Categories
اداریہ

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

مردان میں مشعل خان کا بہیمانہ قتل محض ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ مذہب کی ایسی تشریحات کا انسانیت سوز اظہار ہے جو عقیدے کو انسانیت سے مقدم قرار دیتی ہیں۔ مذہبی طبقات کی جانب سے حرمت رسول اور تقدیس مذہب کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے زیادہ اہم ثابت کرنے کا رحجان پاکستان میں خونریزی کا باعث بن رہا ہے، ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی ایک جیتے جاگتے فرد کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز بخشنے کی بنیادی وجہ ہے۔ حرمت رسول و مذہب کی یہ گمراہ کن تعبیریں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے تابوت میں تبدیل کر رہی ہیں جہاں مذہبی معاملات میں اختلاف کرنے، تنقید کرنے اور سوال کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کوئی بھی کسی کو بھی محض توہین مذہب و رسالت کے الزام کے تحت نہ صرف قتل کر سکتا ہے بلکہ غازی اور شہید کا مرتبہ بھی پا سکتا ہے۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر جہاں ایک جانب ممتاز قادریوں کے جتھے بستیاں جلا رہے ہیں وہیں ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس ضمن میں قانون سازی سے گریزاں ہیں۔ریاست اور اس کے ادارے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ مذہب کی بنیاد پر خونریزی پر ابھارنے والوں کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ “گستاخانہ مواد” کی بناء پر گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں کے نفاذ کی کوششوں سے “گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” کے نعرے لگانے والوکی بیخ کنی نہیں کی جا سکی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی جتھے نے توہین مذہب و رسالت کا ہتھیار اٹھا کر گلے کاٹے ہوں، سلمان تاثیر، شمع اور شہزاد سمیت کتنے ہی لوگ توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ مذہبی تشریحات میں بنیادی اصلاحات کی متقاضی بھی۔ اسلام خواہ کتنا ہی سچا مذہب ہو، پیغمبر اسلام خواہ کتنے ہی محترم ہوں لیکن اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ محترم، مقدس اور اہم نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام پر تنقید، اعتراض اور طنز اشتعال انگیز ہو سکتے ہیں لیکن انہیں جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین مذہب اور گستاخی رسول گناہ یا جرم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بناء پر کسی کو قتل کرنے کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مردان میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کی بہیمانہ ہلاکت کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ مشعل خان یا ایسے ہی دوسرے لوگ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور امردان کا مشتعل ہجوم مجرم ہیں اور سخت سے سخت سزا کے مستحق بھی۔ لیکن محض چند قاتلوں کو سزا دے کر توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت روکا نہیں جا سکتا، اس مقصد کے لیے مذہب پر تنقید، اعتراض اور طنز کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے اور جان لینے کا درس دینے والے مبلغین کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا مذہب اور ان کے پیغمبر کسی بھی طرح تنقید، اعتراض اور طنز سے بالاتر نہیں، انہیں یہ ماننا ہو گا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تقدس کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس بناء پر کسی کی جان لینے کا اختیار انہیں نہیں، انہیں یہ باور کرنا ہو گا کہ ان کے مذہبی جذبات کا مجروح ہونا کسی جتھے کو مشتعل کر کے کسی کی جان لینے کا پروانہ نہیں۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت کی روک تھام کے لیے عموماً ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں مذہبی معاملات میں اختلاف رائے اور اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، مذہبی طبقات کی جانب سے احترام مذہب و رسول کو یقینی بنانے کے لیے ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی کی جاتی ہے، تاہم ریاست اور مذہبی طبقات پابندیوں یا قتل و غارت کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

