Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پندرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(29)

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کی بلندو بالا سُرخ عمارت کی ہیبت میں دب کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے پہاڑ جیسی سرخ عمارت بڑی بڑی حویلیوں کا سر نیچا کر رہی تھی۔ جس کے کئی کئی دالان اور بیسیوں کمرے اِدھر اُدھر پھیلتے چلے گئے تھے۔ دائیں بائیں کے کمروں کے اندر راہداریاں اور راہ داریوں میں بلند و بالا تیس درجے کی ڈاٹ والے در۔ اِن دروں کے ستون گول اور اونٹوں کی قامت سے دگنے تھے۔ واقعی انگریز سرکار نے بڑے پیسے خرچ کر کے یہ عمارت بنائی تھی۔ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا گرجا بھی تھا۔ بڑے بڑے گھاس کے میدان اور اُن کے کناروں پر لگے ہوئے ٹاہلیو ں،نیم،پیپل اور شریہنہ کے درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے۔ کچھ بچے قطار بنا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ اُن سب نے ملیشیے کی سیاہ رنگ کی قمیضیں اور شلواریں پہن رکھی تھیں۔ بچوں کے سروں پر پگڑیاں تھیں۔ کچھ ٹوپیاں پہنے ہوئے۔ ایک دو بچے ننگے سر بھی نظر آئے۔ مولوی کرامت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کس سے ملے اور کیا کرے ؟ وہ دیر تک گیٹ کے اندر داخل ہو کر سکول کے اُس چوکیدار کے پاس کھڑا رہا،جو گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے بیٹھا تھا۔ چوکیدار اپنی ہی ذات میں مگن،سر نیچا کیے،کچھ منہ کے اندر ہی اندر گنگنا تا رہا اور نظر اُٹھا کر مولوی کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ چوکیدارایک سکھ نوجوان لڑکا تھا،جس کے سر پر اتنی بڑی پگڑی تھی کہ پورے جسم کو دبا رہی تھی۔ جب اُس نے مولوی پر کچھ توجہ نہ دی تو مولوی کرامت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،سردار صاحب،ہیڈ منشی صاحب سے ملنا ہے اور جیب سے نکال کر وہ رقعہ دکھایا،جو تُلسی داس نے مولوی کرامت کو دیا تھا اور کہا تھا کہ جا کر منشی بھیم داس کو دکھا دینا۔ باقی وہ سب کچھ تمھیں سمجھا دے گا۔ چوکیدار نے مولوی کی آواز پر پہلی دفعہ سر اُٹھا کر غور سے دیکھااور اُس کے لباس،داڑھی،پگڑی اور چہرے کی سادگی اور نفاست سے متاثر ہو کر بولا، شاہ جی کیہ کہنا ہیڈ منشی نوں؟

 

مَیِں یہاں منشی بن کے آیا ہوں،اُسے رپورٹ کرنی ہے۔

 

یہ سُن کر وہ جلدی سے اُٹھا اور بِنا کچھ بولے مولوی کے آگے چل دیا۔ مولوی کرامت اُس نوجوان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا،یہاں تک کہ ایک کمرے کے سامنے جا کر،جس کی چھت پر دو جھنڈے لگے تھے۔ ایک برطانیہ سرکار کا اور دوسرا پنجاب ایجوکیشن منسٹری کے مونو گرام کا،وہاں پہنچ کر نوجوان نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب ہیڈ ماشٹر صاحب اندر بیٹھے آ۔
یہ کہ کر وہ وہیں سے اُلٹے قدموں واپس ہو گیا۔ جبکہ مولوی کرامت آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہو گیا اور جھٹ اسلام و علیکم کہ دیا۔ اندردوتین منشی اور بھی بیٹھے تھے لیکن مولوی کرامت نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہیڈ منشی وہی ہے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا ہے۔ کمرہ اندر سے کافی کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ جس میں آٹھ دس لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ ایسی کرسیاں وہ پہلے بھی ولیم کے دفتر میں دیکھ چکا تھا۔ سامنے ایک چوکور لکڑی کی ہی میز تھی،جس پر نیلے رنگ کا میز پوش بچھا تھا۔ اُسی میز کی دوسری طرف ہیڈ منشی صاحب بیٹھے تھے۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی،جن پر بڑے اور موٹے شیشوں کی عینک چڑھی تھی۔ رنگ سیاہی مائل مٹیا لااور سر پر سفید رنگ کی دوپًلی ٹوپی اِس طرح دبا کے جمائی تھی کہ پورا سر اُس میں چھپ گیا تھا۔ منشی صاحب خود بھی کرسی پر بیٹھے میز کے پیچھے گویا چھپے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی گردن سے اُوپر کا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔ اُس کے اس طرح بیٹھے ہونے سے قامت کااندازہ بھی ہو رہا تھا کہ ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن آنکھوں سے اطمنان اور سکون صاف جھلکتا تھا۔ اِس بات سے ثابت ہو رہا تھا کہ ہیڈ منشی کو ہرطرف سے مکمل سکون ہے اوراُن کے خانگی اور روزی روٹی کے معاملات صحیح چل رہے تھے۔ مولوی کرامت نے سوچا کہ اب اُس کے حالات بھی جلد ہی اللہ نے چاہا تو اِسی منشی جیسے ہو جائیں گے۔

 

رقعہ ابھی تک مولوی کرامت کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہیڈ منشی صاحب سلام کا جواب دیتا،مولوی کرامت نے وہ رقعہ اُن کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ منشی نے رقعہ اُٹھا کر کھولااور جیسے ہی اُس کی تحریر پڑھی،اُٹھ کر مولوی کرامت سے ہاتھ ملایا اور کہا،بیٹھیں مولوی صاحب،آپ کے بارے میں مجھے دو دن پہلے اطلاع مل چکی تھی اور میں آپ کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پھر ایک کُرسی کی طرف اشارہ کر کے،مولوی صاحب تشریف رکھیں۔

 

مولوی کرامت ہیڈمنشی کا اشارہ پا کر ایک کُرسی پر بیٹھ گیا لیکن اضطراری طور پر اِس طرح بیٹھا جیسے جمعے کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھا ہو۔ ہیڈ منشی صاحب بڑے کائیاں تھے فوراً بھانپ گئے اور بولے،مولانا آپ کہیں پیش امام تھے؟

 

جی حضور،تین پشتوں سے ہم یہی کرتے ہیں،ضلع قصور کے ایک گاؤں راڑے میں پیش امامت کرتا ہوں۔

 

تعلیم کی سرکار میں کوئی واقف تھا،جس نے آپ کی سفارش کی ؟

 

بس سرکار خدا واقف تھا،یا ہماری سرکار انگریز بہادر کمشنر صاحب کی مہربانی تھی۔ ورنہ اس عاجز کو کون جانتا تھا۔

 

ہیڈ منشی سمجھا مولوی کرامت کی انکساری اصل میں اپنی سفارش کو چھپانے کے لیے ہے۔ ورنہ اسسٹنٹ کمشنر سے تو ملنا ہی ناممکن ہے۔ کجا وہ خود سردردی لے کر اُسے سرکار میں منشی رکھیں۔ اس کے پیچھے لازماًکسی نواب کا ہاتھ ہو گا یا کوئی چال ہے۔ بہر حال جو بھی ہے تلسی داس نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ مولوی کرامت کا خیال رکھنا صاحب کا خاص آدمی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ تعاون ہی کیا جائے اور اسی کی مرضی کے مطابق کام بھی دیا جائے۔ کہیں شکایت کر کے ہماری نوکری کو ہی نہ لے ڈوبے۔

 

آپ کون سے درجے کو پڑھانا چاہیں گے ؟

 

حضور،میں تو نوکر ہوں۔ جہاں سے کہیں گے،بچوں کو پڑھا دوں گا۔ درجوں کا تو مجھے حساب نہیں۔ اِس معاملے میں صاف کورا ہوں۔

 

ٹھیک مولانا،آپ آٹھویں کے درجے کو فی الحال فارسی اور عربی گرائمر کی مبادیات کا درس دے دیا کریں۔

 

بہتر سرکار،مولوی کرامت نے بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلو بدلا۔

 

ٹھیک ہے مولوی صاحب،آپ اب آرام سے گھر جائیں۔ کل اتوار کی چھٹی ہے۔ پرسوں تشریف لے آئیں،ذکاء اللہ صاحب ہمارے ایک عربی اور فارسی کے منشی ہیں،وہ آج چھٹی پر ہیں،پرسوں وہ بھی آ جائیں گے۔ وہ آپ کا تعارف بچوں سے کرا دیں گے اور پڑھانے کے طور طریقے بھی بتا دیں گے۔ آج سے آپ کی حاضری اور تنخواہ شروع ہوگئی ہے (ایک رجسٹر مولوی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے ) اپنا نام مولوی صاحب اِس رجسٹر پر درج کر کے انگوٹھا بھی لگا دیں۔
مولوی کرامت نے ہیڈ منشی کے کہنے پر تمام کام نپٹا دیا،پھر کہا،حضور اب جاؤں ؟
جی مولوی صاحب لیکن پرسوں ضرور تشریف لے آئیں۔

 

جی سرکار،اور اُٹھ کھڑا ہوا لیکن گھبراہٹ میں گرتے گرتے بچا۔

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ گویا ایک جیل سے باہر نکلا ہے۔ ہیڈ منشی کے کمرے میں اُس کا دم گھُٹنے لگا تھا۔ پہلی بار سرکاری رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اپنی قید کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔ اِسی وجہ سے گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی۔ اب دروازے سے باہر نکلا تو گھبراہٹ کا تاثر فوراً ہی زائل ہو گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

