Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ وہی مگر شور نہیں

کتناعجیب سیاسی سفر ہے، کہاں مینارِپاکستان پر اکتوبر 2011ء کے جلسے کی بلندی اورکہاں بلدیاتی انتخابات میں ذلت آمیزپستی۔ ہمیں اکتوبر 2011ء کے بعدکا وہ ماحول بھی اَزبَر ہے جب گھرگھر کپتان کے چرچےتھے۔ تب لوگ کہتے تھے کہ ہر گھر سے بھٹو تو نہیں نکلا لیکن ’’سونامیہ‘‘ ضرورنکلتا ہے۔ کپتان صاحب کی شخصیت کا جادو سَر چڑھ کر بول رہا تھا اورپاکستان میں سوائے تحریکِ انصاف کے اور کوئی سیاسی جماعت نظرہی نہیں آتی تھی۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے لیے کپتان صاحب بہت مرغوب ومحبوب تھے اورکالم نگار دھڑا دھڑ اُن کی شان میں قصیدے لکھ رہے تھے۔ وہ جہاں بھی جلسہ کرتے خلقِ خُدا ٹوٹ ٹوٹ پڑتی۔۔۔۔ پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔ پہلی غلطی یہ کہ اُنہوں نے نوجوان سونامیوں سے وعدہ تو صاف ستھری قیادت دینے کا کِیا لیکن اپنے گرد کرگسوں کا انبوہِ کثیر اکٹھا کر بیٹھے جس سے نہ صرف سنجیدہ طبقے بلکہ ’’سونامیے‘‘ بھی بَددِل ہوئے۔ دوسری غلطی 2013ء کے انتخابات سے پہلے ’’درون جماعت انتخابات‘‘ کرانا تھا جس میں کھُلم کھُلا دھاندلی ہوئی اورپیسے کا بے دریغ استعمال بھی۔ نتیجہ یہ کہ تحریکِ انصاف اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ تیسری غلطی ، تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے بارے میں انتہائی غیرپارلیمانی زبان کا استعمال ہے جسے سنجیدہ طبقوں نے شدید ناپسندکیا۔ چوتھی اورسب سے بڑی غلطی 2013ء کے انتخابات کو تسلیم نہ کرنا اور دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے احتجاجی سیاست کا چلن اپنانا۔ حیرت ہے کہ اُدھر قومی وبین الاقوامی جائزے خاں صاحب کی مقبولیت کوپستیوں کی طرف گامزن دیکھ رہے تھے لیکن پھربھی وہ پتہ نہیں کس برتے پہ کہتے رہے کہ تحریکِ انصاف دوتہائی اکثریت حاصل کرلے گی۔ انتخابات ہوئے اورنتیجہ شماریاتی جائزوں کے عین مطابق نکلا اور دو تہائی اکثریت کی دعویدار تحریکِ انصاف تیسرے نمبرپر رہی۔

 

پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔
خاں صاحب کی ایک اور غلطی خیبرپختونخوا حکومت کاحصول تھا۔ اُنہوں نے حکمرانی کے شوق میں حکومت توبنالی مگر پھر اُس کی طرف مطلق توجہ نہ دی۔ اگر وہ خیبرپختونخوا کو اپنے دعووں کے عین مطابق ’’مثالی صوبہ‘‘ بنانے کی تگ و دَوکرتے تو ہو سکتا تھا کہ 2018ء کے انتخابات اُن کے خوابوں کی تعبیر میں ڈھل جاتے لیکن اُنہیں تو وزیرِاعظم بننے کی جلدی ہی بہت تھی اِس لیے اُنہوں نے احتجاجی سیاست اور دھرنوں کا راستہ اپنایاجس نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔ خاں صاحب کو تو یقین دلایا گیا تھا کہ اُدھر خاں صاحب ڈی چوک اسلام آباد پہنچے اور اِدھر امپائرکی انگلی کھڑی ہوئی لیکن وہ انتظار ہی کرتے رہے اور ’’انگلی‘‘ کھڑی نہ ہوسکی۔ بہترہوتا کہ خاں صاحب مولاناقادری کی طرح کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر بستربوریا لپیٹ لیتے لیکن اُن کی ضد اور ہَٹ دھرمی نے اُنہیں روکے رکھا۔ 126 روزہ دھرنے میں خاں صاحب کے حصّے میں کچھ بھی نہیں آیا البتہ سیاسی طورپر اُنہیں بے تحاشہ نقصان ضرور پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنوں کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے کسی ایک میں بھی تحریکِ انصاف سُرخ رو نہ ہو سکی، حتیٰ کہ اُن کی اپنی حکومت کے زیرِ انتظام ہری پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں اُن کے اُمیدوار کو 40 ہزارسے زائد ووٹوں سے شکست کاسامنا کرنا پڑا حالانکہ عام انتخابات میں یہ فرق محض چھ، سات سو ووٹوں تک محدود تھا۔

 

