Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘
سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔
انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ مت، آ جاؤ۔ نیچے چوتھی جماعت میں بیٹھو اور دھیان سے پڑھائی کرو۔‘‘
میری تعلیم پھر سے باقاعدہ شروع ہو گئی۔
مجھے کھیل کود کا بھی کافی شوق تھا۔ ہم بہت سارے طالب علم گاؤں کے باہر والے گھاس کے میدان میں شام کو کھیلنے جایا کرتے۔ وہاں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔

ایک بار کرکٹ کی بیٹ ہاتھ میں لے کر میں بڑی اکڑ سے سٹمپس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پہلی ہی گیند اتنی سنسناتی ہوئی آئی کہ سیدھی میری پنڈلی پر آ لگی۔ درد جھنجھناتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ میں درد کے مارے ایک دم بیٹھ گیا۔

اُس دن سے لیدر بال کا ڈر من میں بیٹھ گیا۔ پھر بھی ڈرپوک کہلائے جانے کے ڈر سے میں اپنے آپ پر کرکٹ کھیلنے کی زبردستی کرتا رہا۔ لیکن بلّے بازی کرنے جب جب جاتا، اور سامنے والے سرے سے گیند پھینکی جاتی، تو ڈر کے مارے میری آنکھیں اپنے آپ مُند جاتیں۔ پھر بلّا انداز ے سے اوپر اوپر ہوا میں ہی گھوم جاتا، گیند سے اُس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔ بلّا اِدھر اُدھر گھوما اور گیند پیچھے وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی تو گیند میرے بلے سے ہی کافی دور سے ہی چلی جاتی۔ کبھی بھولے سے بلے پر آ بھی جاتی، اُوٹ پٹانگ ڈھنگ سے میں اُسے مارتا، تو کیچ لے لیا جاتا، تو کبھی میرا بلا جہاں کا تہاں دھرارہ جاتا اور گیند سٹیمپس گرا کر چلی جاتی۔

ایک دن شام کو اپنے مِتروں کے ساتھ کھیل ہم واپس آ رہے تھے۔ ایک متر نے کہا، ’’بھائی، بات کیا ہے؟ گیند کو بلے سے پیٹنے کے بجاے تم تو ہر بار آنکھیں بند کر لیتے ہواور اسی لیے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہو۔‘‘ اُس وقت میرا جواب تھا: ’’کیا بتاؤں یار، کی ماں کو، اماں کی ماں کو۔۔۔ پہلے دن ہی کی بات ہے، کی ماں کو۔۔۔ وہ پتھریلی لیدر کی گیند، کی ماں کو۔۔ سیدھی میری پنڈلی پر اتنے زور سے آ لگی کہ۔۔ کی ماں کو۔۔۔ مجھے تو چکر ہی آ گیا۔ اچھا۔۔ کی ماں کو۔۔ میں کرکٹ کھیلنا بند کر دیتا تو کی ماں کو۔۔ منھ بنا کر میری کھِلّی اڑاتے۔۔۔۔‘‘
میرے متر مجھے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے۔ جھنجھلاہٹ میں کچھ چمک کر میں نے پوچھا، ’’کی ماں کی کو۔۔ میں اتنے من سے سب کچھ بتا رہا ہوں، اور کی ماں کی، تم سب لوگ اِس طرح ہنسے جارہے ہو؟‘‘
اس پر ہماری ٹولی میں سے ایک نے ہنستے ہنستے کہا، ‘‘کاش، تم نے ابھی جتنی بار کی ماں کو، ماں کو، کی ماں کو، کہا ہے، اُس سے آدھی بار بھی بلے سے گیند کو مارا ہوتا! یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے کی ماں کو، کی ماں کو؟‘‘

اپنے متروں کی صلاح پر میں نے اِس ’کی ماں کو‘ کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی لگن سے کوشش کی، کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن آج بھی اچانک کبھی کبھار وہ اپنا وجود جتاہی جاتی ہے۔

اُس کے بعد دھیرے دھیرے میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ ایسے گندھروناٹک منڈلی میں ہی فٹ بال کھیلنا سیکھ گیا تھا۔ ایک بار کمپنی ناگپور میں تھی۔ میں نے فٹ بال کھیلتے وقت اتنے زور سے کک ماری تھی کہ میرے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا ناخن جڑ سے اکھڑ کر الٹ گیا تھا۔ اُس کے بعد سکول میں میں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔

انہی دنوں مجھے تیرنے کا بھی کافی شوق ہو گیا۔ ایک بار ناٹک منڈلی ناسک میں تھی، تب گوداوری میں میں نے تیرنا سیکھ لیا تھا۔ کولھاپور میں ایک بڑا تالاب ہے، اُس کا فریم دو ڈھائی میل کا ہے، کچھ ماہر تیراک ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر تیرکر لگا جاتے۔ دھیرے دھیرے مشق بڑھا کر میں بھی ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر کاٹنے لگا۔ لیکن بعد میں اتنی بھوک لگتی کہ پریشان ہو جاتا۔ رنکالا سے واپسی پر مائی کا گھر پڑتا تھا۔ بھوک جب بےقابو ہو جاتی، میں سیدھے مائی کی رسوئی میں پہنچ جاتا اور پِیڑھا لگا کر بیٹھ جاتا۔ مائی فوراً ہی مجھے جوار کی گرم گرم روٹیاں اور ساگ پروستی۔ بڑی ممتا سے کھلاتی۔ لیکن اِس طرح ہر روز مائی کے یہاں جانا اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ تیر کر گھر لوٹ جانے پر میں ہر کھانے میں باجرے کی بڑی بڑی دو ڈھائی روٹیاں ڈکوسنے لگ گیا۔ لیکن میں نے اندازہ کیا کہ گھر کے باقی سارے لوگ آدھی پون روٹی پر گزارہ کر لیتے ہیں، میرا دو ڈھائی روٹیاں اکیلے کھانا ٹھیک نہیں۔ میں نے تیرنے جانا بند کر دیا۔

لگ بھگ انہی دنوں کولھاپور میں سنیما کا تھیٹر بن گیا تھا۔ ناٹکوں کی نمائش جس شِواجی تھیٹر میں ہوا کرتی تھی اُسی میں تبدیلی کر اب سنیما دکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے شِواجی تھیٹر کی کایاکلپ ہی ہو گئی تھی۔ کولھاپور میں دو پینٹر بھائی تھے، آنند راؤ اور بابو راؤ۔ دونوں پینٹر بھائیوں نے اپنے تخیل کا پورا پورا استعمال کر کے تھیٹر کی اندرونی سجاوٹ کو پوری طرح بدل ڈالا تھا۔ لگتا تھا شِواجی تھیٹر ایک دم نیا بن گیا ہے۔ اس کام میں کولھاپور کے ایک کپڑے کے بیوپاری واشیکر نے پونجی لگائی تھی اور سنیما کے لیے ساری ضروری مشینری خرید کر لے آئے تھے۔ انھوں نے شِواجی تھیٹر کا نام بدل ڈالا تھا۔ اب وہ ’’ڈیکن‘‘ (Deccan) سنیما کے نام سے جانا جانے لگا۔

اس سے پہلے، یعنی میں جب دس گیارہ سال کا تھا، کولھاپور کے دادُو لوہار بمبئی سے سنیما دکھانے کی ایک چھوٹی سی مشین خرید لائے تھے۔ اس پر دادُوجی ایک اکھنڈ جڑا تصویروں کا فیتہ چڑھاتے۔ پھر اُس مشین کا ہینڈل ہاتھوں سے گھما کر سامنے والے پردے پر اُس تصویری فیتے کے منظروں کو دکھاتے۔ تصویری فیتے کے پیچھے ایک دیا ہوتا تھا۔ اُس دیے کی روشنی فلم کے فیتے پر پڑتی اور سامنے لگے شیشوں کے لینز سے گزر کر آگے کچھ فاصلے پر لگائے گئے چھوٹے سے پردے پر انہی منظروں کو دکھاتی تھی۔ اُن دنوں اِن چلتی تصویروں کو دیکھ کر لوگوں کو بڑا مزہ آتا تھا۔ دادُو لوہار یہ سنیما دکھانے کے لیے ایک پیسہ، دو پیسہ ٹکٹ لیا کرتے تھے۔ اُس ہینڈل کو ایک ہی رفتار میں بِنا جھٹکا دیئے گھمانا میں نے سیکھ لیا تھا۔

اس مشین پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں ایک ماں اپنے بچے کو چمچ سے کچھ کھلا پلا رہی ہے، ایسا سین تھا۔ پوری فلم میں وہ عورت بس یہی کرتی ہے۔ ایک اور فلم تھی، جس میں ایک مرد ایک عورت کو لگاتار چومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سنیما دکھانے کے اِس سٹائل میں بعد میں میں طرح طرح کے تجربے کرنے لگا۔ خصوصاً اس چومنے والی فلم کو شروع میں بہت دھیمی رفتار سے گھماتا اور بعد میں ہینڈل گھمانے کی رفتار بڑھاتا جاتا۔ نیتجتاً آخر میں میں تھوڑا فٹافٹ چومتا دکھائی دیتا تھا۔ اس پر لوگوں میں ہنسی کے فوّارے چھوٹتے تھے۔

سنیما کا یہ طریقہ فلم تو نہیں کہا جا سکتا تھا، ہاں اُسے تصویری پٹی یا فیتے کہنا مناسب ہو گا۔ آج کی فلموں کے مقابلے میں اُس سنیما کی حالت گھٹنے کے بل چلنے والے بچے جیسی تھی۔

کولھاپور میں بنے نئے ڈیکن سنیما میں ’’پروٹیا‘‘ نامی ایک غیرملکی خاموش فلم قسط وار دکھائی جاتی تھی۔ اِس میں پراسرار عورت کا کردار اہم تھا۔ اُسی عورت کے نام پر خاموش فلم کو ’’پروٹیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پروٹیا پوری فلم میں کالے رنگ کے تنگ کپڑے پہن پہن کر کام کرتی تھی۔ یہ خاموش فلم اُن دنوں کولھاپور میں کافی مقبول ہو گئی۔ ہم بہن بھائیوں نے دیکھی۔ اور بھی ایک دو فلمیں دیکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ تھی کہ اتنی ساری فلمیں دیکھنے کی ہم لوگوں کی حیثیت نہیں تھی، پھر بھی ہمارے ماں باپو جتنا ہو سکے وہاں تک، لاڈپیار میں ہم بچوں کی فرمائشیں، ضرورتیں برابر پوری کرتے تھے۔
باپو کی فطرت میں کچھ حجاب تھا۔ اُس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کافی گاہک دکان سے مال ادھار لے جاتے۔ ناٹک کمپنیوں کو تو کریانہ مال اور پیٹرومیکس ادھار دینا پسند کرتے تھے۔ پھر اُن لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ کولھاپور سے چلتے وقت کہہ دیتے، ’’ارے راجا رام باپو، کوئی پرائے تھوڑی ہی ہیں، اپنے ہی آدمی ہیں۔ اُن کے پیسے اگلے مرحلے پر دے دیں گے۔ ‘‘ اور بس چلتے بنتے۔ لہٰذا کئی بار باپو اپنے پیسے وصولنے کے لیے ناٹک کمپنی کے پیچھے پیچھے دھول چھانتے پھرتے تھے۔ یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے، جیسے کام پر باپو جب گاؤں سے باہر جاتے تو دکان میں کام کرنے والے نوکر کی اچھی بن آتی تھی۔ دکان کا مال چوری چھپے بیچاجاتا۔ اُس سے آنے والے پیسے خود ہی خرچ کر ڈالتا۔ اِن سبھی وجوہات کی بناء پر ہم لوگوں کو غریبی روز بہ روز زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔

ایسی حالت میں میرے من میں آنے لگا کہ کسی طرح کچھ کام کر کے گھر گرہستی چلانے میں باپو کی مدد کرنی چاہیے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ’شری وینکٹیشور پریس‘ میں،میں نے کمپوزیٹر کا کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پندرہ دنوں میں میں نے سیاہی کا رولر چلانا اور ٹائپ جمانا سیکھ لیا۔ یہاں میں نے مہینے بھر کام کیا۔ اس کے لیے مجھے چھ روپے ملے۔ بعد میں ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں میں چھاپاخانے میں یہ کام کیا کرتا تھا۔ بدلے میں حاصل پیسوں سے میرے سکول کی کاپیوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ تھوڑا بہت نکل آتا تھا۔

گندھرو ناٹک منڈلی میں رہ کر بال گندھرو کی مُدھر اور سریلی آواز میں گائیکی لگاتار سننے کو ملتی تھی۔ نیتجتاً سنگیت میں میری بھی دلچسپی ہو چلی تھی۔ دیول کلب میں گانے بجانے کی محفل ہمیشہ کی طرح ہوتی تھیں۔ کولھاپور دربار کے سنگیت رتن استاد اللہ دیا خاں صاحب کا گانا کلب میں ہوتا، تو نہ صرف کلب کھچاکھچ بھر جاتا بلکہ سیڑھیوں پر اور سڑک پر بھی لوگ کھڑے ہو کر اُن کا گانا سنا کرتے تھے۔ سنگیت کے ایسے پروگرام سن کر مجھے کلاسیکل سنگیت اچھے لگنے لگے تھے۔ رحمت خان، بھاسکربوابکھلے، عبدالکریم خان، سوائی گندھرو وغیرہ گائیک فنکاروں کا گانا مجھے پسند آنے لگا تھا۔ پھر بھی ستار اور ہارمونیم کے پروگرام مجھے بہت زیادہ بھاتے تھے۔ کئی بار گوبند راؤ ٹینے کے کولھاپور آنے پر اُن کے ہارمونیم بجانے کے پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کے اصرار پر وہ کبھی کبھی ہارمونیم کے سُروں میں خود دبی آواز میں گا بھی لیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کے سُروں کے ساتھ وہ اپنا سُر اتنا بڑھیا ملا دیتے تھے کہ سامعین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔

ایسی محفلوں میں تانپورے پر بیٹھنے کے لیے کوئی نہ ملا تو مجھے ہی پکڑ بیٹھایا جاتا۔ منع کرتا بھی کیسے؟ مشہور گندھرو ناٹک منڈلی کی مہر جو مجھ پر لگی تھی! تانپورے پر بیٹھنے کی بوریت سے اپنا الاپ چھڑانے کے لیے، پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں کسی بڑے سے کھمبے کے پیچھے چھپ کر بیٹھتا۔ لیکن تبھی سامنے سے بابا دیول پکارتے، ’’ارے شانتارام، چلو آؤ، اٹھاؤ تانپورا۔‘‘ پھر میری کون سنتا؟ ہم تانپورا سنبھالنے کے لیے سٹیج پر پہنچ ہی جاتے۔ اس طرح زبردستی تانپورا بجاتے بجاتے میں تانپورا بجانے میں ماہر ہو گیا۔ (یہ دوسری بات ہے کہ تانپورا بجانا کچھ بھی مشکل نہیں!)

دیول کلب میں ہونے والے پروگروموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بابا دیول کے من میں آیا کہ کیوں نہ کلب کی کوئی اپنی خودمختار عمارت ہو! بس، من میں آنا ہی تھا کہ انھوں نے اِس عمارت کے فنڈ کے لیے کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسے کے بعد دیول جی نے اور رقم جمع کرنے کی غرض سے کلب کی طرف سے سٹیج پر ’وینور‘ نامی ناٹک پیش کرنےکا فیصلہ کیا۔اس ناٹک کے ایک زنانہ کردار کے لیے مجھے چنا گیا۔ ناٹک منڈلی میں سال بھر کام کرنے کی وجہ سے اب ساڑھی باندھ کر کام کرنے میں مجھے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس ‘وینود’ نامی ناٹک میں نوجوان رادھا کے نثری مکالمے کا رول میں بہت ہی چستی سے کی کرتا تھا۔ اس ناٹک کو کولھاپور اور سانگلی میں تین بار پیش کیا گیا۔ دیول کلب کی عمارت کے چندے کے لیے پیسہ اچھا اکٹھا ہوا۔ اِس ناٹک میں میری چست اور جاندار اداکاری دیکھ کر ہی آگے چل کر کولھاپور کی ایک شوقیہ ناٹک کمپنی نے ’مان اپمان‘ ناٹک میں مجھے بھامنی کا کردار دینا طے کیا۔ اِس کردار میں کام کرنے کے لیے مجھے ایک ناٹک کے پورے بیس روپے ملتے تھے۔ لیکن دو بار سٹیج ہونے کے بعد ہی یہ ناٹک بند ہو گیا۔

اُسی وقت روٹین کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ اُسے کیا کہا جائے،عجیب یا سکھ دینے والا؟ پتا نہیں۔ لیکن وہ ایک دم بےوقت پیش آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی میں تھا، تب ہماری ہی کمپنی میں کام کرنے والے ایک خاندان کے ساتھ میرا تعارف ہو گیا تھا۔ اُس خاندان میں ایک دس گیارہ سال کی لڑکی تھی۔ اُس کا نام بڑا میٹھا تھا، ’’چیتی‘‘۔ میں اسے’’چیتا‘‘ کہا کرتا تھا۔

اس وقت میں تیرہ سال کا تھا۔ یہ لہنگا پہننے والی چیتی کئی بار ہمارے گھر آئی تھی۔ ہمارے مکان میں اوپری منزل پر ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ کئی بار بےسبب ہی اس کوٹھری میں آ کر چیتی چہکتی رہتی۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اور سامنے رکھی کتاب پر بہت زیادہ دھیان دینے کی کوشش کرتا رہتا تو پھر ہار کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی تھی۔ اُس کی نگاہ بڑی نوکیلی تھی۔ لگتا تھا وہ مجھے چبھتی جا رہی ہے۔ اس پر میں سوچتا کہ اُس کی اِس نظر سے تو اُس کا پُھدک پُھدک کر چہچاتے رہنا ہی اچھا ہے۔ ایک دن اُس کی نظر ناقابلِ برداشت ہونے کی وجہ سے غصے میں میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور زور سے مروڑ دیا۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ چیخے گی، چلّائے گی۔ لیکن الٹا وہ ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔ لگا، جیسے کوئی ملائم چڑیا ہو! اُس کے جسم کی گرماہٹ، ملائم کوملتا مھے بہت ہی بھا گئی۔ میں نے بھی اُسے کس کر بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اُس کی وہ تھوڑی سی شرماہٹ اپنی سی لگی۔ ہم نے لگاتار ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا، چومتے ہی رہے۔

اُس کے بعد کئی بار دوپہر کی تنہائی میں وہ ہمارے یہاں آتی۔ میں بھی من ہی من میں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ تب آتی جب گھر میں کسی کا آنا جانا نہ ہوتا، تو ہم دونوں کبوتر کے جوڑے کی طرح ایک دوسرے کو مضبوط حصار میں جکڑ لیتے۔ پھر کچھ دنوں بعد مالی مشکلات کے باعث ہم لوگوں نے اس گلی کا مکان چھوڑ دیا اور کہیں دور چلے گئے۔ تب سے وہ پھر کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ چیتی آج اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اُس کے اُس پہلے (ملاپ؟) کی یاد آج بھی میرے دل کو گرماتی ہے۔

میری پڑھائی آگے جا رہی تھی۔ ہر سال جیسے تیسے پاس ہو کر میں اگلی جماعت میں جاتا تھا۔ انہی دنوں مجھے سکول کی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ دوستوں، پڑوسیوں اور سکول سے جو کتابیں مل سکتی تھیں، سبھی لا کر میں نے پڑھ ڈالیں۔ ایساپنیتی، پنج تنتر، ٹھکسین کی کہانیاں، الف لیلہ وغیرہ۔ تخیلاتی کتابیں پڑھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیے میں کولھاپور کی ’نیٹو لائبریری‘ کا ممبر بن گیا۔ دکھی کتابیں پڑھ کر میرا من بہت دکھی ہوتا۔ اِس لیے کتاب پڑھنا شروع کرنے سے پہلے میں دیکھ لیتا، اُس کا اختتام کیسے کیا گیا ہے اور اگر دکھی ہو تو بنا پڑھے واپس لوٹا دیتا۔ میں کیا پڑھتا ہوں، اِس پر میری ماں کا باریکی سے دھیان برابر رہتا۔ وہ ایک جماعت انگریزی بھی پڑھے ہونے کی وجہ سے میری لائی ہوئی کتابوں کے کچھ صفحے پلٹ کر ضرور دیکھ لیتی۔ من چلے ہیجانی ناولوں کا سایہ بھی مجھ پر پڑنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔

رامائن، مہابھارت، بھگوت وغیرہ مذہبی کتابیں بھی میں نے پڑھ ڈالی تھیں۔ ہری نارائن آپٹے کے مقصدی شِوکالین (مذہبی) ناول بڑے چاؤ سے پڑھ کر پورے کیے تھے۔ دکھی کہانیوں اور ناولوں کو دور سے ہی سلام کرنے والا میں، ہری نارائن آپٹے کا ’’لیکن دھیان کون دیتا ہے؟‘‘ (پن لکشات کون گیتو؟) ناول جو سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی دل کو چھو لینے والی دکھی کہانی ہے، بغور آخر تک پڑھ گیا۔ بیواؤں کا سر منڈوانا، جرٹھ کماری ویواہ (ادھیڑ عمرعورت کی شادی)، عورتوں کی خواندگی وغیرہ مسائل کو افادی ڈھنگ سے چھو لینے والا یہ ناول کئی سالوں تک میرے من میں آسن جمائے رہا۔ ’’چار آنے کتھا مالا‘‘ میں چھپنے والی ’سنہری گروہ‘ کہانیاں پڑھنے میں مجھے کافی لطف آتا تھا۔ ہر روز میں بلاناغہ بلونت کولھاپور کا ’’سندیش‘‘ اور مشہور بال گندھرو تلک کا ’’کیسری‘‘ برابر پڑھتا رہتا تھا۔ انھیں یا تو لائبریری سے لا کر پڑھتا یا پڑوسیوں سے مانگ کر۔ ’سندیش‘ میں ہمیشہ سنسنی خیز خبریں اور چٹ پٹے مضمون ہوا کرتے تھے۔ ’کیسری‘ میں علمی اور عصری سیاست پر مبنی مضمون ہوا کرتے تھے۔ اُن مضامین اور سیاست کا راز اپنی سمجھ میں کوئی خاص نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی ’کیسری‘ معمول کے مطابق پڑھتا تھا۔

کچھ اور بڑا ہو جانے پر میں نے وشنو شاستری چِپلونکرکے مضامین، تلک کے گیتا رہیسے (گیتا کا راز)، استقامت کے ساتھ پورا پڑھ لیا۔ اِن کتابوں میں لکھی باتیں پوری طرح میری سمجھ میں تب تو نہیں آتی تھیں۔ پھر بھی انجانے میں گیتا کا درشن (فلسفہ) کہیں جڑ پکڑ گیا۔ کُرمنیے وادھی کراستے ماپھایشو کداچن (’’کام کرنا تمھارے بس میں ہے، اس کا پھل تمھارے بس میں نہیں اس لیے اپنا فرض نبھاؤ اور انجام ایشورپر چھوڑ دو‘‘) کی سیکھ میرےکورے من پر کافی گہری چھاپ نقش کر گئی۔

ان اچھے گرنتھوں کی طرح میرے جسم کی ساخت بناوٹ کے برعکس نتیجہ خیز، عجیب عجیب کتاب بھی ان دنوں میرے ہاتھ لگی۔ لائبریری کی کیٹلاگ میں ایک ویدِک طبی گرنتھ تھا۔ میں نے کافی جوش سے پڑھنے کے لیے اُسے لے لیا۔ لیکن یہ کہ گرنتھ میں جن روگوں کا جائزہ لیا گیا تھا، اُن میں ایک سے زیادہ روگوں کی کچھ نہ کچھ علامات میرے جسم میں موجود ہونے کا احساس مجھے ہونے لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ تمام بیماریاں مجھے ہو گئی ہیں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ رنگت پھیکی پڑنے لگی۔ وزن گھٹنے لگا۔ روز بہ روز صحت گرنے لگ گئی۔ میری طبیعت خراب پا کر ماں نے مجھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرابھاولکر کے پاس جانے کے لیے کہا۔ میرے پورے خاندان کو وہ ڈاکٹر بغیر فیس کے دوائیاں دیتے تھے۔

