Categories
تراجم فکشن

دلنواز تم بہت اچھی ہو!

اس طرف اب بھی اندھیرا ہے۔ اس جانب جگر مگر روشنی ہے۔ اندھیرے میں بیٹھ کر اس جگر مگر روشنی کو دیکھنے کا سکھ بھی ایک طرح کا سکھ ہے۔ امکانات سے بھرپور سکھ، تاریک سرنگ کے پار پَھک سے کوئی روشنی جل جائے، جیسا سکھ!

سب سیدھا سچ ہے، سب گہری پرتوں سے بھرا ہے۔ کُھلے گا ایک ایک یا کیا پتہ یک بہ یک۔ تب تک اندر ایک ندی بہتی ہے کس قدیم سمے سے، میٹھے پانی کی ندی، اداس گیتوں کی ندی، کچھ کر دیا کچھ اور، بہت اور کریں گے، والی ندی۔ اور سب بھیگتا رہتا ہے، من، جسم ، روح؛ جیسے برسات ٹپکتی ہے آبنوس کے پتوں پر سے، موٹی موٹی بوندیں۔ لال ریت بجری کی مٹی برسات سے بھیگ کر چپل پر چپک جاتی ہے۔ ہر قدم بھاری ہو جاتا ہے۔ ہر قدم دھیما۔ میں ٹھہر ٹھہر سوچتی ہوں، جیتی ہوں۔ سچ! اب جا کر جیتی ہوں۔ بدن لرز جاتا ہے اس جینے کے سکھ میں، اس ہونے کے سکھ میں، کسی مقصد کے سکھ میں، کتنا چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔ اس چھتنار پیڑ سے سٹے، اس کالے پیر پسارے چٹان سے سٹے اپنے اس چھوٹے سے گھر میں، کُٹیا میں، میرے ہونے میں، میرے سندیپن کے باوجود، اس کے بِنا ہونے میں، گاؤں کی ٹھاٹھ باٹھ میں، سینٹر کی ہلچل میں، دیر رات لالٹین اور پیٹرومیکس کی روشنی میں بچوں اور عورتوں کو ‘ک’ سے کنول اور ‘ج’ سے جنگل پڑھانے میں، مانِک پرکیتھ سے رہیبلٹیشن /Rehabilitation]بحالی[ ڈسکس کرنے میں، سروے کے کاغذوں کو چیک کرنے میں، سرکل آفیسر اور بی ڈی او سے کاغذات نکلوانے میں، شہر جانے میں اور پھر، اوہ سکھ، گاؤں واپس لوٹنے میں، ڈُمری کے تھکے دکھتے سر میں تیل ملنے میں، کونے کُھدرے میں اوما کے سجائے سوکھے مرجھائے پھول پتی کے جھرتے گچھوں میں۔۔۔ کیا ملتا ہے مجھے؟ اپنے ہونے جینے کا معنی؟

نیرودا کی کتاب جانے کب سے گود میں رکھی ہے۔ اندھیرے میں کتاب کا لمس ہی سکون دیتا ہے۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے میں اندھیرے کو آنکھوں سے پیتی ہوں۔ چھوٹے سے مُوڑھے پر کھلے دروازے پر بیٹھ کر میں مطمئن ہوں۔ اس اندھیرے سے مطمئن ہوں۔ کہاں سے کہاں آ گئی یہ سوچ کر اب حیران نہیں ہوتی۔ کسی سپنے کو دیکھ کر حیران نہیں ہوتی۔ گھر سے اتنی دور آ کر حیران نہیں ہوتی۔ اب کسی بات سے حیران نہیں ہوتی۔ کوئی جادو تھا پھر حیرانی کیسی۔ کس ٹونے ٹوٹکے سے بندھی مَیں آئی تھی۔ پر اب آ گئی تھی۔ اس گاڑھے اندھیرے وقت میں خوف نہیں تھا۔ صرف کام تھا صرف کام۔ ہر دن کام تھا۔ اور ایک چین تھا، کوئی گیت تھا، پاگل بےچین پھر بھی ٹھہرا ہوا شانت ۔۔۔ ایک عجب غضب سنگیت۔ پر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ کوئی بناوٹ تھی اندر جو شکل لے رہی تھی جانے کب سے، سوئی تھی کبھی اب جاگتی تھی۔ سب رنگ سب سُر مل کر کوئی گیت گاتے تھے آخر۔ ہر کسی کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ پر پہچاننا ہوتا ہے اپنے اندر کی اس اندرونی بناوٹ کو۔ دھیرے دھیرے میرے اندر کی دنیا بن رہی تھی، روشن ہو رہی تھی۔ پر کیسی کھائی تھی باہر اور اندر کے بیچ۔ سو مچ ویرینس /so much variance]تغیر[۔ ہر قدم کے ساتھ بیچ کا فاصلہ پٹ رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا پر ایسا ہو رہا تھا اپنے آپ۔ میرے اندر باہر کی سب دنیا میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی آخر کار۔ جیسے کوئی خوابیدہ سمے کا قدیم راگ ہو، اے مارچنگ سانگ [A marching song]۔ میرا جیون راگ۔

میں نیرودا [Pablo Neruda] کے مصرعے اندھیرے میں یاد کرتی ہوں، مجنون عشق کے مصرعے۔۔۔

I can write the saddest poem of all tonight.
Write, for instance: “The night is full of stars,
and the stars, blue, shiver in the distance.”
The night wind whirls in the sky and sings.
I can write the saddest poem of all tonight.
I loved her, and sometimes she loved me too.
میں لکھتا ہوں آج کی رات نوحہ الم]
میں لکھتا ہوں، تاروں بھری رات ہے اور
دور کہیں تمٹماتے نیلگوں ستارے
رات کی پروائی گاتی پھرتی، فلک کو محوِ رقص ہے
آج کی شب میرا سخن خزیں تر ہے
[میں نے اس سے محبت کی، ہاں اس نے بھی کئی بار
بیچ میں بُھولتی ہوں، پھر آخر کا سرا پکڑتی ہوں،
I no longer love her, true, but how much I loved her.
My voice searched the wind to touch her ear.
Someone else’s. She will be someone else’s.
As she once belonged to my kisses.
Her voice, her light body. Her infinite eyes.
I no longer love her, true, but perhaps I love her.
Love is so short and oblivion so long.
Because on nights like this I held her in my arms,
My soul is lost without her.
Although this may be the last pain she causes me,
And this may be the last poem I write for her
مجھے محبت نہیں اب، مانا، لیکن اسے کس الفت سے چاہا تھا]
میری صدا ڈھونڈتی ہے وہ دوشِ ہوا جو کانوں کو اس کے جا چومے
وہ پرائی ہو جائے گی، کسی اور کی ہو جائے گی
میرے بوسوں کی جو تھی مالک
اس کی آواز، سبک سی کایا، اس کی بےپایاں آنکھیں
مجھے اب عشق نہیں، مانا، لیکن کرتا بھی ہوں شاید
ایسی ہی شبِ عیش ہوا کرتی تھی اور گرد اس کے میری بانہوں کاحصار
میری روح فنا ہے، بعد اس کے
اگرچہ یہ گھاؤ اس کی طرف سے آخری ہو
[اور شاید اس کے لیے مری یہ نظم آخری ہو

میں کون سا مرثیہ گاؤں گی؟ کس کے لیے لکھوں گی سب سے اداس سطریں؟ میرا سب کچھ تو یہیں ہے، یہیں۔ پھر بھی کسی انجانے دکھ سے میرا گلا بھر آتا ہے۔ چھاتی سے گلے تک دکھ جم جاتا ہے، برف کی سل۔ میں دھیمے مسکراتی ہوں۔ بالوں پر کوئی پتنگا پھنس گیا ہے۔ کچھ دیر میں اٹھوں گی۔ کچھ پکاؤں گی، کھاؤں گی۔ پھر تھوڑی پڑھائی۔ آنکھیں دُکھتی ہیں زیادہ دیر لیمپ کی روشنی میں پڑھنے میں۔ گاؤں میں جلد ہی بجلی آئے گی، کم سے کم اس ایک کمرے کے کمیونٹی سینٹر میں۔ پھر آسان ہوگا پڑھنا اور پڑھانا۔ اندھیرے میں من ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ دن بھر کی تھکان ہے پر من تھکا ہوا نہیں ہے۔ اچھا لگتا ہے۔ انگلی رکھنا چاہتی ہوں، ٹھیک اُس بات پر جس سے اچھا لگتا ہے۔ یہاں، یہاں، یہاں۔ پھر یہ بھی اور یہ بھی۔ پر ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔ بس اتنا ہی طے کر پاتی ہوں، کہ اچھا لگتا ہے۔ اداسی میں بھی اچھا لگتا ہے۔ اوما پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ کہتی نہیں، بس چھو سکے اتنی دوری پر چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہے۔ نو سال کی اوما، میری چھوٹی سی سکھی سہیلی۔

“آج یہیں سو جائیں؟” پُھسپُھسا کر پوچھتی ہے۔
“بھاگ، جلدی سے اپنی ماں سے پوچھ آ۔”
میں مصروف ہونے لگتی ہوں۔

چھت پر نوار کی پرانی کھاٹ پر بیٹھی میں چہرہ ہاتھوں میں بھرے بس تاک رہی تھی۔ اندر سب خالی تھا۔ جیسے سارا رس بہہ گیا ہو اور میں صرف ایک خول بچ گئی ہوں۔ چاچی سفید پھولوں والی ساڑھی پنڈلیوں تک دبائے پیڑھے پر چکو مکو بیٹھی تھیں۔ نیچے پرانی بدرنگ چادر پر ڈھیر کی ڈھیر لال مرچیں، اچار والیں۔ کٹھوت ]کاٹھ کا برتن جس میں آٹا گوندتے ہیں[ میں مسالہ پڑا تھا۔ سکھائی ہوئی چٹک لال چمکیلی مرچ میں ان کے ماہر ہاتھ تیزی سے مسالہ بھر رہے تھے۔ مرچوں کی دہکتی شوخی اور مسالوں کی تیکھی بو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ سب بے جان، چُرمرایا ہوا تھا۔ اس پر یہ تیزی۔ اف! میں نے ہاتھوں سے آنکھوں کو ڈھک لیا تھا۔ چاچی نے ایک بار رک کر مجھے دیکھا تھا، پھر اپنے کام میں لگ گئی تھیں۔ دو منٹ ٹھہر کر ورم زدہ گھٹنوں کو سہارا دیتے اٹھی تھیں۔ سیڑھیوں سے ان کے چپلوں کی پھٹ پھٹ سنائی دے رہی تھی۔

چائے کا پیالہ بِنا کچھ کہے مجھے پکڑایا تھا پھر کام میں لگ گئی تھیں۔ بس اسی لیے تو میں یہاں بھاگی آئی تھی۔ جیسے گھائل بیمار کتا مٹی کے ٹھنڈک میں سکون کھوجے۔

بِدپّا، دبلا پتلا چھوٹا سا بِدپّا جب اپنی چھوٹی کالی آنکھیں مچکا کے کہتا، “دل نواز نوو چالا منچیدانوی”، (دل نواز تم بہت اچھی ہو) میں ہنس پڑتی۔

“بِدپّا آیم بیگننگ ٹو انڈرسٹینڈ تیلگو۔”
] بدپا میں تیلگو سمجھنے لگی ہوں۔/[Bidpa I’m beginning to understand Telugu.
پھر وہ انگریزی پر اتر جاتا،
“ریلی؟ دین یو کین شیئر مائی پوریال ٹو ڈے۔”
Really? Then you can share my poriyal today.] / واقعی؟ تو پھر میرے ساتھ آج پوریال (تمل ناڈو میں دال، سبزی کا سالن) کھاؤ۔[

“ارے ہٹ میرے روغن جوش کے آگے تیرا پوریال۔ گو واش یور فیس۔”
Go wash your face]/ منھ دھو جا کر [

پر وہ ڈھیٹ ہنستا رہتا، کبھی واش ہز فیس [Wash his face]نہیں کیا۔ رونا کو میں کہتی بِدپّا یہ بِدپّا وہ …
“بِدپّا کے آگے بھی تو کچھ بول نا”، رونا بیزار ہوتی۔

پر بِدپّا تو میرا بڈی buddy]/دوست [تھا، چائلڈہڈ بڈی childhood buddy]/بچپن کا دوست[۔ بس۔ اس کو میں بچپن کی مار سے لے کر ماں سے یہاں لڑ کر آ جانے کی بات، سب بےجھجک بتا سکتی تھی۔ اپنے پہلے کرشcrush] /منظورِنظر [اور اپنے ریسینٹ مینسٹرُئل کریمپس [recent menstrual cramps/ حال میں ماہواری کا درد[ کے بارے میں بھی۔ میرے لیے وہ جینڈر نیوٹرل[gender neutral/ صنفی غیرجانب دار[ تھا، میرا چارلس شُلز [Charles M. Schulz] کے لنس [Linus Van Pelt] کا کمبل تھا، میرا فرینڈشپ از وارم ہگ Friendship is a warm hug]/سچا دوست [تھا۔ اس بھری اجنبی دنیا میں میرا اینکر] anchor/لنگر[ تھا۔ ہی ہیڈ اے وارم براؤن منکی فیس اینڈ آئی لوڈ ہم، ٹرولی ٹرولی۔
He had a warm brown monkey face and I loved him, truly truly.]/ اس کا چہرہ بھورے بندر جیسا تھا، اور مجھے اس سے محبت تھی، بہت بہت۔[

چھٹیوں میں، میں تب گھر گئی تھی۔ ماں کا ایسا رویہ جیسے پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرانی ہوتی مجھے۔ کتنی لڑائیاں لڑ کر اس مقام پر آئی اور اب ماں نے جیسے میری جیت کا نوکیلا پن ہی گہنا دیا۔ اور تو اور پڑوسی رشتےدار آتے تو چہک چہک کر بتایا جاتا کہ دیکھا دی نے کیا کمال دکھایا۔ اکیلے اس بڑے شہر میں جا کر کس دلیری اور آرام سے نہ صرف پیر جمایا بلکہ خاصی نوکری بھی جگاڑ لی۔ بابا خوش ہو کر کہتے, “ببنی کی تا بڈ کام کر لیہلی۔ خاندان کے نام اونچا ہو گئیل۔” ]بٹیا بڑے کام کر رہی ہے۔ کاندان کا نام اونچا ہو گیا ہے۔[ میں کسی ہارے سپاہی کی کھسیانی ہنسی ہنس دیتی۔ لوگ باگ کے سامنے باقاعدہ میری نمائش لگتی۔ ہونہار ماں کی ہونہار بیٹی۔ ماں اپنے پڑھنے کا چشمہ آنکھوں سے ماتھے پر کھسکا کر سنجیدگی سے کہتیں، “میں تو ہمیشہ سے جانتی تھی کہ دی کچھ خاص ہے۔ پھر گہرا سانس بھرتیں، آج اس کے پپّا ہوتے تو”۔۔۔ میں بھونچکا کر دیکھتی میری لڑائی کا، میری جیت کا سہرا ماں کس قدر بڑے پن سے، معصومیت سے اپنے سر باندھ لیتیں۔ یہی ماں تھیں جنھوں نے ایڑی چوٹی لگا دی تھی کہ میں باہر جا نہ سکوں۔

اور میں بھی ضدی کی ضدی۔ ٹھان لیا تھا کہ اس کنویں سے نکلنا ہی ہے۔ ادھر ادھر چپکے چپکے فارم بھرتی، لوگوں سے پوچھتی پاچھتی اپنی قلعہ بندی تیار کرتی رہی۔ رات رات کی خفیہ تدبیریں، بھاگنے کے بلوپرنٹس، کنٹینجینسی پلانز [blueprints, contingency plans/منصوبے، پیش قدمی[۔ اور شہر اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مگن رہا، مضبوط رہا۔ اس کی طاقت بڑی طاقت تھی۔ اس کے مورچے ناقابل تسخیر۔ ماں کی آنکھیں، شہر کی آنکھیں تھیں، پڑوسیوں کی آنکھیں تھیں، اپنوں، غیروں کی آنکھیں تھیں جو ایک جوان جہان لڑکی کے ہر حرکت کو، معصوم خطرناک، تولتی ہیں، دیکھتی ہیں۔ جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک، ہر حالت میں، ہر سمے پر مستعد۔ میرے بارے میں خبر جنگل کی آگ تھی۔ بن باپ کی بیٹی کا ہر کوئی رکھوالا۔ کوئی دوست نہیں تھا، سب خبری تھے۔ میں ان بیابانی بھیڑ میں جھنڈ سے بچھڑی میمنا تھی۔ بابا تک اپنے پوپلے منھ سے جگالی کرتے کہتے، “ببنی ماں کے بات مان لیوے کے چاہیں۔” ]بٹیا ماں کی بات مان لینی چاہیے۔[

رات کے اندھیرے میں کھڑکی کی ٹھنڈی سلاخوں سے گرم گال سٹائے میں کھوجتی تھی اجاڑ پگڈنڈیاں جہاں میرے پیروں کے نشان گم ہو جائیں۔ گھانس پھونس جنگلی بیل سب ڈھک لیں۔

مرِدُل بورٹھاکر اپنی چپٹی ہنسی ہنس کر کہتا، بہو ناچے گی میرے سنگ؟ اور میں اس کے سنگ جیون کا ناچ ناچنے نکل پڑی تھی۔ کون تھی میں، کوئی اسادورا دنکن[Isadora Duncan]؟ اور وہ کوئی سرگیئی ییسینن [Sergei Yesenin]؟ پر ہواؤں کا پنکھ پکڑ کر، بِنا آگا پیچھا سوچے اڑ چلی تھی۔ ٹرین میں بیٹھے اس کی دکوستا کو لکھی چٹھی،
“Mercedes, lead me with your little strong hands and I will follow you—to the top of a mountain. To the end of the world. Wherever you wish”
]مرسیڈیز، اپنے ننھے مضبوط ہاتھ تھمائے میری راہ نمائی کرو، میں تمھارے نقشِ قدم پر چلوں گی ــــ کہساروں کی چوٹی تک۔ دنیا کے انت تک۔ جہاں بھی تم چاہو۔[
سوچتی رہی۔

میری جان فٹا فٹ۔ لیکن تب کہاں معلوم تھا کہ مرِدُل داکوستا تو ہو نہیں سکتا تھا نہ جنس میں نہ دماغ میں۔ میں ہی کون اسادورا تھی؟ رات کی نیلی سیاہ روشنی میں کسی ایلزابیتھن ہیروئین [Elizabethan heroine] کی طرح لبادہ اوڑھے میرے پیر اس انجان راستے پر بےدھڑک پڑے تھے۔ شہر کی دیوار اندھیرے میں پل بھر کو بھربھرائی تھی۔ میں کوئی ٹائم ٹرویلر [time traveller]تھی، کوئی عیار تھی۔ میرا جسم ہوا، ہوا تھا اور دیواروں کو پار کر گیا تھا۔ شہر نے اپنے ٹیڑھے پن میں، اپنے برسوں کی تاریخ میں، کئی کئی وقفوں پر ایسے اچکّے کھیل کھیلے تھے۔ اور آج میرے جیون کے لمبے راستے پر یہ تیکھا موڑ لینا تھا، سو شہر نے پھر اپنے دروازے کھولے۔ مرِدُل بورٹھاکر بیچارہ تو صرف واسطہ تھا۔ اس کا ناچ میرا ناچ کب ہوتا۔ پر کچھ شروعاتی ٹینگو [Tango] ہم نے کیے مالوینگر کے برساتی کا ایک کمرا۔ پتلے تُھکپا ]تِبتی نوڈل سوپ[ اور بےسواد مومو کے بیچ ہم نے ایک دوسرے کو جانا۔ ہمارے جسم نے ایک دوسرے کو پہچانا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے پر نہیں پڑیں، پر ہماری انگلیوں کی پھوہڑ بےچینی نے کوئی پہچان کی۔ گھپ اندھیرے میں آدھے ادھورے کپڑوں سمیت کچھ اناڑی مشقوں کی ناکام کوشش۔ شروع ہونے کے پہلے ہی چُک جانا اور بعد میں بےحیائی سے، بےحسی سے، ‘اٹ واز ہارڈلی دا زینتھ آف پیشن، نو؟
It was hardly the zenith of passion, no?] / جذبہ انتہا کو نہیں پہنچا، ہے نا؟[

میں مطلبی نہیں تھی۔ قطعی نہیں تھی۔ پر تُھکپا کھا کھا کر مجھے ابکائی آنے لگی تھی۔ میں ایک کنویں سے آ کر دوسرے کنویں میں پھنس رہی تھی۔ مرِدُل دن بھر آوارہ گردی کرتا، رات پی کر بھونکتا رہتا۔ ہمارے پیسے تیزی سے اڑ رہے تھے۔ جتنی تیزی سے پیسے ختم ہو رہے تھے اتنی ہی تیزی سے ہم ایک دوسرے سے گھن کھا رہے تھے۔ اس کا لجلجا لمس مجھ میں ناگواری بھر دیتا۔ گھناؤنے پن وہ کہتا،

“یو آر نو جولییٹ بنوش، ناٹ ایون اے ناؤمی کیمپبیل۔ گیٹ بیک ٹو یور فکن مڈل کلاس سیٹ اپ۔ گیٹ بیک گیٹ بیک یو بلڈی فرجڈ بچ۔”
[You are no Juliette Binoche, not even a Naomi Campbell. Get back to your fucking middle class set up. Get back, get back you blood frigid bitch. / تو کوئی جولییٹ بنوش نہیں ہے، وہ چھوڑ تو، توناؤمی کیمپبیل بھی نہیں ہے۔ جا اپنے بکواس مڈل کلاسی گٹر میں جا پڑ۔ چل نکل، دفع ہو جا حرامزادی ٹھنڈی کیتا۔[

پیسے چُکنے کے ٹھیک دو دن پہلے وہ غائب ہو گیا۔ دارجلنگ کی شکنتلا تامنگ، شینکی نے بتایا مرِدُل کو اسٹیشن پر کسی نے دیکھا گھر کی ٹرین پکڑتے ہوے۔ شینکی کے کمرے میں شفٹ ہوے مجھے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ صبح سے شام میں جانے کس چیز کی تلاش میں شہر بھٹکتی تھی۔ کئی بار خواہش ہوتی مرِدُل کی طرح گھر کی ٹرین پکڑ لینے کی۔ ایک بار تو اسٹیشن بھی پہنچ گئی تھی۔ میرے پورے وجود میں بگولا اٹھتا تھا۔ میں ریگستان تھی۔ ٹھاٹھیں مارتا ریت کا ساگر۔ اس بڑے شہر کی پوشیدہ دیواریں، اس چھوٹے شہر کی دکھائی دیتی دیواروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھیں۔ لوگوں کی آنکھیں پہلے میری چھاتی پر پڑتیں پھر چہرے پر اٹھتیں۔ آنکھوں کو چہرے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ ٹکتی تھیں نیچے، گھومتی تھیں جیسے علاقے ماپ رہی ہوں سٹیکنگ پراپرٹی staking property]/نشان زد جائیداد[۔ چمکیلی بڑی گاڑیوں میں ادھیڑ گنجے آدمی چہرہ نکال شائستگی سے انگریزی میں پوچھتے،

“کیئر فار اے رائیڈ“؟] گاڑی میں بیٹھو گی؟/ [Care for a ride?کبھی کبھی کِلر شارک [killer shark] کے سے فوکس focus]/ارتکاز [سے گاڑیاں پیچھا کرتی دھیمی رفتار،

“کم آن بے بی، آ ول گو یو اے گڈ ٹائیم۔”
Come on baby, I will give you a good time.] / بیٹھ جاؤ پیاری، مزا کراؤں گا۔[

میری چپل کا فیتہ ٹوٹ چکا تھا۔ میرے بیگ کا ہینڈل اور میری والٹ کا پیسہ بھی۔ اور سب سے بڑی اور اہم بات تھی کہ میری طاقت ختم ہو گئی تھی۔ میری معجزاتی غیرمعمولی صلاحیت دو کوڑی کی ثابت ہوئی تھی۔ میں باغی، میں سپارٹاکس [Spartacus]کی اولاد، اوہ میرا بیج ہی کمزور تھا، ڈائلیوٹیڈ /diluted] رقیق[۔ شہر کی جگر مگر کرتی سڑکوں اور دکانوں کے بیچ میں گم ہو رہی تھی۔ میرے اندر کی طاقت چُک گئی تھی۔ میں ایک چھوٹے شہر سے آئی ایک بچاری قصباتی بہن جی تھی، بِن نوکری کے بِن سہارے کے۔ شہر مجھے پڑپ جانے کو تیار تھا۔ لڑکے لڑکیوں، آدمی عورت کی بھیڑ میرے آس پاس سے، میرے آرپار گزر جاتی۔ میں انگلیاں بڑھا کر پکڑ میں لینا چاہتی تھی زندگی، پر ایک بیچارگی مجھے کھوکھلا کر رہی تھی؛ جیسے ہوا کھلی انگلیوں کے پار سے بس بہہ جائے۔ دن رات میں ٹھنڈ سے، جانے انجانے خوف سے کانپتی رہتی۔ میرے پیروں کے نیچے ٹھوس زمین ختم ہو رہی تھی۔ بسوں اور آٹوؤں کی چیخ پکار اور دھینگا مشتی میں میں بھیڑ کی بھیڑ بھاڑ کا بیچارہ حصہ بن جاتی۔ میری ٹھسک، میری ٹھاٹ داری سب ہوا ہو گئی تھی۔ میری بانہوں میں نیلی نسیں ابھرنے لگی تھیں اور پیروں کے تلوؤں میں کڑے کارن /corn]گٹّے[۔ میں رانی راج دلاری اب سڑکوں کی ملکہ تھی۔ اس شہر میں میرا کوئی ہمدرد، کوئی ہمدم نہیں تھا۔

جب صبر کا سرا چھوٹنے ہی والا تھا تب ایک ہوا کے جھونکے سا سندیپن ملا تھا۔ جَن جدوجہد آرگنائزیشن ایکٹوسٹ۔

“چلو گی، چورمُنڈا؟”

اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔ اس کی دبلا لمبا سانولا جسم کسی کمان کی طرح تنا رہتا۔ سگریٹ پر سگریٹ دھونکتا، کھانستا لمبی بحثیں کیا کرتا۔ منصوبے بنتے دیر رات تک۔ میں یہاں صرف سندیپن کے لیے تھی۔ ویسے بھی میری دنیا میں اور کیا تھا؟ شینکی کا ادھار اور بےجان، بےسمت راستے۔ میرے کامپلیسینس compliances]/عاجزی[ کو گندے کارپیٹ کی طرح جھٹک پھینکا تھا سندیپن نے۔ جھولا اٹھائے ہم نکل پڑے تھے، سیکواپانی، چورمُنڈا۔ بھٹکتے رہے تھے گاؤں گاؤں۔ قبائلیوں سے بات کرتے لگاتار۔ گملا، گوڈا، لالمٹیا، جانے کہاں کہاں۔ گاؤں کے گاؤں اکوایرacquire]/شامل[ ہو رہے تھے۔ سرکاری پروجیکٹ میں۔ بڑا بجلی کا تاپ گھر بنے گا۔ خوشحالی آئے گی۔ بجلی ہی بجلی۔ دن میں بھی لٹو جلے گا۔

