Categories
نقطۂ نظر

تاثیرمسیحائی کی؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: لالٹین سلمان تاثیر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آسیہ بی بی اور توہین مذہب و رسالت کے قانون پر ان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ احساس دلانا ہے کہ بہرطور سلمان تاثیر بھی انسان تھے اور ان کی پیشہ ورانہ، کاروباری اور سیاسی زندگی کسی بھی اور انسان کی طرح شخصی خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ بھی ہے کہ سلمان تاثیر اور انسانی آزادیوں کے ایسے ہی دیگر شہیدوں کو انسانی خامیوں سے پاک دیوی دیوتا بنانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اختلافی نقطہ نظر کو بھی جگہ دی جائے۔

 

لالٹین مکتوب نگار کے اس موقف سے متفق نہیں کہ سلمان تاثیر کی موت ان کے اپنے ملازمین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے نتیجے میں ملنے والی خدائی سزا تھی۔ ہماری دانست میں سلمان تاثیر کی موت پاکستان میں توہین مذہب و رسالت جیسے غیر منصفانہ اور غیر انسانی قانون کے خاتمے کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ہے اور اس کی علامتی حیثیت ہمیشہ برقرار رہے گی تاہم اس بناء پر سلمان تاثیر کو مقدس گائے کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

[/blockquote]
letters-to-the-editor-featured1

جس وقت گورنر پنجاب سلمان تاثیر، آسیہ مسیح سے ہمدردی کے لیے شیخوپورہ جیل پہنچے، اُس وقت سلمان تاثیر کے سینکڑوں ملازمین چھ ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر نے پر مجبور تھے۔ میں اُن ملازمین کا مینجر تھا۔ سلمان تاثیر کی موت سے پانچ دِن پہلے میں نے “گورنر” کو خط لکھا اور رحم کی اپیل کی—بصورتِ دیگر کام روکنے کی دھمکی دی۔ آج سلمان تاثیر کو گزرے چھ برس بیت گئے لیکن ملازمین کوآج تک محنت کی اُجرت نہ مل سکی۔

 

سلمان تاثیر، سیاست دان کےعلاوہ ایک بزنس مین بھی تھے۔ انہوں نے برطانیہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی میں ڈگری حاصل کی اور 1994 میں امریکی مالیاتی ادارے “اسمتھ بارنی” (موجودہ مورگن اسٹینلی) کے ساتھ مل کر ایک بروکریج ہاؤس قائم کیا۔ تاثیر نے 1996 میں “ورلڈ کال” گروپ کی بنیاد رکھی جبکہ 2002 میں اخبار “ڈیلی ٹائمز” اور 2004 میں کاروباری ٹیلے وژن چینل “بزنس پلس” لانچ کیے۔

 

میں نے مارچ 2010 میں بطور سینیئر پروڈیوسر “بزنس پلس” جوائن کیا۔ اُس وقت چینل کے حالات اچھے نہیں تھے۔ہر دو ماہ بعد ایک مہینے کی تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔ میں تقریباً ایک سال سے بے روزگار تھا—اِس لیے ملازمت کی حامی بھر لی۔

 

“بزنس پلس” پر دِن میں کاروباری خبریں نشر کی جاتی تھیں جبکہ پرائم ٹائم میں کرنٹ افیئرز کے پروگرام پیش کیے جاتے تھے۔ چینل کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹاک شو 24Seven تھا جو سلمان تاثیر کی سالی “عائشہ ٹیمی حق” ہوسٹ کرتی تھیں۔ جوائننگ کے ایک ہفتے بعد، مجھے اُس لائیو شو کا پروڈیوسر مقرر کر دیا گیا۔ میں نے پروگرام کوبہتر بنانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی، یوں ادارے میں میری حیثیت مضبوط ہوتی رہی۔ لیکن حقیقی معنیٰ میں وہاں مضبوط ترین پوزیشن اگر کسی کی تھی تو وہ وہاں کا فائنینس ڈیپارٹمنٹ تھا: تاثیر کے اشاروں پر چلنے والا بد تہذیب اور بے حس ڈیپارٹمنٹ!

 

تقریباً سات آٹھ ہفتوں بعد، مجھے پہلی مرتبہ سیلری لینے کے لیے بلایا گیا ۔فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی بیرونی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس کے سامنے مجھ جیسے صحافی اور دیگر ملازمین لمبی قطار لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں بھی لائن حاضر ہو گیا۔ پہلا شخص رسید پر دستخط کر کے کھڑکی چھوڑتا تو سب پوچھتے، “پوری تنخواہ ملی ہے یا آدھی؟” اگر وہ کہتا کہ پوری تو سب خوش ہو جاتے ؛ اگر کہتا کہ آدھی تو سب چُپ ہو جاتے ؛ اور اگر کہتا کہ “پونی” تو سب مشتعل ہو جاتے—

 

میں نے سلمان تاثیر کے ٹی وی چینل میں کُل ملا کے آٹھ مہینے ملازمت کی ہوگی لیکن تنخواہ تقریباً دو مرتبہ وصول کی۔ ملازمت کے آخری دو مہینوں میں مجھے میری کارکردگی اور تجربے کی بنیاد پر پروگرام مینجر بنا دیا گیا جس کے تحت کراچی، لاھور اور اسلام آباد اسٹیشن میری ذمہ داری بن گئے۔ تنخواہ تو نہ بڑھائی گئی مگر اضافی ذمہ داریوں کے عوض مجھے ایک گاڑی اور ایک ٹھنڈا کمرہ عطا کر دیا گیا۔

 

ترقی ملنے سے تقریباً تین ہفتے قبل، سلمان تاثیر نے لاھور سے اپنا نمایندہ خصوصی “عاصم عتیق” کراچی میں متعین کیا جس کو “ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ” کا نام دیا۔ وہ اسپیشل پروجیکٹ کیا تھا، کبھی کسی کو نہیں پتا چل سکا۔ البتہ اُس نے چارج سنبھالتے ہی بلند و بانگ دعوے کیے۔سب سے بڑا دعوٰی یہ تھا کہ میں پچھلی تنخواہیں پہلی فرصت میں ادا کروا دوں گا۔ نیا ڈائریکٹر، بڑے صاحب کا نام لینا گستاخی سمجھتا تھا، اُن کو ہمیشہ “گورنر” کہہ کر پکارتا تھا۔ میں کبھی سلمان تاثیر سے نہ مل سکا نہ ہی ٹیلے فون پر بات چیت کی۔ لیکن کئی مرتبہ عاصم عتیق اور میں میٹنگ میں ہوتے اور تاثیر کا ٹیلے فون آجاتا تو عاصم کی ہوائیاں اُڑ جایا کرتیں۔ مجھے مجبوراً کمرے سے باہر جانا پڑتا۔ مجھے ترقی دے کر پروگرام میجر بھی عاصم نے ہی بنایا تھا۔ شاید اِس کی وجہ میری قابلیت سے زیادہ یہ تھی کہ وہ خود سلمان تاثیر اور اُس کے بیٹے شہریار تاثیر کی ذاتی ملازمت پر اِس قدر معمور تھے کہ اُنھیں چینل چلانے کے لیے ”کام“ والے لوگوں کی اشد ضرورت تھی۔

 

عاصم نے جس دِن لاہور سے کراچی آکر چینل کا چارج سنبھالا، اُس کے اگلے روزسے اُس کے ساتھ ایک پرسنل باڈی گارڈ بھی دفتر آنے لگا۔ گارڈ سفید شلوار قمیص میں ملباس ہوتا اورہاتھ میں ایک چمکتا ہوا برہنہ پستول ہوتا۔ ملازمین نے پچھلے چار ماہ سے تنخواہ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عاصم کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو چکے تھے۔ ملازمین اُس تک پہنچنے کی کوشش کرتے تو بند دروازے کے باہر موجود باڈی گارڈ روک دیتا، کبھی نرمی سے اور کبھی دھونس دھمکی سے۔

 

