Categories
فکشن

واپسی

تحریر: محمد عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی روشنی کافی پھیل چکی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ گرمی کی وجہ سے رات نیند ہی اتنی دیر سے آئی تھی کہ صبح جلدی جاگنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے پرمیں نے ارد گرد دیکھا۔ دور دور تک بس باجرے کی فصل ہی نظر آرہی تھی۔ کہیں گھٹنوں تک اور کہیں اس سے ذرا زیادہ۔گائوں کی ساری آبادی دور نظر آرہی تھی ۔ اتنے وسیع پھیلے ہوئے باجرے کے درمیان ، اس ویران ڈیرے پر خود کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے میں ٹارزن ہوں ، جنگل میں ہی پیدا ہو اہوں اور جنگل میں ہی مروں گا۔لیکن ، ایسی اپنی قسمت کہاں ۔ میں تو بہت ہی معمولی آدمی ہوں۔ مجھے تو خود کما کر کھانا ہے۔ خیر ، یہ پندرہ بیس دن مشکل ہیں، ڈیرے کی یہ چاردیواری مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے پا س اتنے پیسے ہو جائیں گے کہ کراچی نکل سکوں، وہاں پہنچ گیا تو پھر کام بھی بہت اور کام بھی آسان۔ زندگی آرام سے گزر جائے گی۔ جس طرح وہاں گئے ہوئے دوستوں کی گزر رہی تھی۔

میں نے نیچے بچھی اپنی قمیض اٹھائی اور ٹیوب ویل کی ہودی کی طرف چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھوتے وقت ہاتھ کے دھسکے ہوئے چھالے دیکھ کر ایک بار تو آنکھوں میں پانی آ گیا۔ کیسے ملائم ہاتھ تھے میرے۔ چار ہی دن میں تباہ ہو گئے۔ اب تو کوئی چیز مٹھی کی گرفت میں لینے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ پتا نہیں کب جنگو لوگوں کی طرح میرے بھی ہاتھوں پر چنڈھیاں بنیں گی اور میرے ہاتھ بھی پتھر ہو جائیں گے۔ ابھی تو درد ہی برداشت کرنا تھا۔ منہ ہاتھ دھو کر میں نے پہلے اپنی قمیض دھوئی، اور جب وہ دھل گئی تو اسے پہن کے شلوار کو دھونے لگا۔
اس وقت جنگو وہاں آ پہنچا۔ کم بخت گھر سے پیٹ بھر کے آیا ہے ۔ اب دو چار جملے ضرور کسے گا۔

’’ہاں جی، کپڑے دھوئے جا رہے ہیں۔‘‘
’‘جی ، اور کیا۔ ایک ہی تو جوڑا ہے۔ روز نہ دھوؤں تو پہنوں کیسے؟‘‘
وہ ٹیوب ویل والے کمرے سے مستریوں کے اوزار نکالنے چلا گیا۔واپسی پہ اوزاروں کا تھیلا زمین پہ پٹختے ہوئے بولا’’ویسے مجھ سے تمہاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ اچھے بھلے گھر کے۔۔۔۔‘‘

’’نہ تو وہ اچھا گھر ہے،اور نہ ہی بھلا۔۔۔۔۔۔۔ تم بس کام کی تیاری کرو۔ مستری بھی آتے ہی ہوں گے۔‘‘

وہ پرائمری سکول تک میرے ساتھ پڑھتا رہا تھا۔ مانیٹر کی حیثیت سے میں نے کئی بار اسے ماسٹروں کی مار سے بچایا تھا۔ اس لیے وہ میرا ایک طرح سے احسان مند تھا، اور اسی لیے میرے سامنے اونچا نہیں بولتا تھا۔

’’پھر بھی آج چار دن ہوگئے تمہیں۔ صرف دن کو یہاں سے ملنے والے کھانے پر گزارہ کر رہے ہو۔ سوتے بھی ادھر کھلی زمین پر ہو۔ تمہارے جیسے لڑکے کو ایسے دیکھ کے دکھ تو ہوتا ہے۔ ‘‘

’’کوئی ضرورت نہیں دکھی ہونے کی۔ میں اپنی خوشی سے یہ کر رہا ہوں ۔ پھر تمہیں کیا۔ میں اپنے بل پہ جینا چاہتا ہوں ، روز روز دوسروں کے طعنے سن سن کر نہیں ۔‘‘

وہ میری طرف دیکھتا رہاپھر مستریوں کے کام کرنے کے لیے کل سے لگی گو پاڑ پر اینٹیں رکھنے لگا۔ میں نے شلوار دھوئی اور اسے نچوڑ کے تھوڑا ساہوا میں گھمایا تا کہ آٹھر جائے ۔ صابن کے بغیر صاف نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر دھلائی پر کپڑا پھنسی ہوئی مٹی ، اور پسینے کی وجہ سے مزید اکڑتا جا رہا تھا۔ کیٹی کے کپڑوں نے اب سے پہلے ایسا سلوک دیکھا کہاں تھا ۔ خیر آج جمعرات ہے، آج حساب ملنا ہے۔ صابن کی ایک ٹکی بھی لے آؤں گا۔ پھر یہ مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک بار پیسے مل گئے تو پھر بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی جنگو کو کچھ پیسے دوں گا کہ ان کے بدلے مجھے صبح شام اپنے گھر سے کھانا لا دیا کرے۔ ویسے تو وہ ابھی بھی لا کے دے سکتا تھا، مگر میری شرم مجھے اس کا احسان لینے سے روکتی تھی۔

’’تمہارے گھر والوں میں سے تمہیں ڈھونڈتا کوئی ادھر نہیں آیا؟‘‘ اس کا دھیان اینٹیں جوڑنے پر ہی تھا۔
’’نہیں۔ مجھے کیا۔ آ بھی جاتا کوئی تو میں نے کون سا چلے جانا تھا۔ ‘‘
’’ویسے تمہاری ماں کو معلوم ہے کہ تم ادھر ہو۔ بس تیرے باپ کے ڈر سے نہیں آئی‘‘
’’تمہیں کیسے پتا ہے؟‘‘

’’ملی تھی کل رستے میں ۔ تمہارا پوچھ رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ اب تمہارا ابا بھی کافی ٹھنڈا پڑ گیا ہے ۔اگر چپ چاپ آ جاؤ تو کہے گا کچھ نہیں ۔ بس اپنی اکڑ رکھنے کے لیے خود لینے نہیں آئے گا۔‘‘

’’تو مجھ میں اکڑ کم ہے کیا۔میں تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنی بریک تو اب کراچی ہی جا کر لگے گی۔ بس ایک بار کرائے کے پیسے بنا لوں، پھر زندگی بھر گاؤں کا رخ نہیں کروں گا۔‘‘

’’اب اتنی بھی کیا ضد ہے یار ۔ آخر باپ ہے۔ تھوڑا بہت کہنے کو اس کا حق ہے۔ ‘‘
’تھوڑا بہت۔۔۔؟‘‘

میں نے گیلی شلوار پہن لی اور اٹھ کر گارا تیارکرنے کے لیے ہودی سے بالٹیاں بھر کے مٹی کی کھیلی میں پانی ڈالنے لگا۔ایسا کرنے سے گیلی شلوار پر مٹی تیزی سے دوبارہ چمٹنے لگی تھی اور مجھے کراہت سی آنے لگی تھی لیکن دل پر جبر کر کے جس طرح پچھلے چار دن سے کر رہا تھا، پانی ڈالتا رہا۔

