Categories
نقطۂ نظر

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

youth-yell-featuredایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی باتوں، فرسودہ سوچوں اور جوشیلے نعروں پر لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں وہاں عقل و دانش رکھنے افراد کا گزارا مشکل ہوتا ہے اور اگر ایسے حضرات باہمت ہوں اور جہلاء کے گروہ کے سامنے جھکنے سے انکار دیں تو انہیں اسی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا سامنا سلمان تاثیر کو کرنا پڑا۔ سابق گورنر پنجاب نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے بے بنیاد الزام سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے توہین مذہب اور توہین رسالت کے موجودہ قانون پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پانچ برس قبل ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے سپاہی ممتاز قادری نے ان کی جان لے لی۔ سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟ کیا وہ اس مذہبی ‘استحقاق’ کی بنیاد پرجب چاہیں گے، جیسی چاہیں گے مذہب کی تشریح کریں گے اور لوگوں کی جان ہتھیا لیں گے؟ یا ریاست اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ کیا توہین مذہب کے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرتے رہیں گے یا قانون کے اطلاق اور جرم کے تعین کا عدالتی فریضہ ریاست سرانجام دے گی؟ قانون کا اطلاق، جرم کی تفتیش اور سزا ریاست کا کام ہے نا کہ مسلح جتھوں یا شدت پسند جماعتوں کا۔

 

سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟
ممتاز قادری کی سزائے موت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سلمان تاثیر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر تنقید اور بہتری کی گنجائش کی بات کرنا ہرگز توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔ وہ گروہ اور افراد جو ممتاز قادری جیسے مجرم کو ہیرو بنائے بیٹھے ہیں وہ درحقیقت آنکھیں بند کر کے مذہبی چورن فروشوں کے پھیلائے پراپیگنڈا کا شکار نظر آتے ہیں۔ ممتاز قادری ایک نیم خواندہ اور دل شکستہ شخص تھا جو ایک لڑکی کی محبت میں دل گرفتہ قاری حنیف کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہو کر یہ قدم اٹھا بیٹھا۔ مذہبی صنعت کے ان داتا اور ٹھیکیدار اس بہیمانہ قتل پر اسے ایک ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

 

آپ اگر سلمان تاثیر سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کو مسلمان نہ ہونے کے سرٹیفیکس دینے لگیں گے۔ آپ کو بھی دھمکیوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ممتاز قادری کے مداحین کی اکثریت نہ تو اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف ہے اور نہ توہین رسالت کے قانون پر سلمان تاثیر کی تنقید سے۔ یہ خواتین و حضرات ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کے قتل کو درست قرار دے کر اپنا ذہنی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

سلمان تاثیر پاکستان میں متوسط طبقے کے کسی بھی شخص کے لیے عام زندگی میں ترقی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جنہوں نے ایک معمولی سی اکاؤنٹ فرم سے کیرئر کا آغاز کر کے اسے ملک کی سب سے بڑی کمپنی بنا ڈالا اور سیاست میں آنے کے بعد اس کی ملکیت سے دستبردار بھی ہو گئے۔ دوسری جانب قاری حنیف اور ممتاز قادری جیسے لوگ ہیں جنہوں نے سوائے نفرتیں پھیلانے اور قتل وغارت گری کے اس معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کوئی مقدس شے نہیں بلکہ روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ اور تجارت ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے ابھی معاشرے میں بے حد کام کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا ماخذ مذہبی اجارہ دار ہیں جو محض چند روپوں اور مذہب پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ ماضی میں حدود کے قوانین کا بھی اسی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جیسے اب توہین مذہب کے قوانین کا کیا جارہا ہے۔

 

سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔
جیل سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی درخواستیں کرتا ممتاز قادری خود سلمان تاثیر کے بے گناہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، لیکن قاری حنیف جس کی مشتعل تقریر سے یہ دل سوز واقعہ پیش آیا تھا ابھی بھی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے، بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر آ کر مذہب پر بحث کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسیہ بی بی جس کے حق میں سلمان تاثیر مرحوم نے آواز بلند کی تھی آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہی ہے۔ انسانیت کی توہین ہر لمحہ اور ملک کے ہر گوشے میں ہوتی ہے لیکن اس پر بولنے والا کوئی نہیں۔ جس معاشرے میں مذہبی مباحث کا مقصد مذہب کے نام پر دوسروں کو کافر قرار دینا، جہاد اور قتال پر اکسانا اور جنت میں مباشرت کے لذائذ کی تبلیغ ہو وہاں مثبت مذہبی فکر کی افزائش کیوں کر ممکن ہے؟ وہاں تعمیری دماغ تو پنپنے سے رہے، ایڈیسن یا سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ تو سامنے آنے سے رہے البتہ ممتاز قادریوں اور قاری حنیف جیسے جہلاء کے لیے یہ معاشرے بے حد زرخیز ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ایسے ہی طبقات کے اندھے مذہبی جنون کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ایسی ہی سوچ کے خاتمے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

 

ممتاز قادری اور قاری حنیف جیسے لوگ اس کھیل میں محض مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گھناونا کھیل کھیلنے والے مذہبی شدت پسند گروہ طاقت کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کے بل پر اس مکروہ کاروبار کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ سوال کی نعمت سے محروم کروڑوں بنجر بنجر ذہن اور اندھے عقیدت مند وہ کندھے ہیں جن پر چڑھ کر یہ اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ یوں شدت پسندی اور اقلیتوں کو بزور طاقت دبانے کا یہ گھناؤنا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ مذاہب انسانوں کو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتارے گئے تھے نا کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے یا ختم کرنے۔ سلمان تاثیر کی بے گناہی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ثابت کر دی لیکن وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی سوچوں میں ممتاز قادری اور قاری حنیف ہیں وہ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو، اور یہ سوچ اس معاشرے کے لیے سب سے خطرناک سوچ ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو فکر ممتاز قادری جیسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جان لینے پر اکساتی ہے وہ آج کروڑوں لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔ معاشرے میں اس سوچ کا پروان چڑھنا ایک مستقل خطرہ ہے۔ خوف کی وجہ سے اس سوچ کے تدارک کے لیے شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے سوا ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سےکبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سوچ کے حامل افراد کو جدید دنیا سے روشناس کرانے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ یہی ذہن جو اس شدت پسندی کے ہاتھوں بنجر اور ویران ہو رہے ہیں انہیں اذہان کی مدد سے ہم اس شدت پسندی کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں اس تعصب، بنیاد پرستی اور نرگسیت کی دلدل سے نکال سکتے ہیں اور مذہبی چورن فروشوں کا گھناونا کاروبار بھی بند کر سکتے ہیں۔ کم سے کم آنے والی نسلوں تک تو یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور زندگی کا مقصد کسی بھی مذہب کے نام پر کسی کو مارنا یا خود مرنا نہیں۔ شدت پسندی کے خمیر سے گُندھے معاشرے میں کس طرح سے اپنے آپ کو مذہبی منافرت سے بچا کر خود کو ایک تعمیر پسند شہری بنانا ہے، اس کا ادراک بھی آنے والی نسلوں کو کرانا بے حد ضروری ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشدد اور عدم برداشت کو ناپسند فرماتے تھے۔ توہین مذہب کے موجودہ قوانین اور ان کے تحت سزا کے غیرمنصفانہ ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن اس قانون کے غلط استعمال اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہم سب کو متفق ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جواز کے تحت قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

 

سلمان تاثیر نے اس قانون پر تنقید کی تھی جسے ایک آمر نے اقلیتوں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ترمیم کے ساتھ آئین پاکستان میں شامل کیا تھا اب ہمیں اس قانون پر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔ سلمان تاثیر جیسے لوگ کسی مخالفت کی پرواہ کرتے ہی کب ہیں ان جیسے لوگ اپنے ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں جو بلا خوف وخطر سچائی کے لیے سب کچھ داو پر لگا دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت ممتاز قادری جیسے افراد کی یا تو حامی ہے، یا ہمدرد یا خاموش ہے، معدودے چند سلمان تاثیر جیسے بے باک افراد ہی سامنے آ کر ظلم کو ظلم قرار دینے کی جرات کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ،اکثریت کی رائے اور اکثریت کا چلن دیکھ کر سچ کی نشاندہی سے گریز کسی طرح درست نہیں برٹرینڈ رسل کے بقول:

“The fact that an opinion has been widely held is no evidence whatever that it is not utterly absurd; indeed in view of the silliness of the majority of mankind, a widely spread belief is more likely to be foolish than sensible.”

