جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ اس ملک میں انسانی زندگی، آزادی اور تحفظ کی جدو جہد کرنے والے ہر فرد کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث ہے۔ جنید حفیظ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کسی ایک شخص کو سزائے موت دینے کا حکم نہیں، یہ اس نقطہ نظر کی تائید ہے کہ مذہب اور نظریے کے نام پر کسی فرد، گروہ یا طبقے کا استحصال ، درست ہے، یہ اس کج فہمی کی تائید ہے جس کے مطابق عقائد کا تقدس انسانی جان سے زیادہ مجترم قرار پاتا ہے، اور یہ تاریخی انسانی میں کیے جانے والے ہر اس قتل کی ایک اورعدالتی تائید ہے جہاں افراد کو ان کے نقطہ نظر ، اظہار خیال یا نظریات کی بنیاد پر واجب القتل قرار دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ہجوم یا ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں کسی فرد کے قتل سے کچھ بہت مختلف نہیں قرار دیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ عین ممکن ہے کہ اس فیصلے کو قانون کا تحفظ اور گمراہ کن مذہبی جذبات کی تائید حاصل ہے۔
جنید حفیظ کو دی جانے والی سزا ایک فرد کو دی جانے والی سزا نہیں، بلکہ ریاست اور نظام انصاف کے مذہبی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی فردجرم ہے۔ یہ ہماری ریاست کے اس طرز حکمرانی کا واضح اظہار ہے جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کوسزا دینے کی بجائے ان کی منشاء کے مطابق کمزور طبقات کو قربان کرنا درست خیال کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق یہ بحث کہ آیا جنید حفیظ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں جس کے لیے انہیں سزائے موت جیسی ظالمانہ اور غیر انسانی سزا دی گئی، یا کیا انہیں دفاع کا مناسب حق دیا گیا یا نہیں اور کیا ان کے خلاف کافی شواہد موجود تھے۔۔۔ اور کیا جو واقعات یا بیانات ان سے منسوب کیے گئے اگر وہ واقعتاً ان سے سرزد ہوئے بھی تو کیا وہ توہین مذہب و رسالت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں اس پر آنے والے دنوں میں اعلی عدلیہ اور سماجی طبقات ہر جگہ بحث کی جائے گی تاہم اس بحث سے قطع نظر اس وقت یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے بھی اور اگر مذہبی طبقات کے دباو میں اسے لائق تعزیر جرم خیال کر بھی لیا جائے تو بھی جنید حفیظ سزائے موت کے مستحق نہیں۔
اس موقع پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جانا ضروری ہے کہ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ایک شخص کی زندگی سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے؟ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب پر تنقید، طنز یا توہین کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے بھی تو کیا یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کے لیے سزائے موت کو لازم قرار دیا جائے؟ مقدس شخصیات ، مذہب اور نظریات کا احترام کیا جاسکتا ہے مگر انہیں تنقیدبالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا، ان پر طنز کو نامناسب خیال کیا جا سکتا ہے مگر جرم نہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی توہین کو غلط خیال کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو مہذب انداز میں منع کیا جا سکتا ہے مگر اسے جرم قرار دے کر سزائے موت جیسی ظالمانہ سزا سنایا جانا نہ صرف غلط ہے بلکہ صریحاً ظلم ہے۔
عدالتی فیصلہ واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ مذہبی جذبات ریاست اور عدالت کے لیے انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہیں، قانون شکن ہجوموں کا خوف آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنانے کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے اور ریاست اور عدالتیں اپنی کمزوری کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مذہبی جنونیوں کے آستانوں پر جنید حفیظ جیسوں کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی۔
