Categories
شاعری

ٹہنیوں کے ہاتھ (کلام: ثروت حسین، انتخاب: عدنان بشیر)

ثروت حسین ادبی دنیا کا وہ نام ہے جسے پچھلی تین دہائیوں میں بے انتہا محبوبیت نصیب ہوئی ہے۔ ان کا غیر مدون کلام جو ان کے کسی مجموعے میں نہیں عدنان بشیر نے تحقیق و تدوین کے مراحل سے گزار کر اکٹھا کیا ہے۔ ‘فاتح کا گیت’ کے عنوان سے یہ مجموعہ بہت جلد کولاج پبلی کیشنز لاہور سے شائع کیا جائے گا۔
آپ میں سے جو دوست ایڈوانس بکنگ کرانا چاہیں وہ رابطہ کر سکتے ہیں
03214036980
کولاج، لاہور حماد نیازی
(تعارف اور انتخاب: عدنان بشیر)

 اس مجموعہ کلام کا کچھ حصہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے پر ہم محترم عدنان بشیر کے شکر گزار ہیں۔

[divider]ثروت حسین(9 نومبر 1949ء تا 9 ستمبر 1996ء)[/divider]

ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ثروت حسین کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا تو کراچی کی ہنگامہ خیز ادبی دنیا میں سلیم احمد اور قمر جمیل کی محفلیں عروج پر تھیں اور نثری نظم کی تحریک نے سرحد کے دونوں طرف ایک ہنگامہ برپا کیا ہواتھا۔کالج کی طرف سےبین الکلیاتی مقابلوں میں متعدد انعامات حاصل کرنے والے ثروت حسین نے جامعہ کراچی سے ایم۔اے اردو (1971ءتا 1973ء)کیا۔ تب جامعہ کراچی میں پروین شاکر، ایوب خاور، صغیر ملال، عذرا عباس، انور سن رائے اور اقبال فریدی بھی زیرِ تعلیم تھے اور جامعہ کراچی سے باہراحمد ہمیش، رئیس فروغ، احمد جاوید، افضال احمد سید،سید ساجد، شوکت عابد اور سارہ شگفتہ ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے جن کے ساتھ پاکستان ریڈیو کراچی کے مشاعروں میں شرکت کا دل چسپ احوال پروین شاکر نے بھی ” آثار” اسلام آباد میں اپنی آپ بیتی میں کیا۔یہ نوجوان شعرا نثری نظم کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ثروت حسین کا کلام فنون، سویرا، شب خون، افکار، آج، پہچان، دنیا زاد، تحریر، روایت اور دیگر اہم ادبی رسائل میں ستر اور اسی کی دہائی میں شائع ہو کر سرحد کے دونوں طرف اپنے مقلدین ومتاثرین کی ایک بڑی تعداد بنا چکا تھا۔
؎ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں

موت کی اس کشش نے ثروت کو کئی بار اپنی طرف کھینچا، کبھی پانی کے ذریعے، کبھی ریل سے ٹکراتے ہوئے اور کبھی رگوں کو کاٹ کھانے والی ادویات کے ساتھ۔ آگ اور لوہے کے دیو یعنی ریل کا مقابلہ کرنے کرتے ہوئے ستمبر 1993ء میں وہ اپنے دونوں پاؤں سے محروم ہو چکے تھے لیکن تین برس بعد ستمبر 1996ء میں وہ دوبارہ اس سے ٹکرائے تو جانبر نہ ہو سکے۔شاعری کی طرح ان کی خودکشی نے بھی ادبی دنیا میں دور رس اثرات ڈالے۔ذیشان ساحل، عتیق جیلانی، سعید الدین، شوکت عابد، عامر سہیل،ادریس بابر،کاشف مجید،فیصل ہاشمی،دانیال طریر،شمشیر حیدر، سلمان ثروت، احمد جہاں گیر،علی زریون،رحمان فارس،حماد نیازی، تہذیب حافی،عرفان شہود، شاہد بلال،مشتاق احمد،سانی سید،ضیا مذکور،توقیررضا، مدثر عباس، محمد علی منظر، امیر حسین اور راقم کے علاوہ دیگر بہت سے شعرا نے ثروت حسین اور ن کی خودکشی پر بہت سی نظمیں اور اشعار لکھے۔(ثروت حسین پر لکھے گئے کلام کو یکجا کرنے کی ایک کوشش” دوستی کا ہاتھ” زیرِ تکمیل ہے)

اک دوپہر بہار تھی پٹری پہ ریل کی
انجن نے آ کے پھول ہمارے کچل دیے
سوئے ہوئے تھے گھاس میں تارے کچل دیے
تتلی کے پر، دلوں کے کنارے کچل دیے
ایسا لگا کہ گیت بھی سارے کچل دیے
لیکن کسی کو چیخ سنائی نہ دے سکی
تصویر زندگی کی دکھائی نہ دے سکی
سبزے سے پھول خاک کی آغوش میں گیا
پانی کا شور وادئ خاموش میں گیا
ٹکڑوں میں خواب ہم سے سجایا نہ جا سکا
گلدستۂ بہار بچایا نہ جا سکا
(ذی شان ساحل)

اردو ادب میں خودکشی کی روایت کا سراغ انیسویں صدی سے ملتا ہےجب 25 اپریل 1886ء کو رونق بنارسی نے اپنے ہی لکھے ہوئے ڈرامے “عاشق کا خون” میں اداکاری کرتے ہوئے سٹیج پر ہی اپنے گلے پہ استرا پھیرلیا۔شکیب جلالی، سارہ شگفتہ،ساغر دہلوی، شبیر شاہد،مقبول تنویر، احسن فارقلیط، آنس معین، قمر بشیر احمد،زوار فاطمی اور اسامہ جمشید کے نام بھی بدقسمتی سےثروت حسین کے ساتھ اسی فہرست میں شامل ہیں۔
؎ شکیب و ثروت و سارا و آنس و عدنان
جو دیوِ آہن و آتش سے جنگ جیت گئے

ثروت حسین کی پہلی کتاب “آدھے سیارے پر ” قوسین لاہور سے 1987ء میں ان کی زندگی میں ہی شائع ہونے والی واحد کتاب ہے۔ان کی موت کے ایک سال بعد خود ان کی طرف سے ترتیب دی گئی دوسری کتاب”خاکدان” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 1997ء میں شائع ہوئی۔”ایک کٹورا پانی کا” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 2012ء میں اور “کلیاتِ ثروت حسین ” آج پبلی کیشنز کراچی سے 2015ءمیں شائع ہوئی۔

ثروت حسین اپنا کلام پاک و ہند کے رسائل میں تواتر سے بھیجتے رہتے تھے۔ان رسائل میں بہت سا کلام ایسا ملا جو کلیات میں شامل نہ ہو سکا تھا۔ستر کے قریب یہ تخلیقات کولاج پبلی کیشنز لاہور سے ” فاتح کا گیت” کے عنوان تلے کتابی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ان تخلیقات میں غزلیں، نظمیں، حکایتیں، بچوں کے لیے نظمیں، دو خاکے اور ایک ناول کا خاکہ شامل ہیں۔کلام کے بعد فہرست کے نمبر شمار کے مطابق تمام تخلیقات کے حوالہ جات اور ماخذ کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی کلام کے استناد پر اٹھنے والے سوال کا جواب موجود ہو۔

کسی ادیب کے کیے ہوئے کام کو یکجا کرتے ہوئے ملنے والے تمام آثار کو یکجا کر دینا ہی اصل مقصد ہوتا ہے۔ ان میں شاعر، ادیب کے طرزِ احساس سے یکسر مختلف تخلیقات بھی شامل ہو سکتی ہیں لیکن ثروت حسین کے غلام حسین ساجد کو لکھے گئے خط کے ایک اقتباس کے مطابق اسے شاعر انہ کل کا ایک جزو ہی جان لینا چاہیے۔

“زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ہزار ذائقے، کہیں آمیز اور کہیں الگ الگ۔ اور پھر یہ مختلف رنگ اور ذائقے سب کے لیے یکساں کشش نہیں رکھتے۔۔۔کیا ہم صرف پھولوں اور پتیوں کو درخت کہہ سکتے ہیں، کھردری چھال، ٹہنیاں، کانٹے اور بد ہئیت جڑیں اور برگ و بار یہ سب مل کر ایک کُل بناتے ہیں۔ سو تم ان غزلوں کو میرے شاعرانہ کُل کا ایک جزو جانو، پھول نہ سہی، ٹہنیوں کے پر خراش ہاتھ سہی۔”(ثروت حسین)

نگار خانے میں بیل
نگار خانے میں بیل ہے اور سورماؤں کے پاؤں پتھر کے ہوگئے ہیں
کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں ہے جو رنگ و الواح کی صدا پر مبارزت کا چراغ لے کر ہوا میں نکلے
ہوا میں نکلے کہ رات گہری ہے بیل بپھرا ہوا ہے
اطراف کی صفوں کو پیوندِ خاک کرتا گزر رہا ہے
تمام آئینے، موقلم، رنگ کے پیالے
جو آج سینگو ں کی نوک پر ہیں
دعا تھے، آواز تھے،بدن تھے
مگر یہ کرچیں
مگر یہ کرچیں جو میری آنکھوں میں،میرے ہاتھوں میں
۔ ۔ ۔ میرے تلووں میں چبھ رہی ہیں
حروف و اشکال کے جہنم گواہ رہنا
گواہ رہنا کہ کس کے نیزے کی نوک چمکی تھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے سینے کی ڈھال دیوار بن گئی تھی
٭٭٭

[divider]وہ تین تھے[/divider]

وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں پر صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور ان کے پیر ننگے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور لوگ گزر رہے تھے
مذہب‘ سیاست اور گھریلوقضیے
عورت کی چوٹیاں
صبر اور انتقام سے گندھی ہوئیں
بچہ عورت کو دیکھ رہاتھا
عورت اپنے مرد کو
مرد کی آنکھیں عدالت کے دروازے پر
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور دوپہربیچ عدالت کی عمارت خالی ہو رہی تھی
مجسمے سیڑھیوں پر رکھے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں سے رات اتر رہی تھی
٭٭٭

[divider]بچپن[/divider]

جنوب کے ساحلی علاقوں میں دور بچپن کی تاب ناکی
کے ریت ذرے دمک رہے ہیں، ہزار ہا خوش گوار یادیں
ہمارا دامان کھینچتی ہیں، سفید اور ملگجے پرندے
جھلک دکھا کر فضا میں روپوش ہو گئے ہیں، زمیں کے اوپر
وہ بیر شہتوت کے جزیرے، گیاہ سر سبز جیسے پانی
کہ پھوار بن کر برس رہی ہے اوائلِ عمر کی کہانی

[divider]دوپہر[/divider]

تیز جھکڑ میں ہلتی ہوئی جھاڑیوں پر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سپاہی کے ملبوس کی دھجیاں
اور سفر۔۔۔دھوپ دیوار ہے
۔ ۔ ۔ ناخنوں سے کھرچتے ہوئے بیت جانے میں لذت نہیں
بارشیں، ٹہنیاں، پھول، بادل، پرندے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہرے کوس، چٹیل
پون چکیوں کے پروں پر ابھرتے، بگڑتے مناظر کے اس پار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ندی کے پھیلاؤ میں کشتیاں ریت ہیں

اگر کسی روز۔۔۔

اگر کسی روز یہ سمندر
ہماری بستی پہ پاﺅں رکھ دے
تو کاٹھ گودام اور گلیاں
عدالتیں اور دھوپ گھڑیاں
سپاس ناموں، معاہدوں سے بنے ہوئے یہ تمام منظر
ہمارے جسموں پہ آر ہیں گے

[divider]بھکشا پارتر[/divider]

اب سیارے پر شام ہوئی
سورج کے پروں کی چھایا ہے
اک ان دیکھی تنہائی نے
پوجا کا اگر سلگایا ہے
اے دیوی تیری چوکھٹ پر
یہ کون مسافر آیا ہے

میں بادل ہوں میں سایا ہوں
اور تیرے در پر آیا ہوں
اے دیوی آن کے دیکھ ذرا
یہ بھکشا پاتر خالی ہے
اور نگر نگر دیوالی ہے
٭٭٭

[divider]وائی[/divider]

۔ ۔ ۔ آیا ہوں لاڑ سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے
۔ ۔ ۔ ہاتھوں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گر پڑی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورج کی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنکھڑی
دیکھ مجھے! ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے!!
ظ۔ ۔ ۔ تیشوں سے
ظ۔ ۔ ۔ کٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رستے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن یہ پہاڑ سے
دیکھ مجھے!دیکھ مجھے !!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے

[divider]حکایت[/divider]

میرے پاس دو ہاتھ ہیں لیکن چیزیں جو میرے ہاتھ میں ہیں وہ چار ہیں: قلم، جس سے میں شاعری لکھتا ہوں، تیشہ جس سے میں پہاڑ کاٹتا ہوں، چپو جس سے میں سمندر کاٹتا ہوں اور یہ آخری چیز تلوار میرے حکمران ہونے کی دلیل ہے اور جو حکمران ہے اسے ہی زیب دیتا ہے خوش پوشاک ہونا اور کہنا کہ تم نے اتنی دیر کہاں لگادی اور جو ملاح ہے وہ چاہتا ہے سمندر کی طرف جانا جہاں ایک جل پری مونگے کی چٹان پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ مرجان کا ایک پنکھا اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ جس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں وہ انتظار کر سکتی ہے یہاں تک کہ ملاح آئے اور اس کا نصف بدن جو مچھلی کا ہے عورت میں بدل جائے اور جو تیشہ بدست ہے وہ زمین ایک روزن بنانا چاہتا ہے، روزن جس سے وہ دیکھ سکے۔ پاتال کو اور اس کے خزانوں کو اور کھینچ سکے خوشیاں جو زمین کی تہہ میں اس کے لیے رکھ دی گئی ہیں اور جو شاعر ہے وہ کچھ نہیں چاہتا سوائے ایک سفید کاغذ کے جو ایک ازلی انتظار ہے اور انتظار تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ خدا ہے اور خدا وہ ہے جو انسانوں کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں موجزن ہے اور جو موجزن ہے اسے سمندر تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

٭٭٭

[divider]متفرقات[/divider]

اے جنگل! ان گلیوں، ان بازاروں کو
چھوڑ آئے ہیں تیرے ایک اشارے پر
بہنے والی کشتی کو معلوم نہیں
دو آنکھیں جلتی ہیں دور کنارے پر
٭٭٭
بہتے بادل کیسے دیکھیں کیسے جانیں
جلتی دیواروں کا باطن، گزر گیا دن
خوابوں کی آواز پہ جھاگ اڑاتے جائیں
شام سبھا میں سب کچھ ممکن گزر گیا دن
٭٭٭
باغوں چراغوں میں جلتا ہے کون
گیتوں کی گلیوں میں چلتا ہے کون
جلتی ہوئی مشعلوں سے پرے
سبز آئنوں میں پگھلتا ہے کون
٭٭٭

