Categories
اداریہ

ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ

پسرور میں تین خواتین کی جانب سے توہین رسالت کے نام پر ایک شخص کو قتل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست، آئین اور انسانی حقوق کے لیے اگلا خطرہ ناموس رسالت و مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی ہے۔ ریاست پہلے ہی نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کی علمبردار مذہبی تشریحات کی بنیاد پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے، ایسے میں ناموس رسالت یا حرمت اسلام کے نام پر آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزیوں کا متواتر ارتکاب ریاست کے لیے مذہبی دہشت گردی کا ایک جان لیوا مظہر ہے۔

احیائے خلافت اور نفاذ اسلام کی طرح ناموس رسالت کا تحفظ بھی ایک ایسے دہشت گرد بیانیے اور مسلح جدوجہد کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے جو پاکستانی جمہوریت، آئین اور ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ولی خان یونیورسٹی مردان اور پسرور میں توہین رسالت کے الزام کے تحت کیے جانے والے بہیمانہ قتل اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حرمت رسول اور ناموس رسالت کا معاملہ بھی اب مذہبی عقیدت کی بجائے سیاسی اور معاشرتی اثرورسوخ کے حصول کا محرک بن چکا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں کیوں کہ ممتاز قادری کی صورت میں اس تحریک کو ایک ایسا شہید مل گیا ہے جو حب رسول کی گمراہ کن تعبیروں کو مزید عسکریت پسند بنا رہا ہے۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ اور توہین رسالت کی روک تھام کے لیے ہتھیار اٹھانے والوں کو بھی پاکستان کے مذہبی طبقات کی حمایت حاصل ہے، مذہبی طبقات ناموس رسالت کے تحفظ کے نام پر اس موضوع پر ہتھیار اٹھانے کی مدح سرائی کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ توہین رسالت کے نام پر قتل کرنے والے افراد تاحال مشتعل ہجوم یا انفرادی سطح پر قانون کو ہاتھ لینے والے ہیں، ابھی تک نفاذ اسلام یا احیائے خلافت کے لیے سرگرداں طالبان، القاعدہ یا داعش کی طرح منظم عسکری تنظیمیں میدان میں نہیں آئیں تاہم سرل المیڈا نے اپنی حالیہ تحریر میں ممتاز قادری کے مزار کے ایک نئی لال مسجد بننے کےجس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ حقیقی ہے اور بعید ازقیاس نہیں۔ یہ جمہوریت، آزادی فکر، انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کا ادراک کرتے ہوئے اس کا سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ مزید براں یہ کہ دہشت گردی کی یہ لہر صرف علاقائی خطرہ نہیں، شارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے الزام کے تحت کہیں بھی کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔

ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں نے اگر بروقت دہشت گردی کی اس نئی صورت سے درپیش خطرات کا ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو یہ واقعات شدت اختیار کریں گے۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر عملدرآمد کے حوالے سے یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا پھانسی کی سزا ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے واقعات روک سکتی ہے یا نہیں تاہم ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد سے یہ تاثر ضرور ملا تھا کہ ریاست حرمت رسول کے نام پر دیشت گردی کے واقعات سے آگاہ ہے اور ان کے سدباب کے لیے سنجیدہ بھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماجی رابطون کی ویب سائٹس پر مبینہ گستاخانہ صفحات کے حوالے سے سماعت اور توہین رسالت کے نام پر قتل و غارت کے متواتر واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس قتل و غارت کو اسی طرح جائز بالکہ مذہبی فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ طالبان، القاعدہ اور داعش نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کے نام پر قتل و غارت کو مذہبی حکم قرار دیتے ہیں۔

توہین رسالت و مذہب کے الزامات کے تحت تشدد اور دہشت گردی کی یہ لہر اس لیے بھی خوفناک ہے کیوں کہ یہ معاملہ پیغمبر اسلام کی حرمت کے نام پر قتل و غارت سے بہت جلد توہین اصحاب، توہین اہل بیت، توہین اولیاء اور توہین مذہبی شعائر کے نام پر قتل و غارت کی صورت اختیار کر لے گا، ریاست، حکومت اور معاشرے کو توہین رسالت و مذہب کے معاملے میں تشدد اور دہشت گردی کی ہر صورت کو مسترد کرنا ہو گا اور ممتاز قادری جیسے دہشت گردوں کو سزا دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وگرنہ یہ ناسور بھی بہت جلد طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے ایسے مسلح جتھوں کو جنم دے گا جو ختم نبوت، حرمت رسول یا تحفظِ اسلام کے نام پر ہمارے سکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بہیمانہ حملے کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

میرے والد کے قاتل کا جنازہ

[blockquote style=”3″]

آتش تاثیر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحب زادے ہیں۔ اپنے والد سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے سے متعلق ان کی یہ تحریر نیویارک ٹائمز اور ایکسپریس ٹریبون پر شائع ہوئی تھی جسے ترجمہ کر کے لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

میرے والد 2008 میں پنجاب کے گورنر بنے اور 2011 میں اپنے قتل کیے جانے تک اسی عہدے پر رہے۔ اس زمانے میں وہ توہین مذہب کے پاکستانی قوانین کی زد میں آ جانے والی ایک (بے گناہ) عیسائی عورت کے دفاع کے لیے کوشاں تھے۔ پاکستان کی سنی اکثریت، ملک میں بسنے والی دیگر مذہبی اقلیتوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے توہین مذہب و رسالت کے قوانین کا استعمال کرتی ہے۔ میرے والد نے ان قوانین کے خلاف آواز بلند کی، اور ٹی وی میزبانوں اور مذہبی علماء کے فتووں نے ان کی جان خطرے میں ڈال دی۔ بہت سے لوگوں کی نگاہ میں اس طرح سے وہ خود بھی توہین رسالت کے مرتکب ہو چکے تھے۔ جنوری کی ایک سہ پہر ان کے محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے انہیں اس وقت قتل کر دیا جب وہ دوپہر کا کھانا کھانے کو روانہ ہو رہے تھے۔

 

ممتاز قادری اس قتل کے بعد پورے ملک کا ہیرو بن گیا۔ اسلام آباد میں ایک مسجد بھی اس سے منسوب کر دی گئی۔ لوگ قیدخانے میں اس سے ملنے اور اس کی دعائیں لینے آتے تھے۔
ممتاز قادری اس قتل کے بعد پورے ملک کا ہیرو بن گیا۔ اسلام آباد میں ایک مسجد بھی اس سے منسوب کر دی گئی۔ لوگ قیدخانے میں اس سے ملنے اور اس کی دعائیں لینے آتے تھے۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنانے والے جج کو جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ مجھے لگا کہ میرے والد کے قاتل کو کبھی انصاف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