سروے چل رہا تھا۔ بی ڈی او، گاؤں کے مکھیا، پٹواری، سرکل آفیسر۔ پیڑ کے نیچے، گاؤں کی چوپال میں، کسی سرکاری اسکول کے ادھ ٹوٹے کمروں میں کھڑکھڑاتی میز اور تین پیروں کی کرسی جوڑے، پرانے نقشے پھیلائے، سر جوڑے، باریک باریک لفظوں میں رجسٹر بھرے جا رہے ہیں، زمین کی ملکیت کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔ بھیڑ کی بھیڑ دھوپ میں پیڑھیوں سے صبر کی کہانی جی رہی ہے، منگتو مرمو اور جگت ہیمبرم، پونو ایکا اور بھولا منڈا، پیٹرمنج اور سُزن ترکی۔

“کتنا پیسہ ملے گا بابو؟” سب یہی پوچھتے ہیں۔ “بنجر ڈھوک کا بھی اِتّا ]اتنا[ ہی مل جائے گا۔”

پروجیکٹ کے عہدے دار آتے ہیں کبھی کبھی۔ پہلے لسٹ بن جائے نا پوری۔ نئے الفاظ تیرتے ہیں ہوا میں، پیپس اور ریپس۔
“کیا ہے یہ؟” میں سندیپن سے پوچھتی ہوں۔
“پرسنز ایفکٹیڈ بائی پروجیکٹس اور رہیبلٹیشن آف پروجیکٹ ایفیکٹیڈ پرسنز۔”
[Persons Affected by Projects & Rehabilitation of Project Affected]
سندیپن جوش سے بول رہا ہے:

“سوشل امپیکٹ اسیسمینٹ [Social Impact Assessment]کرنے کے لیے ایک ٹیم آئی ہوئی ہے، ان سے انٹرفیس [Interface] کرنا ہے۔ فائنل نوٹیفیکیشن [final notification]کے پہلے کھاتےداروں کا نام ایک بار اور ویریفائی [verify] کر لیں۔ کیا ٹائم فریم [ time frame] ہے اس کا حساب کتاب؟ اور پھر گریوانس رڈریسل سیل [Grievance redressal cell] کا کیا؟”

انگلیوں پر کام گناتا ہے ایک ایک۔ اس کے بستر کے بغل میں تھاک کی تھاک کتابیں ہیں، آندرے بیتل Andre Beteille اور شری نواس[Srinivasa Ramanujan] درکھائیم [Émile Durkheim] اور ویبر[Max Weber] ، مارگریٹ میڈ[Margaret Mead] اور ملنووسکی [Bronisław Kasper Malinowsk]… این پی آر آر کی فوٹوسٹیٹ کاپی، رنگے ہوے کاغذ آگے کی کارروائی کے بلوپرنٹس۔ اس کی آواز کمرے میں بےچین گھوم رہی ہے۔ کتنا کتنا کرنا باقی ہے، کل پرسوں مہینہ بھر بعد۔ میں تھکی ہوں، دن بھر کی دھوپ دھول میں۔ موٹا لال چاول اور بانس کا اچار کھا کر من آسودہ نہیں ہوا ہے۔ سندیپن کی باتوں کی آگ بجھ رہی ہے۔ اتنی دشواریاں میرے بس کی کہاں۔ میں بھوسے کے ڈھیر پر ڈھلک جاتی ہوں۔ سندیپن مٹھی کی اوٹ بنا کر دھواں پھینک رہا ہے۔

“ہمیں ان بھولے قبیلے والوں کے حق کی لڑائی لڑنی ہے۔ صحیح معاوضہ دلوانا ہے۔ رہیبلٹیشن اور رئیمپلیمینٹ[reimplement] ۔ گاؤں میں بجلی، اسکول، دواخانہ۔ پروجیکٹ کے اعلی عہدیداروں سے میٹنگ ہے، اس ہفتے۔ تم گاؤں کی عورتوں سے مل لو، پوچھ لو۔”

اس کی باتیں چل رہی ہیں۔ ڈھبری کی پیلی روشنی میں میں سندیپن سے کچھ اور چاہتی ہوں۔ اس پھوس کی کٹیا میں آج ہم اکیلے ہیں ورنہ شپرہ اور رشید بھی ہوتے ہیں۔ بم بہادر سنگھ بھی کبھی کبھار ہوتے ہیں۔ شپرہ اور رشید ہمارے ساتھ آئے ہیں۔ بم بابو ہزاری باغ سے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کے رٹائرڈ آدمی، کس جوش سے کام کرتے ہیں بےلوث جذبہ۔ اچھا سمے کٹتا ہے، صحیح کام کرتے ہیں۔ سفید مونچھوں سے چھپی ڈھکی بڑبڑاہٹ ہوا میں لٹکی رہتی ہے کچھ لمحے۔ کچھ اور ورکر بھی بائی روٹیشن by rotation]/باری سے[ آتے رہتے ہیں۔

“یہاں کا کام نپٹے گا تو ہم بولنگیر نوپاد اور کلاہانڈی جائیں گے۔”

اندھیرے میں بیڑی کی نوک جل بجھ رہی ہے۔ یہاں آ کر سندیپن بیڑی پر اتر گیا ہے۔ ان روم لو لائیک رومنز ]جیسا دیس ویسا بھیس/[In Rome like Romans۔ لیکن میں تو ایسے نہیں رہ سکتی۔ میرے پیروں میں ایڑیاں پھٹ گئی ہیں۔ کالی سوکھی میل بھری۔ میرے بال جٹوں سے بھرے ہیں۔ کبھی کبھار پکڑ کر جوں بھی نکال لیتی ہوں۔ ارنڈی کے تیل سی مہک آتی ہے مجھ سے۔ اوہ، کیوں دیکھے گا سندیپن مجھے۔ پر اس سے بھی تو بیڑی کی بو آ رہی ہے۔ اس کی داڑھی بھی تو دھول سے بھوری ہے۔ پر پھر بھی وہ جنگل کا چیتا دکھتا ہے، چست، پھرتیلا۔ اس کی جنگلی آنکھوں کی لپک کے پیچھے پیچھے تو میں آئی۔ میں اپنے من کی آگ دونوں ہاتھوں میں بھرے نیند کے اندھیری غار میں اتر جاتی ہوں۔

کٹیا کی دیوار پر کوئی سایہ ڈول رہا ہے۔ کارو مانجھی کے کالے چکنے بدن پر چیتا سوار ہے۔ لال مٹی کی دھول اڑ رہی ہے۔ چیتے کے پنجے کالے پتھر پر کھرچنے نشان بنا رہے ہیں۔ چیتا ہنکار رہا ہے، کیسی کریہہ آواز۔ میں ڈر سے آنکھیں موند لیتی ہوں، بانہوں میں سر دھنسا کہاں گھس جانا چاہتی ہوں۔ کانوں میں جنگل کے ڈھول نقارے بج رہے ہیں اور میرے ڈر کی، گِھن کی کھٹی لہر میرے جسم سے پھوٹ رہی ہے۔ میں ہاتھ بڑھا اس بو کو روکنا چاہتی ہوں۔ میرے بڑھے لاچار ہاتھوں کو مانِک پرکیتھ تھام لیتے ہیں:

“ڈاکٹر کہتا ہے، ملیریا کا ڈلیریم delirium]/خفقان[ ہے۔ پتہ نہیں ٹائفسtyphus میں کیا کیا بک رہی تھی۔”

“مانِک پرکیتھ پروجیکٹ کے عہدیدار ہیں۔ انڈسٹریل انجینئر۔ آر اینڈ آر پالیسی امپلیمینٹ implement]/لاگو[ کرانے آئے ہیں۔”

“اس دن یہی آپ کو جیپ میں لاد کر پروجیکٹ اسپتال لائے”، ڈاکٹر ویست باہر نکلتے بولتا ہے۔ مانِک پرکیتھ ذرا سا لال پڑ جاتے ہیں۔ کچھ دیر اور چپ بیٹھتے ہیں پھر مبہم سا “آتا ہوں۔”، کہہ چلے جاتے ہیں۔ میں کمرے کی ہری سکرٹنگ skirting]/ کمرے کی دیوار کی تختہ بندی[ دیکھتی ہوں، بسترے کی اجلی چادر دیکھتی ہوں، دیوار پر پروجیکٹ لوگو logo]/نشان [کا اگتا سورج دیکھتی ہوں، کھڑکی کے ہلتے ہوے پردے سے باہر کی ٹکڑا بھر دنیا دیکھتی ہوں۔ ہفتے بھر اسپتال میں ہوں۔ شپرہ آتی ہے، بم بابو آتے ہیں۔ رشید بھی آتا ہے۔ سندیپن نہیں آتا۔

مانِک پرکیتھ روز آتے ہیں۔ کبھی کبھی شام کو بروس چیٹون [Bruce Chatwin] پڑھ کر سناتے ہیں۔
In the beginning the earth was infinite and murky plain, in the morning of the first day, the sun felt the urge to be born…
] شروع میں زمین لامتناہی اور صفاچٹ میدان تھی، پہلے دن، سورج کو اگنے کی خواہش ہوئی[

اسی شام تارے اور چاند بھی پیدا ہوتے۔۔۔ تو ایسا ہوا، اس پہلی صبح، کہ ہر پرکھ نے سورج کی گرمی کا دباؤ اپنے پوپٹوں پر محسوس کیا اور محسوس کیا اپنے جسم سے بچوں کو جنم لیتے ہوے۔ سانپ آدمی نے محسوسا سانپوں کو اپنے ناف سے پھسل کر نکلتے ہوے۔۔۔ اپنے گڈھوں کے تلوں پر آدی باسی انسان نے پہلے ایک پاؤں ہٹایا پھر دوسرا۔ پھر انھوں نے اپنے کندھوں کو سکوڑا پھر بانھوں کو۔ انھوں نے اپنے جسم کو مٹی کیچڑ سے باہر نکالا، جھاڑا۔ ان کی آنکھیں چٹ سے کھلیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کو کھلی دھوپ میں کھلتے دیکھا۔ ان کی جانگھوں سے کیچڑ آنول نال کی طرح گرا۔ نوزائیدہ کے پہلے رونے کی طرح پھر ہر پُرکھ نے انا منھ کھولا اور کہا، میں ہوں۔ اور یہی پہلا اور بعد کا پہلا کام تھا، نام رکھنے کا۔ سب سے اسرار بھرا اور سب سے مقدس پرکھوں کے آدی گیت کا پہلا دوہا۔ اور اس طرح انھوں نے گایا ندیوں کو، نالوں کو، پہاڑوں کو، ریگستانی ٹیلوں کو۔ انھوں نے شکار کیا، بھوج کھایا، پیار کیا، رقص کیا، موت دی، پائی۔ جہاں جہاں وہ گئے ان راستوں پر انھوں نے گیتوں کی پگڈنڈیاں چھوڑیں۔ پورے سنسار کو انھوں نے گیت کی چادر میں لپیٹ لیا۔ اور جب پوری دنیا گا لی گئی، وہ تھک چلے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر میں برسوں کا سکوت سرایت کرنے لگا۔ کچھ وہیں جہاں کھڑے تھے زمین میں سما گئے۔ کچھ غاروں میں بلا گئے۔ کچھ اپنے دائمی گھروں میں پانی کے کنؤوں میں جہاں سے وہ پیدا ہوے تھے، کھیت ہو گئے۔ سب کے سب آخر واپس اندر وہیں چلے گئے جہاں سے وہ آئے تھے۔

میں ان کی بھاری گہری آواز کے جادو میں اتر جاتی ہوں۔ ریشے سا چھیل چھیل کر الٹ پلٹ کر دیکھتی ہوں۔ ہتھیلیوں میں باندھ کر روک رکھنا چاہتی ہوں۔ پھر کب آنکھیں مند جاتی ہیں۔ میں سندیپن کو بھولنا چاہتی ہوں۔ اچھا ہوا بولنگیر گیا۔ میں مانِک پرکیتھ کو ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں، میری دکھائی پر لال پڑتے ہوے دیکھتی ہوں۔ پھر اداس ہو جاتی ہوں۔ نہ میں ناچ سکی نہ جی سکی۔ میری سوکھی کلائیوں کی نیلی لکیروں پر کس سفر کی عبارت اور لکھی ہے یہ پڑھنا چاہتی ہوں۔ گھر سے نکلے کتنے مہینے بیت گئے پر نہ ماں کی یاد ستاتی ہے نہ بابا یاد آتے ہیں۔ ایسی ہاری ہوئی حالت میں بھی نہیں۔ جب بلندی پر جاؤں گی تب یاد کروں گی۔ ابھی یہ لگژری luxury]/تعیش[ اپنے کو نہیں دینا۔ میرا گیت ابھی ادھورا ہے۔ اس کے سُر تال سب بھینگے ہیں۔ سب طرف رف ایجیز rough edges]/کھردرے کنارے[۔ کسی رندے سے رگڑ گھس کر پورے جیون کو چکنا کرنا ہے۔ پر کیوں۔ ایسا بھی کیا۔ پوروں پر روکھا سا کچھ رات دن لگتا نہ رہے صرف اسی لیے؟ صرف صرف اسی لیے۔ ایسے بےسہارے اکیلےپن میں گرم آنسو کنپٹی پر بہہ کر روکھے بالوں میں جانے کب اور کتنا جذب ہوتے رہے ہیں، ایسا جان لینے والا بھی جب کوئی نہیں تو ان کا ایسے بہہ جانے کا بھی کیا فائدہ۔ رات کے گم سناٹے میں خود ہی اپنی پتلی بانہوں کو سہلاتی ہوں، کبھی چھاتیوں کو مٹھی میں بھر لینے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ زندہ ہوں، اس بھر کے لیے۔ ٹھنڈی بےجان، بےروح۔ مرے ہوے ماس کا لوتھڑا بھر۔ کس گرمی، کس حرارت کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔ لوہے کے پلنگ کی سلاخیں اتنی سرد ہیں۔ میں اپنے گرم ماتھے کو ٹکا دیتی ہوں۔ کھڑکی سے ٹکڑا بھر اندھیرا اندر آتا ہے، پھر دھیرے سے پورے وجود میں پسر جاتا ہے، سب طرف۔ کوئی کونا اچھوتا نہیں بچتا۔ نہ رات میں نہ صبح کو۔

“مجھے کیا سکھاؤ گی، ‘ہو’ کہ ‘منڈاری’؟ بولتی کون سی بھاشا ہو؟” میری مسکراہٹ کمزور ہے۔ اس کی ہنسی پِھک سے کھلتی ہے۔ بےآواز دہری ہو جاتی ہے کسی انجانے خوشی سے۔ اوہ کیسا بھولا سہج من ہے اس کا۔ میرے کلیجہ میں ٹیس اٹھتی ہے۔ کیسی تو حیرانی سے دیکھتی ہوں، اسے۔ چھ مہینے کے بچہ کو پیٹھ سے باندھے آئی ہے مجھے دیکھنے، پانچ کوس چل کے۔ اس کے گودنے سے بھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلاتی ہوں۔ کتنے کڑے کھردرے ہاتھ۔ کیسا سکھ مل رہا ہے۔ آتما تک کچھ بھیگ جاتا ہے۔

“دیدی بہت زیادہ بیمار ہے؟”

باہر کسی وارڈ بوائے سے پوچھ رہی ڈُمری کے آواز کی بےچینی کہیں میرے من کے آس پاس گھومتی ہے، منڈلاتی ہوئی چیل جیسے۔ مجھے کوئی چیر رہا ہے ریشہ ریشہ۔

رات آتی ہے، دن کسی پھسلتی بہتی ندی سا بہہ جاتا ہے۔ سب کے چہرے گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ کبھی مرِدُل اپنے ہاتھوں میں چاپسٹکس تھامے مجھے دھمکاتا ہے، یو فرِجڈ بِچ، پر اسے آرام سے پرے ہٹا کر مانِک آنکھیں موندے کسی آباو اجداد کا آدی گیت سنانے لگتے ہیں۔ اس گیت پر جنگل میں ایک ایک کر کے جانور، پیڑ پہاڑ کھڑے ہوتے ہیں اور گاؤں گھر کی عورتیں جھوم جھوم کر ناچتی ہیں اسی سنگیت کے لے میں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں، ایک ہوں۔ خوشی کے بہتے دھن پر تیرتی میں پھر کیا دیکھ کر ہکابکا رہ جاتی ہوں۔ پسینے سے لت پت کیا کیا بڑبڑاتی ہوں، رات دن۔

سب سپنا ہے، یہ کیا کسی نے نہیں بتایا تمھیں؟ کوئی لڑکی کتنا کتنا بھٹکے گی۔ لوٹو اب لوٹو۔ بڈھی کے سن سے سفید بال اور کالے جُھڑیائے چہرے سے کٹھورتا برستی ہے۔ اس کی آنکھیں سانپ کی آنکھیں ہیں۔ ایک بار بھی پلک نہیں جھپکتی۔ کُبڑ سے دوہرا جسم کسی جادو سے سیدھا کر اپنی انگلی میری طرف بڑھاتی ہے، لوٹو لوٹو۔ پیچھے سندیپن ہنستا جاتا ہے، بےتحاشہ، کارو کو اپنے کندھے سے سٹ کر ہنستا ہے۔ بوڑھی ٹوٹکے کا پتّا اور بوٹی میرے سرہانے رکھتی ہے۔ اس کی پیٹھ پھر دوہری ہو جاتی ہے۔ دروازے پر مڑ کر ایک بار دیکھتی ہے، انگلی بڑھا کر اشارہ کرتی ہے۔ اندھیرا پھر گرنے لگتا ہے۔

صبح میں بےچین ہوں۔
“گھر جائیں گی کیا؟” مانِک پوچھتے ہیں۔ “میں انتظام کروا دوں گا۔”
راشد کہتا ہے، “میں چلوں گا ساتھ۔”
“نہ”، میں سر ہلاتی ہوں۔

دروازے پر بوڑھی کھڑی ہے۔ مٹ میلی ساڑھی کے نیچے اس کے کالے روکھے پیر میں دیکھتی ہوں۔ برسوں پرانے پیڑ کا سخت چھال بھرا تنا، موٹے کھردرے انگوٹھے اور انگلیاں۔ سب سیدھے ہیں الٹے نہیں۔ اس کا چہرہ سخت ہے۔ کچھ بولتی نہیں۔ بس آ کر ہتھیلیوں میں مسی تسی پتوں کی پوٹلی میرے سرہانے رکھ، نکل جاتی ہے۔ میری زبان تالو سے سٹ گئی ہے۔ مانِک چپ کھڑے ہیں۔

میں ہکلاتی ہوں، “یہ کیسے آئی؟”
“کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں؟”
“ابھی بھی ڈلیریم ہے شاید۔” وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہیں۔

“ڈُمری کو بلوا دیجیے”، میں بڑبڑاتی ہوں۔” لمبی سانولی ڈُمری اپنے بچے کو پیٹھ پر لادے آئے گی صرف مجھے دیکھنے۔ جنگل کا میٹھا سہج لوک لے کر آئے گی، اپنے ساتھ۔ سب فطری، ستھرا، صاف۔ صاف میٹھا پانی۔ کتنی پیاس ہے۔ کیسے بجھے گی۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہوں۔ مانِک گھبرا گئے ہیں۔

رات بم بابو رکے ہیں اسپتال میں۔ کمرے میں حبس لگتا ہے۔ ایسا بڑبرا کر کرسی کھینچ باہر کوریڈور corridor]/برآمدہ[ میں چلے جاتے ہیں۔ بم بابو کے چہرے میں مجھے ایک اطمینان دِکھتا ہے۔ سفید اوپر کو اینٹھی ہوئی بمپلاٹ مونچھیں۔ چہرہ ایک دم سنگین ہو جاتا، اگر ناک ایسی گول مٹول نہ ہوتی۔ چھتری ہوئی بھنوؤں کے نیچے آنکھیں بھی ایک دم نیک۔ ہر آدھے گھنٹے میں جھانک لیتے ہیں۔

“کچھ درکار ہو تو کہیے گا۔”

میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ میں کہتی ہوں، یہیں آ جائیے، بیٹھیے، بتائیے اپنے بارے میں، لے جائیے مجھے اس اسپتال کے اداس کمرے سے باہر۔ میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ آدھی رات بیت گئی ہے۔ کوریڈور میں سائیں سائیں ہوا بہنے لگی ہے۔ کھڑکی کے شیشے سب چٹخے ہوے ہیں۔ بم بابو کرسی اندر کمرے میں کھینچ لائے ہیں۔ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ہے۔ آدھا چہرہ نیچے بہہ گیا ہے، ڈھیلے ماس کا پِنڈ۔ ناک سے گھراہٹ نکل رہی ہے۔ ان کی بےخبر گہری بےخبر نیند سے مجھے بےطرح حسد ہوتا ہے۔

مہوے کے پھولوں پر مجھے سندیپن لے رہا ہے۔ اس کے ہونٹ نشہ سے بھاری ہیں۔ میرے ہلکے ہیں۔ اس کی انگلیاں سخت ہیں، میری کومل۔ وہ بھاری ہے۔ میں ہلکی ہوں۔ اس نے اپنا چہرہ میرے چہرے پر ٹکا دیا ہے، کومل۔ اس کی جِلد نمکین ہے، سوندھی مٹی اور کالا پہاڑ، کِل کِل بہتا جھرنا۔

“میں تمھیں بھور کی اوس دینا چاہتا ہوں، رات کا اندھیرا بھی”، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے کہتے ہیں۔
“اور میں تمھیں اپنے بالوں کی مہک دیتی ہوں۔“ میں بال پھیلاتی ہوں۔
“میں تمھیں ہوا دیتا ہوں، اور پانی۔”
“میں اپنی ناف کی گہرائی، اس کے پھول۔” میں مہکتی ہوں۔
“میں تمھیں اپنی سوچ دیتا ہوں۔”
“میں تمھیں اپنی سانس۔” میری سانس گنگناتی ہے۔
“میں تمھیں سوچتا ہوں۔”
“میں تمھیں سوچتی ہوں۔”
میں ہنسنے لگتی ہوں، دھیمے دھیمے۔
اس کی ہنسی میری ہنسی کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔
میں کہتی ہوں، مجھے چکرگھنی دلاؤ گے؟

وہ میری بانہہ تھام لیتا ہے۔ میں ہوا میں ناچتی ہوں۔ میرے بال کھل جاتے ہیں۔ میری بانہیں میرے سر کے پیچھے آسمان تھام لیتی ہیں۔ وہ مجھے تھام لیتا ہے۔

“تھم لو اب ذرا۔” وہ میری سانسوں کو تھام کر کہتا ہے۔
“تھم گئی ذرا۔” میں سانسوں کو اسے پکڑا کر کہتی ہوں۔
میری سانس کو ہوا میں پھونک کر کہتا ہے: “اب؟”
“اب۔” میں جواب دیتی ہوں۔ رات کو مٹھی میں بھر بھر کر میں مسل دیتی ہوں۔ اس کے چہرے پر ایک بار مسل دیتی ہوں۔
“آج اچھی دکھتی ہیں۔” بم بابو جمائی لیتے ہیں۔
“سینٹر سے ہو کر آئیں ہم؟” پھر فٹافٹ نکل پڑتے ہیں۔

جانے ایسے کتنے دن بیتے۔ ایک ایک کر کے، ایک کے بعد ایک۔ شہر لوٹنا پھر ایک ٹھیک ٹھاک نوکری تب جب امید نہ تھی۔ پیسے، سکھ آسانی سب لیکن پھر بھی کچھ چُھوٹا چُھوٹا۔ کون سا خبط، کیسی سنک؟ اتارا گیا کپڑا ہو جیسے جسم۔ گیا ہوا موسم ہو جیسے من۔

“اوہ! سندیپن ہاؤ آئی سٹل یرن فار یو۔”
Oh! Sandeepan, how I still yearn for you.] /اوہ ! سندیپن مجھ ابھی بھی کس قدر تمھاری آرزو ہے۔[
بِدپّا کہتا ہے، “ہی واز اے کیڈ۔”
He was a kid.]/ نرا بچہ تھا وہ۔[
“نو، ہی واز گے۔”
No, He was a gay.]/ نہیں، ہم جنس پرست تھا۔[
“سو؟”

“سو وہاٹ؟ آئی سٹل یرن فار ہم۔ So what? I still yearn for him]/سو کیا؟ مجھے اب بھی اس کی خواہش ہوتی ہے۔ [میرے اندر کوئی سوراخ ہے جو بھرتا نہیں کبھی۔”

“اور میرے سوراخ کا کیا؟ میرا کیا؟ تم کیا کبھی سمجھے گا ]سمجھو گی[ نہیں دلنواز؟ نینو انوزبل مین ائپوتانو، نوو ننو چوڑلیوو؟” )میں انوسبل مینinvisible] man/غائب آدمی [ ہو جاؤں گا اور تم دیکھو گی بھی نہیں؟ (
اس کا براؤن منکی فیس بجھ جاتا ہے۔

جانے کیا کیا بولتا ہے یہ چھوکرا، میں چیزیں سمیٹتی ہوں۔ تھوڑا سا جنگل میں سمیٹ لائی تھی اپنے ساتھ، اب وہی کھینچ رہا ہے۔ کیا جانے اس بوڑھی کا ٹوٹکا ہو کوئی۔

“او بِدپّا کانٹ یو سی،Oh Bidappa! Can’t you] /او بِدپّا دیکھو[ مجھے لوٹنا ہی ہو گا۔” بِدپّا ناراض ہے مجھ سے، بہت ناراض۔
“یو آر رننگ آفٹر ہم۔” you are running after him.] / تم اس کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔[
“نہیں۔”
“پھر میں کنسیڈ concede]/تسلیم[ کرتی ہوں۔”
“ایون اف آئی واز ہی وڈنٹ ہیو می۔”
Even if I was. He wouldn’t have me.]/ اگر میں اس کے پیچھے بھاگ بھی رہی ہوتی تو تب بھی وہ مجھے قبول نہ کرتا۔[
“لائیک یو وڈنٹ ہیو می۔” Like you wouldn’t have me.]/ جیسے تم مجھے نہیں کرتی۔[
میں ہنسی سے دوہری ہو جاتی ہوں۔

“کیا بِدپّا، کبھی تو مذاق چھوڑو، ورنہ ایک دن میں سچ مچ تمہاری بات سچ مان لوں گی اور تمھارے گلے پڑ جاؤں گی۔” میری ہنسی رکتی نہیں۔ اس کی آنکھیں اداس ہیں۔ پھر وہ بھی ہنسنے لگتا ہے۔

اسٹیشن پر مستعدی سے میرا سامان چڑھاتا ہے اور پلیٹ فارم پر آخر تک ہاتھ ہلاتا ہے۔ پھر گلا پھاڑ کر چلاتا ہے،
“دل نواز تم بہت اچھی ہو، نوو چالا منچیدانوی۔”

