Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا حکومت کی تین سالہ کارکردگی

گیارہ مئی 2016ء کو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے تین سال مکمل ہوئے جبکہ تیس مئی 2016 کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کو ایک برس مکمل ہو جانے کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی کیسی رہی۔ تیس مئی 2015 کو خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے میں مقامی حکومتوں کے قیام کے لئے انتخابات منعقد کیے۔ انتخابات کو مکمل ہوئے ایک برس گزر جانے کے باوجود ان اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے، کیونکہ ابھی تک نہ تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل کئے گئے ہیں اور نہ ہی ترقیاتی فنڈز۔

 

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کو ایک برس مکمل ہو جانے کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی کیسی رہی۔
مئی 2013ء کے پارلیمانی انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنی تقریروں، نجی گفتگو اور ذرائع ابلاغ کو دئیے جانے والے انٹرویوز میں متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے تھے کہ جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کا انحصار بلدیاتی نظام پر ہے ان کا دعویٰ تھا کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے ترقیاتی فنڈ اوراختیارات منتخب نمائندوں کے حوالے کریں گے جبکہ اراکین اسمبلی کا کام قانون سازی ہو گا۔ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے قیام کے بعد انتخابات سے قبل کے دعوے اور وعدے ایک ایک کر کے بھلا دئیے گئے جن میں مقامی حکومتوں کا قیام بھی شامل تھا۔

 

ذرائع ابلاغ اور عدلیہ کے زبردست دباؤ کے بعد بالآخر دوسال بعد تیس مئی دوہزارپندرہ کو صوبہ بھر میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات منعقد کرائے گئے۔ تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی کے باعث صرف دوسال بعد ہی عوام نے اس حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور صوبے کے بیشتر اضلاع میں پاکستان تحریک انصاف کے ووٹس میں کمی آئی ہے۔ اس کے بعد سے صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو طاعون زدہ سمجھ کر انہیں ہاتھ لگانے سے گریز کر رہی ہے۔ انتخابات کے 93روز بعد تیس اگست دوہزار پندرہ کو منتخب بلدیاتی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کاروائی پوری کی گئی۔ حلف لیے جانے کے کئی ہفتوں بعد ضلعی اور تحصیل حکومتوں کا قیام عمل میں آیا۔ آئے روز حکومتی ذرائع سے بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے، اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے بیانات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہے لیکن عملی کام نہ ہو سکا۔ دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے اب سال میں بدل چکے ہیں لیکن ابھی تک بلدیاتی اداروں کو فعال نہیں بنایا جا سکا۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ صوبائی بجٹ کا بڑاحصہ لیپس ہوگیا ہو بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سال بجٹ لیپس کرنے کی ہیٹ ٹریک مکمل کی ہے۔
گزشتہ برس بلدیاتی انتخابات کے صرف چند روز بعد صوبائی حکومت نے مالی سال 2015-16ء کا بجٹ پیش کیا جس میں بلدیات کے لئے 45 ارب روپے مختص کی گئی تھی۔ مالی سال کے اختتام کے پر پتہ چلا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم کا بڑاحصہ یعنی 11 ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ بلدیات ودیہی ترقی کے لئے جاری کردہ 44ارب روپوں میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جا سکا۔ یعنی گزشتہ ایک سال سے منتخب بلدیاتی نمائندے محض طفل تسلیوں گزارا کر رہے ہیں جبکہ عوام نے ان نمائندوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صوبائی بجٹ کا بڑاحصہ لیپس ہوگیا ہو بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سال بجٹ لیپس کرنے کی ہیٹ ٹریک مکمل کی ہے۔ اس سے قبل مالی سال 2013-14ء کے اختتام پر 94 ارب روپے مالی سال 2014-15ء میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم کا ساٹھ فیصد یعنی 97ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ دوبارہ خزانے میں چلے گئے تھے اور مالی سال 2015-16ء میں بھی ایک سو دس ارب روپے سے زیادہ رقم لیپس ہو گئی ہے۔

 

نامور صحافی محمد شریف شکیب ایک ماہ قبل اس حوالے سے لکھا تھا “رواں مالی سال کے گیارہ مہینوں میں سالانہ ترقیاتی فنڈز کا صرف ساٹھ فیصد ہی خرچ ہو سکا جبکہ مالی سال کے اختتام پر چالیس فیصد بجٹ لیپس ہونے کا خدشہ ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص 113 ارب روپے میں سے صرف 67کروڑ70لاکھ روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں جبکہ مالی سال ختم ہونے میں چند روز ہی باقی ہیں۔ محکمہ صحت، بلدیات و دیہی ترقی، سماجی بہبود اور جنگلات سمیت گیارہ محکمے اپنے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں سے پچاس فیصد بھی اب تک خرچ نہیں کر سکے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق محکمہ خوراک، معدنیات، ماحولیات اور توانائی سمیت نو محکمے اپنے بجٹ کا ایک چوتھائی بھی خرچ نہیں کر سکے۔ ان محکموں کا 75فیصد فنڈز لیپس ہونے کا اندیشہ ہے صوبائی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جن شعبوں کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں شامل کیاہے ان کے لئے مختص فنڈ زبھی مالی سال ختم ہونے کے باوجود استعمال نہیں کیے جا سکے جن میں محکمہ صحت، بلدیات ودیہی ترقی اور جنگلات قابل ذکر ہیں۔