مفتوح ستارے مٹی میں
جیتا ہوا لشکر آگ میں ہے
میں اپنے گماں میں زندہ ہوں
وہ اپنی میسر آگ میں ہے
کیا بیس برس، کیا تیس برس
اک شخص برابر آگ میں ہے
٭٭٭
دیکھ یہ دن پھر نہیں چڑھے گا، ایسی شام نہیں ہوگی
اے مری دوست، مری محبوبہ جاگیروں سے باہر آ
گرم زمیں پر سایہ کرنا مذہب گھنے درختوں کا
اے مرے شاعر، اے مرے ساتھی تحریروں سے باہر آ
٭٭٭
تم کہاں اس کنجِ آزار میں کھوئی ہوئی ہو
تم کو تو میرے بچے کی ماں ہونا تھا
آئینے کو سبز کیا میری آنکھوں نے
مجھ سے ہی یہ کارِ شیشہ گراں ہونا تھا
٭٭٭
دوری ہے بس ایک فیصلے کی
پتوار چنوں کہ پر بناؤں
بہتی ہوئی آگ سے پرندہ
بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں
٭٭٭
زندہ رکھتا ہوں اپنے ساتھ اسے
اپنے دشمن کو تھام رکھتا ہوں
آگ ہوں اور اس اندھیرے میں
آئنے سے کلام رکھتا ہوں
٭٭٭
شبِ ستارہ و ساحل کو خیر باد کہو
کہ اس سے پہلے سمندر نے یوں بلایا نہ تھا
٭٭٭
کوئی صورت نئی دیکھوں تو یہ وحشت کم ہو
تیری کھینچی ہوئی دیوار میں در چاہتا ہوں

مجھ سے ناراض بہت ہیں یہ خدایانِ زمیں
جرم اتنا ہے کہ حصے کو ثمر چاہتا ہوں
٭٭٭
یا آئینہ جھوٹ کہہ رہا ہے
یا میں ہی عجیب ہو گیا ہوں
چاہت میں کسی کرن کی ثروت
سورج سے قریب ہو گیا ہوں
٭٭٭
لہلہاتی خواہشوں کے رنگ دھیمے پڑ گئے
بادلوں کے شور سے دیوار ہی کالی نہیں
کچھ تو ہم بھی جھومتے رہتے ہیں ان کے دھیان میں
اور کچھ وہ لڑکیاں بھی بھولنے والی نہیں
٭٭٭
یہ موج موج تلاطم، یہ شورِ ہم نفساں
اب اس ہجوم میں کیا ہم سا کم سخن اُترے
٭٭٭
اُس دستِ ناز پر کبھی بیعت نہ کر سکے
اپنے سوا کسی سے محبت نہ کر سکے
ہفت آسمان سیر کیے اور کنجِ دل
اک حرف تھا کہ جس کو حکایت نہ کر سکے
٭٭٭
زوالِ زردمیں رہتا ہوں اور سوچتا ہوں
یہ میرے چار طرف عہدِ ابتلا کیا ہے
٭٭٭
ہم اس کو بھول گئے تھے کہ ناگہاں کل پھر
ہوئی جو شام تو یاد آ گیا وہ کاجل پھر
٭٭٭
جہانِ تیرگی میں شاعری کا نام لیتا ہوں
یہ میری روشنی ہے روشنی سے کام لیتا ہوں
٭٭٭

ردائے سقفِ آسماں بچھانے والے ہاتھ نے
کہیں کہیں پہ روزنِ دعا رکھاہے کس لیے
٭٭٭
زمین بیٹھتی جاتی ہے اور اک حصہ
جہاں پہ پاؤں ہیں میرے وہاں سے اونچا ہے
٭٭٭
اگرچہ سر پہ کڑی دھوپ تھی مگر ثروت
کسی کے قرب کا سایہ بہت گھنیرا تھا
٭٭٭
میری ادائیں وہی اور وہی دشت وبن
آج بھی سایہ فگن، خوف ہیں مجھ پر ترے
راحت و رنجش وہی اور وہی بارشیں
خشت و خرابات میں خوش ہیں گداگر ترے
٭٭٭
آشنائے لب و رخسارہوں مجھ سے پوچھو
وہ پری گھر میں اتر آئے تو کیا لگتی ہے
٭٭٭٭
طاق، اندھیرا اور سیارے رہ جائیں گے
جائے نماز پہ میرا سایہ پھر نہیں ہوگا
٭٭٭
یہ کیا کہ آج بڑھے آ رہی ہے میری سمت
ہر ایک موجِ سب گام سیلِ آب لیے
٭٭٭
جلتے ہیں اب بھی ہونٹ دھڑکتا ہے اب بھی دل
ثروت وہ ایک رات تو کب کی گزر گئی
٭٭٭
جھلک اٹھا ہے کنارِ شفق سے تا بہ افق
ابد کنار ہوا خون رائیگاں نہ گیا
٭٭٭
گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے
٭٭٭

Categories
فکشن

واپسی

تحریر: محمد عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی روشنی کافی پھیل چکی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ گرمی کی وجہ سے رات نیند ہی اتنی دیر سے آئی تھی کہ صبح جلدی جاگنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے پرمیں نے ارد گرد دیکھا۔ دور دور تک بس باجرے کی فصل ہی نظر آرہی تھی۔ کہیں گھٹنوں تک اور کہیں اس سے ذرا زیادہ۔گائوں کی ساری آبادی دور نظر آرہی تھی ۔ اتنے وسیع پھیلے ہوئے باجرے کے درمیان ، اس ویران ڈیرے پر خود کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے میں ٹارزن ہوں ، جنگل میں ہی پیدا ہو اہوں اور جنگل میں ہی مروں گا۔لیکن ، ایسی اپنی قسمت کہاں ۔ میں تو بہت ہی معمولی آدمی ہوں۔ مجھے تو خود کما کر کھانا ہے۔ خیر ، یہ پندرہ بیس دن مشکل ہیں، ڈیرے کی یہ چاردیواری مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے پا س اتنے پیسے ہو جائیں گے کہ کراچی نکل سکوں، وہاں پہنچ گیا تو پھر کام بھی بہت اور کام بھی آسان۔ زندگی آرام سے گزر جائے گی۔ جس طرح وہاں گئے ہوئے دوستوں کی گزر رہی تھی۔

میں نے نیچے بچھی اپنی قمیض اٹھائی اور ٹیوب ویل کی ہودی کی طرف چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھوتے وقت ہاتھ کے دھسکے ہوئے چھالے دیکھ کر ایک بار تو آنکھوں میں پانی آ گیا۔ کیسے ملائم ہاتھ تھے میرے۔ چار ہی دن میں تباہ ہو گئے۔ اب تو کوئی چیز مٹھی کی گرفت میں لینے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ پتا نہیں کب جنگو لوگوں کی طرح میرے بھی ہاتھوں پر چنڈھیاں بنیں گی اور میرے ہاتھ بھی پتھر ہو جائیں گے۔ ابھی تو درد ہی برداشت کرنا تھا۔ منہ ہاتھ دھو کر میں نے پہلے اپنی قمیض دھوئی، اور جب وہ دھل گئی تو اسے پہن کے شلوار کو دھونے لگا۔
اس وقت جنگو وہاں آ پہنچا۔ کم بخت گھر سے پیٹ بھر کے آیا ہے ۔ اب دو چار جملے ضرور کسے گا۔