 

انصاف سے مایوسی کے اسی عالم میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ریاست کا رویہ تبدیل ہوتا دکھائی دینے لگا۔ گزشتہ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی سزائے موت برقرا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس برس کے آغاز میں صدر پاکستان نے بھی ممتاز قادری کی رحم کی اپیل مسترد کر دی، قانونی حوالوں سے رحم کی یہ اپیل وہ پہلا موقع تھا جب ممتاز قادری نے غلطی کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ اور پھر گزشتہ ماہ کی آخری تاریخ (29 فروری) کو ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد کی خبر موصول ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اس خبر پر عام لوگوں کا ردعمل کیا ہو گا؟

 

میں نے لاہور میں رہائش پذیر اپنی بہن سے بات کی۔ ہم پہلی مرتبہ پرامید تھے کہ اسلامی دہشت گردی کا شکار پاکستان شاید اب بدلنے والا ہے۔ پانچ برس قبل ممتاز قادری نے جب ہمارے والد کو قتل کیا تھا، تب سے اب تک بہت کچھ ہو چکا ہے۔ اس دہشت گردی کے باعث ہر حملے کے بعد لگاتار مزید حملے ہوتے رہے ہیں۔ دسمبر 2014 میں دہشت گردوں نے پشاور میں ایک سکول پر حملہ کیا جس میں 132 بچے اتل کر دیے گئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان اس خونریزی اور انتہاپسندی سے تنگ آ چکا ہو؟ کیا لوگ بالآخر یہ تسلیم کرنے کو تیار تھے کہ آسمانی اور شرعی قوانین کے نام پر قتل و غارت گری کرنے والے خود ہی منصف اور خود ہی حاکم بن جایا کرتے ہیں؟ کیا عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کی غارت گری سے اسلام پسندوں کا جوش و جذبہ ماند پڑا ہے؟ میں پرامید تھا کہ شاید ایسا ہو چکا ہے۔

 

ممتاز قادری کا جنازہ بانی پاکستان محمد علی جناح اور 2007 میں قتل کی جانے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے جنازوں سمیت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک ہے۔
لیکن جب بی بی سی کے ایک رپورٹر نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ میں نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے، ہمیں حکومت پاکستان کے موقف میں آنے والی سختی کو لوگوں کی خواہشات کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیئے۔ اگلے روز ممتاز قادری کا جنازہ ہے، جس سے رائے عامہ کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔

 

اور ایسا ہی ہوا۔

 

ملک ممتاز حسین قادری کو سفرآخرت پر روانہ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کا ہجوم راولپنڈی کی گلیوں میں امڈ آیا۔ ممتاز قادری کا جنازہ بانی پاکستان محمد علی جناح اور 2007 میں قتل کی جانے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے جنازوں سمیت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ سرکاری سطح پر منعقد کرایا گیا جنازہ نہیں تھا بلکہ لوگ میڈیا کوریج پر پابندی کے باوجود خود بخود اتنی بڑی تعداد میں اکٹھے ہوئے تھے ۔

 

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟ جنازے کے لیے اکٹھے ہونے والے لوگوں کا یہ ہجوم میرے والد سے نفرت کے اظہار کے لیے نکلا ہے یا ان کے قاتل سے محبت کی وجہ سے؟ یہ تمام لوگ ممتاز قادری سے متعلق اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ اس نے میرے والد کو قتل کیا ہے۔ میرے والد کا قتل کرنے سے پہلے ممتاز قادری ایک گمنام آدمی تھا، اور قتل کے بعد وہ جیل میں رہا۔ کیا تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس بڑے پیمانے پر سوگواران محبت کی بجائے نفرت کے اظہار کے لیے اکٹھے ہوئے تھے؟

 

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟
میں یہ بھی سوچتا رہا کہ تب کیا ہو گا جب نفرت آمیز نظریات صرف سعودی سرپرستی کے حامل ملاوں کے خطبات تک محدود نہیں رہتے بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں؟ ایسی صورت حال میں آپ کیا کر سکتے ہیں جب مذہبی پاگل پن چند مساجد یا مدارس تک محدود نہ رہے بلکہ بیس کروڑ کی آبادی کی زندگیوں میں شامل ہو جائے؟

 

اسلام کی مروجہ تشریح جس نے میرے والد کی جان لی وہ قرون وسطیٰ کا اسلام نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ روایتی اسلام بھی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر جدید اور موجودہ زمانے کا اسلام ہے کیوں کہ یہ اسلام کی ایک بالکل نئی شکل ہے۔ ایک ایسے جنازے کے مناظر دیکھتے ہوئے جس میں شریک لوگ مرنے والے سے محبت کی بجائے، اس شخص کی نفرت میں اکٹھے ہوئے تھے جسے مرنے والے نے قتل کیا تھا، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ راولپنڈی میں اکٹھے ہونے والوں کا ہجوم ہمارے زمانے کے انتہا پسند اسلام کا ایک ادنیٰ مظاہرہ تھا۔ اس ہجوم کو توانائی ان نظریات کی مخالفت اور نفرت سے مل رہی تھی جس کے یہ اسلام خلاف ہے؛ یہ اسلام اُس جدیدیت اور مغربی لبرل ازم کے خلاف ہے جس کے حق میں میرے والد کھڑے ہوئے اور انہوں نے توہین مذہب و رسالت کے قوانین کی مخالفت کی۔ میرا اس نتیجے پر پہنچنا ممتاز قادری کے جنازے میں شریک ہونے والے ایک لاکھ لوگوں کو معاف کرنا نہیں ہے بلکہ یہ یاددہانی کرانا ہے کہ یہ لوگ ہمارے ہی ساتھ ہمارے ہی آس پاس موجود ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

عسکریت انداز عُشّاق

بقول ان کے عاشق کا جنازہ تھا۔ دُھوم سے نکلنا واجب تھا۔ لا شک، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد جنازے میں شرکت کرنے پہنچ آئی۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے دُھوم کے تلازمے بدل چُکے۔ اب دُھوم تب برپا ہوتی ہے اور ہر طرح کے اجتماع تاریخ ساز تب ہی بنتے ہیں جب وہ نیوز چینلوں کی سکرینوں پہ ایک منظرِ مسلسل رہیں۔ وہ بڑے رنجیدہ خاطر ہیں کہ نیوز چینلوں نے جنازہِ عالی وقار نہیں دکھایا۔ اس موقعہ پر کوریج کرنے والے میڈیا کے نمائندوں پہ تشدد روا کر کے اس کا کسی حد تک بدلہ بھی لیا گیا۔ مقدر والے تھے کہ جان سے بچ گئے۔