میں اپنی عوامی طبیعت کی وجہ سے مالکان سے دُوراورماتحتوں سے قریب رہتا تھا۔ پانی ہماری گردنوں تک آچکا تھا۔ ایک شام ایک نوجوان کرسچن لڑکا—جو آفس میں جمعدار تھا—میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا:

 

“کیا آپ کے پاس سو روپے ہوں گے؟“ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ رات کا کھانا کھایا ہوا ہے، صبح کا ناشتہ نہیں کیا اور یہ وقت آگیا۔ مجھ سے اور میرے ساتھی سے کام نہیں ہورہا، کچھ کھانا چاہتے ہیں۔ میری نظریں جھک گئیں۔ کمرے میں اے-سی چل رہا تھا جبکہ دبلے پتلے نوجوان کے جسم پر پسینہ چمک رہا تھا۔ میں نے شرمندگی سے اے-سی آف کر دیا اور ذہن پر زور دیا میرے والیٹ میں سو روپے ہیں بھی کہ نہیں۔ میں نے پرس نکالا تو اُس میں شاید ایک سو ستر روپے تھے۔ سو روپے نکال کر دیے تو لڑکا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔ وہ پہلا واقع تھا جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ دیا اور سلمان تاثیر کو للکارنے پر مجبور کیا۔

 

بزنس پلس کے استقبالیہ پر ایک نہایت نفیس اور بے ضرر شخص اپنے فرائض انجام دیتا تھا، “پیٹر” نام تھا اُس کا۔ ایک دِن ریسیپشن کے سامنے پیٹر نے مجھے روک کر پوچھا کہ تنخواہ ملنے کا کوئی آسرا ہے؟ میں نے نفی میں گردن ہلا دی۔ پیٹر جو پہلے سے پریشان تھا مزید بُجھ گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اُس کی دونوں بچیوں کو اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ چار مہینے سے فیس ادا نہیں کی۔ میرا دماغ پھٹنے لگا۔ یہ ٹھیک وہی دِن تھے جب گورنر سلمان تاثیر، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ نورین کے حق میں لابنگ کررہے تھے۔ اِس دوران وہ کئی مرتبہ اپنی اہلیہ آمنہ اور بیٹی شہربانوکے ہمراہ شیخوپورہ جیل گئے، آسیہ بی بی سے ملاقاتیں کیں اور باہر آکر میڈیا پر اپنے بیانات جاری کیے۔

 

ریسیپشن کے پاس کھڑا میں سوچتا رہا کہ پیٹر، اُس کی بیٹیاں، وہ بھوکا جمعدار لڑکا اور اُس کا ساتھی بھی تو کرسچین ہیں۔ ان کے ساتھ بھی تو نا انصافیاں ہو رہی ہیں۔ بلکہ یہ نا انصافیاں سلمان تاثیر اور اُن کا خاندان خود کر رہا ہے۔ تو پھر پورے پاکستان میں اور پوری مسیحی برادری میں سلمان تاثیر کو صرف ایک آسیہ بی بی ہی مظلوم نظر آئی—؟ اِن مظلوموں کی داد رسی کون کرے گا جو کہ سلمان تاثیر کی براہ راست ذمہ داری ہیں؟!

 

پیٹر کو تسلی دے کر میں سیدھا عاصم عتیق کے کمرے کی طرف بڑھا۔ باہر کھڑے باڈی گارڈ کو بتایا کہ مجھے ڈائریکٹر صاحب سے فوراً ملنا ہے۔

 

کانفرنس ٹیبل پر عاصم کا چمکتا ہوا لیپ ٹاپ رکھا تھا جس پر وہ کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا۔

 

“پانچ مہینے گزر گئے، سیلری کب آئے گی؟” میرے پرانے سوال میں نیا مہینہ جُڑ چکا تھا۔

 

گورنر کا نمایندہ جس دن سے کراچی آیا تھا اور جن وعدوں پر اُس نے تقریباً دو مہینے گھسیٹے تھے اُس دن سے ایک ہی سوال سُن رہا تھا کہ سیلری کب آئے گی۔ بقول اُس کے، یہ ”سیلری“ اُس کی چڑ بن چکی تھی۔ پہلے وہ حیلے بہانے کرتا تھا، دلاسے دیتا تھا، لوگ یقین کر لیتے تھے۔ لیکن اب پانی ناک تک پہنچ رہا تھا:

 

“او یار، مجھے کیا پتا—!” عاصم نے پرانا جواب نئے لہجے میں دیا۔
“آپ کو نہیں پتا؟”

 

“نہیں—اِس کا جواب صرف گورنر ساب دے سکتے ہیں۔”

 

“آپ نے پوچھا نہیں؟ ہر روز بات ہوتی ہے آپ کی!”

 

“او بھائی وہ گورنر ہیں— !” عاصم نے مجھے ایسے ڈرایا جیسے بڑے بوڑھے، بچوں کو اللہ میاں سے ڈراتے ہیں۔

 

“میرے لیے وہ گورنر نہیں—باس ہیں۔ اگر اُن کے حالات بھی میری طرح خراب ہیں تو اُن سے کہیں کہ گورنری چھوڑیں اور میرے ساتھ مل نوکری ڈھونڈلیں۔” میرے وجود سے انقلاب کے نعرے بلند ہونے لگے۔
مشیر خاص نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میری زبان درازی اور ”احسان فراموشی“ پر افسوس کرنے لگا۔

 

“آپ خود ہی کیوں نہیں پوچھ لیتے؟” دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ سے سرکس کا رنگ ماسٹر بن گیا۔ اُس نے بکری کو شیر کے پنجرے کی طرف ہانکنا شروع کیا اور لوہے کا جنگلہ کھولنے کی تیاری کی:

 

“مجھے اجازت نہیں ہے اُن سے بات کرنے۔” میں نے مجبوری ظاہر کردی۔
“نہیں—آپ کرلیں بات۔” یہ کہہ کر وہ کام میں مصروف ہو گیا۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔

 

اپنے کمرے میں آئے ہوئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ ایک کیمرہ مین (نام یاد نہیں رہا) میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ “کیا میں آج رات اسٹور (جہاں کیمرے رکھے جاتے ہیں) میں سو سکتا ہوں؟“ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ وہ صبح اُدھار مانگ کر دفتر آیا تھا۔ جو پیسے بچے اُس کا کھانا کھا لیا۔ اب واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے۔ میں کرایہ نکال کر دینے لگا تو اُس نے اصل وجوہات بتائیں: اُس کا تین ما ہ کا بچہ تھا۔ فاقوں سے بچانے کے لیے اُس کی سالی نے بچے کو اپنے گھرمیں رکھ لیا تھا اور اُس کو پالنے کی ذمہ داری لے لی تھی۔ اِس بات پر کیمرہ مین کی بیوی بہت شرمندہ تھی اور شوہر سے شدید ناراض بھی۔

 

“میں نے وعدہ کیا تھا کہ رات کو کچھ پیسے لے کر آؤں گا۔ اب خالی ہاتھ جاؤں گا تو بیوی –”

 

میں نے سمجھایا کہ گھر نہیں جاؤگے تو بیوی زیادہ پریشان ہوگی۔ میں کوشش کر رہا ہوں سیلری مِل جائے گی ان شاء اللہ۔

 

کیمرہ مین نے کہا کہ بیوی تو مان جائے گی پر صبح مالک مکان کو بھی آنا ہے۔ “وہ گھر خالی کرنے کا کہہ رہا ہے۔ میری سالی نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دینے کی آفر کی ہے لیکن میں اور میری بیوی۔۔۔۔”

 

وہ یہ کہہ چُپ ہو گیا اورمیرے ذہن کے کاغذ پر سلمان تاثیر کے نام ایک خط شروع ہوگیا۔

 

کیمرہ مین نے اسٹور روم میں سونے کی اجازت دوبارہ مانگی اور میں نے اجازت دے دی۔

 

شاید اُسی شام یاپھر اگلے روز ایک اور ٹیکنیشن میرے کمرے میں داخل ہو ا اور مجھ سے پوچھا کہ تنخواہ کب آئے گی؟

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اُس نے کہا کہ آپ تاثیر صاحب کے قریبی آدمی ہیں۔ آپ کو کمپنی کی گاڑی، اے سی والا کمرہ اور اختیارات دیے گئے ہیں۔ آپ پوچھ کر بتائیں بڑے ساب سے کہ تنخواہ کب آئے گی۔

 

میں مسکرایا اور اُس کو یقین دلایا کہ میں آج تک سلمان تاثیر سے نہیں ملا اور نہ ہی کبھی ای میل یا ٹیلے فون پر بات ہوئی۔ وہ بھی مسکرایا اور میرے قریب آکر مجھے دھمکانے لگا:

 

“فرحان ساب—آپ ہمارے باس ہو۔ لیکن باس صرف آفس کے اندرہوتا ہے۔ آفس کے باہر پستول کی گولی کسی کو نہیں پہچانتی!”

