Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا: بلدیاتی نظام کے آٹھ ماہ

خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال 30 مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا انعقاد ہوا، یہ انتخابات لوکل گورنمنٹ آرڈنینس 2013ء کے تحت منعقد ہوئے۔ اس آرڈیننس اور حکومتی بیانات میں واضح طورپر اختیارات اور ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرنے کا عندیہ دیاگیا تھا ۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان عوامی جلسوں اور ٹی وی مباحثوں سمیت ہر فورم پر مقامی حکومتوں کے قیام اور ان کی افادیت کے حوالے سے تقریریں کرتے رہے ہیں۔ خان صاحب سابق حکومتوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ انہوں تمام اختیارات اپنی ذات یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کے لیے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ عمران خان صاحب یہ وعدہ بھی کرتے رہے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو وہ 90 دن کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر دیں گے۔

 

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں جمہوریت کی ترویج اور استحکام میں مقامی حکومتوں کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری حکمرانوں نے بھی بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی جانب توجہ نہیں دی۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد پہلے مرحلے میں شورش زدہ بلوچستان کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس کے بعد نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کی دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد عدلیہ اور میڈیا کے دباؤپرصوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد کیا۔ ان انتخابات سے قبل صوبائی وزراء بالخصوص وزیرِ بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان صاحب باربار اپنے انٹرویو ز میں دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بالکل نئی طرز کابلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے انہوں نے ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد حصہ منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

 

تیس مئی کے بلدیاتی انتخابات کو 30 جنوری 2015ء کو آٹھ ماہ یعنی 233دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ صرف نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کروانے کی دعوے دار جماعت تاحال اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کر سکی۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جاسکے۔ انتخابات کے 92 روز بعد 30 اگست 2015ء کو منتخب عوامی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کارروائی پوری کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان عوامی نمائندوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں۔ انتخابات کے بعد پہلے مون سون کے موسم میں صوبے کے بیشتر علاقے زیرِآب آئے تو امدادی سرگرمیاں فوج، پولیس اورپٹواریوں کے ذریعے کروائی گئیں اور منتخب عوامی نمائندوں کو اس عمل سے دور رکھا گیا۔ اس کے صرف دو ماہ بعد چھبیس اکتوبرکو ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے رہی سہی کسر نکال دی۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے متاثرین زلزلہ کی بروقت اور فوری امداد کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو امدادی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر فوج، پولیس اور پٹواریوں کی خدمات حاصل کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر زلزلہ متاثرین حکومت کی جانب سے جاری کردہ امدادی پیکج سے محروم رہے۔

 

خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔
خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔ اگرچہ ضلع اور تحصیل کونسل کو فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں لیکن دیہی کونسل کے لیے ابھی تک فنڈز فراہم نہیں ہوسکے۔ جو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ان کے ذریعے ترقیاتی کام کرانے کی راہ میں بھی بہت سی انتظامی روکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظام میں منتخب نمائندوں کے لیے مراعات موجود نہیں جب کہ اس کے برعکس صوبائی یا قومی اسمبلی کے اراکین کو لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دیئے جارہے ہیں۔ اب بغیر کسی مراعات یا تنخواہ کے ان چالیس ہزارعوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور تکمیل پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہے شنید ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے بھی مراعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کامیاب ہونے والے اکثر لوگوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے جو بمشکل اپنے روزمرہ کے معاملات چلا رہے ہیں اوپر سے ان پر عوامی دباؤ بھی ہے۔ بغیر کسی معاوضے، تنخواہ یا مراعات کے اپناوقت اور پیسہ عوامی خدمات کے نام پر صرف کرنا شاید غیر حقیقت پسندانہ طرزعمل ہے۔

 

اگر حکومت بلدیاتی اداروں کے ساتھ مخلص نہیں تھی توپھر اربوں روپے خرچ کر کے انتخابات منعقد کرانے کی ضرورت کیا تھی؟ گزشتہ آٹھ ماہ سے منتخب عوامی نمائندے اختیارات اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بے کار بیٹھے ہیں۔ انتخابات سے قبل اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کو نچلی سطح پر منتقل کونے کے دعوے اور وعدے صوبائی حکومت کی نااہلی، موقع پرستی اور غیرحقیقت پسندانہ ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہیں۔ یہ خبربھی گردش کر رہی ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء میں ترمیم کرکے بلدیاتی نمائندوں کو دئیے گئے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبے کے چار اضلاع بشمول چترال میں ویلج کونسلز کی سیکرٹریوں کی تقرری میں بیوروکریسی کی جانب سے بدعنوانی کے بعد وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

