Categories
نقطۂ نظر

دُہرا معیار

حلب جل رہا ہے، حلب جل گیا، حلب راکھ ہوگیا، شام میں مسلمانوں پر جراثیمی حملہ بھی ہوگیا، اور پھر امریکہ نے میزائل بھی داغ دیئے۔ کئی مسلمان شہید ہوگئے۔ پاکستان میں بہت احتجاج ہوا

 

یمن میں جاری اسلامی برانڈ کی لڑائی میں لاکھوں مسلمان بچے قحط سالی کا شکار ہو گئے، اقوام متحدہ پیٹ پیٹ کے تھک گیا کہ کچھ کرلو ورنہ یہ انسانی نسل کی سب سے بڑی تباہی بن جائے گی۔ اصلی برانڈ اور نقلی برانڈ کی انوکھی چپقلش پہ ہمیں بہت افسوس ہوا

 

اسرائیل مُصر ہے کہ وہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیاں بنا کے رہے گا اور اسے اس کام میں اب امریکہ سرکار کی بھی شہ حاصل ہے۔ فلسطینیوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، ان کو مارا جارہا ہے، ان کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بہت تشویش ہوئی

 

صدر ٹرمپ نے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں پر پابندی لگا دی کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہم بہت تلملائے

 

برما میں روہنگیا مسلمانوں کا بُری طرح سے قتل عام ہوا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان پناہ گزین بنگلہ دیش کی سرحد پار کرگئے۔ ہمیں اس پہ بھی بہت غصہ آیا

 

بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی نے کئی اسلام پسندوں کو پھانسی پر چڑھا دیا اور حکومتی ادارے باقی ماندہ اسلام پسندوں کی تاک میں ہیں۔ ہمیں پھر غصہ آیا

 

بھارت میں بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی مہم شروع کی گئی ہمیں اتحاد بین المسلمین کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔

 

بھارت کی ہی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے انتہا پسند ہندو وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ یوگی کے وژن پر عمل کرتے ہوئے گائے کی نقل و حمل میں ملوث ایک مسلمان کو پسلیاں توڑ کر قتل کردیا گیا۔ گوشت کے کاروبار سے جڑے لاکھوں مسلمان اور دلت بے روزگار ہوگئے۔ یوگی کے رومیو سکواڈ نے ایک مسلمان لڑکے کو اس بناء پر قتل کردیا کہ وہ ہندو لڑکی سے پیار کرتا ہے۔ ہمیں پاکستان میں بیٹھ کر بھارت میں مقیم مسلمانوں کی حالتِ زار پر بہت دکھ ہوا

 

ہم نے پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بُرے سلوک پہ احتجاج کئے، ہم بہت تلملائے، ہمیں شدید غصہ آیا اور آنا بھی چاہئیے تھا۔ امت کے درد میں ہم دن رات گھلتے رہے۔

 

مگر ہم نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا کہ پاکستان میں کیسی صورت حال ہے؟ اختلافِ رائے رکھنے والوں، دوسرے عقیدے کے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہم پاکستان میں کر رہے ہیں کیا وہ ہمارا دُہرا معیار اور منافقت نہیں ہے؟ یوگی آدتیا ناتھ جو کچھ اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے ہم بھی تو ویسا ہی سلوک یہاں بسنے والے ہندووں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ وہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کی تیزی سے افزائش اور ہندوؤں کی آبادی میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر ان سے شادی کرتے ہیں اور بعد میں ان کا مذہب تبدیل کرا لیتے ہیں تو کیا ہم سندھ میں ہندووں کے ساتھ مختلف سلوک کر رہے ہیں؟ کیا ہم آئے روز اس طرح کا واقعہ نہیں سنتے کہ وڈیروں نے کم سِن ہندو لڑکی کو اغواء کیا، زیادتی کی اور بعد میں زبردستی اسے اسلام کے دائرے میں داخل کر لیا۔ جو لڑکی ‘راہِ راست’ پر آ گئی اس کی جاں بخشی ہو گئی اور جو مذہب تبدیل نہ کرنے کی ضد پہ اڑ گئی اس کا سر تن سے جدا کر دیا؟ ایک مسیحی جوڑے کو ہم نے کوٹ رادھا کشن میں گستاخی کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تندور میں جلا ڈالا۔ توہین مذہب کے الزام میں ہم نے گوجرہ اور لاہور کے بادامی باغ میں واقع پوری پوری مسیحی بستی کو آگ لگا دی۔ مردم شماری شروع ہوئی تو سکھ مذہب کا خانہ ہی نہیں دیا گیا فارم میں۔ اپنے فرقے کے سوا ہر فرقے سے ہم نفرت کرتے ہیں، احمدی برادری تو آئے روز ہمارے نشانے پہ ہے۔ کراچی میں اسماعیلیوں کی بس پر فائرنگ کرکے ہم نے کتنے ہی اسماعیلی صاف کر دیئے اور حالیہ واقعات میں پہلے تو ہم نے دوالمیال پہ ان کی عبادت گاہ پر حملہ کیا اور ایک درجن تک احمدیوں کو جہنم واصل کیا۔ پھر ہم نے ننکانہ صاحب میں ایک احمدی وکیل کو قتل کرکے ننکانہ صاحب کی سرزمین کو ایک شرپسند سے پاک کیا۔ پھر ہم نے لاہورکی سبزہ زار کالونی میں ایک احمدی کو قتل کیا۔