 

میں نے اُسے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے اُس کی دھمکی بچگانہ یا کھوکھلی لگی۔ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ اُن دنوں رات کی تاریکی میں کچھ لڑکے پچھلے گیٹ سے آفس کے اندر کودنے کی کوشش کر چکے تھے۔ جب دفتر کے گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی تو بدلے میں دوسری طرف سے بھی فائر کیے گئے اور وہ بھاگ گئے۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ہوا۔ جبکہ دِن کی روشنی میں دفتر میں چوری کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ میز پر رکھے موبائل فون اور کمپیوٹر میں لگی RAM غائب ہونے لگیں۔ چینل میں کام کرنے والے تخلیقی ذہن چور بننے پر مجبور ہو گئے۔

 

اُس لڑکے کی دھمکی نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں سلمان تاثیر کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کروں۔

 

یہ28 یا 29 دسمبر 2010 کا واقع ہے۔ میں نے اپنی ای میل کھولی اور سلمان تاثیر کو تفصیلی خط لکھنا شروع کیا:

 

محترم سلمان تاثیرصاحب:

 

آدھا سال گزر گیا ہمیں تنخواہیں نہیں ملیں۔ اِس دوران آپ نے ایک نیا چینل (ذائقہ ٹی وی) کھولا۔ نیا اسٹاف رکھا جن کی تنخواہیں ہم سے دویا تین گنا زیادہ ہیں۔ چینل کی افتتاحی تقریب میریٹ ہوٹل میں شاندار انداز میں ہوئی (جہاں طرح طرح کے پر تکلف کھانوں کے علاوہ ولایتی شرابیں، پانی کی طرح پلائی اور بہائی گئیں)۔ میرے ساتھی بھوک سے مر رہے ہیں۔ وہ خود کرائے کے گھروں سے اور اُن کے بچے اسکولوں سے نکالے جارہے ہیں۔ ملازمین دفتر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اپنے سینیئرز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہماری حالتوں پر رحم کیجئے اور سال ختم ہونے سے پہلے کم از کم تین مہینے کی تنخواہیں ریلیز کر دیجئے۔ ساتھ ہی باقی تنخواہوں کا ایک شیڈول بھی پیش کیجئے۔ بصورت دیگر مجے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں بحیثیت ہیڈ آف پروڈکشن اِس چینل کی ٹرانسمیشن بند کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

 

سلمان تاثیر کو ای میل بھیجنے کے بعد، میں نے اپنا استعفیٰ ٹائپ کیا اور نیچے جا کر اسٹوڈیو میں تمام اسٹاف ممبرز کو جمع کیا۔ وہ تعداد میں تقریباً سو لوگ تھے۔ میں نے اپنے بے یارو مددگاردوستوں کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ خط کے بارے میں آگاہ کیا۔ 31 دسمبر تک تنخواہیں نہ ملنے پر ٹرانسمیشن بند کرنے کے بارے میں اُن کی رائے طلب کی۔ سب نے یک زبان ہو کر تاعید کی۔ تب میں نے ہر ایک فرد سے عہد لیا کہ اگر کل صبح اِس دفتر سے کسی ایک صحافی، پروڈیوسر حتی کہ جمعدار کو بھی نکالا جاتا ہے تو ہم سب اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ اِس پر بھی سب نے اتفاق کیا۔

 

انقلاب کی روح پھونک کر میں گھر چلا گیا۔ اُن دنو ں میں پریس کلب سے چند قدم کے فاصلے پر اور زینب مارکیٹ کے سامنے والے فلیٹوں میں ڈیڑھ کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔ دفتر کے بعد، زیادہ تر وقت پریس کلب میں ہی گزرتا تھا۔ کراچی پریس کلب کا ممبر ہونے کی وجہ سے ہم صحافیوں کو کلب میں معیاری کھانا، بازار سے تقریباً آدھی یا اُس سے بھی کم قیمت پر ملتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک سال کی بے روزگاری اور چھ ماہ کی بے گار کاٹنے کی بعد جو غربت چھا چکی تھی وہ پریس کلب کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے دوسروں پر عیاں نہ ہو سکی یا بہت کم عیاں ہوئی۔

 

میں صبح معمول کے مطابق اور بغیر کسی خوف کے، ٹی وی اسٹیشن پہنچا۔ سلمان تاثیر نے پہلی نظر میں اُس خط کو شاید مزاق سمجھا ہوگا۔ دوپہر گزر گئی تمام چیزیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ جوں ہی سہ پہر ہوئی تو سلمان تاثیر نے اپنے وفا دار ڈائریکٹر عاصم عتیق کو میرے شکار پر لگا دیا۔ مجھے فوراً کانفرنس روم میں پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے کرسی سے اُٹھنے سے پہلے استعفی کا پرنٹ آؤٹ نکالا اور کاغذ تہہ کر کے کمرے سے باہر چلا گیا۔

 

دروازہ کھول کر اندر پہنچا تو وہاں عاصم کے علاوہ تمام ڈپارٹمنٹس کے ان چارج بیٹھے ہوئے تھے۔ کل ملا کر آٹھ نو لوگ ہو ں گے۔ میں ابھی کرسی پر بیٹھ بھی نہ پایا تھا کہ ڈائریکٹر مجھ پر برس پڑا:

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیسے لکھا!!؟”

 

عاصم مجھ سے وقتاً فوقتاً مختلف چیزیں لکھواتا رہتا تھا۔ اپنے اور سلمان تاثیر کے لیے۔ اوروہ میری لکھائی کی داد بھی دیتا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ ”گورنر“ سے مل کر کراچی واپس آیا تو میرے لیے کہے گئے تاثیر صاحب کے تعریفی کلمات بھی مجھے سنائے۔
“جیسے ہمیشہ لکھتا ہوں، ویسے ہی لکھا۔” میں نے سادہ سا جواب دیا۔

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیوں لکھا؟؟؟” اُس نے سوال بدل کر پوچھا۔
“کیوں کہ آپ ہی نے کہا تھا۔”

 

“گورنر ساب کو کوئی ای میل نہیں کر سکتا!”

 

“کیوں—؟” میں عاصم کی ”گورنر صاحب“ سے عقیدت کی آخری حد جاننا چاہتا تھا۔

 

“گورنر ساب سے کوئی سوال نہیں کر سکتا!”

 

کیوں—گورنر صاحب—اللہ میاں ہیں کیا؟ نعوذ باللہ!

 

سب کے سب خاموش بیٹھے رہے۔ کسی نے اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کی۔ کمرے میں اور عاصم بحث کرتے رہے۔ اُس کی کھوکھلی باتوں میں ہمارے مسائل کا حل دُور دُور تک کہیں نہیں تھا۔ وہ صرف “گورنر ساب، گورنر ساب” کیے جارہا تھا۔ اُس کا غرو ر، میری برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔

 

“گورنر نہیں —فرعون ہیں وہ!”

