جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ اس ملک میں انسانی زندگی، آزادی اور تحفظ کی جدو جہد کرنے والے ہر فرد کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث ہے۔ جنید حفیظ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کسی ایک شخص کو سزائے موت دینے کا حکم نہیں، یہ اس نقطہ نظر کی تائید ہے کہ مذہب اور نظریے کے نام پر کسی فرد، گروہ یا طبقے کا استحصال ، درست ہے، یہ اس کج فہمی کی تائید ہے جس کے مطابق عقائد کا تقدس انسانی جان سے زیادہ مجترم قرار پاتا ہے، اور یہ تاریخی انسانی میں کیے جانے والے ہر اس قتل کی ایک اورعدالتی تائید ہے جہاں افراد کو ان کے نقطہ نظر ، اظہار خیال یا نظریات کی بنیاد پر واجب القتل قرار دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ہجوم یا ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں کسی فرد کے قتل سے کچھ بہت مختلف نہیں قرار دیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ عین ممکن ہے کہ اس فیصلے کو قانون کا تحفظ اور گمراہ کن مذہبی جذبات کی تائید حاصل ہے۔
جنید حفیظ کو دی جانے والی سزا ایک فرد کو دی جانے والی سزا نہیں، بلکہ ریاست اور نظام انصاف کے مذہبی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی فردجرم ہے۔ یہ ہماری ریاست کے اس طرز حکمرانی کا واضح اظہار ہے جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کوسزا دینے کی بجائے ان کی منشاء کے مطابق کمزور طبقات کو قربان کرنا درست خیال کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق یہ بحث کہ آیا جنید حفیظ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں جس کے لیے انہیں سزائے موت جیسی ظالمانہ اور غیر انسانی سزا دی گئی، یا کیا انہیں دفاع کا مناسب حق دیا گیا یا نہیں اور کیا ان کے خلاف کافی شواہد موجود تھے۔۔۔ اور کیا جو واقعات یا بیانات ان سے منسوب کیے گئے اگر وہ واقعتاً ان سے سرزد ہوئے بھی تو کیا وہ توہین مذہب و رسالت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں اس پر آنے والے دنوں میں اعلی عدلیہ اور سماجی طبقات ہر جگہ بحث کی جائے گی تاہم اس بحث سے قطع نظر اس وقت یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے بھی اور اگر مذہبی طبقات کے دباو میں اسے لائق تعزیر جرم خیال کر بھی لیا جائے تو بھی جنید حفیظ سزائے موت کے مستحق نہیں۔
اس موقع پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جانا ضروری ہے کہ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ایک شخص کی زندگی سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے؟ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب پر تنقید، طنز یا توہین کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے بھی تو کیا یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کے لیے سزائے موت کو لازم قرار دیا جائے؟ مقدس شخصیات ، مذہب اور نظریات کا احترام کیا جاسکتا ہے مگر انہیں تنقیدبالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا، ان پر طنز کو نامناسب خیال کیا جا سکتا ہے مگر جرم نہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی توہین کو غلط خیال کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو مہذب انداز میں منع کیا جا سکتا ہے مگر اسے جرم قرار دے کر سزائے موت جیسی ظالمانہ سزا سنایا جانا نہ صرف غلط ہے بلکہ صریحاً ظلم ہے۔
عدالتی فیصلہ واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ مذہبی جذبات ریاست اور عدالت کے لیے انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہیں، قانون شکن ہجوموں کا خوف آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنانے کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے اور ریاست اور عدالتیں اپنی کمزوری کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مذہبی جنونیوں کے آستانوں پر جنید حفیظ جیسوں کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی۔
توہین رسالت و مذہب کے پاکستانی قوانین پر عرفات مظہر کا یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہوا جسے ترجمہ کر کے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون توہین رسالت کے قوانین کا شکار ہونے والے ایک صاحب نے رضاکارانہ طور پر ترجمہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں موجود نقائص کی نشاندہی کرنے والی یہ آوازیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم عرفات مظہر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
توہین مذہب و رسالت کے قوانین کو سندعام حاصل ہے اور یہ ایک عمومی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس عقیدے کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے موزوں ترین بلکہ واحد سزا، سزائے موت ہے۔ اس عقیدے کی مکمل شدت کا مظاہرہ تب دیکھنے میں آتا ہے جب توہینِ مذہب کے الزامات کسی غیر مسلم پر عائد کیے گئے ہوں۔
اپنے پچھلے مضمون میں میں نے توہین مذہب و رسالت کے معاملے پر امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے مستند حنفی نقطہء نظر کا حوالہ دیا تھا۔ اس حنفی نقطہ نظر میں مسلم یا غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر توہین مذہب و رسالت کے تمام مجرموں کے لیے معافی کی گنجائش موجود ہے۔ اس مضمون کو بے حد پذیرائی ملی۔ قارئین کے ردعمل میں جہاں ایک جانب گستاخی کے ملزم جنید جمشید جیسے مسلمانوں (جو غلطی سے یا نادانستہ طور پر گستاخی کے مرتکب ہوئے) کو معاف کرنے کی حمایت کی گئی ہے وہیں کئی حلقوں نے اسی اصول کے تحت آسیہ بی بی (جن پر گستاخی کا جرم ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ شواہد موجود نہیں) جیسے غیر مسلم شاتمان کو معافی دینے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
یہ ردِعمل ملکی سطح پر توہین مذہب سے متعلق پائی جانے والی عوامی رائے کا عکاس ہے۔
ماضی میں جنوبی ایشیا کے چوٹی کے علماء متفقہ طور پر توہین مذہب و رسالت کے مرتکب غیر مسلم افراد کے لیے سزائے موت کی مخالفت کر چکے ہیں۔
وہ لوگ جو اس عوامی رائے سے اختلاف کرتے ہیں، بالخصوص جو غیر مسلموں کے لیے معافی کی گنجائش یا اس جرم میں سزائے موت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، ان پر مغرب سے درآمد شدہ نظریات کے پرچار یا ایمان کی کمی کا الزام لگا دیا جاتا ہے، ان الزامات سے عوام کے سامنے ان افراد کی رائے ساز حیثیت کو داغدار کیا جاتا ہے۔ نتیجے میں رحم کی درخواست کرنے والی آوازیں غیر متعلق اور بے اثر ہو جاتی ہیں اور عام شہریوں کے لیے انہیں نظرانداز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر ایک زمانے میں حالات اس سے بالکل مختلف تھے، درحقیقت ماضی میں جنوبی ایشیا کے چوٹی کے علماء متفقہ طور پر توہین مذہب و رسالت کے مرتکب غیر مسلم افراد کے لیے سزائے موت کی مخالفت کر چکے ہیں۔ یہ انیسویں صدی کے اواخر کا واقعہ ہے جب جنوبی ایشیا کے علماء (جن کی اکثریت حنفی مکتبہء فکر سے تعلق رکھتی تھی) اہل حدیث کے نظریاتی حملوں کی زد میں تھے۔
اہلِ حدیث تحریک کاآغاز جزیرہ نما عرب کے وہابی اثرات کے تحت ہوا، وہابی فرقے نے پہلے پہل اس تحریک کو نظریاتی اور بعد ازاں معاشی وسائل اور سرپرستی مہیا کی۔ اس تحریک نے مختلف فقہی مسائل پر مسلمہ حنفی تشریحات کے شریعت کے مطابق ہونے پر سوال اٹھائے۔ اہل حدیث علماء کی جانب سے شاتم رسول مسلم و غیر مسلم افراد کے لیے معافی کی گنجائش کے معاملے میں حنفی علماء کی آراء پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ اہلِ حدیث کی جانب سے حنفی فقہاء پر الزام لگایا گیا کہ حنفی تشریحات، احادیث کے برخلاف ‘رائے’ اور یونانی فلسفے سے متاثرہ منطقی ‘قیاس’ پر مبنی ہیں۔
بالخصوص اہلِ حدیث علماء نے غیرمسلم شاتموں کے حوالے سے حنفی علماء کے نقطہ نظر (مثلاً غیر مسلموں کے لیے سزائے موت کو لازمی اور واحد سزا قرار نہ دینے اور معافی کی گنجائش دینے) سے اختلاف کیا اور اسے نرم دلی سے تعبیر دے کر احادیث سے متصادم قرار دیا۔
اتوہین رسالت و مذہب کے مرتکب غیر مسلم افراد سے متعلق امام ابو حنیفہ کے نقطہ نظر کا اقتباس
اس تنقید کا سامنا حنفی علما نے ایک پرجوش استرداد سے کیا۔ کئی علما نے اہل حدیث کو انہی کے علمی ماخذوں یعنی احادیث کے حوالوں کے ساتھ جواب دیے۔ ور جن احادیث پر اہل حدیث نے اپنی تنقید کی بنیاد رکھی تھی، حنفی علماء نے ان کا علمی تجزیہ کیا۔ ایسی علمی کاوشوں میں سے ایک مثال اکیس جلدوں پر مشتمل مولانا ظفر احمد عثمانی کی اعلا السنن [حضرت محمد کی سنت کا ارتفاع] ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اہل حدیث کے دعووں کے برخلاف حنفی مکتبہء فکر اور فقہ پوری طرح سے حضرت محمد ﷽ کی سنت پر قائم ہے۔
فتوے کے مطابق کسی غیر مسلم کو توہین رسالت یا توہین مذہب کے جرم میں موت کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس کا/کی توہین مذہب و رسالت کاعادی مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔
ایسی عظیم الشان شخصی کاوشوں کے علاوہ میری دانست میں توہین رسالت کے حوالے سے ہونے والا سب سے اہم کام فتح المبین تنبیہ الوہابین ہے۔ اس کتاب میں دیے گئے فتوے کے مطابق کسی غیر مسلم کو توہین رسالت یا توہین مذہب کے جرم میں موت کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس کا/کی توہین مذہب و رسالت کاعادی مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔
عادی مجرم ہونا ایک نہایت اہم نکتہ ہے اور توہین مذہب و رسالت کے کسی غیرارادی یا ایک مرتبہ ہونے والے واقعے کو عمداً یا تسلسل کے ساتھ ہونے والے واقعات سے جدا کر دیتا ہے، ایسےواقعات کو درحقیقت باغیانہ سیاسی عزائم کے ساتھ کی جانے والی توہین بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد محض ایک مرتبہ ارادتاً یا غیر ارادی طور پر توہین مذہب و رسالت کا مرتکب ہوا/ہوئی ہو تو اسے سزائے موت نہیں دی جا سکتی، موت کی سزا صرف تب دی جا سکتی ہے جب گستاخی کا مرتکب فرد باربار ارادتاً توہین کا مرتکب ہوا/ہوئی ہو۔ اور یہ توہین مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہو۔
اس تاریخی فتوے کی توثیق 450 سے زائد علماء نے کی، جس کے مطابق جب تک توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب متواتر نہ ہو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
اس تاریخی فتوے کی توثیق 450 سے زائد علماء نے کی، جس کے مطابق جب تک توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب متواتر نہ ہو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
توہینِ مذہب و رسالت پر حنفی نقطہ نظر کی رد میں اہلِ حدیث کی جانب سےاحادیث کا ایک مجموعہ پیش کیا گیا جو بظاہر یہ ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں توہین رسالت کے مرتکب مسلم و غیر مسلم افراد قتل کر دیے گئے تھے اور اس لئے حنفی نکتہء نظر جو غیر مسلموں کے لیے لازمی سزائے موت تجویز نہیں کرتا غلط ہے۔ تاہم اہلِ حدیث کا یہ دعویٰ اس لیے درست قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ ایسے تمام واقعات میں توہین رسالت کا ارکاب بار بار کیا گیا تھا۔ اہلِ حدیث کی بیان کردہ تمام احادیث ایسے خطاکاروں سے متعلق ہیں جو تواتر کے ساتھ توہین مذہب کے مرتکب پائے گئے۔
ان احادیث میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ مذکور نہیں جس میں کسی غیر مسلم کو محض ایک مرتبہ توہین کرنے پر قتل کیا گیا ہو۔
امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق توہین مذہب و رسالت پر موت کی سزا صرف ایسے غیر مسلم عناصر کے خلاف سنائی جا سکتی ہے جو اسلامی ریاست کے خلاف باغیانہ روش اختیار کیے ہوئے ہوں
[مزید برآں امام ابو حنیفہ کے ہاں توہین مذہب و رسالت کے جرم میں غیر مسلوں کے لیے موت کی سزا سیاسی ہے ناکہ شرعی(یا اللہ کی طرف سے)۔ امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق توہین مذہب و رسالت پر موت کی سزا صرف ایسے غیر مسلم افراد یا گروہوں کے خلاف سنائی جا سکتی ہے جو اسلامی ریاست کے خلاف باغیانہ روش اختیار کیے ہوئے ہوں اور توہین کے عمل کو با بار ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہوں۔]
اس فقہی اور قانونی رائے کی توثیق جنوبی ایشیاء سمیت دنیا بھر کے کم و بیش 450 مستند حنفی علماء نے کی تھی۔
تاریخِ اسلام میں اس سے بڑے اجماع کی مثال کسی اور معاملے میں ملنا مشکل ہے۔ جنوبی ایشیا کے اُس وقت کے سینکڑوں جید علما نے یہ اعلان کیا کہ کوئی غیر مسلم ایک مرتبہ توہین کے ارتکاب پر قتل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی معافی قابل قبول ہے، جب تک کہ یہ عمل بار بار نہ دہرایا جائے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے اس فتوے کی اہمیت کا اندازہ اس پر موجود چند کلیدی دستخطوں سے لگایا جا سکتا ہے، اس فتوے کی توثیق کرنے والوں میں سے ایک نام احمد رضا خان بریلوی کا ہے۔
بیشتر قاری اس بات سے واقف ہوں گے کہ احمد رضا خان بریلوی، ‘بریلوی’ مسلک کے بانی ہیں جو حنفی فقہ کے پیروکار دو بڑے فرقوں میں سے ایک ہے۔ سنی تحریک جیسے گروہ بھی اپنی نظریاتی آبیاری کے لئے اسی فقہ کی جانب رجوع کرتے ہیں۔اس مسلک میں بانی کو پیر کہا جاتا ہے جس کا رتبہ اپنے ماننے والوں اور عوام میں بہت بلند ہوتا ہے۔
ستم ظریفی دیکھئے چند سال قبل توہین رسالت و مذہب کے الزام میں قید آسیہ بی بی کے لیے معافی طلب کرنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والا ان کا محافظ ممتاز قادری بھی بریلوی فرقے کا ہی پیروکار تھا۔
مجھے یقین ہے کہ ممتاز قادری جو ایک سچا بریلوی تھا یہ سن کر یقیناً حیران رہ جاتا کہ اس کے مسلک کے بانی غیر مسلموں کو توہین کے الزام میں معاف کرنے کے حق میں ہیں
مجھے یقین ہے کہ ممتاز قادری جو ایک سچا بریلوی تھا یہ سن کر یقیناً حیران رہ جاتا کہ اس کے مسلک کے بانی اور سب سے قابل احترام شخصیت غیرمسلموں کو توہین کے الزام میں معاف کرنے کے حق میں ہیں، بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب کے ایک بار ارتکاب پر سزائے موت دی ہی نہیں جا سکتی۔
اتفاق سے ایک دوسرے بڑے حنفی فرقے [دیوبند] کے شریک بانی اور شیخ الہند کے نام سے معروف محمود حسن دیوبندی بھی اس فتوے پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اس فتوے پر دیو بند اور بریلوی فرقوں کے بانی علماء مولانا احمد رضا بریلوی اور مولانا محمود حسن نے بھی دستخط کیے
دیوبندی اور بریلوی، دونوں فرقوں کے بانیوں نے اس فتوے کے ذریعے اس رائے کی توثیق کی ہے کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب و رسالت کے محض ایک مرتبہ ارتکاب پرسزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اسی بناء پر وہ معافی کا مستحق ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حنفی فکر کے تحت یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ پہلی مرتبہ توہین مذہب و رسالت کے ارتکاب پر کسی قسم کی قید یا سزا بھی موجود نہیں۔
حنفی مکتبہ فکر کے مطابق توہین رسالت و مذہب کا پہلی بار ارتکاب کسی قسم کی سزا کا باعث نہیں ہو گا
اس فتوے سے قطع نظر ماضی قریب کے ایک اور کلیدی عالم مولانامودودی جو ملک بھر میں عقیدت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، نے بھی ایسی ہی رائے کا اظہار کیا ہے۔ مولانا مودودی کا نام ہر گھر کے لیے شناسا نام ہے، آپ ملک کی ایک اہم مذہبی سیاسی جماعت، ‘جماعت اسلامی’ کے بانی تھے۔ لوگ یہ جان کر شاید حیران رہ جائیں کہ مولانا مودودی نے بھی یہی نقطہء نظر دہراتے ہوئے کہا، توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب غیر مسلموں کو ریاست کی جانب سے سزائے موت کا سزاوار نہیں ٹھہراتا۔
مولانا مودودی کے مطابق غیر مسلم ذمی کی جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور گستاخی رسول کی صورت میں اسے قتل نہیں کیا جا سکتا
ان علما نے اس حساس معاملے میں جس دقیق النظری اور احتیاط کا مظاہرہ کیا وہ آج کی علمی لاپرواہی، شدت پسندی اور اشتعال مزاجی سے کوسوں دور ہے۔ ماضی کے برعکس آج کسی بھی بدقسمت شخص کا لاعلمی یا لاپرواہی سے کہا ہوا کوئی بھی جملہ یا گستاخی کے ارتکاب کا خالی الزام بھی اسے توہین رسالت و مذہب کے قانون کے تحت مجرم قرار دلوا سکتا ہے اور موت کی سزا دلا سکتا ہے۔