مولوی کرامت نے سکول جانے کے لیے کھدر کا سفید کُرتہ،سفید ہی کھدر کی چادر پہن لی۔ کبھی شادی بیاہ یا ختم درود کے لیے مولوی کرامت کی بیوی نے اُس کے لیے بنا کر لکڑی کے صندوق میں رکھے ہوئے تھے لیکن سال ہا سال سے اُن کے استعمال کا وقت نہیں آیا تھا۔ یا یہ کہیں کہ استعمال کرنے کو جی نہیں چاہا تھا کہ پھر کون روز روز اس طرح کے کپڑے بنائے گا۔ ویسے بھی کسی نہ کسی کے ہاں سے سال میں ایک لُنگی اور کُرتا فوتگی یا شادی پر مل ہی جاتا تھا۔ اِتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اِتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئیں تھیں،جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا۔ بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اِن بے شمارسلوٹوں کے باوجود مولوی کے کُپڑوں میں صفائی اور نفاست موجود تھی۔ صافہ بھی بالکل نیا تھا،جو کل ہی جلال آباد کے بازار سے خریدا تھا۔ جوتے البتہ پُرانے ہی تھے۔ ویسے بھی جوتوں کو جب تک وہ نہ ٹوٹیں،کون پُرانا کہتا ہے۔ یہ جوتے انتہائی موٹے چمڑے کے تھے،جنہیں موچی نے سخت قسم کے دھاگے سے سیا تھا۔ تین سال گزرنے کے باوجود یہ نہ تو پھٹے تھے اور نہ ہی سلائی اُدھڑی تھی۔ پگڑی میں بھی کئی کئی پیچ دیے اور طرہ بھی چھوڑا۔ داڑھی ویسے بھی سفید ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے سفید لباس اور بھی جچ رہا تھا۔ القصہ مولوی پہلے دن بن ٹھن کے سکول میں گیا کہ سب دیکھنے والے اُس کے لباس اور چال ڈھال سے بہت متاثر ہوئے۔

 

مولوی یوں تو فارسی،عربی اور اردو کے ابتدائی اور بنیادی گرائمر اور زبان کے بارے میں کافی سُدھ بدھ رکھتا تھا لیکن اُسے سکول میں بچے پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہر چند وہ اپنی معلمی کے تمام کمالات فضل دین پر آزما کر اِس کام میں ماہر ہو چکا تھا لیکن دوسروں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع پہلی ہی دفعہ ہی ملا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ خدا جانے کیا غضب ہو جائے۔ خاص کر اُسے سکول کے ہیڈ منشی سے انگریز افسر کی نسبت زیادہ خوف تھا۔ لیکن جب مولوی نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو کام بہت آسان لگا۔ کیونکہ جو کتابیں مولوی کرامت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے دی گئیں تھیں،وہ اِتنی آسان اور سادہ تھیں کہ اُنہیں فضل دین بھی پلک جھپکنے میں فر فر پڑھ جاتا۔ بلکہ پڑھانے پر بھی قادر تھا۔ یہ کتابیں عربی کے ابتدائی افعال اور گردانوں کے صیغوں پر مشتمل تھیں،جس میں چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال تھا اور اُن کے اردو میں استعمال کے طریقے بتائے گئے تھے۔ مولوی کرامت کے سامنے فضل دین کی مثال موجود تھی۔ یہاں بھی وہی طریقہ لگاتے ہوئے سبق شروع کیا اور بچوں کو وہ وہ نقطے بتائے کہ وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہیں پورا پورا سبق یاد ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کے منہ سے ایسی گالی نکل جاتی جس میں پنجابی کا ایک گُوڑا رچاہو ہوتا کہ بچے پڑھنے کے ساتھ محظوظ بھی ہوتے رہے۔ آہستہ آہستہ اِسی وقت کے دوران مولوی کرامت کی ایک تو جھجھک بھی دور ہو گئی،دوم آگے کے لیے رستہ صاف آسان ہو گیا۔ مولوی کرامت نے سوچا اگر یہی پڑھانا کہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ چھٹی ہوئی تو مولوی اتنا خوش تھا کہ بغلیں بجاتا ہوا گھر تک گیا۔

 

(30)

 

ولیم کے کمرے میں تمام تحصیل کابینہ جمع تھی۔ پولیس آفیسر لوئیس،ایجوکیشن آفیسر تُلسی داس،محکمہ مال کے آفیسر،محکمہ نہر کے آفیسراور دوسرے آٹھ دس آفیسر مزید کرسیوں پر لکڑی کی لمبی میز کے دو طرفہ اپنی اپنی فائلوں کوسامنے رکھے مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یوں تو یہ سب دیسی اور انگریزی افسر اپنے کام کو احسن طریقے سے سمجھتے تھے اور اُسے پورا کرنے کا تجربہ بھی کسی بڑے افسر سے کہیں زیادہ تھاکہ اگر اُن کو آزادی سے کام انجام دینے کی اجازت مل جائے تو منٹوں میں نپٹا دیں لیکن بیوروکریسی اِس با ت کو نہیں مانتی۔ عموماً تحصیل جلال آباد میں ایسے افسر آتے رہے جو خود تو خیر کام کو سمجھتے نہیں تھے،اگر ماتحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی تھا تو اُسے ایسی پیچیدہ اور نافہم قسم کی ہدایات میں اُلجھا دیتے کہ ایک آسان سا کام بھی اقلیدسی قاعدوں اور کلیوں کا اچھا خاصا تماشا بن جاتا۔ پھر یا وہ کام فائلوں ہی میں دب کر مر جاتا ورنہ نہایت بے کار حالت میں انجام پاتا اور بالآخر اُس کمشنر کا تبادلہ کہیں اور ہو جاتا۔ اِس طرح تحصیل کی ترقی ہو تو رہی تھی لیکن کچھوے کی چال سے۔ مگر ولیم کا معاملہ اور تھا اور یہ بات پچھلے عرصے کے دوران تمام افسر بھی جان گئے تھے کہ اُن کو ہرن کی قلانچوں کے حساب سے دوڑنا پڑے گا ورنہ ولیم آگے نکل جائے گا،وہ پیچھے رہ جائیں گے اور ولیم سے پیچھے رہ جانے کا مطلب نوکری سے فارغ ہونا تھا،جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ ابھی ولیم صاحب کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن افسروں پر اس طرح خاموشی چھائی تھی جیسے جنازے کی دعا میں بیٹھے ہوں۔ ہر ایک اپنی فائل پر نظریں جمائے ولیم کے انتظار میں متوقع سوالات کا جواب سوچنے میں مگن تھا۔ سب افسران کو بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے اور اب کچھ ہی دیر میں ولیم صاحب کمرے میں داخل ہونے والے تھے۔ پھرچند ثانیوں بعد وہ وقت آگیا جب نجیب شاہ نے باہر سے ولیم کے لیے دروازہ کھولا۔ اُس نے بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کردائیں ہاتھ اُس کا ایک پٹ کھول دیا اور اُسی لمحے ولیم سُرمئی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں اندر داخل ہو گیا۔ تمام افسر اُٹھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ نجیب شاہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ ولیم نے افسروں کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور دیر سے آنے پر سوری کرتے ہوئے لیڈنگ کُرسی پر بیٹھ گیا۔ یوں تو ولیم نے مسکراتے ہوئے اپنی دیر آید پر معذرت کی تھی لیکن سب جانتے تھے کہ یہ اُن وی آئی پی تکلفات میں سے ایک تکلف ہے جو ہر افسر کا اپنے جونیئر سے فرق واضح کرتا ہے۔ جس کا وہ خود بھی عملی طور پر اکثر مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ولیم کے کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی تمام لوگ اٹین شن ہوچکے تھے کیونکہ یہ ایک اہم میٹنگ تھی،جو فائلوں سے آگے عملی طور پر کام کرنے کے لیے بُلائی گئی تھی۔ اِس میٹنگ میں اصلاً وہی کام ڈسکس ہونے تھے،جن کے بارے میں ولیم ڈی سی صاحب سے بات کر چکا تھا۔ اُس نے لیڈنگ چیئر پر بیٹھ کر ایک دفعہ تمام آفیسر زپر ایک طائرانہ نظر ماری پھر سب سے پہلے ڈی ایس پی لوئیس سے مخاطب ہوا،لوئیس صاحب پہلے آپ بتایے،کیابنا سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے حوالے سے؟

 

سوال کے دوران ولیم کا لہجہ اتنا سپاٹ اور دو ٹوک تھا جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ آج صاحب بہادر کا معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ لوئیس صاحب کی خو ش بختی تھی کہ اُس نے پچھلے تین دن میں اِس معاملے میں کافی کچھ کام کر لیا تھا۔ جس پر ولیم داد کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔

 

لوئیس نے فائل سے سر اُوپر اُٹھاکر ایک بار ولیم کو دیکھا اور بولا،سر مَیں نے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے لیے باقاعدہ پولیس کارروائی کو عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو گرفتار نہیں ہو سکے اُن کا مال بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شاہ پور اور جودھا پور کے واقعات میں ملوث تھے۔ اُن کے ملوث ہونے کا ثبوت مخبروں اور دیگر ذرائع کی ہم آہنگی سے مہیا کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سی آئی ڈی آفیسر متھرا اور تھانیدار بلرام کے علاوہ تین سب انسپیکٹر بھی شامل تھے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ملزموں نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ جھنڈووالا میں مَیں خود پولیس کے ساتھ تھا جبکہ عبدل گجر کی طرف انسپیکٹر ڈیوس کو بھیجا گیا۔ اُس نے نہایت کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔ فی الحال واقعات کے مرکزی ملزم سردار سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اُمید ہے اُنہیں بھی جلد ہی قانون کے چاک پر بٹھا دیا جائے گا (پھر فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے )سر اِس فائل میں کیس کی تمام تفصیلات،گرفتار ملزمان اورمال کی ضبطی کے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

