Categories
نقطۂ نظر

ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تسلیم کریں

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی شہر کے چھ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں 1520 نشستوں کے لیے 5401 امیدواروں میں مقابلہ ہوا، اس سے پہلے اپنی انتخابی سرگرمیوں میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کراچی میں اصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو جماعتی اتحاد کے درمیان تھا۔ اے این پی تقریباً مقابلے سے باہر تھی جبکہ پیپلزپارٹی کو بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے بہت کم امیدوار تھے اور اسے اپنے گڑھ لیاری میں کل 15 میں سے صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے میدان مار لیا ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ آئندہ میئر ایم کیو ایم کا ہی ہو گا۔ ترازو اور بلے کا اتحاد ناکام ہوگیاہے جیسا کہ میں نے 24 نومبر کو اپنے ایک مضمون “کراچی میں ایم کیو ایم کا ہلکا پھلکا مقابلہ” میں لکھا تھا کہ “بظاہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ہی مضبوط پارٹی ایم کیو ایم ہے جس کا ہلکا پھلکا مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے ہوگا” تو بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

 

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔
کسی بھی تجزیہ نگار نے ایم کیو ایم کی شکست کا نہیں سوچا لیکن اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ رینجرز آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوم کمزور ہوئی ہے اس لیے اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کے بقول اُنہیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی ہے۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کی مجموعی 456 نشستوں میں سے ایم کیو ایم نے 254 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پیپلزپارٹی 39 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، 34 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ دیگر جماعتوں کے 63 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کراچی میٹروپولیٹن کی یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کی 246 نشستوں میں سے 135 ایم کیوایم، 32 پیپلزپارٹی، 8 جماعت اسلامی، 9 تحریک انصاف، 9 مسلم لیگ نواز، 3 جے یو آئی، ایک اے این پی اور 24 آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔ کراچی کے سب سے بڑے ضلع وسطی میں ایم کیوایم نے مخالفین پرجھاڑو پھیر دی، 102نشستوں میں سے 100 پر ایم کیو ایم کامیاب ہوئی اور صرف دو نشستیں پیپلزپارٹی کے حصے میں آئیں (تمام اعدادوشمار دستیاب معلومات کے مطابق درج کیے گئے ہیں نتائج کے حتمی اعلان تک ان میں کسی بھی تبدیلی کی ذمہ داری مضمون نگار پر نہیں ہوگی)۔

 

ایم کیو ایم پر کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی جاتی رہی ہے، اس سال فروری اور مارچ میں نہ صرف ایم کیو ایم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگے بلکہ اس کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا بھی مارا۔ ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سے رینجرز کے چھاپے کے دوران مبینہ طور پر بھاری اسلحہ برآمد ہوا تھا اور مفرور و مطلوب افراد بھی پکڑے گئے تھے۔ کراچی کی 85 فیصد نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پرتو اُس کے قیام کے وقت سے ہی الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ایم کیو ایم عام اور بلدیاتی انتخابات جیتنے کا ریکارڈ قائم کرتی چلی جارہی ہے۔ وجہ بڑی سادہ ہے کہ دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے اس لاوارث شہرکراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، لہٰذا کراچی کے شہریوں اور خاص کر مہاجروں کے پاس صرف ایم کیو ایم ہے جو یہاں کے شہریوں کے حق میں کسی حد تک آواز بلند کرتی ہے۔

 

موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان کشیدگی کی زیادہ اہمیت رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ رینجرزکا کہنا ہے کہ آپریشن کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔ حالات اور واقعات کی روشنی میں سیاسی تجزیہ نگار ایم کیو ایم کی موجودہ کامیابی کو بھی ماضی جیسا ہی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات کی خبروں میں کہا جارہا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے بڑے بڑے برج اُلٹ گئے۔ لیکن یہ بڑے برج ہیں کون؟ حافظ نعیم الرحمٰن اور علی زیدی؟ کیا خدمات ہیں ان کی کراچی کے لوگوں کے لیے اور کراچی میں کتنے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ ان کی غیر مقبولیت کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں سے ہار گئے جو ایم کیو ایم کے غیرمعروف امیدوار تھے۔ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمٰن کو ایم کیو ایم کے غیرمعروف مظہر حسین نے شکست دی، مظہرحسین نے 3205اور حافظ نعیم الرحمان نے 712ووٹ حاصل کیے، حافظ نعیم الرحمان نے اسے کھلی دھاندلی قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا ہے رینجرز نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ کہ الیکشن کمیشن بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہا، جبکہ تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔

 

تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔
جماعت اسلامی نے این اے 246 میں اپنی ضمانت ضبط ہونے جیسے نتائج سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد کے ذریعے فوائد سمیٹنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس انتخابی اتحاد کے پیچھے جماعت اسلامی کی سوچ یہ تھی کہ اگر جماعت اسلامی کچھ حلقوں میں انتخابات نہ بھی جیت پائی تو وہ کم از کم بدترین شکست سے بچ جائے گی۔ جماعت اسلامی کی پوری کوشش تھی کہ وہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی برتری ثابت کرسکے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےتمام بلدیاتی حلقوں میں توحصہ نہیں لیا لیکن آدھے شہر میں اس نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اور 35 فیصد کوٹہ جماعت اسلامی کو دیا جبکہ تحریک انصاف کو پتہ تھا کہ کراچی کے شہریوں کو جماعت اسلامی کا تجربہ پہلے سے ہے۔ جماعت اسلامی کو کئی بار آزمایا جاچکا ہے، تین بار شہر کی میئرشپ بھی جماعت اسلامی کے پاس رہ چکی ہے۔کراچی کے شہری پی این اے اور دوسرے اتحادوں کی سیاست دیکھ چکے ہیں لہٰذا اتحادوں کی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔ ویسے بھی کراچی کے شہری لبرل انداز زندگی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا کراچی کے شہری طالبان دہشت گردوں کے حامیوں اور سہولت کاروں کو ووٹ نہیں دیتے۔ اگرچہ عمران خان بھی طالبان کے ہمدردوں میں سے ہی ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو ‘لبرل’ بھی کہتے ہیں، کراچی میں تحریک انصاف کا جماعت اسلامی سے اتحاد عمران خان کی ایک بڑی غلطی تھی جو بدترین شکست کی صورت میں اُن کے سامنے آیا ہے۔

 

اگرچہ تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد میں جماعت اسلامی کا حصہ زیادہ تھا لیکن جماعت اسلامی کے رہنماوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹر جماعت اسلامی کےاُمیدوار کو ووٹ دے گا۔ پانچ دسمبر کے بلدیاتی انتخابات میں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد، ایم کیو ایم کے مدمقابل تھا لیکن شہر میں سیاسی منافقت کے کافی مناظر بھی دیکھے گے۔ بعض حلقوں میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کی اتحادی تھے۔ یکم دسمبر کو جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن میڈیا کے سامنے کراچی کے لیے اپنا پروگرام بتارہے تھے ٹھیک اُسی وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، اسٹیل مل کے علاقے گلشن حدید میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے مشترکہ جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے صدر اسماعیل راہو بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو ترازو کا نشان پوسٹر پر چھاپنے سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اُس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی۔ سب سے دلچسپ منظر اورنگی ٹاؤن کی ایک یونین کونسل میں تھا، جہاں ایم کیوایم کے مقابل انتخابی اتحاد میں مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی اور عمران خان کی پی ٹی آئی ساتھ ساتھ موجود تھے۔

 

کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت دے کر کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو مسترد کردیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو کراچی کے لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا، کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت میں کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو بڑی بے دردی سے مسترد کردیا، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مفاد اور سمجھ بوجھ کے تحتمناسب فیصلہ کیا ہے۔ جیسے اندرون سندھ والوں نے پیپلز پارٹی کو اور پنجاب والوں نےمسلم لیگ (ن) کو کامیاب کروایا ہے اور کوئی اُن کے خلاف آواز نہیں اٹھارہا ہے۔ مجھے ایم کیو ایم سے اختلاف رہتا ہے، لیکن یہ کراچی کی اکثریت کا فیصلہ ہے، جمہورت میں اکثریت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، اس لیے میں لاکھ اختلاف کروں لیکن مجھے ور مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام مخالفین اور ناقدین کو یہ جمہوری فیصلہ قبول کرنا چاہیئے۔ آپ کا یا میرا ایم کیو ایم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ہمیں کراچی کے لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ یہ جو سوشل میڈیا پر مہاجر مہاجر کے تعصب سے بھرپور تبصرے ہورہے ہیں تو تبصرے کرنے والوں کے لیے یہ اطلاع ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے بیشتر مہاجر ہیں، جن میں ایم کیو ایم کےوسیم اختر، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن اور تحریک انصاف کے علی زیدی بھی شامل ہیں، ویسے بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود بتاچکے ہیں کہ وہ بھی آدھے مہاجر ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایم کیو ایم کو بھرپور مبارکباد دیں۔ دل بڑا کیجیئے، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔
Categories
خصوصی