 

—اور فرعون کی قسمت میں غرق ہونا لکھا ہے۔ ” میں نے اپنا مقدمہ سمیٹنا شروع کیا۔

 

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ دسمبر کی ہلکی سردی تھی۔ میں نے کوٹ پہنا ہوا تھا۔ بائیں جانب فرنٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تو انگلیو ں نے استعفےٰ کو چھوا۔ میں نے سرکس رنگ ماسٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھا؛ اُس کے ہاتھ سے چابک چھینا اور سلمان تاثیر کے دیو قامت مجسمے کے گرد لپیٹ کر اِس قوت سے کھینچا کہ باطل بُت عاصم عتیق کے قدموں میں آکر گرا:

 

“جب سلمان تاثیر جیسے لوگ ظلم کی حدیں پار کر جاتے ہیں؛ جب آپ جیسے پالتو نوکر اُس ظلم پر پردہ ڈالتے ہیں تو قدرت خود intervene کرتی ہے۔ اور قدرت کی مداخلت کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا۔ ڈریں اُس وقت سے کہیں آپ کے گورنر ساب کا حال فرعون اور قارون جیسا نہ ہو جائے!”

 

میں نے اپنا استعفیٰ نکال کر میز پر رکھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ سگریٹ کی طلب نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔ گاڑی میں ایک پیکٹ رکھا تھا۔ میں نے گاڑی پچھلی گلی میں کھڑی کی تھی۔ وہاں گیا تو دیکھا گاڑی نہیں ہے۔ سوچا کہ شاید سامنے مین روڈ پر کھڑی کی ہوگی۔ وہاں گیا تو وہاں بھی گاڑی نہیں تھی۔ میں سمجھ گیا کہ میری گاڑی عاصم عتیق کے کہنے پر اُٹھا لی گئی ہے۔ میں واپس دفتر کے اندر داخل ہوا۔ پہلی منزل پر واقع اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو کورے ڈور میں ایڈمن آفیسر، شاہد عالم (جو میرا دوست بھی تھا) دونوں ہاتھ بڑھا کر مجھ سے بغیر گیر ہو گیا۔

 

“جمالوی صاحب—مجھے معاف کردیں۔ “

 

“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ تم نے میری گاڑی اُٹھوالی—؟ تم بھی دُم ہلانے والے نکلے!”

 

“میں مجبور ہوں—مجھے معاف کردیجئے گا۔ “

 

یہ پہلا واقع نہیں تھا، اِس سے پہلے بھی انہی لوگوں نےہماری مارکیٹنگ مینجر ثمینہ انصاری کی ہانڈا سوک گاڑی دفتر کے سامنے سے اُٹھا لی تھی اور واردات کو چوری ظاہر کیا تھا۔ ایسا اِس لیے کیا جاتا تھا تاکہ کمپنی کے افسران گاڑی بیچ کر اپنی رُکی ہوئی تنخواہوں کا کوٹا پورا نہ کر لیں۔ اُن دنوں شاہ زیب خان زادہ ڈائریکٹر نیوز تھے۔ انہوں نے جب ریزائن کیا تو کمپنی کی گاڑی واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، بلکہ عدالت میں مقدمہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ شاہ زیب غالباً وہ واحد شخص ہیں جنھیں سلمان تاثیر نے اُن کے بقا یہ جات واپس کیے۔ میں نے شاہ زیب کو فون کر کے اِس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔

 

شاہد عالم، میرا دوست میرے سامنے کھڑا تھا۔ لیکن ملازمت چونکہ انسان کو بزدل بنا دیتی ہے اِس لیے وہ میرا دوست بعد میں اور سلمان تاثیر کے وفادار کا وفادار پہلے تھا۔ میں نے اُس کے ذریعے حکام بالا کے لیے ایک پیغام چھوڑ ا:

 

“میں پریس کلب جارہا ہوں۔ پریس کانفرنس کرنے۔”

 

عاصم عتیق اور شاہد عالم نے میری پروموشن میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اُنہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں اُن کو چھوڑ کر “غیروں” کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا اور مظلوموں کے حق میں بات کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ایک مرتبہ، غالباً عید کے موقع پر، عاصم عتیق نے کھلی پیش کش کی کہ تم دوسروں کو چھوڑو۔ اگر تمھیں پیسوں کی ضرورت ہے تو ابھی بیس ہزار روپے دلوادیتا ہوں فائننس ڈیپارٹمنٹ سے۔ میں نے انکار کر دیا اور مسئلے کا مکمل حل ڈھونڈے پر زور دیا۔ شاہد نے بھی اُس وقت مجھے منانے کی کوشش کی۔

 

میرے پاس گاڑی نہیں تھی اور پریس کلب پہنچنے کی جلدی تھی۔ میں نے اپنے دوست عدنان جعفر کو فون کیا۔ وہ تھوڑی دیر میں دفتر پہنچ گیا۔ اِس دوران اسٹیشن کے تمام ساتھی میرے کمرے کے باہر جمع ہونا شرو ع ہو گئے۔ میں نے سب کو پریس کلب پہنچنے کی کال دی۔ سب

 

راضی ہوگئے۔ عدنان آیا اور میں اُس کے ساتھ پریس کلب پہنچا۔ گورننگ باڈی کے ایک سینیئر ممبر سے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت مانگی۔ اجازت مل گئی۔ باہر لان میں کھڑا ساتھیوں کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد فون کیا تو کسی نے بھی فون نہیں اُٹھایا۔ قریب دو گھنٹے گزرنے کے بعد، مجھے ایک لڑکے نے فون پر یہ اطلاع دی کہ آپ کے نکلتے ہی عاصم عتیق نے مشتعل اسٹاف کو بیس بیس ہزار روپے کیش دے دیے ہیں اور معاملے کو دبا دیا ہے۔ چینل میں ہر شخص دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ آفس میں جاکر پریس کانفرنس کینسل کر وا دی۔ اُس رات پریس کلب میں صرف دو ساتھی جمع ہوئے۔ باقی اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں بک گئے۔ جو موجود تھے اُن سے میں نے صرف اتنا کہا کہ بیس ہزار روپے کب تک چلیں گے؟ آج اگر ہم اکھٹا ہوجاتے تو اِس معاملے کا بہتر حل نکالا جاسکتا تھا۔لیکن اب سال ختم ہو رہا ہے۔ نیا سال شروع ہوتے ہی وہ لوگ کہیں گے کہ پچھلے سال کے بقایا جات ہیں، بعد میں دیکھیں گے۔ اور وہ “بعد” کبھی نہیں آئے گا۔

 

اگلی صبح مجھے عائشہ ٹیمی حق کا فون آیا۔ اُنہوں نے مجھ سے استعفے کی وجہ پوچھی۔ میں نے بتا دی۔ میں ٹیمی کا پسندیدہ پروڈیوسر تھا۔وہ مجھے گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔ اِس لیے انہوں نے کہا کہ وہ سب کے لیے تو وعدہ نہیں کرسکتیں، لیکن میرے dues فوراً clear کر واسکتی ہیں۔ ”تم اپنا resignation واپس لے اور کام شروع کرو۔”

 

میں نے اُن کا شکریہ اداکیا اورکہا کہ میں صرف اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتا۔

 

نیا سال شروع ہو چکا تھا۔ میں تقریباً تین چار دِن گھر میں آرام کرتا رہا۔ رات دیر تک لکھتا اور دن میں دیر تک سوتا رہتا۔

 

4 جنوری 2010 کی صبح غالباً ساڑھے نو بجے مجھے ڈان نیوزسے (جہاں میں پہلے کام کر چکا تھا) فون آیا۔ میں گہری نیند میں تھا۔ موبائل ٹٹول کر اُٹھایا۔ کان سے لگایا تو دوسری طرف سے کسی نے بوکھلا کر پوچھا:

 

“سلمان تاثیر صاحب کی کنڈیشن کیسی ہے؟”

 

میری سمجھ میں نہیں آیا۔ سوچا کوئی مزاق کر رہا ہے۔ چھیڑ رہا ہے پچھلے ہفتے کی میری ناکام کارروائیوں پہ۔

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو بتانے والے بتایا کہ ”تاثیر صاحب پر جانی حملہ ہوا ہے اور حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ تم اُن سے قریب ہو اِس لیے سوچا کہ تمھیں پتا ہوگا۔“ میں نے بتایا کہ چند روز قبل ہی میں نے نوکری چھوڑی ہے۔