 

آج کل میں، اس بِپھرے ہوئے وقت کے “اب” میں صاحبانِ فکر و ہوش کیا کریں۔ بقول اس پائمال مصرع کے نثری مفہوم کہ جب شہر کا شہر تازہ بہ تازہ مسلمان جو ہو گیا ہے۔ ابھی تو محض سرگوشیوں میں خیال آرائیاں ہی کر رہے ہیں۔ اونچا نہیں بول رہے کہ رنگ ابھی گاڑھا چڑھا ہوا ہے۔ آج کل بلند آہنگ میں اگر کوئی بول رہا ہے تو اظہارِ عشق کی لفظیات کے دستگیر۔

 

بڑا اجتماع تو بہت نحیف کو بھی شیر بنا دیتا ہے اور یہ تو پھر “قائد” لوگ ہیں؛ بڑے مجمعے سے فوراً انقلاب بھانپ لیتے ہیں۔ پہلے لفظوں، لہجے اور جسمانی حرکات سے ایک خونی نصاب مرتب کیا تھا ابھی ممتاز قادری کی مرقد پہ آنسوؤں کے نذرانے مہیا کر رہے ہیں۔
لاہور میں سن ستتر کی یاد تازہ کرنے کے تازیانے دکھائے جا رہے ہیں۔ لال مسجد سے برقعہ پوشی کی سنت کی اجتہادی شکلِ نو میں عدالت کو حلف نامہ دے کر جُل دینے والے، جناب مولانا حنیف قریشی اب کُھلے بندوں اپنی جانب سے ضرورت کے وقت کی روا رکھی عقل کا کفارہ ادا کررہے ہیں۔ بڑا اجتماع تو بہت نحیف کو بھی شیر بنا دیتا ہے اور یہ تو پھر “قائد” لوگ ہیں؛ بڑے مجمعے سے فوراً انقلاب بھانپ لیتے ہیں۔ پہلے لفظوں، لہجے اور جسمانی حرکات سے ایک خونی نصاب مرتب کیا تھا ابھی ممتاز قادری کی مرقد پہ آنسوؤں کے نذرانے مہیا کر رہے ہیں۔

 

امن پسند مکتبِ فکر کہلانے والے اب نبیِ رحمت (صلی اللہ علیہِ وسلم) کے عشق کے دعوٰی کی ڈھال میں “دیگروں” کی عشق کی کیفیت کی بابت سزا جاری کرنے کے آلات کو رگڑ رگڑ کر تازہ کر رہے ہیں، زنگ اتار رہے ہیں۔ مولانا کوکب نورانی کے پُرجوش لہجوں میں باور کرایا جا رہا ہے کہ “سُنی جاگ اٹھا ہے” اور اب کوئی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی نہیں کر سکے گا۔ وہ تو تجربہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں پہلے بھی کوئی گستاخی نہیں کر سکا اور نا ہی کرنے کی سوچتا ہے، البتہ گستاخی کا آلہ اپنے نفس کی خواہش کا اظہاریہ بنانے پہ ضرور مُکدر ہونے کی صدائیں بلند ہوتی رہی ہیں۔

 

لیکن یہاں تو مراد ہی کچھ اور محسوس ہو رہی ہے۔ یعنی وہی برحق ہوگا جس انداز و زاویہِ نظر یہ خود سوچیں گے، خود فردِ جُرم عائد کریں گے، گواہی تقریر کی لذت سے مہیا کر لیں گے؛ تعزیر کے لئے خود ہی کو منصف مقرر کر لیں گے۔ خود ہی فیصلہ دے دیں گے۔ خود ہی تعزیر اور خود ہی تعزیر کی عملدرآمد کا تارا بن جائیں گے۔ خود ہی اپنے آپ کو غازی اور رحمت اللہ علیہ قرار دے لیں گے۔ یہ چیز ہے جو پہلے سے جاری تشویش کو کئی چند کرتی ہے۔ تشویش کی جنم بھومی ہماری حالیہ تاریخ ہے۔ ہمارے ہاں عملوں پہ ردِعمل بڑے زہر ناک عمل در عمل میں ڈھل جاتے رہے ہیں۔ ہماری کہیں کی باج گذاریاں ہم پہ نئے عذاب بن جاتے رہے ہیں۔ مقامِ فکر ہے کہ ہمارے ملک کے باسی اپنے آپ کو ملک کا باسی کم اور کہیں آس پاس کا وفا شعار زیادہ جانتے ہیں۔

 

امن پسند مکتبِ فکر کہلانے والے اب نبیِ رحمت (صلی اللہ علیہِ وسلم) کے عشق کے دعوٰی کی ڈھال میں “دیگروں” کی عشق کی کیفیت کی بابت سزا جاری کرنے کے آلات کو رگڑ رگڑ کر تازہ کر رہے ہیں، زنگ اتار رہے ہیں۔
ایران میں انقلاب آیا تو پاکستان پاک نا رہا۔ اس کو از سرِ نو نہلانے دھلانے کی ترکیبیں سُوجھیں۔ اعانت اور رقوم مہیا کی گئیں۔ یہاں موجود خاص مکتبِ فِکر کی بابت زیادہ فِکر مغربی ہمسایہ کی نئی الہیاتی شاہیہ نے اپنے آپ کو سونپ لی۔ ردِعمل ہوئے یا عمل جاری تھے، پٹرول کے ڈالروں والوں نے بھی اپنے پیادے چُنے۔ کھیل چل نکلے، اور کھلواڑ ہونے لگے۔ اکھاڑے پاکستان میں، کھلاڑی پاکستان میں، سرپرست ہمسائے اور ہمسایوں کے ہمسائے۔ سر پرست رسّہ گیروں کی روایت میں لیکن اپنی نئی شکل میں ناخنوں پہ خاموش تالیاں بجانے اور تیر و تفنگ کی ذمے داری اپنے کندھوں پر اُٹھانے کو تیار تھے۔

 

رہی سہی کسر افغانستان کی جنگ نے پوری کر دی۔ اب سرمایہ داروں کے مقدس مقامات واشنگٹن، نیو یارک، لندن، پیرس کے اخباروں کے اصلی “مجاہدین” کے با حوصلہ و جگر مجاوروں نے ڈالر درختوں پہ اُگانے شروع کردئیے۔ جہاد دین و دنیا کی دولت کا ذریعہ بن گیا۔ رومانویت بغل گیر ہوگئی تعقل و عملیت پسندی سے۔

 

دس سالوں میں مجاہدین کے مقامی با اختیار ڈیلروں کی قسمت بدل گئی۔ ان پیدل سفر کرنے کی کوفت ختم ہوئی، لینڈ کروزریں عام ہوئیں۔ الحاد کی طاقت کا مظہر کمیونسٹوں کو “اِن گاڈ وِی ٹرَسٹ” اور “الحکم لِلّہ،الملک لِلہ” والوں نے چاروں شانے چِت کر دیا۔

 

اب “افغان باقی، کہسار باقی” کی مزید استعانت جاری رہی۔ شاید کسی “تزویراتی آڑ” (سٹرِیٹِجِک ڈیپتھ) کی حکایت کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لئے۔ لائے گئے طالبان آئے۔ آتے ہی انہوں نے کیا کیا؟ وہ خواب جس کی تکمیل کو صدیاں ترس رہیں تھیں، پورا ہونے لگا اور وہ خواب کی تعبیر اپنے انداز میں کرنے لگے۔ شریعت کے وہ ظاہری مظاہر جو احیاء پسندوں کے مرغوب ہیں وہ گردنیں کاٹ کے، حجاموں اور حماموں سے استروں کو غائب کرکے، چہرے کے بالوں کو دراز کر کے، لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کرا کے، دیگر تاریخی مذہبوں اور ثقافتی اظہاروں اور مظاہر کے بامیانوں کو پا بہ بارود کر کے۔

 

یہ اِنہی بدلے نصابوں کا عصرِ جدید ہے کہ اولیاء اور صوفیاء کے پیغام ہائے محبت کا انجذاب لئے، بریلوی طرزِ فکر والے، اب ممتاز قادری جیسے عسکریت انداز عشاق اٹھائیس اٹھائیس گولیوں میں اس پاگل پن کا خراج ادا کرتے ہیں۔
“کہسار باقی” میں جو “امارت” قائم ہوئی تو ایک خاص تشریحِ اسلام والوں کو پاکستان میں کُھل کھیلنے کا موقعہ مل گیا۔ یہاں کام کرو، وہاں پناہ حاصل کرو۔ ہماری ایک نسل ان سالوں میں صبح کو اخباروں پہ مسجدوں اور امام بار گاہوں پہ موٹر سائیکل پر آنے والوں کی کلاشنکوفیوں کی شہ سرخیاں پڑھتے اپنے جوانی کے تخیلات پہ ضرب کاری لیتے پروان چڑھی۔ ابھی ابھی ہیبت اور وحشت کا رنگ بدلا اور اندازوں میں نُدرت آئی ہے۔ اب ہم خود کشیوں کی بریکنگ نیوز سنتے جاگتی آنکھوں میں سوئے پڑے ہیں۔

 

یہ اِنہی بدلے نصابوں کا عصرِ جدید ہے کہ اولیاء اور صوفیاء کے پیغام ہائے محبت کا انجذاب لئے، بریلوی طرزِ فکر والے، اب ممتاز قادری جیسے عسکریت انداز عشاق اٹھائیس اٹھائیس گولیوں میں اس پاگل پن کا خراج ادا کرتے ہیں۔ اور نئی عُشّاقی کی ثقافت اب ارد گرد کی لفظیات کو بھی اپنے ہاتھوں میں لینے کو تیار ہے۔ نئی ترتیب خود سے کرنے کی باتیں سُنا رہی ہے۔ اب سُنّی کے جاگنے کی صدائیں ہیں۔ اب تمام “دوسروں” کو بھی انتباہ کی لفظیات کی آوازیں ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ہم ایسوں کو تو مار لیں گے اور گھروں کے سامنے ڈھول بجا کے جشن بھی کر لیں گے۔ کچھ نہیں ہوگا، ریاست صبر کر ہی لے گی جیسا کہ زیادہ تر کرتی ہی آئی ہے۔ لیکن جب یہ ایک دوسرے کو انتباہ کرنے شروع کردیں گے تو پھر ہم نے دیکھا ہے کہ یہ محض انتباہ نہیں کرتے۔ یہ پورے معاشرے کا، رہی سہی پاکستانی رَہتل کا باغ تباہ کرتے ہیں۔

 

اے رب، آپ سے التجاء ہے کہ صرف اسلام کو ہی سلامتی کا مذہب کیوں بنایا، تھوڑا مسلمانوں کو بھی امن و سلامتی اور شانتی کا سفیر بنا دیجئے۔ اور ہمارے کانوں میں سورۂِ البقرہ کی آیتوں کے وہ مضمون گرجنے سے روکئے جن میں آدم و حوا کی تخلیق پر مسئول فرشتے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ زمین پہ بڑا خون خرابہ کریں گے۔ لا ریب، کہ آپ سب سے بڑے منصوبہ ساز ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے

میرے ہاتھ کی سختی آئی تھی کہ جسے احمد کمال (فرضی نام) کے ہاتھ میں دے بیٹھا۔ ممتاز قادری کے سچے عاشق چار دن سے میری پوسٹیں فیس بک پہ پڑھ رہے تھے لیکن خاموش تھے کہ ٹائپنگ سے انہیں چڑ ہے اور شائد یہ بھی سوچا ہو کہ اگلا منہ متھے تو لگتا ہی ہے تو گلے لگ کے گلہ کر لیں گے۔

 

“ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا
ہاتھ ملانا کیا تھا، دست درازی تھی۔ مٹھی میں انگلیاں بھینچ کر یلکخت اپنی طرف جو کھینچا تو بدن کے ہالے کی حد پار کر آئے۔ آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں تو ان کے دیکھنے کا انداز غیر مانوس معلوم ہوا۔ صورتحال ابھی غیر واضح تھی کہ ایک سپاٹ آواز سماعت سے ٹکرائی۔ “ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا کہ وہ بھی اللہ ہی کے پاس ہیں”۔ انہوں نے لہجے کو مزید کرخت کر لیا اور ثابت کرنے لگے کہ سلمان تاثیر گستاخِ رسول تھا اور اس کا قتل بالکل جائز تھا۔ ان کی تشدد مائل نگاہوں اور سنسنی خیز اداؤں کے آگے میرے فیس بکی دلائل یکے بعد دیگرے دم توڑتے گئے اور کچھ ہی دیر میں میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔

 

پچھلی عید قربان کے موقع پر بھی میں ایک ایسی ہی نازک صورتحال سے دو چار ہوا تھا جب دوستوں کے بیچ سرِ بازار بیٹھا ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران بکروں کی ٹھوڑی کے بالوں کے لیے نادانستگی میں ڈاڑھی کا لفظ استعمال کر گیا، جسے شعائرِ اسلام کی تضحیک قرار دے کر ایک باریش عزیز ایسے بپھرے کہ “میں بھی سہم گیا انہیں خونخوار دیکھ کر”۔ رمشا میسح والا واقعہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا جس نے نعت کا لفظ لکھتے ہوئے “ن” کا نقطہ “ع’ کے اوپر لکھ دیا تو نوبت اس معصوم کا گھر جلانے تک جا پہنچی تھی۔

 

حامیانِ “عشق گردی” فرماتے ہیں کہ یہ ‘عشق’ کے ‘معاملات’ ہیں ان میں عذر و جواز، عقل و فہم، قانون و انصاف اور وضاحت و شہادت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ لیکن جب میں انہی “با خدا دیوانہ و با مصطفی ہوشیار” کے نعرے لگانے والے عاشقان و دیوانگان کو اپنی ذات کے تحفظ کے لیے اٹینشن ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو الجھ جاتا ہوں کہ یہ کون سی محبت ہے جس میں سب کچھ دوسروں کے ساتھ ہی جائز ہوتا ہے. اور اگر اپنی ذات کا سوال آ جائے تو ساری گنجائشیں پیدا ہو جاتی ہیں. وہ حنیف قریشی جو منبر پر اچھل اچھل کر قانون ہاتھ میں لینے اور گولی کی زبان میں بات کرنے کے دعوے کر رہے تھے، جب قانون کی گرفت میں آنے لگے تو حلفیہ بیان لکھ گئے کہ ان کا ممتاز قادری سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ہمیشہ محبت کا درس دیتے اور دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔

 

آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے عاشق رسول بھائی کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔
میرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ 2010 میں لاہور کے ایک بازار کے تاجران آسیہ بی بی کی حمایت پر سلمان تاثیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کیونکہ گورنر نے آسیہ بی بی کو معافی دلوانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا. لیکن علماء اور عوام کے نزدیک شانِ رسالت میں گستاخی ایسا جرم ہے کہ جس کے ارتکاب کے بعد وضاحت یا معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی (اور جرم کی تصدیق کا معاملہ تو ویسے ہی غیر ضروری چیز ہے)۔ ادھر بازار میں لٹکائے گئے بینرز میں سے ایک پر انتہائی گستاخانہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ غلطی کتابت کی تھی. جملہ یوں لکھا جانا چاہیے تھا کہ ہم “رسول پاک کی ذاتِ اقدس کی توہین کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ لیکن فقرے میں لفظ “کی” کی تکرار کے باعث لکھنے والا چوک گیا تھا اور فقرے میں سے “توہین کی” کے الفاظ حذف ہو گئے. تاجران نے بینر کو بغیر پڑھے آویزاں کر دیا۔ کسی وکیل کے نشاندہی پر جب تاجروں کے علم میں یہ معاملہ آیا تو انہوں نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا۔ بس چپ کر کے بینر اتار دیا اور زور و شور سے نعرے لگانے لگے “گستاخِ رسول کی سزا، سر تن سے جدا”. چند دن بعد گورنر تاثیر کو قتل کر دیا گیا۔

 

سو آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے احمد کمال کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔ اور پھر ہم کونسا جنید جمشید جیسے باریش، ٹخنوں سے اونچی شلوار والے ہیں کہ ہماری معافی قبول ہو گی۔
Categories
اداریہ

صحیح سمت میں صحیح قدم مگر۔۔-اداریہ

ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔
گو پھانسی کی سزا اپنی جگہ ایک غیر انسانی سزا ہے اور پاکستانی نظام انصاف میں موجود نقائص کی وجہ سے پاکستان میں اس سزا کا دفاع ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد صحیح سمت میں اٹھایا گیا صحیح قدم ہے اور یقیناً یہ قدم عشق رسول کے گمراہ کن تصورات اور روایات پر ایک صحت مند مکالمے کے آغاز کا بھی باعث بنے گا۔ اگرچہ سزائے موت خواہ وہ ایک دہشت گرد ہی کی کیوں نہ ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سول قیادت اور نظام انصاف جس قدر بھی غیر فعال، بدعنوان اور غیر مقبول ہوں بہر طور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت کے خلاف ہیں۔ قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے بھی یہ حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔ یہ یقیناً ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے اور اس کے نتیجے میں ملسم لیگ نواز حکومت کو بڑے پیمانے پر احتجاج اور مذہبی طبقات کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ تاہم ممتاز قادری کو ایک اور علم دین بننے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا اور بدقسمتی سے اس سلسلے میں حکومت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔

حکومت نے وقتی طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کے موزوں اور مناسب اقدامات کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔ ممتاز قادری کی سزائے موت ہمارے لیے بہت سے نئے چیلنجز کو جنم دے گی، ریاست اور معاشرے کو ممتاز قادری کو بطور ہیرو تسلیم کرنے سے متعلق سنجیدہ بحث شروع کرنا ہو گی اور اس فکر کی بیخ کنی کرنا ہو گی جو عشق رسول کے نام پر انسانی جان لینے کو جائز قرار دیتی ہے۔

سلمان تاثیر کے قاتل کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔
ممتاز قادری کی سزائے موت سے سلمان تاثیر کی ہلاکت کا معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی محض ایک جرم کی سزا ہے لیکن سلمان تاثیر کا قتل کیا جانا محض ایک جرم نہیں تھا۔ یہ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین پر بحث، ان قوانین کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ممانعت کے خلاف بھی جرم تھا۔ ممتاز قادری کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے اور ان کے وکلاء اور حامیوں کا اسے درست قرار دینا بھی اسی معاملے کا ایک پہلو ہے جو قتل کرنے کے ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ہماری روز مرہ آزادیوں اور حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ریاست اس حوالے سے بہت کچھ نہیں کر پائے گی۔

