Laaltain

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

[block­quote style=“3”] محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں […]

باجے والی گلی — قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

شانتا راما — باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

[block­quote style=“3”] محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم […]

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

[block­quote style=“3”] لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں‘‘ یوں تو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جس پر ہزارہا انداز سے لکھا جاتا رہا ہے، لیکن زوال عمر کے تجربے کو اس کہانی میں […]

باجے والی گلی — قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[block­quote style=“3”] ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambud­zo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب […]

آج کا پانچواں شمارہ: تاثراتی جائزہ (تالیف حیدر)

کہانی:مرگ/مصنف:منوچہر خسرو شاہی: آج کے پانچویں شمارے کی پہلی کہانی ہے۔ جس کا فارسی زبان سے اردو میں نیر مسعود نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ کہانی بھی نیر مسعود کی کہانیوں کی طرح علامتی ہے۔ جس میں ایک بوڑھا درخت جو کیڑوں سے اٹا پڑا ہے۔ اس کو بنیادی کردار کے طور پر پیش کیا […]

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ تمہید: اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف […]

تاثیر کا متن خانہ (تالیف حیدر)

“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Lis­tens” کا طلسم کدہ“بادشاہ سنتا ہے”،“عاصم بخشی“کی زبان میں آج شمارہ نمبر:101 میں نشے میں ہوں: میں کہانیوں کو تلاش کرتا ہوں ، انہیں پڑھتا ہوں ، ان میں کھو جاتا ہوں اور حسن اتفاق یہ ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس لوٹ آتا ہوں جہاں کہانیوں کا […]

آج کا تیسرا شمارہ؛ تاثراتی جائزہ

• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی ایک خاص حالت میں پہنچنے کے بعد اس کے ابطال کا اندازہ ہمیں ہو جاتا ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ انسان خود سے بے انتہا جھوٹ بولتا ہے، یا پھر اس […]