ویسے تو تحریکِ انصاف کے لیے لال حویلی والے شیخ رشیدہی کافی تھے لیکن ہوا یہ کہ چودھری سرور بھی گورنری ’’تیاگ‘‘ کر تحریکِ انصاف سے آن ملے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اُنہیں پنجاب کا چیف آرگنائزر بھی بنا دیا گیا جس کا شاہ محمود قریشی نے بہت برامنایا اور وہ عملی طورپر ’’نُکرے‘‘ لگ گئے۔ نتیجہ سب کے سامنے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریکِ انصاف کو ہزیمت کاسامنا کرناپڑا اور وہ تیسرے نمبرپر آئی البتہ چودھری سروربڑے فخرسے کہہ رہے تھے کہ اُنہوں نے جو اندازہ لگایا وہ بالکل درست نکلا کیونکہ اُنہوں نے تو تحریکِ انصاف کے لیے دَس فیصد کا اندازہ لگایا تھا جودرست نکلا۔ 19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔ اب چودھری سرور ایک دفعہ پھرکہہ رہے ہیں’’ ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اُڑائی گئیں، اربوں روپے کے فنڈز سے نالیاں اور گلیاں بن رہی ہیں اور سوئی گیس کے پائپ بچھائے جا رہے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی اِس لیے بلدیاتی انتخابات حکومت کے ہوتے ہیں‘‘۔ اِس کے باوجود بھی وہ خوش کہ تحریکِ انصاف نے پہلے مرحلے سے زیادہ ووٹ لیے۔ اگر چودھری صاحب کی اِس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ بلدیاتی انتخابات حکومت ہی کے ہوتے ہیں تو پھر سوائے حکمران جماعت کے کوئی بھی سیاسی جماعت بلدیاتی انتخابات میں حصّہ ہی نہ لے۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی بلاشرکتِ غیرے حکمران ہے لیکن پھر بھی بدین (جوپیپلز پارٹی کاگڑھ سمجھا جاتاہے) میں آصف زرداری صاحب کے سابق دوست اورموجودہ بدترین دشمن ذوالفقار مرزا نے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکال دیا اور حیدرآباد ایم کیو ایم لے اُڑی۔ ملم لیگ نواز کے کسی بھی نامی رہنماء نے سرے سے سندھ کا رُخ ہی نہیں کیا لیکن پھر بھی اُس کے حصّے میں 100 سے زائد نشستیں آئیں جبکہ بلاول زرداری کے نئے ’’چاچا‘‘ عمران خاں سندھ میں جلسے کر کرکے تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ گئے لیکن ملاکیا؟ صرف 8 نشستیں۔ تسلیم کہ حکمران جماعت کا تھوڑا بہت اثر ضرور ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا چودھری صاحب بتارہے ہیں۔ اگر ایساہی ہوتا تو وفاقی وزیرسارہ افضل تارڑ کے والد افضل حسین کو شکست کاسامنا نہ کرناپڑتا۔

 

19نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ہمارے نزدیک سب سے مثبت بات یہ رہی کہ پہلے مرحلے کی طرح خونریزی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دوسری مثبت تبدیلی یہ ہے کہ تحریکِ انصاف بھی ’’ٹھنڈی ٹھار‘‘ ہوکے بیٹھ رہی۔ حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب میں تو چودھری سرور نے آسمان سرپہ اُٹھا رکھا تھا کہ تحریکِ انصاف کے ووٹرز کو راتوں رات دوسرے حلقوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن ثبوت وہ کوئی ایک بھی پیش نہ کرسکے (اُنہوں نے اعلان کررکھا ہے کہ اگروہ ثبوت پیش نہ کرسکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ پرویز رشیدصاحب اسی کو بنیاد بناکر اُن سے ایفائے عہدکا تقاضہ کررہے ہیں)۔ اب دیکھیں بلدیاتی انتخابات میں چودھری صاحب شکست کا کیا بہانہ تراشتے ہیں۔

Image Courtesy: Sabir Nazar

Categories
نقطۂ نظر