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی اور توہین رسالت و مذہب کے قوانین کی زد میں آنے والے بے گناہوں کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔ یہ سزا توہین مذہب اور توہین رسالت کے ظالمانہ قوانین میں انسانی حقوق کی مروجہ تعریف کے مطابق ترامیم اور ان کے غلط استعمال کے خلاف قانون سازی کے بغیر بھی نامکمل ہے۔ اس سزا پر عمل درآمد کے موثر نتائج تب تک برآمد نہیں ہو سکیں گے جب تک عشق رسول کے نام پر تشدد اور ہتھیار اٹھانے کے خلاف ریاستی اور معاشرتی سطح پر واضح موقف اختیار نہیں کیا جاتا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے لیے عشق رسول کو جواز بنانے کی فکر کو ہر سطح پر رد نہیں کیا جاتا۔ سلمان تاثیر کے قاتلوں میں صرف ممتاز قادری ہی نہیں بلکہ وہ مذہبی فکر بھی شامل ہے جو اس قسم کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتی ہے اور اس مذہبی فکر کے خلاف ایک پھانسی یا بہت سی پھانسیاں بھی کارآمد ثابت نہیں ہوں گی تاوقتیکہ اس گمراہ کن فکر کو ہر فکری اور علمی سطح پر رد کیا جائے، اور یہ ذمہ داری ریاست سے زیادہ معاشرے اور مذہبی طبقات پر عائد ہوتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہ کن صورتیں

اگر ممتاز قادری اور علم دین جیسے افراد عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار ہیں تو میرے خیال میں ہم سے یقیناً کہیں کوئی بھول ہوئی ہے، ایک ایسے رسول سے جسے رحمت العالمین کہا جاتا ہے، جن سے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کو گزند نہیں پہنچائی، کسی کی جان نہیں لی تو پھر ان کے عشق کا تقاضا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی جان ان سے عشق کے نام پر لے لی جائے یا اپنی جان قربان کر دی جائے؟ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اگر ایک مخصوص حلیہ، ایک مخصوص شباہت اور ایک مخصوص تنگ نظری ہی مقصود ہے تو پھر تمام زمانوں، تمام علاقوں، تمام انسانوں کے لیے بہترین اور عملی نمونہ انہیں کیسے قرار دیا جائے؟

 

یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟
اوکاڑہ کے ایک گاوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کا اپنا ہاتھ اس گمان میں خود کاٹ لینا کہ اس سے گستاخی رسول کا ارتکاب ہوا ہے اس بیمار ذہنیت کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو ہم نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اپنی نسلوں کو منتقل کی ہے۔ یہ بیمار ذہنیت علم دین اور ممتاز قادری جیسے افراد کو جنم دیتی ہے اور اس نفرت کا باعث بنتی ہے جو ہم اپنے آس پاس موجود اقلیتوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ لیکن ایک لمحے کو عقل کو حاضر ناظر جان کر سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ معلمِ انسانیت قرار دیا جانے والا پیغمبر ایسے بیمار، متشدد اور تکلیف دہ طرزہائے عمل کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟

 

مولانا اختر شیرانی جیسے حضرات جو کم سنی کی شادی کے خلاف قوانین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور انہیں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیتے ہیں، ابو بکر بغدادی، ابو بکر شیکاو، مولوی فضل اللہ اور عبدالعزیز جیسے حضرات جو عورتوں کو باندیاں بنانے کے قائل ہیں، جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں کیا یہ لوگ ہیں جو رسول اللہ کی سیرت پر عمل پیراء ہیں؟ شادی کی عمر کا تعین، حدود کے قوانین، جہاد کے فتوے اور قتل و غارت کے کتنے ہی غلغلے رسول اللہ کے نام پر بلند کیے جاتے ہیں اور حب رسول کے تقاضے نبھانے کے لیے ہم کتنے ہی انسانوں کی زندگیاں برباد کر چکے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب واقعی بارگاہ محمدی میں مقبول بھی ہو گا؟ ہر گز نہیں۔ وہ جس کی زبان حب رسول کے نام پر مذہبی منافرت پھیلاتی ہے، وہ جس کا ہاتھ عشق رسول کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، وہ جن کے فتوے عورتوں اور اقلیتوں کی حیثیت کم تر قرار دیتے ہیں، وہ جن کی دکانوں پر نفرت امیز سٹیکر چسپاں ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین ہیں تو یہ سب ان کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب انہیں منظور نہیں ہو سکتا۔

 

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گمراہ کن صورتیں کسی بھی طرح اس اجتماعی فلاح اور بہبود انساں کا راستہ نہیں ہو سکتیں جس کا خواب عرب کے صحراوں میں مقیم اس ہادی، اس رہبر اور اس معلم نے دیکھا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیئے جانے والےکے نام پر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی منشاء یہ ہے کہ محض ایک سبزی، یا داڑھی، یا مسواک، یا عربی زبان کو ناپسند کرنے پر کسی کو قتل کر دیا جائے، یا ایک غیر منصفانہ قانون پر تنقید کرنے والے کو گولیوں سے بھون دیا جائے، یا ایک مخصوص شباہت کو مسلط کر لیا جائے، یا کم سن بچیوں کی شادیاں کر دی جائیں، یا ایک غیر انسانی جہاد سے منع کرنے والی ماں کو قتل کر دیا جائے، یا آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔۔۔۔۔۔۔

 

درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔
اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثبوت کے طور پر مجھے مخصوص لباس، مخصوص، شکل، مخصوص تنگ نظری، مخصوص چال ڈھال اپنانے ہو گی، کم سن بچیوں کی شادیوں کی حمایت کرنا ہو گی، حدود کے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کے حق میں بیان دینے ہوں گے، پردہ مسلط کرنا ہو گا، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کو درست سمجھنا ہو گا، مرنا ہو گا اور مارنا ہو گا، احمدیوں سے نفرت کرنا ہو گی اور جہادیوں کو چندے دینے ہوں گے تو میں ایسے عشق رسول کا قائل نہیں۔ اگر عشق رسول یہی ہے کہ ہم قدیم قبائلی روایات، رہن سہن، طرز معاشرت اور حب رسول کے نام پر مرنے مارنے والوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا ہوں گی تو مجھے لگتا ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ ؤآلہ وسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داعین کے طرزعمل میں بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ اگر رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین تھے تو پھر وہ ممتاز قادریوں جیسے بے رحم قاتلوں کے “نذرانہ عشق” کو پسند کرنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی مصلح اعظم تھے تو ان کی نسبت سے کم عمر بچیوں کی شادیوں کا جواز نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اگر وہ تمام زمانوں کے لیے تھے تو پھر ایک مخصوص عرب قبائلی طرز معاشرت کو خود پر مسلط کرنے کے کیا معنی ہیں؟ میرے نزدیک عشق رسول کی مروجہ صورتیں جن کی بناء پر بنیادی انسانی آزادیاں سلب کی جاتی ہیں، انسانوں کو قتل کرنے کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت کا پیغام دیا جاتا ہے، اسلامی قوانین کے نام پر جو ناانصافی روا رکھی جاتی ہے وہ سبھی غلط اور گم راہ کن ہیں۔ عشق رسول کو دنیا میں امن کی بنیاد ہونا چاہیے ناکہ قتل و غارت گری کا جواز۔