 

مجھے تشویش ہوئی۔ کمرے میں رکھے ٹی وی سیٹ کی طرف دیکھا جو کئی مہینوں سے خراب پڑا تھا۔ اتنے میں بیل بجی۔ مالک مکان تھے۔ میں نے انہیں چار مہینے سے گھر کا کرایہ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے وہ میرے دفتری حالات سے کافی حد تک واقف تھے۔ سفید بنیان پہنے صاحب نے مجھے “مبارک باد” دی کہ سلمان تاثیر کو قدرت نے سزا دے دی۔

 

“آؤ دیکھو ٹی وی پہ—کیا حال ہوا ہے ظالم کا۔”

 

میں فوراً اُن کے پیچھے پیچھے برابر والے گھر میں گیا۔ اسکرین پر وہی دیکھا جو دنیا نے دیکھا۔ لیکن ذہن میں جو کچھ چل رہا تھا وہ دنیا کو نہیں پتا تھا۔ مکان مالکن بھی مجھے دیکھ کر خوش ہو گئیں اور چہک کر بولیں:

 

“اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے بیٹا۔ کتنے لوگوں کا حق مارا ہوا تھا اِس نے۔ آج دیکھو کیسے مارا گیا!”

 

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، بزنس پلس کے ایک ساتھی کا فون آگیا:
“آپ تو پیر صاحب نکلے—آپ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔”

 

میں نے سامنے والے کو جھڑک دیا اور اللہ سے توبہ کرنے کو کہا۔
ایک اور فون آیا: ” آپ کی بد دعا لگ گئی جمالوی صاحب۔ Salman Taseer is no more!”

 

پھر ایک اور فون آیا: “ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی جمالوی۔ ہم اُس دِن پریس کانفرنس کر لیتے تو شاید پیسے مل جاتے۔۔۔ آپ آج ہی پریس کانفرنس رکھیں ہم سب پہنچ رہے ہیں—”

 

میں نے فون کر نے والے کو سمجھایا کہ میرا بزنس پلس سے، سلمان تاثیر سے اور آپ لوگوں سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی۔ آئندہ فون مت کیجئے گا۔ میں اپنے کمرے میں واپس گیا، اور پھر سو گیا۔۔۔

 

٭٭٭

 

چھ سال گزر گئے اِس واقع کو لیکن میں نے آج تک پبلک فورم پر اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ اورآج تک اس مسئلے کا کوئی حل بھی نہیں نکلا۔ سلمان تاثیر کی وفات کے بعد، جن ملازمین نے اُن کے بیٹے شہریار تاثیر سے گزشتہ اور موجودہ تنخواہوں کا مطالبہ کیا تو بقول شخصے اُس نے یہ جواب دیا کہ ہمارا باپ مر گیا ہے اور تم لوگ پیسے مانگ رہے ہو؟

 

یہ وہی شہریار تاثیر ہے جس نے مجھے لاھور سے پیغام بھجوایا تھا (جب میں اُن کا ملازم تھا) کہ آپ رات بارہ بجے سے صبح چار بجے تک نیشنل جیوگرافک کی بہترین ڈاکیومنٹری اور WWF کی ریسلنگ،بزنس پلس چینل پر چلانا شروع کردیں۔ اِس پر میں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ کسی دوسرے چینل کا سافٹ ویئر ہم بلا اجازت کیسے چلاسکتے ہیں؟ اورپھر پیمرا کو کیا جواب دیں گے؟ اُس پر شہریار کا یہ جوا ب آیا کہ “آپ پیمرا کی فکر نہ کریں۔ بے خطر ہو کر چلائیں۔پیمرا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”

 

واقعی—اِن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا—سوائے اُس قدرت کے، جو فرش سے عرش تک پھیلی ہوئی ہے۔
Categories
اداریہ

صحیح سمت میں صحیح قدم مگر۔۔-اداریہ

ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔
گو پھانسی کی سزا اپنی جگہ ایک غیر انسانی سزا ہے اور پاکستانی نظام انصاف میں موجود نقائص کی وجہ سے پاکستان میں اس سزا کا دفاع ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد صحیح سمت میں اٹھایا گیا صحیح قدم ہے اور یقیناً یہ قدم عشق رسول کے گمراہ کن تصورات اور روایات پر ایک صحت مند مکالمے کے آغاز کا بھی باعث بنے گا۔ اگرچہ سزائے موت خواہ وہ ایک دہشت گرد ہی کی کیوں نہ ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سول قیادت اور نظام انصاف جس قدر بھی غیر فعال، بدعنوان اور غیر مقبول ہوں بہر طور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت کے خلاف ہیں۔ قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے بھی یہ حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔ یہ یقیناً ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے اور اس کے نتیجے میں ملسم لیگ نواز حکومت کو بڑے پیمانے پر احتجاج اور مذہبی طبقات کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ تاہم ممتاز قادری کو ایک اور علم دین بننے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا اور بدقسمتی سے اس سلسلے میں حکومت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔

حکومت نے وقتی طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کے موزوں اور مناسب اقدامات کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔ ممتاز قادری کی سزائے موت ہمارے لیے بہت سے نئے چیلنجز کو جنم دے گی، ریاست اور معاشرے کو ممتاز قادری کو بطور ہیرو تسلیم کرنے سے متعلق سنجیدہ بحث شروع کرنا ہو گی اور اس فکر کی بیخ کنی کرنا ہو گی جو عشق رسول کے نام پر انسانی جان لینے کو جائز قرار دیتی ہے۔

سلمان تاثیر کے قاتل کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔
ممتاز قادری کی سزائے موت سے سلمان تاثیر کی ہلاکت کا معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی محض ایک جرم کی سزا ہے لیکن سلمان تاثیر کا قتل کیا جانا محض ایک جرم نہیں تھا۔ یہ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین پر بحث، ان قوانین کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ممانعت کے خلاف بھی جرم تھا۔ ممتاز قادری کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے اور ان کے وکلاء اور حامیوں کا اسے درست قرار دینا بھی اسی معاملے کا ایک پہلو ہے جو قتل کرنے کے ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ہماری روز مرہ آزادیوں اور حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ریاست اس حوالے سے بہت کچھ نہیں کر پائے گی۔

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی اور توہین رسالت و مذہب کے قوانین کی زد میں آنے والے بے گناہوں کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔ یہ سزا توہین مذہب اور توہین رسالت کے ظالمانہ قوانین میں انسانی حقوق کی مروجہ تعریف کے مطابق ترامیم اور ان کے غلط استعمال کے خلاف قانون سازی کے بغیر بھی نامکمل ہے۔ اس سزا پر عمل درآمد کے موثر نتائج تب تک برآمد نہیں ہو سکیں گے جب تک عشق رسول کے نام پر تشدد اور ہتھیار اٹھانے کے خلاف ریاستی اور معاشرتی سطح پر واضح موقف اختیار نہیں کیا جاتا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے لیے عشق رسول کو جواز بنانے کی فکر کو ہر سطح پر رد نہیں کیا جاتا۔ سلمان تاثیر کے قاتلوں میں صرف ممتاز قادری ہی نہیں بلکہ وہ مذہبی فکر بھی شامل ہے جو اس قسم کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتی ہے اور اس مذہبی فکر کے خلاف ایک پھانسی یا بہت سی پھانسیاں بھی کارآمد ثابت نہیں ہوں گی تاوقتیکہ اس گمراہ کن فکر کو ہر فکری اور علمی سطح پر رد کیا جائے، اور یہ ذمہ داری ریاست سے زیادہ معاشرے اور مذہبی طبقات پر عائد ہوتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

youth-yell-featuredایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی باتوں، فرسودہ سوچوں اور جوشیلے نعروں پر لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں وہاں عقل و دانش رکھنے افراد کا گزارا مشکل ہوتا ہے اور اگر ایسے حضرات باہمت ہوں اور جہلاء کے گروہ کے سامنے جھکنے سے انکار دیں تو انہیں اسی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا سامنا سلمان تاثیر کو کرنا پڑا۔ سابق گورنر پنجاب نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے بے بنیاد الزام سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے توہین مذہب اور توہین رسالت کے موجودہ قانون پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پانچ برس قبل ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے سپاہی ممتاز قادری نے ان کی جان لے لی۔ سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟ کیا وہ اس مذہبی ‘استحقاق’ کی بنیاد پرجب چاہیں گے، جیسی چاہیں گے مذہب کی تشریح کریں گے اور لوگوں کی جان ہتھیا لیں گے؟ یا ریاست اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ کیا توہین مذہب کے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرتے رہیں گے یا قانون کے اطلاق اور جرم کے تعین کا عدالتی فریضہ ریاست سرانجام دے گی؟ قانون کا اطلاق، جرم کی تفتیش اور سزا ریاست کا کام ہے نا کہ مسلح جتھوں یا شدت پسند جماعتوں کا۔

