک نظر ڈالتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا ہے، تم مجھ سے زیادہ کچھ نہیں جانتیں، کپڑےجو تم پہنے ہوئے ہو، ایک ساتھ نہیں پہنے جاتے، تم کبھی اس کمرے سے نہیں نکلے، تمھیں کچھ اندازہ نہیں، آج کل لوگوں کا پہناوا کیا ہے، مجھے یاد ہے، جس زمانے میں، میں فعال زندگی گزارتا تھا، اس زمانے میں، اسی طرح کا بلاؤز پہنا جاتا تھا، فیشن دائروں میں ادلتے بدلتے ہیں، متروک سے مروج ہوتے ہیں، مروج سے متروک ہوتے ہیں، اگر میں تمھیں بتاؤں، میں باہر گلیوں میں کیا دیکھتی ہوں، بتانے کی ضرورت نہیں، مجھے تم پر یقین ہے، کیا تم نہیں سمجھتے، اس ٹراؤزر اور جوتوں کے رنگ پر یہ بلاؤز جچتا ہے، ہاں، آنکڑے نے اتفاق کیا، اس ٹوپی کے ساتھ جو میں نے اوڑھی ہے، ہاں، اس پر بھی، فر کے اس کوٹ کے ساتھ، ہاں، اس شولڈر بیگ کے ساتھ، ہاں، تم ٹھیک کہتی ہو، کانوں کی ان بالیوں کے ساتھ، ٹھیک ہے، میں ہارا، چلو، تسلیم کر لو کہ میری مزاحمت ناممکن ہے، اس کا انحصار اس پر ہے کہ وہ آدمی کیسا ہے، جسے تم بہکانا چاہتی ہو، لیکن تم سمجھتے ہو، میں خوب صورت دکھتی ہوں، یہ تو آغاز میں ہی میں نے کہا تھا، اس صورت میں خدا حافظ، میں اتوار تک، یا زیادہ سے زیادہ پیر تک واپس آ جاؤں گی، روزانہ ڈاک روانہ کرنا نہ بھولنا، یہ کسی ایسے کے لیے جو سارا وقت دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا رہتا ہو، کوئی مشکل کام نہیں، تم نے خط لے لیا، آنکرے نے، طنز پر نہ بھڑکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، سوال کیا, ہاں یہ اس میں ہے، موت نے بیگ کو اپنی پتلی،نفیس، سجی سنوری انگلیوں سے، جنھیں ہر شخص خوشی سے بوسہ دینے پر آمادہ ہو گا، تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

موت دن کے اجالے میں، شہر کے نواح میں، ایک تنگ گلی میں، جس کی دونوں جانب دیواریں تھیں، نمودار ہوئی۔ وہاں کوئی دروازہ یا گیٹ نہیں ہے، جس سے نکل کر وہ گلی میں داخل ہوئی تھی، نہ ہی کوئی ایسا نشان ہے جس سے ہم اس راستے کا اندازہ لگائیں، جس سے گزرتے ہوئے وہ اپنے زیرِ زمین ٹھنڈے کمرے سے یہاں تک پہنچی تھی۔ سورج نے اس کے حلقہ ہائے چشم کو تکلیف نہ پہنجائی، یہی سبب ہے کہ آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران برآمد ہونےوالی کھوپڑیاں، جب روشنی ان کے چہرے سے ٹکراتی ہے، اپنی پلکیں جھپکانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں، اور پرجوش ماہرِ بشریات اعلان کرتا ہے، برآمد ہونے والے ڈھانچے کی ہر علامت ظاہر کرتی ہے، اس کا تعلق حجری دور سے ہے، اگرچہ بعد میں کی گئی جانچ سے منکشف ہوتا ہے کہ اس کاتعلق عمومی انسانی نسل سے ہے۔ تاہم، موت نے، جو اس وقت ایک عورت بنی ہوئی تھی، اپنے بیگ سے ایک گہرے رنگ کا چشمہ نکال کر لگایا، تاکہ اپنی موجودہ انسانی آنکھوں کے آشوبِ چشم میں مبتلا ہونے کی اذیت سے بچ سکے، جس میں کسی ایسے فرد کے مبتلا ہونے کا امکان غالب ہے جو ابھی گرمیوں کی صبح کی تیز دھوپ کا عادی نہیں۔ موت چلتی ہوئی ادھر گئی، جدھر دیواروں کا اختتام ہوتا ہے اور عمارتیں شروع ہوتی ہیں۔ اس مقام سے آگے اس نے خود کو جانے پہچانے علاقے میں پایا، ان گھروں میں اور ان سے آگے شہر کی حدود میں جتنے گھر تھے، ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جہاں وہ کم از کم ایک مرتبہ نہ آئی ہو، اور دو ہفتے بعد اسے وہاں اس زیر تعمیر عمارت میں منتشر سوچوں والے اس معمار کی خاطر جانا تھا، جسے مچان سے گرنے کے لیےیہ دیکھنا بھول جانا تھا کہ وہ کہاں پاؤں رکھ رہا ہے۔ ان حادثات پر ہم اکثر کہتے ہیں،یہی زندگی ہے، جب کہ، یہی موت ہے، کہنا زیادہ مناسب ہے۔ ہم یہ نام گہرے رنگ کے چشمے والی اس عورت کو نہیں دیں گے جو اس وقت ٹیکسی میں سوار ہو رہی تھی، شاید ہم اسے زندگی کا کامل روپ سمجھتے اور آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے دوڑ پڑتے، ہم دوسری ٹیکسی، اگر وہاں کوئی ہوتی، کے ڈرائیور سے کہتے، اس ٹیکسی کے پیچھے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا، کیوں کہ اسے لے جانے والی ٹیکسی پہلے ہی نکڑ سے مڑ چکی ہوتی اور وہاں کوئی ایسی ٹیکسی نہ ہوتی جس کے بارے میں ہم، اس ٹیکسی کے پیچھے، کہتے۔ تبھی ہم لا تعلقی سے کندھے اچکاتے ہوئے،یہی زندگی ہے، کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اسے اسی طرح ہونے دیں اور کسی مرہم کا کام کرنے دیں، مچان سے ہمارے گرنے کا ابھی وقت نہیں آیا، کیوں کہ موت اپنے بیگ جو خط میں لے کر جا رہی ہے، اس پر کسی دوسرے مکتوب الیہ کا نام اور پتا لکھا ہے۔ جس کی آپ توقع کر رہے ہوں گے، اس کے برعکس موت نے ٹیکسی ڈرائیور کو سیلو نواز کا پتانہیں بتایا، بلکہ اس تھیٹر کا پتا بتایا، جہاں وہ کام کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی دو گزشتہ ناکامیوں کے بعد اس نے اپنا کام احتیاط سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ اس نے عورت کا روپ دھارنے کا فیصلہ کیا، یقیناً، ممکن ہے، قواعد و ضوابط کا پابند کوئی ذہن سوچے، جیسا کہ ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں، چوں کہ موت اور عورت دونوں مونث ہیں، اس لیے یہ اس کی فطری جنس ہے۔ بیرونی دنیا کے تجربات بالخصوص احساسات، میلانات اور ترغیبات سے واسطہ نہ رکھنے کے باوجود، آنکڑے نے سر کھجاتے ہوئے، گفتگو کے دوران ایک مرحلے پر، موت سے کہا تھا، وہ آدمی کیسا ہے، جسے تم بہکانا چاہتی ہو۔ وہ لفظ، بہکانا، کلیدی تھا۔ موت سیدھی سیلو نواز کے گھر جا سکتی تھی، گھنٹی بجاتی، جب وہ دروازہ کھولتا، وہ اس کی جانب، گہرے رنگ کا چشمہ اتارتے ہوئے، اپنی دل فریب مسکراہٹ اچھالتی اور اپنا تعارف، بطور مثال، ایک گھسی پٹی، لیکن بالعموم کامیاب ہونے والی، چال چلتے ہوئے، انسائیکلوپیڈیا بیچنے والی کے کراتی، تب وہ یا تو اسے اندر بلائے گا، چائے پیتے ہوئے تسلی سے اس موضوع پر بات کرتے ہیں، ورنہ فی الفور کہے گا کہ اسے کوئی دل چسپی نہیں، اسی دوران اپنے انکار پر مہذبانہ معذرت کرتے ہوئے، وہ دروازہ بند کرتے ہوئے کھسیانی مسکراہٹ سے کہے گا، میں نہیں لینے کا، بھلے موسیقی کا انسائیکلوپیڈیا ہو۔ کوئی بھی صورت ہوتی، اسے خط تھمانا بہت آسان، ہم یہ بھی کَہ سکتے ہیں، انتہائی آسان، ہوتا، اور یہ وہ بات ہے جو موت پسند نہیں کرتی۔ آدمی اسے نہیں جانتا لیکن وہ اسے جانتی تھی، اس نے اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں پوری رات گزاری تھی، اس نے اسے موسیقی بجاتے سنا تھا، بھلے آپ اسے تسلیم کریں یا نہ کریں، یہ باتیں تعلق پیدا کرتی ہیں، انس پیدا کرتی ہیں، رشتے کی شروعات کرتی ہیں، جب کہ اکھڑ پن سے اسےمطلع کرنا، اپنا سیلو فروخت کر لو، اپنے کتے کا کوئی اور مالک تلاش کر لو، تمھارے پاس ایک ہفتہ ہے تم مرنے جا رہے ہو، اس خوب صورت عورت، جو وہ بن چکی ہے، کا ظالمانہ فعل ہوتا۔ نہیں، اس کا منصوبہ کچھ اور تھا۔

تھیٹر کے داخلی دروازے پر آویزاں پوسٹر نے معزز عوام کو مطلع کیا کہ دورانِ ہفتہ نیشنل سمفنی آرکسٹرا کے دو کنسرٹ ہوں گے، پہلا جمعرات کو، جو پرسوں ہے، اور دوسرا سنیچر کو ہو گا۔ یہ بالکل فطری ہے کہ کسی قاری کا تجسس، جو اس کہانی کو انتہائی عقلیت، منطقیت اور باریک بینی سےپڑھ رہا ہے، نظر آنے والے تضادات، ادھورے پن، خلا اور منطقی اغلاط کی موجودگی پر، جاننا چاہے گا، موت ان کنسرٹس کی ٹکٹوں کی قیمت کیوں کر ادا کرے گی، جب کہ اسے اپنےزیرِ زمین خفیہ کمرے سے، جہاں ہمیں یقین ہے، کوئی اے۔ ٹی۔ ایم یا ایسا بنک نہیں ہے، جس کے دروازے کھلے ہوں، برآمد ہوئے صرف دو گھنٹے ہوئے ہیں۔ اب جب کہ بات چل نکلی ہے، وہی تجسس یہ بھی جاننا چاہے گا، کیا اب ٹیکسی ڈرائیور ان عورتوں سے، جنھوں نے گہرے رنگ کا چشمہ لگایا ہو، دل فریب مسکراہٹ ہو اور پرکشش جسم ہو، کرایہ وصول نہیں کرتے۔ بیشتر اس کے کہ یہ منفی سوچیں جڑ پکڑنے لگیں، ہم فوراً کہیں گے کہ موت نے میٹر کے مطابق کرایہ ہی ادا نہیں کیا بلکہ ڈرائیور کو ٹپ بھی دی۔ اگر، رقم کہاں سے آئی، کا سوال اب بھی قاری کے ذہن میں اٹکا ہوا ہے، تواتنا کہنا کافی ہوگا، یہ وہیں سے آئی جہاں سے گہرے رنگ کا چشمہ آیا، شولڈر بیگ سے، کیوں کہ جہاں تک ہم جانتے ہیں، اصولی طور پر، جہاں سے ایک شے نکالی جا چکی ہو وہاں سے دوسری شے بھی نکالی جا سکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ کرنسی، جس میں اس نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا، جس میں اس نے کنسرٹ کے دو ٹکٹ خریدنےتھے، جس میں اس نے ہوٹل میں اگلے چند دن قیام کرنے کی ادائیگی کرنی تھی، اب متروک ہو چکی ہو۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے کہ ہم سوئے توایک کرنسی تھی اور جاگے تو دوسری کا چلن تھا۔ چناں چہ خیال رہے کہ کرنسی معیاری اور مروجہ قوانین پر پوری اترتی ہو،جب کہ جانتے ہوئے، جیسا کہ ہمیں موت کی پراسرار صلاحیتوں کا علم ہے، ٹیکسی ڈرائیور نے یہ نہ جانتے ہوئے کی اسے چکر دیا جا رہا ہے، گہرے رنگ کے چشمے والی عورت سے، بادشاہ سلامت کی جانی پہچانی شبیہ کے بجائے کسی صدر مملکت کی تصویر والے، وہ نوٹ وصول کر لیے جن کا تعلق اس دنیا سے، یا کم از کم اس زمانے سے نہیں تھا۔ تھیٹر کا بکنگ آفس کھلا ہی تھا کہ موت وہاں پہنچی، مسکرائی، صبح بخیر کہا اور بہترین باکس میں دو نشستیں، ایک جمعرات کی، دوسری سنیچرکی، ریزرو کرنے کا کہا، اس نے اٹینڈنٹ سے کہا کہ اسے دونوں کنسرٹس میں ایک ہی نشست، خصوصی طور پر، باکس کی دائیں جانب اور سٹیج سے قریب ترین والی، چاہیے۔ موت نے اپنا ہاتھ جلدی سے بیگ میں ڈالا، اپنا پرس نکالا اور کرنسی، جو اس کی دانست میں بنتی تھی، اٹینڈنٹ کے حوالے کی۔ اس نے بقایا رقم اسے واپس کی۔ یہ لیجیے، وہ بولی، میرا خیال ہے آپ کنسرٹ انجوائے کرتی ہیں، آپ پہلی مرتبہ آئی ہیں، شاید، کم از کم میں نے آپ کو پہلے نہیں دیکھا، لوگوں کے بارے میں میری یاداشت بہت اچھی ہے، اصل میں، میں لوگوں کے چہرے نہیں بھولتی، اگرچہ یہ درست ہے کہ چشمے، بالخصوص تاریک چشمے، جس طرح کا آپ لگائے ہوئے ہیں، انسان کا حلیہ بدل دیتے ہیں۔ موت نے اپنا چشمہ اتارا، اب آپ کی کیا خیال ہے، اس نے سوال کیا، نہیں، مجھے یقین ہے کہ میں نے آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، شاید اس لیے کہ یہاں کھڑی عورت، جو اس وقت میں ہوں، نے کبھی کسی کنسرٹ کا ٹکٹ نہیں خریدا، کیوں، چند ہی دن قبل مجھےپہلی مرتبہ ایک ریہرسل دیکھنے کا موقع ملا، جب کہ کسی نے مجھے نہیں دیکھا، سوری، میں سمجھی نہیں، مجھے وہ دن بتائیں، تا کہ میں آپ کو اس دن کے بارے میں بتاؤں، کب، اوہ، وہ دن، وہ دن جو ہمیشہ آتا ہے، اب آپ مجھے خوف زدہ کر رہی ہیں۔ موت اپنے دل فریب انداز میں مسکرائی اور کہا، سچ سچ بتائیں، کیا میں خوف ناک نظر آتی ہوں، نہیں، میرا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے، تب وہ کریں، جو میں کرتی ہوں، مسکرائیں اور اچھی باتیں سوچیں، کنسرٹ سیزن ابھی ایک مہینہ اور چلے گا، یہ ایک اچھی خبر ہے، تب، امید ہے اگلے ہفتے ہماری ملاقات ہو گی، بات یہ ہے، میں ہر وقت، تھیڑ کے فرنیچر کی مانند، یہیں موجود ہوتی ہوں، فکر نہ کیجیے، اگر آپ نہ ہوئیں، تو بھی میں آپ کو تلاش کر لوں گی، ٹھیک ہے، میں آپ کا انتظار کروں گی، میں پہنچ جاؤں گی۔ موت نے توقف کیا پھر بولی، بر سبیلِ تذکرہ، کیا آپ نے یا آپ کے گھر کے کسی فرد نے بنفشی رنگ کا خط وصول کیا ہے، موت کا خط، ہاں، نہیں، شکر ہے، البتہ میرے ہم سائے کا ہفتہ کل ختم ہو رہا ہے جس کے باعث اس کی حالت انتہائی خراب ہے، کیا کیا جا سکتا ہے،یہی زندگی ہے، ہاں، سچ کہا، عورت نے آہ بھری،یہی زندگی ہے۔ خوش قسمتی سے، اس وقت، کچھ اور لوگ ٹکٹ خریدنے آ گئے، ورنہ، کون جانے، گفتگو کیا رخ اختیار کرتی۔

اب مرحلہ تھا، کسی ایسے ہوٹل کی تلاش کی جائے، جو موسیقار کے گھر سے زیادہ فاصلے پر نہ ہو، موت سنٹر تک پیدل گئی، ایک ٹریول ایجنسی میں گئی، دریافت کیا، کیا وہ شہر کا نقشا دیکھ سکتی ہے، جس پر پہلے اس نے تھیٹر دیکھا، جہاں سے اس کے انگلی نے سیلو نواز کی رہائش گاہ تک کا سفر کیا۔ یہ راستے سے تھوڑا ہٹ کر تھا، لیکن قریب ہی ہوٹل موجود تھے۔ اسسٹنٹ نے ان میں سے ایک پر آسائش نہیں، البتہ آرام دہ ہوٹل، تجویز کیا۔ اس نے پیش کش کی، وہ ٹیلی فون پر ریزرویشن کرا دیتا ہے، جب موت نے اس سے پوچھا کہ اس خدمت کے بدلے اس پر کتنی رقم واجب الادا ہے، اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، اسے میرے کھاتے میں ڈال دیں۔ اس سے بڑھ کر عامیانہ کیا ہو سکتا ہے، لوگ سوچے بنا کچھ بھی کَہ دیتے ہیں، لوگ الٹے سیدھے الفاظ ادا کرتے ہیں، انھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ آگا پیچھا دیکھ لیں، مردانہ احساسِ تفاخر کے ساتھ، اسے میرے کھاتے میں ڈال دیں، بلا شبہ،مستقبل قریب کی کسی پر لطف ملا قات کا تصور کرتے ہوئے، اس نے کہا۔ اس نے موت کی سرد نگاہوں کے ساتھ جواب، سوچ سمجھ کے، جانتے ہو، کس سے بات کر رہے ہو، کا خطرہ مول لیا، لیکن وہ صرف مبہم انداز میں مسکرائی، اس کا شکریہ ادا کیا اور کوئی فون نمبر یا وزیٹنگ کارڈ دیے بنا رخصت ہو گئی۔ ہوا میں گھلی ہوئی، گلاب اور گلِ داؤدی کی ملی جلی، مہک باقی تھی، جی ہاں، احتیاط سے شہر کا نقشا تَہ کرتے ہوئے اسسٹنٹ بڑبڑایا، یہ خوش بو کچھ گلاب اور کچھ گلِ داؤدی جیسی ہے۔ باہر گلی میں، موت ایک ٹیکسی روکتے ہوئے ڈرائیور کو ہوٹل کا پَتا بتا رہی تھی۔ وہ ہرگز خود کو مطمئن محسوس نہیں کر رہی تھی۔ اس نے بکنگ آفس کی مہربان خاتون کو خوف زدہ کر دیا تھا، وہ اسے زچ کر کے محظوظ ہوئی تھی، حال آں کہ یہ فعل ناقابلِ معافی ہے۔ لوگ موت کے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انھیں، ہیلو، یہ میں ہوں، میرا تازہ ترین روپ، جانا پہچانا روپ جو آپ پسند کریں گے، کہے بنا بھی اس سے ڈرتے ہیں، لیکن جیسے یہ کافی نہیں تھا، وہ تو انھیں، لاطینی زبان کے معروف منحوس گھسے پٹے قول، بندے، تو مٹی کے لیے ہے، تو مٹی میں مل جا homo, quia pulvis es et pulverem revertries، کے مصداق، ایک انتہائی مہذب، تعاون کرنے والے انسان کو دیدہ دلیرانہ گستاخانہ رویے کے ساتھ، جو نام نہاد اعلا طبقات میں، ان کے بارے میں جو ان سے کم تر ہوں، پایا جاتا ہے، یہ پوچھتے ہوئے، جانتے ہو، کس سے بات کر رہے ہو، سینگوں پر رکھنے والی تھی۔ نہیں، موت اپنے رویے سے خوش نہیں تھی، اسے یقین تھا کہ وہ اپنے پنجر والے حلیے میں ہر گز یہ رویہ نہ اپناتی، شاید اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے انسانی روپ دھارا ہے، اس نے سوچا، شاید یہ رویے متعدی ہوتے ہیں۔ اس نے شیشے سے باہر جھانکا اور اس گلی کو، جو سیلو نواز والی گلی تھی، جس کے ایک گراؤنڈ فلور اپارٹمنٹ میں وہ رہتا تھا،پہچان لیا۔ موت نےاپنی کھوپڑی میں تناؤ، اچانک ہونے والا اعصابی کھچاؤ سا محسوس کیا، اس سنسناہٹ کی مانند جوشکاری شکار کو تلاش کرتے ہوئے اس وقت محسوس کرتا ہے، جب وہ شکار کو اپنے سامنے پاتا ہے، یہ ایک نوع کا خوف بھی ہو سکتا ہے، شاید وہ خود سے خوف محسوس کرنے لگی تھی۔ ٹیکسی رکی، یہ رہا، ہوٹل، ڈرائیور بولا۔ موت نے تھیٹر والی عورت سے ملنے والی ریزگاری ڈرائیور کو دیتے ہوئے کہا، یہ جانے بغیر کہ بقایا میٹر کی رقم سے زیادہ ہے، بقایا تمھارے لیے ہے۔ اس کے پاس ایک عذر تھا، یہ پہلا موقع ہے، جب اس نے اس نوع کی پبلک سروس استعمال کی۔