 

درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔ یا تو سیرت کی کتابوں میں جس مہربان اور رحم دل ہستی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا پھر ممتاز قادری، علم دین اور اختر شیرانی جیسے لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جان لینے اور عورتوں کی حیثیت کم تر قرار دینے کے قائل ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور اختر شیرانی کے اقوال و افعال کسی بھی طرح حب رسول اور منشائے محمدی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا واقعی عشق رسول کا واحد تقاضا یہ ہے کہ کسی نہ کسی کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کیا جائے، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز سٹیکر چپکائے جائیں، عورتوں کے حقوق سلب کرنے والے قوانین بنائے جائیں، داڑھیاں بڑھا لی جائیں، ہتھیار اٹھا لیے جائیں یا عشق رسول کا حیقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آسیہ بی بی اور جنید حفیظ جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، اسلام کے نام پر بنائے گئے غیر منصفانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور دنیا کے امن کے لیے کام کیا جائے؟

Image: Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

youth-yell-featuredایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی باتوں، فرسودہ سوچوں اور جوشیلے نعروں پر لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں وہاں عقل و دانش رکھنے افراد کا گزارا مشکل ہوتا ہے اور اگر ایسے حضرات باہمت ہوں اور جہلاء کے گروہ کے سامنے جھکنے سے انکار دیں تو انہیں اسی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا سامنا سلمان تاثیر کو کرنا پڑا۔ سابق گورنر پنجاب نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے بے بنیاد الزام سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے توہین مذہب اور توہین رسالت کے موجودہ قانون پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پانچ برس قبل ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے سپاہی ممتاز قادری نے ان کی جان لے لی۔ سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟ کیا وہ اس مذہبی ‘استحقاق’ کی بنیاد پرجب چاہیں گے، جیسی چاہیں گے مذہب کی تشریح کریں گے اور لوگوں کی جان ہتھیا لیں گے؟ یا ریاست اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ کیا توہین مذہب کے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرتے رہیں گے یا قانون کے اطلاق اور جرم کے تعین کا عدالتی فریضہ ریاست سرانجام دے گی؟ قانون کا اطلاق، جرم کی تفتیش اور سزا ریاست کا کام ہے نا کہ مسلح جتھوں یا شدت پسند جماعتوں کا۔

 

سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟
ممتاز قادری کی سزائے موت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سلمان تاثیر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر تنقید اور بہتری کی گنجائش کی بات کرنا ہرگز توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔ وہ گروہ اور افراد جو ممتاز قادری جیسے مجرم کو ہیرو بنائے بیٹھے ہیں وہ درحقیقت آنکھیں بند کر کے مذہبی چورن فروشوں کے پھیلائے پراپیگنڈا کا شکار نظر آتے ہیں۔ ممتاز قادری ایک نیم خواندہ اور دل شکستہ شخص تھا جو ایک لڑکی کی محبت میں دل گرفتہ قاری حنیف کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہو کر یہ قدم اٹھا بیٹھا۔ مذہبی صنعت کے ان داتا اور ٹھیکیدار اس بہیمانہ قتل پر اسے ایک ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

 

آپ اگر سلمان تاثیر سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کو مسلمان نہ ہونے کے سرٹیفیکس دینے لگیں گے۔ آپ کو بھی دھمکیوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ممتاز قادری کے مداحین کی اکثریت نہ تو اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف ہے اور نہ توہین رسالت کے قانون پر سلمان تاثیر کی تنقید سے۔ یہ خواتین و حضرات ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کے قتل کو درست قرار دے کر اپنا ذہنی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

سلمان تاثیر پاکستان میں متوسط طبقے کے کسی بھی شخص کے لیے عام زندگی میں ترقی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جنہوں نے ایک معمولی سی اکاؤنٹ فرم سے کیرئر کا آغاز کر کے اسے ملک کی سب سے بڑی کمپنی بنا ڈالا اور سیاست میں آنے کے بعد اس کی ملکیت سے دستبردار بھی ہو گئے۔ دوسری جانب قاری حنیف اور ممتاز قادری جیسے لوگ ہیں جنہوں نے سوائے نفرتیں پھیلانے اور قتل وغارت گری کے اس معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کوئی مقدس شے نہیں بلکہ روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ اور تجارت ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے ابھی معاشرے میں بے حد کام کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا ماخذ مذہبی اجارہ دار ہیں جو محض چند روپوں اور مذہب پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ ماضی میں حدود کے قوانین کا بھی اسی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جیسے اب توہین مذہب کے قوانین کا کیا جارہا ہے۔

 

سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔
جیل سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی درخواستیں کرتا ممتاز قادری خود سلمان تاثیر کے بے گناہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، لیکن قاری حنیف جس کی مشتعل تقریر سے یہ دل سوز واقعہ پیش آیا تھا ابھی بھی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے، بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر آ کر مذہب پر بحث کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسیہ بی بی جس کے حق میں سلمان تاثیر مرحوم نے آواز بلند کی تھی آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہی ہے۔ انسانیت کی توہین ہر لمحہ اور ملک کے ہر گوشے میں ہوتی ہے لیکن اس پر بولنے والا کوئی نہیں۔ جس معاشرے میں مذہبی مباحث کا مقصد مذہب کے نام پر دوسروں کو کافر قرار دینا، جہاد اور قتال پر اکسانا اور جنت میں مباشرت کے لذائذ کی تبلیغ ہو وہاں مثبت مذہبی فکر کی افزائش کیوں کر ممکن ہے؟ وہاں تعمیری دماغ تو پنپنے سے رہے، ایڈیسن یا سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ تو سامنے آنے سے رہے البتہ ممتاز قادریوں اور قاری حنیف جیسے جہلاء کے لیے یہ معاشرے بے حد زرخیز ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ایسے ہی طبقات کے اندھے مذہبی جنون کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ایسی ہی سوچ کے خاتمے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

 