 

سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟
ممتاز قادری کی سزائے موت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سلمان تاثیر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر تنقید اور بہتری کی گنجائش کی بات کرنا ہرگز توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔ وہ گروہ اور افراد جو ممتاز قادری جیسے مجرم کو ہیرو بنائے بیٹھے ہیں وہ درحقیقت آنکھیں بند کر کے مذہبی چورن فروشوں کے پھیلائے پراپیگنڈا کا شکار نظر آتے ہیں۔ ممتاز قادری ایک نیم خواندہ اور دل شکستہ شخص تھا جو ایک لڑکی کی محبت میں دل گرفتہ قاری حنیف کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہو کر یہ قدم اٹھا بیٹھا۔ مذہبی صنعت کے ان داتا اور ٹھیکیدار اس بہیمانہ قتل پر اسے ایک ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

 

آپ اگر سلمان تاثیر سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کو مسلمان نہ ہونے کے سرٹیفیکس دینے لگیں گے۔ آپ کو بھی دھمکیوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ممتاز قادری کے مداحین کی اکثریت نہ تو اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف ہے اور نہ توہین رسالت کے قانون پر سلمان تاثیر کی تنقید سے۔ یہ خواتین و حضرات ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کے قتل کو درست قرار دے کر اپنا ذہنی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

سلمان تاثیر پاکستان میں متوسط طبقے کے کسی بھی شخص کے لیے عام زندگی میں ترقی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جنہوں نے ایک معمولی سی اکاؤنٹ فرم سے کیرئر کا آغاز کر کے اسے ملک کی سب سے بڑی کمپنی بنا ڈالا اور سیاست میں آنے کے بعد اس کی ملکیت سے دستبردار بھی ہو گئے۔ دوسری جانب قاری حنیف اور ممتاز قادری جیسے لوگ ہیں جنہوں نے سوائے نفرتیں پھیلانے اور قتل وغارت گری کے اس معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کوئی مقدس شے نہیں بلکہ روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ اور تجارت ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے ابھی معاشرے میں بے حد کام کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا ماخذ مذہبی اجارہ دار ہیں جو محض چند روپوں اور مذہب پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ ماضی میں حدود کے قوانین کا بھی اسی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جیسے اب توہین مذہب کے قوانین کا کیا جارہا ہے۔

 

سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔
جیل سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی درخواستیں کرتا ممتاز قادری خود سلمان تاثیر کے بے گناہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، لیکن قاری حنیف جس کی مشتعل تقریر سے یہ دل سوز واقعہ پیش آیا تھا ابھی بھی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے، بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر آ کر مذہب پر بحث کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسیہ بی بی جس کے حق میں سلمان تاثیر مرحوم نے آواز بلند کی تھی آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہی ہے۔ انسانیت کی توہین ہر لمحہ اور ملک کے ہر گوشے میں ہوتی ہے لیکن اس پر بولنے والا کوئی نہیں۔ جس معاشرے میں مذہبی مباحث کا مقصد مذہب کے نام پر دوسروں کو کافر قرار دینا، جہاد اور قتال پر اکسانا اور جنت میں مباشرت کے لذائذ کی تبلیغ ہو وہاں مثبت مذہبی فکر کی افزائش کیوں کر ممکن ہے؟ وہاں تعمیری دماغ تو پنپنے سے رہے، ایڈیسن یا سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ تو سامنے آنے سے رہے البتہ ممتاز قادریوں اور قاری حنیف جیسے جہلاء کے لیے یہ معاشرے بے حد زرخیز ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ایسے ہی طبقات کے اندھے مذہبی جنون کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ایسی ہی سوچ کے خاتمے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

 

ممتاز قادری اور قاری حنیف جیسے لوگ اس کھیل میں محض مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گھناونا کھیل کھیلنے والے مذہبی شدت پسند گروہ طاقت کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کے بل پر اس مکروہ کاروبار کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ سوال کی نعمت سے محروم کروڑوں بنجر بنجر ذہن اور اندھے عقیدت مند وہ کندھے ہیں جن پر چڑھ کر یہ اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ یوں شدت پسندی اور اقلیتوں کو بزور طاقت دبانے کا یہ گھناؤنا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ مذاہب انسانوں کو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتارے گئے تھے نا کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے یا ختم کرنے۔ سلمان تاثیر کی بے گناہی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ثابت کر دی لیکن وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی سوچوں میں ممتاز قادری اور قاری حنیف ہیں وہ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو، اور یہ سوچ اس معاشرے کے لیے سب سے خطرناک سوچ ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو فکر ممتاز قادری جیسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جان لینے پر اکساتی ہے وہ آج کروڑوں لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔ معاشرے میں اس سوچ کا پروان چڑھنا ایک مستقل خطرہ ہے۔ خوف کی وجہ سے اس سوچ کے تدارک کے لیے شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے سوا ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سےکبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سوچ کے حامل افراد کو جدید دنیا سے روشناس کرانے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ یہی ذہن جو اس شدت پسندی کے ہاتھوں بنجر اور ویران ہو رہے ہیں انہیں اذہان کی مدد سے ہم اس شدت پسندی کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں اس تعصب، بنیاد پرستی اور نرگسیت کی دلدل سے نکال سکتے ہیں اور مذہبی چورن فروشوں کا گھناونا کاروبار بھی بند کر سکتے ہیں۔ کم سے کم آنے والی نسلوں تک تو یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور زندگی کا مقصد کسی بھی مذہب کے نام پر کسی کو مارنا یا خود مرنا نہیں۔ شدت پسندی کے خمیر سے گُندھے معاشرے میں کس طرح سے اپنے آپ کو مذہبی منافرت سے بچا کر خود کو ایک تعمیر پسند شہری بنانا ہے، اس کا ادراک بھی آنے والی نسلوں کو کرانا بے حد ضروری ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشدد اور عدم برداشت کو ناپسند فرماتے تھے۔ توہین مذہب کے موجودہ قوانین اور ان کے تحت سزا کے غیرمنصفانہ ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن اس قانون کے غلط استعمال اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہم سب کو متفق ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جواز کے تحت قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

 

سلمان تاثیر نے اس قانون پر تنقید کی تھی جسے ایک آمر نے اقلیتوں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ترمیم کے ساتھ آئین پاکستان میں شامل کیا تھا اب ہمیں اس قانون پر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔ سلمان تاثیر جیسے لوگ کسی مخالفت کی پرواہ کرتے ہی کب ہیں ان جیسے لوگ اپنے ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں جو بلا خوف وخطر سچائی کے لیے سب کچھ داو پر لگا دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت ممتاز قادری جیسے افراد کی یا تو حامی ہے، یا ہمدرد یا خاموش ہے، معدودے چند سلمان تاثیر جیسے بے باک افراد ہی سامنے آ کر ظلم کو ظلم قرار دینے کی جرات کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ،اکثریت کی رائے اور اکثریت کا چلن دیکھ کر سچ کی نشاندہی سے گریز کسی طرح درست نہیں برٹرینڈ رسل کے بقول:

“The fact that an opinion has been widely held is no evidence whatever that it is not utterly absurd; indeed in view of the silliness of the majority of mankind, a widely spread belief is more likely to be foolish than sensible.”