توہین مذہب و رسالت کے قانون کے مندرجات اور اس کی عدالتی تشریح توہین رسالت کے ایک مرتبہ دانستہ یا نادانستہ ارتکاب پر بھی حد نافذ کرتے ہیں۔
توہین مذہب و رسالت کے قانون کے مندرجات اور اس کی عدالتی تشریح توہین رسالت کے ایک مرتبہ دانستہ یا نادانستہ ارتکاب پر بھی حد نافذ کرتے ہیں۔ اس قانون میں توہین رسالت و مذہب کے وقوعے کی نوعیت کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جاتا اور مسلم و غیرمسلم، ایک مرتبہ یا ایک سے زائد بار مسلسل گستاخی کے ارتکاب، سیاسی یا شرعی، جان بوجھ کر یا لاعلمی میں توہین کے ارتکاب جیسی اہم تخاصیص کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ یہ قانون سیکڑوں ‘جنوب ایشیائی علماء’ اور ‘پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں’ کے بانیوں کی تعلیمات سے متصادم ہے۔
یہ تصور کہ اس قانون کی موجودہ تشریح تمام اہم مذہبی روایات اور تمام فرقوں کے علماء کے مابین پائے جانے والے اجماع پر مبنی ہے ایک فسانے سے کم نہیں۔ آسیہ بی بی اوراس جرم کے الزام میں قید اس جیسے افراد جیلوں میں پڑے اپنی زندگیوں کے لیے ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جس میں جیت کے امکانات موت آ جانے کے خدشات سے کہیں کم ہیں۔ یہ فراموش شدہ فتویٰ ان کے لیے بے حد اہم ہے۔ آسیہ اس جرم کے باربار ارتکاب کی مرتکب نہیں ہوئی، وہ معافی کے لیے کئی بار بھیک مانگ چکی ہے۔
حنفی، دیوبندی، بریلوی مسالک اور جماعت اسلامی کے بانیوں کے فتووں اور آراء کے مطابق آسیہ بی بی کو معافی مل جانی چاہئے۔
ہمارے ممتازقادریوں، ہمارے مولوی صاحبان اور ناموس رسالت کے رکھوالے اپنے مذہب کے ان تمام قابل صد احترام بانیوں اور ان 450 ذی قدر علماء جو غیرمسلموں کو معافی دینے کے حق میں ہیں، کے لیے کیا سزا تجویز کریں گے؟
حنفی، دیوبندی، بریلوی مسالک اور جماعت اسلامی کے بانیوں کے فتووں اور آراء کے مطابق آسیہ بی بی کو معافی مل جانی چاہئے۔
یہ بہت ضروری ہے کہ ان علماء کی آراء کو سنا جائے، ان علماء کی آراء اور فتوے ہمارے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے، مکالمے کی ابتدا کرنے، قانونِ توہین رسالت سے متعلق مروجہ شدت پسند بیانیہ تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے ہمیں ان علماء کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنی زندگیاں مختلف مذہبی تشریحات کو سمجھنے اور ان پر علمی بحث کرنے کے لیے وقف کیں۔
ان علماء کے علم سے استفادہ اس لئے بھی نہایت ضروری ہے تاکہ حضرت محمد ﷽کے مبارک نام پر کسی سے کوئی ناانصافی نہ کی جائے۔ یہ عقیدت کا ایسا تقاضا ہے جس کی ہمیں فی زمانہ شدت سے ضرورت ہے۔
توہین رسالت و مذہب کے پاکستانی قوانین پر عرفات مظہر کا یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہوا جسے ترجمہ کر کے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون توہین رسالت کے قوانین کا شکار ہونے والے ایک صاحب نے رضاکارانہ طور پر ترجمہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں موجود نقائص کی نشاندہی کرنے والی یہ آوازیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم عرفات مظہر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
کچھ عرصہ قبل سابق گلوکار اور بڑے پیمانے پر سنے جانے والے مذہبی مبلغ جنید جمشید کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے مشہور ہوئی۔ اس ویڈیو میں ان کی کچھ باتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی زوجہ عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی شان میں گستاخی کے مترادف لیا گیا۔
تا دم تحریر ان پر توہین رسالت کے قانون کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق:
295-سی : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی
یہ مذہبی رائے کہ’توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے’ فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔
”جو شخص الفاظ کے ذریعے خواہ وہ زبان سے ادا کئے جائیں یا ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہوں، یا دِکھائی دینے والی تمثیل کے ذریعے یا بلاواسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن وتشنیع یا تحقیر کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نام کی بے حرمتی کا مرتکب ہو، اسے موت یا عمرقید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا۔”
یہ قانون جرم کا ارتکاب ثابت ہو جانے پر موت کی سزا تجویز کرتا ہے۔ عمر قید کی سزا 1991 میں مرکزی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد سے معطل ہے۔
جنید جمشید پہلے ہی اس واقعے پر عوام کے سامنے تائب ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کر چکا ہے اور معافی کا طلب گار ہے لیکن جنید جمشید کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کا غالب مذہبی بیانیہ اس جرم کو ناقابل معافی سمجھتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ گستاخی کے مرتکب قرار دیے جاتے ہیں تو آپ کو یقینی موت کا سامنا ہے۔
اس معاملے میں کسی چونکہ چناچہ کی گنجائش موجود نہیں۔ توہین مذہب و رسالت کے لیے لازمی سزائے موت پر تمام سنی مکاتب فکر کااجماع اس قانون اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا کا جواز ہے۔ اس علمی اجماع کی موجودگی میں مذہبی پیشواکسی اختلافی نقطہ نظر کے اظہار کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔
توہین رسالت کے لیے سزائے موت کی یہ عالمانہ اجماعی حمایت تواتر سے ہماری قومی منظر نامے کاحصہ بنتی رہی ہے۔ اس جرم میں موت کی سزا پر اجماع ا مت کا تذکرہ وفاقی شرعی عدالت کے 90 کی دہائی کے فیصلوں، پارلیمانی مباحث اور ذرائع ابلاغ میں اس تسلسل سے کیا جاتا رہا ہے کہ اب یہ پاکستان کے عوامی شعور میں جڑ پکڑ چکا ہے۔
پاکستان کی اکثریت کے نزدیک توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے، اس اکثریت کے نزدیک اس نقطہ نظر سے اختلاف کرنا بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے جس کی تلافی ایسے فرد کو موت کی سزا دینے سے ہی ممکن ہے۔
جنید جمشید کی معافی نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا ایک نادم، معافی کے طالب گستاخ کو، اس جرم میں معاف کیا جاسکتا ہے؟
تاہم ایسا پہلی بار نہیں کہ یہ سوال زیر غور آیا ہو۔
صدیوں پہلے حنفی فقہا جیسے، امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد ابو یوسف نے کتاب الخرج میں، امام تہاوی نے مختصر التہاوی میں، امام ابو بکر علی الدین کسانی نے بدائع الصنائع، تقی الدین السبکی نے السیف علی من سب الرسول میں اور دیگر حنفی ائمہ نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔
یہ تمام احباب اسی سوال تک پہنچے جس کا سامنا آج جنید جمشید کو ہے:
کیا توہیں رسالت ایک قابل معافی جرم ہے؟
تمام حنفی فقہاء کے نزدیک اس سوال کا جواب ایک غیر مشروط ہاں ہے (یعنی توہین مذہب اور توہین رسالت کا جرم قابل معافی ہے)۔
پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔
یہ مذہبی رائے کہ’توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے’ فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر میں امام ابو حنیفہ کی دلیل سے بڑھ کر استدلال ممکن نہیں، اور یہی مکتبہء فکر سپریم کورٹ، شرعی عدالتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل میں ہونے والی مذہبی و قانونی بحث میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور پیروکار فقہاء کی ایک بڑی تعداد موجود رہی ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں اپنی تصانیف میں جا بجا اسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ حنفی مکتبہ صدیوں سے فکر توہین رسالت کو غیر مشروط طور پر ایک قابل معافی جرم قرار دیتا آیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حنفی اصول فقہ کے مطابق جس معاملے پر امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں کا اجماع ہو اس سے اختلاف ممکن نہیں۔ تقلید کا یہ اصول روایتی اسلامی فقہی فکر میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ 295 سی کے متن میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کے لیے معافی کی کوئی گنجائش مذکور نہیں۔ درحقیقت یہ مرکزی شرعی عدالت کی تشریح ہے جو اس قانون کے اطلاق کا ضابطہ کار طے کرتی ہے، اور اس معاملے میں عدالت معافی کو خارج از امکان قرار دیتی ہے۔