(زمین اکوائیر ہو گئی۔ گاؤں والوں کو خوب پیسہ ملا۔ کچھ نشہ میں اڑایا، کچھ دارو پر، کچھ عورت پر۔ کچھ بڑایا کچھ لٹایا۔ خوب کھایا خوب پیا۔ پیسہ پنکھ لگا کر اڑا، مرغی جیسا، بطخ جیسا، تیتر بٹیر جیسا۔ گاؤں جنگل جشن منایا مہینوں دن تک۔ اتنا پیسہ کس نے دیکھا تھا۔ رات دن نشہ ہی نشہ۔ عورت کا، دارو کا، پیسہ کا۔ کھیت بُھولے، جنگل بُھولے، گائے بکری بھینس مرغی سب بُھولے۔ مچھلی کا پوکھر بھولے، پیڑ کے پکھیرو بُھولے۔ ٹوٹکے، ہنر سب بُھولے۔ جیسے پورے گاؤں میں کوئی بُھولنے کی وبا پھیلی۔ ایک ایک کر کے سب بُھولے۔ اور جب سب بھول چکے اور بُھولنا پوری طرح سے پورا ہوا تب جا کر یاد آنا شروع ہوا۔ سب سے پہلے کھیت یاد آیا، پھر جنگل یاد آیا۔ مچھلی، مرغی، بھینس یاد آئے۔ اپنی عورت یاد آئی، اپنا بچہ یاد آیا۔ پر یاد تو آیا، اس سے کیا۔ جب یاد آیا تو لوٹے۔ لوٹے تو دیکھا کہ لوٹنے کی جگہ نہیں۔ گاؤں کی زمین بلا گئی تھی۔ مٹی کے کوڑے گئے ڈھوہ تھے، مشین تھی، کانٹوں کی باڑ تھی۔ “نو ٹریسپاسنگ” No trespassing]/ کوئی مداخلت بے جا نہیں ہو گی[ کا بورڈ تھا۔ ٹریکٹر اور دیوہیکل کرین تھے۔ جگہ جگہ “سرکاری جائیداد” کا نوٹس تھا۔ پیلے جیکٹ اور پیلے سیفٹی ہیلمیٹ میں جانے کہاں کے مزدور تھے۔ عجب سی بھاشا بولنے والے ٹھیکیدار تھے۔ جیپ پر گھومنے والے سرکاری اہلکار تھے۔ خاکی وردی والے رائفل والے سکیورٹی گارڈز تھے، تعینات، مستعد۔

باؤنڈری وال[boundary wall] اور چینلنک فینس[chain-link fence] باڑ کے باہر کھڑے ہکّا بکّا، نشہ اترے مرد تھے، جھنڈ کے جھنڈ۔ باڑے کے اندر ہنکائے گئے جانور۔ بس ایک فرق تھا، یہ باڑے کے باہر تھے۔ ان کے پاس اب کچھ نہیں تھا، نہ پیسہ، نہ کھیت۔ اور ان کو اپنے مطابق ہانکنے کے لیے جلدی ہی کچھ سماج وادی مورچوں کے کارکن جُتنے والے تھے، کچھ دلال۔ ان کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے۔ زمین کے بدلے نوکری کا نعرہ بلند کرنے والوں کی بھیڑ۔ کچھ کو کام ملے گا، صاف صفائی کا، مینٹیننینس maintenance]/دیکھ ریکھ[ کا، باغبانی کا، مزدوری کا۔ جنگل کے جنگلی جانوروں کو پالتو بنانے کا۔

ارتقا کے راستے پر اتنی قربانی کا تو حق بنتا ہے صاحب۔ پروجیکٹ کے ٹیمپرری temporary]/عارضی[ ٹاؤن شپ کے کلب میں بیٹھ کر، سگریٹ کے دھوئیں کے چھلّے اڑاتے جام سے جام ٹکراتے، بلڈی میری اور جِن وِد ووڈکا کے نشیلے گھونٹ بھرتے، ٹینس کے ایک گیم کے بعد صاحب لوگ ایسی کتنی گرماگرم بحث سے اپنا ہاضمہ درست اور بھوک تیکھی کریں گے۔ میگزینز اور اخباروں میں دھواں دار، طرار رپورٹنگ ہو گی۔ میدھا پاٹکر اور ارُندھتی راے، سندرلال بہگنا اور بابا آمٹے کو یاد کریں گے۔ انفراسٹرکچر درست کرنے کی بات ہوگی۔ چین جب گئے تب دیکھا، ابھی ہم انفراسٹکچر میں کتنا پیچھے ہیں، سڑک، بجلی پانی۔ امریکہ اور یورپ تو خیر چھوڑ ہی دیں ابھی۔ گلوبل پاور ہونے کے لیے پہلا قدم کیا ہے، جیسی بحث ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں پسینہ چُھڑوائیں گی۔ پر ان قبائیلیوں کو کون یاد کرے گا؟

)کوئی لڑکی جو کسی لڑکے کے پیچھے پاگل ہوتی وہاں پہنچی اور پاگل ہو گئی ان کے لیے؟ کیوں بھئی؟ کیوں بھلا؟ ایسی بےوقوفی کا مطلب کیا۔ اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر، مارکن کی موٹی ساڑی پہن کر گاؤں میں رہ کر کیا کر لے گی آخر؟ کوئی ڈُمری کو پڑھا دے گی، کسی بوڑھے کی حق کی لڑائی کے لیے مانِک پرکیتھ کے دفتر پہنچ کر لکھا پڑھی کرے گی، کسی کا معاوضہ جلدی مل جائے اس کی لڑائی لڑے گی۔ اپنے حصہ کا جتنا بن پڑتا ہے اتنا بھر کرے گی اور کیا۔ بم بابو سوچتے ہیں۔ خوب سوچتے ہیں آج کل۔ خوب خوش بھی رہتے ہیں۔ خوب مست ہونے والی خوشی نہیں۔ بس ٹھہرے، ہوے پانی جیسے ساکن خوشی۔ آتما جڑا جائے ایسی خوشی۔ چائے کا پانی چڑھاتے ہیں۔ سورج ڈوبنے کو ہے۔ ڈوبتے سورج کو تاکتے ہوے چائے پینے کی خوشی، دن بھر کے تھکان سے چور ہونے کی خوشی۔ سانجھ ڈھل رہی ہے۔ بس یہ لڑکی آ جائے، دن بھر کی تھکی ہاری ہو گی۔ بم بابواپنایت سے سوچتے ہیں۔ دور پروجیکٹ ٹاؤن شپ میں جگرمگر بتیاں چمچما رہی ہیں۔ باؤنڈری وال کے اس پار ابھی بھی پیلا مٹ میلا اندھیرا ہے۔)

Categories
فکشن

لنچ ٹائم (تحریر: راجندر یادو، ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا کالا چوغہ چمگاڈر کے پروں کی طرح پھڑپھڑاتے وکیل صاحب نے کمرے میں گھستے ہوئے پوچھا: ’’کیوں اتنی زور زور سے ہنس رہے ہو؟ کیا بات ہوگئی؟‘‘

وکیل صاحب کے آتے ہی تینوں چپ ہو گئے تھے لیکن ہنسی تھی کہ مسکراہٹ بن کر پھوٹ رہی تھی۔ جیوتی نے برج کی طرف دیکھا اور میز کے کونے پر سر ٹیک کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس نے ساڑھی کا پلّو منہ سے لگا لیا۔ برج دوسری طرف منہ کر کے اس ہنسی پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا پھٹ پڑتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دت نے سانس روک کر اپنا زیادہ سے زیادہ دھیان ان ہنستے ہوئے لوگوں سے ہٹا کر جیسے انجان بن کر پوچھا:’’لنچ ہو گیا؟‘‘

’’ہاں جی!‘‘ منہ میں سگریٹ لگا کر وکیل صاحب ماچس کی ڈبیا پر سیک مار رہے تھے، انھوں نے سر ہلایا۔

’’کیا ہوا؟ سرکاری وکیل زیادہ کراس کر رہا ہے کیا؟‘‘ دت نے نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھ لیا کہ برج جیوتی کی طرف اس کے بارے میں اشارہ کر رہا ہے۔۔۔ دیکھ سالا کیسا سنجیدہ ہو کر باتیں کر رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں بگولا سا اٹھا اور ساری سنجیدگی جھٹکے سے اڑ گئی۔ وہ بھی پھٹ کر ہنس پڑا اور ایک دم اٹھ کر باہر برآمدے میں بھاگ گیا۔ دونوں منشی اور ایک موکل حیرت سے آنکھیں پھاڑے مسکراتے ہوئے ان کی ہنسی میں ساتھ دے رہے تھے۔

وکیل صاحب نے پہلا زور کا کش کھینچا اور ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا: ’’کیوں بھائی؟آخر کچھ بات بھی تو بتاؤ گے؟‘‘ وہ یہاں کا ماحول دیکھ کر مسکرائے۔

اس پر دونوں پھر ہنس پڑے۔ دت باہر برآمدے میں کھمبے کے پاس کھڑا ہنس رہا تھا۔ وکیل صاحب نے منشی رام سروپ سے کہا: ’’منشی جی!کیا بات ہے؟‘‘

منشی جی نے ہاتھ کی مسل کے کاغذوں کو الٹا سیدھا کرنا چھوڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے کہا: ’’صاحب! ابھی دیوی سہائے جی آئے تھے۔۔۔‘‘

’’آپ کو ڈھونڈتے ہوئے،ملے نہیں؟‘‘ جیوتی نے انگلی سے سنہری کمانی کا چشمہ اوپر اٹھا کر، ساڑھی کے پلے سے آنکھوں کی کوروں کا پانی پونچھتے ہوئے کہا۔

’’کون دیوی سہائے؟‘‘ وکیل صاحب نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اصل میں ان کے دماغ میں ابھی چلتے مقدمے کے سوال جواب ہی گونج رہے تھے۔ لنچ ٹائم میں جھنجھلائے ہوئے وہ چیمبر سے بھاگے آ رہے تھے۔ دماغ پریشان تھا۔۔۔ انھیں کتیا کے پیچھے لگے پلوں کی طرح اپنے ساتھ دونوں طرف لگے چلتے موکلوں سے اور بھی زیادہ چڑ چڑاہٹ ہو رہی تھی۔ ’’وکیل صاحب اس مقدمے میں کیا ہوگا؟ سرکاری وکیل تو یہ کہتا ہے۔‘‘ وغیرہ پوچھ پوچھ کر اس کی تو ناک میں دم کیے جا رہے تھے۔ وکیل صاحب نے انھیں جھڑک دیا تھا۔’’ارے بھائی مجھے کچھ سوچنے بھی دو گے یا یونہی دماغ چاٹتے جاؤ گے، مقدمہ خراب ہو جائے گا تو کہو گے کہ یہ ہوا، وہ ہوا۔‘‘ موٹی موٹی کتابوں کے گٹھڑ اور لاء رپورٹر کی فائلیں لیے دونوں موکل سہم کر پیچھے ہی رہ گئے تھے۔ وکیل صاحب نے سگریٹ کا کش کھینچ کر باہر کھڑے دت سے کہا: ’’چائے کے لیے کہہ دیا؟‘‘

’’جی صاحب! ابھی آرہی ہے۔‘‘ دت نے بڑی مستعدی سے جواب دیا۔ پھر وہ اندر آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’وہی دیوی سہائے صاحب ٹلو مار فرم سے جن کا چھ مہینے سے تنخواہ کا مقدمہ ہے۔‘‘ منشی نے بتایا۔

’’اوہ!‘‘ وکیل صاحب کو یاد آگیا، پھر انھوں نے ادھر دیکھا۔

’’کہہ رہے تھے ہماری تنخواہ وکیل صاحب دلا دیں تو اپنی لڑکی کی شادی کر دیں۔ بڑی لڑکی کو ’’چھوچھک‘‘ بھیجنا ہے۔ کوئی ان کی بھانجی بیاہی جا رہی ہے اسے بھات دینا ہے۔‘‘ دت نے بتایا۔ وہ ایک بار وکیل صاحب کی طرف دیکھتا اور ایک بار برج اور جیوتی کی طرف۔ وہ دونوں ایک دم ہنس پڑنے کے موڈ میں منہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھ رہے تھے۔

’’وکیل صاحب کیا اپنی جیب سے دے دیں۔ واہ یہ اچھی کہی، تمھارا تو عدالت میں منہ نہ کھلے اور وکیل صاحب روپے دلا دیں؟‘‘

غصے کے مارے وکیل صاحب نے ایک جھٹکے سے ناک میں سے ڈھیر سا دھواں نکال ڈالا اور دو انگلیوں سے چوغے کے اندر سے جھانکتی قمیض کے کالر پر بندھی کلف لگی سفید ململ کی پٹی کو ذرا ٹھیک کیا۔ ان کی انگو ٹھی کا ہیرا زور سے چمک اٹھا۔

’’دیکھیے! وہ آگئے۔‘‘ برج نے کہا۔ جیوتی اور دت نے بھی آنکھیں اٹھا کر ادھر دیکھا۔ وکیل صاحب جان بوجھ کر سنجیدہ بنے بیٹھے رہے۔ سارا ماحول پر سکون ہو گیا۔

بیچ کی ایک لمبی چلی جاتی گیلری کے دونوں طرف وکیلوں کے کمروں کے دروازے تھے اور ان دروازوں کے بالکل سامنے کمروں کے دوسرے دروازے اس گیلری کے متوازی چلے جاتے برآمدے میں کھلتے تھے۔ اس طرف کے کمرے والے برآمدے میں سینکڑوں آدمی ۔۔۔ وکیل، موکل، ٹائپسٹ، چپڑاسی، گواہ اور ان گنت لوگ۔۔۔ آجا رہے تھے۔ عدالت کے لنچ کا وقت تھا، اس لیے پھل والے، دال سیب والے اور وکیلوں کے کمروں میں چائے پانی پہنچانے والے نوکر ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اس بھاگ دوڑ میں آدھے وکیلوں کے منشی تھے جو عدالت کے وقت ان کی کتابوں اور مسلوں کے بستے سنبھالتے تھے اورباقی وقت میں ساگ سبزی لانے اور بچوں کو سکول پہنچانے کا کام کر دیتے۔ برآمدے کے دروازے میں تبھی لگ بھگ اڑتالیس سال کا ایک آدمی نمودار ہوا۔ یہ آدمی بہت دھیرے دھیرے جیسے گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔ پیلا اور بہت پرانا سا مڑا تڑا کوٹ، گھٹنوں سے ذرا نیچے لٹکی دھوتی، کالی پتلی پتلی ٹانگیں اور باٹاکے کرِمچ کے جوتے۔ شاید خریدنے کے بعد سے ان پر سفیدی نہیں ہوئی تھی اور فیتوں کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ دونوں جوتوں کی جیبیں دم کٹے کتوں کی پونچھ کی طرح اٹھ آئی تھیں۔ انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کی جگہ دو چھید ہو گئے تھے۔ قمیض کے بٹن نہیں تھے اور سکڑی چھاتی کے سفیدی کی طرف بڑھتے بھورے بال جھانک رہے تھے، بنیان نہیں تھی۔ دونوں کندھے اس طرح اوپر اٹھے اور کمر کچھ اس طرح جھک گئی تھی جیسے ان کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر کسی نے زور سے دبا دیا ہو۔ گردن نسبتاً لمبی اور ٹینٹوا ابھرا ہوا۔ ناک کے دونوں طرف آنکھوں کے نیچے سے ہونٹوں کے سروں تک دو موٹی موٹی جھریاں چلی آئی تھیں۔ دو دن کی بڑھی داڑھی والی چمڑی میں سفید بال چمک رہے تھے۔ ٹین کے فریم بیضوی میلے گندے شیشوں کا چشمہ ۔۔۔ جس کا ایک کانچ ٹوٹ گیا تھا اور دوسری طرف سے میلے سے ڈورے سے کان پر باندھا گیا تھا۔ کان ذرا باہر کی طرف نکلے ہوئے۔ بے رونق آنکھیں اور آدھے پاگلوں کی سی بے وقوف نگاہیں۔ جھریوں دار ماتھا اور آدھ آدھ انچ کے کھچڑی بالوں کے چاروں طرف پٹی۔۔۔ کیوں کہ چاند کے بیچ کی بڑی سی گول چندھیا گنج کی وجہ سے غائب تھی۔ ہاتھ میں ڈوروں سے بنا ایک تھیلا لے کروہ داخل ہوا۔ ان کی چال ڈھال اور صورت شکل سے لگتا تھا کہ انھوں نے یقیناً ہی بہی کے آگے بیٹھ کر زندگی بھر قلم گھسی ہے۔

’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! وکیل صاحب آپ کو ہی پوچھ رہے تھے۔‘‘ کمروں کے بیچوں بیچ رکھی میز کے چاروں طرف یہ لوگ بیٹھے تھے اورا س دروازے کی طرف وکیل صاحب کی پیٹھ پڑتی تھی۔ برج بالکل سامنے تھا، بائیں طرف دت اور داہنی طرف جیوتی۔ برج نے انھیں دیکھتے ہی استقبال میں کہا۔ یہ لوگ اسی سال گریجویٹ ہو کر آئے تھے اور انہی وکیل صاحب کے یہاں کام سیکھتے تھے۔ تینوں ہی ایک دوسرے کی نگاہوں کو بچا رہے تھے۔

تبھی نوکر ان لوگوں کے بیچ میں ٹرے رکھ گیا۔اس بڑی سیاہ پلیٹ میں ککڑی کے پانچ چھ سینڈوچ تھے۔وکیل صاحب نے آخری کش کھینچ کر سگریٹ ایک طرف پھینک دی اور جھٹکے سے اٹھ کر سیدھے ہوتے ہوئے بولے: ’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! بیٹھو۔‘‘ نہایت ہی مصروفیت سے وہ اس طرح سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگے جیسے وہ جملہ انھوں نے کسی کو بھی مخاطب کر کے نہیں کہا ہو۔ دَت چار پیالوں میں چائے بنا رہا تھا۔ وہاں کوئی بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔

بالکل وکیل کے پاس آ کر دیوی سہائے نے ادھر ادھر بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھی۔ پاس پڑے تخت پر اپنے لال بستے، مسلوں کے پلندے اور مختلف کاغذات پھیلائے دونوں منشی دیوار سے لگے بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی کسی مسل میں سے دیکھ کر کسی کے سمن پر نام اور ولدیت لکھ رہے تھے۔ ایک بولتا، دوسرا لکھتا۔ایک نے کاغذ ذراسے ہٹا کر تخت کے کونے پر ذرا سی جگہ بنا کر انھیں بیٹھنے کو جگہ دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹھو بابو جی! بیٹھو یہاں بیٹھو۔‘‘ وہ پھر کام میں لگ گئے۔

دیوی سہائے نے بڑے سنبھل کر بینت کو تخت سے اس طرح ٹکایا جیسے ذرا زور سے رکھ دیں گے تو اس کے لگ جائے گی۔ پھر سیاہی کے دھبوں سے بھری بہت ہی پرانی پھٹی دری والے تخت کے کونے پر ہاتھ ٹیک کر اس پر بہت دھیرے سے بیٹھ گئے۔ بڑے آہستہ سے گود میں انھوں نے تھیلے کو رکھ لیا اور اس پر توجہ سے دونوں ہاتھ رکھ کر وہ جیسے کسی راز کو کھوجنے کے انداز میں وکیل صاحب کی طرف جھک گئے۔ وہ اس طرح ہانپ رہے تھے جیسے بہت دور سے چلے آرہے ہوں۔

’’ہوں!‘‘ وکیل صاحب نے جلدی جتانے کے لیے گھڑی کی طرف دیکھا اور گھوڑے کی نعل کے سائز کا کٹاؤ بناتے ہوئے منہ بھر کر سینڈوچ کتر لی۔ پھر چائے کا کپ ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔ اس ’ہوں‘ کا مطلب تھا۔۔۔ جلدی کہو، کیا بات ہے؟

دیوی سہائے نے تینوں طرف دیکھا، پھر ناک سے آواز نکالتے ہوئے کہا:’’وکیل صاحب! ہماری تنخواہ کب تک مل جائے گی؟‘‘

تینوں سکھاڑی پھر ہنسنے کو ہو آئے۔ وکیل صاحب نے کہا:’’بابو دیوی سہائے جی! تم تو کبھی کبھی بے وقوفوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جب تک مقدمہ ختم نہیں ہوگا، تب تک روپے کیسے مل جائیں گے؟‘‘ ہونٹوں سے کپ لگا کر انھوں نے جیوتی کی طرف دیکھا۔

اسی بیچ دَت نے ذرا زور سے، جیسے کسی اونچا سننے والے سے کہہ رہا ہو، کہا: ’’وکیل صاحب کہتے ہیں آپ سے عدالت میں بولا تو جاتا نہیں ہے۔‘‘

دیوی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف دیکھاجیسے تصدیق کرنا چاہتا ہو۔۔۔ کیا سچ مچ وہ ایسا کہہ رہے ہیں؟ پھر ڈرے ہوئے مجرم بچے کی طرح کہا: ’’اب کے تو وکیل صاحب ! میں نے بیان بڑے اچھے دیے تھے۔‘‘

’’ہاں! اب تو ٹھیک تھے۔‘‘ وکیل صاحب نے گیلر ی کے پار سامنے والے وکیل کے کمرے میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ایک بیان اور کروا دو۔ اب کے ایسا بیان دوں گا کہ بس، معاملہ پار ہو جائے۔‘‘ دیوی سہائے ذرا جوش میں آ گئے۔

’’ وہ تو جب ہو گا تب ہو گا۔‘‘ وکیل صاحب نے پیالہ ٹرے میں رکھ دیا۔

’’ نہیں! ایک بیان میرا ویری گڈ اور کرا دو۔‘‘ دیوی سہائے ایسے گڑگڑ ائے جیسے پیر چھو لیں گے۔

’’وکیل صاحب کہہ رہے ہیں تمھارے ویری گڈ بیان ہو جائیں گے۔ فکر مت کرو۔‘‘

وکیل صاحب نے بیزار کن انداز میں برج کو دیکھا کہ ٹالو اس بلا کو۔ اس ’’ویری گڈ۔‘‘ لفظ پر تینوں پھر ادھر ادھر گردن گھما گھما کر ہنسنے لگے تھے۔

’’ہاں وکیل صاحب !مجھے روپے کی بڑی ضرورت ہے۔ سالا مکان والا تنگ کر رہا ہے۔ تمھاری بڑی لڑکی کے لڑکا ہوا ہے سوچھوچھک جانا ہے۔ بھانجی کو بھات دینا ہے اور گھر پر تمھاری بہو بیمار دھری ہے، دو مہینے سے۔ روپے دلا دو گے تو چھوٹی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دوں گا۔ ‘‘ وہ کہتے رہے۔

شاید یہی باتیں وہ اسی طرح کہہ کر گئے تھے کیوں کہ اس بار تینوں بری طرح کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ جیوتی کے منہ میں تو چائے تھی، اسے ایک دم سٹکنی پڑی، بری طرح کھانسی آگئی۔تبھی منشی رام سروپ بولے: ’’بابو دیوی سہائے جی!وکیل صاحب کا شکرانہ تو دلواؤ۔‘‘

’’سب دلواؤں گا، فکر مت کرو۔‘‘ انھوں نے منشی جی کی طرف پنجے پھیلا کر تسلی دی۔

منشی جی کھسک کر مینڈک کی طرح مسل اور کتابیں پار کرتے دیوی سہائے جی کے پاس آگئے:’’فکر تو کر ہی نہیں رہے۔ آج توکچھ دلواؤ۔‘‘

’’ابھی کہاں، روپے مل جائیں گے ۔۔۔‘‘ وہ بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ اصل میں انھیں ان لوگوں کی ہنسی کی وجہ نہیں سمجھ آ رہی تھی۔

’’بھیا! بابو لوگوں کو جب تک کچھ کھلواؤ گے پلواؤ گے نہیں، انھیں جوش کیسے آئے گا؟‘‘ منشی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’’منشی جی! تم نے ان کی عرضی داخلہ دے دی؟‘‘ وکیل صاحب نے نئی سگریٹ جلا لی تھی اور بات کرتے وقت ان کی ناک اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔

تبھی وہ دونوں موکل جن سے پیچھا چھڑا کر وکیل صاحب آئے تھے، کمرے میں آگئے۔ تخت پر کتابیں سنبھال کر انھوں نے پھر سہمی سی نگاہ سے وکیل صاحب کی طرف دیکھا اور اجازت کے انتظار میں اردلی کی طرح کھڑے ہو گئے۔

’’ابھی نہیں صاحب۔‘‘ منشی جی نے وکیل صاحب کی بات کا جواب دیا پھر دیوی سہائے کے کان کے پاس منہ لگا کر کہا:’’بابو دیوی سہائے! ایک روپیہ سات آنے دلواؤ، عرضی داخلہ دینی ہے۔‘‘

’’ایک روپیہ سات آنے! پہلے روپے دیے تھے، سوا سَو۔۔۔‘‘ دیوی سہائے کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔

’’ارے پہلے روپے تو کورٹ فیس تھی، یہ تو دیکھو، چھ آنے چھاپنے کے۔۔۔‘‘ منشی نے انگلیاں ہوا میں سرگم کی طرح چلائیں جس کا مطلب تھا ٹائپ۔ ’’ایک آنہ کاغذ اور ایک روپے کے سٹامپ۔ لاؤ نکالو۔‘‘

دیوی سہائے نے جیسے مدد کے لیے دیکھا۔ وکیل صاحب اوپر منہ کر کے پنکھے پرآنکھ گڑائے منہ سے دھواں نکالتے کچھ سوچنے لگے تھے۔ تینوں سکھاڑی تاک لگائے گھور رہے تھے کہ اب کیا بے وقوفی کی بات آتی ہے کہ تینوں ہنس پڑیں۔ دیوی سہائے نے پھر اپنی جیبیں ٹٹولیں۔

’’جب تک عرضی نہیں دی جائے گی تب تک اگلی پیشی کیسے ہوگی؟‘‘ منشی انھیں سمجھا رہا تھا۔

انھوں نے بڑے مرے اورکانپتے ہاتھوں سے چاروں جیبیں ٹٹولنے کے بعد کہیں اندر کی جیب سے چشمے کی ایک بہت پرانی ڈبیا نکالی۔ اس کے چاروں طرف کس کر کئی بار ستلی سے لپیٹے دیے گئے تھے۔ سب لوگ ایسے تجسس سے انھیں دیکھنے لگے جیسے ابھی اس میں سے کوئی سانپ نکل آئے گا۔ دیوی سہائے نے ستلی کھول ڈالی۔ پھر بہت سنبھال کر ڈبیا کھولی۔ بہت پرانے نیلے گندے مخمل پر کچھ کاغذ، جن میں ایک پر جنم کنڈلی کے نقشے چمک رہے تھے، ایک ہسپتال کا پرچہ اور ایک ایک روپے کے کچھ نوٹ رکھے تھے۔ انھوں نے ڈبیا تخت پر رکھ دی اور منہ سے انگلی پر تھوک لے کر اس طرح گننے لگے جیسے سو دو سو نوٹ ہوں لیکن وہ تھے چار ہی۔ ایک بار گن کر دوبارہ شروع کیا۔۔۔

’’ابھی دو ایک بار اور گنیں گے۔‘‘ دت نے جیوتی کو بتایا:’’آپ سے نوٹ بھی نہیں گنے جاتے ہیں، لاؤ، میں گنوں۔‘‘ اور ایک طرح سے منشی نے تو روپے ان کے ہاتھ سے چھین لیے۔ وہ روکتے رہ گئے۔