لیکن ایک سچ کی خاطر سر کٹانے والے جتنے بھی کم ہو ان کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیض احمد فیض)

Image: Umair Vahidy

Categories
نقطۂ نظر

اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟

اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟
اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری سے میں بدلہ لینا چاہتا ہوں کیوں کہ اس نے میرے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ کیا میں ممتاز قادری کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکانے، ڈرانے اور پھر ان کی جان لینے کا حق رکھتا ہوں جیسے راشد رحمان کی جان لی گئی؟

 

اگر میں ایک ایسا پوسٹر چھپواوں جس پر ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کے لیے مغلظات لکھی ہوں، ان کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کروں اور ان کی پھانسیوں کے حق میں جلسے جلوس نکالوں تو کیسا ہے؟ فرض کیجیے کہ اگر میں یہ فتوی دوں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر، ان کی ناموس پر، اہل بیت کی ناموس پر، ان کے صحابہ کی ناموس پر قتل کرتا ہے، قتل کرنا چاہتا ہے، قتل کرنے کے فتوے دیتا ہے یا قتل کرنے کی زبانی یا اعلانیہ حمایت کرنا چاہتا ہے وہ سب مرتد، خارج از دائرہ اسلام، ملعون، مطون ،جہنمی اور واجب القتل ہیں تو؟؟؟؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں عدالتوں کے باہر جتھے لے کر کھڑا ہو جاوں کہ ممتاز قادری کی پھانسی تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے؟یا ڈندے لے کر عاشقان ممتاز قادری کے جلسوں جلوسوں کو تہس نہس کر دوں، یا میں بھی سلمان تاثیر شہید کانفرنس کراوں اور اس کانفرنس میں ببانگ دہل ریاست کو للکاروں کہ اگر توہین رسالت اور توہین مذہب کا قانون نہ بدلا گیا، اگر آسیہ بھی بی، جنید حفیظ اور ان جیسے تمام افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم لانگ مارچ کریں گے، جانیں دیں گے، جیلیں بھر دیں گے تو کیا ہو گا؟

 

انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔
یہ سب ہو سکتا ہے، یہ سب کیا جا سکتا ہے لیکن میں اور ممتاز قادری کو دہشت گرد سمجھنے والے تمام لوگ، وہ خاموش اکثریت جو اسلام کو امن کا مذہب سمجھتی ہے اوروہ سب لوگ جو توہین رسالت کے قوانین کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔

 

یہ چند لوگ جو ہر برس 4 جنوری کو اکٹھے ہوتے ہیں، کسی چوک چوراہے یا پریس کلب کے باہر، چند پلے کارڈ اٹھا کر، چند موم بتیاں جلاتے ہیں یہ تمہارے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے سے زیادہ طاقتور ہے کیوں کہ یہ حق پر ہے، کیوں کہ یہ ظلم کو ظلم کہنے والے ہیں اور کیوں کہ خدا ان کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں کیوں کہ خدا بہرطور ظلم کرنے والوں، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام اور ہمارا ردعمل یہی ہے کہ ہم ہمیشہ حق کو حق اور ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے، ہم ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں نفرت نہ کرنے والوں میں شامل رہیں گے اور ہم ہمیشہ ممتاز قادری کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

موم بتیاں جلانے والوں پر حملہ کرنیوالے ‘دہشت گرد’ کون ہیں؟

[blockquote style=”3″]

بارہ ربیع الاوّل کے مبارک دن سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر لاہور میں شمعیں جلانے والوں پر ہونے والے حملے کے پس پردہ حقائق اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیق پر مبنی ایک خصوصی تحریر

[/blockquote]

 

حملے کی منصوبہ بندی
یہ تین اور چار جنوری کی درمیانی یخ بستہ رات ہے۔ پنجاب کے دل لاہور کی ایک مسجد میں چند باریش حضرات سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھے چند نوجوان خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ بارہ ربیع الاوّل کی بابرکت رات کی محفل آج پہلی دفعہ جلدی ختم کر دی گئی ہے۔ دھند بڑھ چکی ہے، اگر بتیوں کی بھینی بھینی خوشبو اور دھندلاتے رنگ برنگے قمقموں نے عجیب سا سحر پیدا کر رکھا ہے۔ اس جامعہ مسجد جس کا نام “رحمت العالمین” ہے کے کونے میں میٹنگ کی سربراہی جناب خادم حسین رضوی کررہے ہیں۔ یہ ان کی تنظیم ‘انجمن فدایان ختم نبوت’ کی خصوصی کمیٹی کی ایک خفیہ میٹنگ ہے۔ منبر رسول کے سامنے سر جوڑے باریش حضرات کچھ دیر میں ایک حتمی نتیجے پر پہنچ گئے۔ تنظیم کے ایک اہم کارکن ممتاز سندھی کے ہاتھ کا اشارہ ملتے ہی یہ ایک درجن سے زائد نوجوان میٹنگ میں شامل ہو گئے۔ خادم حسین رضوی نے معذور ہونے کے باوجود ایک پر جوش خطاب کیا جس کے آخر میں میٹنگ میں ہونے والے اہم فیصلے سے نوجوانوں کو آگاہ کیا۔ نوجوان فرط جذبات سے کانپ رہے تھے لیکن اپنے جذبات کو عملی رنگ دینے کے لیے انہیں کل بارہ ربیع الاوّل کے بابرکت دن کا انتظار کرنا تھا۔ اس سال نبی پاکﷺ کی ولادت اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر مرحوم کی برسی اتفاق سے ایک ہی دن تھی۔
چار جنوری کو عصرکی نماز کے بعد جب نمازی مسجد سے چلے گئے اور صرف وہی لوگ رہے گئے جو رات گئے منصوبہ بندی میں مصروف تھے، خادم حسین رضوی نے نوجوانوں کے سامنے ایک دفعہ پھر خون گرمانے والا خطاب کیا۔ خطاب کے بعد نوجوانوں کو خنجر اور پستول فراہم کیے گئے۔ جو انہوں نے بلاججھک پکڑلیے۔ اس آپریشن کا سربراہ ممتاز سندھی کو مقرر کیا گیا۔ نوجوانوں کو منصوبے کی جزئیات دوبارہ سمجھائی گئیں اور منصوبے پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ تین بزرگ راہنما کلاشنکوف جیسے بڑے ہتھیاروں سے لیس ایک گاڑی میں بیٹھ گئے۔
حملے کی کارروائی
چار جنوری کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے یہ مسلح نوجوان لاہور کے لبرٹی گول چکر پر پہنچ گئے اور اپنے اپنے رول کے مطابق پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھوڑی ہی دیر میں گول چکر کے وسط میں کچھ شہری نمودار ہونا شروع ہوئے۔ پہلے ایک ادھیڑ عمر خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ وہاں پہنچی، دو چار بزرگ اور پھر چند بچے بھی نظر آنا شروع ہوگئے۔ ایک مدرسے کے کچھ نوجوان بھی ہاتھوں میں شمعیں اٹھائے ان میں شامل ہو گئے۔ چند خواتین اور نوجوانوں کے ملنے سے شمع برداروں کی تعداد بیس سے تجاوز کر گئی۔ ان شہریوں کے ہاتھوں میں سلمان تاثیر کی برسی کے حوالے سے تصاویر کے ساتھ ساتھ بارہ ربیع الاوّل کی مناسبت سے بینرز بھی تھے۔ جبکہ ان کی زبانوں پر امن کے نعرے اور انتہا پسندی سے بیزاری کی باتیں تھیں۔

 

 