’’تیری اماں نے بتایا کہ وہ چھوٹی۔۔۔۔‘‘
’’سونو؟‘‘
’’ہاں، وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے اور دن بھر روتی رہتی ہے۔ ‘‘

’’وہ تو جھلی ہے بالکل۔۔۔۔ کچھ بھی ہو ، روپڑے گی۔ خوشی ہو تو بھی۔۔۔۔۔۔ ‘‘ میں نے ایک نظر دور گاؤں کی سب سے پہلی عمارت پر دیکھا۔ گورنمنٹ گرلزمڈل سکول۔ آج تین مہینے کی چھٹیوں کے بعد سکول کھلنے تھے۔ آج وہ سکول آئے گی۔’ہو سکتا ہے اس وقت تک وہ ،دوسری منزل پر جماعت پنجم کے کمرے میں آ بھی گئی ہو؟ کیا خبر کھڑکی سے میری طرف ہی دیکھ رہی ہو؟‘ میں نے ہاتھوں کا چھجا بنا کر ادھر اس کے کمرہ جماعت کی کھڑکی کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر اتنی دور سے صرف قمیضوں کا نیلا رنگ ہی نظر آ رہا تھا اور کچھ نہیں۔ ’کیا پتا رو رہی ہو۔ ‘ میں نے ادھر سے نظریں ہٹا لیں۔ آنکھیں پنیا جانے پر اب خاک دکھنا تھا۔

پانی ڈال چکنے کے بعد میں اپنے ہاتھوں کے پھٹے ہوئے چھالوں کو دیکھ رہا تھا کہ جنگو سمجھ گیا۔ ’’کسی نہیں چلے گی تجھ سے۔ تو صرف تغاریاں اٹھا اٹھا کے دیتے رہنا۔ میں گارا بناتا ہوں۔ اینٹیں دینے پر آج دوسرے لوگوں کو لگا لیں گے۔ ‘‘

اس کے گارا بنانے تک باقی مزدور اور دونوں مستری بھی آ گئے تھے۔ کام شروع ہو گیا۔

میں نے گارے کی چکنی مٹی سے قمیض بچانے کے لیے اور کچھ گرمی کا احساس کم کرنے کے لیے قمیض اتار کر ساتھ ہی ایک درخت پر لٹکا دی تھی اور اب ننگے دھڑ تغاریاں اٹھا رہا تھا۔ ایسا کرنے سے دھوپ بدن کو زیادہ جلاتی تھی لیکن بھادوں کے اس حبس کا احساس کم ہو جاتا تھا جس سے جان نکل رہی تھی۔ میری دی ہوئی تغاریوں سے نکلنے والا گارا اینٹوں تلے چھپتا رہا اور ردے پہ ردا چڑھتا گیا۔ بھوک کی شدت سے میرے پیٹ میں کچھ ایسی جلن ہو رہی تھی کہ پیاس سے منہ اکڑ جانے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ مگر پیٹ کو تسلی دیے ہوئے تھادوپہر کو مالکوں کی طرف سے ملنے والا فشٹ کلاس کھانا۔ آج کل میں دوپہر کو سات سات روٹیاں کھا جاتا تھا اور پھر بھی لگتا کہ کم کھا رہا ہوں۔ خیر آج آخری دن ہے۔ کل سے کھانا جنگو کے ذمے ہو گا۔ ہاتھوں کے چھالے جو ہر بار تغاری اٹھانے پر ٹیس دیتے تھے، مٹی کے تھوبوں تلے دبائے میں گارا مستریوں تک پہنچاتا رہا۔

دوپہر کھانے کا وقت ہونے تک گو کاکام ختم ہو گیا تھا اور اب اگلے حصے پر گو بنانی تھی۔ کھانا پہنچنے تک ہم سب مزدوروں نے اگلی جگہ گو بنا دی تھی ارادہ یہی تھا کہ کھانا کھانے کے بعدہی اگلی گو پر کام شروع ہو گا۔

کھانا جب آیا ، تب تک میں بھوک سے فوت ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کے ہم کھانا کھانے لگے۔ ان سب کی نسبت میرے کھانے کی رفتار دگنی تھی۔ مستری دیکھ دیکھ حیران ہوتے تھے ۔پھر ایک مستری سے رہا نہ گیا اور بول پڑا۔

’’اتنے اونچے گھر کے اکیلے مالک ہو کے کیوں اس کام میں پڑ گئے ہو؟‘‘
’‘بس میری مرضی۔‘‘
’’مرضی تو تمہاری ہے، لیکن تمہیں معلوم ہے اس کا کیا انجام نکلے گا۔‘‘
’‘کیا ہو گا؟‘‘
’’ساری زندگی مزدروری کرتے رہو گے۔ نہ خود پیٹ بھر کھا سکوگے اور نہ ہی اپنی اولاد کو کھلا سکو گے۔‘‘
’’میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ دس بندوں کو کھلا لوں گا۔‘‘

’’یہ طاقت تو ابھی ہے نا۔ ماں باپ نے کھلایا بہت ہے ۔کوئی مشقت کا کام نہیں کیا۔ مزدوری کرتے رہے تو ایک ہی سال میں چہرے کی ہڈیاں نکل آئیں گی۔ بازوؤں کے ڈوہلے لٹک جائیں گے۔ اس شوربہ گارے کی طرح۔گھر والوں کی مان کے ساری زندگی سکھی رہو گے۔ ورنہ ان دھوپوں اور پوہ کے کہرے میں سارا دن گدھے کی طرح کام کرنا پڑے گا۔ دس سال میں بوڑھے ہو جاؤ گے۔‘‘

میں پوری رفتار سے کھاتا اس کی بک بک سنتا رہا۔ اگر ایک دن میرے باپ کی باتیں سن لے تو اس کی کمائی سے کھانے پر بھوکا مر جانے کو ترجیح دے۔ ایسے کھلاتا ہے جیسے احسان کرتا ہے۔ خود اس لالچ میں بیٹھا ہے کہ میں جب پڑھ لکھ جاؤں گا تواسے کما کر دوں گا۔ میرا چھتر اُسے کما کر دیتا ہے۔

کھانا ختم ہونے کے بعد جو ریسٹ کا وقت تھا، وہ میرے بارے میں ہی بحث کرتے رہے۔ ان سب کا نقطہ نظر یہی تھا کہ مجھے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔ ورنہ میری حالت دیکھ کر انہیں ترس آتا ہے اور پھر میرے مستقبل کا سوچ کر انہیں دکھ ہوتا ہے کہ میں جو پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن سکتا ہوں(ہونہہ، جیسے ایف اے کرنے والا بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے)مجھے اپنے باپ کا کہنا مان لینا چاہیے اور گھر چلے جانا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر کے بعد تو میں نے کان ان کی طرف سے ہٹا لیے اور پھر گرلز سکول کی طرف دیکھنے لگا۔ ٹائم دیکھا تو اندازہ ہو گیا کہ اب انہیں چھٹی ہونے میں ایک ہی گھنٹا رہ گیا ہے کیا پتا وہ اب کھڑکی سے منہ نکالے میری طرف دیکھ رہی ہو۔’میری سونو۔ اب تو ساری زندگی میرا چہرہ نہیں دیکھ سکے گی۔ ہاں ابا مر گیا تب میں گھر آ جاؤں گا۔ دعا کر جلدی مر جائے۔ تب تک کے لیے میری غلطی مجھے معاف کرنا۔ میں تجھے دیکھنے اس گھر میں نہیں آ سکتا، وہاں وہ شخص بھی ہے۔‘‘