میں پرابھاولکر جی کے پاس گیا۔ انھوں نے میری صحت کا چھی طرح معائنہ کیا اور حیرت سے پوچھا، ’’کیوں رے، آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں نے کافی سنجیدگی سے انھیں اپنا درد بتایا اور یہ بھی بتا دیا کہ لائبریری سے لائے گئے اس گرنتھ میں بیان کردہ تمام بیماریوں سے میں روگی ہوں، ایسا مجھے ہر دن لگتا ہے۔ پرابھاولکر جی نے اچھی طرح سے دیکھا بھالا، پرکھا اور بتایا، ’’تمھیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک کام کرو، وہ جو کتاب لے آئے ہو نا تم۔ اُسے پہلے پھینک دو، اُس میں تم نے جو کچھ پڑھا ہے، پوری طرح بُھلا دو۔ تمھاری اِس بیماری کی اور کوئی دوا نہیں ہے، سمجھے؟‘‘

میں گھر واپس آ گیا۔ اس گرنتھ کو لائبریری میں واپس پہنچا دیا۔ لیکن اُس میں جو کچھ پڑھا تھا، اُسے بھلانے میں مجھے لگ بھگ ایک سال لگ گیا۔ پھر میری صحت دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی۔ تبھی ڈیکن سنیما کے مالک آنندراؤ پنیٹر اور واشیکر کے درمیان کچھ اَن بَن ہو گئی۔ واشیکر نے یہ کیا کہ تھیٹر میں لگی مشینری ہٹا کر سنیما کو کسی دوسرے گاؤں لے جایا جائے۔ ہمارے باپو اور واشیکر اچھے مِتر تھے۔ باپو نے میرے دادا کو سنیما کا انجن، پروجیکٹر وغیرہ کا کام سِکھانے کے لیے اُن کے پاس بھیج دیا۔

اِدھر ہماری کریانہ دکان کا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ لوگوں کے پیسے چکانے میں دیری ہو رہی تھی۔ باہر پیٹرومیکس میں سے پانچ چھ خراب ہو گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دھندا بھی ٹھیک سے چل نہیں رہا تھا۔ کوئی اور کام دھندا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ڈیکن سنیما کے مالک واشیکر نے باپو کو کچھ کام دینا چاہا۔ باپو سے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ ہُبلی میں اُن کے سنیما میں لیکھاجوکھا (حساب کتاب) لکھنےاور مارکیٹ لیڈر کا کام کرنا پسند کریں گے؟ باپو نے آج تک ہمیشہ خودمختار کاروبار ہی کیا تھا، سچ پوچھا جائے تو نوکری ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ پھر بھی شاید ہم سب کا خیال کر، انھوں نے ہُبلی جانا قبول کیا تھا۔

باپو نے کریانہ مال کی وہ دکان بیچ دی۔ جو رقم آئی اس میں سے لوگوں کا جو تھوڑا بہت پیسہ دینا تھا، دے دیا۔ ڈیکن سنیما میں نوکری کرنے وہ ہُبلی چلے گئے۔ ہمارا گھروندہ بکھر گیا۔ دادا پہلے ہی دوسرے گاؤں میں سنیما کی نوکری کرنے چلا گیا تھا۔ وہ وہاں بجلی پیدا کرنے والی مشین چلاتا اور سنیما چالو ہونے پر اُس کے سین پر پیانو بجاتا۔ ولایتی خاموش فلموں میں دی جانے والی معلومات انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ عام ناظرین کی سمجھ میں وہ نہیں آ پاتیں۔ دادا اُن کا مراٹھی ترجمہ کر تھیٹر میں زوردار آواز میں اُن کی جانکاری دیتا۔ باپو اور دادا کو جو تنخواہ ملتی تھی اُس میں کھانے پینے اور رہائش کا نظام بھی شامل تھا، اس لیے کل تنخواہ میں سے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی سارا پیسہ وہ ہمارے لیے کولھاپور بھیج دیتے تھے۔ ہُبلی سے آنے والے پیسوں میں سے ہمیشہ ضروری پیسے ہی ہم لوگ گھر میں رکھتے۔ باقی سارا پیسہ لوگوں کا قرض چُکتا کرنے میں خرچ ہو جاتا۔ ماں تو اب بہت زیادہ محنت کرنے لگی تھیں۔ ہمارے نانا ہر روز کچہری جاتے، لیکن کبھی کبھار ہی ایک آدھ روپیہ کما لاتے۔ گھر آتے ہی فوراً وہ سب کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے میں جٹ جاتے۔ میں بھی جو مجھ سے ہو سکے اپنی ماں کی مدد کیا کرتا۔ حالت اتنی بری ہونے کے باوجود میری اور میرے تینوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری تھی۔

میں اب ساتویں میں تھا۔ ہماری کلاس اوپری منزل پر لگا کرتی تھی۔ کلاس کے باہر ہی چھجا بنا تھا، لیکن اُس میں کوئی دیوار یا جافری نہیں لگی تھی۔ ایک دن کی بات ہے، پتا نہیں کس دُھن میں میں کسی سے باتیں کرتے الٹا پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہمارے ایک گروجی واسو نانا کُلکرنی اُدھر ہی سے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا، ’’گدھے! نیچے گرنا ہے کیا؟‘‘ کہتے ہوئے بائیں کنپٹی پر اتنی زور سے چانٹا مارا کہ میرا کان زخمی ہو گیا اور بعد میں تو بہنے بھی لگ گیا۔ کُلکرنی جی کا کس کر مارا ہوا وہ چانٹا آج تک مجھے اچھی طرح یاد ہے، کیونکہ تبھی سے بائیں کان سے میں کچھ اونچا سننے لگا ہوں۔
میٹرک کی کلاس پاس آتی جا رہی تھی۔ اُسی وقت مجھے سردرد کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ سال تک عینک لگانے کی صلاح دی۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ ہو گیا۔ اُس میں سنسکرت میں ہم فیل ہو گئے۔ ہمارے سنسکرت کے پرچے واسو نانا کُلکرنی گروجی نے ہی چیک کیے تھے۔ میرے من میں بیکار ہی ایک بچگانہ خیال آ گیا کہ ہو نہ ہو، انھوں نے جان بوجھ کر مجھے فیل کیا۔ جیسا کہ اُن دنوں رواج تھا، انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے والے طالب علم کو میٹرک کی کلاس کا فارم نہیں دیا جاتا تھا اور میری سکول کی تعلیم ختم ہو گئی۔

تب تک ماں نے باپو کا کافی قرض اتار دیا تھا۔ جن چند لوگوں کا پیسہ دینا باقی تھا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ باپوان کاپیسہ ایک نہ ایک دن ضرور چکا دیں گے، کھا نہیں لیں گے۔ ایسی حالت میں ایک دن باپو کا ہُبلی سے خط آیا۔ انھوں نے ہم سب کو ہُبلی بُلا لیا تھا۔ ماں نے سارا سامان بٹورا اور باقی لین داروں کو یقین دہانی کرا، کہ ہُبلی سے اُن کا پیسہ ضرور بھیج دیں گے، ہم سب کولھاپور سے رخصت ہوئے۔

اُس حالت میں بھی، ہم سب پھر سے ایک ہی جگہ پر آ گئے، اِس کی راحت ہم سب نے محسوس کی۔ ہمارا ہُبلی کا مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ دادا تو تھیٹر میں ہی سوتا اور باقی ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی سٹ کر ہاتھ پاؤں سمیٹے جیسے تیسے ایک ہی کمرے میں سو لیتے تھے۔ ہُبلی میں مراٹھی زبان بولنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ زیادہ تعداد میں لوگ کنّڑ ہی بولتے تھے۔

کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ محکمۂ ڈاک میں کلرکوں کی نوکری کے لیے ہُبلی میں امتحان لیا جانے والا ہے۔ اُس میں پاس ہونے والوں کو سرکار میں مستقل نوکری ملنے والی تھی۔ اس امتحان میں بیٹھنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ کافی محنت کر اُس کے لیے تیاریاں کیں۔ کچھ دنوں بعد رزلٹ آیا۔ میں بالکل فیل ہو گیا۔ پھر ایک بار فیل! میٹرک کا امتحان دینے کے لیے سکول نے مجھے نااہل ٹھہرا ہی دیا تھا، اب محکمۂ ڈاک نے بھی مجھے نالائق قرار دیا۔ اندر ہی اندر میں ٹوٹ چکا تھا۔

کچھ دن یوں ہی بیکار بِتائے۔ ایک دن باپو نے مجھ سے پوچھا، ’’یہاں ہُبلی میں ریلوے کی ایک بڑی ورکشاپ ہے۔ اُس میں کام کرنے والے ایک بڑے افسر میری پہچان والے ہیں۔ اُن کی سفارش سے اُس ورکشاپ میں فٹر کی نوکری تمھیں مل سکتی ہے، محنت بھی کافی کرنی پڑے گی۔ تم کرو گے نا فٹر کا کام؟‘‘
’’فٹر کا ہی کیوں؟ کسی جھاڑ ووالے کا کام ہو تو وہ بھی کرنے کو میں تیار ہوں،‘‘ میں نے جواب دیا۔

باپو نے کوشش کی۔ ریلوے ورکشاپ میں فٹر کے کام پر مجھے نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی روز کے آٹھ آنے۔ ہر روز میں صبح سات بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ ساڑھے گیارہ بجے ایک بھونپو بجتا۔ وہ کھانے اور آرام کا شارہ ہوتا۔ میں فوراً دوڑ کر گھر جاتا، باجرے کی روٹی سبزی کھا کر پھر لگ بھگ دوڑتے بھاگتے لوٹ بھی آتا، اور ساڑھے بارہ بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ شام چھ بجے تک کام جاری رہتا۔

اِس طرح دن بھر کام کرنے کے بعد ہر روز رات میں ڈیکن سنیما کے دروازے پر ڈورکیپر کا کام بھی میں کیا کرتا۔ اس کام کا مجھے کوئی پیسہ ویسہ نہیں ملتا تھا۔ فائدہ اتنا ہی تھا کہ سبھی فلمیں مفت میں دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں۔ یہیں میں نے ایڈی پولو وغیرہ اداکاروں کی خاموش فلمیں بالترتیب دیکھی تھیں۔ ان فلموں میں اکثر گھڑدوڑ، پستول بازی، مار پیٹ وغیرہ کے منظروں کی بھر مار ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھاربھولے سے ایک آدھ بڑھیا جذباتی فلم بھی دیکھنے کو مل جایا کرتی تھی۔

اسی ڈیکن سنیما میں ہی میں نے داداصاحب پھالکے کی بنائی اور ڈائریکٹ کی گئی ’’لنکادہن‘‘، ’’بھسما سُر موہنی‘‘، ’’کرشن جنم‘‘ بھی دیکھی تھیں۔ اس سے پہلے کولھاپور میں میں نے پھالکے جی کی ’’ہیر چندر‘‘ نامی خاموش فلم بھی بڑی عقیدت سے دیکھی تھی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ اُس میں عورتوں کے کردار مردوں نے نبھائے تھے۔ ولائتی فلموں میں عورتوں کا کردار عورتیں ہی کیا کرتی تھیں اور انھیں دیکھنے کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ’’ہیر چندر‘‘ خاموش فلم کی یہ بات اتنی بھا نہیں سکی تھی۔ لیکن یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اُن کے معجزوں پر مبنی حیرت انگیز باتوں کو دکھانے والی خاموش فلمیں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تھیں، حاوی ہو گئی تھیں۔ کہتے ہیں، بمبئی میں ’’لنکادہن‘‘ دکھائی گئی، تب تو اتنا پیسہ ملا کہ گاڑیاں بھر بھر کر ماہانہ پیسہ لے جایا گیا تھا۔ اُس کے بعد بھی ان کی کئی فلمیں بہت ہی کامیاب رہی تھیں۔ پھالکے جی اُن گاؤوں میں جہاں تھیٹر نہیں ہوتے تھے، اپنا پروجیکٹر لے کر جاتے اور لوگوں کو سنیما دکھاتے تھے۔ اُن کی انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام میں تفریح کے اچھے ذریعے کے روپ میں سنیما کے لیے ایک قسم کے تجسس اور کشش کا آغاز ہو گیا تھا۔

ریلوے ورکشاپ میں جلد ہی چیٹلے، اردھ گول آکار، گول آکار، اور دیگر چھوٹے موٹے قسم کی سٹیل ریتوں کی مدد سے ریلوے ڈبوں کے متنوع حصوں کو تراشنا، پالش کرنا وغیرہ کاموں میں ماہر ہو گیا۔ میری اِس ترقی کو دیکھ کر فورمین نے ریلوے یارڈ میں ریپئری (مرمت) کے لیے لائی گئی ویگنوں کے بفرز ٹھیک کرنے کے کام کی پوری ذمےداری مجھے سونپ دی۔ میری تنخواہ بڑھ گئی۔ اب ہر روز بارہ آنے ملنے لگے۔ میرا جوش بڑھا اور ویگنوں کے بفرز کو ٹھیک کرنے کے کام میں میں بڑے چاؤ سے جُٹ گیا۔

ایک دن ریلوے یارڈ میں ویگنوں کے بفر کی جانچ پڑتال کر خرابی کو ٹھیک کرتے وقت میں اکیلا تھا۔ پہلے دو ڈبوں کے بفرز دیکھ چکا۔ اُن کی سپرنگ کوائلز ٹھیک حالت میں تھیں۔ جو تھوڑی سی گڑبڑ تھی اُسے میں نے ٹھیک کر دیا اور تیسری ویگن کے پاس پہنچا۔ بڑی ہی خوداعتمادی سے اُس کے ایک بفر سپرنگ دیکھنے کے لیے لوہے کا وہ گولا دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے اندر کی طرف دبایا۔ لیکن اُس بفر میں سپرنگ تھے ہی نہیں، اس لیے میری انگیاں بفر میں پھنس کر زوروں سے کچلی گئیں۔ میں زور سے چیخ کر بےہوش ہو کر گر پڑا۔ میری چیخ سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے دائیں ہاتھ کی انگیاں خون سے لت پت ہو گئی ہیں۔ یارڈ سے ورکشاپ تک جیسے تیسے پہنچ گیا اور سُوجن کی وجہ سے پھولا ہوا ہاتھ فورمین کو دکھا کر گھر لوٹ آیا۔

اس حادثے کے بعد کافی دن مجھے بخار آتا رہا۔ انگیوں میں ہوئے زخموں کے گھاؤ بھرنے اور سوجن اترنے میں کافی دن لگ گئے۔ اس حادثے کے باعث میری شہادت کی انگلی کے پاس کی انگلی ٹیڑھی میڑھی ہو چکی ہے۔ ہُبلی ورکشاپ میں کیے کام کی یاد کے روپ میں آج بھی وہ ویسی ہی ٹیڑھی ہے۔

لیکن کئی دن بیمار رہنے کی وجہ سے میری ریلوے کی وہ نوکری جاتی رہی۔ میں پھر بیکار ہو گیا۔ انہی دنوں ڈیکن سنیما کے سامنے ایک مہاشے نے فوٹوگرافی کا سٹوڈیو مارڈن سائن بورڈ پنیٹنگ کی دکان کھولی تھی۔ باپو نے مجھے اُن مہاشے کے پاس دونوں کام سیکھنے کے لیے بھجوایا۔ وہاں ڈویلپنگ کے فن سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ فوٹو نکالنا، اُس کے شیشے دھونا، پرنٹ نکالنا، فوٹو ماؤنٹ پر چڑھانا وغیرہ، ساری باتیں میں دھیرے دھیرے سیکھ گیا اور انھیں اچھی طرح سے کرنے بھی لگا۔ بڑی بڑی دکانوں پر اُن کے نام کے جو فلیکس لگائے جاتے، انھیں میں اچھی طرح رنگنے بھی لگا تھا۔ دکان کا سارا کام سیکھ چکنے کے بعد بھی مہاشے مجھے تنخواہ تو دیتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے سکھانے کے احسان کے بدلے دونوں وقت ہمارے یہاں روٹی کھانے کے لیے آ جمتے تھے۔ اپنی طرف سے میں گرہستی میں ایک پائی کی بھی شراکت نہیں کر پا رہا تھا، بلکہ الٹا میری تربیت کی وجہ سے گھر میں ایک اور آدمی کو کھلانے پلانے کا خرچ بڑھ گیا۔ اس کی چبھن میرے من کو کھائے جا رہی تھی۔

ایک دن ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ باپو اور ڈٰیکن سنیما کے مالک واشکیر میں ناراضی ہو گئی ہے۔ باپو نے سنیما کی نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے ساتھ دادا کو بھی وہاں کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ واشیکر، اُن کے خاندان، باپو اور دادا کا کھانا بنانے کے لیے ایک باورچی انھوں نے رکھا تھا۔ اُس کا بھی واشیکر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اُس نے بھی نوکری چھوڑ دی۔ لیکن اس کی صلاح بھی یہی تھی کہ باپو اور وہ دونوں مل کر ساجھے داری میں ایک ہوٹل شروع کریں۔ پیٹ پالنے کے لیے دوسرا کوئی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے باپو نے اُس کا مشورہ مان لیا۔

باپو نے ہوٹل شروع کیا۔ اس سے آمدنی بھی اچھی ہونے لگی۔ ہم لوگوں کا کُنبہ پھر سے اچھے دن دیکھنے لگا۔ گاڑی پھر پٹری پر آ گئی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد اُس باورچی کے من میں برائی جاگی۔ ایک دن لڑجھگڑ کر وہ چلا گیا۔ ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ گئی۔

لیکن تب میری ماں کمر کس کر آگے آئی۔ بولی، ’’ہوٹل کے بند وَند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہوٹل کے سارے کھانے میں خود تیار کروں گی۔‘‘
باپو ماں کی طرف دیکھتے ہی رہے، بولے، ’’تم؟ تم ہوٹل کی کھانے پینے کی چیزیں بناؤ گی؟‘‘

ماں نے مضبوطی سے کہا، ’’جی ہاں! آپ ہوٹل کو چالو رکھیے۔ آخر گھر میں میں کھانا تو پکاتی ہی ہوں نا؟ وہی کچھ زیادہ لوگوں کے لیے یہاں پکا لوں گی۔ تھوڑا زیادہ وقت دوں گی۔ گھر میں اپنے پانچ بچوں کے لیے بناتی ہوں، ہوٹل میں آنے والے سب کو اپنے ہی بچے مان کر اُن کے لیے بھی بنایا کروں گی۔‘‘
سارے سنسار کی پرورش کرنے والی جیتی جاگتی جگن ماتا (دیوی ماں) بھوانی میری ماں کے روپ میں بولی تھی۔ باپو نے ہوٹل کو جاری رکھا۔ ماں تڑکے چار بجے اٹھتی اور تبھی سے کمر کس کام میں جُٹ جاتی۔ کھانے پینے کے سامان کی چیزیں اتنی مزیدار اور رسیلی بناتی کہ ہمارا ہوٹل پہلے سے بھی زیادہ اچھا چلنے لگا۔ سویرے چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک چولھے کی آنچ میں تپ کر لال لال بنا اُس کا چہرہ، اور کانوں کے پیچھے سے اترتی پسینے کی دھار دیکھ کر میرے پیٹ میں بل پڑتے۔ ماں کی اتنی ساری محنت لاچار ہو کر دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود ہم نے ماں کو کبھی یہ کہتے نہیں سُنا، تھک گئی رے بھیا، اب یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا! کئی بار رات میں فوٹوگرافی کے سٹوڈیو سے لوٹ آنے کے بعد میں ماں کے پاؤں دبانے بیٹھتا۔ اتنی ہی اُس تھکے ہوئے جسم کی سیوا ہو پاتی!

کچھ دنوں بعد میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پینڈھارکر) بابوراؤ پینٹر کی کولھاپور میں بنائی ’’سیرنگری‘‘ نامی خاموش فلم ڈیکن سنیما میں دکھانے کے لیے ہُبلی آیا۔ بابوراؤ پنیٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں منیجر تھا (میرا کزن) بابوراؤ۔ جوئے میں ہارے پانڈو خفیہ طور پر وِراٹ راجا کے محل میں بھیس بدل کر رہتے ہیں، مہا بھارت کے اِس ایک واقعے پر وہ فلم بنائی گئی تھی۔ اِس فلم میں عورتوں کے کردار عورتوں نے ہی کیے تھے۔ بابوراؤجی پینٹر نے فلم کی ڈائریکشن بڑی سوجھ بوجھ اور اُپج سے کی تھی۔ اُس میں فنکاری بھی کافی تھی۔ سبھی کی اداکاری بھی اتنی بَڑھیا تھی کہ سبھی کردار جاندار اور سچ مچ کے لگتے تھے۔ خاص فخر کی بات یہ تھی کہ فلمسازی کے لیے بابوراؤ جی پینٹر نے کمال دیسی کیمرا بنایا تھا۔ پنیٹرجی کے خود بنائے ہوئے کیمرے پر فلمائی گئی یہ فلم پونا میں جانے مانے تلک جی نے دیکھی اور انھوں نے اس فلم کی، اور اُس مقامی کیمرے کی بہت بہت تعریف کرتے ہوئے اُسے ایک گولڈمیڈل اور تصدیقی خط سرٹیفیکٹ دیا تھا۔

میں نے اس فلم کو باربار یکھا۔ سوچا، بابو کے ساتھ میں بھی چلا جاؤں مہاراشٹر فلم کمپنی میں۔ فوٹوگرافی تو میں نے سیکھ ہی لی تھی۔ لہٰذا ہمت اکٹھی کر میں نے بابو سے پوچھا، ’’بابو، کیا تمھاری فلم کمپنی میں مجھے کچھ کام مل سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ صرف ایک وقت کا کھانا مل جائے تو اُتنے پر ہی ہر کام کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘

بابو نے کچھ سوچ کر بتایا، ’’ٹھیک ہے، تم کولھاپور آ جاؤ۔ کمپنی شِواجی تھیٹر میں ہے۔ وہاں آ کر مجھے ملنا۔ میں تمھیں بابوراؤ پینٹر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ وہ تمھیں دیکھیں گے، بس!‘‘
’’اس کا مطلب تو یہ رہا کہ بابوراؤ پینٹر مجھے دیکھ کر پاس یا فیل کر دیں گے، ہے نا؟‘‘

بابو مجھے ڈھارس بندھاتے ہوئے بولا، ’’بھئی، ڈرتے کیوں ہو؟ تم آؤ تو سہی کولھاپور۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ سنیما گھر میں چلا گیا۔ سنیما کے دروازے پر کھڑے کھڑے میں سوچنے لگا، بابوراؤجی پینٹر مجھے دیکھیں گے۔ اُن کی نظر کے امتحان میں بھی کیا میں پاس ہو پاؤں گا؟ کہتے ہیں، کوئی بات دو بار ہوئی تو تیسری بار بھی ضرور ہو جاتی ہے۔ دو بار تو میں فیل ہو چکا تھا، اب تیسری بار ہونے جا رہی ہے، اس امتحان میں بھی میں فیل رہا تو؟ اس کا تصور بھی میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے میں بڑبڑایا: ’’اب کی بار تو مجھے فیل مت کرنا میرے پربھو!‘‘

’’سیرنگری‘‘ فلم کو دکھانے کے بعد بابو فلم کے ڈبے لے کر کولھاپور واپس چلا گیا۔ اُسے گئے دو تین ہفتے بیت گئے۔ تب میں نے باپو سے مہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کے لیے جانے کی بات چھیڑی۔ انھوں نے ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا۔ شاید اب تک وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ میں جو بات ٹھان لیتا ہوں، پوری کر کے ہی رہتا ہوں۔ باپو نے میرے ہاتھ پر ریلوے کا ٹکٹ اور پندرہ روپے رکھے اور بولے، ’’اور پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو لکھنا۔‘‘ ان سے پیسے لیتے وقت مجھے کافی عجیب سا لگا۔

چلتے وقت میں نے باپو کے پاؤں میں ماتھا ٹیکا، ماں کے بھی پاؤں پڑا۔ لگاتار کام کرتے رہنے کی وجہ سے کھردری ہتھیلی بڑی مامتا سے میرے چہرے پر گھما کر ماں نے مجھے چوم لیا۔ ہُبلی سے کولھاپور جانے والی ریل میں بیٹھتے وقت میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب جو بھی ہو، جو بھی کام کرنا پڑے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہی چین لوں گا۔ زندگی کے دن جیسے بھی گزارنا پڑے، باپو سے پیسے نہیں منگواؤں گا! اِسی سوچ وچار میں ایسا الجھ گیا کہ کولھاپور کب آ گیا پتا ہی نہ چلا۔ گاڑی صبح چھ بجے کولھاپور پہنچی۔ سٹیشن کے باہر صرف ایک ہی تانگہ کھڑا تھا۔ تانگے والا بوڑھا تھا۔ اُس سے میں نے پوچھا، ’’تانگے والے بابا، مجھے شِواجی تھیٹر تک لے جاؤ گے؟‘‘

’’ضرور، کیوں نہیں! آؤ بیٹھو، چار آنہ لوں گا۔‘‘
’’چار نہیں، دو آنے دوں گا۔‘‘
’’اچھا اچھا، بیٹھو بچے۔ اپنا مکان بھی اُدھر ہی ہے۔ آؤ بیٹھو۔‘‘
میں تانگے میں بیٹھ گیا۔ تانگہ چلنے لگا۔ میں تو شِواجی تھیٹر پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا لیکن تانگہ تو چیونٹی کی رفتار سے چلتا ظاہر ہو رہا تھا۔ میں نے تانگے والے بابا سے کہا، ’’ذرا تیز دوڑائیے نا تانگے کو۔‘‘
’’ارے بچے، دو آنے میں گھوڑا تیز کیسے بھاگ سکتا ہے؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’گھوڑا تھوڑے ہی جانتا ہے، دو آنے ملے یا چار۔‘‘
’’پر وا کو مالک تو جانت ہے نا؟‘‘ (پر اس کا مالک تو جانتا ہے نا؟) ایسا کہہ کر اُس نے زور سے ٹہوکا لگایا اور گھوڑے کو ایک ہنٹر جما دیا۔

تانگہ سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا چکر بھی اتنی ہی رفتار سے چلنے لگا۔ ’’سیرنگری‘‘ کا منظر ذہن میں آ گیا۔ میں مہاراشٹر فلم کمپنی میں کسی نہ کسی کام پر لگ گیا ہوں۔ نئی فلم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں وہاں سب کو میک اپ کر رہا ہوں۔ اپنا بھی میک اپ کر اُس فلم میں کبھی بہادر سپاہی کا، تو اُس سے اگلی فلم میں راجا کے بیٹے کا رول ادا کر رہا ہوں۔ میری اکڑ اور ادا کو بابو فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بابوراؤ پینٹر میرے کام سے خوش ہو کر میری پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، شاباشی دے رہے ہیں اور۔۔۔

اور تبھی زور سے جھٹکا لگا۔ میں ہڑبڑا کر ہوش میں آ گیا۔ تانگہ رُک گیا تھا اور تانگے والا کہہ رہا تھا، ’’جی، اب اُتر جاؤ چھوٹے بابو، شِواجی تھیٹر آن پہنچے ہیں۔‘‘

تانگہ شِواجی تھیٹر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔ میں نے تانگے والے کو پیسے دیے، اپنا صندوق اور بستر لے کر نیچے اُترا اور بڑے جوش اور اُمنگ کے ساتھ تھیٹر کے پورچ سے ہوتا ہوا اندر جانے لگا۔ نظر کچھ اونچی اٹھی اور پاؤں ایک دم تھم گئے۔ ایک بڑی سی تختی پورچ کی چھت سے نیچے لٹک رہی تھی۔ اُس پر لکھا تھا: ’’بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے۔‘‘

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

’’شانتارام، اٹھاؤ اپنا سامان۔ تمھیں تمھارے رہنے کی جگہ دکھاتا ہوں۔‘‘

گنپت راؤ ٹینبے کا وہ حکم سن کر میں ہوش میں آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی کی رہائش گاہ پر گنپت راؤ جی کے کمرے میں کھڑا تھا۔ باپو مجھے وہاں چھوٖڑ کر پہلے ہی چلے گئے تھے۔ اس ننھی سی عمر میں ماں اور باپو کے بغیر اتنی دور اِس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ نم آنکھوں سے میں نے گنپت راؤ کی طرف دیکھا۔ لیکن آنسو اتنے بھر آئے تھے کہ اُن کی شکل ٹھیک سے صاف دکھائی نہیں دی۔ میری پیٹھ سہلاتے ہوے انھوں نے کہا، ’’دھت تیری، پاگل! تم رو رہے ہو؟ آؤ تمھیں دکھاتا ہوں، یہاں تمھاری عمر کے کتنے لڑکے رہتے ہیں!‘‘

میں ایک دم تن کر کھڑا ہو گیا۔ ناٹک میں آنے کا فیصلہ میرا اپنا ہی تو تھا، پھر یہ کیا ہو رہا ہے! نہیں نہیں! ایسے کام نہیں چلے گا۔ یہ سوچ کر میں نے فوراً اپنا پیٹی بستر اٹھایا۔ آنکھوں میں رُکے آنسو اندر ہی رہ گئے، چھلکے نہیں تھے۔

وہ مجھے ایک بڑے ہال میں لے گئے۔ وہاں میرے جیسے بہت سے لڑکے تھے۔ گنپت راؤ نے کہا، ’’بچو، یہ ہے شانتارام، اسے بھی اپنے ساتھ شامل کر لو!‘‘
میری ہی عمر کا ایک گورا سا لڑکا سامنے آیا۔ مسکرا کر اُس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا، ’’آؤ شانتارام، وہاں رکھو اپنا سامان۔‘‘ ایک خالی جگہ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے اُس نے کہا۔ وہاں میں نے اپنا بستر رکھا۔ اُس کے پاس ہی اپنا صندوق بھی رکھ دیا۔ اُس کمرے کے باقی لڑکے میری طرف بےتابی سے دیکھ رہے تھے۔ میری بغل میں ہی ایک دری بچھی تھی۔ میرا ہاتھ تھامنے والا وہ لڑکا اُس پر آ بیٹھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کا نام تھا گووند مُلگناوکر۔ وہ گووا کا رہنے والا تھا۔

شام ہو گئی۔ ہم سب لوگ کھانا کھانے گئے۔ کھانا پنڈتوں جیسا تھا۔ رات ہو گئی۔ کولھاپور سے پونا تک کے سفر سے کافی تھکان محسوس کر رہا تھا، لیکن من بے چین تھا۔ گھر کے سبھی لوگوں کی یاد ستا رہی تھی۔ کروٹیں بدلتے کب نیند آ گئی، پتا ہی نہیں چلا۔

آنکھیں ملتے ہوے سویرے نیند کھلی۔ گووند پکار پکار کر مجھے جگا رہا تھا۔ میں فوراً اٹھ بیٹھا۔ صبح کے معمول اور نہانے وغیرہ سے نپٹ کر دیگر لڑکوں کے ساتھ میں بھی تیار ہو گیا۔ تعلیم کی اطلاع دینے والی گھنٹی بجی۔ ہم سب لوگ جلدی جلدی رقص کی تعلیم کے لیے پہنچ گئے۔ رقص کے استاد مگن لال ہم سب لڑکوں سے ناٹک کے رقصوں کی مشق کرانے لگے۔ اُس دن تو میں ایک طرف بیٹھ کر سب کچھ دیکھتا رہا۔

رقص کی تعلیم ختم ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی۔ سب نے کھانا کھایا۔ ناٹک رات میں ہوتے تھے اور سب کو جاگنا پڑتا تھا۔ لہٰذا کمپنی کا اصول تھا کہ سب لڑکوں کو دوپہر میں لازمی سو لینا چاہیے۔ شام کو گیان کی تعلیم کا وقت تھا۔ سب کے ساتھ مِیں بھی حاضر ہو گیا۔ کمپنی میں گیان سکھانے کے لیے پنڈھرپورکر بابا آئے تھے۔ وہ مشہورموسیقار تھے۔ ناٹکوں میں گائیک کرداروں کے روپ میں بھی وہ کام کرتے تھے۔ میں اجنبی تھا۔ قدرتی طور پر انھوں نے مجھ سے بات چیت کی۔ حال پوچھا اور سوال کیا، ’’گانا جانتے ہو؟‘‘ میں نے ٹکا سا جواب دیا، ’’نہیں جانتا۔‘‘ اُن کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر بھی انھوں نے کہا، ’’چلو، گانا نہ سہی، سکول کی کوئی نظم تو آتی ہو گی نا؟‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ میرے خیال سے میں نے اچھے سُر میں، پورے من سے نظم گا کر سنانا شروع کی:

’’تو پے لاگی آس مہان
سُمتی دیجے دیانی دھان‘‘

سامنے بیٹھے لڑکے شروع میں تو کچھ دیر چُپ تھے، لیکن بعد میں سبھی مجھے دیکھ کر اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ پنڈھرپورکر کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔ نظم پوری ہونے کے بعد انھوں نے کہا، ’’ٹھیک ہے، بیٹھو تم۔ تمھیں ایک دَم شروع ہی سے گانا سِکھانا پڑے گا۔ کوئی بات نہیں۔ آہستہ آہستہ سیکھ جاؤ گے۔‘‘

گانے کی تعلیم ختم ہوئی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اور گووند اپنی اپنی دری پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ اُس رات ناٹک نہیں تھا۔ میں نے متجسس ہو کر گووند سے پوچھا، ’’گووند، سچ بتاؤ، میں باباجی کے سامنے نظم سنا رہا تھا، تب سبھی لڑکے ہنس کیوں رہے تھے؟ تم لوگوں کو میرا گانا اچھا تو لگا نا؟‘‘

مجھے ناخوش ہوتا دیکھ کر میرا ہاتھ تھامے اُس نے کہا، ’’لو، تم برا مان گئے۔ اِس میں برا ماننے کی بات ہی کیا ہے؟ تم مَن لگا کر گانا سیکھو، دھیرے دھیرے سے اچھا گانے لگ جاؤ گے۔ بھئی، گانا تو ایک ایسا علم ہے جسے کافی دِنوں تک سیکھتے رہنا پڑتا ہے، کیا سمجھے؟‘‘
پتا نہیں میں کیا سمجھا تھا، لیکن دھیرے بُدبُدا گیا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘

اِس طرح کچھ دن بیت گئے۔ کمپنی کے ماحول میں گھلتاملتا گیا۔ اب باقی لڑکوں کی طرح میں بھی دھوتی باندھنے لگا۔ نیکر پہننا چھوڑ دیا تھا۔ بال بھی بڑھانے لگا تھا۔ رقص میں میں اچھی ترقی کرتا جا رہا تھا۔ سوال تھا تو صرف گائیکی کا! اس شعبے میں میری مَت (عقل) کہو یا گلا، پنڈھرپورکر بابا کی خواہش کے مطابق کام نہیں کر پا رہا تھا۔ سبھی لڑکوں کے ساتھ میں بھی پوری تندہی سے اچھا گانے کی پوری کوشش کرتا رہا، لیکن کئی بار ایسا ہو جاتا کہ باباجی کے اشارے پر سبھی لڑکے برابر رُک جاتے اورمیری ہی اکیلی آواز کسی سُر کی کھوج میں لٹکتی سنائی دیتی رہتی۔

کچھ دنوں بعد ’مان اپمان‘ ناٹک کرنے کا دن آیا۔ اس ناٹک میں آخر میں سبھی لڑکے ہاتھوں میں مالا لیے ’شاندار یہ ہار‘ گانا گاتے گروپ میں رقص کرتے تھے۔ اس گانے کے تھوڑے ٹکڑے میں نے اچھی طرح تیار کر لیے تھے۔ گانا بھی منھ زبانی یاد کر لیا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کورَس گانا ہے، باقی لڑکوں کے ساتھ اُن کے سُر میں سُر ملا کر، لیکن تم اسے ذرا ہلکے سُرمیں گانا، سمجھے؟‘‘

رات میں سب لوگ تیار ہونے لگے۔ میں بھی میک اَپ روم میں گیا۔ میک اَپ آرٹسٹ نے مجھے میک اَپ کرنا سکھایا۔ رنگ لگانے کے بعد ڈریسنگ روم کے ماسٹرجی نے میرے ہاتھوں میں ایک ساڑھی، چولی تھما دی اور بولے، ’’جاؤ جلدی سے باندھ کر آؤ۔‘‘

ساڑھی ہاتھ میں لیے میں ساکت رہ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اچھا خاصا مرد ہوں اور ساڑھی باندھوں؟ چھی! ساڑھی باندھ کر ہر جمعے کو جوگوا (بھیک) مانگنے کے لیے نکلنے والے ہیجڑے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ مجھے ایک دم گِھن ہو آئی۔ ناٹک میں کام کرنے کی اُمنگ میں یہاں ساڑھی باندھنی پڑے گی، یہ تو میں نے بُھلا ہی دیا تھا۔ مجھے وہاں بُت بنا کھڑا دیکھ کر ڈریسنگ روم کے ماسٹر چلّائے، ’’بھئی جلدی تیار ہو کر آؤ۔ ابھی تم لوگوں کا داخلہ ہونے ہی والا ہے۔‘‘

میں ہوش میں آیا۔ تبھی سامنے سے گووند مٹکتا ہوا آیا۔ چار پانچ اور لڑکے بھی تیار ہو کر آ گئے۔ ہاتھ میں ساڑھی لیے صرف میں رہ گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر گووند نے کہا، ’’کیوں بھئی، رو کیوں رہے ہو؟ آؤ میں باندھ دیتا ہوں تمھیں ساڑھی۔‘‘ جو جو ہووے بھاگ میں، دل و جان سے کر قبول!

میک اَپ ماسٹر نے ڈانٹ پلائی، ’’اے، آنکھیں مت ملو۔ میک اَپ بگڑ جائے گا۔‘‘ میک اَپ بگڑ جائے گا! مجھ پر اندر ہی اندر کیا بیت رہی ہے، کسی کو کوئی پروا نہیں!

مجھے ساڑھی بندھوا کر گووند باقی لڑکوں میں کھڑا ہو کر ناٹک کے توڑے ٹکڑے یاد کر رہا تھا۔ میں بھی باقی لڑکوں میں شامل ہو گیا۔
اینٹری آتے ہی ہم سب لوگ سٹیج پر پہنچ گئے۔ ’شاندار یہ ہار‘ یہ گیت ہاتھوں میں ہار لیے رقص کے لیے تال پر ختم ہوا۔ رقص کے آخر میں ہم لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھوں کے ہاروں کو مخصوص شکل دے کر ’مان اپمان‘ کے حروف تیار کیے۔ ناظرین نے داد دے کر اپنی پسند ظاہر کرنے کے لیے تالیاں بجائیں۔
ناٹکوں کے پریوگ کے لیے ہم لوگ گاؤں گاؤں گھوم رہے تھے۔ رقص میں میری کارکردگی بہت ہی اچھی ہو رہی تھی۔ ایک ناٹک میں، اس کا نام اب ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا، گووند ایک ٹھمری گایا کرتا اور اس پر میں رقص کیا کرتا تھا۔ ٹھمری کے بول تھے: ’دیکھو ری نا مانے شیام۔‘ رقص کی تعلیم کے وقت مگن لال ماسٹر دیگر لڑکوں سے ہمیشہ کہتے تھے، ’’ارے اس شانتارام کو دیکھا کرو، کتنی شان سے ناچتا ہے۔ اسی طرح سے لے تال میں ناچنا چاہیے!‘‘
کمپنی کے کچھ لوگ ہم میں سے کچھ لڑکوں کو ’مالک‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اس کا راز کافی دنوں تک میں جان نہیں سکا۔ آخر اِس موضوع پر ایک آدمی سے پوچھا تو اس نے ہنس کر کہا:

’’ہم لوگوں کو کمپنی سے تنخواہ ملتی ہے اِس لیے ہم ہیں کمپنی کے نوکر۔ مالک کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی اس لیے وہ ہیں مالک۔ آپ لوگوں کو بھی کمپنی تنخواہ نہیں دیتی، اس لیے آپ ہو گئے مالک!‘‘

گندھرو ناٹک منڈلی میں پہلے چھ ماہ تک مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، صرف اوڑھنے بچھانے کے لیے چادریں، پہلے سے ہی طے کیے گئے کپڑے اور دو وقت کا کھانا، اتنا ہی ملا کرتا تھا۔

کمپنی کی رہائش گاہ پر مالک کے ساتھ ہم لوگوں کا کوئی خاص رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ بال گندھرو کی مقبولیت اُن دنوں آسمان کو چھونے کی کوشش میں تھی۔ گووند راؤ ٹینبے مجھے کمپنی میں لے تو آئے تھے، لیکن میری ناٹک کی تربیت کی طرف انھوں نے خاص دھیان نہیں دیا تھا۔ لیکن چونکہ میں کچھ چست دکھائی دیتا تھا، گووند راؤ کی بیوی میرا زیادہ خیال رکھتی تھیں۔۔ میں بھی اُن کے کولھاپور والا جو تھا۔ وہ میرے لیے ممتا جتاتیں، تیج تہوار پر مجھے مٹھائیاں بھی کھلاتی تھیں۔ ویسے گندھرو ناٹک منڈلی میں کھانے پینے کی کمی نہ تھی۔ اُس میں بھرتی ہوا شخص چند دنوں میں ہی گول مٹول ہو جاتا تھا۔

ہمارے تیسرے مالک تھے گنپت راؤ بوڈس۔ مجھے اُن کی اداکاری سب سے زیادہ پسند تھی۔ ’شُکراچاریہ‘ کے کردار کے لیے وہ سفید داڑھی مونچھ لگوا لیتے تو ایک دم بڈھے رِشی لگنے لگتے۔ بڑی بڑی کالی اکڑباز مونچھیں لگاتے ہی ’مان اپمان‘ ناٹک کے لکشمی دھر بن جاتے۔ داڑھی مونچھیں لگوا کر نئے روپ اپنانے کے اُس جادوئی فن کو میں تجسس سے دیکھا کرتا۔ بال گندھرو کے سٹائل کو بھی بڑی باریکیوں کے ساتھ دیکھتا۔ کبھی کبھار چوری چھپے گنپت راؤ بوڈس کی طرح میں بھی مونچھیں لگا کر دیکھ لیا کرتا۔ اس کے لیے میک اَپ آرٹسٹ ماسٹر کی دو چار بار ڈانٹ بھی کھاتا تھا۔ اُن دنوں نئے ناٹک کے لیے تیار کیے جانے والے متنوع منظروں کے پردے، سین بدلتے ہی پیچھے کا پردہ بدلنے کا ہنر، تعلیم ماسٹر کی تعلیم کا طریقۂ کار وغیرہ، سبھی باتوں کا میں نے بالکل نزدیک سے معائنہ کیا۔

کمپنی بڑودہ آ گئی۔ بڑودہ نریش (راجہ) سیاجی راؤ گیکواڑ سے گندھرو ناٹک کمپنی کو سالانہ گرانٹ ملتی تھی۔ اپنے اشتہار میں کمپنی ’شریمنت سیاجی راؤ مہاراج، بڑودہ کی خاص پشت پناہی حاصل!‘ ایسا خصوصی طور پر لگایا کرتی تھی۔ بڑودہ کے ’وانکانیر‘ تھیٹر میں صرف مہاراج اور اُن کے خاندان کے افراد کے لیے گندھرو ناٹک منڈلی اپنے ناٹکوں کے خاص مظاہرے کیا کرتی تھی۔ اُن ناٹکوں کے لیے عام لوگوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ کے بیچوں بیچ ایک موٹا پردہ کھڑا کیا جاتا تھا۔ اُس کے ایک طرف مہاراج اور راج خاندان کے دیگر مرد افراد اور دوسری طرف جالی دار پردے کے پیچھے مہارانی اور راج خاندان کی دیگر عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ داسیاں بھی ناٹک دیکھنے آتیں اور ناٹک میں اچھا رنگ آنے پر سامنے والا جالی کا پردہ کھسکا کر مزے میں ناٹک دیکھا کرتی تھیں۔ مہاراج کے لیے دربار سے ایک خاص ملائم صوفہ لایا جاتا۔ ایک بار ناٹک شروع ہونے سے پہلے میں نے چوری سے اُس صوفے پر بیٹھ کے دیکھ لیا تھا۔ صوفہ بہت ہی نرم تھا۔ کسی نے بتایا تھا کہ اُس میں پروں کے گدے لگائے گئے ہیں۔ مہاراج کے لیے خاص روپ میں دربار سے لائے جانے والے اُس صوفے کے پاس ہی ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی۔ ناٹک کا کوئی گیت یا بند پسند آ گیا، تب ناظرین میں سے کسی کو بھی تالیاں بجا کر داد دینے کی اجازت نہ ہوتی۔ پورے تھیٹر میں مرگھٹ جیسی شانتی چھائی رہتی۔ ایک دم سناٹا! لیکن مہاراج کو کوئی بند پسند آتا تو وہ سامنے والی اُس گھنٹی کا بٹن دبا دیتے۔ گھنٹی کی آواز وِنگ میں سنائی دیتی۔ اُسے سنتے ہی گائیک اداکار اُسی گیت کو پھر سے گاتا۔ بڑودہ کے لیے کیے جانے والے ناٹکوں کا دستور ایسا عجیب و غریب تھا۔

ہمارے بڑودہ قیام کے وقت مہاراج نے فرمائش بھیجی کہ اُن کی انّا صاحب کرِلوسکر کا ’شاکنتل‘ ناٹک دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ اُس ناٹک کو وہ پورا دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اُس میں سے کوئی حصہ کاٹا نہ جائے۔ ’شاردا‘، ’مرِچھ کٹِک‘ وغیرہ مشہور ناٹکوں کے لکھاری خود بہت ہی سخت نظم و ضبط کے تعلیم ماسٹر گووند بِلاس دیول کو اِس ناٹک کو ڈائریکٹ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ جلدی جلدی تعلیم شروع کی گئی۔ کمپنی کے مالک شری گنپت راؤ بوڈس نے اِس ناٹک میں مجھے شکنتلا کی سَکھی پری یامدا کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس سے پہلے میں رقص اور داسی کی کئی چھوٹے چھوٹے کردار کر چکا تھا، لہٰذا پریمدا کا کردار کرنے کا موقع ملے گا، اُس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ مکالمہ (ڈائیلاگ) بولنے کی تعلیم گنپت راؤ بوڈس خود دیتے تھے۔ تعلیم کا اُن کا اپنا سٹائل کچھ نرالا ہی تھا۔ بوڈس جی کو کسی وید نے ہدایت دی تھی کہ آپ ہر روز کچھ دیر دھوپ میں سیر کرنے جائیے، تو وہ دھوپ میں چہل قدمی کرنے اور میں وانکانیر تھیٹر کی چھاؤں چھاؤں میں اُن کے ساتھ ٹہلتے ہوے زور زور سے اپنے ڈائیلاگ بولتا تھا۔ ڈائیلاگ کافی زور سے بولنے پڑتے تھے کیونکہ اُن دنوں تھیٹر میں مائیکروفون اور لاؤڈسپیکر کی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔

ایک دن اچانک ہی ہماری تعلیم بند ہو گئی۔ میں نے چپ چاپ وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ بال گندھرو کے ساتھ کام کرتے وقت میں بہت ہی چھوٹا لگوں گا، اس لیے پریمدا کا میرا کردار رد کر دیا گیا ہے۔ اُس کی جگہ پر مجھے دُشینت مہاراج کی وتیروتی نامی داسی کا کردار دیا جا چکا ہے۔ اُس میں مکالمہ بہت ہی معمولی تھا۔ جیسے، ’’مہاراج، اِدھر سے آیا جائے، مہاراج اُدھر سے جایا جائے۔‘‘ ایک اچھا کردار ہاتھ سے جاتا رہا، اس کا مجھے کافی رنج رہا۔

کمپنی کے سبھی لوگ بڑی بھاگ دوڑ میں تھے۔ کوئی اپنے مکالمے یاد کر رہا تھا، کوئی گیت۔ ایک طرف مختلف منظروں کے پردے رنگے جا رہے تھے۔ دوسری طرف ڈریسنگ روم کے لوگوں کی دوڑ دھوپ چل رہی تھی۔ بڑا شورسرابہ تھا۔ ایک پاگل خانے کا روپ تھا گندھرو ناٹک کمپنی کا!