’’ہاں جی، کپڑے دھوئے جا رہے ہیں۔‘‘
’‘جی ، اور کیا۔ ایک ہی تو جوڑا ہے۔ روز نہ دھوؤں تو پہنوں کیسے؟‘‘
وہ ٹیوب ویل والے کمرے سے مستریوں کے اوزار نکالنے چلا گیا۔واپسی پہ اوزاروں کا تھیلا زمین پہ پٹختے ہوئے بولا’’ویسے مجھ سے تمہاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ اچھے بھلے گھر کے۔۔۔۔‘‘

’’نہ تو وہ اچھا گھر ہے،اور نہ ہی بھلا۔۔۔۔۔۔۔ تم بس کام کی تیاری کرو۔ مستری بھی آتے ہی ہوں گے۔‘‘

وہ پرائمری سکول تک میرے ساتھ پڑھتا رہا تھا۔ مانیٹر کی حیثیت سے میں نے کئی بار اسے ماسٹروں کی مار سے بچایا تھا۔ اس لیے وہ میرا ایک طرح سے احسان مند تھا، اور اسی لیے میرے سامنے اونچا نہیں بولتا تھا۔

’’پھر بھی آج چار دن ہوگئے تمہیں۔ صرف دن کو یہاں سے ملنے والے کھانے پر گزارہ کر رہے ہو۔ سوتے بھی ادھر کھلی زمین پر ہو۔ تمہارے جیسے لڑکے کو ایسے دیکھ کے دکھ تو ہوتا ہے۔ ‘‘

’’کوئی ضرورت نہیں دکھی ہونے کی۔ میں اپنی خوشی سے یہ کر رہا ہوں ۔ پھر تمہیں کیا۔ میں اپنے بل پہ جینا چاہتا ہوں ، روز روز دوسروں کے طعنے سن سن کر نہیں ۔‘‘

وہ میری طرف دیکھتا رہاپھر مستریوں کے کام کرنے کے لیے کل سے لگی گو پاڑ پر اینٹیں رکھنے لگا۔ میں نے شلوار دھوئی اور اسے نچوڑ کے تھوڑا ساہوا میں گھمایا تا کہ آٹھر جائے ۔ صابن کے بغیر صاف نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر دھلائی پر کپڑا پھنسی ہوئی مٹی ، اور پسینے کی وجہ سے مزید اکڑتا جا رہا تھا۔ کیٹی کے کپڑوں نے اب سے پہلے ایسا سلوک دیکھا کہاں تھا ۔ خیر آج جمعرات ہے، آج حساب ملنا ہے۔ صابن کی ایک ٹکی بھی لے آؤں گا۔ پھر یہ مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک بار پیسے مل گئے تو پھر بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی جنگو کو کچھ پیسے دوں گا کہ ان کے بدلے مجھے صبح شام اپنے گھر سے کھانا لا دیا کرے۔ ویسے تو وہ ابھی بھی لا کے دے سکتا تھا، مگر میری شرم مجھے اس کا احسان لینے سے روکتی تھی۔

’’تمہارے گھر والوں میں سے تمہیں ڈھونڈتا کوئی ادھر نہیں آیا؟‘‘ اس کا دھیان اینٹیں جوڑنے پر ہی تھا۔
’’نہیں۔ مجھے کیا۔ آ بھی جاتا کوئی تو میں نے کون سا چلے جانا تھا۔ ‘‘
’’ویسے تمہاری ماں کو معلوم ہے کہ تم ادھر ہو۔ بس تیرے باپ کے ڈر سے نہیں آئی‘‘
’’تمہیں کیسے پتا ہے؟‘‘

’’ملی تھی کل رستے میں ۔ تمہارا پوچھ رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ اب تمہارا ابا بھی کافی ٹھنڈا پڑ گیا ہے ۔اگر چپ چاپ آ جاؤ تو کہے گا کچھ نہیں ۔ بس اپنی اکڑ رکھنے کے لیے خود لینے نہیں آئے گا۔‘‘

’’تو مجھ میں اکڑ کم ہے کیا۔میں تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنی بریک تو اب کراچی ہی جا کر لگے گی۔ بس ایک بار کرائے کے پیسے بنا لوں، پھر زندگی بھر گاؤں کا رخ نہیں کروں گا۔‘‘

’’اب اتنی بھی کیا ضد ہے یار ۔ آخر باپ ہے۔ تھوڑا بہت کہنے کو اس کا حق ہے۔ ‘‘
’تھوڑا بہت۔۔۔؟‘‘

میں نے گیلی شلوار پہن لی اور اٹھ کر گارا تیارکرنے کے لیے ہودی سے بالٹیاں بھر کے مٹی کی کھیلی میں پانی ڈالنے لگا۔ایسا کرنے سے گیلی شلوار پر مٹی تیزی سے دوبارہ چمٹنے لگی تھی اور مجھے کراہت سی آنے لگی تھی لیکن دل پر جبر کر کے جس طرح پچھلے چار دن سے کر رہا تھا، پانی ڈالتا رہا۔

’’تیری اماں نے بتایا کہ وہ چھوٹی۔۔۔۔‘‘
’’سونو؟‘‘
’’ہاں، وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے اور دن بھر روتی رہتی ہے۔ ‘‘

’’وہ تو جھلی ہے بالکل۔۔۔۔ کچھ بھی ہو ، روپڑے گی۔ خوشی ہو تو بھی۔۔۔۔۔۔ ‘‘ میں نے ایک نظر دور گاؤں کی سب سے پہلی عمارت پر دیکھا۔ گورنمنٹ گرلزمڈل سکول۔ آج تین مہینے کی چھٹیوں کے بعد سکول کھلنے تھے۔ آج وہ سکول آئے گی۔’ہو سکتا ہے اس وقت تک وہ ،دوسری منزل پر جماعت پنجم کے کمرے میں آ بھی گئی ہو؟ کیا خبر کھڑکی سے میری طرف ہی دیکھ رہی ہو؟‘ میں نے ہاتھوں کا چھجا بنا کر ادھر اس کے کمرہ جماعت کی کھڑکی کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر اتنی دور سے صرف قمیضوں کا نیلا رنگ ہی نظر آ رہا تھا اور کچھ نہیں۔ ’کیا پتا رو رہی ہو۔ ‘ میں نے ادھر سے نظریں ہٹا لیں۔ آنکھیں پنیا جانے پر اب خاک دکھنا تھا۔

پانی ڈال چکنے کے بعد میں اپنے ہاتھوں کے پھٹے ہوئے چھالوں کو دیکھ رہا تھا کہ جنگو سمجھ گیا۔ ’’کسی نہیں چلے گی تجھ سے۔ تو صرف تغاریاں اٹھا اٹھا کے دیتے رہنا۔ میں گارا بناتا ہوں۔ اینٹیں دینے پر آج دوسرے لوگوں کو لگا لیں گے۔ ‘‘

اس کے گارا بنانے تک باقی مزدور اور دونوں مستری بھی آ گئے تھے۔ کام شروع ہو گیا۔

میں نے گارے کی چکنی مٹی سے قمیض بچانے کے لیے اور کچھ گرمی کا احساس کم کرنے کے لیے قمیض اتار کر ساتھ ہی ایک درخت پر لٹکا دی تھی اور اب ننگے دھڑ تغاریاں اٹھا رہا تھا۔ ایسا کرنے سے دھوپ بدن کو زیادہ جلاتی تھی لیکن بھادوں کے اس حبس کا احساس کم ہو جاتا تھا جس سے جان نکل رہی تھی۔ میری دی ہوئی تغاریوں سے نکلنے والا گارا اینٹوں تلے چھپتا رہا اور ردے پہ ردا چڑھتا گیا۔ بھوک کی شدت سے میرے پیٹ میں کچھ ایسی جلن ہو رہی تھی کہ پیاس سے منہ اکڑ جانے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ مگر پیٹ کو تسلی دیے ہوئے تھادوپہر کو مالکوں کی طرف سے ملنے والا فشٹ کلاس کھانا۔ آج کل میں دوپہر کو سات سات روٹیاں کھا جاتا تھا اور پھر بھی لگتا کہ کم کھا رہا ہوں۔ خیر آج آخری دن ہے۔ کل سے کھانا جنگو کے ذمے ہو گا۔ ہاتھوں کے چھالے جو ہر بار تغاری اٹھانے پر ٹیس دیتے تھے، مٹی کے تھوبوں تلے دبائے میں گارا مستریوں تک پہنچاتا رہا۔