’’منشی جی! ایک آدھ روپیہ ان سے زیادہ لے لیجیے گا، بعد میں ضرورت پڑتی ہے۔ نوٹس کی رجسٹری ہوگی۔‘‘ وکیل صاحب کو جیسے یکدم یاد آ گیا۔

نوکر ٹرے اٹھا لے گیا۔

’’سرکار۔۔۔!‘‘ دیوی سہائے جیسے ایک دم بوکھلا گئے۔ ایک بار منشی جی کی طرف مڑے اور ایک بار وکیل صاحب کی۔

’’سرکار کیا ہوتا ہے؟ پھر ایک عرضی بھی داخل کرنی ہو تو ہمیں رکنا پڑتا ہے۔ ہم تمھارے پیچھے کہاں کہاں مارے پھریں گے؟‘‘ وکیل صاحب نے جھڑکا۔

’’وکیل صاحب کہتے ہیں، تم تو روڈ انسپکٹر کی طرح سڑکیں ناپتے ہو۔‘‘ برج نے پھر زور سے کہا۔ تینوں پھر ہنس پڑے۔ روپے منشی جی نے سب موڑ کر جیب میں رکھ لیے اور تخت پر رکھی ڈبیا کو زور سے بند کر دیا۔

’’دیوی سہائے جی! یہ بی بی جی کہہ رہی ہیں، کچھ مچھلی وچھلی نہیں کھلواؤ گے؟ یہ کہتی ہیں، وکیل صاحب اور منشی جی کو تم کسی نہ کسی طرح سمجھ لو گے، کچھ ہم بابو لوگوں کو بھی مل جائے۔‘‘ دَت نے بڑی سنجیدہ صورت بنا کر جیوتی کی طرف اشارہ کیا۔

روپے چھن جانے سے دیوی سہائے بڑے مایوس ہو گئے تھے۔ منہ پر ایک جھری آتی، ایک جاتی، جیسے بڑے مشتعل ہوں۔ انھوں نے بڑی مر دہ آنکھوں سے جیوتی کی طرف دیکھا، یہ جاننے کے لیے کہ سچ مچ بی بی جی ایسا کہہ سکتی ہیں؟ جیوتی نے کہنی میز پر ٹکا لی تھی اور ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے چپ چاپ فلسفیانہ انداز میں یہ سب دیکھ رہی تھی۔ جب تک وہ ہنستی نہیں تھی اس کی آنکھیں بڑی بے رونق اور بجھی بجھی سی رہتی تھیں، منھ ایسا بے خواہش جیسے کبھی ہنسنا مسکرانا اور چمک نام کی چیز اس نے جانی ہی نہ ہو۔ ایک ایسا بجھاپن اور روکھا پن اس کے چہرے پر تھاجو اکثر خشک موضوعات پر کو رات بھر پڑھنے والوں کے چہرے پر آجاتا ہے۔ اس نے کوئی جذبہ نہیں دکھایا۔

’’یہ کہتی ہیں، ہمیں گول والی مچھلی کھلانا، یعنی چپٹی نہیں۔‘‘ برج نے جوڑا۔

وہ کچھ کہیں، اس سے پہلے ہی منشی جی بولے:’’کھلائیں گے صاحب، کھلائیں گے۔ ذرا اِن کا مقدمہ ٹھیک ہو جائے بس۔۔۔ پھر چاہے جتنی کھائیے۔ ان کی چھوٹی لڑکی تو مچھلی بڑی اچھی بناتی ہے۔ آپ سب کی دعوت کریں گے۔‘‘

’’ہمیں کیسے معلوم ہو، ابھی تک تو انھوں نے ایک پان بھی نہیں کھلایا۔‘‘ دت بولا۔

’’کیوں دیوی سہائے جی! دیکھو، بابو لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ منشی جی نے اس طرح کہا جیسے اس بات کا انھیں ذرا بھی پتا نہیں تھا۔ پھر انھیں سمجھانے کے لہجے میں بولے: ’’ایسے کہیں کچھ کام ہو تا ہے، بابو لوگوں کو خوش رکھا کرو۔ اس تھیلے میں کیا ہے؟‘‘ انھوں نے تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

دیوی سہائے جیسے خواب سے چونک اٹھے ہوں، انھوں نے جلدی سے تھیلا بچانے کے لیے دوسری طرف رکھ لیا۔ بڑی مشکل سے ہکلا کر بولے:’’کک کک کچھ نہیں۔‘‘

’’ ارے تو ایسے مرے کیوں جاتے ہو؟لاؤ میں دیکھوں۔‘‘ منشی جی نے جھپٹ کر تھیلا چھین لیا۔دیوی سہائے نے اسے پکڑ کر تھوڑا کھینچا لیکن منشی جی کا کھنچاؤ زیادہ تھا۔ انھوں نے بڑی بے بس اور بے حس نظر سے چاروں طرف دیکھا۔

منشی جی نے تھیلا ہاتھ میں لے کر انھیں سمجھایا: ’’جب تک بابو لوگوں کو خوش نہیں کرو گے، کیسے یہ لوگ وکیل صاحب سے آپ کے کام کی سفارش کریں گے۔‘‘ کہہ کر انھوں نے تھیلے کی آپس میں بندھی تنیاں کھول ڈالیں اور اس میں سے ایک میلا تولیہ نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔

دیوی سہائے کے ہونٹ پھڑپھڑائے۔ انھوں نے پھر ایک بار اعتراض کرنے کے لیے ہاتھ پھیلائے لیکن منشی جی نے جھڑک دیا۔ اس نے تھیلے سے دو شیشیاں نکال کر تخت پر کھڑی کر دی تھیں۔۔۔ ایک چھوٹی، ایک بڑی۔ دونوں میں دوا بھری اور کاغذ کے خوراکوں کے نشان کاٹ کر چپکائے ہوئے تھے۔ سب لوگ پھر غور سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔ دیکھیں، اب اس میں سے کیا نکلتا ہے۔

منشی جی نے چار سنگترے، تین موسمی اور ایک سیب نکال کر میز کے سرے پر رکھ لیے۔

’’آج تو دیوی سہائے جی! بڑا مال لیے جا رہے ہو اور کہہ رہے تھے کچھ نہیں ہے۔‘‘ دوسرا منشی وہیں دیوار کے سہارے سے بولا۔

’’ارے صاحب! یہ دیوی سہائے جی بڑے خوش مزاج آدمی ہیں۔ ذرا آپ کی تھاہ لے رہے تھے۔‘‘ طنز سے مسکرا کر منشی رام سروپ نے کہا: ’’کیوں، ہے نا دیوی سہائے جی؟‘‘

’’تو یہ ہمارے لیے لائے ہو۔‘‘ برج کی آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’ہاں! ہاں! کھائیے۔‘‘ اس بار بڑی مشکل سے جیسے گلے میں اٹکے کف کو صاف کر کے، دیوی سہائے مسکرائے۔۔۔ لگا، رونے لگیں گے۔

’’ارے کھائیے بابو صاحب! آپ تو دیکھ رہے ہیں۔‘‘ منشی جی نے سنگترے کے چھلکے میں انگوٹھا گڑا کر چھیل ڈالا۔

پھلوں میں حصے بانٹ ہو گئے اور دیوی سہائے نے مرے مرے ہاتھ سے تولیہ تھیلے میں ڈالا، اوپر سے شیشیاں ٹھونسیں اور تھیلا کھڑا کر کے چپ چاپ سنگترے اور موسمیاں چوسی جاتی دیکھتے رہے۔

تینوں سکھاڑی بڑے مطمئن تھے۔ کچھ حصہ منشیوں کو بھی مل گیا تھا۔ وکیل صاحب بڑے غور سے سامنے کھلی کتاب میں کچھ پڑھتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں چھلے ہوئے سنگترے کی پھانک پکڑے رہے۔۔۔ یاد آجاتا منہ میں ایک ڈال لیتے۔ دیوی سہائے بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ انھوں نے چھڑی اٹھائی، تھیلا پکڑا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’تو بابو جی میں جاؤں؟‘‘ کچھ دیر کھڑے رہ کر انھوں نے وکیل صاحب سے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

وکیل صاحب سوتے سے جاگے۔ خوب زور سے سرد ہو کر بولے: ’’ہاں! اب تم جاؤ۔۔۔ اور ہاں، فکر مت کرو۔۔۔ سب ہو جائے گا۔ تمھارے پیسے ہم دلا دیں گے۔‘‘ وہ پھر ڈوب گئے۔

منشی نے تبھی کہا: ’’ایسے تھوڑے ہی ملتے ہیں روپے۔ سب کو تو تم نے خوش کر دیا، منشی جی کیا بھاڑ میں جاپڑیں، ارے، ایک دو آنے بیڑی کے تو دیتے جاتے۔‘‘ اور اس نے بے شرم اور بے لاگ ہو کر دیوی سہائے جی کی ساری جیبیں اوپر سے ٹٹول ڈالیں، پھر ٹینٹ بھی اس طرح ٹٹولی جیسے تھانے میں کسی جیب کٹ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تھا۔

’’جانے دو بیچارے کو، زیادہ تنگ مت کرو۔‘‘ وکیل صاحب نے بیچ میں ڈسٹرب ہو کر کہا۔

’’اچھا جائیے لیکن بھولنا مت۔۔۔ ‘‘ منشی نے کافی ہمدردانہ انداز میں کہا۔

دیوی سہائے پاؤں گھسٹاتے گھسٹاتے باہر کی طرف چل دیے۔ جیوتی ایک دم محتاط ہو کر اپنی انگلی میز پر رکھ رکھ کربتا رہی تھی: ’’پہلے یہ کہہ رہے تھے۔۔۔ کیسے انھوں نے ’’ویری گڈ‘‘ بیان دیا تھا۔ جج نے پوچھا یہ بات ہوئی؟ انھوں نے کہا ’نو لکھو، نو‘ اور اس وقت تک اپنا بیان روکے رکھا جب تک برج نے ’نو‘ نہیں لکھ لیا۔۔۔‘‘ تینوں پھر ہنس پڑے۔

’’بے وقوف ہے۔‘‘ وکیل صاحب کہہ ہی رہے تھے کہ باہر کسی کورٹ میں چپڑاسی نے اونچی آواز میں بانگ دی۔۔۔ ’’رگھو مل منے لال حاضر ہو و و و۔۔۔! ‘‘

لنچ ٹائم ختم ہو گیا تھا۔وکیل صاحب جھٹکے سے اُٹھے۔ ان کے گلے کی دونوں پٹیاں او ر کالر ہلے۔

اس وقت باہر وکیل صاحب کے دروازے کے سامنے برآمدے میں کھڑے دیوی سہائے نے تھیلے میں سے ایک ایک کر کے دونوں شیشیاں نکالیں اور ڈاٹ کھول کر کروندے کی جھاڑی میں اوندھی کر دیں۔ جب ساری دوا پھیل گئی تو انھیں جیوں کی تیوں تھیلے میں ٹھونسا۔ زور سے ناک صاف کی اور انگلیوں کو کھمبے سے پونچھتے ہوئے ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ تبھی برآمدے سے کالی مرغی کی طرح وکیل صاحب گزر گئے۔۔۔ دوچوزوں کی طرح ان کے ساتھ موکل دونوں طرف لگے تھے۔

Categories
فکشن

چھوٹے چھوٹے تاج محل (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات نہ میرا نے اٹھائی نہ خود اُس نے۔ ملنے سے پہلے ضرور لگا تھا کہ کوئی بہت ضروری بات ہے جس پر دونوں کو باتیں کر ہی لینی ہیں لیکن جیسے ہر پل اس بات کی توقع میں اسے ٹالتے رہے۔بات گلے تک آ آ کر رہ گئی کہ وہ ایک بارپھر میرا سے پوچھے: ’کیا اس تعلق کو مستقل روپ نہیں دیا جا سکتا؟‘لیکن کہیں پہلے کی طرح پھر اسے برا لگے تو؟اس کے بعد دونوںمیں کتنا کھنچاؤ اور دوری آ گئی تھی۔

پتا نہیں کیوں،’ تاج‘ اسے کبھی خوب صورت نہیں لگا۔پھر دھوپ میں سفید سنگِ مر مر کا چوندھا لگتا تھا، اسی لیے وہ ادھر پیٹھ کیے بیٹھا تھا۔ لیکن چوندھا میرا کو بھی تو لگتا ہے ناں؟ہو سکتا ہے تاج اسے سندر ہی لگتا ہو۔ پرچھائیں ادھر جمنا کی طرف ہو گی، ادھر سے سپاٹ دھوپ میں جھل جھل کرتا سنگِ مر مر ہے۔ بس۔ اس تپتے ہوئے پتھر پر چلنے میں تلووں کے جھلسنے کے خیال سے اس کے سارے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔

تین سال بعد ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دیکھ کر صرف مسکرائے تھے۔مطمئن انداز میں۔ ہاں دونوں ہیں اور ویسے ہی ہیں۔ میرا کچھ نکھر آئی ہے اور شاید وہ، وہ پتا نہیں کیسا ہو گیا ہے۔ جانے کتنے پورے کے پورے مکالمے، سوال جواب اس نے میرا کوسامنے بٹھا کردل ہی دل میں بولے تھے، گفتگو کے تصور باندھے تھے اور اب بس کھسیانے انداز سے مسکرا کر ہی استقبال کیا تھا۔ اس پل سے ہی اسے اپنے ملنے کی بے معنویت کا احساس ہونے لگا تھا۔جانے کیوں۔ کیا ایسی بات کریں گے وہ،جو اکثرنہیں کر چکے ہیں؟ سال چھ مہینوںمیں ایک دوسرے سے خیر وعافیت کی خبر جان ہی لیتے ہیں۔

اٹھے ہوئے گھٹنوں کے پاس لان کی گھاس پر میرا کا ہاتھ چپ چاپ رکھا تھا۔ بس انگلیاں اس طرح اٹھ گر رہی تھیں جیسے کسی بہت نازک باجے پر ہلکے ہلکے گونجتے سنگیت کی تال کو باندھ رہی ہوں۔ میرا نے لوہے کا چھلا ڈال رکھا تھا،شاید شنی کی نحوست دور رکھنے کے لیے۔اس نے دھیرے سے اس کی سب سے چھوٹی انگلی میں اپنی انگلی ہک کی طرح اٹکا لی تھی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں میں دبا لیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے باتوں کی دھارا پھوٹ پڑی۔

وجے کا دھیان گیا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی چھوٹا سا کیڑا میرا کی کھلی گردن اور بلاؤز کے کنارے آ گیاتھا۔ جھجک ہوئی، خود جھاڑ دے یا بتا دے۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف گھما لیا۔ داخلے کی دہلیز کی سیڑھیاں جھاڑیوں کی اوٹ میں آ گئی تھیں، صرف اوپر کا حصہ نظر آ رہا تھا۔ ہچکچاتے ہوئے کیرم کا سٹرائیکر مارنے کی طرح اس نے کیڑا انگلیوں سے پرے چھٹک دیا۔ نسوں میں سنسناہٹ اترتی چلی گئی۔ انگلیوں سے وہ جگہ یوں ہی جھاڑ دی،جیسے گندی ہو گئی ہو۔میرا اُسی پہلے کے سے انداز میں اپنی سہیلی کے بیاہ کی پارٹی میں آئے لوگوں کی تفصیل بتاتی رہی۔اس نے کچھ نہیں کہا، نہ وہاں رکھا وجے کا ہاتھ ہٹایا ہی۔ وجے نے ایک بار پھر چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھااور آگے بڑھ کر اس کی دونوں کنپٹیوں کو ہتھیلیوں سے دبا کر اپنے پاس کھینچ لیا۔ نہیں، میرا نے غصہ نہیں کیا،جیسے وہ امید کر رہی تھی کہ یہ لمحہ آئے گا ضرور۔ لیکن پہلے اس کے ماتھے پر تیکھی لکیروں کی پرچھائیاں ابھریں اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کی لہروں میں بدل گئیں۔ ایک عجب، بکھرتی سی، سمٹی، دھوپ چھاؤں مسکراہٹ۔وجے کا جی چاہا، ریگستان میں بھٹکتے پیاسے کی طرح دونوں ہاتھوں سے صراحی کو پکڑ کر اس کی مسکراہٹ کی شراب مجنونانہ انداز میں پیتا چلا جائے۔۔۔پیتا چلا جائے۔۔۔ غٹ ۔۔۔غٹ ۔۔۔ اور آخر لڑکھڑا کر گر پڑے۔ پتلے پتلے ہونٹوں سے ایک نامعلوم سی پھڑکن لرز رہی تھی۔ اس رومانی خمار میں بھی وجے کو خیال آیا کہ پہلے میرا کا چشمہ اتار لے۔ ٹوٹ نہ جائے۔ تب اس نے دیکھا، ہریالے فواروں جیسے مورپنکھوں کے دوتین پیڑوں کے پیچھے پورے پورے دو تاج محل چشمے کے شیشوں میں اتر آئے ہیں۔ دودھیا ہاتھی دانت کے بنے سے دو سفید ننھے ننھے کھلونے۔۔۔

پتا نہیں کیوں، اسے تاج محل کبھی اچھا نہیں لگا۔ دھیان آیا، بن بلائے بوڑھے چوکیدار کی طرح تاج محل پیچھے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ باتوں کے بیچ وہ اسے کئی بار بھول گیاتھا لیکن دانتوں میں اٹکے تنکے سا اچانک ہی اسے یاد آ جاتا تھا کہ وہ اس کے سائے میں بیٹھے ہیں جو بہت بڑا ہے،جوعظیم ہے۔۔۔جو ۔۔۔؟اتنی بڑی عمارت !اس کی مکمل خوب صورتی کو ایک ساتھ وہ کبھی تصور میں لا ہی نہیں پایا۔۔۔ ایک ایک حصہ دیکھنے میں کبھی اس میں کچھ خوبصورت نہیں لگا۔ لوگوں کے اپنے ہی دل کی خوبصورتی اورشعریت رہی ہو گی جواس میں تبدیل کر کے دیکھ لیتے ہیں، کبھی موقع ملے گا تو وہ ہوائی جہاز سے تاج کی خوبصورتی کے کلی جائزے کی کوشش کرے گا۔ کئی بڑے فن پارے اس طرح کے دیکھے تو ہیں۔۔۔ اور تب سارے ماحول کے بیچ کوئی بات لگی تو ہے۔۔۔ مگر یہ چشمے کے کانچوں میں جھلملاتے، دھوپ میں چمکتے تاج ۔۔۔ کھنچاؤ وہیں تھم گیا۔ اس نے بڑے بے معلوم انداز سے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ آہستہ سے:’نہیں! یہاں نہیں۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔‘یہ اسے کیا ہو گیا؟

اچانک میرا کو ہوش سا آ گیا۔ امڈتی لاج چھپانے کے لیے سٹ پٹا کر ادھرادھر دیکھا، کوئی بھی تو نہیں تھا۔پاس والی لال لال اونچی دیوار پرابھی ابھی راج مزدور سے لگنے والے مرمتیے لوگ آپس میں ہنسی مذاق کرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے گئے ہیں۔ انھیں بندر کی طرح دیوار پر بھاگ لینے میں مہارت ہے۔ روش کے پار پڑوس کے لان میں دو تین مالی پائپوںکو ادھر ادھر گھماتے پانی لگارہے تھے، وہ بھی اب نہیں ہیں۔ کھانا کھانے گئے ہوں گے۔ میرا نے بغل سے ساڑھی کھینچ کر کندھے کا پلا ٹھیک کر لیا۔ پھر وجے نے اَن منے انداز سے گھاس کا ایک پھول توڑا اور آنکھوں کے آگے انگلیوں میں گھمانے لگا۔ میرا نے چشمہ اتار کر منہ سے ہلکی سی بھاپ دی اور ساڑھی سے کانچ پونچھے، بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اٹکایا اور چشمہ لگا کر کلائی کی گھڑی دیکھی۔

بڑ ابوجھل سکوت آ گیا تھا دونوں کے بیچ۔ وجے کو لگا انھیں کچھ بولنا چاہیے ورنہ یہ خاموشی کا بوجھ دونوں کے بیچ کی کسی بہت کومل چیز کو پیس دے گا۔ ہتھیلی پر یوں ہی اس تنکے سے کراس اور تکون بناتا وہ لفظوں کو ٹھیل کر بولا:’’تو پھر اب چلیں۔۔۔؟ دیر بہت ہو رہی ہے۔‘‘

میرا نے سر ہلا دیا۔ لگا جیسے وہ کچھ کہتی کہتی رک گئی تھی یا انتظار کر رہی ہو کہ وجے کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں کہہ پا رہا۔ پھر تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ کوئی نہیں اٹھا۔ تب پھر اس نے مرے مرے ہاتھوں سے جوتوں کے فیتے کسے، اخبار میں سنگترے اور مونگ پھلی کے چھلکے پھینکے۔ بیٹھنے کے لیے بچھائے گئے رومال سمیٹے گئے اور دونوں ٹہلتے ہوئے پھاٹک کی طرف چلے آئے۔

تین کا وقت ہو گا۔ ہاتھ میں گھڑی ہوتے ہوئے بھی اس نے اندازہ لگایا۔ دھوپ ابھی بھی تیز تھی۔ ایک آدھ بار گلے اور کنپٹیوں کا پسینہ پونچھا۔ آتے وقت تو بارہ بجے تھے۔ اس وقت اسے ہنسی آ رہی تھی۔ ملنے کا وقت بھی ان لوگوں نے کتنا عجیب رکھا ہے۔

جیسے اس وقت سے بہت دور کھڑے ہو کر اس نے دہرایا تھا’بارہ ۔۔۔بجے، جون کا مہینہ اور تاج محل کا لان،وہ پہلے آ گیا تھا اور انتظار کرتا رہا تھا۔ اس وقت کیسی بے چینی، کیسی چھٹپٹاہٹ،کیسی بے تابی تھی۔۔۔ یہ وقت بیتتا کیوں نہیں ہے؟بہت دنوں سے گھڑی کی صفائی نہ ہو پائی۔ اس لیے شاید سست ہے۔ابھی تک نہیں آئی۔ ان لڑکیوں کی اسی بات سے سخت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ کبھی وقت کا خیال نہیں رکھتیں۔ جانے کیا مزا آتا ہے انتظار کرانے میں۔ وہ جان بوجھ کر ادھرآنے والے راستے کی جانب سے منہ پھیرے تھا۔ امید کر رہا تھا کہ اچانک ادھر مڑ کر دیکھے گا تو پائے گا کہ وہ آ رہی ہے لیکن دو تین بار ایسا کر چکنے کے بعد بھی وہ نہیں آئی۔جب دوسری طرف منہ موڑے رہ کر بھی وہ کن اکھیوں سے ادھر ہی جھانکنے کی کوشش کرتاتو خود اپنے پر ہنسی آتی۔ اچھا سیڑھیاں اتر کر آنے والے تین لوگوں کو وہ اور دیکھے گا اور اگر ان میں بھی میر انہیں ہوئی تو دھیان لگا کر کتاب پڑھے گا۔ جب آنا ہو، آ جائے۔ ایک دو تین، ہوسکتاہے،اگلی وہی ہو۔ ہش، جائے جہنم میں نہیں آتی تو، ہاں تو نہیں۔ اچھا،آؤ، تب تک یہی سوچیں کہ میرا ان تین سالوں میں کیسی ہو گئی ہو گی۔ کیسے کپڑے پہن کر آئے گی؟ ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ کیا کریں گے؟ ہو سکتا ہے، جو ش سے لپٹ جائیں، کچھ بول نہ پائیں۔ اس کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں ہے، لیکن کون جانے، اس جوش میں ۔۔۔

آخر وہ آئی تو وہ اسے پاس آتے دیکھتا رہا تھا۔ ہر بار وہ ادھر سے نگاہیں ہٹانے کی کوشش کرتا کہ اسے یوں نہ دیکھے، پاس آنے پر ہی دیکھے اور اچانک ملنے کے تھرل کو محسوس کرے۔ لیکن وہ دیکھتا رہا تھا اور نہایت مؤدب طریقے سے بولا تھا۔۔۔’’نمستے میرا جی۔۔۔‘‘جھینپ کر میرا مسکرا پڑی تھی۔ دھوپ میں اس کا چہرا لال پڑ گیا تھا۔ پھر دونوں اس لان میں آ بیٹھے تھے۔ ایسے مطمئن، ایسے پر سکون جیسے روز ملتے ہوں۔

’’میں نے سوچا، تم شاید نہ آؤ، یاد نہ رہے۔‘‘
’’آپ نے لکھا تھا تو یاد کیسے نہیں رہتا؟لیکن ٹائم بڑا عجیب ہے۔‘‘
’’ہاں سردیوں کی چودھویں کی چاندنی رات تو نہیں ہے۔‘‘اپنے مذاق پر وہ خود ہی شرمندگی محسوس کرتا سنجیدہ ہو کر بولا:’’اس وقت یہاں ذرا تنہائی ہوتی ہے۔‘‘

سچ مچ بڑا عجیب ٹائم تھا۔میرا کے ساتھ ایک ایک قدم لوٹتے ہوئے اس نے سوچا۔ دوپہر کی دھوپ اور ۔۔۔پیار کرتے دو پریمی۔۔۔ پیار کرتے پریمی، اس نے پھر دہرایا۔ یہ پیار تھا؟جیسے برسوں سے ملنے والے دو دوست ہوں، جن میں باتیں کرنے کی لذت ختم ہو گئی ہو۔سفید سنگِ مرمرپر دھوپ پڑ رہی تھی، چوندھا تھا، اس لیے ادھر پیٹھ کر لی تھی۔ رہ رہ کر جھنجھلاہٹ آتی۔ کس بد دعا نے ہمارے خون کو جما دیا ہے؟یہ ہو کیا گیاہے ہمیں ؟کوئی گرمی نہیں، کوئی جوش اور کوئی جذبہ نہیں۔۔۔ کیا بدل گیا ہے اس میں؟ہاںمیرا کا رنگ کچھ کھل گیا ہے۔۔۔ بدن نکھر آیا ہے۔

لوٹتے وقت بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بوجھ، یہ کھنچاؤ کیا ہے؟ دونوں یوں ہی گھاس میں کاٹی ہوئی لال پتھروں کی جالی پر قدم قدم ٹہلتے ہوئے سیڑھیوں تک جائیں گے۔۔۔پھاٹک میں بیٹھے ہوئے گائیڈوں اور دربانوں کی تیز امیدوارانہ نگاہوں کو زبردستی جھٹلاتے بجری پر چر چر، چر چر کرتے تانگے یا رکشے میں جا بیٹھیں گے۔۔۔ اور ایک موڑ لیتے ہی سب کچھ پیچھے چھوٹ جائے گا۔ کل وہ لکھے گا۔’’میرا! میرا ! کل کے میرے رویے پرتمھیں حیرت ہو ئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے برا بھی لگا ہو ۔۔۔لیکن ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘

اور پھر چشمے کے کانچوں میں جھانکتا تاج محل مجسم ہو کے چلا آیا۔ ’تمھاری پلکوں پر تیرتے دو تاج محل!‘‘کتنا سندر جملہ ہے(یہ تونئی غزل ہو گی) ٹیگور نے دیکھا ہوتا تو ’دنیا کے گالوں پرڈھلک آئی آنسو کی بوند‘ کبھی نہ کہتے۔۔۔کہتے’گالوں پر ڈھلک آئے آنسوؤ ں میں جھانکتے تاج محل کی رو پہلی مچھلیوں سی پرچھائیاں ۔۔۔‘ لیکن میرا کی آنکھوں میں تو اسے نمی کا بھی سایہ نہ دِکھا تھا، کتنے بے روح ہو گئے ہیں ہم بھی آج کل۔ وہ کل والے خط میں لکھے گا۔’’ہکسلے کی نقل نہیں کر رہا،جانے کیوں،مجھے تاج محل کبھی خوبصورت نہیں لگا۔ لیکن پہلی بار جب میں نے تمھاری پلکوں پر تاج کی پرچھائیں دیکھی تو دیکھتا رہ گیا۔ پچھلے دنوں کی ایک عجیب سی بات مجھے یاد ہو آئی۔ اس گھڑی۔۔۔‘‘

ارے ہاں، اب یاد آیا، کہ کیوں وہ اچانک یوں سست ہو گیا تھا۔ اس بات کو بھی کبھی جھٹلایا جا سکتا ہے؟ ’ہاں، میرے لیے تو وہ بات ہی تھی۔۔۔ ‘وہ لکھے گا۔ اسے لگا، دل ہی دل میں وہ جسے پکار رہا ہے، جسے خط لکھ رہا ہے، وہ ساتھ ساتھ چلنے والی یہ میرا نہیں ہے، وہ تو کوئی اور ہے ۔۔۔ کہیں دور ۔۔۔بہت دور۔۔۔ر ۔۔۔وہی میرا تو اس کی اصلی عزیز اور محبوب ہے۔ یہ ۔۔۔ یہ اس سے تو جب جب ملا ہے، اسی طرح اداس ہو گیاہے لیکن اُس میرا سے ملنے کی کشش اِس کے پاس کھینچ لاتی ہے۔اِس کی تو نہ جانے کتنی باتیں ہیں جو اسے قطعی پسند نہیں ہیں۔ جیسے ؟ وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا، کہ کیا کیا پسند نہیں ہے؟ جیسے اس وقت اسے اسی بات پرجھنجھلاہٹ ہو رہی ہے کہ میرا نیچے بنی جالی کے پتھروں پر ہی پاؤں رکھ کرکیوں نہیں چل رہی۔ بیچ بیچ میں گھاس پہ پاؤ ں کیوں رکھ دیتی ہے۔

اور اس سب کے پار دونوں کان لگائے رہے کہ دوسرا کچھ کہے۔ایک بات سوچ کر وہ اچانک خود ہی ہنس پڑا۔جب وہ لوگ بہت بڑے بڑے ہو جائیں گے،سمجھو چالیس پچاس سال کے تو ہنس ہنس کر کیسے دوسروں کو اپنی اپنی بے وقوفیاں سنایا کریں گے۔ کیسے وہ لوگ چھپ چھپ کر تاج محل میں ملا کرتے تھے۔

’’چار پانچ سال ہو گئے ہوں گے اس بات کو ۔۔۔‘‘ اس کے من کے اندر کی سطروں پر خط چلتا رہا۔یہ سب وہ اس خط میں لکھے گا نہیں،وہ صرف اس بہانے سلسلہ وار لفظوں میں اس سارے اتفاق کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی، اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چپ، اداس اور منحوس شام تھی اس لیے پرچھائیاں پیچھے خوب لمبی لمبی چلی گئی تھیں۔

اچھی طرح یاد ہے، ستمبر یا اکتوبر کا مہینہ تھا۔ کالج سے آ کر چائے کاکپ ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ کسی نے بتایا: ’’آپ کو کوئی صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘
وہ چڑ کر اٹھا :’’کون آ گیا ہے اس وقت۔‘‘
’’ارے آپ؟‘‘
’’پہچانا نہیں آپ نے؟‘‘
’’ارے صاحب! خوب آپ کو نہیں پہچانوں گا؟‘‘ لیکن سچ مچ اس نے پہچانا نہیں تھا۔ دیکھا ضرور ہے کہیں، شاید کلکتہ میں۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لیکن وہ حتی الامکان یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ پہچان رہا ہے اور بات چیت سے پہچان کی ڈور پکڑ کر یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے:’’اندر آئیے ناں!‘‘
’’نہیں مسٹر ماتھر! بیٹھوں گا نہیں۔گلی کے باہر میری وائف اور بچہ کھڑے ہیں۔۔۔‘‘انھوں نے معذرت چاہنے کے لہجے میں کہا:’’آپ کچھ کر رہے ہیں کیا۔۔۔؟‘‘
’’لیکن انھیں وہاں۔۔۔؟یہیں بلا لیجیے ناں۔‘‘
’’نہیں دیکھیے۔ ایسا ہے کہ ہم لوگ ذرا تاج دیکھنے آئے تھے۔یاد آیا، آپ بھی تو یہیں رہتے ہیں۔ جگہ یاد نہیں تھی، سو ایک ڈیڑھ گھنٹا بھٹکنا پڑا۔ خیر آپ مل گئے۔ اب اگر کچھ کام نہ ہو تو ۔۔۔ بات ایسی ہے کہ ہمیں آج ہی لوٹ جانا ہے۔۔۔‘‘وہ سیڑھی پر ایک پاؤں رکھے کھڑے تھے: ’’آپ کسی طرح کے تکلف میں نہ پڑیں۔ پاؤںمیں چپل ڈالیے اور چلے آئیے۔‘‘

گلی کے باہر گاڑی کھڑی تھی۔ پیچھے کا دروازہ کھلا تھا اور اس کو پکڑے پچھلے مڈ گارڈ سے ٹکی ایک خاتون کھڑی تھیں۔گہری ہری بنگلوری ریشم کی ساڑھی، بنگالی طرز کا چوڑا چوڑا جُوڑااور بیچوں بیچ جگ مگ کرتا ہشت پہلو رو پہلا ستارہ۔مڈ گارڈ پر چھوٹا سا چار پانچ سال کا بچہ پھسلتے جوتوں کو جیسے تیسے روکے بیٹھا تھا۔ دونوں بانہوں سے اسے سنبھالے ہوئے وہ اس کی کلائی پکڑے چھوٹی سی انگلی سے دھول لدے مڈگارڈ پر لکھا رہی تھیں۔ ٹی اے جے۔ قدموں کی آواز سے چونک کر مڑیں اور استقبال میں مسکرائیں۔ بچے کو سنبھال کر اتارا، پھر دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ پھر خود ہی بولیں: ’’دیکھیے! آپ سے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔‘‘

’’حضرت آ ہی نہیں رہے تھے۔۔۔‘‘وہ بیچ میں ہی بات کاٹ کر بولے۔ پھر اچانک بولے:’’اچھا راکا! اب بیٹھو، ورنہ اندھیرا ہو جائے تو دیکھنے کا مزا بھی نہیں رہے گا۔‘‘
راکا۔۔۔راکا۔۔۔ہاں کچھ یاد تو آرہا ہے۔ ڈرائیور کی بغل میں بیٹھ کر اس نے ایک آدھ بار گھوم کر دیکھا جیسے یہاں کہیں ان کا نام بھی لکھا مل جائے گا۔
’’کیسے ہیں؟ بہت دنوں بعد ملے ہیں۔ آپ کو یاد ہے،کلکتہ میں ہم لوگ ملے تھے۔۔۔؟اس دن ہم لوگوں نے آپ کو کتنی دیر کرا دی تھی۔‘‘سنہرا رنگ، کانوں میں گول کنڈل، بہت ہی بے معلوم سی لپ اسٹک۔ ساڑھی کا پلا سنبھالنے کے لیے کھڑکی پر ٹکی کہنی۔

ارے ہاں!اب یا د آیا۔ ان سے تو ملاقات بڑے عجیب اندازسے ہوئی تھی۔ نیو مارکیٹ کے ایک ریستوران میں بیٹھا وہ شوقیہ اپنی اپنی موسیقی کی مہارت کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر جانے کیا من میں آیا کہ خود بھی اٹھ کر ماؤتھ آرگن پر دیر تک سینما کے گیتوں کی دھنیں نکالتا رہا۔ اس چھوٹے سے اسٹیج سے ہٹ کر جس میز پر وہ بیٹھا تھا، اس پر بیٹھے تھے یہ لوگ۔ یہ راکا جی اور یہ مسٹر ۔۔۔کیا؟ہاں مسٹر دیو۔

’’سچ مچ آپ نے بہت ہی سندر بجایا۔ بڑی اچھی پریکٹس ہے۔ ‘‘ دیو نے اس کے بیٹھتے ہی کہا۔ رومال سے باجے کو اچھی طرح پونچھ کر جیب میں رکھ ہی رہا تھا کہ چونک گیا۔ راکا کے چہرے پر تحسین اتر آئی تھی اور یوں ہی کپ کے اوپر ہتھیلی ٹیکے وہ ایک ٹک میز کو دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ کی چائے توپانی ہو گئی ہو گی۔ اور منگائے دیتے ہیں۔ بیرا سنو! ادھر۔‘‘

اس کے منع کرنے پر بھی چائے اور آگئی:’’چھٹیوں میں گھومنے آئے ہیں؟اچھا ! کیسا لگا کلکتہ آپ کو۔۔۔جی ہاں،گندا توہے آگرہ کے مقابلے میں۔۔۔ لیکن ایک بار من لگ جانے پر چھوڑنا مشکل ہو جاتاہے۔۔۔‘‘پھر تعریف، احسان مندی کا تبادلہ، شناسائی اور رات دیر تک ان کے لوئر سرکلر روڈ کے فلیٹ پر باتیں، کھانا کافی اور موسیقی۔ راکا کو ستار کا شوق ہے۔ دیو کسی فارن کمپنی کے انچارج منیجر کی صحبت میں غیر ملکی سمفنیاں پسند کرتے ہیں۔ اس کا ماؤتھ آرگن سننے کے بعد راکا جی نے ستار سنایا تھا اور پھر دیو نہایت ہی خوبصورت پلاسٹک کے لفافوں میں بند اپنے بدیسی ریکارڈ نکال لائے تھے۔ ایک ایک ریکارڈ آدھ گھنٹے چلتا تھا اور اس میں تین تین کمپوزیشنز تھیں۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا لیکن وہ بیٹھا لفافوں پر لکھے ہوئے تعارف اور موسیقار کی تصویر کو ضرور دیکھتا رہا تھا۔ کوئی چیاکو وسکی یا کچھ بینگر تھا جس کا نام وہ بار بار لیتے تھے۔ایک ایک ریکارڈ چالیس پچاس روپے کا تھا۔بیچ بیچ میں،’’کبھی ضرور آئیں گے آگرہ۔ بہت بچپن میں ایک بار دیکھا تھا،شاید دماغ میں جو نقشہ ہے، اس سے میل ہی نہ کھائے۔ شادی کے بعد ایک بار دیکھنے کا پروگرام بہت دنوں سے بنا رہے ہیں۔ یہ تو ہر چھٹی میں پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ جی نہیں، انھوں نے نہیں دیکھا۔۔۔ ادھر ہی رہے ان کے فادر وغیرہ سب۔ اب تو آپ وہاں ہیں ہی۔۔۔‘‘اس دن دونوں دیر کے لیے راستے بھر معذرت کرتے ہوئے اپنی گاڑی پر ہی وویکانند روڈ تک چھوڑنے آئے تھے۔ راستے بھر بات چیت کے ٹکڑے، ستار کی گونج اور سمفنی کی کوئی ڈوبتی سی لہراتی دردیلی کراہ اسے مسحور کیے رہی۔ کیسے عجیب انداز سے واقفیت ہوئی ہے۔ کتنا سکھی جوڑا ہے۔۔۔اسے بہت ہی خوشی ہوئی تھی۔ بچہ بعد میں آیا۔ نام ہے مُن مُن۔

دیو بتا رہے تھے:’’نمائش میں ہمارا سٹال ہے ناں،سو ہم لوگ دلی آئے تھے۔ سوچا، اتنے پاس سے یوں بنا دیکھے لوٹنا اچھا نہیں ہے۔ آپ کو یوں ہی گھسیٹ لائے۔ کوئی کام تو۔۔۔‘‘
’’نہیں،نہیں۔۔۔!‘‘جلدی سے کہا۔۔۔ اسے اور تو سب باتیں یاد آ رہی تھیں لیکن یہ یاد نہیں آ رہاتھا کہ ان مسٹر دیو کے آگے پیچھے کیا لگتا ہے۔ بڑی بے چینی تھی۔کیسے جانے؟بس اسی ملاقات کے بعد پھر کبھی ملنا نہیں ہوا۔۔۔یاد داشت اچھی ہے ان لوگوں کی۔
’’آپ نے یاد خوب رکھا۔‘‘سوچا، اس ملاقات میں خاص ایسی بات بھی تو نہیں تھی۔
’’جب ہم لوگ تاج کی بات کرتے، آپ کی بات یاد آ جاتی اور کوئی دن ایسا نہیں گیا جب تاج کی بات نہ ہوئی ہو۔۔۔آپ کے سامنے یہ مُن مُن نہیں تھا۔۔۔‘‘
’’مُن مُن !تم نے انکل جی کو نمستے نہیں کیا۔ کہو انکل جی ! آج ہمارے ماما ڈیڈی کے بیاہ کی ساتویں سالگرہ ہے۔۔۔‘‘راکا جی اس کے ہاتھ جڑواتی بولیں:’’بہت ہی شیطان ہے۔ مجھے دن بھر خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی دن کچھ کر کرا نہ لے۔‘‘
’’تب تو آپ کو مبارک دینی چاہیے۔۔۔‘‘لیکن اس سب کے پار وجے کو لگا، کہیں گھٹن ہے جو نادیدہ کہرے کی طرح گاڑھی ہوتی ہوئی چھائی ہے۔ رہا نہیں گیا۔ پوچھا:’’آپ کچھ سست ہیں۔ طبیعت۔۔۔؟‘‘
’’نہیں جی!‘‘انھوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ایک کلپ ٹھیک کیا اور سنبھلے انداز سے مسکرانے کی کوشش کر کے کہا:’’گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پانچ گھنٹے ہو گئے۔ ایک گھنٹے سے تو یہاں آپ کو کھوج رہے ہیں۔‘‘
’’چچ! سچ مچ بہت زیادتی ہے یہ تو آپ کی۔‘‘احسان مندانہ انداز سے وہ بولا:’’کم سے کم منہ ہاتھ تو دھو ہی لیتیں راکا جی۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔ لوٹنا بھی توہے نا ں آج ہی۔‘‘

پھر سبھی نے خوب گھوم گھوم کر تاج دیکھا تھا۔مُن مُن کا ایک ہاتھ دیو کے ہاتھ میں تھا اور ایک راکا جی کے۔ کبھی کبھی تو تینوں آپس میں ہی ایسے محو ہو کر کھو جاتے کہ وجے کو لگتا وہ بیکار ہی اپنی موجودگی سے ان کے بیچ مخل ہو رہا ہے۔ اوپر عمارت کے سفید کالے چبوترے پر دیو بڑی دیر تک سکہ لڑھکا کر اس کے پیچھے بھاگتے اور بچے کو کھلاتے رہے اور وجے کے ساتھ ساتھ راکا جی جالیوں کی بناوٹ، دروازے پر لکھی قرآن کی آیتیں اور بیل بوٹوں کی نقاشی دیکھتی رہیں۔ شام کی پیلی پیلی سہانی دھوپ تھی۔ لانوں کی نرمی سانولی ہو آئی تھی۔ مور پنکھوں اور تاڑ جیسے چوڑے پتوں کے گنبد نما کنج موم بتی کی ہری سنہری لو جیسے لگتے تھے۔ جیسے مستی میں پھولے پھولے کبوتر ہوں اورابھی آرام سے پھریرا لے لیں گے تو چنگاریوں کی طرح سرخ پھول ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ وہ لوگ اندر قبروں کے پاس اپنی آواز گونجاتے رہے۔ کیسے لرزتی سی تیرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے بہت ہی مہین ریشوں کا بنا ہوا، گھڑی میں لگے بال سپرنگ کی طرح کہ بڑا سا مخروطی کچھ ہے جو کبھی پھیل جاتا ہے تو کبھی سکڑ کر سمٹ جاتا ہے۔ دیو کی آواز تھی۔’’را ۔۔۔کا۔۔۔ا کا ۔۔۔اا‘‘ ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے لفظ۔۔۔دور کھوتے ہوئے۔۔۔ کہیں انجانی گھاٹیوں کی تلہٹیوں میں ’’مُن مُن مو و و ن اا۔۔۔‘‘ دیو دیر تک ڈوبے ہوئے اس کھیل کو کھیلتے رہے تھے۔لگتا تھا ان کے اندرہے کچھ، جو اس کھیل کے ذریعے سے عیاں ہو رہا ہے۔ وہ راکا یا من من کا نام لے دیتے اور دیر تک اندھیرے میں ان لفظوں کو ڈوبتا کھوتا دیکھتے رہتے جیسے ہاتھ بڑھا کر انھیں واپس پکڑ لینا چاہتے ہوں۔ انھیں قبروں میں کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔ بڑی دیربعد، بہت مشکل سے جب وہ اس ماحول سے ٹوٹ کر باہرنکلے تو بہت اداس اور کھوئے کھوئے تھے۔وجے کے پاس سے مُن مُن کو لے کر زورسے اسے چھاتی سے بھینچ لیا۔

باہر نکل کر آئے تو دیکھا کہ ندی کنارے والی برجی کے پاس راکا جی چپ چاپ دور شہر اور لال پل کی سمت دیکھتی کھڑی ہیں۔ سندوری آسمان کے گہرے سلیٹی بادل ندی کے چوکھٹے میں وارنش کلر کی طرح پھیل گئے ہیں۔ برجی سے بیچ کے مقبرے تک چبوترے کی کالی سفید شطرنجی کو سمٹتی دھوپ نے ترچھا بانٹ لیا ہے۔ ہوا میں ساڑھی ان کے بدن سے چپک گئی اور کانوں کے اوپر کی لٹیںسرکش ہو آئی ہیں۔دیو بہت دور تک انھیں یوںہی دیکھتے رہے، جیسے انھیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور اس سارے ماحول میں سفید پتھروں کے اس بہت بڑے قید خانے میں جیسے سزا یافتہ جل پری کو یوں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیاہو۔۔۔ ’یہ جگہ،یہ ماحول ہے ہی کچھ ایسا۔‘وجے نے اپنے آپ سے کہا اورجان بوجھ کر دوسری طرف ہٹ آیا۔ شاید راکاجی ممتاز کے عشق کی بات سوچ رہی ہوں،اپنے مرنے کے بعد اپنی ایسی ہی یادگار چاہتی ہوں یا کچھ بھی نہ سوچ رہی ہوں،بس پل سے گزرتی ریل کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تاج کو دیکھ کر حسن اور خیال کی حیران کن بلندیوںمیں کھو گئی ہوں۔

اپنی چھاتی تک اونچی پیچھے کی دیوار سے مُن مُن ندی کی طرف جھانکتا ہوا ہاتھ ہلا ہلاکر نیچے جاتے بچوں کو بلا رہا تھا۔ کوے کائیں کائیں کرنے لگے تھے۔ مُن مُن کے پاس وہ سنگِ مر مر کی دیوار پر جھک کر ہتھیلیاں ٹیکے سامنے کے حصے اور پیڑوں کی گھنی چھتریوں کو دیکھتارہا۔ جانے کب دیو جی برابرہی آ کھڑے ہوئے۔کافی دورہٹ کر اسی طرح برجی کے پاس جھکی راکا جی۔۔۔ہوا میں پھہراتی ساڑھی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر روکے ہوئے۔

’’اندر کی آواز اور گونج سن کر بڑا عجیب سا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے ناں؟جیسے جانے کن ویران جنگلوں اور پہاڑوںمیں آپ کا کوئی بہت ہی قریبی عزیز کھوگیا ہے اور آپ کی بے ثمر پکاریں ٹوٹ ٹوٹ کراسے پکارتی چلی جاتی ہیں۔۔۔ چلی جاتی ہیں۔۔۔ اور کھو جاتی ہیں۔ وہ عزیز لوٹتا ہے اور نہ آوازیں۔ جیسے زمانوں سے کسی کی بھٹکتی روح اسے پکارتی رہی ہو اور وہ ہے کہ گونجوں اورسایوں میں ہی گھل گھل کر بکھر جاتا ہے۔۔۔ ڈوب جاتا ہے۔۔۔ٹھہرتا ہے اور مجسم نہیں ہو پاتا۔۔۔‘‘

ندی میں تاج کی گھنی گھنی پرچھائیں لہروں میں ٹو ٹ ٹوٹ جاتی تھی۔ انجانے ہی دیو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

’’ایسا ہی ہوتاہے۔ ایسے ماحول میں ایسا ہی ہوتاہے۔‘‘وجے نے اپنے آپ سے کہہ کر جیسے صورتحال کو لفظ دے کرسمجھنا چاہا:’’جب کوئی کسی کوبہت پیار کرے، بہت پیار کرے اور پھر ایسی خوب صورت منحوس جگہ آجائے تو کچھ ایسی ہی باتیں دل میں آتی ہیں۔ ابھی لان پر چلیں گے، مُن مُن کے ساتھ کلکاریاں ماریں گے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

دیو نے سنا اور گہری سانس لے کر بڑی زخمی نگاہوں سے وجے کی طرف دیکھا۔ کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دونوں چپ چاپ ہی ٹہلتے ہوئے سامنے کی طرف آ گئے ۔۔۔ مُن مُن راکا جی کے پاس چلا گیاتھا۔ نیچے کی سیڑھیاں اترتے اترتے اچانک ہی دیو نے وجے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ کچھ کہنے کو ہونٹ کانپے:’’آپ کوپتا ہے مسٹر وجے؟‘‘
وجے آواز اور لہجے سے چونک گیا :’’نہیں، کچھ نہیں۔‘‘
اوپر ہری ساڑھی کی جھلک نظر آئی اورپھر دونوں سیڑھیاں اتر آئے۔جوتے پہنتے ہوئے بولے:’’آپ کو تعجب تو بہت ہو گا کہ یوں ہم اچانک آپ کو اٹھا لائے۔‘‘
’’نہیں تو ! اس میں ایسی کیا بات ہے؟‘‘وجے نے خوش اخلاقی سے کہا۔
’’ہاں بات کچھ نہیں ہے لیکن بہت بڑی بات ہے۔‘‘پھر گہری سانس۔۔۔

اب وجے کو لگا کہ سچ مچ کوئی بہت بڑی بات ہے جو دیو کے اندر سے نکلنے کے لیے چھٹپٹا رہی ہے۔ تب پہلی بار اس کا دھیان اس صورتحال کی بو قلمونی کی طرف گیا۔بیچ کے چبوترے تک دونوں بالکل چپ رہے ۔۔۔ چبوترے کے خو ب صورت کونوںوالے حوض میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔ گہرے سانولے آسمان میں لال لال گلابی بادلوں کے بگولے اتر آئے تھے۔ الٹے تاج کی پرچھائیں دم توڑتے سانپ کی طرح ان کے قدموں پر پھن پٹک پٹک کر لہرا رہی تھی۔دھوپ اوپر سیڑھیوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس پر آنکھیں ٹکائے دیو بڑی دیر تک یوں ہی دیکھتے رہے۔ سامنے مُن مُن کو لیے راکا جی چلی آ رہی تھیں لیکن جیسے کوئی کسی کو نہیں دیکھ رہا ہو۔ ہاں وجے کبھی اُسے اور کبھی اِسے یا مشک لے کر آتے بہشتی کو دیکھتا رہا۔ ٹپ ٹپ بوندوں کی مسلسل لائنیں اس کی انگلیو ں سے ٹپک رہی تھیں۔ بڑی احتیاط سے لفظوں کو دھکیل کر دیو بولے:’’یہ ساری کیفیت ۔۔۔ یہ ٹوٹ جانے کی حد تک آ جانے والاچرمراتا تناؤ۔۔۔ موت سے پہلے کے یہ قہقہے ۔۔۔سنجیدگی کا یہ برفیلا کفن ۔۔۔ شاید ہم میں سے کوئی اسے اکیلا نہیں سہہ پاتا۔۔۔ کوئی ایک چاہیے تھا جو اس کی طرف سے ہمارا دھیان ہٹائے رکھے۔۔۔ اس انجام کا گواہ بن سکے۔‘‘
’’میں سمجھ نہیں سکا مسٹر دیو۔۔۔!‘‘ گھبرا کر وجے نے پوچھا تھا۔

بوٹوں کے دونوں پنجوں پر ذرا سا مچک کر دیو نہایت ہی اطمینان سے ہنسے: ’’آپ ۔۔۔ آپ وجے صاحب! ہماری یہ آخری شام ہے۔۔۔‘‘اور وجے کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی انھوں نے کہہ ڈالا:’’میں نے اور راکا نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم لوگوں کو الگ ہی ہوجانا چاہیے۔۔۔ دونوں طرف سے برداشت کی شاید حد ہوگئی ہے۔ نسوں کا یہ تناؤ مجھے یا اسے پاگل بنا دے، یا کوئی ایسی ویسی بے ہودگی کرنے پر مجبور کرے،اس سے تو اچھا ہو کہ دونوں الگ ہورہیں۔ چاہے تو وہ کسی کے ساتھ سیٹل ہوجائے، وہ مُن مُن کو رکھنا چاہتی ہے تو رکھے، ویسے جب بھی وہ اسے بوجھ لگے،بلا تکلف میرے پاس بھیج دے۔‘‘وجے کا سر بھنا اٹھا۔ وہ چپ چاپ حوض کی گہرائی میں تڑپتی تاج کی پرچھائیں پر نگاہیں ٹکائے رہا۔
’’لیکن آپ دونوں۔۔۔‘‘وجے نے کہنا چاہا۔

دیو نے ہاتھ پھیلا کر روک دیا:’’وہ سب ہو چکا ہے۔ سارے تجربے ختم ہو گئے۔ ہم نے طے کیا کہ کیوں نہ اپنی آخری شام ہنسی خوشی کاٹیں۔۔۔ دوست بنے رہ کر ہی ہنستے ہنستے رخصت ہو لیں۔۔۔ ‘‘پھر کچھ دیر تک چپ رہ کر کہا:’’راکاکی بڑی تمنا تھی کہ تاج دیکھوں، شادی کی پہلی رات اس نے چاہا تھا کہ ہنی مون یہاں ہو لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔‘‘پھر ہاتھ جھٹک دیا:’’عجب ملاپ ہے ناں ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘لیکن وجے کو لگا تھا جیسے کسی ڈیم کی ریلنگ پر جھکا کھڑا ہے اور نیچے سے لاکھوں ٹن پانی دھاڑ دھاڑ کرتا گرتا چلا جارہا ہے ۔۔۔ گرتا چلا جا رہا ہے اور اس کا سر چکرا اٹھا۔۔۔نہیں اس سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔یہ سب تو صرف وہ فرض ادا کر رہا ہے۔ کہیں ایسی بے یقینی بات۔۔۔ دھیان اس کا ٹوٹا دیو کی آواز سے:’’ اسے روکو راکا، مالی وغیرہ منع کریں گے۔۔۔ نہیں مُن مُن! ‘‘آواز بہت ملائم تھی اور پھر دیو نے دوڑ کر پیار سے مُن مُن کو دونوں بانہوں میں اٹھا لیا اور اس کے پیٹ میں اپنا منہ گڑا دیا۔ مُن مُن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ آنکھوںمیں لاڈ بھرے راکا جی مسکراتی رہیں۔ نہیں ابھی جو کچھ اس نے سنا تھا، وہ ان لوگوں کے آپسی رشتوں کے بارے میں نہیں تھا۔ ہو نہیں سکتا۔