آخر وہ دن آ گیا جب ’شاکنتل‘ کو سٹیج ہونا تھا۔ اس میں دُشینت مہاراج کا کردار گووند راؤ ٹینبے کر رہے تھے۔ تیاری کے لیے وقت کم ہونے کی وجہ جلدبازی میں مکالمے کسی کو اچھی طرح یاد نہیں ہوے تھے۔ ابھی لوگ پراپمپڑ کے بھروسے ناٹک کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔ دونوں وِنگوں میں دو اور پردے کے پیچھے ایک، اس طرح تین تین پراپمپڑ ناٹک کو بڑھائے لیے جا رہے تھے۔ اس ناٹک میں گیتوں کی بھرمار تھی۔ شکنتلا کے گیتوں کے علاوہ دُشینت کے گیت بھی کافی تھے۔ وہ سارے گیت گووند راؤ کو یاد نہیں ہوے تھے۔

دروسا رِشی کے شراپ (بددعا) کی وجہ سے دُشینت کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ بعد میں اُن کی طرف سے شکنتلا کو دی ہوئی انگوٹھی ایک مچھوے کو مل جاتی ہے۔ اُس انگوٹھی کو لے کر وہ مہاراج دشینت کے یہاں جاتا ہے۔ مہاراج کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ وہ بہت ہی دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔
اس حوالے میں ہجر کا مارا دُشینت ایک کے بعد ایک پانچ چھ گیت گاتا ہے۔ اسی شکستہ حالت میں دشینت شکنتلا کی تصویر بناتا ہے۔ اس تصویر کو مہاراج کے سامنے تھامے بےچاری وتیروتی (یعنی میں) کھڑی رہتی ہے۔ مجھے سخت ہدایت دی گئی تھی کہ تصویر کو ایسے تھامے رہنا کہ ناظرین کو وہ کبھی دکھائی نہ دے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ اُس تصویر میں شکنتلا کی تصویر تھی ہی نہیں۔ اُس کی جگہ اُس سیاق و سباق میں دشینت کے گائے جانے والے بندوں کی پنکتیاں ( مصرعے) موٹے حرفوں میں لکھی ہوئی تھیں۔

گووند راؤ ٹینبے ہمیشہ عینک لگایا کرتے تھے۔ عینک کے بغیر بھی انھیں اُن مصرعوں کو پڑھنا آسان ہو، ایسے انداز سے مناسب فاصلے پر انھوں نے وہ لے کر مجھے کھڑا کیا تھا۔ گووندراؤ ایک ایک بند لمبے الاپ اور تانیں لے کر دل و جان سے گانے لگے اور اِدھر اس طرح کا گانا سنائی دیتے ہی جھپکی لینے کی میری پُرانی عادت حاوی ہو گئی۔ انھوں نے لپک کر تصویر آگے کھینچ لی۔۔۔ میں جاگ گیا۔ انھوں نے مجھ پر اپنی غصے بھری نظر ڈالی اور پھر اُسی شکستہ آواز میں ایسے گانے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُس کے بعد وہ سارا داخلہ منظم ڈھنگ سے ختم ہو گیا۔

اسی وقت کمپنی میں میرے چھ مہینے پورے ہو چکنے کی وجہ سے مجھے تنخواہ ملنی شروع ہو گئی۔ تب تک بِنا تنخواہ کام کرنے والا میں کمپنی کا مالک تھا، اب نوکر بن گیا۔ میری تنخواہ تھی فی مہینہ تین روپے۔

ہم بڑودہ میں تھے۔ انھی دنوں کولھاپور کے بابا دیول اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے وہاں آئے۔ ان کا لڑکا بڑودہ میں انجینئر تھا۔ باپو کے کہنے پر وہ میرا حال چال پوچھنے کے لیے گندھرو منڈلی کی رہائش گاہ پر آئے۔ خیر خبر جان لینے کے بعد، پتا نہیں کیوں، شاید انھیں سنگیت سے بہت پیار تھا اِس لیے، یا اُن دنوں ناٹکوں میں سنگیت کو بھاری اہمیت حاصل تھی اس وجہ سے، انھوں نے باباجی سے بڑی عقیدت سے پوچھا:

’’کیا کرتا ہے ہمارا شانتارام؟ کیسا گاتا ہے وہ؟‘‘

میں وہیں کھڑا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کیا پوچھا آپ نے؟ شانتارام؟ اور کیسا گاتا ہے؟ سنیے، آپ سنیے اُس کا گانا!‘‘ کہہ کر انھوں نے میرا مخول اڑایا۔ اِس طرح کھِلّی اڑائی جانے سے مجھے بڑی کھیج آئی(جھنجھلاہٹ ہوئی)۔

بابا دیول گانا سننے کے لیے بیٹھ گئے پنڈھرپورکرباباجی نے ہارمونیم سنبھالا۔ شروع میں سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا، کہا۔ اُس کے بعد سُر کی تمام باریکیاں تمام اتارچڑھاؤ کے ساتھ سنائے اور آخر میں گووند کی طرف سے گائی جانے والی ٹھمری ’دیکھو ری نہ مانے شیام‘ بھی گا کر سنا دی۔
گانا ختم ہوا۔ میں نے باباجی کی طرف دیکھا۔ باباجی ششدر ہو کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بولے، ’’ارے شانتارام، آج تجھے ہو کیا گیا ہے؟‘‘

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’کیوں؟ کیا مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی؟‘‘

’’بالکل نہیں۔ ارے آج تو تم شروع سے آخر تک سر میں گاتے رہے، کہیں پر ایک بھی غلطی نہیں کی۔ کمال ہو گیا!‘‘

میں نے دیول بابا کی طرف دیکھا۔ انھوں نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ وہ مطمئن ہو گئے تھے۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ لیکن میری جیون مین وہ سنہری دن ایک ہی بار آیا۔ سر میں گانے کا وہ جیون کا پہلا اور آخری دن۔

لگ بھگ انھی دنوں ایک مہان شخص سے میرا رابطہ ہوا۔ یہ مہان شخص تھے مشہور ناٹک کار شری رام گینش گڈکری۔ کولھاپور میں میں نے اُن کا لکھا ’پریم سنیاس‘ ناٹک دیکھا تھا۔ اس میں جن سماجی مسائل کو ابھارا گیا تھا ان کا اندازہ کر پانا میری عقل کے باہر کی بات تھی۔ ایک تو میں چھوٹا تھا، پھر چونکہ وہ ناٹک دکھی تھا، مجھے خاص بھایا بھی نہیں تھا۔ پھر بھی اُس کے بھلکّڑ کردار ’گوکُل‘ پر میں نہایت خوش تھا۔ بڑا مزاحیہ کردار تھا وہ۔ اس کے سٹیج پر آتے ہی میں ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔

گڈکری گروجی گندھرو ناٹک کمپنی کے لیے ایک نیا ناٹک لکھنے کے لیے کمپنی کی رہائش گاہ پر آئے تھے۔ اور کچھ دن وہیں رہنے والے تھے۔ ایسے کسی بڑے مہمان کی آمد پر کمپنی کی طرف سے ہم میں سے کسی ایک چھوکرے کو ان کی سیوا میں لگا دیا جاتا تھا۔ چونکہ میں انگریزی تیسری تک پڑھا تھا، گڈکری نے مجھے ہی چُنا۔ انھوں نے کہا، ’’شانتارام، آج سے تم میرے سیکرٹری۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’سیکرٹری؟ یعنی مجھے کیا کیا کام کرنے ہوں گے؟‘‘

’’ارے کچھ خا ص نہیں۔ میرے اِس صندوق میں ایک مسودے کے صفحے رکھے ہیں۔ تمھیں انھیں پڑھ کر ٹھیک ترتیب اور سلسلے سے لگانا ہو گا۔ بس۔‘‘
میں نے ان کاغذوں کو ٹھیک ترتیب سے لگا دیا۔ وہ ناٹک کون سا تھا، آج مجھے ٹھیک یاد نہیں۔ لیکن اُس کا ہیرو نشئی تھا۔ ناٹک ادھورا تھا۔ اِس کام کے علاوہ دھوبی کے یہاں سے ان کے کپڑے لے آنا، ان کے لیے چائے بیڑی وغیرہ لا کر دینا، ان کی چٹھیاں لیٹربکس میں ڈالنا وغیرہ چھوٹے چھوٹے کام بھی میں انتہائی مستعدی سے کیا کرتا تھا۔

چند دنوں میں ہی ان کے من میں میرے لیے ممتا جاگی۔ شاید قریبی رابطے میں آئے شخص سے اپنی دلی فطرت کے مطابق محبت کرنا ان کی فطرت ہو گا۔ میرے سرنیم ونکودرے کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے، ’’شانتارام، یہ خاندانی نام کہاں سے پیدا کیا بھائی؟ چلو اسے بدل دیتے ہیں۔ کولھاپور یا کچھ ایسا ہی نام کیسا رہے گا؟‘‘ میں ’’بس، جیسا آپ چاہیں،‘‘ کہہ کر بات ٹال دیتا۔

دورہ کرتے کرتے کمپنی بمبئی آ گئی۔ اس وقت کمپنی کے ناٹک ایلفنٹسن تھیٹر میں ہوا کرتے تھے۔ گندھرو ناٹک کمپنی میں اتنے دنوں سے شامل ہونے پر بھی تھیٹر میں کسی کردار میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مجھے کبھی ملتا ہی نہیں تھا۔ سنگیت کے معاملے میں میرا پہلو ایک دم لنگڑا تھا۔ عمر میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے بڑے نثری کام بھی مجھے نہیں دیے جاتے تھے۔ لیکن اتنے دن کمپنی میں کام کرتے ہوے میں نے کچھ باتیں تیزنظری سے نوٹ کر لی تھیں۔ کوئی گائیک اداکار تین چار سُروں میں اٹکنے جیسا بکری الاپ کافی لمبا کھینچ لیتا تو شائقین تالیوں کی بوچھاڑ کرتے۔ یہ تالیاں گائیک کے سُروں میں مہارت کے لیے ہوتی تھیں یا گائیک کو سانس لینے کی راحت دلانے کے لیے، پتا نہیں! اسی طرح نثری اداکار ایک ہی سانس میں کوئی لمبا مکالمہ اونچی آواز میں پورا کر لیتے، تب بھی تالیاں بجتی ہیں، میں نے غورکیا۔ لہٰذا میں نے بھی طے کر لیا کہ جو بھی ہو، اپنے کام کے لیے بھی اِسی طرح کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کرا کر ہی مانوں گا۔ من میں یہ جوت جاگ اٹھی۔ اس کے لیے میں بےتاب ہونے لگا۔ ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج تو ’تالیاں‘ لے کر رہوں گا۔

اُس رات ’سُبھدرا‘ ناٹک ہونے والا تھا۔ اُس ناٹک میں رُکمنی کی داسی کا کردار مجھے ملا تھا۔ میں شروع سے ہی تیاری میں تھا۔ میرا داخلہ شروع ہو گیا۔ میرے مکالمے میں جملے تھے: ’’دیّا ری! سرکار اِدھر ہی تشریف لا رہے ہیں۔ اب کیا کروں؟ انھیں جگاؤں تو بھی مشکل، نہ جگاؤں تو بھی مشکل۔ بائی صاحب، بائی صاحب! یہ تو جاگنے سے رہیں۔ کیا کیا جائے۔

میں نے پہلا جملہ ہی ایک دم اونچی آواز میں شروع کیا۔ اگلا جملہ اُس سے بھی اونچی آوازمیں بول دیا، اس سے آگے کا اور بھی اونچی آواز میں، بس میں یہی کرتا گیا اور آخری جملہ تو شاید میں نے گلا پھاڑ کر، چلّا کر کہا۔ اور تبھی آڈیٹوریم تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں گونج اٹھا۔ ایک طرف ونگ میں انٹری کی تیاری میں شری کرشن کے کردار میں کھڑے گنپت راؤ بوڈس میری طرف ساکت دیکھتے ہی رہ گئے۔ دوسرے ونگ میں کام کر رہے سبھی لوگ یہ دیکھنے کے لیے حیرت میں جمع ہو گئے کہ اِس اینٹری میں آخر اتنی تالیاں کس بات پر ملی ہیں۔ سٹیج پر گہری نیند میں سونے کی اداکاری کر رہی رُکمنی بھی ذرا سا سر اٹھا کر اَدھ مچی آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی۔ اُس کی نظر میں بھی حیرانی تھی۔ میں توخوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ میرا کام ہو گیا تھا، بات بن گئی تھی۔ میں کسی فتحیاب وِیر، نہیں نہیں، ہیروئن کی طرح پلّو کمر پر کس کر کسی طرف بغیر دیکھے سب کے سامنے سے اکڑ کے ساتھ سٹیج پر سے ونگ میں چلا گیا۔

گاؤں گاؤں ناٹکوں کو سٹیج کرتے کرتے ہم لوگ واپس پونا پہنچ گئے۔ اب کمپنی میں داخل ہوے مجھے ایک سال ہو چکا تھا۔ ناٹکوں کو لگاتار سٹیج کرنے اور سفر کی وجہ سے سبھی لوگ تھکے ماندے تھے۔ بال گندھرو کو اپنے گلے کے بارے میں بھی کچھ شکایتیں رہنے لگی تھیں۔ ان کی آواز کو کم سے کم کچھ دنوں کے لیے آرام کی ضرورت تھی۔ گنپت راؤ کی آواز تو ہمیشہ خراب ہی رہتی تھی۔ اب اُن کی شکایت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ مالکوں نے اسی لیے ایک ماہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گاؤں جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ میں نے بھی دوسرے ہی دن کولھاپور جانے کا فیصلہ کیا۔ گڈکری جی کو میں نے بتا بھی دیا۔ ان کا مکان پونا میں ہی تھا۔ اُس دن انھوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔

شام ہوتے ہی میں ان کے یہاں گیا۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر انھیں خوشی ہوتی دکھائی دی۔ میں کچھ جھینپ سا گیا۔ اتنے بڑے ناٹک کار، شاعر، لکھاری، اور میرے جیسا بارہ سال کی عمر کا ننھا سا لڑکا اُن کا مہمان! تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یعنی وہ ہی زیادہ تر بولتے رہے اور میں صرف ’ہاں‘ ’ناں‘ کرتا رہا۔ ان کی ماں نے کھانا تیار ہونے کی اطلاع دی۔ ہم دونوں کھانے پر بیٹھ گئے۔ گڈکری گروجی نے کہا، ’’چلو کرو شروع۔‘‘
میرا ہاتھ تھالی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک رک گیا۔ کٹوری میں تری دار مٹن رکھا ہوا تھا۔

’’کیوں بھائی، رک کیوں گئے؟ کھاؤ نا، شرماؤ نہیں۔‘‘
میں نے کچھ رُک رُک کر جواب دیا، ’’گروجی، میں مٹن کھاتا نہیں۔‘‘
’’مٹن نہیں کھاتے؟ تو اب کیا ہو گا؟‘‘
’’میں صرف چپاتی، چاول، مُٹھا، ایسا ہی کچھ کھا لوں گا۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’بھئی واہ! یہ تو تم نے خوب کہی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔‘‘ انھوں نے اپنی ماں کو کہا، ’’ماں، اِس کے لیے کچھ میٹھا لاؤ نا!‘‘

ان کی ماں پھرتی سے تھالی کٹوری لے کر باہر چلی گئیں۔ گروجی کھانا کھاتے کھاتے رک گئے۔ لگ رہا تھا انھیں بہت ہی افسوس ہوا۔ بولے:
’’بھئی، میں نے تمھیں کھانے کے لیے بُلایا اور لگتا ہے اب تمھیں بھوکا ہی رہنا پڑے گا! لیکن تم بھی کیسے عجیب آدمی ہو! کیا تم نے کبھی مٹن کھایا ہی نہیں؟‘‘

’’جب میں چھوٹا سا تھا تب کبھی کبھار مٹن کھا لیا کرتا تھا۔ ہمارے والد پکّے سبزی خور اور ماں مراٹھی۔ اِس لیے ہم بچوں کی پسند جان کر ماں کبھی کبھی چپکے سے مٹن پکا کر ہمیں کھلاتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھر کے سامنے رہنے والے ایک امیر کسان نے فصل کاٹ لانے کی خوشی میں رواج کے مطابق بکرا کاٹ کر محلے کے سب لوگوں کو مٹن کی دعوت دینا طے کیا۔ دروازے کے سامنے ہی بکرا کاٹا گیا۔ اُسے کاٹنے سے لے کر اس کی چمڑی چھیل چھیل کر الگ کرنے، مٹن کو کاٹ کاٹ کر اس کے باریک ٹکڑے بنانے تک کا سارا سلسلہ میں نے بہت نزدیک سے دیکھا۔ بعد میں کھاتے وقت وہی ساری باتیں آنکھوں کے سامنے دکھائی دیں اور مجھے بھڑبھڑا کر اُلٹی ہو گئی۔ اُس دن سے مجھ میں مٹن کی ایسی گِھن بیٹھی کہ تب سے میں نے مٹن، مچھلی وغیرہ کھانا ایک دم چھوڑ دیا۔‘‘

’’ارے، یہ بات تھی تو مجھے پہلے ہی بتا دیتے۔ میں ماں سے کہہ دیتا کہ ہمارے یہاں بٹو بمن کھانے کے لیے آنے والا ہے۔‘‘

تبھی ان کی ماتاجی واپس آ گئیں۔ انھوں نے پڑوسن کے گھر سے لایا گیا مربہ تھالی میں پیش کیا اور تھالی میں تڑکا لگی دال۔ میں نے ڈٹ کر کھانا کھایا۔ گڈکری جی بھی اس سے مطمئن ہوے۔ لکھاری ہونے کے ناتے ان کی بڑائی کو تو میں آگے چل کر بڑا ہونے کے بعد ہی سمجھ سکا، لیکن مجھ جیسے ایک معمولی لڑکے کی آؤبھگت میں دل کی جو عظمت دکھائی، اس سے میں ان کے اندر کے آدمی کی بڑائی کا اُسی وقت اندازہ کرنے لگا تھا۔

دوسرے دن میں پونا سے چل دیا۔ گھر پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ماں کو بےانتہا خوشی ہوئی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میں نے سب سے پہلے اپنی تنخواہ سے بچے نو روپے ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور ان کے قدموں پر ماتھا ٹیکا۔ انھوں نے میرے سر سے کتھئی رنگ کی فر کی ٹوپی اتار لی۔ اُس کے ساتھ اندر باندھ کر رکھے میرے لمبے گھنگھریالے بال گردن، کندھوں تک جھومنے لگے۔ میرا وہ روپ شاید ماں کو بہت پسند آیا۔ مجھے چومتے ہوے بولیں:
’’شانتا !کتنا پیارا پیارا لگ رہا ہے رے تو! ٹھہر تجھ پر ابھی مرچیاں اُتار پھینک کر واری واری جاتی ہوں، تاکہ تجھے کسی کی نظر نہ لگ جائے۔‘‘

ماں جلدی سے اندر گئیں۔ دونوں مٹھیوں میں نمک، سرسوں اور مرچیاں لے کر آئیں اور نظر اُتارنے کے انداز سے اس سامگری کو میرے پر وارتی گئیں۔ بعد میں وہ ساری چیزیں اپنے جلتے چولھے میں جھونک دیں۔ چولھے کے نیچے سے راکھ انگلی پر لے کر اُس سے میرا تلک کیا اور کہنے لگیں:
’’دیکھانا، کتنی تاڑ پھاڑ پھوٹ رہی ہیں مرچیاں! تمھیں تو بچپن سے ہی نظر لگ جایا کرتی تھی یک دم!‘‘

نہانے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں دھوپ میں بال سکھانے بیٹھا تھا، تبھی دکان سے باپو آ گئے۔ آج تو ماں نے میری تھالی باپو کے ساتھ ساتھ پروسی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کھانا پورا ہو گیا۔ باپو ہمیشہ کی طرح کھانے کے بعد کچھ آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ ان کے پائتنی کی طرف میں بھی لیٹ گیا۔ باپو نے پوچھا، ’’تو شانتارام، سال بھر میں کیا کیا سیکھ کر آئے ہو، بتاؤ بھی؟‘‘

میں باپو کے اِس سوال کا جواب کھوجنے لگا۔ واقعی سال بھر میں کیا کیا سیکھ پایا ہوں میں؟ تھوڑا سا ناچ، دو چار چھوٹے موٹے کام، گائیکی کے نام پر تو پلے کچھ بھی نہیں! میری آنکھوں سے ساون بھادوں بہنے لگے۔ جواب دینے کے لیے منھ سے لفظ نہیں نکل پا رہا تھا۔ مجھے چپ بیٹھا دیکھ کر باپو نے یہ جاننے کے لیے سر اٹھا کر دیکھا کہ بات کیا ہے۔ میری روتی صورت دیکھ کر انھوں نے کروٹ بدل کر میری طرف سے منھ پھیر لیا اور تھوڑی دیر بعد ہی اٹھ کر وہ دکان چلے گئے۔

میں بےچین ہو کر چھٹپٹا رہا تھا۔ ’’شانتارام، کیا کیا سیکھ کر آئے ہو سال بھر میں؟‘‘ یہی سوال مجھے ستا رہا تھا۔ میں اپنے آپ سے یہی سوال کرتا رہا۔ اسی میں پوری دوپہر ڈھل گئی۔ شام ہو گئی۔ رات آ گئی۔ رات کا کھانا بھی میں ٹھیک سے نہیں کھا پایا۔ ساری رات بےتابی میں گزار دی۔ من کی گہری تہہ میں کہیں گہرے خلا کا اندازہ کر رہا تھا میں۔

دوسرے دن سویرے کچھ طے کر کے ہی میں دکان پر گیا۔ باپو کے سامنے کھڑا ہو میں نے کہا، ’’باپو، ابھی اسی وقت کسی نائی کو بُلوائیے گا۔‘‘
’’نائی کو؟ کس لیے؟‘‘

’’مجھے اپنے یہ سارے بال اُسترے سے صاف کرانے ہیں۔ ایک دم پورا سر منڈوانا ہے مجھے۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘
’’مجھے نہیں جانا ہے پھر سے کسی ناٹک کمپنی میں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو شانتارام؟ ناٹک کمپنی میں نہیں جانا ہے؟ لیکن کیوں؟‘‘
’’پچھلے سال بھر میں، میں وہاں گانا وانا کچھ نہیں سیکھ پایا ہوں!‘‘

’’ارے بیٹے، گانا کیا ایک سال میں آ جاتا ہے؟ اس کے لیے تو سالوں سال ریاض کرنا پڑتا ہے۔ آ جائے گا، تمھیں بھی گانا آ جائے گا دھیرے دھیرے۔‘‘

’’نہیں، میں کبھی گانا نہیں گا سکوں گا! گائیکی میں میری کوئی ترقی نہیں ہے۔ معمولی داسی کے کردار کرنے پڑتے ہیں وہاں۔ بڑا ہو جاؤں گا تو جاؤں گا۔ تب بھی زیادہ سے زیادہ نثری مکالمے ہی مجھے ملیں گے۔ ایسے کاموں کا وہاں کوئی مول نہیں ہوتا، کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہاں میں صرف ناچتا ہوں ساڑھی پہن کر، کسی ناچ والے لونڈے کی طرح!‘‘

’’ارے بابا، اِس طرح آپے سے باہر ہو جانے سے کام کیسے چلے گا؟ ابھی تو تمھیں ایک ماہ کی چھٹی ملی ہے۔ جلدی کیا ہے؟ جو کرنا ہو آرام سے سوچنے کے بعد طے کریں گے۔‘‘

میرا ضدی رویہ پھر اُچھلا۔ میں نے بغاوت کی۔ اپنے لمبے گھنگھریالے بالوں کو ہاتھوں میں زور سے بھینچ کر انھیں کھینچتے ہوے میں نے کہا، ’’باپو، اِن لمبے بالوں کی وجہ سے ہی مجھے پھر سے ناٹک میں جانے کی چاہ ہو سکتی ہے۔ آپ نائی کو بلا بھیجیے، ابھی، اسی وقت!‘‘

باپو نے پھر ایک بار میری ضد مان لی۔ نائی آیا۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ نائی نے اُسترے سے میرا سر اچھی طرح سے مونڈ دیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی دھارا بہہ نکلی تھی۔ نائی کے استرے کی وجہ سے نیچے گر رہے میرے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ہی ناٹکوں کے لیے میرا موہ بھی جڑوں سے اکھڑ کر نیچے گر رہا تھا۔ نائی نے سارے بال مونڈ کر صرف ایک چٹیا سر پر رکھ چھوڑی تھی۔

دکان سے گھر لوٹتے وقت راستے میں میری نظر اَکوّ ماسی کی دکان کی طرف گئی۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ وہاں کسی اور چیز کی دکان لگی تھی۔ اس دکان میں بیٹھے شخص سے میں نے پوچھا، ’’جی، یہاں اَکّو ماسی کی دہی کی دکان تھی نا پہلے؟ اب وہ کہاں ہے؟ اَکّو ماسی کہاں ہے؟‘‘
اس آدمی نے بتایا، ’’اَکّو گوالن مر گئی۔‘‘

