Categories
نقطۂ نظر

توہین رسالت کے قانون کی ان کہی داستان

[blockquote style=”3″]

توہین رسالت و مذہب کے پاکستانی قوانین پر عرفات مظہر کا یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہوا جسے ترجمہ کر کے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون توہین رسالت کے قوانین کا شکار ہونے والے ایک صاحب نے رضاکارانہ طور پر ترجمہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں موجود نقائص کی نشاندہی کرنے والی یہ آوازیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم عرفات مظہر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کا دوسرا مضمون پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

کچھ عرصہ قبل سابق گلوکار اور بڑے پیمانے پر سنے جانے والے مذہبی مبلغ جنید جمشید کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے مشہور ہوئی۔ اس ویڈیو میں ان کی کچھ باتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی زوجہ عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی شان میں گستاخی کے مترادف لیا گیا۔

 

تا دم تحریر ان پر توہین رسالت کے قانون کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق:
295-سی : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی

 

یہ مذہبی رائے کہ’توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے’ فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔
”جو شخص الفاظ کے ذریعے خواہ وہ زبان سے ادا کئے جائیں یا ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہوں، یا دِکھائی دینے والی تمثیل کے ذریعے یا بلاواسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن وتشنیع یا تحقیر کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نام کی بے حرمتی کا مرتکب ہو، اسے موت یا عمرقید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا۔”

 

یہ قانون جرم کا ارتکاب ثابت ہو جانے پر موت کی سزا تجویز کرتا ہے۔ عمر قید کی سزا 1991 میں مرکزی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد سے معطل ہے۔

 

جنید جمشید پہلے ہی اس واقعے پر عوام کے سامنے تائب ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کر چکا ہے اور معافی کا طلب گار ہے لیکن جنید جمشید کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کا غالب مذہبی بیانیہ اس جرم کو ناقابل معافی سمجھتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ گستاخی کے مرتکب قرار دیے جاتے ہیں تو آپ کو یقینی موت کا سامنا ہے۔

 

اس معاملے میں کسی چونکہ چناچہ کی گنجائش موجود نہیں۔ توہین مذہب و رسالت کے لیے لازمی سزائے موت پر تمام سنی مکاتب فکر کااجماع اس قانون اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا کا جواز ہے۔ اس علمی اجماع کی موجودگی میں مذہبی پیشواکسی اختلافی نقطہ نظر کے اظہار کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔

 

توہین رسالت کے لیے سزائے موت کی یہ عالمانہ اجماعی حمایت تواتر سے ہماری قومی منظر نامے کاحصہ بنتی رہی ہے۔ اس جرم میں موت کی سزا پر اجماع ا مت کا تذکرہ وفاقی شرعی عدالت کے 90 کی دہائی کے فیصلوں، پارلیمانی مباحث اور ذرائع ابلاغ میں اس تسلسل سے کیا جاتا رہا ہے کہ اب یہ پاکستان کے عوامی شعور میں جڑ پکڑ چکا ہے۔
پاکستان کی اکثریت کے نزدیک توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے، اس اکثریت کے نزدیک اس نقطہ نظر سے اختلاف کرنا بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے جس کی تلافی ایسے فرد کو موت کی سزا دینے سے ہی ممکن ہے۔
جنید جمشید کی معافی نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا ایک نادم، معافی کے طالب گستاخ کو، اس جرم میں معاف کیا جاسکتا ہے؟

 

تاہم ایسا پہلی بار نہیں کہ یہ سوال زیر غور آیا ہو۔

 

صدیوں پہلے حنفی فقہا جیسے، امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد ابو یوسف نے کتاب الخرج میں، امام تہاوی نے مختصر التہاوی میں، امام ابو بکر علی الدین کسانی نے بدائع الصنائع، تقی الدین السبکی نے السیف علی من سب الرسول میں اور دیگر حنفی ائمہ نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔

 

یہ تمام احباب اسی سوال تک پہنچے جس کا سامنا آج جنید جمشید کو ہے:
کیا توہیں رسالت ایک قابل معافی جرم ہے؟
تمام حنفی فقہاء کے نزدیک اس سوال کا جواب ایک غیر مشروط ہاں ہے (یعنی توہین مذہب اور توہین رسالت کا جرم قابل معافی ہے)۔

