Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-پہلا حصہ

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے اور اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوسلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے اور علم و فہم اور شعور کے بساط بھر حصول کے بعد اب یہ حال ہے کہ جب کسی بڑے آدمی سے ملتا ہوں یا کسی بڑی شخصیت کی تحریر پڑھتا ہوں اور کوئی نئی بات سننے اور سیکھنے کو ملتی ہے تو فکر کی تحسین کرنے کے باوجود، فوراً کوئی رد عمل دینے کے بجائے کئی دن شعوری اور لا شعوری طور پر اس پر غور و فکر کرنے میں گزرتے ہیں، کیونکہ شعور کے ساتھ، تحت الشعور اور لاشعور بھی کسی بات کی درست تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر ہم خیال اور غیر ہم خیال اہل علم دوستوں سے تذکرہ چلتا ہے، اور پھر اگر بات سمجھ میں آ جائے تو تسلیم کر لیتا ہوں۔ نہ سمجھ آئے تو موقوف یا مسترد کر دیتا ہوں۔ کسی بات کے تسلیم کرنے یا رد کرنے میں شخصیت کی عظمت اب شاید بالکل حائل نہیں ہوتی۔ میں نے اپنی یہ تربیت خود کی لیکن یہ میرے آسان نہ تھی۔ میں اصل میں اس سے بہت حد تک برعکس واقع ہوا تھا۔

 

ہمارے معاشرے میں فکری جبر تو بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے، سوال پر پابندی، سوالوں کو شیطانی وساوس قرار دے کر، بنا جواب دییے ان کو دبا دینا عام وتیرہ ہے۔ دینی مدرسہ ہو یا جدید تعلیم کی یونیورسٹیاں اور تحقیق کے اعلی مراکز، سب کا حال یہ ہے کہ ان میں حصول علم کے لیے داخلے اور حصول ملازمت کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنی مرضی کا نظریہ اور عقیدہ نہیں رکھ سکتے۔ آپ کے لیے اپنے ادارے کا اختیار کردہ یا اس ادارے پر تسلط رکھنے والے مسلکی اور جماعتی نظریہ اور عقیدہ رکھنا بھی شرط ہے، ورنہ آپ کو داخلہ اور ملازمت، اوّل تو کوئی دے گا نہیں، اور اگر قسمت سے ایسا ہو بھی جائے تو جلد ہی نکال باہر کیا جائے گا، یا آپ سے مسلسل اچھوتوں جیسا سلوک ہوگا، امتیازی رویہ برتا جائے گا، آپ کو بار بار تنبیہ اور سرزنش کی جاتی رہے گی یہاں تک کہ آپ اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کر اتھارٹی کے ہمنوا بن جائیں یا ملازمت قربان کر دیں یا ادارہ بدری قبول کر لیں۔

 

لا اکراہ فی الدین کے پرچارکوں کا یہ رویہ مسیحؑ کے وقت کے متعصب فریسیوں اور فقہیوں سے بالکل بھی مختلف نہیں، جنھوں نے اپنی علمی آمریت کی سان پر مسیحؑ کو اپنی طرف سے قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ ابھی ہمارے معاشرے سے ازمنہ مظلمہ کا دور لدا نہیں۔ ذہنی اور شعوری طور پر ابھی ہم ایک نابالغ قوم ہیں اور اس پر ہمارے یہاں شرمندگی کی بجائے جاہلانہ فخر بھی پایا جاتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ تعلیمی ادارے، خواہ دینی ہوں یا جدید تعلیم کے، اس نابالغ پن کی ترویج پوری شد و مد سے کرتے ہیں، کہیں کوئی شعوری جراثیم محسوس ہو جائیں، اس طالب علم کو نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسے غدار، بے دین، گستاخ، ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ قرار دے دیا جاتا ہے، امتحانات میں اس سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بلکہ ایسا طالب علم بھی اس رویے کا شکار ہوتا ہے جو اپنے استاد کی علمی اور ذہنی استعداد سے بلند سوال پوچھنے کی جرات کرے یا اس سے مختلف بات اس کے دلائل کے باوجود اپنائے رکھے۔

 