عجب ستم ظریفی ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلوں میں بھی انہی مذکورہ بالا فقہی ماخذات سے رجوع کیا گیا ہے (جو توہین کے جرم کو قابل معافی قرار دیتے ہیں) لیکن بوجوہ عدالت ایک مختلف بلکہ متضاد نتیجے پر پہنچی ہےکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے مطابق توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا؟ صدیوں سے مروج واضح مذہبی اصول کی اس قدر گمراہ کن تعبیر کس طرح ممکن ہوئی؟ ان سوالات کے جواب کی جستجو میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔ اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ البزازی کوئی متبادل نقطہ نظر پیش نہیں کر رہے تھے، بلکہ حنفی موقف کو ہو بہو نقل کرنے کی کوشش میں سہواً غلط معانی نکال بیٹھے۔ مسلمہ حنفی نقطہء نظر سے ان کا اس قدر انحراف حیران کن امر ہے۔
امام ابن عابدین جنوبی ایشیاء کے معتبر ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر کی یہ غلط تعبیر جب ان کی نظر سے گزری تو وہ اس پر ایک پجوش تنقید تحریر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اپنی تنقید میں امام ابن عابدین نے ناصرف البزازی کی دو اہم کتابوں، ‘الصاریم المسلول علی شاتم الرسول’ [ابن تیمیہ] اور’ الشفا’ [قاضی عیاض] کی غلط تفہیم نشاندہی کی بلکہ توہین رسالت کے نا قابل معافی ہونے کے خیال کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دے کر بیک جنبش قلم مسترد کر دیا۔
امام عابدین کی تصنیف رد المحتار علی الدر المختار کے ترجمہ شدہ خلاصے کا اقتباسامام ابن عابدین کی تصنیف رد المختار علی الدر المختار کا ایک عربی اقتباس
امام ابن عابدین اسلامی فقہی روایت کی اہم ترین شخصیت اور پاکستان بھر کے دیوبندی مدارس میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے عالم ہیں۔ آپ کی پیش بین نگاہ اور دانائی نے اس زمانے میں ہی یہ خطرہ بھانپ لیا تھا کہ اگر ان اختلافی آراء کو مسترد نہ کیا گیا تو یہ غیر ضروری افراتفری اور تباہی کا باعث بنیں گی۔ آپ نے علماء کو اپنی تحقیق کے دوران بنیادی ماخذات کا حوالہ دیتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کا ماخذ کیا ہے؟
جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔
بظاہر امام ابن عابدین کی یہ تلقین توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کے معمارایڈووکیٹ اسماعیل قریشی تک نہیں پہنچی۔ توہین رسالت کے لیے ناقابل تنسیخ اور ناقابل معافی سزائے موت کے حق میں مقدمہ قائم کرتے ہوئے جن نمایاں حنفی علماء کی تصانیف کا حوالہ دیتے ہیں شومئی قسمت امام عابدین کا نام بھی ان میں شامل ہے۔ اسماعیل قریشی نے امام ابن عابدین کے موقف کو اسی طرح بالکل متضاد رنگ دے کر پیش کیا جیسے ان سے قبل البزازی نے امام ابو حنیفہ کی رائے کے ساتھ کیا تھا، گویا تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرایا۔ گویا پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں دانستہ طور پر حنفی مکتہ فکر کے بانی امام ابوحنیفہ کے موقف کو مسخ کر کے شامل کیا گیا بلکہ توہین مذہب و رسالت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔
حنفی فقہاء کے ہاں توہین مذہب و رسالت کے معاملات میں مسلم اور غیر مسلم افراد کے لیے جداگانہ قوانین موجود ہیں لیکن پاکستانی قانون میں اس تفریق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے پاکستانی قوانین میں تاریخی اور فقہی حوالہ جات کی دانستہ غلط نقل کے باعث کئی معصوم لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہاں یہ ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ امام ابو حنیفہ کی جانب سے توہین مذہب کی سزا اور اس پر معافی طلب کرنے پر سزا کی معافی کا معاملہ مسلم افراد کے لیے مخصوص ہے، توہین رسالت و مذہب کے قوانین کا اطلاق غیر مسلموں پر ان اصولوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا جو مسلمانوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں، لیکن ظلم یہ ہے کہ پاکستانی قانون میں اس تفریق کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
فتاویٰ شامی میں ایک مقام پر امام ابن عابدین، البزازی کے ‘توہین رسالت کے لیے ناقابل معافی سزائے موت تجویز کرنے اور اس سے اختلاف کرنے والے کو بھی گستاخی کا مرتکب قرا دینے’ کے دعوے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ امام ابن عابدین کی نقد چھ صفحات پر محیط ہے۔
ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے متنازعہ دعوے کے فوراً بعد بلاتحقیق وہی باتیں امام ابن عابدین سے منسوب کر دیں جنہیں وہ شدومد سے رد کرتے آئے ہیں۔
ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً ؎ البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیاایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا
جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے قریشی صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے دعوے سے متصادم بنیادی ماخذات انہیں دکھا ئے۔ قریشی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو اس کی موجودہ شکل میں ترتیب دینے کے تاریخی عمل کو غلطی پر غلطی کرنے کا ایک بدقسمت سلسلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس قانون کی زد میں آنے والوں کے لیے اس مباحثے کی گونج محض ‘بد قسمت’ نہیں بلکہ بھیانک نتائج کی حامل ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سرکردہ مذہبی قیادت میں سے کوئی بھی معتبر عالم دین اس تنازعے کو سلجھانے کے لیے پیش قدمی کو تیار نہیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ حقائق کی پردہ پوشی کُھلے مکالمے سے زیادہ سودمند راستہ معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ عمومی بحث سیکیولر نقطہ نظر کے ساتھ براہ راست تصادم جیسے بدترین نتیجے پر منتج ہو سکتی ہے۔
اس تمام افراتفری اور نیم حکیمی میں آسیہ بی بی اور جنید جمشید جیسے لوگوں کے لیے ابھی بھی امید کی کرن باقی ہے۔
جنید جمشید اور آسیہ بی بی جیسے افراد کو معافی دلانے کے لیے قانون کے متن میں تبدیلی قطعی ضروری نہیں، صرف اس کی عدالتی تشریح پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس امر کے لیے ایک گمراہ کن تحقیق کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت کے دیے گئے غلط فیصلے کی تصیح ہی کافی ہے۔
حنفی مکتبہ فکر کے مطابق توہین رسالت کے قانون میں معافی کی گنجائش ہے اور امام ابن عابدین نے بھی اسی امر کی نشاندہی کی ہے۔
انسانی رویے، مختلف سماجی، نفسیاتی ،جینیاتی اور عقلی عوامل کا نتیجہ اور رد عمل ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کے باقاعدہ مطالعے کی روایت ہمارے ہاں بوجوہ پنپ نہیں سکی، حالانکہ اس کے بغیر کسی بھی انسانی رویے کی درست تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ ہمارے ہاں محض علامات دیکھ کر فیصلہ صادر کرنے کا چلن ہے۔ کسی رویے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔
مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔
توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ توہینِ رسالت کے ہزاروں مقدمات پاکستانی عدالتوں میں قائم ہیں، اگر یہ سارے مقدمات درست ہیں (جو کہ درحقیقت نہیں ہیں) تو کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ آخر ایسا ہوکیوں رہا ہے؟ رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے آخر ایسی کیا پرخاش ہو گئی ہے لوگوں کو کہ اپنی جان پرکھیل کر بھی آپ جیسی کریم ہستی کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف سزائے موت اور دوسری طرف عوام کےغیظ و غضب کے نتیجے میں ہونے والی دردناک اموات کے باوجود نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف توہین کا سلسہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا؟ اور یہ سب ایک اسلامی ملک میں ہو رہا ہے جہاں عوام، ادارے، تھانے اور عدالتیں سب مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ آج ہم ان سوالوں کے جوبات تلاش کریں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توہینِ رسالت کے درج کیے جانے والے مقدمات میں ایک محتاط اندزے کے مطابق 80 سے 90 فیصد مقدمات جعلی ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق توہین رسالت کی دفعہ 295-C کے تحت 1986 سے لے کے 2004 تک پاکستان میں رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد 5000 سے زائد ہے۔ 5000 افراد جن کے خلاف توہین رسالت کے کیسز رجسٹر ہوئے، ان میں سے صرف 964 افراد کے کیس عدالتوں میں پہنچے، 4036 کیسز ابتدائی اسٹیج پر ہی جعلی ثابت ہونے پر خارج کر دئیے گئے، سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے، کہ 86% فیصد کیسز صرف پنجاب میں رجسٹر ہوئے، یعنی 5000 میں سے 4300 کیسز! مزید یہ کہ جن 964 افراد کے کیس عدالتوں میں گئے، ان میں سے بھی 92% فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے تھا۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات کے پیچھے بعض ایسی سماجی عوامل اور سماجی رویے کار فرما ہیں جو شاید پنجاب سے مخصوص ہیں۔ پنجاب میں ان واقعات کی کثرت کی وجہ زمین پر قبضے، ذاتی دشمنی اور رنجشیں ہیں۔ مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اپنے مخالف پر توہینِ رسالت کا الزام سب سے آسان اور تیر بہدف ثابت ہوتا ہے۔ عوامی حمایت ایک لحظہ میں حاصل ہوجاتی ہے۔ ایک بار الزام لگ جائے تو پھر ملزم لاکھ یقین دلاتا رہے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا مگرعوام کا غیظ وغضب اس کا تیا پانچہ کرنے پر تل جاتا ہے، پولیس اور عدالت پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ کہ سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی معافی کی گنجائش ہی نہیں قانون میں۔ مزید یہ کہ ملزم اگر عدالت سے بری ہو بھی جائے، تب بھی عوام اسے یا تو مار ڈالتی ہے اوراگرمارا نہ بھی جائے تومعاشرے میں اس کی سماجی حیثیت کی بحالی ممکن نہیں رہتی، حالانکہ بری کرنے والی عدالت بھی مسلمان جج کی ہوتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔ یقیناً یہ بڑی قبیح جسارت ہے۔ مگ رہمارا قانون جھوٹا مقدمہ کرنے والے کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ اگر قانون یہ بنا دیا جائے کہ توہینِ رسالت کا جھوٹا مقدمہ کرنے والے کو توہینِ رسالت کے قانون میں دھر لیا جائے گا تو جھوٹے مقدمات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔
توہین رسالت کا صدور کسی صحیح الدماغ آدمی سے ممکن نہیں۔ پاکستان میں توہینِ رسالت کے موجودہ سخت قانون، جس میں توبہ کی گنجائش بھی نہیں اور اس سے بڑ ھ کراس معاملے میں عوام کی دیوانگی کی حدوں کو چھوتی ہوئی جذباتیت، جو محض الزام پر ہی نہایت خوفناک نتائج پیدا کردیتی ہے، ان سب کی موجودگی میں کوئی شخص بالفرض توہین ِ مذھب یا توہینِ رسالت کرنے کا ارادہ رکھتا بھی ہو توباہوش و حواس تو ایسا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ دین یا رسول اللہ ﷺ پر سنجیدہ علمی تنقید چاہے، ہماری طبع پر کتنی ہی گراں گزرے، گستاخی کے زمرے میں نہیں آتی۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ کاموں پر سب سے پہلی تنقید کرنے والے خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ان کی تنقیدی آراء کو گستاخی تو کجا ان کی تائید میں وحی نازل ہوتی رہی۔ سر ولیم میور نے اپنی کتاب ‘لائف آف محمد’ میں رسول اللہ ﷺ پر تنقید کی لیکن کسی نے ولیم میور کو گستاخ رسول قرار نہیں دیا۔ سرسید نے اس کا جواب ‘خطباتِ احمدیہ’ کی صورت میں لکھا، لیکن کوئی فتویٰ ولیم میور پر نہیں لگایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ علمی حلقوں میں بھی اب وہ وسعتِ نظری نہیں رہی کہ تنقید اور گستاخی کا فرق سمجھ سکیں۔ الا ماشاءاللہ۔ ماضی قریب تک یہ علمی بلوغت نظر آتی ہے، جہاں تنقید کے جواب میں تنقید لکھی جاتی تھی، ڈنڈے جوتے اٹھا کر سڑک پر آکر گلے نہیں پھاڑے جاتے تھے۔
توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو مسلم اکثریت غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔
بہرحال، معاشرے اور قانون کی طرف سے اگر اتنے خوفناک نتائج کے باوجود کوئی توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے، جیسا کہ چند مقدمات میں ایسا ثابت ہوتا ہے، تو سزا کے نفاذ کے علاوہ اس رویے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا آخر ہوا کیوں؟ رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کو ہدفِ گستاخی بنانے کی وجہ اور ضرورت کیوں پیش آ گئی اور وہ بھی اپنی جان پر کھیل کر؟
ہم سمجھتے ہیں کہ توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو اس معاشرے کی مسلم اکثریت اپنے جاہلانہ رویوں کی بنا پر غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔ انہیں اچھوت اور ناپاک سمجھا جاتا ہے، عوام کے ایک طبقے میں ان کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ کھانا پینا تو دور کی بات ان کے کھانے پینے کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں معاشرتی دباؤ ڈال کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور انکار پر حقارت آمیز طرزِ عمل اختیار کیا جا تا ہے۔ جو زیادتیاں غیرمسلموں کے غریب ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوتی ہیں، جو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے، وہ بھی مذھبی زیادتی کے زمرے میں شمار ہو جاتی ہیں۔ میں نے بطورِ استاد جس تعلیمی ادارے میں بھی پڑھایا وہاں مجھ سے میرے طلبہ نے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے، ان کے ساتھ کھاناکھایا جا سکتا ہے۔ یہ شہری تعلیمی اداروں کا حال ہے۔ اندازہ کیجیے کہ دیہی علاقوں کا کیا حال ہوگا، جو وقتاً فوقتاً مختلف واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ تعلیم ملازمت اور زندگی کے دیگر شعبہ جات میں غیر مسلموں سے امتیازی سلوک عام ہے۔ ان کی بستیاں اور قبرستان تک الگ بسائے جاتے ہیں۔ خاکروب اورنچلی سطح کے کام ان کے ساتھ مخصوص کردیے گئے ہیں۔ ان کے مخصوص نام رکھ کر حقارت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
یہ تمام جہالت اسلام کے نام پر کی جاتی ہے۔ اور پھر اس کو نبی کریمﷺ کے عشق کا تقاضا بھی سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر اس نفرت اور حقارت آمیز رویے کے بعد ایک غیر مسلم کے ذہن میں اسلام اور نبی کریم ﷺ کا کیا تاثر بنتا ہے؟ ایک مثال لیجیے۔ ایک مغرور بدتمیز آدمی اپنے غرور اور بدتمیزی کو بڑے فخر سے اپنے والد اور خاندانی روایات کی طرف منسوب کرے تو اس کے خاندان اور والد کے بارے میں ہمارا کیا تاثر بنے گا؟ چاہے اس کا والد نیک نفس شخص ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہمارے سامنے جو تاثر آئے گا ہم تو اس کے مطابق ہی سوچیں گے کہ یہ تمیز سکھائی ہے اس کو اسکے والد نے! اسی طرح جب ایک غیر مسلم، اسلام اور رسول اللہ ﷺ نام پر مسلمانوں کی طرف سے مسلسل امتیازی سلوک، حقارت آمیز رویے اور ظلم وستم سے تنگ آ کر دین کے اس منفی مظہر پر کوئی ردعمل ظاہر کر دیتا ہے تو توہینِ رسالت کا مرتکب قرار پاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرارنہیں پاتے؟
سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرار نہیں پاتے؟ ان کی کیا سزا ہونی چاہیے؟
اس کے بعد پھرذرا سوچیے، بھلا ایسا کون سا غیر مسلم ہو گا جس کو نبی کریم ﷺ کے نام لیواؤں سے وہ عزت واحترام اور حقوق مل رہے ہوں جو نبی کریم ﷺ خود غیرمسلموں کو دیا کرتے تھے اوروہ پھر بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے؟ اگر اس کے باوجود کرے تو یقیناً سزا کا مستحق بنتا ہے۔