 

پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔
یہ مذہبی رائے کہ’توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے’ فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر میں امام ابو حنیفہ کی دلیل سے بڑھ کر استدلال ممکن نہیں، اور یہی مکتبہء فکر سپریم کورٹ، شرعی عدالتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل میں ہونے والی مذہبی و قانونی بحث میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور پیروکار فقہاء کی ایک بڑی تعداد موجود رہی ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں اپنی تصانیف میں جا بجا اسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ حنفی مکتبہ صدیوں سے فکر توہین رسالت کو غیر مشروط طور پر ایک قابل معافی جرم قرار دیتا آیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حنفی اصول فقہ کے مطابق جس معاملے پر امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں کا اجماع ہو اس سے اختلاف ممکن نہیں۔ تقلید کا یہ اصول روایتی اسلامی فقہی فکر میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ 295 سی کے متن میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کے لیے معافی کی کوئی گنجائش مذکور نہیں۔ درحقیقت یہ مرکزی شرعی عدالت کی تشریح ہے جو اس قانون کے اطلاق کا ضابطہ کار طے کرتی ہے، اور اس معاملے میں عدالت معافی کو خارج از امکان قرار دیتی ہے۔

 

عجب ستم ظریفی ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلوں میں بھی انہی مذکورہ بالا فقہی ماخذات سے رجوع کیا گیا ہے (جو توہین کے جرم کو قابل معافی قرار دیتے ہیں) لیکن بوجوہ عدالت ایک مختلف بلکہ متضاد نتیجے پر پہنچی ہےکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے مطابق توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا؟ صدیوں سے مروج واضح مذہبی اصول کی اس قدر گمراہ کن تعبیر کس طرح ممکن ہوئی؟ ان سوالات کے جواب کی جستجو میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔ اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ البزازی کوئی متبادل نقطہ نظر پیش نہیں کر رہے تھے، بلکہ حنفی موقف کو ہو بہو نقل کرنے کی کوشش میں سہواً غلط معانی نکال بیٹھے۔ مسلمہ حنفی نقطہء نظر سے ان کا اس قدر انحراف حیران کن امر ہے۔

 

امام ابن عابدین جنوبی ایشیاء کے معتبر ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر کی یہ غلط تعبیر جب ان کی نظر سے گزری تو وہ اس پر ایک پجوش تنقید تحریر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اپنی تنقید میں امام ابن عابدین نے ناصرف البزازی کی دو اہم کتابوں، ‘الصاریم المسلول علی شاتم الرسول’ [ابن تیمیہ] اور’ الشفا’ [قاضی عیاض] کی غلط تفہیم نشاندہی کی بلکہ توہین رسالت کے نا قابل معافی ہونے کے خیال کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دے کر بیک جنبش قلم مسترد کر دیا۔

 

امام عابدین کی تصنیف رد المحتار علی الدر المختار کے ترجمہ شدہ خلاصے کا اقتباس
امام عابدین کی تصنیف رد المحتار علی الدر المختار کے ترجمہ شدہ خلاصے کا اقتباس
امام ابن عابدین کی تصنیف رد المختار علی الدر المختار کا ایک عربی اقتباس
امام ابن عابدین کی تصنیف رد المختار علی الدر المختار کا ایک عربی اقتباس
امام ابن عابدین اسلامی فقہی روایت کی اہم ترین شخصیت اور پاکستان بھر کے دیوبندی مدارس میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے عالم ہیں۔ آپ کی پیش بین نگاہ اور دانائی نے اس زمانے میں ہی یہ خطرہ بھانپ لیا تھا کہ اگر ان اختلافی آراء کو مسترد نہ کیا گیا تو یہ غیر ضروری افراتفری اور تباہی کا باعث بنیں گی۔ آپ نے علماء کو اپنی تحقیق کے دوران بنیادی ماخذات کا حوالہ دیتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

 

توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کا ماخذ کیا ہے؟

 

جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔
بظاہر امام ابن عابدین کی یہ تلقین توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کے معمارایڈووکیٹ اسماعیل قریشی تک نہیں پہنچی۔ توہین رسالت کے لیے ناقابل تنسیخ اور ناقابل معافی سزائے موت کے حق میں مقدمہ قائم کرتے ہوئے جن نمایاں حنفی علماء کی تصانیف کا حوالہ دیتے ہیں شومئی قسمت امام عابدین کا نام بھی ان میں شامل ہے۔ اسماعیل قریشی نے امام ابن عابدین کے موقف کو اسی طرح بالکل متضاد رنگ دے کر پیش کیا جیسے ان سے قبل البزازی نے امام ابو حنیفہ کی رائے کے ساتھ کیا تھا، گویا تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرایا۔ گویا پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں دانستہ طور پر حنفی مکتہ فکر کے بانی امام ابوحنیفہ کے موقف کو مسخ کر کے شامل کیا گیا بلکہ توہین مذہب و رسالت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔

 

حنفی فقہاء کے ہاں توہین مذہب و رسالت کے معاملات میں مسلم اور غیر مسلم افراد کے لیے جداگانہ قوانین موجود ہیں لیکن پاکستانی قانون میں اس تفریق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے پاکستانی قوانین میں تاریخی اور فقہی حوالہ جات کی دانستہ غلط نقل کے باعث کئی معصوم لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہاں یہ ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ امام ابو حنیفہ کی جانب سے توہین مذہب کی سزا اور اس پر معافی طلب کرنے پر سزا کی معافی کا معاملہ مسلم افراد کے لیے مخصوص ہے، توہین رسالت و مذہب کے قوانین کا اطلاق غیر مسلموں پر ان اصولوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا جو مسلمانوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں، لیکن ظلم یہ ہے کہ پاکستانی قانون میں اس تفریق کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

 

فتاویٰ شامی میں ایک مقام پر امام ابن عابدین، البزازی کے ‘توہین رسالت کے لیے ناقابل معافی سزائے موت تجویز کرنے اور اس سے اختلاف کرنے والے کو بھی گستاخی کا مرتکب قرا دینے’ کے دعوے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ امام ابن عابدین کی نقد چھ صفحات پر محیط ہے۔

 

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے متنازعہ دعوے کے فوراً بعد بلاتحقیق وہی باتیں امام ابن عابدین سے منسوب کر دیں جنہیں وہ شدومد سے رد کرتے آئے ہیں۔

 

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا
ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً ؎ البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا
ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا
ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا
جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے قریشی صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے دعوے سے متصادم بنیادی ماخذات انہیں دکھا ئے۔ قریشی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو اس کی موجودہ شکل میں ترتیب دینے کے تاریخی عمل کو غلطی پر غلطی کرنے کا ایک بدقسمت سلسلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس قانون کی زد میں آنے والوں کے لیے اس مباحثے کی گونج محض ‘بد قسمت’ نہیں بلکہ بھیانک نتائج کی حامل ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سرکردہ مذہبی قیادت میں سے کوئی بھی معتبر عالم دین اس تنازعے کو سلجھانے کے لیے پیش قدمی کو تیار نہیں؟

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ حقائق کی پردہ پوشی کُھلے مکالمے سے زیادہ سودمند راستہ معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ عمومی بحث سیکیولر نقطہ نظر کے ساتھ براہ راست تصادم جیسے بدترین نتیجے پر منتج ہو سکتی ہے۔

 

اس تمام افراتفری اور نیم حکیمی میں آسیہ بی بی اور جنید جمشید جیسے لوگوں کے لیے ابھی بھی امید کی کرن باقی ہے۔

 

جنید جمشید اور آسیہ بی بی جیسے افراد کو معافی دلانے کے لیے قانون کے متن میں تبدیلی قطعی ضروری نہیں، صرف اس کی عدالتی تشریح پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس امر کے لیے ایک گمراہ کن تحقیق کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت کے دیے گئے غلط فیصلے کی تصیح ہی کافی ہے۔

 

حنفی مکتبہ فکر کے مطابق توہین رسالت کے قانون میں معافی کی گنجائش ہے اور امام ابن عابدین نے بھی اسی امر کی نشاندہی کی ہے۔
Categories
اداریہ