بہت بار وجے نے راکا جی کا چہرہ دیکھنا چاہا لیکن لگا وہ ادھر ادھر کے سارے ماحول کو ہی پینے میں مشغول ہیں۔ چڑیاں چہچہانے لگی تھیں۔

انہی جالیوں پر اسی طرح تو وہ لوگ چل رہے تھے کہ پاس آ کردھیرے سے دیو نے کہا تھا: ’’راکا سے مت پوچھیے گا۔‘‘
کیا پوچھے گا وہ راکا جی سے۔۔۔؟
’’سوری آپ کو گھسیٹ لائے ہم لوگ۔‘‘
اور اس بار زخمی نگاہوں سے دیکھنے کی باری وجے کی تھی۔۔۔ اتنا غلط سمجھتے ہیں آپ۔۔۔

چار پانچ سال ہو گئے لیکن بات کتنی تازہ ہو آئی ہے۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چاپ، اداس اور منحوس۔۔۔شام کا بجرارات کا کنارہ چھونے لگا تھا۔ جیسے کسی برسوں کی طوفانی یاترا سے وہ تینوں لوٹ کر آ رہے ہوں۔ پیڑوں اور عمارتوں کی پرچھائیاں خوب لمبی لمبی چوڑی دھاریوں کی طرح پیچھے چلی گئی تھیں۔۔۔کنجوں اور لان کی ہریالیاں عجب ٹٹکی ٹٹکی ہو اُٹھی تھیں۔ ہریالی کے سرمئی دھندلے کانچ پر سفید پھول چھٹک آئے تھے۔

میرا کے چشمے کے کانچوں میں جھانکتی پرچھائیں کو دیکھ کر جانے کیوں اسے وہی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ وہی تاج جو اس دن حوض میں جیسے آسمانی جارجٹ کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور اپنے آپ سے لڑتے ہوئے دیو اُسے بتا رہے تھے۔آج اگر دیو ہوتے تو کیا جواب دیتا۔۔۔؟تو کیا وہ بھی اسی طرح الگ ہو رہے ہیں۔۔۔؟
اچانک چونک کر اس نے میرا کو دیکھا۔۔۔ اسے لگا، جیسے اس نے کہا ہے: ’’کچھ کہہ رہی تھی کیا؟‘‘
’’میں ۔۔۔؟نہیں تو۔‘‘پھر وہی سکوت اور گھسٹتی اداسی کا کمبل۔

لگا جیسے کوئی مردہ لمحہ ہے جس کا ایک سرا میرا پکڑے ہے اور دوسرا وہ اور اسے چپ چاپ دونوں رات کے سناٹے میں کہیں دفنانے جا رہے ہوں۔۔۔ ڈرتے ہوں کہ کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے۔۔۔ کوئی جان نہ لے کہ وہ قاتل ہیں۔۔۔کہیں کسی جھاڑی کے پیچھے اس لاش کو پھینک دیں گے اور خوش بو دار رومالوں سے کس کر خو ن پونچھتے ہوئے چلے جائیں گے۔بھیڑ میں کھو جائیں گے۔۔۔ جیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے میں ڈر لگتا ہے ۔۔۔کہیں الزام لگاتی آنکھیں قتل قبول کرنے کو مجبور نہ کر دیں۔

باہر وہ دونوں تانگہ لیں گے ۔۔۔ جھٹکے سے موڑ لیتا ہوا تانگا ڈھال پر دوڑ پڑے گا اور تاج محل پیچھے چھوٹتا جائے گا اور پھر اچھا کہہ کر سوکھے ہونٹوں کی بھری آواز پر مسکراہٹ کا کفن لپیٹ کر دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہو جائیں گے۔۔۔

Categories
فکشن

پرانے نالے پر نیا فلیٹ (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوں مجھے اپنے آپ میں، اپنی تحریر میں ایسی کوئی بات نہیں لگتی لیکن جانے کیسے میرے قارئین اوردوستوں میں یہ خیال عام ہو گیا ہے کہ خواتین مجھے بہت خط لکھتی ہیں اور اکثر و ہ اس بات کا ذکر لطف لے کر کرتے ہیں۔درحقیقت معاملہ صرف اتنا ہے کہ پانچ سال پہلے ایک قاریہ نے مجھے پہلا خط لکھا تھا اور دھیرے دھیرے وہ قلمی تعلق گہری دوستی میں بدلتا چلا گیا تھا۔ تب ان کی شادی ہوئے کچھ ہی وقت ہوا تھا۔ پہلے میں نے ان کے خط کو ٹھیک اسی طرح لیا تھا جیسے ایک دوست دوسر ے دوست کو اپنے اندر کی بات کہتے ہوئے لکھتا ہے لیکن آج اچانک جب شروع کے دنوں کا لکھا ہوا ایک خط سامنے آیا تو پہلی بار مجھے لگا، جیسے ان کے اس قلمی تعلق کے پیچھے خالص دل کی بات کہنے کی آرزو نہیں بلکہ ایک تمنا اور بھی تھی۔وہ اپنے شوہر کو دکھانا چاہتی تھیں کہ وہ بھی کسی کو خط لکھ سکتی ہیں اور بہت بے تکلف ہو کر لکھ سکتی ہیں۔اور اِس نگاہ سے یہ خط مجھے اپنے کو لکھا ہوا ہی نہیں لگتا۔ یہ تو کسی کو بھی لکھا جا سکتا تھا۔ ان کی دلی کیفیت کے بارے میں میرا اندازہ صحیح ہے یا نہیں، اس بارے میں اپنے قارئین سے جان کر مجھے اطمینان ہو گا۔ خط کے آخر کی اور کچھ شناختی اور ذاتی باتیں چھوڑ کر میں، یقینا نام اور مقام بدل کر، خط کی نقل نیچے دیے دے رہا ہوں؛

ڈی 78/15۔۔۔۔ نگر
نئی دلی
تاریخ:24 جون 05

پیارے راجندر !

۔۔۔۔۔سے لکھے خط میں مَیں نے لکھاتھا کہ دلی پہنچتے ہی میں اپنا پتا بھیجوں گی۔ شاید تم راہ بھی دیکھ رہے ہو گے۔ ہوسکتا ہے، گالیاں بھی دے رہے ہو۔ سوچا تھا، آتے ہی پہلا خط تمھیں ہی لکھوں گی لیکن روز آج کل، آج کل میں ہی سارا وقت گزر جاتا تھا۔ کبھی فرصت بھی ہوتی تو دل اتنا خراب ہو جاتا کہ کیا بتاؤں۔۔۔جانے کیا ہو تا چلا جا رہا ہے مجھے۔ میری خو د سمجھ میں نہیں آتا۔ کل اچانک کسی رسالے میں تمہاری کہانی دیکھی تو خیال آ گیا کہ تمھیں لکھنے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔ لو اب معافی مانگ لیتے ہیں۔ آگے سے ایسی تاخیر نہیں ہو گی۔ لمبے خط سے اُوبو گے تو نہیں۔۔۔؟

یہ گھر بڑ اعجیب ہے۔ ہمیشہ میرا من گھٹتا رہتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ ان فلیٹوں میں نہ تو ابھی فلش لگا ہے، نہ ٹھیک سے بجلی ہی آئی ہے۔ پانی بھی کنستر والوں سے دو پیسہ کنستر دے کر منگانا پڑتا ہے۔ پیچھے ہی نالہ ہے، سو ایسی بدبو آتی رہتی ہے کہ سر بھنا جاتا ہے۔کہتے ہیں یہ نالہ بہت پرانا ہے۔ مغلوں کے دور میں نہر تھی اور اس سے آمدو رفت ہوتی تھی۔ ہوسکتا ہے، مہابھارت کے دور میں بھی رہا ہو لیکن اب تو اس کا پرانا پن نہ کھینچتا ہے، نہ ڈراتا ہے۔ ہمیشہ من میں اٹھتا رہتا ہے کہ یہاں سے کہیں بھاگو ۔۔۔ بھاگو۔ گھر پر عادتیں بگڑ گئی ہیں نا۔۔۔ اب تو لگتا ہے کہ اگر یہیں رہی تو اس بدبو سے پاگل ہو جاؤں گی۔ چاہے جتنی کھڑکیاں دروازے بند کر لو، چاہے جتنی اگر بتیاں پھونکتے رہو، بدبو تو ہواؤں میں بسی ہے نا۔ مجھے تو سارے دن حیرت ہوتی ہے کہ یہ پنجابنیں کیسے اس جگہ بنا کسی شکوہ شکایت کے رہتی چلی آ رہی ہیں۔ ایک ہاتھ سے ناک پر رومال لگائے ہوئے کام بھی تو نہیں ہوتا۔ سو میں ساڑھی کا پلّو ناک پر باندھ لیتی ہوں۔ یہ جب جب دیکھتے ہیں، ہنس پڑتے ہیں،کہتے ہیں:’’ جھاڑو ٹوکری اور لے لو، سامان پورا ہو جائے گا۔‘‘خود میں نے شیشے میں دیکھا تو دیر تک ہنستی رہی۔ یہ کہتے ہیں:’’ شروع شروع میں ایسا ہی لگتا ہے۔ کچھ دن بعد بدبو اپنے آپ کم ہو جائے گی۔ رہنا تو یہیں ہے۔ مکان ہی نہیں ملتے۔ ادھر ونے نگر اور لودھی کالونی کی طرف سرکاری کوارٹر ملتے ملتے سال لگے، دو سال لگیں،کون جانے، ہمارے یہاں رہتے ہوئے ملے ہی نہیں۔‘‘وہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ تو صبح چلے جاتے ہیں۔ آفس میں خس کی ٹٹیا ں لگی ہیں۔ یہاں یا تو دن بھر گھٹو یا ناک باندھ کر پڑے رہو۔ میں تو زیادہ سے زیادہ سامنے کی طرف رہتی ہوں۔ ایک ڈیڑھ کمرے کے پار کچھ تو بدبو کم ہو گی۔

تم سوچ بھی نہیں سکتے راجندر ! یہ دم گھونٹ بدبوکس طرح میرے دماغ پر بھوت بن کر سوار ہوگئی ہے۔ ایک بار جب ہم لوگ میرٹھ سے آ رہے تھے۔ تو سگنل نہ ملنے کے باعث گاڑی سٹیشن سے پہلے ہی کھڑی ہو گئی تھی۔اس جگہ کی ہوامیں جانے کیسی بدبو بھری تھی کہ مجھے تو قے آنے لگی۔ سبھی نے ناکوں پر رومال رکھ لیے تھے۔کسی نے بتایا کہ گیہوں کا گودام سڑ رہا ہے۔کسی نے کہا چینی کی مل ہے،سو اس کے لیے ہڈیاںپیسنے کے کارخانے سے ایسی بدبو آتی ہے۔ ایک دم لگتاتھا جیسے گندہ نالہ ٹوٹ گیا ہو۔ رات تھی، سو اَوس میں ڈوبی بتیوں کو چھوڑ کر دِکھا تو کچھ نہیں لیکن وہ دو منٹ وقتِ نزع کی دوزخی تکلیف جیسے لگے تھے۔ اب اس گھر میں چلتے پھرتے، اس ڈبے اور اس لمحے کی یاد آتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے گاڑی وہیں آ کر کھڑی ہو گئی ہے، کہیں کوئی سگنل نہیں دے رہا کہ کھسکے۔ پہلے تو لگتا تھا کہ بس اگلے پل ہی میری تو کنپٹیاں پھٹ جائیں گی سر دردسے۔ کیوں راجندر! کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک بار گھر کر جانے پر سردرد کبھی نہیں جاتا۔ کرانک (chronic)ہو جاتا ہے؟

اور نہ ہو سر درد کرانک، لیکن مجھے تویہ خیال بھی ناقابلِ برداشت لگتا ہے کہ ایک دن میری ناک کے سارے کیڑے مر جائیں گے اور مجھے کسی بھی طرح کی بو آنی بند ہو جائے گی۔۔۔ شاید اسے ہی یہ ’عادی ہونا‘ کہتے ہیں۔

تم بھی کیا کہو گے کہ اتنے دنوں بعد خط لکھنے بیٹھی اور یہ ’بدبونامہ‘ لکھ مارا۔ اچھا، چھوڑو اسے،بولو اور کیا بتاؤں۔۔۔؟اس بار سوچا تھا کہ تمھیں ایک نیا پلاٹ اور دوں گی۔ اپنے پڑوس میں مسٹر آئینگر ہیں، انہی کا قصہ ہے۔ پربس،سوچ کر ہی رہ جاتی ہوں۔ کبھی جی چاہتا تھا، تمھیں ساری باتیں لکھوں۔۔۔ اپنی باتیں، ان کی باتیں، گھرکی باتیں، پاس پڑوس کی باتیں۔ پر یہی سوچ کر رہ جاتی تھی کہ کہاں سے شروع کروں ؟ آج دل میں بھی بہت کچھ کہنے کو بھرا ہے اور کافی فرصت بھی ہے۔ اب دو بجے ہیں۔ پانچ بجے انگیٹھی جلانے کو اٹھنا ہو گا۔ پتھر کے کوئلوں کی انگیٹھی کو دہکتے دہکتے بھی تو آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ ان کے آنے تک چائے تیار ہو جاتی ہے۔ بس یوں ہی سارا دن کھسک جاتا ہے۔ لیٹے لیٹے، سوچتے سوچتے۔ کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہتا۔پہلے سوچا تھا کہ پڑوس میں آئینگر کی بیوی سے ہی دوستی کر لوں گی۔ کچھ تو وقت بیتے گا لیکن دو پہر کو ’’آ آ آ‘‘ کر کے وہ اپنا چھٹکے دار سنگیت سیکھتی رہتی ہے اور میں کتاب چھاتی پرکھلی چھوڑ کر دھول اَٹے روشن دان کو دیکھتی رہتی ہوں۔ جب سارا بدن پسینے سے تر بتر ہو جاتا ہے تو یاد آتا ہے کہ ہاتھ کا پنکھا یوں ہی ڈھیلا ہو کر جھک گیا ہے۔ عجب حالت ہے، اب گھر کی یاد بھی نہیں آتی۔جیجی کی دو چٹھیاں آئی پڑی ہیں، وہی آج کل، آج کل میں ہی مہینہ ہونے کو آیا۔ سچ راجندر! سب کچھ بڑافضول سا لگنے لگا ہے۔

یہ لکھتے ہی ہاتھ رک گیا ہے۔ تم کہانی کار ہو بھئی، جانے کیا کیا مطلب لینے لگو۔ اب اس بات سے ضرور سوچو گے کہ شاید مجھے ایسا کچھ نہیں ملا جس کی میں نے امیدیں کی تھیں، جس نوکر چاکروں سے بھرے گھر کے سپنے دیکھے تھے۔ تم کہو گے کہ ساری کاہلی اور بے معنویت کامفہوم اور کچھ نہیں ۔۔۔ مایوسی کا ہی ایک روپ ہے۔ شکستگیِ خواب کا ملال ہے۔ لیکن نہیں راجندر نہیں۔ میں جانتی ہوں، یہ بدبودار گھر، یہ بجلی نہ ہونے کی تکلیفیں، یہ مکھیوں کے منڈراتے چھتے، یہ گھٹن اور اکیلا پن زیادہ دن نہیں رہیں گے۔ دھیرے دھیرے سب کی عادت ہو جائے گی۔ شاید ہم لوگ ہی مکان بدل دیں گے۔۔۔ اور میں کیسے کہوں تم سے کہ ہمیں نیا مکان نہ ملے، ہم یہاں سے نہ جائیں،توبھی میں سب کچھ چپ چاپ سہہ لوں گی، سہہ سکوں گی،مجھے ایک سہارا تو ہو، کوئی تو تنکا ہو جسے۔۔۔

راجندر میں تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ ۔۔۔

ایک دن انھوں نے کہا تھا : ’’بیرو! تم چاہتی ہو کہ میں اپنے پرانے سارے تعلقات اور رشتوں کو صرف اس لیے چھوڑ دوں کہ تم سے شادی ہو گئی ہے۔‘‘

’’نہیں تو! ایسا تو میں نے کبھی نہیں کہا۔ کبھی نہیں چاہا۔‘‘میں چت لیٹی آنکھوں پر بانہہ رکھے رو رہی تھی، بانہہ ہٹا کر بولی۔

انھوں نے میری بانہہ پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا:’’ میرے ماں باپ ہیں، میرے بھائی بہن ہیں، سگے رشتے دار، یار دوست ہیں، ان سب سے تمھیں کوئی شکایت نہیں؟‘‘

’’لیکن ان سب رشتوں اور اس رشتے میں ۔۔۔میں کیا کروں میرا دل نہیں مانتا۔‘‘ میری آنکھوں سے پھر چھل چھل آنسو بہنے لگے جیسے بند ٹوٹ گیا ہو۔

’’دیکھو بیرو! تم سمجھدار ہو، پڑھی لکھی ہو۔ تھوڑی فراخ دل بن کر دیکھنے کی کوشش نہیں کرسکتیں؟ میرے دوسرے دوستوں کی طرح دپتی کو بھی ایک نہیں مان سکتیں؟‘‘

یہ چارپائی کی پٹی پر بیٹھے تھے۔ آنسوؤں سے دھندلی نگاہوں کے پار مجھے ان کا رنجیدہ چہرہ دکھائی دیا۔

’’لیکن دوست تو وہ سب نہیں لکھتے جو اس نے لکھا ہے؟‘‘ میں روتی رہی۔

’’مگر بیرو ! یہ تو میں نے کبھی نہیں چھپایا کہ دپتی میری بہت بے تکلف دوست ہے۔۔۔ تمھارے آنے سے پہلے کی۔ چاہو تو یہ کہہ سکتی ہو کہ میں نے اپنے ماضی کو تم سے چھپایا کیوں نہیں ؟ کیانہ چھپانے کی سزا یہ ہے کہ میں ماضی کو ہی کاٹ پھینکوں؟‘‘

’’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا حصہ پا رہی ہے۔‘‘

’’حصہ؟‘‘ انھوں نے دبی آواز میں پوچھا:’’تو ہر آدمی کو پیار یا محبت کا کوٹا ملا ہوا ہے اور اس میں سے ایک آدمی جب لیتا ہے تو دوسرے کا حصہ پاتاہے؟‘‘

’’یہ سب میں نہیں جانتی۔ لیکن میں تو تمھارا بلا شرکت غیرے اور بھرپور پیار چاہتی ہوں۔‘‘

’’وہی تو میں پوچھنا چاہتا تھا۔بلا شرکت غیرے اور بھرپور کا مطلب تو تمھارے لیے یہی ہوا نا کہ باقی سارے رشتے اور تعلق ختم کر ڈالے جائیں؟‘‘

’’یہ میں نے کب کہا؟‘‘ اور میں پھر روتی رہی۔

یہ اٹھ گئے۔ میں روتی رہی۔ صبح کی ڈاک سے آیا تھا ایک خط۔ سادہ سے لفافے میں، کاپی کے صفحوں پر جلدی جلدی میں لکھا ہوا۔ یہ آفس سے آ کر ہی بیٹھے تھے۔ سائیکل کے کلپ ابھی پتلون میں لگے تھے۔ کھڑے کھڑے خط پڑھا اور مسکراتے ہوئے گھوم کر کھڑکی کے پاس کا ایک چکر لگاآئے۔ میرے دونوں ہاتھوں میں دو کپ پلیٹ تھے، ایک ان کے اور ایک اپنے لیے۔ چائے نہ پھیلے، اس لیے ان پر نگاہیں ٹکائے رہی۔ پوچھا: ’’کس کا خط آیا ہے؟‘‘

مجھے لگا، یہ تھوڑا سٹپٹائے۔ پھر عام سے انداز میں ہاتھ کے پنکھے کو جلدی جلدی گھماتے ہوئے بولے:’’دپتی نے لکھا ہے۔ پوچھاہے کہ بیوی نے ایسا فرمان دے دیا ہے کہ جب سے وہ آئی ہے، کوئی خبرہی نہیں دی؟‘‘

میں نے چائے ان کے پھیلے ہاتھ پر رکھی اور کہا:’’اسے بلائیے تو سہی، ہم بھی تو دیکھیں ۔۔۔ دپتی۔ کیسی ہیں آپ کی دپتی جی۔‘‘

’’یوں دیکھنے میں بیوٹی نہیں ہے، لیکن سویٹ ہے۔‘‘ اوپر کو اُٹھے ہونٹوں کی طرف پیالہ بڑھا کر انھوں نے زور دار سڑاکا لیا۔لگا،جیسے اپنے کو مصروف کرلیا۔

’’دیکھ لوں، کیا ہے؟ ‘‘میں پاس کی چھوٹی سی بینت کی کرسی پر بیٹھ گئی اور چائے میں مکھیاں نہ گریں، اس لیے ہتھیلی کپ پر ڈھک دی۔ پلے سے گلے کا پسینہ پونچھ کر ہاتھ بڑھایا۔ دل تھا کہ جھپٹ کر چٹھی اٹھا لوں لیکن اپنے کومکمل لاتعلق دکھاتی رہی۔

سٹپٹا گئے ہوں، اس طرح انھوں نے ادھر ادھر مدد کے لیے دیکھا۔پھر جھجکتے ہوئے بڑے بے من سے ایک طرف رکھی ہوئی چٹھی اٹھا کر میری طرف بڑھا دی۔ خط میں نے پڑھا اور لوٹا دیا۔ چپ چاپ چائے پینے لگی۔ شاید بجھ گئی۔

’’کیوں؟‘‘انہو ں نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ میری سستی کو انھوں نے پکڑ لیا تھا۔

یہ کچھ نہیں بولے اور پلکیں جھپکے بغیر آنکھیں کھولے بڑ ے مشینی اندازسے چائے سڑکتے رہے۔دل کہیں اور تھا۔

اور رات کو جیسے ہی انھوں نے مجھے اپنی طرف کھینچا،میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ پہلے تو یہ ایک دم سکتے کی سی حالت میں رہ گئے۔ پوچھتے رہے:’’کیا بات ہے بیرو؟بیرو؟‘‘

میں کچھ نہیں بولی اور روتی رہی، اپنی بانہوں میں منہ چھپائے۔ جتنا ہی باہیں ہٹا کر یہ مجھے چپ کرانے کی کوشش کرتے، میں سرموڑ موڑ کر اور بھی روتی جاتی۔ ہار کر انھوں نے بہت ہی پریشان انداز سے کہا:’’تم بتاؤ گی نہیں تو میں جانوں گا کیسے،بیرو؟‘‘

میں نے اوندھے لیٹ کر ان کی چھاتی سے ماتھا سٹا کر کہا:’’ میرا یہاں دل نہیں لگتا۔۔۔ گھر کی یاد آ رہی ہے۔۔۔ ہمیں گھر چھوڑ آؤ۔‘‘

’’کیوں بھئی؟ اچانک یہ گھر کی یاد؟ کوئی بات ہو گئی؟کوئی خط آیا گھرسے ؟ ایسی کو ئی بات ہے تو مجھے بتاؤ نا۔‘‘ مجھے اور بھی روتے دیکھ کر سمجھاتے ہوئے کہا:’’گھر ہی جانا ہے تو صبح باتیں کریں گے۔اب آدھی رات میں گھر کی یاد؟ کتنی بار ہم نے تم سے کہا کہ پاس پڑوس میں کسی سے دوستی کر لو،لائبریری کی ممبر بن جاؤ یا بازار جا کر کچھ کتابیں خرید لایا کرو۔۔۔‘‘

میں نے کچھ جواب نہیں دیا اورروتی رہی۔ پھر اچانک پوچھا:’’دپتی تمھاری کیا لگتی ہے؟‘‘

پہلے تو انھوں نے مجھے غور سے دیکھا، جیسے پہچانتے ہی نہ ہوں۔ پھرزور سے ہنس پڑے: ’’پاگل ۔۔۔ بیوقوف۔‘ ‘

اس بار میرے لہجے میں سختی آ گئی۔ ان کے چہرے کو بے جھجک دیکھتے ہوئے پھرکہا:’’ہنس کر بہکاؤ مت، مجھے بتاؤ نا، دپتی تمھاری کیا لگتی ہے؟‘‘

’’لگے گی کیا؟‘‘ اس بار بات جان لینے کے اطمینان سے یہ چٹ لیٹ گئے اور اوپر دیکھتے ہوئے بولے:’’دوست ہے۔۔۔ فرینڈ۔‘‘
’’تو پھر مجھے کیوں لائے؟‘‘
’’کیوں ؟ ‘‘انھوں نے ضرورت سے زیادہ حیرانی سے پوچھا:’’تم ۔۔۔ تم ہو۔ کوئی بھی اَور اس جگہ کا حق دار کہاں سے ہو گا۔‘‘
’’تمھارے اور کتنے دوست ڈارلنگ سے چٹھیاں شروع کرتے ہیں؟‘‘ اب ان کے اس انجان بننے کی اداکاری پر مجھے غصہ آنے لگا۔
’’میرا خیال ہے بیرو!رشتوں کی گہرائی یا اتھلے پن کو ان لفظوں سے نہیں تولا جا سکتا۔ لفظوں کے استعمال کا اختیار تو سبھی کو ہے۔ کوئی مجھے ہر تیسرے جملے میں ڈارلنگ نہ بھی لکھے تب بھی اسے جی جان سے پیار کر سکتا ہوں اور کسی کو پیارے دوست لکھ کر بھی اس سے نفرت کر سکتا ہوں۔‘‘
’’تم مجھے لفظوں میں بہلا رہے ہو۔‘‘میں نے بات کاٹ دی۔
اس بار شاید انھیں بھی طیش آ گیا۔ کڑے انداز میں پوچھا:’’آخر تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘
ان کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے دھیرے سے کہا:’’کچھ نہیں۔‘‘ اور دوسری طرف کروٹ بدل کر لیٹ گئی:’’مجھے کچھ نہیں کہنا۔‘‘
اس رات نہ ہم دونوں میں سے کوئی کچھ بولا،،نہ رات بھر سویا۔

دو تین دن ہم لوگوں میں بڑا تناؤ چلتارہا۔ بنا کچھ بولے ہم لوگ ساتھ ساتھ کھانا کھا لیتے، سو لیتے۔میرے اندر ہمیشہ جیسے ایک گُھن کھرر کھرر کرتا اپنے آرے جیسے دانتوں سے کھایا کرتا۔ نہ ہنسنے کی طبیعت ہوتی، نہ بولنے کی۔ تیسرے ر وز شاید ہفتہ تھا۔ آفس سے آتے ہی انھوں نے کہا:’’چلو بیرو! آج ٹکٹ لے آ یا ہوں، سینما دیکھ آئیں۔‘‘