لیکن ایک سچ کی خاطر سر کٹانے والے جتنے بھی کم ہو ان کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیض احمد فیض)

Image: Umair Vahidy

Categories
نقطۂ نظر

توہین رسالت کی سزا کی شرعی حیثیت

توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ مائدہ کی اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا بیان فرمائی ہے اور اُس کے رسول کی توہین و تحقیر بھی محاربہ ہی کی ایک صورت ہے۔ آیات یہ ہیں:

 

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ، ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.

 

“جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں یا سولی پر چڑھا ئے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔” سورہ المائدہ ، آیت نمبر 33-34
قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔

 

اِس قانون کے ماخذ سے متعلق دوسرے نقطہ ہاے نظر کی طرح یہ راے بھی ہمارے نزدیک محل نظر ہے۔ اولاً، اِس لیے کہ آیت میں ’یُحَارِبُوْنَ‘کا لفظ ہے۔ یہ لفظ تقاضا کرتا ہے کہ آیت میں جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ اُسی صورت میں دی جائیں جب مجرم سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ آدمی الزام سے انکار کرے یا اپنی بات کی وضاحت کر دے اور اُس پر اصرار نہ کرے تو لفظ کے کسی مفہوم میں بھی اِسے محاربہ یا فساد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ثانیاً، اِس لیے کہ اقرار و اصرار کے بعد بھی مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ اور رجوع کر لے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ اُس پر حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ توبہ کرلینے والوں کو یہ سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔ اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کارروائی سے پہلے اُنھیں توبہ و اصلاح کی دعوت دینی چاہیے اور بار بار توجہ دلانی چاہیے کہ وہ خدا و رسول کے ماننے والے ہیں تو اپنی عاقبت برباد نہ کریں اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور ماننے والے نہیں ہیں تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں اور اِس جرم شنیع سے باز آجائیں۔ ثالثاً، اِس لیے کہ آیت کی رو سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اُنھیں قتل ہی کیا جائے۔ اُس میں یہ گنجایش رکھی گئی ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو عدالت اُسے کم تر سزا بھی دے سکتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو علاقہ بدر کر دیا جائے۔ اِس وقت جو قانون نافذ ہے، اِن میں سے کوئی بات بھی اُس میں ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ وہ مجردشہادت پر سزا دیتا ہے، اُس میں انکار یا اقرار کو بھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا آیت تقاضا کرتی ہے، سرکشی اور اصرار بھی ضروری نہیں ہے، دعوت و تبلیغ اور اِس کے نتیجے میں توبہ اور اصلاح کی بھی گنجایش نہیں ہے، اُس کی رو سے قتل کے سوا کوئی دوسری سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔ علما اگر آیت محاربہ کو قانون کا ماخذ مان کر اُس کے مطابق ترمیم کے لیے راضی ہو جائیں تو اِس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ تمام اعتراضات ختم ہو جائیں گے جو اِس وقت اِس قانون پر کیے جا رہے ہیں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔ آیت محاربہ کے مطابق ترمیم کر دی جائے تو قرآن کا یہ تقاضا پورا ہو جائے گا۔ پھر یہی نہیں، قانون بڑی حد تک اُس نقطۂ نظر کے قریب بھی ہو جائے گا جو فقہ اسلامی کے جلیل القدر امام ابو حنیفہ اور جلیل ا لقدر محدث امام بخاری نے اختیار فرمایا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی نقطۂ نظر اِس معاملے میں قرین صواب ہے۔ ریاست پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے، لیکن باعث تعجب ہے کہ قانون سازی کے موقع پر اُن کی راے یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قانون قرآن کے بھی خلاف ہے، حدیث کے بھی خلاف ہے اور فقہاے احناف کی راے کے بھی خلاف ہے۔ اِسے لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

 