صحیح سمت میں صحیح قدم مگر۔۔-اداریہ

ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔
گو پھانسی کی سزا اپنی جگہ ایک غیر انسانی سزا ہے اور پاکستانی نظام انصاف میں موجود نقائص کی وجہ سے پاکستان میں اس سزا کا دفاع ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد صحیح سمت میں اٹھایا گیا صحیح قدم ہے اور یقیناً یہ قدم عشق رسول کے گمراہ کن تصورات اور روایات پر ایک صحت مند مکالمے کے آغاز کا بھی باعث بنے گا۔ اگرچہ سزائے موت خواہ وہ ایک دہشت گرد ہی کی کیوں نہ ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سول قیادت اور نظام انصاف جس قدر بھی غیر فعال، بدعنوان اور غیر مقبول ہوں بہر طور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت کے خلاف ہیں۔ قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے بھی یہ حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔ یہ یقیناً ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے اور اس کے نتیجے میں ملسم لیگ نواز حکومت کو بڑے پیمانے پر احتجاج اور مذہبی طبقات کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ تاہم ممتاز قادری کو ایک اور علم دین بننے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا اور بدقسمتی سے اس سلسلے میں حکومت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔

حکومت نے وقتی طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کے موزوں اور مناسب اقدامات کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔ ممتاز قادری کی سزائے موت ہمارے لیے بہت سے نئے چیلنجز کو جنم دے گی، ریاست اور معاشرے کو ممتاز قادری کو بطور ہیرو تسلیم کرنے سے متعلق سنجیدہ بحث شروع کرنا ہو گی اور اس فکر کی بیخ کنی کرنا ہو گی جو عشق رسول کے نام پر انسانی جان لینے کو جائز قرار دیتی ہے۔

سلمان تاثیر کے قاتل کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔
ممتاز قادری کی سزائے موت سے سلمان تاثیر کی ہلاکت کا معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی محض ایک جرم کی سزا ہے لیکن سلمان تاثیر کا قتل کیا جانا محض ایک جرم نہیں تھا۔ یہ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین پر بحث، ان قوانین کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ممانعت کے خلاف بھی جرم تھا۔ ممتاز قادری کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے اور ان کے وکلاء اور حامیوں کا اسے درست قرار دینا بھی اسی معاملے کا ایک پہلو ہے جو قتل کرنے کے ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ہماری روز مرہ آزادیوں اور حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ریاست اس حوالے سے بہت کچھ نہیں کر پائے گی۔

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی اور توہین رسالت و مذہب کے قوانین کی زد میں آنے والے بے گناہوں کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔ یہ سزا توہین مذہب اور توہین رسالت کے ظالمانہ قوانین میں انسانی حقوق کی مروجہ تعریف کے مطابق ترامیم اور ان کے غلط استعمال کے خلاف قانون سازی کے بغیر بھی نامکمل ہے۔ اس سزا پر عمل درآمد کے موثر نتائج تب تک برآمد نہیں ہو سکیں گے جب تک عشق رسول کے نام پر تشدد اور ہتھیار اٹھانے کے خلاف ریاستی اور معاشرتی سطح پر واضح موقف اختیار نہیں کیا جاتا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے لیے عشق رسول کو جواز بنانے کی فکر کو ہر سطح پر رد نہیں کیا جاتا۔ سلمان تاثیر کے قاتلوں میں صرف ممتاز قادری ہی نہیں بلکہ وہ مذہبی فکر بھی شامل ہے جو اس قسم کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتی ہے اور اس مذہبی فکر کے خلاف ایک پھانسی یا بہت سی پھانسیاں بھی کارآمد ثابت نہیں ہوں گی تاوقتیکہ اس گمراہ کن فکر کو ہر فکری اور علمی سطح پر رد کیا جائے، اور یہ ذمہ داری ریاست سے زیادہ معاشرے اور مذہبی طبقات پر عائد ہوتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