اپنے مسلک کے دائرے میں محدود رہنا، اپنے زیرِ قبضہ اداروں کو اپنے مسلک اور جماعت کے نظرے کے حصار میں رکھنا دراصل ایک بے اعتماد اور خوف زدہ نفسیات کی علامت ہے۔ ذکی کیفی نے کیا خوب کہا تھا:

 

نہ ہو کفر مقابل تو لطف ایماں کیا

 

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ اختلاف کی ہلکی پھلکی پھونکوں سے ‘چراغ حق’ ٹمٹانے لگتے ہیں، اور ابراہیمؑ مخالف پروہتوں والی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے کہ“اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو اِس کو آگ میں جلا دو اور اپنے ‘معبودوں’ کی مدد کرو۔”

 

شخصیت پرستی ہمارا قومی وطیرہ ہے اور المیہ بھی۔ میرا علمی سفر بھی شخصیت پرستی سے ہی شروع ہوا تھا۔ میرا ہر استاد میرا ہیرو تھا، گُرو تھا، عقیدت کا مرکز تھا، جس کی زبان، حق ترجمان تھی، حرفِ آخر تھی، لیکن پھر رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے ان کی علمیت اور عظمت کے بت ان کی علمی اور اخلاقی کمزوریوں اور میرے لگاتار کے غور و فکر کی عادت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے گئے۔

 

اسی زمانے میں میں نے یہ ٹوٹا پھوٹا شعر کہا تھا:
کتنے عظمت کے مینارے میرے سامنے ٹوٹ گئے
جو کبھی دکھتے تھے مجھ کو آسمانوں کی طرح

 

دین ایمان اور عمل کا معیار اور بنیاد اگر کوئی شخصیت ہو تو اس شخصیت سے بھروسہ اٹھتے ہی آدمی دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

 

شخصیات کے بتوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی تو میں نے احمقانہ تاویلات کر کر کے خود کو کچھ عرصہ بے وقوف بنانے کی کوشش بھی کی لیکن آخر کب تک۔ آخر میں نے اپنے ایمان اور عمل کی بنیاد شخصیت کو بنانے کی بجائے دلیل کو بنا لیا اور شخصیات کو خیر باد کہ دیا۔ میں اپنے فہم کے مطابق دلیل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
شخصیات کی طرح ہی موٹی موٹی اصطلاحات کو بھی میں نے بت ہی پایا جو فہم میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، اور حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ درست استدلال اور درست فہم کے لیے مجھے بہت کچھ علم بھلانا بھی پڑا۔ وہ کہتے ہیں نا:

 

True Learning is unlearning

 

چناچہ بہت کچھ علم کو دامن سے جھاڑا، بہت سے اصولوں اور مسلمات کی بھاری بھرکم گھٹڑیاں سر سے اتاریں کہ علم و عقل کو آزادی سے سوچنے کا راستہ مل سکے۔

 

لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی باتیں، ایسے بہت سے اصول اور ایسی بہت سی شخصیات تھیں جو مجھے بے حد عزیز تھے، جن کی محبت اور تاثر میں میں نے اپنی عمر کے رومانوی دور کے حسین پل بتائے تھے۔ ان سب کو چھوڑنا، ان سب میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرنا ان کی باتوں اور اقدامات کو بھی تنقید کی چھلنی سے گزارنا آسان نہیں تھا۔ بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ایسا لگتا تھا جیسے صحرا میں اکیلا بے سہارا کھڑا رہ گیا ہوں۔ سر سے سایہ اور پاؤں سے زمین چھن گئی تھی۔ خود کو علمی اور فکری طور پر یتیم محسوس کرتا تھا۔

 

بہرحال، سہاروں کی بیساکھیاں تج دینے کے بعد، جب علم و فہم کے نئے سفر پر نکلا تو اس بار تہیہ یہ کیا کہ صرف عقل و فہم اور دلیل کا زاد راہ ساتھ رکھوں گا تاکہ اگر ٹھوکر بھی کھائی تو الزام کسی اور کو نہیں خود ہی کو دوں گا۔ ارادہ کیا کہ بات وہی تسلیم کروں گا جس کی دلیل درست معلوم ہوگی۔

 

