ایک اور مکان (رفاقت حیات)

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ […]
میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔ ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں […]
ہیلو مایا

یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے
جیرے کالے کا دکھ

محمد جمیل اختر: وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟
گل ارباب کے افسانے “داستانِ ہجرت” کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: کہانی کے بین المتن جو معانوی نظام تخلیق ہوا ہے اس نے اس کلی متن کو ایک علامت بنا کر ابھارا ہے
گلٹی

فرخ ندیم: جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔
خدشات

درد مشترک

بے گناہ

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
آدھی کھڑکی

میری نظروں کے بالکل سامنے اس اونچی دیوار میں ایک کھڑکی ہے۔میں جب بھی فائلوں سے سر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کمرے کے سامنے والی دیوار پر پڑتی ہے جہاں چاچا رحمت بیٹھا ہے۔
موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔
بوری بند

وہ صرف ایک بوری میں ملبوس تھا، لوگ بھاگ بھاگ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دے رہے تھے
فساد
