Categories
نقطۂ نظر

پی ٹی وی پر حملے سے اے آر وائی پر حملے تک

ذرا 2014 کے ان دنوں کو یاد کیجیے جب ‘شرپسند’ پی ٹی وی کی عمارت پر چڑھ دوڑے تھے اور ذرا اے آر وائی ٹی وی پر حملے کا بھی جائزہ لیجیے۔ یہ دونوں حملے قابلِ مذمت ہیں، صحافت اور سیاست کی حرمت کے خلاف ہیں مگر ذرائع ابلاغ ان دونوں حملوں پر ایک بالکل مختلف موقف اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹی وی اینکروں نے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کو انقلابی اور اے آر وائی پر حملہ کرنے والوں کو غدار قرار دیا ہے۔ یہ فرق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا فرق نہیں بلکہ یہ فرق ہے کہ کون خاکی وردی والوں کا محبوب ہے اور کون نہیں۔ کس کے پیچھے چار ستارہ جرنیل ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ یہ فرق ہے ریاست کے طاقتور عسکری اداروں کی جانب سے شرپسند کی تعریف کا۔ یہاں شرپسند وہ ہیں جن سے عسکری ادارے کام لے چکے ہیں اور اب انہیں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن کیا شرپسند صرف وہی ہیں جنہیں عسکری ادارے شرپسند قرار دیں کیا کوئی ہے جو یہ فیصلہ کر سکے کہ وہ جو منتخب حکومتوں کا تختہ الٹتے ہیں، اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، آئین کو ٹھوکر مار کر اپنے راستے صاف کرتے ہیں وہ بھی شرپسند ہیں یا نہیں؟

 

پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔
یہ دو حملے سول عملداری پر ایک اور عسکری فتح کی کہانی بھی ہیں۔ پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔ یہ دونوں حملے دو مختلف رحجانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک حملہ طاقتور اداروں کے چہیتوں نے کیا اور ایک حملہ عسکری اداروں کے زیرِ عتاب آنے والوں نے۔ عسکری ادارے ایم کیو ایم کو ایک عبرتنک مثال بنانا چاہتے ہیں حالانکہ ایم کیو ایم کی سرپرستی بھی انہی طقتور اداروں نے کی۔ سیسی جماعتوں کے لیے یہ یک اچھا سبق ہے کہ فوج کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی ان کے نزدیک سیاست دان اور سیاسی جماعتیں محض ٹش پیپر ہیں اور یہ بات نواز شریف صاحب کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے۔

 

ہمیں 12 مئی کو یاد رکھنا چاہیئے کیوں کہ فوجی آمر اپنے اقتدار کی خاطر قتل عام سے بھی درگزر کر سکتے ہیں۔ وہی جماعت جو ایک وقت میں ایک فوجی آمر کی اتحادی تھی تب مقدمات بھی ختم کر دیے گئے اور لوگ رہا بھی کر دیے گئے؟ ہمیں آج کی فوجی قیادت سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ اگر ایم کیو ایم کراچی میں تشدد کی ذمہ دار ہے تو کیا اس وقت کا وہ فوجی آمر ذمہ دار نہیں اس جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں کا؟ مگر کس میں ہمت ہے کہ وہ کہہ سکے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو ان کے سرپرست اور مربی سابق جرنیلوں کو بھی کٹہرے میں لائیے۔ کوئی ہے جو یہ مطالبہ کرے کہ بھائی تحریک طالبان کے سرپرست تو ہمارے خاکی بھائی تھے ان کا محاسبہ کون کرے گا؟ ہمارے خاکیوں کا جب جی چاہتا ہے جیسے جی چاہتا ہے یہ دہشت گرد اور شرپسند کی تعریف متعین کر کے کسی کے بھی خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔ کیا کسی نے زحمت کی کہ وہ کسی عدالت سے رجوع کرے، کوئی مقدمہ درج کرائے، کوئی قانونی کارروائی کر لے اور پھر متحدہ کے دفاتر پر چھاپے مارنے یا گرفتاریوں کا فیصلہ کیا جائے؟

 

ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں
یہ کیسا قاعدہ اور قانون ہے کہ اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، گرفتاریاں نہیں ہوتیں مگر متحدہ کے کارکنان کو بغیر کی عدالتی کارروائی کے حراست میں بھی لیا جاتا ہے اور دفاتر بھی بند کیے جاتے ہیں۔ سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور حکومت گرانے کی باتیں کرنے والوں کو فوجی سربراہ سے ملاقات کے لیے بلایا جاتا ہے مگر جو تین برس سے غیر قانونی حراستوں اور لاپتہ کارکنان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان کے دفاتر فتح کیے جا رہے ہیں۔

 

یہ ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے ہندوستان سے روابط ثابت ہو جائیں، تشدد میں ملوث کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے، الطاف حسین کے بینات کی مذمت بھی کی جانی چاہیئے مگر قانون کی کارروائی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیئے۔ خاکی وردی والوں کا بھی محاسبہ ضروری ہے جو قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، جو منتخب حکومتوں کے مینڈیٹ کی پرواہ کیے بغیر پارلیمان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور جن کی تحویل سے سیاسی کارکن مسخ شدہ لاشیں بن کر نکلتے ہیں، جو سیاسی جماعتوں کو ڈرا دھمکا کر توڑتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تسلیم کریں

