Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا: بلدیاتی نظام کے آٹھ ماہ

خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال 30 مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا انعقاد ہوا، یہ انتخابات لوکل گورنمنٹ آرڈنینس 2013ء کے تحت منعقد ہوئے۔ اس آرڈیننس اور حکومتی بیانات میں واضح طورپر اختیارات اور ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرنے کا عندیہ دیاگیا تھا ۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان عوامی جلسوں اور ٹی وی مباحثوں سمیت ہر فورم پر مقامی حکومتوں کے قیام اور ان کی افادیت کے حوالے سے تقریریں کرتے رہے ہیں۔ خان صاحب سابق حکومتوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ انہوں تمام اختیارات اپنی ذات یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کے لیے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ عمران خان صاحب یہ وعدہ بھی کرتے رہے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو وہ 90 دن کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر دیں گے۔

 

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں جمہوریت کی ترویج اور استحکام میں مقامی حکومتوں کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری حکمرانوں نے بھی بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی جانب توجہ نہیں دی۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد پہلے مرحلے میں شورش زدہ بلوچستان کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس کے بعد نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کی دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد عدلیہ اور میڈیا کے دباؤپرصوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد کیا۔ ان انتخابات سے قبل صوبائی وزراء بالخصوص وزیرِ بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان صاحب باربار اپنے انٹرویو ز میں دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بالکل نئی طرز کابلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے انہوں نے ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد حصہ منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

 

تیس مئی کے بلدیاتی انتخابات کو 30 جنوری 2015ء کو آٹھ ماہ یعنی 233دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ صرف نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کروانے کی دعوے دار جماعت تاحال اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کر سکی۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جاسکے۔ انتخابات کے 92 روز بعد 30 اگست 2015ء کو منتخب عوامی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کارروائی پوری کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان عوامی نمائندوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں۔ انتخابات کے بعد پہلے مون سون کے موسم میں صوبے کے بیشتر علاقے زیرِآب آئے تو امدادی سرگرمیاں فوج، پولیس اورپٹواریوں کے ذریعے کروائی گئیں اور منتخب عوامی نمائندوں کو اس عمل سے دور رکھا گیا۔ اس کے صرف دو ماہ بعد چھبیس اکتوبرکو ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے رہی سہی کسر نکال دی۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے متاثرین زلزلہ کی بروقت اور فوری امداد کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو امدادی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر فوج، پولیس اور پٹواریوں کی خدمات حاصل کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر زلزلہ متاثرین حکومت کی جانب سے جاری کردہ امدادی پیکج سے محروم رہے۔

 

خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔
خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔ اگرچہ ضلع اور تحصیل کونسل کو فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں لیکن دیہی کونسل کے لیے ابھی تک فنڈز فراہم نہیں ہوسکے۔ جو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ان کے ذریعے ترقیاتی کام کرانے کی راہ میں بھی بہت سی انتظامی روکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظام میں منتخب نمائندوں کے لیے مراعات موجود نہیں جب کہ اس کے برعکس صوبائی یا قومی اسمبلی کے اراکین کو لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دیئے جارہے ہیں۔ اب بغیر کسی مراعات یا تنخواہ کے ان چالیس ہزارعوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور تکمیل پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہے شنید ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے بھی مراعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کامیاب ہونے والے اکثر لوگوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے جو بمشکل اپنے روزمرہ کے معاملات چلا رہے ہیں اوپر سے ان پر عوامی دباؤ بھی ہے۔ بغیر کسی معاوضے، تنخواہ یا مراعات کے اپناوقت اور پیسہ عوامی خدمات کے نام پر صرف کرنا شاید غیر حقیقت پسندانہ طرزعمل ہے۔

 