کاہلی اور بجھی ہوئی آوازسےمَیں نے کہا:’’چلیے۔‘‘
ان کے چہرے پر مجھے ایسا انداز دِکھا جیسے ابھی یہ ٹکٹ نکال کر پھاڑ دیں گے لیکن انھوں نے اپنے پر قابو کر لیا۔ پیار سے کندھا پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا: ’’بیرو! یہ سب کیاہے آخر؟ تین دن ہو گئے، نہ تو تم مجھ سے بولتی ہو، نہ باتیں کرتی ہو؟‘‘

’’بول تو رہی ہوں۔‘‘ آنکھیں اَن چاہے بھر ہی آئیں، پلکیں جھکائے کہا۔
’’یہ بولنا ہوا؟‘‘یہ یوں ہی میرا منہ دیکھتے رہے:’’سارا چہرہ پیلا پڑ گیا ہے۔ سچ مچ۔ تم اس طرح کا رویہ اپناؤ گی تو کیسے چلے گا آگے؟ آخر تم نے بی اے کیا ہے، بڑے شہروں میں رہی ہو، تمھارے ساتھ بھی لڑکے پڑھے ہیں، پھریہ سب۔۔۔‘‘
’’کیا یہ سب۔۔۔؟‘‘ اس بار میں نے انجان بن کر پوچھا۔
’’تم سمجھتی ہو، یہ سب میں سمجھتا نہیں ہوں؟‘‘انھوں نے دلار بھرے انداز میں کہا:’’بھائی! دپتی میری دوست ہے۔ میری کلاس فیلو ہے۔ بس ذرا سی بے تکلف ہے۔ ایک خط میں جب تمھارا یہ حال ہے تو اگر تم کہیں اسے میرے کندھے پرہاتھ مار کر کہیں یہ کہتے دیکھ لو کہ یار چلو، آج تو کہیں کافی پی آئیں، تب تو شاید تم غدر ہی کر دو۔۔۔‘‘ان کی بات ادھوری رہ گئی۔

میں نے کچھ نہیں کہا۔آنکھوں میں اٹکے آنسو دھاری بنا کر ڈھلک آئے۔ امڈ کر گلے میں آ اٹکا گولہ سٹکا اور دانتوں سے ہونٹ چبا کر دھیرے سے بولی:’’اب عادت پڑ جائے گی۔بڑے شہر میں آئی ہوں نا، تو نیا نیا لگتا ہے۔‘‘

’’یعنی اپنے سب دوستوں اور جاننے والوں کو لکھ دوں کہ جب تک بیوی کو عادت نہ پڑے، وہ مجھے کچھ نہ لکھیں۔‘‘انھوں نے ایک ٹک مجھے دیکھتے، جیسے مجھے پڑھتے ہوئے بڑی تکلیف بھری آواز میں کہا۔

’’انھیں کیوں لکھو گے، میں ہی اپنے خیالات بدلوں گی۔شروع شروع میں تو برا لگتا ہی ہے۔‘‘ میں کندھے پر گردن گھما کرروتی رہی اور چھڑانے کی کوشش میں بانہہ سے ان کی انگلیاں ہٹاتی رہی۔

یہ کچھ دیر مجھ پر یوں ہی نگاہیں ٹکائے رہے، پھر گہری سانس لے کر بانہہ چھوڑ دی:’’سچ مچ تم جان بوجھ کر الجھنیں پید اکر رہی ہو، بیرو! میرا کون دوست مجھے کیا کہہ کر پکارے، یا کیا مخاطب کر کے لکھے، یہ اختیا ر کیا میرے ہی پاس نہیں رہنے دو گی؟‘‘

’’میں تو آپ سے کوئی بھی اختیار نہیں چاہتی۔‘‘اور اندر جا کر خوب خوب روتی رہی۔ دیر تک یہ مجھے سمجھاتے رہے۔ اور تم سے سچ کہتی ہوں راجندر !مجھے اس وقت خود اپنے اوپر اچنبھا ہوا کہ ایسی بھی یہ کیا سنجیدہ بات ہے جس پر میں یوں مری جارہی ہوں؟ اس لمحے مجھے وہ بات نہایت ہی کمینی اورنیچ لگی۔

اپنی بے وقوفی پر دکھ بھی ہوا، سوچا، سینما جانے سے دل ہی بہلے گا۔ تین گھنٹے اپنے سے الگ سینما میں الجھ کر ہو سکتا ہے، فکر کی اس جونک کو پھرجھٹک کر پھینک ہی دوں۔

لیکن سینما کے شروع میں ہی جو موڈ خراب ہوا تو آخر تک چلتا رہا۔ اشتہار چل رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے صابن کی خوبیاں بتاتی ایک لڑکی کو دیکھ کر یہ بولے:’’مسکراتے وقت اس لڑکی کے گال بالکل دپتی کے گالوں جیسے لگتے ہیں۔‘‘ میں کچھ نہیں بولی لیکن لگا بوجھ تو دل پر جیوں کا تیوں رکھا ہے۔تم جھوٹ مانو گے راجندر! مجھے بالکل ایسا لگا جیسے ایک لمبا سا کنکھجورا اپنے زہریلے پنجے گڑائے میرے دل پر یہاں سے وہاں تک جما بیٹھا ہے اور ذرا ذرا سی دیرمیں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے وہ اپنے پنجے گڑاتا ہے تو درد سے چھاتی کسک اٹھتی ہے۔ سینما کے پردے پر کیا ہو رہا ہے، یہ میں نے نہیں دیکھا اوردل کو پھسلا کر جب جب دیکھنے کی کوشش کرتی ہر بار خیال آ جاتا کہ کیسے سینما دیکھ پارہی ہوں، کیسے اسے بھولی ہوئی ہوں؟ میں نے کہنی گودی میں ٹکا کر اس پر اپنا سر ٹیک لیا۔ انھوں نے پیار سے پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا:’’کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں،آنکھوں کے آگے دھندلا دھندلا لگ رہا ہے۔‘‘
’’کچھ کھانے پینے کی چیز لے آؤں ؟‘‘
’’نہیں،ٹھیک ہے۔ ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کسی چیز کوزیادہ غور سے دیکھنے سے ہو جاتا ہے۔‘‘

یوں محسوس ہوا، اس بار یہ سمجھ گئے۔مطمئن انداز سے ناک اوپر اٹھائے دھیان سے سینما دیکھتے رہے جیسے انھوں نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ نہیں مانتی تو پھر مرو۔ میں تمھیں آخر کتنا سمجھاؤں۔ رہ رہ کر مجھے خود تعجب ہوتا کہ جانتے بوجھتے یہ سب میں کیا کیے جارہی ہوں، اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا اور انھوں نے نہ تو میری طبیعت کا حال پوچھا نہ انٹرول میں چائے پان ہی منگایا۔ خود اپنے کسی شناسا کے ساتھ باہر چلے گئے اور اندھیرا ہوتے ہی اندر آ بیٹھے۔
اور ساتھ لیٹنے، کھانے اور رسمی باتوں کی روایت پھر چلتی رہی۔

مجھے دو تین دن بعد اچانک احساس ہواکہ نہ تو مجھے باقی خط کا مضمون تکلیف دیتا تھا، نہ ان کا کٹا کٹا روکھا برتاؤ۔ بلکہ ہر پل یہ ڈستی سچائی گڑے کانٹے سی کسک دیتی تھی کہ کوئی ہے جو میرے حصے کی ساجھے دار ہے۔ اس احساس کے ساتھ ہی رونا امڈ پڑتا۔ بستر پر لیٹتی تو سونے اور جاگنے کے بیچ ایک عجیب سی حالت چلتی رہتی جیسے صبح سفر کو چلنے والوں کو رات کو سوتے وقت محسوس ہوتی رہتی ہے۔جانے کیا ہوا کہ تیسری رات میں سوتے سوتے اچانک چیخ کر جاگی تو دیکھا، ارے میں رو رہی ہوں۔ یہ چپ چاپ سورہے تھے۔ جانے دل میں کیا آیا کہ ان کی چھاتی سے ماتھا ٹھوک ٹھوک کر روتی رہی، ’مجھے یوں مت مارو۔‘یہ ہڑ بڑا کر جاگ اٹھے اور دیر تک سمجھاتے رہے ۔۔۔’تمھیں کیا ہو گیا ہے بیرو؟ تمھیں کون ماررہاہے؟ بتاؤ، میں کیا کرو ں کہ تمھاری تکلیف کم ہو؟تمھیں یو ں گھلتے ہوئے مجھ سے نہیں دیکھا جاتا‘ یہ بھی دیر تک روتے رہے، ’ہمیشہ یہ تناو بھری حالت۔۔۔ہمیشہ کی یہ دوری، ہمیشہ یہ سخت تیوری ۔۔۔ بیرو مجھے تم صاف صاف کہو نا کہ میں کیا کروں؟‘

جو میں چاہتی تھی، وہ مجھ سے کہتے نہیں بنتا تھا۔ شاید میں جانتی بھی نہیں تھی کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ کوشش کر کے بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مجھے ان سے شکایت کیا ہے اورتب اچانک یہ دیکھ کر مجھے خود بڑا تعجب ہوا کہ دھیرے دھیرے میں دکھ کی وجہ بھول چکی ہوں یااس سے اتنی دور آ گئی ہوں کہ وہ وجہ اتنے بڑے دکھ کے لیے ناکافی لگتی ہے۔ بس، میں دکھی رہوں، یہ ایک عادت بن گئی ہے۔ اب انتہائی دکھ کے موقع پراُن کا یہ کٹا کٹا برتاؤ، یہ روکھا رویہ مجھے کھانے لگتا تھا۔ دل ہی دل میں بولی ’ایسے باتیں کر رہے ہیں، جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔ جیسے انھیں پتا ہی نہیں کہ ایک دپتی ہے جو میری سوت ہے۔‘

’سوت‘ لفظ مجھے خود بھاری ہتھوڑے کی چوٹ سا لگا۔ لگا نہایت ہی نکمی اور بیکار بات کو میں بڑا بھاری لفظ دے رہی ہوں، اتنا بھاری کہ اس کے معنی اوربوجھ دونوں ہی مجھ سے نہیں سہے جا رہے۔

’’دیکھو بیرو!‘‘یہ پیار سے میرا کندھا تھپتھپا کر کہہ رہے تھے:’’کسی بھی شناسا لڑکی کو اپنا دشمن مان کرایک خاص طرح کا دکھ اٹھانا یا دوسروں کو دکھ اور تناؤ میں رکھنا اگر ایک ایسی رسم ہے جس کانبھانا بہت ہی ضروری ہے، تب تو مجھے کچھ بھی نہیں کہنا۔ تم جی بھر کر جب تک چاہو، اس روایت کی پاسداری کرو لیکن ذراخود سوچ کر دیکھو،کیا سچ مچ یہ وجہ اتنی بڑی ہے کہ یوں دنیا سرپر اٹھا لی جائے؟‘‘

اور یقین جانو راجندر ! مجھے یہ سب اپنے دماغ کا فتور لگا۔

اس سے اگلے یا پھر اور بھی اگلے دن کی بات ہے، اس بیچ سب کچھ فطری سا لگنے لگا تھا اور ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر اکثر ہی مسکرایا کرتے تھے۔ان مسکراہٹوں کے ساتھ ہی مجھے لگتا کہ اور بھی نزدیک آنے کے لیے شاید یوں کبھی کبھی لڑنا بہت ہی ضروری ہے۔میں آگے سے آگے ان کا کام تیار کر رکھتی لیکن اسی لمحے یہ بھی لگتا کہ یہ پیار کا فطری انداز نہیں ہے،جیسے اتنے دنوں کی اپنی غلطی کو ہم دونوں ہی ضرورت سے زیادہ پیار کے دکھاوے سے دھو پونچھنا چاہتے ہیں۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ انھوں نے غسل خانے سے چلا کر کہا:’’بہت دیر ہو گئی بیرو! اس سفید والی پتلون میں بکسوے لگا دو، جلدی سے۔‘‘ پتلون نکال کر میں بکسوے کھوجتی رہی، پوچھا: ’’کہاں ہیں بکسوے؟ ہمیں تو کہیں نہیں مل رہے۔ ‘‘ تو بولے:’’پرانی گندی والی پتلون میں سے نکال لو نا۔۔۔ بہت لیٹ ہو گیا۔‘‘میں نے پرانی پتلون میں سے بکسوے نکال کر لگائے۔سوچا،ویسے ہی انھیں دیر ہو گی، سو جیب سے پرانا گندا سا رومال نکال کر دھونے کے لیے ڈالا اور کاغذ دُھلی پتلون کی جیب میں رکھنے لگی۔ تبھی کاغذوں میں ایک مڑے تڑے لفافے کو دیکھ کر ہاتھ ٹھٹک گیا۔ جانے کیوں، لگا جیسے اس میں سب کچھ ہے۔۔۔ کھولا تو پھر وہی ’ڈارلنگ‘‘ لفظ سامنے تھا۔ ایک بار پھر پتا دیکھا۔ اوہ ۔۔۔ تو اب آفس کے پتے پر چٹھیاں آنے لگیں اور اچانک مجھے لگا کہ جس درد کو میں بھولی ہوئی تھی، وہ بھک بھکا کر جل اٹھا۔ کیسے بھول سکی میں اس درد کو۔

سب کچھ جیوں کا تیوں رکھ دیا لیکن جیسے ہی یہ آفس گئے کہ میں دھم سے چارپائی پر گر پڑی اور جب ہوش آیا تو پایا کہ میں اس طرح رو رہی ہوں جیسے یا تو مجھے کسی نے مارا ہو یا میرے گھر سے کسی کی موت کی خبر آئی ہو۔’ تو انھوں نے آفس کے پتے پر خط منگایا۔ اسے لکھا ہو گا کہ بیرو لڑتی ہے۔ کیا سوچا ہو گا اس نے کہ ابھی آ ئے مہینہ نہیں گزرا اوربیوی نے لڑنا بھی شروع کر دیا۔پتا نہیں میرے خلاف اور بھی کیا کیا لکھا ہو گا۔ خوب خوب شکایتیں لکھی ہو ں گی کہ دن بھر منہ پھلائے رہتی ہے۔۔۔ ہر وقت لڑتی ہے۔ اسے قطعی پسند نہیں کہ تم مجھے خط لکھو، اس لیے آفس کے پتے پر لکھا کرو۔‘ مجھے ہر بار لگتا تھا راجندر کہ دیکھو انھوں نے سب کچھ اوپر ہی اوپر کر لیا اور مجھے ہوا تک نہیں لگنے دی۔

اس دن نہ تو میں نہائی، نہ کچھ کھایا۔ پہلے خط کا آنا مجھے ایسا لگتا تھا، جیسے بھری محفل میں کسی نے مجھے تھپڑ مارا ہو، وہ میری تمناؤں کی، میرے وجود کی اور میرے مرتبے کی تحقیر تھی اور یہ میرے ساتھ دھوکا ہے،دھوکا ۔۔۔دھوکا۔راجندر، سچ کہتی ہوں، یہ لفظ اس ساری کیفیت کے لیے مجھے اتنا بامعنی، خوبصورت اورجامع لگا کہ مجھے خود دھکا لگا۔۔۔ تو شروع سے ہی میرے ساتھ دھوکا کیا جاتا رہا۔ میں نے اسے سمجھا اب ہے، اس لفظ کے ذریعے سے۔ اگر انھیں اس سے پیار تھا تو مجھے لانے کی ضرورت ہی کیاتھی؟ماں باپ کو منع نہیں کر سکتے تھے؟ ٹھیک ہے، بابو جی نے شادی کی جلدی مچائی تھی لیکن کس لڑکی کے گھر والے جلدی نہیں مچاتے؟ اگر اس بات کا کسی بھی طرح یہ اشارہ بھی کرا دیتے تو اماں، بابو جی چاہے بی اے کے بعد پڑھنے دیتے یا نہ پڑھنے دیتے، میں یہاں تو شادی نہیں کرتی۔ اس کالے کلوٹے تھانے دار کے ساتھ چلی جاتی۔ کم سے کم یہ سب تو ۔۔۔میں آج ہی چلی جاؤں گی۔ رہیں یہ اور ان کی دپتی جی۔
وہ شام آنے تک کا وقت میں نے کیسے چھٹ پٹ چھٹ پٹ کر کے کاٹا ہے، میں ہی جانتی ہوں۔

یہ آکر بیٹھے۔سائیکل کے کلپ نکالے اور پنکھا کرتے رہے۔ میں نے بہت فطری ضبط کے ساتھ چائے لا کر دی۔ اور جب پسینہ سوکھ گیا تو نہایت ہی تند آواز میں پوچھا:’’بتاؤ، تم نے میرے ساتھ دھوکا کیوں کیا؟‘‘
’’دھوکا؟‘‘یہ اچ کچا اٹھے۔

’’ہاں، ہاں، بنو مت، دھوکا ہی تو کیا۔شروع سے تم میرے ساتھ دھوکا ہی کرتے آ رہے ہو۔ میں کیا سمجھتی نہیں ہوں؟‘‘ اس دھوکا لفظ کو بار بار دہرا کر جیسے میں اپنی بات کومؤثربنا دیناچاہتی تھی۔

’’کون سا دھوکا ؟ کیسا دھوکا؟ ‘‘اس بار لگا یہ سمجھ گئے لیکن انجان بنے رہے۔

میں نے بناوٹی نرم سختی سے کہا:’’دیکھو مجھے بناؤ مت۔۔۔ ایسا ہی ہے تو تم اپنی دپتی کو یہاں لے آؤ۔ جہاں میرا دل ہو، مجھے جانے دو۔ کم سے کم اس سب سے پیچھا چھوٹے گا کہ تم مجھے دھوکا دو، اپنے کو دھوکا دو اور اسے جھوٹ موٹ لکھو۔ اس بے چاری کو کبھی آفس کا پتا دو، کبھی گھر کا۔‘‘میں نے یہ ساری باتیں کچھ ایسی سنجیدگی سے کہیں جیسے یہ باتیں مصدقہ حقائق اور طے شدہ ہیں۔ من ہی من بولی۔’جیسے بھی ہو گا، میں بی ٹی کر لوں گی۔‘

اس بار انھوں نے مسکرا کر (میں سمجھتی ہوں نقلی مسکراہٹ کے ساتھ ) کہا:’’اوہ۔۔۔ تو وہ بات ہے۔ بھائی اگر وہ یہاں لکھے تو تم ناراض ہوتی ہو۔ خود تم پریشان ہوتی ہو اور مجھے پریشان رکھتی ہو۔ یہی سوچ کر میں نے لکھ دیا کہ خط آفس کے پتے پر بھیج دیا کرو۔ ا س میں دھوکے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ چونکہ تم میری بیوی بن کے آئی ہو، اس لیے اپنے سارے پہلے کے دوستوں، جاننے والوں یابے تکلف شناساؤں سے تعلق توڑ لوں، نہیں تو وہ دھوکا ہو گا۔ یہ بات، بیرو! نہ تو میری سمجھ میں تب آئی تھی اور نہ اب آتی ہے۔‘‘

’’اور میری سمجھ میں عورت آدمی کی دوستی کا یہ مطلب نہیں آتا جس میں ڈارلنگ وغیرہ لکھا جائے۔‘‘ میں نے بھی اتنی تیزی سے کہا۔

’’یعنی عورت آدمی کی دوستی کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘

’’تب ٹھیک ہے اور مجھے کچھ بھی نہیں کہنا ہے۔ جو تمھاری سمجھ میں آئے سوکرو۔‘‘اس بارانھوں نے سخت لہجے میں کہا اور کپڑے بدلنے اندر چلے گئے۔ میں جیوں کی تیوں بیٹھی رہی۔ جب یہ باہر نکلے تو ہاتھ میں پیتل کی چھوٹی سی بالٹی تھی۔ بنا کچھ بولے یہ دودھ لینے چلے گئے اور تب ایک دم مجھے لگا جیسے میں اچانک ہی ٹوٹ گئی ہوں۔ جیسے آج مجھے واضح لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ کوئی اور ہے جو مجھ سے بڑی ہے، اس لیے مجھے یہاں چھوٹی بن کر ہی رہنا پڑے گا۔

جھٹکے سے اٹھی اور بنا کچھ بولے، بنا روئے اندر ہی چارپائی پراوندھی جا لیٹی۔ پٹی پر تین چار بار ماتھا زور سے کوٹا۔ نہ درد محسوس ہو تا تھا، نہ رونا آتا تھا۔(شاید سینما کے پردے پہ ہوتی تو جھٹکے سے ماتھے کا سندور پونچھتی اور بانسری بجاتی بھگوان کی مورتی کے سامنے جا کر رونے لگتی یا ایک گانا گاتی ہوئی سمندر پر جھولتی ہوئی چٹان سے چھلانگ لگانے کا انداز بنائے کھڑی رہتی کہ گانا پورا ہو تو کودجاؤں)۔

مرنے کی بات تو نہیں لیکن اپنی زندگی کی کم مائیگی کی بات کو لے کر ان دنوں راجندر، میں نے کیا کیا نہیں سوچا۔میری زندگی کے معنی کیا ہیں؟کیوں جیوں؟ کبھی میں دیکھتی، وہ آئی ہے۔ یہ لوگ مجھے چھوڑ کر اکیلے سینما دیکھنے چلے جاتے ہیں۔۔۔ گھومنے صبح کے نکلے ہیں اور رات بارہ بجے تک آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔۔۔ صبح دپتی تو یہ کہہ کر جاتی ہے کہ مجھے دلی میں اپنے کسی رشتے دار سے ملنا ہے اور یہ آفس کے بہانے نکل جاتے ہیں اور باہر جا کر ملتے ہیں۔۔۔ میں یہاں اکیلی پڑی پڑی گھٹ رہی ہوں، رو رہی ہوں۔۔۔ یا دیکھتی کہ یہ لوگ اندر والے کمرے میں ہیں، اندر سے کواڑ بند کر لیے جاتے ہیں، ہنسنے کھلکھلانے کی آوازیں آ رہی ہیں اور باہر کھردری چارپائی پر لیٹی میں یا تو پلو منہ میں ٹھونسے رو رہی ہوں یا چوکے میں ان کے لیے روٹیاں ٹھوک رہی ہوں۔ ٹپا ٹپ آنسو گالوں سے ڈھلکتے چلے جاتے ہیں، کہانی یاد آتی ہے، راجہ نے رانی کو گندی سی ساڑھی دی اور کاگ اڑانے والی بنا کر چھت پر بٹھا دیا۔میں دیکھ رہی ہوں کہ اسے ڈبے کی ڈبے کی ساڑھیاں دلائی جارہی ہیں۔۔۔ اسے ٹیکسیوں میں گھمایا جا رہاہے۔۔۔ سکوٹر میں دونوں ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے بیٹھے ہیں۔ کم تنخواہ اور پیسوں کا رونا تو میرے ہی لیے ہے۔ اب کہاں سے دنادن نکلا چلا آ رہا ہے۔ اسے تکلیف نہ ہو، اس لیے بجلی آ گئی ہے۔ پنکھا ریڈیوسبھی آ گئے ہیں۔ اس پل میں نے اپنے کو لاکھ لاکھ شاباش دی کہ کوئی بچہ نہیں ہے ورنہ ماں کے ساتھ سوتیلی ماں کے ہاتھوں اس بے چارے کی بھی جانے کیسی درگت ہوتی۔ کڑکتی رات میں بیٹھا برتن مانجھ رہا ہوتا۔

ہوش آیا تو اپنے اس سوچنے پر جھنجھلاہٹ ہوتی کہ ہر بات کو سوچتے سوچتے انتہا پر پہنچا دینے کی میری عادت آخر کب چھٹے گی؟ اس سارے حصے میں بجلی ہی نہیں ہے جو یہ اپنی اس پدمنی کواتنا کچھ منگوا دیں گے۔

لیکن اچانک ایک بات کی طرف میرا دھیان گیاتو اپنی یہ ساری شکایتیں بے وجہ نہیں لگیں۔ اتنی لڑائیاں ہوئیں،اتنا سب کچھ کہا سناگیا لیکن ایک بار بھی انھوں نے کبھی نہ تو دپتی کا خط دکھانے کی خواہش ظاہر کی اور نہ یہ کہا کہ میں اسے نہیں لکھوں گا۔ اس بات سے میرا یقین اور بھی پکا ہو گیا کہ یہ صرف مجھے دھوکا دے رہے ہیں۔ کب تک چلے گا اس طرح؟کب تک میں ایک بن بلائے گلے پڑے شخص کی طرح رہوں گی۔کیوں نہیں میں اپنے کو سمیٹ لیتی؟

راجندر یہ بات اب میری نس نس میں سما گئی ہے، میں اسے کسی بھی طرح نہیں نکال پا رہی ہوں کہ میں یہاں کسی کی جگہ ہوں، میں نہیں اس گھر کی اصلی مالکن تو کوئی اور ہے۔ یہ کچھ بھی سوچتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ دپتی کی ہی بات سوچ رہے ہیں۔ کھانا کھاتے لگتا کہ ان کے دماغ میں یہی بات ہے کہ اگر میں یہاں نہ ہوتی تو یہاں دپتی ہوتی۔ کپڑے پہنتے وقت، رات کو سوتے وقت مجھے ایک جھٹکے سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں دپتی کی جگہ سو رہی ہوں، جیسے میں دپتی کے کپڑے پہن رہی ہوں۔ کبھی کبھی یہ کوئی بات کہتے کہتے میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ نہیں، یہ مجھے نہیں میرے پار دپتی کے چہرے کو دیکھ رہے ہیں، یا انھیں وہ لمحہ یاد آرہا ہے جب ایسے ہی انھوں نے کبھی دپتی کو دیکھا ہو گا۔ حالت یہاں تک آ گئی ہے راجندر کہ میں شیشے میںچہرہ دیکھتی ہوں تو مجھے اچانک لگتا ہے کہ مان لو، میں یہاں نہ ہوتی تو اس لمحے دپتی ہی یہ چہرہ دیکھ رہی ہوتی۔

دپتی کی جگہ اپنے ہونے کا یہ خیال اب میرے من میں اتنا گہرا اتر گیا ہے کہ لگنے لگا ہے کہ وہ میرا حصہ نہیں، میں ہی اس کا حصہ کھا رہی ہوں، گناہگار وہ نہیں، میں ہوں۔ یہ جو پرایا پرایا سا محسوس کرتے ہیں، اس کے پیچھے میں ہوں۔ ان میں اور مجھ میں دوری ہے۔ (جیسے میں بیرو نہیں کوئی اور ہوں)اس کی صرف میں ہی ایک وجہ ہوں۔ یہ مکھیاں، یہ گھٹن، یہ بدبو میری ہی وجہ سے ہے۔ اگر ’’میں ‘‘،’’وہ ‘‘ہوتی تو سبھی کچھ کتنا صاف ستھرا ہوتا۔ تب’’ ہم لوگ‘‘ یوں ایک دم بیگانوں اور اجنبیوں کی طرح تھوڑے ہی رہتے۔