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی شہر کے چھ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں 1520 نشستوں کے لیے 5401 امیدواروں میں مقابلہ ہوا، اس سے پہلے اپنی انتخابی سرگرمیوں میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کراچی میں اصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو جماعتی اتحاد کے درمیان تھا۔ اے این پی تقریباً مقابلے سے باہر تھی جبکہ پیپلزپارٹی کو بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے بہت کم امیدوار تھے اور اسے اپنے گڑھ لیاری میں کل 15 میں سے صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے میدان مار لیا ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ آئندہ میئر ایم کیو ایم کا ہی ہو گا۔ ترازو اور بلے کا اتحاد ناکام ہوگیاہے جیسا کہ میں نے 24 نومبر کو اپنے ایک مضمون “کراچی میں ایم کیو ایم کا ہلکا پھلکا مقابلہ” میں لکھا تھا کہ “بظاہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ہی مضبوط پارٹی ایم کیو ایم ہے جس کا ہلکا پھلکا مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے ہوگا” تو بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

 

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔
کسی بھی تجزیہ نگار نے ایم کیو ایم کی شکست کا نہیں سوچا لیکن اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ رینجرز آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوم کمزور ہوئی ہے اس لیے اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کے بقول اُنہیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی ہے۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کی مجموعی 456 نشستوں میں سے ایم کیو ایم نے 254 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پیپلزپارٹی 39 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، 34 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ دیگر جماعتوں کے 63 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کراچی میٹروپولیٹن کی یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کی 246 نشستوں میں سے 135 ایم کیوایم، 32 پیپلزپارٹی، 8 جماعت اسلامی، 9 تحریک انصاف، 9 مسلم لیگ نواز، 3 جے یو آئی، ایک اے این پی اور 24 آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔ کراچی کے سب سے بڑے ضلع وسطی میں ایم کیوایم نے مخالفین پرجھاڑو پھیر دی، 102نشستوں میں سے 100 پر ایم کیو ایم کامیاب ہوئی اور صرف دو نشستیں پیپلزپارٹی کے حصے میں آئیں (تمام اعدادوشمار دستیاب معلومات کے مطابق درج کیے گئے ہیں نتائج کے حتمی اعلان تک ان میں کسی بھی تبدیلی کی ذمہ داری مضمون نگار پر نہیں ہوگی)۔

 

ایم کیو ایم پر کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی جاتی رہی ہے، اس سال فروری اور مارچ میں نہ صرف ایم کیو ایم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگے بلکہ اس کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا بھی مارا۔ ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سے رینجرز کے چھاپے کے دوران مبینہ طور پر بھاری اسلحہ برآمد ہوا تھا اور مفرور و مطلوب افراد بھی پکڑے گئے تھے۔ کراچی کی 85 فیصد نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پرتو اُس کے قیام کے وقت سے ہی الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ایم کیو ایم عام اور بلدیاتی انتخابات جیتنے کا ریکارڈ قائم کرتی چلی جارہی ہے۔ وجہ بڑی سادہ ہے کہ دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے اس لاوارث شہرکراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، لہٰذا کراچی کے شہریوں اور خاص کر مہاجروں کے پاس صرف ایم کیو ایم ہے جو یہاں کے شہریوں کے حق میں کسی حد تک آواز بلند کرتی ہے۔

 

موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان کشیدگی کی زیادہ اہمیت رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ رینجرزکا کہنا ہے کہ آپریشن کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔ حالات اور واقعات کی روشنی میں سیاسی تجزیہ نگار ایم کیو ایم کی موجودہ کامیابی کو بھی ماضی جیسا ہی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات کی خبروں میں کہا جارہا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے بڑے بڑے برج اُلٹ گئے۔ لیکن یہ بڑے برج ہیں کون؟ حافظ نعیم الرحمٰن اور علی زیدی؟ کیا خدمات ہیں ان کی کراچی کے لوگوں کے لیے اور کراچی میں کتنے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ ان کی غیر مقبولیت کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں سے ہار گئے جو ایم کیو ایم کے غیرمعروف امیدوار تھے۔ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمٰن کو ایم کیو ایم کے غیرمعروف مظہر حسین نے شکست دی، مظہرحسین نے 3205اور حافظ نعیم الرحمان نے 712ووٹ حاصل کیے، حافظ نعیم الرحمان نے اسے کھلی دھاندلی قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا ہے رینجرز نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ کہ الیکشن کمیشن بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہا، جبکہ تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔

 

تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔
جماعت اسلامی نے این اے 246 میں اپنی ضمانت ضبط ہونے جیسے نتائج سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد کے ذریعے فوائد سمیٹنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس انتخابی اتحاد کے پیچھے جماعت اسلامی کی سوچ یہ تھی کہ اگر جماعت اسلامی کچھ حلقوں میں انتخابات نہ بھی جیت پائی تو وہ کم از کم بدترین شکست سے بچ جائے گی۔ جماعت اسلامی کی پوری کوشش تھی کہ وہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی برتری ثابت کرسکے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےتمام بلدیاتی حلقوں میں توحصہ نہیں لیا لیکن آدھے شہر میں اس نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اور 35 فیصد کوٹہ جماعت اسلامی کو دیا جبکہ تحریک انصاف کو پتہ تھا کہ کراچی کے شہریوں کو جماعت اسلامی کا تجربہ پہلے سے ہے۔ جماعت اسلامی کو کئی بار آزمایا جاچکا ہے، تین بار شہر کی میئرشپ بھی جماعت اسلامی کے پاس رہ چکی ہے۔کراچی کے شہری پی این اے اور دوسرے اتحادوں کی سیاست دیکھ چکے ہیں لہٰذا اتحادوں کی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔ ویسے بھی کراچی کے شہری لبرل انداز زندگی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا کراچی کے شہری طالبان دہشت گردوں کے حامیوں اور سہولت کاروں کو ووٹ نہیں دیتے۔ اگرچہ عمران خان بھی طالبان کے ہمدردوں میں سے ہی ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو ‘لبرل’ بھی کہتے ہیں، کراچی میں تحریک انصاف کا جماعت اسلامی سے اتحاد عمران خان کی ایک بڑی غلطی تھی جو بدترین شکست کی صورت میں اُن کے سامنے آیا ہے۔