ممتاز قادری اور قاری حنیف جیسے لوگ اس کھیل میں محض مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گھناونا کھیل کھیلنے والے مذہبی شدت پسند گروہ طاقت کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کے بل پر اس مکروہ کاروبار کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ سوال کی نعمت سے محروم کروڑوں بنجر بنجر ذہن اور اندھے عقیدت مند وہ کندھے ہیں جن پر چڑھ کر یہ اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ یوں شدت پسندی اور اقلیتوں کو بزور طاقت دبانے کا یہ گھناؤنا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ مذاہب انسانوں کو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتارے گئے تھے نا کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے یا ختم کرنے۔ سلمان تاثیر کی بے گناہی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ثابت کر دی لیکن وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی سوچوں میں ممتاز قادری اور قاری حنیف ہیں وہ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو، اور یہ سوچ اس معاشرے کے لیے سب سے خطرناک سوچ ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو فکر ممتاز قادری جیسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جان لینے پر اکساتی ہے وہ آج کروڑوں لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔ معاشرے میں اس سوچ کا پروان چڑھنا ایک مستقل خطرہ ہے۔ خوف کی وجہ سے اس سوچ کے تدارک کے لیے شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے سوا ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سےکبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سوچ کے حامل افراد کو جدید دنیا سے روشناس کرانے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ یہی ذہن جو اس شدت پسندی کے ہاتھوں بنجر اور ویران ہو رہے ہیں انہیں اذہان کی مدد سے ہم اس شدت پسندی کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں اس تعصب، بنیاد پرستی اور نرگسیت کی دلدل سے نکال سکتے ہیں اور مذہبی چورن فروشوں کا گھناونا کاروبار بھی بند کر سکتے ہیں۔ کم سے کم آنے والی نسلوں تک تو یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور زندگی کا مقصد کسی بھی مذہب کے نام پر کسی کو مارنا یا خود مرنا نہیں۔ شدت پسندی کے خمیر سے گُندھے معاشرے میں کس طرح سے اپنے آپ کو مذہبی منافرت سے بچا کر خود کو ایک تعمیر پسند شہری بنانا ہے، اس کا ادراک بھی آنے والی نسلوں کو کرانا بے حد ضروری ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشدد اور عدم برداشت کو ناپسند فرماتے تھے۔ توہین مذہب کے موجودہ قوانین اور ان کے تحت سزا کے غیرمنصفانہ ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن اس قانون کے غلط استعمال اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہم سب کو متفق ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جواز کے تحت قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

 

سلمان تاثیر نے اس قانون پر تنقید کی تھی جسے ایک آمر نے اقلیتوں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ترمیم کے ساتھ آئین پاکستان میں شامل کیا تھا اب ہمیں اس قانون پر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔ سلمان تاثیر جیسے لوگ کسی مخالفت کی پرواہ کرتے ہی کب ہیں ان جیسے لوگ اپنے ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں جو بلا خوف وخطر سچائی کے لیے سب کچھ داو پر لگا دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت ممتاز قادری جیسے افراد کی یا تو حامی ہے، یا ہمدرد یا خاموش ہے، معدودے چند سلمان تاثیر جیسے بے باک افراد ہی سامنے آ کر ظلم کو ظلم قرار دینے کی جرات کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ،اکثریت کی رائے اور اکثریت کا چلن دیکھ کر سچ کی نشاندہی سے گریز کسی طرح درست نہیں برٹرینڈ رسل کے بقول:

“The fact that an opinion has been widely held is no evidence whatever that it is not utterly absurd; indeed in view of the silliness of the majority of mankind, a widely spread belief is more likely to be foolish than sensible.”

لیکن ایک سچ کی خاطر سر کٹانے والے جتنے بھی کم ہو ان کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیض احمد فیض)

Image: Umair Vahidy

Categories
نقطۂ نظر

اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟

اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟
اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری سے میں بدلہ لینا چاہتا ہوں کیوں کہ اس نے میرے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ کیا میں ممتاز قادری کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکانے، ڈرانے اور پھر ان کی جان لینے کا حق رکھتا ہوں جیسے راشد رحمان کی جان لی گئی؟

 

اگر میں ایک ایسا پوسٹر چھپواوں جس پر ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کے لیے مغلظات لکھی ہوں، ان کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کروں اور ان کی پھانسیوں کے حق میں جلسے جلوس نکالوں تو کیسا ہے؟ فرض کیجیے کہ اگر میں یہ فتوی دوں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر، ان کی ناموس پر، اہل بیت کی ناموس پر، ان کے صحابہ کی ناموس پر قتل کرتا ہے، قتل کرنا چاہتا ہے، قتل کرنے کے فتوے دیتا ہے یا قتل کرنے کی زبانی یا اعلانیہ حمایت کرنا چاہتا ہے وہ سب مرتد، خارج از دائرہ اسلام، ملعون، مطون ،جہنمی اور واجب القتل ہیں تو؟؟؟؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں عدالتوں کے باہر جتھے لے کر کھڑا ہو جاوں کہ ممتاز قادری کی پھانسی تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے؟یا ڈندے لے کر عاشقان ممتاز قادری کے جلسوں جلوسوں کو تہس نہس کر دوں، یا میں بھی سلمان تاثیر شہید کانفرنس کراوں اور اس کانفرنس میں ببانگ دہل ریاست کو للکاروں کہ اگر توہین رسالت اور توہین مذہب کا قانون نہ بدلا گیا، اگر آسیہ بھی بی، جنید حفیظ اور ان جیسے تمام افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم لانگ مارچ کریں گے، جانیں دیں گے، جیلیں بھر دیں گے تو کیا ہو گا؟

 

انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔
یہ سب ہو سکتا ہے، یہ سب کیا جا سکتا ہے لیکن میں اور ممتاز قادری کو دہشت گرد سمجھنے والے تمام لوگ، وہ خاموش اکثریت جو اسلام کو امن کا مذہب سمجھتی ہے اوروہ سب لوگ جو توہین رسالت کے قوانین کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔

 

یہ چند لوگ جو ہر برس 4 جنوری کو اکٹھے ہوتے ہیں، کسی چوک چوراہے یا پریس کلب کے باہر، چند پلے کارڈ اٹھا کر، چند موم بتیاں جلاتے ہیں یہ تمہارے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے سے زیادہ طاقتور ہے کیوں کہ یہ حق پر ہے، کیوں کہ یہ ظلم کو ظلم کہنے والے ہیں اور کیوں کہ خدا ان کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں کیوں کہ خدا بہرطور ظلم کرنے والوں، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام اور ہمارا ردعمل یہی ہے کہ ہم ہمیشہ حق کو حق اور ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے، ہم ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں نفرت نہ کرنے والوں میں شامل رہیں گے اور ہم ہمیشہ ممتاز قادری کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں گے۔