ہمارے مولویوں نے جتنی محنت نبی کریم کی محبت کی دیوانگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے میں لگائی ہے، اتنی ہی محنت اگروہ لوگوں میں اخلاقِ نبوی کی تربیت اور ترویج کے لیے بھی کرتے تو ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہوتی، جس سے آج پاکستانی معاشرہ دوچار ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے نام لیوا سود کا ایک روپیہ چھوڑنے کو تیار نہیں، لیکن ان کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنے کو تیار ہیں۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں، نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اورآبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ نعرہ رسالت کے آگے پیچھے (نعوذ باللہ) بلا تکلف گالیاں نکالتے ہیں۔ سوچیئے کہ ایک غیرمسلم ان مظاہر کے بعد اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا کیا تاثر لے گا۔ کس کے پاس اتنا وقت اور سمجھ ہے کہ خود قرآن یا سیرتِ رسول پڑھ کر پڑھ کر معلوم کرے کہ ان غافل مسلمانوں کے نبی ﷺکتنے عظیم تھے۔
رسول اللہ نے فرمایا ہے: “خبر دار! جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اُس کے حق میں کمی کی یا اُسے کوئی ایسا کام دیا جو اُس کی طاقت سے باہر ہو یا اُس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے لے لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔” (ابو داؤد)
اب جو لوگ غیرمسلموں پر رسولِ پاک ﷺ کے نا م اور ان کی شفاعت کے بھروسے پر پر بلا جواز زیادتیاں کر رہے ہیں، بلا تحقیق قتل کر رہے، قیامت کے دن دیکھیں گے کہ خود رسول اللہ ﷺ خدا کی عدالت میں ان ظالم مسلمان کے خلاف ان مظلوم غیرمسلموں کا مقدمہ لڑیں گے۔ اور جس کے خلاف خود اللہ کا رسول کھڑا ہو جائے اس بدبخت کی تباہی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔
عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔
عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عالمی سطح پر آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے تو پھر کسی قوم کا یہ مقصدِ حیات کہ اس نے پوری دنیا کو محکوم بنانا ہے دوسروں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ نظریہ اگر مولانا مودودی کے نام سے پھیلایا جائے تو لوگ ان کو برا بھلا کہیں گےاور رسول اللہ ﷺ کے نام سے فروغ دیں تو لوگ انجانے میں ان کی توہین کریں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس نظریہ کے حاملین کے عملی مظاہر اگر داعش کی صورت میں سامنے آئیں تو تحقیق کرنے پہلے ہی عوام سخت رد عمل میں آکر اس دین اور اس کے لانے والے کو برا کہنے لگتے ہیں، جو ایسی تعلیمات یا ایسی تربیت کرتا ہے۔
اسلام کے بارے میں غیروں اور اپنوں کا منفی پراپیگنڈا بھی اس کا سبب ہے۔ مثلاً،اسلام کے عورتوں کے بارے میں احکامات کو عجیب رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جو بادی النظر میں بہت دقیانوسی لگتا ہے، اس دقیانیوسیت پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہوجاتی ہے جب کچھ مسلم ممالک میں اس پر پوری دقیانوسیت کے ساتھ عمل بھی نظر آتا ہے، جہاں عورت کو کسی جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سب کا ردعمل اسلام اور پیغمبرِِ اسلام کے خلاف نکلتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ ردعمل نبی کریم کی حقیقی ذات کے خلاف نہیں بلکہ اس تصور کے خلاف ہے جو ان کے سامنے اسلام کی غلط ترجمانی سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کو الزام دینے اور اس الزام پر ان کو سزا دینے سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیے کہ کہیں ہم ہی اپنے عظیم نبی ﷺ کی توہین کے ذمہ دار ہم خود تو نہیں؟
امتی باعثِ رسوائیِ پیمبر ہیں
اگر ممتاز قادری اور علم دین جیسے افراد عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار ہیں تو میرے خیال میں ہم سے یقیناً کہیں کوئی بھول ہوئی ہے، ایک ایسے رسول سے جسے رحمت العالمین کہا جاتا ہے، جن سے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کو گزند نہیں پہنچائی، کسی کی جان نہیں لی تو پھر ان کے عشق کا تقاضا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی جان ان سے عشق کے نام پر لے لی جائے یا اپنی جان قربان کر دی جائے؟ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اگر ایک مخصوص حلیہ، ایک مخصوص شباہت اور ایک مخصوص تنگ نظری ہی مقصود ہے تو پھر تمام زمانوں، تمام علاقوں، تمام انسانوں کے لیے بہترین اور عملی نمونہ انہیں کیسے قرار دیا جائے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟
اوکاڑہ کے ایک گاوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کا اپنا ہاتھ اس گمان میں خود کاٹ لینا کہ اس سے گستاخی رسول کا ارتکاب ہوا ہے اس بیمار ذہنیت کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو ہم نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اپنی نسلوں کو منتقل کی ہے۔ یہ بیمار ذہنیت علم دین اور ممتاز قادری جیسے افراد کو جنم دیتی ہے اور اس نفرت کا باعث بنتی ہے جو ہم اپنے آس پاس موجود اقلیتوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ لیکن ایک لمحے کو عقل کو حاضر ناظر جان کر سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ معلمِ انسانیت قرار دیا جانے والا پیغمبر ایسے بیمار، متشدد اور تکلیف دہ طرزہائے عمل کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟
مولانا اختر شیرانی جیسے حضرات جو کم سنی کی شادی کے خلاف قوانین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور انہیں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیتے ہیں، ابو بکر بغدادی، ابو بکر شیکاو، مولوی فضل اللہ اور عبدالعزیز جیسے حضرات جو عورتوں کو باندیاں بنانے کے قائل ہیں، جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں کیا یہ لوگ ہیں جو رسول اللہ کی سیرت پر عمل پیراء ہیں؟ شادی کی عمر کا تعین، حدود کے قوانین، جہاد کے فتوے اور قتل و غارت کے کتنے ہی غلغلے رسول اللہ کے نام پر بلند کیے جاتے ہیں اور حب رسول کے تقاضے نبھانے کے لیے ہم کتنے ہی انسانوں کی زندگیاں برباد کر چکے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب واقعی بارگاہ محمدی میں مقبول بھی ہو گا؟ ہر گز نہیں۔ وہ جس کی زبان حب رسول کے نام پر مذہبی منافرت پھیلاتی ہے، وہ جس کا ہاتھ عشق رسول کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، وہ جن کے فتوے عورتوں اور اقلیتوں کی حیثیت کم تر قرار دیتے ہیں، وہ جن کی دکانوں پر نفرت امیز سٹیکر چسپاں ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین ہیں تو یہ سب ان کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب انہیں منظور نہیں ہو سکتا۔
عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گمراہ کن صورتیں کسی بھی طرح اس اجتماعی فلاح اور بہبود انساں کا راستہ نہیں ہو سکتیں جس کا خواب عرب کے صحراوں میں مقیم اس ہادی، اس رہبر اور اس معلم نے دیکھا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیئے جانے والےکے نام پر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی منشاء یہ ہے کہ محض ایک سبزی، یا داڑھی، یا مسواک، یا عربی زبان کو ناپسند کرنے پر کسی کو قتل کر دیا جائے، یا ایک غیر منصفانہ قانون پر تنقید کرنے والے کو گولیوں سے بھون دیا جائے، یا ایک مخصوص شباہت کو مسلط کر لیا جائے، یا کم سن بچیوں کی شادیاں کر دی جائیں، یا ایک غیر انسانی جہاد سے منع کرنے والی ماں کو قتل کر دیا جائے، یا آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔۔۔۔۔۔۔
درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔
اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثبوت کے طور پر مجھے مخصوص لباس، مخصوص، شکل، مخصوص تنگ نظری، مخصوص چال ڈھال اپنانے ہو گی، کم سن بچیوں کی شادیوں کی حمایت کرنا ہو گی، حدود کے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کے حق میں بیان دینے ہوں گے، پردہ مسلط کرنا ہو گا، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کو درست سمجھنا ہو گا، مرنا ہو گا اور مارنا ہو گا، احمدیوں سے نفرت کرنا ہو گی اور جہادیوں کو چندے دینے ہوں گے تو میں ایسے عشق رسول کا قائل نہیں۔ اگر عشق رسول یہی ہے کہ ہم قدیم قبائلی روایات، رہن سہن، طرز معاشرت اور حب رسول کے نام پر مرنے مارنے والوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا ہوں گی تو مجھے لگتا ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ ؤآلہ وسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داعین کے طرزعمل میں بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ اگر رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین تھے تو پھر وہ ممتاز قادریوں جیسے بے رحم قاتلوں کے “نذرانہ عشق” کو پسند کرنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی مصلح اعظم تھے تو ان کی نسبت سے کم عمر بچیوں کی شادیوں کا جواز نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اگر وہ تمام زمانوں کے لیے تھے تو پھر ایک مخصوص عرب قبائلی طرز معاشرت کو خود پر مسلط کرنے کے کیا معنی ہیں؟ میرے نزدیک عشق رسول کی مروجہ صورتیں جن کی بناء پر بنیادی انسانی آزادیاں سلب کی جاتی ہیں، انسانوں کو قتل کرنے کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت کا پیغام دیا جاتا ہے، اسلامی قوانین کے نام پر جو ناانصافی روا رکھی جاتی ہے وہ سبھی غلط اور گم راہ کن ہیں۔ عشق رسول کو دنیا میں امن کی بنیاد ہونا چاہیے ناکہ قتل و غارت گری کا جواز۔
درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔ یا تو سیرت کی کتابوں میں جس مہربان اور رحم دل ہستی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا پھر ممتاز قادری، علم دین اور اختر شیرانی جیسے لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جان لینے اور عورتوں کی حیثیت کم تر قرار دینے کے قائل ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور اختر شیرانی کے اقوال و افعال کسی بھی طرح حب رسول اور منشائے محمدی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا واقعی عشق رسول کا واحد تقاضا یہ ہے کہ کسی نہ کسی کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کیا جائے، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز سٹیکر چپکائے جائیں، عورتوں کے حقوق سلب کرنے والے قوانین بنائے جائیں، داڑھیاں بڑھا لی جائیں، ہتھیار اٹھا لیے جائیں یا عشق رسول کا حیقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آسیہ بی بی اور جنید حفیظ جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، اسلام کے نام پر بنائے گئے غیر منصفانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور دنیا کے امن کے لیے کام کیا جائے؟
اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟
اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری سے میں بدلہ لینا چاہتا ہوں کیوں کہ اس نے میرے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ کیا میں ممتاز قادری کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکانے، ڈرانے اور پھر ان کی جان لینے کا حق رکھتا ہوں جیسے راشد رحمان کی جان لی گئی؟
اگر میں ایک ایسا پوسٹر چھپواوں جس پر ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کے لیے مغلظات لکھی ہوں، ان کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کروں اور ان کی پھانسیوں کے حق میں جلسے جلوس نکالوں تو کیسا ہے؟ فرض کیجیے کہ اگر میں یہ فتوی دوں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر، ان کی ناموس پر، اہل بیت کی ناموس پر، ان کے صحابہ کی ناموس پر قتل کرتا ہے، قتل کرنا چاہتا ہے، قتل کرنے کے فتوے دیتا ہے یا قتل کرنے کی زبانی یا اعلانیہ حمایت کرنا چاہتا ہے وہ سب مرتد، خارج از دائرہ اسلام، ملعون، مطون ،جہنمی اور واجب القتل ہیں تو؟؟؟؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں عدالتوں کے باہر جتھے لے کر کھڑا ہو جاوں کہ ممتاز قادری کی پھانسی تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے؟یا ڈندے لے کر عاشقان ممتاز قادری کے جلسوں جلوسوں کو تہس نہس کر دوں، یا میں بھی سلمان تاثیر شہید کانفرنس کراوں اور اس کانفرنس میں ببانگ دہل ریاست کو للکاروں کہ اگر توہین رسالت اور توہین مذہب کا قانون نہ بدلا گیا، اگر آسیہ بھی بی، جنید حفیظ اور ان جیسے تمام افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم لانگ مارچ کریں گے، جانیں دیں گے، جیلیں بھر دیں گے تو کیا ہو گا؟
انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔
یہ سب ہو سکتا ہے، یہ سب کیا جا سکتا ہے لیکن میں اور ممتاز قادری کو دہشت گرد سمجھنے والے تمام لوگ، وہ خاموش اکثریت جو اسلام کو امن کا مذہب سمجھتی ہے اوروہ سب لوگ جو توہین رسالت کے قوانین کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔
یہ چند لوگ جو ہر برس 4 جنوری کو اکٹھے ہوتے ہیں، کسی چوک چوراہے یا پریس کلب کے باہر، چند پلے کارڈ اٹھا کر، چند موم بتیاں جلاتے ہیں یہ تمہارے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے سے زیادہ طاقتور ہے کیوں کہ یہ حق پر ہے، کیوں کہ یہ ظلم کو ظلم کہنے والے ہیں اور کیوں کہ خدا ان کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں کیوں کہ خدا بہرطور ظلم کرنے والوں، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام اور ہمارا ردعمل یہی ہے کہ ہم ہمیشہ حق کو حق اور ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے، ہم ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں نفرت نہ کرنے والوں میں شامل رہیں گے اور ہم ہمیشہ ممتاز قادری کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں گے۔
سانحہ پشاور میں شہید طالب علموں کی دکھی ماؤں کو کچھ صبر آہی گیاہوگا جب سانحہ پشاور کے ذمہ داردرندوں اور وحشیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہوگا۔ لیکن کلیجہ منہ کو آتا ہے جب ایک گونگی معذور بچی ادھورے اشاروں اور ان سنی آوا ز سے اپنی ماں آسیہ بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے جس کو سانحپہ پشاور کے ذمہ داران جیسے جہنم زادوں کے خوف کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوئے ہمارا سماج ان کو چوڑے، چمار، ناپاک، پلید کہہ کر ان کے برتن الگ رکھتا ہے، ان سے مصافحہ کرنے سے قبل لاؤڈ اسپیکر سے فتوے کی آواز پر کان دھرتا ہے ان کو سکول میں باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سماج کی ایسی ذہنی تربیت کون کرتا ہے۔کون ہے جس نے سمندری کے علاقے میں زاہدہ رانا ہیڈ مسٹرس کی ایسی مذہبی تربیت کی کہ اُس نے ایک8سالہ مسیحی بچی کو کہا کہ تم کوایک”کرسچن چوڑا” ہونے کے ناطے مسلمانوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ زہر پھیلانے والے ان ملاؤں کے سامنے عدلیہ، قانون اور ریاستی ادارے آخر کب تک سر تسلیم خم رکھیں گے؟ کب تک ان کو دین فروشی کے اجازت نامے جاری کریں گے؟
کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟
لعنت ہو ہم پر۔ لعنت ہو ہم پر۔ ہم پیغمبر رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر لوگوں کو قید کرتے ہیں، زندہ جلاتے ہیں، اینٹیں مارتے ہیں، قتل کرتے ہیں، گلیوں میں گھسیٹتے ہیں، بھٹے میں زندہ جلا دیتے ہیں۔کئی ایسٹر، کئی کرسمس گزر گئے لیکن ایک بے بس اور لاچار بیٹی توہین رسالت کے نام پر اڈیالہ جیل میں قید اپنی ماں سے برسوں سے جداہے۔ مختلف فرقوں کی تکفیری تحریریں سرعام بازاروں میں پڑی ہیں، فتوؤں کی آلائشوں سے لتھڑی کتابیں ہر بڑے کتب فروش کے ہاں بک رہی ہیں، فرقوں کے درمیان لفظی جنگ کے علاوہ بارہا دنگافساد بھی ہوئے ہیں جن میں مذہبی کتب بھی جلائی گئیں لیکن کبھی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ کسی دانشور نے کبھی توہین رسالت کے قانون کے نام پر اقلیتوں پر ہونے والے طلم اور ان کے خلاف منافرت پھیلانے پر تنقید نہیں کی جبکہ ہندوستان میں اعزازات واپس کیے جارہے ہیں، لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات میں انہی دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہے جن کے سبب یہ ارض پاک اس حال کو پہنچی ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ بے بس غیرمسلم پاکستانی اپنے لخت جگر سینوں میں چھپائے ہندوستان جارہے ہیں۔ مسیحی و ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہاہے۔ غارت گری کے حلف قرآن پر اُٹھائے جارہے ہیں۔
محترم وزیر اعظم!