توہین رسالت کی سزا کے جو واقعات بالعموم نقل کیے جاتے ہیں، اُن کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ ابو رافع اُن لوگوں میں سے تھا جو غزوۂ خندق میں قبائل کو مدینہ پر چڑھا لانے کے مجرم تھے۔ ابن اسحاق کے الفاظ میں ، ’فیمن حزب الاحزاب علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘۔کعب بن اشرف کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد اُس نے مکہ جا کر قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے جن میں انتقام کی ترغیب تھی ، مسلمان عورتوں کا نام لے کر تشبیب لکھی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے آپ کے خلاف لوگوں کو بر انگیختہ کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض روایتوں کے مطابق آپ کو دھوکے سے قتل کر دینا چاہا۔ عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے بھیجا۔ اُس کے ساتھ ایک انصاری اور ایک مسلمان خادم بھی تھا۔ راستے میں حکم عدولی پر اُس نے خادم کو قتل کر دیا اور مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا۔ پھر یہی نہیں، یہ تینوں خدا کے رسول کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود آپ کی تکذیب پر مصر رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون قرآن میں جگہ جگہ بیان فرمایا ہے کہ رسولوں کے براہ راست مخاطبین عذاب کی زد میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ معاندت پر اتر آئیں تو قتل بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ محض توہین کے مجرم نہیں تھے، بلکہ اِن سب جرائم کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ لہٰذا اِنھی کی پاداش میں قتل کیے گئے۔ عبداللہ بن خطل ایک خونی مجرم تھا۔ اُس کے بارے میں اِسی بنا پر حکم دیا گیا کہ کعبے کے پردوں میں بھی چھپا ہوا ہو تو اُسے قتل کر دیا جائے۔ اِسی طرح کے مجرم تھے جن کا ذکر سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ خدا کے پیغمبر سے مسلمانوں کو برگشتہ اور بدگمان کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ بالکل برباد کر دینے کے لیے یہ اُن کی خانگی زندگی کے بارے میں افسانے تراشتے، بہتان لگاتے اور اسکینڈل پیدا کرتے تھے، ازواج مطہرات سے نکاح کے ارمان ظاہر کرتے تھے، مسلمانوں میں گھبراہٹ پھیلانے اور اُن کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کی افواہیں اڑاتے تھے، مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو اُن کے درپے آزار ہوتے اور اِس پر گرفت کی جاتی تو اِس طرح کے بہانے تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر اُن سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی۔ اِن کے بارے میں یہ سب چیزیں قرآن کے اشارات سے بھی واضح ہیں اور روایتوں میں بھی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ مسلمان عورتیں اپنی کوئی چادر اوپر ڈال کر باہر نکلیں تاکہ لونڈیوں سے الگ پہچانی جائیں اور اُن کو ستانے کے لیے یہ اِس طرح کے بہانے نہ تراش سکیں۔ نیز فرمایا کہ یہ اشرار بھی متنبہ ہو جائیں کہ اِن حرکتوں سے باز نہ آئے تو عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے:

 

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا، مَّلْعُوْنِیْنَ، اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا.

 

ترجمہ: “یہ منافق اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بھی جو مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اِن کے خلاف تمھیں اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے۔ اِن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے۔” سورہ الاحزاب، آیت نمبر 60-61
کعب بن اشرف کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد اُس نے مکہ جا کر قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے جن میں انتقام کی ترغیب تھی ، مسلمان عورتوں کا نام لے کر تشبیب لکھی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے آپ کے خلاف لوگوں کو بر انگیختہ کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض روایتوں کے مطابق آپ کو دھوکے سے قتل کر دینا چاہا۔

 