ریسٹ کے بعد انہوں نے میرے موضوع کو چھوڑا اور اپنے کام کو اٹھ گئے۔ میں اسی طرح مٹی اور پسینے میں لتھڑا انہیں تغاریوں پر تغاری پہنچاتا رہا اور وہ اینٹیں تھوپتے چلے گئے۔ ابھی چوتھا ردا شروع ہو اتھا کہ مستری نے مجھے گو پر بلا لیا۔

’’ادھر آ ذرا۔‘‘

میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اتنی دور سے چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ، بس سکول کی وردی ہی نظر آ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی میں اسے پہچان گیا۔ اسے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے ، پہلے ٹیوب ویل کی ہودی میں چھلانگ لگا کر بدن پر سوکھ کر چمٹا ہوا گارا اتارا اور پھر دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا۔

’’کیوں؟ تم کیوں آئی ہو ادھر ؟ اس دھوپ میں ؟‘‘
’’ بس ، تمہیں بلانے۔ اور کسی وقت آتی تو ابا کو پتا چل جاتا۔ ‘‘
’’ مجھے بلا کر کیا کروگی؟ میں نہیں آنے والا۔‘‘
’’اوں ، بھائی ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ نا۔‘‘
’’چھوڑو مجھے۔ تم گھر جاؤ بس۔‘‘ میں نے اس کی بانہہ پکڑ کے اسے کھینچ دھکیلا۔’’دیکھ کتنی دھوپ ہے۔ تیرا رنگ خراب ہو جائے گا۔‘‘
وہ پھسک پڑی۔’’بھائی۔ یہ دھوپ تمہیں نہیں لگتی کیا؟اپنا رنگ دیکھو کس طرح جل گیا ہے؟‘‘

وہ روتی بلکتی چلی گئی۔ میں کافی دیر وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتی تھی۔ اور ایسا کرنے میں اس کی آنکھوں پر جاتے ہاتھ بتاتے تھے کہ وہ ابھی تک رو رہی ہے۔ جب وہ گاؤں کی گلیوں میں اوجھل ہو گئی تو میں واپس کام پر پلٹ آیا۔ اپنی قمیض جو درخت پر لٹکی تھی، اتار کر جھاڑی اور اپہن کے کھڑا ہو گیا۔

’’کیوں ؟ کام نہیں کرنا کیا؟‘‘
’’نہیں ، میں جا رہا ہوں گھر۔ نہیں ہوتا کام۔‘‘
’’آج شام تک تو کرجاؤ۔ پیسے لے کے جانا۔ ‘‘

’’تم اپنے پیسے اپنے پاس رکھو۔ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو میرا رنگ کس طرح جل گیا ہے۔ مجھے اب نہیں کام کرنا۔ ‘‘
میں ان کو حیران پریشان وہیں چھوڑ کے گھر کو چل دیا۔ جہاں اس کی روتی آنکھوں میں صرف مَیں ہی ہنسی لا سکتا تھا۔

Categories
نان فکشن

ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال

تحریر: ازور شیرازی
اکیسویں صدی کا اُردُو شعری ماحول اگرچہ اِظہار کی متعدد ہیتوں سے مملو ہے لیکن ابھی تک شعری روایت کے پالن کے لیے غزل سے درخورِ اعتنا نہیں برت سکا؛جس کی وجہ اِس صنفِ سخن کا ثفافتی خدوخال اور مشرقی شعری مزاج سے مضبوط اِنسلاک ہے۔سابقہ تین چار صدیوں سے غزل شناخت کے جن مراحل سے گزری ہے اُس نے اِسے مقبول ترین شعری صنف منوانے کے ساتھ اِس کے ادبی معیارات کو بھی سنگلاخ بنا دیا ہے۔تاہم اِس میدان کے تخلیق کاروں کی بھیڑ میں جونہی کوئی منفرد اور توانا آواز سنائی دیتی ہے تو وہ جلد ہی سنجیدہ قارئین اور ناقدین کے دل کو لُبھا لیتی ہے ؛انہی مختصر اسماء میں سے ایک اہم نام ذوالفقار عادل کا ہے ؛جس کی ابتدائی پہچان بیسویں صدی کی نویں دہائی سے متعدد ادبی رسائل میں متواتر کلام کی اشاعت سے بننا شروع ہوئی ۔بعد ازاں جسے منضبط تشخص جولائی ۲۰۱۶ء میں منظرِ عام پر آنے والے اُن کے اولین شعری مجموعے ” شرق میرے شمال میں “سے حاصل ہوا۔

 

ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔تبھی وہ اِنسانی روابط کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے داخلی منظر نامے کو بے جان اشیاء سے مربوط کرکے اپنی تنہائی کا ازالہ تلاش کرتا ہے ۔چابی،الماری،میز،دفتر،بینچ،گھراور کمراجیسے کلیدی الفاظ اُس کے شخصی اور تخلیقی رویوں سے ہم آہنگ ہوکر جاندار شعری مضمون کو جنم دیتے ہیں جو موجودہ انسان کی عدم برداشت ،نفسیاتی الجھاؤ اور مبہم افعال کا مشاہداتی محاکمہ پیش کرتا ہے:

 

دیر سے قفل پڑا دروازہ اِک دیوار ہی لگتا تھا
اُس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے
اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی
ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے ہیں
ہو سکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے

 

اُس کی غزل کا دھیما لب و لہجہ نشاط و غم کی معتدل کسک کا زائیدہ ہے ؛اِسی وجہ سے ذوالفقار عادل کے اشعار غیر محسوس طریقے سے قاری پر اپنے اثرات مرتسم کرتے ہیں؛ جن سے رفتہ رفتہ اُنسیت شعر کی تہہ داری اور معاصر قدروقیمت کی گرہیں کھولتی جاتی ہے ۔کیونکہ اُس کے موضوعی ڈھانچے میں دقیق علمی موضوعات کا دخول نہیں بلکہ ذاتی تجربات و مشاہدات کا رس موجود ہے۔ایسے تمام اشعار روایت کے شعور و انجذاب کے باوجود بین المتونیت کے چھان سے کم ہی متحد الخیال معلوم ہوتے ہیں ۔موضوع کا اِنفرادی اور دلکش بیان ہی اُسے جدید غزل کی صف میں سر بر آوردگی عطا کرتا ہے۔نیز وہ روائتی موضوع کو بھی ایسے عمدگی کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالتا ہے کہ اُس کی شمولیت غزل کے باقی اشعار سے ذرا بھی کم صورت معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی اُس میں سپاٹ پن نظر آتا ہے :

 

میں آسماں کی طرف دیکھ کر ہنسوں تو یہ لوگ
یہ پوچھتے ہیں کہ اے بھائی کیا دکھائی دیا؟
صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے

 

ہجرتیں سب پہ فرض تھیں لیکن
سب سے پہلے مجھے خیال آیا
اک ذرا روشنی میں لاؤ اِسے
دیکھتے ہیں دیا بجھا کیوں ہے
بند کمروں کی خبر لو کہ بہت ممکن ہے
آنے والے ہمیں مہمان سمجھنے لگ جائیں

 