جب وہ استقبالیہ کاؤنٹر پر پہنچی، اسے یاد آیا کہ ٹریولنگ ایجنسی والے صاحب نے اس سے نام نہیں پوچھا تھا، اس نے ہوٹل والوں کو صرف اتنا بتایا تھا، میں آپ کے پاس ایک گاہک بھیج رہا ہوں، ہاں، ایک گاہک، ابھی، اور اب وہ وہاں تھی، وہ گاہک جو یہ تو نہیں کَہ سکتی تھی کہ اس کا نام موت، عمومی موت، ہے، اور نہ ہی یہ کَہ سکتی تھی کہ وہ نہیں جانتی کہ اپنا نام کیا بتائے، ارے، اس کا بیگ، بیگ جو اس کے کندھے سے لٹکا ہوا تھا، وہ بیگ جس میں سے گہرے رنگ کا چشمہ اور کرنسی نکالی گئی تھی، اسی بیگ سے کوئی نہ کوئی شناختی دستاویز بھی نکل آئے گی، شام بخیر، کیا میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں، ریسپشنسٹ نے کہا، تقریباً پندرہ منٹ قبل ایک ٹریولنگ ایجنسی سے فون کیا گیا تھاکہ میرے لیے ریزرویشن کی جائے، جی، مادام، میں نے ہی وہ فون وصول کیا تھا، ٹھیک ہے، میں آ گئی ہوں، پلیز، کیا آپ یہ فارم پر کرنے کی زحمت کریں گی۔ اب موت جانتی تھی، اس کا نام کیا ہے، یہ اس شناختی کارڈ پر لکھا تھا، جو اس وقت کاؤنٹر پر رکھا ہوا تھا، گہرے رنگ کے چشمے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ احتیاط سے تمام کوائف، نام، جائے پیدائش، قومیت، ازدواجی حیثیت، پیشہ، ریسپشنسٹ کے علم میں آئے بغیر نقل کر سکتی تھی، یہ لیجیے، وہ بولی، آپ ہوٹل میں کب تک قیام کریں گی، اگلے پیر تک، کیا میں آپ کے کریڈٹ کارڈ کی کاپی کر سکتی ہوں، اوہ، میں اپنے ساتھ نہیں لائی، لیکن، اگر آپ پسند کریں، میں اسی وقت، پیشگی، ادائیگی کر دیتی ہوں، نہیں، نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں، ریسپشنسٹ نے کہا۔ اس نے فارم پر درج کوائف کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ لیا، اس نےحیرت سے نظریں اٹھائیں، کارڈ پر تو کافی بڑی عمر کی عورت تصویر ہے۔ موت نے گہرے رنگ کا چشمہ اتارا اور مسکرائی، بوکھلائی ہوئی ریسپشنسٹ نے ایک مرتبہ پھر کارڈ کو دیکھا، اس کے سامنے موجود خاتون اور تصویر ایک دوسری کے بالکل مشابہ تھیں، جیسے مٹر کے دو دانے ہوں۔ آپ کے ساتھ کوئی سامان ہے، اس نے ایک ہاتھ سے ماتھے کا پسینا پونچھتے ہوئے دریافت کیا، نہیں، میں یہاں کچھ خریداری کرنے آئی ہوں، موت نے جواب دیا۔

سارا دن وہ اپنے کمرے میں رہی، دوپہر اور شام دونوں وقت کا کھانا ہوٹل میں کھایا، دیر تک ٹیلی وژن دیکھتی رہی۔ پھر بستر میں چلی گئی اور روشنی بجھا دی۔ وہ سوئی نہیں۔ موت کبھی نہیں سوتی۔

15

نیا لباس پہن کر، جو اس نے گزشتہ روز شہر کے مرکزی بازار کی ایک دکان سے خریدا تھا، موت کنسرٹ میں جاتی ہے۔ وہ باکس میں اکیلی ہے اور بالکل اسی طرح،جس طرح اس نے ریہرسل کے دوران کیا تھا، سیلو نواز کو دیکھ رہی ہے۔ روشنیاں گل ہونے سے عین پہلے، جس وقت آرکسٹرا کنڈیکٹر کی آمد کا منتظر تھا، اس نے اسے دیکھا۔ یہ حرکت کرنے والا صرف موسیقار نہیں تھا۔ اول، کیوں کہ، وہ باکس میں تنہا تھی، جو اگرچہ ان ہونا نہیں، تاہم بالعموم ایسا نہیں ہوتا۔ دوم، کیوں کہ وہ خوب صورت تھی،شاید ناظرین میں سب سے خوب صورت نہیں، لیکن ایک مخصوص، ناقابلِ بیان، انداز میں خوب صورت جسے الفاظ کا روپ نہیں دیا جا سکتا، نظم کے اس مصرعے کی مانند جس کا اصل مفہوم، اگر کوئی ایسی چیز واقعی نظم کے کسی مصرعے میں پائی جاتی ہے، ہمیشہ شارح کے کے ہاتھ سےنکل جاتی ہے۔ اور آخری، کیوں کہ اس باکس کے اندر، ہر جانب سے خالی پن اور عدم میں گھرا ہوا، اس کا تنہا وجود، انتہائی،مکمل تنہائی کا تاثر پیدا کرتا محسوس ہوتا تھا، جیسے یہ سونا پن ہی اس کا مقدر ہے۔ موت جو، جب سےاپنے زمین دوز خفیہ ٹھنڈے کمرے سے نکل کر باہر آئی تھی، بارہا اور خطرناک انداز میں مسکرا چکی تھی، اس وقت نہیں مسکرا رہی۔تماشائیوں میں سے مردوں نےمعنی خیز تجسس کے ساتھ، عورتوں نے غیر معمولی اضطراب کے ساتھ، اسے دیکھا، لیکن وہ، ہوا کو چیرتے، میمنے پر جھپٹتے ہوئے عقاب کی مانند، نگاہیں صرف سیلو نواز پر جمائے ہوئے ہے۔ تاہم، ایک فرق کے ساتھ، اس دوسرے عقاب کی نگاہوں میں، جو ہمیشہ اپنے شکار کو پکڑنے میں کامیابی ہوئی، ترحم کی ہلکی سی جھلک موجود ہے، جیسا کہ ہمیں علم ہے، عقاب مارنے پر مجبور ہیں، یہ ان کی فطرت ہے، لیکن اس مقام پر موجود یہ عقاب اس وقت شاید اس امر کو ترجیح دے کہ مزاحمت سے معذور میمنے کو سامنے پا کر، اپنے مضبوط پر پھیلائے اور واپس، بلندیوں میں چلتی سرد ہواؤں کی جانب، تیرتے بادلوں کی جانب، آسمان کی وسعتوں کی جانب لوٹ جائے۔ آرکسٹرا بالکل خاموش تھا۔ سیلو نواز اپنا ایکل بجانا شروع کرتا ہے، جیسے، وہ صرف اسی کام کے لیے پیدا ہوا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ باکس میں موجود عورت کے نئے ہینڈ بیگ میں اس کے نام بنفشی رنگ کا ایک خط ہے، وہ نہیں جانتا، اور وہ جان بھی نہیں سکتا، اس کے باوجود وہ اس طرح موسیقی بجا رہا ہے جیسے دنیا کو الوداع کَہ رہا ہو، جیسےبالآخر وہ اپنے سربریدہ خوابوں کا، اکارت گئے سالوں کا، سب کا، المختصر، ساری زندگی کا احوال،جو ہمیشہ اَن کہا رہا تھا، بیان کر رہا ہو۔ کنڈیکٹر اچنبھے اور توجہ سے، ساتھی موسیقار تحیر کےساتھ، حاضرین دم سادھے اسے دیکھ رہے ہیں، ایک سنسناہٹ سی ان میں دوڑ رہی ہے، اور ترحم کی وہ جھلک جو عقاب کی نگاہوں میں موجود تھی، آنسوؤں کی جھلی میں ڈھل چکی ہے۔ ایکل مکمل ہوا، آرکسٹرا سیلو نواز کی دھن کو ایک عظیم، سبک خرام سمندر کی مانند، اس کا انجذاب اور انتشار کرتے ہوئے اس پر حاوی ہو گیا، جیسے اسے ایسے مرحلے کی جانب لے جا رہا ہو جہاں، اسے مہذبانہ انداز میں ڈبوتے ہوئے، کسی نقارے پر مڑھی کھال کی اس معدوم ہوتی خفیف تھرتھراہٹ، ناقابلِ سماعت سرسراہٹ، کی مانند جس پر کوئی اڑتی ہوئی تتلی لمحے بھر کے لیے اتری ہو، موسیقی کا تبادلہ خاموشی سے ہوتا ہے۔ موت کے ذہن میں کاسۂ مرگ acherontia atropos کی منحوس پرواز کی یاد سرسراتی ہوئی در آئی، لیکن اس نے اپنے ہاتھ کی حرکت سے، جو ممکنہ طور پر وہی حرکت ہو سکتی ہے جو اس کے خفیہ کمرےمیں ڈیسک سے خطوط کو غائب کرتی ہے، اسے پرے ہٹا دیا، اسی طرح یہ سیلو نواز کے لیے ستائشی اشارہ بھی ہو سکتا ہے، جس کی نگاہیں تھیٹر کی تاریک حدت میں راستہ تلاش کرتے ہوئے، اپنا رخ اس کی جانب کر رہی تھیں۔ موت نے حرکت دہرائی، یہ کچھہ ایسا تھا، جیسے اس کی نفیس انگلیاں لمحے بھر کو سیلو کے کمانچے کو حرکت دینے والے ہاتھ پر اتر آئی ہوں۔ اگرچہ سیلو نواز کے دل نے پوری کوشش کی کہ وہ ایک سُر بھول جائے، لیکن وہ نہیں بھولا۔ آئندہ کبھی اس کی انگلیاں اسے نہیں چھوئیں گی، موت کو ادراک ہو گیا تھا، جب کوئی فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہو، اس کی توجہ کو بٹانا نہیں چاہیے۔ جب کنسرٹ ختم ہوا اور سامعین پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہے تھے، ہال کی بتیاں جلیں اور کنڈیکٹر نے آرکسٹرا کو قطار میں کھڑا کیا، تب اس نے سیلو نواز کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھے اور اپنے حصّے کی ستائش وصول کرے، موت نے کھڑے ہو کر، مسکراتے ہوئے، اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھا اور خاموشی سے دیکھنے لگی، دوسرے تالیاں بجاتے رہیں، دوسرے، زبردست،زبردست، کہتے رہیں، دوسرے بار بار کنڈیکٹر کو پکارتے رہیں،وہ خاموش کھڑی دیکھتی رہی۔ پھر آہستہ آہستہ، حاضرین نہ چاہتے ہوئے رخصت ہونا شروع ہوئے، دوسری جانب آرکسٹرا کا سامان سمیٹا جا رہا تھے۔ جب سیلو نواز باکس کی طرف مڑا، وہ عورت وہاں نہیں تھی۔ اچھا، تو، یہ زندگی ہے، وہ بڑبڑایا۔

اس کا خیال غلط تھا، زندگی ہمیشہ ایسے نہیں ہوتی، باکس والی عورت سٹیج کے دروازے پر اس کا انتظار کر رہی ہو گی، جب وہ جا رہے تھے، چند موسیقاروں نے پلٹ کر اسے دیکھا، لیکن، یہ جانے بنا کہ کیسے، انھیں احساس ہوا، اس کے گرد ایک نظر نہ آنے والا حصار ہے، ہائی وولٹیج کا جال جسے چھو کر وہ غریب پروانوں کی مانند جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ پھر سیلو نواز نمودار ہوا، جب اس نے اسے دیکھا تو ٹھٹھک کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا، جیسے نزدیک سے دیکھنے پر وہ دوسری عورتوں سے کچھ ہٹ کر، کسی دوسرے سیارے کی، کسی دوسری دنیا کی، چاند کے دوسرے رخ کی مخلوق دکھائی دیتی ہو۔ اس نے اپنا سر جھکایا کہ بھاگ لے اور اپنے رخصت ہوتے ساتھیوں سے ملنے کی کوشش کرے، لیکن ایک کندھے پر لٹکتے سیلو نےفرار کو دشوار بنا دیا۔ وہ عورت اب اس کے رو بَرو تھی، بھاگیں نہیں، میں آپ کے ساز سے ملنے والے ولولے اور مسرت پر آپ کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ آپ کی عنایت ہے، لیکن میں تو آرکسٹرا کا ایک معمولی موسیقار ہوں، کوئی معروف کنسرٹ آرٹسٹ نہیں ہوں، جن کا مداح گھنٹوں انتظار کرتے ہوں، صرف اس لیے کہ ان سے ہاتھ ملا سکیں، یا ان سے آٹو گراف کی استدعا کر سکیں، اگر یہ مسئلہ ہے، میں آپ سے آٹو گراف کی درخواست کر سکتی ہوں، اگر آپ پسند کریں، میں اپنے ہم راہ اپنی آٹوگراف بک نہیں لائی، لیکن میرے پاس ایک لفافہ ہےجو مناسب رہے گا، نہیں، آپ مجھے غلط سمجھیں، میرا مطلب یہ تھا، اگرچہ میں آپ کی عنایت سے مسرت محسوس کر رہا ہوں، تاہم، میرا نہیں خیال کہ میں اس کا مستحق ہوں، نظر تو یہ آتا ہے کہ تھیٹر کے تماشائی آپ سے متفق نہیں، ٹھیک ہے، ظاہر ہے، آج کا دن میرے لیے اچھا تھا اور اسی اچھےدن کی رات میں بھی یہاں پہنچ گئی، دیکھیں، میں نہیں چاہتا، آپ مجھےناشکرا یا بدتمیز سمجھیں، لیکن امکانِ غالب ہے، کل تک آپ آج رات کے جذبات کو فراموش کر چکی ہوں گی، اور جس طرح اچانک آپ نمودار ہوئیں، اسی طرح آپ غائب بھی ہو جائیں گی، آپ مجھے نہیں جانتے، میں ہمیشہ اپنے مقاصد سے جڑی رہتی ہوں، وہ کیا، اوہ، صرف ایک، آپ سے ملوں، اور اب جب کہ آپ مجھے مل چکی ہیں، ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کَہ سکتے ہیں، کیا آپ مجھ سے خوف زدہ ہیں، موت نے سوال کیا، نہیں، اس کے بجائے میں نے آپ کو پریشان کن پایا، تو کیا میری موجودگی سے پریشانی محسوس کرنا کوئی معمولی بات ہے، لازم نہیں کہ پریشان ہونے سے مراد خوف زدہ ہونا ہو،ہو سکتا ہے یہ صرف انتباہ ہو کہ ہوشیار ہو جاؤ، ہوشیاری، ہونی کو صرف التوا میں ڈال سکتی ہے، جلد یابَدیر وہ اس پر حاوی ہو جاتی ہے، مجھے امید ہے، میرے معاملے میں ایسا نہیں ہو گا، اچھا، مجھے یقین ہے، ایسا ہی ہو گا۔ سیلو نواز نے اپنا سیلو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کیا، کیا آپ تھک گئے ہیں، عورت نے پوچھا، یہ سیلو نہیں جو وزنی ہے بلکہ اس کا غلاف ہے، خصوصاً یہ والا، جو پرانے فیشن کا ہے، دیکھیں، میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتی ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی، کیسے، آدھی رات ہو رہی ہے، سب لوگ جا چکے ہیں، اس وقت بھی یہاں کچھ لوگ موجود ہیں، وہ کنڈیکٹر کا انتظار کر رہے ہیں، ہم بار میں گفتگو کر سکتے ہیں، مسکراتے ہوئے سیلو نواز نے کہا، کیا آپ میرا اس سیلو کو کمر پر لادے پرہجوم بار میں جانے کا تصور کر سکتی ہیں، ذرا تصور کریں، اگر میرے تمام ساتھی اپنے ساز لے کر وہاں پہنچ جائیں، ہم ایک اور کنسرٹ کر سکتے ہیں، ہم، موسیقار نے، جمع کے صیغے پر حیران ہوتے ہوئے، سوال کیا، بالکل، کوئی زمانہ تھا جب میں وائلن بجایا کرتی تھی، وائلن بجاتے ہوئے میری تصاویر بھی ہیں، لگتا ہے آپ نے اپنے ہر لفظ سے مجھے حیران کرنے کی ٹھانی ہے، یہ تو آپ پر ہے کہ آپ کے نزدیک میں کتنی حیران کن ہو سکتی ہوں، خوب، لگتا ہے کہ یہ واضح ہے، اس معاملے میں آپ غلطی پر ہیں، میرا وہ مطلب نہیں جو آپ سوچ رہی تھیں، تو میں کیا سوچ رہی ہوں، کیا میں پوچھ سکتی ہوں، بستر اور اس بستر میں میری موجودگی کے بارے میں، معاف کیجیے، نہیں، میرا یہ خیال غلط تھا، اگر میں مرد ہوتی اور میں نے یہ الفاظ سنے ہوتے تو یقناً میں بھی یہی سمجھتی، ہر فرد کو ذومعنویت کی قیمت چکانا پڑتی ہے، اتنی صاف گوئی کا شکریہ۔ عورت چند قدم چلی پھر بولی، تو پھر چلیں، کہاں، سیلو نواز نے پوچھا، میں اس ہوٹل میں جہاں میں ٹھہری ہوں، اور آپ، میرا خیال ہے، اپنے اپارٹمنٹ میں، کیا آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی، تو اب آپ مجھے پریشان کن نہیں سمجھتے، اوہ، ایسا کچھ نہیں تھا، جھوٹ نہ بولیں، ٹھیک ہے، میں نے آپ کو پریشان کن پایا تھا، لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ موت کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی، جس میں مسرت کی کوئی آمیزش نہیں تھی، یہ وہ مرحلہ ہے جس میں آپ کے پریشان ہونےکا جواز پایا جاتا ہے، وہ بولی، یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو میں مول لینے کو تیار ہوں، یہی سبب ہے کہ میں اپنا سوال دہراؤں گا، کون سا، کیا آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی، میں سنیچر کو تھیٹر آؤں گی اور اسی باکس میں بیٹھوں گی، وہ پروگرام مختلف ہو گا، آپ جانتی ہیں، اس میں میرا ایکل نہیں ہے، ہاں، میں جانتی ہوں، آپ، لگتا ہےہر چیز کا علم رکھتی ہیں، واقعی، تو اس کا انجام کیا ہو گا، ابھی توصرف آغاز ہوا ہے۔ ایک ٹیکسی آ رہی تھی۔ عورت نے اسے رکنے کااشارہ کیا اور سیلو نواز سے مخاطب ہوئی، میں آپ کو گھر اتار دوں گی، نہیں، میں آپ کو ہوٹل پہنچا کر وہاں سے گھر چلا جاؤں گا، یا تو ہم وہ کریں گےجیسا میں نے کہا ہے،بَصورت دیگر میں دوسری ٹیکسی کر لیتی ہوں، کیا آپ ہمیشہ اپنی مرضی چلاتی ہیں، بالکل، ہمیشہ، کبھی کبھی ناکام بھی ہوتی ہوں گی، خداوند تو خداوند ہے اور اس نے ناکام کرنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے، اچھا، اسی وقت میں ثابت کر سکتی ہوں کہ میں کبھی ناکام نہیں ہوئی، ٹھیک ہے، ثابت کریں، بے وقوف نہ بنو، موت نے ہڑبڑا کر کہا، اس کے لہجے میں ایک خوف ناک، مبہم، پوشیدہ دھمکی تھی۔ ٹیکسی کی ڈگی میں سیلو رکھا گیا۔ راستے میں دونوں مسافروں نے ایک لفظ ادا نہ کیا۔ ٹیکسی رکی تو باہر نکلنے سے پہلے سیلو نواز نے کہا، میں سمجھ نہیں پایا، میرے اور آپ کے درمیان کیا چل رہا ہے، تاہم، میرے خیال میں بہتر یہی ہو گا کہ آئندہ ہم ایک دوسرے سے نہ ملیں، اب اسے کوئی نہیں روک سکتا، آپ بھی نہیں، ایک ایسی عورت جو ہمیشہ اپنی مرضی چلاتی ہے، سیلو نواز نے طنزیہ انداز میں سوال کیا، میں بھی نہیں، عورت نے جواب دیا، تو پھر اس کا مطلب ہوا، آپ ناکام ہو جائیں گی، نہیں، اس کا مطلب یہ ہے، میں ناکام نہیں ہوں گی۔ ڈرائیور ڈگی کھولنے کے لیے باہر نکل کر سیلو نواز کا انتظار کر رہا تھا کہ اپنا سیلو باہر نکالے۔ مرد اور عورت نے ایک دوسرے کو خدا حافظ نہیں کہا، انھوں نے ایک دوسرے سے سنیچر کے روز ملنے کی بات نہیں کی، انھوں نے ایک دوسرے سے الوداعی مصافحہ نہیں کیا، یہ ایک جذباتی، ڈرامائی اور اذیت ناک جدائی تھی، جیسے انھوں نے خون اور پانی پر آئندہ کبھی نہ ملنے کی قسم کھائی ہو۔ اپنا سیلو گھسیٹتے ہوئے، موسیقار خاموشی سے رخصت ہوا اور اپنے اپارٹمنٹ کو چل دیا۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا، اس وقت بھی نہیں، جب وہ اپنے اپارٹمنٹ کی دہلیز پر تھوڑی دیر کے لیے رکا۔ عورت اپنا بیگ تھامے، اسے دیکھ رہی تھی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئی۔