ہم سب کے انگلی پکڑ کر چلنے کی ایک عمر ہوتی ہے۔ کون کب انگلی چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کر دے، اس کا انحصار ہر انسان کے اپنے اوپر ہے، لیکن یہاں کوئی انگلی چھوڑتا ہے نہ کوئی چھوڑنے دیتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کی ساری عمر میں بلوغت کا یہ مرحلہ کبھی آتا ہی نہیں۔

 

1۔ بریلویت

 

میرا سفر بریلویت کے سادہ اور پرجوش ماحول سے شروع ہوا، جہاں عوام کا جذبہ ایمانی ایک پر لطف چیز ہوا کرتا تھا۔ آج بھی میرا حال یہ ہے کہ علمی طور پر بریلویت سے بہت دور ہو جانے کے بعد بھی، کسی بریلوی مسجد میں نماز پڑھوں تو سکون کی کیفیت زیادہ پاتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوامی سطح پر عقیدت کے نام پر عقل و فہم کی قربانی پہلا مطالبہ ہے، اور علمی سطح پر عقائد اور بدعات کے معاملے میں منطقی داؤ پیچ اور محتمل اور کمزور روایات سے استدلال مبلغ علم ہے۔ کم علم متصوفین کی مضبوط روایت کے زیرِ اثر یہاں دین ایک تخیلاتی چیز بن کر رہ گیا ہے، ایک دیو مالا ہے، جو دلچسپ افسانون کا مجوعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو معراج سے واپس تشریف لے آئے تھے، لیکن یہ اپنے گمان اور بیان میں وہیں رہ گئے ہیں، سیرت نبوی کے بیان کا مطلب محض معجزات کا، مافوق الفطرت واقعات کا بیان ہے۔ اس مذہب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قابل تقلید نمونہ نہیں رہتے، ایک ایسی ہستی بن جاتے ہیں جن سے صرف عقیدت رکھی جا سکتی ہے، ان کے اسوہ پر عمل کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ محض ان کی محبت و عشق دنیا و آخرت کی فلاح اور نجات کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، یعنی عشقِ رسول کے دعوی کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی ایسی نہیں جو آپ کی نجات کی راہ میں حائل ہو سکے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس خاص تصورِ عشق کی ترجمانی علما سے زیادہ کم علم خطبا اور خانقاہی سجادہ نشینوں کے ہاتھ میں ہے۔ عشقِ رسول کے زور پر اب لوگوں کے ایمان اور کفر کے فیصلے ہونے لگے ہیں، ان کے واجب القتل کے فتوے جاری ہونے لگے ہیں۔ لوگوں کی تقاریر اور تحاریر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر الفاظ نکال کر ان پر گستاخی کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ اس نازک معاملے کو گلی بازاروں اور چوک اور چوراہوں پر طے کیا جا رہا ہے۔ علما کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ بریلویت ان کے علما کے ہاتھوں سے مکمل طور پر نکل چکی ہے اور یہ صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔

 