توہین رسالت و مذہب کے پاکستانی قوانین پر عرفات مظہر کا یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہوا جسے ترجمہ کر کے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون توہین رسالت کے قوانین کا شکار ہونے والے ایک صاحب نے رضاکارانہ طور پر ترجمہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں موجود نقائص کی نشاندہی کرنے والی یہ آوازیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم عرفات مظہر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
توہین مذہب و رسالت کے قوانین کو سندعام حاصل ہے اور یہ ایک عمومی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس عقیدے کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے موزوں ترین بلکہ واحد سزا، سزائے موت ہے۔ اس عقیدے کی مکمل شدت کا مظاہرہ تب دیکھنے میں آتا ہے جب توہینِ مذہب کے الزامات کسی غیر مسلم پر عائد کیے گئے ہوں۔
اپنے پچھلے مضمون میں میں نے توہین مذہب و رسالت کے معاملے پر امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے مستند حنفی نقطہء نظر کا حوالہ دیا تھا۔ اس حنفی نقطہ نظر میں مسلم یا غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر توہین مذہب و رسالت کے تمام مجرموں کے لیے معافی کی گنجائش موجود ہے۔ اس مضمون کو بے حد پذیرائی ملی۔ قارئین کے ردعمل میں جہاں ایک جانب گستاخی کے ملزم جنید جمشید جیسے مسلمانوں (جو غلطی سے یا نادانستہ طور پر گستاخی کے مرتکب ہوئے) کو معاف کرنے کی حمایت کی گئی ہے وہیں کئی حلقوں نے اسی اصول کے تحت آسیہ بی بی (جن پر گستاخی کا جرم ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ شواہد موجود نہیں) جیسے غیر مسلم شاتمان کو معافی دینے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
یہ ردِعمل ملکی سطح پر توہین مذہب سے متعلق پائی جانے والی عوامی رائے کا عکاس ہے۔
ماضی میں جنوبی ایشیا کے چوٹی کے علماء متفقہ طور پر توہین مذہب و رسالت کے مرتکب غیر مسلم افراد کے لیے سزائے موت کی مخالفت کر چکے ہیں۔
وہ لوگ جو اس عوامی رائے سے اختلاف کرتے ہیں، بالخصوص جو غیر مسلموں کے لیے معافی کی گنجائش یا اس جرم میں سزائے موت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، ان پر مغرب سے درآمد شدہ نظریات کے پرچار یا ایمان کی کمی کا الزام لگا دیا جاتا ہے، ان الزامات سے عوام کے سامنے ان افراد کی رائے ساز حیثیت کو داغدار کیا جاتا ہے۔ نتیجے میں رحم کی درخواست کرنے والی آوازیں غیر متعلق اور بے اثر ہو جاتی ہیں اور عام شہریوں کے لیے انہیں نظرانداز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر ایک زمانے میں حالات اس سے بالکل مختلف تھے، درحقیقت ماضی میں جنوبی ایشیا کے چوٹی کے علماء متفقہ طور پر توہین مذہب و رسالت کے مرتکب غیر مسلم افراد کے لیے سزائے موت کی مخالفت کر چکے ہیں۔ یہ انیسویں صدی کے اواخر کا واقعہ ہے جب جنوبی ایشیا کے علماء (جن کی اکثریت حنفی مکتبہء فکر سے تعلق رکھتی تھی) اہل حدیث کے نظریاتی حملوں کی زد میں تھے۔
اہلِ حدیث تحریک کاآغاز جزیرہ نما عرب کے وہابی اثرات کے تحت ہوا، وہابی فرقے نے پہلے پہل اس تحریک کو نظریاتی اور بعد ازاں معاشی وسائل اور سرپرستی مہیا کی۔ اس تحریک نے مختلف فقہی مسائل پر مسلمہ حنفی تشریحات کے شریعت کے مطابق ہونے پر سوال اٹھائے۔ اہل حدیث علماء کی جانب سے شاتم رسول مسلم و غیر مسلم افراد کے لیے معافی کی گنجائش کے معاملے میں حنفی علماء کی آراء پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ اہلِ حدیث کی جانب سے حنفی فقہاء پر الزام لگایا گیا کہ حنفی تشریحات، احادیث کے برخلاف ‘رائے’ اور یونانی فلسفے سے متاثرہ منطقی ‘قیاس’ پر مبنی ہیں۔