ریاست تو اپنے عوام کی محافظ ہے، لیکن ایک مسیحی دکھیاری ماں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاکر اسے مذہبی شدت پسندوں کے خوف سے پابند سلاسل کر دیا گیاہے۔ مملکت خداد پاکستان کے سنہری قوانین کے تحت توہین مذہب کے قوانین تمام مذاہب اور ان کی محترم ہستیوں کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن احمدیوں، عیسائیوں، ہندووں اور یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام چسپاں کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، مسیحی بستیوں پر حملوں کے دوران انجیل مقدس اور احمدیوں کی مقدس کتب کے صحیفے بھی جلائے گئے ہیں، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام دکانوں پر فخر سے لگایا جاتا ہے لیکن ریاست انہیں تحفظ نہیں دیتی۔ مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔
مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
یہ سچ ہے کہ ایک بے بس اورلاچار مسیحی عورت شاید آئین پاکستان کے تحت مسلمان قرار پانے والوں کی طرح پنج وقتہ نمازی، پرہیزگار اور متقی نہیں، اکثریت کی رگوں میں موجزن دیانت داری اور حب الوطنی کی ایمانی حرارت کے برعکس شاید ہماری دانست میں آسیہ بی بی اس ایمان سے محروم ہے لیکن کیا آپ کی عقل اور ضمیر تسلیم کرتاہے کہ ایک ان پڑھ اور بے بس عورت آسیہ بی بی کو محض الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر قید کر دیا جائے؟ ایک استاد جنید حفیظ کو نہ صرف قید رکھا جائے بلکہ اس کے وکیل راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا جائے؟ آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جائے۔ دن اور رات کے فرق سے محروم اس قیدی عورت کی بینائی اب ختم ہو رہی ہے جو8×10 کی کال کوٹھڑی میں قید ہے، جس کے ساتھ دونوں قید خانے بھی عورت قیدی نہ ہونے کی وجہ سے خالی اور ویران ہیں۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان مظلوموں کو انصاف کون دے گا جو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گھر ہوتے ہیں، جان بچاتے پھرتے ہیں؟ ان کے تحفظ کے لیے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے جلسے، جلوس اور ریلیاں کیوں نہیں نکالی جاتیں؟ کیاآپ کا ضمیر یہ گواہی دینے کو تیار ہے کہ دنیا کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین انسان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور حرمت کے نام پر سفاکیت، بے رحمی اور ایذارسانی جائز ہے؟ کیا ان کے نام پر ایسے گھناؤنے قوانین متعارف کروا کر بے گناہوں کو اذیتیں دینا گناہِ کبیرہ نہیں؟ کیا توہین مذہب اور توہین رسالت کے یہ قوانین غیر انسانی نہیں جو مزاج محمدیہ سے بھی متصادم ہیں؟
کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ کیا اسی بیٹیوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ جو زہرقید کی صورت میں تمہاری ماں کی رگوں میں اتار جارہا ہے اس سے سماج کے اندھیرے دور ہورہے ہیں؟ کون ہے جو ان معصوموں کو بتا سکتا ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ان کی ماں پر توہین رسالت کو مقدمہ قائم کرنا ضروری تھا؟ اس مقدمے کے بعد سے پاکستان میں برکتوں اور رحمتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر چہرہ نورو ہدایت سے جگمگا رہاہے۔ وظائف و تسبیحات میں مشغول معاشرہ اب صرف قیامت کے انتظار میں بے قرار ہے۔ دین کا خوب بول بالا ہو رہا ہے۔ ہر مدرسے سے رواداری، تحمل اوربرداشت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو گلی کوچوں سے راستہ بناتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے پھاٹک پر دستک دے رہے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کا باعث بن رہے ہیں ۔گویا تمہاری ماں آسیہ بی بی کو سزا دینے کے بعد پاکستان کا ہر کونہ ایمان اوراخلاق کے زیور سے آرستہ ہو چکا ہے۔ محبت، اخوت، بھائی چارے اور امن و سکون کی صدائیں چاروں صوبوں سے بلند ہو رہی ہیں۔
اے سپہ سالارِ اعظم!
سیاست دان، جج حضرات سب ہی مشکل حالات میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کے غسل کے لیے آپ ہی کے متبرک ہاتھوں کو چوما جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے جج بھی آپ جیسے جری اوربہادر سپہ سالاروں کی ایک فون کال پر بحال ہوتے ہیں۔ آپ کے حلال شب خون کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن کی دیواریں آپ کی ابرو کی ہلکی سی جنبش سے ریت کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ سے ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک لاچار اور بے بس عورت کو قید سے آزاد کرنے کا بندوبست فرمائیں تاکہ ایک معذور بیٹی اپنی ماں سے مل کر اپنی گونگی زبان میں آپ کے لیے اظہار تشکر کے الفاظ دل میں ہی دہرا سکے۔
From Aasia Bibi, RimshaMasih to Shama and Shehzad; blasphemy in Pakistan hangs like a sword over Pakistan’s religious minorities.However, amid the cases, there is a concerted effort underway to push for reform regarding the blasphemy law in Pakistan, by the name of Engage.
A non-profit research and advocacy organization, Engage is pushing for the reform through research and dialogue, by way of which it aims to impact and change the discourse -legal, social and cultural frameworks surrounding the issue of blasphemy in the country. Introduction to Engage: [https://vimeo.com/119857073]
Unlike the usual frameworks, such as those of human rights, used to structure debate and discourse against the Blasphemy Law in Pakistan, Engage is rooted in the singular framework of Islamic tradition for the pursuit. During his recent talk at the Lahore University of Management Sciences(LUMS), researcher Arafat Mazhar who is one of the main individuals associated with the organization, continuously reinforced that authority has to be established in order to counter the dominant narratives prevailing on the issue in the country and that this authority and evidence has to be derived from the same source which is used as a legitimating basis for the Blasphemy Law i.e. Islamic tradition.
Engage, therefore, pursues the important deconstruction of what it calls the erroneous basis of the law through Islamic tradition; chiefly through Imam Abu Hanifa’s position that blasphemy is a pardonable offence for non-Muslims.
Moreover, Mazhar spoke of Ismail Qureshi, architect of the Blasphemy Law in Pakistan, and his disastrously incorrect reading of Ibn-e-Abideen (1836) whom he referenced to lend weight to the law. It was Ibn-e-Abideen, who, in fact, pointed out the line of false narration regarding the Hanafi position on the issue of blasphemy by non-Muslims.
The organization’ site is prompt to state that:“Our research actually shows that the law is built on erroneous religious foundations including misquotations and misrepresentations of authoritative classical Islamic jurists.
[and by demonstrating the abovementioned through informed, thorough research and historical evidence]
It is only when this narrative – the public sentiment– is reshaped that legal reform can be addressed.”
In Mazhar’s words, “legal reform cannot take place in a vacuum in Pakistan” without addressing the popular social and cultural acceptance and prevalence underlying the Blasphemy Law.
In short, Engage aims to make use of solid research in Islamic tradition to delegitimise the basis of the Blasphemy Law in Pakistan and engage the general public, society, culture, institutions such as the government, judiciary, religious scholars and groups such as non-governmental organizations and the civil society in Pakistan along with the international community of Islamic scholars, in order to push for reform of the law.
As part of its efforts, Engage has established a Fatwa Drive which seeks scholarly endorsements recognizing the erroneous position on cases of blasphemy relating to non-Muslims; that if an alleged blasphemer seeks pardon, he should be forgiven. The Fatwa Drive includes visiting major Madaris, masjids, Islamic jurists and scholars for the purpose. For Engage, this is based upon the idea that“Together, the moral authority of these opinions can be used a force for legal and popular reform.”
Well-aware of the ire, controversy, dangers and suspicions such a campaign can and does invite, Engage seeks to maintain a clean character of its campaign – free of affiliation, association with different interests – by seeking funds to support itself and its objective through crowdsourcing.
And truly, if Pakistan is to chart a peaceful and pluralistic future for its citizens and religious minorities, it is essential to engage with and overcome all that sustains the Blasphemy Law.