یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو—
گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے بہت سینچی ہیں تم نے درد سے…
گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے بہت سینچی ہیں تم نے درد سے…
ادریس بابر: اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری…
ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر…
سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے تیرے بدن کے…
سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا تم نے جس کی مزدوری نہیں دی میں دکھ اپنے خواب کا…
شارق کیفی:کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار…
زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے جسے صورت دیتے ہوئے مؤرخ نے تیشے کا استعمال…