سیلو نواز اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہوئے غصے سے بڑبڑایا، پاگل، پکی پاگل، زندگی میں ایک ہی مرتبہ کسی نے سٹیج کے دروازے پر یہ بتانے کے لیے میرا انتظار کیا کہ میں نے بہت عمدہ ساز بجایا ہے، وہ بھی سر پھری خبطی نکلی، اور میں ایک بے وقوف کی مانند پوچھ رہا ہوں، کیا آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی، میں خود اپنے لیے مسائل کھڑے کرتا ہوں، میرا مطلب ہے، واقعی ہر انسان کی شخصیت میں کچھ خامیاں ہوتی ہیں، جو تھوڑی سی شفقت، یا کم از کم کسی کی توجہ کی مستحق ہوں، لیکن حماقت تو نری بکواس ہے، لٹو ہونا انتہائی لغو ہے، میں تو نمونہ بن گیا ہوں۔ اس نے سٹپٹا کر اپنے استقبال کے لیے دروازے تک دوڑ کر آنے والے کتے کو تھپکا اور پیانو والے کمرے میں چلا گیا۔اس نے سیلو کا غلاف کھولا، احتیاط سے ساز کو باہر نکالا، جس کے تاروں کو اس نے سونے سے پہلے سُر میں لانا تھا، کیوں کہ ٹیکسی کا سفر، بھلے مختصر ہو، اس کی کارکردگی کے لیے مضر ہے۔ وہ کتے کو کھانے کے لیے کچھ دینے اور اپنے لیے ایک سینڈوچ تیار کرنے، جسے وہ وائن کے ایک گلاس کی مدد سے حلق سے اتارے گا، باورچی خانے گیا۔ اس کا احساسِ برحمی اب کم ہو گیا تھا، لیکن وہ احساس جو بَتدریج برحمی کی جگہ پر کر رہاتھا کم پریشان کن نہیں تھا۔ اسے وہ جملے یاد آئے، جو عورت نے ادا کیے تھے، وہ مبہم جملے جن کا ہمیشہ کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا، اس نے نوٹ کیا، اس کا ادا کردہ ہر لفظ، اگرچہ اس کی باقی گفتگو سے مربوط ہوتا، اپنے اندر کسی دوسرےمعنی، کسی طنزیہ معنی کا حامل محسوس ہوتا تھا، کوئی ایسے معنی، جو اسےسمجھ نہ آتے، اس پانی کی مانند جو، جب ہم اسے پینا چاہیں، ہماری باچھوں سے بَہ جاتا ہے، یا اس شاخ کی مانند جو، جب ہم پھل توڑنا چاہیں، ہماری پہنچ سے نکل جاتی ہے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا، وہ پاگل تھی لیکن، اس نے سوچا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ عجیب تھی۔ اس نے اپنا سینڈوچ ختم کیا اور موسیقی کے کمرے یا پیانو کے کمرے، وہ دو نام جو تاحال اس کمرے کو دئیے گئے ہیں، میں گیا، حال آں کہ بہتر یہ ہوتا کہ ہم اسے سیلو کا کمرا کہتے، کیوں کہ یہی وہ ساز ہے جس سے یہ موسیقار اپنی روٹی روزی کرتا ہے، لیکن ہمیں تسلیم کرنا ہو گا، یہ نام بھلا نہیں لگتا، یہ کچھ تحقیر آمیز، کچھ غیر شریفانہ ہے۔ تاہم، آپ کو ہمارا موقف سمجھنے کے لیے مروجہ معیارات سے مدد لینا ہو گی، موسیقی کا کمرا، پیانو کا کمرا، سیلو کا کمرا، وغیرہ وغیرہ، چلیں،ٹھیک ہے، لیکن ذرا تصور کریں اگر ہم کلارنٹ کا کمرا، فیفی کا کمرا، ڈرم کا کمرا، ٹرائی اینگل کا کمرا کہنے لگیں۔ الفاظ کا اپنا سلسلہ مراتب، اپنا رکھ رکھاؤ ہوتا ہے، اپنے عظمت کے نشانات، ذلت کے اپنے داغ ہوتے ہیں۔ کتا اپنے مالک کے قریب آیا اور اس کے پاس بیٹھتے ہوئے تین چکر لگائے، جو ان دنوں جب وہ بھیڑیا تھا کی باقی بچنے والی واحد نشانی تھی۔ موسیقار بڑے رسان سے سیلو کے تار، جو پتھریلی سڑک پر ہچکولے کھاتی ٹیکسی سے لگنے والے جھٹکوں کے نتیجے میں بے سُرے ہو گئے تھے، کستے ہوئے انھیں سُر میں لا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے، اس نے تھیٹر والی عورت کی یاد سے، در حقیقت عورت نہیں بلکہ سٹیج کے دروازے پر اس سے ہونے والی تلخ گفتگو سے، پیچھا چھڑانے کا بندوبست کر لیا، اگرچہ ان کے مابین ٹیکسی میں ہونے والے جملوں کا تبادلہ، پس منظر میں، کہیں دور بجتے نقارے کی آواز کی مانند سنائی دیتا رہا۔ وہ عورت کو بھلا نہ سکا، وہ بھلانا چاہتا بھی نہیں تھا۔ وہ اسے سیدھے کھڑے، دونوں ہاتھ سینے پر رکھے دیکھ سکتا تھا، وہ اس کی ہیرے کی مانند مضبوط، گہری نگاہوں، اور مسکراتے وقت ان کی چمک کو محسوس کر سکتا تھا۔ سنیچر کو وہ اسے دوبارہ دیکھے گا، اس نے سوچا، ہاں، تب وہ اسے دیکھے گا، لیکن اس بار نہ وہ کھڑی ہو گی، نہ سینے پر اپنے ہاتھ رکھے گی، نہ دور سے اسے دیکھے گی، وہ طلسماتی لمحہ، تحلیل ہو گیا، اگلے لمحے کی آمد سے فنا ہو گیا، جب وہ آخری مرتبہ، جیسا کہ وہ سمجھتا تھا، اسے دیکھنے کے لیے مڑا، اور وہ وہاں موجود نہیں تھی۔

جب تاروں کے کسنے کا عمل مکمل ہو گیا اور سیلو ایک مرتبہ پھر سُر میں آ گیا، فون کی گھنٹی بجی، موسیقار چونک گیا، اس نے گھڑی دیکھی، رات کا ڈیڑھ بجا تھا۔ اس وقت کون فون کر سکتا ہے، اس نے سوچا۔ اس نے رسیور اٹھایا اور خاموشی سے چند سیکنڈ انتظار کیا۔ یقیناً، یہ غیر مناسب ہے، اسے چاہیے تھا کہ پہلے بولتا اور اپنا نام یا نمبر بتاتا، تب شاید دوسری جانب والا کہتا، اوہ، معاف کیجیے، مجھ سے غلط نمبر مل گیا، لیکن آنے والی آواز نے اس کے بجائے کہا، کتےنے فون اٹھایا ہے، کیا، اگر ایسا ہے، تو، کم از کم بھونکے تو سہی۔ جی، کتا ہی ہوں، سیلو نواز نے جواب دیا، لیکن بہت مدت گزری، بھونکنا ترک کر چکا ہوں، کاٹنے کی عادت بھی چھوڑ چکا ہوں، سوائے خود کو کاٹنے کے، اس وقت، جس وقت زندگی مجھ سے کھیل کھیلتی ہے، ناراض نہ ہوں، میں نے معذرت کی خاطر فون کیا ہے، ہماری گفتگو نے ایک خطرناک رخ اختیار کر لیا تھا، جس کا نتیجہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، خرابی کی صورت میں نکلا، ٹھیک، کسی نے تو اسے خطرناک موڑ دیا، اور وہ میں نہیں تھا، یہ سب میری غلطی تھی، بالعموم، میں متوازن اور پرسکون رہتی ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ ان دونوں میں سے کوئی بات آپ میں پائی جاتی ہے، شاید میں دہری شخصیت کی حامل ہوں، پھر تو ہم ایک جیسے ہوئے، میں خود کتا اور انسان دونوں ہوں، طنز آپ پر نہیں جچتا، لیکن آپ کی مترنم سماعت نے، یقیناًِ، آپ کو مطلع کر دیا ہو گا کہ، بے سری آواز کا بھی موسیقی میں اہم کردار ہوتا ہے، مادام، مجھے مادام نہ کہیں، میں آپ کو اور کس نام سے پکاروں، میں نہیں جانتا آپ کا نام کیا ہے، آپ کا کام کیا ہے، یا، آپ کون ہیں، بالآخر آپ جان جائیں گے، یاد رہے، جلد بازی کے فیصلے غلط ہوتے ہیں، علاوہ ازیں، ابھی تو ہماری ملاقات ہوئی ہے، تاہم، آپ مجھ سے ایک قدم آگے ہیں، آپ کے پاس تو میرا فون نمبر بھی ہے، ڈائریکٹری اسسٹنٹ اسی لیے ہوتا ہے، میرا یہ کام ریسپشنسٹ نے کر دیا، تف ہے اس پرانے فون پر، وہ کیوں، کیوں کہ اگر یہ ان جدید فونوں میں سے ہوتا، تو مجھے علم ہو جاتا کہ آپ کہاں سے فون کر رہی ہیں، میں اپنے ہوٹل کے کمرے سے فون کر رہی ہوں، اتنا علم تو مجھے بھی ہے، جہاں تک آپ کے فون کے پرانے ہونے کا معاملہ ہے، مجھے اندازہ تھا کہ ایسا ہی ہو گا، اس لیے مجھے کم از کم اس پر کوئی تعجب نہیں، وہ کیوں، کیوں کہ آپ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز پرانے چلن کی ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ پچاس سال کے نہیں، بل کہ، پانچ سو سال کے بوڑھے ہیں، آپ کیسے جانتی ہیں کہ میں پچاس سال کا ہوں، میں لوگوں کی عمر کا اندازہ بہت اچھا لگاتی ہوں،اس میں، میں کبھی ناکام نہیں ہوئی، مجھے لگتا ہے کہ آپ کو کبھی ناکام نہ ہونے پر بڑا فخر ہے، ہاں، درست ہے، لیکن، آج، بطور مثال، میں دو مرتبہ ناکام ہوئی، ایک ایسی بات، جو میں آپ کو یقین دلاتی ہوں، پہلے کبھی نہیں ہوئی، افسوس ہے، میں سمجھا نہیں، آپ جانتے ہیں، میرے پاس آپ کو دینے کے لیے ایک خط ہے جب کہ میں اسے پہنچانے میں ناکام رہی، حال آں کہ میںبَآسانی اسے تھیٹر کے باہر یا ٹیکسی میں آپ کے حوالے کر سکتی تھی، کیا ہے اس خط میں، بس اتنا کہوں گی کہ کنسرٹ کے لیے آپ کی ریہرسل دیکھنے کے بعد میں نے اسے تحریر کیا، آپ وہاں تھیں، بالکل، میں تھی، لیکن میں نے تو آپ کو نہیں دیکھا، یقیناً نہیں دیکھا، آپ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے، بہر حال، یہ کنسرٹ میرا نہیں ہے، حسبِ معمول انکسار، یہ کہتےہوئےکہ ہمیں صرف اتنا کہنا چاہیے کہ حقیقت میں جو ہوا، وہ نہیں ہے جو بیان کیا جاتا ہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں ہے، مبارک ہو، آپ منکسرالمزاج ہی نہیں، آپ تو دانش مند بھی نکلے، کیا آپ کی مراد خط سے ہے، وقت آنے پر آپ جان جائیں گے، تو اسے آپ نے اس وقت مجھے کیوں نہیں دیا، جب آپ کو، معین طور پر دومرتبہ، موقع ملا، میں امید کرتی ہوں کہ اس کا سبب جان لوں گی، شاید میں اسے سنیچر کو کنسرٹ کے بعد آپ کو دے دوں، کیوں کہ پیر کو میں جا چکی ہوں گی، آپ یہاں نہیں رہتیں، نہیں، وہ نہیں جسے آپ رہنا کہتے ہیں، آپ نے مجھے چکرا دیا ہے، آپ سے گفتگو کرنا، خود کو ایسی بھول بھلیوں میں پانا ہےجن سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو، یہ تو زندگی کی بہترین تعریف ہے، لیکن آپ تو زندگی نہیں ہیں، نہیں، میں اس سے کہیں بڑھ کر پے چیدہ ہوں، کسی کا کہنا ہے، ہم سر تا پا، لمحۂ موجود میں زندہ ہیں، ہاں، لمحۂ موجود میں، لیکن صرف لمحۂ موجود میں، ہمیں امید کرنا چاہیے کہ یہ تمام ابہام، خط کا، اسے مجھے نہ دینے کا، سب کچھ، پرسوں واضح ہو جائے گا، میں اسراروں سے اکتا گیا ہوں، جنھیں آپ اسرار کہتے ہیں، اکثر تحفظ کی خاطر ہوتے ہیں، ٹھیک ہے، تحفظ ہو نہ ہو، میں وہ خط پڑھنا چاہتا ہوں، اگر میں تیسری مرتبہ ناکام نہ ہوئی تو آپ پڑھ لیں گے، آپ تیسری مرتبہ کیسے ناکام ہوں گی، اگر ایسا ہوا تو اس کا سبب وہی ہو گا، جس کی بنا پر میں پہلے ناکام ہوئی، مہربانی کریں، میرے ساتھ چوہے بلی کا کھیل نہ کھیلیں، اس کھیل میں، آخرکار بلی ہمیشہ چوہے کو پکڑ لیتی ہے، جب تک چوہا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے میں کامیاب نہیں ہوتا،اچھا جواب ہے، لیکن یہ صرف احمقانہ خواب، مضحکہ خیز تخیل ہے، بلی بھلے سو رہی ہو، شور اسے جگا دے گا، اور پھر چوہےمیاں، خدا حافظ، کیا میں وہ چوہا ہوں جسے آپ خدا حافظ کَہ رہی ہیں،اگر ہم وہی کھیل کھیل رہے ہیں، تب ہم میں سے ایک کو چوہا بننا ہو گا، جب کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ میں بلی جیسی نگاہ یا عیاری پائی جاتی ہے، تو میں دھتکار دیا گیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی، جب تک ہے، ایک چوہا، ایک سیلو نواز چوہا، ایک مضحکہ خیز کردار، بن کر گزاروں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ تمام انسان بھی مضحکہ خیز کردار ہیں، آپ بھی، میرا خیال ہے، آپ دیکھ چکے ہیں کہ میں کیسی دکھائی دیتی ہوں، ایک انتہائی خوب صورت عورت، شکریہ، اس گفتگو کو سننے والا یہی سمجھے گا کہ ہم عشق لڑا رہے ہیں، اگر ہوٹل کی ٹیلی فون آپریٹر چسکے کی خاطر مہمانوں کی باتیں سنتی ہےتو، وہ کب کی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہو گی، اگر ہم عشق لڑا بھی رہے ہیں تو بھی اس کی کوئی اہمیت نہیں، باکس والی عورت، جس کا نام میں تاحال نہیں جانتا، پیر کے روز، چلی جائے گی، کبھی واپس نہ آنے کے لیے، کیا واقعی، اس کا امکان نہیں کہ جن وجوہات کی بنا پر مجھے یہاں آنا پڑا پھر کبھی واقع ہوں گی، امکان نہ ہونے کا مطلب ناممکن ہونا نہیں، نہیں، لیکن جہاں تک میرا بس چلا میں کوشش کروں گی، مجھے یہ سفر دوبارہ نہ کرنا پڑے، تمام باتوں سے قطع نظر یہ انتہائی اہم تھا، حقیقت میں کس سے قطع نظر، معاف کیجیے گا، میرا رویہ غیر مناسب تھا، یہ کہنے سے میرا مطلب تھا، مہربانی فرما کر میرے ساتھ مہذب ہونے کا تکلف نہ کریں، میں اس کا عادی نہیں، اس کے علاوہ، مجھے اندازہ ہے کہ آپ کیا کہنے جا رہی ہیں، اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کرنی ہے، تو ٹھیک ہے ہم یہ گفتگو سنیچر کو بھی کر سکتے ہیں، تو اس سے پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہو گی، نہیں، اور لائن کٹ گئی۔ سیلو نواز نے رسیور، جو تشویش سے خاموش تھا، جو اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا کو غور سے دیکھا، ضرور میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں، وہ بڑبڑایا، میرے ساتھ اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس نے رسیور کریڈل پر رکھا اور پیانو، سیلو اور شیلفوں سے مخاطب ہو کر بلند آواز میں سوال کیا، یہ عورت کون ہے، میری زندگی میں کیوں آئی ہے، مجھ سے کیا چاہتی ہے۔ شور سے آنکھ کھلنے پر کتے نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک جواب تھا، لیکن سیلو نواز نے، جو کمرے میں، خود کو پہلے سے بھی زیادہ بے یقینی کا شکار محسوس کرتے ہوئے، ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا، اسے نہ دیکھا، اور وہ جواب یہ تھا، اب جب کہ تم نے ذکر کیا، مجھے کچھ کچھ یاد پڑتا ہے کہ میں ایک عورت کی گود میں سویا تھا، ممکن ہے وہ عورت یہی ہو، اور سیلو نواز سوال کرتا، کیا کہا، گود، عورت، تم سوئے تھے، کہاں، تمھارے بستر میں، اور وہ کہاں تھی، وہاں، یہ خوب کہی، کتے میاں،مدتوں سےاس اپارٹمنٹ، اس کمرے میں کوئی عورت نہیں آئی، جاری رکھو، مجھے یہ بتاؤ، جیسا کہ تم کو علم ہو گا، کتے کا شعورِ وقت انسان کے شعورِ وقت سے مختلف ہوتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ واقعی ایک زمانہ گزر چکا ہے، جب تم کسی عورت کو اپنے بستر میں لائے تھے، اور یہ میں بطور طنز نہیں کَہ رہا، تو تم نے اسے خواب میں دیکھا، شاید، ہم کتے ناقابلِ اصلاح تخیلاتی ذہن رکھتے ہیں، ہم تو کھلی آنکھوں بھی خواب دیکھ لیتے ہیں، ہمیں صرف چھایا ہی دکھائی دے تو ہم اسے عورت کی گود تصور کرتے ہوئے اس میں بیٹھنے کی خاطر کود پڑتے ہیں، صرف کتے کا تخیل، سیلو نواز کہتا، اگر یہ حقیقت بھی ہو، کتے نے جواب دیتا، ہم شکوہ نہیں کرتے۔ اسی وقت، موت آئینے کے سامنے، اپنے ہوٹل کے کمرے میں، برہنہ کھڑی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کون ہے۔

اگلے روز، عورت نے فون نہیں کیا۔ سیلو نواز گھر میں رہا کہ شاید آ جائے۔ شام گزر گئی، کچھ نہیں ہوا۔ سیلو نواز کی رات، گزری رات سے بھی زیادہ، بے آرامی میں گزری۔ سنیچر کی صبح، ریہرسل پر جانے سے قبل، اسے ایک احمقانہ خیال آیا کہ اس علاتے کے تمام ہوٹلوں میں جا کر دریافت کرے، کیا ان کے ہاں کوئی، اس جیسی انگلیوں والی، اس جیسی مسکراہٹ والی، اس کی مانند ہاتھوں کو لہرانے والی مہمان خاتون قیام پذیر ہے، لیکن، اس نے یہ احمقانہ منصوبہ ترک کر دیا، کیوں کہ یہ یقینی تھا کہ اسے، منہ بگاڑتے ہوئے سختی سے، ہمیں یہ معلومات فراہم کرنے کی اجازت نہیں، کہتے ہوئے بھگا دیا جاتا۔ ریہرسل کافی اچھی رہی، اس نے پوری کوشش کرتے ہوئے کہ کوئی سُر غلط نہ ہو، صرف وہی سُر بجائے جو اس کی شیٹ پر تھے۔ ریہرسل مکمل ہوتے ہی وہ گھر کو بھاگا۔ وہ سوچ رہا تھا، اگر اس نے اس کی عدم موجودگی میں فون کیا ہو گا، اسے اپنا پیغام، ریکارڈ کرانے کے لیے کوئی خستہ حال جواب دینے والی مشین بھی نہیں ملی ہو گی۔ میں پانچ صدیاں پہلے پیدا ہونے والا انسان نہیں، میں پتھر کے دور کا، غاروں میں رہنے والا انسان ہوں، وہ بڑبڑایا، میرے علاوہ سبھی جواب دینے والے مشین کا استعمال کر رہے ہیں۔ اگر اسے اس امر کا ثبوت درکار تھا کہ اس نے فون نہیں کیا، تو اگلے چند گھنٹوں نے وہ بھی فراہم کر دیا۔ اصولاً، اگر کسی کو فون کرنے پر جواب نہ ملا ہو تو وہ دوبارہ فون کرتا ہے، لیکن منحوس مشین، سیلو نواز کی پہلے سے بھی زیادہ مایوس نگاہوں سے لا تعلق، تمام سہ پہر خاموش رہی۔ ٹھیک ہے، تو ایسا لگتا ہے، وہ رابطہ نہیں کرے گی، شاید کسی وجہ سے اسے وقت نہ ملا ہو، لیکن وہ وہاں کنسرٹ میں ہو گی، وہ دونوں، جیسا گزشتہ کنسرٹ کے بعد ہوا تھا، اکٹھے ٹیکسی میں واپس آئیں گے، اور جب وہ یہاں پہنچیں گے، وہ اسے اندر آنے کی دعوت دے گا، اور پھر وہ سکون سے باتیں کر سکیں گے، بالآخر وہ اسے وہ خط، جس کا شدت سے انتظار ہے، دے گی، اور پھر وہ دونوں، ان مبالغہ آمیز الفاظ پر، جو اس نے، فن کارانہ جذبے سے مغلوب ہو کر، ریہرسل، جہاں اس نے اسے نہیں دیکھا تھا، کے بعد لکھے تھے، خوب ہنسیں گے، وہ کہے گا کہ وہ روسٹروپووچ (rostropovich) تھوڑی ہے، اور وہ کہے گی، کون جانے مستقبل میں کیا لکھا ہے، اور جب ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچے گا، یا جب ان کے الفاظ کچھ اور کَہ رہےاور خیالات کسی اور جانب جا رہے، ہوں گے، پھر شاید ہم کچھ ایسا دیکھیں جو بڑھاپے میں یاد کیے جانے کے قابل ہو۔ یہ وہ ذہنی کیفیت تھی جس میں سیلو نواز گھر سے روانہ ہوا، یہ وہ ذہنی کیفیت تھی جس میں وہ تھیٹر پہنچا، یہ وہ ذہنی کیفیت تھی جس میں وہ سٹیج پر چڑھا اور اپنی مخصوص نشست پر بیٹھا۔ باکس خالی تھا۔ اسے دیر ہو گئی، اس نے خود سے کہا، وہ آتی ہی ہو گی، تھیٹر میں لوگ ابھی آ رہے ہیں۔ یہ سچ تھا، دیر سے پہنچنے والے، پہلے بیٹھے ہوؤں سے مخل ہونے پر معذرت کرتے، اپنی نشستیں سنبھال رہے تھے، لیکن عورت دکھائی نہ دی۔ شاید وقفے میں۔ وہ پھر بھی نہ آئی۔ آرکسٹرا کے اختتام تک باکس خالی رہا۔ کسی وجہ سے وہ کنسرٹ میں نہ پہنچ سکی، اس کے باوجود وہ پر امید تھا کہ، کنسرٹ میں شامل نہ ہو سکنے کا سبب بتانے کے لیے وہ اسٹیج کے دروازے پر اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ چوں کہ ہمیشہ سے امیدوں کا یہی نصیب رہا ہے کہ مرتے ہوئے مزید امیدوں کو جنم دیں، اسی لیے، اتنی مایوسیوں کے باوجود، وہ دنیا سے ختم نہیں ہوئیں، شاید وہ اس کے اپارٹمنٹ والی بلڈنگ کے باہراپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے، ہاتھ میں خط لیے، اس کی منتظر ہو، وعدے کے مطابق، آپ یہاں ہیں۔ وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ سیلو نواز، پرانی طرز کی، ابتدائی دور کی خود کار کَل کی مانند، جس کے ایک بازو کو حرکت دی جاتی تھی تا کہ دوسرا بازو حرکت کر سکے، ٹانگیں گھسیٹتا اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے استقبال کے لیے آنے والے کتے کو ایک طرف ہٹایا، جہاں جگہ دکھائی دی سیلو پٹخا اور جا کر اپنے بستر پر گر گیا۔ کیا اب بھی تمھیں عقل نہیں آئی، نا معقول، تمھارا رویہ نرے گاؤدیوں جیسا تھا، تم نے الفاظ کے اپنی مرضی کے وہ معنی کیے،جو اصل معنوں سے بالکل مختلف ہیں، وہ معنی، جو تم نہیں جانتےاور نہ کبھی جان پاؤ گے، تم مسکراہٹ پر مر مٹے جو چہرے کے عضلات کی حرکت سے ہٹ کر کچھ نہیں تھی، تم بھول گئے کہ تم واقعی پانچ سو سالہ بوڑھے ہو، حال آں کہ وقت نے بڑے پیار سے تمھیں یاد بھی دلایا تھا، اور اب تم یہاں اس بستر میں، جس میں تم نے اسے لانے کا خواب دیکھا تھا، مایوس پڑے ہو، جب کہ وہ تمھاری مضحکہ خیز شخصیت اور تمھاری نہ ختم ہونے والی حماقتوں پر قہقہے لگا رہی ہو گی۔ اپنے مالک کی دھتکار بھلا کر، اسے تسلی دینے، کتا اس کے بستر کے قریب آیا۔ اس نے اپنے اگلے پنجے میٹرس پر رکھےاور خود کو مالک کے بائیں ہاتھ تک بلند کیا، جو وہاں کسی فضول اور بے کار وجود کی مانند پڑا تھا، اور پیار سے اپنا سر اس پر رکھ دیا۔ وہ اسے مسلسل چاٹ سکتا تھا، جیسا کہ عام کتے کرتے ہیں، لیکن قدرت نے، ایک مرتبہ، اپنا افادی پہلو منکشف کرتے ہوئےاسے محسوس کرنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی، ایک ایسی صلاحیت جو لگے بندھےطریقوں سے ہٹ کر جذبات کا اظہار کر سکتی ہے۔ سیلو نواز نے پہلو بدلا اور اس پوزیشن میں ہوا کہ اس کا سر کتے کے سر سے چند انچ کی دوری پر تھا، وہ اسی حالت میں پڑے، ایک دوسرے کو تکتے، الفاظ کی مدد بنا، باتیں کرنے لگے، جب میں اس بارے سوچتا ہوں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ تم کون ہو، لیکن یہ کوئی اہم بات نہیں، اہم یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کا خیال ہے۔ سیلو نواز کے مزاج کی تلخی بتدریج کم ہوتی گئی، سچ تو یہ ہے کہ دنیا ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، وہ انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہ آئی، وہ انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہ آیا، اور ہمارے اندر بھی، تسلیم نہ کرنے والا متشکک موجود ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ نہ کہا جائے، کیوں کہ الفاظ بالعموم ادا کرنے والے کے مقاصد سے بالکل مختلف نتائج ظاہر کرتے ہیں، اس قدر کہ لوگ بارہا کوستے اور قسمیں کھاتے ہیں، میں اس پر لعنت بھجتی ہوں، میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں، اور جب وہ لعنت بھیج چکتے ہیں تو آنسوؤں میں پھٹ پڑتے ہیں۔ سیلو نواز بستر سے اٹھ بیٹھا، کتے کو بازوؤں میں بھرا، جس نے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے پنجے مالک کے گھٹنوں پر رکھے، وہ بولا، جیسے خود کو سمجھا رہا ہو، تھوڑا سا وقار، پلیز، رونا نہیں۔ پھر وہ کتے سے مخاطب ہوا، تمھیں بھوک لگی ہو گی۔ دم ہلاتے ہوئے، کتے نے جواب دیا، ہاں، میں بھوکا ہوں، میں نے گھنٹوں سے کچھ نہیں کھایا، دونوں باورچی خانے میں چلے گئے۔ سیلو نواز نے کچھ نہیں کھایا، اس کا بھرایا ہوا حلق کچھ نہیں نگل سکتا تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد ایک گولی کھا کر، تا کہ نیند آ جائے، وہ دوبارہ بستر میں تھا۔ تاہم اس کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، وہ جاگتا اور سوتا، سوتا اور جاگتا رہا۔ ہر مرتبہ ذہن پر چھائے ہوئے اس خیال کے ساتھ کہ وہ نیند کے پیچھے، اسے پکڑنے کے لیے بھاگ رہا ہےتا کہ بے خوابی کو بستر کی دوسری جانب قبضہ کرنے سے روک سکے۔ اس نے عورت کا خواب نہیں دیکھا، لیکن ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ جب وہ جاگا تو اسے موسیقی کے کمرے کے وسط میں اپنے ہاتھ سینے پر رکھے، کھڑا دیکھا۔