اور اس کھچاوٹ اور دوری کے تناؤ بھرے ماحول میں کل جو ایک بات ہو گئی۔ اسے تمھیں بتانا ضروری ہے۔ یوں بات بہت معمولی ہے لیکن ایک طرف تو میری سمجھ میں اس کا مطلب نہیں آرہا، دوسری طرف ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس ساری کیفیت کو ایک با معنی نام دیتی ہے۔

یہ آفس سے آئے ہی تھے اور بازو اوپر اٹھا ئے قمیض کو الٹ کر اتار رہے تھے۔ بولے:’’آج شاید ہوا ادھر کی ہی ہے۔بڑی بدبو آ رہی ہے۔ کیسے رہتی ہو گی تم سارے دن؟‘‘

’’کیا کریں؟ ہمیں تو رہنا یہیں ہے۔‘‘ کہنے کو تو کہہ دیا، لیکن سوچا، وہ تو ہم ہیں، سو ڈال رکھا ہے۔ ہوتی کہیں اگر وہ آپ کی وہ دپتی جی، تو دوسرے دن ہی گھر بدل لیا ہوتا۔ مجھے اچانک لگا جیسے بو کا ایک جھونکا ادھر سے گزر گیا ہو۔

’’یہ بدبو بھی بڑی عجیب سی ہے۔ بڑی سڑی سڑی سی ہے۔‘‘وہ ناک سکوڑ کر بولے۔

میں نے سادگی سے کہا:’’یہ تو ہمیشہ ہی آتی رہتی ہے۔ ہمیں تو عادت ہوتی جا رہی ہے لیکن۔۔۔پہلے تو سہا نہیں جاتا تھا لیکن یہ بو بڑی ہی عجیب سی ہے۔ ہے نا؟ جیسے کوئی مر گیا ہو۔‘‘

’’کون؟‘‘ وہ غیر فطری انداز میں چونک کر بولے۔

ان کی غور سے دیکھتی نگاہیں اپنے چہرے پر محسوس کر کے مجھے لگا کوئی نہایت نازیبا بات کہہ دی ہو۔’’جیسے ۔۔۔ جیسے صندوق کے پیچھے کبھی چوہا مر جاتا ہے تو بد بو آتی ہی رہتی ہے نا، ویسی ہی سڑاند ہے۔‘‘

وہ پیٹ تک بنیان اٹھائے، پنکھا گھماتے دوسری طرف چلے گئے اور میں انھیں ایسے دیکھتی رہی جیسے میری اس شخص سے کبھی کوئی شناسائی نہیں رہی ہے۔ آج جو خط آیا ہے، وہ ضرور ان کی جیب میں رکھا ہو گا۔ لیکن نہ تو اس سے میرا مستقبل بندھا ہے اور نہ حال۔ اورمیں نے کسی ماضی میں اپنی من چاہی زندگی کے سپنے نہیں سجائے۔

اچھا بتاؤ تو! اس تجربے کو تم کیا معنی دینا چاہو گے؟
اب بس کرتی ہوں، باقی اگلے خط میں لکھوں گی۔

نیک خواہشات!
بیرو

Categories
فکشن

کنجڑا، قصائی

[blockquote style=”3″]

یہ افسانہ اس سے قبل سہ ماہی تسطیر کے اگست 2017 کے ایڈیشن میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

[/blockquote]
تحریر: انور سہیل
انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے جو لے رکھا ہے۔” محمد لطیف قریشی عرف ایم ایل قریشی بہت دھیرے بولا کرتے۔ مگر جب کبھی بولتے بھی تو کفن پھاڑ کر بولتے۔ ایسے کہ سامنے والا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔

زلیخا نے گھور کر ان کو دیکھا۔ ہر کڑوی بات اگلنے سے پہلے ،اس کے شوہر لطیف صاحب کا چہرہ تن جاتا ہے۔ دکھ تکلیف یا خوشی کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔ آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور زلیخا اپنے لئے ڈھال تلاش کرنے لگ جاتی ہے۔ وہ جان جاتی ہے کہ میاں کی جلی کٹی باتوں کے تیر چلنے والے ہیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کا چہرہ اب پرسکون ہوگیا تھا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ تیر چلا کر، مخالف کو زخمی کر کے ،وہ مطمئن ہو گئے ہیں۔
زلیخا چڑ گئی۔ “سیدوں کو کاہے درمیان میں گھسیٹ رہے ہیں، ہمارے یاں ذات برادری پر یقین نہیں کیا جاتا۔ “

لطیف قریشی نے اگلا تیر نشانے پر پھینکا ۔ “جب ذات پات پر یقین نہیں، تو تمہارے ابوامی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے بہو تلاش کرنے کے لئے، اپنی برادری میں صوبہ بہار کیوں بھاگے پھر رہے ہیں؟ کیا اِدھر کی لڑکیاں بے شعور ہوتی ہیں یا اِدھرکی لڑکیوں کا ہڈی،خون، تہذیب بدل گئی ہے؟ “

زلیخا صفائی دینے لگی ہے ۔”وہ بہار سے بہو کاہے لائیں گے، جب پتہ ہی ہے آپ کو، تو کاہے طعنہ مارتے ہیں۔ ارے ۔۔۔ مما، ننّا اور چچا لوگوں کا دباؤ بھی تو ہے کہ بہو بہار سے لے جانا ہے۔ “

“واہ بھئی واہ، خوب کہی۔ لڑکے بیاہنا ہے تو مما، چچا کا دباؤ پڑ رہا ہے، شادی خاندان میں کرنی ہے۔ اگر لڑکی کی شادی نپٹانی ہو تو نوکری والا لڑکاکھوجو۔ ذات چاہے جولاہا ہو یا کنجڑاہو، یا قصائی۔ جو بھی ہو سب چلے گا۔ واہ بھئی واہ ۔۔۔ مان گئے سیدوں کا لوہا! “

زلیخا روہانسی ہو گئی۔ عورتوں کا سب سے بڑا ہتھیار اس کے پاس وافر مقدار میں ہے، جسے “آنسوؤں کا ہتھیار “ بھی کہا جاتا ہے۔ مرد ان آنسوؤں سے گھبرا جاتے ہیں۔ لطیف قریشی بھی اس سے عاری نہ تھے۔ زلیخا کے اس ہتھیارسے وہ گھبرائے۔ سوچا ، مگرہار ماننا کچھ زیادہ ہی برا لگتا ہے۔ معاملہ رفع دفع کرنے کی غرض سے، انہوں نے کچھ فارمولا جملے بدبدائے ۔

“بات تم ہی چھیڑتی ہو اور پھرہارمان کر رونے لگ جاتی ہو۔ تمہیں یہ کیا کہنے کی ضرورت تھی کہ ادھر مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ کی لڑکیاں، بیچ کھانے والی ہوتی ہیں۔ کنگال بنا دیتی ہیں۔ تمہارا بھائی کنگال ہو جائے گا۔ مانا کہ تمہارے ننہیال ددھیال کا دباؤ ہے، جس کی بدولت تم لوگوں کو یہ شادی اپنے ہی خاندان میں کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑی معمولی بات ٹھہری۔ چلو چائے بنا لاؤ جلدی سے ۔۔۔! “

زلیخا نے آنسو پی کر ہتھیار ڈال دیئے ۔”ہر ماں باپ کے دل میں خواہش رہتی ہے کہ ان کی لڑکی جہاں جائے، راج کرے۔ اس کے لئے کیسا بھی سمجھوتہ ہو ،کرنا ہی پڑتا ہے۔”

“سمجھوتہ!” لطیف ایک ایک لفظ چبا کر بولے۔
بات دوبارہ بگڑ گئی۔

“وہی تو ۔۔۔ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اور جانتی ہو، سمجھوتہ مجبوری میں کیا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی قوت اور طاقت سے مجبور ہوتا ہے تو سمجھوتہ کرتا ہے۔ جیسے ۔۔۔! “

زلیخا سمجھ گئی۔کڑواہٹ کی آگ ابھی اور بھڑکے گی۔

“ہمارا رشتہ بھی اسی نامراد” سمجھوتے”کی بنیاد پر ٹکا ہوا ہے۔ ایک طرف بینک میں نوکری کرتا کماؤ کنجڑے قصائی برادری کا داماد، دوسری طرف خاندان اور ہڈی،خون، ناک کا سوال۔ معاملہ لڑکی کا تھا، پرایا دھن تھا، اس لئے کماؤ داماد کے لئے تمہارے گھر والوں نے خاندان کے نام کی قربانی دے ہی دی۔”
زلیخا رو پڑی اور کچن کی طرف چلی گئی۔ محمد لطیف قریشی صاحب بیدکی آرام کرسی پر نڈھال سے ڈھے گئے۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے جنگ جیت کر آئے ہوں اور تھکن دور کر رہے ہوں۔ سید زادی بیوی زلیخا کو دکھ پہنچا کر ،وہ اسی طرح کا “رلیکس” محسوس کیا کرتے ہیں۔ اکلوتے سالے صاحب کی شادی کی خبر پاکر اتنا”ڈرامہ” کرنا انہیں مناسب لگا تھا۔

زلیخا کے چھوٹے بھائی جاوید کے لئے ان کے اپنے رشتہ داروں نے بھی منصوبے بنائے تھے۔ اکلوتا لڑکے، لاکھوں کی زمین جائداد۔ جاوید کے لئے لطیف کے چچا نے بھی کوشش کی تھی۔ لطیف کے چچا، شہڈول میں سب انسپکٹر ہیں اور وہیں گاؤں میں کافی زمین بنا چکے ہیں۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکے۔ کل مل ملاکر دو اولادیں۔ چچا چاہتے تھے کہ لڑکی کی شادی جہاں تک ممکن ہوسکے ،اچھی جگہ کریں۔ لڑکی بھی ان کی ہیرا ٹھہری۔ بی ایس سی تک تعلیم۔ نیک سیرت، بھلی صورت،فنِ خانہ داری میں ماہر، صوم وصلاۃ کی پابند، لمبی، دبلی، پاکیزہ خیالات والی اور بیوٹیشن کا کورس کی ہوئی لڑکی کے لئے، چچا کئی چکر زلیخا کے والد سید عبدالستار کے گھر کے کاٹ چکے تھے۔ ہر بار یہی جواب ملتا کہ لڑکے کا ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایک بار محمد لطیف قریشی صاحب، جب اپنی سسرال میں موجود تھے، تب اپنے کانوں سے انہوں نے خودسنا تھا ۔”یہ سالے کنجڑے قصائی کیاسمجھ بیٹھے ہیں ہمیں؟ لڑکی کیا دی، عزت بھی دے دی کیا؟” انگلی پکڑائی تو لگے ہاتھ پکڑنے۔ بھلا ان دلَدّروں کی لڑکی ہماری بہو بنے گی؟ حد ہو گئی بھئی۔”
یہ بات زلیخا کے ماما کہہ رہے تھے۔ لطیف صاحب اس وقت بیڈروم میں لیٹے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ وہ سو گئے ہیں ، لہذا اونچی آواز میں بحث کر رہے تھے۔ زلیخا کے والد نے ماما کو ڈانٹ کر خاموش کرایا تھا۔

لطیف توہین کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔

تبھی تو اس بات کا بدلہ، وہ اس خاندان کی بیٹی، یعنی اپنی بیوی زلیخا سے لینا چاہ رہے تھے۔ لے دے کر آج توا گرمایا تو کر بیٹھے پرہار! زلیخا کو دکھ پہنچاکر، ہندوستانی اسلامی معاشرے میں پھیلی اونچ نیچ کی برائی پرگھاتک وار کرنے کی، ان کی یہ کوشش کتنی اوچھی، کتنی شرمناک تھی، اس سے ان کا کیا مقصد تھا؟ ان کا مقصد تھا کہ جیسے ان کا دل دکھا، ویسے ہی کسی اور کا دکھے۔ دوسرے کا دکھ، ان کے اپنے دکھ کے لئے مرہم بن گیا تھا۔

زلیخا کی سسکیاں کچن کے پردے کو چیر کر باہر نکل رہی تھیں۔ بیٹا بیٹی شاپنگ کے لئے سپر مارکیٹ تک گئے ہوئے تھے۔ گھر میں شانتی بکھری ہوئی تھی۔ اسی شانتی کو تحلیل کرتی سسکیاں، لطیف صاحب کے تھکے جسم کے لئے لوری بنی جا رہی تھیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کو یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے سیدوں، شیخوں جیسی تمام متکبر ذاتیں رو رہی ہوں، توبہ کر رہی ہوں۔
ارے! انہیں بھی تھوڑا بڑے ہوکر ہی، کہیں پتہ چل پایا تھا کہ وہ قصائیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ “ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز” والا دنیا کا واحد مذہب ہے اسلام۔ ایک ایسانیا انوکھاسماجی نظام ہے اسلام۔ جہاں اونچ نیچ، گورے کالے ، مرد عورت، چھوٹے بڑے، ذات پات کا کوئی جھمیلا نہیں ہے۔کہاں محمود جیسا بادشاۂ وقت، اور کہاں ایاز جیسا معمولی سپاہی، لیکن نماز کے وقت ایک ہی صف میں کھڑا کیا ،تو صرف اسلام ہی نے۔

ان کے خاندان میں کوئی بھی گوشت کا کام نہیں کرتا۔ سب ہی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ سرگوجا ضلع کے علاوہ باہری رشتہ داروں سے لطیف کے والد صاحب نے کوئی تعلق نہیں رکھا تھا۔ لطیف کے والد کی ایک ہی نعرہ تھا، تعلیم حاصل کرو۔ کسی بھی طرح علم حاصل کرو۔ سو لطیف علم حاصل کرتے کرتے بینک میں افسر بن گئے۔ ان کے والد صاحب بھی سرکاری ملازم تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے خاندانی رشتہ داروں سے کٹے ہی رہے۔

لطیف، کلاس کے دیگر قریشی لڑکوں سے کوئی تعلق نہیں بنا پائے تھے۔ یہ قریشی لڑکے پچھلی بینچ میں بیٹھنے والے بچے تھے، جن کی دکانوں سے گوشت خریدنے کبھی کبھار وہ بھی جایا کرتے تھے۔ تقریباً تمام قریشی ہم جماعت مڈل اسکول کی پڑھائی کے بعد آگے نہ پڑھ پائے۔

تب انہیں کہاں پتہ تھا کہ قریشی ایک ایسا لاحقہ ہے۔ جو ان کے نام کے ساتھ ان کی سماجی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وہ وعظ ،میلاد وغیرہ میں بیٹھتے تو یہی سنتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کا تعلق عرب کے قریش قبیلہ سے تھا۔ ان کا بچکانہ ذہن یہی حساب لگایا کرتا تھا کہ اسی قریشی خاندان کے لوگ ماضی میں جب ہندوستان آئے ہوں گے، تو انہیں قریشی کہا جانے لگا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے پڑوس کے ہندو گھروں کی بہوؤں کو ان کے نام سے نہیں، بلکہ ان کے آبائی شہر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے کہ بِلاس پورہِن،رائے پورہِن، سرگج ہِن، کوتماوالی، پینڈراوالی، کٹن ہِن وغیرہ۔

کچھ بڑے کاروباری مسلم گھرانوں کے لوگ نام کے ساتھ عراقی لفظ شامل کرتے، جس کا مطلب لطیف نے یہ لگایا کہ ہو نہ ہو ان مسلمانوں کا تعلق عراق کے مسلمانوں سے ہوگا۔ کچھ مسلمان خان، انصاری، چھیپا، رضا وغیرہ سے اپنا نام سجایا کرتے۔ بچپن میں اپنے نام کے ساتھ لگے قریشی لاحقے کو سن کر وہ خوش ہوا کرتے۔ انہیں اچھا لگتا کہ ان کا نام بھی، ان کے جسم کی طرح مکمل ہے۔ کہیں کوئی عیب نہیں۔ کتنا نامکمل سا لگتا، اگر ان کا نام صرف محمد لطیف ہوتا۔ جیسے بغیر دم کا کتا، جیسے بغیر ٹانگ کا آدمی، جیسے بغیر سونڈ کا ہاتھی۔

بچپن میں جب بھی کوئی ان سے ان کا نام پوچھتا تو وہ اتراکر بتایا کرتے ۔”جی میرا نام محمد لطیف قریشی ہے۔ “
یہی قریشی لفظ کا لاحقہ ،ان کی شادی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا۔ جب ان کی بینک میں نوکری لگی تو قصائی گھرانوں سے دھڑا دھڑ رشتے آنے لگے۔ اچھے پیسے والے، شان شوکت والے، حج کر آئے قریشی خاندانوں سے رشتے ہی رشتے۔ لطیف کے والد ان لوگوں میں اپنا لڑکا دینا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ سبھی روپیوں پیسوں میں کھیلتے ، دولت مند قریشی لوگ تعلیم و تہذیب کے معاملے میں صفر تھے۔ پیسے سے ماروتی کار آ سکتی ہے ،پر سلیقہ نہیں۔

اس دوران شہڈول کے ایک اجاڑ سے سید مسلم خاندان سے لطیف صاحب کے لئے پیغام آیا۔ اجاڑ ان معنوں میں کہ یوپی بہار سے آکر مدھیہ پردیش کے اس بگھیل کھنڈ میں آ بسے۔ زلیخا کے والد کسی زمانے میں اچھے کھاتے پیتے ٹھیکیدار ہوا کرتے تھے۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے ایک دو پنج سالہ منصوبوں تک زلیخا کے والد اور دادا وغیرہ کی جنگل کی ٹھیکیداری ہوا کرتی تھی۔ جنگل میں درخت کاٹنے کا مقابلہ چلتا۔ سرکاری ملازم اور ٹھیکیداروں کے مزدوروں میں ہوڑ مچی رہتی۔ کون کتنے درخت کاٹ گراتا ہے۔ ٹرکوں لکڑیاں بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے اِدھر اُدھر کی جاتیں۔ خوب نوٹ چھاپے تھے ان دنوں۔ اسی کمائی سے شہڈول کے قلب میں پہلی تین منزلہ عمارت کھڑی ہوئی۔ جس کا نام کرن ہوا تھا “سیدنا “۔ یہ عمارت زلیخا کے دادا کی تھی۔ آج تو کئی فلک بوس عمارتیں ہیں، لیکن اس زمانے میں زلیخا کا آبائی مکان مشہور ہوا کرتا تھا۔ آس پاس کے لوگ اس عمارت”سیدنا “ کااستعمال اپنے گھر کے پتے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مقامی اور علاقائی سطح کی سیاست میں بھی اس عمارت کی اہمیت تھی۔ پھر یہاں مارواڑی آئے، سکھ آئے، مقابلہ بڑھا۔ منافع کئی ہاتھوں میں منقسم ہوا۔ زلیخا کے خاندان والوں کی مونوپلی ختم ہوئی۔ مشروموں کی طرح شہر میں خوبصورت عمارتیں اگنے لگیں۔

زلیخا کے والد یعنی سید عبدالستار یا یوں کہیں کہ حاجی سید عبدالستار صاحب کی ترقی کا گراف اچانک تیزی سے نیچے گرنے لگا۔ جنگلات کی ٹھیکیداری میں مافیاراج آ گیا۔ دولت ،طاقت اوربازوؤں کی زور آزمائی کے بعد حاجی صاحب فالج کا شکار ہوئے۔ چچاؤں اور چچازاد بھائیوں میں دادا کی جائیداد کو لے کر تنازعات ہوئے۔ جھوٹی شان کو برقرار رکھنے میں ،حاجی عبدالستار صاحب کی جمع پونجھی خرچ ہونے لگی۔ جسم کمزور ہوا۔ بولتے تو سر لڑکھڑا جاتا۔ کاروبار کی نئی ٹیکنالوجی آ جانے سے، پرانے تجارتی طور طریقوں سے چلنے والے کاروباریوں کا عموماً جو حشر ہوتا ہے، وہی حاجی صاحب کا ہوا۔

ڈوبتی کشتی میں اب زلیخا تھی، اس کی ایک چھوٹی بہن تھی اور ایک چھوٹا بھائی۔ بڑی بہن کی شادی ہوئی، توسیدوں میں ہی۔ لیکن پارٹی مالدار نہ تھی۔ داماد تھوک کپڑے کا تاجر تھا اور رنڈوا تھا۔ زلیخا کی بڑی بہن وہاں بہت خوش تھی۔ زلیخا جب سیاسیات میں ایم اے کر چکی، تو اس کے والدحاجی صاحب فکر مند ہوئے۔ خاندان میں زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کی اتنی ڈیمانڈ نہ تھی۔ لڑکے زیادہ تر کاروباری تھے۔ زلیخا کوبیاہنا نہایت ضروری تھا، کیونکہ چھوٹی سی لڑکی قمرن بھی جوان ہوئی جا رہی تھی۔ جوان کیا وہ تو زلیخا سے بھی زیادہ بھرے بدن کی تھی۔ ان کی عمروں میں فرق محض دو سال کا تھا۔ دو دو نوجوان لڑکیوں کا بوجھ حاجی صاحب کا مفلوج بدن برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

ان کے ایک دوست ہوا کرتے تھے اگروال صاحب۔ جو فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازم تھے۔ حاجی صاحب کے سیاہ سفید کے امین! انہی اگروال صاحب نے، دور سرگوجا میں ایک بہترین رشتہ بتایا۔ اس پرحاجی صاحب ان پر بگڑے۔ زمین پر تھوکتے ہوئے بولے۔ “لعنت ہے آپ پر اگروال صاحب ۔ کنجڑے قصائیوں کو لڑکی تھوڑے ہی دوں گا۔ گھاس کھا کر جی لوں گا۔ لیکن خدا ایسا دن دکھانے سے پہلے اٹھا لے تو بہتر ۔۔۔ “

پھرکچھ رک کر کہا تھا انہوں نے ۔ “ارے بھائی، سیدوں میں کیا لڑکوں کی مہاماری ہو گئی ہے؟ “
اگروال صاحب بات سنبھالنے لگے ۔ “میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنی لڑکی کی شادی وہیں کریں۔ ہاں، تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے ضرور۔ میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ پڑھا لکھا، مہذب گھرانہ ہے۔ لڑکا بینک میں افسر ہے۔ کل کو اوربڑاافسر بنے گا۔ بڑے شہروں میں رہے گا۔ “

اگروال صاحب کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح، تفصیلات بتانے لگے۔ انہیں حاجی صاحب نامی عمارت کی خستہ حال دیواروں، ٹوٹی چھتوں اور ہلتی بنیادوں کا حال خوب معلوم تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ شادی کے لائق بیٹیوں کی، شادی کی فکر میں، حاجی صاحب بے خوابی کے مریض بھی ہوئے جا رہے ہیں۔ معاشی حالات کی مار نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔ ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، جھاڑ پھونک،تعویز گنڈا ، پیری فقیری اور حج زیارت جیسے تمام نسخے آزمائے جا چکے تھے۔ پرمرض اپنی جگہ اور مریض اپنی جگہ۔ گھٹ رہی تھی تو صرف جمع کی ہوئی دھن دولت اور بڑھ رہی تھیں تو صرف مشکلیں۔

ایک دو روز کے بعد اگروال صاحب کی بات پر حاجی صاحب غور وفکر کرنے لگے۔ حاجی صاحب کی چند شرائط تھیں، جو رسی کے جل جانے کے بعد بچے بلوں کی طرح تھیں۔

ان شرائط میں اول تو یہ تھی کہ شادی کے دعوت ناموں میں دلہن اور دلہا والوں کی ذات برادری کا لاحقہ نہ لگایاجائے۔ نہ تو حاجی سید عبدالستار اپنے نام کے آگے سید لگائیں اور نہ ہی لڑکے والے اپنا “قریشی” ٹائٹل زمانے کے آگے ظاہر کریں۔ شادی” شرعی” رواج سے ہو۔ کوئی دھوم دھام، بینڈ باجا نہیں۔ دس بارہ براتی آئیں۔ دن میں شادی ہو، دوپہر میں کھانا اور شام ہونے تک رخصتی۔

ایک اور خاص شرط یہ تھی کہ نکاح کے موقعہ پر لوگ کتنا ہی پوچھیں، کسی سے بھی قریشی ہونے کی بات نہ بتائی جائے۔
لطیف اور اس کے والد کو یہ تمام شرائط توہین آمیز لگیں، لیکن اعلی درجے کے خاندان کی تعلیم یافتہ، نیک سیرت لڑکی کے لئے، ان لوگوں نے بالآخر یہ توہین آمیز سمجھوتہ قبول کر ہی لیا۔ اگروال صاحب کے بہنوئی سرگوجا میں ہوتے تھے اور لطیف کے والد سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ ان کا بھی دباؤ انہیں مجبور کر رہا تھا۔

ہوا وہی، جو زلیخا کے والد صاحب کی پسند تھا۔ لڑکے والے، لڑکی والوں کی طرح بیاہنے آئے۔ اس طرح سے سیدوں کی لڑکی، کنجڑے قصائیوں کے گھر بیاہی گئی۔

ایک دن زلیخا کے ایک رشتہ دار بینک میں کسی کام سے آئے۔ لطیف صاحب کو پہچان لیا انہوں نے۔ کیبن کے باہر ان کے نام کی تختی پر صاف صاف لکھا تھا ۔ “ایم۔ ایل۔ قریشی، برانچ منیجر “

لطیف صاحب نے آنے والے رشتے دار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اورگھنٹی بجا کر چپراسی کو چائے لانے کا حکم دیا۔
یہ رشتے دار بلاشبہ مال دار پارٹی تھے اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں بینک آئے تھے۔
لطیف صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھا۔
وہ دنگ رہ گئے۔ گلاکھنکھارکر پوچھا ۔ “آپ حاجی” سید “عبدالستار صاحب کے داماد ہوئے نہ؟ “
“جی ہاں، کہیے۔” لطیف صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔
سید لفظ پر اضافی زور دیے جانے کو وہ خوب سمجھ رہے تھے۔

“ ہاں، میں ان کا رشتہ دار ہوں۔ پہلے گجرات میں سیٹل تھا، آج کل ادھر ہی قسمت آزمانا چاہ رہا ہوں۔ آپ کو نکاح کے وقت دیکھا تھا۔ نیم پلیٹ دیکھ کر گھبرایا، لیکن آپ کے بڑے بابو تیواری نے بتایا کہ آپ کی شادی شہڈول کے حاجی صاحب کے یہاں ہوئی تو مطمئن ہوا۔ “ وہ صفائی دے رہے تھے۔
پھر دانت نکالتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ “آپ تو اپنے ہی ہوئے! “ان کے لہجے میں عزت، تعلق داری اور ڈرامائی انداز کی ملاوٹ تھی۔
محمد لطیف قریشی صاحب کا سارا وجود روئی کی طرح جلنے لگا۔ پلک جھپکتے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتے کہ اس سے قبل خود کو سنبھالا اور آنے والے رشتے دار کا کام سہولت سے نمٹا دیا۔

ایم ایل لطیف صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ محمد لطیف قریشی کے مردہ جسم کو دفنا یاتوجا سکتا ہے، لیکن ان کے نام کے ساتھ لگے “قریشی “ کو وہ کبھی نہیں دفنا سکتے ہیں۔