اَکّو ماسی مر گئی، یہ لفظ سنتے ہی میں سسک سسک کر رونے لگا۔ ناٹک کمپنی میں جاتے وقت میں جان کر اس سے ملنے کے لیے گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے میری ہتھیلی پر دہی ڈالا تھا اور نم، بھرّائی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوے بولی تھی، ’’بڑا ہو گیا، اچھا نام کما کر آئیو۔‘‘ یہ اَکّو ماسی کا آخری آشیرواد تھا جس کے ساتھ اُس نے مجھے رخصت کیا تھا۔ اس کی اِس چاہت کی وجہ سے میں خوشحال واپس لوٹ آیا تھا۔ پر جس نے میری ہتھیلی دہی سے بھر دی تھی وہ ایسے لمبے سفر پر چلی گئی جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ اِس ایک سال میں میں نے کیا کھویا، کیا پایا، اِس کا لیکھا جوکھا جو ہو، ہوتا رہے، لیکن آج اَکّو ماسی کی دکان کے سامنے سر منڈوا کر کھڑا ہونے پر میں نے اندازہ لگایا کہ میں کئی چیزوں کو کھو چکا ہوں۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
فکشن

قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

[blockquote style=”3″]
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔

’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘

’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘

ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔

اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘

ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘

ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔

کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔

’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘

اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔

’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘

حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘

گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘

’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘

گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔

’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘

یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔

ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔

صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔

اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔

وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘

ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟

میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔

Image: Tyrone Hart
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]
میں چار یا پانچ سال کا بچہ تھا، شاید تب کی بات ہے۔ ہم لوگ کولھاپور سے کہیں دور گاؤں میں رہتے تھے۔ میں، دادا (مجھ سے بڑا بھائی)، ماں اور باپو، ڈیڑھ سال کا چھوٹا بھائی کیشو۔ میں اور دادا گھر کی دہلیز پر بیٹھے آنگن میں جو کچھ ہو رہا تھا، دیکھ رہے تھے۔

آنگن میں ایک اجنبی بابا آئے تھے۔ انھوں نے ایک بڑی سی ٹکٹھی (سٹینڈ) پر ایک بھورے رنگ کی لکڑی کی ایک پیٹی جمائی تھی۔ ٹکٹھی بھی لکڑی کی، پیٹی بھی لکڑی کی۔ پیٹی پر سے ہوتا ہوا ایک کالا پردہ ڈالا تھا۔ پہلے باپو گھر سے باہر آئے۔ انھوں نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا، کندھے پر اَپرنا (انگوچھا) لیے ہوئے تھے۔ آنگن میں آتے ہی انھوں نے ماں کو پکارا۔ ماں بھی جلدی جلدی باہر آگئیں۔ ماں نے بہت اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ماں اور باپو اس چوکھٹی پیٹی کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

ماجرا کیا ہے؟کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس پیٹی کی طرف انگلی دِکھا کر میں نے ماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’آئی (ماں)، وہ کیا چیز ہے؟آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
جواب باپو نے دیا، ’’یہ فوٹو اتارنے کی مشین ہے، کیا سمجھے؟‘‘
میں گھبرایا سا دیکھ رہا تھا۔ پھر پوچھ بیٹھا، ’’تو آپ یہاں کھڑے کیوں ہیں؟‘‘
’’ارے، یہ بابا ہیں نا، یہ ہماری فوٹو اتار رہے ہیں۔ چلو ہٹو، ایک طرف ہو جاؤ۔ ‘‘
فوٹو کا نام لیتے ہی میں اور دادا دونوں ضد کر بیٹھے۔ ہم بھی فوٹو میں آئیں گے!
کاشی ناتھ دادا اس وقت چھ سات سال کا ہو گا۔ آئی اور باپو نے باربار ہمیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ہم بھلا کہاں ماننے والے تھے۔ بس گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پوچھیے نہیں! مٹی میں لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹکنے لگے۔ آنگن میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔

آخرکار اس فوٹو والے بابا نے کہا، ’’راجارام باپو، ان دونوں بچوں کو اپنے اغل بغل میں کھڑا ہونے دیجیے۔ کیا فرق پڑنے والا ہے!‘‘ ہم دونوں کی باچھیں کھِل گئیں۔ کودتے پھاندتے اندر گئے، ٹوپی پہنی، تلک لگایا اور روتی شکل کو ہنس مکھ بنا کر باہر آئے۔

فوٹو والے بابا اس کالے پردے کے اندر گھسے، باہر آئے اور بولے، ’’دیکھیے، ہم ایک… دو… تین… کہیں گے۔ ہلنا ڈولنا نہیں۔ ایک دم بت جیسے کھڑے رہنا۔‘‘
ہم سب لوگ سانس روکے کھڑے رہے۔ بابا نے اس بھوری پیٹی کے سامنے لگا ایک گول ڈھکنا اٹھایا اور زور سے بولے، ’’ایک…دو… اور یہ تین! ‘‘ وہ گول ڈھکنا اس نے پھر سے اس پیٹی پر لگا دیا۔ بس اتر آئی فوٹو۔

اس کے دو تین دن بعد میں نے آئی اور باپو کو فوٹو دیکھتے ہوئے دیکھا۔ میں تو کھیلنے کی دھن میں فوٹو والی بات ہی بھول گیا تھا۔ بیتاب، میں بھی پیچھے سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ فوٹو تو صرف آئی اور باپو کی ہی نکلی تھی، اور وہ بھی صرف کمر تک ہی۔ ہم دونوں بھائیوں کا فوٹو میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ پھر رونا پیٹنا ہوا۔

آخر باپو نے سمجھایا، ’’ ارے بابا، بات یہ ہے کہ ابھی تم لوگ چھوٹے سے ہو، اسی لیے فوٹو میں نہیں آئے ہو۔ آپ لوگ ہمارے جیسے اونچے ہو جاؤ گے تو آپ کی بھی فوٹو برابر نکلے گی۔ ‘‘

باپو کی بات ہماری سمجھ میں آ گئی۔ ان کی اس بات پر پورا بھروسا رکھ کر میں بیتابی سے اونچا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

میری بچپن کی یادیں فوٹو نکالنے کے اس زمانے کے بھی سیدھے سادے طریقے کے جیسی ہی ہیں! وقت کے ساتھ کچھ دھندلی ہو گئی ہیں، گھٹاؤں سے گھر گئی ہیں، تو کچھ ایک دم دھنک جیسی ست رنگی ہیں۔ کچھ تو بس صرف نیگیٹو جیسی ہیں، جس کی چھاپ کچھ وقت بعد ہی یادداشت پر اٹھتی ہے، اور کچھ یادیں تو پتا نہیں کہاں کھو گئی ہیں، بکھر گئی ہیں۔ ٹھیک اس فوٹو کی طرح جو اس فوٹوگرافر نے مجھے اور دادا کو چھوڑ کر نکالی تھی۔

لگاتار بہتی ہی جانے والی ندی کی دھارا کی مانند میرا جیون طوفانی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ ندی کی فطرت کی طرح ہی پورے جوش کے ساتھ کِل کِل کرتے آگے بڑھتے وقت کے ساتھ کہیں حسین ٹاپو بن گئے، کہیں خوفناک بھنور، تو کہیں بیچ دھارا میں اتھاہ ڈباؤ۔ جیون دھارا نے کبھی بڑے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، کبھی کائی اور گھاس جھکتے گئے۔ کبھی کبھی تو جیون اچانک ایسے ایسے موڑ سے گزرا کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے، آخر ان سب کا راستہ دکھانے والا کون ہے، کنٹرولر کون ہے؟اس جل دھارا کی اپنی تیز رفتار یا قسمت؟

فوٹو نکلنے کا یہ واقعہ تب پیش آیا جب ہم اس بڑے گھر کے ایک بڑے کمرے میں رہتے تھے۔ اب کچھ دھندلا سا یاد ہے، وہاں رہنے والے لوگ گاؤں گاؤں جا کر ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ میرے باپ راجارام باپو باباجی ونکوٹے کو وہ سب لوگ ’منیجر‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میرے باپو ان لوگوں کے خیال میں بہت اہم شخص تھے۔ یہ لوگ ’شاردا‘ نامی ایک ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ ناٹک میں میرا دادا شاردا کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کرتا تھا۔ ناٹک کا ایک سین آج بھی مجھے اچھی طرح یاد آتا ہے۔

شاردا کو شادی کے لیے پسند کرنے کے لیے کچھ لوگ آتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، ’’بیٹا، تم کہاں تک پڑھی ہو ؟‘‘شاردا اس سوال کا ٹھیک ڈھنگ سے جواب دیتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس کے چھوٹے بھائی سے بھی یہی سوال کرتے ہیں۔ تب دادا پیر کا انگوٹھا پکڑ، اسے ان لوگوں کے سامنے ترچھا ہلاتے ہوئے کہتا، ’’مجھے کُو…چھ بھی نہیں آتا۔ ‘‘ دادا کے اس پردرشن (مظاہرے) پر اور ’’کو…چھ (کچھ) بھی نہیں‘‘ کہنے کی ادا پر ناظرین ٹھہاکا مار کر ہنس پڑتے تھے۔ دادا کی جو پذیرائی ہوتی تھی اسے دیکھ کر میرے بھی من میں ناچار کچھ ویسا ہی کرنے کی خواہش جاگتی تھی۔

اس کے بعد، پتا نہیں کب، ہم لوگ کولھاپور آ گئے۔ آگے چل کر اس ناٹک کمپنی کا کیا بنا اور ہمارے باپو نے اسے کیوں چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا۔ کولھاپور میں جوشی راؤ کا گنپتی کا ایک مندر ہے۔ اس کے پیچھے والی ایک تنگ سی گلی میں ہم لوگ رہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ہماری ایک موسی (خالہ) کا ہمیشہ آناجانا رہتا تھا۔ ہم لوگ اسے’’مائی‘‘ کہا کرتے تھے۔ آئی اور مائی سگی بہنیں تھیں۔ ویسے مائی کا نام رادھا تھا لیکن چونکہ وہ آئی سے بڑی تھی، آئی اسے ’’اکاّ‘‘ کہہ کر پکارا کرتی تھی، میری ماں کا نام کملا تھا۔ مائی کے سارے بچے پیار میں لاڈ سے میری ماں کو ’’ننو‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

میرے نانا کولھاپور میں وکالت کرتے تھے۔ ہم لوگ انھیں بابا کہا کرتے تھے۔ ہر روز کچہری سے لوٹتے وقت وہ سبزی منڈی سے ساگ سبزی لے آیا کرتے۔ میں کبھی کبھی ان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ سبزی بیچنے والیوں کے ساتھ وہ بہت زیادہ بھاؤتاؤ کرتے۔ کئی بار تو خود ہی تھوڑی سی زیادہ سبزی ان سے چھین کر اپنے جھولے میں رکھ لیتے۔ نتیجہ یہ رہا کہ بابا کو بازار میں آتا دیکھتے ہی سبزی والیاں منھ پھیر لیتیں اور آپس میں ایک دوسری کو ہوشیار کر دیتیں:’’وکیل آیا ری، وکیل آیا!‘‘ بابا ہم بچوں سے بہت پیار کرتے۔ ہر روز شام کے کھانے کے بعد وہ ہمیں اچھی اچھی کہانیاں سناتے اور تھپک کر سلاتے۔ ان کا اصرار رہتا کہ بچوں کو رات آٹھ بجے سے پہلے ضرور ہی سو جانا چاہیے۔

کسی کے یہاں سے بابا کو کھانے کا دعوت نامہ آتا تو ہم شرارتی بچے ان کے واپس آنے کا بڑی بیتابی سے انتظار کیا کرتے۔ ان دنوں رواج تھا کہ کسی کے یہاں دعوت پر کھانے کے لیے جانا ہو تو پینے کا پانی بھر لوٹا اور پیالہ ساتھ میں لے جانا چاہیے۔ لیکن بابا کے لوٹے میں کبھی پانی نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوٹا بھی اچھا خاصا بڑا ہوتا تھا۔ اس خالی لوٹے میں بابا مٹھائی، جیسے لڈو، جلیبی وغیرہ، ہمارے لیے چھپا کر لے آتے۔ گھر لوٹتے ہی وہ ساری مٹھائی ہمیں بانٹ دیا کرتے۔ ہم لوگ بہت ہی آنند کے ساتھ ان چیزوں کا مزہ لیتے تھے۔

نانی کی شاید ایک ہی بات یاد ہے۔ یوں تو ایسا موقع یاد ہی نہیں آتا کہ انھوں نے کبھی لاڈپیار سے مجھے بیٹھایا ہو، کبھی دُلار سے سہلایا ہو۔ ہم لوگ نانی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔ اس کی واحد یاد من میں بیٹھ گئی۔ وجہ اس کی کچھ نرالی ہی تھی۔ ہمارے باپو بیڑی پیتے تھے۔ جہاں تک ہو سکے وہ ہم بچوں کے سامنے بیڑی پینا ٹال دیتے تھے، پھر بھی ہم لوگ انھیں بیڑی پیتے دیکھ ہی لیتے۔ ان کی ناک سے بیڑی کا دھواں نکلتا۔ کم سے کم مجھے تو اس دھویں کے لیے بڑی کشش محسوس ہوتی تھی۔ باربار میں اپنے آپ سے پوچھتا، ’’کیا مزہ آتا ہو گا بیڑی کا کش لگانے میں؟‘‘ دوپہر کا وقت تھا۔ گھر میں سناٹا تھا۔ باپو کی پی کر پھینکی گئی بیڑی کا ایک ٹکڑا مجھے مل گیا۔ چولھے سے میں نے انگارہ نکالا اور وہ بیڑی سلگائی۔ طبیعت سے ایک زوردار کش لگایا ہی تھا کہ زبردست کھانسی آ گئی اور اس کے ساتھ ہی ایک کس کے جھانپڑ پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ نانی یاد آ گئی۔ خود نانی جی غصے سے لال پیلی کھڑی تھیں۔ مجھے تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

’’بیڑی پینے لگا گدھے کے بچے! پیے گا پھر سے؟ لگائے گا ہاتھ بیڑی کو؟ بول!‘‘ کہتے ہوئے انھوں نے مار مار کر میرا حلیہ ٹائٹ کر دیا۔ ’’میں پھر بیڑی نہیں پیوں گا…نہیں پیوں گا بیڑی…‘‘ روتے روتے میں گڑگڑا کر بولا۔

بس، نانی کی یہی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ میں اسے کبھی بھلا نہیں پایا۔ تب سے آج تک اتنے سال بیت گئے، بیڑی یا سگریٹ پینے کا لالچ مجھے کبھی نہیں ہوا۔
معصوم بچپن میں کئی واقعات ایسے بھی ہو جاتے ہیں جو یادداشت پر پہیلی کی طرح نقش ہو جاتے ہیں۔ ان پہیلیوں کو بچہ بوجھ نہیں پاتا۔ اسی طرح کی ایک عجیب و غریب یاد ہے۔

باپو دوپہر دکان بند کر کھانا کھانے کے لیے گھر آتے تھے۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھچڑی پکاتے تھے، اس پر گھی، اچار، پاپڑ، چٹنی ڈال کر کھاتے۔ آئی اپنی بہت ہی مزےدار رسوئی اور نئی طرح کے کھانے بناتی تھیں۔ لیکن باپو ان کی بنائی رسوئی کبھی نہیں کھاتے تھے۔ ایسا کیوں، یہ بات کچھ بڑا ہو جانے کے بعد مجھے معلوم ہوئی۔

بات یہ تھی کہ باپو جین تھے اور اماں ہندو۔ دونوں کا بین المذہبی بیاہ ہوا تھا 1896 میں۔ کہنے کی بات نہیں، ان دنوں مذہب، مصلحت وغیرہ باتوں کا سماج، دل، ذہن پر زبردست اثر تھا۔ معمولی سے معمولی مذہبی یا سماجی بات کو لوگ بڑی باریکیوں سے دیکھتے پرکھتے تھے۔ ذرا سی لکیر سے ہٹ کر کسی نے کوئی بات کی اور سماج نے اس کے ساتھ روٹی پانی کا برتاؤ بند کیا۔ اس کا بائیکاٹ کر دیا۔

یہ سمجھو دستور ہی بن گیا تھا۔ ایسے زمانے میں بین المذہب بیاہ کرنا کتنے حوصلے کی بات رہی ہو گی۔ کولھاپور میں تو ایسی شادی ناممکن ہی تھی، اس لیے کولھاپور سے تیس میل دور شری دتّاتریہ کے پوتر مقام نرسوبا کی باڑی میں جا کر باپو نے یہ بیاہ کیا۔ صرف سماج کے لحاظ کی خاطر باپو اپنا کھانا الگ سے پکا کر کھاتے تھے۔

باپو اپنے دیوی دیوتاؤں کو مانتے، جین مذہب کے سب اصولوں کا پالن کرتے۔ آئی ہندو مذہب کے سبھی تیج تہوار مناتیں، اپنے سب دیوتاؤں کی پوجاپاٹھ کرتی کراتی، اپنے اصولوں کے مطابق برت وغیرہ رکھتی تھیں۔ لیکن اس بات کو لے کر باپو اور آئی کے بیچ کبھی کوئی ان بن نہیں ہوئی۔ ہمارے گھر کے اندر جو ایک پوجاگھر بنا تھااس میں آئی اور باپو دونوں کے دیوی دیوتا سُکھ سے رہتے تھے۔

صرف سماج کے خیال سے اپنایا ہوا وہ الگ کھانا پکانے کا اصول بھی وقت کے ساتھ باپو نے تیاگ دیا اور وہ ہم سب کے ساتھ آئی کے ہاتھوں کا بنا کھانا بڑے پیار اور سواد سے کھانے لگے۔ رسم و رواج کی زنجیر میں قید سماج میں رہتے ہوئے بھی باپو نے جس بےباکی کے ساتھ اس بین المذہبی شادی کو کامیابی سے نبھایا، وہ آج بھی دنگ کر دینے والی بات ہے۔ باپو کی یہ بےباکی آج صرف قابلِ تعریف ہی نہیں لگتی بلکہ آج بھی مجھے ان کی اس ترقی پسند روش پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

کولھاپور میں مہادوار کے پاس ہی باپو نے ایک چھوٹی سی دکان لگائی۔ سہاگ سیندور، گھٹّی کا سامان، کھلونے وغیرہ چیزیں اس میں بیچنے کے لیے رکھی جاتی تھیں۔ تب میں پانچ برس کا ہو چکا تھا آئی نے مجھے پیار سے گلے لگا کر کہا، ’’دیکھو، شانتیا، کل سے تمھیں بھی اپنے بڑے بھیا کاشی ناتھ کے ساتھ سکول جانا چاہیے۔ ‘‘

میں نے پوچھا’’آخر کیوں؟‘‘
’’ میرے بیٹے، لکھنا پڑھنا سیکھنے کے لیے، ‘‘ آئی نے کہا۔
’’ میں نہیں جاؤں گا سکول!‘‘
’’وہ خود ہی تمھیں کل سکول میں داخلہ دلوا دیں گے!‘‘آئی نے سختی سے کہا۔ میں کافی بھنبھناتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

دوسرے دن سکول جانے سے پہلے رو رو کر میں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ کافی اُدھم مچایا۔ لیکن ہم سب بھائیوں پر باپو کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ انھوں نے دھمکاتے ہوئے کہا، ’’سنو شانتا رام، آج سے سکول جانا ہی پڑے گا۔ رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ سمجھے؟‘‘
باپو نے میرا بازو پکڑا اور ہم روتے میاں آنکھیں ملتے ملتے سکول پہنچا دیے گئے۔

ان دنوں سکول جوشی راؤ کے گنپتی مندر کے پاس ہی کسی سردار کے باڑے میں لگا کرتا تھا۔ سکول کا نام، ’ہری ہر سکول‘۔ مجھے کچی جماعت میں بٹھایا گیا۔ مجھے سکول میں چھوڑ کر باپو چلے گئے۔ اپنی حالت تو بس دیکھتے ہی بنتی تھی۔ بڑی قابلِ رحم حالت تھی۔ پاس ہی بیٹھے ایک لڑکے سے میں نے روتے روتے پوچھا:

’’یہاں کب تک بیٹھنا پڑتا ہے؟‘‘
’’ کوئی گیارہ بجے تک، ‘‘اس نے کہا۔
میں نے بہت ہی گڑگڑا کر پوچھا، ’’ گیارہ یعنی کتنے؟‘‘

اس لڑکے نے جھلا کر کہا، ’’ دیکھو سامنے گھنٹی رکھی ہے نا، وہ جب بجائی جاتی ہےتب گیارہ بجتے ہیں۔ سکول کی چھٹی ہو جاتی ہے۔‘‘
میں نے پاگل کی طرح سر ہلایا اور سکول کی زمین ناخن سے کریدتا بیٹھا رہا۔

گھنٹی بجی۔ سکول کی چھٹی ہو ئی۔ بھاگتے بھاگتے گھر ایسے پہنچا جیسے کانجی ہاؤس سے رہائی ملی ہو، اور ماں کی گود میں منھ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ باپو دوپہر کو دکان بند کرکھانے کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ میں نے آئی کے پاس ایک ہی رَٹ لگا رکھی تھی: ’’ میں پھر سے سکول ہرگز نہیں جاؤں گا۔‘‘

باہر سے باپو نے آواز دی: ’’ شانتارام، ذرا ادھر آؤ تو!‘‘

میں گھبرا گیا۔ سوچا، شامت آ گئی۔ ضرور دو چار چانٹے پڑنے والے ہیں۔ اسی گھبرائی کیفیت میں باہر دالان میں گیا۔ میرا خیال غلط نہیں نکلا۔ پر باپو نے مجھے مارا نہیں بلکہ پاس بیٹھا کر کمر سہلاتے ہوئے بولے:
’’دیکھو بیٹے! ہر شُکروار کو بھنے چنے کھانے کے لیے ہم تمھیں ایک پیسہ دیا کریں گے۔ لیکن تمھیں سکول ہر روز بنا روئے جانا ہو گا۔‘‘
کولھاپور میں آج بھی شُکروار (جمعے)کو مہالکشمی کو پرساد کے روپ میں بھنا چنا ہی چڑھایا جاتا ہے۔ باپو کہہ رہے تھے:
’’بیٹے، سکول جا کر لکھناپڑھنا سیکھنے پر آدمی بڑا بنتا ہے، سیانا بنتا ہے…تو کیا خیال ہے تمھارا؟ جاؤ گے نا سکول؟ اور دیکھو! چپ چاپ سیدھی طرح نہ گئے تو یہ دیکھا…؟‘‘

دیکھا، باپو نے چانٹا مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں ڈر گیا۔ باپو کا چانٹا کتنا سخت اور کرارا ہوتا ہے، میں جانتا تھا۔ ان کا چانٹا کھانے کے بجائے ہر جمعے کو بھنا چنا کھانے میں ہی خیر تھی۔ دوسرے ہی دن سے میں بنا کسی طرح روئے دھوئے سکول جانے لگا۔

ہر جمعے کو بھنے چنے کی خوراک شروع ہو گئی تھی۔ پھربھی کبھی کبھار سکول سے تڑی (چھٹی) مار جانے کی سنک مجھ پر سوار ہو ہی جاتی۔ پھر کبھی تو میرا سر اچانک درد کرنے لگتا۔ اس سر درد سے ایک پنتھ دو کاج ہو جاتے تھے، سکول جانے سے چھٹی مل جاتی تھی اور ماں کے ماہر ہاتھوں سے بنا میرا من چاہا گرم گرم نرم نرم حلوہ کھانے کو مل جاتا تھا۔ سر درد کا ظالم علاج ہونے کی وجہ یہ حلوہ آئی خالص گھی میں بناتی تھیں۔ بڑا میٹھا ہوتا تھا یہ حلوہ۔ گھر میں تو حالات ایسے تھے کہ ایسا حلوہ تیج تہواروں پر ہی بن پاتا تھا۔ لہٰذا حلوہ کھا کر کافی دن ہو چکنے پر میرا سر ضرور ہی درد کرنے لگتا۔ بخار، زکام کا سوانگ رچنا مشکل ہے، لیکن سردرد ہے یا نہیں، کون جان سکتا ہے؟ بہت دیر تک میں کراہتا رہتا۔ بیچاری آئی ہمدردی سے پوچھتیں:

’’شانتا، تھوڑا سا کچھ کھاؤ گے؟‘‘
’’اوو…نہہ!‘‘
پھر آئی اور بھی منتیں کرتیں۔ ’’تھوڑی سی کھیر لے لو نا ساگودانے کی!‘‘
ساگودانے کی کھیر کا نام لیتے ہی مجھے متلی آنے لگتی: با…ک ! گئے مارے!
اس کھیر کا نام سن کر آج بھی میرا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ میں بسک کر کہتا، ’’وہ تو قطعی نہیں لوں گا۔‘‘
میرا کراہنا پھر دُگنے زور سے شروع ہو جاتا۔ آئی گھبرا کر کہتیں، ’’ارے کچھ تو کھا لو، ورنہ پِت (صفرا) کا قہر بڑھے گا۔‘‘
یہاں تھا کس کو پِت کا قہر، جو بڑھتا! لیکن سردرد کا اپنا ناٹک رنگ لاتا دیکھ کر میں اور بھی کراہتا ہوا بے چین آواز میں کہتا:
’’ بہت ہی زور دے رہی ہو ماں تو تھوڑا سا حلوہ ہی بنا دو۔ کھا لوں گا جیسے تیسے…‘‘
آئی فوراً ہی حلوہ بنانے کی تیاریوں میں جٹ جاتیں۔ گرم گرم حلوہ بھری کٹوری سامنے آتے ہی میرا آدھا سردرد جاتا رہتا اور کھا چکنے کے بعد پورا غائب ہو کر میں ایک دم چنگا پھرتیلا بن جاتا۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ سردرد اور وہ فرمائش کچھ زیادہ ہی بار ہونے لگی تو ماں کو شبہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو، ضرور دال میں کچھ کالا ہے! اور میرا پول کھل گیا۔
حلوہ کھانے کے لیے للچایا وہ سردرد جب ایک دن پھر سے پیدا ہو گیا تو درد کے مارے میرے سر کی نسوں کے بجائے آئی کے ماتھے کی نسیں تن گئیں۔ تب تو انھوں نے میری وہ پٹائی کی، وہ پٹائی کی کہ حلوے کے بجائے اپنا حلیہ ہی ٹائٹ ہو گیا!