اگلے دن اتوار تھا، اور اتوار وہ دن ہے جس دن وہ اپنے کتے کو ٹہلانے لے جاتا ہے، آزادانہ گھومنے کے لیے بے چین کتا، زنجیر کھنچتے ہوئے، محبت، محبت کی صورت میں لوٹاتی ہے، کہتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ وہ پارک میں داخل ہوئے، سیلو نواز نے بنچ کی جانب، جس پر وہ بالعموم بیٹھا کرتا تھا، رخ کیا، تو دیکھا، وہاں پہلے سے ایک عورت بیٹھی ہے۔ پارک کی بنچیں عام لوگوں کے لیے، عموماً بلا قیمت، ہوتی ہیں، ہم کسی شخص کو جو پہلے سےبیٹھا ہو، یہ بنچ میری ہے، براہ مہربانی، اپنے لیے کوئی اور تلاش کریں، نہیں کَہ سکتے۔ سیلو نواز جیسا مہذب پس منظر کا حامل کبھی ایسا نہیں کرے گا، اور قطعاً نہیں کرے گا، اگر اپنی دانست میں اس نے اس عورت کو تھیٹر والی عورت کی حیثیت سے شناخت کیا ہو، وہ عورت جس نے اسے ٹھٹھکا دیا تھا، وہ عورت جسے اس نے موسیقی کے کمرے کے وسط میں اپنے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے دیکھا تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، پچاس برس کی عمر میں ہم ہر موقع پر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر سکتے، ہم پلکیں جھپکنے لگتے ہیں تاکہ آنکھوں کو قوت بخشیں، جیسے ہم گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے مغربی میدانوں کے جنگجو گلہ بان یا پرانے زمانے کے جہاز کے عرشے پر کھڑے جہاز ران کی تقلید کر رہے ہوں، جو ایک ہاتھ کے چھجے سے اپنی آنکھوں پر سایہ کیے ہوں، جب وہ دور افق کو کھنگال رہی ہوں۔ عورت نے مختلف لباس، چمڑے کی جیکٹ اور ٹراؤزر، پہنا ہوا تھا، وہ کوئی اور ہو گی، سیلو نواز نے اپنے دل سے کہا، لیکن اس کے دل نے، جس کی نگاہ درست ہے، اسے بتایا، آنکھیں کھولو، یہ وہی ہے، اب اپنا رویہ درست کرو۔ عورت نے نگاہیں اٹھائیں، اور سیلو نواز کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی ہے۔ صبح بخیر، اس نے کہا جب وہ بنچ کے پاس رکا، آج مجھے جس بات کی سب سے کم توقع تھی، یہ تھی کہ آپ کو یہاں پاؤں، صبح بخیر، میں خدا حافظ کہنے اور کل کنسرٹ میں نہ پہنچنے پر معذرت کرنے آئی ہوں۔ سیلو نواز بنچ پر بیٹھا، کتے کی زنجیر کھول کر کہا، چلو، بھاگو، پھر عورت کی جانب دیکھے بنا جواب دیا، معذرت کی کوئی ضرورت نہیں، اس طرح کی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں، لوگ ٹکٹ خریدتے ہیں اور پھر کسی سبب سے وہ نہیں جا سکتے، یہ روز مرہ کا معمول ہے، اور ہمارا خدا حافظ کہنا، کیا اس بارے میں آپ کے کوئی نظریات ہیں، عورت نے دریافت کیا، یہ تو آپ کی عنایت ہے کہ آپ ایک اجنبی کو خدا حافظ کہنے آئیں، اگرچہ، حقیقت میں، میں بالکل نہیں سمجھ پایا کہ آپ کو کیسے علم ہوا کہ میں ہر اتوار اس پارک میں آتا ہوں، آپ کے بارے میں بہت کم باتیں ہیں، جو میں نہیں جانتی، اوہ، پلیز، ہمیں ایک مرتبہ پھر وہ تلخ گفتگو نہیں دہرانی چاہیے جو جمعرات کو سٹیج کے دروازے پر اور پھر فون پر ہوئی، آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ہماری اس سے قبل ملاقات تک نہیں ہوئی تھی، یاد رہے، میں ریہرسل میں تھی، اور میں واقعی سمجھ نہیں پایا کہ آپ نے ایسا کیوں کر کیا، کیوں کہ، کنڈیکٹر اجنبیوں کی موجودگی کے سخت خلاف ہے اور از راہ کرم مجھے یہ بتانا نہ شروع کر دیں کہ آپ اسے بھی جانتی ہیں، اتنا زیادہ نہیں جتنا آپ کو، آپ کی حیثیت استثنائی ہے، بہتر ہوتا اگر میں نہ ہوتا، کیوں، کیا آپ چاہتی کہ میں آپ کو بتاؤں، کیا آپ واقعی چاہتی ہیں کہ میں آپ کو بتاؤں، سیلو نواز نے جوش سے، جو مایوسی پر حاوی ہو گیا تھا، دریافت کیا، ہاں، میں چاہتی ہوں، کیوں کہ میں ایک ایسی عورت کی محبت میں گرفتار ہوں جس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا، جو میری اذیت سے محظوظ ہو رہی ہے، جو کل جا رہی ہے، کون جانے کہاں، اور جسے میں پھر کبھی نہ دیکھ سکوں گا، حقیقت میں، میں آج ہی چلی جاؤں گی، کل نہیں، لیکن آپ نے کہا تھا، اور یہ درست نہیں کہ میں آپ کی اذیت سے محظوظ ہو رہی ہوں، خوب، اگر آپ نہیں ہو رہیں تو آپ نے زبردست اداکاری کی، جیسے آپ کے لیے میری محبت میں گرفتار ہونا، آپ مجھ سے کسی ردِ عمل کی توقع نہ کریں، میری زبان کو کچھ الفاظ ادا کرنے کی مناہی ہے، ایک اور بھید، اور یہ بھید بھی آخری نہیں ہو گا، ایک دفعہ ہم رخصت ہو جائیں، سب بھید کھل جائیں گے، شاید دوسرے ان کی جگہ لے لیں، پلیز، چلی جائیں، مجھے مزید اذیت نہ دیں، وہ خط، دیکھیں، میں خط کے بارے میں کچھ نہیں جاننا چاہتا، میں ہوٹل میں چھوڑ آئی ہوں، عورت مسکراتے ہوئے بولی، حقیقت یہ ہے کہ اگر میں اسے آپ کو دینا چاہتی تو بھی نہ دے پاتی، تو اسے پھاڑ دیجیے، ہاں، مجھے سوچنا ہوگا کہ اس کا کیا کروں، سوچنے کی کیا ضرورت ہے، اسے پھاڑ دیں اور معاملہ ختم۔ عورت اٹھ کھڑی ہوئی۔ کیا آپ واقعی جا رہی ہیں، سیلو نواز نے سوال کیا۔ وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا، وہ سر جھکائے بیٹھا تھا، اسے ابھی کچھ اور کہنا تھا۔ میں نے آپ کو چھوا تک نہیں، وہ بڑبڑایا، نہیں، یہ میں تھی جس نے آپ کو، خود کو، چھونے سے روکا تھا، آپ نے ایسا کیوں کر کیا، یہ اتنا مشکل بھی نہیں، اب بھی نہیں، اب بھی نہیں، ہم کم از کم ہاتھ تو ملا سکتے ہیں، میرے ہاتھ ٹھنڈے ہیں۔ سیلو نواز نے نظریں اٹھائیں، عورت وہاں نہیں تھی۔

آدمی اور کتا پارک سے جلدی چلے گئے، دھوپ میں جھپکی نہیں لی، گھر جا کر کھانے کے لیے سینڈوچ خریدے گئے۔ سہ پہر اور شام دونوں طویل اور افسردہ تھیں، موسیقار نے ایک کتاب اٹھائی، چند سطریں پڑھیں اور رکھ دی۔ پیانو پر بیٹھا کہ کچھ موسیقی بجائے، لیکن اس کے ہاتھوں نے، جو ٹھنڈے اور شل تھے، جیسے بے جان ہوں، اس کا حکم نہ مانا۔ اور جب وہ اپنے پسندیدہ سیلو کی طرف گیا، تو یہ سیلو تھا جس نے اسے مسترد کر دیا۔ کبھی نہ اٹھنےکے لیے، کبھی ختم نہ ہونے والی نیند لینے، وہ کرسی میں ڈھے گیا۔ فرش پر بیٹھا کتا، اس اشارے کا انتظار کرتے ہوئے، جو نہ کیا گیا، اسے تک رہا تھا۔ اس کے مالک کی افسردگی کا سبب شاید وہ عورت تھی جو انھیں پارک میں ملی تھی، اس نے سوچا، تو یہ کہاوت، جو آنکھوں کو دکھائی نہ دے، دل کو اس کا درد نہیں ہوتا، درست نہیں ہے۔ کہاوتیں اتنی گم راہ کن ہوتی ہیں، کتے نے نتیجہ اخذ کیا۔ گیارہ بجے تھے جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ کوئی ہم سایہ کوئی مسئلہ لیے، سیلو نواز نے سوچا اور دروازہ کھولنے اٹھا۔ شب بخیر، دہلیز پر کھڑی عورت بولی۔ شب بخیر، اپنے گلے میں اینٹھن سے پیدا ہونے والے کھنچاؤ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے،موسیقار نے جواب دیا، اندر آنے کا نہیں کہیں گے، ضرور، ضرور، پلیز، تشریف لائیے۔ وہ اسے راستہ دینے کے لیے ایک جانب ہوا، پھر، مبادا اس کا دل پھٹ جائے، انتہائی احتیاط اور آہستگی کے ساتھ دروازہ بند کیا۔ اس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں، جب اس نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ میرا خیال تھا، آپ جا چکی ہوں گی، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، میں نے ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، عورت بولی، لیکن صبح آپ چلی جائیں گی، میں نے یہ سوچا ہے، آپ آئی ہیں، میرا خیال ہے، وہ خط دینے، جسے آپ نے نہ پھاڑنے کا فیصلہ کیا، ہاں، یہ میرے بیگ میں ہے، تو پھر، آپ اسے مجھے دے رہی ہیں، ہمارے پاس وقت ہے، مجھے یاد پڑتا ہے، میں نے آپ سے کہا تھا، جلد بازی کے فیصلے غلط ہوتےہیں، جیسے آپ کی مرضی، مجھے آپ کی خوشی مطلوب ہے، کیا آپ سنجیدہ ہیں، یہ میری بدترین خامی ہے، میں ہر بات سنجیدگی سے کرتا ہوں، اس وقت بھی جب لوگ مجھ پر ہنستے ہیں، نہیں، خصوصاً اس وقت جب لوگ مجھ پر ہنستے ہیں، اس صورت میں، کیا میں آپ سے ایک عنایت کی توقع کر سکتی ہوں، کیسی عنایت، کل کے کنسرٹ سے میری محرومی کی تلافی کر دیں، میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں، پیانو وہ رہا، اوہ، اسے رہنے دیں، میں ایک معمولی پیانو نواز ہوں، تو پھر سیلو، اس کا معاملہ مختلف ہے، اگر آپ واقعی چاہتی ہیں تو میں چند دھنیں بجا سکتا ہوں، کیا میں موسیقی کا انتخاب کر سکتی ہوں، بالکل، یہ میرے بس میں ہے، لیکن صرف اسی صورت میں کہ میں اسے بجا سکوں۔ عورت نے موسیقی کی شیٹس میں سے باخ کی دھن نمبر چھ منتخب کی اور بولی، یہ والی، یہ تو بہت طویل ہے، یہ آدھے گھنٹے سے زیادہ لیتی ہے، وقت بھی کافی ہو رہا ہے،جیسا کہ میں نے کہا، ہمارے پاس وقت ہے، تمہید میں ایک ٹکڑا ایسا ہے جو میرے لیے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب آپ وہاں پہنچیں تو اسے چھوڑ سکتے ہیں، عورت نے کہا، اگر چہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، آپ دیکھیں گے، آپ روسٹرو پودچ سے بھی بہتر بجائیں گے۔ سیلو نواز مسکرا دیا، شرط لگاتی ہیں۔ اس نے موسیقی کی شیٹ سٹینڈ پر جمائی، ایک گہری سانس لی، سیلو کی گردن پر اپنا بایاں ہاتھ رکھا، دائیں ہاتھ میں کمانچہ پکڑ کر تاروں پر ٹکایا اور شروع ہو گیا۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ وہ روسٹروچ نہیں، وہ تو ایک آرکسٹرا میں، جب پروگرام میں اس کی ضرورت پڑے، سیلو نواز ہے، لیکن یہاں، اس وقت، اتنی رات گئے، کتابوں، موسیقی کی شیٹوں، مرتب موسیقی کے مجموعوں میں گھرا، قدموں میں بیٹھے کتے کے ساتھ، اس عورت کے سامنے، وہ خود کاؤٹن کے قصبے میں وہ دھن ترتیب دیتا ہوا، جو بعد میں غنائیہ نمبر ایک ہزار بارہ، لگ بھگ جتنے ترتیب دیئے گئے، کہلائے گی، جوہان سبستین باخ تھا۔ وہ اس مشکل ٹکڑے سے، اس کارنامے کو، محسوس کیے بغیر گزر گیا، اس کے مسرت بھرے ہاتھوں میں سیلو نے سرگوشیاں کیں، باتیں کیں، گنگنایا، اور گرجا، روسٹروپووچ کے ہاں جو نہیں تھا، وہ یہ کمرا تھا، یہ وقت تھا، یہ عورت تھی۔ جب اس نے دھن مکمل کی تو عورت کے ہاتھ ٹھنڈے نہیں تھے جب کہ موسیقار کے ہاتھ دہک رہے تھے، یہی سبب ہے کہ جب ہاتھ آپس میں ملے تو انھیں کچھ حیرت نہ ہوئی۔ رات گئے ایک بجے کے بعد سیلو نواز نے پوچھا، اگر تم چاہو، تمھیں ہوٹل پہنچانے کے لیے، میں ٹیکسی منگواؤں، نہیں، میں یہیں تمھارے پاس ٹھہروں گی، عورت نے جواب دیا اور اپنے ہونٹ وا کیے۔ وہ بیڈ روم میں گئے، کپڑے اتارے، اور پھر وہ ہوا، پھر ہوا، اور پھر ہوا، جو لکھا ہوا تھا۔ وہ سو گیا، وہ نہ سوئی۔ تب وہ، موت، اٹھی، بیگ، جو اس نے موسیقی کے کمرے میں چھوڑا تھا، کھولا اور بنفشی رنگ کا خط باہر نکالا۔ اس نے مناسب جگہ، جہاں وہ خط رکھ سکے، کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا، پیانو پر، سیلو کی تاروں کے درمیان، بیڈ روم میں، تکیے کے نیچے، جس پر سوئے ہوئے آدمی کا سر ٹکا تھا۔ اس نے کچھ نہ کیا، باورچی خانے میں گئی، ایک ماچس، ایک معمولی ماچس جلائی، وہ جو ایک اشارے سے کاغذ کو غائب اور محسوس نہ ہونے والی خاک میں تبدیل کر سکتی تھی، وہ جو صرف انگلیوں سے چھو کر آگ لگا سکتی تھی، پھر بھی یہ ایک عام ماچس تھی، ایک معمولی ماچس، روزمرہ استعمال میں آنے والی ماچس، جس نے اس خط کو، جسے صرف موت مٹا سکتی تھی، جلایا، اس کی راکھ بھی نہ بچی۔موت واپس بستر میں گئی، اپنے ہاتھ آدمی کے سینے پر رکھتے ہوئے اس سے لپٹی، اور، وہ جو کبھی نہ سوئی تھی،سمجھے بنا کہ اسے کیا ہو رہا ہے، اپنی آنکھیں موند کر اطمینان سے سو گئی۔ اگلے روز، کوئی نہیں مرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعارف

سارا ماگو: مصنف
1998 میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والا عصرِ حاضر کا عظیم ناول نگار۔

مارگریٹ یل کوسٹا: مترجم، انگریزی
1949 میں پیدا ہونے والی برطانوی مترجم، جنھوں نے پرتگالی اور ہسپانوی فکشن اور شاعری کے متعدد تراجم کے علاوہ حوزے سارا ماگو کی درجن بھر کتب، جن میں فکشن کے علاوہ یاداشتیں بھی شامل ہیں، کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔
ان تراجم پر ناقدین سے تحسین کے علاوہ کئی ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں۔

مبشر احمد میر: مترجم، اردو
تدریس کے شعبے سے تعلق رہا۔ چند افسانے لکھنے اور چند افسانوں کا ترجمہ کرنے کے بعد ایک بڑے ناول نگار کے ناول کا ترجمہ کرنے کا تجربہ کرتے ہوئے متعدد تجربات کیے۔

Categories
شاعری

میرا بهائی ایک ہواباز تھا

میرا بھائی ایک ہوا باز تها
ایک روز اس نے اپنا سامان باندها
اور جنوب کی سمت گاڑی پر نکل گیا

میرا بھائی ایک فاتح ہے
ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا
ہمارا قدیم خواب ہے

وہ علاقہ جو میرے بھائی نے فتح کیا
“کوارڈرا مامسف” کی پہاڑیوں میں واقع ہے

اس کی لمبائی اسی میٹر اور گہرائی پچاس میٹر ہے.