اگر حکومت بلدیاتی اداروں کے ساتھ مخلص نہیں تھی توپھر اربوں روپے خرچ کر کے انتخابات منعقد کرانے کی ضرورت کیا تھی؟ گزشتہ آٹھ ماہ سے منتخب عوامی نمائندے اختیارات اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بے کار بیٹھے ہیں۔ انتخابات سے قبل اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کو نچلی سطح پر منتقل کونے کے دعوے اور وعدے صوبائی حکومت کی نااہلی، موقع پرستی اور غیرحقیقت پسندانہ ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہیں۔ یہ خبربھی گردش کر رہی ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء میں ترمیم کرکے بلدیاتی نمائندوں کو دئیے گئے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبے کے چار اضلاع بشمول چترال میں ویلج کونسلز کی سیکرٹریوں کی تقرری میں بیوروکریسی کی جانب سے بدعنوانی کے بعد وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

 

بلدیاتی نظام کی عدم فعالیت کے باعث ترقیاتی بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے ضمن میں بھی بڑے پیمانے پر غفلت برتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2013-14 کے دوران صوبائی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص 94ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ مالی سال 2014-15 میں ایک مرتبہ پھر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم میں سے ساٹھ فیصد یعنی 97 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جا سکے۔ اُس وقت بہانہ یہ بنایا گیا کہ چونکہ بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو اس میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ فنڈ پوری طرح استعمال نہیں کیے جا سکے۔ اس کرپشن کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ فنڈز جاری ہی نہ کیاجائے ۔لیکن موجودہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ کو پیش ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان آٹھ مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ جاری نہیں ہو سکا اور جو فنڈز بلدیات کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اس مالی سال میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم استعمال نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے میں واپس جانے کا خدشہ ہے۔ اس ساری صورتحال پر بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔
Categories
اداریہ

خیبرپختونخوا؛ تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں

شہری سہولیات کی فراہمی کا انتخابی نعرہ لگا کر صوبائی حکومت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بالآخر تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ذیل میں ان مثبت تعلیمی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی
خیبرپختونخوا کے سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے دس ارب روپے کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں احکامات 30 نومبر کو ہونے والے ایک اجلاس کے دوران دیئے گئے۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن علی رضا بھٹہ، ایڈیشنل سیکرٹری قیصر عالم، ڈائیریکٹر فار ایجوکیشن رفیق خٹک اور صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان بھی شریک تھے۔ منصوبے کے تحت یہ رقم پانی، بجلی، رفع حاجت اور چار دیواری کی سہولت سے محروم سکولوں پر خرچ کی جائے گی۔ صوبائی وزیر برائے ایلیمنٹری و پرائمری تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے بھر کے 9278 سکولوں کی چار دیواری، 5520 سکولوں میں ٹوائلٹ، 786 سکولوں میں بجلی کی فراہمی، 438 سکولوں میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے پینل، 3857 سکولوں میں پینے کے پانی کی فراہمی اور 2600 سکولوں میں کھیل کے میدان تعمیر کیے جائیں گے۔ مستقبل میں ان تعمیرات کے لیے مزید 33 ارب روپے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

 

خیبرپختونخوا کے سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے دس ارب روپے کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
بھرتیاں، تربیت اور کارروائیاں

 

خیبرپختونخوا حکومت نے اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 12000 اساتذہ بھرتی کیے ہیں جبکہ 10000 ہزار مزید آئندہ چند ماہ میں تعینات کیے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے گزشتہ برس 23000 اساتذہ کو تربیت فراہم کی تھی جبکہ 23000 کو رواں تعلیمی سال کے دوران تربیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر برائے ایلیمنٹری و پرائمری تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق 7500 ایسے اساتذہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے کا تدریسی طریقہ کار غیر معیاری تھا اور نتائج غیر تسلی بخش تھے۔ اس حوالے سے میں 25نومبر کو جاری کیے گئے ایک سرکاری ہینڈ آوٹ میں ذرائع ابلاغ کو فراہم کی گئی تھیں۔

 

سکولوں کی تعمیر اور بحالی

 