ٍعہدِ حاضرکے مادی دھندلکوں نے اُس کے باطنی کینوس سے اولین تشخص کے نقوش مخدوش کردیے ہیں؛جن کی تلاش میں وہ ماحول سے بے اِعتنائی برت کر بچپن بالخصوص ازل کی طرف مراجعت کرنے کی سعی کرتا ہے ۔جہاں اُس کے شعری متن میں بچپنے کی خواہشاتی تصاویر اُبھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں وہیں عرفانِ ذات کا کم زور تسلسل بھی پختگی سے آراستہ ہوتا ہوادِکھتا ہے۔وہ اپنے انجام سے آشنا ہونے کے باوجود ابتدا کی کھوج کو مقصدِ حیات گردانتا ہے لیکن اِس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ وہ ناسٹلجیا کا شکار ہے ؛وہ لمحہ ء موجود کو شاعری کی غذا بنانے کے ساتھ اِس سے ہم رشتگی کے لیے ماضی سے صرف اِستفادہ چاہتا ہے :

 

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں
منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم
یہ جو بھی لوگ ہیں اِن کشتیوں میں

 

شاخوں کا نام دے کے تماشا بنا دیا
جیسے کسی درخت پہ اُگتے ہوئے درخت

 

ذوالفقار عادل کا تخّیلی ظرف شاعری کے ساتھ داستان،افسانہ اور ڈراما کی عملی پیش کش سے بھی مہمیز حاصل کرتا ہے۔یہ عناصر اُس کی ادبی زندگی کے ساتھ سماجی زندگی میں بھی اولین ترجیحات کے حامل ہیں ؛اِنہی وجوہات کے کارن اُس کی غزل میں افسانہ طرازی ،داستانوی ماحول اور تھیٹر کی منظر کشی ظاہری مفاہیم کے ساتھ عصری رویوں میں مضمر جہات کی عقدہ کشائی کرتی ہے:

 

سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں
الاؤ جل رہا ہے خامشی سی
یہ آدمی مری نظروں میں پست کیسے ہوا
کسے بتاؤں کہ میں سگ پرست کیسے ہوا
ایک کردار کی اُمید میں بیٹھے ہیں یہ لوگ
جو کہانی میں ہنسانے کے لیے آتا ہے
ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں
پردے کے پیچھے کوئی اِن کو سمجھاتا رہتا ہے
ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو
یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

 

اُس کی غزل کا ایک اور اِنفرادی وصف تشکیکی اور اِستفہامی فضا کی تشکیل ہے ۔عموماََ اِس تشکیکی اور اِستفہامی ماحول میں خود کلامی بھی در آتی ہے لیکن ذوالفقار عادل کا یہ دعویٰ ہے کہ خودکلامی کا عمل کیسے ممکن ہو؟ جب ہم اپنی ذات سے ہم کلام ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو جاودانی قوت سے مکالمے کی راہ نکلتی ہے؛ جس سے حقیقتِ انسان کی کھوج کا اِبتدائیہ شروع ہوتا ہے ۔عادل شعری پیرائے میں اُٹھائے گئے سوالات کا جواب ازخود دیتا ہے ؛اِس سے جہاں اُس کی تخلیقی اور مشاہداتی قوت معلوم ہوتی ہے وہیں شعر “مراجعہ” کے قالب میں بھی ڈھل جاتا ہے :

 

یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا
ہماری نیند پوری ہوگئی ہی
خود سے جو بات بھی کرتے ہیں خدا سنتا ہی
خود کلامی کہاں ممکن ہے کلیمی کہیی
اِک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اِک شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم
اپنی نہ کہوں تو کیا کہوں میں
ہر بات کی ابتدا میں ہوں میں

 

اَسالیبی حوالے سے ذوالفقار عادل کی غزل نوکلاسیکی بانکپن کی وارث ہے؛جو تین طرح کے تحریری خدوخال سے اُسلوبی پرداخت کا سفر مکمل کرکے ایک شناختی طرزِ نگارش میں ڈھلتی ہے۔اِبتدا میں یہ شعری تحریر نثر کے ترتیبی وصف سے مطابقت پیدا کرکے موزونیت کے دھارے میں بہتی ہے ۔دوسری سطح پر یہ اُسلوب قدم کلاسیکی تراکیب کے بناؤ سنگھار سے شروع ہو کر اُن کی عصری معنویت میں منقلب ہو جاتا ہے ۔بعد ازاں ذوالفقار عادل کا تیسرا اِنفرادی اور فی الوقت کا مستقل اُسلوبی رویہ سامنے آتا ہے ؛جس کی شناخت امرِ واقعہ کے مطابق مصرعے کی بُنت اور وقفے کی علامت سے ٹھہراؤ پیدا کرنا ہے تاکہ قاری شعر کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ توقف کے عمل سے شعری لطافت اور موضوعاتی

 

وسعت سمجھنے کا اہل ہو جائے ۔مزید برآں اُس کا اندازِ تحریر زبان کے قدیم ذائقوں سے لفظی تاثیر مستعار لینے کے علاوہ اِس کے ارتقائی سفر سے بھی اِستفادہ کرتا ہے :

 

وہیل چیئر پہ بیٹھ کے چڑھتا ہے کون سیٹرھیاں
آکے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا
جتنی تنہائی ہے عادل،اتنی ہی گہرائی ہی
بس کہ سطح ِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

 

ذوالفقار عادل کی اِستعاری عمارت کشتی ،دل،دریا،باغ اور دیوار پر کھڑی ہے۔اُس نے اِن استعاروں کو ادبی تدبر سے کلاسیکی مطالب سے الگ معنی فراہم کیے ہیں۔جن کا خاصا یہ ہے کہ اِن استعاروں کے برتاؤ میں یکسر اشتراکی دہراؤ نہیں پایا جاتا ۔کشتی کا استعارہ جسے وسیلہ،نجات ،آرام گاہ اور مضبوط سہارے کے طور پر عموماََ استعمال کیا جاتا ہے ۔اِس کی غزل میں ایک غیر محفوظ پناہ گاہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔دراصل یہ استعارہ ہر انسان کے احساسِ ذمہ داری کو جِلا بخشنے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ وہ صرف مسیحا کی آس لگائے نہ بیٹھا رہے بلکہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں سے احسن انداز میں عہدہ بر آ ہو سکے۔ مزید برآں اِسے سیاسی وڈیروں اور غیر مفید پیر بابوں کی عمومی صورتِ حال پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ کشتی کوبادی النظر میں ہی غیر مستحکم وسیلہ نہیں سمجھتا بلکہ آزمائش کے بعد کوئی فیصلہ صادر کرتا ہے اگرچہ اِس معاملے میں وہ نتائج سے قبل بھی عدم استحکام کی فکر ضرور کرتا ہے:

 

کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا آسان نہ تھا
دریاوں کی خاک اڑائی ملاحوں سے یاری کی
کشتی تو بن گئی مگر
کشتی سے کچھ بنا نہیں
کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو
تم سے بھی پوچھیں گے اِک دن دریاؤ چھپ ہوجاؤ
ہونٹ ٹکرا رہے ہیں کشتی سی
کون پانی پلا رہا ہے مجھے

 

“دیوار” کے استعارے کو زیادہ تر رکاوٹ اور بے حسی کے تناظر میں برتا گیاہے۔ذوالفقار عادل کی شعری دنیا میں دیوار ذی روح ہے جو باہمی رابطے کے فقدان کی وجہ سے اِنسان سے خائف رہتی ہے اور انسان اِس سے روائتی شناخت کے باعث دور ہے جبکہ دیوار گفتگو کرنے کے ساتھ اعلیٰ ظرف رکھنے والا نفس ہے۔تبھی یہ اپنی زبان پر تعلقات کی بحالی قائم رکھنے کی غرض سے حرفِ شکایت تک نہیں لاتی:

 

چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادل
ہم ہیں دیوار کے مانند بظاہر خاموش
اِک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہی
اِک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں
گفت گو سے نکل آتے ہیں ہزارواں رستے
ذرا دیوار کی سنیے ذرا اپنی کہیے
جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں
دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں

 

“دل “کے استعارے کو ہمیشہ رنج و آلام کا مرکز ،ٹوٹا ہوا یامکمل طور پر تصوف کے نقطہ نظر سے آئینہ قرار دیا گیا ہے جبکہ عادل کی غزل میں دل کئی مفاہیم کی وسعت پذیری کے لیے نمو کا کام سر انجام دیتا ہے ۔یہاں دل مصائب کی آماجگاہ نہیں کیونکہ اِس میں تیر پیوست ہونے کے بعد بھی ترازو یعنی برابری کی شکل اختیار نہیں کرتا ؛جس کی وجہ دل کی

 

ظاہری موجودگی کا غیر مناسب ٹھہراؤ ہے۔جب کبھی دل بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے تو ہم اِسے اپنی ظاہری نمود و نمائش سے زندہ و توانا رکھنے کی منافقانہ سعی کرتے ہیں ۔کبھی یہ محرومیوں ،حسرتوں سے عبارت ہے جسے محبت کی موجودگی متحرک کر دیتی ہے۔ اُس کے نزدیک آئینے کی طرح صفا قلب خود شناسی اور خدا شناسی کا ذریعہ نہیں بلکہ دکھوں اور غموں کی چوٹوں سے لبریز دل معرفتِ خداوندی کے دریچے وا کرتا ہے ؛جن کے حصول میں سماجی عوامل کا عمل دخل شامل ہے نہ کہ فرار کا ؛نیز اِسی معتدل فضاکے باعث دل اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے:

 

اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
تبدیل اپنے دل کی جگہ کررہے ہیں ہم
روز نکل جاتے ہیں خالی گھر سے خالی دل کو لے کر
اور اپنی خالی تربت پر پھول سجا کر آجاتے ہیں
ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے سینے میں
رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہی
یہ ایک داغ ہے دل پر کہ ایک روزن ہے
اِسی سے خواب اِسی سے خدا دکھائی دیا
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش
جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش

 

دل کے ساتھ ہی منسلک ہوکر شناخت پانے والا ایک استعارہ” دریا “بھی ہے ؛جس کا ظاہری سکوت اقرار نامے کی سند ہے اور اِس سے نسبت رکھنے والوں کی آنکھیں صحرا میں بھی خشک نہیں ہوتیں ۔اُس کے نزدیک دریا سے پہلے دل سے محبت کی کہانی کا آغاز ہوا تھاکیونکہ دریا تودل سے کہیں بعد میں جا کر دریافت ہوئے ہیں۔ دل و دریا کے تقابلی انداز میں وہ دریا کو غیر مستقل جبکہ دل کو مستقل مزاج گردانتا ہے ۔جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے ہاں دریا کا استعارہ کبھی ظاہری دریا کبھی محبوب کبھی اِس سے کرداری مناسبت رکھنے والے افراد کی خاطر استعمال ہوا ہے :

 

دریا تو اپنی موج میں جانے کہاں گیا
دل میں جو پھول ہے وہ کناروں پہ عام تھا
دریا تو کہیں بعد میں دریافت ہوئے ہیں
آغاز ہوئی دل سے روانی کی کہانی
صحرا میں بھی آنکھیں خشک نہیں ہوتیں
دریاؤں سے نسبت زندہ رکھتی ہی
یہ جو دریا کی خموشی ہے اِسی
ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

 

“باغ” کا استعارہ کلاسیکی شاعری میں خصوصاََ میر سے ہوتا ہوا جدید غزل میں کئی اہم شعرا کے علاوہ ثروت حسین ،ادریس بابر اور ذوالفقار عادل کی غزل میں عکس ریز ہوا ہے۔ جس کی معنویت کو اِن مذکورہ شعرا نے انفرادی تشخص کے ساتھ برقرار رکھا ہے ۔ذوالفقار عادل کے ہاں باغ کا استعارہ عصری آشوب سے فرار کی صورت اختیار کرنے کی وقیع علامت ہے جو شاعر کی طبیعت میں بدرجہ اتم حلول ہوکر خوشبو و سرمستی کی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔اُس کے نزدیک باغ کا متبادل یہ عصری آشوب نہیں صرف اور صرف من چاہی فرار کی دنیا “خواب “ہے:

 

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے
مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سی
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا
باغ ایسا اُتر گیا دل میں
پھر وہ کھڑکی نہیں کھلی ہم سے

 

اجتماعی طور پر” شرق میرے شمال میں ” نے غزل کے محدود جگالی شدہ موضوعات کے منجمد تالاب میں ارتعاش پیدا کیا ہے ۔اِس کی شعری کائنات یہ ادبی استدلال پیش کرتی ہے کہ غزل کے دائرہ کار میں ابھی کافی تخلیقی امکانات پنہاں ہیں ۔جن کا ادراک روایت کی معرفت ،انتھک مشقِ سخن،الفاظ کے ماہرانہ استعمالات ،تخلیقی قوت اور بے پایاں مشاہدے کا متقاضی ہے ۔یہ شعری مجموعہ اِن اُوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ اکیسویں صدی کی شعری حنا بندی میں معیاری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی اِمتیازات جہاں ” شرق میرے شمال میں ” کو رواں صدی کے اولین ترین کامیاب شعری مجموعوں میں انفرادی شناخت بخشتے ہیں وہیں غزل کے سفر میں “سنگِ میل ” کی ذمہ داریاں بھی تفویض کرتے ہیں۔
Categories
تبصرہ

کائناتی گرد میں عریاں شام۔۔ نفسیاتی مطالعہ

کولاج میں پڑھے جانے والے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ظہیر احمد ظہیر
ڈارون کے پیش کردہ نظریات نے ابھی انسان کو اپنی تخلیق کے بارے میں تشکیک کا شکار کیا ہی تھا کہ بیسویں صدی میں پھوٹنے والی پہلی جنگ عظیم نے مرکزیت کی جگہ لامرکزیت کا طوفان لا کھڑا کیا۔ ہر طرف لاشیں دیکھنے اور چیخ پکار سننے کے بعد وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہوا کہ خدا کہاں ہے؟ وہ خدا جو انسان کو رنج و الم اور ہر قسم کے مصائب سے تحفظ دیتا ہے۔ عقیدہ پر پڑنے والی اس زوردار ضرب نے انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیا۔
کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھنے کے بعد صرف رنج و الم ہی کیوں بچتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جن کا جواب پانچ سو قبل مسیح میں لکھی جانے والی سوفوکلیس کی تحریروں سے مل سکتا ہے۔ جہاں اس نے انسانی المیے کو پیش کیا، وہیں جنس کی بھی نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ جنس، جس کی خاطر دنیا میں انسان نے پہلی بار قتل کیا۔ بیسویں صدی میں فرائیڈ اور کارل جنگ کے اڈیپس اور الیکٹرا پر لکھے گئے مضامین نے سوفوکلیس کے المیوں کی تشریح نفسیاتی سطح پر کی تو انسان جس نے ابھی اپنے اندر جھانکنا شروع ہی کیا تھا، اسے گویا ایک نئی ڈور ہاتھ آ گئی۔ خارج سے داخل کا یہ سفر شروع ہوا تو اسے احساس ہوا کہ اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مسرت اور غم کے نئے پہلو آشکار ہوئے۔ خود اذذیتی اور خود لذتی کی آگاہی نے انسان کو اس کے وجود اور اس کی ضروریات سے متعارف کروایا۔