 

اختلافِ رائے جس حد تک اپنی اہمیت پاکستان میں کھو چکا ہے اس پر سوائے افسوس کے اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کل ہم نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک نوجوان کو محض مذہبی اختلاف رائے پر قتل کیا۔ گستاخی کو ہم نے یہاں بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اگر پولیس ‘بروقت’ نہ پہنچتی تو ہم اس کی لاش بھی جلا چکے ہوتے۔

 

پوری دنیا میں مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے، دھمکایا جا رہا ہے، مارا جا رہا ہے۔ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان سے بدترین سلوک رکھا جا رہا ہے۔ برداشت نہیں کریں گے، اجازت نہیں دیں گے، سبق سکھائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میں مانتا ہوں مگر ہم اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کسی تنقید کا مستحق نہیں؟ ہماری اس منافقت پر بھی کوئی پریس کانفرنس ہوگی؟ کوئی احتجاج ہوگا؟ کوئی مائی کا لعل اس پر بھی بینر اٹھائے گا؟ کوئی ہڑتال اس پر بھی ہوگی؟ اور کوئی اس کے خلاف بھی آواز اٹھائے گا؟؟ کیا ہمارا احتجاج کھوکھلا نہیں ہے؟؟
Categories
اداریہ

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

مردان میں مشعل خان کا بہیمانہ قتل محض ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ مذہب کی ایسی تشریحات کا انسانیت سوز اظہار ہے جو عقیدے کو انسانیت سے مقدم قرار دیتی ہیں۔ مذہبی طبقات کی جانب سے حرمت رسول اور تقدیس مذہب کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے زیادہ اہم ثابت کرنے کا رحجان پاکستان میں خونریزی کا باعث بن رہا ہے، ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی ایک جیتے جاگتے فرد کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز بخشنے کی بنیادی وجہ ہے۔ حرمت رسول و مذہب کی یہ گمراہ کن تعبیریں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے تابوت میں تبدیل کر رہی ہیں جہاں مذہبی معاملات میں اختلاف کرنے، تنقید کرنے اور سوال کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کوئی بھی کسی کو بھی محض توہین مذہب و رسالت کے الزام کے تحت نہ صرف قتل کر سکتا ہے بلکہ غازی اور شہید کا مرتبہ بھی پا سکتا ہے۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر جہاں ایک جانب ممتاز قادریوں کے جتھے بستیاں جلا رہے ہیں وہیں ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس ضمن میں قانون سازی سے گریزاں ہیں۔ریاست اور اس کے ادارے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ مذہب کی بنیاد پر خونریزی پر ابھارنے والوں کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ “گستاخانہ مواد” کی بناء پر گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں کے نفاذ کی کوششوں سے “گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” کے نعرے لگانے والوکی بیخ کنی نہیں کی جا سکی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی جتھے نے توہین مذہب و رسالت کا ہتھیار اٹھا کر گلے کاٹے ہوں، سلمان تاثیر، شمع اور شہزاد سمیت کتنے ہی لوگ توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ مذہبی تشریحات میں بنیادی اصلاحات کی متقاضی بھی۔ اسلام خواہ کتنا ہی سچا مذہب ہو، پیغمبر اسلام خواہ کتنے ہی محترم ہوں لیکن اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ محترم، مقدس اور اہم نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام پر تنقید، اعتراض اور طنز اشتعال انگیز ہو سکتے ہیں لیکن انہیں جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین مذہب اور گستاخی رسول گناہ یا جرم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بناء پر کسی کو قتل کرنے کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مردان میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کی بہیمانہ ہلاکت کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ مشعل خان یا ایسے ہی دوسرے لوگ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور امردان کا مشتعل ہجوم مجرم ہیں اور سخت سے سخت سزا کے مستحق بھی۔ لیکن محض چند قاتلوں کو سزا دے کر توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت روکا نہیں جا سکتا، اس مقصد کے لیے مذہب پر تنقید، اعتراض اور طنز کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے اور جان لینے کا درس دینے والے مبلغین کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا مذہب اور ان کے پیغمبر کسی بھی طرح تنقید، اعتراض اور طنز سے بالاتر نہیں، انہیں یہ ماننا ہو گا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تقدس کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس بناء پر کسی کی جان لینے کا اختیار انہیں نہیں، انہیں یہ باور کرنا ہو گا کہ ان کے مذہبی جذبات کا مجروح ہونا کسی جتھے کو مشتعل کر کے کسی کی جان لینے کا پروانہ نہیں۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت کی روک تھام کے لیے عموماً ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں مذہبی معاملات میں اختلاف رائے اور اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، مذہبی طبقات کی جانب سے احترام مذہب و رسول کو یقینی بنانے کے لیے ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی کی جاتی ہے، تاہم ریاست اور مذہبی طبقات پابندیوں یا قتل و غارت کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

Image: Newsweek

Categories
اداریہ

خیبر پختونخواہ ؛عطیہ کی گئی زمین پر بنے ڈھائی سو سے زائد سکولوں کی زمین پر ناجائز قبضہ

خیبر پختونخواہ کے ڈھائی سو سے زائد سکولوں کی زمین پر گزشتہ بیس برس سے مختلف افراد نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔محکمہ تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق 38 سے زائد سکول کی زمین پر مکمل قبضہ کر لیا گیا ہے جبکہ دوسوسے زائد سکولوں کی زمین پر جزوی قبضہ کیا جا چکا ہے۔ محکمہ تعلیم کے یہ سکول زمین کی منتقلی یا قبضہ کی مکمل دستاویز حاصل کئے بغیر اسمبلی ممبران کے دباو پر وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے منصوبوں کے تحت تعمیر کئے گئےتھے۔
محکمہ تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق 38 سے زائد سکول کی زمین پر مکمل قبضہ کر لیا گیا ہے جبکہ دوسوسے زائد سکولوں کی زمین پر جزوی قبضہ کیا جا چکا ہے۔
محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کے مطابق بیشتر سکولوں کی تعمیر کے لئے مقامی افراد نے زمین اس شرط پر دی تھی کہ انہیں ملازمت فراہم کی جائے گی ، لیکن ملازمت نہ ملنے پر مالکان نے دوبارہ اپنی زمین اور عمارت پر قبضہ کرلیا۔ سکولوں پر جزوی قبضہ کے معاملات میں زیادہ تر سکولوں کے ملازمین ملوث ہیں جو سکول کی زمین کے ایک حصہ پر رہائش پذیر ہیں یا ان کے رشتہ دار قابض ہیں۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق مکمل طور پر قبضہ کئے گئے سکولوں میں سے چھ بنوں، پانچ شانگلہ، صوابی اور مردان میں تین تین، جبکہ پشاور ،نوشہرہ، ٹانک ، ہنگو، چارسدہ اور ایبٹ آباد میں ایک ایک سکول کی زمین اور عمارت پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رفیق خٹک کے مطابق ایسے سکول محکمہ تعلیم کی فزیبلٹی رپورٹ اور قانونی کاروائی مکمل کئے بغیر بنائے جاتے ہیں، اس لئے بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے بعد محکمہ تعلیم نے عطیہ کی گئی زمین پر نئے سکول بنانے کا عمل روک دیا ہے۔