خیبر پختونخوا میں قدرتی افات اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سے سکول تباہ ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کی جانب سے ایسے سکولوں کی فوری تعمیر کا نظام موجود تھا تاہم حالیہ حکومت کو اس کے ابتدائی برس میں اس حوالےسے غفلت برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت نے سکولوں کی تعمیر اور بحالی کی جانب توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ زلزلے کے دوران سینکڑوں سکول مکمل طور پر تباہ جبکہ ایک ہزار کے قریب سکولوں کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ ان سکولوں کی تعمیر کے حوالے سے اعلانات کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کام کا آغاز اور بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
29 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران برطانوی حکومت کے ادارے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے تعاون سے خیبرپختونخوا کے نو اضلاع میں 200 ہائیر سکینڈری سکول تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق نئے سکولوں کی تعمیر کے علاوہ ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ زلزلے سے متاثرہ سکولوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے بھی مالی مدد فراہم کرے گا۔ وزیر تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق بہت سے متاثرہ سکولوں کے طلبہ کو دیگر سکولوں کی عمارات میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تباہ ہونے والے سکولوں کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔
کھیل کود کا حق

 

خبر پختونخوا حکومت میں ایک کینیڈین غیر سرکاری تنظیم “رائٹ ٹو پلے” نے کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں کی مدد سے تربیت فراہم کرنے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔
پنجاب حکومت ہر برس یوتھ فیسٹیول کا اہتمام کرتی ہے جس کے تحت مختلف سطح پر طلبہ کے کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ خبر پختونخوا حکومت میں ایک کینیڈین غیر سرکاری تنظیم “رائٹ ٹو پلے” نے کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں کی مدد سے تربیت فراہم کرنے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت رائٹ ٹو پلے کے صوبائی کوآرڈینیٹر ہمایوں خان کے مطابق یہ ادارہ اس وقت پشاور، مردان اور مانسہرہ کے 200 سرکاری سکولوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کی سرگرمیوں سے اب تک 94000 طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔ ہمایوں خان نے صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے ملاقات کے بعد اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
ہر ضلع میں یونیورسٹی

 

سابق صوبائی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا کے ہر ضلعے میں یونیورسٹی یا یونیورسٹیوں کےذیلی کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے رواں ماہ ہر ضلعے میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اب تک 50 کالج بھی تعمیر کر چکی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم

 

پنجاب میں آن لائن نصابی کتب، لیپ ٹاپ سکیم اور دیگر آئی ٹی منصوبے پنجاب کے تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کر صوبے بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس اور آئی ٹی تجربہ گاہوں کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 15000 اساتذہ کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا اعلان 23 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق اس منصوبے کا پہلا مرحلہ فروری 2016 تک مکمل ہو جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

اپر دیر تبدیلی کی زد میں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ جناب عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں عموماََ اس جملے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن کا شمار ان انتخابی حلقوں میں ہوتا ہے جہاں جماعت اسلامی جیسی نام نہاد جمہوری جماعت کا مضبوط اور ناقابل شکست ووٹ بینک موجود ہے۔ اگر چہ جماعت اسلامی اپنی مستحکم تنظیمی ساخت کی وجہ سے پورے ملک میں موجود ہے، لیکن پاکستان کے سیکولر مزاج عوام نے گزشتہ 68سال کے دوران انتخابات میں جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سخت گیرمذہبی جماعت کے حق میں ووٹ نہیں ڈالے۔ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو کل ووٹوں کا صرف 5سے 6فیصد ملتاہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتدال پسند اور ترقی پسند جماعتوں کے ووٹوں کا تناسب 95فیصد ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ اپنے گوناگوں معاشرتی مظاہر کے ساتھ پاکستان کے عوام کا سیاسی مزاج ہزاروں برسوں کے ارتقائی عمل کی وجہ سے سیکولرہے لیکن بتدریج قدامت پرست جماعتیں اپنی جگہ بنا رہی ہیں ۔ خیبرپختونخواہ کے شمالی اور جنوبی خطوں میں مذہبی جماعتیں جیسا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں جماعت اسلامی اور ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں وغیرہ میں جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعتیں انتخابی کامیابی حاصل کرتی آ رہی ہیں۔
انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو کل ووٹوں کا صرف 5سے 6فیصد ملتاہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتدال پسند اور ترقی پسند جماعتوں کے ووٹوں کا تناسب 95فیصد ہے
سن 2013ء کے عام انتخابات میں جہاں خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں پاکستان تحریکِ انصاف نے واضح برتری حاصل کی وہیں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں بالخصوص دیر سے جماعت اسلامی قومی وصوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئی اور یوں حکومت ساز ی کے مرحلے میں نظریاتی بحران کا شکار پاکستان تحریکِ انصاف نے جماعت اسلامی جیسی رجعت پسند جماعت سے اتحاد کیا جس کے عوض بلدیات ودیہی ترقی اور وزارت خزانہ کا قلمدان جماعت اسلامی کے حصے میں آیا۔ صوبائی کابینہ میں وزارت خزانہ کا عہدہ موجودہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق جبکہ بلدیات کی وزارت عنایت اللہ خان کوسونپی گئی، اور دونوں کا تعلق دیر سے ہے۔
حلقہ پی کے 93 اپر دیر کی انتخابی سیاست :
مئی 2013کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 93 اپر دیر سے جماعت اسلامی کے امیدوار ملک بہرام خان کامیاب ہوئے تھے۔ دو سال گزرنے کے بعد ملک بہرام خان کی ڈگری جعلی نکلی تو انہیں اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے بعد اسی حلقے میں ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اس ضمنی انتخاب میں دو امیدوار میدان میں آئے جماعت اسلامی نے جعلی ڈگری کے حامل سابق ممبر صوبائی اسمبلی ملک بہرام ٖخان کے فرزند ارجمند ملک اعظم خان کو اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے صاحبزادہ ثنااللہ کو میدان میں اتاراگیا۔ حیران کن طورپر روایتی اور موروثی سیاست کی سب سے بڑی مخالف جماعت اسلامی نے جعلی ڈگری رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک بہرام خان کی نشست پر ان کے فرزند ملک اعظم خان کو ٹکٹ دے کر نامزد کیا جو جماعت کے اندر دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف اور قومی وطن پارٹی نے جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثنا اللہ کی حمایت مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی نے حمایت کی ۔ ملک بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سیاسی پنڈت اس وقت ششدر رہ گئے جب جماعت اسلامی کے سب سے مضبوط گڑھ اپر دیر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں چودہ ہزار کے مقابلے میں اکیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی، اور یوں پیپلزپارٹی کو سات ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی ۔ عوامی عدالت میں سنائے جانے والے اس فیصلے کے بعد یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی بشارت سنانے والے احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں ۔ مقتدر اداروں کے لئے بھی عوام کا واضح پیغام ہے کہ سیاسی قوتوں کے خاتمے کی کسی بھی کوشش کو وہ اپنے ووٹوں کی طاقت سے ناکام بناسکتے ہیں اور پی پی پی جیسی مستحکم جماعتیں اتنی جلدی قومی منظر نامے سے غائب نہیں ہوسکتیں۔