ویسے سکول میں ہونہار شاگردوں میں میری گنتی کبھی نہیں ہوئی۔ شاید زبان میں میری حالت اچھی رہی ہو گی۔ لگتا ہے خاص کر کتابوں میں دیے سبق کا پاٹھ میں زوردار آواز میں اچھی طرح کرتا تھا۔ گروجی ہمیشہ مجھے ہی کھڑے ہو کر سبق پڑھنے کے لیے کہتے تھے، اور شاگردوں سے کہا کرتے تھے، ’’ذرا دھیان سے سنو، سُسرو! سبق اس طرح پڑھا جاتا ہے!‘‘

گروجی کی طرف سے کی گئی تعریف سے میں پھولا نہ سماتا اور بڑی اکڑ کے ساتھ سبق پورا کر نیچے بیٹھتا۔ لیکن میں اچھا پڑھتا ہوں یعنی کیا کرتا ہوں، یہ بات یقینی طور سے اپنی تو سمجھ میں کبھی نہیں آئی۔

کچھ دنوں بعد باپو نے سہاگ سیندور کی وہ چھوٹی سی دکان بند کر دی اور مہالکشمی روڈ پر پنساری کی ایک بڑی سی دکان لگوائی۔ کرانے کا سامان بھی اس میں رکھا تھا۔ دکان پہلی دکان سے کافی بڑی تھی لیکن تب تک ہمارا کنبہ بھی بڑھ گیا تھا۔ میرے دو اور بھائی بھی ہو گئے تھے: رام کرشن اور اودھوت۔ ہماری اس نئی دکان میں اناج، گڑ، مونگ پھلی، مسالے، چائے اور چینی وغیرہ کئی چیزیں بیچی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی چیجی (چیز) کے روپ میں ہم بچوں کو گڑ، پھلی دانے اور گال(کھوپڑے) کے ٹکڑے ملتے تھے۔میرا خیال ہے کہ شاید انہی دنوں میں میں نے ہری ہر سکول کی چوتھی جماعت پاس کی تھی۔ جیسا ان دنوں رواج تھا، چوتھی کے بعد انگریزی سکول میں داخلہ لینا پڑتا تھا۔ ہماری دکان سے ایک پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کے طالب علم کبھی کبھی سامان لے جایا کرتے تھے۔ ان کی پہچان سے مجھے انگریزی سکول میں داخلہ مل گیا۔ دادا بھی اسی سکول میں جاتا تھا۔
کچھ دن تو ٹھیک سے گزر گئے۔ فیس بھرنے کا دن آیا۔ باپو نے فوراً ہی فیس کے پیسے مجھے دے دیے۔ میں نے کوٹ کی جیب میں رکھ لیے۔ سکول شروع ہوا۔ کلاس ٹیچر تشریف لائے۔ ان کا نام تھا شری کھنڈے جی۔ ان کا سلوک ان کے نام جیسا ہی مدھر تھا۔ بہت ہی مامتا سے وہ باتیں کرتے تھے۔ سبھی لڑکے فیس بھرنے لگے۔ میں نے بھی اپنی فیس دے دی۔ میرے پیسے لیتے وقت شری کھنڈے جی نے کہا، ’’اچھا تم ہاف فری طالب علم ہو۔‘‘
میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔

دوپہرمیں لنچ بریک ہوئی۔ ہم لوگ ٹولی بنا کر کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ تبھی اچانک ہی ایک لڑکے نے پوچھا:
’’کیوں بھائی، بات کیا ہے؟ماسٹر جی نے تم سے فیس کے پیسے اتنے کم لیے؟‘‘
’’ مجھے کیا معلوم؟ پتاجی نے دیے، وہ سارے پیسے میں نے ماسٹر جی کو دے دیے۔‘‘
دوسرے لڑکے نے پہلے سے کہا، ’’تم بھی نرے بدھو ہو! ماسٹرجی نے کیا کہا تھا، تم نے سنا نہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کیا پوچھتے ہو؟ ارے وہ ہاف فری طالب علم ہے۔ اس کی آدھی فیس سکول نے معاف کر دی ہے۔‘‘
’’کیوں بھئی؟ سچ ہے؟‘‘ اس پہلے لڑکے نے پھر سوال کیا۔
میں چپ ہی رہا۔ وہ لڑکے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’ارے بھئی سکول ایسے بچوں کی آدھی فیس معاف کیا کرتا ہے جن کے ماں باپ غریب ہوتے ہیں۔‘‘

زندگی میں پہلی بار میں نے ’غریب‘ لفظ کا تجربہ کیا۔ آدھی فیس…غریب…غریبی ! یوں دیکھا جائے تو ہم لوگ دن میں دو بار سادہ ہی سہی، لیکن پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے۔ ہمیں کبھی بھوکا سونا پڑا ہو، یاد نہیں۔ چھوٹاسا ہی سہی، ہمارا اپنا مکان تھا۔ کرائے کا بھلے ہی ہو، لیکن ہمارے سر پر چھت تھی، ایک آسرا تھا۔ پھر کیوں ہمیں غریب بتایا جا رہا تھا؟
ہاں، ایک بات آج بھی کچھ کچھ یاد آتی ہے۔ تھوڑا سا لگا ضرور تھا کہ ہو نہ ہو، ہمارے باپو کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اسی لیے شاید، دادا کے پرانے کپڑے یا اونچے ہو جانے اور تنگ ہو جانے والے کپڑے مجھے پہننے پڑتے تھے۔ ماں کے پاس میں اس بات کی شکایت بھی اکثر کیا کرتا تھا۔ ہمارے باپو بازار سے کپڑا بھی ایسا خرید کر لاتے تھے کہ وہ پھٹنے کا نام ہی نہ لیتا۔ میں بہت ہی ضد کر بیٹھتا تو پھر کسی تہوار پر مجھے نیا کپڑا مل جاتا تھا۔ یہی حال کتابوں کا تھا۔ دادا پاس ہو کر اوپر کی جماعت میں گیا کہ اس کی پرانی کتابیں مجھے دی جاتی تھیں۔ ہو سکتا ہے اسے ہی غریبی کہا جاتا ہو۔
لیکن غریبی کیا ہوتی ہے؟ اس کی جھلک مجھے مل گئی۔

کولھا پور میں مشہور کِرلوسکر ناٹک منڈلی آئی تھی۔ سبھی کلاکاروں کا قیام کولھاپور کے شِواجی تھیٹر میں تھا۔ ناٹک منڈلی میں فوٹوگرافر بھی تھے۔ باپو سے ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ ایک بار باپو نے طے کیا کہ ہم بچوں کے ساتھ ایک فوٹو کھنچوایا جائے۔ فوٹو کے لیے ماں نے، اس کے پاس جو بھی ساڑھیاں تھیں، ان میں سے سب سے اچھی ساڑھی پہن لی۔ باپو کے کپڑے ٹھیک ہی تھے۔ جو بھی ہو، ہم سب لوگ بارات جیسی شان سے شواجی تھیٹر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑوں کا حال دیکھ کر ان فوٹوگرافر مہاشے نے ہم بچوں کو ناٹک میں راجکمار کا کام کرنے والے بچوں کے زری کا کام کیے مخمل کے کپڑے فوٹو کے لیے دلوائے۔ زری کی ٹوپیاں بھی دلوائیں۔ وہ کپڑے ہم لوگوں کو کچھ ٹھیک سے نہیں آ رہے تھے۔ بڑے اور کچھ ڈھیلے ہو رہے تھے۔ پھربھی انہی کپڑوں کو پہن کر ہم لوگ راجکماروں جیسے اکڑ کر فوٹو کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میرے من میں رہ رہ کر اُس پہلے فوٹو کی یاد آ رہی تھی۔ باپو نے تب کہا تھا، ’’ارے تم لوگ ہمارے جتنے اونچے نہیں ہو نا، اسی لیے فوٹو میں نہیں آ پائے ہو‘‘۔ لیکن آج بھی ہم میں سے ایک بھی بھائی باپو جتنا اونچا نہیں ہوا تھا، پھر بھلا ہماری فوٹو آج بھی کیسے آ سکتی ہے؟ میں نے آئی اور باپو کی طرف دیکھا۔ کرسیوں پر بیٹھ کر دونوں نے اپنی اونچائی ہمارے جتنی کر لی تھی، تاکہ ہم لوگ بھی برابر فوٹو میں آ سکیں۔

فوٹو کھنچوانے کے لیے ہمیں دیے گئے وہ سارے ملائم اور بھاری قیمت کے کپڑے ہم لوگوں نے بعد میں لوٹا دیے۔ صرف فوٹو کے لیے وہاں کے کپڑے پہن لینے میں ہم نے کوئی چھوٹاپن محسوس نہیں کیا۔ پھر سے اپنے ہمیشہ کے کپڑے میں نے پہن لیے۔ فوٹو کے لیے دیے گئے قیمتی کپڑے ہمیں کبھی نہیں ملتے۔ تو کیا اس کو غریبی کہتے ہیں؟…ہم لوگ غریب ہیں؟ سکول میں ملی وہ ہاف فیس… میرے من میں سوالوں کا انبار سا لگ گیا۔ ہمیشہ کی عادت کے مطابق ایسے سبھی سوالوں کا جواب دے سکنے والی ماں کے پاس جا کر میں نے پوچھا:

’’آئی، کیا ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’کیوں پوچھ رہے ہو یہ؟‘‘ ماں نے جواب میں سوال کیا۔

’’آئی، بتاؤ نا، سکول میں میری آدھی فیس معاف کس لیے کی گئی ہے؟ غریب لڑکوں کی ہی تو فیس معاف کی جاتی ہے نا؟ ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’ارے بابا، ہم لوگ غریب نہیں ہیں۔‘‘ آئی نے میرے سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔
’’حال ہی میں باپو نے اتنی بڑی دکان جو کھولی ہے…‘‘ میری بحث جاری رہی۔

’’دیکھو، بات یہ تھی کہ پہلی دکان سے ہم لوگوں کا گزارہ نہیں ہوتا تھا، اس لیے اناج اور کرانے کی دکان لگائی ہے۔ اس کے لیے لوگوں سے کافی رقم ادھار لی ہے۔ تم ہی سوچو نا، تم ہو پانچ بھائی، سب کی کتابوں اور فیس کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں؟‘‘

’’تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہمیشہ آدھی فیس میں ہی پڑھائی کرنی ہو گی؟ کلاس کے اور لڑکے پوری فیس دیتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے اس آدھی فیس پر!‘‘
’’شرم آتی ہے نا؟ تب تو تم اچھی پڑھائی کر کے بہت بڑے آدمی بنو، تاکہ تمھیں اپنے بچوں کو آدھی فیس میں سکول میں داخل کرنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے!‘‘

اتنا کہہ کر آئی گھر کے کام کاج میں جٹ گئیں۔ میری ماں ہمیشہ گھر کے کاموں میں لگی رہتی تھیں۔ چولھا چوکا، آٹا چکی، جھاڑنا پونچھنا، کپڑے دھونا، پانی بھرنا، سب کچھ وہ اکیلے ہی کرتی رہتیں۔ پوپھٹتے ہی ماں جب چکی پیسنے بیٹھتیں تو میری بھی نیند کھل جاتی اور میں بھی ہولے ہولے چکی چلانے میں ان کی مدد کرتا۔ وہ اوکھلی میں موسل چلاتیں تو میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتا۔ برتن مانجھنے میں بھی میں ماں کی جو ہو سکے، بن سکے، اتنی مدد ضرور کرتا تھا۔

ہر مہینے ماہواری میں آئی چار دن ایک کونے میں بیٹھی رہتی تھیں۔ اُن دنوں وہ ہم میں سے کسی کو چھوتی نہیں تھیں۔ رسوئی بھی نہیں بناتی تھیں۔ ہمارے گھر میں اور کوئی عورت نہیں تھی۔ گھر کے سارے کام اور بھگوان کی پوجا کی پوری ذمےداری میرے اور دادا پر آ جاتی تھی۔ ہمیشہ کام میں لگی رہنے والی ماں اس طرح الگ کیوں بیٹھی رہتی ہیں، اس کا تجسس مجھے بہت تھا۔ ’’مجھے کوّا چھو گیا ہے، چار دن تک میرے پاس نہ آنا!‘‘

اس پر ایک دن آئی سے پوچھ ہی بیٹھا، ’’ہم لوگ جب کوّے کے پاس جاتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے۔ تمھیں ہی وہ اس طرح بار بار کیسے چھو جاتا ہے؟‘‘
’’چپ بھی کرو اب! بیکار کے جھگڑے میں پڑے ہو۔ چلو جاؤ یہاں سے، جلدی جلدی چولھا جلاؤ اور لگ جاؤ کھانا بنانے میں۔‘‘

اس طرح ڈپٹ کر آئی مجھے دور بھگا دیتی تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ دور سے ہی تیل، نمک، مرچ کتنی ڈالنی ہے، اس کا دھیان رکھتی تھیں۔ آگے چل کر کافی بڑا ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ماہواری کے دنوں میں پورا آرام دلانے کے لیے ہی عورتوں کو اس طرح اچھوتا بنا کر بیٹھانے کی روایت ہے۔

غرض کے مارے ہو یا عادت کی وجہ سے، آئی کو میں نے ہمیشہ کام میں لگا ہی دیکھا ہے۔ انھیں کبھی میں نے فرصت میں پایا ہی نہیں۔ درمیان میں تھوڑا وقت مل جاتا تو وہ سونے کے منکوں کو چھوٹے اوزار سے ٹھوک پیٹ کر گول بنانے کا کام کیا کرتی تھیں۔ اس کام میں میں بھی کبھی کبھی شامل ہو جاتا تھا۔ اس طرح سو منکے ایک جیسی شکل کے بنا کر سنار کو دینے پر کچھ پیسے مل جاتے تھے۔

آئی ہمارے لیے ہمیشہ ایک گانا گا کر سنایا کرتی تھیں۔ ’’چندر کانت راجہ کی کنیا سگون روپ کھنی… (چندر کانت راجہ کی بیٹی سگھڑ اور خوبصورت)‘‘ مجھے یہ گیت بہت پیارا تھا۔ کئی بار میں ان سے اسے سنانے کے لیے کہا کرتا تھا۔ ہماری ماں تھوڑی انگریزی بھی جانتی تھیں۔ میں انگریزی سکول میں جانے لگا، تو کبھی کبھی رسوئی بناتے بناتے بھی وہ مجھے میری ہی کتاب کے الفاظ معانی رٹوا دیتی تھیں:’’سی اے ٹی کیٹ یعنی بلی…آر اے ٹی ریٹ یعنی چوہا، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ لفظوں کے ہجے کرنے میں میری غلطی کو بھی سدھار دیتی تھیں۔

اب میں ہر روز سکول جانے لگا تھا۔ اس نئے سکول کی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ ہمارے ساٹھے گروجی کی۔ وہ ہمیں مراٹھی پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے ایک نظم پڑھائی۔ انھوں نے اس نظم کو لے میں گا کر بھی سنایا اور اگلے دن اسے یاد کر کے آنے کا حکم دیا۔ ساٹھے گروجی نے اس نظم کو جس طرز اور لَے میں گایا تھا وہ کافی پرانی اور گھسی پٹی تھی۔ نظم کو یاد کرتے وقت اس طرز سے جی اکتا گیا۔ جی میں آیا، کیوں نہ ایک نئی طرز پر اسے گایا جائے؟

پتا نہیں کیسے، گنگناتے ہوئے اس نظم کے لیے ایک نئی طرز اچانک ہی میرے ہونٹوں پر آ گئی۔ گروجی کی طرف سے بنائی گئی طرز سے یہ طرز مجھے کافی اچھی لگی۔ بس پھر کیا تھا، میں نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا۔ جماعت میں اس نظم کو نئی دھن دینے کی دھن دن بھر مجھ پر سوار رہی۔ میں کچھ نیا کر سکتا ہوں، اس خوشی میں جھومتا ہوا دوسرے دن سکول پہنچا۔ ایک طرح کے سپنے میں کھو گیا تھا کہ ساٹھے گروجی کے حکم پر میں نے اس نظم کو اپنی طرز پر گایا ہے، میرے دوستوں نے میری بہت بہت تعریف کی ہے، اور خود ساٹھے گروجی نے شاباشی دینے کے لیے میری کمر محبت سے تھپتھپائی ہے۔

مراٹھی کا سبق شروع ہوا۔ تین چار طالب علموں نے وہ نظم گا کر سنا دی۔ میری باری آئی۔ میں کھڑا ہو گیا اور اپنی بنائی نئی طرز پر اسے گانے لگا۔ کلاس کے سارے طالب علم مجھ پر ہنسنے لگے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ تبھی جانگھ پر ایک بینت سپک کر پڑی۔ میں ششدر رہ گیا۔ گروجی آگ بگولا ہوئے جا رہے تھے۔ آخر کیوں؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ساٹھے گروجی چلّائے، ’’گدھے کے بچے ! ٹھیک سے سناؤ نظم!‘‘

سوچا، میری بنائی گئی طرز انھیں پسند نہیں آئی، اس لیے میں اپنی ہی ایک اور نرالی طرز پر نظم سنانے لگا۔ پھر لگاتار بینت پڑنے لگیں۔ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ گروجی کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھتا دکھائی دیا۔ ان کی آواز بجلی کی طرح کڑکنے لگی۔ میں بھی ضد کر بیٹھا۔ میری بنائی گئی نئی طرز کو سراہنے کے بجائے گروجی مجھے پیٹتے جا رہے تھے۔ میں کھسیانا ہو گیا۔ اس نظم کو میں بار بار اور ہر بار ایک دم نئی طرز میں سنانے لگا۔ گروجی جھلاً اٹھے۔

’’مورکھ! میرا مذاق اڑاتے ہو؟ تمھاری یہ مجال؟‘‘
کہتے کہتے وہ دہاڑنے لگے اور ساتھ ہی مجھ پر بینتیں برساتے گئے۔ آخر ان کا ہاتھ رکا۔ شاید انھوں نے سوچا ہو گا کہ بہت پیٹ چکے اسے۔ پھر بھی ہاتھ میں بینت نچا کر انھوں نے پوچھا، ’’کیوں، اور چاہیے یا کافی ہو گیا؟‘‘
میں نے جبراً کہہ دیا، ’’کافی ہے۔‘‘ میں نے پٹائی سے ڈر کر ’’کافی ہے‘‘ نہیں کہا پر اس وقت مجھے چوتھی طرز نہیں سوجھی اس لیے میں چپ بیٹھ گیا۔ وہ بینتوں کی مار نا قابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ میں کراہنے لگا۔
اس دن ساٹھے گروجی کے سامنے میں ہار گیا، لیکن آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ضرور لگتا ہے کہ لکیر سے ہٹ کر کچھ نئی بَکُوات کر دکھانے کا نظریہ وہیں سےتو نہیں پھوٹا تھا؟
دن میں تارے دکھانے کی حدتک دھنائی پٹائی کرنے والے سخت مزاج ساٹھے گروجی کی طرح اَکّو گوالن کی یاد بھی من میں اتنی ہی تازہ ہو جاتی ہے۔ اَکّو گوالن بےسبب ہی میرے ساتھ ممتا بھرا سلوک کرتی تھی۔ اس کی ممتا بھری مورت آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بیدار ہو جاتی ہے۔
ہماری کرانے کی دکان کا پہلا دن تھا۔ باپو نے پان سپاری کی چھوٹی سی تقریب کی تیاری کی تھی۔ ہم سب لوگ اس دن دکان پر گئے۔ تقریب ختم ہونے کے بعدمیں اکیلا ہی آرام سے ٹہلتا ہوا گھر لوٹ رہا تھا۔ تین چار مکان آگے جانے کے بعد میں نے دیکھا، چبوترا نما اونچی جگہ پر ایک چھوٹی سی دکان بنی ہے۔ اس میں ایک ادھیڑعمر عورت بیٹھی ہے۔ گول چہرہ، ماتھے پر روپے کی شکل سے بھی بڑے گول آکار کا خوبصوت سیندور، کالی سانولی، بھاری بھرکم جسم، سر پر پلاّ، یہ تھا اس ادھیڑعمر عورت کا روپ۔ اس کے سامنے ہی ایک مٹی کا بڑا سا برتن رکھا تھا۔ اس میں دہی تھا۔ کوئی گاہک آتا تو دہی بیچنے کے لیے اس گھڑے کا ڈھکنا کھولنے کی اس کی ایک خاص ادا تھی۔ وہ جھول کر ڈھکنا ہٹاتی، لکڑی کی کرچھی سے دہی نکالتی، گاہک کے برتن میں اسے ڈالتی، پیسے لیتی، چھنن کھنن آواز کرتی ہوئی اسے اپنے گلّے کے بکسے میں پھینکتی، اور پھر ڈھکنا گھڑے پر سِرکا دیتی۔ اسے دیکھ کر میں ریجھ گیا۔ بڑا مزہ آتا رہا۔ پتا نہیں کتنی دیر میں اس کی وہی ادا دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا دھیان میری طرف ہوا۔ وہ ہنسی۔ سر ہلا کر اس نے مجھے پاس بلا لیا۔ پاس جاتے ہی اس نے پوچھا، ’’دے(دہی)کھاؤ گے؟‘‘

میں چپ ہی رہا۔ اس نے گھڑے میں سے کرچھی سے دہی نکالا اور بولی، ’’لیجو،بڑھاو ہاتھ۔ کاہے سرماتے ہو؟ لیجو بہوت بڑھیا دے (دہی) رہن ہمار۔‘‘(لو ہاتھ بڑھاو کیوں شرماتے ہو؟ لو بہت بڑھیا دہی ہے ہمارا۔)

شرماتے لجاتے میں نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ اتنا گاڑھا دہی تھا جیسے پنیر کا ٹکڑا کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دیا ہو۔ میری پوری ہتھیلی بھر گئی۔ میں سارا دہی منٹوں میں چاٹ گیا۔ گھڑے کی کوری مٹی کی خستہ خوشبو سے دہی میں ایسا مزے دار ذائقہ آ گیا تھا کہ میں ہتھیلی چاٹتا ہی رہا۔ پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی ممتا دکھائی دی۔ اس نے ہنس کر پھر سے پوچھا:

’’اچھا لگا؟‘‘
’’جی ہاں، بہت اچھا تھا۔‘‘
میں خوشی کے مارے اچھلتا کودتا پھاندتا گھر کی طرف دوڑا۔

دوسرے دن سکول جاتے وقت ہاتھ میں سلیٹ اور بستہ لیے میں اس کی دکان کے سامنے زبردستی کھڑا ہو گیا۔ اچھا ہو کہ اس کے اس گھڑے میں رکھا دہی پھر سے کھانے کو مل جائے۔ سامنے والا گاہک چلا گیا اور اس نے میری طرف دیکھا۔ اب تو میں بن بلائے ہی اس کے پاس گیا اور ہاتھ بھی پھیلا دیا۔ اس نے میری ہتھیلی پر دہی رکھا۔ میں نے دہی کھانا شروع کیا۔ ابھی ابھی جو گاہک چلا گیا تھا، اس کے منھ سے میں نے اس کا نام سن لیا تھا۔ لوگ اسے اَکّو گوالن کہا کرتے تھے۔ دہی کھا چکنے کے بعد قمیض کی آستین سے منھ پونچھتے ہوئے میں نے کہا:

’’آج تو دہی بہت ہی مزیدار تھا، اَکّو موسی!‘‘
موسی لفظ سنتے ہی اس نے فوراً مڑ کر میر طرف بڑے پیار سے دیکھا اور بولی:
’’کے نام ہے تمہارا، بچھوا؟‘‘ (تمہارا کیا نام ہے ،بچے ؟)
’’شانتارام۔‘‘
’’شانتارام، ہر روج یہاں آتے رہیو، بھلا؟‘‘ (شانتا رام ، روز یہاں آتے رہنا، ٹھیک ہے؟)

’’اچھا‘‘ کہتا ہوا میں سکول کی طرف بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہر روز اَکّو موسی کے اس کالے گھڑے کا مزیدار دہی میں کھاتا۔ اب تو ہچکچاہٹ اور لحاظ بھی جاتا رہا۔ دکان پر کبھی بھیڑ ہو اور سکول جانے کے لیے مجھے دیر ہو رہی ہو تو میں ویسے ہی بغیر دہی کھائے بھاگتا۔ لیکن اَکّو موسی مجھے فوراً آواز دیتی اور اس جلدبازی میں بھی مجھے دہی کھلاتے بغیر چین نہ پاتی۔ آگے چل کر تو میں خود ہی اس کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر دہی مانگتا جیسے وہ میرا حق ہو۔

ایک دن مجھے لگا، باقی سارے لوگ پیسے دے کر اَکّو موسی سے دہی لیتے ہیں، ایک میں ہی ایسا ہوں جو مفت میں دہی کھاتا ہوں۔ یہ غلط بات ہے۔ اس دن جمعہ تھا۔ باپو نے ہمیشہ کی طرح مجھے بھنا چنا کھانے کے لیے ایک پیسہ دے دیا تھا۔ اس دن بھنے چنے میں نے نہیں لیے۔ اَکّو ماسی کی دکان پر گیا اور ہتھیلی پر وہ ایک پیسہ رکھ کر اس کے سامنے کر دیا۔

’’ای کا کرت ہو بچھوا؟‘‘
’’اَکّو موسی، میں تم سے ہر روز دہی جو کھاتا ہوں، یہ لو پیسہ اس کا۔‘‘
وہ میری طرف نظریں گاڑ کر بولی، ’’تم ہم کا کس نام پکارت رہن؟‘‘ (تم ہمیں کس نام سے پکارتے ہو؟)
’’اَکّو موسی۔‘‘
’’تو اپنی موسی کے اِی ہاں کھانے پینے جاوت ہو نا؟ تب وا کو پیسہ دیہی ہو کا؟‘‘ (تو اپنی خالہ کے ہاں کھانے پینے جاتے ہو نا؟تب اس کو پیسے دیتے ہو کیا؟)
’’نہیں۔‘‘
’’تو ہمے کو پیسہ کاہے دیت ہو بچھوا؟ ہم کا بھی موسی کہت ہو نا؟‘‘ ( تو ہمیں پیسہ کیوں دیتے ہو، بچے ہمیں بھی تو خالہ کہتے ہو نا؟)
میں دیکھتا ہی رہا۔ وہ بولی:
’’چل بھاگ جا پگلے کہیں کو! موسی کو پیسہ دیوت ہے چھورو۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لئی جیا جاؤ، بھاگو۔ ‘‘ (چل بھاگ جا پاگل کہیں کا!خالہ کو پیسے دیتا ہے لڑکا۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لو اور کھا جاؤ، بھاگو!)
میں بھنا چنا خریدنے کے لیے چلا گیا۔ واپس اس کے پاس جا کر میں نے کہا:
’’ہوں، یہ لو دیوی بھگوتی کا پرساد!‘‘

اور دونوں مٹھی بھر بھنے چنے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اس نے صرف ایک ہی چنا اٹھا لیا اور ماتا بھگوتی کا نام لے کر اسے ماتھے پر لگا کر منھ میں ڈال لیا۔ اس کے بعد ہر جمعے کو میں اسے اپنے بھنے چنے میں سے کچھ چنے پرساد کہہ کر دیتا رہا۔

ایسی تھی وہ ممتا بھری اَکّو موسی! اس عورت نے مجھے پتا نہیں کیوں، بےسبب اتنا پیار دیا! وہ میری کون لگتی تھی؟ کیا لگتی تھی؟ رشتہ نہ ناتا، پھر بھی کتنی محبت بھری تھی اس کی ممتا۔ کتنی ممتا سے ہنستی تھی وہ۔ اس کا دیا وہ میٹھا، سفید پنیر جیسا گاڑھا دہی! اس کے دہی سے میری پوری ہتھیلی بھر جاتی تھی۔ کہتے ہیں سفر پر نکلے راہی کی ہتھیلی پر تھوڑا سا دہی دیتے ہیں، اس لیے کہ اس کی یاترا سپھل ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیون کے سفر کی شروعات کرتے وقت اَکّو موسی نے اتنے پیار اور ممتا سے میری ہتھیلی پر دہی رکھ کر میری لمبی جیون یاترا کا مبارک آرمبھ کر دیا تھا!

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
فکشن

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

[blockquote style=”3″]
محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔

خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔

اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘

’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔

’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔

’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔

ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔

اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔

میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘

’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘

’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘

’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔

ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔

زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔

مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔

پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔

ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔

جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔

ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔

’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔

’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔

آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔

وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔

یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘

’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘

ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔

’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔

میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔

’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔

ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔

آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔

تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔

’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔

’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘

غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔

’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔

کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘

اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔

’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘

میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔

Image: Muhammad Hafez

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

[blockquote style=”3″]

لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں‘‘ یوں تو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جس پر ہزارہا انداز سے لکھا جاتا رہا ہے، لیکن زوال عمر کے تجربے کو اس کہانی میں ایک بالکل اچھوتے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس زاویے کو نبھانے کے لیے فن پر نہایت ماہرانہ دسترس ضروری تھی، اور کہانی پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ اسے اسی مہارت اور فنی ضبط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: لی کوک کیانگ
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنگ منگ نے بائیں کلائی اٹھا کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ اس کے پاس ابھی کچھ وقت تھا۔

جوں ہی اس کی کار سائے سے نکلی، دھوپ اس پر جھپٹ پڑی اور بونیٹ کی کالی سطح سے روشنی کی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بکھر اٹھیں۔ پیش بندی میں اس نے پہلے ہی سے اپنی آنکھیں سکیڑ لی تھیں۔ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ تھامے تھامے، اس نے دوسرے ہاتھ سے رومال نکالا اور پھرتی سے اپنی گُدّی پونچھی۔ پسینہ اس کے چہرے کے اطراف اور گردن پر بہنے لگا تھا۔ رومال کو کار کے فرش پر ڈال کر اس نے سیٹ پر سے چشمہ اٹھایا اور اپنی آنکھوں پر جما لیا۔ سڑک اب اپنے ہلکے نشیب و فراز سمیت بتدریج چڑھائی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ جب وہ بڑے موڑ پر پہنچا تو اس نے اپنی گھڑی ٹیلے پر بنائے گئے اس نئے گھنٹہ گھر سے ملائی جو بلوریں آسمان میں پیوست ہوتا نظر آتا تھا۔

دور سڑک کے سرے پر اسے اپنے بنگلے کی سیاہ ڈھلوان چھت، چائے کی دبیز باڑھ کے پرلی طرف گرد اڑنے کے سبب کسی قدیم جہاز کے ڈھانچے کی طرح جھکولے کھاتی دکھائی دی۔ اس کا بنگلہ پہاڑیوں میں ایک بلند مقام پر واقع تھا۔

جیسے ہی چھت پر نظر پڑی، اسے اپنی کنپٹیوں پر خفیف سی پھڑکن محسوس ہوئی۔ اس کی ڈھلی عمر کا لہو۔ یہ پھڑکن بڑھ کر شدت اختیار کر گئی۔ کنگ منگ نے پیٹھ اکڑا لی اور تن کر بیٹھ گیا۔ جوں جوں وہ بڑی سی چھت اپنی جسامت اور میلے پن کو نمایاں کرتی گئی، وہ بھی بےارادہ اپنے گھٹنے اکڑاتا رہا۔ یہ چھت سخت ڈھلوان تھی اور بارش نے اس پر بالکل پسینے کے نشان کی طرح کے دھبے ڈال دیے تھے۔ اس کا چہرہ ٹھنڈا ہو گیا اور تھرتھری اس کی ریڑھ کی دُمچی سے چھوٹی چھوٹی لہروں کی شکل میں نکل کر پھیل گئی۔ جیسے ہی درد کی لہر اس کی دائیں کنپٹی تک پہنچ کر ہتھوڑے کی چوٹ کی طرح لگی، اس نے سانس روک لی۔ دو دن قبل بھی اس نے یونہی لاچاری سے اس چھت کو دیکھا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، وہ یوں جنبش کرتی معلوم دی جیسے کسی نہ نظر آنے والی موج پر بپھرتی چلی آتی ہو اور خوف دلاتی ہو کہ اونچی باڑ کے اوپر سے خود کو اٹھا پھینکے گی۔ کسی نہ کسی طرح اتنی قوت اس میں آ گئی کہ اس نے اپنی کار کو پشتے سے ٹکرا جانے سے پہلے ہی روک لیا۔

مگر اس بار وہ لرزشیں اس کے شانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی جاتی رہیں۔ اس کی سانس ایک طویل آہ کی صورت نکلی اور اس نے اپنی کار سڑک پار کر کے بھاری چوبی پھاٹک کے سامنے رسان سے لا روکی۔

اترنے سے پہلے اس نے اس دورے کے گزر جانے کا انتظار کیا۔ پھر اس نے پھاٹک کھولا اور کار کو آہستگی سے پختہ راستے کی ہلکی سی چڑھائی پر چڑھا لے گیا۔ اس نے انجن بند کیا تو تکان اور گرمی کے اثر کو تیزی سے خود پر غالب آتے محسوس کیا۔ اس نے اپنی پیشانی کو بازوؤں پر ٹکا دیا اور بغل کی بساند کے بھپکے سونگھتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے نظر آیا کہ اس کے ہاتھ کتنے کھردرے اور سانولے ہو چکے تھے۔ جہاں جہاں اس نے کبھی کھجا لیا ہو گا وہاں وہاں جلد پر ننھے ننھے سے سفید نشان پڑ گئے تھے۔ مساموں کے سِروں پر چھوٹے چھوٹے سیدھے روئیں ابھرے ہوے تھے اور ایک گہری کاسنی ورِید اس کی لٹکتی کھال پر نمایاں تھی۔ وہ چل کر پھاٹک تک گیا اور پٹوں کو بہت احتیاط سے بند کیا اور نیچے والی لوہے کی چٹخنی کو دبانے کے لیے پیر استعمال کیا۔ جب وہ ان ڈِھبریوں کو غور سے دیکھنے کے لیے جھکا جن سے تختے جوڑے گئے تھے تو دھوپ نے اس کی گدّی کو جھلسا دیا۔ تب وہ سیدھا ہوا اور اپنے اس بنگلے کی طرف قدم بڑھائے جو اس نے اُس وقت بنوایا تھا جب وہ اپنی نوجوان شریک حیات کے ساتھ پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر بسنے کے لیے جاوا سے آئے تھے۔ اس نے پہاڑی کی ڈھلان کا یہ قطعہ اس وجہ سے منتخب کیا تھا کہ یہ سستا بھی تھا اور شہر کے ساحلی علاقوں سے زیادہ ٹھنڈا بھی۔ یہ بنگلہ اس نے کئی بیٹوں کو دھیان میں رکھ کر بنوایا تھا۔ ایک بڑا وسیع بنگلہ، رین ٹری کے مانند مضبوط۔

بنگلے کے سامنے والے حصے نے زمین کی چوڑائی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ گھیر رکھا تھا۔ نچلی اور بالائی منزل میں چار چار دریچے تھے۔ بنگلے کی ڈیوڑھی ایک چوبی پیش دہلیز تھی۔ بالائی منزل استعمال نہیں ہوتی تھی، اس کے زینوں کو اس نے تختے جڑوا کر بند کروا دیا تھا۔ پچھلے دنوں جب اس نے بجلی کی وائرنگ دوبارہ کروائی تھی تو کاریگروں کو اوپر جانے نہیں دیا تھا۔ بعض اوقات راتوں کو بالائی منزل پر بلیوں کی بھدبھد اس کو سنائی دیتی۔ کنکریٹ کی پختہ روش، اونچی باڑ، آزو بازو اور پشت پر جست کے تاروں کا جنگلہ اور بھاری پھاٹک تازہ اضافے تھے۔

جب وہ ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو قریبی کھڑکی کا گلابی چھینٹ والا پردہ یوں ہلا جیسے ہوا نے اسے ہلا دیا ہو۔ قدم روک کر اس نے آنکھیں سکیڑیں تو اس کو پردے کے پیچھے کسی کی جھلک محسوس ہوئی۔ اس نے پورچ کی ٹھنڈک میں سنبھل کر قدم رکھا اور پھر دہلیز پر بیٹھ کر اپنے جوتے کھولنے لگا۔ ہُو کا عالم تھا۔

’’کون؟ تم ہو کیا؟‘‘ وہ اپنی آواز کو قابو میں رکھتے ہوے پکارا۔
کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے پھر پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ پھر اس نے نئی ملازمہ آہ نوئی کا ہیولا ہال کے اندھیرے میں چلتا ہوا پہچانا۔
’’تم اکیلی ہو کیا؟‘‘ اس نے اپنی آواز جھلّاہٹ سے پاک رکھنے کی کوشش کی۔

لڑکی نے اقرار میں اپنی مُنڈی زور سے ہلائی اور منھ پھیر لیا۔ وہ جو اپنی بالی عمر میں تھی اور دھوپ سے سنولائی ہوئی بھی تھی، اپنے کندھے لٹکائے کھڑکی کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے بشرے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ اس نے کس کے پردے کو تھام لیا اور اپنے بدن میں دوڑتی کپکپی کو روکنے کی کوشش کی۔

’’کیا ابھی کھڑکی میں سے تم جھانک رہی تھیں؟‘‘ اس نے اپنی درشتی پر تاسف کرتے ہوے بہت نرم لہجے میں پوچھا۔ یوں پردے کو لمبے بے تکے ہاتھ سے تھامے وہ اپنے بسنتی جوڑے میں بہت الھڑ لگ رہی تھی۔ جوں ہی لڑکی نے اپنے قدم بدلے، پردے میں سے روشنی در آئی اور اس کے نوخیز سینے کو چھونے لگی— اس نے فوراً ہی اپنی نظر ہٹا لی۔ اس کی پوروں کے سروں پر سنسناہٹ کچھ اس طرح ہونے لگی جیسے اس نے دن کی پہلی سگریٹ پی ہو۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ کو جنبش دی اور جیب میں کھسے قلم کا کلپ درست کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ خود کو سخت گیر ظاہر کرتے ہوے اس نے درشتی سے کہا، ’’تم جا سکتی ہو، اور آئندہ جھانکنا مت۔‘‘ وہ ہال پار کر کے گیا اور پنکھے کا بٹن کھول دیا۔

مگر وہ اس پر نظریں جمائے اسی جگہ کھڑی رہی۔ اس کے دہانے کے کنارے ایسے کپکپائے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو۔ دھوپ سرک کر اب اس کی گردن پر آ گئی تھی اور اس کے کان کے نیچے واقع اس مسّے کو تپا رہی تھی جو سیاہ نہیں تھا بلکہ منّے سے تازہ زخم کی طرح سرخ تھا۔ وہ ہچکچائی اور پھر اس نے ایک دم پردہ چھوڑا اور سر جھکائے جھکائے چل دی۔ ہال کے پرلے سرے پر سبز دروازے کے پاس سے جب وہ گزری تو اس کے قدم تیز ہو گئے اور پھر وہ بنگلے کے پچھواڑے نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ کنگ منگ کی نظروں نے ہال میں اس کی چال کا تعاقب کیا اور پھر اس کی نگاہیں پلٹ کر سبز دروازے پر ٹک گئیں۔ وہ بند تھا۔

جب وہ چلی گئی تو یہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنا بایاں ہاتھ اس نے گود میں اس طرح رکھ لیا کہ وہ گھڑی پر نظر رکھ سکے۔ پنکھے کی ہوا نے اس کو ٹھنڈک پہنچائی۔ کچھ دیر بعد اس نے قمیص اتاری اور دبے پاؤں چلتا اپنے کمرے میں گھس گیا جو کہ پچھواڑے کی طرف جانے والی راہداری کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس نے اپنی وارڈروب کھولی اور اپنے کپڑوں کو چھوا، ان کے کرارے پن کو محسوس کیا۔ قمیص اٹھا کر اس نے اپنی ناک سے لگائی اور پاک صاف سُوت کی مہک کو سونگھا۔ اس لڑکی نے کتنی عمدگی سے اس کے کپڑے استری کیے تھے۔ کتنے افسوس کی بات تھی کہ اس کا اپنا لباس ہمیشہ میلا اور جسامت سے ایک سائز بڑا نظر آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ آیا وہ اس کو کچھ نئے جوڑے خرید دے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی تو پہلی نظر میں وہ کتنی سہمی ہوئی نظر آ رہی تھی، مگر اس کے اس خوفزدہ بشرے میں بھی کوئی بات ایسی تھی جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ اگر وہ کلی ہوتی تو وہ اس کو پروان چڑھاتا اور اس کے کھل اٹھنے کا انتظار کرتا، اور جو کہیں وہ اس کی اپنی بیٹی ہو سکتی تو وہ کتنا فخر محسوس کرتا۔ لیکن جب بھی اس سے لباس کے بارے میں پوچھنے کا اسے خیال آتا، ایک احساسِ گناہ اس کے حواس پر غالب آ جاتا اور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پاتا، گو اس کا ارادہ ہمیشہ اس پر شفقت کرنے کا ہی ہوتا۔

کرسی کھڑکی کے قریب گھسیٹ کر اور کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا کر بیٹھا وہ اپنے کمرے میں سے باورچی خانے میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک سگریٹ وہ پھونک چکا تھا اور دوسری جلانے والا تھا کہ اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل کر باورچی خانے میں گیا۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ ریفریجریٹر میں سے اس نے ٹھنڈا پانی لے کر ایک جگ میں انڈیلا اور سبز دروازے تک لے کر آیا۔ آہستہ سے اس نے چابیوں کا گچھا نکالا اور دروازے سے کان لگائے کھڑا رہا۔ چھوٹی سوئی چھ پر تھی۔ اس نے توقف کیا، یہاں تک کہ بڑی سوئی لرزتی ہوئی بارہ پر آ گئی۔ پھر اس نے دروازے کو چابی لگائی اور دھیمے سے دروازہ تھوڑا کھول دیا۔

اس کمرے کی تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ دروازے میں کھڑے کھڑے اس نے کونے میں لگے ایک بستر پر نظر ڈالی۔ وہاں کوئی جنبش نہیں تھی۔ پنجوں کے بل کمرہ پار کرکے اس نے آہستہ آہستہ جھلملی کی ڈوری کھینچی۔ کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ تن کر سیدھا ہوا، چل کر پلنگ تک آیا اور اس کی پٹی پر کولھا ٹکا کر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کو تکنے لگا۔

وہ چت پڑی تھی اور باقاعدگی سے سانس لے رہی تھی۔ جونہی اس کے وزن سے پلنگ دبا، وہ کسمسائی اور اپنے ٹخنے ایک دوسرے پر رکھ لیے۔ ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ چھوٹا سا دکھائی دیتا تھا، سُتا ہوا، جھرّیوں سے بھرا جنھوں نے اس کے رخساروں پر چھوٹے چھوٹے سفید کھرونچوں کی سِیون سی بنا دی تھی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح بند نہیں تھیں، ان کی ہلالی درزوں میں سے وہ اس کے ڈھیلوں کو حرکت کرتے اور اس کے سوجے ہوے بیضوی پپوٹوں کو پھڑکاتے دیکھ سکتا تھا۔ بال اس کے سفید تھے، بس اطراف میں کہیں کہیں سیاہ پٹیاں سی تھیں۔ اس کی تازہ جھریوں کو یوں بیٹھ کر تلاش کرنا کچھ عجیب سا عمل تھا۔

کولھے کے پٹھے دُکھنے لگے تو اس کو پہلو بدلنا پڑا۔ اس ہل جل نے اس کی بیوی کو بےچین کر دیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، پتلیوں کو نچایا اور ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ کروٹ لے لی اور خود ایک گولے کی طرح گڑی مڑی ہو گئی۔ اس کے سارونگ نے اوپر کی طرف کھسک کر اس کی ٹانگوں کو ننگا کر دیا جو لیموں کی طرح زرد اور کسی نہ کسی حد تک اب بھی کسی کسائی دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں ان پر پھیریں تاکہ اُن بیتے ہوے ابتدائی ایام کو یاد کر سکے۔ یقیناً اس کے ناخنوں نے ان پر خراشیں ڈال دی ہوں گی کیونکہ اس نے پیر زور سے جھٹکے اور اپنا ہاتھ منھ پر رکھ کر ہانپنے لگی۔ پہلی نظر میں وہ اس کو پہچان نہ سکی تھی اور وحشت زدہ سی گھورے جا رہی تھی۔

’’کیا میں نے تم کو پریشان کر دیا؟‘‘ وہ اس پر جھکا اور اس کا ہاتھ منھ پر سے ہٹایا۔ ’’آئی ایم سوری۔‘‘ اس کی بیوی نے اسے دیکھنے کے لیے خود کو اٹھا لیا۔ ’’نہیں نہیں، اٹھو مت، سو جاؤ، میں ہوں یہاں پر،‘‘ وہ پھڑکتے ہونٹوں سے مسکرایا۔

جماہی لیتے ہوے اور پیر پھیلاتے ہوے وہ تکیے پر گر گئی۔ بستر پر پَسر جانے کے بعد وہ سیدھی چھت کو تکنے لگی اور نچلے ہونٹ کو اندر دبا کر زور سے چبانے لگی۔اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن قبل اس کے کہ وہ اس کو چھوتا، اس نے اپنا ہونٹ چھوڑ دیا جو اُچک کر بہت گلابی سا ہو کر باہر نکل آیا۔ خود کو اپنی کہنیوں کے بل اٹھا کر اس کی بیوی نے اس کے چہرے کو دوبارہ غور سے دیکھا اور ایک ہاتھ سے اس کا ڈھیلا گریبان پکڑ لیا۔ وہ تنی ہوئی مسکراہٹ لیے دم سادھے بیٹھا رہا۔

’’پانی، پانی، مجھے پانی چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں شناسائی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔

’’اچھا، اچھا، تم لیٹ جاؤ، میں تمھارے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘ ٹھڈّی سے اٹھتی ہوئی لرزش کو دباتے ہوے اس نے نرمی سے اپنی قمیص اس کے ہاتھ سے چھڑائی اور مسکراہٹ اپنے چہرے پر جما لی۔ اس کا ہاتھ لگتے ہی اس کی بیوی نے اپنا منھ گھما لیا۔ رخسار کی ہڈی باہر کو ابھر آئی جس نے اس کی گردن کی شکنوں کو سپاٹ کر کے غائب کر دیا۔

دروازہ کھلا چھوڑ کر جب وہ جگ اور پلاسٹک کا پیالہ لے کر لوٹا تو اس کو اسی حالت میں پایا۔ یہ طے کرتے ہوے کہ وہ اب اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا، اس نے بیوی کو دبی آواز سے پکارا، ’’دیکھو میں پانی لے آیا۔ لو پی لو۔‘‘