دوپہر کھانے کا وقت ہونے تک گو کاکام ختم ہو گیا تھا اور اب اگلے حصے پر گو بنانی تھی۔ کھانا پہنچنے تک ہم سب مزدوروں نے اگلی جگہ گو بنا دی تھی ارادہ یہی تھا کہ کھانا کھانے کے بعدہی اگلی گو پر کام شروع ہو گا۔

کھانا جب آیا ، تب تک میں بھوک سے فوت ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کے ہم کھانا کھانے لگے۔ ان سب کی نسبت میرے کھانے کی رفتار دگنی تھی۔ مستری دیکھ دیکھ حیران ہوتے تھے ۔پھر ایک مستری سے رہا نہ گیا اور بول پڑا۔

’’اتنے اونچے گھر کے اکیلے مالک ہو کے کیوں اس کام میں پڑ گئے ہو؟‘‘
’‘بس میری مرضی۔‘‘
’’مرضی تو تمہاری ہے، لیکن تمہیں معلوم ہے اس کا کیا انجام نکلے گا۔‘‘
’‘کیا ہو گا؟‘‘
’’ساری زندگی مزدروری کرتے رہو گے۔ نہ خود پیٹ بھر کھا سکوگے اور نہ ہی اپنی اولاد کو کھلا سکو گے۔‘‘
’’میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ دس بندوں کو کھلا لوں گا۔‘‘

’’یہ طاقت تو ابھی ہے نا۔ ماں باپ نے کھلایا بہت ہے ۔کوئی مشقت کا کام نہیں کیا۔ مزدوری کرتے رہے تو ایک ہی سال میں چہرے کی ہڈیاں نکل آئیں گی۔ بازوؤں کے ڈوہلے لٹک جائیں گے۔ اس شوربہ گارے کی طرح۔گھر والوں کی مان کے ساری زندگی سکھی رہو گے۔ ورنہ ان دھوپوں اور پوہ کے کہرے میں سارا دن گدھے کی طرح کام کرنا پڑے گا۔ دس سال میں بوڑھے ہو جاؤ گے۔‘‘

میں پوری رفتار سے کھاتا اس کی بک بک سنتا رہا۔ اگر ایک دن میرے باپ کی باتیں سن لے تو اس کی کمائی سے کھانے پر بھوکا مر جانے کو ترجیح دے۔ ایسے کھلاتا ہے جیسے احسان کرتا ہے۔ خود اس لالچ میں بیٹھا ہے کہ میں جب پڑھ لکھ جاؤں گا تواسے کما کر دوں گا۔ میرا چھتر اُسے کما کر دیتا ہے۔

کھانا ختم ہونے کے بعد جو ریسٹ کا وقت تھا، وہ میرے بارے میں ہی بحث کرتے رہے۔ ان سب کا نقطہ نظر یہی تھا کہ مجھے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔ ورنہ میری حالت دیکھ کر انہیں ترس آتا ہے اور پھر میرے مستقبل کا سوچ کر انہیں دکھ ہوتا ہے کہ میں جو پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن سکتا ہوں(ہونہہ، جیسے ایف اے کرنے والا بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے)مجھے اپنے باپ کا کہنا مان لینا چاہیے اور گھر چلے جانا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر کے بعد تو میں نے کان ان کی طرف سے ہٹا لیے اور پھر گرلز سکول کی طرف دیکھنے لگا۔ ٹائم دیکھا تو اندازہ ہو گیا کہ اب انہیں چھٹی ہونے میں ایک ہی گھنٹا رہ گیا ہے کیا پتا وہ اب کھڑکی سے منہ نکالے میری طرف دیکھ رہی ہو۔’میری سونو۔ اب تو ساری زندگی میرا چہرہ نہیں دیکھ سکے گی۔ ہاں ابا مر گیا تب میں گھر آ جاؤں گا۔ دعا کر جلدی مر جائے۔ تب تک کے لیے میری غلطی مجھے معاف کرنا۔ میں تجھے دیکھنے اس گھر میں نہیں آ سکتا، وہاں وہ شخص بھی ہے۔‘‘

ریسٹ کے بعد انہوں نے میرے موضوع کو چھوڑا اور اپنے کام کو اٹھ گئے۔ میں اسی طرح مٹی اور پسینے میں لتھڑا انہیں تغاریوں پر تغاری پہنچاتا رہا اور وہ اینٹیں تھوپتے چلے گئے۔ ابھی چوتھا ردا شروع ہو اتھا کہ مستری نے مجھے گو پر بلا لیا۔

’’ادھر آ ذرا۔‘‘

میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اتنی دور سے چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ، بس سکول کی وردی ہی نظر آ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی میں اسے پہچان گیا۔ اسے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے ، پہلے ٹیوب ویل کی ہودی میں چھلانگ لگا کر بدن پر سوکھ کر چمٹا ہوا گارا اتارا اور پھر دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا۔

’’کیوں؟ تم کیوں آئی ہو ادھر ؟ اس دھوپ میں ؟‘‘
’’ بس ، تمہیں بلانے۔ اور کسی وقت آتی تو ابا کو پتا چل جاتا۔ ‘‘
’’ مجھے بلا کر کیا کروگی؟ میں نہیں آنے والا۔‘‘
’’اوں ، بھائی ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ نا۔‘‘
’’چھوڑو مجھے۔ تم گھر جاؤ بس۔‘‘ میں نے اس کی بانہہ پکڑ کے اسے کھینچ دھکیلا۔’’دیکھ کتنی دھوپ ہے۔ تیرا رنگ خراب ہو جائے گا۔‘‘
وہ پھسک پڑی۔’’بھائی۔ یہ دھوپ تمہیں نہیں لگتی کیا؟اپنا رنگ دیکھو کس طرح جل گیا ہے؟‘‘

وہ روتی بلکتی چلی گئی۔ میں کافی دیر وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتی تھی۔ اور ایسا کرنے میں اس کی آنکھوں پر جاتے ہاتھ بتاتے تھے کہ وہ ابھی تک رو رہی ہے۔ جب وہ گاؤں کی گلیوں میں اوجھل ہو گئی تو میں واپس کام پر پلٹ آیا۔ اپنی قمیض جو درخت پر لٹکی تھی، اتار کر جھاڑی اور اپہن کے کھڑا ہو گیا۔

’’کیوں ؟ کام نہیں کرنا کیا؟‘‘
’’نہیں ، میں جا رہا ہوں گھر۔ نہیں ہوتا کام۔‘‘
’’آج شام تک تو کرجاؤ۔ پیسے لے کے جانا۔ ‘‘

’’تم اپنے پیسے اپنے پاس رکھو۔ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو میرا رنگ کس طرح جل گیا ہے۔ مجھے اب نہیں کام کرنا۔ ‘‘
میں ان کو حیران پریشان وہیں چھوڑ کے گھر کو چل دیا۔ جہاں اس کی روتی آنکھوں میں صرف مَیں ہی ہنسی لا سکتا تھا۔