بریلویت میں خدا کی حیثیت ثانونی ہے، اصل مرکز و محور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے، جس کے لیے یہ سارا کارخانہء عالم وجود میں لایا گیا۔ لیکن قرآن مجید دیکھیے ہوں، تو وہ اس قسم کے تخیلات اور اس سے پیدا ہونے والے مزاج سے بالکل خالی ہے۔ قرآن مجید کا مرکز و محور محض خدا ہے۔ ہر چیز اسی کے لیے ہے اور اسی کے گرد گھومتی ہے۔ خدا کے لیے اس کا دین سب سے اہم ہے، جس کی تبلیغ اور جس پر عمل کرنے میں کسی نبی اور رسول کے لیے بھی کسی قسم کی بالفرض کمی اور کوتاہی قابل تحمل نہیں، بلکہ ایسے کسی امکان پر انہیں سخت وعید اور تنبیہ سنائی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں خدا کا لب و لہجہ دیکھیے۔ مثلاً، خدا کہتا ہے کہ رسول دین کے معاملے میں اگر اپنی طرف سے کچھ کہتا تو ہم اس کی رگِ جاں کاٹ ڈالتے۔ رسول کو کہا گیا کہ اگر تم نے دین کی کوئی ایک بات بھی لوگوں تک نہ پہنچائی تو تم نے کارِ رسالت گویا ادا ہی نہیں کیا۔ درحقیقت، رسول، خدا کا بندہ ہے، جسے تبلیغِ دین کی خاص ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے اور وہ اپنے کاموں کے لیے خدا کو جواب دہ ہے۔ میری دانست میں قرآن مجید کا تصور خدا اور رسول، بریلویت کے تصور خدا اور رسول سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اسی وجہ سے اندازِ بندگی بھی وہ نہیں جو قرآن کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی بجائے، دامن رسول سے وابستہ ہو کر، ان کی شفاعت کے زعم میں شریعت کی پابندیوں سے آزادی کا بہانہ تلاش لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرانے کی علما کی کوششیں بار آور ہو کر نہیں دیتیں، کیونکہ تحت الشعور میں یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ گناہ گار تو سارے نبی کے ذمے ہیں جن کی بخشش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ میری دانست میں قرآن تو ایسی شفاعت کے تصور سے بھی خالی ہے۔ وہ تو بتاتا ہے کہ سفارش بھی ان کی ہی کی جا سکے گی، جو سفارش کے مستحق ہوں گے، اور خدا ان کے لیے سفارش کی اجازت دے گا، یہ نہیں کہ ہر گناہ گار کی سفارش کی جا سکے گی۔ ان باتوں کا احساس، بریلویت کے سنجیدہ اہل علم کو بھی ہے، اور عوام کو باور کرانے کی اپنی سی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے کب کا نکل چکا ہے۔

 

بریلوی مدارس میں تمام علمِ دین کا مقصد و منتہا دیوبندییت کا رد ہے۔ یہی مقصدِ وحید ان کا جینا مرنا ہے۔ سارے مذہب، سارے علم کا مرکز و محور چند اختلافی اعتقادی مسائل ہیں۔ آپ ان کے مولوی سے جدید مسائل کے بارے میں پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا جواب ملتا ہے، وہ ان مسائل سے مکمل طور لا علم ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی حلقوں میں پایا جانے والا یہ رویہ سیکولرازم ہی ہے۔ بلکہ ان کا سیکولرازم عام سیکولرازم سے بھی زیادہ سیکولر ہے۔ سیکولرزم تو یہ کہتا ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن یہاں تو مذھب، فرد کے ذاتی معاملات سے بھی بے دخل ہے۔ دین کو مسجد، نعت، نعروں اور جلوسوں میں محدود کر دیا گیا، اس سے زیادہ دین کی مداخلت اپنے ذاتی معامالات میں کسی کو گوارا نہیں۔

 

یہاں، عوام کے اخلاق و اعمال کی اصلاح زیرِ بحث ہی نہیں، جو کہ درحقیقت، دین کا مطمح نظر تھا۔ افسوس کہ منبر رسول جیسے طاقت ور اور مؤثر فورم کو بہت پست چیزوں میں ضائع کر دیا گیا ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
تبصرہ

برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست

کتاب : برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست
(اعلی حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی اوران کی تحریک 1920-1870)
مصنفہ : اوشا سانیال
صفحات : 404
ناشر : گلوبل میڈیا پبلی کیشنز
مترجم : وارث مظہری
مبصر : سید تالیف حیدر

 