بالخصوص اہلِ حدیث علماء نے غیرمسلم شاتموں کے حوالے سے حنفی علماء کے نقطہ نظر (مثلاً غیر مسلموں کے لیے سزائے موت کو لازمی اور واحد سزا قرار نہ دینے اور معافی کی گنجائش دینے) سے اختلاف کیا اور اسے نرم دلی سے تعبیر دے کر احادیث سے متصادم قرار دیا۔
اتوہین رسالت و مذہب کے مرتکب غیر مسلم افراد سے متعلق امام ابو حنیفہ کے نقطہ نظر کا اقتباس
اس تنقید کا سامنا حنفی علما نے ایک پرجوش استرداد سے کیا۔ کئی علما نے اہل حدیث کو انہی کے علمی ماخذوں یعنی احادیث کے حوالوں کے ساتھ جواب دیے۔ ور جن احادیث پر اہل حدیث نے اپنی تنقید کی بنیاد رکھی تھی، حنفی علماء نے ان کا علمی تجزیہ کیا۔ ایسی علمی کاوشوں میں سے ایک مثال اکیس جلدوں پر مشتمل مولانا ظفر احمد عثمانی کی اعلا السنن [حضرت محمد کی سنت کا ارتفاع] ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اہل حدیث کے دعووں کے برخلاف حنفی مکتبہء فکر اور فقہ پوری طرح سے حضرت محمد ﷽ کی سنت پر قائم ہے۔
فتوے کے مطابق کسی غیر مسلم کو توہین رسالت یا توہین مذہب کے جرم میں موت کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس کا/کی توہین مذہب و رسالت کاعادی مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔
ایسی عظیم الشان شخصی کاوشوں کے علاوہ میری دانست میں توہین رسالت کے حوالے سے ہونے والا سب سے اہم کام فتح المبین تنبیہ الوہابین ہے۔ اس کتاب میں دیے گئے فتوے کے مطابق کسی غیر مسلم کو توہین رسالت یا توہین مذہب کے جرم میں موت کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس کا/کی توہین مذہب و رسالت کاعادی مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔
عادی مجرم ہونا ایک نہایت اہم نکتہ ہے اور توہین مذہب و رسالت کے کسی غیرارادی یا ایک مرتبہ ہونے والے واقعے کو عمداً یا تسلسل کے ساتھ ہونے والے واقعات سے جدا کر دیتا ہے، ایسےواقعات کو درحقیقت باغیانہ سیاسی عزائم کے ساتھ کی جانے والی توہین بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد محض ایک مرتبہ ارادتاً یا غیر ارادی طور پر توہین مذہب و رسالت کا مرتکب ہوا/ہوئی ہو تو اسے سزائے موت نہیں دی جا سکتی، موت کی سزا صرف تب دی جا سکتی ہے جب گستاخی کا مرتکب فرد باربار ارادتاً توہین کا مرتکب ہوا/ہوئی ہو۔ اور یہ توہین مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہو۔
اس تاریخی فتوے کی توثیق 450 سے زائد علماء نے کی، جس کے مطابق جب تک توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب متواتر نہ ہو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
اس تاریخی فتوے کی توثیق 450 سے زائد علماء نے کی، جس کے مطابق جب تک توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب متواتر نہ ہو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
توہینِ مذہب و رسالت پر حنفی نقطہ نظر کی رد میں اہلِ حدیث کی جانب سےاحادیث کا ایک مجموعہ پیش کیا گیا جو بظاہر یہ ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں توہین رسالت کے مرتکب مسلم و غیر مسلم افراد قتل کر دیے گئے تھے اور اس لئے حنفی نکتہء نظر جو غیر مسلموں کے لیے لازمی سزائے موت تجویز نہیں کرتا غلط ہے۔ تاہم اہلِ حدیث کا یہ دعویٰ اس لیے درست قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ ایسے تمام واقعات میں توہین رسالت کا ارکاب بار بار کیا گیا تھا۔ اہلِ حدیث کی بیان کردہ تمام احادیث ایسے خطاکاروں سے متعلق ہیں جو تواتر کے ساتھ توہین مذہب کے مرتکب پائے گئے۔