Categories
نان فکشن

ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال

تحریر: ازور شیرازی
اکیسویں صدی کا اُردُو شعری ماحول اگرچہ اِظہار کی متعدد ہیتوں سے مملو ہے لیکن ابھی تک شعری روایت کے پالن کے لیے غزل سے درخورِ اعتنا نہیں برت سکا؛جس کی وجہ اِس صنفِ سخن کا ثفافتی خدوخال اور مشرقی شعری مزاج سے مضبوط اِنسلاک ہے۔سابقہ تین چار صدیوں سے غزل شناخت کے جن مراحل سے گزری ہے اُس نے اِسے مقبول ترین شعری صنف منوانے کے ساتھ اِس کے ادبی معیارات کو بھی سنگلاخ بنا دیا ہے۔تاہم اِس میدان کے تخلیق کاروں کی بھیڑ میں جونہی کوئی منفرد اور توانا آواز سنائی دیتی ہے تو وہ جلد ہی سنجیدہ قارئین اور ناقدین کے دل کو لُبھا لیتی ہے ؛انہی مختصر اسماء میں سے ایک اہم نام ذوالفقار عادل کا ہے ؛جس کی ابتدائی پہچان بیسویں صدی کی نویں دہائی سے متعدد ادبی رسائل میں متواتر کلام کی اشاعت سے بننا شروع ہوئی ۔بعد ازاں جسے منضبط تشخص جولائی ۲۰۱۶ء میں منظرِ عام پر آنے والے اُن کے اولین شعری مجموعے ” شرق میرے شمال میں “سے حاصل ہوا۔

 

ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔تبھی وہ اِنسانی روابط کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے داخلی منظر نامے کو بے جان اشیاء سے مربوط کرکے اپنی تنہائی کا ازالہ تلاش کرتا ہے ۔چابی،الماری،میز،دفتر،بینچ،گھراور کمراجیسے کلیدی الفاظ اُس کے شخصی اور تخلیقی رویوں سے ہم آہنگ ہوکر جاندار شعری مضمون کو جنم دیتے ہیں جو موجودہ انسان کی عدم برداشت ،نفسیاتی الجھاؤ اور مبہم افعال کا مشاہداتی محاکمہ پیش کرتا ہے:

 

دیر سے قفل پڑا دروازہ اِک دیوار ہی لگتا تھا
اُس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے
اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی
ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے ہیں
ہو سکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے

 

اُس کی غزل کا دھیما لب و لہجہ نشاط و غم کی معتدل کسک کا زائیدہ ہے ؛اِسی وجہ سے ذوالفقار عادل کے اشعار غیر محسوس طریقے سے قاری پر اپنے اثرات مرتسم کرتے ہیں؛ جن سے رفتہ رفتہ اُنسیت شعر کی تہہ داری اور معاصر قدروقیمت کی گرہیں کھولتی جاتی ہے ۔کیونکہ اُس کے موضوعی ڈھانچے میں دقیق علمی موضوعات کا دخول نہیں بلکہ ذاتی تجربات و مشاہدات کا رس موجود ہے۔ایسے تمام اشعار روایت کے شعور و انجذاب کے باوجود بین المتونیت کے چھان سے کم ہی متحد الخیال معلوم ہوتے ہیں ۔موضوع کا اِنفرادی اور دلکش بیان ہی اُسے جدید غزل کی صف میں سر بر آوردگی عطا کرتا ہے۔نیز وہ روائتی موضوع کو بھی ایسے عمدگی کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالتا ہے کہ اُس کی شمولیت غزل کے باقی اشعار سے ذرا بھی کم صورت معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی اُس میں سپاٹ پن نظر آتا ہے :

 

میں آسماں کی طرف دیکھ کر ہنسوں تو یہ لوگ
یہ پوچھتے ہیں کہ اے بھائی کیا دکھائی دیا؟
صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے

 

ہجرتیں سب پہ فرض تھیں لیکن
سب سے پہلے مجھے خیال آیا
اک ذرا روشنی میں لاؤ اِسے
دیکھتے ہیں دیا بجھا کیوں ہے
بند کمروں کی خبر لو کہ بہت ممکن ہے
آنے والے ہمیں مہمان سمجھنے لگ جائیں

 

ٍعہدِ حاضرکے مادی دھندلکوں نے اُس کے باطنی کینوس سے اولین تشخص کے نقوش مخدوش کردیے ہیں؛جن کی تلاش میں وہ ماحول سے بے اِعتنائی برت کر بچپن بالخصوص ازل کی طرف مراجعت کرنے کی سعی کرتا ہے ۔جہاں اُس کے شعری متن میں بچپنے کی خواہشاتی تصاویر اُبھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں وہیں عرفانِ ذات کا کم زور تسلسل بھی پختگی سے آراستہ ہوتا ہوادِکھتا ہے۔وہ اپنے انجام سے آشنا ہونے کے باوجود ابتدا کی کھوج کو مقصدِ حیات گردانتا ہے لیکن اِس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ وہ ناسٹلجیا کا شکار ہے ؛وہ لمحہ ء موجود کو شاعری کی غذا بنانے کے ساتھ اِس سے ہم رشتگی کے لیے ماضی سے صرف اِستفادہ چاہتا ہے :

 

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں
منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم
یہ جو بھی لوگ ہیں اِن کشتیوں میں

 

شاخوں کا نام دے کے تماشا بنا دیا
جیسے کسی درخت پہ اُگتے ہوئے درخت

 

ذوالفقار عادل کا تخّیلی ظرف شاعری کے ساتھ داستان،افسانہ اور ڈراما کی عملی پیش کش سے بھی مہمیز حاصل کرتا ہے۔یہ عناصر اُس کی ادبی زندگی کے ساتھ سماجی زندگی میں بھی اولین ترجیحات کے حامل ہیں ؛اِنہی وجوہات کے کارن اُس کی غزل میں افسانہ طرازی ،داستانوی ماحول اور تھیٹر کی منظر کشی ظاہری مفاہیم کے ساتھ عصری رویوں میں مضمر جہات کی عقدہ کشائی کرتی ہے:

 

سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں
الاؤ جل رہا ہے خامشی سی
یہ آدمی مری نظروں میں پست کیسے ہوا
کسے بتاؤں کہ میں سگ پرست کیسے ہوا
ایک کردار کی اُمید میں بیٹھے ہیں یہ لوگ
جو کہانی میں ہنسانے کے لیے آتا ہے
ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں
پردے کے پیچھے کوئی اِن کو سمجھاتا رہتا ہے
ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو
یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

 

اُس کی غزل کا ایک اور اِنفرادی وصف تشکیکی اور اِستفہامی فضا کی تشکیل ہے ۔عموماََ اِس تشکیکی اور اِستفہامی ماحول میں خود کلامی بھی در آتی ہے لیکن ذوالفقار عادل کا یہ دعویٰ ہے کہ خودکلامی کا عمل کیسے ممکن ہو؟ جب ہم اپنی ذات سے ہم کلام ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو جاودانی قوت سے مکالمے کی راہ نکلتی ہے؛ جس سے حقیقتِ انسان کی کھوج کا اِبتدائیہ شروع ہوتا ہے ۔عادل شعری پیرائے میں اُٹھائے گئے سوالات کا جواب ازخود دیتا ہے ؛اِس سے جہاں اُس کی تخلیقی اور مشاہداتی قوت معلوم ہوتی ہے وہیں شعر “مراجعہ” کے قالب میں بھی ڈھل جاتا ہے :

 

یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا
ہماری نیند پوری ہوگئی ہی
خود سے جو بات بھی کرتے ہیں خدا سنتا ہی
خود کلامی کہاں ممکن ہے کلیمی کہیی
اِک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اِک شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم
اپنی نہ کہوں تو کیا کہوں میں
ہر بات کی ابتدا میں ہوں میں