اپر دیر تبدیلی کی زد میں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ جناب عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں عموماََ اس جملے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن کا شمار ان انتخابی حلقوں میں ہوتا ہے جہاں جماعت اسلامی جیسی نام نہاد جمہوری جماعت کا مضبوط اور ناقابل شکست ووٹ بینک موجود ہے۔ اگر چہ جماعت اسلامی اپنی مستحکم تنظیمی ساخت کی وجہ سے پورے ملک میں موجود ہے، لیکن پاکستان کے سیکولر مزاج عوام نے گزشتہ 68سال کے دوران انتخابات میں جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سخت گیرمذہبی جماعت کے حق میں ووٹ نہیں ڈالے۔ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو کل ووٹوں کا صرف 5سے 6فیصد ملتاہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتدال پسند اور ترقی پسند جماعتوں کے ووٹوں کا تناسب 95فیصد ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ اپنے گوناگوں معاشرتی مظاہر کے ساتھ پاکستان کے عوام کا سیاسی مزاج ہزاروں برسوں کے ارتقائی عمل کی وجہ سے سیکولرہے لیکن بتدریج قدامت پرست جماعتیں اپنی جگہ بنا رہی ہیں ۔ خیبرپختونخواہ کے شمالی اور جنوبی خطوں میں مذہبی جماعتیں جیسا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں جماعت اسلامی اور ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں وغیرہ میں جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعتیں انتخابی کامیابی حاصل کرتی آ رہی ہیں۔
انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو کل ووٹوں کا صرف 5سے 6فیصد ملتاہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتدال پسند اور ترقی پسند جماعتوں کے ووٹوں کا تناسب 95فیصد ہے
سن 2013ء کے عام انتخابات میں جہاں خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں پاکستان تحریکِ انصاف نے واضح برتری حاصل کی وہیں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں بالخصوص دیر سے جماعت اسلامی قومی وصوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئی اور یوں حکومت ساز ی کے مرحلے میں نظریاتی بحران کا شکار پاکستان تحریکِ انصاف نے جماعت اسلامی جیسی رجعت پسند جماعت سے اتحاد کیا جس کے عوض بلدیات ودیہی ترقی اور وزارت خزانہ کا قلمدان جماعت اسلامی کے حصے میں آیا۔ صوبائی کابینہ میں وزارت خزانہ کا عہدہ موجودہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق جبکہ بلدیات کی وزارت عنایت اللہ خان کوسونپی گئی، اور دونوں کا تعلق دیر سے ہے۔
حلقہ پی کے 93 اپر دیر کی انتخابی سیاست :
مئی 2013کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 93 اپر دیر سے جماعت اسلامی کے امیدوار ملک بہرام خان کامیاب ہوئے تھے۔ دو سال گزرنے کے بعد ملک بہرام خان کی ڈگری جعلی نکلی تو انہیں اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے بعد اسی حلقے میں ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اس ضمنی انتخاب میں دو امیدوار میدان میں آئے جماعت اسلامی نے جعلی ڈگری کے حامل سابق ممبر صوبائی اسمبلی ملک بہرام ٖخان کے فرزند ارجمند ملک اعظم خان کو اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے صاحبزادہ ثنااللہ کو میدان میں اتاراگیا۔ حیران کن طورپر روایتی اور موروثی سیاست کی سب سے بڑی مخالف جماعت اسلامی نے جعلی ڈگری رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک بہرام خان کی نشست پر ان کے فرزند ملک اعظم خان کو ٹکٹ دے کر نامزد کیا جو جماعت کے اندر دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف اور قومی وطن پارٹی نے جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثنا اللہ کی حمایت مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی نے حمایت کی ۔ ملک بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سیاسی پنڈت اس وقت ششدر رہ گئے جب جماعت اسلامی کے سب سے مضبوط گڑھ اپر دیر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں چودہ ہزار کے مقابلے میں اکیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی، اور یوں پیپلزپارٹی کو سات ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی ۔ عوامی عدالت میں سنائے جانے والے اس فیصلے کے بعد یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی بشارت سنانے والے احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں ۔ مقتدر اداروں کے لئے بھی عوام کا واضح پیغام ہے کہ سیاسی قوتوں کے خاتمے کی کسی بھی کوشش کو وہ اپنے ووٹوں کی طاقت سے ناکام بناسکتے ہیں اور پی پی پی جیسی مستحکم جماعتیں اتنی جلدی قومی منظر نامے سے غائب نہیں ہوسکتیں۔
دیر سے موروثی سیاست کا خاتمہ:
حلقہ پی کے 93اپر دیر کی نشست گزشتہ 40برسوں سے جماعت اسلامی کے پاس تھی یہاں کے عوام نے جماعت اسلامی کو مسلسل چھ مرتبہ کامیابی دلوائی چار دہائیوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود جماعت اسلامی نے یہاں کے عوام کے معیارِ زندگی، سماجی ومعاشی حالات، تعلیمی ترقی اور شرحِ خواندگی کو بہتر بنانے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے غربت، افلاس، پسماندگی، جہالت اور قبائلی سخت گیریت یہاں کے عوام کامقدربن چکی ہے۔ اس علاقے میں انتہائی غیر لچکدار قبائلی نظام رائج ہونے کی وجہ سے آبادی کے بڑے حصے یعنی خواتین کو زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے خارج کردیا گیا ہے، یہاں تک کہ ماضی میں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے خلاف سماجی تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا بالآخر خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کی کوششوں سے پی کے 93کے ضمنی انتخاب میں تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی البتہ خواتین ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔
ملک بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سیاسی پنڈت اس وقت ششدر رہ گئے جب جماعت اسلامی کے سب سے مضبوط گڑھ اپر دیر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں چودہ ہزار کے مقابلے میں اکیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی
تجزیہ نگار وں کا خیال ہے کہ خواتین کے ووٹوں کی وجہ سے ہی علاقے کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ دیر کے عوام نے موروثی سیاست کو خیر باد کہہ کر اپنے لئے نئی راہوں کا تعین کیا ہے ۔ اس غیر معمولی واقعے کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں واضح تبدیلی رونما ہوچکی ہے، یعنی ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔اب نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے علاقے کی تعمیرو ترقی میں اپناکردار اداکرے تاکہ عوام ناامید نہ ہوجائیں۔
دیر کے عوام کی سیاسی ترجیحات
اپر دیر کے عوام کے پاس ضمنی انتخاب میں دو راستے تھے؛ ایک یہ کہ جماعت اسلامی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال کر صوبائی اسمبلی میں حزبِ اقتدار کی نشستوں پر بیٹھے یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے کر حزبِ اختلاف کا حصہ بنے لیکن حیران کن طورپر ووٹروں نے موجودہ حکمرانوں پر عدم اعتمادکا اظہارکرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ترجیح دی ۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کی قیادت نے جماعت اسلامی کی حمایت کا فیصلہ کیاتھا لیکن کارکن اس فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے اپنے کارکن بھی باپ کی جگہ بیٹے کو ٹکٹ دینے کے فیصلے سے نالاں تھے کیونکہ بہرحال دیر کے عوام کے سامنے جماعت اسلامی کی چالیس سالہ کاکردگی تھی ۔ عوام جو کہ طاقت کااصل سرچشمہ ہیں نے جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اورقومی وطن پارٹی کی قیادت کے فیصلے کو ماننے سے انکارکرتے ہوئے پی پی پی کی حمایت کا فیصلہ کیا ۔ جماعت اسلامی کے لئے یہ تبدیلی انتہائی تشویش کا باعث ہوگی جبکہ پی ٹی آئی کو بھی اب اپنا قبلہ درست کرنے کے ساتھ نظریاتی تذبذب سے باہر نکلناہوگا۔