 

ایک مختاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً تین سو ارب یعنی تین کھرب روپے استعمال نہ ہو سکے جو کہ ایک غریب صوبے کے لئے بہت بڑی رقم ہے۔
بلدیاتی اداروں کے قیام کے باوجود منتخب نمائندے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کرسکے حالانکہ صوبہ بھر میں چالیس ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے لئے 44 ارب روپے کا اعلان کیا گیا تھا اس رقم میں بعد ازاں کٹوتی کی گئی اور باقی ماندہ رقم کابھی نصف حصہ بروئے کار نہیں لا سکا۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے ’بلین ٹری سونامی‘ مہم کے تحت صوبے میں ایک ارب پودے لگانے کا منصوبہ شروع کیاہے اس منصوبے کے لئے کافی وسائل درکارہیں لیکن مالی سال کے دوران محکمہ جنگلات وماحولیات کے لئے مختص فنڈ کا پچیس سے پچاس فیصد خرچ نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے”۔

 

سن 2013ء کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا کو جس ماڈل صوبے کی شکل دینے کی بات ہوئی تھی وہ معاملہ انتظامی نااہلی کی نظر ہو چکا ہے البتہ خیبرپختونخوا بجٹ لیپس کے حوالے سے مثالی صوبے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً تین سو ارب یعنی تین کھرب روپے استعمال نہ ہو سکے جو کہ ایک غریب صوبے کے لئے بہت بڑی رقم ہے۔ مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت نے ان تین سالوں میں ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا اورنہ ہی مستقبل میں ایساکوئی امکان ہے۔ مالی سال 2013-14ء میں لواری ٹنل کے لئے تین ارب روپے مختص کئے گئے تھے مالی سال کے خاتمے پر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
پورے ملک کی طرح خیبرپختونخوا میں بجلی کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن ابھی تک توانائی کے شعبے میں کوئی کام نہیں ہوا حالانکہ صرف چترال میں ہی 14 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلے میں کئی مقامات پر سینکڑوں اور ہزاروں میگاواٹ بجلی گھروں کی ابتدائی فیزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے لیکن اب تک ایک پربھی عملی کام شروع نہیں ہوا۔ اگر چہ صوبائی حکومت نے این جی اوز کی مدد سے چترال اور ہزارہ ڈویژن میں چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے اربوں روپے جاری کردئیے ہیں لیکن ان میں بھی کام کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ ضلع چترال کا بالائی حصہ یعنی سب ڈویژن مستوج گزشتہ گیارہ ماہ سے تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ پچھلے سال مون سون کے موسم میں علاقے کو روشنی سے منور کرنے والا چاراعشاریہ دومیگاواٹ کے واحد بجلی گھر کو سیلاب کی وجہ سے جزوی نقصان پہنچا تھا لیکن تاحال اس کی دوبارہ بحالی سے متعلق کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیاگیا ہے۔

 

مقامی حکومتوں کے انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال بلدیاتی اداروں کے ذریعے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا
ابتدائی دو برس میں یہ کہہ کر ترقیاتی کام شروع نہیں کئے گئے کہ چونکہ بلدیاتی نظام کی غیر موجودگی میں کرپشن کے امکانات موجود ہیں لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے بعد منتخب نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی کام شروع کیا جائے گا لیکن مقامی حکومتوں کے انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال بلدیاتی اداروں کے ذریعے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا یوں ترقی کا پہیہ 2013ء کے بعد رک چکا ہے۔

 

ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کو فتح کرنے کی کوشش میں اپنے زیر انتظام صوبے کو پتھر کے دورمیں دکھیل رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حد تک پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس مربوط لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ نظام حکومت اشتہار بازی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اگلے انتخابات میں خیبرپختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ حلقہ پی کے 8 کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے جبکہ اس سے قبل اپر دیر کے عوام نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدوار کو بدترین شکست سے دوچار کرتے ہوئے حکومت کو سبق سکھایا ہے مگر عوام کی نبض پر کب کسی حکمران کا ہاتھ رہا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا: بلدیاتی نظام کے آٹھ ماہ

خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال 30 مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا انعقاد ہوا، یہ انتخابات لوکل گورنمنٹ آرڈنینس 2013ء کے تحت منعقد ہوئے۔ اس آرڈیننس اور حکومتی بیانات میں واضح طورپر اختیارات اور ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرنے کا عندیہ دیاگیا تھا ۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان عوامی جلسوں اور ٹی وی مباحثوں سمیت ہر فورم پر مقامی حکومتوں کے قیام اور ان کی افادیت کے حوالے سے تقریریں کرتے رہے ہیں۔ خان صاحب سابق حکومتوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ انہوں تمام اختیارات اپنی ذات یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کے لیے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ عمران خان صاحب یہ وعدہ بھی کرتے رہے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو وہ 90 دن کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر دیں گے۔