Categories
فکشن

بادشاہ سنتا ہے

[blockquote style=”3″]

اتالو کلوینو کی کہانی A King Listens کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس سے قبل معروف ادبی جریدے “آج” کے شمارہ نمبر 101 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ “آج” اجمل کمال کی زیر ادارت شائع ہونے والا سہ ماہی کتابی سلسلہ/ادبی جریدہ ہے جو اپنے معیار اور افرادیت کے لئے معروف ہے۔ اس رسالے کو سبسکرائب کرنے کے لئے سٹی پریس بک شاپ کے فیس بک صفحے یا اس نمبر پر رابطہ کیجیے: 03003451649

[/blockquote]

عصائے شاہی تمہیں اپنے داہنے ہاتھ میں تھامنا ہے، بالکل سیدھا اور تنا ہوا۔ اسے کسی صورت نیچے نہیں رکھنا۔ خیر، تم اسے رکھو کے بھی کہاں؟ تخت کے ساتھ کوئی میز نہیں، نہ ہی کوئی طاق یا تپائی جہاں کوئی گلاس، ایش ٹرے یا ٹیلی فون رکھا جاسکے۔تختِ شاہی تنگ اور اونچی سیڑھیوں کی چوٹی پر تنِ تنہا موجود ہے۔ اگر کوئی شے اوپر سے نیچے پھینکی جائے تو وہ لڑھکتے لڑھکتے کہیں غائب ہو جائے گی اور کبھی نہ ملے گی۔ خدانخواستہ اگر عصا تمہاری گرفت سے پھسلا تو اسے اٹھانے کے لئے تمہیں ہی تخت سے اتر کر نیچے آنا پڑے گا، آخر بادشاہ کے علاوہ اسے کوئی چھو بھی تو نہیں سکتا۔ اور پھر نگاہیں اس نظارے کی تاب بھی کہاں لا سکیں گی کہ ایک بادشاہ زمین پر لمبا ہو کر سازو سامان کے نیچے سے اپنا عصا یا پھر تاج نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ، جو نیچے جھکنے کے باعث باآسانی تمہارے سر سے گر سکتا ہے۔ چاہو تو کلائی کو تھکن سے بچانے کے لئے کرسی کے بازو پر ٹکا سکتے ہو۔ ہاں میں تمہارے دائیں ہاتھ ہی کی بات کر رہا ہوں، وہی جس میں عصا موجود ہے۔ جہاں تک بائیں ہاتھ کا تعلق ہے تو وہ آزاد رہ سکتا ہے، تم چاہو تو اسے کھجلانے کے لئے استعمال کر سکتے ہو۔ کبھی کبھار سنجابی چوغہ گردن میں خارش کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے کمر اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ مخملیں مسند بھی گرم ہو کر کولہوں اور رانوں میں تکلیف دہ سوزش پیدا کرتی ہے۔ اپنے موٹے کمر بند کا سنہرا قبضہ کھولتے ہوئے، گلوبند، سینے پر سجے تمغے اور اطراف میں موجود اعزازت اِدھر اُدھر سرکاتے ہوئے، تم اپنی انگلیاں بلاتردد کسی بھی خارش زدہ جگہ پہنچاسکتے ہو۔آخرتم بادشاہ ہو، تم پر بھلا کون اعتراض کرسکتا ہے۔یہ تو طے ہے۔

سر ساکت رہنا چاہئے، ہمیشہ یاد رکھو کہ تاج تمہاری منڈیا پر ٹکا ہے، تم اسے کسی گرم ٹوپی کی طرح کانوں پر نہیں کھینچ سکتے۔تاج اوپر اٹھتے اٹھتے ایک مخروطی گنبد میں ڈھل جاتا ہےجو نچلے حصے سے زیادہ چوڑا ، یعنی غیرمتوازن ہے۔ اگر اونگھ آ جائے اور ٹھوڑی سینے سے جا لگے تو تاج نیچے لڑھک جائے گا اور نازک ہونے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، خاص طور پر ہیرےجڑی سنہری زردوزی ۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ یہ پھسلنے والا ہے تو تمہیں بڑی ہوشیاری سے سر کے پٹھوں کو جنبش دیتے ہوئے اسے واپس اپنی جگہ بٹھانا ہے، لیکن خبردار! ایک دم سیدھے نہیں ہونا ورنہ تاج تختِ شاہی کی چھتر سے جا ٹکرائے گا جس کی جھالریں اسے چھو رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں شاہانہ ڈیل ڈول برقرار رکھنا ہے جو کہ تمہاری شخصیت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اور پھر تمہیں اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تم بادشاہ ہو، جس شے کی خواہش کرو وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔ انگشت کے ایک اشارے پر ماکولات و مشروبات، چیونگم، دانتوں کا خلال، ہر قسم کے سگریٹ، غرض جو چاہو ایک نقرئی تھال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی حاجت ہو تو تخت آرام دہ اور دبیز ہے، تمہیں بظاہر اپنی حالت قائم رکھتے ہوئے بس کمر تختۂ پشت سے لگا کر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ سونا یا جاگنا برابر ہی ہے، کوئی فرق نہیں کر سکے گا۔ جہاں تک حوائجِ ضروریہ کا سوال ہے تو یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ تخت میں کسی بھی خوددار تخت کی طرح ایک بڑا سا سوراخ موجود ہے ، دن میں دو بار برتن تبدیل کیا جاتا ہے۔ بدبو کی صورت میں زیادہ بار۔

قصہ مختصر، تمہیں حرکت سے بچانے کے لئے پہلے ہی سب بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حرکت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ سب کچھ چھن جائے گا۔اگر تم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو، دو چار قدم ہی لو یا ایک لمحے کے لئےبھی تخت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دو تو کون ضمانت دے سکتا ہے کہ واپسی پر تمہیں کوئی اور اس پر براجمان نہ ملے؟ شاید کوئی تم سے ملتا جلتا، بالکل تمہارے ہی جیسا۔ پھر کون یہ ثابت کرتا پھرے گا کہ بادشاہ وہ نہیں، تم ہو! بادشاہ اس حقیقت سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ تخت پر براجمان ہے، تاج سر پر رکھے ،عصا تھامے ہے۔اب چونکہ یہ صفات تمہاری ہیں تو تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔

اب بھی اکڑتے ہوئے پٹھوں کو سُن ہونے سے بچانے کے لئےٹانگیں پھیلانے کا مسئلہ رہتا ہے، یقیناً یہ ایک اچھی خاصی تکلیف ہے۔ لیکن تم ہمیشہ لاتیں مار سکتے ہو، گھٹنے اوپر کر سکتے ہو، تخت پر چوکڑی مار سکتے ہو، ترکی طرز پر اکڑوں بیٹھ سکتے ہو، یقیناً مختصر وقفوں کے لئے جب ریاستی معاملات سے ذرا فرصت ہو۔ ہر شام پیر دھلانے والے خدمت گار آ جاتےہیں اور پندرہ منٹ کےلئے جوتے اتار دیتے ہیں، صبح عفونت ربائی کے لئے آئی خدمتگاروں کی ایک جماعت معطر روئی سے بغلوں کی عطر پاشی کر دیتی ہے۔ تمہارے وجود پر جسمانی خواہشات کے غلبے کے امکانات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔تنومند بدن سے لے کر نہایت نازک اندام جسمانی خطوط والی قابل کنیزیں منتخب کی گئی ہیں تاکہ وہ باری باری اپنی جالی دار ، لہراتی قبائیں لئے سیڑھیوں کے راستے تمہارے تھڑدلے گھٹنوں تک حاضری دیں۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ تمہارے تخت پر بیٹھے بیٹھے خود کو سامنے، عقب یا اطرافی زاویوں سے پیش کریں، اور تم کچھ ہی لمحوں میں ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہو، ہاں اگر اقلیمِ سلطانی کی مصروفیات اجازت دیں تو کچھ زیادہ وقت جیسے آدھا یا پون گھنٹہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ شاہی چھتر کے پردے گرا دیا جائیں تاکہ بادشاہ بیرونی نظروں سے اوجھل رہے اور موسیقار لطیف دُھنیں بجاتے رہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار تاج پوشی کے بعدتخت بس وہی ہے جہاں تم دن رات حرکت کے بغیر جمے رہو۔ تمہاری ساری پچھلی زندگی بادشاہت کے انتظار ہی پر مشتمل ہے، اور اب جب کہ تم بادشاہ ہو تو تمہیں بس بادشاہت ہی کرنی ہے۔ اگر یہ طویل انتظار نہیں تو پھر بادشاہت اور کیا ہے؟ اس لمحۂ معزولی کا انتظار جب تمہیں تخت و تاج، عصائے شاہی اور اپنے سر سے جدا ہونا پڑے گا۔

ساعتیں سست رفتار ہیں۔ حجرۂ شاہی میں چراغوں کی روشنی ہمیشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔وقت کے بہاؤ کی سنسناہٹ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح ہے، محل کی گردشی راہداریوں یا تمہارے گوشِ سماعت کی گہرائیوں میں جھکڑ سے چلتے ہیں۔ بادشاہوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتیں، مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کا بہاؤ ان کے قبضۂ قدرت میں ہے، مشینوں کے میکانکی قوانین کے آگے سرنگوں ہونا بادشاہوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساعتوں کا مسلسل پھیلاؤ کسی ریتلے تودے کی طرح تمہیں دفنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اسے کیسے جُل دیناہے۔محل کی ہر گھنٹہ بدلتی آوازیں پہچاننے کے لئے تمہیں صرف چوکنا رہنا ہے: دن کے وقت پرچم کشائی کا تُرم بجتا ہے، شاہی خاندان کی مال بردار گاڑیاں گوداموں میں بید کی ٹوکریاں اورتیل کے پیپے اتارتی ہیں، خادمائیں چھتّوں پر ٹنگے قالینوں پر ضرب لگاتی ہیں، شام کو آہنی دروازے بند ہوتے ہوئے چرچراتے ہیں، باورچی خانوں سے برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی ہے ، اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔

محل ایک گھڑیال ہے، اس کی خفیہ آوازیں سورج کا تعاقب کرتی ہیں، تیر کے نادیدہ نشان میخ لگے بوٹوں کی گھسٹتی آوازوں کے ساتھ دمدموں پر محافظوں کی تبدیلی کی خبر دیتے ہیں، رائفل کے بٹ پر لگی ہاتھوں کی ضرب کے جواب میں احاطے سے ٹینکوں کے نیچے روندی جانے والی بجری کی چرمراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

تخت میں دھنسے ہوئے تم اپنا ہاتھ کان تک لےجاتے ہو، چھتر کے پردوں کو سرکاتے ہو تاکہ وہ کسی مدھم سی سرسراہٹ، کسی خفیف ترین گونج تک کا گلا نہ گھونٹ دیں۔ دن تمہارے لئے آوازوں کا تسلسل ہے۔ کچھ واضح ، کچھ تقریباً مبہم۔ تم نے ان میں امتیاز کرنا ، ان کےمنبع اور دُوری کو جانچنا سیکھا ہے، تمہیں ان کے تسلسل کی پہچان ہے، تم جانتے ہو کہ وقفوں کی معیاد کیا ہے، تم تو پہلے ہی سے ہر اس تھرتھراہٹ، چرمراہٹ یا کھنکھناہٹ کے منتظر ہو جو تمہارے پردۂ سماعت سے ٹکرائے، اپنے تصور میں اس کی توقع باندھے رکھتے ہو، اگر تاخیر ہو تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے ، جب تک مانوس آوازوں میں پیدا ہونے والا خلا پُر نہ کر دیا جائے۔ محل کے ڈیوڑھیوں، زینوں، بالکونیو ں اور غلام گردشوں میں بہت اونچی محرابی چھتیں ہیں،قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں ، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ غرض تمام صوتی راستے حجرۂ شاہی میں ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے دریا خود کو سکوت کی اس عظیم جھیل میں خالی کرتے ہیں، جس میں تم مسلسل تھپیڑوں کے ہاتھوں ہچکولے کھاتے ہوئے تیر رہے ہو۔ ہوشیاری سے، چوکنے ہو کر ان کا سامنا کرتے اور ان کی تہیں کھولتے ہو۔ محل کیا ، ایک مرغولہ،گردشیں ہی گردشیں، ایک گوشِ جسیم، جس کی ماہیت و ساخت نام اور کام بدلتی رہتی ہے: مخروطی خیمے، سرنگیں،محرابیں، بھول بھلیاں۔تم تہہ میں دبکے ہوئے ہو، گوشِ محل کے سب سے اندرونی حصے میں، یعنی اپنے ہی کان کے اندر۔ محل بادشاہ کا کان ہے۔

یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ ہر چلمن، ہر پردے، ہر منقش دیوار کے پیچھے جاسوس موجود ہیں۔ تمہارے جاسوس، تمہاری خفیہ تنظیم کے ایجنٹ، جن کا کام محلاتی سازشوں کی تفصیلی رپورٹ دینا ہے۔محل دشمنوں سے اس طرح بھرا ہے کہ دوستوں دشمنوں میں فرق مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن سازش میں تمہارے وزراء اور عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر خفیہ تنظیم میں مخالف خفیہ تنظیم کے ایجنٹ اپنی جگہ بنا ہی چکے ہوتے ہیں۔ شاید تمہارے تمام وظیفہ خوار ایجنٹ سازشیوں کے لئے بھی کام کرتے ہوں جس صورت میں وہ خود بھی سازشی ہوئے، لہٰذا تم ان کا وظیفہ جاری رکھنے پر مجبور ہو تاکہ جب تک ہو سکے انہیں خاموش رکھا جا سکے۔

برقی مشینوں سے نکلے خفیہ رپورٹوں کے ضخیم بنڈل روزانہ تمہارے پایۂ تخت کے آگے ڈھیر کر دئیے جاتے ہیں۔انہیں پڑھنا کارِ عبث ہے: تمہارے جاسوس صرف سازشیں ہونے کی تصدیق ہی کر سکتے ہیں تاکہ جاسوسی جاری رکھنے کا جواز قائم رہے، اگلے ہی سانس میں وہ اپنی سرگرمیوں کو پُراثر ثابت کرنے کے لئے کسی فوری خطرے کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ خیر کوئی بھی یہ گمان تو نہیں رکھتا کہ تم ان رپورٹوں کو پڑھتےہو گے، حجرۂ شاہی میں اتنی روشنی نہیں کہ کچھ پڑھا جا سکے، مفروضہ یہی ہے ایک بادشاہ کو پڑھنے کی کیا ضرورت، جو اسے معلوم ہونا چاہئے وہ پہلے ہی جانتا ہے۔اپنی یقین دہانی کے لئے تمہیں بس معمول کے آٹھ گھنٹوں کے دوران خفیہ تنظیم کے دفاتر سے آتی برقی مشینوں کی آوازیں ہی سننی ہیں۔ کارندوں کا ایک لشکر میموری بینکوں میں نیا آنے والا ڈیٹا بھرتا رہتا ہے، اسکرینوں پر پیچیدہ جدول بھرے جاتے ہیں، پرنٹروں سے وہی پرانی رپورٹیں بس بارش یا صاف موسم کی خبروں کے ردوبدل کے ساتھ نکالی جاتی ہیں۔ یہی پرنٹر کم از کم ردوبدل کے ساتھ سازشیوں کے خفیہ اخبار برآمد کرتے ہیں، غداریوں کے روزمرہ حکم نامے، تمہاری معزولی اور قتل کے تفصیلی منصوبے۔

تم اگر چاہو تو انہیں پڑھ سکتے ہو۔ یا پھر یوں ظاہر کرو کہ پڑھ چکے ہو۔تم یا تمہارے دشمنوں کے نمک خوار جاسوسوں کی سُن گُن پر مشتمل روزنامچے خفیہ فارمولوں میں ڈھالے جاتے ہیں اور پھر اُن کمپیوٹر پروگراموں میں داخل کر دئیے جاتے ہیں جو سرکاری سانچوں کے مطابق خفیہ رپورٹیں تیار کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ چاہے خطرناک ہویا اطمینان بخش، یہ مستقبل جو ان صفحات میں منتقل ہو رہا ہےتمہارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ یہ تمہاری بے یقینی کی کیفیت ختم نہیں کرتا۔ تم جس راز سے پردہ اٹھنے کے خواہش مند ہو وہ کافی مختلف ہے، وہ خوف اور امید جو تمہاری راتوں کی نیند اڑائے رکھتی ہے، تمہاری سانسیں روکے رکھتی ہے، تمہارے کان جو سننے کے خواہش مند ہیں، اپنے بارے میں، اپنی تقدیر کے بارے میں۔

اسی لمحے جب تم نے تخت سنبھالا، وہ گھڑی جب یہ محل تمہارا ہوا،یہ تمہارے لئےاجنبی ٹھہرا ۔ رسمِ تاج پوشی کے جلوس کے آگے چلتے ہوئے، تم مشعل اور مورچھل برداروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آخری باراس دالان میں پہنچ گئے جہاں سے نکلنا اب نہ تو معقول ہے اور نہ ہی شاہی رسم و رواج کے مطابق ہے۔ ایک بادشاہ کا کیا کام کہ وہ راہداریوں، دفاتر، رسوئیوں میں چہل قدمی کرتا پھرے! اس حجرۂ شاہی کے علاوہ اب محل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔

تمہارے تصور میں محفوظ ان کمروں کی آخری شبیہ تیزی سے محو ہو چکی ہے، لیکن خیر چونکہ وہ تو جشن و تقریبات کے لئے سجائے جانے کے باعث پہلے ہی ناقابلِ شناخت تھے، تم ویسے بھی ان میں کھو چکے ہوتے۔

ہاں اُس لڑائی کے کچھ بچے کھچے مناظر اب بھی تمہاری یاداشت میں تازہ ہیں جب تم اپنے اُس وقت کے وفادار (اور اب یقیناًتم سے غداری پر مائل) ساتھیوں کے ہمراہ محل پر حملے کے لئے بڑھے تھے: مارٹر گولوں سے خستہ ہوتی چھتیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے دیواروں میں چھید اور دراڑیں۔ تم اب اُس کو یہ محل نہیں سمجھ سکتے جس میں تم ابھی اس تخت پر براجمان ہو، اگر تم ایک بار پھر خود کو اُسی محل میں پاؤ تو یہ اشارہ ہو گا کہ ایک پورا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب تمہاری بربادی تمہیں منتخب کر چکی ہے۔

اس سے بھی پہلےاُن سالوں میں جب تم اپنے پیش رو کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ، تم نے ایک اور محل دیکھا تھا کیوں کہ تمہارے مصاحبوں کو کچھ مخصوص کمروں کی بجائے دوسرے دئیے گئے، اور تم یہی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے کہ بادشاہ بننے کے بعد ان جگہوں کی حالت میں کیا تبدیلیاں لاؤ گے۔تخت پر براجمان ہوتے ہی ہر بادشاہ کا پہلا حکم تمام کمروں، سازو سامان، آویزاں تصاویر ، سجاوٹ وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔تم نے بھی یہ سوچتے ہوئے ایسا ہی کیا کہ یہ تمہاری ملکیت کی اصل علامت ہے۔لیکن اس کے برعکس تم نے مزید یادوں کو فراموشی کی اس چکّی میں ڈال دیا جس سے کچھ واپس نہیں آتا ۔

یقیناً محل میں کچھ نام نہاد تاریخی حجرے بھی ہیں جنہیں تم ایک بار پھر دیکھنا چاہو گے، حالانکہ انہیں اوپر سے نیچے تک تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ایامِ رفتہ کے ساتھ کھو جانے والی قدامت انہیں واپس لوٹائی جا سکے۔لیکن وہ کمرے ابھی حال ہی میں سیاحوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔ تمہیں ان سے کافی فاصلے پر ہی رہنا چاہئے۔ اپنے تخت میں سمٹے ہوئے تم چوک میں رکنے والی بسوں کے شور ، گائیڈوں کی یاوہ گوئی اور بھانت بھانت کی بولیوں سے اپنے صوتی کیلنڈر میں گزرتے دنوں کی شناخت کرتے ہو۔ تمہیں اُن دنوں بھی وہاں نہ پھٹکنے کی باقاعدہ تجویز دی گئی ہے جب وہ کمرے مقفل ہوتے ہیں: خاکروبوں کے جھاڑوؤں ، بالٹیوں اور صابن کے کنستروں سے ٹکراؤ گے۔رات کو کھو جاؤ گے، اپنے راستے میں آنے والے خطرے کی انگارہ چشم علامتیں تمہارے لئے رکاوٹ ہوں گی، صبح تم خود کو ویڈیو کیمروں سے لیس جتھوں، اصل پر نیلے غلاف چڑھائے نقلی دانتوں والی بڑی بوڑھیوں کے لشکروں اور پتلونوں سے باہر لٹکتی پھول دار قمیصوں اور سروں پر تنکوں کے چوڑے ہیٹ پہنے فربہ مردوں کے نرغے میں پاؤ گے۔

تمہارے لئے اپنا محل اجنبی اور نامعلوم ہونے کے باوجود تم ہر سرسراہٹ کے تعین ، کھانسی کی ہر آواز کی کسی نقطۂ مکان میں تحدید ، ہر صوتی علامت کے ارد گرد دیواروں کا تصور باندھ کراس کی ذرہ ذرہ تعمیرِ نو کر سکتے ہو، چھتیں، بغلی راستے، ہر اس خلا اورہر اس رکاوٹ کو شکل بخش دو جہاں آوازیں پھیلتی یا ٹکراتی ہیں، خود آوازوں کو اجازت دو کہ وہ تصویروں کو جنم دیں۔ایک نقرئی کھنک محض کسی چمچ کے تھالی سے گرنے کی آواز نہیں جہاں اسے ٹکایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی میز کا کونا بھی ہے جس پر گوٹا کناری والا سوتی کپڑا بچھا ہے، جس پر ایک ایسے اونچے روزن سے چھنتی روشنی پڑ رہی ہے جہاں تخم دان پھولوں کی بیلیں معلق ہیں۔ ایک مدھم دھمک صرف کسی چوہے پر جھپٹتی ایک بلی نہیں بلکہ میخ دار تختوں سے بند سیڑھیوں کے نیچے ایک مرطوب کیچڑ والی جگہ بھی ہے۔

محل ایک صوتی تشکیل ہے جو ایک لمحہ پھیلتی ہے تو دوسرے ہی لمحے سکڑتی ہے، زنجیروں کی لڑی کی طرح تن جاتی ہے۔ تم گونجتی صداؤں کی بیساکھی کے سہارے اس میں چل پھر سکتے ہو، دراڑوں ، جھنکاروں، بدکلامیوں، سانسوں کے اتار چڑھاؤ، سرسراہٹ، بڑبڑاہٹ، غرغراہٹ کا تعین کرتے ہوئے۔

محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمہارا بدن تمہیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے، تمہاری موت وہاں پہلے ہی سے قیام پذیر ہے، تم تک پہنچنے والے اشارے شاید تمہیں تمہارے ہی اندر دفن ایک خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا ترچھا جسم اب تمہارا نہیں ، جب سے تاج نے تمہارے سر کا گھیراؤ کیا ہے بدن تمہارے لئےقابلِ استعمال نہیں ، اب تمہاری ذات تم سے پہیلیوں میں باتیں کرنے والی ایک اندھیری، اجنبی رہائش گاہ کے طول و عرض میں پھیلی ہے ۔لیکن کیا واقعی کچھ بدلا ہے؟ پہلے بھی تو تم اپنے بارے میں کم کم بلکہ شاید کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔اور اسی طرح خوف زدہ تھے جیسے اب ہو۔