پی پی پی کا امتحان:
دیر کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد چھ ہوگئی ہے جن میں سے دو اراکین کا تعلق اپر دیر سے ملحق ضلع چترال سے ہے۔ چترال سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں یعنی پی کے 89چترال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سلیم خان جبکہ پی کے 90مستوج چترال کی نشست سےبھی پی پی پی کے سینئر راہنما سید سردارحسین کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی اورصوبائی قیادت کو چترال اور دیر کی سیاست سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹوذرداری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور جماعت کی مرکزی تنظیمِ نوکاآغازکریں، ناراض کارکنوں کومنانے کے علاوہ مرکزی، صوبائی اور پھر ضلعی قیادت کا انتخاب جمہوری طریقے سے عمل میں لائے۔ اس کے علاوہ چترال اور دیرکے اراکین صوبائی اسمبلی کواپنے علاقوں کی تعمیر وترقی اور پسماندگی کے خاتمے کی جانب خاص توجہ مرکوز کرناہوگی ورنہ تبدیلی کی جولہر چلی ہے اس کی رخ کسی اور سمت بدل بھی سکتی ہے ۔
Categories
نقطۂ نظر

دھاندلی کیا ہے؟

حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی باہمی کشمکش جاری ہے۔ باقی تمام سیاسی جماعتیں خود کو نہ تو غیر جانبدار رکھ رہی ہیں اور نہ ہی کسی ایک فریق کا مکمل طور پر ساتھ دے رہی ہیں۔ یہ بات سمجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ باقی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت دونوں طرف کھیل رہی ہیں یعنی اگر پاکستان تحریک انصاف کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور حکومت ختم ہو جاتی ہے تو باقی سیاسی جماعتیں بھی اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے آگے بڑھ کر کہیں گی کہ ہم نے بھی یہی کہا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اور اگر فیصلہ حکمران جماعت کے حق میں ہو گیا تو پاکستان تحریک انصاف کے سواسبھی جماعتیں یہ کہتے ہوئے حکومتی ٹرین میں سوار ہو جائیں گی کہ دیکھا ہم نے تو پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ ہم جمہوریت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب اس بات سے شاید کسی کو کوئی غرض ہی نہیں رہی کہ اس وقت ” جمہوریت نام نہاد اشرافیہ کے محلات کی باندی ہے اور کچھ نہیں”۔
اگر انتخابی عملے کی غفلت سے صرف ایک ہی فریق کو فائدہ پہنچا تو یہ نقصان پانے والے فریق اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں غلطی کے بجائے مجرمانہ چشم پوشی ہی کہلائے گی اور اس سے یقیناًیہی تاثر ابھرے گا کہ انتخابی عملہ مامور ہی ایک مخصوص پارٹی یا فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا
جوڈیشل کمیشن جس طرح سماعت کر رہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ اونٹ جلد ہی کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اونٹ کی پشت پہ سوار ہو گا تو دوسرا بیٹھنے والے اونٹ کی کروٹ کے نیچے ۔ مذاکرات کے ریکارڈ دور ہوئے لیکن ہر دفعہ بات ایک ہی نقطے پر آ کر رک گئی کہ دھاندلی کی تعریف واضح نہیں ہو پا رہی ۔ کفر ٹو ٹا خدا خدا کر کے ، کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہوا تو الزامات باقاعدہ ایک فورم تک پہنچ گئے۔ جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے دوران ہی NA-125 سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے نے ایک نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ حیران کن طور پر ٹربیونل کے فیصلے میں دھاندلی کا ذکرسرے سے موجود ہی نہیں اور انتخابی بے ضابطگیوں کا ملبہ مکمل طور پر انتخابی عملے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ انتخابی عملہ جو غیر جانبدار ہوتا ہے (کبھی کبھار) وہ کیوں کر کسی ایک ہی فریق کے حق میں غفلت کا مرتکب ہو گا؟ دل یہ بات ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ صرف انتخابی عملے کی غفلت کی بناء پر ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے سے جیتی ہوئی نشست واپس لے لی جائے۔ اگر تو یہ کوئی چھوٹی موٹی غفلت ہی تھی تو پھر تو سرزنش کر کے فیصلہ صادر کر دیا جاتا اس کے لیے ایک وفاقی وزیر کو کیوں ہٹانا ضروری سمجھا گیا۔ اور اگر انتخابی عملے سے بڑے پیمانے پر غفلت سرزد ہوئی ہے تو پھر یقیناًاس غفلت کے تانے بانے کسی ماہر اور گھاگ کھلاڑی تک جاتے ہوں گے۔یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ انتخابی عملے کی غفلت سے فائدہ و نقصان اگر دونوں فریقوں کو ہوا ہے تو پھر تو اسے غلطی سے تعبیر کر کے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر انتخابی عملے کی غفلت سے صرف ایک ہی فریق کو فائدہ پہنچا تو یہ نقصان پانے والے فریق اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں غلطی کے بجائے مجرمانہ چشم پوشی ہی کہلائے گی اور اس سے یقیناًیہی تاثر ابھرے گا کہ انتخابی عملہ مامور ہی ایک مخصوص پارٹی یا فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ انتخابی عملے کی لاپرواہی، کوتاہی، یا مجرمانہ چشم پوشی کا فیصلہ تو اس وقت ہی ہو پائے گا جب عام انتخابات میں فرائض سر انجام دینے والے انتخابی عملے کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے اور کیوں کہ یہ کیس اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ عدالت ہی کرے گی ۔
NA-125 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور بعض سر پھرے تجزیہ کار یہ بھی کہنے میں مصروف ہیں کہ خواجہ سعد رفیق صاحب کو ریلوے کا مشیر بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ اسی لیے کیا گیا ہے کہ اس معاملے کو جلدی نہ نمٹایا جائے اور کچھ بعید نہیں کہ اگلے عام انتخابات کے قریب آنے تک حکومت اس معاملے کو طول دیتی رہے اور دھاندلی کی تعریف کا مسئلہ بھی جوں کا توں قائم رہے۔ پہلے پہل سننے میں آیا کہ انتخابی عملہ غفلت کا مرتکب ہوا، کچھ لوگوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالے، ضروری دستاویزات میسر نہیں تھی لہذا جیتنے والے امیدوار اور ووٹر کا اس میں کیا قصور۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ انتخابی عملے کی غفلت محض لاپرواہی تھی یا دانستہ کسی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش؟ اگر کسی نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالا تو کیا وہ خود ہی باہر سے دوبارہ واپس ووٹ ڈالنے آیا یا کسی کے کہنے یا بھیجنے پہ؟ ضروری دستاویزات اگر غائب ہیں تو کیا یہ بھی لاپرواہی سے غائب ہوئیں یا کسی کہ کہنے پہ ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو دھاندلی کی تعریف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
یہ واویلا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے پر اصرار، دھرنا دینا، یا دھاندلی کا شور مچانا جمہوریت پہ وار ہے سرا سر غلط ہے، ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات مل جانے سے جمہوریت یقیناً مضبوط ہو گی۔