 

اگرچہ تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد میں جماعت اسلامی کا حصہ زیادہ تھا لیکن جماعت اسلامی کے رہنماوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹر جماعت اسلامی کےاُمیدوار کو ووٹ دے گا۔ پانچ دسمبر کے بلدیاتی انتخابات میں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد، ایم کیو ایم کے مدمقابل تھا لیکن شہر میں سیاسی منافقت کے کافی مناظر بھی دیکھے گے۔ بعض حلقوں میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کی اتحادی تھے۔ یکم دسمبر کو جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن میڈیا کے سامنے کراچی کے لیے اپنا پروگرام بتارہے تھے ٹھیک اُسی وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، اسٹیل مل کے علاقے گلشن حدید میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے مشترکہ جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے صدر اسماعیل راہو بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو ترازو کا نشان پوسٹر پر چھاپنے سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اُس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی۔ سب سے دلچسپ منظر اورنگی ٹاؤن کی ایک یونین کونسل میں تھا، جہاں ایم کیوایم کے مقابل انتخابی اتحاد میں مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی اور عمران خان کی پی ٹی آئی ساتھ ساتھ موجود تھے۔

 

کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت دے کر کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو مسترد کردیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو کراچی کے لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا، کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت میں کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو بڑی بے دردی سے مسترد کردیا، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مفاد اور سمجھ بوجھ کے تحتمناسب فیصلہ کیا ہے۔ جیسے اندرون سندھ والوں نے پیپلز پارٹی کو اور پنجاب والوں نےمسلم لیگ (ن) کو کامیاب کروایا ہے اور کوئی اُن کے خلاف آواز نہیں اٹھارہا ہے۔ مجھے ایم کیو ایم سے اختلاف رہتا ہے، لیکن یہ کراچی کی اکثریت کا فیصلہ ہے، جمہورت میں اکثریت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، اس لیے میں لاکھ اختلاف کروں لیکن مجھے ور مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام مخالفین اور ناقدین کو یہ جمہوری فیصلہ قبول کرنا چاہیئے۔ آپ کا یا میرا ایم کیو ایم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ہمیں کراچی کے لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ یہ جو سوشل میڈیا پر مہاجر مہاجر کے تعصب سے بھرپور تبصرے ہورہے ہیں تو تبصرے کرنے والوں کے لیے یہ اطلاع ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے بیشتر مہاجر ہیں، جن میں ایم کیو ایم کےوسیم اختر، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن اور تحریک انصاف کے علی زیدی بھی شامل ہیں، ویسے بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود بتاچکے ہیں کہ وہ بھی آدھے مہاجر ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایم کیو ایم کو بھرپور مبارکباد دیں۔ دل بڑا کیجیئے، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے

youth-yell-featured

اک ہنگامہ سا برپا ہے۔ مستعفی ہونے اور استعفیٰ دینے والوں کو منانے کا غلغلہ جاری ہے۔ اس مرتبہ بھائی کے جیالے مستعفی ہو گئے ہیں اور فضل الرحمان صاحب انہیں منا رہے ہیں۔ پچھلی قراردادوں کا شور کچھ تھما تو خان صاحب نے بھی اعلان کر دیا کہ ایوان میں جائیں گے۔ حکمران جماعت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ڈی سیٹ کرنے کی کسی بھی قرارداد کی نہ صرف مخالفت کریں گے بلکہ اس کے خلاف ووٹ بھی ڈالیں گے ۔ پیپلز پارٹی نے بھی سابقہ محبوبہ (ایم کیو ایم) سے ہاتھ کھینچ لیا اور تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی قرارداد میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ہاتھ کیا کھینچا کے استعفوں کا کھیل ہی اُلٹا ہو گیا اور اب بھائی لوگ استعفے دینے پر اتر آئے ہیں۔ اور خبری یہ بھی خبر دے رہا ہے کہ استعفے قبول بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید جن کے برتے پر اسمبلیوں میں نہ بیٹھنے کے بلندبانگ دعوے کیے گئے انہوں نے ہی دغا دے دیا۔
پیپلز پارٹی کے مفاہمانہ رویے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے جوحکومت پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہے
حکمران جماعت کے لیے تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی تحاریک کی مخالفت کرنا نہ صرف اس کی اپنی عزت بچانے کے لیے ضروری تھا بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح اعلان تھا کہ اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف ہی دراصل حقیقی حزب اختلاف ہے۔ نشستیں کم ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف تیسری کے بجائے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے کیوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملکی سطح پر مقبولیت کم ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مفاہمانہ رویے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے جوحکومت پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہے۔اور اب تو ایم کیو ایم نے بھی راگ سیاسی کی لمبی تان میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ہٹا کر تحریک انصاف کو لایا جا رہا یعنی خطرہ بہر حال انہی سے ہے۔
مولانا صاحب نے ڈی سیٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا تو ان کو خود بھی یقین نہ تھا کہ ن لیگ ان کی مخالفت میں کمر بستہ ہو جائے گی ۔ ان کو شاید امید ہو چلی تھی کہ عمران خان اور نواز شریف کے اختلافات اس تحریک کے خُشک پودے کے لیے ساون کی بارش ثابت ہوں گے ۔ لیکن صد افسوس! ایسا نہ ہو سکا۔کامیابی کی بجائے سُبکی مقدر ٹھہری۔ مولانا صاحب کے لیے ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت خواہ کوئی سی بھی ہو وہ حکومت کا حصہ بننا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا مچھلی کے لیے پانی۔ پانی کے بغیر جیسے مچھلی تڑپتی ہے اسی طرح مولانا صاحب حکومت سے باہر رہ کر تڑپتے ہیں۔ کھسیانی بلے کھمبا نوچے کے مصداق مولانا صاحب کو جب ن لیگ کی طرف سے جھنڈی دکھا دی گئی تو اس کے علاوہ کچھ نہ بن پڑا کہ تحریک واپس لے لی جائے۔ حکمران جماعت نے پرانے تعلقات کا خیال کرتے ہوئے مولانا صاحب کو تحریک واپس لینے کا وقت دیا ورنہ اگر تاخیر کے بجائے فوراً اس پر رائے شماری کروا دی جاتی تو مولانا صاحب مارے شرمندگی کے نہ اِدھر کے رہتے، نہ اُدھر کے۔
ایم کیو ایم کی تحریک کی بنیاد بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید تھی۔ لیکن ان بنیادوں میں دراڑیں اسی وقت پڑنا شروع ہو گئیں جب شاہ جی نے بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کہہ دیا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے
ایم کیو ایم بھی پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر مولانا صاحب کی ہم نوا تھی۔ ایم کیو ایم کے پاس 24 نشستیں ہیں لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم بھی گلے پڑی رَسی کے خوف سے ہوا میں ہی ہاتھ پاؤں چلا رہی ہے۔ جیسے ن لیگ نے مولانا صاحب کو دغا دیا ویسا ہی کچھ حال جیالوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیا۔ ایم کیو ایم کی تحریک کی بنیاد بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید تھی۔ لیکن ان بنیادوں میں دراڑیں اسی وقت پڑنا شروع ہو گئیں جب شاہ جی نے بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کہہ دیا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ایک بار پھر ایاز صادق صاحب مدد کو آئے اور لندن کال کھڑکا دی ۔ یہ کال نہیں تھی بلکہ عزت بچانے کا نادر موقع تھا۔ جس طرح عرصے سے میکے میں بیٹھی ناراض بہو سسرالیوں کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہوتی ہے اور ان کے آنے پر مرغ مُسَلم تیار کیے جاتے ہیں ایسے ہی ایک فون کال پر ہی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔ ایم کیو ایم 24 نشستوں سے جو تحریک منظورکرانا چاہتی تھی وہ وقت سے پہلے ہی تاریخ کے صفحوں میں گم ہو گئی ۔اس تحریک کا ماخذ تحریک انصاف کے رویے سے زیادہ رینجرز کی ” کارستانیاں” ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ” دفتری غلطی” سے بھارتی ہائی کمیشن کو خط چلا گیا۔ جلتی پہ تیل کا کام “کلرز لسٹ ” نے کر دیا۔ لہذا تحریک انصاف والے اس حوالے سے بھی پریشان نہ ہوں کیوں کہ وہ پنجابی کا مشہور ضرب المثل ہے نا کہ” آکھاں دھی نوں، سناواں نونہہ نوں”(مخاطب کوئی اور ہو غصہ کسی اور پہ ہو) تو یہاں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی تھی۔ کہیں اور کا غصہ اُتر کہیں اور رہا تھا۔اور اب ایم کیو استعفے دے کر جوابی وار کر رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ایم کیو ایم اور مولانا کو ہر ممکن موقع دیا کہ وہ رہی سہی عزت بچا لیں اور دونوں نے اِس موقع غنیمت جانا ۔ ورنہ اگر واقعی خان صاحب پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر دوبارہ اسمبلی میں وارد ہو جاتے تو دونوں کی نظریں چاہنے کے باوجود نہ اُٹھ پاتیں۔ تحاریک واپس لینے کے بعد بھی مولانا صاحب اور ایم کیو ایم بہت کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ یعنی؛
نہ خدا ہی ملا، نہ وِصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
استعفے تحریک انصاف کے بھی قبول ہونے چاہیے تھے اور قریشی صاحب نے اسمبلی فلور پہ شاید اسی لیے کہا تھا کہ جو تلوار چلانی ہے چلا لیں لیکن واضح کریں۔ اسی طرح استعفے اب بھی قبول ہونے چاہیے کیوں کہ سیاسی مقاصد کے لیے استعفوں کا استعمال روایت بن چکاہے۔
Categories
نقطۂ نظر