اظہار عامہ کی بازیابی کیا ہے؟

پبلک اسپیس کا ترجمہ اگر مقامات عامہ جیسے سیر گاہیں، کھیل کے میدان، بس اڈے، چائے خانے، ریستوران، عوامی ہوٹل اور فٹ پاتھ کے طور پر کیا جائے تو یقیناً اظہار عامہ کا مکمل مفہوم ادا کرنا اوراس مرتبہ کے خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز کی غرض وغایت کوسمجھنا ممکن نہ ہوگا۔ اظہارعامہ کی بازیابی سے مراداس سازگارماحول کی بازیابی ہے جس میں شام کو ہمسائے کسی تھڑے پرموڑھے ڈالے خانہ ساز چائے اور چٹ پٹے پکوڑوں کے سنگ گرما گرم بحث میں مشغول ہوں جس میں ہارجیت کی فکرنہ ہو۔ اس سے مراد پنواڑی کے بینچوں پرایسا مکالمہ ہے جس میں ہرکوئی اپنی بات کہہ سکے،جگت لگاسکےاوراختلاف رائےکی صورت میں شرطیں بد کردوستی گانٹھ سکے۔اظہارعامہ کی بازیابی بلا خوف و خطر، اظہار رائےکی وہ آزادی ہے جو بس اسٹینڈ پر بیٹھے اجنبی منتظیرین کے مابین مختصرگفتگوسے لے کر کھلے بندوں احتجاج کے حق تک وسعت رکھتی ہے۔ یہ اس اعتماد کا نام ہے جس کے بعد اپنے خیالات کسی نادیدہ خوف کی وجہ سے چھپانے نہ پڑیں، یہ اس مساوات کا نام ہے جس کے تحت کسی کا حلیہ یا شباہت موضوعات بدلنے پرمجبورنہ کرے۔ یہ امتیازی سلوک سے عاری وہ ماحول بھی ہے جس میں داڑھی مونچھ کےگھٹنے بڑھنے، آنکھوں کے آریائی یا منگول بناوٹ کے ہونے، رنگ سرخ سفید یا کالے ہونے یا زبان کے پنجابی، پشتون، سندھی و بلوچی ہونے سے خوف کے دائرے نہ گھٹیں نہ بڑھیں۔ ہم کیا ہیں اس سے ہمیں خود اور نہ ہی کسی اور کو کوئی خوف ہو اور ہم عوامی مقامات پر بلا جھجھک بات چیت اور میل جول رکھ سکیں۔

khudi-festival-of-ideas-pic1

چلو چلو فیسٹول آف آئیڈیاز چلو
میرے لیے تو فیسٹیول آف آئیڈیاز کی شروعات لاہور ریلوے اسٹیشن پر بزنس ایکسپریس کی بوگی نمبر 4 میں بیٹھنے سے ہی ہوگئی تھی۔ اپنی برتھ پر بیٹھ کر ساتھی مسافروں کے خیالات سے محظوظ (اور بعض اوقات کوفت زدہ) ہوتا ہوا میں کراچی کی جانب رواں دواں تھاکہ اسی میلے میں شرکت کے لیے کراچی جانے والے بعض دوستوں سے ملاقات ہو گئی، کچھ تو اسلام آباد سے آرہے تھے اور کچھ ہمیں خانیوال میں آملے۔ میرے لیے ٹرین کا سفر ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے بشرطہ کہ آپ آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اورگپ شپ جاری رکھیں۔ ہر سٹیشن پر نئے لوگ، نئی باتیں، نئے خیالات اورنئےمقامات۔ میری صلاح مانیے اور پورے پاکستان کا ٹرین کی اکانومی کلاس میں سفر کر لیجیے، خیالات کا اک دریا ہے جس میں غوطے کھاتے جائیں گے۔ بیس گھنٹے خیالات کی اس دھار پربہتے ہم بالآخر جامعہ کراچی جا پہنچے جہاں خودی کا فیسٹول آف آئیڈیازہمارا منتظرتھا۔
نوجوانوں میں شدت پسندی کی روک تھام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم خودی نے اظہارعامہ کی بازیابی کے لیے اس بار کے فیسٹول آف آئیڈیاز کو ایک ایسے عوامی ڈھابے کی شکل دی جہاں اختلاف رائے اوراظہاررائے کی آزادی سب کومیسر تھی۔ فیسٹول کے دوران اس عوامی ڈھابے پرکئی فکری نشستیں منعقد ہوئیں۔

khudi-festival-of-ideas-pic2

ایک نظر انداز شدہ المیہ
فیسٹول کا آغاز شام ساڑھے چھے بجے تعارف اور ڈاکٹر نعمان الحق کے ابتدائی خطاب سے ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خطاب میں اس بات کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ عوامی جگہیں ہر رنگ، قومیت اور مذہب کے لئے ہوتی ہیں اور حقیقی کشادگی ہمارے دلوں میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی نفی کی کہ عوامی جگہیں صرف سیاسی گفتگو تک محدود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے افتتاحی خطبہ کےبعد مشاعرے کا اہتمام ہوا۔ مشاعرے سے قبل سید محمد علی زیدی نے اپنی نظم “سب کتے کی موت مریں گے“سنائی۔ علی زیدی کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کی نظم انسانی المیے اورلوگوں کی بے توجہی کی اس اذیت ناک فراموشی کا مظہر تھی جومعاشروں کو بے حسی کی اندھی کھائی میں دھکیل دیتی ہے۔
گزرنے والی ہے گلیوں سے بادِ برگ آثار
کراچی کے نمائندہ شاعر ثروت حسین کے ایک مصرعے “گزرنے والی ہے گلیوں سے باد برگ آثار ” کے عنوان کے تحت منعقد کیے جانے والے مشاعرے میں کراچی کے نوجوان شعراءنے شرکت کی جبکہ صدارت جدید نظم اورغزل کے لہجہ ساز شاعرافضال احمد سید نے کی۔ مشاعرے کی نقابت افتخار حیدر نے کی جنہوں نے اپنی نظم” غزہ کی پٹی بلا رہی ہے” سے مشاعرے کا آغاز کیا۔ مشاعرے میں اسدفاطمی، شبیر نازش، سید کامی شاہ، توقیر تقی،سید کاشف رضا اورکاشف حسین غائر نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کا اختتام افضال احمد سید کے کلام پر ہوا۔ افضال احمد سید صاحب نے اپنی نظمیں ہمارا قومی درخت،تمہاری انگلیاں اور گلدستے اور دعوت نامہ سنائیں۔ سامعین اور شرکاء کی فرمائش پر آپ نے اپنی غزل “کہیں لکھا ہونہ میرے ہاتھ سے خوں اس کا” کے چند اشعار اور “ایک خشت اگر کنگرہ ایوان پہ رکھنا” بھی شائقین سخن کی نذر کی۔
کہیں لکھا ہو نہ میرے ہاتھ سے خوں اس کا
بہت دمکتا ہے رخسار لالہ گوں اس کا
اسے کہو کہ بہت نامراد شے ہے جنوں
اسے کہو کہ مجھے بہت جنوں ہے اس کا

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/185212768″ params=”auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true” width=”100%” height=”450″ iframe=”true” /]

 

قوالی کی آٹھ سو سالہ روایت
مشاعرے کے بعد محفل قوالی کا انقعاد کیا گیا جہاں حمزہ اکرم اور ان کی قوال پارٹی نے صوفیاء کا امن اور بھائی چارے پرمشتمل پیغام سروں کے سنگ شرکاء تک پہنچایا۔ قوال بچہ یا دلی گھرانے کی روایت کے امین حمزہ اکرم اور ہم نوا نے استاد نصیر الدین سامی اور فرید ایاز قوال سے تعلیم حاصل کی ہے۔ محفل سماع کا آغاز “من کنت مولا” سے ہوا جس کے بعد حاضرین کی فرمائش پرمختلف قوالیاں پیش کی گئیں۔

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/185211902″ params=”auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true” width=”100%” height=”450″ iframe=”true” /]

 

اظہار عامہ کی حدود
دوسرے روز کے پہلے سیشن میں معروف ماہر تعمیرات عارف حسن اور آرٹسٹ دریہ قاضی نے اظہار خیال کیا۔ عارف حسن صاحب نے بتایا کہ انہوں نے چھے سال تک مختلف عوامی باغات میں لوگوں کے انٹرویو کیے اور دیکھا کہ لوگوں کا رویہ تبدیل ہورہا ہے، آج نوجوانوں اور جوڑوں کا پارکوں میں آنا بڑھ گیا ہے۔ عارف حسن نے کہا کہ ماحول بدل رہا ہے اور لوگوں سے اب نکاح نامہ نہیں مانگا جاتا۔ دریہ قاضی نے پاکستان کے گھٹن زدہ ماحول میں آرٹ کے ذریعےاظہار عامہ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست کے دوران ایک سوال کے جواب میں شرکاء نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سمیت ہر جگہ خوف کی فضا ختم کرنے پر زور دیا۔
مساجد ،حقوق اللہ اور حقوق العباد
مسجد دراصل ایک عوامی جگہ تھی جس کے دروازے تمام مذاہب کے لیے کھلے تھے لیکن یہ لوگوں کی اپنی نا اہلی ہے کہ انہوں نے ملا حضرات کے کفریہ فتاویٰ کو برداشت کیا ہے اور مساجد تنگ نظر لوگوں کے حوالے کر دیں۔
مساجد اورعبادت گاہوں میں بڑھتی ہوئی تنگ نظری اورمذہبی شدت پسندی کے باعث اظہار عامہ کی محدود ہوتی آزادی کے تناظر میں خالد ظہیر صاحب کے ساتھ گفتگو کا اہتمام کیا گیا۔ان کا کہنا تھا ” مساجد کیا صرف حقوق اللہ تک محدود ہیں یا یہ لوگوں کی بھلائی میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں”۔ خالد ظہیر صاحب نے کہا کہ مسجد دراصل ایک عوامی جگہ تھی جس کے دروازے تمام مذاہب کے لیے کھلے تھے لیکن یہ لوگوں کی اپنی نا اہلی ہے کہ انہوں نے ملا حضرات کے کفریہ فتاویٰ کو برداشت کیا ہے اور مساجد تنگ نظر لوگوں کے حوالے کر دیں۔ انہوں نے عورتوں کے مساجد میں جانے پر ممعانعت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوال کے جواب میں کہاکہ مسجد الحرم میں عورتوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہے تو ہمارے ملک میں اس کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ خالد ظہیر صاحب نے مذہبی اداروں کو سرکاری ضبط میں لانے کی حمایت کی اورشدت پسندی کا متبادل دینی بیانیہ رائج کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

khudi-festival-of-ideas-pic3

اظہار عامہ کی آزادی اور ذرائع ابلاغ
خودی ڈھابے میں اگلی بیٹھک کے شرکاء میں نازش بروہی ، سینئر صحافی مظہر عبّاس اور عالیہ چغتائی شامل تھے۔اس نشست کے دوران ابلاغ عام کے مروجہ اور گزشتہ ذرائع اوران پرمیسرآزادی پربحث کی گئی۔ اس دلچسپ گفتگو کے دوران مظہرعبّاس نے میڈیا کی آزادی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ آمروں، فوجیوں اورجرنیلوں کے نام تک حذف کر دیے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آج ذرائع ابلاغ حکومتی دباوسے کافی حد تک آزاد ہیں لیکن مالکان، دہشت گرد تنظیموں اورمفاداتی گروہوں کے دباو پرسنسرشپ کا عمل جاری ہے۔ مظہرعباس کے مطابق تجارتی گروہوں کےمفادات کا تحفظ کر کے ٹی وی چینلز اپنی سرمایہ کاری کا تحفظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے خلاف ماضی میں ہم نے لکھا تھا انہی کے ہاں آج ہم نوکریاں کرتے ہیں۔اس نشست کے دوران مدیران کے کم زور ہونے، ذرائع ابلاغ کی تقسیم اظہار رائے کی آزادی پر مذہبی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میڈیا دراصل ریاست کا ستون نہیں بلکہ ریاست کے ستونوں پر کڑی نظر رکھنے والا ادارہ ہے۔
طلبہ سیاست کا احیاء
جامی چانڈیو نے کہا کہ 1988کے بعد سیاسی جماعتوں کو طلباء کی ضرورت نہیں رہی،نوے کی دہائی کے دوران مزاحمتی اور نظریاتی سیاست کے زوال کے بعد سیاسی جماعتوں نے ضیاء دور کی مزاحمتی سیاست کی بجائےانتخابی سیاست کی جانب توجہ دینا شروع کر دی۔
ستر کی دہائی تک فعال طلبہ تنظیموں کی سیاست اور موجودہ سیاسی ماحول میں طلبہ سیاست کی ضرورت پر منعقدہ نشست میں جامی چانڈیو، ڈاکٹر مطاہر اور خرم علی نے شرکت کی۔ جامی چانڈیو نے کہا کہ 1988کے بعد سیاسی جماعتوں کو طلباء کی ضرورت نہیں رہی،نوے کی دہائی کے دوران مزاحمتی اور نظریاتی سیاست کے زوال کے بعد سیاسی جماعتوں نے ضیاء دور کی مزاحمتی سیاست کی بجائےانتخابی سیاست کی جانب توجہ دینا شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جہاں مزاحمت ہے وہاں طلبہ جدو جہد بھی ہے۔ ڈاکٹر مطاہر احمد نےطلبہ اور سیاست کو لازم و ملزوم قرار دیا،انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں استحصال ہے وہاں جدوجہد ہے۔ نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن کی نمائندگی کرتے ہوئے خرم علی نے کہا کہ ریاست نے جان بوجھ کر کیمپس میں تشدد کو فروغ دیا، آج کیمپسوں میں سیاست نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں نے غنڈے رکھے ہوئے ہیں۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ جس متشدد ماحول کو ریاست نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے فروغ دیا آج ریاست اسے روکنے میں ناکام ہوگئی ہے اورغیرریاستی عناصر کےسامنےبےبس کھڑی ہے۔ شرکاء نے طلباء تنظیموں کے احیاءسے اتفاق کیا اور کہا کہ معیاری تعلیم طلبہ تنظیموں کی بدولت ہی ممکن ہے۔ شرکاء نے طلبہ سیاست میں تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی بجائے پرامن طلبہ سیاست کی ضرورت پر زور دیا۔ نشست کے بعد خرم علی نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت پر بائیں بازو کی جدو جہد نے ریاستی اشرافیہ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا جس کی بدولت ان پر مخصوص جماعتوں کی چھاپ لگ گئی،ان کا کہنا تھا کہ بائیں بازو کی تحاریک آج بھی اس داغ کو دھونے میں مصروف ہیں۔

khudi-festival-of-ideas-pic4

عورت کہاں ہے؟
اظہار عامہ کے ذرائع پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر عورت پر ہوا ہے اور عوامی مقامات پرعورت کی نمائندگی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ خودی ڈھابے کی اگلی نشست کے دوران نازش بروہی، نغمہ اقتداراورمریم بی بی نے حقوق نسواں کی جدوجہد کے دوران اپنے تجربات سےشرکاء کو آگاہ کیا۔ نازش بروہی کا کہنا تھا کہ ہر زمانے میں ہر جگہ تبدیلی کا آنا لازم ہےاور عورتوں نے ہمارے پسماندہ معاشرے میں بھی اپنے لیے آزادی کی راہ تلاش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دراصل جدت کو روکنا نہیں بلکہ اسکی رہ متعین کرنی ہے۔ مریم بی بی نے طالبان سے متاثرہ علاقوں میں عورتوں کی جدوجہد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گھر سے لے کر طالبان تک ہمیں طالبان سے لڑنے کے لیے اپنے دلائل کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے طالبان سے انہوں نے ان کی ہی شرائط پر بچیوں کے سولہ سکول بنوائے۔ نغمہ نے کہا کہ آج آزادی تو بڑھ گئی ہے مگر آزادی فکر کم ہوگی ہے یہی وجہ ہے کہ گھر سے نکلنے والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ان کے خلاف تشدد بھی بڑھ گیا ہے۔ عورت فاونڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں تنگ نظر معاشرے میں ہم خیال مردوں کی مدد سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جتنے قوانین عورتوں کی بہبود کے لیے آئے ہے اتنے پچاس سال میں نہ آئے تھے۔

khudi-festival-of-ideas-pic5

کراچی؛ رام سے آرام باغ تک
صرف لائل پور ہی فیصل آباد میں تبدیل نہیں بلکہ اس ملک کی ہرگلی اور چوک سے اس کی اصل شناخت چھین لی گئی ہے۔
اپنی شناخت کو مسخ کرنے کےمسلسل عمل پر بات کرتے ہوئے معروف تاریخ دان اختر بلوچ نے کراچی کی ان کہی کہانی بیان کی۔ان کا کہنا تھا کہ صرف لائل پور ہی فیصل آباد میں تبدیل نہیں ہوا بلکہ اس ملک کی ہر گلی اور چوک سے اس کی اصل شناخت چھین لی گئی ہے۔ اختر بلوچ نے موتی لال نہرو سڑک کے جگر مراد آبادی روڈ اور رام باغ کے آرام باغ میں تبدیل کیے جانے تک پہچان اور شناخت سے بے وفائی کی دلخراش داستان بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے “فاتحین ” ہمارے معاشرے کی ہمہ گیریت کے خاتمے اورایک تنگ نظر اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

khudi-festival-of-ideas-pic6

استحصال کرنے والوں کی کوئی شناخت نہیں
میلوں میں راتیں نہیں سوتیں ،میں ان تین دنوں میں خودی میلے کے شرکاء سے مسلسل رابطوں میں رہا، ہر ایک سے تعارف، ہر ایک سے خوش گپیاں۔ یہ حساس اور سوچنے والے ذہن ہیں، اپنے اپنے علاقوں کے نمائندے، اپنے اپنے المیے کے ساتھ امیدوں کے چراغ جلائے ہوئےتھے۔ کسی دانا نے کہا تھا کہ اس دنیا میں خوشی کے لیے بہت بے حس ہونا پڑتا ہے، شاید ان کی حساسیت ہی ان کی کمزوری تھی۔ ان میں کہیں ہزارہ برادری کی نمائندہ لڑکیاں تھیں تو کہیں بلوچستان و سندھ کے طلبہ، کوئی گلگت بلتستان کےغم اور شکوے سناتا تھا تو کوئی فاٹا کی محرومیوں کی دہائی دے رہا تھا۔ کشمیر کے باسیوں کی داستان بھی سنائی دی جو آج بھی اپنے ہی وطن کی جنت کو ترستے ہیں۔ ایک پنجابی ہونے کی حیثیت سےجسے دوسرے صوبوں کے لوگ استحصال کنندہ اشرافیہ کا نمائندہ سمجھتے ہیں، میرے پاس ان کے سوالات کا جواب نہیں تھا۔ ہاں مگر میں انہیں بتاتا تھا کہ جس پنجاب میں رہتا ہوں، وہاں میں کتنے ہی تھر دیکھتا ہوں، کتنی ہی ملالائیں، کتنے ہی اقبال مسیح اور کتنے ہی گوجرہ۔ میرا ماننا ہے کہ اشرفیہ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ قومیت۔ان کے مظالم سے پنجاب کے لوگ بھی اتنے ہی متاثر ہے جتنے کہ دوسرے صوبوں کے لوگ۔ مگر ریاست سے ناراضی کااظہار ہر خطے نے کیا، وہ ریاست جو لوگوں نے باہمی ربط کے لیے بنائی، آج وہ ہی انہیں نگل رہی ہے۔
زبانوں کا مستقبل
اس میلے کی آخری بیٹھک زبانوں کے مستقبل سے متعلق تھی،اس نشست میں آصف فرخی، وسعت اللہ خان، محمد حنیف اورژولیاں شریک ہوئے۔ محمد حنیف نے کہا کہ طاقت اور ستم گری کی زبان اگر اردو ہے تو لازماً رابطے کی زبان اردو ہی ہوگی۔ ژولیاں نے کہا کہ کہ آج پاکستان میں دس بارہ زبانیں معدوم ہونے کا اندیشہ ہے۔ ژولیاں کے خیال میں زبان تب ختم ہوتی ہےجب ماں باپ اپنے بچوں سے اس میں بات کرنا چھوڑدیتے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ لوگ مادری زبان کےعلاوہ کوئی زبان تب ہی سیکھتے ہیں جب معاش اس سے جڑی ہو۔ وسعت اللہ خان کے مطابق مادری زبان کی مضبوط بنیاد دیگر زبانوں سے واقفیت میں معاون ہوتی ہے۔ شرکاء نے پاکستان میں ہندوستان کی طرز پر لینگوئج بل لانے اورتمام زبانوں کو قومی زبانیں قراردینے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کے متعلق اگر ہمارا رویہ یوں ہی رہا تو خدشہ ہے کہ اگلی نسلیں شاید گونگی پیدا ہوں۔

khudi-festival-of-ideas-pic7

خودی کی بیٹھک اگرچہ اختتام کو پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان ایسی بیٹھک ہے جہاں ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اپنی زندگیاں گزاریں گی، جس میں متعدد اقوام، مذاہب، فرقوں اور قومیتوں کے افراد بستے ہیں۔ ہماری منزل یقیناًایک ایسا پاکستان ہے جہاں بڑے بڑے مسائل برداشت، حوصلے اور باہمی افہام و تفہیم سے حل ہوں اورسبھی کو اظہارعامہ کے ذرائع تک رسائی ہو۔
Categories
نقطۂ نظر

Informal Settlements and its Repercussions on Karachi

Presumably, larger the population of a city, greater the issues it will have. Based on this assumption, since Karachi is home to 21 million people, the number of issues is high. The city has sustained extreme violence for many years. Besides this fact, there are several other factors which need to be addressed on time, otherwise they will radically shake the structure of the urban society. Arif Hasan – an architect, author and activist – presented his concerns about the emerging threats in a seminar organized by The Pakistan Institute of International Affairs. He raised various issues in his precise presentation and the issue of informal settlement (Katchi Abadis) was one of his main concerns. Moreover, I conducted various interviews after Arif’s comprehensive speech in order to collect some more ground facts.

The overall division of Karachi’s territory is such that 36 percent of it is utilized for residential purposes, 74 per cent has been formally developed and 22 per cent informally. It is important to note here that 62 per cent of Karachi’s total population lives in the 22 per cent informally-settled area. Informal settlements are mainly situated close to the city’s economic zones where the lower-middle class constitutes the majority. Moreover, informal settlements are rapidly increasing because informal developers are under the patronage of political parties. Consequently, it has severely impacted society’s structure and the densification of population.

It is noteworthy that 200 to 400 square yards houses are two percent of the total constructed buildings, but they occupy 31 percent of the residential land. On the other hand, houses built on 120 or lesser square yards make up 88 per cent. These figures show that smaller units are increasing and as a result, nowadays it is quite common that 6 to 10 persons live in one room.

It is noteworthy that 200 to 400 square yards houses are two percent of the total constructed buildings, but they occupy 31 percent of the residential land. On the other hand, houses built on 120 or lesser square yards make up 88 per cent. These figures show that smaller units are increasing and as a result, nowadays it is quite common that 6 to 10 persons live in one room. This might be a positive element from the perspective of social bond theory because individuals are attached and create strong social bonds, which can be important for dealing with any kind of hazards. However, this densification of population has several onerous consequences on individuals, households and society, which have to be taken into account.

Arguably, Karachi has the highest crime ratio among all cities of Pakistan. Mugging and snatching have drastically increased. Arif explains, as studies suggest, this uneven and informal densification paves the way for the formation of gangs. Poverty and lack of education and resources in these areas are among the main causes for crime. A mother of six children named Farzana told me that she cannot monitor her children during playtime since Katchi Abadis are becoming more and more conservative. There was a time when mothers used to sit at the doorsteps to keep a watch on their children and also, for socializing with neighbors. However, due to rising presence of unknown people in the neighborhood and increasing conservatism, it is impossible to do so now, she added.

One can observe the rise of tall buildings in Katchi Abadis having 10 to 15 floors. These buildings do not have lifts because they have been illegally developed by informal developers, also to maximize profit and keep the costs as low as possible. Thus, they lack appropriate planning and facilities. As Arif quotes, this lack of facilities has an adverse impact on children and older aged people. Furthermore, he has witnessed that there are many older aged people who are kept in house for many months because of their inability to use stairs. 67-year old Maqbool, resident of Korangi’s Katchi Abadi, told me in an interview that he is confined to his house and has not gone out for the past eight months. The last time he has gone out was in fact for Eid prayers.

“Even if we get over ethnic violence and even if we get over terrorism, this city is going to continue to have strife and conflict”

Sindh Building Control Authority (SBCA) is a regulatory and supervisory body whose function is to regulate, approve and demolish dangerous buildings. The main problem is, as Arif briefs, that no SBCA rules and regulations are followed in the construction of these unplanned and informally developed buildings. In addition, the foundations of these buildings are normally weak and thus can collapse in the case of an earthquake. Apart from this, political influence and rampant corruption are considerably two factors behind SBCA’s incompetency. “We always fear that these buildings collapse anytime”, told a resident of a 12 story complex.

There are several other issues in these informal settlements such as lack of toilets, gas and electricity. Furthermore, rents in these localities are surging. The young generation usually stays away from home, becoming especially vulnerable to drug addiction and often resorting to crime.

“Even if we get over ethnic violence and even if we get over terrorism, this city is going to continue to have strife and conflict”, Arif argues. It seems true that other prevalent issues of this city will continue to affect the social fabric of the urban society. Informal settlement is a stern issue which must be addressed. A possible solution is more effort on planned or formal housing. Authority needs to allocate land to informal settlers and it should check unauthorized and informal developers. Existing informal settlements need to be checked and eventually included in in planned housing strategies. Otherwise, this city will always be deprived of peace and stability.