youth-yell-featuredایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی باتوں، فرسودہ سوچوں اور جوشیلے نعروں پر لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں وہاں عقل و دانش رکھنے افراد کا گزارا مشکل ہوتا ہے اور اگر ایسے حضرات باہمت ہوں اور جہلاء کے گروہ کے سامنے جھکنے سے انکار دیں تو انہیں اسی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا سامنا سلمان تاثیر کو کرنا پڑا۔ سابق گورنر پنجاب نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے بے بنیاد الزام سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے توہین مذہب اور توہین رسالت کے موجودہ قانون پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پانچ برس قبل ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے سپاہی ممتاز قادری نے ان کی جان لے لی۔ سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟ کیا وہ اس مذہبی ‘استحقاق’ کی بنیاد پرجب چاہیں گے، جیسی چاہیں گے مذہب کی تشریح کریں گے اور لوگوں کی جان ہتھیا لیں گے؟ یا ریاست اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ کیا توہین مذہب کے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرتے رہیں گے یا قانون کے اطلاق اور جرم کے تعین کا عدالتی فریضہ ریاست سرانجام دے گی؟ قانون کا اطلاق، جرم کی تفتیش اور سزا ریاست کا کام ہے نا کہ مسلح جتھوں یا شدت پسند جماعتوں کا۔

 

سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟
ممتاز قادری کی سزائے موت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سلمان تاثیر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر تنقید اور بہتری کی گنجائش کی بات کرنا ہرگز توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔ وہ گروہ اور افراد جو ممتاز قادری جیسے مجرم کو ہیرو بنائے بیٹھے ہیں وہ درحقیقت آنکھیں بند کر کے مذہبی چورن فروشوں کے پھیلائے پراپیگنڈا کا شکار نظر آتے ہیں۔ ممتاز قادری ایک نیم خواندہ اور دل شکستہ شخص تھا جو ایک لڑکی کی محبت میں دل گرفتہ قاری حنیف کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہو کر یہ قدم اٹھا بیٹھا۔ مذہبی صنعت کے ان داتا اور ٹھیکیدار اس بہیمانہ قتل پر اسے ایک ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

 

آپ اگر سلمان تاثیر سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کو مسلمان نہ ہونے کے سرٹیفیکس دینے لگیں گے۔ آپ کو بھی دھمکیوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ممتاز قادری کے مداحین کی اکثریت نہ تو اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف ہے اور نہ توہین رسالت کے قانون پر سلمان تاثیر کی تنقید سے۔ یہ خواتین و حضرات ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کے قتل کو درست قرار دے کر اپنا ذہنی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

سلمان تاثیر پاکستان میں متوسط طبقے کے کسی بھی شخص کے لیے عام زندگی میں ترقی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جنہوں نے ایک معمولی سی اکاؤنٹ فرم سے کیرئر کا آغاز کر کے اسے ملک کی سب سے بڑی کمپنی بنا ڈالا اور سیاست میں آنے کے بعد اس کی ملکیت سے دستبردار بھی ہو گئے۔ دوسری جانب قاری حنیف اور ممتاز قادری جیسے لوگ ہیں جنہوں نے سوائے نفرتیں پھیلانے اور قتل وغارت گری کے اس معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کوئی مقدس شے نہیں بلکہ روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ اور تجارت ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے ابھی معاشرے میں بے حد کام کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا ماخذ مذہبی اجارہ دار ہیں جو محض چند روپوں اور مذہب پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ ماضی میں حدود کے قوانین کا بھی اسی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جیسے اب توہین مذہب کے قوانین کا کیا جارہا ہے۔

 

سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔
جیل سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی درخواستیں کرتا ممتاز قادری خود سلمان تاثیر کے بے گناہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، لیکن قاری حنیف جس کی مشتعل تقریر سے یہ دل سوز واقعہ پیش آیا تھا ابھی بھی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے، بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر آ کر مذہب پر بحث کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسیہ بی بی جس کے حق میں سلمان تاثیر مرحوم نے آواز بلند کی تھی آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہی ہے۔ انسانیت کی توہین ہر لمحہ اور ملک کے ہر گوشے میں ہوتی ہے لیکن اس پر بولنے والا کوئی نہیں۔ جس معاشرے میں مذہبی مباحث کا مقصد مذہب کے نام پر دوسروں کو کافر قرار دینا، جہاد اور قتال پر اکسانا اور جنت میں مباشرت کے لذائذ کی تبلیغ ہو وہاں مثبت مذہبی فکر کی افزائش کیوں کر ممکن ہے؟ وہاں تعمیری دماغ تو پنپنے سے رہے، ایڈیسن یا سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ تو سامنے آنے سے رہے البتہ ممتاز قادریوں اور قاری حنیف جیسے جہلاء کے لیے یہ معاشرے بے حد زرخیز ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ایسے ہی طبقات کے اندھے مذہبی جنون کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ایسی ہی سوچ کے خاتمے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