 

دوسری طرف جب بنیادی عقیدہ پر شک کی ضرب پڑی تو اس کے ساتھ ہی انسان پر لگائی گئی مذہبی معاشی، معاشرتی اور سماجی پابندیوں پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوئے۔ انسان نے ان تمام بیڑیوں کو مسترد کرنا شروع کر دیا جو اس کی خوشی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث تھیں۔ بنیادی عقائد پر پڑنے والی چوٹ نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا، وہیں ادب پر بھی دور رس نتائج مرتب کیے۔ شاید یہی وہ اثرات تھے جو نظم کی ایک بہت بڑی روات ایپک سے انحراف کا سبب بنے اور نظم کے میٹرز، سٹرکچر اور رائم سکیمز کو یکسر نظرانداز کر کے جدید نظم کی بنیاد رکھی گئی۔ جدید نظم جہاں اپنی ساخت میں روایتی نظم سے منفرد ہے وہیں وہ روایتی اصولوں اور نظریات پرجدید عہد کے انسان کا سوال بھی ہے۔

 

انسان جہاں بھی رہے، اس کے مسائل اور اس کی سوچیں دوسرے انسانوں سے ملتی ہیں۔ انگریزی ادب میں پلنے والی جدیدیت اور وجودیت کی لہر اگر اردو ادب پر اپنے اثرات نہ بھی ڈالتی تو بھی یہاں میرا جی اور راشد جیسے شعرا کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔میرا جی اور راشد نے بقول ڈاکٹر رشید امجدکرم خوردہ اخلاق کی جھوٹی قدروں والی خستہ دیواروں کو ڈھانا اور حالیؔ کے سائے میں پلی ہوئی پود کے چہرے سے چھلکا اتارنا شروع کیا۔ درحقیقت یہی وہ شعرا تھے جنہوں نے نظم کو روزمرہ موضوعات اور اخلاقی باتوں سے نکال کر حیات و کائنات کے مسائل سے روشناس کرایا۔انگریزی زبان اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی انھوں نے وہاں سے ایک چیز جو بطورِ خاص برآمد کی وہ شعور کی رو کی تکنیک ہے۔جدید نظم کا تجربہ انگریزی ادب سے ہی آیا تھا میرا جی نے اسے ہندوستان کی مقامیت میں گوندھ کر اردو کی مستقل اور جاندار صنف بنادیا۔

 

میرا جی کی نظم کی بنیادی وجہ ان کی محبت میں ناکامی ہے اور اس ناکامی سے پریشان ہو کر وہ جنس میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے ہاں جنس کا تصور کچلا ہوا ہے۔ جنسی ناآسودگی کے سائے ان کی شخصیت اور شاعری دونوں سے نمایاں ہیں۔ جنسی گھٹن کے مظاہر ان کی شاعری میں جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ سرگوشیاں سرسراہٹ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔

 

راشد کی شاعری کی ابتدا اگرچہ میرا جی کی طرح جنس سے نہ ہوئی، مگر انہوں نے جنسی موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ ضرور بنایا۔ جنس کے معاملے میں انہوں نے چونکا دینے والی صاف گوئی سے کام لیا۔ باطنی سطح پر اٹھنے والی جنسی تحریکیں ان کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نظمیں”ہونٹوں کا لمس” “ انتقام” اور” اے مری ہم رقص” جنسی جذبے کی فراوانی سے بھری ہوئی ہیں۔ راشد نے جنس کو شجر ممنوعہ کے درجے سے نکال کر حقیقی مسرت کی بنیاد بنایا۔ مصطفی زیدی کی اپنی محبوبہ شہناز پر لکھی گئی نظمیں بھی جنسی موضوعات کے نئے دریچے وا کرتی ہیں۔

 

فہمیدہ ریاض کا تذکرہ بھی میں یہاں ضروری سمجھوں گا کیونکہ اب سے پہلے نظم میں جنس کا اتنا بے باکانہ اظہار نہ ہوا تھا جتنا فہمیدہ ریاض کی نظموں “لاؤ اپنا ہاتھ لاؤ ذرا” “باکرہ” “ زبانوں کا بوسہ” اور اس جیسی دیگر نظموں میں سامنے آیا۔۔لذت کوشی ان کی نظموں کا بھی خاص موضوع ہے۔ تاہم ان کی جنسی شاعری کا نمایاں وصف نسائیت ہے جس پر چلتے ہوئے وہ انتہائی تلخ ہو جاتی ہیں۔

 

زاہد امروز اسی روایت کا حصہ ہے۔ کائناتی گرد میں عریاں شام زاہد کی نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس میں جنس پر لگائی گئی معاشی، معاشرتی، سماجی، اور مذہبی پابندیوں کے خلاف احتجاج شامل ہے۔ ان نظموں میں اذیت کوشی بھی ہے اور خود لذتی بھی۔ رنج بھی ہے اور مسرت بھی۔ جدید شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی نظموں میں ان تمام پابندیوں کو اکھاڑ پھینکا ہے جو ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی یہ نظمیں شعور اور لاشعور کی نئی جہتیں تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ستعارے نئے اور تازہ ہیں۔ زبان سادہ اور صاف ہے مگر نظمیں جدید انسان کے مسائل کی طرح پیچیدہ۔ بظاہر سادہ نظر آنے والی نظم تہ بہ تہ نئے مفاہیم کھولتی نظر آتی ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں میں لاشعور میں پلنے والی کون سی تحریکیں بیان کی گئی ہیں؟ اس کا جواب خود ان کی اپنی نظموں “میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں” “نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی” اور “اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے” میں موجود ہے۔ان منظومات کے عنوانات ہی اپنی وضاحت آپ ہیں۔

 

میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں میں ان اولیں جذبات کا تذکرہ ہے جو آگے چل کرNeurosis کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے لذت کی نادیدہ جڑیں اگتی ہیں۔ محبوب کو تن برہنہ دیکھنے کی خواہش اور جرم کے افشا ہونے کا خدشہ وہ لاشعوری عوامل ہیں جن کو اگر مناسب راستہ نہ دیا گیا تو وہ کسی بھی لمحے جسم اور روح کے پرزے اڑاسکتی ہیں۔

 

نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی بھی انسانی زندگی کی اس Phallic Stageکو ظاہرکرتی ہوئی ایک نظم ہے جہاں ایک انسان اپنی شناخت کے اولین مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے نئے حقائق اور سرشاریوں اور محرومیوں سے آگاہی حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جہاں انسان کو اپنے جسم سے حاصل ہونے والی مسرتوں سے آگاہی حاصل ہونا شروع ہوتی ہے۔

 

میں بالوں سے بھرا اپنا نیم حیوانی جسم دیکھتا ہوں
اور سرد پانی کی جھیل میں نہاتے ہوئے
مچھلیوں سے دوستی کی خواہش کرتا ہے۔

 

“اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے”۔ یہ نظم اپنے آغاز سے ہی اڈیپس اور الیکٹرا کمپلیکس کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتی ہے۔

 

“تبدیلی کا موسم آیا اور مجھ پر بور آگیا”

 