رضوی، بریلوی، سنی، خانقاہی اور مزار پرست ان اصطلاحوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو مخاطب کرنے کا رواج جنوبی ایشیا میں عام طور سے پایا جاتا ہے۔
رضوی، بریلوی، سنی، خانقاہی اور مزار پرست ان اصطلاحوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو مخاطب کرنے کا رواج جنوبی ایشیا میں عام طور سے پایا جاتا ہے۔ جبکہ افریقہ، یورپ اور عصر حاضر میں امریکہ تک میں مسلمانوں کا یہ مخصوص گروہ اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ان کو دیگر مسلک کے ماننے والوں نے اپنے سے قدرے مختلف اور ممیز کرنے کے لئے ان اصطلاحوں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔یہ جماعت آخر کون ہے؟ ان کے عقائد کیا ہیں؟ یا ان کے مذہب کو کس بنا پر مسلمانوں کے دیگر مسالک سے ممیز کیا جا سکتا ہے؟ ان سوالات پر عام طور سے مسلمان غور نہیں کرتے۔ اس کے بر عکس چند ایک ایسی علامتیں ہیں جن کے عوام و خواص میں پائے جانے پر ان کی اس شناخت کا تعین ہوتا ہے، مثلا ً اگر مجھے کسی شخص کو رضوی، بریلوی ، سنی، خانقاہی یا قبر پرست تصور کرنا ہے تو میرے لئے اتنا کافی ہے کہ میں کسی مسلمان شخص کے ظاہری چند ایک عقائد جس میں بالخصوص مزارات پر حاضری دینا، فاتحہ خوانی کروانا، نذر و نیاز کو اہمیت دینا، رفع یدین نہ کرنا، عید ملادالنبی منانا یا محرم، صفر، شعبان اور رمضان کو چھوڑ کر دیگر اسلامی مہینوں کی وضع کردہ رسومات کی پابندی کرتے ہوئے دیکھناوغیرہ کا بغور جائزہ لوں اور اسے ان اصطلاحوں میں سے کسی ایک سے نواز دوں۔ یہ مسلکی اور مذہبی شناخت قائم کرنے کا ایسا جہالت آمیز اور متعصب طریقہ ہے جو مسلمانوں میں ایک عرصے سے رائج ہے۔ اس رویے کے رواج پانے میں ایک دو دن کا وقفہ نہیں گزرا ہے بلکہ اس طرح کی شناخت عطا کرنے کا رواج مسلمانوں میں ایک زمانے سے عام رہا ہے۔ خاص کر ان اصطلاحوں کے حوالے سے بات کی جائے تو اس رویہ کی نشاۃ ثانیہ جدید اسلامی عہد میں1857 کے فورا بعد عمل میں آئی جس عہد میں شمالی ہند میں سنیت اور شاہ اسماعیلیت کے مجادلے نے ہوا پکڑی۔اس کی ایک لمبی تاریخ ہے کہ کس طرح اور کن کن مرحلوں سے ہوتے ہوئے اس عدم احتیاط اور پروپیگنڈے کے مزاج نے ہندوستان کے مسلم عوام کو اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ اس بحث سے قطع نظر اس تاریخ سے واقفیت کی بنیاد پر اگر ہم مسلمانوں کے اس اصطلاح سازی اور اصطلاح درازی کے رویہ پر غور کریں تو ہمیں علم ہو گا کہ اس بریلویت اور رضویت جیسی احمقانہ اصطلاحوں کے پودے کس آب پاشی سے وجود میں آئے ہیں۔

 

افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب مسلمانوں میں اپنی مذہبی تاریخ سے دلچسپی کا

برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست کی مصنفہ اوشا سانیال
برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست کی مصنفہ اوشا سانیال

عنصر دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ مسلکی مناقشہ اور ان کے پیچیدہ مباحث تو کجا مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو اپنے مذہبی معاملات تک کا علم نہیں ہے۔ ایسے حالات میں “روئیے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں” کی صورت نمایاں ہوتی ہے۔ یہ بات میں اس موقع پر اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ اس کا مبین ثبوت اوشا سانیال کی کتاب سے ملتا ہے ۔ یہ بات بڑی عجیب و غریب اور حیرت انگیز ہے کہ جہاں ایک طرف مسلمانوں میں عوام و خواص کا یہ رویہ عصر حاضر میں عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ ان کو مسلمانوں کے سب سے بڑے مسلک اہل سنت و جماعت کے مسلکی اور مسلکی در مسلکی معاملات کا ذرا بھی علم نہیں ہے اس عہد میں ایک غیر مسلم عورت نے اس حوالے سے ایک جامع اور مبسوط تحقیقی مقالہ سپر قلم کر دیا۔ مسلم علما کی وہ مٹھی بھر جماعت جو ان مسلکی اور جدید اسلامی تحرکات کے زیر و زبر سے ایک زمانے سے واقف ہے ان کے لئے کیا کہا جائے کہ وہ اتنے اہم موضوع پر اب تک ایسی ایک بھی کتاب نہ لکھ سکےجس نوع کی کتاب اوشا سانیال نے اپنی لگن اور محنت سے چند بر سوں میں مرتب کر دی۔

 