Image: Newsweek

Categories
اداریہ

علم دین یا سر سید احمد خان-اداریہ

دو فروری 2015 کودہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کی منتخب اسمبلی میں غلام بلور کی طرف سے فرانسیسی ہفت روزہ شارلی ایبڈوپر حملہ آور دہشت گردوں کے لواحقین اور اس ہفت روزہ کے مالک کو قتل کرنے والے کے لیےانعامی رقم کا اعلان اور اس پر حزب اختلاف اور حکمران جماعت کی خاموشی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی ترویج کا نظریاتی عمل ابھی بھی سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔ پاکستان کی نسبتاً سیکولر اور روشن خیال جماعت کے رکن اور سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کی جانب سے اس سے قبل 2012 میں گستاخانہ فلم بنانے والے کو قتل کرنے والے کے لیے بھی ایک لاکھ ڈالر کی رقم کا اعلان کیا گیا تھا ۔حالیہ اجلاس میں ان کی جانب سے فرانسیسی ہفت روزہ پر حملہ آور دہشت گردوں کے لواحقین کو ایک لاکھ ڈالراور اس کے مالک کو قتل کرنے والے کے لیے دو لاکھ ڈالر انعامی رقم کا اعلان کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر کیے جانے والے اعتراضات کا علمی جواب دینے کی بجائے عدم برداشت، تشدد اور ہتھیار اٹھانے کا رویہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے علمی انحطاط اور عدم برداشت کا مظہر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر کیے جانے والے اعتراضات کا علمی جواب دینے کی بجائے عدم برداشت، تشدد اور ہتھیار اٹھانے کا رویہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے علمی انحطاط اور عدم برداشت کا مظہر ہے۔
غلام بلور صاحب کا یہ اعلان اور ایوان کی جانب سے اس پر خاموشی جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن کی بنیادپر پاکستان کا آئین انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ایک جمہوری حکومت کا جواز فراہم کرتا ہے۔ غلام بلور کی جانب سے کیا گیا اعلان ایک ایسی ریاست کا المیہ ہے جو ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ دوسری جانب ناموس رسالت اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ توہین رسالت کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے والوں کی حمایت اور ایسے جرائم میں ریاست کا کم زور رویہ مذہب اور توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر دہشت گردی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ غلام بلور اور معززاراکین ایوان یہ ادراک کرنے میں بقیہ پاکستان اور عالم اسلام کی طرح ناکام ہیں کہ شارلی ایبڈو پر کیا جانے والا حملہ پشاور حملے اورسانحہ شکار پور ہی کی طرح دہشت گردی کی کارروائی ہے ۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے اور اور تشدد پر اکسانے والے بھی مذہب اور مسلک کے نام پر دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں ہی کی طرح مجرم ہیں۔ ایسے حملوں میں ہلاک کیے جانے والے شہری بھی پشاور آرمی پبلک سکول اور شکار پور امام بارگاہ کے مقتولین کی طرح ہی ناحق مارے جانے والے ہیں اور ان حملوں کی بھی اتنی ہی مذمت کی جانی چاہیے۔
غلام بلور کا بیان، شارلی ایبڈو پر حملہ اور مسلم امہ کی جانب سے عمومی جذباتی ردعمل اسی شدت پسند اور متشدد سوچ کی غمازی کرتے ہیں جو گزشتہ کئی صدیوں سے مسلم قدامت پسندی اور فکری جمود کی وجہ ہے۔ مستشرقین اورغیر مسلموں کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر اعتراضات کا جواب دینے کا جو طریقہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم ، صحابہ اور تابعین نے اختیار کیا تھا علم دین،ممتاز قادری اور غلام بلورسمیت آج کے مسلمانوں کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اعتراضات کے جواب میں تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کا عمل قرآن کے طرز استدلال کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ یہ تابعین کے اس طرز عمل کے بھی خلاف ہے جس کے تحت انہوں نے عیسائی معترضین کو جواب دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی عقیدت کا اظہار احادیث، فقہ اور سیرت کی تدوین، ترتیب اور تشکیل سے کیا۔
اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اعتراضات کے جواب میں تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کا عمل قرآن کے طرز استدلال کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
مسلم مفکرین اور آئمہ کرام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اہل مغرب کے دل میں اسلام، مسلم برگزیدہ شخصیات اور مسلمانوں کے خلاف پایا جانے والا عناد اور بغض مسلم معاشرے میں قرآن، سنت اور سیرت کے حوالے سے مخلصانہ استفسار اور استدلال کے جواب میں تشدد اور قتال کے باعث ہی پیدا ہواہے۔ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند واقعات کو بنیاد بنا کر آزادی اظہار رائے اور تحقیق و ابلاغ کے ذرائع کومحدود کرنے کے عمل اور کوشش اہل مغرب کے اسلامو فوبیا سے مختلف نہیں جس کے تحت بعض افراد چند مسلمان دہشت گردوں کو وجہ بنا کر پورے عالم اسلام کو اور اسلام کو دہشت گرد قرار دینے پر تلے ہیں۔
غلام احمد بلور کی پیشکش اور پاکستان میں علم دین، ممتاز قادری اور کواچی برادران کے لیے پائی جانے والی عقیدت یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اورامت مسلمہ علم دین اور ممتاز قادری جیسے مجرموں کی سرپرستی کرنا چاہتے ہیں ناکہ سرسید جیسے عقلیت پسندوں اور مفکروں کی۔ سر ولیم میور کی کتاب Life of Muhammad کے جواب میں خطبات احمدیہ کی تصنیف اور حیات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ پر مستشرقین کے اعتراضات کے جواب میں شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی کی سیر ت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی لازوال تصانیف اسی آزادی اظہار رائے ہی کی بدولت ممکن ہو سکی ہیں جو محض مغرب کی نہیں بلکہ ہر علم دوست معاشرے کی بنیاد ہے۔
مسلم امہ کا شاندار ماضی اور عالمگیر غلبہ تلوار یا بندوق کی بدولت نہیں بلکہ اموی دور میں فقہی اختلاف کی آزادی اور عباسی دور کی عقلی تحریک کی بدولت تھا جس کے باعث مسلم مفکرین نے تہذیب انسانی کے ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
امت مسلمہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اسامہ بن لادن، ملا عمر،علم دین اور ممتاز قادری جیسے تشدد پسند پیدا کرنا چاہتی ہے یا سر سید، شبلی نعمانی اور سلیمان ندوری جیسے مفکرین کی سرپرستی کرنا چاہتی ہے۔مسلم امہ کا شاندار ماضی اور عالمگیر غلبہ تلوار یا بندوق کی بدولت نہیں بلکہ اموی دور میں فقہی اختلاف کی آزادی اور عباسی دور کی عقلی تحریک کی بدولت تھا جس کے باعث مسلم مفکرین نے تہذیب انسانی کے ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ یہ وہی آزادی اظہار رائے ہے جس کی بدولت بزرگان دین نے فقہ، مسلک اور فکر کی بنیاد پر اختلاف کیا اور اس اختلاف کو برداشت کرنا سیکھا اور اسی آزادی اظہاررائے کے تحت دین ہم تک پہنچا ہے اور آج دنیا بھر میں اس کی تبلیغ کی جا رہی ہے۔ تشدد پر اکسانے، دہشت گردی کی سرپرستی اور اظہار رائے کی آزادی کو محددود کرنے کے مطالبے کی بجائے برداشت، تحقیق اور اظہاررائے کی آزادی کے استعمال سے مغرب کے اعتراضات کا بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