اِن کے علاوہ جو واقعات سنائے جاتے ہیں، وہ اگرچہ سند کے لحاظ سے ناقابل التفات ہیں، لیکن بالفرض ہوئے ہوں تو اُن کی نوعیت بھی یہی سمجھنی چاہیے کہ منکرین کے سب و شتم سے اُن کی معاندت پوری طرح ظاہر ہو جانے کے بعد رسولوں کی تکذیب کا وہ قانون اُن پر نافذکر دیا گیا جو قرآن میں ایک سنت الٰہی کی حیثیت سے مذکور ہے۔ بعض مقتولین کے خون کو ہدر قرار دینے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ’ لا یقتل مسلم بکافر‘ اِسی کا بیان ہے۔ علما اِن حقائق سے واقف ہیں، لیکن اِس کے باوجود اُن کا اصرار ہے کہ اِن واقعات سے وہ توہین رسالت کا قانون اخذ کریں گے۔ یہاں ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اُس قصے سے بھی استدلال کرنا چاہے جو سیدنا عمر کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر اُنھوں نے ایک شخص کی گردن اڑا دی تھی۔ ہمارے علما یہ واقعہ منبروں پر سناتے اور لوگوں کو بالواسطہ ترغیب دیتے ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکبین کے ساتھ وہ بھی یہی سلوک کریں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے پہلے، دوسرے ، یہاں تک کہ تیسرے درجے کی کتابیں بھی اِس واقعے سے خالی ہیں۔ ابن جریر طبری ہر طرح کی تفسیری روایتیں نقل کر دیتے ہیں، مگر اُنھوں نے بھی اِسے قابل اعتنا نہیں سمجھا۔یہ ایک غریب اور مرسل روایت ہے جسے بعض مفسرین نے اپنی تفسیروں میں نقل ضرور کیا ہے ،لیکن جن لوگوں کو علم حدیث سے کچھ بہرہ حاصل ہے ، اُنھوں نے وضاحت کر دی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس کی سند بالکل واہی ہے اور ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم کی سندوں میں اِس کا راوی ابن لہیعہ ضعیف ہے۔اِس کے بارے میں یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ مفسرین سورۂ نساء (۴) کی آیت ۶۵ کی شان نزول کے طور پر یہی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ نساء کی یہ آیت اگرچہ کسی شان نزول کی محتاج نہیں ہے، تاہم جو واقعہ امام بخاری اور دوسرے ائمۂ محدثین نے اِس کی شان نزول کے طور پر بیان کیا ہے اور جسے مفسرین بالعموم نقل کرتے ہیں، وہ اِس کے برخلاف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر کا ایک انصاری سے پانی پر اختلاف ہو گیا۔ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ زبیر اپنے کھیت کو سیراب کرکے باقی پانی اُس کے لیے چھوڑ دیں گے۔ اِس پر انصاری نے فوراً کہا: یا رسول اللہ، اِس لیے نا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟ یہ صریح بے انصافی اور اقرباپروری کا اتہام اور انتہائی گستاخی کی بات تھی۔ چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر آپ نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنی بات مزید وضاحت کے ساتھ دہرا دی اور فرمایا کہ کھیت کی منڈیر تک پانی روک کر باقی اُس کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ علماکو حسن انتخاب کی داد دینی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو و درگذر اور رأفت و رحمت کی یہ روایت تو اُنھوں نے نظر انداز کر دی ہے، دراں حالیکہ یہ بخاری و مسلم میں مذکور ہے اور حضرت عمر کے گردن ماردینے کی ضعیف اور ناقابل التفات روایت ہر جگہ نہایت ذوق و شوق کے ساتھ سنا رہے ہیں۔

 

توہین رسالت کی سزا کے بارے میں جمہور فقہا کی راے کیا خاص اِس سزا سے متعلق قرآن و حدیث کے کسی حکم پر مبنی ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اِس کی بنا ارتداد اور ذمیوں کے لیے نقض عہد پر قائم کی گئی ہے۔ فقہا یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو مرتد ہو جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح غیر مسلم ذمی اِس کا مرتکب ہو گا تو اُس کے لیے عقد ذمہ کی امان ختم ہو جائے گی اور اِس کے نتیجے میں اُسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ اِس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سورۂ توبہ (۹)کی آیت ۲۹ میں غیر مسلم اہل کتاب کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے محکوم اور زیردست بن کر رہنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اُنھیں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی ذمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب و شتم کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اِس کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ سرکشی پر اتر آیا ہے اور محکوم اور زیردست بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فقہ اسلامی میں اِس استدلال کی ابتدا غالباً عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اِس راے سے ہوئی ہے، اُن کا ارشاد ہے:

 

ایما مسلم سب اللّٰہ ورسولہ او سب احدًا من الانبیاء، فقد کذب برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وھی ردۃ یستتاب، فان رجع والاقتل، وایما معاہد عاند فسب اللّٰہ او سب احدًا من الانبیاء وجھر بہ،فقد نقض العھد فاقتلوہ.