 

لیکن لوئیس صاحب،ولیم نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا،اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہی مرکزی ملزم جنہیں آپ ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے،وہ جلد ہی کوئی دوسری کارروائی نہ کریں گے ؟اگر اِسی طرح کی ایک اور کارروائی ہوگئی تو اِس کا مطلب ہے ہم اپنی جڑیں خود ہی کاٹ رہے ہیں۔

 

سر اب ایک اور کارروائی نہیں ہوگی،لوئیس نے انتہائی پُر اعتماد لہجے سے جواب دیتے ہوئے کہا،مزید کارروائی کے لیے نہ تو اُن کے پاس آدمی ہیں اور نہ ہی ہمت۔ تیسری ضر ب مَیں نے اُن پر اخلاقی بے توقیری کی لگائی ہے۔ میں نے اُن کو اِس طرح ذلیل کیا ہے کہ اب اُنہیں اپنے وقار کو سمیٹنے میں زمانے لگیں گے۔ (ولیم کے ہاتھ کے نیچے پڑی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سر اِس فائل میں کارروائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ آپ اِس کا آرام سے مطالعہ کر کے میرے لیے مزید جو حکم چھوڑیں گے،مَیں اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوں گا۔
ولیم نے لوئیس کی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،گُڈ،مرکزی ملزم کب تک گرفتار ہوں گے؟

 

لوئیس نے اپنا دایاں کان کھجا کر ولیم کی طرف دوبارہ دیکھا اورکہا،سر اُس کے لیے میں نے مہاراجہ پٹیالا کو سردار سودھا سنگھ کے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔ اب صورتِحال یہ ہے کہ مہاراجہ نے سودھا سنگھ کی گرفتاری نہ بھی دی،جس کی ہمیں عین توقع ہے،تو ہم اُس کا عدالت میں انتظار کریں گے۔ وہ لامحالہ عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروائے گا،جب ہم اُسے گرفتار تو نہ کر سکیں گے۔ لیکن اُس کے فرار کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی۔ اِس طرح وہ عدالت میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو مجرم قرار پا کر اشتہاری ہو جائے گا۔ اشتہاری ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اُس کی کوئی مدد نہیں کر پائے گا لیکن بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ عبوری ضمانت پر حاضری کے وقت اُس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی اور ہم اُسے گرفتار کر لیں گے۔ یہی کچھ عبدل گجر اور شریف بودلہ کا معاملہ ہے۔ ہم نے کچھ اُن کے بندے پکڑے ہیں۔ وہ خود اُن کے خلاف ثبوت ہیں۔ یہ لوگ بھی عبوری ضمانت کے بعد عدالت میں حاضر ہونے کے پابند ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مقدمے کا سامنا تو بہر حال کرنا ہے،جو چند ہی روز میں شروع ہو جائے گا۔ بھاگ یہ اِس لیے نہیں سکتے کہ یہاں ان کی زمین،گھر بار،اولاد اور رشتے داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی گنوانے کی حماقت نہیں کریں گے اور یہیں رہیں گے۔ (مسکرا کر ) زیادہ سے زیادہ حج پر چلے جائیں گے لیکن واپس یہیں آئیں گے۔

 

ویل ڈن مسٹر لوئیس،ولیم نے سنجیدہ لہجے میں لوئیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا،غلام حیدر کی کیا خبر ہے آپ کے پاس ؟ میرا خیال ہے اُس پر ہمیں نظر رکھنی چا ہیے۔ یہ اُس پر دوسرا حملہ ہے اور ایسے میں کوئی شخص کچھ بھی غلط کارروائی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں اِس بارے میں ؟

 

سر آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،لوئیس تائید میں بولا،احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے،اُسے بھی عینک میں رکھا جائے۔ آپ جو بھی اُس کے بارے میں فرمائیں گے،اُس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

 

لوئیس،ولیم نے فائل کو بند کرتے ہوئے دو ٹوک کہا،غلام حیدر کے پاس سُنا ہے ایک ریفل ہے۔ آپ اُس سے وہ ریفل فوراً تین ماہ کے لیے قبضے میں لے لیں اور اُسے پیغام بھیج دیں،وہ اپنے آدمیوں کا اسلحہ بھی کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کو جمع کروا دے۔

 

جی بہت بہتر،لوئیس پوری فرمانبرداری سے بولا،یہ ہو جائے گا سر۔

 

کوئی اور بات ؟ ولیم نے لوئیس سے بات قریباً ختم کرتے ہوئے پوچھا۔

 

نو سر،لوئیس نے جواب دیا

 

اوکے،لیکن اس کیس کے بارے میں جو بھی اہم پیشرفت ہو،آپ مجھے اُس سے مطلع کرنے کے پابند ہو ں گے،ولیم یہ کہ کر اب تحصیل ایجوکیشن تُ افسرتلسی داس کی طرف متوجہ ہوا،جو گول شیشوں کی عینک لگائے اپنی فائل کے اُوپر قریب قریب گرا ہوا تھا۔

 

تُلسی داس آپ بتائیں،آپ کی طرف سے کیا پرفارمنس ہوئی ؟ابھی تک،مجھے سب سے زیادہ تشویش آپ کے محکمے کی طرف سے ہے۔ جس کی کارکردگی خوردبین سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تُلسی داس نے فائل ولیم کی طرف سرکا کر اپنی عینک کو اُتارا اور بات شروع کی،سر میں نے آپ کے حکم کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی اس طرح ترتیب دی ہے کہ جلال آباد کے جتنے گاؤں ہیں،اُن کو دس پر تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دس گاؤں کا ایک مرکزی گاؤں بنا دیا ہے۔ جس میں ایک آٹھویں درجے کا اسکول ہو گا۔ اُس میں پورے دس گاؤں کے بچے آ کر پڑھا کریں گے۔ اِسی طرح ہر پانچ گاؤں کے لیے ایک پانچویں درجے کا اسکول بنایا جائے گا۔ یوں تحصیل میں آٹھویں درجے کے مزید تیس سکول بنیں گے اور پانچویں درجے کے ساٹھ اسکول ہوں گے۔ جن پر کل لاگت اوراسکولوں کے مقام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے،جو اس فائل میں درج ہے۔ اِسی طر ح دسویں درجے کے اسکول کے بارے میں بھی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جن کی تعداد مزید چار تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام کام دو سال کے عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گُڈ تُلسی داس،ولیم نے خوش ہو کر تُلسی داس کو شاباش دی،۔ ہم یقیناً اِس کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کریں گے اور جلد ہی گورنمنٹ سے اِس کے لیے فنڈ منظور کرا لیں گے۔ تم کام کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ بتاؤ مسلمان بچوں کی اسکول میں حاضری پوری کرنے کے لیے کیا حل نکالا ہے آپ نے ؟

 

سر یہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے،تُلسی داس نے معذرت دارانہ لہجے میں اپنی وضاحت پیش کی،جب تک مسلمان مولوی راستے میں حائل ہے،یہ کام مشکل نظر آتا ہے۔ لوگ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے لاکھ طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ آپ ہی کچھ اِس بارے میں حکم دیں یا پھر پولیس کے ذریعے جبر سے اُنہیں لایا جائے اور جرمانے یا سزا کا عمل دخل کیا جائے۔

 

اوں ! ولیم تھوڑی دیر کے لیے خموشی سے تُلسی داس کی بات پر غور کرنے لگا پھر سر اوپر اُٹھا کر بولا،تُلسی داس! مَیں نے آپ کے حوالے ایک مولوی صاحب کو کیا تھا،وہ کہاں ہے ؟
اُسے سر آپ کے حکم پر جلال آباد کے مرکزی ہائی اسکول میں فارسی اور عربی کا مُنشی رکھ لیا ہے تیس روپے ماہانہ پر۔

 

تُلسی داس،ولیم بولا،مولوی،کیا نام ہے اُ س کا؟
کرامت سر،تُلسی داس نے یاد دلایا

 

ہاں کرامت،مولوی کرامت۔ تُلسی داس اُسے آپ ٹارگٹ دو کہ سرکار کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلے کے لیے لے کر آنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُسے بتاؤ،وہ جس قدر مسلمان بچوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا،سرکار اتنا ہی اُس کی تنخواہ میں اضافہ کرے گی۔ اِس لیے فی الحال اُس کا کام لوگوں کو اس بات پر تیار کرنا ہے۔ یقینایہ کام وہی کر سکتے ہیں۔ آپ اِس فارمولے کو آزماؤ۔ اِس کے علاوہ اِس طرح کے مزید پانچ مولوی جلال آباد تحصیل کے ہی رہنے والے ملازم رکھ لو اور اِس مولوی کو اُن کا ہیڈ بنا دو۔ میرا خیال ہے،اِس طرح سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

 