 

بلدیاتی نظام کی عدم فعالیت کے باعث ترقیاتی بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے ضمن میں بھی بڑے پیمانے پر غفلت برتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2013-14 کے دوران صوبائی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص 94ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ مالی سال 2014-15 میں ایک مرتبہ پھر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم میں سے ساٹھ فیصد یعنی 97 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جا سکے۔ اُس وقت بہانہ یہ بنایا گیا کہ چونکہ بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو اس میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ فنڈ پوری طرح استعمال نہیں کیے جا سکے۔ اس کرپشن کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ فنڈز جاری ہی نہ کیاجائے ۔لیکن موجودہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ کو پیش ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان آٹھ مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ جاری نہیں ہو سکا اور جو فنڈز بلدیات کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اس مالی سال میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم استعمال نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے میں واپس جانے کا خدشہ ہے۔ اس ساری صورتحال پر بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بلدیات، بلدیاتی انتخابات اور چند خامیاں

بلدیاتی نظام کا آخری مرحلہ بھی خدا خدا کر کے مکمل ہوا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے دعوے کو اب حقیقت کا جامہ پہنانے کے عمل کا آغاز قریب ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے دعوے کس قدر سچ ہیں اور کس قدر مبالغہ، اس کا فیصلہ تو آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا جب منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے حکومت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں واپس جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کی تکمیل خوش آئند امر ہے لیکن اس سارے ععمل میں چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کی خامیاں ایک مرتبہ پھر عیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

 

ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔
راقم کو خود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تین انتخابی حلقوں کے مشاہدے کا موقع ملا اور کم و بیش ہر جگہ حالات ایک طرح کے نظر آئے۔ جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر شفاف اور منصفانہ انتخابات کروانے میں بہت حد تک ناکام رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پولنگ افسران کے لیے جو حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے تھے ان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق نمبریF.4(10)/2015-LGE(P) جاری کیا گیا جس کے تحت ریٹرننگ افسران اور پریزائڈنگ افسران کسی بھی نازک صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طلب کرنے کے مجاز تھے۔ یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ان کے اختیار میں تھا۔ لیکن شاید انہیں اپنے اختیارات کا پتا نہیں تھا یا ان کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی کہ بلدیاتی امیدواروں کے انتخابی نمائندے بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ ان سے الجھتے رہے اور انتخابی عملہ بے بس نظر آیا۔

 

مذکورہ بالا ضابطہ اخلاق میں ایک شق تھی کہ کسی بھی ہنگامے یا افراتفری کے حوالے سے سیکیورٹی اہلکار پریزائڈنگ افسر کے طلب کرنے پر قانونی کارروائی کریں گی۔ ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔ پولنگ اسٹیشن زیادہ تر سرکاری سکولوں میں بنائے گئے۔ پریزائڈنگ افسر ایک مخصوص کمرے میں انتخابی مراحل کی نگرانی کر رہا ہے تو ایسی صورت میں سکول کے احاطے میں ہونے والے ہنگامے پر وہ کس طرح کارروائی کے احکامات دے گا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی خامی ہے لیکن اس کا اثر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک جگہ دو مخالف دھڑوں کے درمیان سکول کے اندر ہاتھا پائی ہو گئی۔ لیکن صورت حال قابو کرنے میں اتنا وقت صرف ہو گیا کہ ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگ شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔
اسی طرح پولنگ ایجنٹس کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا اور اس ضابطہ اخلاق کی شق 3 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا باہر 400 میٹر کی حدود تک کسی ووٹر کو اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا نہیں کہہ سکتے ۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشن کے اندر انتخابی عملے کے سامنے بھی ووٹروں کو نشانات دکھا کر یاددہانی کراتے نظر آئے۔ اس ضابطہ اخلاق کی شق 4 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹ ہر اعتراض کے عوض مبلغ 50 روپے پریزائڈنگ افسر کے پاس جمع کروائے گا۔ اور شق 5 میں یہ درج تھا کہ غیر ضروری اعتراضات کی اس لیے ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس سے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امیدواران اس مقصد کے لیے سمجھدار، شریف اور دیانت دار افراد کا انتخاب کرتے لیکن حیران کن طور پر تمام امیدواروں نے چن کر وہی لوگ اپنے پولنگ ایجنٹ نامزد کیے جو علاقے میں جھگڑالو مشہور تھے۔ یہ ایجنٹ ہر ووٹر پہ اعتراض کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی لیے ہر پولنگ اسٹیشن پر ہر تھوڑی دیر بعد توتکار ہوتی رہی۔ شق 6 میں کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹ کے لیے لازم ہے کہ وہ اعتراض کرتے ہوئے مہذب رہے اور پریزائڈنگ افسر سے بات کرتے ہوئے لہجہ دھیما رکھے۔ لیکن پولنگ ایجنٹ تو کجا امیدواروں کے حامی بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ سوار نظر آئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔ شق 5 کے مطابق کسی بھی پولنگ ایجنٹ یا امیدوار کے لیے پولنگ اسٹیشن کی 100میٹر کی حدود میں ووٹر کو راغب کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا بینر، اشتہار یا نشان لگانا ممنوع تھا۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ اسٹیشن کے اندر ایسی گاڑیوں کی بھرمار تھی جن پر امیدواروں کے اشتہارات آویزاں تھے۔ بعض مقامات پر پولنگ ایجنٹس بھی قواعد کے برعکس نشان بتاتے رہے۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی پوسٹر کا سائز 24 x 23 انچ جب کہ بینر کا سائز39×24 انچ سے تجاوز کرنے کی ممانعت تھی اور ہورڈنگز پر مکمل پابندی تھی۔ لیکن حیران کن طور پر 25×50جسامت کے بینر بھی آویزاں تھے۔ اور بل بورڈ، سائن بورڈز اور روڈ سائڈ ہورڈنگز کا سہارا بھی لیا گیا۔ مزے کی بات یہ کہ پہلے ہورڈنگز انتخابی مہم کی تھیں اور اب ان کے بعد اسی جسامت کے شکریے کے بینر اور ہورڈنگز نصب ہیں اور ضابطہ اخلاق پر عمل کروانے والے خاموش تماشائی ہیں۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔
شق 16 کے مطابق انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پہ لازم تھا کہ وہ تنقید صرف کام اور پالیسیوں پہ کریں لیکن تمام امیدواران ایک دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑتے نظر آئے۔ جہاں تک تعلق ہے شق17 کا کہ خاندان کے افراد کے علاوہ ووٹر کو اپنی گاڑی میں لانا ممنوع تھا تو شاید پورا حلقہ ہی امیدواروں کا خاندان ہوتا ہے۔ شق 20 کے مطابق یونین کونسل چیئرمین اور وائس چیئرمین 10 لاکھ اور یونین کونسل کے ممبران کو 20 ہزار روپے تک کے انتخابی اخراجات کرنے کی اجازت تھی لیکن ایک کونسلر کی سطح پہ بھی لاکھوں خرچ کیے گئے۔

 

یہ کہنا بے جا نہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا ضابطہء اخلاق محض کاغذ پر سیاہی کی صورت رہا ورنہ عملی سطح پر ہر جگہ ضابطہء اخلاق کی دھجیاں اڑتی ہی نظر آئیں۔ یا تو ووٹروں کو اپنے حقوق کا پتا نہیں تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے تھے۔ امیدواران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی کسی شق کو خاطر میں نہیں لائے۔ اس بارے میں بھی ابہام ہی رہا کہ آیا سرکاری ملازمین کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ پولنگ ایجنٹ بلا جھجھک ضابطہء اخلاق کے برعکس کام کرتے نظر آئے۔ امیدوار نہ صرف پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود رہے بلکہ انتخابی مہم بھی زوروں پہ رہی۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔ سنتے آئے ہیں کہ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے ایک کنٹرول روم بنایا جاتا ہے لیکن آج تک اس کنٹرول روم کا حدود اربعہ نامعلوم ہی رہا ہے۔ اس کنٹرول روم کا مقصد کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے یہ بھی کبھی پتہ نہیں چلا۔ راقم کی طرح ہزاروں لوگوں نے لاکھوں خلاف ورزیاں دیکھی ہوں گی لیکن ان کو کسی ایسے نظام سے آگاہی نہیں تھی جس کی مدد سے ان خامیوں اور خلاف ورزیوں کو اعلیٰ سطح پر رپورٹ کیا جا سکے۔ جب تک عوام میں یہ شعور نہیں بیدار کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی سطح کی خلاف ورزی کو رپورٹ کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے نظام کو جب تک سہل نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک کوئی ضابطہ حقیقی معنوں میں نافذالعمل نہیں ہو سکتا ہے۔ وگرنہ چہرے بدلتے رہیں گے، نام بدلتے رہیں گے، لیکن نظام صرف اس وقت ہی تبدیل ہو گا جب ہم تبدیل کرنا چاہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ وہی مگر شور نہیں