ان احادیث میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ مذکور نہیں جس میں کسی غیر مسلم کو محض ایک مرتبہ توہین کرنے پر قتل کیا گیا ہو۔
امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق توہین مذہب و رسالت پر موت کی سزا صرف ایسے غیر مسلم عناصر کے خلاف سنائی جا سکتی ہے جو اسلامی ریاست کے خلاف باغیانہ روش اختیار کیے ہوئے ہوں
[مزید برآں امام ابو حنیفہ کے ہاں توہین مذہب و رسالت کے جرم میں غیر مسلوں کے لیے موت کی سزا سیاسی ہے ناکہ شرعی(یا اللہ کی طرف سے)۔ امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق توہین مذہب و رسالت پر موت کی سزا صرف ایسے غیر مسلم افراد یا گروہوں کے خلاف سنائی جا سکتی ہے جو اسلامی ریاست کے خلاف باغیانہ روش اختیار کیے ہوئے ہوں اور توہین کے عمل کو با بار ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہوں۔]
اس فقہی اور قانونی رائے کی توثیق جنوبی ایشیاء سمیت دنیا بھر کے کم و بیش 450 مستند حنفی علماء نے کی تھی۔
تاریخِ اسلام میں اس سے بڑے اجماع کی مثال کسی اور معاملے میں ملنا مشکل ہے۔ جنوبی ایشیا کے اُس وقت کے سینکڑوں جید علما نے یہ اعلان کیا کہ کوئی غیر مسلم ایک مرتبہ توہین کے ارتکاب پر قتل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی معافی قابل قبول ہے، جب تک کہ یہ عمل بار بار نہ دہرایا جائے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے اس فتوے کی اہمیت کا اندازہ اس پر موجود چند کلیدی دستخطوں سے لگایا جا سکتا ہے، اس فتوے کی توثیق کرنے والوں میں سے ایک نام احمد رضا خان بریلوی کا ہے۔
بیشتر قاری اس بات سے واقف ہوں گے کہ احمد رضا خان بریلوی، ‘بریلوی’ مسلک کے بانی ہیں جو حنفی فقہ کے پیروکار دو بڑے فرقوں میں سے ایک ہے۔ سنی تحریک جیسے گروہ بھی اپنی نظریاتی آبیاری کے لئے اسی فقہ کی جانب رجوع کرتے ہیں۔اس مسلک میں بانی کو پیر کہا جاتا ہے جس کا رتبہ اپنے ماننے والوں اور عوام میں بہت بلند ہوتا ہے۔
ستم ظریفی دیکھئے چند سال قبل توہین رسالت و مذہب کے الزام میں قید آسیہ بی بی کے لیے معافی طلب کرنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والا ان کا محافظ ممتاز قادری بھی بریلوی فرقے کا ہی پیروکار تھا۔
مجھے یقین ہے کہ ممتاز قادری جو ایک سچا بریلوی تھا یہ سن کر یقیناً حیران رہ جاتا کہ اس کے مسلک کے بانی غیر مسلموں کو توہین کے الزام میں معاف کرنے کے حق میں ہیں
مجھے یقین ہے کہ ممتاز قادری جو ایک سچا بریلوی تھا یہ سن کر یقیناً حیران رہ جاتا کہ اس کے مسلک کے بانی اور سب سے قابل احترام شخصیت غیرمسلموں کو توہین کے الزام میں معاف کرنے کے حق میں ہیں، بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب کے ایک بار ارتکاب پر سزائے موت دی ہی نہیں جا سکتی۔
اتفاق سے ایک دوسرے بڑے حنفی فرقے [دیوبند] کے شریک بانی اور شیخ الہند کے نام سے معروف محمود حسن دیوبندی بھی اس فتوے پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اس فتوے پر دیو بند اور بریلوی فرقوں کے بانی علماء مولانا احمد رضا بریلوی اور مولانا محمود حسن نے بھی دستخط کیے
دیوبندی اور بریلوی، دونوں فرقوں کے بانیوں نے اس فتوے کے ذریعے اس رائے کی توثیق کی ہے کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب و رسالت کے محض ایک مرتبہ ارتکاب پرسزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اسی بناء پر وہ معافی کا مستحق ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حنفی فکر کے تحت یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ پہلی مرتبہ توہین مذہب و رسالت کے ارتکاب پر کسی قسم کی قید یا سزا بھی موجود نہیں۔
حنفی مکتبہ فکر کے مطابق توہین رسالت و مذہب کا پہلی بار ارتکاب کسی قسم کی سزا کا باعث نہیں ہو گا