ولیم کی اِس انوکھی ترکیب پر تُلسی داس سمیت سب ہلکا سا مسکرا دیے۔ یہ ایک ایسا نکتہ تھا،جو ابھی تک کسی کو بھی نہ سوجھا تھا اور ولیم ہی کا خلاق ذہن تھا،جو ایسا بے ضرر اور زود اثر حل نکال سکتا تھا۔ مولویوں کو سرکاری اسکول کی ملازمت دے کر اور اُنہیں مسلمان بچوں کے داخلے پر نامزد کر کے حقیقت میں ایک تیر سے دو کام لیے جا سکتے تھے کہ جو روکنے والے تھے،وہ اب دعوت دینے والے ہوجاتے اور لوہے سے لوہا کا ٹنا نہایت ہی آسان ہو جاتا۔

 

تُلسی داس سے فارغ ہو کر ولیم نے تحصیل دار مالیکم کی طرف رخ کیا اور بولا،جی مالیکم صاحب آپ اور ڈیوڈ صاحب کا کام قریب قریب مشترک ہے۔ آپ کے کام میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ آخر جلال آباد میں ہر طرف اُڑتی ہوئی خاک اور گردو غبار کا کیا علاج ہے ؟ مجھے حیرت ہے آپ پچھلے دو سال سے یہاں موجود ہیں لیکن یہاں کی مٹی جم نہیں پائی اور خاکی میدانوں نے سبزی کا لباس نہیں پہنا۔ آج یہ طے ہو جائے کہ اس تحصیل کے چہرے پر کب رونق آئے گی۔

 

مالیکم صاحب،جو بے چینی سے میٹنگ کا دورانیہ لمبا ہوتے دیکھ رہے تھے،نے آگے کی طرف ہوتے ہوئے وضاحت کی،سر اصل میں ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے۔ ورنہ تو چھ ماہ میں ہی خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہااُٹھیں۔

 

وہ کون سی جہالت ہے جس کا علاج نہیں ؟ولیم حیرانی سے بولا،اگر گورنمنٹ جہالت دور کرنے پر قادر نہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں ملازمت کرنے کا۔ ہم آرام سے بستر سمیٹیں او ر برطانیہ کی سردی میں آگ تاپیں اور دُھند سے لطف اُٹھا ئیں۔

 

مالیکم ولیم کے اِس تُرش جواب سے گھبرا گیا اور شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اُسے مشکل سے نکالنے کے لیے ڈیوڈ نے اپنی عینک اُتاری اور بات آگے بڑھائی،سر مالیکم کی بات کا مقصد ہے کہ عوام ساتھ نہیں دیتی۔ مثلاً بیلداروں اور نہری سُپر وائزروں نے ہمیں بتایا کہ لوگ نہر سے نکالے گئے کھالوں کے نگال میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھر دیتے ہیں اور نہر کا پانی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے۔ اُن کے خیال میں گورنمنٹ نے نہر کے پانی میں ایسی دوائی ملا رکھی ہے،جس سے فصلوں میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس فصل کا غلہ لوگ استعمال کرتے ہیں تو وہ بیماری لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ یعنی انسان نامرد ہو جاتا ہے اور نسل آگے نہیں بڑھتی۔ اِس لیے یہ لوگ نہر کا پانی ہی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے اور مکمل طور پر بارشوں کے سہارے رہتے ہیں۔

 

ڈیوڈ کی بات سے حوصلہ پا کر مالکم نے مزید وضاحت کی،سر ایک بات اور ہے۔ زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
ولیم ان کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ ہنس دیا،پھر تحمل سے بولا،مالیکم صاحب آپ مجھے بتایے اگر یہ قوم اتنی جاہل اور سادہ نہ ہوتی تو کیا ہم پندرہ بیس ہزار لوگ اِن کروڑوں گدھوں پر حکومت کر سکتے تھے ؟اِن کی یہی جہالت تو آپ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن اب ہمی نے اِن کو تعلیم دینی ہے،اِنہیں سکھانا ہے۔ اِن کی معاشی اور ذہنی ترقی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ میں نے نہری منصوبے کی فائل لاہور تک پہنچا دی ہے۔ جلد واپس آ جائے گی۔ چھ مہینے تک میں یہاں ایک مزید نہر دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس سے پہلے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ جن کا پانی منظور ہو چکا ہے،اُن کی ٖفصلوں تک پانی لے جانے کے ذمہ دار آپ دونوں ہیں۔ نہری پانی کے علاقوں کا دورہ کرو اور تمام زمینداروں کی حلقہ وار میٹنگ بلاؤ۔ انہیں بتاؤ،آیندہ کسی نے اپنا الاٹ شدہ پانی ضایع کیا تو اُس کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔ اپنے مالی اور نہری پٹواریوں کو اِس کا بنیادی طور پر پابند بناؤ۔ وہ اپنے اپنے علاقے کے گوشوارے ہر مہینے آپ کو جمع کرائیں۔ جو کچھ مالیے یا خراج کا حساب ہو اُسے تحصیل میں آ کر کانو گووں سے پاس کروائیں۔ میں دو مہینے کے اندر یہ تمام کام درست دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے اور کارکردگی صفر ہے،جومجھے منظور نہیں( پھر لوئیس صاحب کی طرف منہ کر کے )لوئیس صاحب آپ اس معاملے میں جو کچھ مدد اِن کو در کار ہو،بلا چون و چرا دیجیے گا۔

 

لوئیس نے فقط،ہاں،میں سر ہلانے پر اکتفا کی۔ کچھ دیر توقف کے بعد ولیم دوبارہ بولا،مَیں چار روز کے لیے چھٹی پر جا رہا ہوں۔ آج سے پانچویں روز واپس آؤں گا۔ آپ اِس عرصے میں اپنی تمام بریفنگ تیار کر لیں۔ مَیں نہیں جانتا،مجھے کتنے دن تحصیل جلال آباد میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں،جب یہاں سے جاؤں،لوگ خوشحال ہو چکے ہوں اور گورنمنٹ کا خراج بیس گنا زیادہ ہو چکا ہو۔ اِس گفتگو کے بعد ولیم نے میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(6)

 

سر چھوٹے چوہدری صاحب حاضر ہونا چاہتے ہیں۔’’ نجیب شاہ نے گول شیشوں کی عینک پاجامے سے رگڑتے ہوئے ولیم کو مطلع کیا‘‘

 

ولیم کی آنکھیں نجیب شاہ کی عینک کے فریم پر جم گئیں جس کی ناک اور کانوں والی جگہ پر کپڑے کی دھجیاں لپیٹ رکھی تھیں۔اُن دھجیوں کو مَیل کی ایک دبیز تہہ نے مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔ ولیم کو اس طرح کی عینکوں سے سخت چڑ تھی مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کم و بیش پندرہ بیس سال کے پرانے کلرکوں کے حُلیے اور عینکیں ایک ہی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آدھے سر سے گنجے، توند نکلی ہوئی، عینک کے شیشے موٹے اور دھندلائے ہوئے، کان لمبے، زیادہ تر نیچے کی طرف لٹکے ہوئے۔چہرے کا ماس مسلسل اُسترے کے استعمال کی وجہ سے کراہت کی حد تک بے رونق اوربے جان جھُریوں میں تبدیل ہوااور نتھنوں سے باہر نکلے ہوئے غلیظ بال۔ اکثر فائلوں کے کیڑے مگر ان کا مطالعہ ہمیشہ عینک کے شیشوں سے اوپر کی طرف سے کرتے ہیں۔کند ذہن اور پرلے درجے کے کمینے۔کام روکے رکھنے کے ماہر اورصاحب بہادروں سے زیادہ چھوٹے اور بڑے چوہدریوں کے وفادار۔ لیکن وہ اُن کی یہ ہیئت اور عادات بدلنے پر قادر بھی نہیں تھا۔ اُسے اِن کو اِسی حالت میں برداشت کرنا تھا۔ مگراِس طرح بھی نہیں کہ اُنھیں اُن کی عادات کا، جو پختہ ہو چکی تھیں احساس بھی نہ دِلایا جائے۔ ولیم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ حتی الامکان اِنھیں اِس بدہیتی کا احساس دلاتا رہے گا۔

 

مسٹر نجیب میں نہیں جانتا، جلال آباد میں کون چھوٹے اور کون بڑے چوہدری ہیں۔میرے باپ نے میرا نام اِس لیے رکھا تھا کہ پہچاننے میں آسانی رہے، ولیم نے صاف لہجے میں کہا۔

 

سر وہ شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر’’ نجیب شاہ اپنے ہاتھوں کی لرزش کو چھپانے کے لیے اُنھیں پاجامے پررگڑنے لگا‘سرکار سے ملاقات کے لیے آیا ہے۔ میں نے آج صبح آٹھ بجے ہی آپ سے اُس کے لیے ملاقات کا وقت لیا تھاسر۔

 

ٹھیک ہے انھیں بلا لو’’ولیم نے نہایت بے پروائی سے جواب دیا‘‘ لیکن جیسے ہی نجیب شاہ واپس ہوا، ولیم نے کہا، اپنی عینک اور ہاتھوں کا پسینہ اندر آنے سے پہلے صاف کر لیا کرو چاہے اپنے پاجامے سے ہی۔

 

نجیب شاہ ولیم کے اس رویے سے بہت دل برداشتہ ہوا، مگر کیا کر سکتا تھا،فقط بے دلانہ سی مسکراہٹ دے کر باہر نکل گیا۔

 