کتناعجیب سیاسی سفر ہے، کہاں مینارِپاکستان پر اکتوبر 2011ء کے جلسے کی بلندی اورکہاں بلدیاتی انتخابات میں ذلت آمیزپستی۔ ہمیں اکتوبر 2011ء کے بعدکا وہ ماحول بھی اَزبَر ہے جب گھرگھر کپتان کے چرچےتھے۔ تب لوگ کہتے تھے کہ ہر گھر سے بھٹو تو نہیں نکلا لیکن ’’سونامیہ‘‘ ضرورنکلتا ہے۔ کپتان صاحب کی شخصیت کا جادو سَر چڑھ کر بول رہا تھا اورپاکستان میں سوائے تحریکِ انصاف کے اور کوئی سیاسی جماعت نظرہی نہیں آتی تھی۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے لیے کپتان صاحب بہت مرغوب ومحبوب تھے اورکالم نگار دھڑا دھڑ اُن کی شان میں قصیدے لکھ رہے تھے۔ وہ جہاں بھی جلسہ کرتے خلقِ خُدا ٹوٹ ٹوٹ پڑتی۔۔۔۔ پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔ پہلی غلطی یہ کہ اُنہوں نے نوجوان سونامیوں سے وعدہ تو صاف ستھری قیادت دینے کا کِیا لیکن اپنے گرد کرگسوں کا انبوہِ کثیر اکٹھا کر بیٹھے جس سے نہ صرف سنجیدہ طبقے بلکہ ’’سونامیے‘‘ بھی بَددِل ہوئے۔ دوسری غلطی 2013ء کے انتخابات سے پہلے ’’درون جماعت انتخابات‘‘ کرانا تھا جس میں کھُلم کھُلا دھاندلی ہوئی اورپیسے کا بے دریغ استعمال بھی۔ نتیجہ یہ کہ تحریکِ انصاف اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ تیسری غلطی ، تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے بارے میں انتہائی غیرپارلیمانی زبان کا استعمال ہے جسے سنجیدہ طبقوں نے شدید ناپسندکیا۔ چوتھی اورسب سے بڑی غلطی 2013ء کے انتخابات کو تسلیم نہ کرنا اور دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے احتجاجی سیاست کا چلن اپنانا۔ حیرت ہے کہ اُدھر قومی وبین الاقوامی جائزے خاں صاحب کی مقبولیت کوپستیوں کی طرف گامزن دیکھ رہے تھے لیکن پھربھی وہ پتہ نہیں کس برتے پہ کہتے رہے کہ تحریکِ انصاف دوتہائی اکثریت حاصل کرلے گی۔ انتخابات ہوئے اورنتیجہ شماریاتی جائزوں کے عین مطابق نکلا اور دو تہائی اکثریت کی دعویدار تحریکِ انصاف تیسرے نمبرپر رہی۔

 

پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔
خاں صاحب کی ایک اور غلطی خیبرپختونخوا حکومت کاحصول تھا۔ اُنہوں نے حکمرانی کے شوق میں حکومت توبنالی مگر پھر اُس کی طرف مطلق توجہ نہ دی۔ اگر وہ خیبرپختونخوا کو اپنے دعووں کے عین مطابق ’’مثالی صوبہ‘‘ بنانے کی تگ و دَوکرتے تو ہو سکتا تھا کہ 2018ء کے انتخابات اُن کے خوابوں کی تعبیر میں ڈھل جاتے لیکن اُنہیں تو وزیرِاعظم بننے کی جلدی ہی بہت تھی اِس لیے اُنہوں نے احتجاجی سیاست اور دھرنوں کا راستہ اپنایاجس نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔ خاں صاحب کو تو یقین دلایا گیا تھا کہ اُدھر خاں صاحب ڈی چوک اسلام آباد پہنچے اور اِدھر امپائرکی انگلی کھڑی ہوئی لیکن وہ انتظار ہی کرتے رہے اور ’’انگلی‘‘ کھڑی نہ ہوسکی۔ بہترہوتا کہ خاں صاحب مولاناقادری کی طرح کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر بستربوریا لپیٹ لیتے لیکن اُن کی ضد اور ہَٹ دھرمی نے اُنہیں روکے رکھا۔ 126 روزہ دھرنے میں خاں صاحب کے حصّے میں کچھ بھی نہیں آیا البتہ سیاسی طورپر اُنہیں بے تحاشہ نقصان ضرور پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنوں کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے کسی ایک میں بھی تحریکِ انصاف سُرخ رو نہ ہو سکی، حتیٰ کہ اُن کی اپنی حکومت کے زیرِ انتظام ہری پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں اُن کے اُمیدوار کو 40 ہزارسے زائد ووٹوں سے شکست کاسامنا کرنا پڑا حالانکہ عام انتخابات میں یہ فرق محض چھ، سات سو ووٹوں تک محدود تھا۔