 

ممتاز قادری اور قاری حنیف جیسے لوگ اس کھیل میں محض مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گھناونا کھیل کھیلنے والے مذہبی شدت پسند گروہ طاقت کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کے بل پر اس مکروہ کاروبار کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ سوال کی نعمت سے محروم کروڑوں بنجر بنجر ذہن اور اندھے عقیدت مند وہ کندھے ہیں جن پر چڑھ کر یہ اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ یوں شدت پسندی اور اقلیتوں کو بزور طاقت دبانے کا یہ گھناؤنا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ مذاہب انسانوں کو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتارے گئے تھے نا کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے یا ختم کرنے۔ سلمان تاثیر کی بے گناہی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ثابت کر دی لیکن وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی سوچوں میں ممتاز قادری اور قاری حنیف ہیں وہ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو، اور یہ سوچ اس معاشرے کے لیے سب سے خطرناک سوچ ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو فکر ممتاز قادری جیسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جان لینے پر اکساتی ہے وہ آج کروڑوں لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔ معاشرے میں اس سوچ کا پروان چڑھنا ایک مستقل خطرہ ہے۔ خوف کی وجہ سے اس سوچ کے تدارک کے لیے شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے سوا ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سےکبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سوچ کے حامل افراد کو جدید دنیا سے روشناس کرانے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ یہی ذہن جو اس شدت پسندی کے ہاتھوں بنجر اور ویران ہو رہے ہیں انہیں اذہان کی مدد سے ہم اس شدت پسندی کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں اس تعصب، بنیاد پرستی اور نرگسیت کی دلدل سے نکال سکتے ہیں اور مذہبی چورن فروشوں کا گھناونا کاروبار بھی بند کر سکتے ہیں۔ کم سے کم آنے والی نسلوں تک تو یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور زندگی کا مقصد کسی بھی مذہب کے نام پر کسی کو مارنا یا خود مرنا نہیں۔ شدت پسندی کے خمیر سے گُندھے معاشرے میں کس طرح سے اپنے آپ کو مذہبی منافرت سے بچا کر خود کو ایک تعمیر پسند شہری بنانا ہے، اس کا ادراک بھی آنے والی نسلوں کو کرانا بے حد ضروری ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشدد اور عدم برداشت کو ناپسند فرماتے تھے۔ توہین مذہب کے موجودہ قوانین اور ان کے تحت سزا کے غیرمنصفانہ ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن اس قانون کے غلط استعمال اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہم سب کو متفق ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جواز کے تحت قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

 

سلمان تاثیر نے اس قانون پر تنقید کی تھی جسے ایک آمر نے اقلیتوں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ترمیم کے ساتھ آئین پاکستان میں شامل کیا تھا اب ہمیں اس قانون پر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔ سلمان تاثیر جیسے لوگ کسی مخالفت کی پرواہ کرتے ہی کب ہیں ان جیسے لوگ اپنے ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں جو بلا خوف وخطر سچائی کے لیے سب کچھ داو پر لگا دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت ممتاز قادری جیسے افراد کی یا تو حامی ہے، یا ہمدرد یا خاموش ہے، معدودے چند سلمان تاثیر جیسے بے باک افراد ہی سامنے آ کر ظلم کو ظلم قرار دینے کی جرات کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ،اکثریت کی رائے اور اکثریت کا چلن دیکھ کر سچ کی نشاندہی سے گریز کسی طرح درست نہیں برٹرینڈ رسل کے بقول:

“The fact that an opinion has been widely held is no evidence whatever that it is not utterly absurd; indeed in view of the silliness of the majority of mankind, a widely spread belief is more likely to be foolish than sensible.”

لیکن ایک سچ کی خاطر سر کٹانے والے جتنے بھی کم ہو ان کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیض احمد فیض)

Image: Umair Vahidy

Categories
نقطۂ نظر

ارباب اختیار کے نام کھلا خط

محترم سالار اعظم، محترم وزیر اعظم اور جناب چیف جسٹس صاحب!