 

اَسالیبی حوالے سے ذوالفقار عادل کی غزل نوکلاسیکی بانکپن کی وارث ہے؛جو تین طرح کے تحریری خدوخال سے اُسلوبی پرداخت کا سفر مکمل کرکے ایک شناختی طرزِ نگارش میں ڈھلتی ہے۔اِبتدا میں یہ شعری تحریر نثر کے ترتیبی وصف سے مطابقت پیدا کرکے موزونیت کے دھارے میں بہتی ہے ۔دوسری سطح پر یہ اُسلوب قدم کلاسیکی تراکیب کے بناؤ سنگھار سے شروع ہو کر اُن کی عصری معنویت میں منقلب ہو جاتا ہے ۔بعد ازاں ذوالفقار عادل کا تیسرا اِنفرادی اور فی الوقت کا مستقل اُسلوبی رویہ سامنے آتا ہے ؛جس کی شناخت امرِ واقعہ کے مطابق مصرعے کی بُنت اور وقفے کی علامت سے ٹھہراؤ پیدا کرنا ہے تاکہ قاری شعر کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ توقف کے عمل سے شعری لطافت اور موضوعاتی

 

وسعت سمجھنے کا اہل ہو جائے ۔مزید برآں اُس کا اندازِ تحریر زبان کے قدیم ذائقوں سے لفظی تاثیر مستعار لینے کے علاوہ اِس کے ارتقائی سفر سے بھی اِستفادہ کرتا ہے :

 

وہیل چیئر پہ بیٹھ کے چڑھتا ہے کون سیٹرھیاں
آکے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا
جتنی تنہائی ہے عادل،اتنی ہی گہرائی ہی
بس کہ سطح ِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

 

ذوالفقار عادل کی اِستعاری عمارت کشتی ،دل،دریا،باغ اور دیوار پر کھڑی ہے۔اُس نے اِن استعاروں کو ادبی تدبر سے کلاسیکی مطالب سے الگ معنی فراہم کیے ہیں۔جن کا خاصا یہ ہے کہ اِن استعاروں کے برتاؤ میں یکسر اشتراکی دہراؤ نہیں پایا جاتا ۔کشتی کا استعارہ جسے وسیلہ،نجات ،آرام گاہ اور مضبوط سہارے کے طور پر عموماََ استعمال کیا جاتا ہے ۔اِس کی غزل میں ایک غیر محفوظ پناہ گاہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔دراصل یہ استعارہ ہر انسان کے احساسِ ذمہ داری کو جِلا بخشنے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ وہ صرف مسیحا کی آس لگائے نہ بیٹھا رہے بلکہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں سے احسن انداز میں عہدہ بر آ ہو سکے۔ مزید برآں اِسے سیاسی وڈیروں اور غیر مفید پیر بابوں کی عمومی صورتِ حال پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ کشتی کوبادی النظر میں ہی غیر مستحکم وسیلہ نہیں سمجھتا بلکہ آزمائش کے بعد کوئی فیصلہ صادر کرتا ہے اگرچہ اِس معاملے میں وہ نتائج سے قبل بھی عدم استحکام کی فکر ضرور کرتا ہے:

 

کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا آسان نہ تھا
دریاوں کی خاک اڑائی ملاحوں سے یاری کی
کشتی تو بن گئی مگر
کشتی سے کچھ بنا نہیں
کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو
تم سے بھی پوچھیں گے اِک دن دریاؤ چھپ ہوجاؤ
ہونٹ ٹکرا رہے ہیں کشتی سی
کون پانی پلا رہا ہے مجھے

 

“دیوار” کے استعارے کو زیادہ تر رکاوٹ اور بے حسی کے تناظر میں برتا گیاہے۔ذوالفقار عادل کی شعری دنیا میں دیوار ذی روح ہے جو باہمی رابطے کے فقدان کی وجہ سے اِنسان سے خائف رہتی ہے اور انسان اِس سے روائتی شناخت کے باعث دور ہے جبکہ دیوار گفتگو کرنے کے ساتھ اعلیٰ ظرف رکھنے والا نفس ہے۔تبھی یہ اپنی زبان پر تعلقات کی بحالی قائم رکھنے کی غرض سے حرفِ شکایت تک نہیں لاتی:

 

چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادل
ہم ہیں دیوار کے مانند بظاہر خاموش
اِک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہی
اِک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں
گفت گو سے نکل آتے ہیں ہزارواں رستے
ذرا دیوار کی سنیے ذرا اپنی کہیے
جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں
دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں

 

“دل “کے استعارے کو ہمیشہ رنج و آلام کا مرکز ،ٹوٹا ہوا یامکمل طور پر تصوف کے نقطہ نظر سے آئینہ قرار دیا گیا ہے جبکہ عادل کی غزل میں دل کئی مفاہیم کی وسعت پذیری کے لیے نمو کا کام سر انجام دیتا ہے ۔یہاں دل مصائب کی آماجگاہ نہیں کیونکہ اِس میں تیر پیوست ہونے کے بعد بھی ترازو یعنی برابری کی شکل اختیار نہیں کرتا ؛جس کی وجہ دل کی

 

ظاہری موجودگی کا غیر مناسب ٹھہراؤ ہے۔جب کبھی دل بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے تو ہم اِسے اپنی ظاہری نمود و نمائش سے زندہ و توانا رکھنے کی منافقانہ سعی کرتے ہیں ۔کبھی یہ محرومیوں ،حسرتوں سے عبارت ہے جسے محبت کی موجودگی متحرک کر دیتی ہے۔ اُس کے نزدیک آئینے کی طرح صفا قلب خود شناسی اور خدا شناسی کا ذریعہ نہیں بلکہ دکھوں اور غموں کی چوٹوں سے لبریز دل معرفتِ خداوندی کے دریچے وا کرتا ہے ؛جن کے حصول میں سماجی عوامل کا عمل دخل شامل ہے نہ کہ فرار کا ؛نیز اِسی معتدل فضاکے باعث دل اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے:

 

اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
تبدیل اپنے دل کی جگہ کررہے ہیں ہم
روز نکل جاتے ہیں خالی گھر سے خالی دل کو لے کر
اور اپنی خالی تربت پر پھول سجا کر آجاتے ہیں
ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے سینے میں
رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہی
یہ ایک داغ ہے دل پر کہ ایک روزن ہے
اِسی سے خواب اِسی سے خدا دکھائی دیا
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش
جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش

 

دل کے ساتھ ہی منسلک ہوکر شناخت پانے والا ایک استعارہ” دریا “بھی ہے ؛جس کا ظاہری سکوت اقرار نامے کی سند ہے اور اِس سے نسبت رکھنے والوں کی آنکھیں صحرا میں بھی خشک نہیں ہوتیں ۔اُس کے نزدیک دریا سے پہلے دل سے محبت کی کہانی کا آغاز ہوا تھاکیونکہ دریا تودل سے کہیں بعد میں جا کر دریافت ہوئے ہیں۔ دل و دریا کے تقابلی انداز میں وہ دریا کو غیر مستقل جبکہ دل کو مستقل مزاج گردانتا ہے ۔جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے ہاں دریا کا استعارہ کبھی ظاہری دریا کبھی محبوب کبھی اِس سے کرداری مناسبت رکھنے والے افراد کی خاطر استعمال ہوا ہے :

 