 

ویسے تو تحریکِ انصاف کے لیے لال حویلی والے شیخ رشیدہی کافی تھے لیکن ہوا یہ کہ چودھری سرور بھی گورنری ’’تیاگ‘‘ کر تحریکِ انصاف سے آن ملے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اُنہیں پنجاب کا چیف آرگنائزر بھی بنا دیا گیا جس کا شاہ محمود قریشی نے بہت برامنایا اور وہ عملی طورپر ’’نُکرے‘‘ لگ گئے۔ نتیجہ سب کے سامنے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریکِ انصاف کو ہزیمت کاسامنا کرناپڑا اور وہ تیسرے نمبرپر آئی البتہ چودھری سروربڑے فخرسے کہہ رہے تھے کہ اُنہوں نے جو اندازہ لگایا وہ بالکل درست نکلا کیونکہ اُنہوں نے تو تحریکِ انصاف کے لیے دَس فیصد کا اندازہ لگایا تھا جودرست نکلا۔ 19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔ اب چودھری سرور ایک دفعہ پھرکہہ رہے ہیں’’ ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اُڑائی گئیں، اربوں روپے کے فنڈز سے نالیاں اور گلیاں بن رہی ہیں اور سوئی گیس کے پائپ بچھائے جا رہے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی اِس لیے بلدیاتی انتخابات حکومت کے ہوتے ہیں‘‘۔ اِس کے باوجود بھی وہ خوش کہ تحریکِ انصاف نے پہلے مرحلے سے زیادہ ووٹ لیے۔ اگر چودھری صاحب کی اِس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ بلدیاتی انتخابات حکومت ہی کے ہوتے ہیں تو پھر سوائے حکمران جماعت کے کوئی بھی سیاسی جماعت بلدیاتی انتخابات میں حصّہ ہی نہ لے۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی بلاشرکتِ غیرے حکمران ہے لیکن پھر بھی بدین (جوپیپلز پارٹی کاگڑھ سمجھا جاتاہے) میں آصف زرداری صاحب کے سابق دوست اورموجودہ بدترین دشمن ذوالفقار مرزا نے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکال دیا اور حیدرآباد ایم کیو ایم لے اُڑی۔ ملم لیگ نواز کے کسی بھی نامی رہنماء نے سرے سے سندھ کا رُخ ہی نہیں کیا لیکن پھر بھی اُس کے حصّے میں 100 سے زائد نشستیں آئیں جبکہ بلاول زرداری کے نئے ’’چاچا‘‘ عمران خاں سندھ میں جلسے کر کرکے تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ گئے لیکن ملاکیا؟ صرف 8 نشستیں۔ تسلیم کہ حکمران جماعت کا تھوڑا بہت اثر ضرور ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا چودھری صاحب بتارہے ہیں۔ اگر ایساہی ہوتا تو وفاقی وزیرسارہ افضل تارڑ کے والد افضل حسین کو شکست کاسامنا نہ کرناپڑتا۔

 

19نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ہمارے نزدیک سب سے مثبت بات یہ رہی کہ پہلے مرحلے کی طرح خونریزی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دوسری مثبت تبدیلی یہ ہے کہ تحریکِ انصاف بھی ’’ٹھنڈی ٹھار‘‘ ہوکے بیٹھ رہی۔ حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب میں تو چودھری سرور نے آسمان سرپہ اُٹھا رکھا تھا کہ تحریکِ انصاف کے ووٹرز کو راتوں رات دوسرے حلقوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن ثبوت وہ کوئی ایک بھی پیش نہ کرسکے (اُنہوں نے اعلان کررکھا ہے کہ اگروہ ثبوت پیش نہ کرسکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ پرویز رشیدصاحب اسی کو بنیاد بناکر اُن سے ایفائے عہدکا تقاضہ کررہے ہیں)۔ اب دیکھیں بلدیاتی انتخابات میں چودھری صاحب شکست کا کیا بہانہ تراشتے ہیں۔

Image Courtesy: Sabir Nazar