اوشا سانیال نے اس کتاب کے مشمولات کا جس تدبر اور احتیاط سے جائزہ لیا ہے اس سے ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس کتاب کے حوالے سے میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ صرف احمد رضاخاں اور ان کی تحریک اسلامی کے حوالے سے یہ ایک مستند ترین تھیسس ہے بلکہ جدید مسلم تحریکات و رجحانات سے واقفیت کے لئے جن چند ایک عالمی سطح کی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے اس کتاب کا اندارج بھی انھیں چند ایک کتب کی فہرست میں کیا جا سکتا ہے۔ اوشا سانیال نے اس کتاب کے مشمولات کا جس تدبر اور احتیاط سے جائزہ لیا ہے اس سے ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ بات خود اپنے آپ میں کم حیرت کا باعث نہیں کہ اوشا سانیال نے اپنے تحقیقی مقالے کے لئے جس عہد کا انتخاب کیا تھا اس عہد میں مسلمانوں سے متعلق کئی ایک موضوعات کتب تاریخ کے حوالے سے ایک دوسرے میں اتنے مدغم ہو کر نمایاں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس میں سے صرف اور صرف اعلیٰ حضرت اور ان کی تحریک کو منتخب کر کے تمام تر نکتہ رسی کے ساتھ ان مباحث کو اس الجھی ہوئی ڈور سے نکال لینا ایک مشکل ترین امر تھا۔ بریلویت بنام سنیت کس طور رائج ہوئی؟ مسلمانوں میں احمد رضا خاں بریلوی کی تحریک سے کس طرح کے رجحانات عام ہوئے؟ بریلویت کے مشتقات کیا کیا ہیں؟ خانقاہیت اور بریلویت میں کیا فرق ہے؟ ہندوستان میں سیاسی سطح پر سنیت یا بریلوی نظریات نے کس طرح اپنی شرکت ظاہر کی؟ نو آبادیاتی نظام کی کشمکش میں اس جدید اسلامی تحریک بنام رضویت نے کیا کردارادا کیا؟ یا انیسویں صدی کے نصف آخر سے بیسیویں صدی کے نصف اول کے عہد تک مسلکی خانہ جنگیوں سے مذہبی عقائد و نظریات کی تشکیل نو کا کام شمالی ہند میں کس طرح انجام دیا گیا؟ ایسے تمام اہم سوالات کے جوابات پر اوشا سانیال نے محققانہ اور ناقدانہ انداز میں غور کیا ہے اور اپنی تھیسس کے ذریعے ان اشکالات پر غیر جانبدار اور پر فہم مقدمات قائم کئے ہیں۔

 

اس کتاب کے مشمولات کے طور پر اوشا سانیال نےاظہار تشکر، تعارف، مسلسل نو ابواب، اختتامیہ، نتیجہ بحث اور ضمیمہ کو پیش کیا ہے ساتھ ہی کتاب کے آخر میں کتابیات کے عنوان سے ان تمام کتب کی فہرست بھی دے دی ہے جن کتب کے مدد سے انہوں نے اس تحقیقی مقالے کو پائے تکمیل تک پہنچایا۔ اوشا سانیال نے تمام مشمولات کو مستقل عناوین کے تحت تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کو اتنے جامع اور مدلل عنوان کے تحت بانٹا ہے کہ کتاب کی مشمولات کے مطالعے سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مشمولات کتب اس طور ہیں :
تعارف:اہل سنت اور شناخت کی تشکیل : اواخر انیسویں صدی
باب اول: سیاست اور مذہب : اٹھا رویں صدی اور انیسویں صدی میں
باب دوم : سنی عالم مولانا احمد رضا خاں بریلوی
باب سوم : اہل سنت تحریک کی ادارتی اساس : 1880 کی دہائی سے 1920 کی دہائی تک
باب چہارم : مارہرہ کے سادات بر کاتیہ : اواخر انیسویں صدی
باب پنجم : مذہبی اقتدار اعلی کی شخصی تخصیص
باب ششم : مولانا احمد رضا خاں بریلوی کا تصور سنت
باب ہفتم: اہل سنت اور دوسرے مسلمان : اواخر انیسویں صدی
باب ہشتم: دیوبندیوں اور وہابیوں سے متعلق اہل سنت کے نظریات
باب نہم: خلافت، ہجرت اور ترک موالات کی تحریکات سے متعلق اہل سنت کا نقطہ نظر
اختتامیہ : پاکستان کے بارے میں اہل سنت کا نقطہ نظر
نتیجہ بحث :
ضمیمہ :
کتابیات : (Bibliography)