محل آوازوں کا ایک باقاعدہ تانا بانا ہے، دل کی دھڑکن کی طرح ہمیشہ یکساں، جس سے باقی تمام غیرمتوقع، بے ربط آوازیں ابھرتی ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے۔ کہاں؟ کوئی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترتا ہے، ایک گھٹی گھٹی چیخ سنائی دیتی ہے۔ طویل، تناؤ کی کیفیت سے لبریز ساعتیں گزرتی ہیں۔ سیٹی کی ایک لمبی کٹیلی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے، شاید کسی کھڑکی یا منارے سے۔ نیچے سے ایک اور سیٹی جواب دیتی ہے۔ پھر خاموشی۔
کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہے جو انہیں الگ الگ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہانی ہے تو کیا وہ کہانی تم سے متعلق ہے؟ کیا نتائج کا کوئی سلسلہ آخرکار تم سے متعلق ٹھہرا؟ اور کیا یہ اُسی سلسلۂ حوادث سے جڑی بس ایک اور غیرمتعلق واردات ہے جو محل کے روزمرہ کا معمول ہیں؟ ہر وہ قصہ جو تمہاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے خود تمہیں تمہارے ہی پاس واپس لے آتا ہے، محل میں کچھ ممکن نہیں جب تک اس واقعے میں بادشاہ کا کوئی امر شامل نہ ہو، چاہے فعال یا پھر غیر فعال۔ کسی مبہم ترین سراغ سے بھی تم اپنا زائچہ بناسکتے ہو۔

شاید خطرہ آوازوں کی بجائے سلسلۂ سکوت سے ہے۔ سنتریوں کی تبدیلی کی آواز سنے کتنے گھنٹے ہو گئے؟ اور اگر تمہارے وفادار محافظ سازشیوں نے گرفتار لئے ہوئے تو؟ باورچی خانوں سے برتنوں کے ٹکرانے کی مانوس آوازیں کیوں نہیں سنائی دے رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے بھروسے کے باورچیوں کی جگہ قاتلوں کے کسی ایسے گروہ نے لے لی ہو جو خاموشی سے واردات کرنے میں ماہر ہوں، پکوانوں میں چپکے چپکے زہر ملا رہے ہوں۔۔۔؟
شاید خطرہ خود باقاعدگی میں ہے۔ تُرمچی روز کی طرح ٹھیک معمول کے مطابق تُرم بجا دیتا ہے، لیکن کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غیرمعمولی تعین سے یہ کام کر رہا ہے؟ کیا تمہیں ڈھول کی تھاپ میں ایک عجیب سا زور، جوش و خروش کی ذرا سی زیادتی محسوس نہیں ہوتی؟ آج پریڈ کرتے ہوئے دستوں کی گونج میں میں ایک مغموم سا زیرو بم ہے، جیسے کوئی فائرنگ اسکواڈ چلا جا رہا ہو۔۔۔ٹینکوں کے پہیے کسی چرچراہٹ کے بغیر بجری پر سے گزر جاتے ہیں جیسے انہیں معمول سے زیادہ تیل دیا گیا ہو، کیا کسی آنے والی لڑائی کے پیشِ نظر؟

شاید حفاظت پر مامور سپاہی اب وہ نہیں جو تمہارے وفادار ہیں۔۔۔یا شاید وہ کسی تبدیلی کےبغیر ہی سازشیوں سے جا ملے ہیں۔۔۔شاید ہر چیز پہلے کی طرح ہی چلتی رہے،لیکن محل تو پہلے ہی غاصبوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے، انہوں نے تمہیں اب تک اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ آخر اب تم کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ وہ تمہیں ایک ایسے تخت کی سپردگی میں فراموش کر چکے ہیں جو اب مزید ایک تخت نہیں۔ محلاتی زندگی کا روزمرہ معمول اس حقیقت کی علامت ہے کہ تختہ الٹا جا چکا ہے، ایک نئے تخت پر ایک نیا بادشاہ براجمان ہے، تمہیں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اتنی ناقابلِ تنسیخ ہے کہ اس پر جلد عمل درآمد کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔۔

اس ہذیانی کیفیت کو چھوڑو۔ محل میں سنائی دینے والی ہر حرکت ٹھیک ٹھیک انہیں قواعدو قوانین کے مطابق ہے جو تم نے وضع کئے ہیں: فوج کسی چالو مشین کی طرح تمہارا حکم بجا لاتی ہے، محل کے رسم و رواج دسترخوان لگانے اور سمیٹنے میں رتی برابر تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، پردوں کا گرانا اور تقریباتی قالینوں کا کھولنا ہدایات کے مطابق ہے، ریڈیو پروگرام وہی ہیں جن کا حکم تم نے پہلی اور آخری بار دیا تھا۔ حالات تمہارے قابو میں ہیں، کوئی بھی تمہارے ارادے یا اختیار کوجُل نہیں دے سکتا۔ نالی میں ٹراتا مینڈک، آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کا شور، بوڑھے خزانچی کا پھوہڑ پن، غرض ہر شے تمہارے منصوبے کے مطابق رہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے کان کو سنائی دے، تمہارا ذہن ہر شے سوچ چکا ہوتا ہے، غوروفکر کر چکا ہوتا ہے، فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک مکھی بھی تمہاری خواہش کے بغیر نہیں بھنبھنا سکتی۔

لیکن شاید تم پہلے کبھی سب کچھ گنوا دینے کے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب جب تمہارے خیال میں سب کچھ تمہاری گرفت میں ہے۔ محل کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ تصور کرنے کا فریضہ، اسے اپنے ذہن میں قید رکھنے کی ذمہ داری تمہیں ایک تھکا دینے والے دباؤ میں رکھتی ہے۔ وہ ڈھٹائی جو طاقت کی بنیاد ہے، کبھی اتنی نازک نہیں ہوتی جتنی لمحۂ فتح میں۔

تخت کے قریب دیوار کا ایک ایسا زاویہ ہے جہاں وقفے وقفےسے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے: دور سے آتی ہوئی دھمک جیسے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ کیا کوئی دیوار کے دوسری طرف ضربیں لگا رہا ہے؟ لیکن یہ شاید دیوار سے زیادہ ایک ستونچہ ہے، باہر کو نکلتا ہوا ایک سہارا، کوئی کھوکھلا ستون، شاید ایک عمودی نلی جو محل کی تمام منزلوں میں تہہ خانوں سے چھتوں تک جاتی ہے، مثال کے طور پر ایک ایسا بادکش جو آتش دانوں سےشروع ہوتا ہے۔یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں عمارت کی مکمل اونچائی تک آوازیں سفر کرتی ہیں۔ نہ جانے کس منزل پر، لیکن حجرۂ شاہی سے متصل بالائی یا زیریں کمرے میں کوئی نہ کوئی شے اس نلی سے ٹکرا رہی ہے۔کوئی شے یا کوئی ذی روح۔ کوئی نہ کوئی وقفے وقفے سے ضرب لگا رہا ہے، گھٹی گھٹی تھرتھراہٹ یہی ظاہر کرتی ہے کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔ ضربیں جو کسی اندھیری گہرائی سے ابھرتی ہیں، ہاں ہاں نیچے سے، زیرزمین ابھرتی ہوئی کھٹکھٹانے کی آواز۔ کیا یہ کوئی اشارے ہیں؟

ایک بازو پھیلا کر تم کونے میں مکا مار سکتے ہو۔ ضربوں کو بالکل ویسے ہی دہراتے ہو جیسے وہ سنائی دے رہی ہیں۔ خاموشی۔ اے لو! پھر آواز آئی۔ وقفوں اور تکرار کا سلسلہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔ تم بھی اسی طرح پھردہراتے ہو۔ پھر انتظار۔ اب ایک بار پھر۔ لیکن اب جواب کے لئے بہت انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ کوئی بات چیت شروع ہو گئی ہے؟

مکالمے کے لئے زبان جاننا ضروری ہے۔ضربوں کا ایک سلسلہ، ایک کے بعد ایک، ایک وقفہ، پھر کچھ ایک ساتھ اور علیحدہ علیحدہ ضربیں: کیا یہ اشارے کسی کوڈ میں ڈھالے جا سکتے ہیں؟ کیا کوئی حرف بُن رہا ہے، یا لفظ؟ کیا کوئی تم سے رابطہ کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے پاس کچھ اہم خبریں ہیں؟ سادہ ترین علامت کو آزماؤ: ایک ضرب ’’الف‘‘، دو ضربیں ’’با‘‘۔۔۔یا پھر مورس کوڈ آزما لو، مختصر اور طویل آوازوں میں امتیاز کی کوشش کرو۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ بھیجا جانے والا پیغام ایک نغمگی رکھتا ہے، جیسے موسیقی کی کوئی عبارت، یہ تمہاری توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ رابطہ قائم ہو، تم سے بات ہو سکے۔۔۔لیکن یہ تمہارے لئے کافی نہیں: اگر ضربوں کی آواز میں باقاعدگی ہے تو ان سے کوئی لفظ ضرور بننا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ پھر جملہ۔ ۔۔اور اب تم محض ان ٹپ ٹپ گرتےصوتی قطروں پر اپنے من چاہے معانی کا غلاف چڑھانے کے لئے مچل رہے ہو گے: ’’جہاں پناہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ کے وفادار نمک خوار۔۔۔تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیں گے۔۔۔عمر دراز ہو۔۔۔‘‘ کیا وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا تم تمام قابلِ تصور علامتوں کے اطلاق کے بعد یہی سمجھ سکے ہو؟ نہیں، اس قسم کی تو کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اگر کچھ تھا بھی تو بھیجا جانے والا پیغام بہت مختلف تھا، کچھ اِس سے ملتا جلتا:’’حرامی غاصب کتے۔۔۔انتقام۔۔۔تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘

شانت ہو جاؤ۔ شاید یہ سب تمہارا تخیل ہی ہے۔ صرف حادثہ ہی حروف اور الفاظ کو اس طرح ملا سکتا ہے۔ شاید یہ اشارے ہی نہ ہوں: ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز ہو سکتی ہے، یا کوئی بچہ گیند اچھا ل رہا ہو، یا کوئی کیل ٹھونک رہا ہو۔ کیل۔۔۔’’تابوت۔۔۔تمہارا تابوت۔۔۔‘‘ اب ضربیں یہ الفاظ تشکیل دے رہی ہیں: ’’میں اس تابوت سے نکلوں گا۔۔۔تم اس میں داخل ہو گے۔۔۔زندہ درگور۔۔۔’’ وہی بے معنی الفاظ۔ صرف تمہارا تخیل ہی اس بے شکل ارتعاش پر ہذیانی الفاظ کو مسلط کر سکتاہے۔

یہ تصور بھی کر سکتے ہو کہ اگر تم محل میں خدا جانے کہاں موجود کسی سننے والے کو بے ترتیبی سے اپنی مٹھی کے جوڑ مار کر مخاطب کرو تو وہ الفاظ اور جملے سمجھ سکتا ہے۔کوشش کرو۔ ذرابھی توقف کے بغیر۔ اب کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کیا غور ، جیسے ہجے کر رہے ہو؟ تمہارے خیال میں تم اس دیوار کے دوسری جانب کیا پیغام بھیج رہے ہو؟’’غدار! تم بھی! میرے سامنے یہ مجال۔۔۔میں تمہیں شکست دے چکا ہوں۔۔۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔۔۔‘‘ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کسی نادیدہ آواز کے سامنے کیا جواز تراشیاں کر رہے ہو؟ کس کے سامنے گڑگڑا رہے ہو؟ ’’میں نے تمہاری جان بخشی تھی۔۔۔تمہاری باری آئی تو۔۔۔یادرکھنا۔۔۔‘‘ تمہارے خیال میں زیرِ زمین کیا چیز دیوار پر یہ ضربیں لگا رہی ہے؟ کیا تمہارا پیش رو ا ب تک زندہ ہے، وہی بادشاہ جسے تم نے اس تخت سے بے دخل کیا تھا، ہاں یہی تخت جس پر تم بیٹھے ہو؟ کیا یہ وہ قیدی ہے جسے تم نے محل کے گہرے ترین زندان میں قید کیا تھا؟
تم ہر رات اسی بے سود امید پر اِس زیرِ زمین ڈھول کی تھاپ پر کان لگائے رکھتے ہو کہ شاید کوئی پیغام پلے پڑ جائے۔ لیکن یہ شک بھی کہیں اندر ہی اندر کلبلا رہا ہے کہ یہ صرف تمہارے کان بج رہے ہیں، یا پھر دل بلّیوں اچھل رہا ہے، یا پھر یہ وہ کھوئی ہوئی نغمگی ہے جو کبھی کبھار یاداشت میں لوٹ کر خوف جگادیتی ہے۔ وائے پشیمانی!آنکھ لگتی ہے تو رات کو گزرنے والی ریل گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ ہمیشہ الفاظ کی ایک ہی تکرار میں کسی یک سُرےلحن کی طرح ڈھل جاتی ہے۔نہیں! بلکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ آوازوں کی ہر تال تمہارے کانوں میں کسی قیدی کی آہ و بکا بن کر ابھرے، تمہارے ۔۔۔شکاروں کی گالیاں، کسی وجہ سے کام تمام نہ ہو سکنے والے دشمنوں کے سانسوں کی منحوس دھونکنی۔

عقل مند ہو کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بھی سب کچھ سن رہے ہو، لیکن اتنا یقین رکھو: تم دراصل خود ہی اپنے سامع ہو، یہ بدروحیں تمہارے اندر اتر کر ہی قوتِ گویائی پاتی ہیں۔ کوئی ایسی بات خود کو قربِ سماعت کے لئے کرب سے مچل رہی ہے جو تم خود تک سے کہنے کے قابل نہیں۔۔۔نہیں مانتے؟ تمہیں حتمی ثبوت درکار ہے کہ جو تم سن رہے ہو وہ اندر سے اٹھ رہا ہے نہ کہ باہر سے؟ حتمی ثبوت تو خیر کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ محل کے زندان قیدیوں، معطل بادشاہوں، غداری کے ملزم وزراء اور اُن اجنبیوں سے بھرے پڑے ہیں جو پولیس کی روزمرہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہتھے چڑھے ہیں، پھر وہ شکار بھی ہیں جو انتہائی محفوظ کوٹھڑیوں میں پھینک کر بھلا دئیے جا چکے ہیں۔۔۔چونکہ یہ تمام لوگ احتجاجی نعروں اور باغی نغموں کے ساتھ رات دن اپنی بیڑیاں ہلاتے یا جیل کی سلاخوں سے اپنے چمچ ٹکراتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ایک فطری بات ہے کہ اس شور شرابے کی گونج اوپر تم تک پہنچ جائے، حالانکہ تمہاری دیواروں اور چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آواز کا گزر ممکن نہیں اور اس حجرے کے گرد بھی دبیز پردے گرائے گئےہیں۔ یہ ناممکن نہیں کہ انہی زندانوں میں سے آتی ہوئی آوازوں کا تسلسل جو پہلے تمہیں کسی کھٹکھٹاہٹ کا زیروبم محسوس ہوتا تھا اب ایک گہری ، ہولناک گڑگڑاہٹ میں تبدیل ہو چکا ہو۔ ہرمحل کی بنیادوں میں کچھ ایسے تہہ خانے موجود ہوتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی زندہ درگور ہوتا ہے یا کوئی مردہ شخص ابدی سکون حاصل کر لیتا ہے۔تمہیں ہاتھوں سے اپنےکانوں کو ڈھکنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ آوازیں اسی طرح آتی رہیں گی۔

اگر تم کسی گھن چکر کی طرح ان میں پھنس نہیں جانا چاہتے تو محل کی آوازوں کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں! باہر نکلو! دور نکل جاؤ! آوارہ گردی کرو! اندھیرے محل کے باہر شہر پھیلا ہوا ہے، راجدھانی کا دارالخلافہ، تمہاری اقلیمِ سلطانی۔ تم اس یاسیت کی سیاہی میں ڈوبے ہوئے محل نہیں بلکہ شہنائیوں جیسی سینکڑوں آوازوں سے مترنم، رنگا رنگ شہروں کے مالک ہونے کے لئے بادشاہ بنے ہو!

شہر رات گئے پیر پسارے لیٹا ہے، خمیدہ پڑا سوتا، خراٹے لیتا، خواب میں بڑبڑاتاہے: وہ اِدھر سے اُدھر کروٹ لیتا ہے توسایوں اور روشنیوں کے قطعے اپنی جگہوں سے سرکتے ہیں۔ ہر صبح شادمانی، انتباہ یا خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں: وہ پیغامات بھیجتے ہیں لیکن تم کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ دراصل تمہیں کیا بتانا چاہتے ہیں۔مرنے والوں کے لئے جاری آوہ و بکا میں تمہاری سماعت سے پُرجوش رقص و موسیقی کی آوازیں بھی ٹکراتی ہیں، پھر مسرت و شادمانی کےاس گجر کے درمیان ہی غضبناک آوازوں کا ایک دھماکہ سنائی دیتاہے۔ تمہیں تنفسِ شہر کی سماعت پر کان لگانے چاہئیں ، سانسیں جوخستہ و شکستہ ہیں یا پھر مطمئن اور گہری ۔

شہر تہہِ گوش سے اٹھتی ایک مدھم گڑگڑاہٹ ہے، آوازوں کی ایک بھنبھناہٹ، پہیوں کا ایک شور۔ جب محل میں ہر طرف سکوت ہوتا ہے تو شہر حرکت کرتا ہے، گلیوں میں پہیے دوڑتے ہیں، گلیاں کیا ہیں گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں، گراموفون پر قرص گردش میں ہے ، کسی پرانے ریکارڈ پر سوئی رگڑ کھاتی ہے، وقفوں وقفوں سے موسیقی کے لہری جھونکے چلتے ہیں، گلیوں کی گرجتی دراڑوں میں ڈوبتے ہیں اور پھر چمنیوں پر نصب سمت نماؤں کو گھمانے والی ہواؤں کےساتھ ابھرتے ہیں۔ شہر ایک ایسا پہیہ ہے جس کے مدار پر ساکت بیٹھے تم محوِ سماعت ہو۔

گرمیوں میں شہر محل کی کھلی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا ہے، اپنی صداؤں، قہقہوں اورآنسوؤں کے دوروں، ہوائی چرخیوں کے شور اور ٹرانسسٹروں کے ناگوار پٹاخوں کے ساتھ تمام کھلی کھڑکیوں سے اڑتا ہوا اندر آ پہنچتا ہے۔ تمہارے لئے بالکونی سے باہر جھانکنا بے معنی ہے، اوپر سے چھتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے تم ان گلیوں کو کیا خاک پہچان پاؤ گے جن میں تم نے تاج پوشی کے روز سے آج تک قدم بھی نہیں رکھا، جب جلوس اعلام و آرائش اور محافظوں کی قطاروں میں سے گزررہا تھا اور اسی وقت سے ہر شےدور، بہت دور جاتی ہوئی دھندلی محسوس ہو رہی تھی۔

شام کی سرد لہر حجرہ ٔ شاہی تک تو نہیں پہنچتی لیکن تم اسے شامِ گرما کے اس مدھم شور سے پہچان لیتے ہو جس کی پہنچ تختِ شاہی تک ہے۔تمہیں تو بالکونی سے باہر جھانکنے کا خیال تک ترک کر دینا چاہیے: مچھروں کے کاٹنے کے علاوہ تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا،کچھ ایسا نہیں جو پہلے ہی اس گرج میں شامل نہ ہوجو کان اوپر کسی خول کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ شہر کسی گھیرے دار خول یا پھر کان کی طرح اپنی گہرائی میں کسی سمندر کی سی گھن گرج رکھے بیٹھا ہے: اگر تم لہروں کی آواز پر کان لگاؤ تو محل کیا ہے ، شہر کیا ہے، کان، خول ، غرض سب کچھ گڈمڈ ہو جائے گا۔
شہر کی آوازوں میں تمہیں ہر کچھ دیر کے بعد ایک تال، سُروں کا ایک سلسلہ، ایک دُھن سنائی دیتی ہے: نفیریوں کے باجے، جلوسوں کے نعرے،ا سکول کے بچوں کے اجتماعی نغمے، جنازے، احتجاجیوں کے بڑھتے قدموں کی تاپ میں رچے بسے انقلابی گیت، احتجاجی جلوس کو رفع دفع کرتے تمہارے مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے سپاہیوں کے تعظیمی ترانے ، ہر کسی کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شہر اپنی مسرتوں میں ڈوبا ہے، کسی نائٹ کلب کے لاؤڈ اسپیکر سے اونچی آواز میں بجتی موسیقی، بلوے میں مارے جانے والی کسی غریب کی موت پر عورتوں کے نوحے۔یہی وہ موسیقی ہے جو تم سنتے ہو، لیکن کیا اسے موسیقی کہہ سکتے ہیں؟ تم آواز کی ہر ٹھیکری سے اس طرح اشارے اور معلومات جمع کرتےہو جیسے اس شہر میں تمام گانے بجانے اورموسیقی سننے والے تمہیں واضح اور غیر مبہم پیغامات بھیجنا چاہتے ہیں۔ تمہاری تاج پوشی کے دن سے تم موسیقی نہیں بلکہ موسیقی کے استعمال کی بابت خبریں سن رہے ہو: اشرافیہ کے رسوم و رواج میں، عوام کے میلوں ٹھیلوں میں، روایات، ثقافت، اور فیشن کے تحفظ میں۔ اب تم خود سے پوچھتے ہو کہ تمہارے لئے تب سماعت کے کیا معنی ہوا کرتے تھے جب تم سُروں کو صرف اور صرف اپنی روح میں اتارنے کے لئے موسیقی سنا کرتے تھے؟

وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لئے تمہیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ٹرا لالالا‘‘ کرتے ہوئے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمہارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔اب ’’ٹرالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمہارے ذہن میں نہیں آتا ۔

یاد ہے وہ آواز، وہ نغمہ ، وہ نسوانی آواز جو کبھی کبھار ہوا کے دوش پر کسی کھلی کھڑکی سے تم تک پہنچ جاتی تھی، یاد ہے وہ محبت کا گیت جو گرمیوں کی راتوں میں ہوا کے جھونکے تم تک لاتے تھے، یاد ہے وہ لمحہ جب تمہارے اس گمان کے ساتھ ہی کہ تم نے اس کی کوئی سُر پکڑ لی ہے ، وہ کھو چکا ہوتا تھا، اور تمہیں کبھی یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ آیا وہ تم نے واقعی سنا تھا یا وہ محض تمہارے تخیل ، تمہاری تمنا کی پیداوار تھی ، تمہاری طویل شب بیداری کے ہیبت ناک خواب میں اسی عورت کے گانے کی آواز گونجتی ہے۔ تم خامشی و ہوشیاری سے اسی کے منتظر ہو: اب تمہارے کان خوف کے مارے تو ہرگز نہیں کھڑے۔اب ایک بار پھر تم وہی نغمہ سن رہے ہو جو اپنی ہر جداگانہ سُر، ہر رنگ و آہنگ کے ساتھ ایک ایسے شہر سے تم تک پہنچ رہا ہے جسے ہر قسم کی موسیقی اکیلا چھوڑ چکی ہے۔