اور اس کے بعد میں آنے والی سطور بھی Phallic Stageکی نمائندہ ہیں جہاں جذبات پہلی بار سر ابھار رہے ہوتے ہیں اور انسان اپنے اور مخالف صنف کے اعضا سے حاصل ہونے والی آسودگی اور تکلیف سے واقفیت حاصل کر رہا ہوتا ہے۔

 

یہ بات تو طے ہے کہ اس کتا ب میں بنیادی مسئلہ آسودگی کا ہے اور وہ بھی جنسی آسودگی۔ لیکن کیا یہ آسودگی محض وحشت کو مٹانے کے لیے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہو یا ایک ایسی آسودگی جس میں جسم کے ساتھ ساتھ ذین اور روح کی طمانیت بھی شامل ہو۔نظم “جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے” میں شاعر نے خود انتہائی واضح الفاظ میں اس خواہش کا بے باکانہ اظہار کیا ہے کہ وہ دوسری قسم کی آسودگی کا خواہاں ہے۔

 

مجھے تمھاری دھوپ میں لیٹنا ہے
ضرورت کے زندہ قبرستان میں تو
میں کئی عورتوں کے ساتھ سو سکتا ہوں
(جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے)

 

جدید عہد کا انسان ہر قسم کی پابندی سے آزادی چاہتا ہے۔ اب وہ پابندی چاہے مذہبی ہو، معاشی ہو، معاشرتی ہو یا کچھ بھی ہو، وہ یہ بیڑیاں اپنے پاؤں سے اتار پھینکنا چاہتا ہے۔ آسودگی اس کی خواہش ہے اور اس خواہش کے لیے وہ کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہاں دو صورتیں ہیں۔

 

اول؛ معاشرتی اور مذہبی پابندیاں اس کے راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ نتیجتا اس کو اپنی خواہش سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ یہ دست برداری ایک قسم کی بے بسی ہے جو غصے، بے چینی اور نفرت جیسے جذبات کو جنم دیتی ہے۔

 

دوم؛ اگر وہ تمام پابندیوں کو توڑ کر اپنی آسودگی کا سامان کر بھی لیتا ہے تو اس آسودگی کے اختتام پر دوبارہ وہ نا آسودگی کی منزل پر آن پہنچتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ناکام ٹھہرتا ہے۔
دونوں صورتوں میں اپنی انا اور اپنے غصے کے اظہار کے لیے وہ Ego Defense Mechanismکا سہارا لیتا ہے مثلا دروازے کو زور سے بند کرنا، کسی چیز کو اٹھا کر پھینکنا۔ تلخ الفاظ کا استعمال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ڈیفنس میکانزم پر لکھی گئی ایک نظم “میرا غصہ کہاں ہے” میں شاعر نے محبوب کی بے وفائی پر پلنے والے غصے کا اظہار جنسی جذبے کے تحت کیا ہے۔ اس نظم کو راشد کی “ انتقام” کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے

 

“مجھے بتاؤ
میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے
میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے
جسے تمھاری ہنسی، تمھارے دل
اور تمھاری دھوکے باز ناف میں انڈیل سکوں

 

جنس انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے ایک ہے۔ جنسی آسودگی کو محض جسم کی آسودگی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی اور روحانی آسودگی بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہیں۔روحانی بالیدگی کے بغیر جسمانی تسکین کا کوئی فائدہ نہیں۔غیر متوقع بچے کی موت ایک ایسے معاشرے میں لکھی گئی نظم ہے جہاں ذہنی آسودگی اور جنسی آسودگی دو الگ موضوعات ہیں۔ دونوں کے الگ الگ معنی اور دنیائیں ہیں۔ یہاں لمس ہمیشہ محبت کو ترستے ہیں اور دو نفوس اپنی وحشت کو نپٹانے کے بعد اگلے پڑاؤ کو روانہ ہو جاتے ہیں۔

 

“یہ ملک بن مانگے بچوں سے بھرا پڑا ہے جن کی ماؤں کو کبھی مخلص مرد نہیں ملا”

 

نظم کی آخری لائن میں لفظ بے ارادہ مدہوشی آسودگی کی صرف ایک سطح کو بیان کر رہا ہے جو صرف جسمانی ہے اور جس میں ذہنی اطمینان کی بجائے کرب اور تکلیف کا عنصر ہے۔ گویا جسمانی ضرورت کو پورا کرتے وقت یہاں ذہنی اور روحانی خوشی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
“اس محبت کا کیا مصرف” بھی اسی موضوع پر لکھی گئی نظم ہے جس میں یہ موقف زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔

 

“ریشمی ارمانوں میں قید بانجھ عورتوں کا کوئی مصرف نہیں
جن کے مردوں نے صرف وارث کے لیے جسم خریدے؟؟
وحشت میں چبائے ناخنوں کا اب کیا مصرف؟

 

انسانی زندگی کا ہر دور ایک نفسیاتی دور ہے جہاں اس کے جسم میں مختلف جنسی تحرکات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، تو جسم کے مختلف حصے ایک مخفی احساس محرومی یا آسودگی کے لحاظ سے اہمیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی انہی محرومیوں اور خوشیوں کے گرد گھومتی ہے۔انسانی جسم میں پیدا ہونے والی ایک جنسی تحریک Libido کی افزائش سے ذہنی تناؤ اور اس کے ڈسچارج ہونے سے خوشی پیدا ہوتی ہے۔لبیڈو ڈسچارج ہونے کے لیے ایسے حالات مانگتی ہے جو معاشرے کے لیے اخلاقی لحاظ سے قابل قبول ہوں۔

 

نظم “عریاں شام پہ کتے بھونکتے ہیں” اس معاشرے کا علامتی اظہار ہے جہاں جنس کو ایک ممنوع چیز خیال کیا جاتا ہے۔یہ نظم شعور اور لاشعور کے بابین ہونے والی جنگ کی عکاس ہے۔ لاشعوری تحریکوں کی Gratification ایک معاشرے میں قابل قبول ہو نہ ہو، پھر بھی یہ تحریکیں کسی نہ کسی طور اپنا راستہ نکال لیتی ہیں، فطری نہ سہی، غیر فطری ہی سہی۔ ایسی صورت میں شہر کی آٹھویں منزل پر مدہوش پڑے دو امرد پرستوں کا ملنا کوئی حیران کن بات نہیں۔

 

نظم کے اگلے ہی بند میں دو عورتوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن میں سے ایک سیاہ برقعے میں اور دوسرے سفید بستر پر عریاں۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے موسم سرما کی خنک آلود رات میں آگ کا الاؤ جل رہا ہو مگر اس کو سینکنے کی اجازت نہ دی جائے۔

 

نظم میں صرف معاشرتی رکاوٹوں کا ذکر نہیں، یہاں اس نقطر نظر کا بھی تذکرہ ہے جہاں نفس کا قتل کر کے راہبانہ صورت اختیار کی جاتی ہے اور انسان کو ایک سرخوشی سے دور رکھا جاتا ہے۔ “ سجدے میں خصیوں کا بوجھ اٹھاتا ہوا آدمی” دراصلCastrationکے ایک عمل کی طرف اشارہ ہے جس کی اذیت سہنے کے بعد Sterilityکے ذریعے شعوری اور لاشعوری تحریکوں کے پر کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

نظم میں استعمال ہونے والے سیاہ اور سفید رنگ بھی انہی تحریکوں کے ترجمان ہیں۔ سفید پر سیاہ لباس پہنتی ہوئی رات اس امر کی طرف اشارہ ہے جہاں ہم حقائق سے نظر چرا کر لاشعور میں پلنے والی امپلسسز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