 

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں جمہوریت کی ترویج اور استحکام میں مقامی حکومتوں کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری حکمرانوں نے بھی بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی جانب توجہ نہیں دی۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد پہلے مرحلے میں شورش زدہ بلوچستان کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس کے بعد نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کی دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد عدلیہ اور میڈیا کے دباؤپرصوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد کیا۔ ان انتخابات سے قبل صوبائی وزراء بالخصوص وزیرِ بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان صاحب باربار اپنے انٹرویو ز میں دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بالکل نئی طرز کابلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے انہوں نے ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد حصہ منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

 

تیس مئی کے بلدیاتی انتخابات کو 30 جنوری 2015ء کو آٹھ ماہ یعنی 233دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ صرف نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کروانے کی دعوے دار جماعت تاحال اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کر سکی۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جاسکے۔ انتخابات کے 92 روز بعد 30 اگست 2015ء کو منتخب عوامی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کارروائی پوری کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان عوامی نمائندوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں۔ انتخابات کے بعد پہلے مون سون کے موسم میں صوبے کے بیشتر علاقے زیرِآب آئے تو امدادی سرگرمیاں فوج، پولیس اورپٹواریوں کے ذریعے کروائی گئیں اور منتخب عوامی نمائندوں کو اس عمل سے دور رکھا گیا۔ اس کے صرف دو ماہ بعد چھبیس اکتوبرکو ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے رہی سہی کسر نکال دی۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے متاثرین زلزلہ کی بروقت اور فوری امداد کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو امدادی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر فوج، پولیس اور پٹواریوں کی خدمات حاصل کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر زلزلہ متاثرین حکومت کی جانب سے جاری کردہ امدادی پیکج سے محروم رہے۔

 

خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔
خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔ اگرچہ ضلع اور تحصیل کونسل کو فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں لیکن دیہی کونسل کے لیے ابھی تک فنڈز فراہم نہیں ہوسکے۔ جو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ان کے ذریعے ترقیاتی کام کرانے کی راہ میں بھی بہت سی انتظامی روکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظام میں منتخب نمائندوں کے لیے مراعات موجود نہیں جب کہ اس کے برعکس صوبائی یا قومی اسمبلی کے اراکین کو لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دیئے جارہے ہیں۔ اب بغیر کسی مراعات یا تنخواہ کے ان چالیس ہزارعوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور تکمیل پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہے شنید ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے بھی مراعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کامیاب ہونے والے اکثر لوگوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے جو بمشکل اپنے روزمرہ کے معاملات چلا رہے ہیں اوپر سے ان پر عوامی دباؤ بھی ہے۔ بغیر کسی معاوضے، تنخواہ یا مراعات کے اپناوقت اور پیسہ عوامی خدمات کے نام پر صرف کرنا شاید غیر حقیقت پسندانہ طرزعمل ہے۔

 

اگر حکومت بلدیاتی اداروں کے ساتھ مخلص نہیں تھی توپھر اربوں روپے خرچ کر کے انتخابات منعقد کرانے کی ضرورت کیا تھی؟ گزشتہ آٹھ ماہ سے منتخب عوامی نمائندے اختیارات اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بے کار بیٹھے ہیں۔ انتخابات سے قبل اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کو نچلی سطح پر منتقل کونے کے دعوے اور وعدے صوبائی حکومت کی نااہلی، موقع پرستی اور غیرحقیقت پسندانہ ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہیں۔ یہ خبربھی گردش کر رہی ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء میں ترمیم کرکے بلدیاتی نمائندوں کو دئیے گئے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبے کے چار اضلاع بشمول چترال میں ویلج کونسلز کی سیکرٹریوں کی تقرری میں بیوروکریسی کی جانب سے بدعنوانی کے بعد وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

 

بلدیاتی نظام کی عدم فعالیت کے باعث ترقیاتی بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے ضمن میں بھی بڑے پیمانے پر غفلت برتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2013-14 کے دوران صوبائی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص 94ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ مالی سال 2014-15 میں ایک مرتبہ پھر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم میں سے ساٹھ فیصد یعنی 97 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جا سکے۔ اُس وقت بہانہ یہ بنایا گیا کہ چونکہ بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو اس میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ فنڈ پوری طرح استعمال نہیں کیے جا سکے۔ اس کرپشن کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ فنڈز جاری ہی نہ کیاجائے ۔لیکن موجودہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ کو پیش ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان آٹھ مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ جاری نہیں ہو سکا اور جو فنڈز بلدیات کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اس مالی سال میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم استعمال نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے میں واپس جانے کا خدشہ ہے۔ اس ساری صورتحال پر بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