کسی شے کی کشش محسوس کئے بھی تمہیں ایک عرصہ گزر چکا، شاید اس وقت سے جب تم نے اپنی تمام تر قوتیں تخت کے حصول میں لگا دیں۔ اب تمہیں بس یہی یاد ہے کہ اپنے دشمنوں کو زیر کرلینے کی تمنا کیسے تمہیں نگل رہی تھی کہ کسی دوسری چیز کی خواہش اور خیال تک نہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی دن رات موت کا خیال اسی طرح تمہارے ساتھ تھا جیسے آج جب تم رات کے سناٹے اور اپنے خلاف جنم لیتی بغاوتوں سے بچاؤ کی خاطر نافذ کئے گئے کرفیو کی خامشی میں شہر کو گھورتے ہو، اور سنسان گلیوں میں محافظ گشتی دستوں کے دھپ دھپ کرتے قدموں کا تعاقب کرتے ہو۔ پھر جب سناٹے میں کسی بے نور روزن کی دہلیز پر موجود وہ نادیدہ نسوانی آواز اپنے سُر بکھیرتی ہے تو اچانک زندگی کی بھولی بسری یادیں واپس لوٹ آتی ہیں، تمہاری تمنا ئیں کسی شے کو پا لیتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ نغمہ نہیں جو تم نے نہ جانے کتنی بار سنا ہو گا، نہ ہی یہ عورت جو تم نے کبھی نہیں دیکھی: تم تو دراصل اس آواز کے قتیل ہو جس طور وہ خود کو گیت میں پیش کرتی ہے۔

یہ آواز یقیناً کسی انسان کی ہے، کسی بھی جیتےجاگتے، یکتا، بے مثل انسان کی طرح ایک انسان، لیکن پھر بھی آواز انسان تو نہیں ہوتی، یہ تو اشیاء کے انجماد سے جدا، ہوا میں معلق کوئی چیز ہے۔آواز بھی یکتا اور بے مثل ہوتی ہے لیکن شاید انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طور پر: یہ ممکن ہے کہ آواز اور انسان میں مماثلت نہ ہو۔ یا پھر وہ کسی ایسی خفیہ طرز پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں جس کا ادراک پہلی نظر میں ناممکن ہو: ممکن ہے کہ آواز کسی انسان کا پوشید ہ اور اصل ترین جزو ہو۔ کیا وہ تمہارا غیر مجسم جزو ہے جو اس غیر مجسم آواز کو سنتا ہے؟ اس صورت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم نے وہ آواز اصل میں سنی یا محض تمہاری یاداشت یا تخیل کا کرشمہ تھا۔

لیکن پھر بھی تم یہی چاہتے ہو کہ تمہارا کان اس آواز کا ادراک کرے لہٰذا تمہیں اپنی جانب کھینچنے والی شے صرف کوئی یاد یا پُرفریب سراب نہیں بلکہ ایک گوشت پوست کے حلق میں اٹھتا ارتعاش ہے۔ ایک آواز کے معنی یہ ہیں:ایک زندہ شخص، حلق، سینہ، احساسات، یعنی وہ جو اس آواز کو ہوا کے سپرد کرتا ہے، تمام آوازوں سے مختلف ایک آواز۔ایک آواز میں حلق، لعاب، نوزائیدگی، تجرباتِ زندگی کا ملمع، ذہن کی مرادیں اور صوتی لہروں کو ایک ذاتی تشخص دینے کی مسرت شامل ہوتی ہے۔تمہارے لئے اصل کشش اس مسرت میں ہے جو یہ آواز ایک ہستی کو دیتی ہے، یعنی ہستی بطور آواز۔ لیکن یہ مسرت تمہیں اس تصور پر ابھارتی ہے کہ فلاں شخص فلاں سے اس لئے مختلف ہے کیوں کہ دونوں کی آواز مختلف ہے۔

کیا تم اِس مغنیہ کو تصور میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یاد رکھو تم اپنی چشم ِ تصور سے ا س کا جو بھی سراپا دیکھو ، صوتی سراپا اس پر بھاری ہو گا۔ یقیناً تم اس میں موجود امکانات کو ضائع تو نہیں کرنا چاہو گے، تو بہتر یہی ہے کہ آواز کو تھامے رکھو اور محل سے باہر بھاگ نکلنے اور اس ڈومنی کی تلاش میں شہر کی سڑکیں ناپنے کی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو۔

لیکن تمہیں روکنا ناممکن ہے۔ تمہارا ایک حصہ اس نامعلوم آواز کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ اُس کی اپنی سماعتوں تک رسائی کی مسرت سے سرشار، تم اب اپنی سماعت اُس کے کانوں تک پہنچانا چاہتے ہو، تم بھی اب ایک آواز بننا چاہتے ہو تاکہ و ہ تمہیں اسی طرح سن سکے جیسے تم اسے سنتے ہو۔

کیا بدنصیبی ہے کہ تم گا نہیں سکتے۔ اگر تم گانا جانتے تو شاید تمہاری زندگی مختلف ہوتی،اس سے زیادہ خوش یا پھر ایک منفرد سی اداسی ، ایک نغمگی بھری یاسیت۔ شاید تم بادشا ہ بننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس چرچراتے تخت پر بیٹھے یوں سایوں کو نہ گھور رہے ہوتے۔
شاید تمہاری اصل آواز کہیں تمہارے بہت اندر دفن ہے، ایک ایسا نغمہ جو تمہارے جکڑے ہوئے حلق ، تمہارے خشک اور بھنچے ہوئے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یا پھر تمہاری بکھری ہوئی آواز اپنی بھنبھناہٹ سے اِدھر اُدھر سر اور تال بکھیرتی ،قریہ بہ قریہ آوارہ پھرتی ہے۔وہ انسان جو تم ہو، تھے یا ہو سکتے تھے یعنی تم جیسے تمہیں کوئی نہیں جانتا اس آواز میں ظاہر ہوتے ہو ۔

کوشش کرو، زور لگاؤ، اپنی خفیہ قوت کو حاضر کرو۔ زور لگا کر ہیّا! نہیں ، یہ بھی نہیں چلا۔ ہمت نہ ہارو، دوبارہ کوشش کرو۔ اے لو! ہو گیا نہ معجزہ! تمہیں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا! کس کی ہے یہ آواز جو اونچی تیز تال کے ساتھ اٹھتی ہے، اپنے نقطۂ اوج کو جا لیتی ہے اور پھر اُس نسوانی آواز کی نقرئی جھلملاہٹ میں مل جاتی ہے؟ کون اُس کے ساتھ اس دوگانے میں اس طرح شریک ہے جیسے دونوں ایک ہی صوتی ارادے کے دو تکمیلی و تشاکلی چہرے ہوں؟ یہ تم ہی گا رہے ہو، اس میں کوئی شک نہیں: یہ تمہاری ہی آواز ہے جو آخر کار تم کسی اجنبیت یا اضطراب کے بغیر سن سکتے ہو۔

لیکن تم یہ سُر کیسے پیدا کر سکتے ہو جب تمہارا سینہ سکڑا اور دانت بھنچے ہوئے ہیں؟ تمہیں یقین ہے کہ شہر اس ذاتِ نسوانی کے طبعی پھیلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اپنی راجدھانی کے دارلخلافہ سے بھی نہیں ،تو پھر ایک بادشاہ کی آواز آخر کہاں سے آئے؟ اپنی سماعت کی وہی تیزی جس نے تمہیں اب تک اس نامعلوم عورت کے گیت سے جوڑے رکھا، اب اس آواز کی سینکڑوں کرچیاں چن رہی ہے جو یکجا ہو ایک قطعی غیر مبہم آواز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، ایک ایسی آواز جو صرف اور صرف تمہاری ہے۔

بس اب اپنی سماعت میں ہر خلل اور رکاوٹ کو دور کر دو ۔غور کرو! تمہیں خود کو بلاتی اُس عورت کی پکار اور اسے بلاتی اپنی پکار کو اکھٹے ایک ہی ارادۂ سماعت میں پرونا ہے (یا تم اسے تصورِ سماعت کہنا چاہو گے؟)۔ اے لو! نہیں، اتنی جلدی نہیں۔ ہمت نہ ہارو۔ دوبارہ کوشش کرو۔ اگلے ہی کسی لمحے میں اس کی اور تمہاری پکاریں ایک دوسرے کو جواب دیں گی اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں گی کہ انہیں علیحدہ کرنا ناممکن ہو گا۔۔۔
لیکن بہت سی آوازیں حملہ آو ر ہوتی ہیں، چیختی چنگھاڑتی، وحشی آوازیں: اُس کی آواز خارج سے لشکر کشی کرتی موت کی دھاڑ سے گھبرا کر ٹھٹکتی اور غائب ہو جاتی ہے، یا پھر تمہارے اندر مکرر گونجتی ہے۔ تم اسے کھو چکے ہو، تم کھو چکے ہو، تمہارا صوتی خلاؤں میں اڑتا جزو اب کرفیو لگی گلیوں میں شب گردی کرتے گشتی دستوں کے درمیان دوڑ رہا ہے۔ آوازوں کی زندگی بس ایک خواب تھا، شاید کچھ ہی لمحے زندہ رہا جیسے خواب رہتے ہیں ، جب کہ خارج میں وہ ہولناک خوابیدہ داستان اب بھی جاری ہے۔

لیکن اس کے باوجود تم بادشاہ ہو: اگر تم دارالخلافہ میں رہنے والی کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہو جو اپنی آواز سے پہچانی جاتی ہے تو یقیناً تم اس قابل ہو گے۔ اپنے جاسوسوں کو کھلا چھوڑ دو، حکم دو کہ وہ شہر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ لیکن اس آواز کو کون پہچانتا ہے؟ صرف تم۔ صرف تم ہی اس تلاش کے قابل ہو۔ اور یوں جب کوئی تمنا آخرکار خود کو تمہارے سامنے پیش کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ ہونا کسی کام کا نہیں۔

ذرا ٹھہرو، اتنی جلدی ہمت ہارنے کی کوئی وجہ نہیں، ایک بادشاہ کےپاس وسائل کی کیا کمی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم ایک ایسا نظام نہ بنا سکو جو من چاہی چیز حاصل کر لے؟ تم ایک مقابلۂ موسیقی کا اعلان کر سکتے ہو: بادشاہ کے حکم سے سلطنت کی تمام خوش نوا ڈومنیاں محل میں حاضر کی جائیں۔ بلکہ یہ تو ایک بہت ہی اہم سیاسی چال ہو گی کہ اِس افراتفری کے زمانے میں رعایا کے حوصلے بلند کئے جائیں اور شہریوں اور تاج ِ شہنشاہی کے درمیان رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔تم باآسانی یہ منظر تصور میں لا سکتے ہو:یہی آراستہ و پیراستہ دالان، سجا سجایا چبوترا، سازندوں کا طائفہ، اہم ترین درباریوں پر مشتمل سامعین، اور تم تخت پراپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان، ایک ایک اونچے سُر، ایک ایک گٹکری پر کسی غیرجانبدار جج کی طرح بغور کان لگائے، یہاں تک کہ اچانک تم اپنا عصا اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے ہو:’’یہی وہ عورت ہے!‘‘

تم اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتے ہو؟ جگمگاتے بلوری فانوسوں ، گملوں میں لگے چوڑے چکلے پام جیسے پودوں کے پتوں بیچ گانے والی کوئی بھی آواز اس سے کم ملتی جلتی نہیں ہو سکتی جو عام طور پر بادشاہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تم اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی شاندار سالانہ تقریبات کے دوران سنگت کی کئی محفلوں میں موجود رہے ہو۔ سماعت ِ شہنشاہی کا ادراک رکھنے والی ہر آواز خود پر ایک سرد ملمع، ایک کانچ کا سا تصنع طاری کئے رہتی ہے۔ اس کے برعکس یہ آواز کسی دھندلکے سے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے خود کو اندھیروں کی اوٹ سے نکالے بغیر ظاہر کرنے پر خوش ہو، انہی اندھیروں میں لپٹی ہر موجودگی کی جانب ایک پل سا بنا رہی ہو۔

لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ پایۂ تخت کے سامنے موجود آواز بھی وہی تھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ درباری مغنیاؤں کی نقالی کی کوشش کرے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اسے ان بہت سی آوازوں سے خلط ملط کر بیٹھو جنہیں تم آئے دن ایک شاہانہ التفات سے کسی اڑتی مکھی کی پرواز کو تکتےہوئےسنتے ہو؟

اُسے خود کو ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ اپنی اصل آواز سے اُس کا ٹکراؤ ہے، وہی مبہم سا صوتی پیکر جسے تم نے شہر میں اٹھنے والے آوازوں کے طوفان سے طلب کیا ہے۔ یہی کافی ہو گا اگر تم گاؤ، اس آواز کو آزادکرو جسے تم نے ہمیشہ ہر ایک سے چھپائے رکھا، اور وہ تمہیں فوراً اس انسان کے طور پر پہچان لے گی جو تم حقیقتاً ہو، اپنی آواز، اپنی حقیقی آواز تمہاری آواز سے ملا دے گی۔

لیکن آہ! پھر پورے محل میں ایک حیرت زدہ واویلا سا مچ جائے گا: ’’جہاں پناہ گا رہے ہیں۔۔۔سنو تو ظلِ الہی کیسے گاتے ہیں۔۔۔‘‘ لیکن پھر جلد ہی وہ سکوت ایک بارپھر چھا جائے گا جو ،اُس کے قول و فعل سے قطع نظر، کسی بھی بادشاہ کے دربار میں سماعت کا خاصہ ہے۔ تمام چہرے اور انداز ایک لگا بندھا سا اطمینان ظاہر کریں گے جیسے کہہ رہے ہوں: ’’جہاں پناہ ہمیں ایک گیت سے نواز رہے ہیں۔۔۔‘‘ اور سب اس پر متفق ہوں گے کہ صوتی مظاہرہ کسی بھی مطلق العنان ہستی کا استحقاق ہے (اس شرط کے ساتھ کے اس کے بعد وہ طنز و دشنام سے بھری سرگوشیاں کر سکتے ہیں)۔

قصہ مختصر، تمہارے لئے گانا بہت ہی خوب ہے: تمہیں کوئی نہیں سنے گا، ہاں وہ تمہیں نہیں سنیں گے، تمہارا گیت، تمہاری آواز۔ وہ بادشاہ کو اسی طرح سنیں گے جیسے کسی بادشاہ کو سننے کا حق ہے، یعنی ہر اس چیز کو قبول کیا جائے جو اوپر سے نازل ہو اور جس کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہ ہوں کہ وجود ِ بالا اور وجود ہائے زیریں کے بیچ غیرمتغیر رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ بھی تمہیں نہیں سن سکتی جو تمہاری واحد مخاطب ہے: تمہاری آواز نہیں بلکہ وہ تو بادشاہ کو سُنے گی، اس کا جسم کورنش کی حالت میں منجمد اورہونٹوں پر درباری آداب کے مطابق متوقع نامنظوری کو چھپاتی ایک مسکراہٹ ہو گی۔

پنجرے سے نکلنے کی ہر کوشش کی تقدیر میں ناکامی ہے: خود کو ایک ایسی دنیا میں تلاش کرنے کا کیا فائدہ جو تمہاری ہے ہی نہیں، جو شایدسرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تمہارے لئے تو صرف محل ہے،گونج در گونج باز گشت پیدا کرتی محرابیں، سنتریوں کی گھڑیاں، بجری کو روندتے ٹینک، سیڑھیوں پر جلدی میں اٹھتا ہر قدم جو شاید تمہارے خاتمےکا اعلان کر رہا ہے۔ یہی وہ واحد علامتیں ہیں جن کے ذریعے دنیا تم سے ہم کلام ہوتی ہے، ایک لمحے کے لئے بھی ان سے اپنی توجہ نہ ہٹاؤ، اِدھر تمہاری توجہ ہٹی اُدھر تمہارے ارد گرد اپنے تفکرات کی حفاظت کے لئے تخلیق کی گئی فصیل دھڑام سے زمین بوس ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔

کیا یہ تمہارے لئے ناممکن ہے؟ کیا تمہارے کان ان نئی اجنبی آوازوں سے بہرے ہو رہے ہیں؟ کیا تم مزید اس قابل نہیں رہے کہ اندر اور باہر اٹھتے شوروغوغامیں فرق کر سکو؟ شاید اب مزید کوئی اندر یا باہر رہا ہی نہیں: جس دوران تم آوازوں پر کان لگائے بیٹھے تھے، غداروں نے پہرے میں کمزوری کا فائدہ اٹھایا تاکہ بغاوت کر دیں۔

اب تمہارے ارد گرد محل نہیں بلکہ چیخوں اور گولیوں کی آوازوں سے بھری رات ہے۔ تم کہاں ہو؟ کیا اب تک زندہ ہو؟ کیا تم حجرۂ شاہی میں داخل ہوئے قاتلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے؟ کیا خفیہ سیڑھیوں نے تمہیں بچ نکلنے کاموقع دیا؟

شہر اب شعلوں اور چیخ و پکار سے پھٹا جا رہا ہے۔ شب کی اندرونی تہہ ادھڑ کر باہر آ گئی ہے۔ سیاہی اور سناٹا باہم غوطہ زن ہیں اور ایک دوسرے کی تہہ میں سے آتش و غوغا نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔ شہر کسی جلتے ہوئے کاغذ کی طرح شکن زدہ ہے۔ بھاگو! تاج کے بغیر، عصا کےبغیر، کسی کو خبر نہیں ہو گی کہ تم بادشاہ ہو۔ شبِ آتشیں سے اندھیری کوئی رات نہیں۔ اس آدمی سے تنہا کوئی نہیں جو ایک نوحہ کناں ہجوم کے بیچ سے گزر رہا ہو۔
مضافاتی علاقے کی رات شہر کی حالتِ نزاع پر نظر رکھے ہے۔ طیورِ شبانہ کی دلدوز چیخوں کے ساتھ ایک خطرے کا گجر بجتا ہے، لیکن جوں جوں وہ دیواروں سے باہر نکلتا ہے ، توں توں تاریکی کی عمومی سرسراہٹ میں گم ہو جاتا ہے: پتوں سے گزرتی ہوا، ندیوں کا بہاؤ، مینڈکوں کی ٹراہٹ ۔ رات کے پُرشور سکوت میں ایک خلا سا پھیلتا ہے، تمام واقعات ایک آناً فاناً شعلے کے سے ہیں جو جلتے ہی بجھ جائے، کسی ٹوٹی شاخ کے چٹخنے کی آواز، کسی خرموش کی کٹیلی چیخ جب سانپ اس کی کھوہ میں آ گھسے، دو محبت میں لڑتی بلیاں، تمہارے مفرور قدموں تلے گھسٹتی کچھ کنکریاں۔
تم ہانپتے ہو، کچھ اس طرح کہ سیاہ آسمان تلے صرف تمہاری سانس اور تمہارے لڑکھڑاتے قدموں تلے چرچراتے پتوں کی آواز ہی سنی جا سکتی ہے۔ مینڈک اب چپ کیوں ہیں؟ ارے نہیں، یہ لو، وہ دوبارہ شروع ہو گئے۔ کوئی کتا بھونکتا ہے۔۔۔ذرا ٹھہرو۔کتے ایک دوسرے کو دور سے جواب دیتے ہیں۔ کچھ دیر سے تم دبیز اندھیرے میں چل رہے ہو، تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ اپنے کان کھڑے کرتے ہو۔ تمہاری ہی طرح کوئی اور بھی ہانپ رہا ہے۔ کہاں؟
رات سانس کی دھونکنی ہے۔ ہلکی ہوا یوں چلتی ہے جیسے گھاس سے جنم لے رہی ہو۔ چار سو جھینگر وں کا شورتھمنے کا نام نہیں لیتا۔اگر تم ایک آواز کو دوسری سے علیحدہ کرو تو وہ یک دم نکلتی محسوس ہوتی ہے، بہت واضح ، لیکن وہ تو اس سے قبل بھی یہاں تھی، دوسری آوازوں میں چھپی ہوئی۔
تم بھی وہاں پہلے موجود تھے۔ اور اب؟ جواب نہیں بن پڑتا۔ نہیں جانتے ان سانسوں میں سے کون تمہارا ہے۔ نہیں جانتے کہ کیسے سننا ہے۔ اب مزید کوئی کسی کو نہیں سن رہا۔ صرف رات خود اپنی ہی سامع ہے۔

تمہارے قدموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تمہار ے سر پر اب آسماں نہیں۔ دیوار چھوتے ہو تو کائی کالیپ اور بھربھرا پن ہے ، اب تمہارے ارد گرد چٹانیں ہیں، ننگے پتھر۔ اگر پکارو تو تمہاری ہی آواز ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ کہاں؟ ‘‘اوہووووو۔۔۔اوہوووو۔۔۔’’ شاید تم کسی پہاڑ کی کھوہ میں پہنچ چکے ہو: ایک ناختم ہونے والی غار، ایک زیر زمین راستہ۔۔۔

کئی سال تم نے محل میں ایسی سرنگیں کھدوائیں جن کی شاخیں شہر تلے گزرتی ہوئی کھلے میدانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ خود کو امکانی طور پر یقین دلانا چاہتے تھے کہ نظر آئے بغیر کہیں بھی پہنچ سکو، خیال تھا کہ صرف زمین کی آنتوں ہی میں رہتے ہوئے اپنی راجدھانی پر غلبہ قائم رکھ سکو گے۔ پھر تم نے کھدائی کو کھنڈر ات تلے دبا رہنے دیا۔ اور اب تم یہاں اپنی کچھار میں پناہ گزیں ہو۔ یاا پنے ہی جال میں پھنس چکے ہو۔ خود سے پوچھو کہ کیا کبھی یہاں سے باہر نکلنے کا رستہ ڈھونڈ سکو گے۔ باہر نکلو گے: کہاں؟

کھٹکھٹانے کی آواز۔ پتھر میں سے۔ مدھم۔ زیر وبم۔ کسی اشارے کی طرح! تھپ تھپ کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ تم تو یہ تال پہچانتے ہو۔ یہ تو قیدی کی پکار ہے! جواب دو۔ خود بھی دیوار کو تھپتھپاؤ۔ چیخو۔ اگر تمہیں یاد ہو تو یہ سرنگ سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے منسلک ہے۔۔۔

وہ نہیں جانتا تم کون ہو: رہاکرانے والے یا داروغہ؟ یا شایدوہ جو زیر زمین گم چکا ہے ، خود اسی کی طرح، ،شہر کی خبروں اور اس لڑائی سے کٹا ہوا جس پر اس کی تقدیر کا انحصار ہے؟

اگر وہ اپنی کوٹھڑی کے باہر پھر رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس کی بیڑیاں کھولنے، سلاخیں ہٹانے آئے ہیں۔ وہ اس سے کہتے ہیں: ‘‘غاصب ہٹ چکا ہے! تم تخت پر واپس لوٹو گے! محل کو واپس حاصل کر لو گے!’’ایک اور گجر، شاہی سپاہیوں کی جانب سے جوابی حملہ اور رہا کرانے والے اسے تنہا چھوڑ کر سرنگوں میں کہیں نکل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب وہ گم چکا ہے۔ان پتھر کی محرابوں تلے کوئی روشنی ، اوپر ہونے والے شور کی کوئی گونج نہیں پہنچتی۔

