Categories
شاعری

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے
جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا

ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے
جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا
ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے
کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے

ہم نے اپنی پچھلی محبتوں کو جانور ذبح کرنے والی چھری سے کاٹ کر الگ کر دیا تھا
محبت کوئی پیشہ نہیں
یہاں پچھلا تجربہ کسی کام نہیں آ سکتا تھا
ہمیں ایک دوسرے کو رسمی انداز میں الوداع نہیں کہنا چاہیے
اگر تم چاہو تو مجھے کہیں سے بھی چوم سکتی ہو
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہمیں دریامیں چھلانگ لگا دینی چاہیے
کیونکہ بیزاری کے اندھے کبوتر نے توقعات کی تتلیوں کو چُگ لیا ہے
اور
دیوار پہ لکھی ہوئی نیند کی آنکھوں میں
بے گانگی کی چمگاڈر بچہ جَن رہی ہے
ہم فاصلے کی طرح بڑھ رہے ہیں

اگر آنے والے وقتوں میں بھی تاریخ لکھنے کا چلن رہا
تو ہمارے بارے میں لکھا جائے گا
کہ ہم نے ایک دوسرے کو کُتے کی طرح سونگھ کر چھوڑ دیا تھا

Categories
شاعری

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی

اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی

سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا

محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے پیش کر سکتا

اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
___ یا___
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اُس سے کچھ دیر گفتگو کر سکتا تھا

اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے تو میں اُسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے سفر میں بننے والا تعلق
___ اور___
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دُکھ دیتی ہے

آج برسوں بعد___
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اُس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو___میں اُسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
Image: Huebucket