ایم کیو ایم کے گلے شکوے

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور سینٹ سے استعفے دینے سے پیدا ہونے والے بحران کی سو فیصد ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار پر عائد ہوتی ہے۔ آج اسمبلیوں میں شہری سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں۔ قومی اسمبلی،سندھ اسمبلی اور سینیٹ میں4 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کے بغیر اجلاس ہورہے ہیں۔ 4ستمبر 2013ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بدامنی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو مرکزی کردار دینے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس آپریشن کی نگرانی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے اس آپریشن کی نگرانی کےلیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا وعدہ بھی کیا لیکن یہ وعدہ وفا نہ ہوا۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی میں رینجرز آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنماڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ان کے کارکنوں پرتشددکیا جارہا ہے، پارلیمنٹ کی چوتھی بڑی جماعت کو دیوار سے لگایا جار ہاہے۔ فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ ان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور انصاف کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے فرار کا راستہ دیا گیا ہے۔
استعفے دینے سے دو دن پہلے تک ایم کیو ایم کا اندازِ سیاست دفاعی تھا، لیکن پھر اچانک ایم کیو ایم کے استعفوں کی خبر نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچادی۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی میں رینجرز آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔ الطاف حسین نے بھی رابطہ کمیٹیوں کے فیصلے کی توثیق کی۔ قومی اسمبلی کے چوبیس ارکان نے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور اپنے استعفے ان کے حوالے کیےجبکہ اکیاون ارکان سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی قیادت میں اپنے استعفے اسپیکر آغا سراج درانی کے پاس جمع کرائے، سینیٹ کے آٹھ ارکان نےبھی اپنے استعفے سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادیئے۔
فاروق ستار نے الزام لگایا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے لوگوں کیلئے راستہ بنایا جارہا ہے۔
اپنے استعفے دینے سے پہلے ایم کیو ایم کےقومی اسمبلی کے ارکان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی جہاں فاروق ستارنے ایک طویل اورمدلل تقریر کی۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیراعظم نوازشریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا کہ اگر الطاف حسین آرٹیکل 19 کے تحت اظہار خیال کا حق استعمال کرتے ہیں تو کیا گناہ ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ جبری گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل ہماری ڈکشنری میں نہیں ہیں لیکن ان کے کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے۔ متحدہ کے مطابق انہوں نے انصاف کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ فاروق ستار نے کہا ہے کہ میں نے جی ایچ کیو اور کور کمانڈر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ ہم نے درست مقدمات کی مخالفت نہیں کی اور ان کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا، ہم نےجبری گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل پرآواز اٹھائی ہے۔ اگر میرے بتائے حقائق درست ہیں تو170 کارکنوں کے بارے میں بتا دیں وہ زندہ ہیں یا نہیں، میرے کارکنوں کے کتنے قاتل گرفتار ہوئے۔ آپریشن کے دوران سب سے یکساں سلوک نہیں کیا جارہا۔ ایک طبقے کے ساتھ انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ الطاف حسین کی گفتگو کو قابل اعتراض یا قابل گرفت قرار دیا جارہا ہے جب کہ بہت سے سیاسی رہنماوں نے الطاف حسین سے بھی زیادہ سخت تقاریر کی ہیں۔آصف زرداری، خواجہ آصف، محمود خان اچکزئی اور منور حسن نے فوج کے خلاف تقاریر کیں۔ منور حسن نے مرنے والےفوجیوں کو شہید ماننے سے انکار کیا ہے ۔ خواجہ آصف نے فوج کے خلاف شرمناک تقاریر کیں اور آصف زرداری نے بھی انتہائی سخت الفاط استعمال کیے۔ آصف زرداری نے پنڈورا باکس کھولنے اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی اور اپنے الفاظ بھی واپس نہیں لیے۔ محمود اچکزئی کے خلاف 50غداری کے مقدمے بنائے گئے۔ پاکستان رینجرز کا رویہ مکمل جانبدارانہ ہے ۔ فاروق ستار نے الزام لگایا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے لوگوں کیلئے راستہ بنایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کی تصاویر ان کے پاس موجود ہیں، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو سارے ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا ٹرائل کیا جارہاہے، جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کون میڈیا کوفراہم کررہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر رینجرز مسلم لیگ (ن)یا پیپلز پارٹی کے کارکنان کو گرفتار کرتی تو پھر بھی ریاست کا یہی رویہ ہوتا۔ رہا ہونے والا کوئی ایک کارکن بھی ایسا نہیں جس پر تشدد نہ کیا گیا ہو۔ ہمارے ساتھ تیسرے درجے کے پاکستانی شہری جیسا سلوک کیا جارہاہے۔ ہم نے انصاف کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہوئی۔
گزشتہ چند مہینوں میں نواز شریف نے اپنے رویہ سے ظاہر کردیا ہے کہ اُنہیں کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
کچھ دن سے یہ خبریں گردش میں ہیں کہ ایم کیو ایم میں کوئی نیا گروپ تشکیل دیا جارہا ہے، اگر کو ئی گروپ بن بھی رہا تھا تو شاید ان استعفوں کے بعد کوئی بھی یہ کوشش نہیں کرے گا۔ ایم کیو ایم کےارکان کے استعفوں کے بعد نواز شریف حکومت کافی کمزور ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد ایم کیو ایم نواز شریف کے ساتھ کھڑی تھی لیکن اب عمران خان کسی صورت نواز شریف کی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے، بلکہ عمران خان کی کوشش ہوگی کہ نواز شریف حکومت ختم ہوجائے۔ عمران خان ہو سکتا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی چھوڑ جائیں۔ نواز شریف کے اوپر یہ تلوار اُس وقت تک لٹکتی رہے گی جب تک یہ معامعلہ سلجھ نہیں جاتا۔ اگر نواز شریف نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو کوئی بھی بڑا سیاسی بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ ویسے تو گزشتہ چند مہینوں میں نواز شریف نے اپنے رویہ سے ظاہر کردیا ہے کہ اُنہیں کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کراچی میں بم دھماکے ہوئے تو نواز شریف اسلام آباد میں شاندار ظہرانے اڑاتے رہے ،کراچی میں گرمی کی شدت سے ہزاروں لوگ مرگئے، وزیراعظم صاحب پانچ دن گزرنے کے بعد صرف چار گھنٹے کےلیے کراچی آئے ۔ اس مختصر دورہ کراچی کے دوران اُن کی شکل سے بیزاری صاف ظاہر تھی لیکن اب چونکہ اُن کی حکومت ختم ہوسکتی ہے لہٰذا وہ ایم کیو ایم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں کریں گے۔ سندھ میں بھی حیران کن صورتحال ہے لیکن سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کی طرح عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا اور یہ کہہ کر معاملے کو طول دے دیا کہ ابھی ان استعفوں کا جائزہ لیا جائے گا جس میں کچھ وقت لگے گا۔ ایم کیو ایم نے اپنے ایک کارکن محمد ہاشم کے ماورائے عدالت قتل کا الزام رینجرز پر لگایاہے۔ گرفتاری کے بعد گھروالوں کو وہ ایدھی کے ایک قبرستان میں ملا، معلوم ہوا کہ محمد ہاشم کو گرفتار کیا گیا اورچھ جولائی کو مار دیا گیا۔
حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سے ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما فاروق ستار نے ملاقات کی ہے جس میں فاروق ستار نے حالیہ صورتحال میں ایم کیو ایم کے تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کو ہدف بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپریشن کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی کیوں نہیں بنائی جاتی؟ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے، ایم کیو ایم پریشان نہ ہو، متحدہ کا پارلیمانی کردار خود اس کے بہترین مفاد میں ہے، ایوان میں آئیں۔اس پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ استعفوں کی واپسی کا فیصلہ الطاف حسین کریں گے۔ ایم کیو ایم نے استعفوں کی واپسی کے لیے حکومت کو اپنی شرائط سے آگاہ بھی کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے حکومت سے پانچ مطالبات کیےجو درج ذیل ہیں:۔
(1) الطاف حسین کا خطاب ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی ختم کی جائے،
(2) کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے فوری طور پر مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے،
(3) رینجرز آپریشن کو غیر جانبدار بنایا جائے،
(4) حراست میں لیے گئے افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور
(5) لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

کیا امید کی جاسکتی ہے کہ ایم کیو ایم جلدہی واپس اسمبلیوں میں جائے گی، ایسا مشکل ہے۔ ایم کیو ایم نے تو اپنے گلے شکوے کرلیے، ایم کیوایم کی زیادہ تر شکایات کراچی میں ہونے والے آپریشن کے خلاف ہیں، لیکن اگر آپ کراچی میں رہنے والے ایک عام آدمی سے پوچھیں تو وہ یہ ہی کہے گا کہ کراچی میں بہتری آئی ہے، اس حوالے سے ایم کیو ایم کا موقف کافی کمزور ہے۔ اب ایم کیو ایم کے مطالبات منظورکرنا نواز شریف حکومت کے لیے بہت مشکل ہوگا کیونکہ اس میں ایک فریق فوج بھی ہے جس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔
جمعرات 30 اپریل سے یکم اگست تک الطاف حسین نے فوج کے خلاف تین ایسی براہ راست تقریریں کیں جن میں الطاف حسین نےسرخ لکیر عبور کرتے ہوئے حکومت، آئی ایس آئی، فوج اور بیوروکریٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان تقریروں میں انہوں نے بھارت، نیٹو اور اقوام متحدہ کو مدد کےلیے پکارا، جس کے جواب میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے پاکستانی فوج اور اُس کی قیادت کے خلاف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقریروں کو بیہودہ اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا۔ ایسی صورت حال میں دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیے بغیر کراچی کے حالات ٹھیک ہونا بہت مشکل ہے۔ 12 اگست سے الطاف حسین ہر ٹی وی ٹاک شو میں یہ وعدہ کررہے ہیں کہ وہ آیندہ اس قسم کی تقاریر نہیں کریں گے۔ اگر جنرل راحیل شریف اس معاملے کو دیکھ لیں تو بہتر ہوگا، تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ کراچی آپریشن یک طرفہ ہورہا ہے۔اچھا ہوگا الطاف حسین پر آخری بار اعتبار کرلیا جائے۔ آپریشن جاری رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کے پانچ مطالبات میں سے جو بھی ممکن ہوں اُنہیں تسلیم کرلیا جائے ۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو چاہیئے کہ احتیاط سے کام لیں اور غلطیاں نہ دُہرائیں۔اگر وہ ایسا کریں گے سندھ کے شہری سکون کا سانس لے سکیں گے ۔

Categories
نقطۂ نظر

جنرل راحیل کے نام خط

محترم جرنیل اعظم صاحب
نائن زیرو آپریشن کا نتیجہ نکلے نہ نکلے ہمت دکھانے پرآپ کو مبارک باد۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پولیس نے پہلی مرتبہ 1987 میں الطاف بھائی کے گھر چھاپہ مارا تھا۔ انیس سو بانوے اور چھیانوے میں بھی پاک فوج ایم کیو ایم کے قلعے پر چڑھائی کر چکی ہے اور جناح پور کا نقشہ بھی اسےانہی چھاپوں کے دوران برآمد ہوا تھا۔ ایک جرنیل اور آپ سا جرنیل تار یخ سے کیسے نا واقف ہو سکتا ہے۔ بس یاد دہانی کے لئے عرض کرتا جاؤں جب ایم کیو ایم کراچی میں پروان چڑھ رہی تھی تب آپ کے ایک پیش روجنرل ضیا نے نہ صرف آنکھیں بند رکھیں بلکہ خفیہ طریقے سے اس کی مدد بھی کرتے رہے۔ اور عالی جناب تو اس بات سے واقف ہی ہوں گے کہ فوج جس چیز کی بنیاد رکھ دے وہ صدیوں تک قائم رہتی ہےاور گستاخی معاف اپنے بنائے مضبوط ڈھانچے کو گرانا تو شاید فوج کے اپنے ہاتھ میں بھی نہیں رہتا۔
بس یاد دہانی کے لئے عرض کرتا جاؤں جب ایم کیو ایم کراچی میں پروان چڑھ رہی تھی تب آپ کے ایک پیش روجنرل ضیا نے نہ صرف آنکھیں بند رکھیں بلکہ خفیہ طریقے سے اس کی مدد بھی کرتے رہے۔
لیکن سیاست دانوں کا معاملہ جرنیلوں سے الگ ہے،جو غلطی محترمہ بے نظیر بھٹو نے کی اس کا ازالہ کوئی اور نہیں صرف آصف علی زرداری ہی کر سکتے تھے تو انہوں نے دو ہزار آٹھ میں نائن زیرو حا ضری دے کر ماضی کو دفن کردیا۔ آپ وزیر اعظم پاکستان کی طبیعت سے(بہت اچھی طرح) واقف ہوں گے وہ جب بھی آتے ہیں ادھر ادھر افراتفری مچاتے رہتے ہیں اور ہر بار کراچی میں “دہشت گردی” کے خاتمے کے لیے خاکی وردی والوں کو بھیجتے ہیں اس کے باوجود سینیٹ الیکشن میں حمایت کے لیے الطاف بھائی سے رابطے کرتے رہے۔لیکن جرنیل ایک ہی غلطی باربار دہرانے کے عادی ہیں، پہلے ضیاء صاحب نے الطاف بھائی کی نیا پار لگائی اور پھر مشرف صاحب نے ان سے دل لگی کی۔ بارہ مئی کے دل دہلا دینے والا واقعے کی تفصیلات بھی آپ کی نظروں سے گزری ہوں گی جب وکیلوں کو کراچی میں زندہ جلایا جا رہا تھا تو تب جنرل مشرف ا سلام آباد میں مکے لہرا کر عوامی طاقت کا مظا ہرہ کر رہے تھے۔
آپ صرف پاکستان کے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے بھی سپہ سالار ہیں اس حساب سے جناب کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔ جنرل ضیا کی خود ساختہ مذہبی سوچ نے ملک میں ایسی فضا قائم کی کہ اس پاکیزگی میں وطن عزیز کو اسلام کی” اصل روح “تو نہ مل سکی لیکن لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد جیسے چھوٹے چھوٹے تحفے قوم کو جبری وصول کرنا پڑے۔ پنتیس سال گز رنے کے باوجود قوم ان تحفوں کا بدلہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے بھی نہیں دے سکی۔ جہادیوں کی جو پنیری جنرل ضیا کے دور میں پروان چڑھی وہ اب تن آور درخت بن چکی ہے ۔اُس دور میں پلنے والے سانپوں نے اب اپنے ہی بچوں کو ڈسنا شروع کر دیا ہے۔
فوج کی وطن کے لیے قربا نیوں کا ہر کوئی معترف ہے اورفوج کی حب الوطنی پر کسی دیوانے کو ہی شک ہو سکتا ہے لیکن زندگی میں اگر آپ کوموقع ملے تو جن لوگوں نے ناسور دشمنوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ان کے ذہنوں پر بھی ایک چھاپے کا حکم صادر فرما دیں۔ جناب اعلی جو کچھ پاک فوج کے ادواراقتدار میں وطن کے ساتھ ہوا اس کے بعد تو ایم کیو ایم کی کاروائیاں معمولی لگتی ہیں۔اگر آپ نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو انسانوں کو مارنے ، پکڑنےسے کچھ نہیں ہو گا۔ ملک کو امن کا گہوارہ بنا نا ہے تو اس سوچ اور نظریے کو بدلنا پڑے گاجو عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی وجہ ہیں۔ انسانوں کی پھانسی چڑھانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جناب نظریے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کیجیے ۔
جناب اعلی جو کچھ پاک فوج کے ادواراقتدار میں وطن کے ساتھ ہوا اس کے بعد تو ایم کیو ایم کی کاروائیاں معمولی لگتی ہیں۔
ریٹائرمنٹ سے قبل انیس سو سنتالیس سے لے کر آج تک فوج نے جو کو تاہیاں کی ہیں ان کی جانچ کے لئے بھی ایک آزاد اور مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنا دیں۔ فوج بجٹ کا تیس فیصد ملک کے دفاع کے لیے عوام سے وصول کرتی ہے اس کا احتساب بھی توضروری ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ خود اس احتساب کا آغاز اپنی ذات سے کریں۔جناب عام عوام کی طرح میں بھی سیاست دانوں، وکیلوں اور ججوں سے سخت مایوس ہو چکا ہوں۔ افتخار چوہدری صاحب، عمران خان صاحب اور نواز شریف صاحب؛ جس کسی کو بھی ہم نے موقع دیا ہے اس نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ ان سب کے لیے ہم نے ڈنڈے کھائے، جیلیں بھگتائیں، دھرنے دیے لیکن ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا ۔ سنا ہے سب فیصلے آپ کے ہاں ہوتے ہیں اور سب کرداروں کی ڈوریاں آپ ہلاتے ہیں تو کر دیجے وہ کام جو کوئی بھی جرنیل نہ کر سکا۔
نوٹ: میری حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے،میرے والد اور آباؤ اجداد کی قبریں اسی ملک میں ہیں۔ میں اتنا ہی محب وطن ہوں جتنا شبیر شریف شہید تھے۔

فقط
ایک عام شہری
محمد نوید عالم

Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیہ ٹاؤن واقعہ اہم ہے؟

ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی جس قدر بھی ایم کیو ایم کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دے درحقیقت متحدہ سے اسی قدر نالاں رہتی ہے۔ سندھ کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ دونوں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی جدوجہد میں ہیں۔ میں ذاتی طور پر زرداری صاحب کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ صلاحیتوں کا بڑا مداح تھا لیکن پچھلے چند ماہ سے پی پی پی کا طرز سیاست اور حکومت دیکھ کر مجھے بھی مایوسی ہوئی ہے۔ تھر کے حالات، سندھ میں لوٹ کھسوٹ حتیٰ کہ قحط زدگان کی امداد میں بھی خردبرد ، ہسپتالوں اور سکولوں کے حالات اور اب یہ ڈرانے دھمکانے والی سیاست کسی صورت بھی پی پی کے بچے کچھے تاثر کو نہیں بچا پائے گی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کے پی پی پی کی تمام تر صوبائی سیاست وڈیرا شاہی پر چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بلاول کو صوبائی سیاست سے الگ کیا گیا ہے کیونکہ اسکی سیاسی ناپختگی اس روایتی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بلاول وزیراعظم ٹائپ ہے، وزیر اعلیٰ “میٹیریل” نہیں(ان کی خصوصیات کا انداذہ تو ہر پاکستانی کو بخوبی ہو گا)۔
ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔
گزشتہ سات برس کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ کے درمیان حکومت میں شمولیت اور علیحدگی کا جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں نہ مل کر چل سکتی ہیں اور نہ علیحدہ ہو سکتی ہیں۔ایم کیو ایم کی حالیہ علیحدگی کے بعد سے زرداری صاحب پچھلے کئی دنوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ایم کیو ایم پھر صوبائی حکومت میں شامل ہو جائے۔ اب ایم کیوایم کے مطابق زرداری صاحب کی نیّت ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ عین ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے نزدیک اس نیت سے مراد دو چار وزارتیں اور بلدیاتی انتخابات ہوں جبکہ زرداری صاحب کے نزدیک نیت کا مطلب سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ منظرعام پر لانا اور 12مئی کا پنڈورا باکس کھولنا ہو جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق تو عمران فاروق قتل کیس کے زیر حراست ملزمان کو لندن پولیس کے حوالےکرنا بھی نیت کا ایک مطلب ہو سکتا ہے۔
بلدیہ ٹاؤن واقعہ میں یقیناً ایم کیو ایم کے کسی بھتہ خور کے ملوث ہونے کے “امکانات” ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھتہ مانگا گیا ہو لیکن آگ نہ لگائی گئی ہو بلکہ یہ محض ایک حادثہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سے فیکٹری جلانے کی کوئی ہدایات نہ آئی ہوں کیوں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی خودکشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صرف آگ لگائی گئی ہو اور تین سوافراد غیر ارادی طور پر لقمہ اجل بن گئے ہوں، بلاشبہ ایسی صورت میں بھی ان افرادکے قتل کی تمام تر ذمہ داری آگ لگانے والے مجرموں پر ہی ہو گی لیکن قانون کی نظر میں پھر بھی ارادتاً اور غیر ارادتاً قتل میں فرق ہوتا ہے۔
تمام امکانات اپنی جگہ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کا پارٹی فنڈ عموماً لوگ تمام ٹیکسوں کی طرح کوئی خاص خوشی سے جمع نہیں کراتےاور جس طرح اور ن کے ذریعے یہ فنڈ اکٹھا کیا جاتا ہے اسے “بھتہ “ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کارِخیرکی انجام دہی کے لیے یقیناً بہت سے “بھائی لوگ” بھی متعین ہیں جو ہر ممکنہ طریقے سے پارٹی فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔ اگرچہ متحدہ خود کو ایسے عناصر کے تشددسے علیحدہ قرار دیتی ہے لیکن اگر انہی چھوٹے موٹے بھائی لوگوں میں سے کوئی غلطی سے کوئی فیکٹری جلا دے ، بندہ پھڑکا دے اور اس دوران دو تین سو بندے بھی بھسم کر دے تو پارٹی اس امر سے کسی طور پر خود کو مبرا قرار نہیں دے سکتی۔
سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔
بلدیہ ٹاون واقعہ کی مبہم رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایم کیوایم کو مزید کم زورکیا جا رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف اور جماعتِ اسلامی سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور بارہ مئی کے واقعات کو لپک لپک کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بارہ مئی 2007 کے سانحہ میں محض ایم کیو ایم ہی نہیں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا نام بھی آتا ہے۔ جنرل مشرف جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) کی مدد سے حکومت کرتے رہے ہیں جن کے ساتھ تحریک انصاف اتحاد قائم کیے ہوئے ہے۔جماعت اسلامی کے اپنے کارکنان کے گھروں سے القائدہ کے درجنوں مطلوب افراد پکڑے جا چکے ہیں لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے اس عسکریت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی مثالیں بے حد کم ہیں۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جس کے سربراہ کے خلاف پی ٹی آئی کے سربراہ لندن میں کچھ کاغذات ہلا ہلا کر دعوے فرماتے رہے اور بعد میں اپنی کارکن زہرا آپا کے قتل کو بھلا کر بھائی بھائی بن گئے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایم کیو ایم پر تنقید اصولی موقف نہیں بلکہ محض ایم کیو ایم کو کم زور کر کے اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ایک مبہم رپورٹ کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا پریشان کن امر ہے۔ سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