آخری خبریں آنے تک محمد عدیل ، محمد فرقان، محمد افتخار اور وزیر علی کو پولیس گرفتار کر چکی اور ان کا انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر چار سے ریمانڈ لے کر ان سے تفتیش کر رہی ہے
ممتاز سندھی کی لیڈرشپ میں منصوبے کے مطابق تین مسلح نوجوان، شہریوں کے اس انتہائی معمولی اور چھوٹے سے اجتماع میں خاموشی سے جا کر کھڑے ہو گئے۔ اتنی دیر میں میڈیا کے چند لوگ بھی اپنی کوریج کے لیے اس جگہ پہنچ گئے۔ حالات بھانپنے کے بعد ممتار سندھی نے یلغار کا حکم دے دیا۔ اشارہ پاتے ہی مسلح نوجوان نہتی خواتین، بچوں اور دیگر افراد پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ نے برچھیاں نکالیں اور سلمان تاثیر کی تصاویر پر دیوانہ وار حملے شروع کر دیئے۔ ان میں سے کئی لوگوں کوزدوکوب کر رہے تھے۔ ان کی زبانوں پر انتہائی غلیظ گالیاں تھیں جو یہاں دہرائی نہیں جا سکتیں۔ نہتے لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگے۔ سب سے پہلے پہنچنے والی ادھیڑ عمر خاتون تنہا ان کے سامنے کھڑی تھی۔ یکا یک دو حملہ آور اس پر ٹوٹ پڑے اور اپنی والدہ کی عمرکی اس خاتون کو اس زور سے مارا کہ وہ تلملا اٹھی۔ صحافی جو اس پرامن احتجاج کی کوریج کے لئے آئے تھے اس خاتون کو بچانے کے لیے لپکے تو ان مسلح نوجوانوں نے ان پر بھی دھاوا بول دیا۔ اس آپریشن کی نگرانی کرنے والے تنظیم کے بزرگ راہنما بھی حرکت میں آئے اور گاڑی تیزی سے اس طرف لے آئے جہاں مار پیٹ کا عمل جاری تھا۔ انہوں نے کلاشنکوفیں نکالیں اور صحافیوں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس دوران دور سے پولیس کی موبائل وین کو آتا دیکھ کر یہ تمام مسلح افراد بھاگ کھڑے ہوئے۔
حملہ آور کون تھے؟
اب میں آپ کو ان مسلح نوجوانوں کا تعارف کرواتا ہوں۔ یہ کوئی ان پڑھ ،جاہل گنوار یا کسی مخصوص مدرسے سے خاص ذہنیت کی تعلیم حاصل کرنے والے نہیں تھے۔ یہ ایسے نہیں تھے کہ ان کو کم عقل کہا جائے۔ یہ کند ذہن بھی نہیں تھے۔

salman-taseer-vigil-attack-m-furqan

یہ نوجوان جو ہلکے براون رنگ کی جیکٹ پہنے ہوئے ہے اس کا نام محمد فرقان الحق ہے۔ یہ لاہور کے اعلی تعلیمی ادارے سے چارٹڈ اکاونٹنٹ بننے کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اپنے دس پیپرز اعلی نمبروں میں پاس کر چکا ہے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

salman-taseer-vigil-attack-m-adeel-2

یہ جینز اور ہڈ پہنے نوجوان محمد عدیل ہے اور گریجوایشن کے بعد ایک بڑے ادارے سے انگریزی زبان سیکھنے کا ڈپلومہ کر رہا ہے۔ یقینا اس کے بہت سے خواب ہوں گے، یہ کہ اچھی انگریزی لکھ اور بول کے کوئی اچھی نوکری یا پیسے کمانے کے لیے بیرون ملک جائےگا۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

salman-taseer-vigil-attack-m-iftikhar

سب سے پہلے حملہ کرنے والا اور نقاب اوڑھ کر تقریب کی جاسوسی اور ادھیڑ عمر خاتون پر تشدد کرنے والا یہ نوجوان محمد افتخار ہے۔ آپ پڑھ کے حیران ہوں گے کہ یہ نوجوان لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ایم بے اے کر رہا ہے اور آخری سمسٹر میں ہے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

salman-taseer-vigil-attack-vazir-ali

اور یہ وزیر علی ہیں جو فرقان کی طرح چارٹڈ اکاونٹنٹ بن رہے ہیں۔ ان کا خاندان ان سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھا ہے کہ جب وزیر علی چارٹڈ اکاونٹنٹ بن جائے گا تو اس کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کسی کو یاد بھی نہیں ہوں گے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

salman-taseer-vigil-attack-usman

یہ عثمان ہیں، حال ہی میں ماسٹرز تک تعلیم مکمل کی ہے اور اب نوکری ڈھونڈ رہے ہیں۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

salman-taseer-vigil-attack-kashif-munir

یہ نوجوان کاشف منیر ایک بچی کا باپ اور گریجویٹ ہے۔ اس کی بچی کی عمر بھی اتنی ہی ہے جتنی اس تقریب میں شریک ایک اور چھوٹی سی بچی کی۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

laaltain-featured-mumtaz-sindhi

اور یہ ہیں ممتاز سندھی صاحب جو ان پڑھے لکھے نوجوانوں کی قیادت کررہے تھے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

آخری خبریں آنے تک محمد عدیل ، محمد فرقان، محمد افتخار اور وزیر علی کو پولیس گرفتار کر چکی اور ان کا انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر چار سے ریمانڈ لے کر ان سے تفتیش کر رہی ہے تاکہ دیگر ملزمان کو گرفتار کیا جاسکے۔ ممتاز سندھی سمیت تمام اکابرین روپوش ہیں۔

 

 

حملہ آوروں کی ذہنیت؟
نبی پاکﷺ سے عقیدت کا دم بھرنے والی پاکستان کی بریلوی اکثریت کو سوچنا ہو گا کہ کیا عدیل، فرقان، افتخار اور وزیر جیسے لوگ ان کی نمائیندگی کر سکتے ہیں؟
مذہبی اکابرین نے سلمان تاثیر مرحوم کے تشخص کو اتنا مسخ کیا ہے کہ تنقیدی شعور سے عاری اور تقلیدی رویہ رکھنے والے ہمارے نوجوان بغیر یہ سمجھے کہ آخر سلمان تاثیر کہتا کیا تھا، یک لخت جنونی کیفیت میں آ جاتے ہیں۔
اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ ہمارے نبی پاک کی ناموس کے لیے بنائے گئے ایک قانون میں قانون بنانے والوں نے اتنے سقم چھوڑے ہیں کہ لوگ اس کو مذہبی منافرت اور ذاتی دشمنیوں کے لیے بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس قانون کے تحت مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ہی تمام ریاستی مشینری بے بس ہو جاتی ہے۔ مقدمہ صحیح درج ہوا کہ غلط، جس پر مقدمہ ہو گیا وہ گویا مر گیا۔ تو کیا آپ اس قانون میں مناسب اور مثبت بہتری کا مطالبہ نہیں کریں گے کہ کوئی ناحق نہ مرے اور اس قانون کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے؟ یہی بات کہنے پر سلمان تاثیر نے جان دی۔ ایک بہتر قانون بنانے کی آواز بلند کرنا ہی ان کی موت کا سبب ٹھہرا۔ اور اب تو ان کی برسی پر ان کی کوششوں کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی جنونیت کو دعوت دینے کے مترادف ٹھرا ہے۔
سلمان تاثیر کے قاتل اور ان کی برسی پر حملہ کرنے والوں کی فرقہ وارانہ وابستگی ہمارے ملک کے سب سے بڑے مکتبہ فکر بریلویت سے ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف اس مسلک کو ماننے والے طالبان کی درندگی کا شکار ہیں اور دوسری طرف ان میں سے کچھ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے طالبان کے طریقہ کار کی تقلید کو ترجیح دیتے ہیں۔
نبی پاک سے عقیدت کا دم بھرنے والی پاکستان کی بریلوی اکثریت کو سوچنا ہو گا کہ کیا عدیل، فرقان، افتخار اور وزیر جیسے لوگ ان کی نمائیندگی کر سکتے ہیں؟ کیا تشدد اور دہشت کا راستہ رحمت العالمین سے محبت کے اظہار کا طریقہ ہو سکتا ہے؟