ولیم نجیب شاہ کا مذاق اُڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اصل میں ولیم کو غصہ تو جلال آباد پوسٹنگ پر تھا، جس پر وہ ذرا خوش نہیں تھا۔ مگر اپنی بے بسی کا بدلہ اُس عملے سے پوری طرح چکانا چاہتا تھاجو سال ہا سال سے انہی بوسیدہ فائلوں میں گِھس گِھس کر بوڑھے ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ آفس کی ہر چیز سے ایسی وحشت ٹپکتی تھی،جسے دیکھ کر ولیم کو گِھن آنے لگی۔ میزیں، کرسیاں، قلم دان، پردے حتیٰ کہ دروازوں کی کیلیں تک زنگ آلودہو چکی تھیں۔جنھیں آتے ہی اُس نے بدل دینے کا مکمل ارادہ کر لیا۔ مگر وہ اِن کلرکوں کا کیا کرتا،جن کے چہروں پر آفس کی کھڑکیوں سے زیادہ جالے پڑے تھے۔ وہ یہاں کچھ نیا نیا دیکھنا چاہتا تھا۔

 

پچھلے ڈیڑھ مہینے میں اُسے کسی شادابی کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مسلسل چھوٹے بڑے چوہدریوں، جمعداروں اور ذیلداروں کی ملاقاتیں اور ان کی بیہودہ گفتگوئیں محض بیزاری میں اضافہ کرتی چلی جاتی تھیں، جو بغیر کسی کام کے اپنی مونچھوں کی چوڑائی اور پگڑیوں کا کلف دکھانے چلے آتے لیکن اُسے یہ سب خوشدلی سے برداشت کرنا تھا۔ کیونکہ اُس کی اِسی کارکردگی میں افسران بالا کے لیے اطمینان تھا۔مگر اِس سب کے باوجود ولیم نے اپنے ذہن میں ایک فیصلہ کر لیا کہ وہ کچھ اپنے اصول اور ضابطے الگ سے بنائے گا چاہے وہ ضابطے انگریزی حکومت کو خوش نہ بھی آئیں۔ اُسے لمبی اور گھنی داڑھیوں سے آنے والی چھاچھ کی بُو بہت نا گوار محسوس ہوتی اور اُس سے بھی بڑھ کر اُن کی بغلوں کے نیچے سے کپڑے کی تہہ پر جما ہوا گاڑھا زرد پسینہ اکثر اُبکائی کا باعث بنتا۔

 

اُس کے ساتھ ساتھ ولیم نے تحصیل کے کام پر تیزی سے توجہ دینا شروع کردی اور آتے ہی تیسرے دن تمام نہری پٹواریوں اور زمینداروں کی میٹنگ بلوا کر اُنھیں باغات اور شجرکاری کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اول تو یہ لوگ گندم کی سالانہ کاشت کے سوا کچھ کرنا نہیں چاہیں گے اور اگر کسی طرح اس پر سختی سے عمل شروع بھی ہوا تو ہزارہا عذر کے پنڈورے کھل جائیں گے اوراس عرصے میں اس کی نئی پوسٹنگ کے آرڈر آ جائیں گے۔ پھر بھی اُس نے اپنی سی کوشش کرنے کا پورا ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے بھی ہو، وہ جلال آباد میں اڑتے ہوئے بگولوں اور پھیلتی ہوئی ویرانی کو چھتنار درختوں کی چادروں سے کچھ نہ کچھ ڈھکنے کی کوشش کرے گا۔ اِسی منصوبے کومدِ نظر رکھتے ہوئے جو بھی چوہدری یا سردار اُسے ملنے کے لیے آرہا تھا، ولیم اُسے دبے لفظوں میں یہ بات جتائے دے رہا تھا کہ اس کی خوشنودی چوہدری صاحب کو باغات لگانے کی صورت میں حاصل ہو جائے گی ورنہ صاحب بہادری اور سرداری میں فاصلہ برقرار رہے گا۔

 

غلام حیدر کمرے میں داخل ہوا تو ایک دفعہ ٹھٹھک سا گیا۔ یہ تو کوئی بالکل لڑکا سا اسسٹنٹ کمشنر ہو کر آگیاتھا۔ جو ایک سنہری حسن کا رچاؤ اور خوداری کی ملی جلی کیفیت ولیم میں نظر آ رہی تھی، غلام حیدر کو اپنے آپ میں کم محسوس ہوئی۔ اِدھر کم و بیش ولیم میں بھی تحیر کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔اُسے اُمید نہیں تھی کہ یہ چھوٹا چوہدری اِس قدر نفیس ہو گا۔یہ توشکل سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ سفید بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی تنگ گھیرے والی شلوار، پاؤں میں کُھسے کی بجائے کلکتہ شُو کمپنی کے لیدر والے بند جوتے، نہ سر پہ پگڑی نہ کاندھے پہ صافہ۔ ولیم نے سوچا،یہ تو بالکل اُلٹ ہوا۔ اُسے اِس طرح کے چھوٹے چوہدری سے پہلا واسطہ پڑا تھا،جس کے لباس کی وضع قطع سے لے کرکمرے میں داخل ہونے کے عمل تک میں نفاست کا طور موجود تھا۔ولیم کو جب اپنے قائم کردہ تصور کے ٹوٹنے کا صدمہ ہوا تو اُس نے احتجاجاً غلام حیدر کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیا جو وہ پہلے سوچے بیٹھا تھا، اس کا پہلا اظہار اُس نے یہ کیا کہ کرسی سے اُٹھے بغیر ہی بے دلی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھا دیا، جسے دیکھ کر غلام حیدر کو تعجب تو ہوا مگر فی الحال وہ اُسے نظرانداز کر گیا۔

 

مسٹر حیدر تشریف رکھیں،میز کی دوسری طرف سے ولیم نے سامنے کی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔یہ میزاتنی لمبی اور چوڑی تھی جس کے درمیان میں پڑا گلوب اور میز پر بچھا برطانوی سلطنت کا وسیع و عریض نقشہ اُس کی لمبائی چوڑائی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ اُس کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر اور میز کی دوسری طرف بیٹھے مقامی چوہدری کا فاصلہ مزید بڑھ جاتا تھا۔

 

شکریہ جناب! غلام حیدر نے کرسی پرتسلی سے بیٹھ کر اپنے کُرتے کو زانووں پر درست کیا۔ سر کیسا لگا آپ کو جلال آباد؟ سنا ہے آپ کو یہاں آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔

 

مسٹر حیدر مجھے یہاں آئے ایک دن بھی ہوا ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ولیم اُسی بے نیازی سے مخاطب ہوا، کوئی اپنے گھر میں پہلی دفعہ جا کر بھی گھر سے اجنبی نہیں ہوتا۔وہ اُس کا مالک ہوتا ہے۔نیا نہیں ہوتا۔
چھوڑیے سر آپ تو غصہ کر بیٹھے،غلام حیدر نے اپنے پہلے سوال کی سُبکی پر شرم سار ہوتے ہوئے کہا، میں تو آپ سے یہ بات رسمی طور پر پوچھ بیٹھا۔

 

حیدر،اگر مقابل والا آدمی ہم پایہ ہو تو ایسے جملے رسماً پوچھنے میں کوئی حرج نہیں۔خیر مجھے اپنے فرائض کے سلسلے میں رہنا ہے۔ اس میں اچھے بُرے کو دخل نہیں،ولیم نے اپنے وقار پر سمجھوتا کیے بغیر جواب دیا۔
نہیں۔

 

ولیم کے”ہم پایہ” والے جملے سے غلام حیدر کا موڈ بالکل خراب ہو گیا تھا، ٓٓ۔ غلام حیدر کو ولیم کے رویے کی آنچ نے فاصلے کی حد سمجھا دی اس لیے وہ بات کو اپنے مقصد کی طرف گریز دیتے ہوئے بولا، صاحب، تین دن پہلے میرا باپ فوت ہوا ہے کل چاربجے اس کا

 

آپ کے باپ کے مرنے کاا فسوس ہوا لیکن حکومت سے اس معاملے میں آپ کو کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ یقیناً اس میں میرا دخل نہیں اور میں اُن کو جانتا بھی نہیں تھا، ولیم نے لاپرواہی میں ایک اور گھاؤ لگا دیا

 

کمشنر صاحب یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آپ کو نہیں جانتے مگر آج اگر آپ مر جائیں تو ان میں سے اکثر کے لیے آپ کو جاننا ضروری ہو جائے گا، غلام حیدر نے اب حالات کی بالکل پروا کیے بغیر ایک ایسا طنز کا نشتر رکھاجس کی چُبھن ولیم نے دل تک محسوس کی لیکن غلام حیدر نے اپنی بات جاری رکھی، رات تین بجے میرا ملازم چراغ دین قتل کر کے بیس ایکڑ مونگی کی فصل لوٹ لی گئی۔ غالباً جودھا پور کا یہ سنگیں واقعہ جلال آباد میں آپ کی پو سٹگ کا مجھے پہلا تحفہ ہے۔ اگرچہ اس میں بھی آپ کا دخل نہیں مگر اس کے متعلق جاننا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ جودھا پور میرے باپ شیر حیدر کا گاؤں ہے جو تین دن پہلے فوت ہو گیا۔جسے آپ نہیں جانتے اور اُس کے فوت ہونے کے تیسرے ہی دن یہ واقعہ پیش آ گیا۔

 

ولیم کو آج صبح یہ اطلاع مل چکی تھی لیکن نہ جانے کس نیم خوابی میں اُس نے یہ اطلاع سنی تھی کہ وہ بھول گیاتھا۔حالانکہ اُسے اُس کے متعلق جلد ہی کچھ ہدایات دینا تھی، جو وہ ابھی تک نہ دے سکا تھا۔ اب اُسے یاد آیا کہ نجیب شاہ نے غلام حیدر کی ملاقات کا جب ذکر کیا تھا تو اِس واقعے کو منسلک کر کے بات کی تھی۔ ولیم نے غلام حیدر کے ساتھ آتے ہی سرد مہری کا رویہ اختیار کیا تو یہ ایک سخت غلطی تھی مگر کیاکیّا جائے، تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب کسی بھی قسم کی معذرت یا وضاحت حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔ اس لیے ولیم اسی بے نیازی کو اختیار کرنے پر مجبور تھا۔ حالانکہ دل میں اب وہ پوری طرح معاملے کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا۔

