Categories
شاعری

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
جس نے میرے کان میں پگھلا سیسہ ڈالا
بہرا تھا
جس نے میری آنکھیں پھوڑیں خنجر سے
نابینا تھا
جس نے میرے چلتے پاؤں کاٹے تھے
وہ لنگڑا تھا
جس نے میرے ہونٹ سیۓ تھے کانٹوں سے
وہ گونگا تھا
جس نے خدوخال مٹائے میرے
وہ بے چہرہ تھا
جس نے میری سانسیں مجھ سے چھینی تھیں
وہ مردہ تھا

اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
اپنے ہی پاؤں پہ اٹھ کر
چل پڑنے کی ہمت بھی
اپنی بات سنانے کو
یہ گویائی کی طاقت بھی
اپنے دل کی چاہت بھی ہے
اپنے نام کی عزت بھی
سوچوں کا سندیسہ لاتی
جاں افروز بشارت بھی!

Image: Farah Mahmood Adnan

By ناصرہ زبیری

ناصرہ زبیری ایک نامور صحافی ہیں۔ انہوں نے ڈیلی بزنس ریکارڈر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ ان کی کتب "شگون"، "کانچ کا چراغ" اور "تیسرا قدم" شائع ہو چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *