Categories
نقطۂ نظر

نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج

نندی پور منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی نے2008ء میں کیا، جو کچھ بدعنوانی کر سکتے تھے وہ کی اور چلے گئے، نواز شریف کی حکومت نے ڈھائی سال میں اس کی لاگت کو 22 ارب روپے سے81 ارب روپے پر پہنچا دیا لیکن اس منصوبے سےبجلی کا ایک یونٹ عوام کو نصیب نہیں ہوا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ سے 1361 کلو میٹر دور سمندر کے کنارے دو کڑورکی آبادی والا شہر کراچی ہے۔ پورئے پاکستان کی طرح یہ شہر بھی بجلی کی کمی کے باعث لوڈ شیڈنگ کا بدترین شکار ہے۔ اس سال 20 جون سے کراچی میں گرمی بڑھتی چلی گئی اور درجہ حرارت 40 اور پھر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، اس گرم ترین موسم میں لوڈشیڈنگ نے سانس لینے کا بچا کچھا حق بھی چھین لیا۔ لوگ دم گھٹنے سے مرتے رہے، اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم از کم چار ہزار کے قریب تھی۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل دورانیئے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہےاور شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب بجلی کے نرخوں میں اضافے پے اضافہ ہورہا ہے لیکن شہریوں کو بجلی کی مسلسل ترسیل میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ۔
پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
نومبر2013ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے چین کی مالی و تکنیکی معاونت سے کراچی میں “کے ٹو اور کے تھری” نامی جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تو بظاہر اعلیٰ حکومتی حلقوں کو قبل از وقت اطلاع نہیں تھی۔ 20 اگست 2015ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں ہاکس بے کے قریب واقع کینوپ ایٹمی پلانٹ میں “کے ٹو” منصوبے کی کنکریٹ پورنگ منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ پاکستان کو کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ کراچی کے ساحل پر ایٹمی بجلی گھر کینوپ 1972ء میں قائم کیا گیا تھا، اس کی پیداواری صلاحیت 137 میگاواٹ اور مدت 2002ء تک تھی مگر بعد ازاں اسے اپ گریڈ کرکے دوبارہ فعال بنایا گیا، اب اس کی پیداواری صلاحیت کم ہو کر 80 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ 2011ء میں بھاری پانی کے اخراج کے بعد اس پلانٹ کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور جب اس کی توسیع یعنی “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بعض سائنسدانوں اور شہری تنظیموں نے اس پر خدشات کا اظہار کیا جس سے یہ منصوبہ متنازع ہوگیا۔ حکومت کے مطابق “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کے بعد یہ دونوں بجلی گھر گیارہ سو میگاواٹ فی کس کے حساب سے بجلی پیدا کر سکیں گے۔ ان پلانٹس کی تکمیل 2019ء اور 2020ء تک ہو سکے گی جس سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوسکے گا۔ کراچی میں تعمیر کیے جانے والے ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں میں سے ہر ایک کی تعمیر پر تقریبا پانچ ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے جوہری پاور پلانٹس کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ان جوہری تنصیبات کے حفاظتی انتظات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کڑی نگرانی کرتا ہے تاکہ دنیا کے مروجہ قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان اقدامات سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آگاہ ہے۔ یہ ایٹمی پلانٹ چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کرنے ہیں۔ یہ ری ایکٹر نہ پہلے کہیں بنائے گئے ہیں اور نہ کہیں یہاں تک کہ چین میں بھی نہیں آزمائے گئے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
عالمی رائے عامہ اب ایٹمی توانائی کے حق میں نہیں ہے زیادہ تر ممالک اسے چھوڑ چکے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے جوہری پلانٹ لگائے جا رہے ہیں جو شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہوسکتے ہیں۔ جرمنی کی مثال سامنے ہے۔ امریکا میں پچھلے 44 سالوں سے کسی نئے ایٹمی بجلی گھر نے کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ کچھ زیرِ تعمیر ہیں لیکن وہ عالمی رحجان نہیں کہلا سکتے۔ چین ایک مضبوط مثال ہے، اس نے ایٹمی صنعت کی کئی کارپوریشنز تیار کی ہیں جنہوں نے تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
سال 2014ء میں چین نے 20 گیگاواٹ صلاحیت کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ٹربائن لگائے ہیں۔ اگر چین اپنے پاس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے اتنے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس پن بجلی کے منصوبے تیار کرنے کے لیے بھی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس ہوا سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چین سے قرضہ حاصل کرکے پن بجلی کی صنعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ پن بجلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی تنصیب پر ایٹمی بجلی گھر سے آدھی لاگت آئے گی، جبکہ اس میں ایندھن کا کوئی خرچ نہیں ہوگا۔ پن بجلی ایٹمی بجلی سے سستی ہوگی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے اور ہر سال 50 ہزارمیگاواٹ صلاحیت کے نئے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو تو صرف 10 ہزار میگاواٹ کی ضرورت ہے تاکہ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکے۔اس کے علاوہ سولر فوٹو وولٹیک ٹیکنالوجی ہے جس کی قیمت حال ہی میں کافی کم ہوئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں شمسی توانائی سے توانائی حاصل کرنے کا منصوبہ لگایا ہے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ کسی بھی حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں اِن مجوزہ ایٹمی بجلی گھروں کا نظام تباہ ہوا تو شہر میں قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ کراچی کے شہریوں اور ماہرین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تابکاری کے اثرات بہت زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ اِن بجلی گھروں میں ٹنوں کے حساب سے جوہری مادہ ہوتا ہے۔ اگر اس مادے کا صرف پانچ فیصد بھی خارج ہو تو کراچی کے لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔یہ بہت بڑے پلانٹ ہیں اور اتنے بڑے پلانٹ خود چین نے اس سے قبل نہیں بنائے اور یہ پہلا ماڈل ہوگا جو پاکستان میں لگایا جائے گا۔ یہ تو ایک تجرباتی ماڈل ہے اور اِس میں حفاظتی تدابیر کا کسی کو علم نہیں۔
صفِ اول کے ماہرِ فزکس عبدالحمید نیر سے جب پوچھا گیا کہ کراچی میں ری ایکٹرز کی تعمیر کی صورت میں آپ کی سب سے بڑی تشویش کیا ہے؟ تو اُن کا جواب تھا “ہمیں دو مسائل پر تشویش ہے۔ ایک یہ کہ اگر ان نئے ڈیزائن کے ری ایکٹرز کے ساتھ فوکوشیما یا چرنوبل کی طرز کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو کیونکہ زیادہ لوگوں کو اس ڈیزائن کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہوگا، تو حادثے کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ فوکوشیما حادثے کے اثرات ری ایکٹر سے 30 کلومیٹر دور تک بھی دیکھے گئے تھے۔ کراچی میں جہاں اس ری ایکٹر کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے، اس کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ گنجان آباد ہے۔ اگر ان ری ایکٹرز میں کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ علاقے سالوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جس کا لازمی طور پر پاکستانی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ فوکوشیما کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر آبادی سے خالی کروایا گیا تھا، اور چار سال گزر جانے کے باوجود وہاں پر لوگوں کو واپس نہیں جانے دیا گیا ہے۔ سوچیں اگر اس طرح کا کوئی حادثہ کراچی میں پیش آجائے، تو کیا کراچی کو خالی کروانا آسان ہوگا؟ اگر ہم دو کروڑ لوگوں کو شہر سے نکالنے میں ناکام رہے، تو وہ ایٹمی تاب کاری کی زد میں آئیں گے”۔
ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر اعتراض کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کا پہلے باقاعدہ طور پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ سندھ کی ساحلی پٹی میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پاکستان فشر فوک فورم، مزدوروں کے حقوق کی علمبردارتنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیبر، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ اور کئی دیگر تنظیموں نے ایٹمی بجلی گھروں کے ان نئے منصوبوں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو خطرات میں گھرنے اور طویل المدتی گھاٹے کے سودے سے تعبیر کیا۔سندھ ہائی کورٹ میں پروفیسر پرویز ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ نہیں کرایا گیا اور حادثے کی صورت میں لوگوں کے انخلا کا ہنگامی پروگرام بھی دستیاب نہیں۔عدالت کے حکم پر منصوبے پر کئی ماہ تک حکم امتناعی رہا لیکن بعد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی یقین دہانی کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔بہتر ہوگاحکومت پاکستان نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے باقی حصوں سے بھی ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے ختم کردے کیونکہ نندی پور پاور پروجیکٹ سےصرف مالی نقصان ہورہا ہے جو کرپشن پر قابو پاکر ختم کیاجاسکتا ہے، لیکن ایٹمی بجلی گھروں سے مالی اور جانی دونوں طرح کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج ہے اس لیے کراچی جیسےگنجان آباد شہر کے نزدیک ایٹمی بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔ بہت سے لکھاری اپنے قلمی لاؤڈ اسپیکروں پر ہر سال قائد اعظم کے عقیدے اور ان کی 11اگست کی تقریر کا حوالہ دے کرملک کو سیکولر جمہوری ریاست بنانے یا اسلام کا قلعہ ثابت کرنے کا کام شروع کر دیتے ہیں ۔ محمد علی جناح سے عقیدت اور فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ بابائے قوم کے فرمودات و عقیدے کو اس زمانے کے سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جناح ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔ بانی پاکستان نے امریکی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کی حکومت مذہبی حکومت یعنی تھیا کریسی نہیں ہو گی ۔نہ ہم ایسی خالص مذہبی حکومت پر یقین رکھتے ہیں “(گم گشتہ قوم صفحہ 283) جناح کی وفات کے فوراً بعد جناح کے تصور ریاست سے انحراف کا آغاز ہوگیا تھا۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب اس نوزائیدہ ریاست کے کمزور جسم پر پر قراردادمقاصد کی مقدس چادر چڑھا کر پاکستان کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ بعد کے حالات اس بات کی پوری غمازی کرتے ہیں کہ جو لوگ راستوں کے راہزن اور ڈاکو تھے انہوں نے جناح شناسی کا تاج اپنے سروں پر سجا کر قافلوں کی رہبری کا ٹھیکہ اُٹھا لیا۔
کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں
11اگست کو دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے مندرجات سینسر کیے جانے کے باوجودان کی سیاست سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے ذہن میں کیسا پاکستا ن تھا اوراس کے کیا خدو خال ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ قائد اعظم ہمارے ساتھ بہت عرصے تک نہیں رہ پائے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اور اقدامات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے ۔ ان کے اقدامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہر فیصلے کی بنیاد جمہوریت ، مذہبی رواداری اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر رکھی تھی۔ انہوں نے اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم جیسے ٹھوس اور مضبوط اصولوں کو ہی پاکستان کی تعمیر کے لیے لازمی عنا صر قرار دیاتھا جو ایک فلاحی ریاست کے خدوخال کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں ۔انہوں نے جوگندر ناتھ منڈل کو وزارت دی اور سر ظفرا للہ خان کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا۔ان کے دلیرانہ اورحکیمانہ فیصلوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوری سوچ پروان چڑھانا چاہتے تھے ۔ کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں۔ انہوں نے کئی نامور عمائدین اور سیاست دانوں کو چھوڑ کربہترین نظم و نسق رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اہم ترین وزارتوں کے قلمدان سونپےخواہ ان کا مذہب، عقیدہ یا مسلک کچھ بھی ہو۔جناح صاحب کو ایک مذہب پرست رہنما ثابت کرنے والے لوگ وہی ہیں جو ماضی میں قائد اور دیگر مسلم لیگ رہنماؤں پر غیر مسلم ہونےکے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔
متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
صاحب الرائے اور ذی شعور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جناح صاحب کو متنازعہ بنانے کے لیے ان کا عقیدہ کون لوگ جاننا چاہتے تھے؟ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آج بھی کسی کی سچائی ، دیانت اور صداقت کو الزام تراشی سے آلودہ کرنا ہو تواس کے عقیدے کو مشکوک بنادیا جاتا ہے۔ آج بھی سرکار ہر پاکستانی کے عقیدے کو اپنے میزانِ عدل میں تول کر ملک کی خدمت کا موقع دیتی ہے جس کا مظاہرہ 1974ء میں احمدیوں کے ساتھ کیا گیا۔ ان عالم فاضل اکابرین امت نے جناح کے بے داغ کردار پر طنزو تشنیع کے زہر میں ڈوبے الفاظ کے کوڑے برسائے ۔سر عام گالیوں سے نوازا گیا پھر بات نہیں بنی تو جناب کے عقیدے کے بارے میں ہرزہ سرائی کی گئی ۔ ستم ظریفی یہ کہ وہی طبقہ آج جناح کو مردمومن ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کبھی انہیں مسلمان ماننے کو تیار نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
کسی بھی سیاسی رہنما کے عقیدے سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ہر جائزوناجائز ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔احراری علماء مبینہ طورپر قائد اعظم کے بارے میں جھوٹ ، دروغ گوئی سے مسلسل کام لیتے رہے وہ یہاں تک کہتے تھے کہ قائد اعظم کو جب کلمہ طیبہ پڑھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ

“I know Muhammad, i know Allah , but who is the Third Gentleman Rasoolallah”

(یعنی میں محمد اور اللہ کو تو جانتا ہوں لیکن یہ تیسرا شریف آدمی رسول اللہ کون ہے )۔تحریک پاکستان میں شامل جانثاروں اور وفاداروں کو بابائے قوم کے اعلی ٰ کردار سے متنفر کرنے کے لیے مذہب اور عقیدے کومتنازعہ بنانے جیساقبیح مگر آزمودہ حربہ استعمال کیا گیا۔اس وقت کے معروف عالم دین اور مفسر اسلام نے بانی پاکستا ن کے بارے کیا کیاگوہر افشانیاں کیں ان میں سے چند ایک کی مثالیں پیش خدمت ہیں۔مفسر اسلام ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ
“محمد عل جناح جنت الحقماء (احمقوں کی جنت )کا بانی اور ااجل فاجر (گنہگار انسان )ہے ۔”(ترجمان القران فروری 1946ء صفحہ 153)
“مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے “۔(ترجمان القران جلد نمبر 28صفحہ 145اشاعت پٹھان کوٹ)
“محمد علی جناح کا مقام مسندِ پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے ۔”(ترجمان القران ۔جلد نمبر 31۔صفحہ 62.۔اشاعت 1948ء)
محمد علی جناح کے عقیدے سے متعلق ہر دو طرح کے رحجانات پائے جاتے ہیں، کچھ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں اور کچھ انہیں مرد مومن ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ تا ریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہی مسجد کے خطیب جناب مولوی غلام مرشد صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد گواہی دے ڈالی کہ دوران گفتگو مولانا قائد اعظم نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے ۔ایک اور صاحب نے بھی قائد اعظم کی بر گزیدگی اور تقدس کی داستان تصنیف کرتے ہوئے لکھا کہ “حضرت قائد اعظم اور ان کا پورا خاندان سیدھے سادے عقائد رکھنے والے مسلمان تھے۔قائد اعظم نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور بہادر یار جنگ سے قرآن با تفسیر پڑھا ” (مقالہ : حضرت قائد اعظم اور اسلامی نظریہ جمہوریت ۔مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور 30دسمبر 2005ء)۔یعنی ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے۔ دوسری جانب ایک طبقہ قائد کے عقیدے کو مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں چونکہ بابائے قوم اہل تشیع تھے تو ہو سکتا ہے کہ قائد کے صاف و شفاف کردار کو طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کرنے والوں کے مضطرب دلوں میں یہ خوف اور خطرہ گھر کر گیاہوکہ کہیں بابائے قوم کی ہم مسلک اقلیت نوزائیدہ مملکت کی وارث نہ بن بیٹھے ۔
ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے
یہ امر افسوس ناک ہے کہ قائد اعظم کے عقیدے اور طرز ریاست کو اپنی سوچ اور زاویے کی طرف موڑنے والے آج بھی جناح کے عقیدے اور سیاست کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالف اسی ملائیت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردوں کی پرورش گاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ آج جب فتویٰ فیکٹریوں کے دھوئیں نے پورے ملک کی پر امن فضا کو گھٹن زدہ بنا رکھا ہے تو اس کی صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ان دھڑادھڑ چلنے والی فتویٰ فیکٹریوں کی بنیادیں اقبال اور قائد ہی کے عہد میں کھودی گئی تھیں ۔ان فتویٰ بازوں کی باقیات آج بھی قائد کے مزار پر دعائے خیر کرنے سے علی الاعلان انکاری ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی رہنماوں کے عقیدے کی بجائے ان کی سیاست کی بنیاد پر ان کی حمایت اور مخالف کی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تاریخی شخصیات کو کسی مخصوص نظریے، عقیدے یا مسلک کے تحت رنگنے کی بجائے اس کے صحیح سیاق وسباق میں معروضی انداز میں سامنے لایا جائے۔