Categories
نقطۂ نظر

الطاف حسین اورایم کیو ایم کا مستقبل

مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد ایم کیو ایم ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہوئی، جب کراچی میں پاکستان تحریک انصاف نے 8 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے19 مئی کو کارکنوں کے اجتماع میں رابطہ کمیٹی کو معطل کر دیا، جبکہ کارکنوں کی جانب سے کئی رہنماؤں کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی تھی۔ تاہم اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کے معروف رہنماؤں نے یا تو پارٹی چھوڑدی یا پھر انہیں ایک طرف کردیا گیا۔ گذشتہ سال 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا مارا اور کافی لوگوں کو گرفتار کیا، گرفتار ہونے والوں میں ایسے لو گ بھی تھے جن کو عدالت سے سزائے موت کی سزا مل چکی تھی۔ ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا تھا جبکہ 25 فیصد نےاس کو غلط قرار دیا۔ ایم کیو ایم کو اپنے قیام کے بعد کئی مرتبہ اتارچڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس جماعت کے خلاف تین بار آپریشن کیا جا چکا ہے، ریاستی سرپرستی میں اس کی دھڑے بندی کی جا چکی ہے، اس جماعت کے سربراہ جلاوطن ہیں لیکن اس جماعت نے جنرل اسلم بیگ اور جرل پرویز مشرف کے زمانے میں مکمل اختیارات اور طاقت کا مزہ بھی چکھا ہے۔ فوجی کارروائیوں، مقدمات اور مشکلات کے باوجود اس جماعت کا ووٹ بنک اپنی جگہ برقرار رہا ہے اور یہ جماعت ہمیشہ سندھ کے شہری علاقوں سے جیتتی آئی ہے۔

 

اگرچہ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین 24 سال قبل پاکستان چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے تھے لیکن ایم کیو ایم کی سیاست ان ہی کی مرہون منت ہے۔
2013 سے کراچی میں جاری ریجرز آپریشن سے ایک بار پھر اس جماعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ عام انتخابات کے قریب تین سال بعد 3 مارچ کی صبح سابق میئر کراچی مصطفی کمال اور متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سابق ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی کراچی پہنچے۔ اسی دن شام کو مصطفی کمال نے ایک پریس کا نفرس کی جس میں ان کے ہمراہ انیس قائم خانی بھی موجود تھے، مصطفی کمال نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سنگین الزامات کا نشانہ بنایا، جن میں الطاف حسین کےبھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے تعلقات اور ‘منی لانڈرنگ’ سر فہرست ہیں۔ مصطفی کمال نے مختلف جرائم اور جرائم پیشہ لوگوں کے جرائم کا ذمہ دار بھی الطاف حسین کو قرار دیا۔ اپنی بات کو صرف دس منٹ میں ختم کرنے کا کہہ کر مصطفی کمال 3 گھنٹے میں بھی اپنی بات مکمل نہیں کرپائے اور ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ہر پیر اور جمعرات کو ایم کیوایم کو آفٹرشاک کے جھٹکے دے رہے ہیں، رضا ہارون کی ایم کیو ایم سے علیحدگی ان کا ایک تازہ جھٹکا ہے۔ مصطفی کمال کے علاوہ رضا ہارون نے بھی بتایا کہ الطاف حسین ہر وقت نشے کی حالت میں ہوتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ رات کو وہ الزامات لگاتے ہیں اور صبح کو معافی مانگ لیتے ہیں۔

 

مصطفی کمال اس وقت آزادی سے الطاف حسین کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں الطاف حسین پرچند ماہ قبل لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ میڈیا نہ تو ان کے بیانات کو نشر کرسکتا ہے اور نہ ہی انہیں شائع کر سکتا ہے، یہاں تک کہ ان کی تصویر یا تصویری جھلکیاں بھی نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ پابندی چند ماہ پہلے ان پر لاہور ہائیکورٹ نے عائد کی تھی، جس کی وجہ ان کی کچھ متنازع تقاریر ہیں، جنہیں اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین 24 سال قبل پاکستان چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے تھے لیکن ایم کیو ایم کی سیاست ان ہی کی مرہون منت ہے۔ ایم کیو ایم روز اول سے الطاف حسین کا دوسرا نام اور شخصیت پرستی کے اعتبار سے یہ پاکستان کی سب سے قابل ذکر جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کے عام کارکن الطاف حسین سے ویسی ہی عقیدت رکھتے ہیں جیسے مرید اپنے پیر سے۔ تین بڑے آپریشن بھی اسے باہر سے ختم نہیں کرسکے۔ اب موجودہ حالات میں سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے ہمدردوں میں الطاف حسین اورایم کیو ایم کا مستقبل کیا ہوگا۔ اور کیا مصطفی کمال اور ان کے ساتھ شامل ہونے والا ایم کیو ایم کا دھڑا مہاجر ووٹ بنک کو اسی طرح متحد اور یکجا رکھ سکے گا جس طرح الطاف حسین اور موجودہ ایم کیو ایم نے گزشتہ کئی برسوں سے جوڑ رکھا ہے؟

 

کیا مصطفی کمال اور ان کے ساتھ شامل ہونے والا ایم کیو ایم کا دھڑا مہاجر ووٹ بنک کو اسی طرح متحد اور یکجا رکھ سکے گا جس طرح الطاف حسین اور موجودہ ایم کیو ایم نے گزشتہ کئی برسوں سے جوڑ رکھا ہے؟
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کراچی اور دوسرے شہروں میں آباد مہاجر یا اردو بولنے والوں کو ایم کیو ایم نے گذشتہ 30 سالوں میں کیا دیا؟ جواب میں لوگ کہتے ہیں بوری بند لاشیں اور خوف۔ تو پھرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں موجود مہاجر بار بار ایم کیو ایم کو ہی کیوں منتخب کرتے ہیں۔ بعض ‘غیر مہاجر’ اس حوالے سے مختلف تعصبات کا شکار ہیں اور اپنے تجزیوں میں مہاجروں کو سمجھ بوجھ سے عاری قرار دیتے ہیں حالاں کہ یہ طبقہ پاکستان کا سب سے زیادہ باشعور طبقہ ہے لیکن بدقسمتی سے ایوب خان سے لے کر آج تک ہرحکمران ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا رہا ہے۔

 

ایم کیو ایم کے قیام سے قبل 1970ء کے انتخابات میں کراچی کے عوام نے کراچی سے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نمائندگی دی۔ کراچی کے صوبائی اسمبلی کےحلقہ نمبر 6 سے جو فیڈرل بی ایریا اور نیو کراچی پر مشتمل ہے اورمکمل مہاجروں کی آبادی ہے پاکستان پیپلز پارٹی نےایک سندھی محمد علی گبول کو ٹکٹ دیا اور محمد علی گبول جماعت اسلامی کے مہاجر امیدوار کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے کراچی کے شہریوں کو تیسرے درجے کا شہری بناکر رکھا۔ بزرگ رہنما معراج محمد خان اس کی ایک مثال ہیں۔

 

سات اپریل کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 245 اور سندھ اسمبلی کے حلقہ 115 میں انتخابات ہوں گے، عوام ایم کیو ایم کو کتنی تعداد میں ووٹ دیتے ہیں اس سے پتہ چل جائے گا کہ عوام کوایم کیو ایم پر کتنا اعتماد ہے۔
جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے کبھی بھی کراچی کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کیا اور آج بھی پاکستان کی کسی بھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعت کو کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو کراچی کے عوام اور ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن کراچی سے ہونے والی آمدنی پر ان کی نظر مستقل رہتی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں 8 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملنے کے بعد بھی عمران خان یا ان کی پارٹی کے کسی رہنما نے کراچی میں کام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جس کا نتیجہ حلقہ این اے 246 اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایم کیو ایم بار بار کیوں جیتتی ہے؟ اس لیے کیوں کہ مہاجر طبقے کی نمائندگی کرنے کے لیے کوئی متبادل سیاسی طاقت موجود نہیں، کیونکہ کراچی اور سندھ کے مہاجروں کے پاس نہ الطاف حسین اور ایم کیوں کے سواکوئی دوسرا رہنما اور جماعت موجود نہیں۔ ماضی میں ایک کیو ایم کے رہنماوں پر مبنی ایک دھڑا ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے سامنے لایا گیا تھا جو مقبول نہیں ہو سکا، کیا مصطفی کمال اور ان کے ہم نوا بھی ایک اور ایم کیو ایم حقیقی ثابت ہوں گے یا نہیں اس کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔

 

گذشتہ 30 سال سے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اپنے خلاف ہونے والے آپریشنوں کے دوران وقتی طور پر دفاعی انداز اختیار کرلیتی ہے لیکن جیسے ہی موقعہ ملتا ہے یہ پھر سے متحرک نظر آتی ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم پر پارٹی کی حیثیت سے اس کے سینکڑوں کارکنوں پرٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دوسرے جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کو برطانیہ میں عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کے کیسوں کا سامنا ہے، پاکستان میں الطاف حسین اوربھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے ساتھ تعلقات کے الزامات کی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔ ان تمام الزامات کے بعد بھی کیا مہاجروں میں الطاف حسین کو اب بھی پہلے جیسی ہی حمایت حاصل ہے یا ان کی حمایت میں کمی ہوئی ہے، اس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑئے گا۔ سات اپریل کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 245 اور سندھ اسمبلی کے حلقہ 115 میں انتخابات ہوں گے، عوام ایم کیو ایم کو کتنی تعداد میں ووٹ دیتے ہیں اس سے پتہ چل جائے گا کہ عوام کوایم کیو ایم پر کتنا اعتماد ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں عوام نے ایم کیو ایم کوقومی اسمبلی کے حلقہ 245 میں ایک لاکھ 15 ہزار 810 ووٹ اور سندھ اسمبلی کے حلقہ 115 میں 55 ہزار 804 ووٹ دیے تھے۔ صرف سات اپریل تک انتظار کر لیں پھر آپ کوعوام کی طرف سے اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ عوام میں ایم کیوایم کا مستقبل کیا ہوگا۔
Categories
نقطۂ نظر

ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تسلیم کریں

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی شہر کے چھ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں 1520 نشستوں کے لیے 5401 امیدواروں میں مقابلہ ہوا، اس سے پہلے اپنی انتخابی سرگرمیوں میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کراچی میں اصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو جماعتی اتحاد کے درمیان تھا۔ اے این پی تقریباً مقابلے سے باہر تھی جبکہ پیپلزپارٹی کو بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے بہت کم امیدوار تھے اور اسے اپنے گڑھ لیاری میں کل 15 میں سے صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے میدان مار لیا ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ آئندہ میئر ایم کیو ایم کا ہی ہو گا۔ ترازو اور بلے کا اتحاد ناکام ہوگیاہے جیسا کہ میں نے 24 نومبر کو اپنے ایک مضمون “کراچی میں ایم کیو ایم کا ہلکا پھلکا مقابلہ” میں لکھا تھا کہ “بظاہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ہی مضبوط پارٹی ایم کیو ایم ہے جس کا ہلکا پھلکا مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے ہوگا” تو بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

 

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔
کسی بھی تجزیہ نگار نے ایم کیو ایم کی شکست کا نہیں سوچا لیکن اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ رینجرز آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوم کمزور ہوئی ہے اس لیے اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کے بقول اُنہیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی ہے۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کی مجموعی 456 نشستوں میں سے ایم کیو ایم نے 254 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پیپلزپارٹی 39 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، 34 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ دیگر جماعتوں کے 63 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کراچی میٹروپولیٹن کی یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کی 246 نشستوں میں سے 135 ایم کیوایم، 32 پیپلزپارٹی، 8 جماعت اسلامی، 9 تحریک انصاف، 9 مسلم لیگ نواز، 3 جے یو آئی، ایک اے این پی اور 24 آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔ کراچی کے سب سے بڑے ضلع وسطی میں ایم کیوایم نے مخالفین پرجھاڑو پھیر دی، 102نشستوں میں سے 100 پر ایم کیو ایم کامیاب ہوئی اور صرف دو نشستیں پیپلزپارٹی کے حصے میں آئیں (تمام اعدادوشمار دستیاب معلومات کے مطابق درج کیے گئے ہیں نتائج کے حتمی اعلان تک ان میں کسی بھی تبدیلی کی ذمہ داری مضمون نگار پر نہیں ہوگی)۔

 

ایم کیو ایم پر کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی جاتی رہی ہے، اس سال فروری اور مارچ میں نہ صرف ایم کیو ایم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگے بلکہ اس کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا بھی مارا۔ ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سے رینجرز کے چھاپے کے دوران مبینہ طور پر بھاری اسلحہ برآمد ہوا تھا اور مفرور و مطلوب افراد بھی پکڑے گئے تھے۔ کراچی کی 85 فیصد نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پرتو اُس کے قیام کے وقت سے ہی الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ایم کیو ایم عام اور بلدیاتی انتخابات جیتنے کا ریکارڈ قائم کرتی چلی جارہی ہے۔ وجہ بڑی سادہ ہے کہ دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے اس لاوارث شہرکراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، لہٰذا کراچی کے شہریوں اور خاص کر مہاجروں کے پاس صرف ایم کیو ایم ہے جو یہاں کے شہریوں کے حق میں کسی حد تک آواز بلند کرتی ہے۔

 

موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان کشیدگی کی زیادہ اہمیت رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ رینجرزکا کہنا ہے کہ آپریشن کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔ حالات اور واقعات کی روشنی میں سیاسی تجزیہ نگار ایم کیو ایم کی موجودہ کامیابی کو بھی ماضی جیسا ہی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات کی خبروں میں کہا جارہا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے بڑے بڑے برج اُلٹ گئے۔ لیکن یہ بڑے برج ہیں کون؟ حافظ نعیم الرحمٰن اور علی زیدی؟ کیا خدمات ہیں ان کی کراچی کے لوگوں کے لیے اور کراچی میں کتنے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ ان کی غیر مقبولیت کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں سے ہار گئے جو ایم کیو ایم کے غیرمعروف امیدوار تھے۔ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمٰن کو ایم کیو ایم کے غیرمعروف مظہر حسین نے شکست دی، مظہرحسین نے 3205اور حافظ نعیم الرحمان نے 712ووٹ حاصل کیے، حافظ نعیم الرحمان نے اسے کھلی دھاندلی قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا ہے رینجرز نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ کہ الیکشن کمیشن بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہا، جبکہ تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔

 

تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔
جماعت اسلامی نے این اے 246 میں اپنی ضمانت ضبط ہونے جیسے نتائج سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد کے ذریعے فوائد سمیٹنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس انتخابی اتحاد کے پیچھے جماعت اسلامی کی سوچ یہ تھی کہ اگر جماعت اسلامی کچھ حلقوں میں انتخابات نہ بھی جیت پائی تو وہ کم از کم بدترین شکست سے بچ جائے گی۔ جماعت اسلامی کی پوری کوشش تھی کہ وہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی برتری ثابت کرسکے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےتمام بلدیاتی حلقوں میں توحصہ نہیں لیا لیکن آدھے شہر میں اس نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اور 35 فیصد کوٹہ جماعت اسلامی کو دیا جبکہ تحریک انصاف کو پتہ تھا کہ کراچی کے شہریوں کو جماعت اسلامی کا تجربہ پہلے سے ہے۔ جماعت اسلامی کو کئی بار آزمایا جاچکا ہے، تین بار شہر کی میئرشپ بھی جماعت اسلامی کے پاس رہ چکی ہے۔کراچی کے شہری پی این اے اور دوسرے اتحادوں کی سیاست دیکھ چکے ہیں لہٰذا اتحادوں کی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔ ویسے بھی کراچی کے شہری لبرل انداز زندگی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا کراچی کے شہری طالبان دہشت گردوں کے حامیوں اور سہولت کاروں کو ووٹ نہیں دیتے۔ اگرچہ عمران خان بھی طالبان کے ہمدردوں میں سے ہی ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو ‘لبرل’ بھی کہتے ہیں، کراچی میں تحریک انصاف کا جماعت اسلامی سے اتحاد عمران خان کی ایک بڑی غلطی تھی جو بدترین شکست کی صورت میں اُن کے سامنے آیا ہے۔

 

اگرچہ تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد میں جماعت اسلامی کا حصہ زیادہ تھا لیکن جماعت اسلامی کے رہنماوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹر جماعت اسلامی کےاُمیدوار کو ووٹ دے گا۔ پانچ دسمبر کے بلدیاتی انتخابات میں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد، ایم کیو ایم کے مدمقابل تھا لیکن شہر میں سیاسی منافقت کے کافی مناظر بھی دیکھے گے۔ بعض حلقوں میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کی اتحادی تھے۔ یکم دسمبر کو جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن میڈیا کے سامنے کراچی کے لیے اپنا پروگرام بتارہے تھے ٹھیک اُسی وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، اسٹیل مل کے علاقے گلشن حدید میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے مشترکہ جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے صدر اسماعیل راہو بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو ترازو کا نشان پوسٹر پر چھاپنے سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اُس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی۔ سب سے دلچسپ منظر اورنگی ٹاؤن کی ایک یونین کونسل میں تھا، جہاں ایم کیوایم کے مقابل انتخابی اتحاد میں مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی اور عمران خان کی پی ٹی آئی ساتھ ساتھ موجود تھے۔

 

کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت دے کر کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو مسترد کردیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو کراچی کے لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا، کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت میں کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو بڑی بے دردی سے مسترد کردیا، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مفاد اور سمجھ بوجھ کے تحتمناسب فیصلہ کیا ہے۔ جیسے اندرون سندھ والوں نے پیپلز پارٹی کو اور پنجاب والوں نےمسلم لیگ (ن) کو کامیاب کروایا ہے اور کوئی اُن کے خلاف آواز نہیں اٹھارہا ہے۔ مجھے ایم کیو ایم سے اختلاف رہتا ہے، لیکن یہ کراچی کی اکثریت کا فیصلہ ہے، جمہورت میں اکثریت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، اس لیے میں لاکھ اختلاف کروں لیکن مجھے ور مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام مخالفین اور ناقدین کو یہ جمہوری فیصلہ قبول کرنا چاہیئے۔ آپ کا یا میرا ایم کیو ایم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ہمیں کراچی کے لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ یہ جو سوشل میڈیا پر مہاجر مہاجر کے تعصب سے بھرپور تبصرے ہورہے ہیں تو تبصرے کرنے والوں کے لیے یہ اطلاع ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے بیشتر مہاجر ہیں، جن میں ایم کیو ایم کےوسیم اختر، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن اور تحریک انصاف کے علی زیدی بھی شامل ہیں، ویسے بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود بتاچکے ہیں کہ وہ بھی آدھے مہاجر ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایم کیو ایم کو بھرپور مبارکباد دیں۔ دل بڑا کیجیئے، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