دریا تو اپنی موج میں جانے کہاں گیا
دل میں جو پھول ہے وہ کناروں پہ عام تھا
دریا تو کہیں بعد میں دریافت ہوئے ہیں
آغاز ہوئی دل سے روانی کی کہانی
صحرا میں بھی آنکھیں خشک نہیں ہوتیں
دریاؤں سے نسبت زندہ رکھتی ہی
یہ جو دریا کی خموشی ہے اِسی
ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

 

“باغ” کا استعارہ کلاسیکی شاعری میں خصوصاََ میر سے ہوتا ہوا جدید غزل میں کئی اہم شعرا کے علاوہ ثروت حسین ،ادریس بابر اور ذوالفقار عادل کی غزل میں عکس ریز ہوا ہے۔ جس کی معنویت کو اِن مذکورہ شعرا نے انفرادی تشخص کے ساتھ برقرار رکھا ہے ۔ذوالفقار عادل کے ہاں باغ کا استعارہ عصری آشوب سے فرار کی صورت اختیار کرنے کی وقیع علامت ہے جو شاعر کی طبیعت میں بدرجہ اتم حلول ہوکر خوشبو و سرمستی کی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔اُس کے نزدیک باغ کا متبادل یہ عصری آشوب نہیں صرف اور صرف من چاہی فرار کی دنیا “خواب “ہے:

 

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے
مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سی
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا
باغ ایسا اُتر گیا دل میں
پھر وہ کھڑکی نہیں کھلی ہم سے

 

اجتماعی طور پر” شرق میرے شمال میں ” نے غزل کے محدود جگالی شدہ موضوعات کے منجمد تالاب میں ارتعاش پیدا کیا ہے ۔اِس کی شعری کائنات یہ ادبی استدلال پیش کرتی ہے کہ غزل کے دائرہ کار میں ابھی کافی تخلیقی امکانات پنہاں ہیں ۔جن کا ادراک روایت کی معرفت ،انتھک مشقِ سخن،الفاظ کے ماہرانہ استعمالات ،تخلیقی قوت اور بے پایاں مشاہدے کا متقاضی ہے ۔یہ شعری مجموعہ اِن اُوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ اکیسویں صدی کی شعری حنا بندی میں معیاری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی اِمتیازات جہاں ” شرق میرے شمال میں ” کو رواں صدی کے اولین ترین کامیاب شعری مجموعوں میں انفرادی شناخت بخشتے ہیں وہیں غزل کے سفر میں “سنگِ میل ” کی ذمہ داریاں بھی تفویض کرتے ہیں۔
Categories
خصوصی

کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش

کولاج میں پڑھے جانے والے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
حارث بلال
ریسرچ سکالر شعبہ کیمیا
لمز یونیورسٹی لاہور

 

روایت ہے کہ روایتی روایات کے محافظ اس وقت تک بھنگ پی کر سوئے رہتے ہیں جب تک کوئی “آؤٹ آف دی باکس“ نہیں سوچتا۔ روایت ہے کہ کسی مشاعرے یا ادبی کانفرنس میں انتظامیہ کے دوستوں اور قریبی بزرگوں کے علاوہ کوئی دیکھنے کو مل جائے تو یہی سمجھا جائے کہ انتظامیہ سے کوئی بھول ہوگئی ہے ۔۔۔ روایت ہے کہ اتفاق سے یا پلان بنا کر اگر کہیں چار ادیب اکٹھے ہوجائیں تو لازما وہاں کسی پانچویں کی شان سے کیڑے نکالے جاتے ہیں! اور پھر اسی حبس زدہ تاریکی میں انہی روایتوں کی کوک سے کولاج نامی صد رنگی کرن پھوٹی اور مختلف نسل کی خوشبوئیں پھیلانے میں لگ گئی ۔۔۔ جیسے کسی گری اور تھکی ہوئی فوج کے اندر سے کوئی تازہ دم سالار اٹھے اور ممکنہ فتح کے نشے میں چور دشمن پر کاری وار کر کے اسے ‘بیک فُٹ“ پر لے آئے !

 

کہنے کو ایک نومولود ادبی تنظیم اور اس کے کریڈٹ پہ (ابھی تک) صرف دو پروگرام ہیں لیکن اگر دیکھنے والوں کی نظر سے دیکھا جائے اور نیک نیتی سے کہا جائے تو کولاج کا قیام عمل میں آنا ایک ادبی سنگ میل ہے جس نے یکسر فضا بدل دی ہے جس نے نوجوان پرندوں کی ادبی پرواز سے جُوا کھیلنے والے روایت پسند ٹھیکیدار “ماشٹروں“ کو انگشتِ شہادت کے ساتھ والی انگشت کھڑی کر کے دکھا دی ۔۔۔۔ ایک قدم کہ جو ‘کیڑا‘ مار دوا ثابت ہوا ! ! ایک جھٹکا کہ جو ریکٹر سکیل پر نشان چھوڑ گیا، جس کی شدت ریکارڈ کی جاتی رہے گی۔۔۔۔ اور ہر بار سکیل کو جھنجھوڑنے سے بڑھ جائے گی !

 

یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ کولاج کا مکہ میرا شہر سرگودھا اور مدینہ (تلہ گنگ) میرے آبائی گاؤں کے پڑوس میں ہے ۔۔ خیر باتوں سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ کولاج راولپنڈی ایکسپریس کی رفتار سے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے تو کچھ منفرد چیزیں سامنے آتی ہیں ۔۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس سلسلے کا آغاز صاف ستھرے ہاتھوں میں، چھوٹے شہروں سے ہوا ۔۔ اس سے جو لوگ منظر پر تھے اور جو احساسِ کمتری کا شکار تھے دونوں متوجہ ہوئے ۔۔۔ دوسرے نمبر پر کولاج کے پروگرامز کا سکرپٹ ایسا منفرد اور پر کشش تیار کیا گیا کہ مجھ جیسے بے ذوق بھی سنجیدہ ادب کی طرف مائل ہوئے کہ جنہیں ادیب کے منہ سے شعر کے علاوہ کچھ سننا گوارہ نہ ہوتا تھا ۔۔۔ تیسری اور اہم ترین خصوصیت یہ کہ گروہ بندی سے بیزاری کے صرف دعوے نہیں کیے گئے اس ناسور سے گریز بھی کیا گیا ۔۔۔ آخرش کولاج کے پروگرامز کے دوران، پہلے اور بعد میں ہونے والی غیر رسمی گفتگو بھی سنجیدہ ادب پر سننے کو ملی !

 

میں حماد نیازی، فیضان ہاشمی اور عقیل ملک تینوں کا قریبی دوست اور جونئیر ہونے کے باوجود ان مجاہدین کی ہمت اور جرات کو غیر جانبدارانہ سلام پیش کرتا ہوں کہ جن کی بدولت ہمیں ان ہستیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جنہیں ہم بڑے بڑے پروگرامز میں سننے جاتے تھے اور ان کے ساتھ ایک تصویر اور ایک مختصر سی ملاقات کے لئے کئی قسم کی حدوں سے گزر جاتے تھے! ان درویشوں کے وسیلے سے ہمیں کولاج کو جنم لیتے ہی اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کا اعزاز حاصل ہوا اور اپنے جونئیرز کو سنانے کے لیے ایک فخریہ کہانی بھی مل گئی ۔۔ !

 

یقیناً یہ سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے کولاج کی تیسری کانفرنس کی تیاریاں تقریبا مکمل ہیں بس دعا ہے کہ کولاج اسی رفتار سے دو سے تین برس گزار لے ۔۔۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پہلے پہرے میں گنائی جانے والی روایتوں کے جنازوں کے اعلان ہونا شروع ہو جائیں گے اور دلوں سے نیک نیتی کی اذانوں کی صدا بلند ہونے لگی گی انشااللہ !