دیر سے موروثی سیاست کا خاتمہ:
حلقہ پی کے 93اپر دیر کی نشست گزشتہ 40برسوں سے جماعت اسلامی کے پاس تھی یہاں کے عوام نے جماعت اسلامی کو مسلسل چھ مرتبہ کامیابی دلوائی چار دہائیوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود جماعت اسلامی نے یہاں کے عوام کے معیارِ زندگی، سماجی ومعاشی حالات، تعلیمی ترقی اور شرحِ خواندگی کو بہتر بنانے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے غربت، افلاس، پسماندگی، جہالت اور قبائلی سخت گیریت یہاں کے عوام کامقدربن چکی ہے۔ اس علاقے میں انتہائی غیر لچکدار قبائلی نظام رائج ہونے کی وجہ سے آبادی کے بڑے حصے یعنی خواتین کو زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے خارج کردیا گیا ہے، یہاں تک کہ ماضی میں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے خلاف سماجی تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا بالآخر خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کی کوششوں سے پی کے 93کے ضمنی انتخاب میں تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی البتہ خواتین ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔
ملک بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سیاسی پنڈت اس وقت ششدر رہ گئے جب جماعت اسلامی کے سب سے مضبوط گڑھ اپر دیر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں چودہ ہزار کے مقابلے میں اکیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی
تجزیہ نگار وں کا خیال ہے کہ خواتین کے ووٹوں کی وجہ سے ہی علاقے کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ دیر کے عوام نے موروثی سیاست کو خیر باد کہہ کر اپنے لئے نئی راہوں کا تعین کیا ہے ۔ اس غیر معمولی واقعے کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں واضح تبدیلی رونما ہوچکی ہے، یعنی ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔اب نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے علاقے کی تعمیرو ترقی میں اپناکردار اداکرے تاکہ عوام ناامید نہ ہوجائیں۔
دیر کے عوام کی سیاسی ترجیحات
اپر دیر کے عوام کے پاس ضمنی انتخاب میں دو راستے تھے؛ ایک یہ کہ جماعت اسلامی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال کر صوبائی اسمبلی میں حزبِ اقتدار کی نشستوں پر بیٹھے یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے کر حزبِ اختلاف کا حصہ بنے لیکن حیران کن طورپر ووٹروں نے موجودہ حکمرانوں پر عدم اعتمادکا اظہارکرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ترجیح دی ۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کی قیادت نے جماعت اسلامی کی حمایت کا فیصلہ کیاتھا لیکن کارکن اس فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے اپنے کارکن بھی باپ کی جگہ بیٹے کو ٹکٹ دینے کے فیصلے سے نالاں تھے کیونکہ بہرحال دیر کے عوام کے سامنے جماعت اسلامی کی چالیس سالہ کاکردگی تھی ۔ عوام جو کہ طاقت کااصل سرچشمہ ہیں نے جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اورقومی وطن پارٹی کی قیادت کے فیصلے کو ماننے سے انکارکرتے ہوئے پی پی پی کی حمایت کا فیصلہ کیا ۔ جماعت اسلامی کے لئے یہ تبدیلی انتہائی تشویش کا باعث ہوگی جبکہ پی ٹی آئی کو بھی اب اپنا قبلہ درست کرنے کے ساتھ نظریاتی تذبذب سے باہر نکلناہوگا۔
پی پی پی کا امتحان:
دیر کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد چھ ہوگئی ہے جن میں سے دو اراکین کا تعلق اپر دیر سے ملحق ضلع چترال سے ہے۔ چترال سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں یعنی پی کے 89چترال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سلیم خان جبکہ پی کے 90مستوج چترال کی نشست سےبھی پی پی پی کے سینئر راہنما سید سردارحسین کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی اورصوبائی قیادت کو چترال اور دیر کی سیاست سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹوذرداری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور جماعت کی مرکزی تنظیمِ نوکاآغازکریں، ناراض کارکنوں کومنانے کے علاوہ مرکزی، صوبائی اور پھر ضلعی قیادت کا انتخاب جمہوری طریقے سے عمل میں لائے۔ اس کے علاوہ چترال اور دیرکے اراکین صوبائی اسمبلی کواپنے علاقوں کی تعمیر وترقی اور پسماندگی کے خاتمے کی جانب خاص توجہ مرکوز کرناہوگی ورنہ تبدیلی کی جولہر چلی ہے اس کی رخ کسی اور سمت بدل بھی سکتی ہے ۔