 

سانحہ پشاور میں شہید طالب علموں کی دکھی ماؤں کو کچھ صبر آہی گیاہوگا جب سانحہ پشاور کے ذمہ داردرندوں اور وحشیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہوگا۔ لیکن کلیجہ منہ کو آتا ہے جب ایک گونگی معذور بچی ادھورے اشاروں اور ان سنی آوا ز سے اپنی ماں آسیہ بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے جس کو سانحپہ پشاور کے ذمہ داران جیسے جہنم زادوں کے خوف کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوئے ہمارا سماج ان کو چوڑے، چمار، ناپاک، پلید کہہ کر ان کے برتن الگ رکھتا ہے، ان سے مصافحہ کرنے سے قبل لاؤڈ اسپیکر سے فتوے کی آواز پر کان دھرتا ہے ان کو سکول میں باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سماج کی ایسی ذہنی تربیت کون کرتا ہے۔کون ہے جس نے سمندری کے علاقے میں زاہدہ رانا ہیڈ مسٹرس کی ایسی مذہبی تربیت کی کہ اُس نے ایک8سالہ مسیحی بچی کو کہا کہ تم کوایک”کرسچن چوڑا” ہونے کے ناطے مسلمانوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ زہر پھیلانے والے ان ملاؤں کے سامنے عدلیہ، قانون اور ریاستی ادارے آخر کب تک سر تسلیم خم رکھیں گے؟ کب تک ان کو دین فروشی کے اجازت نامے جاری کریں گے؟

 

کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟
لعنت ہو ہم پر۔ لعنت ہو ہم پر۔ ہم پیغمبر رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر لوگوں کو قید کرتے ہیں، زندہ جلاتے ہیں، اینٹیں مارتے ہیں، قتل کرتے ہیں، گلیوں میں گھسیٹتے ہیں، بھٹے میں زندہ جلا دیتے ہیں۔کئی ایسٹر، کئی کرسمس گزر گئے لیکن ایک بے بس اور لاچار بیٹی توہین رسالت کے نام پر اڈیالہ جیل میں قید اپنی ماں سے برسوں سے جداہے۔ مختلف فرقوں کی تکفیری تحریریں سرعام بازاروں میں پڑی ہیں، فتوؤں کی آلائشوں سے لتھڑی کتابیں ہر بڑے کتب فروش کے ہاں بک رہی ہیں، فرقوں کے درمیان لفظی جنگ کے علاوہ بارہا دنگافساد بھی ہوئے ہیں جن میں مذہبی کتب بھی جلائی گئیں لیکن کبھی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ کسی دانشور نے کبھی توہین رسالت کے قانون کے نام پر اقلیتوں پر ہونے والے طلم اور ان کے خلاف منافرت پھیلانے پر تنقید نہیں کی جبکہ ہندوستان میں اعزازات واپس کیے جارہے ہیں، لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات میں انہی دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہے جن کے سبب یہ ارض پاک اس حال کو پہنچی ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ بے بس غیرمسلم پاکستانی اپنے لخت جگر سینوں میں چھپائے ہندوستان جارہے ہیں۔ مسیحی و ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہاہے۔ غارت گری کے حلف قرآن پر اُٹھائے جارہے ہیں۔

 

محترم وزیر اعظم!
ریاست تو اپنے عوام کی محافظ ہے، لیکن ایک مسیحی دکھیاری ماں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاکر اسے مذہبی شدت پسندوں کے خوف سے پابند سلاسل کر دیا گیاہے۔ مملکت خداد پاکستان کے سنہری قوانین کے تحت توہین مذہب کے قوانین تمام مذاہب اور ان کی محترم ہستیوں کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن احمدیوں، عیسائیوں، ہندووں اور یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام چسپاں کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، مسیحی بستیوں پر حملوں کے دوران انجیل مقدس اور احمدیوں کی مقدس کتب کے صحیفے بھی جلائے گئے ہیں، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام دکانوں پر فخر سے لگایا جاتا ہے لیکن ریاست انہیں تحفظ نہیں دیتی۔ مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔

 

مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
یہ سچ ہے کہ ایک بے بس اورلاچار مسیحی عورت شاید آئین پاکستان کے تحت مسلمان قرار پانے والوں کی طرح پنج وقتہ نمازی، پرہیزگار اور متقی نہیں، اکثریت کی رگوں میں موجزن دیانت داری اور حب الوطنی کی ایمانی حرارت کے برعکس شاید ہماری دانست میں آسیہ بی بی اس ایمان سے محروم ہے لیکن کیا آپ کی عقل اور ضمیر تسلیم کرتاہے کہ ایک ان پڑھ اور بے بس عورت آسیہ بی بی کو محض الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر قید کر دیا جائے؟ ایک استاد جنید حفیظ کو نہ صرف قید رکھا جائے بلکہ اس کے وکیل راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا جائے؟ آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جائے۔ دن اور رات کے فرق سے محروم اس قیدی عورت کی بینائی اب ختم ہو رہی ہے جو8×10 کی کال کوٹھڑی میں قید ہے، جس کے ساتھ دونوں قید خانے بھی عورت قیدی نہ ہونے کی وجہ سے خالی اور ویران ہیں۔

 

محترم چیف جسٹس صاحب!
توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان مظلوموں کو انصاف کون دے گا جو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گھر ہوتے ہیں، جان بچاتے پھرتے ہیں؟ ان کے تحفظ کے لیے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے جلسے، جلوس اور ریلیاں کیوں نہیں نکالی جاتیں؟ کیاآپ کا ضمیر یہ گواہی دینے کو تیار ہے کہ دنیا کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین انسان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور حرمت کے نام پر سفاکیت، بے رحمی اور ایذارسانی جائز ہے؟ کیا ان کے نام پر ایسے گھناؤنے قوانین متعارف کروا کر بے گناہوں کو اذیتیں دینا گناہِ کبیرہ نہیں؟ کیا توہین مذہب اور توہین رسالت کے یہ قوانین غیر انسانی نہیں جو مزاج محمدیہ سے بھی متصادم ہیں؟

 

کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ کیا اسی بیٹیوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ جو زہرقید کی صورت میں تمہاری ماں کی رگوں میں اتار جارہا ہے اس سے سماج کے اندھیرے دور ہورہے ہیں؟ کون ہے جو ان معصوموں کو بتا سکتا ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ان کی ماں پر توہین رسالت کو مقدمہ قائم کرنا ضروری تھا؟ اس مقدمے کے بعد سے پاکستان میں برکتوں اور رحمتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر چہرہ نورو ہدایت سے جگمگا رہاہے۔ وظائف و تسبیحات میں مشغول معاشرہ اب صرف قیامت کے انتظار میں بے قرار ہے۔ دین کا خوب بول بالا ہو رہا ہے۔ ہر مدرسے سے رواداری، تحمل اوربرداشت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو گلی کوچوں سے راستہ بناتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے پھاٹک پر دستک دے رہے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کا باعث بن رہے ہیں ۔گویا تمہاری ماں آسیہ بی بی کو سزا دینے کے بعد پاکستان کا ہر کونہ ایمان اوراخلاق کے زیور سے آرستہ ہو چکا ہے۔ محبت، اخوت، بھائی چارے اور امن و سکون کی صدائیں چاروں صوبوں سے بلند ہو رہی ہیں۔

 

اے سپہ سالارِ اعظم!
سیاست دان، جج حضرات سب ہی مشکل حالات میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کے غسل کے لیے آپ ہی کے متبرک ہاتھوں کو چوما جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے جج بھی آپ جیسے جری اوربہادر سپہ سالاروں کی ایک فون کال پر بحال ہوتے ہیں۔ آپ کے حلال شب خون کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن کی دیواریں آپ کی ابرو کی ہلکی سی جنبش سے ریت کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ سے ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک لاچار اور بے بس عورت کو قید سے آزاد کرنے کا بندوبست فرمائیں تاکہ ایک معذور بیٹی اپنی ماں سے مل کر اپنی گونگی زبان میں آپ کے لیے اظہار تشکر کے الفاظ دل میں ہی دہرا سکے۔

 

والسلام
ایک خیر اندیش شہری