جوڈیشل کمیشن میں عام انتخابات کے دوران پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے بیان نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جس میں سب سے اہم نقطہ اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہے ۔ جس کے بارے میں کہا گیا کہ کئی آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز کے لیے درخواستیں دیں جن کی کوئی مناسب تحقیق کیے بناء اضافی بیلٹ پیپرز دے دیے گئے۔ اب ایسا کیوں کیا گا اس کا فیصلہ تو جوڈیشل کمیشن کرے گا لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حکمران جماعت کے لیے NA-125 کے فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اس وقت کے پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے بیان سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ حلقہ NA-122 میں نادرا کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کے دوران 93ہزار ووٹ ناقابل تصدیق قرار پائے ہیں جس کی وجہ ناقص سیاہی کو قرار دیا گیا۔ تو جناب ناقص سیاہی کیوں استعمال کی گئی ؟ کس کے کہنے پہ استعمال کی گئی؟ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا اب کمیشن کا کام ہے۔ اب ناقص سیاسی کا استعمال کر کے انگوٹھوں کے نشانات کو ناقابل شناخت کیا گیا یا خود بخود ایسا ہو گیا۔ یہ سمجھنا میرے جیسے عام سے لکھاری کے بس کی بات نہیں ہے۔
دھاندلی کیا ہے؟ اگرچہ اس کی تعریف ریاستی قوانین میں موجود ہے لیکن اب اس کی تعریف کرنا شاید نہ تو سیاسی جماعتوں کے بس میں رہا ہے نہ ہی ایک عام ووٹر کے کیوں کہ اس کا فیصلہ کرنا اب جوڈیشل کمیشن کا کام ہے ۔ اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہو گا انہیں قبول ہو گا۔
انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں؟ غفلت برتی گئی یا نہیں؟ کسی کا مینڈیٹ چرایا گیا یا نہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے چند دنوں میں سامنے آ جائیں گے ۔ یہ واویلا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے پر اصرار، دھرنا دینا، یا دھاندلی کا شور مچانا جمہوریت پہ وار ہے سرا سر غلط ہے، ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات مل جانے سے جمہوریت یقیناً مضبوط ہو گی اور جمہوریت کی مضبوطی ہی ہر فیصلے کی بنیاد ہونی چاہیے کیوں کہ اسی طرح وطن عزیز ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

دو معافیاں

یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ الطاف حسین کراچی اور حیدر آباد میں سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم اب پاکستان کے باقی حصوں میں بھی اپنا ووٹ بنک قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ آزاد کشمیر میں اس جماعت نے کچھ جگہ بنائی ہے۔ کچھ عرصے سے ایم کیو ایم اپنے اوپر لگی علاقائی یا لسانی جماعت کی چھاپ اتارنے کی کوشش میں ہے لیکن قیادت کی تقاریراور ان کالب و لہجہ متحدہ کے قومی جماعت بننے میں حائل ہو جاتا ہے۔
کچھ عرصے سے ایم کیو ایم اپنے اوپر لگی علاقائی یا لسانی جماعت کی چھاپ اتارنے کی کوشش میں ہے لیکن قیادت کی تقاریراور ان کالب و لہجہ متحدہ کے قومی جماعت بننے میں حائل ہو جاتا ہے۔
تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری اور دھرنوں میں شریک خواتین سے متعلق نازیبا زبان استعمال کرنے پر الطاف حسین کے معافی مانگ لینے سے سیاسی درجہ حرارت میں کسی حد تک کمی ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ حالات مکمل طور پر معمول پرآ گئے ہیں کیوں کہ جس طرح کی زبان دونوں طرف سے استعمال کی گئی ہےاس کا اثر ختم ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہمارے ہاں سیاستدان الزام تراشی یا لعن طعن کرتے وقت یہ بات ذہن سے بالکل نکال دیتے ہیں کہ انہیں سیاسی میز پر شاید کسی دن دوبارہ اپنے حریفوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی بیان بازیوں کی وجہ سے ہی معاملات اس نہج پر پہنچتے ہیں کہ صرف ایک چنگاری آگ بھڑکا سکتی ہے۔ ایم کیو ایم نے اپنے حالیہ بیانات پر پہلی معافی سیکیورٹی اداروں سے مانگی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کی کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی مانگتے ہیں۔ یہ معافی مانگنے کی نوبت بھی اسی لیے آئی کہ الطاف بھائی نے سیکیورٹی اداروں کی ” دل آزاری ” اس کے ردعمل کا اندازہ لگا لیا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے بہتر سمجھا کہ معافی مانگ کر معاملات کو مزید الجھنے سے بچا لیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پچھلے کچھ عرصے سے آمنے سامنے ہیں اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات نے اس محاذ آرائی میں جلتی پر تیل کا کام کیاہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ایم کیو ایم پر شدید تنقید کی ہے جس کے جواب میں ایم کیو ایم نے بھی تحریک انصاف کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ حیران کن طور پر ایم کیو ایم نے جس تلخی سے تحریک انصاف کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ہے اس شدت سے جماعت اسلامی کے خلاف بات نہیں کی ۔ حالانکہ بعض معاملات میں جماعت اسلامی نے تحریک انصاف سے دو قدم آگے بڑھ کر ایم کیو ایم پرتنقید کی ہے۔
الطاف حسین ہوں یا عمران خان دونوں پاکستانی ہیں اور دونوں سے لوگ محبت کرتے ہیں لیکن اگر ہمارے رہنما بازاری زبان استعمال کرنے لگیں گے تو وہ دن دور نہیں جب وضع داری اور شرافت جیسی خوبیاں سیاست سے رخصت ہو جائیں گی۔
تنقیدی نشتر چلاتےہوئے ایم کیو ایم کے قائد پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کر گئے جن پہ پاکستان تحریک انصاف نے بطور سیاسی جماعت احتجاج کیا۔ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر سوچا جائے تو وہ الفاظ کسی بھی طرح ایک سیاسی جماعت کے قائد کو زیب نہیں دیتے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما اور دیگر خواتین کارکنان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر الطاف حسین نے کاشف عباسی کے پروگرام میں براہ راست نام لے کر معافی مانگ لی ہے اختلافات اپنی جگہ لیکن ایم کیو ایم کے قائدنے معافی مانگ کراپنا سیاسی قد یقیناًبڑھا لیا ہے۔ معافی مانگنا ہرگز کمزوری کی علامت نہیں ہےبلکہ غلطی کا احساس ہو جانا انسانیت کی دلیل ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ الطاف حسین صاحب نے معافی مانگ کر باقی سیاستدانوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ اس معافی پر تحریک انصاف کا جوابی ردعمل بھی مجموعی طور پر مثبت رہا۔ پہلا معافی نامہ عجلت میں دیے گئے ریمارکس کا شاخسانہ تھا جب کہ دوسرا معافی نامہ تلخیاں کم کرنے کے لیے تھا اور دونوں معافی ناموں سے الطاف بھائی کا سیاسی قد کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے۔
سیاست میں کیچڑ اچھالنا کسی طرح لائق توصیف نہیں کیوں کہ سیاست صرف ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کا ہی نام نہیں بلکہ سیاست تعمیری عملی اقدامات سےاپنے نظریے اور جماعت کی برتری ثابت کرنے کا نام ہے۔ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں اگر بنیادی اخلاقی تقاضوں پر عمل پیرا ہوں تو کسی کی ذات پر تنقید کے بجائے سیاسی کمزوریوں اور ناکامیوں کو مثبت اور تعمیری تنقید کا نشانہ بنائیں۔ الطاف حسین ہوں یا عمران خان دونوں پاکستانی ہیں اور دونوں سے لوگ محبت کرتے ہیں لیکن اگر ہمارے رہنما بازاری زبان استعمال کرنے لگیں گے تو وہ دن دور نہیں جب وضع داری اور شرافت جیسی خوبیاں سیاست سے رخصت ہو جائیں گی۔