ڈر، خوف اور شک جنسی آسودگی کی تحریکوں پر کیا اثر ڈالتے ہیں، اس کا اندازہ زاہد کی نظم “قصہ ایک مینڈک کا” سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم بھی معاشرے کے انہی رسوم و رواج پر ہے جہاں پیدا ہونے والی جنسی تحریکوں کو اپنا راستہ نہی ملتا۔ اس نظم میں جنس کے مرکزی خیال کے پس پردہ ایک ایسی لڑکی کا تذکرہ ہے جو ایک ایسے معاشرے میں رہتی ہے جوMale Dominant ہے۔جہاں مردوں کو آزادی حاصل ہے۔ وہ جس چشمے سے چاہیں سیراب ہو لیں مگر لڑکی معاملے میں ایسا نہیں۔ یہاں مرد جنسی تسکین کے لیے آزاد ہے۔ مگر عورت کے ساتھ ایسا نہیں۔جس مرد کے ساتھ اسے زندگی گزارنا ہے،جیلسی اس مرد کا خاصہ ہے۔ اوتھیلو کو تو صرف بہانہ چاہیے۔ Possessionمیں کسی قسم کا اشتراک اسے پسند نہیں۔ لیکن یہ جیلسی بذات خود اس کے اپنے اندر پوشیدہ ایک چور کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔

 

“سب مردوں کی طرح اسے بھی باکرہ لڑکی چاہیے تھی”
“خواہش تھی کہ کسی نے اس کی منگیتر کو چھوا نہ ہو
کسی نے اس کے معبد میں جھانکا نہ ہو”
لیکن عورت اپنے اندر اٹھنے والی موجوں کے مقابل بے بس ہے، دوسری طرف بدنام ہو جانے کا خدشہ۔ نتیجتا
“تبھی وہ اپنے یاروں سے یہ وعدہ کرتی
پردے کے اس پار نہ جانا
چوری پکڑی جائے گی”

 

گویا اس نے اپنے وجود کے گرد جالا بن لیا۔اور اس جالے میں اپنی تمام خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا۔ احساس محرومی نے اس کی شخصیت کا جو قلع قمع کیا سو کیا، مگر شوہر خوش تھا کہ پردہ قائم ہے اور عزت دائم ہے۔

 

آگہی ہمیشہ تکلیف دہ کیوں ہوتی ہے؟۔ زاہد امروز نے حقائق کے تکلیف دہ ادراک کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے لیکن یہ موضوع بھی ان کے ہاں جنسی دروازے سے آیا ہے۔ حسین عورت کی خوش حال شادی ایک ایسی نظم ہے جس میں ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔جہاں انسانی جبلتوں کو مختلف رسوم و رواج سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ہاں شادی کے وقت عورت کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ نتیجتا دولہا اور دلہن کا ملاپ صرف جسمانی رہ جاتا ہے جسے شہوت کے ایک جوشیلے کھیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 

دولہا اپنے نشے میں کھیلے
شہوت کا جوشیلا کھیل
اسے نہیں معلوم کہ اس کا
سرد بدن سے میل

 

یہ ان جذبات کی کہانی ہے جب رخصتی کے وقت ایک دلہن بظاہر اپنے ماں باپ سے بچھڑنے کے دکھ پر رو رہی ہوتی ہے،لیکن لاشعوری سطح پر ان آنسوؤں کے پیچھے کئی دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ عمر بھر کی جمع پونجی اور کمائی کے لٹنے کا غم اپنی جگہ پر مسلم، لیکن کہیں کسی کونے میں کسی دوسرے شخص کے خواب بھی اس سیلاب کا باعث ضرور ہوتے ہیں۔ لڑکی بیٹی سے بہو بن جاتی ہے، دلہن بن کر بیٹھ جاتی ہے لیکن اس کا جسم سرد ہے۔ زندگی نام کی کوئی شے اس میں موجود نہیں کیونکہ شہوت کے اس جوشیلے کھیل میں نہ تو اس کا دل ملوث ہے اور نہ دماغ۔ شعوری سطح پر اس کا جسم موجود ہے مگر لاشعوری سطح پر وہ کسی اور کے خواب میں اپنے کپڑے اتار دیتی ہے۔

 

ابتر معاشرتی حالات جہاں زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں وہ جنسی آسودگی راہ میں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔شہری روشنیوں میں وحشی خواب ایک ایسے شخص کا قصہ جو غم دوراں سے گھبرا کر جنس میں پناہ لینا چاہتا ہے مگر عین وقت پر کسی بم دھماکے کی آواز اس کی سوچوں کو منتشر اور منحرف کر دیتی ہے۔ اس نظم میں بھی شدید ذہنی کرب ہے۔ ایک ہیجان ہے جو کسی طور کم نہیں ہو رہا۔ اپنے ہم وطنوں کے دکھ اس شخص کوذہنی کرب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ وہ شخص نہ تو ان سے پیچھا چھڑا سکتا ہے اور نہ ہی ان کو حل کر سکتا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں اس کی اپنی شخصیت کا استحصال ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اپنے محبوب کے بدن میں جا گرتا ہے۔

 

میں تمام راستوں سے اپنا تعاقب کرتا ہوں
اور خواب لیے تمھارے بدن میں کود جاتا ہوں

 

جنسی تلذذ اسے زندگی کے مسائل سے دور اک جنت میں لے جاتا ہے جہاں اس کی سوچوں کا منتشر پن مجتمع ہونا شروع ہوتا ہے۔ نظم کا دوسرا بند اسی آسودگی و اطمینان کا نمائندہ ہے جو شاعر کو جنس سے حاصل ہے۔، ایک شانتی کا بار بار چومنا۔ روشنی کا بانہوں میں بھرنا، کوئی سمت اجنبی نہ ہونا۔ محسوس ہوتا ہے جیسے جنسی اطمینان تمام مسائل کا حل ہے۔ لیکن عین وقت پر ہونے والا دھماکہ شاعر کو دوبارہ اسی ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں سے وہ چلا تھا۔ ایکسٹیسی کے عین عروج پر توجہ کا منحرف ہونا ایک ناقابل بیان ذہنی فالج اور نفسیاتی عارضے کا جنم دیتا ہے جس کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے یہاں قبر اور وحشی خواب جیسے استعاروں کا سہارا لیا ہے۔ جدید عہد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ انسان زیادہ دیر ایک کیفیت میں نہیں رہ سکتا۔ اور کیفیات کی یہی جلد تبدیلی اس کی شخصیت کی توڑ پھوڑ کی بھی ذمہ دار ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں پر اٹھنے والے ممکنہ سوالوں میں سے ایک بے باکانہ اظہار کا سوال بھی ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں اردو ادب کی شعری روایت میں میرا جی، راشد، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید وغیرہ جبکہ نثری ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی کے نام کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ کلاسیکی شاعری میں میر جعفر زٹلی کا نام بھی اس حوالے سے ایک پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ تمام نام اس الزام کی زد میں آتے ہیں تو زاہد کی شاعری میں میر جعفر زٹلی جیسا اظہار نہ سہی، لیکن راشد اور میرا جی سے کہیں زیادہ بے باکی موجود ہے، اور اگر اس روایت کو راستہ دیا جاتا ہے تو پھر یقینا زاہد داد کے مستحق ہیں۔

 

اس سے قطع نظر کہ اس کتاب کا اردو کی جنسی روایت میں کیا مقام ہو گا،انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی نظمیں پڑھ کر یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب جدید نسل کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