اب تم ایک دوسرے سے بات چیت کےقابل ہو تاکہ ایک دوسرے کی آوازیں پہچان سکو۔ کیا تم اسے بتاؤ گے کہ تم کون ہو؟ کیا یہ کہ تم اسے اس آدمی کے طور پر پہچان چکے ہو جسے تم نے اتنے سال جیل میں رکھا؟ وہ آدمی جسے تم نے لعنت ملامت کرتے، انتقام کی قسمیں کھاتے سنا؟ اب تم دونوں ہی زیرِ زمین کھو چکے ہو اور نہیں جانتے کہ کون بادشاہ ہے او رکون قیدی۔ تمہیں کچھ کچھ گمان ہے کہ اصل چاہے جو بھی ہو، کچھ نہیں بدلے گا: تم اس کوٹھڑی میں ہمیشہ کے لئے مقفل معلوم ہوتے ہو، پیغامات بھیج رہے ہو۔۔۔تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تقدیر اسی طرح ہمیشہ امید و بیم کی کیفیت میں معلق رہی ہے۔ تم میں سے ایک یہیں نیچے رہےگا۔۔۔دوسرا۔۔۔

لیکن شاید اس نے، یہاں نیچے ، ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ وہاں اوپر تخت پر ہے، سر پر تاج ، ہاتھ میں عصا ہے۔ اور تم؟ کیا تم نے ہمیشہ خود کو قیدی محسوس نہیں کیا؟ تمہارے درمیان مکالمہ کیسے ممکن ہے جب تم دونوں میں سے ہر ایک یہی سوچ رہا ہو کہ جو وہ سن رہا ہے وہ دوسرے کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز کی گونج ہیں؟

تم میں سے ایک کے لئے چھٹکارے کی ساعت قریب آ رہی ہے، دوسرے کے لئے تباہی کی۔ اور پھر بھی وہ پریشانی جس نے کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اب غائب محسوس ہوتی ہے۔ تم اب گونجوں اور سرسراہٹ کی آواز سنتے ہوئے انہیں علیحدہ کرنے اور ان کے معانی سمجھنے کی مزید کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسے وہ کوئی موسیقی ترتیب دے رہی ہوں۔ ایک ایسی موسیقی جو اس نامعلوم نسوانی آواز کی یاد یں واپس لے آتی ہے۔ لیکن کیا تم اسے یاد کر رہے ہو یا واقعی سن رہے ہو؟ ہاں یہ وہی ہے، یہ اسی کی آواز ہے جو چٹانی محرابوں تلے ابھرنےوالی کسی پکار کی طرح ایک سُر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید وہ بھی کائنات کے ابدی کنارے کی طرح اسی رات میں کھو چکی ہو۔اسے جواب دو، اپنی آواز سناؤ، اسے پکارو تاکہ وہ سیاہی میں راستہ تلاش کرتی ہوئی تم تک پہنچ جائے۔ خاموش کیوں ہو؟ کیا تمہیں سارے زمانے میں اسی لمحے گنگ ہونا تھا؟

لو وہاں اندھیرے سے ایک اور پکار اٹھتی ہے، عین اسی جگہ جہاں سے قیدی کے الفاظ سنائی دئیے تھے۔ یہ ایک آسانی سے پہچان لی جانے والی پکار ہے جو عورت کو جواب دیتی ہے، یہ تمہاری آواز ہے، وہی آواز جو تم نے اسے جواب دینے کے لئے تخلیق کی، شہر کی آوازوں کی خاک میں سے اسے چنا، وہی آواز جو تم نے حجرۂ شاہی کے سکوت سے اس کی جانب روانہ کی! قیدی تمہاراگیت گا رہا ہے جیسے اس نے کبھی یہ گیت گانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ کیا ہو، جیسے یہ گیت کبھی کسی اور نے نہ گایا ہو۔۔۔

وہ اپنی باری پر جواب دیتی ہے۔ دونوں آوازیں اک دوجے کی جانب بڑھتی ہیں،اک دوجے پر منڈھ دی جاتی ہیں، مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے تم نے انہیں شہر کی رات میں ایک ساتھ سنا، اسی یقین کے ساتھ کہ اس کے ساتھ یہ گیت گانے والے تم ہو۔ اب وہ یقیناً اس تک پہنچ چکی ہے، تم ان دونوں کی آوازیں سنتے ہو، تمہاری آوازیں، ایک ساتھ۔ ان کا تعاقب تمہارے لئے بیکار ہے: وہ ایک بڑبڑاہٹ، ایک سرگوشی بن رہے ہیں، باالآخر غائب ہو جاتے ہیں۔
نظریں اٹھاؤ تو تمہیں ایک چمک نظر آئے گی۔افق پر نمودار ہوتی صبح آسمان کو روشن کر رہی ہے: تمہارے رخساروں کو چھوتی یہ سانس دراصل پتوں کو جنبش دینے والی ہوا ہے۔

اب تم پھر باہر ہو، کتے بھونک رہے ہیں، پرندے جاگتے ہیں، دنیا کے چہرے پر رنگ واپس لوٹ رہا ہے، چیزیں دوبارہ جگہ پر واپس آ رہی ہیں، جاندار ایک بار پھر زندگی کی علامت پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً تم بھی یہیں ہو، اس سب کے بیچ، تمام اطراف میں امڈتی ہوئی آوازوں کے بیچ، برقی رو کی بھن بھن میں، پسٹنوں کے ارتعاش میں، چرخیوں کے چھناکوں میں۔ زمین کی تہوں میں کہیں نہ کہیں شہر ایک بار پھر جاگ رہا ہے، دھماکے، ہتھوڑے ، رگڑ کی آواز جو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اب ایک شورو غوغا ، ایک گرج کڑک تمام جگہ پر پھیل رہی ہے، تمام آہیں، پکاریں اور ہچکیاں اپنےاندر جذب کر لیتی ہے۔۔۔

Categories
فکشن

ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں

  1. لکھنے کی آخری گائیڈ
    ایک لمبا سانس لیں اور تب تک لکھیں جب تک سفید کاغذ نیلا نہیں ہو جاتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. ایک تقریباً معمولی سی پریم کہانی
    پھولوں کی بجائے اس نے اس کو پھر سے ایک ٹوٹی ہوئی چھتری تحفہ دی۔ اس نے اسے ایک خالی برتن میں رکھا اور پانی ڈال دیا۔ اگلے دن چھتری کھل گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  3. امید
    مذہب کے خانے میں روبوٹ نے لکھا تھا : انسان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. بارش کے مزید نام
    گرو کے شاگردوں نے پوچھا: زین کیا ہے؟
    اس نے جواب دیا: اگلے لمحے بارش ہو گی۔ یہ سنتے ہی وہ اسے بھیگنے سے بچانے کی خاطر چھتریاں لے آئے۔
    اگلے لمحے اس نے کہا: اس لمحہ بارش نہیں ہو گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  5. پاتال
    گلی میں چلتے ہوئے آپ اپنے پیروں میں ایک کنکر محسوس کرتے ہیں۔آپ سستی محسوس کرتے ہیں اور خود کو یہ کہہ کر بہلاتے ہیں کہ گھر پہنچ کر اسے نکال دیں گے۔ اسی دوران آپ اسے بھول جاتے ہیں اور کنکر آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ دوسرے دن آپکے جوتے میں دوسرا لنکر آ جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں گھر پہنچ کر آپ دونوں کنکر نکال دیں گے۔ گھر پہنچنے تک آپ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اگلے دن، اس سے اگلے دن۔۔۔۔اس سے اگلے دن بھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ایک ماہ بعد آپ چل پھر بھی نہیں سکتے، نہ اپنے جوتے ہی اتار سکتے ہیں۔ ابھی تو دنیا میں بہت سے کنکر باقی ہیں۔ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ گھر پہنچ کر آپ اپنے پاؤں ہی کاٹ دیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  6. کروموسومز
    پرانے وقتوں کی بات ہے، کہتے ہیں : ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ دراصل، میرے لئے یہ قیاس کرنا بہت مشکل ہے کہ ایک شاعر، جس کا نام x ہے وہ سو کر اٹھے اور دیکھے کہ کل رات وہ Y نامی شاعر میں تبدیل ہو چکا ہے۔
Categories
شاعری

روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

شاعر: نزار قبانی
ترجمہ: افتخار بخاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے

نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے

اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے

تمہارے نام میرے خطوط
زیادہ اہم ہیں
ہم دونوں سے

کہ فقط یہ وہ دستاویزات ہیں
جہاں لوگ دریافت کریں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن

Categories
شاعری

غیر حاضر مالک مکان

شاعر ۔ چارلس سیمیِچ
ترجمہ ۔ حسین عابد

یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

وہ چاہے تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑے
اس عجیب وغریب احساس میں
جو آ لیتا ہے ہمیں کبھی کبھی
کہ کوئی بڑا مقصد پوشیدہ ہے
یہاں ہمارے قیام میں
جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں
اور ہر شئے کی مرمت ہونے والی ہے

کم از کم وہ ایک تختی تو لگا سکتا تھا
’’ کاروباری دورے پر روانہ‘‘
جسے ہم دیکھ سکیں
قبرستان پر، جس کا کرایہ وہ وصول کرتا ہے
یا رات کے آسمان پر
جس کے نام ہم اس کی شکایتیں بھیجتے ہیں

Image: Nguyen Thai Tuan

Categories
شاعری

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
نظم: یاہودا امیخائی
ترجمہ : زاہد اِمروز

(۱)
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
جس طرح ہفتے کی شام میری ماں کا ہاتھ
ذبح کی ہوئی مرغی کی انتڑیوں میں ہوتا ہے
جب خدا کے ہاتھ زمین تک پہنچتے ہیں
وہ کھڑکی میں سے کیا دیکھتا ہے؟
اِسی طرح
میری ماں کیا دیکھتی ہے؟
(۲)
میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
میری امیدوں نے میرے اندر اِس ہجوم سے بہت دور
سفید گھروں کے منصوبے تعمیر کیے
لیکن میری محبوبہ اپنی محبت
پگڈنڈی پر گری سائیکل کی طرح بھُول گئی
جو رات بھرَ اوس میں بھیگتی رہتی ہے
بچے میری زندگی کے ادوار
اور یروشلم کے ادوار
گلی میں سفید چونے سے نشان زد کرتے ہیں
اور ایسی دنیا میں خدا کا ہی ہاتھ ہے
Categories
شاعری

خاموش خدا

خاموش خدا
شاعر: اشفاق آذر
سندھی سے ترجمہ: قاسم کیھر

میرے خاموش خدا کو کہنا !
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟
وحشتوں کو بندھی ہوئی ہیں پگڑیاں
زندہ جہنم کی کھانی ہے
یہ جو زور سے بج رہے ھیں لاؤڈ اسپیکر
بھڑکا رہا ہے آگ ان میں سے کوئی !
جو جل رہی ہے خاک وہ محبت ہے
اس پے جلے گا نہ اب دیا کوئی
بے اثر ہو گئے صحیفے جو
ان کو اب کوئی کفن پھنائے !
نعرے ہیں یا کوئی ہیں تلواریں؟
نوک پر کتنے روح مصلب ہیں
جشن ہے فتح کا پر دیکھنا
کون ہے کون جو شکستہ پا ہے؟
تیر ہی تیر ہیں ہجوموں کے
دل کی سماعتیں زخمی ہیں
کب تلک وہ خاموش بیٹھے گا؟
لب کھولے، کچھ تو کلام کرے !
میرے خاموش خدا کو کہنا !
Categories
شاعری

نہ دیکھو آسماں کو

نہ دیکھو آسماں کو
شاعر: ڈاکٹر تنویر عباسی
ترجمہ: قاسم کیھر

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
فرشتے نہیں اترنے
نبی نہ آئے گا اب کوئی
یہ دکھ جو ہم پر ہے نازل ہوا
اس کا کوئی آ کے عیسی مسیحا نہ بنے گا
ہم اپنے خود ہی مسیحا
خود ہی پیمبر ہیں
ہم خود ہی اپنے قافلے کے رہنما
اپنے آپ ہی اپنا نروان ہیں
ہم خود ہی اپنی شب کی دشت کے راہی
ہم خود ہی اپنی صبح کے اجالوں کے پیمبر
اور خود ہی اپنے رہبر بنیں گے!
نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو!!
Categories
فکشن

درد مشترک

[blockquote style=”3″]

لالٹین پر یہ افسانہ “عالمی ادب کے اردو تراجم” کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم یاسر حبیب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس افسانے کی اشاعت کی اجازت دی۔

[/blockquote]

افسانہ نگار: او ہنری
مترجم: ابنِ انشاء

 

چور جھپاک سے کھڑکی کے اندر کودا اور پل بھر دم لینے کو ٹھٹک گیا۔ سکہ بند چور چور گھر کی متاع میں سے کچھ لینے سے پہلے تھوڑا دم ضرور لیتے ہیں۔

 

کہتے ہیں گھر کے بھاگ دروازے سے پہچانے جاتے ہیں۔ چور نے بھی ایک نظر میں بھانپ لیا کہ بی بی اس وقت کسی ہوٹل میں کسی ہمدرد کے ساتھ بیٹھی رونا رو رہی ہو گی کہ ابھی تک اس کے دل کو کسی نے نہیں سمجھا، کسی نے اس کے دکھ کو نہیں اپنایا۔ چوتھی منزل کے سامنے والی کھڑکیوں میں روشنی کا مطلب یہ تھا کہ صاحبِ خانہ گھر آ گئے ہیں اور جلد ہی بتی بجھا کر سو جائیں گے۔ ستمبر کا مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہوٹلوں اور کیفے اور لڑکیوں کی صحبت کو لہو و لعب خیال کرتے ہیں اور پہلے سے گھر پہنچ کر بی بی کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔

 

یہ چور معمولی یعنی تیسرے درجے کا تھا۔ تیسرے درجے کا چور اوباش ہوتا ہے۔ پہلے اور دوسرے درجے کے چوروں کی طرح نہیں جو دن میں جنٹلمین بنے رہتے ہیں۔ عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ اچھے ہوٹلوں میں آمدورفت رکھتے ہیں۔ دیواروں پر کاغذ منڈھنے اور فرنیچر وغیرہ مہیا کرنے کے بہانے گھروں کی کھوج لگاتے ہیں اور جھٹ پٹا ہوتے ہی اپنی آئی پر آ جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایسے لوگوں کو خوب اچھالا جاتا ہے۔ ان کی، ان کی بیویوں کی اور بیسیوں آشناؤں کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں۔ وہ بیٹھے بٹھائے ہیرو بن جاتے ہیں۔
لیکن یہ چور اس قسم کا نہیں تھا۔ ادنٰی درجے کا تھا۔ اس کا ٹھاٹ باٹ بڑے چوروں جیسا نہ تھا۔ نہ لالٹین ،نہ نقاب، نہ بے آواز تلے والے جوتے۔ بس سیدھا سبھاؤ آدمی تھا۔ منہ میں پیپر منٹ کا چیونگم رکھے جگالی کرتا ہوا۔

 

فرنیچر پر گرد جم رہی تھی۔ چور کو اس گھر سے کوئی بڑا خزانہ ملنے کی امید نہ تھی۔ اس کی منزل مدھم روشنی والا وہ کمرہ تھاجس میں صاحب خانہ استراحت فرما رہے تھے۔ وہاں کسی گھڑی، کچھ کھلے پیسوں یا ایسی ہی کسی چیز کا ملنا خارج از امکان نہ تھا۔

 

گھڑی، چابیاں، بجھے ہوئے سگریٹ، بال باندھنے کے گلابی ریشمی فیتے اور ایک بوتل سوڈا واٹر کی۔ صبح دم نوش جاں کرنے کے لئے۔
چورنے سنگھار میز کی طرف قدم بڑھایا لیکن یکایک وہ سویا ہوا شخص پہلو بدل کر جاگ اٹھا اور آنکھیں کھول دیں۔ اس کا داہنا ہاتھ تکیے کے نیچے گیا لیکن وہیں کا وہیں رہ گیا۔

 

“چپ لیٹے رہو۔”چور نے آہستگی سے کہا۔ اس شخص نے چور کے ہاتھ میں پستول کی نال دیکھی اور بےحس و حرکت پڑ رہا۔

 

“اب اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔”چور کا لہجہ تحکمانہ ہو گیا۔
اس شخص کی چھوٹی سی کھچڑی داڑھی تھی، جیسی بغیر درد دانت نکالنے والے ڈاکٹروں کی ہوتی ہے۔وہ جھنجھلایا سا معلوم ہوتا تھا۔

 

“دوسراہاتھ بھی اوپر اٹھاؤ، تمہارا کیا ہے۔ بائیں ہاتھ سے پستول داغ دو۔ میں دو تک گنتا ہوں۔۔۔ایک۔۔۔”

 

“یہ ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا۔”اس شخص نے کہا

 

“کیوں؟” چور نے پوچھا

 

“گٹھیا کا درد ہے۔کاندھے میں”

 

“ورم کے ساتھ؟”

 

“پہلے ورم تھا اب نہیں ہے”

 

چور اسی طرح دو لمحے ٹھٹکا کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پستول کی نال اسی طرح اس شخص کی طرف تھی۔ اس نے سنگھار میز کی چیزوں پرنظر دوڑائی۔ اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر ایک تشنج سا پھیل گیا۔

 

“منہ مت بناؤ۔”اس شخص نے کہا،”اگر تمہیں چوری کرنی ہے تو کرو۔یہ میز پر دھری ہیں سب چیزیں”

 

“اتفاق سے میں بھی اس موذی مرض گٹھیا کا پرانا مریض ہوں۔میرے بھی یہ بائیں بازو میں ہے، کوئی اور ہوتا تو تمہارا بایاں پنجہ اٹھتا نہ دیکھ کر دھائیں سے گولی داغ دیتا۔”

 

“تمہیں یہ درد کب سے ہے؟”اس شخص نے پوچھا

 

“چار سال سے۔۔۔۔ گٹھیا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی چیز ہے کہ جان جائے پر گٹھیا نہ جائے۔”

 

“کبھی کوڑیالے سانپ کا تیل استعمال کیا؟”

 

“سیروں بلکہ منوں۔ جتنے سانپوں کا تیل میں نے استعمال کیا ہے اگر ان کو باندھ کر رسی بنائی جائے تو آٹھ بار یہاں سے چاند تک اور چاند سے زمین تک آ سکتی ہے”

 

“بقراطی گولیاں استعمال کیں؟”

 

“پانچ مہینے متواتر۔”چور نے جواب دیا۔ “کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں حبوب کبیر، معجون فلاسفہ اور اطریفل جالینوس خاص الخاص استعمال کئے تھے، اس سے کچھ فائدہ ہوا لیکن زیادہ افاقہ لعوق خراسانی سے ہوا جو میں جیب میں رکھتا تھا۔”

 

“تمہارا درد صبح کو زیادہ ہوتا ہے یا رات کو؟” اس شخص نے دریافت کیا

 

“رات کو۔ اور رات ہی میرے کام دھندے کا وقت ہوتا ہے۔”چور بولا،”اچھا اب یہ ہاتھ نیچا کر لو۔ہاں ہاں کر لو۔ جم کر دو چار مہینے ماء اللحم دو آتشہ پی دیکھنا۔ فائدہ دیتا ہے”

 

“ہاں وہ نہیں پیا۔تم یہ بتاؤ۔تمہارے اس بازو میں ٹیس اٹھتی ہے یا ایک سا درد رہتا ہے؟”شخص مذکور بولا

 

اب چور آ کر اس شخص کی پائنتی بیٹھ گیا اور پستول کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا۔

 

“یکایک ٹیس اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی تو میں سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پاتا۔ بس آدھے راستے میں آ لیتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں ڈاکٹر کے پاس اس کا علاج ہی نہیں سب چور ہیں۔”

 

“میرا بھی یہی خیال ہے۔ہزاروں روپیہ ڈاکٹروں کو کھلا دیا، دھیلا بھر آرام نہیں ، تمہیں کچھ تو افاقہ ہوا۔”

 

“ہاں صبح کو ذرا چین رہتا ہے۔ لیکن ذرا سا مینہ کا چھینٹا پڑا اور جان کو آ بنی۔”

 

“یہی حال ادھر ہے۔ بادل کا ٹکڑا کہیں سے اٹھے۔ اس کی نمی سیدھی میرے کندھے میں آ گھستی ہے اور پھر داڑھ کے درد کی سی اذیت۔”
چور نے پستول اٹھایا اور ذرا سی جھینپکے ساتھ جیب میں ڈال لیا۔ تھوڑے تامل کے بعد وہ بولا،”اچھا یہ بتاؤ کبھی فاسفورس کے تیل کی بھی مالش کروائی ہے؟”

 

“بہت۔ اس سے تو سرسوں کا تیل اچھا ہے۔”

 

“ٹھیک کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو۔”چور نے کہا،”بہت معمولی چیز ہے۔ ہاتھ بانہہ پر معمولی خراش میں تو فائدہ دیتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ہم دونوں کی حالت اس معاملے میں ایک سی ہے بس اس کی تو ایک ہی دوا ہے۔ واہ وا۔ کیا موقعے پر یاد آئی۔شراب کے دو گھونٹ جو کام کرتے ہین وہ ان تیلوں معجونوں کے بس کی بات نہیں۔چلو ذرا کپڑے پہنو۔ باہر کوئی شراب خانہ کھلا ہو تو دو گھونٹ پی آئیں۔”چور نے کہا۔

 

“ایک ہفتے سے تو یہ حالت ہے کہ کپڑے بھی خود نہین پہن پاتا۔ نوکر پہنا دیتا ہے۔ وہ اس وقت سو رہا ہو گا۔”

 

“اس کی فکر نہ کرو، میں پہناتا ہوں کپڑے۔ ذرا سی ہمت کر کے بستر سے نکل آؤ”

 

یکایک اس شخص کو خیال آیا کہ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا، “عجیب قصہ ہے عقل کام نہیں کرتی۔”

 

“یہ لو قمیض اپنی۔ایک صاحب بتاتے تھے کہ اونچے پل کے پاس ایک ڈاکٹر کے پاس مجرب نسخہ ہے ۔کوئی مرہم ہے ، دو ہفتے میں درد آدھا رہ جاتا ہے”

 

دروازے سے نکلتے ہوئے صاحب خانہ نے کہا،”ارے میں پیسے تو بھول ہی چلا تھا۔ٹھہرو۔ میز پر سے لے لوں۔”

 

“نہیں نہیں۔ “چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،”میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔”