Laaltain

تم آئے؟ ( رضی حیدر)

جھاڑتے جھاڑتے تاروں کی وحشت کا غبار اکتایا چاند کھینچ رہا تھا جوں خمیازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے غم کا گدلا پانی پارہ پارہ کاغذ کی اک چیخ کاہے باندھنے کو شیرازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے کیوں مژگاں کا مسکارا ہے سورج کے دل کی کالک رنگِ افق گالوں کا غازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے عُریاں کمر کو […]

انتزاعی نقوش (رضی حیدر)

شراب کے نشہ میں دھت چودھری نے نوجوان لڑکے کو دھکیلا اور خود ہارمونیم پر بیٹھ کر بھونڈی لے میں کچھ بجانے لگا۔

لم دُمّا (رضی حیدر)

سلمان تین سال کی عمر میں سائیں سہیلی سرکار کے میلے پر نقلی سفید داڑھی پہن کر کتنا خوش تھا۔ ست ربٹیا گیند ہوا میں اچھالتے اس نے کب سوچا ہو گا کہ 12 سال بعد وہ ایک چارپائی سے بندھا اس شام کو یاد کر کے رو رہا ہوگا۔ سلمان کے باپ کو مرے […]

بس کرو (رضی حیدر)

رینٹ کلچر تیری ۔۔۔ (انسان ایک سوشل اینیمل ہے) بس کرو! (تمہارا جین خود غرض ہے) بس کرو! (تنہائی کے اس ہاویہ سے ڈرو جس کا ایندھن صرف انسانوں کے دل ہیں پتھر نہیں ) بس کرو! فلسفے بگھارتے، فروعی بکواس کرتے کب تک گزرے گی ۔۔۔ ؟ بک بک بک بک بس کرو! اس […]

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی (رضی حیدر)

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو تم عام سی لڑکی نہیں رہو گی میری سطریں سمندروں میں کود کر تمہارے ناف پیالے کے لئے زمرد کے ٹھنڈے پتھر جمع کریں گی اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو شہد کی مکھیاں تمھارے پستان چومنے کی لو میں گلابوں کے لوبھ سے آزاد […]

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا یہ کوئی دلدل ہے شاید یا کوئی شہرِ مدفون وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے (خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے اس ماتھے […]

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں […]

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا، یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے میری آنکھیں بس […]