 

مجھے آج صبح اطلاع مل چکی ہے۔ آپ اس معاملے میں بے فکر ہو جائیں۔ مَیں ابھی پولیس کو ضروری احکام جاری کردوں گا۔گورنمنٹ پورا انصاف برتے گی۔ حیدر صاحب، آپ جتنی جلدی ہو سکے، ایف آئی آر درج کروائیں۔ مَیں اس کیس کو اپنی نگرانی میں دیکھوں گا،ولیم نے معاملے کو جلدی قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

 

سَر اب میرا اِس کمرے میں شاید مزید کام نہیں رہ گیا’’ غلام حیدر نے اُٹھ کر اپنی بوسکی کی قمیض کو درست کیا اور مصافحہ کو ہاتھ بڑھا دیا۔

 

ولیم کے لیے غلام حیدر کا یہ رویہ قطعاً غیر یقینی تھا۔ اُسے یہ احساس نہیں تھا کہ دیسی لوگوں میں بھی اچانک کچھ ایسے نکل آئیں گے، جن کے لہجے میں فولاد کی سختی اور سردی موجود ہو گی۔ پچھلے ڈیڑھ مہینے تک اُسے ایسے کسی شخص کا سامنا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی بچپن میں ایسا واقعہ رونما ہوا جس میں اُس نے دیسی لوگوں کی خوشامدانہ عادات کے علاوہ کوئی عادت دیکھی ہو۔ غلام حیدر سے اس سرسری ملاقات کے بعد اُسے فوراً ہیلے کی وہ نصیحت یاد آ گئی کہ اِن کے سینگوں سے ہمیشہ دُور رہنا۔ اُسے یہ سوچ کر جُھرجھری سی آگئی۔ اِسی کے ساتھ ولیم نے عارضی طور پر غلام حیدر کے بارے میں یہ تصور بھی کر لیا کہ بہرحال یہ ابھی لڑکا ہے۔جیسے جیسے سر پر ذمہ داریاں پڑیں گی اور عمرزیادہ ہوتی جائے گی،ویسے ویسے یہ بھی دوسرے چوہدریوں کی طرح ٹھنڈا ہوتا جائے گا۔ انہی خیالات کی رَو میں تھاکہ اُسے احساس ہوا، وہ کمرے میں اکیلا ہے۔وہ کرسی سے اُٹھااور کمرے میں چہل قدمی کرنے لگا۔ گفتگو انتہائی سرد مہری میں ہوئی تھی۔ جس کااثر ولیم پر گہرا ہو رہا تھا۔جس کی و جہ سے غلام حیدر کے لیے اُس کا احساسِ ہمدردی جاگنے لگا۔یہ اِس لیے نہیں تھا کہ ولیم غلام حیدر سے ڈر گیا ہو یا کسی طرح کا لالچ شامل ہو بلکہ اِسے ولیم کی شرافت کہہ سکتے ہیں۔ انگریز میں چاپلوسی کو دخل تو ہے لیکن بات مختصر اور صاف ہو تو انگریز اپنی توہین کو ثانوی حیثیت دینے میں وقت نہیں لیتا۔ یہی اس وقت ہوا تھا۔

 

غلام حیدر کے جانے کے کچھ دیر بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کمرے میں طلب کر لیا۔ اِس بار وہ عینک کی صفائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتاتھااور ولیم کو یہ بات اچھی لگی۔وہ پچھلی سرزنش جلد بھول جانے کا عادی نہیں تھا۔یہی بات نجیب شا ہ اور ولیم دونوں کے لیے بہتر تھی۔ نجیب شاہ نوٹ بک اور قلم لے کر میز کے دائیں پہلو کھڑا ہو گیا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا، ولیم اُسے کمرے میں بلا کر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔ اس دوران اُس نے اپنے تیس فٹ لمبے اور بیس فٹ کھلے کمرے میں شرقاً غرباً پانچ چکر لگا لیے۔بالآخراِسی رفتار میں چلتے ہوئے بولا،نجیب شاہ مجھے غلام حیدر کے بار ے میں کل تک پوری معلومات مل جائیں۔اِس کے علاوہ علاقے کے تھانیدار کو جلدی بلواؤ،ڈی ایس پی صاحب میرا خیال ہے، چھٹی پر ہے۔ اُس کی غیر حاضری میں یہ معاملہ بگڑ نہ جائے۔میں اس معاملے میں دیر نہیں چاہتا۔
نجیب شاہ پر جو کچھ ولیم کا دبدبہ قائم ہو چکا تھا،اُس کے پیشِ نظر یہ قطعی تھا کہ اس سلسلے میں کوتاہی نہیں کرے گا۔

 

(7)

 

بگھیاں جونہی جودھاپور پہنچیں، بڑوں چھوٹوں کی ٹولیاں بندھ بندھ کر اکٹھی ہونے لگیں۔ یہ گاؤں بمشکل تین سو افراد کی آبادی پر مشتمل تھا، جوغلام حیدر کی ماں کو اپنے باپ کی وراثت میں ملا تھا۔ دس بیس گھروں کو چھوڑ کر باقی آبادی غلام حیدر کی رعایا تھی۔ کہنے کو تو یہ گاؤں تھا مگر اصل میں ساری آبادی چھوٹے موٹے کچے گھروں کا جمگھٹا ساتھی۔ لوگوں کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مکمل اور آزادانہ زندگی گزار سکتے اور عمدہ مکان بنا لیتے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ سارا گاؤں دو وقت کی روٹی آسانی سے کھا سکتا تھا۔جتنے لوگ یہاں رہتے تھے، سب کو شیرحیدر نے اپنا رقبہ برابر بانٹ رکھا تھا۔ جسے وہ کاشت کرتے اور مالکانہ کا تیسرا حصہ شیر حیدر کو پہنچا دیتے۔ کسی کو مجبوری پڑ جاتی اور وہ نہ دے سکتا تو شیر حیدر زیادہ سختی نہ کرتا۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ہر ایک اپنی مرضی کرے۔منشی پورا حساب رکھتا تھا۔جس کے سامنے کوئی دونمبری کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

 

گاؤں کی گلیاں بہت تنگ تھیں، جو کچی ہونے کے ساتھ ساتھ کہیں کھائی اور کہیں سے ٹیلے کی طرح تھیں۔ ویسے بھی گلیوں کی کوخاص ترتیب نہیں تھی۔اِدھر اُدھر مُڑتی ہوئی بھول بھلیوں کی سی شکل اختیار کر لیتیں۔ بارش کے وقت جن میں گزرنا ایک ناممکن سا عمل ہوتا۔البتہ ہر گھر میں ایک آدھ درخت ضرور تھا۔ جن میں زیادہ تعداد لسوڑوں کی تھی۔ گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ اُن میں کسی درخت کا ہونا مشکل تھا۔البتہ پورا گاؤں ٹاہلیوں کے جنگل کے درمیان گھرا تھا،جن کے نیچے گاؤں والے مال مویشی اور بھیڑ بکریاں باندھ لیتے۔ اِکا دُکا گدھے بھی تھے۔اُن پر چارا لاد کر لایا جاتا۔ گا ؤں کی واحد سہولت وہاں کی چھوٹی سی مسجد تھی، جہاں بچوں کو قاعدہ سپارہ پڑھا دیا جاتا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی مدرسہ نہ سکول اور نہ ماسٹر تھا۔ تھانے کچہری میں آج تک انھیں نہ کام پڑاتھا،نہ وہ گئے۔ اگر چھوٹا موٹا جھگڑا ہو بھی جاتا تو اس کا فیصلہ شیر حیدر کر دیا کرتا کہ سب کو اُس کا منظور کرنا لازمی ٹھہر جاتا۔ مگر اس بار چراغ دین کے قتل اوربیس ایکڑ مونگی کی فصل کی بربادی نے پورے گاؤں کو ہراساں کر دیا تھا۔ ہر طرف ایک خاموشی طاری تھی۔ شیر حیدر زندہ نہیں تھا اور غلام حیدر سے یہ لوگ کچھ زیادہ واقف نہیں تھے۔چنانچہ اپنے آپ کو تنہا اور لاوارث سا محسوس کرنے لگے۔ چراغ دین کے قتل کو آج چوتھا دن تھا۔ تھانیدار موقع واردات اور باقی تفصیلات کا جائزہ لے کر اُسی دن چلا گیا تھا۔کچھ لوگوں نے بیانات بھی دے دیے تھے لیکن ابھی تک کسی کو تسلی نہیں تھی کہ ِاس ظلم کا کوئی جواب دیا جا سکے گا۔لوگ اس لیے بھی ڈرے ہوئے تھے کہ سب کو سودھا سنگھ کی طاقت اور بدمعاشی کا علم تھا۔ اب ہر ایک نے غلام حیدر کو وہاں آئے دیکھا تو اُن کی جان میں ایک قسم کا دم آیا کہ وہ کسی اپنے کے پاس کھڑے ہیں۔ خاص کر جب لوگوں نے غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکتی رائفل کو دیکھا تو انھیں بہت ہی حوصلہ ہوا کیونکہ ابھی تک دُور دُور کسی سردار کے پاس ریفل نہیں تھی۔ غلام حیدر کے ساتھ چھوّیوں اور برچھیوں سے لیس جوان بھی رعب اور دبدبے میں کم نہیں تھے مگر رائفل کی اپنی ہی شان تھی۔

 

لوگوں نے چارپائیاں جلدی سے نکال کر چوک میں مسجد کے سامنے ہی بچھا دیں۔ اس گاؤں میں بھی غلام حیدر کی اپنی چھوٹی سی حویلی تھی، جس میں ایک دو ملازم اور منشی الہُ داد نے رہائش رکھی ہوئی تھی۔وہ جودھاپور کی فصلوں کا حساب کتاب کرتا۔ غلام حیدر نے اپنی حویلی تک جانے کی بجائے چوک ہی میں بیٹھنے کو ترجیح د ی لیکن اُس سے بھی پہلے وہ چراغ دین کے گھر کی طرف چلا گیاباقی لوگ کچھ ساتھ رہے اور کچھ وہیں کھڑے رہے۔ جیسے ہی وہ دہلیز سے اندر داخل ہوا، چرا غ دین کی بیوی رحمت بی بی اس سے لپٹ گئی اوراونچی اونچی بین کر کے رونے لگی۔ اُسے دیکھ کر چراغ دین کی بیٹی بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، جس کے پاؤں میں نہ تو جوتے تھے اور نہ ہی سر پر دوپٹہ۔ چراغ دین کا گھر بھی کیا تھا،محض ایک کمرہ اور چھوٹا سا کچا صحن، جس کے دائیں پہلو چھوٹی سی کچی دیوار کے ساتھ مٹی کا چولہا تھا۔ اس کی سرد راکھ اور گھر کی ویرانی اور اُس پر چراغ دین کی خستہ حال بیوی اور بچی کو دیکھ کر غلا م حیدر کے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُسے اِس منظر کے دیکھنے سے پہلے واقعے کی سنجیدگی کا احساس تو تھا مگر اس قدر غم کی شدت نہ تھی۔ رحمت بی بی بچیوں کی طرح رو رہی تھی۔ غلام حیدر نے ایک اضطراری کیفیت کے تحت اُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور بچی کو گود میں اُٹھا لیا۔ عمر کے اعتبار سے غلام حیدر رحمت بی بی سے کہیں چھوٹا تھا،پھر بھی اُس کا رحمت بی بی کے سر پر ہاتھ رکھنا کسی کو عجیب نہ لگا بلکہ پورے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور دلوں کے اندر جو ہراس اورخوف بیٹھ چکا تھا،وہ حوصلے میں بدل گیا۔ ہر ایک کے دل میں غلام حیدر کے لیے ایک خاموش جذبہ محبت اُبھر آیا۔ گویا احساس ہو گیا ہو کہ ُان کے غم کا مداوا ہو چکا ہے۔ اِس اپنائیت سے حوصلہ لیتے ہوئے کئی بوڑھی عورتوں نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیر کر اُسے دعا بھی دی۔ مگر اُس نے اُنھیں نظر انداز کرتے ہوئے پانچ سو روپیہ کی تھیلی جیب سے نکال کر رحمت بی بی کی مٹھی میں دے دی۔حالانکہ اِس سے پہلے پانچ سو روپے وہ رفیق پاؤلی کے ہاتھ پہلے ہی بھیج چکا تھا۔ پیسے دے غلام حیدر نے کہا، چاچی صبر کر، چاچے چراغ دین کو تو میں لا نہیں سکتا لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ اُس کا قاتل نہیں بچے گا۔ اس سے آگے غلام حیدر بول نہ سکا مگر لہجے میں اِس قدر اعتماد تھا کہ اس سے پہلے نظر نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد وہ چراغ دین کے گھر سے نکل کر چوک میں آ گیا۔ جہاں پورا گاؤں اکٹھا ہوا بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر کو دیکھتے ہی سب کھڑے ہو گئے۔ جب وہ چار پائی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا شیر حیدر نئے روپ میں ان کے درمیان بیٹھاہے۔بلکہ اُس سے بڑھ کر ایک نئی طاقت ہے کہ شیر حیدر کے پاس رائفل نہیں تھی جبکہ غلام حیدر کی رائفل اُس کی پائنتی کے ساتھ پڑی لشکارے مار رہی تھی۔ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر اچانک غلام حیدر بولنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

شیر حیدر کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا تھا کہ وہ لوگوں سے کھڑے ہو کر بات کرے مگر اس کے برخلاف غلام حیدر نے تخاطب کا طریقہ اس طرح اپنایا کہ ہر شخص آواز سننے کے ساتھ اُسے دیکھ بھی لے۔ حالانکہ یہ مجمع اتنا بڑا نہیں تھا۔

 

“بھائیو”شیر حیدر کی آواز گونجی چراغ دین مارا گیا حالانکہ اس کا کوئی جرم نہیں تھا۔ سکھڑوں نے اُس کی بیوی کو بیوہ اور بچی کو یتیم کر دیا۔ یہ حملہ اس گاؤں پر نہیں، شیر حیدر کی قبر پر ہوا ہے۔ سودھا سنگھ نے ہماری پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ قل اور ساتویں کا انتظاربھی نہیں کیا۔ دشمن نے کسی اصول اور دین دھرم کا لحاظ نہیں کیا۔( پھر کچھ دیر رُک کر) ٹھیک ہے اُس نے اپنا وار کر دیا (رفیق پاولی جو حقہ پی رہا تھا، نے حقے کی نَے ایک طرف کر کے رکھ دی) مگر وہ یہ نہ سمجھے کہ ہمارے گاؤں کوئی چری کی فصلیں ہیں،جنہیں جب چاہے گدھے آکر اُجاڑ دیں۔ سودھا سنگھ نے مونگی نہیں اُجاڑی،بارود میں آگ لگائی ہے، چراغ دین کو قتل نہیں کیا، شیر حیدر کی لاش کا مُثلہ کیّا ہے اور سودھا سنگھ نے جودھا پور پر حملہ نہیں کیا، اپنی چتا کو آگ لگائی ہے۔

 

غلام حیدر کی آواز میں درد کے ساتھ اس قدر رعب در آیا کہ پورا مجمع مبہوت سنتا رہا۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ لڑکے بالے اپنی اچھل کود چھوڑ کر وہیں کھنچے چلے آئے۔پندرہ منٹ تک غلا م حیدر پوری طاقت سے بولتا رہا۔ سردی کے دن تھے مگر اُسے پسینہ آ گیا۔ گفتگو ختم کر کے جیسے ہی بیٹھا تو لوگوں کے دلوں سے بوجھ اتر چُکا تھا۔
غلام حیدر کے بیٹھنے کے بعد جمال دین آگے بڑھ کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا،غلام حیدر اِن سکھڑوں نے سمجھا تھا شیر حیدر کے مرنے کے ساتھ اُس کے تینوں گاؤں بھی مر گئے۔ خدا کی قسم یہ ان کی بھول تھی۔ ان کو وہ حساب دینا پڑے گا کہ اگلی نسلیں کانپ جائیں گی۔(پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)پتر غلام حیدر ہمیں حکم کر ہم سودھا سنگھ کے گاؤں کو آگ لگا دیں گے۔ تُو بس اشارہ کر،سکھوں کے بچے کو لہو میں پیس دیں گے۔

 

رفیق پاولی نے جمال کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا بابا تسلی رکھ۔ حکم تو اب آپ نے کرنا ہے اور عمل ہم کریں گے۔ تم بس ایک کام کرو، اپنے جوانوں کی دس ٹولیاں بناؤ۔ ہر ٹولی میں دس جوان ہوں،جو گاؤں کے گرد گھیرے میں رات پہرا دیا کریں تاکہ سودھا سنگھ نئی چال نہ چل سکے۔اگلے کام ہم جانیں اور ہمارا خدا۔ اب یہی میدان ہے اور یہیں گھوڑے۔

 

اس کے بعد مختلف تجویزیں پیش ہوئیں جن میں حالات کا پورا جائزہ لیا گیا۔ ظہر کے وقت بگھیاں گروہرسا کی طرف چل پڑیں۔ پچاس جوانوں کا قافلہ جن میں سے کچھ بگھیوں پر سوار تھے اور کچھ گھوڑوں پر۔

 

غلام حیدر نے بوسکی کا کریم رنگ کا کُرتہ پہنا تھا اور سرمئی رنگ کی موٹی اُون کی چادر کاندھوں پر رکھے ہوئے تھا جس کا بر تین گز تو ضرور ہو گا۔ دائیں کاندھے پر رائفل، جس کی نال سر سے اوپر تک نکلی ہوئی عجب شان پیدا کر رہی تھی۔ اِس کے علاوہ جتنے جوان تھے، سب کے پاس برچھیاں اور چُوڑی چڑھیں ڈانگیں تھیں۔ اکثر نے مونچھوں کو اتنا تیل پلا رکھا تھا کہ اُنھیں دیکھ کر خوف آتا۔ بگھیاں جونہی راجباہ کے پُل کو پار کر کے تھانے کے قریب پہنچیں، پہرے پر سنتریوں میں ہلچل پڑ گئی۔ ایک سنتری بھاگ کر تھانے میں داخل ہو اکہ تھانیدار کو اطلاع کرے۔ بگھیاں تھانے کے باہر کھڑے برگد کے پیڑ کے نیچے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں تھانے دار دیدار سنگھ کچھ اور سنتریوں کے ساتھ تھانے کے دیوہیکل بیرونی دروازے پر آکر کھڑا ہو گیا۔دروازے کا گیٹ لوہے کی موٹی چادر کا تھا، جس پر لال اور پیلا رنگ کر دیا گیا تھا۔ اِس ڈیوڑھی نما دروازے سے آگے صحن کو چھوڑ چاروں طرف کمرے اور حوالاتیں تھیں۔ان سب کا رنگ بھی سُرخ اور بوجھل کر دینے والے ماحول سے مشابہ تھا۔دروازے کی چوٹی پر دو جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ایک سلطنت برطانیہ کا اور دوسرا پولیس کا۔

 

غلام حیدر بگھی سے اترا توجوانوں کا پورا دستہ اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھا تو ایک پر اسرار رعب اس کے ساتھ تھا۔ بوسکی کاکرتہ، اون کی چادراور کاندھے پر ولایتی رائفل،اس سے بڑھ کر ریشمی لاچا جس کے کنارے دُور تک زمین پر گھسٹتے آتے تھے۔ اَن کے علاوہ قدم اُٹھاتے ہی طلائی کھسہ چرر چرر کی آواز اٹھاتا۔ ان سب چیزوں نے مل جل کر اس کی شخصیت میں ہیبت پیدا کر دی تھی۔

 

غلام حیدر نپے تلے قدم اُٹھاتا تھانیدار کے قریب پہنچا تو دیدار سنگھ کے کندھے رعب سے جُھک گئے۔ اُس نے غلام حیدر سے مصافحہ کیا اور آگے بڑھنے کے لیے رستہ دیا۔

 

صحن میں دو چارپائیاں بچھا دی گئیں،جن میں سے ایک پر غلام حیدر بیٹھ گیا اور دوسری پر تھانیدار دیدار سنگھ۔ دیدار سنگھ کی توند نکلی ہوئی تھی۔داڑھی مروڑ کر پگڑی کے نیچے کس دی گئی تھی۔ لیکن وزن اتنا تھا کہ چارپائی چرمرا کر رہ گئی۔ غلام حیدر کے سامنے تھانیدار کی شخصیت بالکل غیر متاثر کن تھی۔نوجوان خون اور اُس کے پیچھے بڑی زمینداری۔سب سے بڑھ کر تعلیم کا اپنا رعب، کہ سینکڑوں میل تک بی اے پاس کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر بھی گورنمنٹ کی نوکری میں اتنی ہیبت ضرور تھی کہ غلام حیدر کے ساتھ آیا ہوا جوانوں کا دستہ تھانیدار کے آگے با ادب ہوہی گیا۔ یہ رعب ان پر دیسی ملازمت کا نہیں بلکہ انگریز سرکار کا تھا۔ جس کا ایک پیادہ گاؤں میں چلا جاتا تو پورا گاؤں خوف کے مارے چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتا۔ لوگ کئی کئی دن تک تذکرہ کرتے کہ گاؤں میں سپاہی آیا تھا اور فلاں کو وارنٹ جاری کر گیا۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا کہ ایک ہی سپاہی آ کر کئی آدمیوں کو گھیر لے جاتا۔ کسی کی مجال نہ تھی، اوں آں کرے۔

 

غلام حیدر نے گفتگو کا آغاز کیا اور ہلکے طنز کے ساتھ کہا:،تھانیدار صاحب! چراغ دین کا مدعی مَیں ہوں، پرچہ کٹوانے آیا ہوں ( آگے کی طرف جھکتے ہوئے) سودھا سنگھ کے خلاف۔

 

چوہدری صاحب’تھانے دار بولا، اس طرح تو قتل کا کیس خراب ہو جائے گا۔ میرا مطبل ہے کہ یہ سودھا سنگھ پر سیدھا الزام ہے جو عدالت میں ثابت نہیں ہو گا۔ خوامخواہ قتل ضائع ہو جائے گا۔ویسے بھی قتل والی رات سودھا سنگھ شیخوپورہ گیا ہوا تھا۔(داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) مَیں قتل کے اگلے دن سے ہی سارے معاملے کی تحقیق کر رہا ہوں۔ واہگرو کی سونہہ ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں بیٹھا۔

 

دیکھیں سردار جی ’’غلام حیدر نے زور دیتے ہوئے کہا‘‘ عصر کا وقت ہو گیا ہے اور میں دشمن داری والا بندہ ہوں۔وقت بالکل نہیں ہے۔ کیس خراب ہو گا تو میرا ہو گا۔ عدالت میں ثابت نہیں ہو گا تو نقصان ہمارا ہو گا لیکن میرا ملزم سردار سودھا سنگھ ہے آپ پرچہ کاٹیں۔

 

چوہدری صاحب آپ چنتا رکھیں اور حوصلے سے کام لیں۔ ایک آدھ دن اور سوچ لیں۔ سب کام ٹھیک ہو جان گے۔(ایک بار پھر داڑھی کُھجاتے ہوئے )آپ جذباتی نہ ہوں۔

 

دیدار سنگھ نے غلام حیدر کو دلاسے کی شکل میں بات سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ جملے سن کر غلام حیدر کے تیور بگڑنے لگے اور وہ تلخی سے بولا،سردار جی آپ کی داڑھی کی مٹی مَیں نکال دوں گا، میرے پاس بہت بندے ہیں، وہ ساری جھاڑ پونچھ کر دیں گے۔ جو کام تمہارے کرنے کے ہیں وہ تم کرو۔ اگر تم پرچہ نہیں کاٹو گے تو آج کے بعد میں تھانے نہیں آؤں گا۔ رشوت کی بھینسیں سودھا سنگھ نے آپ کوبھیجی ہیں مجھے نہیں۔ یاد رکھو پرچہ کٹے گا تو سودھا سنگھ پرورنہ میں لاہور تک جاؤں گا اور یہ دونوں پھول تارے وردی پر نہیں رہیں گے۔ چراغ دین کا قتل اندھا نہیں ہے کہ کوئی تھانیدار بھی پی جائے۔

 

دیدار سنگھ غلام حید ر کا لہجہ دیکھ کر دہل گیا۔ آج تک اس حوصلے اور جگرے سے کسی نے بھی گورنمنٹ کے دو پھولوں والے تھانے دار سے بات کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ دیدار سنگھ یہ بھی جانتا تھا کہ غلام حید ر کے رابطے دُور تک نہ ہوتے تو وہ اس طرح بولنے کی جرأت نہ کرتا۔ اُس نے محسوس کیا یہ لڑکا جذباتی ہے کچھ بھی کر گزرے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر تک تو وہ پہلے ہی جا چکا تھا۔چنانچہ مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت۔وہ جانتا تھا یہ کیس اتنا پتلا بھی نہیں۔اس لیے بیٹھے بٹھائے وردی سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔سب کچھ سوچ کر تھانے دار غصے کو پی گیا۔ اُس نے جلدی سے منشی کو طلب کر کے سودھا سنگھ کے خلاف چراغ دین کے قتل اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل کے اُجاڑے کا پرچہ کاٹ دیا جس کا مدعی غلا م حیدر خود تھا۔

 

غلام حیدر نے پرچے کی مثل پکڑی، دیدار سنگھ کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور بگھی پر آ بیٹھا۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ غلام حیدر کی کوشش تھی جلد سے جلد جلال آباد پہنچے کیونکہ حالات اس کی حمایت میں نظر نہیں آ رہے تھے۔ پہلے دن جب غلام حیدر فیروز پور کے اسٹیشن پر اترا تھا اُس وقت سے لے کر اب تک اس کے اندر ایک عجیب طرح کی کایا کلپ ہو چکی تھی۔ لباس سے لے کر اندازِگفتگو تک، ہر شے اتنی جلدی بدل رہی تھی کہ رفیق پاولی جس نے اُسے گودی میں کھلایا تھا، حیران رہ گیا۔ جیسے ہی بگھی جلال آباد کی طرف روانہ ہوئی،وہ اُس سے بات کیے بغیر نہ رہ سکا۔
غلام حیدر مجھے تم پر بڑا فخر ہے۔ آخرشیروں کے بچے شیر ہی ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہو گیا غلام حیدر رعایا بے وارثی نہیں رہے گی۔

 

چاچا فیقے، نظام دین بولا، چوہدری غلام حیدر کو دیکھ کر اپنے دیدار سنگھ کا تو پاجامہ ہی ڈھیلا ہو گیا۔چوہدری غلام حیدر نے اس کی دھون پر اپناکھسہ جو رکھ دیا۔ سکھڑا پرچہ کیسے نہ کاٹتا۔

 

اِدھر بگھیاں جلال آباد کی طرف دڑ دڑ بھاگی جاتی تھیں اُدھر یہ گپیں چل رہی تھیں۔ جس سے سب کے مزاج خوش گوار ہوگئے۔

 

رفیق پاولی نے کہا، او نظامے تین سو دو کا پرچہ سہہ جانے کے لیے بھینسوں کے جگرے چاہیئیں۔

 

چاچا فیقے مجھے پتا ہے یہ تین سو دو تو ایسی بُری بَلا ہے،درخت پر لکھ دو تو درخت سوکھ جائے، بندہ کیا چیز ہے۔ اب سودھا سنگھ تو گیا کام سے، یہ شامت اس کے گھر سے نہیں نکلے گی۔

 

چاچا رفیق! غلام حیدر بولا‘ اب یہ اس کے گھر سے نکلے نہ نکلے۔ سودھا سنگھ کے گلے میں پھندا ڈلے نہ ڈلے، میں نے تو ایک ہی بات سوچی ہے اور وہ یہ کہ مَیں سودھا سنگھ کی رَت کا رنگ دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

غلام حیدر کی اتنی بڑی پُراعتماد بات سُن کر ایک دفعہ تو سب خاموش ہو گئے۔
(جاری ہے)