 

اس فہرست سے ہی کتاب کی جامعیت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اوشا سانیال نے کتنی محنت اور جاں سوزی سے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر اس کتاب کے علاوہ کوئی دوسری کتاب اس قدر محققانہ انداز میں اب تک نہیں لکھی جا سکی ہے۔
اوشا سانیال نے یہ کتاب اصلا ً انگریزی زبان میں لکھی ہے ،بالخصوص اسی طرز پر جس طرز پہ بابرا مٹکاف نے اپنی کتاب Islamic Revival in British India: Deoband 1860-1900کو تصنیف کیا تھا۔ اردو والوں کی یہ کوتاہی ہے کہ اب تک بابرا مٹکاف کی دیوبندی تحریک سے متعلق اس اہم ترین کتاب کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے لیکن یہ بات بھی کم قابل ستائش نہیں کہ ہمارے درمیان وارث مظہری جیسے ذی علم اور سنجیدہ مترجم موجود ہیں جنہوں نے اوشا سانیال کی اس کتاب کو انگریزی سے نہ صرف یہ کے اردو قالب میں منتقل کیا بلکہ ترجمے کے ان تمام اصولوں کو بروئے کار لا کر یہ فریضہ انجام دیا جس کے باعث اوشا سانیال کےموقف کی واضح ترین انداز میں اردو داں حلقے تک ترسیل ہو سکی ۔ وارث مظہری ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات سے وابستہ ہیں اور وہاں استاذی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کتاب کے ترجمے میں انہوں نے کس تکنیک کو استعمال کیا ہے اس کا اظہار انہوں نے کتاب کے اردو ترجمے میں عرض مترجم کے طور پر کر دیا ہے۔ عرض مترجم میں انھوں نے ایک مقام پر اس بات پر افسوس کا بھی اظہار کیا ہے کہ بابرا مٹکاف کی کتاب کا اب تک اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے جب کہ اس کو مصنف نے آج سے تین دہائیوں قبل تمام تر مستند حوالوں سمیت مرتب کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ اردو کے علمی حلقوں خصوصاً مدارس کے لئے نہایت ہی مفید ثابت ہو گا۔

 

اب آخر میں اس کتاب کے ناشر جناب سید عبید الرحمن (ڈائرکٹر گلوبل میڈیا) نے عرض ناشر کے طور پر اپنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا ایک اقتباس بھی یہاں پیش کر دوں تاکہ اس کتاب کی اہمیت کو مزید واضح کیا جا سکے۔
“یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ ایک غیر جانب دار مصنفہ کے قلم سے ہے اور اپنے مو ضوع پر سیر حاصل مباحث پر مشتمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر اس کتاب کے علاوہ کوئی دوسری کتاب اس قدر محققانہ انداز میں اب تک نہیں لکھی جا سکی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعی مشکور کی اور گلوبل میڈیا نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ اس کے با وجود کہ گلوبل میڈیا انگلش میں منتخب کتابوں کی اشاعت کو ترجیح دیتا ہے تا ہم اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کی اس ادارے سے اشاعت عمل میں آرہی ہے ۔ گلوبل میڈیا کے پیش نظر شروع سے یہ بات رہی ہے کہ ایسی کتابوں کی اشاعت کو اہمیت دی جائے جو معیاری ہو نے کے ساتھ ساتھ اپنے موضوع کے لحاظ سے منفرد خصوصیات کی حامل ہوں۔ اس کا اندازہ اس ادارے کی فہرست کتب سے لگا یا جا سکتا ہے جو اس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔”
(صفحہ نمبر 5، عرض ناشر، سید عبید الرحمن )

 

کتاب حاصل کرنے کا پتہ اور ناشر کا ای-میل۔اور موبائل نمبر
Address:
Global Media Publications
E-42,Ground Floor,Abul fazl Enclave
Jamia Nagar New Delhi 25

 

Email:
syedurahman@gmail.com

 

Mobile No:
09818327757