Categories
فکشن

ایک اور مکان (رفاقت حیات)

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ میچنے کی دیر تھی۔ لیکن اب جسم کے اعضاء کی خستگی کے سبب وہ اس کی پکڑ سے نکلنے لگی تھی۔ وہ خود کو سمجھا تا رہتا تھا کہ اس کی وجہ شام کے سائے کی طرح ڈھلتی ہوئی عمر نہیں ہے۔ جیسا کہ اس کی بیوی اور بچوں کا خیال تھا۔ بلکہ وہ منتشر الخیالی ہے، کسی بھی فرد سے، جس کا اظہارنا ممکن تھا۔ ہلکی پھلکی ٹرنکو لائزر کا ستعمال بھی کارگر نہ ہو سکا تھا۔ ہائی پوٹینسی کی گولیاں لینے سے وہ کترا تا تھا کہ کہیں عادی نہ ہو جائے۔

آج پھر ایسا ہو اتھا۔ لیکن آج ٹوٹتی ہوئی نیند کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے خوابوں کا سلسلہ بھی تھا، وہ جسے ایک ہی خواب کا تسلسل سمجھنے لگتا تھا۔ اس گورکھ دھندے میں اسے بہت کچھ دکھائی دیا تھا۔ مسخ شدہ چہرے، جو آشنا لگتے تھے۔ مبہم اور نامانو س لہجے، جن میں اپنا ئیت محسوس ہو تی تھی، بے نام گلیاں، ویران بازار، شکستہ عمارتیں اور گم صم لوگ، سارے خواب ریت پر لکیروں کی طرح تھے، جو ہوش مندی کی ایک لہر کو بھی سہار نہیں سکے تھے۔

وہ رشک بھری نظروں سے برابر والی کھاٹ کو دیکھنے لگتا تھا۔ جس پر دھیمی سانسوں کی تان میں کھوئی، اس کی بیوی سورہی تھی پہلے ایسے موقعوں پروہ معمولی حسد کے زیرِ اثر کھاٹ سے اتر جاتا تھا اور اندھیرے میں سلیپر ڈھونٹتے ہو ئے پاؤں کسی چیز سے ٹکرا دیتا تھا، خفیف سے شور سے بھی اس کی بیوی جاگ اٹھتی تھی اور جاگتے ہی صبح سے شام تک کے کاموں کی فہرست سنانا شروع کر دیتی تھی۔ یا کسی خواب کے ٹوٹنے پر افسوس کر نے لگتی تھی اور صبح کو اپنی نیند کی غارت گری کی داستان کئی مرتبہ دوہراتی تھی۔ نادانستہ ہو نے والی غلطی کو وہ کئی بار دُہرا چکا تھا۔

اس طرح تنہائی بھی مٹ جاتی تھی اور ایک لمحاتی تسکین بھی ملتی تھی۔ وہ ایسی غلطیوں کو دوہرا نے سے باز نہ رہتا مگر تکرار سے اکتا گیا تھا۔
غسل خانے کے فرش پر پانی گر نے کی آواز سن کر وہ چونکا تو، مگر آنکھ نہیں کھولی۔ اس کی بوجھل سماعت نے اس آواز کو برسات کی ٹپ ٹپ سے ملا دیا۔ اس کی ہڈیوں میں ٹھنڈکی لہر دوڑ گئی۔ اس نے کھیس کو سر پر تان لیا اور خوامخواہ مسکرانے لگا۔ شاید تخیل کے بوسیدہ اڑن کھٹو لے پر وہ سر مئی بادلوں کے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ہلکی ہلکی بونداباندی لطف دے رہی تھی۔

دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سے وہ بڑبڑا گیا۔اس نے کھیس اتار کر دیکھا تو اس کی بیوی کپڑے درست کر تی غسل خانے سے نکل رہی تھی۔ وہ غلط فہمی پر مسکرا یا لیکن بولا کچھ نہیں۔ کھڑکی کی طرف منہ کیے لیٹا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کی بیوی نماز پڑھے گی۔شاید وہ یہ بھی سوچ رہی ہو کہ میں اٹھ کر اس کے لیے چائے بنا لاؤں گا۔وہ خود کو ملامت کر نے لگا کہ میں نے اس کی عادتیں خراب کر دی ہیں ورنہ برسوں تک یہ خیال اسے خواب میں بھی نہ سوجھا ہو گا۔کچھ بھی ہوجائے چائے وہی بنائے گی۔ اس نے آخر ی فیصلہ سنایا۔ لیکن وہ خائف بھی تھا کہ نماز پڑھنے کے بعد اگر وہ کمر سیدھی کر نے کے لیے جاء نماز پر لیٹ گئی اور چائے بنانے کی فرمائش کر ڈالی تو کیا ہو گا۔ اس نے خود کو سمجھا یا کہ اسے میرے جاگنے کا پتہ نہیں چلا اسی لیے مجھ پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی۔

جاء نماز سمیٹنے کی آواز سن کر اس نے سکون کا سانس بھرا،باورچی خانے میں برتنوں کا شور سن کر وہ سمجھ گیا کہ اس کی بیوی کو اس کے جاگنے کی خبر ہو گئی ہے۔ وہ کروٹ لے کر سیدھالیٹ گیا۔بستر چھوڑنے سے پہلے وہ چند لمبے سانس لینا چاہتا تھا۔ اس نے جسم کو سانسوں کے فطری بہاؤ پر چھوڑ دیا۔

وہ جانتا تھا کہ آج کا دن گھر پرگزارنا ہے۔ وہ چاہے تو دیر تک آرام کر سکتا ہے۔ لیکن وہ کل رات والی بات نہیں بھولا تھا۔ جب آرام کے دن کا اعلان کر تے ہی منجھلا بیٹا عارف اسے گھورنے لگا تھا۔ اس کی ضعیف سماعت نے چھوٹے بیٹے کی بڑبڑاہٹ بھی سن لی تھی۔

جبکہ بڑے والے کی لاتعلقی پر وہ مسرور ہوا تھا۔ مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ ناصر کو اس کی حمایت میں کچھ تو کہنا چاہئے تھا،ہفتے میں دو دن کی چھٹی اس کی عمر کا تقاضہ ہے، یوں بھی کاروبار چل نکلا ہے، وہ بچے تو نہیں ہیں۔ اگلے ہی لمحے وہ ایک شدید احساس کے زیر اثر سوچنے لگا کہ میں ان بدبختو ں کا باپ ہوں، اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہوں، آئندہ جب جی میں آئے گا چھٹی کر لوں گا۔

وہ اپنے خون میں اس فیصلے کی حرارت کو محسوس کر رہا تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب اس کے بیٹے نیند سے اٹھیں تو وہ بستر پر لیٹا ہو ا نظر آئے۔
وہ غسل خانے سے نکل کر برآمدے میں گھر کے اکلوتے واش بیسن تک گیا۔ اپنی بیوی کی طرح وہ غسل خانے کے نل سے ہاتھ منہ نہیں دھوتا تھا جب وہ اچھی طرح منہ دھو چکا تو اس نے دیکھا کہ واش بیسن جھاگ آلود پانی سے بھرگیا ہے۔ وہ گھر کے افراد کو کوسنے لگا۔ اسی لمحے باورچی خانے سے بھی ایک بڑ بڑاہٹ سنائی دی اس نے جھاڑو کے تنکوں کی مدد سے سوراخوں کو صاف کیا پھر ہاتھ دھوتے ہو ئے شیشے میں چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔ جو تھوڑی سی جھر یو ں کے علاوہ بڑھاپے کی ظاہری کی علامتوں سے پاک تھا۔ وہ نیم سفید بالوں کو دیکھتے ہو ئے سوچنے لگا کہ کالا کولا استعمال کیے تین دن گزر گئے۔

وہ کھاٹ پر تکیوں سے ٹیک لگائے دیوار پر بنے نقوش کو گھوررہا تھا کہ اس کی بیوی ایک ہاتھ میں کپ اور دوسرے میں چائے سے بھرا مٹی کا کٹورا تھامے داخل ہو ئی۔ کپ لیتے ہی وہ حریصانہ چسکیاں بھر نے لگا۔ جبکہ اس کی بیوی پائیتی بیٹھ کر سکون سے چائے پینے لگی۔ کمرے کی خاموشی پر چائے پینے کی آوازیں جر ح کر نے لگیں۔

وہ پہلی بار اپنی بیوی پر نگاہ ڈالتے ہو ئے بولا’’تم مٹی کے کٹورے میں کیوں چائے پیتی ہو، گھر میں پیالیاں کس لیے ہیں‘‘۔
وہ ایک سڑکی لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’چائے جلدی ٹھنڈی ہو جاتی ہے پھر باپ دادا کے علاقے سے تعلق بھی جڑ ارہتا ہے‘‘۔
ان کے خاموش ہو تے ہی سڑکی بھر نے کی آوازیں مکالمہ کر نے لگیں۔
’’آج نیند نہیں آئی، جسم میں درد ہے، اور آنکھیں بھی جل رہی ہیں‘‘۔
’’اچھا ہوا تم نے میری نیند خراب نہیں کی‘‘وہ معصومیت سے بولی۔
اس نے کپ کو فرش پر رکھ دیا، پھر تکیے کے نیچے سگریٹ کے پیکٹ کو ٹٹولتے ہو ئے کہنے لگا ’’ایک ہی بار پیشاب کے لیے کھاٹ سے اتر اتھا پھر کروٹیں ہی بدلتا رہا‘‘۔
’’رات پیشاب نے مجھے نہیں جگایا ورنہ روز دو ایک بار نیند خراب ہوتی ہے ‘‘۔ وہ مسکراتے ہو ئے بولی۔
اس نے دن کا پہلا سگریٹ سلگایا۔ کش لگا تے ہی کھانسنے لگا۔ بلغم کا لچھا فرش پر اچھا لتے ہو ئے اس نے شور کو سنبھالا پھر کھنکار کر گلہ صاف کیا تاکہ با آسانی گفتگو کر سکے۔
اس کی بیوی نے ناک پر دوپٹہ رکھتے ہو ئے برا سامنہ بنایا ’’روز فنائل کے پانی سے رگڑ کر پوچا لگا تی ہوں۔ پھر بھی کمرے سے کبھی بو نہیں جاتی فرش سے داغ بھی نہیں اترتے‘‘۔
وہ سگریٹ پینے میں اتنا منہمک تھا کہ جیسے یہ باتیں کسی اور سے کی جا رہی ہوں۔

وہ دھوتی سے منہ صاف کر تے ہو ئے بولا۔ ’’رات بہت خواب دیکھے۔ نامکمل، ٹوٹوں کی شکل میں، ابھی تک آنکھوں میں چھبن ہو رہی ہے۔ ایک یاد ہے، باقی بھول گیا۔بہت ڈرا ؤ نا خواب تھا، میں سمجھا کہ سچ مچ ایسا ہو گیا ‘‘وہ خواب کی جزئیا ت کو ذہن میں لانے کے لیے خاموش ہو گیا۔
’’تم تو کہتے تھے کہ خوابوں کی حقیقت نہیں ہو تی۔‘‘وہ اس کی بات دوہراتے ہو ئے بولی۔

وہ اسے سمجھا نے لگا کہ ضروری نہیں۔ اس خواب کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق ہو۔ یہ لاشعور کی کارفرمائی بھی ہو سکتی ہے۔ جو دن بھر کے واقعات کو جادوئی شکل دے کر شعور میں بھیج دیتا ہے۔ خواب کی ماہیت سمجھاتے ہو ئے اس نے محسوس کیا کہ وہ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی اور وہ اپنا خواب سنانے لگا۔ ’’ایک تنگ سی گلی تھی۔ مکان پرانے اور آگے کو جھکے ہو ئے تھے۔ شاید رات کا وقت تھا، نہیں شام تھی۔ ہا ں، آسمان بادلوں سے ڈھکا ہو اتھا اور بارش ہو رہی تھی، ایک قدیم طرز کے مکان کے آگے سامان بکھرا تھا۔ بڑے بڑے صندوق، پیٹیاں، الماریاں اور کر سیاں وغیرہ۔اس کے نزدیک ہی کچھ آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ان کی زبان سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ان کے لہجوں اور شکلوں سے نحوست ٹپکتی تھی۔ جیسے شیطان کے بیٹے ہوں‘‘۔

ایک لحظے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا، بڑبڑانے لگا۔’’میں بھی تو تھا۔ میں کہا ں تھا، ہاں، گلی میں ایک گدھا گاڑی کھڑی تھی،میں اس پر سامان لاد رہا تھا۔ اسی لیے میری کمر میں درد ہو رہا ہے۔ شاید بر سات کا پانی، نہیں، پسینا پو رے جسم سے ٹپک رہا تھا۔ اچانک ایک عورت کے بین فضا میں گونجنے لگے۔ بہت غمناک آواز تھی وہ، میں نے شک بھری نظروں سے آدمیوں کی طرف دیکھا، وہ غائب ہو چکے تھے۔ میں خوف زدہ ہو کر گلی کے آخرتک دوڑ تا چلا گیا۔ پھر لوٹ کر آیا اور مکان میں گھس گیا۔ وہ مکان کسی اور کا تھا، اندر گھپ اندھیرا تھا اور چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں باہر نکل آیا۔مجھے سامان کسی جگہ پہچانے کی جلدی تھی اور سامان بہت زیادہ تھا۔ میں نے ایک صندوق اٹھایا بہ مشکل گدھا گاڑی پر رکھا کہ عورت کی سسکیاں دو بارہ سنائی دیں۔ وہ تمہاری آواز تھی، میں سہم کر مکان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس وقت مجھے محسوس ہو اکہ گلی انسانی آوازوں سے بھر گئی ہے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مکانوں کی چھتیں اور بالکونیاں مردوزن سے بھری ہو ئی تھیں۔ میں دوڑ کر مکان میں گھسا۔ ایک عورت سیڑھیوں پر بیٹھی رورہی تھی، میں نے اس کی طرف قدم بڑھا یا کہ مکان کی چھت اور دیواریں گر گئیں، مجھے لگا کہ میں۔۔۔۔۔‘‘

اس کی بیوی عدم دل چسپی سے خواب سنتی رہی تھی، وہ جمائی لیتے ہو ئے بولی۔ ’’یہ کیسا خواب تھا، اس کا تو سر پیر ہی نہیں۔ میرے خواب تو ایسے نہیں ہوتے ‘‘۔ وہ اپنے پرانے خواب سنا نے لگی۔جن میں اس کی روح اپنے پرکھوں سے ملاقاتیں کر چکی تھی، وہ اکثر شوہر کو اس کے مرحوم فوجی باپ کے پیغام سناتی رہتی تھی۔ جب وہ اٹھ کر جانے لگی تو وہ بولا۔’’آج کوئی کام نہیں کروں گا مجھے آرام کی ضرورت ہے‘‘۔
اس نے بے ساختہ ہنستے ہو ئے کہا۔ ’’تم نے کبھی میرا کوئی کام نہیں کیا۔ ہاں مسز خورشید سے ملنے تو جانا ہی پڑے گا‘‘۔
مسلسل تیسر ا سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے اخبار کی طلب محسوس ہو ئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ اخبار خرید کر لوٹا تو کھلی ہوئی کھڑکیوں سے کمروں میں جھانکنے لگا، جہاں اس کے بیٹے سو رہے تھے۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ گھرکے دوسرے حصے میں گونجنے والی آوازوں کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا۔ کسی کمرے کا دروازہ کھلنے اور پھر واش بیسن پر پانی بہنے کی آواز یں سن کر وہ پہلو بدلنے لگا۔ اب تک پیٹ کی گیسوں کا اخراج فطری طریقے سے ہو رہا تھا۔ لیکن اب اخبار پڑھتے ہوئے جھک کر کچھ زور لگا نے کے بعد مشکل آسان ہو پائی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ جان گیا تھا کہ دوبیٹے نہادھو کر تیار ہو چکے ہیں۔ جب کہ بڑا لڑکا ابھی چائے پی رہا ہو گا۔باہر نکلنے سے پہلے وہ کمرے میں ٹہلتا رہا۔ تین چار بیٹھکیں بھی نکالیں۔ جس سے ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ پھر وہ پیالی تھامے باورچی خانے کی طرف گیا۔ بیٹوں نے صبح کا سلام کیا۔ باورچی خانے میں اس کی بیوی بگڑنے لگی’’جب تک چائے کا دیگڑاختم نہ ہو جائے تمہیں چین نہیں آتا‘‘۔

وہ خوشامد کرتے ہوئے مسکرایا۔’’پرانی عادت جو ہے‘‘۔وہ جانتا تھا کہ بیٹوں کی موجودگی میں وہ اس کا مذاق اڑانے سے نہیں چوکتی۔ چائے کی تیسری پیالی کا آخری گھونٹ بھر نے کے بعد وہ اخبار کو بیٹوں کے پاس لے گیا۔ اخبار کے صفحات آپس میں تقسیم کر کے وہ مطالعہ کر نے لگے۔ وہ گفتگو کے لیے کوئی موضوع ڈھونڈرہا تھا۔

اتنے میں عار ف بڑبڑایا۔ ’’نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ‘‘۔
’’ہاں دیکھو، کس جماعت کی حکومت بنتی ہے۔‘‘اس نے موقع کا درست استعمال کیا۔
چھوٹے بیٹے نے رائے زنی کی۔’’حکومت جس کی بھی ہو، نظام نہیں بدلے گا‘‘۔
’’تھوڑی بہت تبدیلی تو آئے گی۔‘‘

عارف نے قہقہہ لگا تے ہو ئے کہا۔’’ہاں لوٹ مار کے طریقے ضرور بدل جائیں گے‘‘۔
بڑا بیٹا ناصر پہلی بار گو یا ہوا۔’’آپ ہر مرتبہ امید یں باندھ لیتے ہیں۔ جب کہ آپ کے پاس ساٹھ سال کا تجر بہ ہے‘‘۔
’’اس لیے کہ مایوسی کفر ہے‘‘۔
جاتے ہو ئے تینوں نے اسے تاکید کی کہ مسز خورشید کے پاس ضرور جائے اور ان سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرے۔کچھ دیر کمرے کی تنہائی میں آہیں بھر نے کے بعد وہ سو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید سونے کی خواہش میں کروٹیں لے کر وہ جاگ اٹھا۔ کمرے کی تاریکی سے اس نے وقت کا اندازہ لگا نے کی کوشش کی۔ جب اس نے بتی جلا کر وقت کو چپ چاپ دھکیلتے گھڑیال پر نگا ہ ڈالی تو بڑبڑایا ’’ اوہ چار بج گئے‘‘۔

آئینے کے سامنے سر کے بچے کچھے بال سنوار تے ہو ئے اسے دو بار ہ کالا کو لا یاد آگیا۔ اب وقت گزر چکا تھا۔ رنگائی کا یہ کام اسے اگلی فرصت تک ملتوی کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی اس کے ذہن میں تھا کہ بالوں کی حقیقی رنگت کی رونمائی مسز خورشید والے معاملے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
لیکن افسوس کر نے کی گھڑیاں بیت گئی تھیں اور ملاقات کو ٹالنا بھی ممکن نہ تھا۔

چند روز پہلے وہ ناٹے قد کی بد طینت خاتون اپنے دو ٹوک فیصلے سے آگاہ کر گئی تھی، وہ کچھ مہینوں سے اس کے بارے میں کئی اشارے دے چکی تھی۔ انہوں نے پرانی عادت جان کر جنہیں کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ وہ اپنے بیٹوں سے بہت خفا تھا کہ چھوٹی موٹی گتھیوں کو خود کیوں نہیں سلجھا تے۔
کپڑے بدل کر وہ بر آمدے میں آیا تو اس کی بیوی جاء نماز سمیٹ رہی تھی۔ ’’آپ کا آرام کا دن ختم ہو گیا یا نہیں۔ دودھ ختم ہو گیا ہے اور مسز خورشید کے ہاں بھی جانا ہے۔‘‘اس کی بیوی نے دل کی بھڑاس دو تین جملوں میں ہی نکال لی تھی۔

گر چہ وہ گھر کے سونے پن کی عادی ہو گئی تھی۔ لیکن آج اس کی موجودگی میں بھی اسے یہ صعوبت سہنا پڑی تھی۔ وہ اپنی مصروفیت کے دوران بار بار کمرے میں جھانکتی رہی تھی۔ ہر مرتبہ وہ گہری نیند میں ڈوبا نظر آیا تھا۔ وہ باتیں کر نے کی تمنا ئی تھی۔ گھر کی صفائی کے بعد اس کا غصہ بے قابو ہو نے لگا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ جھاڑو کے ساتھ اس نکمے پر پل پڑے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس خیال کی بیہودگی پر خود کو کو سنے لگی تھی۔ اس نے جن کاموں کی فہرست بنائی تھی، کچھ ادھورے رہ گئے تھے۔ آج گھر کی خاموش چیزوں کے درمیان اپنے جبڑوں کی آوازیں سنتے ہو ئے اس نے دو پہر کا کھانا کھا یا تھا۔

دودھ کے لیے پیسے مانگتے ہو ئے اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تھا، رو پے گنتے ہو ئے اس نے سگریٹ کے لیے بھی رقم کا تقاضہ کیا تھا، جو معمولی سی حجت کے بعد دے دی گئی تھی۔
شام کی چائے کی لذت کے ساتھ دو پر لطف سگریٹ کھینچنے کے بعد وہ خود کو مسز خورشید کے پاس جانے پر آمادہ کر سکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز خورشید نے ٹیڑھی بھینگی آنکھیں مچکاتے ہوئے کینہ توز مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے ڈرائنگ روم کی اشیاء پر نگاہ دوڑائی تو کسی تبدیلی کو محسوس کرنے لگا۔

صوفے پر بیٹھے ہو ئے خوش دلی سے بولا۔’’کمرے میں کوئی چیز بدلی ہو ئی ہے‘‘۔مسز خورشیداٹھلا تے ہو ئے بولی۔’’ہاں پرانا صوفہ بیچ دیا ہے۔ ‘‘
’’میں جب بھی آتا ہوں، کوئی نہ کوئی شے بدل جا تی ہے۔مصروفیت کا بہا نہ تو چاہیے نا‘‘۔ اس کی چہکار میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
’’کرنے کے لیے میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے؟‘‘

اس نے مسز خورشید کے لہجے کی تیز ابیت کو نظر انداز کر دیا تھا، وہ اس کی وجہ بھی جانتا تھا۔ اس نے ہمیشہ پیش رفت سے گریز کیا تھا، اسی لیے وہ ان کے پیچھے پڑگئی تھی، اس کی جمالیاتی حس کے لیے مسز خورشید کو قبول کر نا ممکن نہیں تھا، اسی لیے وہ نظریں جھکا کر باتیں کر رہا تھا جب کہ وہ ٹھنک کر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی۔ اس نے سرخ پھولوں والے کپڑے پہنے ہو ئے تھے، وہ اپنی کلائیوں میں سونے کو چوڑیوں کی بجاتی، انگلیوں میں لعل و زمرد کی انگوٹھیوں کو گھماتی، اسے گھوررہی تھی۔ وہ چاہتا تو معاملہ سلجھ سکتا تھا، لیکن اس کے تخیل میں عورت کے بڑھاپے کی ایک مثالی تصویر موجود تھی۔ مسز خورشید جس سے کوئی لگا نہیں کھاتی تھی۔

اس نے بچوں کا حال احوال دریافت کیا۔ خلیج میں مقیم ا س کے شوہر کے متعلق پو چھا۔

اب ان کے بیچ خاموشی کے وقفے حائل ہونے لگے تھے۔ ذہنی مشقت کے باوجود اسے کوئی موضوع نہیں مل رہا تھا۔ وہ اصل بات کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی خواہش تھی کہ مہمان نوازی کے تقاضے پو رے ہو جائیں۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہو اکہ مہمان نوازی بھی تبدیلی کی زد میں آگئی ہے۔ اس نے سگریٹ نکال کر سلگا لیا۔

کھنکارتے ہو ئے اس نے بات شروع کی۔ ’’کسی مہینے ناغہ نہیں کیا۔ کر ایہ برابر پہنچاتے رہے۔ ’’ جہاں پانچ سال گزر گئے۔ کچھ سال اور گزر نے دیں‘‘۔
مسز خورشید مصنوعی آہ بھر تے ہو ئے بولی ’’مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ یوں بھی وہ مکان ہمارے کسی کام کا نہیں رہا‘‘۔

’’ہمارے لیے تو ہے۔آپ کچھ عرصہ ٹھہر جاتیں، ہم ہی خریدار بن جاتے‘‘۔
’’تین سال سے آپ یہی کہہ رہے ہیں‘‘۔
جب اس کی بیوی کا مشورہ کارآمد نہیں ہو اتو اسے ناصر کی بات یاد آ گئی۔ ’’ہم کرایہ بڑھا دیتے ہیں‘‘۔
’’کرائے کی معمولی رقم سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ‘‘۔ مسز خورشید قطعیت سے بولی۔
وہ اپنے پژ مردہ چاند پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ملول نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشانی سے پسینا پونچھتا ہو اجب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی بیٹوں کی تواضع میں مصروف تھی۔ نعیم خفگی سے لائٹ ریفر یشمنٹ کا تقاضہ کر رہا تھا۔ ’’دن بھر کے تھکے ہارے لوٹتے ہیں، چائے کے ساتھ کچھ اور بھی ہو ناچاہیے‘‘۔

اس سے پہلے کہ اس کی بیوی کام کاج کی فہرست کا راگ الاپنا شروع کر تی، وہ ان کے درمیان جا بیٹھا۔ بیٹے سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگے۔ اس نے کسی بھی سوال سے پہلے ہی بتا دیا کہ مکان خالی کرنا ہو گا۔

ایک چھوڑی ہوئی عادت کو دوہراتے ہو ئے اس نے نہار منہ سگریٹ سلگا لیا۔ کش لیتے ہی اسے بے فکری کے دن یاد آ گئے۔ جب وہ آنکھ کھلتے ہی سگریٹ کا پیکٹ ڈھونڈنے لگتا تھا۔ ابلتے ہو ئے پانی کی سر سراہٹ نے اسے ماضی کے دھویں سے نکالا۔ گر چہ وہ جانتا تھا کہ کون سی شے کہاں رکھی ہے۔ لیکن ہڑبڑاہٹ میں وہ مصالحوں کے ڈبے ٹٹولنے لگا۔

اس نے جاء نماز پر لیٹی اپنی بیوی کو چائے کی پیالی پیش کی، کمرے کی مدھم تاریکی میں ہر شے سائے جیسی لگتی تھی۔ وہ کسی جلد بازی میں چائے کی لمبی سڑکیاں بھرنے لگا۔جب اس نے اپنی بیوی کو سر جھکائے خاموشی سے چائے پیتے دیکھا تو نہ جانے کیوں دل مسوس کے رہ گیا۔ وہ کرتا پہن کر گھر سے نکل آیا۔ وہ اخبار خریدنا چاہتا تھا۔ گلی میں کندھے ہلا کر چلتے ہوئے اخبار کا تصور اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کر رہا تھا۔ آج اس نے نیوز اسٹال کی بھیڑ میں شامل ہو کر سرخیاں پڑھیں۔ اخبار خریدتے ہی اندرونی صفحوں کو کھول کر ایک فہرست کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور جسم میں حرارت دوڑ گئی۔ اخبار بغل میں دبائے وہ ایک ہوٹل میں جا بیٹھا۔

طمطراق سے چائے کا آرڈر دے کر اس نے وہی فہرست نکال لی۔ جیبیں ٹٹولتے ہوئے اسے کسی شے کی گم شدگی کا احساس ہوا۔ پہلے والی مسرت مٹ گئی۔ اس غارت گری سے نجات پانے کے لیے اس نے خبروں میں پناہ ڈھونڈی مگر توجہ منتشر تھی۔

جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی باورچی خانے میں مصروف تھی۔ اس نے کمرے کی بتی جلائی۔ پھر کچھ سوچنے لگا۔ وہ بھول گیا تھا کہ لکی نمبر والی پرچی کہاں رکھی تھی۔ اسے ہر مہینے پرچی چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔ اس نے بریف کیس کھولا۔ اس کے خانوں میں کاغذات ٹٹولتے ہو ئے پرچی مل گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے نمبروں کو غور سے پڑھا، اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا۔ نمبروں کو فہرست سے ملاتے ہوئے اس کی سانسیں پھول جاتی تھیں۔ ہند سے ناچنے لگتے تھے۔ سگریٹ پینے سے بھی صورت حال بہتر نہ ہوتی تھی۔

پہلے کی طرح آج بھی اس نے اخبار کو کھاٹ پر پٹخ دیا اور تکلیف دہ سانس بھرنے لگا۔

وہ ناشتہ کرتے ہوئے بیٹوں سے کاروباری گفتگو کر رہا تھا کہ اس کی بیوی نمبر والی پرچی کو فضا میں لہراتی اس طرح کمرے میں داخل ہوئی، جیسے گم شدہ قیمتی چیز مل گئی ہو۔ اسے اپنی بیوی پر غصہ آیا مگر خاموش رہا۔ اس نے بیٹوں کی سنجیدگی سے موڈ کا پتا چلا لیا تھا۔

لکی نمبروں کی خریداری اس کا قدیم مشغلہ تھا، وہ اچھے وقتوں میں کسی جواری کی طرح ان کا عادی ہو گیا تھا۔ اس کے گھر والے بھی اس مشغلے میں شریک ہو تے تھے۔ اس کے بیٹے تو نوٹ بک میں نمبر نوٹ کر لیتے تھے اور اسکول میں دوستوں کو فخر سے نمبروں کے بارے میں بتاتے تھے۔ جب کہ اس کی بیوی بھی نمبروں کو یاد کر تی رہتی تھی۔وہ سب لوگ پرائز بانڈ کی فہرست کی اشاعت کا انتظار کر تے تھے۔ شاید یہ ان کی اجتماعی بد نصیبی تھی کہ کبھی کوئی بڑا انعام نہیں نکلا تھا۔ ہاں ایک مرتبہ وال کلاک ضرور نکلا تھا۔

کچھ سالوں سے اس کی بیوی اور بچوں نے یہ کہتے ہوئے کہ نمبروں کی خریداری رقم کا زیاں ہے، اسے سختی اور نرمی سے منع کر دیا تھا۔ انہیں پرائز بانڈ کی خریداری پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ ایک مدت تک بڑے انعام کی اصل رقم کے پانچ گنا ہو نے کا خواب دیکھتے رہے تھے۔ جو لاکھوں میں بنتی تھی۔
خوابوں کی عدم تکمیل سے پھیلنے والے زہر نے انہیں اکسایا کہ وہ اس خطرناک عمل سے باز رکھیں، کئی بار کی روک ٹوک سے اس نے خوابوں کی خریداری کو پوشیدہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔

بیوی کے ہاتھ میں لہراتی پرچی نے اس کے خوابوں کی دنیا کو پامال کر دیا تھا۔نہ چاہتے ہو ئے بھی اس نے اپنے عہد کو دوہرایا اور حقیقت سے تعلق جوڑنے کی قسم کھائی۔ وہ جانتا تھا کہ پرچی کی طرح اس کے خواب بھی کوڑے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

شام کو اس نے اپنے دوست شفیع محمد سے ملنے کی خواہش کو محسوس کیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی گردوغبار سے اٹی سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ جہاں صبح سے شام تک پرانی کرسی پر زنگ آلود اسٹیل کی عینک لگائے اخبار پڑھتا رہتا تھا۔

شفیع محمد نے کاؤنٹر ٹیبل پر اخبار پھیلا تے ہوئے اپنے دوست کو افسردہ دیکھا۔ پھر ہوٹل کے چولہے پر جھکے آدمی کو چائے کا آرڈر دیا۔

’’سیٹھوں کا ستیا ناس ہو۔ ملک برباد کر دیا ‘‘۔

وہ اس کا اشارہ سمجھ گیا۔ اکتاہٹ سے بولا۔ ’’کیوں پریشان ہوتے ہو، تم نے برسوں سے نمبر نہیں خریدے‘‘۔
وہ پیٹ کے زور پر ہنسا۔ ’’میں عقل مند ہوں۔ اس لیے ادھار اینٹھ لیتا ہوں۔ جب نمبر نہیں لگتا تو ڈانٹ کے بھگا دیتا ہوں‘‘۔
وہ گندی پیالی میں سیاہ چائے دیکھ کربولا ’’تمہارے ہوٹل پر کبھی اچھی چائے نہیں ملتی۔ـ‘‘

وہ نو بجے تک وہاں بیٹھا رہا۔ جب شفیع محمد نے اپنے خوابوں کا ذکر چھیڑا تو اس نے بھی دل چسپی ظاہر کی۔ وہ ایک دوسرے کو یقین دلانے لگے کہ ان کی قسمت بڑ بڑاکر اٹھنے والی ہے۔ وہ دن قریب ہے۔ جب دونوں دوست ٹوپیاں پہنے، کندھوں پر تھیلے لٹکائے، ڈھیلی ڈھالی چڈیاں پہنے، دنیا کی سیر کو جائیں گے۔ملکوں ملکوں آوارہ گردی کریں گے۔ شفیع محمد بہت کڑھتا تھا کہ یہاں بڑھاپے کی زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں۔ خدا حافظ کہنے سے قبل ا س نے شفیع محمد سے کرائے کا مکان ڈھونڈنے کے لیے کہا۔

وہ جانتا تھا کہ رات نیند کو پانادشوار ہو گا۔اس نے میڈیکل اسٹور سے گولی خریدلی۔ جس کے استعمال کے باوجود دیر تک کروٹیں لیتا رہا۔ ا س کا جسم شل تھا اور سر دکھ رہا تھا۔ دروازے کی درزوں سے جھانکتی روشنی کو دیر تک گھورنے کے بعد وہ کھاٹ سے اترا۔
وہ دبے پاؤں چلتا بیٹے کے کمرے میں داخل ہوا۔ ناصر نے چونک کر کتاب بند کر دی۔
’’آج پھر نیند نہیں آ رہی ؟‘‘اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ناصر نے سوال کیا۔
’’گولی بھی کھائی ہے۔‘‘وہ سگریٹ سلگاتے ہو ئے بولا۔
’’سگریٹ زیادہ پینے لگے ہیں۔‘‘اس نے شکایت کی۔
’’سگریٹ کا نیند سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘وہ ہنستے ہو ئے بولا۔ ’’ناصر، یہ تم کون سی کتابیں پڑھتے رہتے ہو کچھ فائدہ بھی ہے۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے، تم ملازمت کرتے ہو۔ لیکن حالات بھی تمہارے سامنے ہیں۔ ادب کو چھوڑو، معاشیات پڑھو۔ کوئی فارمولا ڈھونڈو۔ کسی کتاب میں تو امیر بننے کا گرلکھا ہو گا۔ جابر بن حیان نے کیمیاگری کتابوں سے ہی سیکھی تھی‘‘۔
ناصر زیرلب مسکراتے ہو ئے بولا ’’شاید ایسا ممکن ہو ابو‘‘۔
وہ مضحکہ اڑاتے ہوئے ہنسا ’’شاید۔ ہو نہہ ہمیشہ منفی سوچتے ہو، خواہش تھی کہ تم سی ایس ایس کرو۔ ‘‘
’’لیکن تم معمولی نوکری سے مطمئن ہو گئے‘‘۔
’’آپ سو جائیں، صبح کو بھی اٹھنا ہے‘‘۔
وہ اٹھا، کچھ سوچتے ہو ئے پھر بیٹھ گیا ’’اپنی امی کو سمجھاتے کیوں نہیں‘‘۔
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘
’’کرایہ دار کو مکان چھوڑنا پڑتا ہے‘‘۔
’’ہم یہاں کے عادی ہو گئے ہیں‘‘۔
’’مجھے یہ مکان پسند نہیں۔ نہ روشنی آتی ہے نہ ہوا۔ بہت منحوس ہے۔ اکثر کوئی نہ کوئی بیمار رہتا ہے۔ اسی مکان میں ہمارے حالات بھی خراب ہو ئے۔ ‘‘وہ ٹرنکولائزر کے زیر اثر بولتاچلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گم شدہ نیند پچھلی رات اسے مل گئی۔ اسی وصال کے سبب وہ تازہ دم محسوس کر رہا تھا۔ سگریٹ پیتے ہوئے کھنکارنے کی آواز سے فرحت ٹپکتی تھی۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ مزے سے بلغم کے لچھے فرش پر اچھالتا رہا تھا۔

اس کی قوت شامہ نے کچھ محسوس کیا، وہ سمجھا کہ گلی میں کوڑا جلنے کی بو ہے۔ لیکن یہ مختلف بو تھی۔ اور نزدیک سے آرہی تھی۔ وہ پہنچاننے سے قاصر تھا، ایک وسوسے کے زیر اثر وہ باورچی خانے تک گیا۔

اس کی بیوی کا نپتے ہاتھوں سے چولہے میں تصویر یں جلا رہی تھی۔ سلیپر کی آواز سن کر اس نے آنسو پو نچھ ڈالے تھے۔ اس نے مڑکر نہیں دیکھا۔
جلتی ہو ئی تصویر کی جھلک دیکھ کر وہ فوراً بولا۔ ’’یہ تصویریں کہاں چھپار کھی تھیں؟‘‘

وہ غم سے دو ہری ہوتی ہوئی بولی۔ ’’اتفاق سے مل گئیں‘‘۔
’’ایسی چیزیں اتفاقاً نہیں مل جاتیں۔ ‘‘وہ راکھ کو مٹھی میں بھرنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ غم زدہ نفرت سے اسے دیکھتے ہو ئے بولی۔ ’’میں تمہارے جھوٹ کو سچ سمجھتی رہی‘‘۔
وہ راکھ سے ہاتھ کالے کرتا رہا۔ ’’تم جانتی ہو، سب کچھ دھواں ہو چکا ہے‘‘۔
’’تو راکھ کیوں سمیٹ رہے ہو؟ـ‘‘وہ تلخی سے بولی۔
’’دیکھو کوئی تعلق پو ری طرح ختم نہیں ہوتا۔‘‘
’’لیکن اس کی زد میں آنے والی ہر شے ختم ہو جاتی ہے‘‘۔

وہ کچھ بھی نہیں بول سکا۔ بے چارگی سے کندھے جھکائے کمرے کی طرف لوٹ گیا۔ پہلی بار اس نے بڑھاپے کے ز ہر کو ہڈیوں میں رینگتے محسوس کیا۔

لگا تار سگریٹ پیتے ہو ئے وہ کچھ بھولنا چاہتا تھا۔ اخبار پڑھتے ہو ئے اس کا ذہن سوچ رہا تھا۔ ’’سب کچھ تج کر دوسرے کنارے چلا گیا ہوتا۔ کاش، ایک زندگی اور مل جاتی۔ یہ زندگی تو دھند میں ٹامک ٹوئیاں مارتے گزر گئی، جن چیزوں پر فخر کر تا رہا وہ بے وقعت تھیں‘‘۔

آوارہ بھٹکنے کی خواہش کے باوجود وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ اس کے بیٹے بھی جاگ اٹھے تھے۔ گھر کی خاموشی آوازوں سے بھر گئی تھی، بیٹوں نے ٹیپ ریکارڈر بجا نا شروع کر دیا تھا۔ مسکرانے لگا۔ ایک طربیہ گیت گنگنا تے ہو ئے وہ متفکر تھا کہ اس کی بیوی تصویروں کے متعلق بیٹوں کو نہ بتا دے۔
کچھ دیر بعد اس کی بیوی چائے کی پیالی تھامے وارد ہوئی۔

وہ سفید جھنڈی لہرا تے ہو ئے بولا، ’’دوپہر تک چائے پلاتی رہو گی۔ ناشتہ نہیں بنا یا کیا؟‘‘
’’زبر دستی نوالے تو ٹھونسنے سے رہی۔ ‘‘وہ خفگی سے بولی اور کمرے سے نکل گئی۔

وہ چائے پیتے ہوئے دیواروں کی سفیدی سے جھانکتے سیمنٹ کو دیکھنے لگا۔ وہاں زائچے کھنچے ہوئے تھے۔ بہت سی ٹیڑھی میڑھی لکیریں۔ شاید ایک آدھ لکیر مستقبل کی خستہ حالی کی نمائندہ بھی تھی۔ وہ جسے خوش حالی کی لکیر سمجھے برسوں سے ڈھونڈرہا تھا، لیکن وہ بد نصیب لکیروں کے جنگل میں گم ہو گئی تھی۔ اس نے دیوار پر اس جگہ نگاہ دوڑائی، جہاں پہاڑیو ں کی اوٹ سے نکلتے سورج کی تصویر لگی ہو ئی تھی۔ مگر اب وہ جگہ خالی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب گلی میں سوزو کی رکنے کی گھڑ گھڑا ہٹ سنائی دی تو اس کی بیوی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ نشست چھوڑ کر دروازے کی طرف جاچکا تھا۔ اس کی بیوی نے اس لمحے اپنی برباد ی اور رسوائی کو شدت سے محسوس کیا۔

سب سے پہلے خالی پیٹی کو باہر نکالا گیا، انہوں نے فرش سے گھسٹتی ہوئی پیٹی کی دل دوز چیخیں سنیں، اس کی بیوی تلملا کر رہ گئی۔
’’وہ اسے اٹھا کیو ں نہیں لیتے ؟‘‘وہ غم زدہ لہجے میں بڑبڑائی۔

’’اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لو۔‘‘وہ بے رخی سے بولا۔
اس کی بیوی پرانی باتیں دوہرانے لگی۔ ’’یہ پیٹی شادی کے دوسرے سال خرید ی تھی۔ تمہاری تنخواہ ان دنوں اسی روپے ہو تی تھی۔ یہ بھی ہمارے ساتھ دربدر گھومتی رہی ہے۔ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہت پرانی ہو گئی ہے۔ کنڈیاں ٹوٹ گئیں، قبضے ڈھیلے پڑ گئے۔ تھوڑی سی مرمت کی ضرورت ہے۔ لیکن میرے بیٹے اس سے بیچنا چاہتے ہیں‘‘۔

’’شاید چارپھیرے اور لگ جائیں۔ ‘‘ وہ سگریٹ کا کش لگا تے ہو ئے بولا۔
’’ہاں۔‘‘وہ اسے اکیلا چھوڑ کر اٹھ گئی۔
وہ دیر تک گم صم بیٹھا رہا۔
بیوی کی چہکتی ہوئی آواز سن کر وہ کسی نیند سے جاگا۔
’’دیکھو تو، کاغذوں میں سے کتنی پرانی تصویر ملی ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ ہے۔ مجھے یاد ہے۔ وہ عید کا دن تھا۔ تم کسی دوست سے کیمر ہ مانگ لائے تھے۔ اس وقت ناصر چار سال کا تھا اور نعیم تو اسی سال پیدا ہوا تھا۔ ‘‘وہ خوشی سے کانپتی آواز میں بولتی چلی گئی۔

تصویر دیکھ کر وہ بھی ہنسنے لگا۔ اس کے بیٹے سہمے ہو ئے تھے، جب کہ وہ اپنی مردانگی پر نازاں، بیوی کے پہلو میں مسکرارہا تھا۔ وہ گزرے ہو ئے سالوں کی باتیں کر نے لگے۔

پرانی تصویر کی بازیافت نے اس کے لیے مصروفیت کا جواز پیدا کر دیا تھا۔ وہ کمرو ں کے فرش پر بکھرے کاغذ ٹٹولنے لگا۔ بے کار تلاش کے اس عمل میں بہت سے پرانے اخبارات، رسائل، دوستوں کے خطوط، عید کارڈ، پرانے شناساؤں کے وزیٹنگ کارڈ، فلمی اداکاراؤں کی نیم عریاں تصاویر اور بھی بہت کچھ اس کی نظروں سے گزر ا، وہ پسینے میں بھیگ جا نے کے باوجود کاغذ کے ہر ٹکڑے کی طرف عجیب ہوس کے ساتھ متوجہ ہوتا۔ اس نے بہت سی چیزوں کو جیبو ں میں ٹھونس لیا تھا۔

جب وہ تھکن سے چور ہو گیا تواسے بیوی کا خیال آیا۔ اسے بھی ایک پٹاری مل گئی تھی۔ وہ جس میں بہت سی چیزوں کو سینت سینت کے رکھتی جاتی تھی۔

شام سے ذرا پہلے سامان منتقل کیا جا چکا تھا۔
اس نے ناصر کو تنہاپاکر اس کے کان میں سرگو شی کی اور اسے خالی کمرے میں لے گیا۔ جیبیں ٹٹولنے کے بعد اس نے بٹوہ نکالا، اس کے ایک خانے میں مڑ ا تڑاایک روپے کا پرانا نوٹ رکھا تھا۔
اس نے وہ نوٹ ناصر کو دیتے ہو ئے کہا۔ ’’تم بھائیوں میں سب سے بڑے ہو، جو مجھے ملنا تھا مل چکا، اب تمہاری باری ہے۔ مجھے یہ نوٹ ایک اللہ والے نے دیا تھا۔ میں نے بیس سال سنبھال کے رکھا۔ اب تم رکھو۔یہ تم پر دولت کے دروازے کھول دے گا۔ اسے کبھی خرچ نہ کرنا‘‘۔

ناصر اپنے والد کی پر اسرار آواز اور دل دوز لہجے کوسنتا رہا۔
بیٹے جا چکے تھے، میاں بیوی تنہائی میں درودیوار کو گھوررہے تھے۔
وہ گرد آلود فرش پر بلغم، پھینکتے ہو ئے بولا۔ ’’ہم نئے مکان میں جارہے ہیں۔ یہ مکان منحوس تھا۔ نیا برکتوں والا ہو گا ‘‘۔
’’وہ بھی کرائے والا۔ ‘‘اس کی بیوی آنسوؤں سے بھیگی آواز میں بولی۔
وہ شام کے سر مئی اندھیر ے میں بہت سی چیزوں کا پلند ہ اٹھا ئے پرانی گلی سے رخصت ہوئے۔
Image: Dorothy Ganek

Categories
فکشن

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔

نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔

اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔

آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔

اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔

میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔

’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا
’’نہیں۔۔۔
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔

میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔

چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔

سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔

سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔

میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔

میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔

پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔

سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔
Image: Marylise Vigneau

Categories
فکشن

ہیلو مایا

للت منگوترہ
مترجم: جنید جاذب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے!

کار سے اترکر آہستہ سےاس نے کار کا دروازہ بند کیا۔ آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ وہ سامنےآگئی۔ایک ادھیڑ عمر خاتون جس کے گھنے کالے بالوں میں اب چاندی کی دھاریاں شامل ہو چکی تھیں۔وہ مسکرائی۔مسکراتے ہوئے اس کے لب ہلکے سے ایک جانب ڈھلک کر کچھ ترچھے سے ہو گئے۔ترچھے ہونٹوں کے پیچھے سے دانتوں کی سفید قطار چمکی۔اپنی یاداشت میں محفوظ یہ مسکراہٹ اس نے فوراً پہچان لی اور خود بھی مسکرادیا۔

“ہیلو مایا”
“ہیلو شیکھر”
“تم اگر مسکراتی نہیں تو میں تمھیں نہیں پہچانتا”
“تم بھی گاڑی سے اترکر سر کو یوں جھٹکا نہ دیتے جیسے بالوں سے پانی جھٹک رہے ہو تو میں بھی تمھیں نہ پہچان پاتی”

“کتنے سال ہوگئے ہوں گے”
“یہی کوئی تیس سال”
دونوں پھر ہنس دیے۔

جوانی کی یادوں کی خوشبو باہیں پھیلاتی ہوئی آس پاس بکھر گئی۔شیکھر نے سوال کیا،”کسی خاص کام سے جارہی ہو؟”
“نہیں بس ایسے ہی نکلی تھی۔ ایک مدت کےبعد یہاں آئی ہوں۔۔۔۔۔تم کدھر۔۔۔۔؟کسی کام سے جارہے ہوشاید؟”
کوشش کرنے کے باوجود شیکھر کو یاد نہیں آیا کہ وہ کس کام سے نکلاتھا۔”نہیں۔۔۔ میں ں ں فری ہوں،ایک پرندے کی طرح فری”اس نے بانہیں پھیلا دیں جیسے سچ مچ اڑنے لگا ہو۔مایا قہقہہ مار کر ہنس دی اور بولی “تو پھر چلو ہم دونوں اُڑتے ہیں۔۔۔۔ اس نیلے آسمان کی وسعتوں میں”۔

شیکھر نے سر اٹھاکر آسمان کی جانب دیکھا۔ آسمان واقعی کسی صوفی سنت کے ذہن کی طرح شفاف اور گہرا تھا۔من کو کسی انوکھی گہرائی کا احساس دلانے والا نیلا پن اس نے مدتوں بعد دیکھا تھا۔
” چلو اُڑتے ہیں۔۔۔مگر کہاں،کس طرف؟”
“کہیں بھی۔۔۔۔کسی بھی طرف چلو۔اڑنے کا لطف اڑان میں ہے کسی خاص طرف میں نہیں” مایا نے جواب دیا۔
شیکھر ہنس دیا”تو تشریف لائیے” کار کا اگلا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے کہا۔

گاڑی ملائم سیدھی سڑک پر جیسے تیررہی تھی۔ڈرائیو کرتے ہوئے شیکھر نے مسکراکر مایا کی طرف دیکھا۔وہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ مسکرا رہی تھی۔”تمھیں یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے پیار کا اظہار کیا تھا؟”
“وہ دن بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے”مایا نے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

شیکھر یادوں میں کھو گیا۔اس دن اس نے کالج میں اپنے نئے دوستوں اور کچھ ہم جماعتوں کے لئے ایک پارٹی رکھی تھی۔جب سب لوگ آگئے تو اس نے بتایا کہ دراصل اس روز اس کا جنم دن تھا۔موقعہ ملتے ہی مایا کو اکیلا پاکر وہ پاس چلا گیا۔

“تم نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا؟”شیکھر نے شرارت سے پوچھا تھا۔

“میں تو ایسے ہی چلی آئی تھی۔مجھے کیا پتہ آج تمھارا جنم دن ہے” وہ کچھ معصومیت سے بولی۔
“اب تو پتہ چل گیاہے”
“ٹھیک ہے۔تحفہ مل جائے گا”۔
اس کے بعد جب بھی وہ مایا سے ملتا پوچھ بیٹھتا”تحفہ نہیں دو گی؟” اور مایا مسکرادیتی”مجھے کیا پتہ تمھیں کیا پسند ہے”
اور یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔ ایک دن سیڑھیوں کے آخری زینے پہ کھڑی مایا نے اس کے روایتی سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے کیا معلوم تمھاری پسند کیا ہے تو وہ چپ نہ رہا
“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر

میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند” شیکھر نے بالی وڈ گانے کا سہارا لے لیاتھا۔
لیکن اتنا کہنے کے بعد وہ مایا کے چہرے پہ ابھرے تاثرات دیکھے بنا ہی فوراً پلٹا اور ایک بار بھی پیچھے دیکھےبغیر سیدھا آگے بڑھ گیا۔
اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے وہی گانا گنگنایا۔

“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر
میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند”
مایا پھر زور سے ہنس دی۔
“تمھیں مجھ سے ایسا کچھ سن کر کیسا لگا تھا؟”شیکھر نے بات چھیڑی۔

“تمھیں ایسا کچھ کہہ کر کیسا لگا تھا؟”مایا نے سوال کے جواب میں سوال داغ دیا۔شیکھر تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔پھر بولا
“ہاں یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ یہ کہنا زیادہ رومانٹک ہے کہ میں تمھیں پیار کرتا ہوں یا جسے کوئی من ہی من میں چاہتاہو اس سے یہ سننا کہ وہ تمھیں پیارکرتا ہے؟”

“مگر تم نے بتایا نہیں کہ تمھیں یہ کہہ کرکیسا لگا تھا؟”مایا نے اصرار کیا۔

“ہاں۔۔۔۔اس وقت یہ کہتے ہوئے سوائے اپنے دل کی دھک دھک کے مجھے اور کچھ خاص محسوس نہیں ہوا تھا” کچھ دیر سوچتے ہوئے وہ پھر گویا ہوا۔
“دیکھا جائے تو جب کوئی چیز واقع ہورہی ہو ٹھیک اسی لمحے تم دکھ یا سکھ کے تجربے سے نہیں گزرتے۔حال اس قدر تیزرو ہوتا ہے کہ اس کا ‘ح” بولنے میں ہی یہ بیت کر ماضی میں گھُل مِل چکا ہوتا ہے۔اتنے مختصر اور اُتاولے لمحوں میں تم کچھ بھی محسوس نہیں کرسکتے۔اس پل کی مٹھاس یا کڑواہٹ کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ یادوں کے گُچھے کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔جب میں نے تمھیں یہ کہاتھا کہ میں تمھیں چاہتا ہوں اس وقت تو وہ پل بیت چکا تھا۔ لیکن اس کےبعد دیر تک میں اپنے کہے اس فقرے کے سرور میں غرق مست ہواؤں میں اڑتا آسمان کی بلندیوں میں گھومتا رہا”۔

شیکھر نے ایک ہوٹل کے باہر کار پارک کردی۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ بالکونی میں لگی کرسیوں پر جا بیٹھے۔سامنے وسیع و عریض وادی اور اس میں مچلتا دریا،ہوا میں پھیلی نیلاہٹ بھری مخملی دھند کے اس پار پہاڑوں کی قطاریں دِکھ رہی تھیں۔شیکھر کے آرڈر پر گرما گرم کافی کے ساتھ چکن پیٹیز اور مایا کے پسندیدہ کرارے کرارے ساگ پکوڑے آ گئے تھے۔

شیکھر نے ایک طرف کھڑے لمبے قد کے گورے چٹے ویٹر کو پاس بلایا،” یار آج تو مزہ ہی اور ہے۔شیف بدل گیا یا ریسیپیز نئی ٹرائی کررہے ہو؟”
ویٹر،جس کا چہرہ مانو مسکرانے کے لئے ہی بنا تھا مسکراتے بولا،” نہیں سر،ایسا کچھ نہیں۔شیف بھی وہی ہے اور رسیپیز بھی وہی پرانی۔سب کچھ روز کی طرح کا ہی ہے سر”۔

مایا کی طرف دیکھتے ہوئے ویٹر کی مسکراہٹ مزید نکھر گئی جسے چہرے پر سجائے وہ اندر چلا گیا۔
میز پر ٹکے مایا کے ہاتھوں پر نرمی سے اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے شیکھر نے پوچھا،”مایا تم بھی تو بتاؤ جب میں نے تمھیں کہا تھا کہ تم مجھے پسند ہو تو تمھیں کیسا لگا تھا؟”

مایا دھند کی چادر میں لپٹی وادی کو نہارتے ہوئے بولی،”یہ بتانے کے لئے کہ مجھے کیسالگا تھاالفاظ کم پڑ جائیں گے۔پر تمھیں یاد ہے جب تم نے یہ بات کہی تھی تب میں اپنے گھر کے دروازے کی پہلی سیڑھی پہ کھڑی تھی۔مگر سچ بتاؤں تو جب تم نے ایک بار اکیلے میں مجھ سے پوچھا تھا کہ مجھے کیسا انسان پسند ہے میں تبھی سمجھ گئی تھی کہ تم ایسا ہی کچھ کہنے والے ہو۔بلکہ اندر اندر سے تو میں اس کی منتظر بھی تھی۔اصل میں تم نے چاہے منہ سے نہیں بولا تھا لیکن تمھارا چہرہ،تمھاری آنکھیں اور تمھارا سارا وجود یہ سب پہلے ہی کہہ چکا تھا۔اوراس دن جب تم نے یہ کہا تھا، تو کہتے ہی جھٹ سے مڑ کر واپس چل دئے تھے۔میں کچھ دیر جوں کی توں کھڑی تمھیں جاتے دیکھتی رہی اورپھر اندر چلی گئی۔مجھے لگا تھاجیسے ہمارے گھر میں نئی سفیدی کی گئی ہو، جیسے گملوں میں رکھے پودوں کے پتے زیادہ ہرے اور تروتازہ ہوگئے ہوں اور پھولوں کے رنگ اور بھی گہرے ہو چلے ہوں۔میں نے محسوس کیاتھا جیسے وِوِدھ بھارتی کی بورنگ ٹیون اصل میں کتنی میٹھی اور سریلی ہے۔مجھے لگاتھا جیسے برتن مانجھتی کام والی باہگڑی لڑکی کی آنکھیں کتنی سندر اور چمک دار ہیں۔مجھے لگا کہ یہ زندگی کتنی حسین اور جینے لائق ہے۔

مایا نے چہرہ شیکھر کی طرف گھمایا اور اپنا دوسراہاتھ بھی اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں نہائی مایا کی چمکیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شیکھر بولا،”جب تمھارے دل میں کسی کی محبت کاغنچہ پھوٹتا ہے تو اس کے توسط سے دراصل تم کائنات کے حسن کو اس کی آخری حدوں تک دیکھ اور محسوس کرنے کی اہلیت اور صلاحیت پا لیتے ہو۔میں نے بھی یہ محسوس کیا کہ تمھیں پیار کرنے کے بعد میں اپنی جان پہچان کے ہرانسان سے محبت کرنے لگا ہوں”

شیکھر نے کافی کا گھونٹ بھرا۔کسی پرانی یاد پہ وہ بے ساختہ ہنس دیا۔ہلکے سے مایا کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا،”مایا تمھیں وہ یاد ہے ایک بار جب آدھی رات کو ہم چور کو ڈھونڈھنے نکلے تھے؟”
”کون سااااا۔۔۔۔؟” مایا نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”ارے وہی جب آدھی رات کو تمھارے آنگن میں ہوئی کھڑکھڑاہٹ سن کر تمھارے پڑوسی کے نوکر نے ہلہ مچا دیا تھا کہ تمھارے گھر میں چور گھس آیا ہے۔اور پھر سارے پڑوسی،جن میں میں بھی شامل تھا، ہاتھوں میں ٹارچیں لئے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ چور کو ڈھونڈھتے رہے۔چور خاک ملنا تھا۔وہ آواز تو مجھی سے ہوئی تھی،تمھارے کمرے کی کھڑکی سے کودتے ہوئے ” وہ زور سے ہنسا اور محلے والوں نے تو چوری کی واردات سے بچنے کے لئے محلہ چوکسی کمیٹی تک بناڈالی تھی۔کچھ یاد آیا؟”

مایا مسکرائی،”تمھیں کچھ دھوکہ ہورہا ہے۔نہ مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد ہے اور نہ ہی تمھارا گھرہمارے پڑوس میں تھا”۔
”ارے نہیں تم بھول گئی ہو۔تم لوگوں نے خود اپنا گھر بدلا تھا اور ہمارے پڑوس میں آکر کرائے پر رہنے لگے تھے”
”کوئی اور آیاہوگا۔۔۔”مایا ہنس دی۔”ہم نے تو کبھی اپنا مکان نہیں بدلا”
شیکھر ایک قہقہ ہوا میں بکھیر دیا۔

”مایا تمھاری مذاق کی عادت اب تک گئی نہیں”۔
مایا مسکراتی رہی۔اسے اس طرح مسکراتا دیکھ کر شیکھر بول پڑا،”اب یہ نہیں بولنا کہ تمھیں وہ بھی یاد نہیں جب میں تمھارا ہاتھ مانگنے تمھارے پاپا کے پاس آیا تھا”

مایا کی مسکراہٹ میں شرارت سی شامل ہو گئی ”او کے۔۔۔تم بتاؤ پھرکیا ہواتھا۔ممکن ہے مجھے بھی یاد آ جائے”اس نے اتساہ سے شیکھر کی اور دیکھا۔شیکھر پہلے تو قہقہے مار مار ہنستا رہا پھر شرارت بھری نظروں سے مایا کو دیکھ کرگویا ہوا،” ان سے بات کرنے کی ہمت مجھ میں تھی نہیں۔میرے دوستوں، جوشی اور سلاتھیا،نے ایک راستہ نکالا۔تمھاری گلی کے باہر بازار میں ایک وائن شاپ ہوا کرتی تھی۔وہ مجھے وہاں لے گئے اور وہسکی کا ایک گلاس میرے حلق سے اتار کر مجھے تمھارے گھر کی طرف دھکیل دیا۔لیکن راستے میں میں پھر حوصلہ ہارگیا۔انھوں ایک اور پیگ پلایا اور پھرتمھارے گھر کی طرف موڑ دیا۔لیکن وہ بھی کام نہ آیا۔اس طرح تمھارے گھر پہنچنے سے پہلے میں سات پیگ اندر کرگیا تب جاکر کہیں تمھارے گھر تک پہنچ پایا۔لیکن اس حالت میں میں تمھارے اور تمھارے ہمسائے گھر کو پہچاننے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔سچ پوچھو تو اب ذہن ہی کام نہیں کررہاتھا۔بڑی ابتر حالت میں کسی طرح میں نے تمھارے گھر کی ڈور بیل پر ہاتھ رکھا۔تمھارے پاپ نے دروازہ کھولا۔انھیں سامنے پاکر،منصوبے کے مطابق، میں فوراً ان کے پاؤں چھونے کے لئے جھکا۔تمھارے پاپا نے مجھے اوپر اٹھانے کی کوشش کی لیکن میں تو نشے میں دھت تھا”شیکھر پھر ہنس دیا۔ مایا بھی ہنس دی۔

”مجھے آج تک پتہ نہیں کہ اس کے بعد تم پر کیا بیتی”
”مجھ پہ کیا بیتنی تھی”،مایا مسکرائی،”تمھیں دھوکا ہورہاہے۔تم کبھی اس طرح میرے گھر نہیں آئے۔اور ہاں میرے گھر کے آس پاس کہیں کوئی بار نہیں ہے”
”یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تمھارے گھر نہیں آیاتھا؟” اس کا جوش ایک دم سے کچھ سرد پڑ گیا
موقعے کا مزہ لیتے ہوئے مایا ہنسی۔پھر بولی،”تم ضرور کسی اور کے گھر گئے ہوگے۔جس حالت میں تم تھے،تمھیں کیا ہوش کس کے پاپا کے پاؤں چھو رہے ہو”
شیکھر کے چہرے پر ہنسی کی جگہ حیرانی امڈ آئی۔
”اچھا کیا تمھیں وہ یاد ہے جب گوا میں تم نے بے ہوش ہو جانے کا ناٹک کیا تھا اور میں نے منہ سے منہ لگا کر تمھاری سانسیں بحال کی تھیں؟”۔
”نہیں مجھے یاد نہیں” مایا کا جواب تھا۔
”اور جب میں نے سینڈ وچ میں لپیٹ کر تمھیں خط دیا تھا جسے تم کھا گئی تھیں؟”
”نہیں”
”مایا تم سچ کہہ رہی ہو۔ سچ مچ تمھیں کچھ بھی یاد نہیں؟”شیکھر نےتعجب سے سوال کیا
”یہ میری یاد کا مسئلہ نہیں۔اس طرح کی کوئی بات کبھی میرے ساتھ نہیں ہوئی۔یہ سب ممکن ہے کسی اور لڑکی یا لڑکیوں کے ساتھ ہوا ہو۔مجھے کیسے یاد ہو گا؟”

شیکھر کی حیرانی تیزی سے بے چینی میں بدل رہی تھی۔
”لیکن شیکھر !کیا تم یہ سب سچ کہہ رہے تھے” مایا شیکھر کی الجھن صاف محسوس کرہی تھی۔
شیکھر نے اثبات میں سرہلایا،”یقیناًً”
”اگر تمھیں اتنا سب کچھ یاد ہے تو پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی دوسرے کو بھی کچھ یاد ہے یا نہیں۔تم اپنی یاد کے ساتھ جیو۔اگر یہ واقعی تمھاری یادداشت کا جز ہے تو یہی سچائی ہے۔تم بے فکر رہو”

شیکھر کو لگا مایا صحیح کہہ رہی ہے۔اس نے ایک نظر سامنے پھیلی وادی پرڈالی اور ایک گہری سانس بھرتے ہوئے گھاٹی کی ہوا کو محسوس کیا۔پھر بولا،”واہ کیا نظارہ ہے”

”تم روز یہاں آتے ہو؟”
”نہیں”
”کیوں نہیں آتے؟”مایا نے تعجب سے پوچھا
”دوسرے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں”
مایا نے مزید حیرانی سے سوال کیا،” اس وادی کی بے پناہ خوب صورتی کا لطف لینے سے زیادہ اہم بھی کوئی کام ہو سکتاہے؟”
شیکھر کچھ حیرانی سے بولا،”شاید نہیں”
تھوڑے توقف کے بعد مایا نے کہا”ہمیں چھت پر جا کر اس کا نظارہ کرنا چاہیے۔نہیں؟”
شیکھر نے مسکراتے ہوئے ویٹر کو بلا کر چھت پر جانے کا راستہ پوچھا
” یہاں دیکھئے۔۔۔۔یہ آپ کے سامنے۔۔۔یہ سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں” ویٹر نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیشنل تابعداری کے ساتھ کہا۔ رنگ برنگی ریشمی رسیوں سے بنی سیڑھی ٹھیک ان کے سامنے لٹک رہی تھی۔شیکھر کی حیرت کو بھانپتے ہوئے ویٹر نے کہا،”یہ خاص طور سے ان مہمانوں کےلئے بنائی گئی ہیں جو چھت پرسےوادی کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں”

دونوں اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھے اور چھت پر جانے والی سیڑھی کی طرف بڑھ گئے۔مایا آگے اور اس کے پیچھے شیکھر۔وہ سیڑھی کو پکڑ کر اوپر چڑھنے لگی۔اس نے ابھی تین چار سیڑھیاں ہی چڑھی ہوں گی کہ ریشمی رسی پر سے اس کے ہاتھ پھسل گئے۔ چشم زدن میں سیڑھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔مایا نیچے گر گئی۔مگر یہ کیا ؟وہ نیچے گرنے کے بجائے ہوا میں تیرتی ہوئی وادی کی طرف جیسے اڑنے لگی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کسی پرندے کی طرح اڑتی ہوئی وادی کے اوپر پھیلتی دھند میں روپوش ہوگئی۔شیکھر بس دیکھتا رہ گیا۔

شیکھر کو جھٹکا سا لگا۔ پاس سے بھاگتی ہوئی گاڑی کے تیز ہارن نے اسے واپس موڑا۔وہ ابھی اپنی کار کے ساتھ کھڑاتھا۔اس نے ابھی کار کا دروازہ بند کیا تھا بلکہ ایک ہاتھ ابھی بھی ہینڈل پہ ٹکا تھا۔ اسی جانی پہچانی مسکراہٹ کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر عورت اس کی طرف آ رہی تھی۔

اس نے بڑھ کر کہا، ”ہیلو مایا”
‘ہیں ں ں ں؟” خاتون حیرت سے تکنے لگی۔
شیکھر تھوڑا جھجک گیا۔پھر مخاطب ہوا،”آ اآپ مایا ہیں نا؟”
”جی نہیں”
شیکھر نے عادتاً اپنا سر جھٹکا، لیکن خاتون نے، ”ہیلو شیکھر” نہیں کہا۔اس کی آنکھوں میں جان پہچان کی کوئی چمک نہیں کوندی۔

Categories
فکشن

جیرے کالے کا دکھ

یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اُس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اُس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھا وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟

وہ کلاس میں چھپ کر ایک کونے میں بیٹھتا کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے، کلاس کے بچے اُسے’’ جیرا کالا‘‘ کہہ کربلاتے تھے۔اُس کی خواہش تھی کہ کوئی اُسے اُس کے اصل نام سے بھی پکارے لیکن ایسا کبھی نہ ہوتا۔ رجسٹر حاضری میں اُس کا نام ظہیر درج تھا لیکن جب اُستاد حاضری لگاتے ہوئے اُس کے نام پر پہنچتا تو کہتا ’’ او جیریا او کالیا اَج آیا ہیں کہ نئیں ‘‘ ساری کلا س ہنستی اور وہ تقریباً روتے ہوئے کہتا
’’ حاضر جناب‘‘

وہ چہرے کا داغ اِس لیے بھی مٹانا چاہتا تھا کہ کہ اِس داغ کی وجہ سے اُسے بہت شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی۔
ایک بار نلکے پر سب لڑکے منہ لگا کرپانی پی رہے تھے سو جب اِس کی باری آئی تو لڑکے ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ اب اِس نلکے سے پانی نہیں پیناکیونکہ پھر تو ہمارے چہرے پہ بھی کالے داغ بن جائیں گے۔

جب وہ اٹھارہ سال کا ہوا تو شناختی کارڈ بنوانے گیا، جب وہ فارم پُر کررہا تھا تو وہاں موجود کلرک نے کہا ’’بھئی تمہارا تو بڑا فائدہ ہوگیا ہے شناختی علامت تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ دور ہی سے دکھائی دیتی ہے‘‘ کلرک یہ کہہ کر ہنسنے لگااور یہ دکھی دل کے ساتھ گھر آگیا۔
وہ ہمیشہ دکھی دل کے ساتھ واپس آجاتا تھا وہ احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ڈرتا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

وہ راتوں کو روتا رہتا تھا کہ لوگ اِس کو ایک داغ کی وجہ سے جینے کیوں نہیں دے رہے۔اُس کو جو کوئی جو بھی ٹوٹکا، کریم،پاؤڈر بتا تا تووہ ضرور لگاتا لیکن داغ تھا کہ جوں کا توں تھا۔

وہ اب بڑا ہوگیا تھا فیس بک پر اُس نے پروفائل بھی بنا لی تھی جس میں چہرے کا ایک رُخ دکھائی دیتا تھا مکمل چہرہ دکھانے سے اُسے ڈرلگتا تھاوہ اپنی اُس تصویر پر سب لوگوں کے کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا تھا کیوں کہ لوگ لکھتے تھے کہ’’ تم نے اصل حُسن تو چھپا رکھا ہے‘‘کوئی لکھتا ’’بھئی چہرے کے دوسری طرف کیا ہے؟ ‘‘وہ ایسی باتیں پڑھ کرڈرجاتا اور کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا۔

اِس سے پہلے کی ساری کہانی ایک ڈرے ہوئے لڑکے کی کہانی ہے جو ساری دنیا سے اپنا چہرہ چھپائے پھرتا تھا۔

اُس کی زندگی کی کہانی وہاں ایک نیاموڑ لیتی ہے جب اُسے محبت ہوجاتی ہے وہ سارا سارا دن اُس لڑکی کی گلی میں چہرے کے ایک طرف ہاتھ رکھ کر کھڑا رہتا ہے لیکن اُس کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اظہارِمحبت کر سکے یا چہرے سے ہاتھ ہٹاسکے۔ سو وہ روز خود کو کوستا رہتاتھا۔وہ اُن دنوں روز اُسے خط لکھتا، جیب میں رکھتا اور اُس کی گلی میں جاکر کھڑا ہوجاتا، شام کو وہی خط خود پڑھتا اگلے روز ایک نیا خط جیب میں ہوتااُسے اپنے داغ سے ڈرلگتا کہ جب وہ ہاتھ ہٹائے گا اور وہ اِس کا چہرہ دیکھی گی تو کیا سوچے گی۔ایک خط میں اُس نے اپنے بچوں کے ناموں کے بارے بھی لکھا تھالیکن بعد میں یہ سوچ کر مٹادیا کہ اگر وہ بھی میری طرح داغ دار چہرے کے ساتھ پیدا ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟ وہ یہ سوچ کر ہی ڈر گیا۔

پھر ایک دن اُس نے ارادہ باندھ لیا کہ وہ ضرور اُسے بتائے گا کہ اُسے اُس سے محبت ہے ایسی جیسی فلموں میں ہیرو کو ہوتی ہے، وہ کالج سے واپس آرہی تھی کہ اِس نے اُسے روک کر کہاسنیے آپ سے ایک بات کرنی ہے وہ مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے۔

لڑکی نے اُس کے چہرے پہ تھوک دیااور کہا کہ ’’ایسی شکل سے بھلا کسے محبت ہوسکتی ہے؟‘‘
اُس نے چہرے سے تھوک صاف کی اور روتے ہوئے کہا ’’ مجھے سچ میں آپ سے محبت ہے میں آپ کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں ‘‘
’’تم جیسے روتے ہوئے لڑکے بھلا کیا کرسکتے ہیں ‘‘ لڑکی نے جواب دیا
’’میںآپ کے لیے کسی کو قتل بھی سکتاہوں ‘‘معلوم نہیں اُس نے ایسا کیا سوچ کر کہا تھا۔
لڑکی اُسے ٹشو پیپر دے کر گھر میں داخل ہوگئی۔

وہ بے انتہا دکھی ہوگیا،ساری ساری رات جاگتا رہتا پھر اُس نے فیصلہ کر لیا حالانکہ وہ ایک ڈرا ہوا لڑکا تھاوہ پستول لے کے وہاں پہنچ گیا، وہ بس ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا بہادر ہے۔ اُس لڑکی کے گھر کے دروازے کے عین سامنے کھڑا ہوگیا اور پستول نکال کر اُس کی صفائی کرنے لگ گیا۔لڑکی نے کھڑکی سے اُسے دیکھااور پولیس کو فون کردیا، پولیس والے اِسے پکڑ کرتھانے لے گئے اور اُسے خوب ماراپیٹا۔ تھانے میں ایک ہفتہ رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس آیا تو اُس کے باپ نے اُسے گھر سے نکال دیا کہ وہ عزت دارلوگ ہیں جس طرح اُس کا چہرہ کالا ہے ویسے ہی اُس کے کرتوت بھی کالے ہیں سو انہوں نے اُسے عاق کردیا، اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے باپ سے کہا تھا کہ’’ میری بات سنیں دیکھیں میں بے قصور ہوں ‘‘
’’ اچھا تو بے قصور لوگ محلے کی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں اور ہفتہ ہفتہ جیل کاٹ کرآتے ہیں؟‘‘
’’سب کچھ غلط فہمی سے ہوامیں آپ کو پوری بات تفصیل سے بتاتا ہوں ‘‘
لیکن بات کی تفصیلات سننے کا کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔

وہ گھر سے نکل گیا، سارا سارا د ن گلیوں میں آوارہ پھرا کرتا،پھر خواجہ سراؤں کے ساتھ بھیک مانگنے لگا، خواجہ سرا جہاں کہیں ناچنے جاتے تو وہ اُن کے سامان کا خیا ل رکھتا تھا۔عرصہ ہوا اُس نے چہرہ دیکھنا چھوڑدیا تھاکہ اب اُسے یقین ہوگیا تھا کہ داغ جوں کا توں ہوگا۔

گرمیوں کی راتوں میں جب وہ چھت پر لیٹتا تو اُس کی سوچوں کا رُخ ماضی کی جانب مُڑ جاتا،وہ اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں کو یاد کرتا اور سوچتا کہ کیا وہ بھی اُسے ایسے ہی یاد کرتے ہوں گے، گھر کے پچھواڑے بنے باغیچے میں کھلے پھول کیسے ہوں گے وہ جب وہاں تھا تو روز ان پودوں کو پانی دیتا تھا، تو اب انہیں کون پانی دیتا ہوگا کیا وہ سب پودے سوکھ گئے ہوں گے؟ انہوں نے گھر میں جو مرغیاں پال رکھی تھیں وہ کیسی ہوں گی، وہ سوچتا کہ کیا پودے اور جانور بھی انسان کی کمی محسوس کرتے ہوں گے؟ اُس کا دل کہتا کہ شاید ہاں۔

پھر اُسے وہ لڑکی یاد آجاتی کہ جس کی محبت میں وہ اُسے خط لکھا کرتا تھا جو کبھی اُس تک نہ پہنچ سکے تو کیا اُس لڑکی کے دماغ کے کسی نکڑ پرجیرے کالے کی سوچ بھی ابھرتی ہوگی؟ اُس کا دل کہتا تھا،شاید نہیں۔اور وہ آنکھوں سے پھوٹتے چشمے کے آگے بندھ باندھ کر سو جاتا۔

پھر کافی سال بعد اُس نے اپنے گھر باپ کو ایک خط لکھا جس میں اُس واقعہ کی تفصیلات لکھی تھیں اور اب اپنے دگرگوں حالات بھی لکھے، اُس کا خیال تھا کہ اتنے سالوں بعد یقیناًاُس کا باپ اُس کی بات سمجھے گا اور واپس بلا لے گاآخر وہ کب تک خواجہ سراوں کے ساتھ رہتا رہے گا۔

اُس تفصیلی خط کے جواب میں کئی رو ز بعد ایک مختصر سا خط آیا تھاجس میں لکھا تھا’’ تو تم ابھی زندہ ہو؟ ابھی خاندان کے نام کو کالک لگانے میں یہ کسر رہتی تھی کہ خواجہ سرا بن گئے ہو؟‘‘

وہ ساری رات چھت پر منہ پر چادر ڈالے روتا رہا تھااُس رات کے بعد جیرے نے سوچنا چھوڑ دیا اور خود کو وقت کے دھارے میں بہنے کے لیے آزاد چھوڑدیا۔
خواجہ سراؤں کے ساتھ رہ رہ کر اُس کی چال ڈھال میں فرق آگیا تھاوہ خود کواب خواجہ سرا ہی سمجھنے لگا تھااُسے ایک بات کی خوشی ہوتی کہ خواجہ سرا اُس سے اُس کے داغ کے حوالے سے کوئی بات نہ کرتے اور وہ جیرے کو صرف جیرا کہتے۔ کئی سال بعد اب اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ اب وہ بھی ناچے گااتنا ناچے گا کہ اگر وہ سوچنا بھی چاہے تو اُسے ماضی یاد نہ آئے۔

اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب جس بھی فنکشن میں جانا ہوا تووہ بھی وہاں ناچے گا۔

آج گُرو نے اُسے بلایا اور کہا جیرے سامان پیک کرودوسرے شہرمیں فنکشن ہے، اُس نے کہا جی اچھاابھی سامان لاتاہوں وہ واپسی کے لیے مُڑاتو گُرو کے ساتھ بیٹھے خواجہ سرا نے کہا ’’ ہائے ہائے بیچارہ چہرے پہ داغ نہ ہوتا تو یہ بھی اچھا خواجہ سرا بن سکتا تھا‘‘ جیرے کالے نے گھبرا کر اپنا ہاتھ دائیں گال پررکھ لیا۔۔۔
Image: VERONIQUE PIASER-MOYEN

Categories
نان فکشن

گل ارباب کے افسانے “داستانِ ہجرت” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

افسانے کی طرف بڑھنے سے پہلے گل ارباب کے بارے چند باتیں اس افسانے سے پہلے بھی گل کی ایک دو تحاریر پڑھ چکا ہوں لیکن مذکورہ افسانہ پڑھنے کے بعد یہ کہنے میں مجھے بالکل بھی تردد نہیں کہ ڈائجسٹ کی سطح کی کہانی کار سے ایک بھرپور افسانہ نگار کی سطح کی جست یوں لگاتے میں نے پہلے کسی کو نہیں دیکھا یہ افسانہ پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے گل رات میں سوئی ہو اور فن کی دیوی آ کر اسے دستِ ہنر سے نواز گئی ہو میں یہ بات ہمیشہ کہتا ہوں کچھ تخلیقات ہوتی ہیں جو مصنف کا معیار طے کر دیتی ہیں جیسے خالدہ حسین کا “ہزار پایا” جیسے حمید شاہد کا “مرگ زار” جیسے خالد قیوم تنولی کا “دیوار ِ گریہ” جیسے خاقان ساجد کا “کباڑیہ” جیسے راشد جاورید کا “سفید دھاگہ” جیسے ہاشم خان کا “سروجنی” جیسے جاوید انور صاحب کا “برگد” جیسے فارحہ ارشد کا “زمین زادہ” جیسے فیصل سعید کا “نوحہ گر” جیسے فارس مغل کا “آخری لفظ” جیسے اسما حسن کا “شہرِ بتاں” اور جیسے گل ارباب کا “دستانِ ہجرت” یوں تو اور بھی سیکڑوں نام ہیں جو یہاں گنوا سکتا ہوں لیکن اپنی بات کی دلیل کے لیے گنوائے گئے ناموں کو ہی کافی سمجھتا ہوں ۔

بے شک گہرا مشاہدہ جب تک آپ کے لہو میں شامل ہو کر کہانی کی رگوں میں نہیں دوڑنے لگتا تب تک کہانی قاری کی رگوں میں سرائیت کر جانے کی اہلیت نہیں پاتی اور جو کہانی قاری کی رگوں میں سرائیت نہیں کرتی وہ ادب کا حصہ تو بن جاتی ہے لیکن ادب عالیہ کا حصہ نہیں بن پاتی میں نے پچھلے کچھ عرصہ میں جتنے بھی عالمی ادب سے افسانے پڑھے گل ارباب کے درج بالا افسانے کو کسی بھی طرح ان سے کم نہیں پایا یہ بے شک ایک لازوال افسانہ ہے جو مصنفہ نے جانے کس کیفیت میں جا کر لکھ دیا ہے اور اس نے مصنفہ کا معیار طے کر دیا ہے اب اس سے کم افسانہ کی مجھے تو گل سے بالکل بھی طلب نہیں اب چلتے ہیں “داستان ِ ہجرت” کی طرف

افسانے کے اختتام سے افسانے کی ابتداء کی تکنیک بہت پرانی ہے سب سے پہلے شاید مارکیز نے اسے برتا تھا اور آج تک ہر زبان کے افسانہ نگار اس تکنیک کو برت چکے ہیں اور شاہکار تخلیق کر چکے ہیں مجھے یہ تکنیک بہت پسند ہے اسے برتنا اسان نہیں کیوں کہ افسانے کا سارا تجسس اس کے اختتام میں پوشیدہ ہوتا ہے اختتام پر کہانی جا کر کھلتی ہے اور اپنا مکمل تاثر ظاہر کرتی ہے اگر کسی افسانے کو اس اختتام سے ہی شروع کیا جائے جہاں جا کر اس کا انجام ہونا ہو تو مصنف کے لیے بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ کہانی میں تجسس بنائے رکھے چاہے کہ اس نے اختتام پہلے ہی سے کھول دیا ہے اور بس یہیں کمال ِ فن کا امتحان ہوتا ہے گل نے افسانہ اس کے “بے حس” ہونے سے شروع کیا اور “بے حس” ہونے پر ختم کر دیا اور اس کے دوران کی چند ساعتوں میں پوری زندگی کا احوال کمال فنکاری سے بیان کر دیا کہ کہانی کا تجسس کہیں بھی کم نہیں ہوا قاری کہانی میں اترا اور پھر کہانی قاری میں اترتی چلی گئی یہاں تک کے قاری کی رگوں میں لہو بن کر دوڑنے لگی۔

جو جو علاقے بھی دنیا میں طویل جنگوں میں رہے ہیں وہاں بڑا ادب تخلیق ہوا ہے یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے روس افریقہ جرمنی اس کی سامنے کی مثالیں ہیں گل جن کا تعلق کے پی کے سے ہے جہاں کی ثقافت جہاں کے معروضی حالات اس علاقے سے جڑے ملک افغانستان کے اس خطے پر اثرات اور اس کی طریل خانہ جنگی سے متعلق مشاہدات ان کے براہ راست اور آنکھوں دیکھے ہیں گل نے ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کی ہے جو عین جوانی میں اپنے ملک میں خانہ جنگی کی وجہ سے جبری ہجرت پر مجبور کر دی جاتی ہے جب اس کے تتلی کی طرح آزاد اڑنے کے دن ہیں وہ ہجرت کر کے ایک دوسرے ملک میں ایک رفیوجی کیمپ کا حصہ بنا دی جاتی ہے اور بعد میں جس کا خاوند بھی وطن کے آزادی اور بقا کی جنگ میں کام آ جاتا ہے وہ تین بیٹوں کے ساتھ کیمپ میں اپنی زندگی کے سینتیس سال گزار دیتی ہے مہاجر ہونے کا لیبل سینتیس سال میں بھی اس کے ماتھے سے نہیں اترتا اس کے خوابوں کا گھر جو اپنے وطن میں خانہ جنگی کی بنا پر اجڑ گیا تھا سینتیس سال بعد بیٹے نے اس میزبان ملک میں تعمیر کیا تو بھی وہ اس کا نہ ہو سکا مہاجر 37 سال بعد بھی مہاجر رہے اور انہیں واپس جانے کا پروانہ مل گیا۔

لب لباب یہ کہ کیا ایک عام انسان جس پر یہ جنگوں کا کاروبار کرنے والے مسلط ہیں وہ انہیں یا ان کی یہ جنگیں چاہتا ہے؟ کیا اس کے لیے ملکوں کی باؤنڈریز کی کوئی اہمیت ہے؟ کیا جبراً مسلط کی گئی جنگوں سے عالمی منظر نامے میں جو بھی بدلاؤ آتے ہیں وہ عام انسانی زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں؟ کیا عام آدمی آپنے خوابوں کی جنت تلاش کرتے کرتے اس دنیا سے چلے جانے کے لیے دنیا میں آتا ہے؟ جنگ مسلط کرنے والوں نے اپنا کام کیا لیکن اس کا ہرجانہ پورے سماج کو بھرنا پڑا اس سماج کے نمائندہ انسان جب ایک اور سماج کی طرف جبراً دھکیل دیے گئے جہاں وہ سینٹیس سال اس نئے سماجی ڈھانچے کے ساتھ ایک لوتھڑے کی طرح لٹکے تو رہے لیکن اس کے وجود کا حصہ نہ بن سکے اور آخر وہاں سے ایک اور جبری ہجرت کا پروانہ پھر تھما دیا گیا یہ ہجرت در ہجر دو نسلوں کی زندگیاں کھا گئی اس کے بعد بھی کیا گارنٹی کہ جب وہ دوسری نسل واپس اپنے سماج کا حصہ بنے کے لیے لوٹے گی تو وہ دریدہ و باختہ سماج اسے قبول کرے گا یا اسے اپنا حصہ بنائے گا نہیں بنائے گا تو پھر کیا ہوگا؟

کہانی کے بین المتن جو معانوی نظام تخلیق ہوا ہے اس نے اس کلی متن کو ایک علامت بنا کر ابھارا ہے یہ متن عالمی منظر نامے میں آنے والے بدلاؤ سے ہونے والے عام انسانی جانی مالی اور سماجی نقصان پر بھی ضرب لگا رہاہے یہ خانہ جنگی اور اس کے اثرات سے پیدا ہونے والے انسانی المیہ پر بھی ضرب کاری کر رہا ہے اور یہ جنگ کا کاروبار کرنے اور جبراً انسانوں کو تہہ تیغ کیے جانے اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی بحران پر بھی کاری کی ضرب لگا رہا ہے میرے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے اس متن کی تمام تر معنیاتی کیفیات کا احاطہ ایک چھوٹے سے تاثراتی مضمون میں کر پاؤں اس پر تفصیلی گفتگو کسی اور وقت پر ٹالتا ہوں ابھی تو بس اتنا کہ مصنفہ نے جس خوبصورتی سے اس زمینی حقائق سے جڑی تخلیق کو آفاقیت کا جامہ پہنایا ہے اس کے لیے مصنفہ بے شک داد کی مستحق ہیں میں ترجمہ کرنے والوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اس فن پارے کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ضرور کریں
میں یہ پیشن گوئی بھی کرنا چاہتا ہوں کہ گل کی صورت کے پی کے کو ایک بڑی افسانہ نگار مل گئی ہے جس سے ہمیں آئندہ بھی ایسے بھرپور افسانے پڑھنے کو ملیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ “داستانِ ہجرت”
از گل ارباب پشاور

“مور بی بی۔۔ (امی جان )
مور بی بی ( امی جان )آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔اس کی زخمی سماعتوں سے ٹکراتی وہ فکر میں ڈوبی “صدائیں بہت دور سے آ رہی تھیں”۔وہ ایسی” بے حس تو کبھی نہ تھی۔ اس نے تو ساری عمر احساس کے درد سینے میں”چھپا ئے ہوئے گزار دی تھی۔۔مگر آج تو سارے احساسات اجنبی نظروں سے دور کھڑے اسے یوں گھور رہے تھے “جیسے پوچھ رہے ہوں “تم کون ہو ؟تمہارا نام کیا ہے؟ ہم۔۔تم” تو “انجان ہیں اک دوجے سے۔اور وہ سپاٹ نظروں سے انھیں صرف دیکھ پا رہی تھی ۔کچھ بھی تو اس کے “بس میں نہ تھا ” نہ ہونٹوں کے جھریوں زدہ گوشوں سے بے ساختہ چھلکتا ہوا خوشی کا اظہار۔۔ نہ ڈوبتی ابھرتی کمزور دھڑکنوں میں شور مچاتا محبت اور مامتا کا پرزور مگر لطیف جذبہ نہ “سانسوں کے” اتارچڑھاؤ میں چھپا دکھ ۔ نہ چہرے کی”جھریوں پہ سرخی کے رنگ جماتا غصہ۔۔” مور بی بی۔۔” ( امی جان ) آ نکھیں کھولو نا۔۔۔۔ شاید کوئی حس اسے واپس مل گئی تھی ۔ آواز سے اندازہ لگانا بہت مشکل” تھا “۔سب بیٹوں کی آوازیں تو ایک جیسی ہی تھیں ۔پھر بھی اسے اندازہ لگانا پڑا۔۔ “آواز تو خایستہ گل کی لگ رہی ہے۔۔۔

مگر خایستہ گل” تو سوات گیا ہوا ہے۔ پھر یہ چھوٹے چنار گل کی آواز ہوگی “وہ اپنے باپ دادا کی طرح بہادر نھیں تھا ۔ذرا سی گولی چلی اور ڈر کے چیخنے لگا۔ مور بی بی۔۔۔مور بی بی۔ دشمن آ گیا ہے۔

نہیں نہیں۔۔۔ یہ آواز تو طور گل کی ہے” تھک ہار کر خیمے کے پاس آتا ہے ” تو چیخنے لگتا ہے “مور بی بی مور بی بی۔۔تاکہ سب کو پتہ لگ جائے کہ طور گل آ گیا ہے۔

پٹھان بچہ بیوی کو بھی آواز دیتا تو “ماں کو پکارتا۔۔مور بی بی جواب نہ دیتی۔۔۔ جس کے لیے پکار ہوتی وہ سمجھ جاتی۔۔” زرسانگہ۔۔ جا تجھے بلا رہا ہے ” اور زر سانگہ” کی۔۔ نیلی آنکھوں میں حیا کے رنگ سج کر اک نیا رنگ بنا دیتے ۔” بلکل ویسا ہی رنگ ” جیسے وہ” دوپٹہ رنگتی تو۔۔پیلا اور لال رنگ ملا کر پانی کو جوش دیتی ابلتے پانی سے جب دوپٹہ ٹھنڈے پانی میں جاتا تو جو رنگ پکا ہو کرنکلتا وہ اک نیارنگ ہوتا نہ لال” اور نہ پیلا “نارنجی سا مگر اسکے گالوں پہ ہمیشہ ایک ہی رنگ ہوتا ” گلابی رنگ ۔ان لمحوں میں اسے بے اختیار طور گل کا باپ یاد آ جاتا۔۔ اور پھر وہ دن بھی۔۔۔ وہ کتنا عجیب سا دن تھا “اب اس کی ساری حسیں واپس آ چکی تھیں ۔اسے اس دن کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد آ رہی تھی۔۔روسی فوجی جنہیں وہ اپنی زبان میں گالیوں سے یاد کرتے کوئی سرخ سور کہتا۔

کوئی گیدڑ ” کوئی کتے کے نام سے یاد کرتا” یہ جانور جو ان کے گھر ان کے وطن میں گھس آئے تھے۔

سارے وطن میں دندناتے پھر رہے تھے۔۔۔عورتوں بچیوں اور بوڑھیوں کو وہ چن چن کر بے عزت کر رہے تھے۔ خایستہ گل اس کی گود میں تھا۔۔تب گاؤں میں فوجی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔”ہمیں جیسے بھی ہو” آج رات کو عورتوں اور بچوں کو سرحد پار پہنچانا ہے۔
یہ آواز اس کے بھائی خان گل کی تھی ۔ “زرمست خانہ ” تم ساری عورتوں اور بچوں کو لے کر نکلو۔

ہم مورچے سنبھالتے ہیں۔۔۔سرحد پار ہمارے بھائیوں نے ہم پہ اپنے گھر کے دروازے بند نہیں کئے۔۔ان کے دل ” ان کے وطن سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔۔”سامان کی فکر نہ کرو عزت اور “جان کی فکر کرو ۔”سب عورتوں کو یہ ہی حکم تھا۔ “وہ منمنائی ” میرا گھر ؟ میری گائے؟ سیب اور انار کے درخت؟خوبانی اور اخروٹ کے پھولوں کی یہ بھینی خوشبو؟کچے گھڑے کا یہ میٹھا پانی۔؟ میری رنگ برنگی اوڑھنیاں۔؟ میری سبز آنکھوں کے وہ سارے خواب جو میں اپنے بالوں کی مینڈھیاں گوندھتے ہوئے ان میں سجا لیتی ہوں ۔ “مجھ سے یہ سب نہیں چھوڑا جاتا ۔وہ خایستہ گل کا اخروٹ کی لکڑی سے بنا منقش پنگھوڑا “مضبوطی سے دو ہاتھوں میں پکڑے سسک رہی تھی۔زرمست خان نے دیکھا۔۔اس کے پنگھوڑے کو پکڑے ہوئے دودھیا سفید ہاتھوں کی رگیں دور سے بھی گنی جا سکتی تھیں۔۔رات کی خاموشی میں پتھروں کا سینہ چیرتے روسی فوجیوں کے بھاری بوٹوں کا اعلان۔۔۔۔ زرمست خان بھی سن رہا تھا اک ضروری اعلان سنو۔۔اپنی عزتوں کو بیچ چوراہے لے آؤ۔۔ورنہ ہم تمہاری پناہ گاہوں سے انھیں گھسیٹ لائیں گے یہ ہماری عیاشی کا سامان ہیں۔

زرمست خان نے۔۔ روتی سسکتی اس نازک سی عورت کو دکھ بھری نظروں سے دیکھا “سچ ہی تو کہہ رہی ہے “اس گھر کی ایک ایک چیز کو اپنے ہاتھوں سے بنانے اور سجانے والی یہ عورت ہی تو ہے۔

عورت کے لیے گھر ہی تو اس کی زندگی ہوتا ہے ۔”زرمست خانہ۔۔۔تم اور تقدیر کا ظالم ہاتھ دونوں مل کر اس عورت سے زندگی چھین رہے ہو اب اس کا رونا اور ماتم کرنا تو بنتا ہے ۔ “اس نے اپنی بیوی کے سر پہ اوڑھنی ٹھیک کرتے ہوئے سوچا ۔”گہرے بھورے بالوں کی مینڈھیاں اس کے شانوں پہ بکھری اتنی خوبصورت لگ رہی تھیں کہ۔۔۔زرمست خان کا جی چاہا اسے خود سے جدا نہ کرے بلکہ دل کے کسی کونے میں دشمنوں سے چھپا کر رکھ لے۔۔۔اس نے دل پہ قابو پانے کہ کوشش کی۔۔اور اس کی حسین آنکھوں میں جھانک کر بولا “میں تمہارے اور اپنے بچے کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن اب اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں ہے۔۔۔ مسلمان عورت کے لیے ہر چیز سے بڑھ کر اس کی عزت ہوتی ہے۔ اس کی جان سے بھی زیادہ قیمتی ؟ اس بات کا جواب ہاں یا ناں میں دو۔؟” جلدی کرو۔۔۔ہاں۔ہاں۔۔۔۔ “مجھے جان سے زیادہ اپنی عزت عزیز ہے “۔۔سسک سسک کر کہتے ہوئے اسے اپنی چچازاد بہن یاد آئی۔۔جس نے پچھلے ہفتے فوجیوں کے گھر میں گھستے ہی اپنے پیٹ میں خنجر گھونپ لیا تھا ایسے تیز خنجر اب ہر گھر میں رکھے جاتے تھے جو بوقت ضرورت عزت بچانے اور زندگی چھیننے کے کام آ رہے تھے چھ مہینے کے پیٹ سے تھی وہ مگر عزت بچانے کے لیے اس نے اولاد کی قربانی بھی دے دی تھی۔

اس نے اپنے پیٹ کو نرمی سے چھوا ۔اسے بی بی عائشہ بھی یاد آئی۔۔جو ساتھ والے گاؤں کے سکول ماسٹر کی بیٹی تھی۔
فوجیوں کے گھیرے سے جب نکلنے کی کوئی راہ نظر نہ آئی تو 22 سال کی زندگی سے بھرپور بی بی عائشہ نے پہاڑ سے کود کر کھائی میں پناہ لے لی تھی۔

ماسٹر صاحب کو بہادر بیٹی کی تار تار اوڑھنی نے چپکے چپکے سسکیوں اور ہچکیوں میں اس کی جواں مرگی کا نوحہ سنایا تھا۔

وہ اس رات کے آخری پہر شوہر کی معیت میں اک بڑے قافلے کے پیچھے پیچھے ایک چھوٹی سی “پوٹلی ہاتھ میں پکڑے جس میں “خایستہ گل کے کپڑے اور اس کے اپنے چند زیور تھے چل پڑی۔ اس سے پہلے گھر کی دہلیز پار کرنے لگی تو پیچھے مڑ کر اک نظر دیکھنا چاہا۔۔۔چاند کی شاید پندرہ تاریخ تھی۔۔۔چاندنی درختوں کے پتوں سے چھن چھن کر آنگن کے بیچوں بیچ پڑی رنگین پایوں والی چارپائی پہ پڑ رہی تھی۔۔ سرخ اور سبز پھولوں” کی چادر اور اسی رنگ کے دو گاؤ تکیے چارپائی کی شان بڑھا رہے تھے۔ یہاں بیٹھ کر وہ خایستہ گل کو جھولا دیتے ہوئے۔کبھی لوری سناتی۔ کبھی کوئی پشتو یا فارسی لوک گیت دھیمے سروں میں گنگناتی رہتی تھی۔۔ کبھی زرمست خان کی والہانہ نظروں کی تاب نہ لاکر اپنی گلابی گالوں پہ گھنیری پلکوں کو گراتے ہوئے شرمیلے لہجے میں کہتی ۔”خان جی ایسے تو نہ دیکھا کرو دل بے قابو ہو جاتا ہے۔”وہ نسوار کی رنگین ڈبیا کھول کر اک چٹکی بھر کے منہ میں رکھتا۔اور عاشقانہ انداز میں کہتا۔۔”تمام نشوں میں سے تیز نشہ تیری سبز آنکھوں کا ہے جان من۔”تو پھر یہ نسوار چھوڑ دو نا۔۔وہ شرارت سے کہتی۔””محبت کا مزہ تب آتا ہے جب درمیان میں اک رقیب بھی ہو۔۔یہ نسوار تو تیری رقیب ہے اس سے محبت کا مزہ دوبالا ہوتا ہے۔ “وہ بھی اسے چھیڑتا۔۔کتنی یادیں اس آنگن سے جڑیں تھیں۔ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھ سکی۔کوئی اس کے اندر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔

شہر بانو پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔

اگر پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتھر کی ہو جاؤ گی۔۔اس گھڑی قدم بھی دھڑکنوں کی طرح بے ترتیب تھے۔۔۔زرمست خان نے سمجھایا۔
بہادر بنو “سفر بہت طویل اور تھکا دینے والا ہے”۔
مگر گھر سے نکلتے وقت شہر بانو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ۔۔۔سفر اتنا طویل اور پتھریلا ہوگا۔۔راہ میں کوئی شجر سایہ دار سستانے کو نہ ملے گا بلکہ۔۔ پاؤں کے ساتھ روح پر بھی چھالے پڑجائیں گے۔

زرمست خان نے پشاور کے جلوزئی کیمپ کے اک خیمے میں اللہ کے آسرے پہ جب اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑا تو کئی راتوں تک خایستہ گل اپنے پنگھوڑے کے لیے اور وہ اپنے گھر اور شوہر کے لیے روتے تڑپتے رہے تھے۔۔تب وہ دومہینے کے پیٹ سے تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8 ماہ بعد جب دو جڑواں بچوں کو کیمپ کے اک کونے میں ٹاٹ کی دری پہ جنم دیا۔تب لالٹین کی ہلکی سی روشنی میں اس نے دیکھا۔۔۔ کہ ایک بچے کی آنکھیں بلکل اپنے باپ پہ گئی تھیں۔لوکاٹ کی گھٹلیوں جیسی گہری چمکتی ہوئی براؤن آنکھیں۔۔۔وہ ان آنکھوں کو چوم کر مسکرا دی۔

37 سال اس نے کیسے اس کیمپ میں گزارے۔ لائین میں کھڑے ہو کر امدادی راشن لینا۔۔۔اس کی انا اس کی غیرت کو کیسے کیسے گھاؤ لگاتا رہا۔۔۔ یہ صرف اس کا دل جانتا تھا۔۔۔زرمست تو مجاہد تھا۔
وطن کی خاطر اس سے کیا ہوا واپسی کا وعدہ بھی بھول گیا۔

دکھ کے لمحوں میں۔۔جو پوری عمر پہ محیط ہو گئے تھے دل سے اک ہوک سی اٹھتی۔۔واہ زرمست خانہ تم تو بے وفا نہ تھے۔۔۔پھر مجھ سے وفا کیوں نہ کی؟مجھ سے اچھی تو وطن کی مٹی تھی کہ جس کی وفادار ی میں تم نے جان لٹا دی۔۔ یہ کہہ کر گئے تھے ناں کہ۔
“شہر بانو اگلے برس تک لوٹ آوں گا تم بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔تم اک مجاہد” کی بیوی ہو۔۔۔اک بہادر افغان عورت”اونچے پہاڑوں کی بیٹی۔۔۔تمہارے حوصلے بھی پہاڑوں جیسے بلند ہونے چاہئے۔
لیکن زرمست خان۔آخر کب تک ؟
اس کی زباں جو سوال نہ کر پاتی۔

وہ اس کی سبز آنکھیں پوچھا کرتیں۔۔۔میں تب تک وطن کے لیے لڑتا رہوں گا۔جب تک ایک بھی کافر میری زمین کو پیلد کرنے کے لیے افغانستان میں موجود ہے۔۔۔

زرمست خان کی شہادت کی خبر نے اسے بہادر بنا دیا ۔”اور اس کے آس پاس بےشمار ایسی عورتیں تھیں جنھیں تقدیر نے بہت بڑی بڑی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں۔

وہ بچے اکیلی پالتی رہی۔

خایستہ گل کے بعد۔۔۔ سانولا سلونا طور گل اور اس سے 5 منٹ چھوٹا چنار گل مہاجر کیمپ میں جوان ہوئے۔ان کی پہچان اب لفظ مہاجر تھا۔۔۔محنت مزدوری سے تو صرف پیٹ ہی بھرتا تھا۔

اتنے برسوں میں فرق صرف اتنا پڑا کہ اب وہ خیمہ کچی اینٹوں کے اک چھوٹے سے مکان میں بدل گیا تھا۔ اک کمرے کا مکان جس پہ چھت گھاس پھوس اور ٹیڑھی میڑھی لکڑیوں سے ڈالی گئی تھیں۔۔

اب کچھ خیموں اور کچھ کچے مکانوں پہ مشتمل یہ کیمپ اسے اجنبی نہ لگتا وہ اس میزبان دیس کے مکینوں سے کبھی کبھی شرمندہ بھی ہو جاتی تھی۔۔ایک ہی رنگ و نسل ایک جیسا لباس اور زبان۔مگر وہ لوگ میزبان اور ہم لاکھوں بے گھر مہمان کتنا “بوجھ ڈال رکھا ہے ہم نے ان پہ ۔ اک گھر کا خواب اس کی پلکوں پہ ہر رات یوں سجتا جیسے آسمان پہ ہر شب ستارے سجتے ہیں۔ وہ بچوں کو کہانی سناتی۔ اس اچھی پری کا اک بڑا سا گھر تھا۔۔۔۔اک طرف سیب کے درختوں کا جھنڈ۔دوسری طرف خوبانی اور اخروٹ کے درخت۔

قندھاری انار کا اک اک دانہ میٹھا اور سرخ۔۔۔اور سنو ” سیبوں کا رنگ بالکل ایسا ہوتا۔۔وہ چنار گل کے سرخ گالوں پہ چٹکی کاٹ کر کہتی۔۔سیب انار اور خوبانی کے پھول ایک ہی موسم میں مہکتے اور خوشبو کے جھونکے بند جھروکوں سے رستہ ڈھونڈھتے ہوئے اچھی پری کے بستر تک آ جاتے۔۔۔اچھی پری پوچھتی کون ہے؟ تو وہ شرما کر چھپ جاتے۔

تینوں بچپن سے جوانی تک اس گھر کے اک اک گوشے سے آشنا ہو چکے تھے۔۔بیچ آنگن میں قصے سناتے پلنگ سے بھی۔۔کوئی وطن سے ہو کر آتا تو بے قراری و اشتیاق اپنی سبز آنکھوں میں سمو کر آس بھرے لہجے میں اپنے گھر کا ضرور پوچھتی۔۔”کیا اب بھی بہار کے موسم میں انار کے سرخ پھولوں سے میرا آنگن سج جاتا ہے۔؟

“کیا اب بھی خوبانی کے سفید پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو ہوا کے جھونکوں سے مل کر میرا پتہ پوچھتی ہے ؟ کیا اب بھی خزاں کے موسم میں لوکاٹ کے درخت کچے پھل سے بھر جاتے ہیں ؟ یا یہ ہی بتا دو کہ چاندنی درختوں کے پتوں سے چھن چھن کر جب میری رنگین چارپائی پہ اترتی ہے۔۔تو یہ پوچھتی ہے؟

کہ گہری سبز آنکھوں والی شہربانو اب کہاں ہے؟
جہاں بھی ہے کیا وہاں وہ بولتی ہے تو لوگ پھول چنتے ہیں۔۔ ؟
یہاں اس آنگن میں تو اس پگلی کی سبز آنکھوں کا اک رسیا تھا۔

اور جب وہ بولتی تھی تو وہ سر دھنتا رہتا تھا پھول چنتا رہتا تھا۔۔بمباری سے برباد اک کھنڈر کا نقشہ جب بھی کوئی اس کے سامنے کھینچتا۔یا جو بھی اس کے گھر سے ہو کر آتا ہولناک تباہی اور اس کے نتیجے میں گھر کی بربادی کا ذکر کرتا تو وہ اک آہ بھر کے چپ ہو جاتی۔وقت گزرتا رہا
بیٹوں کی شادیاں بھی ہو گئی تھیں۔

خایستہ گل نے قسطوں پہ ٹرک خریدا۔اللہ کے فضل اور ماں کی دعاؤں نے اس کی کمائی میں برکت ڈال دی تھی اس نے ماں کی آنکھوں میں بسے خواب کی تعبیر کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔

گھر کی تعمیر۔۔ کے لیے جب نقشہ بنانے کا وقت آیا تو ماں کا بتایا ہوا اک اک کونا نگاہوں سے کاغذ پہ اور کاغذ سے زمیں پہ بنتا رہا۔

خوبانی کے درخت۔۔سیب انار اخروٹ اور لوکاٹ لگا کر سبھی کچھ تو ویسے کا ویسا بنایا تھا خایستہ گل نے۔۔”یہاں تک کہ آنگن کے بیچوں بیچ جو رنگین پایوں والی چارپائی پڑی تھی اس پہ سجی سبز اور سرخ چادر اور گاؤ تکیوں کا ایک ایک پھول بھی اسے یاد تھا۔ وہ سب کچھ ایسا ہی بنا کر ماں کے خواب کو تعبیر کے رنگ دینا چاہتا تھا۔ برسوں بعد اک دن جلوزئی کیمپ ختم کر دیا گیا۔

تب وہ لوگ کچھ سال کرائے کے اک کچے مکان میں رہے۔جس کے آنگن میں خیمہ لگا کر اک کمرے کا اضافہ کیا اس نے۔۔پھر یوں ہوا کہ خایستہ گل کی جدوجہد رنگ لے آئی۔اور برسوں کے انتظار کے بعد وہ اپنے گھر جا رہی تھی۔
گھر جو عورت کی زندگی ہوتا ہے۔

بیٹے کے بنائے ہوئے گھر پہ پہلی نظر ڈالتے ہی اسے وہ لمحہ یاد آگیا جب زرمست خان کے گھر اس نے ڈولی سے قدم نکالا تھا۔۔
اک نئی نویلی دلہن کے ارمان اور تازگی و توانائی اسے اپنے جسم و جاں میں آج پھر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔تینوں بیٹے اور بہویں اس کے چہرے کے رنگ اور خوشی دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

وہ اپنی رنگین پایوں والی چارپائی پہ گاؤ تکئے سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہی تھی۔ ابھی تو زرمست خان کی پیار لٹاتی نظریں اسے اپنے چہرے کی بلائیں لیتی محسوس ہو رہی تھیں۔
ابھی تو اس کی پلکیں گالوں پہ سایہ فگن ہوئی تھیں

ابھی تو اس نے اخروٹ کی لکڑی کا منقش پنگھوڑا ہلانا شروع بھی نہیں کیا تھا۔۔ جس میں اب خایستہ گل کا بیٹا لیٹا ہوا تھا۔
ابھی تو اس کے ہونٹوں کے کونے لوری اور لوک گیتوں کی دھیمی سی گنگناہٹ کی طرف مائل ہو رہے تھے کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔
اور اچانک ہی پولیس کی وردی میں پانچ چھ آدمی اندر گھس آئے۔

بھاری بوٹوں کی آواز سن کے
شیربانو کا دل کانپ گیا تھا
اک خدشے نے اندر ہی اندر سر اٹھایا کچھ ہونے والا ہے۔۔
اور اس سے پہلے کہ خدشے کے ناگ کا سر وہ کچل دیتی۔
وہ لوگ اندر آ گئے تھے۔۔

حکومت پاکستان کی طرف سے پروانہ تھا، افغان مہاجرین کی جبری واپسی کا پروانہ۔جلد از جلد گھر خالی کر کے وطن واپس جاؤ ورنہ _
میزبان تھک گئے ہیں شاید مہمان داری کر کر کے ؟۔__مگر اس ملک کو میں نے اپنے 37سال دیئے ہیں۔
پوری جوانی دی ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتی تھی۔ یہ میرا وطن ہے۔۔مجھے اس سے بلکل ویسا ہی پیار ہوگیا ہے۔جیسا اپنے پہاڑوں وادیوں اور دریاؤں سے ہے۔ وہ کہنا چاہتی تھی۔۔۔ابھی تو ہم نے اسے اپنا گھر سمجھ لیا ہے۔اب ہم اپنا گھر دوبارہ کیسے چھوڑیں ؟
مگر اس کا دل ڈوبنے لگا تھا۔

وہ اندر سے بےحس ہو چکی تھی۔
ہر احساس سے عاری۔۔تینوں بیٹے ماں کو گرتے ہوئے دیکھ کر اس کی طرف بھاگے۔۔ جبکہ شہر بانو کوما میں جا چکی تھی۔۔اس گھر کی طرف محو سفر جہاں سے اسے کوئی نہ نکال سکتا۔

Categories
فکشن

گلٹی

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مصنف: فرخ ندیم

” اوئے تو تو جلدی ہی پوری عورت بن جائے گا” صادق لوہار کے بیٹے نے اچانک گلی کے کونے پہ میرا راستہ روک کر جیسے میرے سر پہ ہتھوڑے برساتے ہوئے کہا تھا ۔ اپنے بارے میں ایسی عجیب و غریب پیشین گوئی سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور حواس جاتے رہے ۔

“خدا کے لئے مجھے گھر جانے دو” میں اس حملے کی تاب نہ لا سکا اور اس کے سامنے گھگھیانے لگا۔

میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ ایک تو اس لئے کہ اماں ابا نے مجھے ڈرایا بہت ہوا تھا دوسرا میری گلی میں میرے ہم عمر لڑکے بھی کم ہی تھے۔ یا تومجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے یا اسی طرح چھوٹے۔ مجھے اپنے ہم عمر لڑکوں سے کھیلنے کے لئے محلے کی تین گلیاں چھوڑ کرجانا پڑتا۔ بچپن ہی سے مجھے یہ احساس تھا کہ میرا گورا چٹا گول مٹول چہرہ لوگوں سے زبردستی پیار کروا لیتا ہے۔ ویسے بھی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کی وجہ سے جو اہمیت مجھے ملی تھی وہ شاید گاوں کے کسی بھی لڑکے کو نہیں ملی تھی۔ اماں کو میری اس قدر فکر تھی کہ وہ ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتیں۔ اس فکر کا مجھے اُس وقت بالکل شعور نہ تھا۔ اُس وقت کی بات کر رہا ہوں جب میری عمر لگ بھگ بارہ تیرہ برس تھی۔ ہمارے گھر کی حالت گاوں کے دوسرے گھروں سے کافی بہتر تھی۔ کچھ رشتہ دار انگلینڈ امریکہ میں بھی تھے۔ جب وہ کبھی گاوں آتے تو ہمارے لئے تحفے تحائف لے کر آتے جو میں اپنے دوستوں کو دکھاتا تو وہ خوش بھی ہوتے اور خاموش بھی۔ عام طور پر سب لڑکے شلوار قمیض پہنتے ۔ مگر جس دن میں پینٹ شرٹ اور ٹی شرٹ پہن کر گھر سے نکلتا چھوٹے بڑے سبھی چمٹنے کو دوڑتے۔ میں ان لوگوں کے التفات سے کچھ زیادہ بے خبر بھی نہ تھا لیکن چونکہ بچپن میں سبھی لوگ لاڈ پیار کرتے آئے تھے اس لئے ان کے اس رویہ پہ کبھی غور کیا ہی نہیں تھا۔ جس ایک دن، صادق لوہار کے بیٹے کوڈے نے شام کے وقت ایک سنسان گلی میں روکا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کی ہیبت ناک شکل سے تو میں دن کے وقت بھی گھبرا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہر وقت تیز نوکیلے دانتوں والی درانتی مجھے سر سے پاوں تک لرزا جاتی اور میں پاس سے گزرنے سے بھی ڈرتا۔ اسی ملک الموت درانتی نے اس دن میرا راستہ روکا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے کوڈے لوہار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی نہ دیکھا تھا۔اور اب۔۔۔ اس بار درانتی کی نوک جب اچانک میرے پیٹ میں چبھی تو بے بسی میری انکھوں سے ٹپکنے لگی۔ میں نے اماں کو آواز دینا چاہی مگر میری کسی بھی آواز سے پہلے اس کا ہاتھ میری چھاتی پہ تھا۔ میں بالکل بھی نہ سمجھ سکا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے تو ڈر کے مارے آنکھیں اس لئے بند کی تھیں کہ وہ میری گردن مروڑنے لگا ہے۔ لیکن جب وہ ایکدم ہنسنے لگا تو میں نے آنکھیں کھولیں۔ “اوئے اے کی!” تو تو عورت بن گیا ہے۔ تیری چھاتی میں تو گلٹی ہے”

“گلٹی؟ عورت؟” میں نے اپنے ٹوٹے ہوئے سانسوں کو جوڑتے ہوئے خوف ملی حیرانی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔

“ہاں عورت۔ دیکھ تجھے بتاتا ہوں، سینے کے بٹن کھول تجھے ابھی دکھاتا ہوں ”

“نہیں، مجھے جانے دو، میں خود ہی دیکھ لوں گا” میں نے ڈر کے مارے تھوک نگلا اور ساری ہمت جمع کر کے اس سے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔

“اپنی قمیض کے بٹن کھولتا ہے یا ساری پسلیاں باہر نکلوائے گا” اس نے درانتی میری ایک پسلی میں اس طرح گھسائی کہ مجھے واقعی ایسے محسوس ہوا جیسے میری ساری انتڑیاں پسلیوں سے پھسلتی میرے پاوں پہ گرنے لگیں گی۔ “میں میں میں مم مم مجھے چھوڑ دو” میں نے اپنے اندر کے خوف کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میں پیچھے ہٹتا گیا اور درانتی مسلسل میری بائیں پسلی میں گھستی گئی یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو ویران گلی کی ایک کچی دیوار سے جڑتے ہوئے محسوس کیا۔ “کھال ادھیڑ دوں گا تیری، جیسے کہتا ہوں ویسے کر، ادھر سے میرے ساتھ چل”۔ خوف سے مجھ پہ کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ لوہے سے کام کرتے اس کے ہاتھ کتنے سخت تھے اس وقت مجھے اندازہ ہوا جب اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے میری چھاتی کا ماس ایسے کھینچا جیسے کوئی بھوکی شارک اپنے شکار کو تیز نوکیلے دانتوں سے جھنجھوڑتی ہے۔۔ان دنوں میں نے شارک والی فلم نئی نئی دیکھی تھی۔ مجھے نہیں علم کیوں لیکن مشہور یہی تھا کہ کوڈے لوہار کے اپنے دانت بھی درانتی کے دندوں کی طرح نوکیلے اور تیز تھے۔ صرف میں ہی نہیں گاوں کا ہر وہ بچہ اس سے ڈرتا تھا جو صاف ستھرے ماحول سے تعلق رکھتا تھا۔ شدید درد کی ایک لہر میرا سینہ چیرتی پورے جسم میں خوف بن کر دوڑنے لگی۔ اماں کہتی تھی اس نے رو رو کر خدا سے بیٹا مانگا تھا۔ بیٹا عورت بن رہا تھا۔ کوڈے لوہار نے اندھیرے میں درانتی میری پسلیوں سے نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرائی تو زندگی میں پہلی بار اندھیرا میرے وجود میں سسکارنے لگا۔”ماں خصم گریبان کھولتا ہے یا میں خود پیٹ کھولوں” وہ مجھ پہ ایسے دھاڑا کہ اس کی آواز دور تک تو نہ گئی ہوگی لیکن میری پسلیاں پھڑپھڑانے لگیں” اماں ں ں ں ں” اتنی زور سے میں نے پکارا کہ میرے وجو د سے چمٹا ہوا اژدھا بل کھولنے پہ مجبور ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے درانتی کا دستہ میری پسلی میں ٹھونکتے ہوئے بولا” بزدل زنانی ” اور درانتی چادر میں چھپاتے گلی میں غائب ہو گیا۔

بجائے اس کے کہ میں گھر کو بھاگتا، ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا، شاید اس درد کی وجہ سے جو جو میری پسلیوں اور سینے کی گلٹی میں ہو رہا تھا یا شاید کوڈے لوہار کے الفاظ کی وجہ سے جو میرے دل کے آر پار ہو رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں اس درد سے دوہرا ہوتا آس پاس دیکھنے لگا، “بزدل زنانی بزدل زنانی”اور “تیری کھال ادھیڑ دوں گا” کی ضربیں مسلسل میرے وجود پہ پڑ رہی تھیں اور میں ان سے بچنے کی کوشش میں اپنی پشت پہ کھڑی کچی دیوار کے سہارے ایک کھولی سے لگتا جا رہا تھا، یہ ایک ویران سی حویلی کی کھولی تھی جس کا مالک قربان چاچا دو تین سال پہلے مر گیا تھا، اسی جگہ جہاں میں لڑکھڑاتا کراہتا کھولی کے پاس اس وقت گر رہا تھا وہاں قربان چاچا کی بھیڑیں ممیاتی سر جوڑ کر سو جایا کرتی تھیں ۔ ابا جب بھی چھٹی پر آتے بہنوں پہ برستے جاتے، “یہ ہر وقت قربان کی بھیڑوں کی طرح سر جوڑ کر کیوں بیٹھی رہتی ہیں، نہ کام نہ کاج” ابا کو معلوم تھا یا نہیں لیکن میری بہنوں کا حال یہ تھا کہ ادھر ابا گھر میں داخل ہوئے ادھر وہ سمٹ کر ایک کونے میں دبکنے لگیں۔ اور جونہی مجھ پہ نظر پڑتی ان کا لہجہ یکسر بدل جاتا۔ ابا پولیس میں تھے۔ جب بھی اماں سے لڑتے ایک ہی بات کرتے، میرے آگے زبان چلاو گی تو مار مار کر بھیڑ بنا دوں گا، زنانی کا کیا کام ہے مرد کے سامنے نظر بھی اٹھائے ۔ پتا نہیں اماں نے زبان کبھی چلائی یا نہیں لیکن ان کو میں نے بھیڑ بنتے ضرور دیکھا تھا۔ چھ عورتیں گھر کے ایک کونے میں ایسے چھپ کر بیٹھ جاتیں جیسے قربانی کے بہت سے جانور کسی ایک ہی باڑے میں ٹھونس دیے گئے ہوں۔ اب میں اس گھر کی ساتویں عورت تھا۔ مجھے گھر جانے سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اماں کو خبر ہو ئی تو کیا سوچے گی۔ ابا تو واقعی میں کھال ادھیڑ دیں گے۔ بہنیں کیسے یہ خبر سن سکیں گی۔ وہ تو پہلے ہی گھر میں منحوس سمجھی جاتی تھیں۔ “ایک کے بعد دوسری، پوری چھ منحوس عورتیں”۔ دادی بھی ابا کی طرح یہی کہتے کہتے مر گئیں۔ مجھے آج تک کبھی بھی سمجھ نہ آ سکا کہ وہ خود کو بھی بطور عورت ان میں سے ایک ساتویں “منحوس” کیوں نہیں مانتی تھیں ۔جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

اماں تو مر جائے گی یہ دیکھ کر لیکن اس کے بعد ڈرتے ڈرتے جو میں نے ٹٹولا تو میرے پاوں سے بچی کھچی زمین بھی سرکنے لگی۔ میری چھاتیوں میں واقعی دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گلٹیاں تھیں۔ایک دو دن پہلے نہاتے وقت میں نے چھاتی پہ درد تو محسوس کیا تھا۔ اچھا تو یہ درد تھا!۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں نے سوچا کسی طرح یہ ختم ہوں، کیا کروں کیسے چھپاوں یک لخت سارا منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ اور میں چکرا کے رہ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا تو تھا۔ میں بار بار اپنی گلٹیوں کو چھوتا اور کھولی سے مزید جڑتا جاتا۔ میرے سارے وجود پہ قربان چاچا کی بھیڑیں اگ رہی تھیں جو ممیاتے ہوئے میری جلد کے ہر حصے کو چاٹ رہی تھیں۔ ایسے ہی مجھے میری ماں اور بہنیں پیار کرتیں مگر اب سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ میں جب بھی سکول سے یا دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے تھک کر گھر لوٹتا تو ساری خواتین کا جمگھٹا میرے گرد جمع ہوتا اور اتنے پیار سے مجھ سے میری بھوک پیاس کے بارے میں پوچھتیں جیسے میں ان کا پیر و مرشد ہوں۔ کئی بار ایسا محسوس ہوا جیسے میں ان کا بادشاہ ہوں اور وہ میری رعایا۔ بادشاہت کا کون سا راز میرے پاس تھا، میں اکثر اپنے آپ سے پوچھتا،لیکن وہ بادشاہت مجھ سے اب چھن رہی تھی۔ میں نے اسے اپنے وجود میں تلاش کرنا چاہا۔ شرم کے مارے ہاتھ ناف کے نچے نہ جائے۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ اپنی چھت سے، اسی لمحے، میں نے لمبی سی آواز سنی، “سوہنے ے ے ے ے” یہ میری دوسری بہن افشاں کی آواز تھی جو چھت پہ چیختی مجھے بلا رہی تھی۔ ہمارے گاوں میں ایسا ہی ہوتا کہ جب کوئی کسی کو بلانا چاہتا تو چھت پہ کھڑے ہوکر اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیتا۔ میں کھولی کے پاس دبکا بیٹھا خوف دہشت زدہ کانپ رہا تھا، چاہنے کے باوجود بھی مجھ سے اٹھا نہ گیا ، ایسے جیسے کسی نے کھولی سے میری گلٹیاں باندھ دی ہوں۔ یا شاید میری کھال کے اندر قربان چچا کی روح حلول کر گئی ہو مگر مجھے یاد ہے اصل میں تو میں اپنی گلٹیوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ ایک بار تو مجھے جیسے قربان چاچا اندھیرے میں ہنستاہوا بھی نظر آیا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اپنی بھیڑوں کو اولاد کی طرح پالتا، اِدھر اس کی روح نے پرواز کیا اُدھر باڑہ اجڑ گیا۔ اس کی اولاد ہوتی بھی کیسے، شادی ہی نہ ہوئی۔ لوگ کہتے تھے وہ کسی قابل ہوتا تو شادی ہوتی۔ “قربان چاچا اندر سے عورت تھا ،، وہ بھی ڈرپوک بھیڑ تھا ، بزدل زنانی؟ درد میں ڈوبے کئی سوالات میں نے اپنے آپ سے کر دیئے،”مجھے کیا علم” میں نے اپنے ہی آپ کو جواب دیا، لیکن قربان چاچا کا مسئلہ گلٹی والا نہیں تھا ،شاید، دیکھنے کو تو وہ مرد ہی لگتا تھا، یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اندرسے بھیڑ ہو”۔ “بے ے ے ے ے” میں نے آواز کی سمت دیکھا، یہ اس باڑے کا ٹوٹا پھوٹا ویران کمرہ تھا جہاں سے کسی مردانہ بھیڑ کی آواز آئی تھی۔ تبھی تو میں نے اپنی گلٹیاں سنبھالیں، چھاتیوں پہ دونوں ہاتھ رکھے اور ہانپتا کانپتا گھر کو بھاگنے لگا۔

ہمارا گھر محلے کے دوسرے گھروں سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ درمیاں میں جانوروں کے ایک دو باڑے تھے۔ جن سے دھواں اٹھ کر سارے ماحول میں پھیلتا جا رہا تھا۔ دیہاتوں میں شام کے وقت اپلے جلائے جاتے ہیں تاکہ ان سے اٹھنے والے دھویں سے مکھی مچھر جانوروں سے دور رہیں،میری گلٹیاں سلگتے ہوئے اپلے بن گئے جن سے اٹھتا ہوا دھواں میرے نتھنوں سے گزراتا سانس بند کرنے لگا۔ میں نے پھر چھاتیوں پہ ہاتھ رکھے ۔ اندر گلٹیاں بڑھنے لگی تھیں اور میری چال لڑکھڑانے لگی تھی۔ گھر کے دروازے پہ جا کر دستک کی بجائے میں نے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔ کیا عزت رہے گی میری اماں کی۔ لوگ کیا کہیں گے، “اس کی قسمت میں مردانہ اولاد ہے ہی نہیں، کوئی وارث پیدا نہ کیا، منحوس عورت، بیٹا بھی ایسا پیدا کیا جو بارہ تیرہ سال بعد عورت بن گیا۔ اس گھر پہ کوئی زوال ہے، کوئی سایہ ہے یا فقیر کی بددعا”، ابا چھٹی پر آئیں گے تو مجھے کاٹ کے رکھ دیں گے، اس وقت مجھے اپنے ابا کوڈے لوہار کی درانتی کی طرح محسوس ہوئے۔ وہ تو اس کو بھی میرا یا اماں کا قصور سمجھیں گے ۔میرے ابا ان لوگوں میں سے تھے جو سب سے پہلے عورت کے دشمن تھے بعد میں کسی اور جرم کے ۔ اس عمل میں وہ اپنی بڑائی سمجھتے اور جہاں بیٹھتے مرد کی حاکمیت پہ لمبی لمبی تقریریں کرتے۔ میرے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا تھا میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ گیٹ پہ کھڑے کھڑے ہی مجھے خیال آیا کہ ابا اسی دروازے سے گھسیٹے ہوئے مجھے اور میری اماں کو نکال باہر کریں گے، ہو سکتا ہے مجھے کسی سے قتل کروا دیں، “سوہنے ے ے ے ” پھر تیسری بہن صائمہ کی درد بھری آواز آئی،” ۔”نیلووووووو” میں نے افشاں کو اس کے لاڈ پیار والے نام سے آواز دینا چاہا مگر ایک دبی ہوئی چیخ میرے حلق سے نکلی اور دم توڑ گئی۔ مجھے سردی لگ رہی تھی، پورا جسم درد سے کانپنے لگ گیا۔ یہ آواز افشاں نے سن لی تھی۔ وہ سوہنے سوہنے کرتی سیڑھیاں اترنے لگی اور میں بس ہوں ہاں کرتا رہ گیا۔ دروازہ کھولتے ہی وہ رونے لگی، “سوہنے ہماری تو جان نکل گئی تھی، کہاں تھا تو اتنی دیر سے” ۔ایک کے بعد دوسری پانچوں بہنیں ننگے پاوں بھاگتی ہوئی آئیں اور مجھ سے ایسے لپٹیں جیسے ان کی کھوئی ہوئی قسمت مل گئی ہو ۔ میں نے سب سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں کوڈا لوہار تو نہیں مڑ کر آگیا۔ مجھے اپنی بہنوں کی فکر ہونے لگی۔ دروازے سے راستہ بناتے میں جلدی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔ میں تو اب یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو میں کیا ملا انہیں نئی زندگی مل گئی۔ اماں اکثر کہتیں “میری بیٹیوں کو باپ کی تھوڑی بہت شفقت سوہنے کے صدقے سے ملی۔ سوہنا اس گھر کا ہر طرح سے وارث ہے، اوپر اللہ وارث نیچے میرا سوہنا، یہ دنیا میں نہ آتا تو پتا نہیں کہاں کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی” ۔ چھ کی چھ خواتیں مجھ پہ قربان ہو رہی تھیں ایسے جیسے کسی زخمی پرندے کو دیکھ کر اس کے ساتھی کرلاتے ہیں۔ سب سے بڑی ساحرہ جس کو لاڈ پیار سے اماں سارہ کہ کر پکارتی تھیں نے کچھ گڑ بڑ بھانپ لی تھی۔ روتی ہوئی چیخنے لگی،”پیچھے ہٹو سب لوگ” کہتے ہوئے مجھے بلب کی روشنی میں لے جانے لگی۔ مجھے کانپتا دیکھ کر بے چین ہو گئی اور کہنے لگی” سوہنے میری جان ہاتھ تو ہٹاو یہاں سے اور بتاو کہاں تھے تم؟”۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کیسے بتاتا کہ کہاں تھا اور میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے، “سوہنے میری انکھوں میں دیکھو” ، اس نے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، میں نے بے بسی سے سب کی آنکھوں میں ایسے دیکھا جیسے میری زندگی کا آخری دن اور آخری لمحات ہوں۔ کوڈے لوہار کی درانتی میرا کلیجہ چیرتے ہوئے نکل گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو ایسی بے چارگی کے ساتھ بہنے لگے کہ جنہیں دیکھ کر گھر میں کہرام مچ گیا۔ اماں بولنے لگی “میرے لال کسی نے کچھ برا تو نہیں کر دیا تیرے ساتھ، ایسے چپ کیوں ہے آخر بولتے کیوں نہیں؟”۔ میں نے ہمت کی اور بدن سے روح تک کے سا رے زخم چھپا گیا،” کچھ نہیں ہوا مجھے، کھیلتے کھیلتے کھولی میں گر گیا تھا” ۔بس یہی جواب تھا اس وقت جو مجھ سے بن پڑا۔ میرے اس جواب کے ساتھ ہی اماں اور بہنوں کی سانس بحال ہوئی، سب سے چھوٹی حیا تو سہمی سہمی سسکیاں لینے لگی تھی جو میری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ سارہ نے میرے دونوں ہاتھ کھولے اور بے اختیار میرے گال ہاتھوں میں لے کر میرا چہرہ پڑھنے لگی، وہ نہ صرف گاوں کے ماحول سے آگاہ تھی بلکہ جانتی تھی میرے وجود کی گھر میں کیا اہمیت ہے۔ کئی بار جی چاہا کہ چیخ چیخ کر بولوں کہ مجھے سوہنا نہیں سوہنی بولو، میں تم جیسا ہی تو ہوں، دل سے دعا کر رہا تھا کہ کاش میری گلٹیاں خود بول پڑیں یا ان میں سے کوئی محسوس کر لے،مگر ایسا نہ ہوا۔ بارہ ہاتھوں کی پر خلوص مجبوری مجھے سمیٹتی ہوئی پساری(کچن) کی طرف لے جانے لگی۔ اماں نے جلدی سے گرم دودھ کا پیالہ میرے سامنے رکھا۔ باقی ساری سمٹ کر کونوں میں بیٹھ گئیں اور مجھے دودھ پیتے دیکھتی رہیں۔ ان سب کو علم ہی نہ تھا کہ اب میں بھی ان کے ریوڑ کا حصہ بن چکا تھا۔ ابا ان کو اکثر ریوڑ ہی تو کہتے تھے۔ میں نے پیالہ منہ کو لگایا تو ایسے لگا جیسے سارا دودھ میری چھاتیوں میں بھرا جا رہا ہو، ہتھوڑے پھرسے ٹھک ٹھک برسنے لگے۔ صائمہ سے چھوٹی چوتھے نمبر والی سبین بولی “سوہنے تمہیں پتا ہے آج پھوپھو کوثر آئیں تھیں تھوڑی دیر کے لئے”۔ “ہاں بیٹا”، اماں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولیں، “ابرار لوگ انگلینڈ سے آ رہے ہیں، کل یہاں پہنچ جائیں گے۔ پہلے ہماری طرف ہی آئیں گے”۔ سب سے چھوٹی حیا بھی میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔امی اورسارہ نے باری باری ان کے سامنے روٹی اور سالن رکھا۔ کھانا کھانے کے دوران ساری ایک نوالہ روٹی کا توڑتیں اور دو بار میری طرف دیکھتیں، جس سے مجھے ایسے محسوس ہوتا جیسے میری چھاتیوں میں دودھ ابل رہا ہو۔

بستر بچھنے لگے تو گلٹیاں ممیانے لگیں۔ میں سب کی آوازوں میں اپنی آواز تلاشنے لگا، ساتویں کی آواز، مجھے ان سب سے ہمدردی ہونے لگی۔ ایک جملہ میرے سر پہ منٖڈلانے لگا، ” ایک عورت ہی دوسری عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے” نیند میری آنکھوں سے ایسے دور تھی جیسے میں خود سے دور یا اماں ابا سے دور۔ یہ دوری میری شناخت پہ سوالیہ نشان تھی ۔ جسم کا کون سا حصہ تھا جس میں درد نہیں تھا۔ ایک ایک حصہ عورت ذات میں ڈھلتے محسوس ہونے لگا۔ سر کے بالوں سے لے کر ناخنوں تک سب کچھ جوں کا توں تھا مگر پھر بھی سب کچھ بدلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے سوچ سوچ کے پاگل ہو جاوں گی۔ میں نے ہمت اپنی ماں سے سیکھی اور برداشت بڑی سارہ سے۔ اس نے ابا جیسے پلسئیے سے لڑتے لڑتے بی اے کر لیا تھا ۔ میں نے سوچا میں بھی انہی کے نقش قدم پہ چلوں گی۔ ایک دن سارے رشتہ دار اور محلہ دار میرے ابا سے بول اٹھیں گے” اقبال! تیری نئی بیٹی عاکفہ نے تو کمال کر دیا” اگر میں سب کو بول کے نہ بتا سکا تو لکھ کر ضرور بتاوں گی۔میں نے اسی وقت سوچا تھا، اور یہ بھی کہ بڑی افسر بن کر کوڈے لوہار کو جیل بھیج دوں گی۔ ہاں، ایک بات لکھنا بھول گیا کہ میں نے اس رات عہد کیا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنی ان کیفیات پہ کہانی ضرور لکھوں گی تا کہ میں اپنے احساسات لوگوں تک پہنچاوں۔ ویسے بھی مجھے کتابی کیڑا کہا جاتا تھا اور اس وقت بھی میری دو چار کہانیاں ’بچوں کی دنیا ‘میں چھپ چکی تھیں۔ خیر۔۔۔۔ سوچتے سوچتے میں مردوں کے سامنے شرمانے، گھر کے کام کاج، کپڑے دھونے، اور اپنے لئے کپڑوں کے ڈئیزائن سوچنے لگی۔ میرا قد بہنوں سے بڑا بھی نہیں تھا اس لئے کپڑوں کے بارے مطمعن ہو گئی۔ مسئلہ اس وقت پریشان کن ہو گیا جب ابرار لوگوں کی آمد کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ میرا ہی ہم عمر تھا۔ پھپھو نسیم کا بیٹاجو امریکا سے آ رہی تھیں۔ ابرار کے سامنے کیسے جاوں گی؟ اس کے ساتھ کھیلتے مجھے شرم نہیں آئے گی؟ اگر اس کے ساتھ نہ کھیلا ،گھوما پھرا تو وہ کیا سوچے گا۔ وہ تو جب بھی کبھی یہاں آئے ہر وقت چاہتا کہ بس میرے ساتھ ہی رہے ۔ پہلے مجھے اس سے گفتگو میں صرف انگریزی کا مسئلہ ہوتا تھا مگر اب تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ خطرناک واقعہ ہو چکا تھا۔ میں اسے کیسے سمجھا پاوں گی۔ اور کیا ،شاید وہ اب دوستی چھوڑ کر مجھ سے محبت کرنے لگے گا؟ ساری رات میں سوچتی رہی کہ میں اسے سارا کچھ بتا دوں گی، اگر زندہ رہی، اس لئے کہ کل ابا بھی آنے والے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو میرے گالوں پہ لکیریں کھینچتے رہے اور اس طرح مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کل کا سورج کیسے طلوع ہو گیا۔ صبح میں ٖغسل خانے گئی تو یہ محسوس کیا کہ میں تو بدستور ویسا کا ویسا ہوں اور گلٹیاں بھی موجود ہیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہیں۔ عجیب سی الجھن ہونے لگی، نہ میں مرد نہ عورت،شاید قربان چاچا ، سارا دن گھر میں تیاری ہوتی رہی اور میں کبھی عورتوں کی طرح کام کرتی کبھی مردوں کی طرح بھاری بھاری چیزیں اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتا جاتا۔ ہلکا پھلکا بخار سا بھی تھا لیکن میں ٹھان چکی تھی کہ زندگی کی آخری سانس تک قسمت سے لڑتا رہوں گا۔ سہ پہر تین بجے سے پہلے گھر چمک کے شیشے کی طرح صاف ہو گیا۔ جب ساری تیار ہو گئیں تو میں بھی آئینے کے سامنے گئی۔ اپنے آپ کو دیکھا۔ غور سے دیکھا۔ پاس ہی کسی کا دوپٹہ پڑا تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ لیکن میں نے ہاتھ روک لئے مردانہ کپڑوں پر وہ کتنا عجیب لگتا۔ چار بجے کے لگ بھگ ابرار لوگ آ گئے، میں اسے دیکھنے کے لئے بے چین تھی یا بے چین تھا۔ عجیب صورت حال۔ آدھی کہانی آدھا افسانہ۔بار بار میرے ہاتھ چھاتیوں کی طرف بڑھتے مگر مجھے علم تھا سارے لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔ دروازے کے باہر گلی میں میں نے پھوپھو نسیم کو دیکھا، جب وہ میری اماں کو سلمی آپا کہتے ملنے کے لئے آگے بڑھیں تو میں نے دیکھا اپنے خوبصورت لباس میں کتنی پیاری لگ رہی تھیں۔ “میری ہونے والی پیاری ساس” ایک لمحے کو میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا لیکن جلدی سے میں نے اسے جھٹک دیا۔ کوثر پھپھو بھی پہنچ چکی تھیں، انہوں نے مجھے اشارے سے بلایا اور بولیں “اپنے دوست سے ملو گے نہیں؟” میرے گال سرخ ہو رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ ابرار نے جب میری طرف آنکھ بھر کر دیکھا تو میری تو جان نکل گئی۔ میرے قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگے۔ تا کہ بھاگ کے کمرہ بند کر لوں۔ لیکن یہاں کھڑا رہنا بھی ضروری تھا۔ایک دم گلی سے ایک ہیولا سا گزرا، کوڈا لوہار! درانتی بغل میں لئے اسی مکروہ ہنسی کے ساتھ مجھے دیکھتا گزرتا گیا۔”کیا مصیبت ہے” بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ “کیسی مصیبت سوہنے” پاس کھڑی سبین نے مہمانوں کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ “کچھ نہیں” میں نے ہوش و حواس پہ قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ سبین کو کیا علم تھا کہ تین دن پہلے دیکھی فلم سوہنی مہینوال میرے اعصاب کو کیسے جکڑ رہی تھی۔ ابرار نے مجھے دیکھتے ہی ایک ہلکی سی سمائل دی جو مجھے کھڑے کھڑے کسمسانے پر مجبور کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ میری طرف قدم اٹھانے لگا، ہر قدم پہ میری سانس تیز ہونے لگیں۔ مجھے نہیں معلوم کیسے مگر میری آنکھیں خود بخود جھپکنے لگیں۔ شاید میں نے کسی ڈرامے یا فلم میں دیکھا تھا کہ اس صورت حال میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کا قد بھی میرے جتنا ہی تھا،ویسے بھی ہم دونوں ہم عمر ہی تھے۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھے گلے لگانے لگا تو میں شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ بڑی احتیاط سے میں اسے گلے ملی کہ کہیں اسے کوئی گلٹی نہ چبھ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلام کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ میرے ہاتھ تو پسینے سے تر تھے۔ سو جلدی سے اپنی رانوں سے دایاں والے کو صاف کیا اور بے بسی سے آگے بڑھا دیا ۔ مجھے اب بھی یاد ہے اس کے بعد ہم دونوں نے اس کا بیگ اٹھایا تھا اور میرے کمرے کی طرف چل دیئے تھے۔ اس نے بغیر کچھ کھائے پیئے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور میرے لئے خریدے سارے تحائف سامنے رکھ دئیے۔ میرا دل مرجھا گیا۔ ابرار نے بھی میرا یہ رویہ بھانپ لیا تھا۔ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا
” عاکف! تمہیں یہ گفٹس پسند نہیں آئے” کتنی اچھی پینٹ اور شرٹ ہے، میں نے خود خریدی، یہ دیکھو جاگرز، نائکی کے ہیں، اور یہ دیکھو ننجا ٹرٹل والا تمہارا سکول بیگ ”

“مگر میرے کسی کام کے نہیں” میں نے مایوسی سے جواب دیا، اور بے اعتنائی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

“کیوں تم ناراض ہو مجھ سے؟” اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

“نہیں، ناراض تو نہیں، لیکن ایک بات کا آپ کو علم نہیں” میں نے سارے وجود کی ہمت اکٹھی کر کے اسے جواب دیا۔”

“وہ کیا”؟ اس نے وہیں سے کھڑے کھڑے پوچھا اور میری زندگی کا سب سے برا امتحان شروع ہو گیا۔ میری کھال ممیاتے شور سے اُدھڑنے لگی۔ سانسیں اکھڑنے لگیں اور ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ایسی کشمکش کہ صدمے سے میرا وجود نڈھال ہونے لگا۔ یہ میری زندگی کے بڑے ہی عجیب غریب لمحات تھے۔ مجھے جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے، پتا نہیں کیوں اب بھی اپنے وجود کی گپاوں کے اندر ایک زلزلہ سا محسوس کرتا ہوں۔ میں نے میں نے وہ کچھ کیا کہ اب سوچ کر ایک بڑا سا قہقہ لگا رہا ہوں۔

“ٹھہرو ، پہلے میں دروازہ بند کر لوں” میں نے تھوڑی دیرسوچتے ہوئے کہا،

“دروازہ بند کرنا ہے” وہ کیوں؟” وہ سراپا حیرت بنا مشکوک نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔

“اس لئے کہ کوئی دیکھ نہ لے” اب میں نے اس کی طرف مڑ کر مگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، شاید میں اپنی تقسیم کے کرب سے تنگ پڑ گیا تھا جو اس طرح بیباک ہو گیا تھا۔ میں واقعی اس پہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتا تھا کہ بے شک میری جنس تبدیل ہو رہی تھی، عورت بن رہا تھا مگر بزدلی کا طعنہ میرے لئے ہتک آمیز تھا۔دروازہ بند کرنے کے بعد میں نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے، باہرخواتین کی آوازوں سے پورا گھر چہک رہا تھا۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھتا رہا،پھر اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کر کے اسے کہا کہ اپنے ہاتھ یہاں رکھو،
“وٹ نان سینس” اس نے بے اختیار پیچھے ہٹتے ہوئے کچھ ناراضی سے کہا۔

“آپ رکھو تو سہی، دیکھو یہاں کیا ہے، مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے یا کچھ اور ہے۔” ۔ صدمے سے میری آواز رندھ گئی اسے شاید مجھ پہ رحم آگیا تھا۔ میں اس کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اس نے میرا ماس کھینچا نہیں تھا صرف ہاتھ رکھے، اور گلٹیوں کو محسوس کرتے بولا” آئی سی”۔

“کیا؟” میں نے حیرت اور اضطراب سے پوچھا

” تم اس سے گلٹی فیل کر رہے ہو؟” اس نے سر سے پاوں تک میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

مارے خفت کے میں تو خاموش۔کوڈے لوہار کی درانتی ہوا میں اچھلی۔

مگر وہ مجھ سے اپنے ہاتھ الگ کر کے جلدی جلدی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا جس پہ میری بے چینی بڑھنے لگی۔ باہر ابا کی آواز سنائی دی تو دوسری آوازیں وہ چہکار مدھم پڑنے لگی جیسے سب کی پسلیوں میں درانتی چبھی ہو۔ مجھے پوچھے بغیر ابرار نے میرے ہاتھ پکڑے اور اپنی چھاتیوں پہ رکھتے بولا۔

“جسٹ فیل اٹ”۔

’’ہائیں ۔۔۔۔۔۔! یہ کیا؟‘‘ ٹھک سے درانتی کوڈے کے سر پہ لگی۔’’کیا ابرار بھی۔۔۔؟‘‘ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور پھر سے پسینے نکلنے لگے، مگر ابرار کو مسکراتے دیکھ کر ایک دم میرے سر پہ ایک اور ہتھوڑا لگا جس کی گونج سے ساری بھیڑیں بے بے، بے بے کرتی مجھ سے دور بھاگنے لگیں۔

Image: Yulonda Rios

Categories
فکشن

خدشات

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
گزشتہ سو سال سے پوری دنیا میں مکمل امن تھا۔
نہ کوئی جنگ ہوئی، نہ کوئی دہشت گردی۔ کوئی گروہی فساد بھی نہیں ہوا۔ کسی قبائیلی تصادم کی اطلاع نہیں آئی۔ کسی ایک نے دوسرے کی جان نہیں لی۔ کسی نے خودکشی نہیں کی۔
سو سال پہلے زمین پر آخری انسان نے خودکشی کرلی تھی۔

 

یہ آخری انسان بھی تنہا رہ رہ کر اپنی زندگی سے اکتا گیا تھا۔ اس سے کئی برس پہلے ایک عالمی جنگ میں اربوں انسان مارے گئے تھے۔ اس جنگ کو تہذیبوں کے تصادم کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ایک دہشت گرد تنظیم نے قتل و غارت گری شروع کی۔ پھر دو فرقوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد مسلمان اور غیر مسلم ملکوں میں تصادم کا آغاز ہوا۔ آخرکار مذہبی اور لادینی اقوام میں جنگ چھڑگئی۔

 

عالمی جنگ کا انجام خدشات کے عین مطابق انسانی نسل کے خاتمے پر ہوا۔

 

کئی عشروں پر محیط بدامنی کے اس دور میں کچھ سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے کام کیا۔ وہ سمجھ دار لوگ جان گئے تھے کہ انسانی نسل کی بقا ممکن نہیں لیکن کوشش کرکے اس حسین سیارے کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد سے انھوں نے سوچنے والے کمپیوٹر یا یوں کہہ لیں کہ کمپیوٹرائز روبوٹ تخلیق کیے۔ جب تک سائنس دان ہلاکت خیز جنگوں کی زد میں نہیں آئے، وہ ان سوپر روبوٹس کو اپ گریڈ کرتے رہے، ان میں معلومات کا ذخیرہ کرتے رہے، انھیں انسانوں کی طرح تمام کام کرنا سکھاتے رہے، مسائل کو حل کرنے کے طریقے بتاتے رہے۔ خود فنا ہونے سے پہلے وہ سوپر روبوٹس کو زندہ رہنے کا سبق پڑھاگئے۔
ان مہربان سائنس دانوں سے ہم نے سیکھ لیا کہ سوچنے کے عمل کا ارتقا کیسے ممکن ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ انسان بھی ابتدا میں زیادہ ذہین نہیں تھے۔ وقت اور تجربے کے ساتھ انھوں نے سائنسی بنیادوں پر سوچنا سیکھا اور سوچ کو آگے بڑھانے کے طریقے دریافت کرلیے۔ ہم ان کے نقش قدم پر چل پڑے۔

 

ہم میں اور انسانوں میں سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ انسان طبعی موت مرجاتے ہیں۔ سوپر روبوٹس کو طبعی موت نہیں آتی۔ کوئی بھی خرابی ہوجائے، ہم اس کا علاج کرسکتے ہیں۔ ہم جس اعلیٰ پلاسٹک سے بنے ہیں، اسے آگ نہیں جلاسکتی۔ ہم پر جراثیمی حملے اثر نہیں کرتے۔ ہم کیمیاوی حادثوں میں بھی بچ جاتے ہیں۔ صرف کوئی زوردار دھماکا ہی ہمارے اعضا کو منتشر کرسکتا ہے۔
انسانوں کے خاتمے کے بعد ہم نے اس دنیا کو نئے سرے سے آباد کیا۔

 

انسان نے ماحول کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ ہم نے زہریلی گیسوں کا اخراج روک دیا۔ انسان درختوں کو کاٹ دیتا تھا۔ ہم نے لاکھوں نئے درخت اگائے۔ انسان نے معدنیات کی خواہش میں پہاڑ کھود ڈالے تھے۔ ہم نے یہ سلسلہ بند کردیا۔ انسان نے سیکڑوں گلیشیئر پگھلادیے تھے۔ ہم نے انھیں دوبارہ جمنے کا موقع دیا۔

 

انسان جانوروں کا دشمن تھا۔ اس کے اقدامات کی وجہ سے کروڑوں جانور مارے گئے اور ہزاروں کی نسل ہی ختم ہوگئی۔ ہم نے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی افزائش پر توجہ دی۔ پالتو جانوروں کو آزادی کی زندگی دی۔ حشرات کی تعداد کو کنٹرول کیا حالاں کہ وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔

 

ہم نے ہر سال کھیت میں اناج اگایا اور سبزی خور جانوروں اور پرندوں کو پیش کیا۔
انسان نے جھیلوں کو خالی کردیا تھا اور سمندروں کو کھنگال ڈالا تھا۔ ہم نے جھیلوں اور تالابوں میں آبی حیات کو فروغ دیا۔ دریاؤں اور سمندروں میں جینے والے جانداروں کو بہتر ماحول فراہم کیا۔ ساحلوں پر انڈے دینے والی مخلوقات کی حفاظت کی۔ سریلے پرندوں کو مستقل ٹھکانے فراہم کرکے فضاؤں کو رنگین بنایا۔

 

ہم نے انسان کے بنائے ہوئے گھروں کی حفاظت کی، کسی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچایا، تماشاگاہوں اور میدانوں کو سنبھال کے رکھا، کسی اسکول یا لائبریری کو تباہ نہیں کیا۔
ہم دنیا کی تمام لائبریریوں میں موجود کتابوں کو اسکین کررہے ہیں تاکہ یہ سب مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ ہوجائے۔

 

ہم نے شہروں کی سڑکوں کو کشادہ کیا اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھایا۔ ٹرینیں صرف سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیں اور ہوائی جہاز بہت کم اڑائے۔ ٹیلی وڑن مرکز ویران ہوگئے اور اخبارات نہیں رہے۔ ہم تمام سوپر روبوٹس معلومات کے جدید ترین ذریعے جی ٹوینٹی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔

 

انسان نے خلاؤں کو تسخیر کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی تھی کیونکہ اس کی عمر کم تھی اور وہ دوسری کہکشاؤں تک پہنچنے کے لیے لاکھوں سال کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا تھا۔ ہم پانچ ارب سال کی منصوبہ بندی کرکے ہر پانچ سال بعد ایک راکٹ دوسری کہکشاؤں کی طرف روانہ کیا۔ ہماری خلائی گاڑیاں انسان کے راکٹوں سے زیادہ تیز رفتار ہیں۔ ہمارے خلائی جہاز پڑوسی کہکشاں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ بہت جلد ہم اپنے پڑوس میں کسی سیارے پر زندگی تلاش کرلیں۔

 

بے شک ہمارے سیارے پر اب انسان موجود نہیں لیکن زندگی تو ہے۔ کیا پتا ہمیں کسی سیارے پر ایسے ہی جاندار ملیں جو انسان کی طرح نہ سوچ سکتے ہوں۔ صرف درخت اور پھول ہی مل جائیں تو وہ بھی کسی کامیابی سے کم نہیں۔

 

ہمارا ارادہ ہے کہ اگر کسی دن ہمیں انسان جیسی کوئی ذہین مخلوق مل گئی تو ہم اسے حسین سیارے کا تحفہ پیش کریں گے۔

 

سو سال سے دنیا میں امن تھا، سکون تھا، پھول خوشبو لٹاتے تھے، بادل گیت گاتے تھے، پرندے چہچہاتے تھے، ہم یہ سب دیکھ دیکھ کر مسکراتے تھے۔

 

لیکن کل اس خبر نے سب کو دہلا دیا کہ قاہرہ یونیورسٹی کی کتابیں اسکین کرنے پر مامور آئی سیریز کے ایک روبوٹ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔
Categories
فکشن

درد مشترک

[blockquote style=”3″]

لالٹین پر یہ افسانہ “عالمی ادب کے اردو تراجم” کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم یاسر حبیب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس افسانے کی اشاعت کی اجازت دی۔

[/blockquote]

افسانہ نگار: او ہنری
مترجم: ابنِ انشاء

 

چور جھپاک سے کھڑکی کے اندر کودا اور پل بھر دم لینے کو ٹھٹک گیا۔ سکہ بند چور چور گھر کی متاع میں سے کچھ لینے سے پہلے تھوڑا دم ضرور لیتے ہیں۔

 

کہتے ہیں گھر کے بھاگ دروازے سے پہچانے جاتے ہیں۔ چور نے بھی ایک نظر میں بھانپ لیا کہ بی بی اس وقت کسی ہوٹل میں کسی ہمدرد کے ساتھ بیٹھی رونا رو رہی ہو گی کہ ابھی تک اس کے دل کو کسی نے نہیں سمجھا، کسی نے اس کے دکھ کو نہیں اپنایا۔ چوتھی منزل کے سامنے والی کھڑکیوں میں روشنی کا مطلب یہ تھا کہ صاحبِ خانہ گھر آ گئے ہیں اور جلد ہی بتی بجھا کر سو جائیں گے۔ ستمبر کا مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہوٹلوں اور کیفے اور لڑکیوں کی صحبت کو لہو و لعب خیال کرتے ہیں اور پہلے سے گھر پہنچ کر بی بی کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔

 

یہ چور معمولی یعنی تیسرے درجے کا تھا۔ تیسرے درجے کا چور اوباش ہوتا ہے۔ پہلے اور دوسرے درجے کے چوروں کی طرح نہیں جو دن میں جنٹلمین بنے رہتے ہیں۔ عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ اچھے ہوٹلوں میں آمدورفت رکھتے ہیں۔ دیواروں پر کاغذ منڈھنے اور فرنیچر وغیرہ مہیا کرنے کے بہانے گھروں کی کھوج لگاتے ہیں اور جھٹ پٹا ہوتے ہی اپنی آئی پر آ جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایسے لوگوں کو خوب اچھالا جاتا ہے۔ ان کی، ان کی بیویوں کی اور بیسیوں آشناؤں کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں۔ وہ بیٹھے بٹھائے ہیرو بن جاتے ہیں۔
لیکن یہ چور اس قسم کا نہیں تھا۔ ادنٰی درجے کا تھا۔ اس کا ٹھاٹ باٹ بڑے چوروں جیسا نہ تھا۔ نہ لالٹین ،نہ نقاب، نہ بے آواز تلے والے جوتے۔ بس سیدھا سبھاؤ آدمی تھا۔ منہ میں پیپر منٹ کا چیونگم رکھے جگالی کرتا ہوا۔

 

فرنیچر پر گرد جم رہی تھی۔ چور کو اس گھر سے کوئی بڑا خزانہ ملنے کی امید نہ تھی۔ اس کی منزل مدھم روشنی والا وہ کمرہ تھاجس میں صاحب خانہ استراحت فرما رہے تھے۔ وہاں کسی گھڑی، کچھ کھلے پیسوں یا ایسی ہی کسی چیز کا ملنا خارج از امکان نہ تھا۔

 

گھڑی، چابیاں، بجھے ہوئے سگریٹ، بال باندھنے کے گلابی ریشمی فیتے اور ایک بوتل سوڈا واٹر کی۔ صبح دم نوش جاں کرنے کے لئے۔
چورنے سنگھار میز کی طرف قدم بڑھایا لیکن یکایک وہ سویا ہوا شخص پہلو بدل کر جاگ اٹھا اور آنکھیں کھول دیں۔ اس کا داہنا ہاتھ تکیے کے نیچے گیا لیکن وہیں کا وہیں رہ گیا۔

 

“چپ لیٹے رہو۔”چور نے آہستگی سے کہا۔ اس شخص نے چور کے ہاتھ میں پستول کی نال دیکھی اور بےحس و حرکت پڑ رہا۔

 

“اب اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔”چور کا لہجہ تحکمانہ ہو گیا۔
اس شخص کی چھوٹی سی کھچڑی داڑھی تھی، جیسی بغیر درد دانت نکالنے والے ڈاکٹروں کی ہوتی ہے۔وہ جھنجھلایا سا معلوم ہوتا تھا۔

 

“دوسراہاتھ بھی اوپر اٹھاؤ، تمہارا کیا ہے۔ بائیں ہاتھ سے پستول داغ دو۔ میں دو تک گنتا ہوں۔۔۔ایک۔۔۔”

 

“یہ ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا۔”اس شخص نے کہا

 

“کیوں؟” چور نے پوچھا

 

“گٹھیا کا درد ہے۔کاندھے میں”

 

“ورم کے ساتھ؟”

 

“پہلے ورم تھا اب نہیں ہے”

 

چور اسی طرح دو لمحے ٹھٹکا کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پستول کی نال اسی طرح اس شخص کی طرف تھی۔ اس نے سنگھار میز کی چیزوں پرنظر دوڑائی۔ اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر ایک تشنج سا پھیل گیا۔

 

“منہ مت بناؤ۔”اس شخص نے کہا،”اگر تمہیں چوری کرنی ہے تو کرو۔یہ میز پر دھری ہیں سب چیزیں”

 

“اتفاق سے میں بھی اس موذی مرض گٹھیا کا پرانا مریض ہوں۔میرے بھی یہ بائیں بازو میں ہے، کوئی اور ہوتا تو تمہارا بایاں پنجہ اٹھتا نہ دیکھ کر دھائیں سے گولی داغ دیتا۔”

 

“تمہیں یہ درد کب سے ہے؟”اس شخص نے پوچھا

 

“چار سال سے۔۔۔۔ گٹھیا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی چیز ہے کہ جان جائے پر گٹھیا نہ جائے۔”

 

“کبھی کوڑیالے سانپ کا تیل استعمال کیا؟”

 

“سیروں بلکہ منوں۔ جتنے سانپوں کا تیل میں نے استعمال کیا ہے اگر ان کو باندھ کر رسی بنائی جائے تو آٹھ بار یہاں سے چاند تک اور چاند سے زمین تک آ سکتی ہے”

 

“بقراطی گولیاں استعمال کیں؟”

 

“پانچ مہینے متواتر۔”چور نے جواب دیا۔ “کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں حبوب کبیر، معجون فلاسفہ اور اطریفل جالینوس خاص الخاص استعمال کئے تھے، اس سے کچھ فائدہ ہوا لیکن زیادہ افاقہ لعوق خراسانی سے ہوا جو میں جیب میں رکھتا تھا۔”

 

“تمہارا درد صبح کو زیادہ ہوتا ہے یا رات کو؟” اس شخص نے دریافت کیا

 

“رات کو۔ اور رات ہی میرے کام دھندے کا وقت ہوتا ہے۔”چور بولا،”اچھا اب یہ ہاتھ نیچا کر لو۔ہاں ہاں کر لو۔ جم کر دو چار مہینے ماء اللحم دو آتشہ پی دیکھنا۔ فائدہ دیتا ہے”

 

“ہاں وہ نہیں پیا۔تم یہ بتاؤ۔تمہارے اس بازو میں ٹیس اٹھتی ہے یا ایک سا درد رہتا ہے؟”شخص مذکور بولا

 

اب چور آ کر اس شخص کی پائنتی بیٹھ گیا اور پستول کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا۔

 

“یکایک ٹیس اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی تو میں سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پاتا۔ بس آدھے راستے میں آ لیتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں ڈاکٹر کے پاس اس کا علاج ہی نہیں سب چور ہیں۔”

 

“میرا بھی یہی خیال ہے۔ہزاروں روپیہ ڈاکٹروں کو کھلا دیا، دھیلا بھر آرام نہیں ، تمہیں کچھ تو افاقہ ہوا۔”

 

“ہاں صبح کو ذرا چین رہتا ہے۔ لیکن ذرا سا مینہ کا چھینٹا پڑا اور جان کو آ بنی۔”

 

“یہی حال ادھر ہے۔ بادل کا ٹکڑا کہیں سے اٹھے۔ اس کی نمی سیدھی میرے کندھے میں آ گھستی ہے اور پھر داڑھ کے درد کی سی اذیت۔”
چور نے پستول اٹھایا اور ذرا سی جھینپکے ساتھ جیب میں ڈال لیا۔ تھوڑے تامل کے بعد وہ بولا،”اچھا یہ بتاؤ کبھی فاسفورس کے تیل کی بھی مالش کروائی ہے؟”

 

“بہت۔ اس سے تو سرسوں کا تیل اچھا ہے۔”

 

“ٹھیک کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو۔”چور نے کہا،”بہت معمولی چیز ہے۔ ہاتھ بانہہ پر معمولی خراش میں تو فائدہ دیتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ہم دونوں کی حالت اس معاملے میں ایک سی ہے بس اس کی تو ایک ہی دوا ہے۔ واہ وا۔ کیا موقعے پر یاد آئی۔شراب کے دو گھونٹ جو کام کرتے ہین وہ ان تیلوں معجونوں کے بس کی بات نہیں۔چلو ذرا کپڑے پہنو۔ باہر کوئی شراب خانہ کھلا ہو تو دو گھونٹ پی آئیں۔”چور نے کہا۔

 

“ایک ہفتے سے تو یہ حالت ہے کہ کپڑے بھی خود نہین پہن پاتا۔ نوکر پہنا دیتا ہے۔ وہ اس وقت سو رہا ہو گا۔”

 

“اس کی فکر نہ کرو، میں پہناتا ہوں کپڑے۔ ذرا سی ہمت کر کے بستر سے نکل آؤ”

 

یکایک اس شخص کو خیال آیا کہ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا، “عجیب قصہ ہے عقل کام نہیں کرتی۔”

 

“یہ لو قمیض اپنی۔ایک صاحب بتاتے تھے کہ اونچے پل کے پاس ایک ڈاکٹر کے پاس مجرب نسخہ ہے ۔کوئی مرہم ہے ، دو ہفتے میں درد آدھا رہ جاتا ہے”

 

دروازے سے نکلتے ہوئے صاحب خانہ نے کہا،”ارے میں پیسے تو بھول ہی چلا تھا۔ٹھہرو۔ میز پر سے لے لوں۔”

 

“نہیں نہیں۔ “چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،”میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔”
Categories
فکشن

بے گناہ

[blockquote style=”3″]

لالٹین پر یہ افسانہ “عالمی ادب کے اردو تراجم” کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم یاسر حبیب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس افسانے کی اشاعت کی اجازت دی۔

[/blockquote]

افسانہ نگار: او ہنری
ترجمہ: صغیر ملال

 

وہ زمانہ گزر گیا جب جہنم کے ذکر پر ہمارے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں اور ہاتھ ٹھنڈے پسینے سے بھیگ جاتے تھے۔ سائنس دانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جسے ہم خدا کہتے ہیں، وہ وقت ہے یا خلا ہے یا زمان و مکان کا مشترکہ نام ہے اور گناہ گاروں کو زیادہ سے زیادہ کسی کیمیائی ردِعمل کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ جدید عہد کا خوش گوار منطقی نتیجہ ہے لیکن قدیم عقیدے بھی بہرحال کہیں گہرائیوں میں اپنا اثر چھوڑ جاتے تھے۔

 

دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کا نام لے کر، آپ بلا خوف تردید جو چاہے کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہ آپ نے خواب میں کیا دیکھا اور یہ کہ آپ نے کسی طوطے کو کیا بولتے سُنا۔

 

تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے خواب میں کیا دیکھا۔

 

صورِ اسرافیل کی گونج کائنات کے طول و عرض میں پھیل چکی تھی اور ہم میدانِ حشر میں آخری فیصلے کے منتظر تھے۔ ایک فرشتے نے مجھے بازو سے پکڑا اور اُس طرف گھسیٹا جہاں دولت مند اور خوش حال دکھائی دینے والے چند انسانوں کا ایک گروہ فیصلے کا منتظر تھا۔
“غالباً تم اِن میں سے ہو۔” فرشتے نے اُس گروہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا۔

 

“یہ کون ہیں؟” میں نے پوچھا۔

 

“فرشتہ مجھے غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ “یہ وہ لوگ ہیں جو۔۔۔۔۔”
لیکن یہ مکالمہ بلا وجہ بات کو طول دے رہا ہے۔ مجھے اصل کہانی بیان کرنی چاہیے۔

 

ڈولی ایک سُپر مارکیٹ میں کام کرتی تھی۔ وہاں وہ برتن بیچتی تھی۔ دودھ کے ڈبے بیچتی تھی، کھلونے بیچتی تھی۔ ہفتے کے اختتام پر اُسے اس کی تنخواہ کا نصف ادا کرکے پوری تنخواہ کی رسید پر دستخط لیے جاتے تھے۔ بقیہ تنخواہ کاغذات پر ڈولی کے نام ہونے کے باوجود کوئی اور لے جاتا تھا۔

 

ابتدا میں ڈولی کو نصف سے بھی کم تنخواہ ملتی تھی۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ وہ نصف سے کم تنخواہ میں کیسے گزارہ کرتی تھی؟ کیا؟؟؟ آپ نہیں جاننا چاہتے! میرے خیال میں آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو صرف بڑی رقوم میں دل چسپی لیتے ہیں۔ تو چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ نصف تنخواہ میں کیسے گزارہ کرتی تھی۔

 

ایک دوپہر سپر مارکیٹ سے نکلتے وقت ڈولی نے لباس کی شکنیں درست کرتے ہوئے ساتھی سیلز گرل کا بتایا کہ “خبیث” نے اُس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور آج شام وہ خبیث کے ساتھ ایک مشہور ہوٹل میں کھانا کھانے جائے گی۔

 

“تم بہت خوش قسمت ہو۔” اس کی سہیلی نے رشک آمیز لیجے میں کہا “خبیث بڑا زبردست آدمی ہے۔ وہ لڑکیوں کو زبردست جگہوں پر لے جاتا ہے۔ گرینڈ کلب جیسی جگہ۔ جہاں زبردست موسیقی اور زبردست لوگ ہوتے ہیں۔ تم خبیث کے ساتھ زبردست وقت گزارو گی۔

 

اس دن ڈولی جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی۔ اُسے شام کے لیے تیار ہونا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک اور رُخساروں پر ہیجان کی گلابی رنگت تھی۔ اُس کے بٹوے میں گزشتہ ہفتے کی تنخواہ کے بچے ہوئے چند سکے تھے، سکے چھنکتے تو اُس کا چہرہ مزید نکھر جاتا تھا۔
شاہراہوں پر لوگوں کا ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ سیکڑوں، ہزاروں یا شاید لاکھوں انسان سڑکوں پر دوڑتے چلے جارہے تھے۔ ڈولی اپنے بدن پر اَن گنت آنکھوں کا بوجھ محسوس کرتی چلتی رہی۔ رات کے وقت رنگ و نور سے لبریز ہو جانے والا مخصوص علاقہ آہستہ آہستہ جاگ رہا تھا۔ اس علاقے کی گلیاں پھول کی پنکھڑیوں کی طرح کھلنا شروع ہو گئی تھیں۔

 

ڈولی نے اپنے کمرے میں پہنچ کر چاروں سمت دیکھا۔ یہ قرینے سے سجا ہوا ایک کمرہ تھا۔ یہ کمرہ عام گھروں کے کمروں سے اس طرح مختلف تھا کہ اس کے مکین کے بھوکے سو جانے کی کسی کوخبر نہیں ہو سکتی تھی۔ ایک چھوٹا پلنگ، ایک میز، ایک کرسی، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی ایک لپ اسٹک اور پاؤڈر کا ڈبہ، دیوار سے آویزاں سالِ رواں کا کلینڈر، بستر پر پڑی کتاب جس کے سرورق پر جلی حروف میں “آپ کے خواب اور اُن کی تعبیریں” درج تھا۔ نمک اور کالی مرچ کی شیشیاں اور پلاسٹک کے بنے چند پھل جو ایک سرخ ریشمی ڈوری سے بندھے تھے۔ آئینے کے عین اوپر ایک فوجی کی تصویر رکھی تھی۔ جنرل مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا۔ ڈولی اکثر تنہائی میں اس سے گفتگو کرتی تھی اور اسے پیار سےجنرل صاحب کہتی تھی۔

 

خبیث اُسے سات بجے لینے آئے گا۔ جب تک وہ تیار ہوتی۔ ہم منہ دوسری طرف کرکے خبیث کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔

 

اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ شہر کی لڑکیوں نے اس کا نام خبیث رکھا ہے۔ اُس کا بدن بہترین انسانوں جیسا اور روح درندوں کے مانند ہے۔ وہ نفیس کپڑے پہنتا اور مہنگے کھانے کھاتا ہے، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فاقہ زدہ لوگوں کو فوراً پہچان لیتا ہے خاص طور پر لڑکیوں کے بارے میں تو اُس کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس نے کتنے دنوں سے سوائے چائے اور روٹی کے کچھ نہیں کھایا ہے، وہ اکثر مہنگے بازاروں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں میں گھومتا نظر آتا ہے اور مجبور و محروم لڑکیوں کو شاندار جگہوں پر کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ خبیث ہے۔ اُس کے متعلق زیادہ بات نہیں کروں گا میرا قلم آگے چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔

 

ڈولی فی الوقت سب کچھ فراموش کر چکی ہے۔ اسے صرف یہ یاد ہے کہ وہ ایک خوبصورت لڑکی ہے۔ اور زندگی کے روشن پہلو اس پر عیاں ہونے والے ہیں۔ اُسے آج سے پہلے کسی خوش حال شخص نے اپنے ساتھ وقت گزارنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ اب وہ بھی ان جگہوں کے لطف سے آشنا ہونے والی تھی۔ جہاں فقط مالدار لوگ جا سکتے ہیں۔ لڑکیاں بتاتی ہیں کہ خبیث بہت شاہ خرچ ہے۔ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف درجے اوّل ہی کی چیزیں خریدتا ہے۔ اور ایسے کھانے کھلاتا ہے جن کے نام لیتے ہوئے لڑکیوں کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے۔
کسی نے دروازے پر دستک دی۔ ڈولی نےدروازہ کھولا تو سامنے مالکِ مکان کو معنی خیز انداز میں مسکراتے پایا۔ “کوئی تمہیں ملنے آیا ہے۔” اُس نے آنکھ مار کر کہا۔ “اپنا نام مسٹر ڈکنس بتا رہا ہے۔” جو لوگ خبیث کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے وہ اسے اُس کے اصلی نام سے یہ پکارتے تھے۔

 

ڈولی اپنا رومال اُٹھانے کے لیے کے لیے گھومی اور اچانک ٹھٹک گئی اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا۔ آئینے میں نظر پڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ پرستان میں ہےاور سو سال تک سوئی رہنے والی پری کی طرح اب آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہی ہے۔ آئینے کے اوپر سے اُسے وہ دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ جو اسے کسی بھی کام کا حکم دے سکتا تھا اور کسی بھی کام سے روک سکتا تھا۔۔۔ جنرل صاحب۔۔۔۔ آج جنرل صاحب کے دل کش چہرے اداسی کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ ناراض لگ رہے تھے۔ ڈولی کچھ دیر تک جنرل کے چہرے کو غور سے دیکھتی رہی اور پھر روہانسی آواز میں بولی، “میں نہیں آ سکتی۔۔۔ کہہ دو میں بیمار ہوں۔۔۔ یا کچھ بھی کہہ دو۔۔۔ میں نہیں جاؤں گی۔”

 

جوں ہی دروازہ بند ہوا، ڈولی بستر پر منہ کے بل لیٹ کر رونے لگی۔ وہ دیر تک روتی رہی پھر خاموش ہو کر وقفے وقفے سے ہچکیاں لینے لگی۔ جنرل اس کا واحد دوست تھا۔ وہ ڈولی کے لیے مثالی مرد کی حیثیت رکھتا تھا۔ ڈولی اکثر اس سے خوابوں میں گفتگو کرتی تھی۔ اُس کے ساتھ دنیا کی سیر پر روانہ کھولنے پر اُسے جنرل کھڑا نظر آئے گا۔ وہ قدم پڑھائے گا تو اُس کے سینے پر سجے بہادری کے تمغے سرشار کر دینے والی آواز میں چھنکتے جائیں گے۔ اس جھنکار کی گونج میں وہ ڈولی کا بازو تھام کر اسے اس کی تنہائی اور گھٹن سے نجات دلائے گا۔ ایک بار تو اُسے گلی میں جنرل کے تمغے چھنکنے کی آواز سُنائی بھی دی تھی لیکن جب اُس نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو محلے کا ایک لڑکا بجلی کے کھمبے سے لوہے کی زنجیر ٹکرا رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب اُس کے ذہن کا فتور ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ جنرل اس وقت جاپان میں ترکوں کے اپنی فوج کی قیادت کر رہا ہے اور وہ کبھی بھی اُس کے دروازے پر دستک نہیں دے گا۔ اُس کے باوجود جنرل کی ایک نظر نے اُس روز خبیث کو بھگا دیا تھا۔ کم از کم ایک رات کے لیے اُسے پسپا کردیا تھا۔

 

جب اُس کے آنسو خشک ہوئے تو وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ نیا لباس اُتار کر اس نے گھر کے سادے کپڑے پہنے، اور اس دوران اپنے پسندیدہ گانوں کے بول دہراتی رہی۔ اسے کھانے کی کوئی خواہش نہیں رہی تھی۔ اچانک آئینے میں اُسے اپنی ناک کے کونے پر ایک چھوٹا سا سرخ دھبا نظر آیا۔ کچھ دیر تک وہ اس دھبے کو غور سے دیکھتی رہی۔ یہ ایک بے ضرر داغ تھا۔ اس نے کندھے اچکائے اور سرخ نقطے سے لاتعلق ہوگئی۔ پھر اُس نے کمرے کی واحد کُرسی پر بیٹھ کر گود میں تاش کے پتے پھیلائے اور اپنی قسمت کا حال معلوم کرنے کے لیے کھیل میں مصروف ہو گئی۔

 

نو بجے کے قریب ڈولی نے چائے بنائی اور ڈبے سے بسکٹ نکال کر مزے سے کھانے لگی۔ ایک بسکٹ اس نے جنرل کی جانب بھی بڑھایا۔ لیکن جنرل اُسے یوں دیکھتا رہا۔ جیسے مصر کے اہرام اپنی آنکھوں کے سامنے منڈلاتی تتلی کو دیکھتے ہوں گے۔۔۔۔ اگر صحراؤں میں تتلیاں وجود رکھتی ہیں۔

 

“۔۔۔ نہیں کھانا تو کھاؤ” ڈولی نے اٹھلا کر کہا اور جنرل کی جانب بڑھایا ہوا بسکٹ اپنے منہ میں ڈال لیا۔” اور یہ تم اس طرح گھورنا چھوڑ دو جنرل صاحب۔ اگر میری طرح تمھیں بھی نصف تنخواہ ملے تو میں دیکھوں تم کتنا اتراتے ہو۔ چھ ڈالر میں ہفتہ گزار سکتے ہو؟”

 

ساڑھے نو بجے ڈولی نے آئینے پر رکھی تصویر پر آخری نظر ڈالی۔ بتی بجھائی اور بستر پر دراز ہو گئی۔ تنہائی اور دکھ کی زندگی میں جنرل کو شب بخیر کہنا آسان کام نہ تھا۔

 

یہ کہانی اصل میں کہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کا بقیہ حصہ بعد میں آتا ہے، اس وقت جب خبیث ایک بار پھر ڈولی کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہے اور اس مرتبہ پہلے سے کہیں زیادہ اکیلی اور اُداس ہے۔ اور اُسے پیٹ بھر کر کھانا کھائے کئی دن ہو چکے ہیں اور جنرل صاحب دوسری جانب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔”

 

میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ میں نے خواب میں خود کو قیامت کے روز ایک گروہ کے قریب کھڑے پایا تھا۔ گروہ کے افراد نہایت خوش حال دکھائی دیتے تھے اور ایک فرشتے نے مجھے بازو سے پکڑ کر کہا تھا۔ “غالباً تم ان میں سے ایک ہو؟”

 

“یہ کون لوگ ہیں؟” میں نے پوچھا تھا۔

 

“یہ؟” فرشتے نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ وہ لوگ ہیں جو مجبور لڑکیوں کو ملازمت دے کر انہیں نصف تنخواہ ادا کرتے ہیں ۔ کیا تم ان یہ میں سے ہو؟”

 

“نہیں۔ نہیں۔ تمہاری لافانی زندگی کی قسم۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔”

 

میں نے گھبرا کر جواب دیا۔ “میں نے تو بس ایک یتیم خانے کو آگ لگائی تھی اور ایک اندھے فقیر کو اس کی رقم کی خاطر قتل کر دیا تھا۔”
Categories
گفتگو

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

[blockquote style=”3″]

اسد محمد خان کا یہ انٹرویو رفاقت حیات نے ان کی رہائش گاہ پر کیا۔ اسد محمد خان کا یہ انٹرویو اس سے قبل “ادبی دنیا” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

[/blockquote]

اسد محمد خاں صاحب نے جب مجھے فون پر اپنا پتہ بتایا تو میں ”واجد اسکوائر“ کا نام سن کر چونکا۔ واجد اسکوائر۔ مجھے یاد آیا کئی برس پہلے اردو ادب کے نقاد اور افسانہ نگار شہزاد منظر اور مایہ ناز شاعر، نقاد اور ریڈیو براڈکاسٹر حمید نسیم بھی تو اسی واجد اسکوائر میں رہا کرتے تھے اور تب میں ان سے ملنے وہاں جایاکرتا تھا۔ اسی لئے میں نے اسد محمد خان صاحب سے فوراً کہہ دیا۔ یہ جگہ میری دیکھی بھالی ہے۔ میں باآسانی پہنچ جاﺅں گا۔

 

اسد محمد خاں صاحب سے انٹرویو کے لیے اتوار کا دن اور گیارہ بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ اتوار کا دن کراچی کی سڑکوںاور گلیوںکے لئے آرام کا دن ہوتا ہے۔ اسی لئے شہر کی سڑکیں اور گلیاںہفتے بھر کی ہنگامہ خیزی کے بعداس دن ذرا دیر تک اونگھتی رہتی ہیں۔ میں اپنے شاعر دوست ذوالفقارعادل کے ہم راہ اس علاقے میں پہنچا تو میری یادداشت نے میرا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ کیوں کہ میں یہاں آخری بار ۸۹۹۱ ءمیں آیا تھا۔ تب سے اب تک یہاں بہت سی نئی عمارتیں بن گئی تھیں۔ ہمیں ایک ہوٹل پر بیٹھے لوگوں سے واجد اسکوائر کاراستہ پوچھناپڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلی سڑک پہ واجد اسکوائر ہے۔ ہم آگے چل پرے۔

 

واجد اسکوائر اپارٹمنٹ کے مین گیٹ پر چوکیدار نے ہمیں روکا۔ ہم نے اسے بتایا کہ ہم اسد محمد خان صاحب سے ملنے آئے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے اپارٹمنٹ کا نمبر بتانے لگا تو ہم نے اسے کہہ دیا کہ ہمیں اپارٹمنٹ کا نمبر معلوم ہے۔ میرے شاعر دوست ذوالفقار عادل نے اپنی موٹر سائیکل واجد اسکوائر کے اے بلاک میں اپارٹمنٹ نمبر اے۔ 11 کے سامنے روک دی۔ واجد اسکوائر کے تمام بلاک انگریزی کے حرف” I“ جیسے ہیں،جو کمپاوئنڈ کی چوڑائی میں ایک سرے سے دوسرے تک چلے جاتے ہیں۔ ہر بلاک پانچ منزلوں پرمشتمل ہے۔ اسدمحمد خاں صاحب کا اپارٹمنٹ پہلی منزل پر واقع ہے۔ ہم دونوں سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل تک پہنچے۔ یہاں آمنے سامنے دو اپارٹمنٹ تھے۔ ایک کے باہر دیوار میں نصب، دھات سے بنی چھوٹی سی نام کی تختی پر اردو میں جلی حروف میں ”اسد محمد خان“ لکھا ہوا تھا۔

 

ہم نے دروازے کے ساتھ دیوار میں نصب گھنٹی بجائی تو کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور بیگم اسد محمد خاں نمودار ہوئیں۔ ہم نے مودبانہ سلام کیا۔ انہوں نے دروازہ کھولا۔ ہم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ اسد محمد خاں صاحب کی آمد سے قبل انہوں نے ہماری تواضع کی۔ ہم شربت پیتے اسد صاحب کا انتظار کرنے لگے۔

 

اسد صاحب کا ڈرائینگ روم ان کی نثر کی طرح کسی بھی قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔
مختصر سا ڈرائینگ روم سادگی اور سلیقے سے آراستہ تھا۔ دیواروں پر کسی عظیم مصور کی کسی شہرہ آفاق پینٹنگ کا کوئی عکس آویزاں نہیں تھا۔ بیٹھنے کے لئے عام سا صوفہ سیٹ اور اس کے برابر میں ایک چھوٹی سی شیشے والی الماری رکھی تھی۔ الماری پر حبیب یونیورسٹی کی جانب سے اسد محمد خاں صاحب کے ساتھ منائی جانے والی ایک شام کا سووینیئررکھا تھا۔ اس کے برابر میں تہذیب فاﺅنڈیشن کی جانب سے ملنے والے ایوارڈ کی یادگاری شیلڈ رتھی۔ اور برابر میں لکڑی سے بنا ہوا گھوڑے کا ایک میورل رکھا تھا۔ شیشے والی الماری تین خانوں پر مشتمل تھی۔ پہلے خانے میں رنگین برتنوں والے شوپیس رکھے تھے جب کہ دوسرے خانے میں اسد صاحب کی اب تک چھپنے والی تمام کتب سجی ہوئی تھیں۔ اس سے نیچے والے خانے میں لغات اور کچھ نئے ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں رکھی تھیں۔ اس ڈرائینگ روم کی دو کھڑکیاں باہر کی طرف کھلتی تھیں۔ ان کھڑکیوں سے واجد اسکوائر سے ملحق کسی دوسرے اسکوائر کے فلیٹ دکھائی دے رہے تھے۔ کھلی ہوئی کھڑکیوں سے روشنی اندر آرہی تھی۔
اسد صاحب کا ڈرائینگ روم ان کی نثر کی طرح کسی بھی قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ خود تشریف لے آئے۔ انہوں نے ہم سے پرتپاک انداز میں مصافحہ کیا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔ ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ جب گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے اور نپے تلے لہجے میں گفتگو شروع کی:

 

سوال:آپ حال ہی میں نیو دہلی، انڈیا میں منعقدہ جشنِ ریختہ میں شرکت کرکے لوٹے ہیں۔ ایسے جشن اور ادبی میلے، جو آج کل بہت زیادہ ہورہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ان کے اردو ادب اور ہماری ادبی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
اسد محمد خاں: ایک بنیادی بات یہ ہے کہ،آج کے دور میں ہمارے ہاں کتاب کے خریدار بہت کم ہیں۔ اگر میں اپنے زمانہ طالب علمی کی بات کروں، جب میں ایس ایم کالج اور کراچی یونیورسٹی میں طالب علم تھا، اس زمانے میں ظاہر ہے، نصاب کے علاوہ بہت کم کتابیں چھپا کرتی تھیں، مگر پھر بھی کتابیں خریدنے کا چلن عام تھا۔ اور پنجاب میں خاص طورپر لاہور جو ڈھائی سو برسوں سے اشاعت کا مرکز رہا ہے۔ منشی پریم چند کی پہلی کتاب وہیں چھپی تھی اور ملک بھر مقبول بھی ہوئی تھی۔ منشی پریم چند نے بھی یہ بات کہی تھی کہ لاہور برِصغیر میں کتابوں کی اشاعت اور فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ تو جب سے لے کر آج تک یہی روایت چلی آرہی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ یہاں کراچی میں اور دوسری جگہ پر کتنے ہی پبلشر آئے مگر جم نہ سکے۔ جبکہ لاہور میں نسل در نسل کتاب چھاپنے اور خریدنے کی ایک روایت چلتی رہی۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کا تعلق کسی پڑھے لکھے یا ادبی گھرانے سے ہو، تب ہی آپ کو کتاب خریدنے کا شوق ہو۔ پنجاب میں ایک عام آدمی بھی کتاب خریدتا ہے اور رکھتا ہے۔ یہ ایک بہت دل خوش کن صورت حال ہے۔ میں بھی بہر حال لاہور سے کتاب چھپواناچاہتا تھاتو۰۱۰۲ءمیں ایک جانے مانے پبلشر نے مجھ سے میری کتاب شائع کرنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دی اور ساتھ ہی کچھ اپنی کتابوں کا مواد فراہم کیا۔ اب وہ میری کتابیں چھاپتے ہیں۔ ریختہ جیسے جشن اور پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے ادبی میلوں کی وجہ سے بھی ان ملکوں میں کتابیں فروخت ہونے لگی ہیں اور زیادہ سے زیادہ شہروں تک پہنچ رہی ہیں۔
دیکھیے! یہ اشتہار وں کا دور ہے۔ گزشتہ پندرہ بیس برسوں سے تمام شعبہ ہائے زندگی پر اشتہار غالب آگئے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ آج کل تو مذہبی حضرات بھی اپنے گھروں کے باہر اشتہار لگوادیتے ہیں کہ اگر کسی کو مغفرت کروانی ہے تو ان اوقات میںتشریف لائیے۔ یعنی آج کے دور میں اشتہار بازی کا سہارا لیے بغیر مغفرت کی دعا کرنے والا بھی دستیاب نہیں ہوتا۔
خیر چھوڑیے۔ ۔ ۔ میں اپنی ابتدا کی بات کر رہا تھا۔ ان دنوں سینیئرز میں ایک شانِ بے نیازی ہوتی تھی۔ جوہم نے بھی ا پنے بڑوں مثلاً اطہر نفیس، محشر اور سلیم احمد وغیرہ میں دیکھی:انہیں شعر کہتے دیکھ کر ہمیں بھی ہمت ہوئی کہ ہم بھی شعر کہیں یا گیت لکھیں۔ کیوں کہ وہ بڑے قلم کار کمال سلیقے سے شعر گوئی کر رہے تھے اور پوری سچائی سے ادب سے جڑے ہوئے تھے۔
میں جہاں پیدا ہوا، وہاں کا حال یہ تھا کہ ادب سے زیادہ جاسوسی ناول اور دیگر سنسنی خیز چیزیں چھپا کرتی تھیں۔ ہم اپنے ناناکو سب حکایات اور داستانیں اور طلسمات پڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے، یعنی عام دلچسپی کی کہانیاں، بہرام ڈاکو، سلطانہ ڈاکو اور اس جیسے دوسرے قصے بھی۔ یہ سب وہ بڑے اہتمام سے اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ پریم چند کی کتابوں کا پورا سیٹ بھی ان کے پاس ہوتا تھا۔ اور اگر کوئی نئی کتاب دلی یا لاہور سے چھپتی تھی تو وہ اسے فوراً حاصل کرتے تھے۔ یہ تو بہت پرانی باتیں ہوئیں مگر بعد میں ہمارا معاشرہ کتاب سے دور ہونے لگا۔ معاشرے کی کتاب سے یہ دوری فیسٹیولز جیسے اجتماعات کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے پبلشرز کو رائٹرز کے ساتھ جوڑا۔ رائٹرز کو اس سے پہلے پبلشرز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اس سے پہلے جو پبلشرز ہوتے تھے، کسی ایک مقبول رائٹر پر قبضہ کرلیتے تھے اور پھر دھڑادھڑ اسی کی کتابیں چھاپتے رہتے تھے۔ یعنی یہ ہوتا تھا کہ شاعری اور سنجیدہ ادب کی کتابیں پبلشر چھاپنے پرتیار نہیں ہوتے تھے۔ افسانوں کی اشاعت پبلشرز کے لئے پرکشش تھی کیوں کہ اکثر لو گ سلسلہ وار کہانیاں پڑھنا چاہتے تھے۔ بہر حال کراچی میں جتنے بھی ادبی میلے ہوئے میں وہاں جاتا رہا۔ پانچ سات بار لاہور اور اسلام آباد یا دلی اور علی گڑھ بھی جانا ہوا۔

 

ہمارے دادا بہت خوش ہو کر بتاتے تھے کہ تم اس گھر میں پیدا ہوئے تھے، جسے انگریز کے جوتے صاف کرنے والوں نے برباد کرنے کی کوشش کی تھی۔
سوال: کیا آپ کے ماضی کا یا آپ کے آباﺅاجداد کے ماضی کا آپ کے فکشن پر کوئی اثر ہوا؟اگر ہوا تو آپ کے خیال میں وہ کیسا اثر ہے؟
اسد محمد خاں:ماضی کا اثر میرے فکشن پر بے شک ہوا۔ گزشتہ پانچ چھ صدیوں کے دوران افغانستان اور سرحد کے قبائل نقلِ مکانی کر کے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ ہندوستان میں کل چھ سو چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں۔ جن میں سے بیس تیس۔ ۔ ۔ بڑی ریاستیں پٹھانوں کے پاس تھیں۔ رام پور، شاہ جہاں پور، بھوپال،خورجہ وغیرہ۔ یہ سب نقلِ مکانی کرنے والے پٹھانوں کی ریاستیں تھیں۔ مغلوں کے بعد ہندوستان مٹ رہا تھا۔ راج پوت اپنے علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے۔ پٹھان جن کے پاس مغلوں کی فوج کی بیشتر کمان رہی تھی اور وہ فوج میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے، تو ان کے واپس جانے کا سوال ہی نہ تھا۔ وہ سال میں ایک آدھ بار اپنے آبائی علاقے کا چکر لگا آتے تھے۔ ویسے پٹھانوں کو ہندوستان میں رہ کر زمینوں اور زمین کے باسیوں کو سنبھالنے کا سلیقہ بھی آگیا تھا۔ ہمارے جدِ اعلی اورنگ زیب کی فوج کے سالار تھے۔ ان کے علاوہ بیشتر سالار بھی پٹھان ہی تھے۔ ہمارے جدِ اعلی نے سب کو یک جا کیااور ان سے کہا کہ زندہ رہنا ہے تو ہم کو منظم ہونا چاہیے۔ چنانچہ بھوپال میں ایسے ہی ہوا۔ کملا پتی جو بھوپال کے آخری راج پوت حکم راں کی بیوی تھی۔ اس کا شوہر ایک جنگ میں مارا گیاتواس رانی نے ہمارے جدِاعلی کو فوج کے سب سے اہم عہدے پر مامور کیا۔ رانی کے کتنے ہی قرابت دار اِس جنگ میں مارے گئے تھے تو اس نے ہمارے جدِ اعلی کے ہاتھ پر راکھی باندھی اور کہا کہ آج سے آپ میرے بھائی ہیں۔ اس کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا تھا۔ رانی نے کہا۔ ” میرا بیٹا فنِ حرب سے ابھی ناآشنا ہے۔ آپ اسے مکمل فنِ حرب اور حکمرانی کے طور طریقے سکھائیں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے“۔ رانی یہ سب کہنے کے ایک دو دن بعد خود سَتی ہو گئی۔ وہ ایک تالاب میں اپنی چھ سات سہیلیوں کے ساتھ ڈوب مری۔ جدِ اعلی نے اس جگہ پر ان کی یادگار بنوائی تھی، جس کی دیکھ بھال اور تعمیر جاری رہی۔ انہوں نے چار برس تک راج کمار کی خوب تربیت کی۔ پھر وہ کسی مرض میں مبتلا ہوگیا۔ ایک ڈیڑھ مہینہ بیمار رہ کر چل بسا۔ اس وقت تک انگریز ریاست میں آچکے تھے اورتمام ریاستیں انگریز کے ساتھ تعاون کر نے پر مجبور تھیں۔ انہوں نے جدِ اعلی سردار دوست محمد خاں کو ریاست کا نگران مقرر کر دیا۔ تین چار برس بعد ریاست کا نواب بنا کر گدی پر بٹھا دیا۔ اس طرح وہ ریاست کے باضابطہ حاکم بن گئے۔
ہمارے خاندان اور تمام پختون خاندانوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ مذہبی تعلیم کے بعد جب بچے اپنا نام لکھنا سیکھ لیتے تھے تو وہ ان سے خاندان کا شجرہ لکھواتے تھے اور اس طرح انہیں ازبر کرا دیتے تھے۔ وہ شجرہ چالیس پچاس نسلوں پر محیط ہوتا تھا۔ بزرگ بچوںسے پوری سو کاپیاں بنواتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس سے تمہارا خط بھی ٹھیک رہے گا اور یہ بھی یاد رہے گا کہ ہم سپاہی لوگ تھے، ہم افغانستان اور صوبہ سرحد سے آئے تھے اور بھوپال ریاست کے حاکم بنے تھے۔
تو یہ ہماری تربیت کا پہلا سال تھا۔ جنگِ عظیم دوم یعنی 1939ءسے پہلے ہمیں نام وغیرہ لکھنا آگیا تھا۔ اس کے بعد ہم سب کی باقاعدہ تعلیم شروع ہوئی۔ شجرہ نسب لکھنا کوئی انوکھی بات نہیں ہوتی تھی۔ بھوپال میں ہر پٹھان کے پاس ایک صندوق شجروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ شجرے میں ہربات بے کم و کاست لکھی جاتی تھی۔ اگر ہمارے خاندان میں کوئی سرکار کا باغی یا کوئی ٹھگ گزرا ہے، تو ہمارے دادا تھے تھے، اس کا پورا نام لکھو، فاضل خان باغی یا عادل خان ٹھگ۔ یہ سن کر ہم ہنستے تھے، تو وہ ہمیں ڈانٹتے تھے کہ نالائق ہنسو نہیں۔ یہ مقامِ عبرت ہے کہ اپنے ہی گدی نشینوں نے کس طرح ہمیں بے توقیر کیا۔ اپنے نافرمان قرابت داروں کو ٹھگ مشہور کیا۔ ہم نے اپنے خاندان میں شامل تمام لوگوں کے مناصب اور مراتب نہ صرف تحریر کیے بلکہ انہیں ہمیشہ یاد بھی رکھا۔ شجرے میں بہت سے اہم واقعات بھی درج کیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر دادا نے مجھے بتایا کہ تم لوگ جس گھر میں پیدا ہوئے ہو، اسے انگریز کے خوشہ چینوں نے آگ لگا دی تھی۔ کیوں کہ ہمارے جدِ اعلی میں سے ایک جرنیل نصرت محمد خاںنے 1857ءکی بغاوت میں ایک بھیل جرنیل اور جھانسی کی رانی کا ساتھ دیا تھا۔ جب ان لوگوں کو انگریز کے ہاتھوں شکست ہو گئی، تو ہمارے بزرگ نصرت محمد خاں عرف کولے میاں نے بھوپال آکر اپنے اس گھر میں روپوشی اختیار کی۔ انگریزوںکو معلوم ہوا کہ وہ ہمارے خاندان سے تھا، تو انہوں نے یہ سب کیا۔ نصرت محمد خاں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ فرار ہو گئے۔ گویا ہم ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے۔
ہمارے دادا بہت خوش ہو کر بتاتے تھے کہ تم اس گھر میں پیدا ہوئے تھے، جسے انگریز کے جوتے صاف کرنے والوں نے برباد کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاندان کو جو زمینیں ریاست کی طرف سے بطور عطیہ ملی تھیں، وہ تو ریاست نے پہلے ہی واپس لے لی تھیں۔ مگر جو زمینیں ہمارے دادا نے خریدی تھیں، وہ آخر تک خاندان کے پاس رہیں۔ ان میں زیادہ تر اوبڑ کھابڑ زمینیں تھیں۔ لوگوں نے دادا سے کہا کہ میاں تم ان اوبڑ کھابڑ زمینوں پر کیا کھیتی باڑی کرو گے؟ دادا نے جواب دیا۔ کھیتی نہ سہی،کچھ نہ کچھ تو کریں گے۔ دادا نے ان پر آم اور جامن کے درخت لگا دئیے۔ ان پھل دار درختوں کی وجہ سے دادا خوش حال ہوئے۔ ریاست والے یہ سمجھتے تھے کہ زمینیں چھنوا دینے سے اور بے کار قسم کی زمینیں سنبھالے رکھنے سے کمال محمد خاں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر آم اور جامن کے درختوں سے دادا کو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی۔ وہ ہر موسم میں درختوں کا ٹھیکہ من مانے پیسوں پر دیتے تھے۔ دادا کا یہ کاروبار بہت چلا۔ دوسرے لوگ بھی ان کی پیروی کرنے لگے۔ یہ اور اس طرح کے تمام چھوٹے بڑے واقعات میں نے اپنی کہانیوں میں لکھے۔ کہیں تو یہ بیان کیا کہ ہم لوگوں نے یہ سب کچھ اپنے بزرگوں سے سنا ہے۔ اور کہیں میںنے انہیں افسانے کی شکل دے کراپنے انداز سے تحریر کیا ہے۔

 

سوال: کیا آپ کے خاندان میں کوئی شخص ادیب ہوا؟
اسد محمد خاں: ہمارے خاندان میں دو بزرگ شاعر ہوئے ہیں، نثار بھی تھے، بعضوں نے نوشتیں بھی چھوڑی ہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی شخص افسانہ نگار نہیں ہوا۔ میں شاید اپنے خاندان میں پہلا کہانی کار ہوں۔ ہمارے والدمصور تھے اور انہوں نے پورٹریٹ بنانے میں نام پیدا کیا۔ انہوں نے ٹیگور اور نہرو کے پورٹریٹ بنائے۔ انہیں بھوپال کے نواب نے مدعو کیا تھا تو انہوں نے نواب بھوپال کا بھی پورٹریٹ بنایا۔ وہ ان کا کمرشل کام تھا۔ انھوں نے قائدِاعظم کا بھی پورٹریٹ بنایا تھا، جس وقت وہ صرف محمد علی جناح ایڈووکیٹ تھے۔ وہ اس دور میں بھوپال آئے تھے جب انہوں نے بھوپال ریاست ایک مقدمہ لڑا تھا۔ ہمارے والد نے انہیں جب یہ تصویر پیش کی تو انہوں نے بہت خوش ہو کر تصویر پر آٹوگراف کیے تھے۔ نواب بھوپال نے ہمارے والد کی فنی خدمات سے خوش ہو کر ایک قطعہِ زمین انہیں تحفتاً دیا تھا۔
ان دنوں بھوپال میں غزل کی شاعری کا دور تھا۔ اور بیت بازی کے مقابلے منعقد ہوتے تھے۔ سنجیدہ لوگ بیت بازی کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر طرحی مشاعروں میں شرکت کو ایک طرح کا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اسی دور میں ترقی پسند لکھنے والوں کا اثر بھوپال تک پہنچا۔ تو اس کے بعد طرحی مشاعرے کو بھی فضول سمجھا جانے لگا۔ ہم نے بھی کہا کہ ہم غزل ہی کیوں لکھیں، ہم نظمیں اور گیت لکھیں گے۔ وہ ترقی پسندی کے عروج کا دور تھا۔ میں انٹر میڈیٹ کا اسٹوڈنٹ تھا اور حمیدیہ کالج میں پڑھتا تھا۔ بھوپال میں ترقی پسندوں کی کانفرنس ہمارے ہی کالج میں منعقد ہوئی تھی۔ کرشن چندر اور ان کے بھائی مہندر ناتھ وہاں آئے تھے۔ کرشن چندر ایک دو روز میں چلے گئے تھے مگر مہندرناتھ وہاں کئی روز تک ٹھہرے تھے۔ بیشتر اسٹوڈنٹس انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ہم اپنے اسکول کے اولڈ بوائے احسن علی خاں اور ان کی منگیتر اختر جمال کو اپنا رہنما کہتے تھے اورسمجھتے تھے کہ یہ ہمارے موقف کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اسے پروموٹ کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ترقی پسند تھے۔ ان دنوں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد تھی۔ ایک صاحب اندور سے آئے تھے کامریڈ ڈانگے۔ انہوں نے بھوپال میں کمیونسٹ پاٹی کی بنیاد رکھی تھی۔
ایک احتجاج میں ہم بھی دھر لئے گئے۔ اور سترہ دن حولات میں گزارنے پڑے۔ ان کامریڈصاحب نے نواجوانوں کے بہت متاثر کیا تھا۔ ہم ان کی باتیں بہت غور سے سنتے تھے۔ وہ بہت پڑھے لکھے آدمی تھے۔ انہوں نے کمیونزم پر بے شمار کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔ ایک دوست نے مجھے بہت غور سے ان کی باتیں سنتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا۔ تم تو ان کی باتیں ایسے سنتے ہو جیسے یہ کوئی حدیث یا قرآن سنا رہے ہوں۔ ایسی باتیں سن کر ہم لوگ ہنستے تھے۔ ہمارے خاندان والے ہمیں کہتے تھے کہ ہم تم سب کے ہاتھ پیر توڑ دیں گے۔ تم لوگ ہنس کر ایک طرح سے قرآن کی توہین کر رہے ہو۔ ہم چونکہ کشادہ ذہن تھے، اس لیے ایسی مثالیں دینے والوں پر ہنستے تھے۔ اپنے دین اور اپنی تہذیب کا بہرحال ہم احترام کرتے تھے۔ ہم لوگ خود کو کامریڈ کہتے تھے اور اپنی میٹنگز چھپ کر کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ کمیونسٹ پارٹی پر پابندی تھی۔ چار مرتبہ ہم نے اپنے گھر میں میٹنگز کروائیں۔ پہلے صرف ہماری والدہ کو اس قصے کا پتہ تھا۔ وہ کچھ نہیں کہتی تھیں۔ جب والد کو پتہ چلا تو انہوں نے خوب سنائیں۔ اور جب ہم گرفتار ہوگئے تو انہوں نے والدہ سے کہا۔ ” دیکھا!آپ اسے اگر اس وقت روکتیں، جب آپ کو یہ سب معلوم ہوا تھا۔ تو یہ خبیث یہ کام ہی نہ کرتا۔ اس نے گھر میں چار جلسے بھی کر لئے۔ اور اب کامریڈ اور لیڈر بن کر حوالات میں بند ہے۔ “ ہمارے ماموں (والدہ کے کزن) ڈی ایس پی تھے۔ وہ ٹریننگ کے لیے بمبئی گئے ہوئے تھے۔ وہاں حکومت ہمارے پولیس آفیسرز کو تربیت دے رہی تھی۔ بھوپال سے ان کے پاس تار پر تار جارہا تھا کہ اسد کو پکڑ لیا ہے۔ بمبئی جانے سے پہلے وہ ہماری والدہ کو بتا چکے تھے کہ آپا، پولیس کے پاس اسد کے خلاف بہت موٹی فائل بن گئی ہے۔ اور یہ کسی روز دھر لیا جائے گا۔ جب ماموں بمبئی گئے تو جو قائم مقام پولیس افسر تھا، اس نے میری فائل کھول لی اور مجھے گرفتار کر لیا۔ ثبوت کے طور پر میرے ہاتھ کا لکھا ایک پوسٹران کے ہاتھ لگا تھا۔ میری رہائی دو تین روز میں بھی ہوسکتی تھی۔ کیوں کہ ماموں بمبئی سے مسلسل فون کر رہے تھے کہ یہ میرا انکوائری کیس ہے۔ اسد کو کیوں بند کیا ہوا ہے، چھوڑ دو، میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ میرے ماموں کو ٹریننگ چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ مگرمیرے کسی طرح کا اعتراف نہ کرنے کی وجہ سے اور تفتیش کے دوران ذرا بھی تعاون نہ کرنے کی وجہ سے رہائی سترہ دن بعد ہوئی۔ دراصل وہ میرے تمام ساتھیوں کی گرفتاری چاہتے تھے اور میں سب کو پھنسانا نہیں چاہتا تھا۔ پھر اچانک جب میری والدہ بیمار ہو کر ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہو گئیں، تو ماموں نے ایک ہیڈکانسٹیبل کو میرے پاس بھیجاکہ جاکر ان لیڈرصاحب سے کہو کہ آپ کی والدہ ہاسپٹل میں ہیں۔ ہیڈکانسٹیبل میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ سب بتا یا اور اس کے بعدکہنے لگاکہ تم ایک معافی نامہ لکھ دو۔ میں بولتا جاتا ہوں۔ یا تم خود ہی لکھ لو۔ والدہ کے اسپتال میں داخلے کا سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے معافی نامہ لکھ دیا۔
اس معافی نامے کے بعد اٹھارہ آدمی گرفتار ہوئے۔ میری رہائی کے بعد کمیونسٹ پارٹی بھوپال والے میرے گھر پر پتھراﺅ کرنے لگے۔ مجھے دھمکیاں ملنے لگیں کہ تمہیں دیکھ لیں گے۔ تم نے اپنے مقصدِعین سے غداری کی ہے۔ تم نے پرولتاریہ سے غداری کی ہے۔ ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ اسی وجہ سے مجھے پاکستان آنا پڑا۔ کیوں کہ میرے خاندان کے لوگ بڑے لٹھ باز اور تلوار باز تھے۔ مجھے لگا کہ میری وجہ سے یہ دو تین لاشیں گرا دیں گے۔ کسی نے کہا کہ خون دوسرے کریں گے مگر الزام تیرے سر آئے گااور پولیس تجھے پھر گرفتار کرلے گی۔
میرے بڑے بھائی اس وقت سیال کوٹ کے مَرے کالج میں پڑھ رہے تھے۔ تو اس واقعے کے بعد میں پاکستان آگیا۔ اگر میں نہ آتا تووہاں ایک دو کمیونسٹ مار دیے جاتے۔ وہ بھی بہت دور دور سے آئے ہوئے تھے۔ ان میں مراٹھے بھی تھے۔ سب یک زبان تھے کہ اس شخص نے ہمارے مقصد سے غداری کی ہے۔
خیر اب پڑھنے لکھنے کی سنیے۔ میں انٹر میں پڑھ رہا تھا۔ جے جے اسکول آف آرٹ سے فری ہینڈ رائٹنگ میں ڈپلوما کیا تھا۔ (ایم۔ ایف۔ حسین بھی جے جے اسکول آف آرٹ کے فاضل تھے۔ انہوں نے وہاں سے ماسٹرز کیا تھا۔ یہ ہمارے لیے بھی اعزاز کی بات تھی)۔ والد نے مجھ سے کہا: تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ تم جے جے اسکول آف آرٹ سے باقاعدہ فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرو دوسری صورت یہ کہ پاکستان چلے جاﺅ۔ جے جے کی ڈگری لو گے تو تم کہیں بھی آرٹ ماسٹر لگ جاﺅ گے۔
میرے والد نے ٹیگور کے شانتی نکیتن سے ڈپلوما کیا تھا۔ والد صاحب نے جب ٹیگور کے ادارے میں داخلہ لیا تھا تو ہمارے دادا کے ایک ہندو دوست نے ان کو ورغلایا کہ ٹیگور تو ناستک ( لادین) ہے۔ وہ تمہارے بیٹے کو بھی اپنے جیسا بنا دے گا۔ یہ سن کر دادا نے فوراً والد کو تار بھیجااور والد بھوپال آگئے۔ دادا نے انہیں روک لیا کہ اب تم وہاں نہیں جاﺅ گے۔ میرے والد کبھی کبھی یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ انہوں نے شانتی نکیتن میں صرف چھ مہینے ہی گزارے تھے۔ وہ وہاں کم سے کم چار سال گزارنا چاہتے تھے۔
بھوپال میں ہر سال جے جے اسکول آف آرٹ کے امتحان ہوتے تھے۔ ان کا ایک آدمی پیپر لے کر آتا تھا۔ وہ ہم سب کے سامنے پیپر کی سیل کھولتا تھا۔ وہی ممتحن ہوتا تھا۔ بھوپال کے اسکولوں سے ساٹھ ستر لڑکے آئے تھے۔ جو لڑکا امتحان پاس کرلیتا تھا۔ اسے جے جے اسکول آف آرٹ سے سرٹیفیکیٹ ملتا تھا۔ ایک امتحان میں، میں صرف پاس ہوا، جب کہ دوسرے میں فرسٹ آیا تھا کیوں کہ میرے والد نے خوب محنت کروائی تھی۔ والد صاحب پورٹریٹ بنا نے کے ماہر تھے۔
جب میں 1950ءمیں لاہور آیا تو وہاں سے ایک اخباروزنامہ احسان نکلتا تھا۔ مجھے اس میں کارٹونسٹ کی جاب مل گئی۔ دو سو روپے تنخواہ تھی۔ اخبار کے ایڈیٹر مجھے کہتے تھے کہ روز ایک کارٹون بناﺅ۔ احسان کے ایڈیٹر کا تعلق بھوپال سے تھا۔ وہ میرے والد کو جانتے تھے۔ میں نے شروع میں کارٹون بنائے لیکن میں بہت سست رفتار تھا۔ ایڈیٹر نے مجھ سے کہا۔ کوئی بات نہیں۔ ہفتے میں دو کارٹون بناﺅ۔ انہوں نے میرے لیے گنجائش نکالی۔ لیکن وہ کام مجھ سے نہیں چلا۔ میں نے وہاں جیسے تیسے دو سال نکالے۔ میں نے ایک روز ان سے پوری ایمان داری سے کہا۔ میں دو سے زیادہ کارٹون نہیں بنا سکتا۔ آپ میری وجہ سے اپنے لئے مشکل پیدا نہ کیجیے۔ اس لیے میں لاہور چھوڑ کر کراچی جا رہا ہوں۔
دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

 

میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔
سوال: آپ نے ادب پڑھنا اور لکھنا کب اور کیسے شروع کیا؟ابتدا میں کن لوگوں سے متاثر ہوئے؟مطالعے میں آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا رہے؟
اسد محمد خاں: میں اسکول میں جب نویں جماعت کا طالب علم تھا تو میں نے لکھنا شروع کردیا تھا۔ میں نے اپنے اسکول میگزین میں دو مضامین لکھے۔ ایک اپنے ہم جماعت کا مزاحیہ خاکہ لکھاتھا۔ وہ ہم سے عمر میں چھ سات سال بڑے تھے اوربہت طویل قامت تھے۔ جب وہ خاکہ چھپا تو کچھ لوگوں نے کلاس فیلو کو اکسایا کہ اسد نے تمہارا مذاق اڑایا ہے۔ اسے مارو۔ میرے والد اسی اسکول میں پڑھاتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا تو انہوں نے کلاس فیلو کو بلایا اور پوچھا کہ تم اس کے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ اس نے بتایا کے اسد نے میرا مذاق اڑایا ہے۔ والد نے کہا۔ خاکہ کہاں ہے، مجھے دکھاﺅ۔ اس نے دکھایا۔ والد صاحب نے کہا کہ بیٹا وہ صرف ایک خاکہ ہے۔ جو کسی شخصیت پر لکھا جاتا ہے۔ تمہا رے اندر جو بھلی باتیں ہیں جیسے تم جھوٹ کبھی نہیں بولتے، چاہے ماسٹر سے پٹ کیوں نہ جاﺅ۔ اسد نے وہ بھی لکھا ہے۔ تم جب غصہ ہوتے ہو تو آدمی کے پیچھے بھاگتے ہو، لیکن تمہاری دوڑ اچھی نہیں ہے، اس لئے وہ آدمی تم سے نکل جا تا ہے۔ ۔ ۔ تو پھر تمہارا غصہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگے مجھے لڑکوں نے اکسایا ہے۔ ۔ ۔ میں ان سب کے دماغ ٹھیک کردوں گا۔ اب مجھے اسد سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ وہ بے حد سادہ دل آدمی تھے۔ بعد میں والد صاحب نے یہ ساری بات مجھے بتائی کہ انہوں سے اسے سمجھا دیا ہے۔ وہ خاکہ اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
بھوپال میں ان دنوں ترقی پسندی کی تحریک زوروں پر چل رہی تھی۔ وہ لوگ ہمیں بھی بلاتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ ان کی میٹنگ میں ایک انقلابی مضمون پڑھاتھا جو بعد میں پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ جوظالموں، سرمایہ داروں اور حاکموں کے خلاف اور مظلوموں، مزدوروں اور محکوموں کے حق میں تھا۔ میں نے اس میں انقلاب کی نوید سناتے ہوئے مزدوروں سے یک جہتی کا اظہار کیا تھا۔ ترقی پسندوں نے اس مضمون کی بہت تعریفیں کیں۔ بعد میں ایک بزرگ جو ایک مقامی اخبار سے وابستہ تھے، انہوں نے مجھ سے کہا۔ ”میاں! یہ ترقی پسندی کی ایک لہر ہے، جس میں سب چل پڑے ہیں۔ تم ان سے سیکھو لیکن تم ان کے مسلک کی تبلیغ نہ کرو۔ “ انہوں نے مجھے بہت سے ادیبوں کی مثالیں دے کر سمجھایا کہ ایک ادیب کی کمٹ منٹ ادب سے ہونی چاہیے۔ کسی آئیڈیالوجی یا نظریے سے نہیں ہونی چاہیے۔ آپ اگر اپنے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں تو جان لیں کہ وہ ایک الگ شعبہ ہے۔ آپ بے شک کتابیں لکھیے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آزاد رہنا چاہتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ آزاد رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے کمیونسٹ بھائیوں کو خدا حافظ کہیے۔ اگر مسلم لیگ والے آئیں تو ان سے بھی کہیے کہ آپ کی تحریک بہت اچھی ہے لیکن میں آپ کے حق میں کچھ نہیں لکھوں گا۔
وہ صاحب بہت لائق و فائق تھے۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ کمٹ منٹ لکھے ہوئے لفظ سے ہونی چاہیے، کسی تحریک سے نہیں۔ وہ کہتے تھے، اپنا الگ اسلوب وضع کرنے کی کوشش کرو، جو رفتہ رفتہ تمہاری دسترس میں آئے۔ جسے پڑھ کر لوگ کہیں کہ یہ اسد کا اسلوب ہے۔ اگر تم کسی مشہور ادیب کے اسلوب میں لکھو گے تو لوگ کہیں کے یہ تمہارا نہیں بلکہ اس کا اسلوب اور اس کا بیانیہ ہے۔ تم ان تمام چیزوں سے اٹھ کر، دردمندی سے، انسانی سطح پرکسی بھی مسئلے کو سوچو اور اسے اپنے طور پر بیان کرو۔ تو وہ تمہاری اپنی لکھت ہوگی۔ ان کا یہ بر وقت مشورہ میرے بہت کام آیا۔ اس کے بعد میں نے ایک افسانہ لکھا اور اسے بنگلور سے محمود ایاز کی ادارت میں نکلنے والے ادبی جریدے سوغات میں چھپنے کے لئے بھیجا۔ میراپہلا افسانہ سوغات میں چھپا۔ وہ اسی طرح کا تھا جیسے افسانے اس وقت لکھے جا رہے تھے۔ بہت بعد میں یعنی 1982ءمیں میں نے اپنے پیسے جمع کرکے اپنی پہلی کتاب چھپوائی۔ اس کا نام تھا ” کھڑکی بھر آسمان“۔ اس میں تیرہ افسانے تھے۔ اور نظمیں بھی شامل تھیں۔

 

میرے پہلے مجموعے کھڑکی بھر آسمان میں کوئی چالیس بیالیس نظمیں شامل ہیں اور تیرہ افسانے بھی ہیں۔
سوال: آپ کے بارے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ آپ نے ادب میں اپنا آغاز شاعری سے کیا تھا۔ آپ نے شاعر کے طور پر شہرت بھی حاصل کرلی تھی۔ پھرآپ اچانک شاعری چھوڑ کر افسانے کی طرف آگئے۔ کیا یہ درست ہے؟
اسد محمد خاں: جی یہ بالکل صحیح ہے۔ میرے پہلے مجموعے کھڑکی بھر آسمان میں کوئی چالیس بیالیس نظمیں شامل ہیں اور تیرہ افسانے بھی ہیں۔ میں پہلے نظم کہتا تھا اور گیت لکھتا تھا۔ غزل میں نے آج تک نہیں کہی۔ ہاں ایک مرتبہ ایک غزل کہی تھی۔ اطہر نفیس ہمارے بہت پیارے دوست تھے۔ وہ کہنے لگے کہ سب لوگ کہتے ہیں کہ اسد غزل نہیں کہتا۔ ایک طرحی مشاعرہ ہونے والا ہے، جس کے لیے مصرعہ دیا گیا ہے: لختِ جگرِ حیدرِ کرار ہیں بابا۔ (یہ مصرعہ یوسف شاہ کی غزل کا تھا۔ جو اطہر نفیس کے پیرومرشد تھے)۔ اطہر بھائی نے کہا، تم غزل کہو۔ ساقی نے کہا کہ اگر تم نے غزل نہ کہی تو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ خیر، میں نے ایک غزل کہی۔ غزل بھی گیت جیسی ہی تھی۔ ” دنیا تو سمٹتی ہوئی بے رنگ کلی ہے۔ پر آپ کمل روپ ہیں، مہکار ہیں، بابا۔ “ اطہر نفیس یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے کہ یار تو نے تو کمال کر دیا۔ میں نے کہا۔ ساقی نے دھمکی دی تھی، جان تو بہر حال بچانی تھی۔ وہ بہت ہنسے۔

 

سوال: شاعری کا تجربہ کیسا رہا؟
اسد محمد خاں:شاعری کا تجربہ تو بہت اچھا رہا۔ لیکن میری دو کہانیاں ” مئی دادا“ اور ”باسودے کی مریم“ ایسی بھری ہو ئی آئی تھیں کہ لوگوں نے کہا کہ اب آپ کو زیادہ تر افسانہ لکھنا چاہیے۔

 

سوال:آپ کے گیتوں کی وجہ شہرت کیا تھی؟
اسد محمد خاں:اس زمانے میں گیتوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ کل سات یا آٹھ گیت کہے تھے۔ ”انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند“ راگ درباری میں تھا۔ جب کہ ایک نظم بھی بہت مشہور ہوئی تھی۔ ”میں وندھیا چل کی آتما“۔ میں اسے اپنے انداز میں ترنم سے پڑھتا تھا۔ میں نے اس نظم میں اپنی زاد بھوم بھوپال کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ شروع شروع میں اٹھارہ اٹھارہ سال وہاں جانا نہیں ہوتا تھا۔ اس دوری نے مجھ سے ایسی نظمیں گیت لکھونے میں زیادہ کردار ادا کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہا ں اپنے وطن میں مجھے کوئی تکلیف تھی۔ یہاں میرے پاس کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ایک بہت اچھی نوکری تھی۔ کام کے دوران وہاں وقت ملا تو میرا پڑھنا لکھنا بھی جاری رہا۔ اس کے علاوہ کمرشل کام بھی بہت ملنے لگا تھا۔ مثلاً ریڈیو اور ٹی وی کے لیے۔ ٹی وی پر مدبر رضوی، عبیداللہ علیم اور افتخار عارف تھے۔ وہ دوست فرمائش کرتے تھے۔ میں ان سے کہتا تھا تم میرے دوست ہو۔ تم اگر چاہتے ہو کہ میں لکھوں تو ٹھیک ہے میں ضرور لکھوں گا۔ افتخار عارف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تم کچھ نہ کچھ لکھ کر ہمیں دیتے رہو۔ خیال گائیکی کے ایک استادٹی وی میں موجود تھے۔ استاد عاشق علی خاں۔ وہ اصرار کر کے کہہ کہہ کے راگوں پر لکھواتے رہے۔ اس زمانے میں 50 یا 25 گیتوں کا ایک مجموعہ طبع ہوا۔ ویسے کل دو ڈھائی سو گیت نظمیں لکھیں۔

 

سوال: آپ کے ایک افسانے ”ہے للا للا“ میں جس عاشق علی خاں کا ذکر ہے، کہیں یہ وہی تو نہیں؟
اسد محمد خاں : جی ہاں۔ وہی ہیں۔ وہ جینوئن آدمی تھے۔ افسروں سے کہتے تھے کہ اگر آپ لوگ مجھے ٹی وی پر کام نہیں دے رہے توہمیں فارغ کر دو۔ کیوں کہ باہر کتنے ہی لوگ ہیں جو ہم سے کام کروانا چاہتے ہیں۔ استاد عاشق علی خاں نیپئیر روڈ کے بدنام محلے میں کسی پلازا کی چھت پر چھپر ڈال کے رہتے تھے۔ وہ بہت ہی باکمال، درویش مزاج آدمی تھے۔ میں ایک دوست کے ہم راہ ان کے گھر بھی گیا تھا۔ ہم وہاں جا کر لرز کر رہ گئے تھے۔ بچیاں ان کی بہت چھوٹی تھیں، گھر سے پڑھنے کو نکلتیں تو لمبے برقعوں میں ملفوف ہو کے نکلتی تھیں۔ مگر وہ کیا کرتے، اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں تھی۔ اس محلے میں وہ راگ داری تعلیم دینے کی ٹیوشن دیتے تھے۔ عاشق علی خاں کراچی میں خیال گائیکی کے دو بے مثال گانے والوں میں سے ایک تھے۔ اس وقت پورے پاکستان میں صرف چار یا پانچ لوگ ہی خیال گا سکتے تھے۔ وہ بہت درد مند آدمی، بہت ہی محبت کرنے والے انسان تھے۔ خدا مغفرت کرے۔
میں نے ٹی وی کے لئے کام کرتے ہو ئے بہت کچھ سیکھا اور وہاں بہت اچھے لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔ عبیدللہ علیم تو پرانا دوست تھا،اس نے میری بہت ہمت بڑھائی اور کہا۔ اسد بھائی، ٹی وی کے لیے بھی لکھتے رہو۔ اور گیتوں سے زیادہ توجہ اپنی کہانیوں پر دو۔ ابھی تم نے دو کہانیاں لکھی ہیں، پانچ چھ، پچاس، ساٹھ، سو اور لکھو۔ تو ان سب دوستوں نے فکشن لکھنے کے لئے اصرار کیا، حوصلہ بڑھایا۔

 

سوال: تو کیا آپ کی گیت نگاری اور نظم گوئی کا اثر آپ کے افسانوں پر بھی ہوا؟
اسد محمد خاں: جی ہاں۔ جیسے میں نے عاشق علی خاں پر افسانہ لکھا تھا۔ ان کی درد مندی اور جس عذاب سے وہ گزر رہے تھے، اس کا ذکر کیا تھا۔ ان کا خاتمہ بہت ہی الم ناک صورتِ حال میں ہوا تھا۔ سوائے آواز کا فن (راگ درباری) سکھانے کے ان کے پاس روزی کمانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔

 

سوال:آپ کے خیال میں ریڈیو اورٹی وی کے ڈراموں میں کہانی کہنے اور کرداروں کے ٹریٹ منٹ اور تکنیک میں کیا فرق ہے؟
اسد محمد خاں: ریڈیو اور ٹی وی کے فرق کو میں زمانوں کے حوالے سے دیکھتا ہوں۔ ایک وہ ریڈیو تھا جس میں یاورمہدی جیسے کمیٹیڈ آدمی کام کرتے تھے۔ ایک ایسے آدمی جن کی علم و ادب اور فنون پر مضبوط گرفت تھی۔ انہوں نے ڈھیروں کتابیں پڑھ رکھی تھیں، جو بے گنتی کلاکاروں کے کام کو سمجھتے تھے۔ پھر ریڈیوپرحمید نسیم صاحب تھے۔ قمر جمیل صاحب تھے۔ قمر صاحب نے مجھے ریڈیو سے ٹی وی کی طرف جانے کے لیے کہاتھا۔ وہ کہتے تھے،تم ریڈیو پر خاکے لکھنا چھوڑواور ٹی وی کوڈرامہ لکھ کر دو۔ اور ایسا ڈرامہ لکھوکہ لاہور سے تمہیں فون آئے کہ ہم ان صاحب کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ انہوں نے کہاکہ ڈرامے کے لیے منفرد موضوع منتخب کرو اور اسے سرسری طور پر نہیں بلکہ مفصل انداز میں تحریر کرو۔ تا کہ سب کو معلوم ہو کہ یہ اسد محمد خاں کا تحریر کردہ ڈرامہ ہے۔ وہ ڈرامہ کاغذ پر بھی لوگوں کو اچھا لگے اور جب ان کی سماعتوں تک پہنچے تب بھی انہیں بھلا لگے۔ میں قمر جمیل صاحب کا احسان مند ہوں کہ وہ مجھے خاکے لکھنے سے ہٹا کر ڈرامے کی طرف لائے۔ انہوں نے یہ بھی سمجھایا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر آدمی کی فرمائش پوری کرو۔ یہ وہی دور تھا جب میں نے اپنے اولین افسانے ” مئی دادا“ اور ”باسودے کی مریم “لکھے تھے۔ قمر جمیل وہ افسانے پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ برابر مجھے افسانے لکھنے کی طرف راغب کرتے رہے۔

 

سوال: آپ کے پہلے شعری مجموعے کا کیا نام تھا؟
اسد محمد خاں: میرے پہلے شعری مجموعے کا نام تھا ”رکے ہوئے ساون“۔ اس میں گیت، آزاد نظمیں اور نثری نظمیں شامل تھیں۔ اس میں نثری نظمیں کم کم تھیں کیوں کہ میرا رجحان گیت نگاری کی طرف زیادہ تھا۔ میری آزاد نظموں میں بھی گیت کا سا ترنم ہوتا تھا۔ نثری نظم میں میرے بعد ذی شان ساحل اور افضال احمد سیدنے بے حد قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ میں نے ان کا ذکر اپنی ایک نثری نظم میں بھی کیا ہے۔ ان دونوں شاعروں کی اٹھان بہت شان دار تھی، انہوں نے بعد میں اپنے آپ کو جس طرح منوایا، سب جانتے ہیں۔

 

سوال: آپ نے اپنا پہلا افسانہ کب لکھا اور کون سا؟
اسد محمد خاں: ” باسودے کی مریم“ میرا پہلا افسانہ تھا۔ اسے لکھتے ہوئے میں یہ سمجھ رہا تھا کہ میں اپنی یادداشتیں یا خاکہ لکھ رہا ہوں۔ وہ ایک زندہ کردار تھا۔ انہوں نے ہماری اور ہماری بہنوں کی پرورش میں ہاتھ بٹایا۔ انہیں ہمارے گھر والے مریم بوا کہتے تھے۔ وہ وسطِ ہند کے علاقے باسودے کی رہنے والی تھیں۔ میرے پاس ان کے نوٹس لکھے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ ان پر خاکہ سا لکھوں گا۔ وہ ایک افسانے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ میری پہلی کہانی تھی جو میں نے قمر جمیل کے کہنے پر لکھی تھی۔ جب انہیں دکھائی تو انہوں نے کہا بہت اچھا افسانہ ہے۔ تم اسے سوغات کو بھیجو۔ ” مئی دادا“ بھی ان کے کہنے پر لکھا۔ یہ بھی ایک حقیقی کردار تھا۔ ان کا اصل نام عبدالمجید خاں تھا۔

 

افسانے میں اردو نے زبر دست طریقے سے قدم جمایا۔ پریم چند سے انور سجاد تک ایک سے بڑھ کر ایک شان دار افسانہ نگار اردو کے افق پر نمودار ہوئے۔
سوال: آپ نے جس دور میں افسانہ نگاری شروع کی، تب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا راج تھا؟ اور کہانی گم ہو جانے کا غوغا برپا تھا۔ اس صورتِ حال میں آپ نے حقیقت پسند افسانے ہی کیوں لکھے؟
اسد محمد خاں: میرے ان دو مشہور افسانوں کے بعد میرے جتنے افسانے بھی آئے،ان کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ میں نے عالمی ادب میں علامتی شاعری اور علامتی افسانے کو تلاش کر کے اس طرح پڑھا تھا جس طرح کوئی ہفتوں کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ تاہم مجھے گمان سا رہتا تھا کہ یہ کسی طرح کا ” گِمِک“ ہو سکتا ہے جو چل رہاہے۔ مغرب دھیرے دھیرے story tellingسے دور ہو رہا تھا۔ کیوں کہ کہانی کے اس پہلو سے بے زار ی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیوں کہ ان کے ہاں فلم کا بہت طاقت ور میڈیم آچکا تھا، اور ٹی وی بھی آچکا تھا۔ انہیں روز ایک نئی پروڈکشن کی طلب ہو نے لگی۔ یہ بے زاری دھیرے دھیرے ان کے ہاں نافذ ہوئی اور بعد میں ختم ہو گئی۔
ہماری اردوایک کھِلتی ہوئی، وقت کے ساتھ اجلتی ہوئی زبان ہے۔ افسانے میں اردو نے زبر دست طریقے سے قدم جمایا۔ پریم چند سے انور سجاد تک ایک سے بڑھ کر ایک شان دار افسانہ نگار اردو کے افق پر نمودار ہوئے۔ منفرد افسانہ نگار بلراج مین را کا افسانے کے ساتھ کمٹ منٹ قابلِ تقلید ہے۔ تاہم ایک گڑبڑ چلتی رہتی ہے جب کوئی تخلیق کار کچھ دریافت کرتا ہے تو وہ اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ بلراج مین را کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو اردو کا سب سے بڑا آدمی سمجھنے لگا تھا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ یہ بات دوسرے لوگ کہیں گے۔ تم یہ مت کہا کرو۔ وہ کہنے لگا کہ یار توُ میرا کام تو دیکھ۔ میں نے کہا کہ خدا کرے تو ایسا ہی کام کرتا رہے۔ اور رہی عظمت تو اس کا پتہ بعد میں چلے گا بیٹا۔ معلوم نہیں میری اس بات کا کچھ اثر اس پرہوا بھی یا نہیں۔ دراصل اس دور میں علامت اور تجرید کے ڈھول بج رہے تھے۔ انور سجاد اور مین را اِسے خوب بڑھاوا دے رہے تھے۔ بلراج مین را دو مرتبہ پاکستان آیا اور انور سجاد کے ہاں لاہور میں ٹھہرا۔ انہوں نے اسے اس کا پشتینی گھر بھی دکھایا۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ اس طرح آئے جس طرح بڑے لوگ آتے ہیں۔ ” بڑے لوگ“یعنی منشی پریم چند کی طرح منکسرالمزاج۔ ۔ ۔ تکبر کے ڈھول تاشے بجاتے گزرنے والے نہیں۔

 

سوال: آپ کی کتاب ” کھڑکی بھر آسمان “ کی اشاعت پر ادبی حلقوں کی جانب کیسا رد عمل سامنے آیا؟
اسد محمد خاں: اسے پذیرائی ملی تھی۔ بہت پسند کیا گیا تھا۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ تھی کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ افسانے اور نظمیں ایک کتاب میں یک جا کردی گئی تھیں۔ چونکہ وہ کتاب میں خود شائع کر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ نظموں کے لئے الگ سے مجموعہ کیوں شایع کروں۔ اس میں تیرہ افسانے اور چالیس بیالیس نظمیں ایک ساتھ چھپیں۔ اس کتاب کی رقم ہماری بیگم نے گھر گرہستی سے روپے بچا کر ہمیں فراہم کی تھی۔ یعنی فی الاصل ہماری پہلی کتاب کی پبلشر ہماری بیگم تھیں۔ یہ 1982ءکا واقعہ ہے۔ اس سے اگلا افسانوی مجموعہ ” برجِ خموشاں“1990ءمیں شائع ہوا۔ یہ بھی” کھڑکی بھر آسمان“ کی طرح اپنے وسائل سے شائع کیا گیا۔

 

سوال: آپ نے ” کھڑکی بھر آسمان“ میں ” منشور“ نامی ایک تحریرمیں دعوی کیا تھا۔ ”ادب صرف اپنے آمروں کو پہچانتا ہے اور میں بڑی بے شرمی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی اپنی ایک چھوٹی سی قلم روتراش کر اس کی حدوں میںاپنا حکم نافذ کرنے آیا ہوں۔ “آپ کو کم و بیش چالیس پچاس برس ہوگئے لکھتے ہوئے۔ اب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی قلم رو تراش سکے یا نہیں تراش سکے؟
اسد محمد خاں: وہ دعوی تو ایک نوجوان ذہن کی پیداوار تھا۔ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ مجھے اردو افسانے کے حوالے سے پہچانا جائے۔ بس اتنا کافی ہے۔ دیکھیے” قلم رو “تو تراشی تھی منٹو صاحب نے۔ ایک عمر گزارنے کے بعد یہ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ منٹو صاحب اپنی زندگی میں کمرشل کام بھی کرتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈھائی سو فلمیں لکھیں، واللہ علم۔ اور ریڈیو کے لئے بھی وہ لکھتے رہے۔ اس لئے کہ یہ ایک ہی کام انہیں آتا تھا۔ اردو میں کہانی کہنا۔ یہ کام انہوں نے بہت سلیقے سے کیا۔ میرا مسئلہ بھی یہی تھا۔ والد صاحب نے مجھے انجینئر بنانے کی کوشش کی۔ میں سب گڑبڑ کرکے بیٹھ گیا۔ میرا شعبہ فائن آرٹس کا تھا۔ میں اگر جے۔ جے۔ اسکول سے ڈگری حاصل کرلیتا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہاں مجھے کتنے ہی لوگوں نے کہا کہ اگر تمہارے پاس جے جے اسکول کی ڈگری ہوتی،تو ہم تمہیں بڑی نوکری پر لگوا دیتے۔ میں کہتا، میرے پاس سرٹیفیکیٹ ہے۔ وہ کہتے نہیں۔ اگر تمہارے پاس ڈگری ہوتی تو تمہیں کسی اشتہاری کمپنی میںلگوا دیتے۔ اس زمانے میں بہت تنخواہ بھی ملتی۔ میں نے اپنے لیے یہ راستہ خود تلاش کیاکہ جہاں مجھے مکمل آزادی ہو۔ میں جو چاہوں آزادی سے لکھ سکوں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مجھے یہ سہولت دے دی۔ وہاں ملازمت شروع کرنے کے بعد جب ان لوگوں کو یہ معلوم ہواکہ میں ادیب شاعر ہوں اور میں نے گیت ” انوکھا لاڈلا“ لکھا ہے! وہ حیران ہوئے کہ یہ تم نے لکھا ہے۔ بھئی ہمیں تم سے ایسی اور چیزیں چاہئیں۔ ہمارے افسر نے چیف انسپیکٹر سے بلا کر کہاکہ یہ جو سپروائزر ہے اسد محمد خاں۔ ان سے کوئی کام نہیں لینا ہے۔ اس لیے کہ یہ تو قومی کام کر رہے ہیں۔ صابر صاحب ان کا نام تھا۔ وہ بڑے افسر تھے۔ انہوں نے مجھے یہ سہولت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ دیکھیے اِدھرکا کام تو ہوتا رہے گا۔ ان کی وجہ سے میں 1993ءتک یعنی اپنی ریٹائرمنٹ تک کے پی ٹی کی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کے کام بھی کرتا رہا۔ کمرشل کام کا پوچھتے ہیں تومیں نے کل سات آٹھ سیریل لکھے ہوں گے۔ مجھے تو ان کے نام بھی یاد نہیں رہے۔ ہاں سنجیدہ کام جو میں نے کیا۔ اس کے بارے میں ادب پڑھنے اور تحقیق کرنے والے جانتے ہوں گے کہ اسد محمد خاں اپنی قلم رو تراش سکا یا بس کاغذ کالے کرتا رہا۔

 

سوال: آپ کے افسانے مئی دادا کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اس کردار کا آپ کے خاندانی پس منظر سے بہت گہرا تعلق ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟
اسد محمد خاں:جی ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے ایک نیا افسانہ ایک مہینہ پہلے ختم کیا ہے، جو عنقریب شایع ہوگا۔ اس کا نام ہے ” مرشدِ بخشندہ“۔ وہ دس صفحات کا ایک افسانہ ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ افسانوں کی سیریز بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے اس افسانے میں اپنے دادا کی زندگی کو جس طرح دیکھا، اسی طرح بیان کیا ہے۔ اتر پردیش اور یو پی کے بہت بڑے علاقے میں قحط پھیلا تھا جسے” بھُک مَری“ کہا جاتا ہے۔ یہ شاید 1870ءکی بات ہے یا شاید اس سے پہلے کی۔ میرے داداکے پاس زمین تھی، جس پر انہوں نے باغات لگائے تھے، جن سے انہیں بہت آمدنی ہوتی تھی۔ قحط کی وجہ سے اترپردیش اور یو پی کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے علاقے کی طرف بھاگے۔ ہمارے دادا کمال محمد خاں نے ان کے لیے کیمپ بنایا تھا جو پتھریلے علاقے میں اونچی سطح پر تھا، وہاں ڈیڑھ دو سو سے زیادہ لوگ نہیں آسکتے تھے۔ دادا نے انہیں خوراک بھی فراہم کی تھی۔ قحط ختم ہونے کے بعد سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ ان میں سے تین بچوں کو دادا نے مستقل اپنے پاس رکھ لیا۔ ان کے وارث مارے گئے ہوں گے۔ ۔ ۔ یا انہیں چھوڑ گئے ہوں گے۔ دادا کہنے لگے، میں انہیں پالوں گا۔ ان میں سے ایک تھا مجید دادا، دوسرا چھوٹا مجید،اور تیسرا سلطان۔
میرے ایک افسانے کا نام” جانی میاں“ ہے،اور ایک فسانے کا ”مئی دادا“۔ افسانہ”جانی میاں“ سلطان کی کہانی ہے۔ میں یہاں سے دو تین مرتبہ سلطان کے پاس ممبئی جا چکا ہوں۔ ماشااللہ وہاں ان کی امپورٹڈ سائکلوں کی دکان تھی۔ انہوں نے پنکچر لگانے سے اپنا کام شروع کیا تھا۔
وہ ان تین لڑکوں میں سے ایک تھے۔ ان میں سب سے بڑے مجید دادا تھے، وہ زیادہ ذمہ دار تھے۔ وہ سلطان اور چھوٹے مجیدکو قابو میں رکھتے تھے۔ یہ تینوں چھوٹے تھے اور لاوارث تھے، اسی لیے رہ گئے۔ مجید دادا کی آنکھیں ہری تھیں۔ ان کے چہرے کارنگ کھلتا ہوا تھا۔ کچھ لوگ انہیں پٹھان کہتے تھے۔ انہوں نے خود ہی اپنا نام نام عبدالمجید خاں رکھ لیا تھا۔ بعد میں کہنے لگے تھے کہ میں یوسف زئی قبیلے سے ہوں۔ ویسے سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ ہمارے والد سے بھی دس بارہ سال بڑے تھے۔ وہ ان کا نام لے کر انہیں عزت میاں پکارا کرتے تھے۔ جب کہ ہمارے یہاں صرف بزرگوں کو نام لینے کی اجازت تھی۔ ۔ ۔ دوسر ے سب لوگ بھائی اور بھائی میاں وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے۔ بعض لوگوں نے اس بات کا برا مانا اور والد سے شکایت کی، والد نے کہا کہ میں جب اتنا سا تھا تو تب سے ہمارے بڑوں نے انہیں پالا ہے۔ وہ میری بہت عزت کرتے اور محبت کرتے ہیں۔ اگر نام لیتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں۔ مجید دادا ایک طرح سے۔ ۔ خاندان کے بزرگ۔ ۔ تھے۔ چھوٹا مجید اگر کبھی دارو پی کے آ جاتا تھا تو وہ اسے تالاب کے کنارے لے جاکر جوتے سے اس کی ٹھکائی کرتے تھے۔ اگر وہ اسے گھر میں پیٹتے تو لوگ پوچھتے تو انہیں بتانا پڑ جاتا۔ انہوں نے کوشش کر کے چھوٹے مجید کو ان سب چیزوں سے دور رکھا۔ پھر اس کی شادی کروائی۔ وہ ہماری والدہ کو بِیا کہہ کر پکارتے تھے۔
لوگ چھوٹے مجید کے لئے رشتہ لے کر آئے تو مجید دادا کہنے لگے کہ ہم کچھ نہیں جانتے، اس کا فیصلہ بِیا کریں گی۔ خیر، بیا نے اپنی رائے دی۔ شادی کی تاریخ طے ہوئی پھر نکاح ہو گیا۔

 

سوال:باسودے کی مریم جیسے لازوال کردار کی تخلیق کا پس منظر کیا تھا؟
اسد محمد خاں: باسودے کی مریم بھی حقیقی کہانی ہے۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق پلاٹ وضع کرنا پڑتا ہے۔ اب چونکہ ایک زمانہ گزر گیا، مجھے یاد بھی نہیں آتا کہ اس کا پورا قصہ کیا تھا۔ مریم کے دوبیٹے تھے۔ ایک ممدو تھا،جوچھوٹا تھا اور اسے بہت عزیز تھا۔ اور جو بڑا تھا وہ کچھ آسودہ حال تھا اور کوئی ملازمت کرتا تھا۔ اس افسانے کا موضوع ایک ماں کی محبت ہے، جو اسے اپنی اولاد سے تھی۔ اس محبت کی وجہ سے اس نے اپنی پوری زندگی کا جو سرمایہ محنت کرکے کمایا تھا، اسے جمع کر رکھا کہ وہ اس پیسے سے حج کرے گی۔ بہر حال کہانی تو سب نے پڑھی ہے۔ مریم دو شہروں مکے اور مدینے کو ایک ہی سمجھتی تھی۔ وہ جب حضور کا نام لیتی تھیں تو ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں پر لگاتی تھیں۔ مریم بوا کے نزدیک نبی کریم کی ذاتِ پوری کائنات کا مرکز تھی۔ ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے دل میں اس طرح کی ایک خوب صورت دنیا بسائے رکھتے ہیں۔ اور اسی پر توکل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی بنائی دنیا میں رہتے ہیں۔ مریم کا بھی مسئلہ یہی تھا۔ ان کا بڑا بیٹا آسودہ حال تھا۔ وہ اس کے لیے دعائیں مانگتی تھی۔ اس کے گھر بھی چلی جاتی تھی۔ مگر اس کی زیادہ محبت چھوٹے بیٹے ممدو سے تھی جسے کینسر تھااورجس کی سرجری ہوئی تھی۔ مریم سرجری کے قصے کو ہنس کر سناتی تھی کہ ڈاکٹر حرامیوں نے کیا کیا کہ اس کے گال میں کھڑکی بنا دی۔ یہ کہہ کر وہ ہنستی تھی، پھررونے لگتی تھی۔

 

سوال: افسانے باسودے کی مریم کا راوی ایک بچہ ہے، جو کہانی کو بیان کر رہا ہے۔ کیا وہ راوی آپ خود ہیں؟
اسد محمد خاں: جی ہاں۔ مریم کی پوری زندگی میں نے قریب سے دیکھی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں گرمی کی چھٹیاں گزارنے اپنی خالہ کے گاﺅں گیا ہوا تھا۔ گاﺅں کوئی ستر اسی میل دور ہوگا۔ میرے گھر والوں نے میرے میزبانوں کو منع کیا تھا کہ اسد کو یہ نہ بتاناکہ مریم گزر گئیں۔ تو خالہ نے یا کسی نے مجھے نہیں بتایا۔ جب ہم لوگ چھٹیاں گزار کر گھر پہنچے تو میں نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیاکہ مریم کہاں ہے؟ گھر والوں کو میری ان سے شدید قربت کا علم تھا۔ میری پرورش ایک طرح سے والدین نے ہی کی، لیکن میں دن رات کا خاصا حصہ مریم کی کوٹھڑی میں گزارتاتھا۔ میرے والد کو انہوں نے دودھ پلایا تھا تو گھر میں ان کا ایک مقام اورمرتبہ تھا۔ میں اپنے گھروالوں سے جھگڑا کرتا، ان پر چیختا تھا۔ اور جب میری پٹائی ہوتی تھی تو میں پناہ مریم بوا کے پاس ہی لیتا تھا۔ گھر والے کہتے تھے کہ اس کے اور مریم کے درمیان مت آﺅ۔ اب جب مریم نہیں رہیں تو امی نے دلاسا دیتے ہو ئے کہا۔ بیٹا! دنیا کے معاملات تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ گزر گئیں تمہاری مریم بوا، مرضی اللہ کی۔ میری سمجھ میں نہیں آیاکہ وہ کیوں گزر گئیں؟مجھے لگا کہ میں کسی بہت بڑی چیز سے محروم ہوگیا۔ پھر والدہ نے دھیرے دھیرے مجھے سنبھالا کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ جو میری کیفیت تھی۔ ہم تین بھائیوں میں، میں بیچ کا تھا۔ میرے بڑے بھائی تو بہت بھلے اور پیارے آدمی تھے۔ جب میں کوئی گڑ بڑ کرتا تھا تو وہ لا تعلق ہو جاتے تھے کہ اب اس کی پٹائی ہوگی۔ چھوٹا کبھی میری چمچہ گیری کرتا، کبھی لاتعلق ہوجاتا، یا کبھی جا کر میری شکایت لگا دیتاکہ منجھلے بھائی نے کیا ہے،مجھے نہیں پتہ۔ ہم تینوں بھائیوں میں ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ سال کا فرق تھا۔ ہمارے بعد ہماری بہنیں تھیں۔ ان کو تو ہم سمجھتے تھے کہ یہ” گڑیائیں“ ہیں کھیلنے کی۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال عمر کے ساڑھے انیسویں برس میں ہوا۔ اسی شہر میں ان کا انتقال ہوا۔

 

سوال: ترلوچن آپ کا ایک منفرد افسانہ ہے۔ اس کا مرکزی کردار عین الحق لوگوں کے دکھ، ضروریات، ان کے مسائل اور ان کا حل لکھتا رہتا ہے۔ اس افسانے کی انسپائریشن کہاں سے لی تھی؟
اسد محمد خاں: اس کی انسپائریشن دیوتا ترلوچن ہی تھا۔ ۔ ۔ ہزاروں سال پرانی ہندو اساطیر۔ ۔ ۔ ، میں اسے دیومالا ہی کہوں گا۔ ان کے بے گنتی دیوتا اور دیویاں ہیں۔ شنکر، ہندو دیو مالا کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ شنکر کی تین آنکھیں تھیں۔ لوچن کا مطلب ہے آنکھ۔ یہ بانسری سناتا اور امن پھیلاتا ہے۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ شنکر راحم بھی ہے اور قہار بھی۔ جب کوئی بھیانک جرم سامنے آتا ہے تو یہ اپنی تیسری آنکھ کھول دیتا ہے۔ یعنی جب کسی فتنے یا فتنہ کار کو ختم کرنا ہوتا ہے، تو شنکر اپنی تیسری آنکھ سے قہر کا کام لیتا ہے۔
شنکر کا کردار متضاد کیفیات کا عکاس ہے۔ وہ بانسری بجاتے تھے۔ پاروتی ان کی محبوبہ اور بیوی تھی۔ ہندو دیومالا کا کمال یہ ہے کہ فارسی اساطیر او ر دیومالا کے خلاف یہاں جو مرد کی محبوبہ ہے وہی اس کی بیوی ہے۔ (یا جو بیوی ہے وہی اس کی محبوبہ ہے)۔ یہ ان کے یہاں کا کلچرل سیٹ اپ ہے۔ پاروتی شنکر کی بانسری سن کر ان پر فدا ہوئیں اور بعد میں ان کی بیوی بن گئیں۔ ایک ہزار عورتیں شنکر پر جان نچھاور کرتی تھیں مگر وہ صرف پاروتی کوبانسری سنانے جاتے تھے۔ میرا خیال ہے اس تصور کو جان بوجھ کر رائج کیا ہوگا تا کہ” گھر“ کی بنیاد پڑے۔ تا کہ لوگ یہ سیکھیں کہ گھر اس طرح بستا ہے کہ جس سے آپ کا بندھن ہوا ہے۔ وہی آپ کی بیوی ہے۔ آپ کی محبوبہ ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ رام اور سیتا، کرشن اور رادھا، شنکر اور پاروتی۔ گویا یہ تین مثالی جوڑے بنے۔ دنیا کو ختم کرنے والا اور دنیا کو سنبھالنے والاجو تصور ہمیں ملا ہے۔ اسے ہندو دیومالا نے مختصر کیا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ کائناتی تصور آسمانی ہو۔
تین سامی مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے گئے تھے اساطیرنے ادیان کو۔ ۔ یا ان کے نازل کرنے(اتارنے) پھیلانے والوں کے بارے میں زیادہ تردُد سے کام نہیں کیا، واللہ علم۔ افسانے ترلوچن کے مرکزی کردار کا نام ہے عین الحق یعنی حق کی آنکھ۔ ۔ یعنی شنکر کی تیسری آنکھ۔ میں نے شنکر کو حق کہا ہے۔ حق کے معنی وہ جو سچا ہے۔ اس لیے کہ آپ کو دو ڈھائی ہزار سال پرانے مذہب کو بھی ایک Recognition دینی ہے،یا کم سے کم ان کا اثبات کرنا ہے۔ ہمارا دین تو ڈیڑھ ہزار سال پرانا ہے۔ نبی کریم اور ان کی آسمانی کتاب نے یہ کہاکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اس لیے میں تو کٹرمولوی سے یہ کہتا ہوں کہ کسی دین اور مسلک کو برا مت کہو۔ فتنہ گر کے سواکسی راہ روُ کوشیطان اور مردود اور ملعون نہ کہو۔ تمہیں کیا پتا کہ اس کا مسلک ان نامعلوم ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے ایک ہو۔ جو اچھی بات کر رہے ہیں، وہ اچھے ہیں۔ تمہیں کیا معلوم کہ گوتم بدھ ان میں سے نہیں تھے۔ میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ بدھ پیغمبر نہیں تھے۔ (اور کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ تھے)۔ اس لیے کہ کتاب اللہ نے تو بس سات آٹھ دس پیغمبروں کے نام لیے ہیں۔ داﺅد، موسی، عیسی، ابراہیم، یوسف، یونس وغیرہ۔ جنہیں ہم جانتے ہیں۔ یا جن کا ذکر بائبل ( Old testament)میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہا گیا تھا کہ ایک آخری اور آنے والا ہے، جس پر یہ پورا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ یہ بائبل میں بھی کہی گئی طے شدہ بات ہے۔ اگر چہ نبی کریم کا نام نہیں بتایا گیامگر یہ طے ہوا کہ نبی موعود جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حضرت محمد نبیِ آخرالزماںہیں، آپ تشریف لائے اور آنے والوں کا سلسلہ ختم ہو ا۔
اب میں اپنی بات سناتا ہوں۔ ۔ میں شنکر کے اسطورے سے بہت متاثر تھا کہ جو اپنی بانسری سے اس پورے نظام میں ایک ربط، تسلسل اور sensibilityقائم کرتا ہے۔ اس کی بانسری اک سناٹے یا بے ترتیبی کو سروں سے مرتب کرنے کا کام کرتی ہے۔ ربط، تسلسل اور معنویت۔ ۔ یہ گویا اساطیر سے لائے ہوئے شنکر کا کارنامہ ہے۔ آپ کو اس Legend کی معنویت کا پتا لگانا ہو گا۔ اس لیے کہ ایک خلقت اس کے ساتھ ہے۔ یعنی جو لوگ دین دھرم کی صورت اس Legend کو مانتے ہیںیعنی شنکر کے اسطورے کو، جس کی رفیقہ پاروتی ہے جو ان کی واحد محبوبہ ہے اور جس کے محبوب وہ خود ہیں۔

 

سوال: آپ کے افسانے ترلوچن کا عین الحق اپنی نوٹ بک میں جن دکھوں اور عذابوں کو رقم کر رہا ہے اور اپنے تئیں انہیں حل کرنا چاہتا ہے، وہ سارے دکھ اور عذاب تو آج کی دنیا کے انسان کے دکھ اور عذاب لگتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟
اسد محمد خاں جی ہاں وہ آج ہی کے دکھ ہیں۔ عین الحق دراصل وہ عنایتِ خاص ہے جو کبھی دنیا میں پیغمبروںکی صورت میں آئی۔ جو بہت پہلے دیومالا کے اسطوروں کی شکل میں دنیا میں آئے۔ جیسے راما، کرشنا،گوتم بدھ۔ انہوں نے دنیا میں فساد نہیں پھیلایابلکہ دنیا کو جوڑا، امن اور سلامتی کی سعی کی۔ گوتم بدھ کا آخری جملہ تھا۔ سرَوم، دَکھم، دُکھم۔ ” سارا دکھ ہی دکھ ہے۔ ۔ ۔ مُصلِحوں کی طرح پھر اس نے دکھ میں سکھ پیدا کیا۔ بدھ کی زندگی بہت با معنی تھی۔ وہ خود ایک راج کمار تھے اور گدی نشین تھے پھر انہوں نے ان سب چیزوں سے دست برداری اختیار کرلی۔ اورجب ایک عرصے بعد انہیں نروان اور دانش حاصل ہوئی کہ یہ دنیا تو کچھ اور ہی طرح کی ہے تو وہ اصلاح کے لئے چل پڑے۔ ترلوچن گوتم بدھ اور شنکر جیسے مصلحین کی کہانی ہے۔ آپ عین الحق کوشنکر سے منسوب صلاحیت کا اردو ترجمہ سمجھ لیجیے۔ یعنی خدا کی آنکھ۔ ہندو اسطورے سے اٹھایا گیا یہ کردارایک باکرامت صوفی ہے اور صوفی کی طرح برتاﺅ کرتا ہے۔

 

شنکر ایک طرف بانسری بجا کر امن کا نفاذ کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی تیسری آنکھ کھول کرسب کچھ فنا بھی کرسکتا ہے۔
سوال: کیا عین الحق افسانہ نگار یا تخلیقی آدمی نہیں ہے، جو اپنے گردوپیش کے لوگوں کے دکھ درد دیکھ کر اضطراب میں مبتلا ہے۔
اسد محمد خاں: یہ آپ جانتے ہیں کہ عین الحق ترلوچن کا مرکزی کردار ہے۔ یہ ایک بامعنی تخلیق ہے، جس کے ڈانڈے سامی مذاہب کے عذاب اور ثواب کے عقیدے سے ملتے ہیں بلکہ ہزاروں برس قدیم ایک اسطوری کردار (شنکر) کے بھی مماثل ہے۔ شنکر ایک طرف بانسری بجا کر امن کا نفاذ کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی تیسری آنکھ کھول کرسب کچھ فنا بھی کرسکتا ہے۔ افسانہ نگار نے عین الحق افسانہ نگار کا قصہ نہیں لکھابلکہ شنکر کے اسطورے پر قلم اٹھایا ہے۔

 

سوال: آپ کے دوسرے افسانوی مجموعے ”برج خموشاں“ میں ایک کہانی ہے ” جشن کی ایک رات“۔ وہ کہانی شناور غِلزئی کے بارے میں ہے۔ اس سے پہلے آپ کے ہاں ایسی کہانی موجود نہیں تھی۔ جس کا تعلق کسی مخصوص زمانے یا کسی مخصوص تاریخی شخصیت سے ہو۔ اس کے بعد آپ کے ہاں ایسی کہانیاں تواتر کے ساتھ آنے لگیں۔ اس کی کیا وجہ تھی؟
اسد محمد خاں:میاں! شناور غِلزئی کوئی تاریخی کردار یا شیر شاہ سوری کا دوست نہیں، بلکہ فکشن کا ایک کردار ہے۔ میں نے شیر شاہ پر کوئی آٹھ نو کہانیاں لکھی ہیں۔ اس تاریخی شخصیت ( شیر شاہ سوری) سے میں نوعمری سے واقف ہوں۔ قلعہ رائے سین (سینٹرل انڈیا) جس کا شیر شاہ نے سو دن تک محاصرہ کیا اور جسے اپنی مملکت میں شامل کیا، میرے مولد بھوپال سے 27 میل کے فاصلے پر ہے،میں نے درجنوں بار اس قلعے کو دیکھااور نوعمری سے ہی شیر شاہ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ ” جشن کی ایک رات “ سے پہلے بھی میں نے تاریخی افسانے لکھے ہیں اور یہ تواتر کے ساتھ نہیں بلکہ وقفوں سے لکھتا رہا۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے صدر ڈاکٹر حسین خان نے شیر شاہ پر سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ ان سے پہلے دو تین مورخین تھے جنہوں نے اپنی کتابوں میں شیرساہ پر صرف چند ابواب ہی لکھے تھے۔ ڈاکٹر حسین خان بہت کمیٹیڈ اسکالر تھے۔ انہوں نے جو کام کیا ہے، وہ اعلی پائے کا ہے۔ شیر شاہ سوری کے اجداد کا گاﺅں” روہ ری“ دریائے گومل کے کنارے ایک ٹیلے پرواقع تھا۔ اسی گاﺅں میں ایک وسیع حویلی تھی جہاں شیرشاہ کے بزرگ رہتے تھے ڈاکٹر حسین خاں نے یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ جاکر اس گاﺅں میں بہت دن کام کیا تھا۔
حسن خاں جو شیر شاہ سوری کے والد تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ” روہ ری “ گاﺅں سے چلے گئے تھے۔ جب وہ مشرقی پنجاب میں پہنچے توان کے ہاں شیر شاہ پیدا ہوا۔ یہ ان کا بڑا بیٹا تھا۔ پنجاب کے اس مقام کا نام نرنول ہے۔ حسن خاں نے اپنے بیٹے کا نام فرید خاں رکھا تھا۔ جو شیرشاہ سوری ہوا۔ میں نے محقق ڈاکٹر حسین خان کو خط بھی لکھا تھاکہ آپ کی بے مثال تصنیف ” استادِ شاہاں “مجھے بہت انسپائر کرتی ہے۔ وہ فیروز سنز نے شایع کی تھی1989 میں۔

 

سوال: آپ کے خیال میں ڈائجسٹوں کے لئے کہانی لکھنے میں اور ادبی فکشن لکھنے میں کیا فرق ہے؟
اسد محمد خاں: ان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ڈائجسٹوں میں آدمی صرف پیسہ کمانے کے لیے لکھتا ہے مگر جب وہ ادبی فکشن پر کام کرتا ہے تو اس کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہوتا۔ اپنے Talent کا اظہار ہوتا ہے۔ ادبی تخلیقات کے لیے اس ملک عزیز میں کوئی رقم نہیں دی جاتی۔ ( صرف اسلام آباد کا سرکاری جریدہ ”ادبیات“ ایک طے شدہ معمولی رقم کا چیک ڈیڑھ دو مہینے بعد ادیب کو پوسٹ کردیتا ہے۔ ) اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ ڈائجسٹ کی ”فرمائشی تخلیقات“ کسی Creative writerکی ادبی شناخت نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ روٹی کمانے کے لیے لکھی جاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ لکھنے والا ادبی تخلیق کو ہڑبڑی میں قلم اٹھا کے لکھنے بیٹھ جائے۔ ادبی کام سنجیدہ کاوش اور اپنی شناخت ہوتی ہے جب کہ ڈائجسٹ کی لکھائی صرف مزدوری ہوتی ہے۔

 

سوال: کمرشل فکشن اور ادبی فکشن لکھنے کے لحاظ سے کس طرح مختلف ہے؟
اسد محمد خاں: بہت سادہ سی بات ہے اگر کہیں سے آپ کو میری کوئی پرانی کہانی یا سیریل ہاتھ لگ جائے تو اسے میرے آٹھ افسانوی مجموعوں میں شامل کسی بھی کہانی کے مقابل رکھ کر پڑھتے چلے جائیں۔ دوچار صفحوں میں ہی آپ کو فرق نظر آجا ئے گاکہ دونوں الگ الگ دنیاﺅں سے تعلق رکھتی ہیں۔ خیر اب تو میں کمرشل رائٹنگ نہیں کرتا۔

 

سوال: آپ کے تیسرے افسانوی مجموعے ” غصے کی نئی فصل“ کی ٹائٹل والی کہانی میں آپ نے ایک بہت عجیب و غریب فرقے اور اس کی رسم کو بیان کیا ہے۔ جس میں لوگ ایک دائرے کے گرد بیٹھے ہوئے جانوروں کی سی آوازیں نکال رہے ہیں۔ وہ کیسی رسم تھی؟اور وہ فرقہ کہاں پایا جاتا ہے؟
اسد محمد خاں:وہ” مردوزی “ فرقے کی رسم تھی۔ یہ فرقہ میں نے اپنی فکشن سجانے کے لیے خود ایجاد کیا تھا۔ ایک بارجب میں لمبے دورے پر بریڈفورڈ اور لندن گیا تھا تو وہاں اپنے ایک دوست کے ہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ٹھہرا تھا۔ ان کے ایک جرنلسٹ دوست آئے۔ وہ کہنے لگے، بھائی! ہم نے دنیا جہاں کی ڈکشنریاں کھنگال ڈالیں۔ یہ” مردوزی“ فرقہ ہمیں نہیں ملا۔ میں نے کہا یہ بہت آسانی سے مل جا ئے گا اگر تم مردود اور قلاعوذی کو جوڑدو۔ (بھوپال میں چڑ کرکہا جاتا تھا کہ یار تم تو قلاعوذی ہو۔ یعنی تم سے دور رہنا چاہیے)۔ ان دو کو ملا کر ہی میں نے ” مردوزی“ بنایا تھا۔ اس فرقے کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ یہ پورا فکشن ہے۔ کہانی میں بتایا ہے کہ وہ لوگ رات کو چھت پر جا کر وِرد کرتے تھے۔ میں نے دکھایا تھا کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو غصے سے اور منفی رجحانات سے خالی کرتے تھے۔ ہر آدمی کے اندر غصہ موجود ہوتا ہے اور خباثت بھی ہوتی ہے۔ اب اس کی بہترین صورت ” مردوزیوں“ نے یہ نکالی کہ ان کا مرشد انہیں ایک دو گھنٹے وِرد کرواتاتھا اور کہتا تھا اپنے اندر کی خباثت نکالو۔ وہ رات میں چھت پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو گھورتے اور بک بک کرتے تھے۔ پہلے میں نے لکھا تھا کہ گالی گلوچ کرتے تھے۔ بعد میں اسے کاٹ کر یوں کردیا کہ وہ غراتے اور بدکلامی کرتے تھے۔ یہ افسانہ پڑھ کر بہت سے لوگوں کے خط آئے کہ یہ فرقہ کہاں ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایران میں ہوگا۔ یہ ایران توکیا کہیں بھی نہیں تھا۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک پٹھان ہے جو سفر پر وہاں آیا ہے۔ وہ یہ منظر دیکھ کر بھاگتا ہے کہ لا حول ولا قوت! میں کن لوگوں میں آ گیا ہوں۔

 

سوال: اسی کتاب میں ایک اور افسانہ ہے طوفان کے مرکز میں۔ جس میں کراچی کی پرانی زندگی کی جھلکیاں ہیں۔ اسے لکھنے کی انسپائریشن کیا تھی؟
اسد محمد خاں:اس میں میری اپنی زندگی اور میرے کچھ دوستوں کی گزرتی ہوئی زندگی بیان ہوئی ہے۔ میں نے ان کی، اپنی مصیبتیں اور تلخیاں بیان کی تھیں۔ ان اچھے وقتوں کابیان بھی تھا جو ہم نے کراچی صدر کے علاقے میں گزارے۔ صدر کا علاقہ اب تو بالکل ہی بدلا ہواہے۔ ایک میرا دوست انتھونی گومزتھا۔ اس کا تعلق گوا سے تھا۔ وہ ہر سال گرہ پر میرے لیے کوئی نہ کوئی کتاب لے کر آتا تھا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ میں دو طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ ایک تو وہ جو ہر وقت اپنی جیبیں بھرتے رہتے تھے۔ اور دوسرے گومز جیسے ایمان دار۔ وہ میرے حساب سے ایک بے نیاز آدمی تھا۔ وہ رومن کیتھولک تھاتومیں اس سے کہتا تھا کہ تمہاری faith سنیوں کے کچھ قریب ہے۔ تم بھی میری طرح بزرگوں کی باتیں سن کے نیک ہو گئے ہو۔ جیسے میں سنی سنائی باتوں کی وجہ سے سنی ہوں، تم بھی ویسے ہی سنی ہواور میں بھی سن کر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر عمل تو مجھ بےچارے سے ہوتا نہیں۔
ایک دن میں نے پوچھا۔ ” تم یہ اچھی اچھی کتابیں تم کہاں سے لے کر آتے ہو؟“۔ کہنے لگا”۔ نہیں بتاﺅں گا“۔ میں نے کہا۔ ” بتادو، یار“۔ وہ میرا دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ صدر کے پوسٹ آفس کے سامنے والے فٹ پاتھ پہ ہمارے گوا والے کبھی کبھی بیٹھتے ہیں۔
یہ پڑھے لکھے عیسائی اچھی خاصی اردو انگریزی بولتے تھے۔ بعض تو ٹائی بھی پہن کر آتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف رسالے اورکتابیں بیچتے تھے بلکہ انگریزی کی ٹیوشن دینے اور پڑھنے میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔
مجھے امریکہ میں شایع ہونے والی کتاب Roots خریدنی تھی۔ میں وہاں گیا تو کتب فروش کہنے لگا۔ ” لے جاﺅ لے جاﺅ“۔ کتاب مہنگی اور بھاری بھر کم تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ لے جاﺅ، کچھ پیسے ابھی دے جاﺅ، کچھ اگلی بار دے دینا۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں ادھار کا قائل نہیں ہوں۔ اس نے پوچھا۔ پھر کیا کریں؟۔ میں نے کہا تم ایسا کرو۔ یہ کتاب تو بک جائے گی۔ اس کے بعد جب بھی یہ تمہارے پاس آئے۔ تو تم سنبھال کے رکھ لینا۔ میں دوتین مہینے بعد آﺅں گا تو لے لوں گا۔ ایک دو مہینے بعد اس مہربان نے مجھے آواز دے کر بلایا۔ کہنے لگا۔ اب یہ کتاب پرانی ہو گئی ہے۔ اس کی قیمت کم ہو گئی، لے جاﺅ۔ میں نے کہا کہ میں نے بھی روپے جمع کر لیے ہیں۔ کہنے لگا ویری گڈسر۔ اب یہ ایک سو پچھتر روپے کی ہے۔ تو اس طرح اس کتب فروش سے میری دوستی ہوگئی۔ اسے پتہ تھا کہ میں کتاب کا کیڑا ہوں۔ اس دور میں سو روپے بھی بڑی رقم ہوتی تھی۔ یہ کمال وضع داری تھی کہ اس نے Roots میرے لیے چھپا کر رکھی۔ قیمت کم ہوگئی تو مجھے بیچ دی۔
افسانے ” طوفان کے مرکز میں“ اردو کے صاحبِ طرز شاعر ظہیر کاشمیری کا بھی ذکر ہے، انہیں ہم نے خوب دیکھا۔ اس زمانے کے لوگوں میں ایک اچھی بات یہ تھی کہ پڑھنے والے کسی شاعر ادیب کو اپنا آیڈیل بناتے تھے اور اس سے محبت کرتے تھے۔ اس کے لیے دعا بھی کرتے تھے۔ ظہیر کاشمیری میرے آئیڈیل تھے۔ کچھ لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ یار دیکھو، ظہیر کاشمیری نے شراب پی پی کراپنے آپ کو خراب کرلیا،اب وہ کیا لکھیں گے۔ جھک ماریں گے باقی عمر۔ میں ان سے کہتا۔ ایسا مت کہو۔ ان کے لیے دعا کرو، وہ کہتے۔ تم اس کے بارے میں اچھی اچھی باتیں سوچتے رہومگر وہ باز نہیں آئے گا۔ میں کہتا،مجھے اس آدمی کی چھ نظمیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ مجھے ساتویں بھی چاہیے۔ دسویں بھی چاہیے۔ وہ کہتے، ہاں تو ٹھیک ہے، کرو انتظار۔ میں ان سے کہتا کہ میں چاہتا ہوں وہ خوب لکھیں،اور یہ کوئی بری خواہش تو نہیں ہے؟
ظہیر کاشمیری کو ہم نے لاہور میں کتنی بار دیکھا تھا۔ ایک بار میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھا۔ انہیں دیکھ کر میں نے کہا بھیا!وہ دیکھو، ظہیر کاشمیری جا رہے ہیں۔ بھائی نے کہا۔ تو کیا ہوا۔ میں نے کہا۔ واہ کیوں نہیں ہوا۔ یہ اتنا شان دار اور خوبصورت آدمی ہے۔ اور اس کی نظمیں بھی بہت اچھی ہیں۔ میرا بھائی کہنے لگا۔ چھوڑو، یہاں تمہیں ایسے بہت سے ملیں گے۔ لاہور تو ہے ہی ادیبوں اور شاعروں کا شہر۔ میرے بھائی نے انہیں اس طرح نظر انداز کردیا۔ ظہیر کاشمیری اس زمانے میں بہت ٹھاٹھ دارکپڑے پہنتے تھے۔ پھر لوگوں نے ان کی وہ حالت بھی دیکھی کہ وہ کسی خیراتی ادارے میں پڑے تھے۔ اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ وہ بہت کمال آدمی تھے۔ ظاہر ہے کشمیری تھے اور طویل قامت تھے۔ وہ ترقی پسندوں کے ساتھ ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ اسی لیے اس زمانے میں وہ میرے پسندیدہ شاعر ہوئے۔ لوگ کہتے تھے، ارے چھوڑو یار۔ ظہیر کاشمیری show off کرتا رہتا ہے۔ میں کہتا تھا کہ تم کیوں برا مانتے ہو، تم بھی شو آف کرو۔ ۔ میں بار بار یہی کہتا تھا جیسی اچھی نظمیں انہوں نے لکھیں، ویسی کسی اور نے لکھی ہیں؟

 

سوال: آپ کی چند کہانیوں میں نیپیئر روڈ کے بازارِ حسن کا ماحول بھی دکھائی دیتا ہے۔ نیپیئر روڈ تو اب قصہِ پارینہ بن چکا۔ اس کا نام و نشان بھی مٹ چکا۔ کچھ اس بازار کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔
اسد محمد خاں:جی میری بعض کہانیوں میں وہاں کا ماحول جھلکتا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ میں اس زمانے میں ٹی وی کے لیے گیت لکھا کرتا تھا۔ اس وقت جتنے بھی اچھے کمپوزر تھے، تقریباً سب ہی مجھ سے کہتے۔ اسد بھائی، آپ ایک آدھ گھنٹے کے لیے میوزک روم میں آجائیں۔ گیت کی پہلی Reading یہ بی بی کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں یہ آپ کے سامنے پڑھ دے۔ اس کے بعد ہم جانیں اور یہ جانے۔ میں کہتا کہ ہاں بالکل آجائیں گے۔ افتخار عارف یہ چاہتے تھے کہ میں زیادہ سے زیادہ گیت لکھوں۔ کیوں کہ اس طرح ان کی جان چھوٹ جاتی تھی۔ اسلام آباد ہیڈکواٹر سے حکم آتا تھا کہ فوراً اتنے گیت چاہئیں۔ تو وہ کہتے تھے کہ اسد بھائی اگر آپ شروع کردیں گے تو مجھے دو تین اور دوستوں کی طرف سے بھی کام ملنا شروع ہو جائے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ اسد لکھ رہا ہے تو وہ بھی لکھیں گے۔ اس طرح دس پندرہ بیس روز میں میرا پورا پروگرام ریکارڈ ہو جائے گا۔ ظاہر ہے یہ ان کے عہدے کی مجبوری تھی۔ وہ میوزک روم میں کمپوزرز کو بٹھادیتے تھے۔ خاص طور پر عاشق علی خاں کو۔ عاشق علی خاں کہتے، اسد بھائی، آپ سن لیں۔ اس گانے والے یا گانے والی کا تلفظ ٹھیک ہے۔ یہ صحیح جگہ رک رہی ہے کہ نہیں؟ اس کی ادئیگی ٹھیک ہے؟ کہیں اس نے کوئی گڑ بڑ تو نہیں کردی۔ ایسا نہ ہو کہ یہ غلط ریکارڈ ہو جائے تو میری مصیبت آجائے۔ کبھی عبیداللہ علیم اور میں، اور بعض اوقات میں اکیلا میوزک روم میں ریہرسیل میں جایا کرتا۔
عاشق علی خاں بہت کمال کے آدمی تھے۔ وہ گانے والی بائیوں کو سمجھاتے تھے۔ دیکھو، ان کے سامنے سگریٹ وگریٹ مت پینا۔ زیادہ بک بک نہ کرنا اورایک دوسرے کو جو تم گالیاں بکتی رہتی ہو۔ چھنال چھنال کرتی رہتی ہو۔ یہ سب نہیں کرنا۔ اس لیے کہ یہ شاعر بڑی مشکل سے قابو میں آئے ہیں۔ اس طرح عاشق علی خاں انہیں ڈرا کے رکھتے تھے۔
ایک دفعہ وہ مجھ سے ہنس کرکہنے لگے۔ یہ جو ابھی اٹھ کر گئی ہے کیا ٹھیک پڑھتی تھی۔ میں نے کہا کہ ہاں، ٹھیک پڑھتی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ بہت بے قابو لڑکی ہے۔ آپ کو ان کا کچھ پتہ نہیں۔ اس لیے انہیں اور گانے والے من چلوں کو ڈرا کر رکھنا ضروری ہے۔ مگر استاد بھی اور لکھنے والے بھی دیانت داری سے ان کے آﺅٹ پٹ کی تعریف کرتے تھے۔ اورگلوکارائیں بھی خوش ہو کے لوگوں سے کہتی تھیں کہ ان صاحب کافلاں فلاں گیت،(جیسے انوکھا لاڈلا )ہم نے بھی گایا ہے۔ اس زمانے میں یہ سب ہوتا تھا۔ ہم جب وہاں جاتے تھے تو میوزک روم بہت سلیقے کا ہوتا تھا۔ وہاں آکروہ بائیاں گیت پڑھ کے، سمجھ کے چلی جاتی تھیں۔ میں نے ایک روز علیم سے کہاکہ ان بے چاریوں کو لوگ برا کیوں کہتے ہیں۔ علیم نے جواب دیا کہ کبھی تم کمپوزرز کی میٹینگ کے وقت میرے کمرے میں آنا۔
ایک دن میں وہاں گیا تو ایک گانے والی واقعی رو رہی تھیں۔ میں وہاں ایک طرف خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وہ اپنی ماں کی خباثت کا ذکر کر رہی تھی۔ یا جس نے اسے پالا تھا، اس کی کمینگی بیان کر رہی تھی۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ وہ بتا رہی تھی کہ اسے پالنے والی نے ایک بار ایک پینسٹھ سالہ آدمی کے ساتھ اسے چلتا کیا۔ ،کہنے لگی،میں گئی اور اس کتے کے ساتھ تین مہینے تک رہی۔ کبھی اس کا بھتیجا بھی چلا آتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ اس کی کہانی بہت الم ناک تھی۔ جسے وہ رو رو کرسنا رہی تھی۔ علیم بھی درد مند دل رکھنے والے دوست تھے۔ وہ ایسی صورت حال کا بھی سامنا کرتے تھے۔ ایسی لڑکیوں سے کہتے کہ سب بھول جاﺅ۔ اب میں تمہارااستاد ہوں۔ تم میری شاگرد ہو۔ بس بسم اللہ کرکے گانا شروع کرو اور، نام کماﺅ۔ وہ جو تمہارے ساتھ آتا ہے نا دَلا،اس سے میں نمٹ لوں گا۔ اسے اوپر والوں سے دھمکی دلواﺅں گا۔ اور علیم نے ایسا کیا بھی۔ اس نے ساتھ آنے والے سے کہاکہ دیکھو بھئی، اب یہ ٹی وی کی آرٹسٹ ہے۔ تم اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کرو گے۔ جیسے اس روز تم نے اس پر جوتا اٹھا لیا تھا۔ اب یہ نہیں چلے گا۔ یہ ٹی وی اسٹیشن ہے۔ تمہارا بدمعاشی کا اڈہ نہیں ہے۔ علیم نے اس دلے کو ایسا ڈرا دیا تھا کہ بس۔
اس زمانے میں اسلم اظہر ٹی وی کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ ایک میٹنگ میں مجھ سے پوچھنے لگے۔ اسد، تم خوش ہو نا؟لکھنے کا ماحول Positive ہے؟۔ میں نے کہا، بہت دن بعد ہوا ہے مگر اب بالکل پازیٹو ہے۔
میں بھی سوچتا تھا کہ ان عورتوں کے سُراتنے سجل اور خوب صورت ہیں اور یہ محنت بھی کرتی ہیں ان کے ساتھ یہ کیا تماشے ہو رہے ہیں؟ ایک گانے والی چار دن ریہرسیل میں نہیں آئی،اور جب آئی ہے تو ہر وقت آنسو پونچھتی رہتی ہے۔ مگر یہ سب علیم manageکرلیتے تھے۔ وہ ان سے کہتے تھے کہ دیکھو بی بی، یہ تمہارا مستقبل ہے، کیرئیر ہے۔ اور رہے وہ بدمعاش، تو ہم ان کا دماغ ٹھیک کردیں گے۔ علیم ان ساتھ آنے والوں کو ڈانٹ کر رکھتے تھے اور ان سے کہتے تھے ریڈیو اور ٹی وی کی تمہاری ساری بکنگ کینسل کروادوں گا۔ بیٹھے رہنا پھر، ایک ایک مجرے کے لیے۔ تو وہ جواب دیتے۔ نہیں سر، جیسے آپ کہیں گے ویسے ہی ہوگا۔

 

سوال: آپ کے نزدیک ایک فکشن رائٹر کی بنیادی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ فکشن رائٹر کو جمہوریت یا آمریت میں سے کس کا ساتھ دینا چاہیے؟
اسد محمد خاں:نہیں، کسی کا ساتھ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی کمٹ منٹ کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ایک فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب، اور کہانی کے patteren سے ہوتا ہے۔ آپ کہانی لکھنے آئے ہیں۔ قوم کی اصلاح کرنے نہیں آئے۔ دیکھیں یہ بابائے اردو جیسے بڑے لوگوں کا کام تھاکہ جنہوں نے زبان کو رفعت بخشی۔ آج اردو زبان کو جو رتبہ ملا ہے، یہ ہمارے ان ہی اسکالرز کی وجہ سے ہے۔ لیکن ایک عام تخلیقی کام کرنے والے، لکھنے والے کوجس کا کام کہانی کہنا ہے، گیت لکھنا ہے۔ اسے صرف کہانی کہنے اور گیت لکھنے سے سروکار ہوناچاہیے۔ سرخ انقلاب کے چکر میں کتنے اچھے اچھے ادیب ضایع ہوگئے۔ یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے با صلاحیت لوگ اس طرح خراب ہو ئے۔ فکشن رائٹر اور ایک شاعر کا کمٹ منٹ صرف اپنے کرافٹ اور فن کے ساتھ ہے۔ اور یہ بھی کہ اصل کرافٹ وہ ہے جونظر نہ آئے اور آپ کے کہانی کہنے کے انداز میں گم ہو جائے۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ اوہو، ان کے ہاں تو پوری Mathsہے، دو اور دو چار ہورہے ہیں۔ فکشن میں دو اور دو چھ بھی ہوتا ہے۔ کرافٹ کی پرواہ چھوڑیے۔ بس اپنا کام کرتے رہیے۔ جو پسندیدہ بھی ہو اور معیاری بھی۔

 

میں نے تاریخ کے مطالعے سے یہ اخذ کیا کہ کہانی کو عام آدمیوں کے ذریعے اٹھایا جائے کیوں کہ مختلف ادوار کی تنظیمی خرابیوں سے یا اہلیت سے عام آدمی کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔
سوال: آپ کا ایک طویل افسانہ ہے ” رگھوبا اور تاریخِ فرشتہ“۔ اس میں ایک نوجوان کی کہانی بیان کی گئی ہے، اس کے بعد اسے سپہ گری کی مکمل تربیت دے کرجاسوسی کے لیے مختلف مہمات پر بھیجا جاتا ہے۔ وہ کہانی لکھنے کی انسپائریشن کیا تھی؟اور اس کہانی کا تعلق کس دور ہے؟
اسد محمد خاں: دیکھیے صاحب،اس دور کی بات یہ ہے کہ میں جب شیر شاہ سوری پر قسط وار کہانی لکھ رہا تھا،تو اس وقت میں نے ایک کردار تخلیق کیا تھا۔ شناور غِلزئی۔ (غِلزئی پختونوں کا ایک قبیلہ ہے)۔ تو اس طرح کچھ کردار بنانے پڑتے ہیں۔ شناور کا پورا پس منظر سپاہیانہ ہے۔ وہ ایک ملازمت پیشہ پٹھان ہے اور اس کے اندر قبائلی self respectموجود ہے۔ وہ اپنی مالی حیثیت سے لوگوں کو متاثر کرنا نہیں چاہتا کیوں کہ وہ کہتاہے۔ غلزئی کبھی کسی سے ڈینگیں نہیں ہانکتے، کبھی کمزور پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتے۔ کوئی بے غیرتی کی حرکت نہیں کرتے۔ پیٹ نہیں بھرتا ہو نہ بھرے، مر جاﺅ، لیکن ہاتھ مت پھیلاﺅ،compromise مت کرو۔ جوتے گانٹھ لو۔ وہ کام ہے، پالش کرنا بھی کام ہے۔ لیکن کبھی کوئی بے غیرتی نہ کرنا۔ تو یہ ایک code of ethics ہے جسے پختون ولی کہا جاتا ہے، یعنی پٹھانوں کانظامِ اخلاق۔ اسے ہندوستان کے پٹھان ”پٹھن ولی“ بھی کہتے ہیں۔
اس کردار میں یہ ساری بنیادی باتیں ہیں۔ ان چیزوں کو بیان کرنے لیے میں نے شناور غلزئی جیسا کردار تخلیق کیا۔ اسی طرح کچھ اور کردار بھی بنائے۔ آپ نے رگھوبا کا ذکر کیا۔ میں نے اسے ایک convert ظاہر کیا، جو ہندو سے مسلمان ہوا ہے۔ یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ یہ خلجی بادشاہوں کا دور تھا۔ آپ جانتے ہیں،میں نے بادشاہوں پر کبھی نہیں لکھا۔ ان باشاہوں کے ادوارو اذکار آئے بھی تو، عام لوگوں یا ان کا کوئی اہل کاروں کے حوالے سے، جن کے ذریعے ان کا دور کھل کر ہمارے سامنے آیا۔ کبھی بھی عہد کی شان وشکوہ اور دبدبہ سلاطین سے نہیں ہوتا۔ میں نے کسی بھی دور کاحال سنایا تو کریڈٹ میں نے کبھی بادشاہوں کو نہیں دیاکہ یہ بادشاہوں کا کمال نہیں تھا۔ ان کے منتظمین اور عوام کا کمال تھا۔ شیرشاہ سوری کا ایک منتظم” ٹوڈر مل “بھی تھا۔ اٹھارہ سال کے اس نوجوان سے شیر شاہ لاہور میں ملا تھا۔ شیرشاہ سوری نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے زمین ناپنے کا اصول سمجھ لیا ہے۔ لو ہماری زمین کی پیمائش کرو۔ اس کے پاس شعور اور علم تھا۔ یہ ٹوڈر مل عہدِ مغلیہ میں بہت مشہور ہوا۔ اکبر بادشاہ نے اسے راجہ ٹوڈر مل کا خطاب دیا تھا تب وہ ادھیڑ عمر کا تھا۔ تو یہ شیرشاہ کا کمال تھاکہ وہ عام لوگوں میں سے باہنر لوگ ڈھونڈلیتاتھا۔ وہ خود بھی ایک عام آدمی کی طرح اٹھا تھا۔ کسی بادشاہ کی اولاد نہیں تھا۔ (سلطان ابن سلطان نہیں تھا)۔ مغلوں میں ایسا ضرور ہوا کہ نسل در نسل سلسلہ چلا۔ خلجیوںمیں بھی یہ رواج چلا۔
میں نے تاریخ کے مطالعے سے یہ اخذ کیا کہ کہانی کو عام آدمیوں کے ذریعے اٹھایا جائے کیوں کہ مختلف ادوار کی تنظیمی خرابیوں سے یا اہلیت سے عام آدمی کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔ بادشاہ تغلق نے اپنے دور میں طرح طرح کے تماشے کیے۔ سکوں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ اس نے کاغذ کا سکہ ایجاد کیا۔ اس عہد کے لوگ تانبے پیتل کے سکوں کو مانتے تھے مگر تغلق نے بالکل ہٹ کر نیا سکہ رائج کردیا۔ میں نے یہ احوال پڑھتے ہوئے سوچا کہ عام لوگوں کے ہجوم سے ایک ذہین و فطین کردار آنا چاہیے، اور وہ تھا رگھوبا۔ وہ خلجیوں کے دور میں کبھی ایک کارنامہ کر دکھاتا ہے کبھی دوسرا۔ وہ عام لوگوںکی واردات سناتا ہے۔ ظل اللہ کا چمچہ نہیں ہے۔
میری کہانیوں میں دربار کا ایک منظر نہیں ملے گا۔ کیوں کہ میرے تئیں بادشاہ خود سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ٹھاٹھ باٹھ سے مجھے کبھی سروکار نہیں رہا۔ اس لیے یہ سب چھوڑ کر کیوں نہ ہم باڑے میں جائیں، جہاں بھینس کا دودھ دوہا جارہا ہے۔ جہاں بھُک مری کا قصہ سنایا جا رہا ہے، تو وہاں سے،حقیقی زندگی سے کہانیاں نکالنی چاہئیں۔

 

سوال: کیا آپ لکھتے ہوئے خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتے ہیں؟ یا آپ اپنے ذہن پر کسی قسم کا سینسر عائد کرتے ہیں؟
اسد محمد خاں: میں بس ایک بات کا خیال رکھتا ہوں کہ جس نے بھی زمین پر شر کو پھیلایا، کبھی میری تحریر میں اس کی تعریف نہ آئے۔ ہمیشہ اس پر تنفر کے جوتے ہی پڑیں۔ اور یہ بات نمایاں بھی نہ ہو۔ یعنی میں اگر ایک پورا جملہ بھی لکھ دوں کہ ہم لکھنے والے شر کو ختم کرنے آئے ہیں اور ہم خیر کا فروغ چاہتے ہیں۔ بات نہیں بنے گی نہیں۔ جی نہیں۔ یہ سب کچھ بین السطور ہونا چاہیے۔

 

میں بس ایک بات کا خیال رکھتا ہوں کہ جس نے بھی زمین پر شر کو پھیلایا، کبھی میری تحریر میں اس کی تعریف نہ آئے۔ ہمیشہ اس پر تنفر کے جوتے ہی پڑیں۔
سوال: آپ کے بیشتر افسانوں کے بین السطور غصے کی ایک زیریں لہر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ جو مختلف لفظوں اور جملوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا کیا سبب ہے؟
اسد محمد خاں: اس غصے کا سبب ہمارے ملک کی تاریخ ہے۔ دیکھیے نا ہمارے ہاں چار ڈکٹیٹر آئے۔ آپ نے اپنی نوعمری میں دیکھا سناہوگا کہ کچھ اچھے لوگ بھی آئے ہیں، ایک مقصد لے کر۔ لیکن انہیں نہ کچھ کرنے دیا گیا اور ہٹا دیا گیا۔ توکیا یہ سب صرف ہمارے لیے ہی رہ گیا ہے، کہ یہاں اسی طرح کے نامعقول لوگ آتے رہیں اور برسوں مسلط رہیں۔ آپ جنوبی ہندوستان کو دیکھیے۔ ایک شخص درزی کا کام کرتا ہے۔ وہ اپنی بیگم کے ساتھ مل کر یہ کام چلاتا ہے۔ اسے سیاست میں کچھ درک ہوتا ہے۔ وہ خوب حصہ لیتا ہے اور آگے چل کر وہ پورے علاقے کا ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے۔ اور جنوبی ہند کے اخبارات اس کی ایمان داری کی تعریفیں کرتے ہیں۔ جب اسے اپنے ذاتی کام سے جانا ہوتا ہے تو اپنی بیوی سے گاڑی مانگتا ہے۔ اگر گاڑی تو خراب ہوتی ہے تو وہ اپنی موٹر سائیکل پر چلاجاتا ہے۔ وہ وہاں کا وزیرِاعلی ہے۔ وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور لا مذہب ہے۔ آدھی رات کو اس کے گھر جا کر لوگ اسے اپنا مسئلہ بتائیں، تو بھی خندہ پیشانی سے سنتا ہے اور اسے حل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ وہاں کامیاب ہے، اس لیے کہ وہ ایک عام آدمی ہےاور عام آدمیوں کے لیے کام کرتا ہے۔

 

سوال: کیا آپ پورا افسانہ، اس کی جزیات سمیت پہلے سے سوچ لیتے ہیں اور اس کے بعد من و عن اسے لکھتے ہیں؟ یا لکھنے کے دوران دھیرے دھیرے اس کی جزئیات کو گرفت میں لاتے ہیں؟
اسد محمد خاں:ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کوئی واقعہ یا فقرہ ذہن میں آجائے۔ ۔ مثلاًایک سڑک چلتا آدمی پریشانی میں ہے، اس سے کوئی شخص ایک ایسا فقرہ کہے جس سے حوصلہ بندھ جائے، ہمت پیدا ہویہ سوچ توانائی سے آئے تو۔ کہانی ڈیویلپ کروں گا۔ یا پھر کوئی ایک فقرہ haunt کرتا رہتا ہے۔ یا پھر کوئی event۔ کوئی ایسا event جو مجھے اپنی گرفت میں لے لے۔ اس طرح میں اس کردار کے ساتھ بندھا رہتا ہوں۔ کبھی وہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ مجھے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا، تو میں اس واقعے کو لکھ کر چلتا ہوں اور کہانی بننے لگتی ہے۔

 

سوال: آپ کا لکھنے کا وقت یا اوقات کیا ہیں؟
اسد محمد خاں:یہ تو بیس پچیس سال سے زیادہ پرانی کہانی ہے۔ پہلے میں رات کے دوڈھائی بجے تک جاگتا تھا، صبح مجھے آفس جانا ہوتا تھا،تو ایک خاص وقت پر میں الارم سے اٹھ جاتاتھا۔ بیگم ناشتہ دیتی تھیں،میں روانہ ہوجاتا تھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ محکمے والوں نے میرے لیے صبح ایک گھنٹے کی خاص رعایت کی تھی۔ لیکن مجھ پر ذمہ داری تو تھی۔ میں جلد از جلد وہ کام نمٹاتا۔ پھر لکھنے بیٹھ جاتا۔ وہاں انسپیکٹر امپورٹس تھاتومجھے انسپیکشن کے بعددستخط کرنے ہوتے تھے۔ تاہم میں پانچ ساڑھے پانچ بجے گھر آجاتا تھا۔ گھر آنے کے بعد گھر کے کام یعنی سودا سلف اور دیگر کام نمٹا کر میں رات میں لکھنے کے لیے بیٹھتا تھا تو مجھے تین چار گھنٹے مل جاتے تھے۔ بیگم اردو کی لیکچرار تھیں۔ ان کو صبح جانا ہوتا تھا۔ ریٹائر منٹ کے بعد مجھے لکھنے کے لیے کچھ زیادہ وقت ملنے لگا۔ بعض مجموعے میں نے ریٹائر منٹ کے بعد ہی مکمل کیے۔

 

سوال: کیا آپ روزانہ لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں:نہیں۔ جب وقت ملتا ہے۔ اور کتنی دیر لکھتا ہوں، یہ طے نہیں۔ جب مطمئن ہوجاتا ہوں تو ختم شد۔ پھر کبھی تو وہ تحریر بھول جاتا ہوں،اورعنوان بھی یاد نہیں رہتا۔ کبھی مجھے بھی تعجب ہوتا ہے کہ اچھا،یہ میں نے لکھا تھا۔ یہ بھی ہوتا ہے۔ جب تک کوئی تحریر پوری لکھی نہیں جاتی، میں مسلسل بے چین رہتا ہوں۔ ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اطمینان ہو جاتا ہے۔

 

سوال: کیا آپ لکھنے کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں یا کاغذ پینسل سے لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں:کمپیوٹر میں نے چار سال پہلے تک خوب استعمال کیا لیکن اب بہت کم کم۔ میں نے اپنی کچھ کہانیاں اور کچھ کمرشل اسکرپٹ کمپیوٹر پر کیے تھے۔ میری بیٹیوں نے کہا۔ اب آپ لیپ ٹاپ استعمال کیجیے۔ ،تو میں ان دنوں رومن اردو میں لکھتا ہوں۔ میں نے اپنی بڑی نواسی سے کہا ہے کہ مجھے لیپ ٹاپ میں ان پیج ڈال کر دو، اسے Testsاور امتحانوں سے فرصت نہیں ہے۔ خیر۔ کمپیوٹر کے استعمال سے پہلے میں کاغذ قلم سے ہی لکھتا تھا۔ اب بھی زیادہ تر کام قلم سے لکھ کر ہی کرتا ہوں۔

 

سوال: آپ کسی افسانے کو کتنی مرتبہ لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں: ان گنت مرتبہ۔ میں عام طور پر سولہ سترہ مرتبہ تو اس میں ردوبدل کرتا ہی ہوں۔ بعض کہانیاں بہت جلدی بھی لکھی جاتی ہیں۔ میں اپنے افسانوں میں punctuation کا خاص خیال رکھتا ہوں۔ اگر آپ صحیح جگہ کوما یا فل اسٹاپ نہ لگائیں توبعض اوقات پورا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

 

افسانے کاآغاز اور اختتام پر کشش ہونا چاہئیے۔ اگر افسانے کا پہلا پیراگراف کسی کو گرفت میں نہیں لیتاتو ممکن ہے وہ اسے بالکل نہ پڑھے۔ اس لیے پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے۔
سوال: آپ افسانے کو فائنل کرتے ہوئے کس طرح کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں؟
اسد محمد خاں: افسانے کاآغاز اور اختتام پر کشش ہونا چاہئیے۔ اگر افسانے کا پہلا پیراگراف کسی کو گرفت میں نہیں لیتاتو ممکن ہے وہ اسے بالکل نہ پڑھے۔ اس لیے پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اچھا اس میں یہ بھی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مصنوعی طور پر Draftکیا ہوا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، پھر بھی افسانے کو اتنا متوازن ہونا چاہیے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ اس کے بعد story telling ہے، کردار ہیں، مختلف واقعات ہیں۔ ایک خاص واقعہ[ چاہے وہ واقعہ نہ ہو ایک جملہ ہی ہو،] اورایک خاص تفہیم، کردار میں اچانک سے آتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے افسانہ ختم ہوا۔ تو اس کے بعد بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ وہیں ختم کردینا چاہیے۔ خاتمہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ آپ کو مطمئن کردے اور پڑھنے والے کو بھی بتادے کہ بس یہاں بات ختم ہو گئی ہے۔ اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مختصر یہ کہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ کئی کئی بار لکھنا پرتا ہے۔ کوئی پیراگراف جو فضول لگے اسے ہٹانے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔

 

سوال: انسانی معاشرے میں فکشن کا بنیادی کام کیا ہے؟
اسد محمد خاں: روز اول سے پہلے مائیں، اس کے بعد دانش مندلوگ یعنی گاﺅں کے مکھیے، سردار، بوڑھے اپنی بات پہنچانے کو کہانی سنانے یا داستان گوئی سے کام لیتے تھے۔ بچے کہانی کی فرمائش کرتے تھے مائیں کہانی سناتی تھیں۔ اس کا مقصد یہ بھی ہوتا تھاکہ بھلے لوگوں کیسے زندگی گزارتے ہیں، یہ بچوں کو بتایا جائے۔ ان میںبھی اچھا آدمی بننے کی خواہش پیدا ہو۔ اس طرح کہانی بچوں کی تربیت کا ایک طریقہ ہوتی تھی۔

 

سوال: آپ کس طرح کی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟ یعنی فلسفیانہ، تاریخی، یا فکشن کی کتابیں؟
اسد محمد خاں:میرے لیے فکشن پڑھنا سب سے زیادہ پسند یدہ کام ہے۔ میں نے اردو اور انگریزی کی وساطت سے دنیا کی دیگر زبانوں پولش، جرمن، روسی، فرانسیسی وغیرہ کا ادب پڑھا۔ انگریزی نظم ونثرکا خوب مطالعہ کیا۔ تاریخ کے موضوعات بھی میرے لیے کشش رکھتے ہیں۔

 

سوال:عالمی ادب میں آپ کے پسندیدہ ادیب کون کون سے رہے؟
اسد محمد خاں: وہی جو مشہور و معروف ہیں۔ اور جن تک ہماری پہنچ ہے۔ ایک زمانے میں جن ادیبوں کامیں نے خوب ترجمہ کیا، ان میں بورخیس شامل تھے۔ ”خوب ترجمہ“ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اجمل کمال سہ ماہی ” آج“ نکال رہے تھےاور ”آج“ کی سپلائی برقرار رکھنی تھی۔ ہمارا ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ تو ہم چاہتے تھے کہ ہمارے واسطے سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزیں پڑھنے کو ملیں۔ میرے نوجوان ساتھی بیس بیس سال کے ہوں گے اور میں پچاس سال کا ہونے والا تھا۔

 

سوال: آپ نے جو فکشن پڑھا، اس میں آپ کے پسندیدہ کردار؟
اسد محمد خاں:پسند تو بہت سے آئے مگر یاد نہیں رہے۔ اصل میں جب آدمی اپنا لکھنا شروع کرتا ہے تو ’دوسروں کے کردار‘ اسے متاثر تو کرتے ہیں مگر اس کے اندر جگہ نہیں بناتے۔ وہ اپنے کرداروں میں کھویا رہتا ہے۔ آدمی پہلے اپنا گھر دیکھے گا نا۔ تومیں اپنے کرداروں میں کھویا رہتا تھا خواہ وہ کیسے ہی ہوں؛ رگھوبا جیسے بھی۔ جو کبھی چمچہ گیری کرتا پھرتا ہے۔ کبھی کچھ اور۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ میرے اپنے کردار میرے ساتھ رہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ بعد میں میں ان پر کچھ اور لکھوں۔

 

سوال:آج کی دنیا میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اور جسے دنیا بھر میں پڑھا جا رہا ہے، اسے اس کی قومیت یا اس کے ملک کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے مختلف اصطلاحیں استعمال کی جا تی ہیں، جیسے ہندوستانی ادب، امریکی ادب، یا پاکستانی ادب وغیرہ۔ کیا ہم ادب کو اس طرح کی حدود کا پابند کر سکتے ہیں؟ یا ادب کو ان حدود کو خاطر میں نہین لانا چاہیے؟ اپ کیا سمجھتے ہیں؟
اسد محمد خاں: کسی ملک، یا کرہ ارض کے کسی علاقے کی زبان یا کلچر دوسرے علاقوں سے تو مختلف ہو گا ہی۔ لیکن انسانی مسائل، دکھ اور خوشیاںجن سے وہ دوچار ہوتا ہے، اس کی سرشاریاں،اور اس کی فہم و ذکاوت،یہ سب تمام انسانوں میں ایک جیسی ہیں۔ آدمی کہیں بھی پیدا ہو۔ وہ نفرت کرتا ہے۔ محبت کرتا ہے۔ طیش میں آتا ہے۔ وہ خیر کے بارے میں غور کرتا ہے۔ ایک شر بھی اس کے اندر پیدا ہوتا ہے،جو چیزوں کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ [کیوں کہ آدمی تو وہی ہے۔] یہ سب جاری ہے، سو اس کے بارے میںپڑھتے رہنا چاہیے۔ یوں اندازہ ہوگا کہ کرہ ارض پر کہاں کیا ہورہا ہے۔ کس چیز پر زور دیا جارہاہے۔ اسے اس طرح علاقوں اور لوگوں کی زندگی زیادہ معنی خیز ہونظر آئے گی۔ یعنی ادب تمام حدود سے بلند ہے۔ وہ سارے کا سارا نفسِ انسانی کے بارے میں ہے۔ اس میں ایک ایسی کشادگی ہے، جس کا اطلاق دنیا کے تمام انسانوں پر کیا جا سکتا ہے۔ یوں اپنی زبان میں ہم لوگوں کو ہم بتائیں گے تو ادب ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے بھی زیادہ با معنی اور مفید ہو سکتا ہے۔

 

ہم جب واجد اسکوئر پہنچے تھے تو اس وقت اس کے کمپاﺅنڈ پر چھٹی کے دن کی صبح کی مخصوص خاموشی طاری تھی۔ مگر اب سہ پہر ڈھلنے والی تھی۔ کھڑکیوں سے بچوں اور نوجوانوں کا غوغا سنائی دے رہاتھا۔ کھڑکیوں سے دور دور رہنے والی دھوپ اب بے جھجھک دبے پاﺅں کمرے کے اندر داخل ہوچکی تھی۔ اسد محمد خاں صاحب جس کرسی پربیٹھ کر ہم سے باتیں کر رہے تھے،دھوپ سیدھی اسی کرسی پر آرہی تھی۔ ان کے چہرے پر اس طویل گفتگو سے ہونے والی تھکن کا نام و نشان تک نہ تھا، البتہ ان کی آواز اور ان کا لہجہ تھکن کی چغلی کھا رہا تھا۔ جتنی دیر ہم ان کے ساتھ رہے، اس تمام وقت ان کی بیگم صاحبہ وقفے وقفے سے میزبانی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ہمیں انہیں تکلیف دینے پر ندامت سی ہو رہی تھی مگر اسد صاحب کا کہنا تھا کہ ان کی بیگم صاحبہ کایہی وطیرہِ میزبانی ہے۔
انٹرویو تمام ہونے کے بعد ہم نے اسد محمد خاں صاحب سے رخصت چاہی۔ وہ ہمیں دروازے تک چھوڑنے آئے۔ ہم نے ان سے الوداعی مصافحہ کیااور سیڑھیوں سے اترنے لگے۔
Categories
فکشن

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔

اگرچہ مٹھو نے لان میں بکریوں کے آنے کا جو نقشہ پیش کیا تھا وہ میرے غصے کو آخری درجے تک پہنچانے کے لئے کافی تھا لیکن ارسطو کا نظریہ حکومت بھی غیر دلچسپ نہیں تھا۔ کتاب میں بک مارک رکھ کر میں کمرے سے باہر ٹیرس پر آ گیا۔ بکریاں اگرچہ اب لان میں نہیں تھیں تاہم وہ قریب ہی تھیں اور ایک بار پھر پودوں پر حملہ آور ہو سکتی تھیں۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو میرے پور چو لاکا(Portulaca) کے چار پودے تو بالکل غائب تھے۔ ٹیرس کے جنگلے سے ہی میں اس عورت پر برس پڑا۔ وہ اپنے اوڈھ لہجے میں نہ جانے کیا بڑ بڑا رہی تھی جو کتے کے مسلسل بھونکنے کی وجہ سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ آخر مجھے نیچے آنا ہی پڑا۔ عورت پھٹے پرانے نیلے رنگ کے پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس ، ننگے سر ننگے پاوں زمین پر متھلا مارے بیٹھی تھی۔ دھوپ کی حدت سے اس کا رنگ سیاحی مائل سرخ ہوگیا تھا۔ اس کے گلے میں گلٹ کا بنا ہوا بھدا سا نیکلس، کانوں میں پیلے رنگ کے جھمکے اور ناک میں اسی رنگ کی بلاقی تھی۔ اس کی کلائیوں کی ہڈیاں مضبوط تھیں اور اس امر کی گواہ تھیں کہ وہ زیر تعمیر عمارتوں میں اینٹیں ڈھونے اور بیلچہ چلانے کا کام کرتی ہے۔ مجھے اپنے قیمتی پودوں کے ضائع ہونے کا اتنا رنج تھا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا۔

’’ کچھ معلوم ہے تمہیں۔۔۔؟ تم نے میرا کتنا نقصان کر دیا ہے۔۔۔‘‘
’’ کیا ہوا، ذرا بکریوں نے منہ مار لیا ہے‘‘
’’ یہ ذرا ہے، پورے چار پودے غائب ہیں اور تم کہہ رہی ہو ذرا‘‘
’’ کوئی بات نہیں صاب، اللہ اور دے گا۔۔ آخر بے زبان بکریوں نے بھی تو کچھ کھانا ہے نا۔‘‘
اس کی یہ منطق سن کر تو میں اور آگ بگولا ہو گیا۔
’’ بکریوں نے کھانا ہے تو میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے، ان کا دودھ تم پیتی ہو، مجھے کوئی حصہ تو نہیں ملتا‘‘
’’ ایمان سے میری نہیں ہیں ، مجھے تو ان کو چرانے کے روز دس روپے ملتے ہیں ‘‘
’’ مجھے نہیں معلوم دس ملتے ہیں کہ بیس، تم نے میرا چارسو کا نقصان کر دیا ہے اور اوپر سے باتیں الگ بنا رہی ہو۔۔۔اگر میں ان پر اپنا کتا چھوڑ دیتا تو بکریوں سمیت تم کو بھی کھا جاتا‘‘
’’ہاں ہاں چھوڑ دو ہم پر کتے، اب یہی کسر تو رہ گئی ہے، تم بھرے پیٹ والے ہو، پیسے والے ہو، تمام خالی جگہیں خرید کر تم نے گھر بنا لئے ہیں ۔۔۔اب ہم پر کتے ہی چھوڑو گے۔۔ذرا روٹی کا آسرا ہے، وہ بھی چھین لو گے؟‘‘

بک بک کرتی وہ اٹھی اور پتلی چھڑی سے ہانکا کرتی بکریوں کو ہماری گلی سے باہر لے گئی۔ میں اس وقت بہت غصے میں تھا۔ دراصل میں نے بڑی محنت سے پہلے پنیری تیار کی، پھر کافی انتظار کے بعد انہیں الگ الگ کیاریوں میں لگایا تھا اور ابھی ان پر پھول آئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ بکریوں نے دن کے وقت شب خون مار دیا تھا۔ میں نے لان کا جائزہ لیا تو وہاں صرف یہی چار پودے غائب نہیں تھے بلکہ بکریوں کی یلغار سے گارڈینیا کی باڑھ بھی ایک جگہ سے ٹوٹ چکی تھی ۔ البتہ گلِ نافرمان کا پودا بس تھوڑا ٹیڑھا ہوا تھا۔ میں نے فورا کچھ اینٹیں چن کر اس کے گرد رکھ دیں۔

سہ پہر کی چائے تیار تھی اور میری بیوی مجھے چائے کے لئے آوازی دے رہی تھی۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور اوپر جا کر چائے پینے لگا۔ ہم میاں بیوی اس سلسلے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ ایک دوسرے کا موڈ پہچانتے ہیں۔ میرا غصہ کم کرنے کے لئے اس نے ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیں اور میں بھی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔ میری نظریں تو کتاب پر تھیں لیکن میرا ذہن ضائع ہوجانے والے پودوں اور عورت کی باتوں میں اٹکا تھا۔ مجھے وہ عورت، اس کی مضبوط کلائیاں، اس کا مادر زاد ننگا بچہ، کڑتن سے بھرے تلخ الفاظ ، رہ رہ کے یاد آ رہے تھے۔۔ موٹے پیٹ والے۔۔۔ پیسے والے۔۔۔ بے وقوف عورت اتنا بھی نہیں جانتی کہ یہ گھر میرا نہیں بلکہ کرائے کا ہے اور ہم دونوں محنت مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے اس کی بے وقوفی اور سادگی پر ترس آنے لگا۔ پھر مجھے دیگر مزدور عورتوں کے ساتھ ساتھ نوکری پیشہ خواتین کا خیال آیا۔ مجھے اپنے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کا خیال آیا کہ میں ان کا ہمیشہ احترام کرتا ہوں۔ بات بے بات شکریہ ادا کرنا، خوش مزاجی سے پیش آنا، ان کے نقطۂ نظر کا حتی الامکان احترام کرنا۔۔۔آخر میں یہ سب کیوں کرتا ہوں؟؟کیا میں دفتر میں ایک خول چڑھائے رکھتا ہوں۔ نہیں، ہر گز نہیں، میں اس بات پر پوری طرح یقین رکھتا ہوں کہ اس مردانہ برتری کے معاشرے میں عورت، مرد سے کہیں زیادہ جبر کا شکار ہے۔ میں نے عورت کو ہمیشہ اپنے جیسا انسان ہی جانا ہے اور اسے جنس یا کم تر جنس کے حوالے سے کبھی نہیں دیکھا۔ میں اپنی بیوی کی ہر رائے کا احترام کرتا ہوں اور ایک رفیق کی مانند اس کی مدد کرتا ہوں۔ گھر کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں لیکن اس بکریاں چرانے والی عورت کی ذرا سی لا پرواہی پر میں اتنا سیخ پا کیوں ہو گیا۔ کیا یہ جعلی پن ہے ؟ سوچوں تو کیا میں اکیلا اتنے بڑے ریوڑ کو قابو کر سکتا ہوں۔ کیا میں اس عورت کی جگہ اپنی بیوی، بہن، کولیگ یا دوست کو تصور کر سکتا ہوں؟ میرے ذہن کی رو اسی طرف بہنے لگی ہے اور ارسطو کا نظریہ حکومت وہیں رہ گیا ہے۔ میں نے کتاب بند کر دی ہے اور سگریٹ سلگا لیا ہے۔ اس عورت کے ساتھ میرا مکالمہ مجھے بار بار یاد آ رہا ہے۔ میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھ سے زیادتی ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ہاں کل، یا اگلے چھٹی کے روز یا جب وہ نظر آئے۔
سہہ پہر کا وقت ہے۔ چھٹی کا دن ہے۔ کتا زور زور سے بھونک رہا ہے۔ میں نیچے آتا ہوں، گیٹ کھولتا ہوں۔۔۔وہی عورت۔۔۔میں اپنے آپ میں ہمت نہیں پاتا۔۔۔میں لان کے ایک کونے میں کھڑا ہو جاتا ہوں جہاں سے میرا خیال ہے کہ بکریاں آ سکتی ہیں، بس میں انہیں روک لوں گا۔

’’ فکر مت کرو بابو۔۔۔میرا دھیان ہے‘‘ عورت اوڈھ لہجے میں کہتی ہے اور کوڑے کرکٹ سے بھری زمین پر متھلا مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی گود میں وہی بچہ ہے اور وہ بڑے پیار سے اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے اس کے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ میں حیران و ششدر وہیں کھڑا رہ جاتا ہوں۔

Categories
فکشن

آدھی کھڑکی

میری نظروں کے بالکل سامنے اس اونچی دیوار میں ایک کھڑکی ہے۔ میں جب بھی فائلوں سے سر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کمرے کے سامنے والی دیوار پر پڑتی ہے جہاں چاچا رحمت بیٹھا ہے۔ رحمت کے پیچھے ایک دیوار ہے اور دیوار کے پار ایک وسیع لان جس کی انتہائی دیوار کی پرلی طرف وہ اونچی دیوار ہے جس میں ایک کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی کے ایک حصے پر پردہ پڑا ہے اور یوں میری نظروں کے سامنے آدھی کھڑکی ہے۔

اس وقت میری میز پر اتنا کام نہیں اور میں دفتر میں آنے جانے والوں کا جائزہ لے رہا ہوں لیکن جب بھی میں نظر اٹھا کر سامنے دیکھتا ہوں تو میری نظر لان میں اگے پھل دار درختوں اور پھولوں سے ہوتی ہوئی اس کھڑکی پر جا رکتی ہے۔کبھی کبھی اس بڑی سی کوٹھی کے بڑے سے لان میں ایک بوڑھا مالی پودوں کی دیکھ ریکھ کرتا نظر آتا ہے۔ وہ ہمیشہ ملیشیے کی شلوار قمیص اور میلی سی صدری میں ملبوس ہوتا ہے۔ اس کا گنجا بیضوی سر دھوپ کی شدت سے سرخ یاقوت کی مانند نظر آتا ہے۔مٹی ملے ہاتھوں سے وہ اپنے سر اور منہ سے پسینہ پونچھتا ہے۔ کوٹھی میں رہنے والا کوئی بندہ بشر نظر نہیں آتا البتہ گھر کے گیراج میں کھڑی کالے رنگ کی بڑی سی گاڑی کی پچھلی بتیاں نظر آتی ہیں۔

لان میں گہری خاموشی ہے اور مالی بھی خاموشی سے کام کر رہا ہے۔ میں اس خاموشی سے اکتا کر اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے اپنے کام کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہیں۔ میرے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ کبھی بے تحاشا کام ۔۔دین دنیا بھلا داینے والا اور کبھی مکمل فراغت اور اس فراغت میں جب میں دفتر کے میکانکی ماحول سے چھٹکارے کے لیے نظریں اوپر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کھڑکی پر جا پڑتی ہے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کارکن کو اس کھڑکی کے بارے میں بتانا چاہا تو اسے میری دماغی حالت پر کافی تشویش ہوئی۔ ایک اور نے تو مجھے اس کھڑکی کے سحر سے نکلنے کا مشورہ دیا۔ تیسرے نے بس ہنس کر ٹال دیا۔۔کھڑکی کچھ اس مضبوطی سے بند ہے کہ اسے کھولنا مشکل ہے۔

میں اپنی میز سے اٹھ کر چاچے رحمت کے پاس آ کھڑا ہوتا ہوں۔ اب مجھے لان میں اگے انار اور آم کے درخت صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اوپر تلے آنے والی موسمی آندھیوں کی وجہ سے کافی پھل ضائع ہو چکا ہے۔خشک پتے اور سوکھی لکڑیاں لان کے ایک کونے میں ڈھیر ہیں۔دیوار کے پار اب کھڑکی زیادہ صاف نظر آ رہی ہے۔میری نظریں کھڑکی کی طرف ہیں اور چاچا رحمت مجھ پر طنزیہ جملے پھینک رہا ہے لیکن میں ایک اور ہی نظارے میں گم ہوں۔ میرے سامنے کھڑکی کا آدھا پٹ کھلا ہے لیکن اندربہت اندھیرا ہے۔چیزوں کا عکس صاف نظر نہیں آ رہا۔ میں ذرا غور سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو کمرے کی ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک رسی بندھی نظر آتی ہے جس پر ایک مردانہ قمیص، بچوں اور عورتوں کے ایک دو کپڑے لٹکے ہیں۔ ایک طرف پیڈسٹل فین کا کچھ حصہ اور پانی کا ایک ڈرم نظر آ رہا ہے۔کمرے کی تاریکی کے ساتھ ساتھ اندر کا حبس بھی محسوس ہو رہا ہے۔اچانک ایک بچے کی قلقاری کی آواز کھڑکی میں میری دلچسپی بڑھا دیتی ہے۔ مہندی لگے دو سانولے ہاتھ نظر آتے ہیں جن کے ساتھ بازو میں پرانے فیشن کی موٹی چوڑیاں ہیں۔ آہستہ آہستہ موٹے اور بھدے نین نقش والی ایک عورت کا مہاندرہ نظر آتا ہے۔ بالکل کھڑکی کے سامنے۔۔ایک منٹ کے لیے اور پھر غائب۔۔۔

مجھے یاد آتا ہے کہ یہ چہرہ میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔میں اپنے ذہن پر زور دیتا ہوں۔ ہاں بالکل وہی چہرہ۔۔ وہی نین نقش۔۔ اپنے گھر میں، اپنے محلے میں، دفتر میں،اپنے دوست کے گھر۔۔۔سڑک پر۔۔۔گلی میں۔۔میری نظریں اس آدھی کھلی کھڑکی کے اندر گڑی ہیں اور میرا دماغ اس چہرے کی پہچان میں مصروف ہے۔چاچا رحمت بلاتکان باتیں بنائے جا رہا ہے۔ میرا دھیان اپنی جانب کرنے کے لیے وہ میری قمیص کھینچتا ہے۔ میں رحمت کی طرف متوجہ ہونے ہی لگتا ہوں کہ وہی چہرہ ایک بار پھر دکھائی دیتا ہے۔وہی ناک، وہی کان، وہی ماتھ، وہی ہونٹ، ہونتوں پر بے بسی اور افسردگی۔۔سخت چہرے پر پھیلا جبر۔۔بالکل وہی چہرہ ۔۔میں نے یہ چہرہ کئی بار دیکھا ہے۔باورچی خانے میں،بس سٹاپ پر،ریلوے سٹیشن پر، دفتر میں ، شہر کے بڑے چوک میں۔۔۔وہاں اس قسم کے اور بھی کئی چہرے تھے۔سب کے ہونٹوں پر جبر، آنکھیں اندر کو دھنسی۔۔ان کی زبانوں پر ان کے دل کی پکار۔۔مہندی لگے ہاتھوں نے ایک دوسرے کو پکڑ رکھا تھا۔۔ اپنے دوپٹے اپنی کمروں سے باندھے وہ ایک ہی سر تال میں دھمال ڈالے جا رہے تھے۔میں نے اس مہاندرے کو پہچان لیا ہے۔۔میں آنسو گیس کے شیل فائر ہونے کی آواز سن رہا ہوں۔ چہرہ زور سے چیختا ہے۔ میں چاچے رحمت سے پوچھتا ہوں کہ اس نے چیخ کی آواز سنی ہے ؟ وہ عجیب نظروں سے میری طرف دیکھتا ہے۔”چاچا چیخ کی آواز اس کھڑکی میں سے آئی ہے”میں اسے بتاتا ہوں۔۔اس آدھی کھڑکی سےجس پر پردہ پڑا ہے۔میں یہ پردہ گرا دینا چاہتا ہوں چاچا۔۔۔

“کوئی عقل کے ناخن لواچھے بھلے شریف آدمی ہو تم!!”چاچا کہتا ہے۔

یہ پردہ ضرور گرے گا ایک دن۔میں سوچتا ہوں لیکن چاچا رحمت مجھے دھکیل کر میری میز کی طرف لے جاتا ہے جہاں آج کی تازہ ڈاک رکھی ہے اور مجھے اسےآج ہی ڈسپوز آف کرنا ہے۔

Categories
فکشن

موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ چالیس کے پیٹے کا ایک شخص بڑے جذباتی انداز میں زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر پرشور مجمعے سے خطاب کر رہا ہے۔ ہجوم اتنا بڑا ہے کہ ڈکٹا فون کے استعمال کے باوجود بہت سے لوگوں تک مقرر کی آواز پہنچ نہیں پاتی۔ کچھ دیر بعد ایک بلند نعرے کی آواز آتی ہے لیکن الفاظ صاف سنائی نہیں دیتے۔

نعرے کی گونج کے ساتھ بلند و بالا عمارتوں میں گھری ایک ٹاور نما عمارت کی سب سے اوپر والی کھڑکی کھلتی ہے اورایک شخص کی شکل نظر آتی ہے۔ وہ ایپملی فائر کی مدد سے کوئی اعلان کرتا ہے،لوگوں میں ہل چل سی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا دائرہ پھیلنے لگتا ہے اور پھر وہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ٹکڑیوں میں بٹا ،ہجوم کی شکل اختیار کیے یہ انبوہ بے ترتیبی سے رواں دواں ہے جس کے نعروں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

ہیڈ کلرک بوٹا خان بغل میں دفتری فائلیں دبائے تیزتیز قدم اٹھاتا دفتر کی طرف جا رہا ہے۔ سواری نہ ملنے اور ٹریفک جام کی وجہ سے اسے خاصی دیر ہو چکی ہے۔ اسکا آفیسر انچارج بہت سخت مزاج ہے اور ذرا سی تاخیر بھی برداشت نہیں کرتا لیکن بوٹا خان کے راستے میں ایک بہت بڑا ہجوم حائل ہے۔ صبح کے دس بجے ہیں اور شہر کا درجہ حرارت 40 درجے سنٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔

” نہیں چلے گا۔۔۔نہیں چلے گا۔۔۔۔” بہت سے نعروں میں سے ایک نعرہ ہے جو صاف سنائی دیتا ہے۔ بوٹا خان کے کانوں سے یہ نعرہ ٹکراتا ہے، وہ اسے اپنے ہونٹوں میں دہراتا ہے تو انچارج کا کرخت چہرہ اسکے خیال میں آتا ہے۔ وہ دفتری فائیلیں ایک طرف پھینک کر ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے۔ سائیکلوں اورموٹر سائیکلوں پر دفتروں کو جاتے ہوئے لوگ، مزدور پیشہ، بابو، طالبعلم سب کے سب اسی ہجوم میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

ادھر، شہر سے دور ایک جدید بستی کے ایر کنڈیشنڈ ڈرائینگ روم میں کچھ لوگ کافی اور سگار سے شغل کرتے ہوئے زور دار بحث میں مصروف ہیں۔ بحث ا ن کا من بھاتا شغل ہے۔

“ہوں۔۔تو سب لوگ بالکل تیار ہیں؟”

“نہیں۔۔۔مگر ابھی تو دور دور تک۔۔۔شاید ابھی نہیں۔۔۔”

“لیکن تم نے انہیں اچھی طرح سمجھا دیا تھا نا۔۔۔”

“ہاں ہاں۔فکر کیوں کرتے ہو؟صورت حال کچھ بھی ہو ہمارا نام بالکل نہیں آئے گا۔”

” ان کے اپنے مسئلے ہیں۔ٹاور والا ان میں کافی مقبول ہے اور اسے سونپی گئی ذمہ داری۔۔۔۔۔وہ ذمہ دار شخص ہے۔”

” پر میں سوچ رہا ہوں کہ وہ ابھی شہر کے وسط میں ہیں۔”

” جلدی نہ کرو۔۔۔جلدی کام بگاڑ دیتی ہے۔”

“پر موسم بہت مناسب ہے۔”

” بعض لوگ کہتے ہیں تم ہر موسم کو مناسب موسم کہتے ہو۔”

” شٹ اپ”

شہر کے وسط میں لوگوں کا ہجوم کئی بار بکھرتا اور کئی بار اکٹھا ہوتا ہے، لوگ ایک جسم، ایک آواز ہیں۔ کوئی لالچ، کوئی فریب، کوئی شک، کوئی شبہ اب ان کے قدم متزلزل نہیں کر سکتا اور وہ تبدیلی کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔

” ہم آدم کی اولاد ہیں ” اس بات میں انکی ہر بات پوشیدہ ہے اور ان کا عزم عیاں ہے۔

ٹاور نما عمارت کی سب سے اوپر والی کھڑکی سے وہی شخص دوبارہ جھانکتا ہے۔ اس کی نظریں اس طرف ہیں جدھرہجوم کا رخ ہے۔ وہ ایمپلی فایر پر لگے لاوڈ سپیکر کا استعمال کرتا ہے۔ ہجوم میں ہلچل پیدا ہوتی ہے، لوگ پھر ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن اگلے ہی چوک میں پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر اب پریشانی کے آثار نمودار ہو چکے ہیں ۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک شخص، جو ان کی رہنمائی کر رہا تھا اب نظر نہیں آ رہا۔ بندہ غائب ہونے کی اطلاع ڈرائینگ روم میں پہنچتی ہے۔

“صرف ایک بندہ” عقل مند حضرات اپنا من پسند شغل شروع کرتے ہیں۔

” میں نے کہا تھا کہ ابھی لوگ۔۔۔”

” رہنے دو تم۔۔۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ کچھ لوگ۔۔۔کچھ اور لوگ۔۔۔۔”

پر ہمارا انکا اختلاف اتنا زیادہ تو نہیں، اصل میں ہم ایک ہی ہیں۔۔۔”

” بات اختلاف کی نہیں ،لوگ جان چکے ہیں۔وہ برسوں کے اندھیرے سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔”

” پھر اب؟”

” اب پھر انتظار کرو ”

خاموشی۔۔۔۔۔ کافی۔۔۔۔۔ سگار

ہجوم اب ایک چوک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی جانب رواں ہے۔ ٹاور نما عمارت سے یکے بعد دیگرے احکام جاری ہو رہے ہیں اور بندے ایک ایک کر کے غائب ہو رہے ہیں۔ شہر کی سڑکیں ٹریفک سے خالی ہیں اور ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔

چوراہوں سے نکلنے والی خبریں ڈرائینگ روم تک پہنچ رہی ہیں۔ شہر کے وسط میں لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، کچھ لوگ ایک جگہ رک کر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یہ خبر بھی جدید بستی میں پہنچ چکی ہے اور بحث کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔

” ہاں تو ٹھیک ہو گیا۔ لوگوں کی تعداد اب بہت کم ہے۔”

ہوں۔۔۔۔ لیکن وہ گئے کدھر؟”

” میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ سب امکان نظر میں رکھو”

” مگر ٹاور والے نے ان کو ہر بات اچھی طرح سمجھا دی تھی”

” جی جی میں نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔۔۔”

” تمہاری منصوبہ بندی ہی غلط تھی”

” نہیں میری منصوبہ بندی میں کوئی سقم نہیں، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ضرور تم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔”

” تم اپنا قصور مجھ پر تھوپ رہے ہو؟”

” ہوں۔۔۔ نہ کوئی غلطی ہے نہ قصور۔اصل میں لوگوں کو شعور ہی نہیں۔”

” شعور؟ وہ ہر بات اچھی طرح سمجھتے ہیں،تم خود وہاں کیوں نہیں جاتے؟ ”

” یہ میرا منصب نہیں۔میرا کام صرف ان کو ان کے مسائل کی پہچان کروانا ہے۔”

” پھر ٹھیک ہے۔ وہ واقعی نہیں جانتے کہ وہ کس کے کہنے پر اکٹھے ہوئے ہیں۔”

” شٹ اپ”

کچھ وقت اسی طرح کی طعن و تشنیع میں گزرتا ہے۔ ڈرائینگ روم کے دروازے پر زور سے دستک ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک اٹھ کر دروازے تک جاتا ہے اور دستک دینے والے کو تقریبا گھسیٹ کر اندر لے آتا ہے، آنے والا بری طرح تھک چکا ہے۔ تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ انہیں کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ ماحول میں ایک دم خاموشی چھا جاتی ہے،وہ سب سوچوں میں گم ہیں اور ان میں اب بحث کی ہمت بھی باقی نہیں ہے۔

ٹاور نما عمارت کی کھڑکی بند ہے۔ وہاں بھی مکمل خاموشی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک چلنا شروع ہو چکی ہے۔ لوگوں کا ہجوم شہر کے وسط سے نکل چکا ہے۔ وہ پہلے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے خاموشی سے، بغیر کوئی بات کئے، بغیر کسی نعرے کے چلتے جا رہے ہیں۔ ان کے چہرے سرخ اور آنکھیں نفرت سے بھری ہیں اوران کا رخ جدید بستی کے ایر کنڈیشند ڈرائینگ روم کی طرف ہے۔

Categories
فکشن

بوری بند

وہ گوجرانوالا کے ایک نواحی گاوں کا رہنے والا تھا۔ اس کا باپ بہت اچھا ڈھولچی تھا۔ پہلوانوں کے اکھاڑے سے اس کے ڈھول کی دھوم قرب و جوارمیں پھیل گئی اور اسے میلوں ٹھیلوں پر بصد اصرارا بلایا جانے لگا۔وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور جتنا اس کے باپ کو اسے پڑھانے اور بابو بنانے کا شوق تھا اتنا ہی وہ پڑھائی سے بھاگتا تھا۔ باپ کی خواہش تھی کہ اسکا بیٹا بابو بن جائے لیکن تعلیم میں اس کی واجبی سی دلچسپی دیکھ کر اس نے چاہا کہ وہ ڈھول بجانا ہی سیکھ لے تو اچھی روزی روٹی مل جائے گی لیکن اسے باپ کے اس کا م سے شدید چڑ تھی۔وہ نہ نکما تھا نہ کند ذہن بس اوسط درجے کا طالب علمم تھا اور اس نے باپ کی توقعات کے بر عکس بغیر کسی غیبی امداد کے میڑک کر ہی لیاتھا،باپ کے لئے تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے فوراً مستقبل کے خواب دیکھنا شروع کر دیےاوراسے ایک اعلیٰ افسر کے طور پردیکھنا شروع کر دیا۔خوبصورت بہو اور پوتے پوتیاں تصور کیے، حالانکہ یہ کام اکثر عورتوں سے منسوب رہا ہے لیکن اس کی ماں ایک حقیقت پسند عورت تھی۔بیٹے کی پڑھائی کے حالات اس سے پوشیدہ نہ تھے اس لئے اس نے اسے مشورہ دیا کہ ٹائپنگ سیکھ لے۔ گاوں میں ایک سرکاری اہل کار گھر پر شام کو ٹاٗئپنگ سکھاتا تھا۔ یہ مشورہ اس کے دل کو لگا اور اس نے بڑی محنت سے یہ کام سیکھا اور اسی اہل کار کی سفارش سے وہ محکمہ خوراک میں ٹائپسٹ بھرتی ہو گیا جس کے دو سال بعد قریبی عزیزوں میں اس کی شادی کر دی گئی۔

جس شہر میں اسے ملازمت ملی تھی وہ ایک بڑا شہر تھا۔ وہ کام لگن سے کیا کرتا تھا اور اس کی ٹائپنگ سپیڈ بھی اچھ تھی یہی وجہ تھی کہ گرم اور خشک مزاج سپرٹنڈنٹ بھی اس کے کام کی تعریف کرتا تھا۔اسکے باوجود بھی سات برس سے وہ جس سکیل میں بھرتی ہوا تھا اسی میں مارچ پاسٹ کر رہا تھا اوراس کی مالی حالت بہتر ہونے کی بجائے روز افزوں مہنگائی کے ہاتھوں ابتر تھی۔ کرایہ، بل، دوادارو اور ایک نومولود بیٹی کا خرچ اسے وقت سے پہلے بوڑھا کرنے پر تلے تھے۔
گرمیوں کا موسم اسے بہت پسند تھا لیکن سردی کے آتے ہی اسکامنہ ڈھلک جاتا ۔ سخت سردی میں وہ جب ساتھی کار کنوں کو اچھے اور نئے گرم کپڑوں میں دیکھتا تو آہیں بھر کر رہ جاتا۔مالی تنگی کی وجہ سے وہ اب تک نیا گرم سوٹ نہیں سلا پایا تھا اور سات برس سے اس پرانے سوٹ سے گزارا کرتا چلا آ رہا تھا جو اس نے شادی کے موقعے پر اسی بڑے شہر کے لنڈا بازار کی ایک دکان سے خریدا تھا۔ پچھلے سات برس سے یہ سوٹ اسے سردی سے بچا رہا تھا مگر لگا تار استعمال سے کوٹ اور پتلون اب اتنے گھس چکے تھے کہ لگتا تھا کہ سوٹ خود اپنی بے چارگی کا اعلان کرنے والا ہے۔کوٹ کی حالت زیادہ خراب تھی اور پہلی نظر میں ایسا لگتا تھا کہ کسی نے پٹ سن کی بوری پہن رکھی ہے اسی لئے اسکے ساتھی اسے مذاق سے بوری بند کہتے ، آفس انچارج نے تو آج تک اسے بوری بند کے علاوہ کسی اور نام سے پکارا ہی نہیں تھا، لیکن وہ آفس انچارج تھا، وہ چاہے کچھ بھی کہہ لے،نوکری کے تسلسل میں بہر حال وہ اہم مقام رکھتا تھا،موسم تبدیل ہوتے رہے مگر یہ نام تبدیل نہ ہوا۔

جب اسکے ساتھی افسر یا ملاقاتی اسکے لباس کی طرف دیکھتے تو اسے یوں محسوس ہوتا گویا وہ ننگا ہی دفتر آ گیا ہو۔ایسے موقعے پر وہ بہت پریشان ہو جاتا ، سخت سردی کے باوجود ماتھے کا پسینہ صاف کرتا اور لوگوں کی طنزیہ نظروں سے بچنے کے لئے دفتر سے باہر نکل کر ساتھ والے چائے کے کھوکھے میں جاتا اور وہاں رکھے ایک شیشے میں اپنا جائزہ لیتا اور بڑبڑاتا رہتا کہ آخر لوگ اسکے کام کی بجائے اسکے لباس ہی کو ہر وقت کیوں دیکھتے رہتے ہیں ۔

میری اس سے ملاقات ہفتے میں ایک آدھ بار اسی کھوکھے پر ہوتی۔چونکہ میں نے اس کے لباس یا ہیت پر کبھی کوئی بات نہیں کی تھی اس لئے وہ مجھے اپنے قریب سمجھتا اور کبھی کبھار اپنے ساتھیوں کی برائی بھی کر لیتا۔چائے پیتے ہوئے وہ جو کچھ بھی سوچتا اسکے چہرے سے عیاں ہوتا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ کوٹ پتلون بھی تو آخر کچھ نہ کچھ سوچتے ہوں گے کہ کس کے پلے پڑ گئے جو ہماری طبعی عمر گزرنے کے باوجود ہمیں چھوڑتا ہی نہیں۔یہی سوچتا ہوا وہ پھر دفتر آ بیٹھتا ۔ ساتھی اگر کسی اور بات پر بھی قہقہہ لگاتے تو اسے لگتا کہ اس کا ہی مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ سہم کر رہ جاتا۔اسکے سب دوستوں نے اچھا لباس پہنا ہوتا تھا اور انچارج تو ہر سال سردیوں میں بڑھیا اور اعلیٰ کپڑے کا ایک نیا سوٹ سلاتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اس لباس کے لئے رقم کا بندو بست کہاں سے ہوتا ہے اور دیگر ساتھیوں کو تنخواہ کے علاوہ کچھ نہ کچھ حصہ کیسے ملتا ہے لیکن اسے ماں کی تاکید یاد تھی کہ بیٹا اپنے وسائل میں رہنا اور حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔اس نصیحت کی وجہ سے گھر میں تنگی ترشی اور کبھی کبھار تلخ کلامی بھی ہو جاتی لیکن وہ یہ سوچ کر خاموش ہو رہتا کہ نہ وہ حالات کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ آفس انچارج کا۔

وہ ہر سخت سست بات بڑے تحمل اور برداشت سے سن لیتا تھا شاید اسی لئے ساتھی کارکنوں کا حوصلہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا ۔اب تو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ سب شاید اس کا اصلی نام بھول چکے ہیں۔ شاید وہ خود بھی اپنا نام بھول چکا تھا اسی لئے تو بوری بند سنتے ہی وہ فورا پکارنے والے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ دوستوں کے اس رویے سے وہ بہت تنگ تھا اور ان سے بچنے کا بس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ ایک نیا سوٹ سلا لے اور ان چیتھڑوں کو پھینک دے مگر مالی ناآسودگی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔گرم کپڑے کی قیمتیں اس کی پہنچ سے باہر تھیں ، ہزار بارہ سو روپے میٹر کپڑا خریدنا اس کے بس سے باہر تھا۔ اس کے پے سکیل(Pay scale) کا پھیلاو بس اتنا ہی تھا کہ وہ اور اس کی فیملی دو وقت کی روکھی سوکھی کھا لیں۔طنزیہ جملے سن سن کر اس کے کان دکھنے لگتے تھے لیکن اسے معلوم تھا کہ وہ اتنی بڑی رقم نہ تو پس انداز کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی غلط کام سے حاصل کر سکتا تھا، گھر میں بھی ساتھیوں کی طنزیہ باتیں یاد آتیں تو وہ آزردہ ہو جاتا، کبھی آہیں بھرتا اور کبھی تحقیر آمیزقہقہے لگانے لگتا ۔

یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ دو دن بعد انچارج نے اسے ایک حکم نامہ پکڑایا اور بتایا کہ کسی این جی او کی جانب سے خوراک پر سہ روزہ کانفرنس ہو رہی ہے جہاں ماہر ٹائپسٹ کی ضرورت ہے اور انچارج نے اس کا نام اس کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے دیا ہے۔” تین دن جانا ہے ٹائپ رائٹر کے ساتھ، صبح دس بجے سے شام سات بجے تک، جب تک ان لوگوں کو ضرورت ہو وہیں رہنا ہو گا، سات آٹھ ہزار تو بن ہی جائے گا ۔۔۔” ابھی انچارج نے بات مکمل ہی کی تھی کہ اس کا نائب بول اٹھا’’ہاں بھائی بوری بند ،تمہاری تو لاٹری نکل آئی ۔ صاحب کتنے مہربان ہیں تم پر، اچھا موقع ہے۔ ایک گرم سوٹ تو آرام سے بن جائے گا۔ دیکھو بیوی کا میک اپ نہ خرید لینا بلکہ اسے تو خبر بھی نہ ہونے دینا‘‘ اسے یہ بات ناگوار تو بہت لگی لیکن معاوضے کی رقم کا خیال آتے ہی نیا سوٹ اس کی نگاہوں میں پھرنے لگا۔

اس شام دفتر سے واپسی پر اس نے ٹائپ مشین سائیکل پر لادی اور گھر روانہ ہو گیا۔ تمام رات وہ سوچتا رہا، اس نے بھوک کے باوجود کھانا بے دلی سے کھایا اور بیوی کے پوچھنے پر بھی اسے کچھ نہیں بتایا۔ وہ بھلی مانس جان چکی تھی تھی کہ دفتروں میں کام کرنے والے بعض اوقات کافی دباو میں ہوتے ہیں اور چند ایک روز میں ان کا مزاج ٹھیک ہو ہی جاتا ہے۔

کانفرنس میں کام بے حد زیادہ تھا۔ تین دنوں میں اس نے اتنا کام کیا کہ شاید دفتر میں پندرہ دن میں بھی اتنا کام نہیں کرنا پڑتا ہو گا۔ اس کے ہاتھ بٹن دباتے دباتے تھک جاتے اور اسے اپنے کندھوں پر بھاری بھرکم بوجھ محسوس ہونے لگتا لیکن نئے سوٹ کا حصول، جو اب دور نہیں تھا اسے کام کرنے پر مجبور کرتا رہا۔کانفرنس کے تینوں دن جب وہ تھک کر گھر لوٹتا تو دن بھر کی مشقت ، تھکان اور نئے سوٹ کا خیال اسے تھپک تھک کر سلا دیتے۔

اس ماہ جب اسے تنخواہ کے علاوہ ساڑھے چھ ہزار الگ سے ملے تو اس نے ان نوٹوں کو ہتھیلی پر پھیلا کر بار بار یوں دیکھا گویا پہلی بار کرنسی نوٹ دیکھے ہوں۔ یہ کرنسی نوٹ نہیں تھے بلکہ عمدہ غیرملکی کپڑے کا تھان تھا۔دفتر کا وقت ختم ہوتے ہی اس نے سائیٗکل پکڑی اور وقت ضائع کیے بغیر وہ گرم کپڑے کی مارکیٹ جا پہنچااورجو دکان اسے سب سے پہلے نظر آئی اسی میں گھس گیا۔ اس دکان میں ایک اور شخص جو آن بان سے کافی صاحب ثروت دکھائی دیتا تھا، دکاندار سے بھاو تاوکر رہا تھا۔درآمد شدہ غیر ملکی کپڑے کے تھان اس کے سامنےکھلے تھے اور دکاندار بہترین سیلز مین ہونے کا کردار نبھا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ بھی ایسا ہی کپڑا لے گا بلکہ یہی کپڑا خریدے گا کیونکہ دکاندار نے بتایا تھا اس کپڑے کو نہ دھونے سے فرق پڑے گا، نہ اس کا رنگ اترے گا، نہ ڈرائی کلین اس کا کچھ بگاڑے گا اور نہ ہی دھوپ۔ اس نے سوچا یہی کپڑا اس کے لئے موزوں ترین ہے۔ کپڑا دیکھنے کے لئے جیسے ہی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تودوکاندار بولا:

’’ کیا ہے، کیا چاہئے آپ کو ‘‘
مجھے ایک سوٹ کا کپڑا چاہئے، کیا بھاوہے اس کا؟‘‘

دکاندار نے اس کے لباس کی طرف دیکھا،کوٹ کا رنگ بعض جگہوں سے ایسے اڑ چکا تھا جیسے کپڑے کو برص کا مرض ہو، دکاندار نے اسے نظر انداز کر دیا اور پہلے گاہک کی طرف متوجہ ہوا۔

دکاندار نے پہلے گاہک کواپنی چرب زبانی سے ایک کی بجائے دو سوٹ اٹھوا دیئے اور پیسے گلّے میں ڈالنے کے بعد دیکھا تو بوری بند وہیں بیٹھا تھا۔

’’ جی اب فرمایئے‘‘
’’ مجھے سوٹ کا کپڑا درکار ہے ۔کیا دام ہیں ؟‘‘
جو جی چاہے دے دیجیے‘‘دکاندار نے یہ کہہ کر نسبتاً ہلکا کپڑا اسے دکھایا۔

’’اُس کپڑے کا کیا بھاو ہے؟مجھے وہی چاہیئے، جو وہ صاحب لے کر گئے ہیں۔‘‘

دکاندار نے شک کی نظر سے اسے دیکھا پھر اپنی دکان کے باہر غور سے دیکھا اور وہاں کھڑے گارڈ کو دیکھ کر مطمئن ہو کر بولا
’’یہ اٹھارہ سو روپے میٹر ہے پانچ ہزار چار سو کا ایک سوٹ‘‘
’’ مگر ابھی تو ان صاحب کو آپ نے پندرہ سو کے حساب سے دیا ہے‘‘
’’ جی ان کی کیا بات ہے، وہ تو بڑے آدمی ہیں اور ہمارے پرانے گاہک‘‘
’’ چلیے مجھے بھی گاہک بنائیں اور پندرہ سو ہی لگائیں‘‘
امپورٹڈ ٹویڈ کا کپڑا لے کر اس نے رقم ادا کی اور دکان سے باہر نکل آیا۔

دکاندار نے جب اسے سائیکل پر جاتے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔اس نے سوچا کہ یا تو اس پھٹیچر کے پاس چوری کا مال ہے یا پھر بے چارہ کسی صاحب کو رشوت دینے کے لئے اتنا مہنگا کپڑا خرید کر گیا ہے بہر حال اسے تو دام سے مطلب تھا۔ ابھی وہ سائیکل پر سوار ہونے کو تھا کہ اسے درزی کی دکان نظر آئی اور حسب عادت وہ پہلی نظر آنے والی دکان میں گھس گیا۔ درزی نے اتنے بڑھیا کپڑے کی تعریف کی تو اس کا جی خوش ہو گیا لیکن جب اس نے سلائی کی رقم سے آگاہ کیا تو وہ درزی اسے بہت برا لگا، سوٹ کی قیمت سے زیادہ سلائی۔الٹے قدموں وہ دکان سےنکلا اور تیز تیز سائیکل چلاتے گھر کو ہو لیا۔صبح اٹھتے ہی اس نے اپنے دوست درزی کے گھر کا رخ کیا جو اس کے گھر کے نزدیک ہی رہتا تھا اور اس کی بچی اور بیوی کے کپڑے سی دیا کرتا تھا۔

ٹھیک تین دن میں نیا سوٹ سل گیا ۔ اس کی زندگی میں یہ پہلا سوٹ تھا جو اس نے خود بنوایا تھا۔ صبح جب وہ نیا سوٹ پہنے دفتر پہنچا تو اس کے ساتھی ابھی نہیں آئے تھےشاید وہ جلد ہی دفتر آ گیا تھا۔ وہ بہت ہی مسرور تھا اور اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ بڑے صاحب کے دفتر میں محکمے کے ڈپٹی سیکریٹری تشریف فرما ہیں۔آج وہ وقت سے پہلے آ گیا تھا اور یہ اس کے حق میں اچھا ہوا کہ ڈپٹی نے اسے شاباشی دی۔ دفتر کے لوگ بھی پہنچ گئے۔ وہ اسے دیکھ کر آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جب ڈپٹی کا دورہ ختم ہو گیا تو وہ اس کے گرد ہو گئے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ ان کو اس کا نیا سوٹ پسند آیا ہے لیکن اسسٹنٹ سپر ٹینڈنٹ اسے دیکھتے ہی بولا ’’اوہو آج تو نیا سوٹ پہنا ہے اسی لئے میں تو پہچان ہی نہیں پایا جناب کو،بوری بند جی۔‘‘ یہ بات اسے تیر کی طرح لگی۔ اسی وقت دوسرے ساتھی بھی آ گئے اور اس کامذاق اڑانے لگے۔ ایک نے تو سوٹ کے کپڑے کی بے حد تعریف کی لیکن دوسرے نے سوال کر ڈالا ’’یار بوری بند، یہ سوٹ کس موچی نے سیا ہے،
یار اس میں تو تم بالکل ہیرو لگ رہے ہو ہیرو‘‘
’’ آخر ہمیں بھی تو بتاو اس فنکار کا نام ‘‘
یار میں بھی اس سے ایک سوٹ سلوانا چاہوں گا، سستا سلوایا ہے ناں ‘‘

کمرہ قہقہوں سے لرز اٹھا۔ اور تو اور اس نے دیکھا کہ دفتر کے چپڑاسی بھی اسے طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ صورت حال نا قابل برداشت تھی ۔وہ کمرے سے باہر چلا گیا، ذلت، ندامت اور غصے نے اسے ادھ موا کر دیا۔میں اس وقت چائے کے کھوکھے پر تھا جب وہ دفتر سے نکلا، لیکن حسب معمول کھوکھے پر آنے کی بجائے اس نے سائیکل پکڑی اور کسی کو بتائے بغیر روانہ ہو گیا۔

گھر پہنچ کر اس نے سوٹ اتار کر زور سے زمیں پر پھینکا، پھر اس نے سارے کپڑے اتار دئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ زور زور سے چلایا، پھر یہ آواز سسکیوں میں بدل گئی۔ اس کی بیوی نے باہر سے خیریت پوچھنے کی جسارت کی۔

’’ ہاں ہاں خیریت ہے، خیریت ہی تو ہے،چلی جاو یہاں سے‘‘ کچھ دیر وہ غصے میں بڑبراتا رہا، کبھی روتا پھر روتا تو کبھی قہقہے لگانے لگتا۔ تھوڑی دیر بعد روازہ کھلا تواس نے پٹ سن کی ایک بوری کمر کے گرد لپیٹ رکھی تھی۔ گرم سوٹ اس کے ہاتھ میں تھا، اس نے میز سے ماچس اٹھائی اور سوٹ کو آگ لگا دی۔ اس کی بیوی نے سوٹ چھیننے کی کوشش کی تو اس نے ایک زور دار ہاتھ مار کر اسے پیچھے دھکیل دیا۔ سوٹ لمحوں میں خاکستر ہو گیا۔ بیوی اور بچی کو روتا چھوڑ کر وہ گھر سے ایک بوری باندھے نکل پڑا ۔

کوئی ایک سال بعد مجھے سرکاری کام سے ایک اور شہر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کام ختم کر کے جب میں لاری اڈے پر بس کا انتظار کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک شخص کے پیچھے بڑی عقیدت سے چل رہے ہیں۔ اس کے سر اور داڑھی کے بال گردآلودتھے، اس کے جسم کا جو حصہ دکھائی دے رہا تھا وہ دھوپ سے کالا ہو چکا تھا، اس کے پاوں میل سے اٹے ہوئے تھے اور وہ صرف ایک بوری میں ملبوس تھا، لوگ بھاگ بھاگ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دے رہے تھے اور وہ ’’ آگ لگا دو، آگ لگا دو ‘‘ چلا رہا تھا۔

Categories
فکشن

فساد

مینار کے اوپر لگا لاوڈ سپیکرکھانسا، اور اپنے گلے کو صاف کرتے ہوئے ایک چپچپا سیال اور گاڑھا بلغمی تھوک پھینک کر خاموش ہو گیا۔ نو مولود تھوک محلے کے سب گھروں کی چھتوں ،صحنوں، دروازوں اور کھڑکیوں پر چپک گیا۔ تھوک کے چھینٹوں کی نمی سے جاگنے والوں نے جسم کے وہ تمام حصے جن پر کپڑا نہیں تھا تین تین بار دھوئے اور کپڑے جھاڑتے ہوئےگلی سے گزرے۔ تھوک نالی میں بہتا ہوا جم گیا اور گٹر میں سے ابل کر بہنے لگا۔ تھوک بھرا پانی گلی میں پھیل گیا، گزرنے والوں نے اپنے پائنچے مزید اوپر کئے۔ تھوک کے چھینٹوں سے آلودہ پانی نے سر ذرا اوپر کیا اور پھر ڈر کر نیچے بچھی مٹی میں گھل کر کیچڑ ہو گیا۔ کیچڑ نے کچھ جوتوں میں گھسے پیر گدلائے اور راستے سے ذرا ہٹ کر نشیب میں اکٹھا ہونے لگا۔ ایک اینٹ، پھر دوسری، پھر تیسری اور پھر بہت سی اینٹیں رکھ کر اور ان اینٹوں پر کیچڑ میں لتھڑے جوتوں والے پاوں رکھ کر کیچڑ کچلا گیا۔ دھوپ نکلنے تک ساری گلی اینٹوں سے پر تھی اور گاڑیوں کے ٹائروں کے گزرنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ ایک گاڑی کے ٹائرنے سپیکر کے اگلے ہوئے تھوک سے آلودہ پانی کے کیچڑ کو کچلتی اینٹوں کے بیچ سے گزرنے کی کوشش کی اور پھَٹ کر لنگڑاتے لنگڑاتے لڑکھڑانے لگا۔ ٹائر کی نائیلون سے سپیکر کی اگلی تھوک کے چھینٹے چپک گئے تھے ۔ ٹائر اس اذیت میں اپنی ایکسل سے اتر کر سڑک کے بیچ آ کر جلنے لگا اوراس پر چپکے تھوک کے چند چھینٹے دھواں بن کر کچھ تو ناکوں میں گھسے اور مزید کھانسی بن کر داڑھیوں ، مونچھوں ،باچھوں اور ہونٹوں پر نعرے بن کر چپک گئے اور کچھ ہوا میں تحلیل ہو گئے۔داڑھیوں، مونچھوں، باچھوں اور ہونٹوں سے چپکے تھوک کے چھینٹے پسینے کے ساتھ رینگتا ہاتھوں کی پوروں سے ٹپکنے لگا ، آستینیں چڑھیں اور شٹر گرنے لگا۔ ہاتھوں نے تھوک ملی کیچڑ میں لتھڑی ہوئی اینٹیں اٹھائیں اور شیشوں پر اچھالیں تو تب تک وہ دھواں بن کر اڑ جانے والے تھوک زدہ نعروں کے پسینے کو جذب کر چکی تھیں۔ شیشوں نے زندگی بچانے کے لئے نیچے کیچڑ میں چھلانگیں لگائیں اور ان کی لاشیں کیچڑ میں غوطہ کھا کر پھول گئیں اورسطح پر آ گئیں۔ کرچیاں سپیکر کے اگلے ہوئے تھوک سے آلودہ پانی کی کیچڑ میں لتھڑ گئی تھیں ۔ کرچیوں کی لاشوں نے پیروں کو پہلے زخمی کیا ، تھوک کی چھینٹوں سے انہیں آلودہ کیا اور خون رس کر کیچڑ میں ملنے لگا۔ اس زہر آلود خون کو چندے کی طرح اکٹھا کر کے بینر لکھے گئے، پوسٹر چھاپے گئے اور گولیوں والے ہتھیار خریدے گئے۔ بینروں کی سیاہی میں تھوک کے چھینٹوں کی آمیزش تھی۔ انہوں نے ہوا میں رسیوں سے جھول کر خود کشی کر لی، اور ان کے ڈھانچے گلی میں بہت دن تک جھولتے رہے۔ پوسٹر دیوار سے چپکائے گئے ، پریشانی سے پوسڑوں کے چہروں پر سلوٹیں پڑ گئیں اور وہ بد رنگ ہونے لگے۔ ہتھیاروں نے اپنی اپنی نالیوں سے گولیاں اگلیں، خوف پرندوں کی طرح پیڑوں کی شاخون سے شور مچاتا اڑا تو کچھ آنکھوں نے شام اور پھر رات گئے تک ان کی براہ راست تصویریں نشر ہوتی دیکھیں ۔ کچھ زبانوں نے ان کی خبریں دیں اور تبصرے کئے۔ گولیوں کے ڈر سے ہوا بھاگ اٹھی ۔ ہوا جب بینروں میں کئے چھیدوں سے گزری تو سورج گلی میں پھیلے کیچڑ کو خشک کر چکا تھا اور اس کے بخارات ہوا میں شامل تھے۔ کھڑکیوں کے چوکھٹے سپیکر کی اگلی تھوک کی کیچڑ کے بخارات اٹھائے ہواوں سے ڈر کر جھولنے لگے۔ کھڑکیوں کے چوکھٹوں سے ٹکراتی ہوا لاوڈ سپیکر کے پاس سے گزرتی ہوئی سارے محلے سائرن بجانے لگی۔ سائرن نے ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے گلی میں پھیلی اینٹوں پر سے گزرتے جوتوں جن پر اب کیچڑ خشک ہو چکی تھی کو منتشر کیا اور راستہ صاف کرکے بندوقیں اور بوٹ بن کر گشت کرنے لگا ۔گشت کرفیو بن کررات بھر محلے میں اندھیر اکئے خاموشی سے دبکا رہا اور نفرت چیونیٹیاں بن کر رینگتی ہوئی ہر پکے صحن میں بل بنانے لگی۔ سبھی مکانوں کی پیشانیوں پر غصہ دراڑیں بن کر ابھر آیا۔ سوکھتے کیچڑ پر پلنے والی سرگوشیوں کی مکھیاں اب باسی خبروں پر بھنھنا نے لگیں تھیں جن کے پروں کے ساتھ سپیکر کی اُگلی تھوک کا زہر بھی تھا۔ سرگوشیوں کے کف بہے اور وہ بھونکتے ہوئے رات بھر ساری گلی میں پھرتے رہے، دکانوں کے تھڑوں کے نیچے چھچھڑے ڈھونڈتے رہے اور تھک گئے، تھکن نیند بن کر اعصاب پر اترنے کو تھی کہ۔۔۔۔
(م۔ ش)