 

“جو مسلمان اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یا نبیوں میں سے کسی دوسرے نبی پر سب و شتم کرے گا، وہ رسول اللہ کی تکذیب کا مرتکب ہو گا۔ یہ ارتداد ہے جس پر اُس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا۔ اگر رجوع کر لیتا ہے تو چھوڑ دیا جائے گا اور نہیں کرتا تو قتل کر دیا جائے گا۔ اِسی طرح غیرمسلم معاہدین میں سے کوئی شخص اگر معاند ہو کر اللہ یا اللہ کے کسی پیغمبر پر علانیہ سب و شتم کرتا ہے تو عہد ذمہ کو توڑنے کا مجرم ہو گا، تم اُسے بھی قتل کر دو گے۔” زاد المعاد، ابن قیم 379/4

 

منکرین حق کے خلاف جنگ اور اِس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے اُنھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اِس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

 

فقہا کے نزدیک سزا کی بنیاد یہی ہے، لیکن قرآن و حدیث پرتدبر سے واضح ہو جاتا ہے کہ دور صحابہ کے بعد یہ بنیاد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنی کتابوں، ’’میزان‘‘ اور ’’برہان‘‘ میں پوری طرح مبرہن کر دیا ہے کہ ارتداد کی سزا اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھی جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا اور آپ پر ایمان لانے کے بعد وہ کفر کی طرف پلٹ گئے۔ اُن کے بارے میں خدا کا فیصلہ یہی تھا کہ اگر کفر پر قائم رہیں گے تو اُس کی سزا بھی موت ہے اور ایمان لے آنے کے بعد دوبارہ کفر اختیار کریں گے تو اُس کی سزا بھی موت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ (جو شخص اپنا دین تبدیل کرے ، اُسے قتل کر دو) اُنھی سے متعلق ہے۔ اُن کے لیے یہ سزا اُس سنت الٰہی کے مطابق مقرر کی گئی تھی جو قرآن میں رسولوں کے براہ راست مخاطبین سے متعلق بیان ہوئی ہے۔ زمانۂ رسالت کے بعد پیدا ہونے والے مسلمانوں سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نقض عہد کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اب دنیا میں نہ کوئی ذمی ہے، نہ کسی کو ذمی بنایا جا سکتا ہے۔ سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۲۹ اتمام حجت کے اُسی قانون کی فرع ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ چنانچہ منکرین حق کے خلاف جنگ اور اِس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے اُنھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اِس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مسلمان ریاستوں کے غیر مسلم شہری نہ اصلاً مباح الدم ہیں، نہ ذمی ہیں اور نہ کسی امان کے تحت رہ رہے ہیں جس کے اُٹھ جانے کی صورت میں اُن کے بارے میں قتل کا حکم دیا جائے۔ یہ سب چیزیں اب قصۂ ماضی ہیں۔ اِنھیں کسی لحاظ سے بھی بناے استدلال نہیں بنایا جا سکتا۔ اِس کے بعد دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں: ایک یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی جائے اور تعزیر کے طور پر کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے۔ یہی دوسری صورت ہے جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ مائدہ کی اِن آیتوں کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی جائے گی تو یہ تین چیزیں لازماً ملحوظ رکھنا ہوں گی، قرآن کے الفاظ اِس کا تقاضا کرتے ہیں: ۱۔ توہین کے مرتکب کو توبہ و اصلاح کی دعوت دی جائے گی اور باربار توجہ دلائی جائے گی کہ وہ خدا اور رسول کا ماننے والا ہے تو اپنی عاقبت برباد نہ کرے اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور ماننے والا نہیں ہے تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے اور اِس جرم شنیع سے باز آجائے۔ ۲۔ اُس کے خلاف مقدمہ صرف اُس صورت میں قائم کیا جائے گا، جب وہ توبہ اور رجوع سے انکار کر دے؛ سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛ فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور باربار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ ۳۔ سزا میں گنجایش رکھی جائے گی کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو قتل جیسی انتہائی سزا کے بجاے اُسے کوئی کم تر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

 

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

(پاکستان میں توہین مذہب کے قوانینی کی شرعی حیثیت پر یہ مضمون معروف عالم دین اور دانش ورجاوید احمد غامدی نے تصنیف کیا ہے اور ان کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ ہم غامدی صاحب اور ان کے ادارہ المورد کے عملہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہ مضمون لالٹین کے قارئین کے لئے اپ لوڈ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ )
یہ مضمون جاوید احمد غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر پڑھنے کیلیے مندررجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-1/ur

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-2/ur

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-3/ur