اس فتوے سے قطع نظر ماضی قریب کے ایک اور کلیدی عالم مولانامودودی جو ملک بھر میں عقیدت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، نے بھی ایسی ہی رائے کا اظہار کیا ہے۔ مولانا مودودی کا نام ہر گھر کے لیے شناسا نام ہے، آپ ملک کی ایک اہم مذہبی سیاسی جماعت، ‘جماعت اسلامی’ کے بانی تھے۔ لوگ یہ جان کر شاید حیران رہ جائیں کہ مولانا مودودی نے بھی یہی نقطہء نظر دہراتے ہوئے کہا، توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب غیر مسلموں کو ریاست کی جانب سے سزائے موت کا سزاوار نہیں ٹھہراتا۔
مولانا مودودی کے مطابق غیر مسلم ذمی کی جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور گستاخی رسول کی صورت میں اسے قتل نہیں کیا جا سکتا
ان علما نے اس حساس معاملے میں جس دقیق النظری اور احتیاط کا مظاہرہ کیا وہ آج کی علمی لاپرواہی، شدت پسندی اور اشتعال مزاجی سے کوسوں دور ہے۔ ماضی کے برعکس آج کسی بھی بدقسمت شخص کا لاعلمی یا لاپرواہی سے کہا ہوا کوئی بھی جملہ یا گستاخی کے ارتکاب کا خالی الزام بھی اسے توہین رسالت و مذہب کے قانون کے تحت مجرم قرار دلوا سکتا ہے اور موت کی سزا دلا سکتا ہے۔
توہین مذہب و رسالت کے قانون کے مندرجات اور اس کی عدالتی تشریح توہین رسالت کے ایک مرتبہ دانستہ یا نادانستہ ارتکاب پر بھی حد نافذ کرتے ہیں۔
توہین مذہب و رسالت کے قانون کے مندرجات اور اس کی عدالتی تشریح توہین رسالت کے ایک مرتبہ دانستہ یا نادانستہ ارتکاب پر بھی حد نافذ کرتے ہیں۔ اس قانون میں توہین رسالت و مذہب کے وقوعے کی نوعیت کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جاتا اور مسلم و غیرمسلم، ایک مرتبہ یا ایک سے زائد بار مسلسل گستاخی کے ارتکاب، سیاسی یا شرعی، جان بوجھ کر یا لاعلمی میں توہین کے ارتکاب جیسی اہم تخاصیص کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ یہ قانون سیکڑوں ‘جنوب ایشیائی علماء’ اور ‘پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں’ کے بانیوں کی تعلیمات سے متصادم ہے۔
یہ تصور کہ اس قانون کی موجودہ تشریح تمام اہم مذہبی روایات اور تمام فرقوں کے علماء کے مابین پائے جانے والے اجماع پر مبنی ہے ایک فسانے سے کم نہیں۔ آسیہ بی بی اوراس جرم کے الزام میں قید اس جیسے افراد جیلوں میں پڑے اپنی زندگیوں کے لیے ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جس میں جیت کے امکانات موت آ جانے کے خدشات سے کہیں کم ہیں۔ یہ فراموش شدہ فتویٰ ان کے لیے بے حد اہم ہے۔ آسیہ اس جرم کے باربار ارتکاب کی مرتکب نہیں ہوئی، وہ معافی کے لیے کئی بار بھیک مانگ چکی ہے۔
حنفی، دیوبندی، بریلوی مسالک اور جماعت اسلامی کے بانیوں کے فتووں اور آراء کے مطابق آسیہ بی بی کو معافی مل جانی چاہئے۔
ہمارے ممتازقادریوں، ہمارے مولوی صاحبان اور ناموس رسالت کے رکھوالے اپنے مذہب کے ان تمام قابل صد احترام بانیوں اور ان 450 ذی قدر علماء جو غیرمسلموں کو معافی دینے کے حق میں ہیں، کے لیے کیا سزا تجویز کریں گے؟
حنفی، دیوبندی، بریلوی مسالک اور جماعت اسلامی کے بانیوں کے فتووں اور آراء کے مطابق آسیہ بی بی کو معافی مل جانی چاہئے۔
یہ بہت ضروری ہے کہ ان علماء کی آراء کو سنا جائے، ان علماء کی آراء اور فتوے ہمارے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے، مکالمے کی ابتدا کرنے، قانونِ توہین رسالت سے متعلق مروجہ شدت پسند بیانیہ تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے ہمیں ان علماء کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنی زندگیاں مختلف مذہبی تشریحات کو سمجھنے اور ان پر علمی بحث کرنے کے لیے وقف کیں۔
ان علماء کے علم سے استفادہ اس لئے بھی نہایت ضروری ہے تاکہ حضرت محمد ﷽کے مبارک نام پر کسی سے کوئی ناانصافی نہ کی جائے۔ یہ عقیدت کا ایسا تقاضا ہے جس کی ہمیں فی زمانہ شدت سے ضرورت ہے۔