دونوں ہاتھوں سے پیالہ تھام کر اور اپنی ناک کے بانسے سے اس کی کگر ملا کر وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی۔ کچھ دیر بعد اس کا دم رکنے لگا اور پانی اس کے رخساروں پر بہنے لگا۔ وہ پیالے کو پچکانے لگی۔ اپنے فیصلے کو فراموش کرتے ہوے اس نے پیالہ اس کے ہاتھ سے چھین لینا چاہا۔ جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، وہ زور سے چیخی اور اپنا سر جھٹکا۔ پانی چھلک گیا اور اس کے بلاؤز پر سامنے گیلی دھاریاں بن گئیں۔ فوراً ہی اس نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کھڑا ہو گیا اور اپنی دکھاوٹی مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی مٹھیاں کس کر اپنی رانوں کے اطراف گاڑ لیں۔ کافی دیر تک وہ اپنی سانس روکے رہا۔ اس بار اس کی چیخ بھلا کتنی دور تک گئی ہو گی؟ کتنی دور؟ دیکھتے دیکھتے پورے گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ملازمہ اب کہاں دبکی بیٹھی ہو گی بھلا؟ تلخی کی ایک لہر نے اس کے خیالات کو منتشر کر دیا۔ اس کی کنپٹیاں لپکنے لگیں۔ کیا اس نے کافی خمیازہ نہیں بھگت لیا تھا؟ ایک ایسی بات کے لیے جو وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ہو۔ اس کے جسم میں ٹھنڈے غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر ہمیشہ کی طرح خود کو اس کے سامنے یوں کھڑے دیکھ کر اس نے اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کیا۔ اور جیسے ہی وہ ذرا پرسکون ہوا، ایک نئے طرز کی کوفت اور حقارت اس کے حلق میں مثل کڑواہٹ کے باقی رہ گئی۔ اس نے اس عجیب ذائقے کو محسوس کیا اور پھر اسی راضی برضا والی کیفیت نے اس کے جسم پر طاری ہو کر اس کی ہڈیوں کو کچھ اور نرم اور عضلات کو کچھ اور کمزور کر دیا۔ سب کچھ اتنا مایوس کن اور بےکیف لگ رہا تھا۔ دونوں کی عمر تھوڑی سی باقی رہ گئی تھی۔ جو وہ یہاں تک جھیل لے جا سکتا تھا تو اب چند روز اور مزید کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اس کو اپنی بیوی کی خبرگیری تو کرنا ہی تھی کہ اس کے سوا اب اس کا تھا بھی کون۔
اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین لینا ایک غلطی تھی۔ ہاں، اس کی غلطی ہی تھی۔ اس نے اپنی مٹھیاں کھولیں تو اس کے کندھے لٹک گئے۔ اب وہ اس کو ٹھیک طرح دیکھ سکتا تھا۔ حیرت سی حیرت! اس کا چہرہ کتنا سُت گیا تھا، بس ہڈیاں ہی نکلی رہ گئی تھیں۔ ایک سہ پہر کو جب وہ دفتر لنچ بریک کے بعد معمول سے ذرا پہلے پہنچ گیا تھا تو چھوٹے اسٹور روم کے پاس سے گزرتے ہوے اس کے کان میں یہ بات پڑی تھی کہ عورت جب بوڑھاتی ہے تو کون سا حصہ پہلے مرجھاتا ہے۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں اٹک گیا تھا، ’’میری خالہ بولتی ہیں۔۔۔۔‘‘ ایک تیکھی سی آواز سنائی دی تھی جو ہنسی ضبط کرتے ہوے تھوڑے توقف کے بعد بولی تھی ’’کہ جب عورت بوڑھی ہونے لگتی ہے تو مکھڑے سے چل کر نیچے کو سوکھنا شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم تو نیچے کی طرف بہت بعد میں بڑھتے ہیں نا۔‘‘ اور ہنسی کے فوارے کھلکھلاہٹ سمیت ابل پڑے تھے اور وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا۔

اس کی بیوی تکیے پر سر ٹکائے یوں چپ چاپ پڑی تھی جیسے اس چیخ نے اسے نڈھال کر دیا ہو۔ وہ اپنی لٹوں کو اپنی چھنگلیا کے گرد لپیٹنے لگی، دھیرے دھیرے اور سنبھل سنبھل کر، اور ساتھ ہی وہ جَھرجَھری آواز میں گنگنانے لگی۔ کمرے میں دھوپ نے جگہ بدل لی تھی اور روشنی کا ایک بڑا سا قطعہ اس کے بلاؤز پر بلّی کی طرح لیٹا اس کی جھریوں بھری خشک گردن کو چاٹ رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں وہ دیکھتے دیکھتے کتنی بوڑھی ہو گئی تھی۔ کیا یہ کسی اندرونی ناسور کے زیراثر خون بہہ جانے کے سبب ہوا تھا کہ جس نے اس کے گوشت کی ساری نمی چوس لی تھی؟ سنگاپور یونیورسٹی کے طب کے استاد نے اس کا معائنہ کیا تھا اور وہ اس میں کوئی جسمانی آزار دریافت نہ کر سکا تھا۔ بیوی کے بارے میں اس نے پروفیسر سے اس وقت بات کی تھی جب وہ سامنے کوچ پر مصنوعی نیند کے غلبے میں بےحس پڑی تھی۔ اور واپسی کے سفر میں وہ اپنی سیٹ پر اس وقت تک غافل بیٹھی رہی تھی جب تک کہ نوجوان مردوں اور عورتوں کا ایک غول جشن آزادی کی خوشیوں سے سرشار، غل مچاتا، ڈبے میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس نے بےچینی سے پہلو بدلا اور اپنے چہرے کے بائیں حصے پر یوں ہاتھ مارنے لگی جیسے اس پر مکھیاں آبیٹھی ہوں۔ بہرحال وہ خود اس موج اڑاتے غول کو دیکھ کر برانگیختہ ہو گیا تھا، خاص طور پر ان نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر جو اپنی اونچی اونچی اسکرٹس میں بہت اطمینان اور یقین سے راہداری میں چل رہی تھیں اور ان کے پسینے میں نہائے چہرے اس گرم دوپہر میں بہت چونچال لگ رہے تھے۔ جب وہ اس کے لیے پانی لینے باہر گیا تھا تو اسے نوجوان لڑکیوں کے اس ہجوم میں اپنا راستہ بنانے کے لیے دھکاپیل کرنا پڑی تھی اور جب اس کی رانوں نے ان کے پٹھوں سے رگڑ کھائی تو اس کی ناک میں ان کی جوان مہک پہنچی تھی اور اس کے رگ و پے میں خون تیزی سے دوڑنے لگا تھا جس نے اسے بے دم کردیا تھا۔ واپسی پر اس کی بیوی نے غالباً اس کی جولانی کو بھانپ لیا تھا کیونکہ وہ اکڑ کر بیٹھ گئی تھی اور اس نے پیٹھ پھیر کر پانی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے رومال احتیاط سے نکالا تھا اور بیوی سے چھپا کر ایک گولہ سا بنا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا تھا اور اس کے چیخنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔ جس کے بجاے اس نے اپنے بال کھول ڈالے اور لٹیں اپنی انگلیوں میں لپیٹ کر انھیں اپنے منھ کے سامنے مثل پروں کے پھیلا لیا تھا۔ جب وہ لڑکیاں اِدھر سے گزریں تو یہ منظر دیکھ کر کھلکھلائی تھیں اور اس کو بہت غصہ آیا تھا۔

اس کو بستر پر لیٹے لیٹے، بالوں سے کھیلتے اور انگلیوں کو بار بار حرکت دیتے دیکھ کر وہ بڑی تھکن محسوس کرنے لگا۔ اس کی ٹھڈّی دکھنے لگی اور درد مٹانے کے لیے اس نے اپنی ریڑھ دوہری کر لی۔ کاش کہ وہ چند ساعت سر ٹکا کر جھپکی لے سکتا، بن سوچے رہ سکتا۔ مرد سب سے پہلے کہاں سے سکڑتا ہے؟

اس خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوے وہ بولا، ’’آؤ، باہر باغیچے میں چلیں۔ الامینڈر کھِلے ہوے ہیں، چلو۔‘‘ اس کو کمرے سے لازماً نکالنا چاہیے۔ ان لڑکیوں کے تصور نے کنگ منگ کو گڑبڑا دیا تھا۔

لیکن وہ سنی اَن سنی کر رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں اور کمبل کے ایک کونے کو باربار مروڑے جا رہی تھی جیسے اس سے چھوٹی چھوٹی گیندیں بنا رہی ہو۔

’’آؤ چلو،‘‘ اس نے منت کی، ’’الامینڈر سچ مچ اتنے پیارے سے اجلے اجلے، پیلے پیلے ہیں۔‘‘ اس نے لمبی سانس کھینچی۔ کمرہ جوان جسموں کی مہک سے پٹا معلوم ہوا۔ ایک خطاکار کی طرح اس نے چونک کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اب بھی اپنا کمبل مروڑے جا رہی تھی۔
’’ارے بھئی چلو نا،‘‘ اس نے اپنی قوتِ برداشت پر تعجب کیا۔ بیوی نے کمبل چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ بالوں کی طرف اٹھ گیا۔

’’چلو گی نا؟‘‘ اس کی آواز میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہوے اسے خیال آیا کہ خوابیدہ نفرتوں کے اس مستقل نقاب کے باعث وہ کتنی مسخ ہو چکی تھی۔ ایک درگزر نہ کرنے والا انتقامی کینہ اس پر مسلط تھا اور کسی بھی لمحے اس کے خدوخال بگڑ سکتے تھے۔ اس بارے میں سوچتے ہوے ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور جتنا جتنا اس نے سوچا اتنا ہی اس کا جوش بڑھتا گیا۔ اب اس کو کمرے سے باہر لے جانا لازم ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی بھی کافی وقت تھا۔ لیکن پہلے اس کو پرسکون کرنا ضروری تھا۔ اس کی وحشت کو دور کرنا تھا۔

’’اچھا تو بھئی،‘‘ وہ بولا، ’’تمھیں اپنے بالوں کی اتنی فکر ہے تو میں تم کو برش لا دیتا ہوں، پھر تم پیاری لگو گی۔‘‘ اس کہنے کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو وہ کر رہی تھی۔ بس وہ تجربے سے یہ جان چکا تھا کہ اس کے سامنے کچھ بھی بول دینا اس کی توجہ مبذول کر لیتا تھا۔ اس کا خیال غلط نہیں تھا۔

جب کہ وہ یہ کہہ رہا تھا، اس کی بیوی نے پھرتی سے اپنے ہاتھ میں اپنا منھ چھپا لیا اور ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے گالوں پر آنکھوں کے کناروں تک پھیل گئی۔ ایک دبی دبی سی ہنسی پھوٹی اور گزر گئی۔ برسوں پہلے جب وہ اس کو پہلی مرتبہ ایک مشترک پارٹی میں لے گیا تھا تو لوٹتے وقت کسی بیوقوف انگریز نے ملائی زبان میں اس کی ستائش کی تھی اور وہ ایک دم ٹھٹک کر اور گردن اٹھا کر بھونچکّا سی ایسے دیکھنے لگی تھی جیسے کہ اب کیا کرے۔ اُس وقت بھی اس نے اچانک اپنا ہاتھ اٹھا کر رومال سے منھ چھپا لیا تھا اور ہنسنے لگی تھی جس پر کنگ منگ نے شرمندگی محسوس کی تھی۔ ویسا ہی احساس اس پر اس وقت بھی طاری ہوا۔ بس صرف اس کے کنارے چپچپی نفرت اور حقارت سے سنے ہوے تھے، پھربھی اس نے تنی ہوئی مسکراہٹ اپنے چہرے پر برقرار رکھی۔ بیوی نے ہامی میں سر ہلا دیا۔

اس کو وہیں چھوڑ کر وہ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھی ڈریسنگ ٹیبل تک گیا، جھکا اور برش کی تلاش میں درازیں کھکھوڑنے لگا۔ آئینہ نکال دیا گیا تھا۔ ایک دن وہ لوٹتے میں ہوٹل پر رک جانے کی وجہ سے گھر دیر سے پہنچا تو اس کو آئینے کے سامنے اس طرح کھڑے پایا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ بےطرح کٹ گیا تھا، خون بہہ رہا تھا اور آئینے کی کرچیاں فرش پر بکھری پڑی تھیں۔ بہلا پھسلا کر اس کو بستر تک واپس لانے میں اسے کافی وقت لگا تھا اور جب ڈاکٹر نے اسے خواب آور دوا دے دی تھی تو وہ کرسی پر بیٹھا رہا تھا اور اس کی تیمارداری کرتا رہا تھا۔ تب ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ لوٹتے ہوے کبھی ہوٹل پر نہیں رکے گا۔ یہ اس کی ایک اور غلطی تھی۔

’’مل گیا،‘‘ وہ برش دکھاتے ہوے جیسے ہی مڑا، اس کی نمائشی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جاتی رہی۔ وہ اپنے بستر پر نہیں تھی۔ وہ تیزی سے بستر کی طرف لپکا اور گھٹنوں کے بل جھک کر پلنگ کے نیچے دیکھنے لگا۔ خون اس کے سر کی جانب چڑھ گیا اور وہ بڑی دقت سے کھڑا ہو سکا۔ آنکھیں موند کر سہارے کے لیے اس نے پلنگ کی پٹی پکڑ لی، یہاں تک کہ چکر کا اثر جاتا رہا۔ وہ کتنا بیوقوف تھا کہ اس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔

جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ تھوڑا سا لڑکھڑایا۔ اس نے اپنا سر آہستہ سے باہر نکالا اور خفیف سی بھی حرکت کی سن گن لینے لگا۔ دل ہی دل میں دعا مانگتا رہا کہ اس شام اتنی جلدی اس کو ہسیٹریائی دورہ نہ پڑے۔ وہ اپنی سانس روکے رہا تو تھوک اس کے منھ میں جمع ہو گیا۔ جوں ہی اس کو یقین ہوا کہ اس کی بیوی ہال میں نہیں ہے، وہ کمرے سے باہر آیا اور دروازہ بند کرنے کا خیال رکھا۔ پنجوں کے بل رینگتا وہ باورچی خانے کی طرف ہو لیا۔

جس وقت وہ داخل ہوا، آہ نوئی پھسکڑا مارے ترکاری کاٹنے میں منہمک تھی۔ اس کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا پیندا کس قدر کَس کے اس کے بسنتی پجامے پر دباؤ ڈالے ہوے تھا تو ہلکی سی جھنجھناہٹ اس کی رانوں میں دوڑ گئی۔ شاید اس نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ وہاں اکیلی نہیں کیونکہ وہ ایک دم گھبرائی سی آواز نکال کر پلٹی اور چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر تختے پر گر پڑا۔ خود کو تنبیہ کرتے ہوے کہ وہ پرسکون رہے گا، وہ ایسا بن کر باورچی خانے میں ہر طرف نظر دوڑانے لگا جیسے کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں، اور پھر خاموشی سے واپس پلٹ کر باغیچے کی طرف نکل گیا۔

جب وحشت کے ابتدائی آثار نمودار ہوے تو خوش بختی ہی سمجھیے کہ بنگلے کے تینوں اطراف جست کے تاروں کا اونچا جنگلہ لگوا کر وہ احتیاط اختیار کر چکا تھا۔ سامنے والی باڑ گھنی تھی اور وہ شمار ہی نہیں رکھ سکا تھا کہ اس کو اس کی خاطر کَے گاڑی گوبر استعمال کرنا پڑا تھا۔ مگر موجودہ چوبی پھاٹک لگنے سے قبل ایک چھوٹا سا جھولنے والا دروازہ تھا جس میں کنڈی لگی تھی اور جو آسانی سے کھولی جا سکتی تھی۔ ایک شام وہ یہ جھولنے والا دروازہ کھلا چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی۔ ڈھونڈنے والے پہاڑی کی ڈھلانوں پر چاروں اطراف پھیل گئے تھے اور کچھ وقت تک اس نے اس بڑے رین ٹری کی طرف اشارہ کرنے سے گریز کیا تھا جس کی ایک موٹی سی ٹیڑھی میڑھی ڈال ایک ضخیم پتھریلی چٹان پر جھکی رہتی تھی۔ مگر جب وہ ان لوگوں کو کہیں نہ ملی تھی تو پھر اس نے ان کو اس پیڑ کا بتایا تھا اور خود تھکن کا بہانہ کر کے ایک گِرے ڈالے پر بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ سب اپنی ٹارچیں لیے اس طرف بڑھ گئے تھے۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے تھے، اس نے ان کے قدموں کو گنا تھا۔ بڑے نعرے بلند ہوے جب ان لوگوں نے اس کو پتھریلی چٹان پر کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھا کر اس جھکے ہوے ٹیڑھے میڑھے ڈالے کو پکڑنے کی کوشش کرتے دیکھ لیا تھا، اور جب وہ لوگ اس کو لے کر اس کے پاس آئے تھے تب بھی اس نے چیخنا چلّانا بند نہیں کیا تھا اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوے وہیں ان لوگوں کے سامنے اس سے لپٹ کر رو پڑا تھا۔ یہ کئی برس پہلے ہوا تھا۔

چوبی پھاٹک اب مٹیالا ہو چکا تھا، اور اس کے جوڑ کی درزوں میں سبز کائی جم چکی تھی۔ ایک نظر میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ بند تھا، اس لیے وہ پورچ میں ہی کھڑا رہا۔ باغیچے میں ایک سبز لان تھا جس میں اس نے سب سے بڑھیا گھاس جو وہ خرید سکتا تھا، لگوائی تھی۔ اس میں جگہ جگہ گھنی پتیوں سے ڈھکے، لذیذ پھلوں والے چھوٹے درخت لگے ہوے تھے۔ اجلے اجلے، پیلے الامینڈر اپنی بھوری پھلیوں سمیت پھاٹک کے قریب اگے ہوے تھے۔ پانچ قسم کے ہبسکس کے پودے اپنے سرخ چکنے پھول اٹھائے لان کے وسط میں لگے تھے۔ اس نے کناروں پر لال اینٹیں چنوائی تھیں۔ الامینڈر کے قریب ہی فرنجی پانی کا ٹیڑھا میڑھا درخت اپنی شاخوں کو اینٹوں کی حد سے بھی آگے پھیلائے وقفے وقفے سے اپنے پھولوں کے پیراشوٹ زمین پر بھیج رہا تھا۔ ہوا میں قدرے خشکی پیدا ہو گئی تھی اور دھوپ اب پیڑوں کی اوپری شاخوں پر پہنچ گئی تھی۔

’’نکل آؤ،‘‘ پیڑوں کی طرف مبہم انداز میں ہاتھ اٹھ کر اس نے بلند آواز سے کہا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے!‘‘ دم سادھ کر اس نے کن سوئیاں لیں۔ ’’تم بےایمانی کر رہی ہو،‘‘ وہ بولا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے، اگر تم یہ کرو گی تو میں نہیں کھیلوں گا۔‘‘ پھر اس نے اپنا سر رک رک کر بائیں سے دائیں گھمایا اور آسمان کی طرف دیکھا جو غروبِ آفتاب کے باعث ہلکا بینگنی بلکہ تقریباً بھورا گلابی ہو رہا تھا۔ تھوک گٹکتے ہوے وہ چلّایا، ’’نکل آؤ!‘‘ اور پھر اس نے ظاہر کیا کہ جیسے وہ اندر جا رہا ہو۔ اس نے گھڑی پر تیزی سے ایک بےچین نظر ڈالی۔

اس کی آواز کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی بیوی کا قہقہہ لان کے سرے پر لگی ہبسکس کی جھاڑیوں کے پیچھے سے گونجا۔ وہ جھاڑیوں کو ہلاتی کھڑی ہو گئی۔ بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوے تھے۔ مسکراہٹ سے تھوڑی دیر کے لیے چہرہ شکن آلود ہوا اور پھر وہی بیزاری لوٹ آئی۔ کناروں پر کھلے چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کو توڑتے ہوے رکتا رکاتا وہ اس کی طرف گیا۔

’’شریر کہیں کی، تم پہلے کیوں نہیں نکلیں؟‘‘ اس نے پھول اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیے، جن کو اس نے اونچا اٹھا لیا اور ان کی پنکھڑیوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے مسلنے لگی۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں پر لگے سرخ دھبوں کو دیکھا تو پھر سے قہقہہ لگایا۔ اس نے فوراً ہی جیب سے رومال گھسیٹا اور گھبرایا سا اس کے ہاتھ پونچھنے لگا۔ جس وقت وہ یہ کر رہا تھا تو اس نے کنکھیوں سے پورچ کے پاس والی کھڑکی کے پردے کے پیچھے تھوڑی سی حرکت دیکھی۔

’’آہ نوئی، آہ نوئی،‘‘ اس نے آواز دی، ’’ذرا چٹائی تو نکال لانا۔‘‘
سایہ پردے کے پاس سے ہٹ گیا۔

اور پھر وہ باہر آئی، روشن زرد کوندے کی طرح لپکتی، لپٹی چٹائی بغل میں دبائے اور اپنا سر جھکائے وہ ان کی طرف آئی۔ ان کے قریب پہنچ کر چٹائی اس نے زمین پر ڈال دی اور چپ چاپ کھڑی ہو گئی۔ اس کی بیوی نے ملازمہ کو گھورا اور بدبداتے ہوے مٹھیاں بھینچیں۔ لمحے بھر کو اسے اندیشہ ہوا کہ اس کی بیوی اس ملازمہ کو بھی اسی طرح کھدیڑ دے گی جس طرح وہ گزشتہ سال ایک اور ملازمہ کے ساتھ کر چکی تھی، مگر اس مرتبہ اس کی بیوی نے فقط تھوک دیا۔ ’’مجھے الھڑ چھوکریوں سے چڑ ہے، بڑی کتّی خصلت ہوتی ہیں،‘‘ وہ پھنکاری، مگر لڑکی ہلی تک نہیں۔ وہ جلدی سے بولا، ’’جاؤ، تم جا سکتی ہو۔‘‘ وہ اتنی جلدی کوئی ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لڑکی جانے کو مڑی تو اس کی کمر کتنی پتلی دکھائی دی۔

’’آؤ یہاں بیٹھیں،‘‘ اس نے چٹائی گھاس پر بچھا دی۔ جاتی ہوئی لڑکی پر سے نظریں ہٹائے بغیر اس کی بیوی چٹائی پر تن کر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ پھر دور کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

اس نے اپنی جیب سے تاش کی وہ گڈی نکالی جو اس کی تلاش کے دوران اس نے میز پر سے اٹھا لی تھی۔ گڈی کے دو حصوں کو انگوٹھوں اور انگلیوں میں دبا کر اس نے بار بار پھریری دی۔ یہ کرتے دیکھ کر اس کی بیوی کے چہرے کا انداز بدل گیا۔ اس نے پتوں کو پھینٹا اور اس کے سامنے کھلے پتے ایک قطار میں جمانے لگا۔ وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھتی رہی اور جب اس نے ہاتھ روکا تو بغیر کچھ کہے وہ جھکی اور اس نے غلام اٹھا لیا۔ اس نے گردن ہلائی اور مسکرایا۔ تین ماہ قبل وہ تاش کے پتے پہچان ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ ترکیب اسے ڈائجسٹ کے ایک مضمون سے سوجھی تھی۔ شہر کا کوئی بھی ڈاکٹر اس کے لیے سوا مسکّن دوائیں تجویز کرنے اور اس کو پرسکون رکھنے کا مشورہ دینے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جہاں تک اس پاگل خانے تن جونگ نائیر اسپتال کا تعلق تھا تو وہ تو ایک قیدخانہ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ وہ اس کو وہاں تو کبھی نہیں بھیج سکتا، حالانکہ چند ڈاکٹر اس کی تصدیق کرنے کو تیار تھے۔ اس کے کچھ کاروباری دوستوں نے سمجھایا بھی تھا کہ آزادی ملنے کے بعد بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تب سے وہ متعدد بار تن جونگ نائیر تبدیلیاں دیکھنے جا چکا تھا۔ گزشتہ چھ برسوں میں وہ کئی بار وہاں جا چکا تھا مگر ناامیدی کے سوا اسے کچھ نہ ملا تھا۔

پتے پھنٹے اور چابکدستی سے پرندوں کے پروں کی طرح دوبارہ چٹائی پر پھیلا دیے گئے۔ مگر اس بار اس نے ان کو چھوا تک نہیں۔ اس نے سر اٹھا کر بیوی کی طرف دیکھا۔ پپڑیاں جمے خشک بھورے ہونٹوں کو اندر باہر کرتے ہوے اس نے پھوپھو کرنا شروع کر دیا۔ پھولے ہوے غبارے اور پچکے ہوے جوف کی طرح گال پھولنے اور سکڑنے لگے۔ سوکھی ہوئی چام کے نیچے ہڈیاں اُبھر آئیں۔ دفتر میں اس لڑکی کا کہا ہوا جملہ اس کے ذہن میں کچوکے لگانے لگا، اور ایک صدمے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بیوی کے بارے میں ہی گفتگو کر رہی تھیں۔ یہ بات کان میں پڑنے سے چند روز پہلے وہ ایک جوان عورت کی طرح بنی ٹھنی اس کے دفتر آ دھمکی تھی اور جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دورے کی حالت میں تھی۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی وہ اس کو اپنے کمرے سے باہر لایا تھا۔ وہ ایک ایسی بےکیف گرم سہ پہر تھی جب ہر ایک اکھڑا اکھڑا اپنی ڈیسک پر بیٹھا وقت گزر جانے کا منتظر تھا۔ اس کی بغلوں میں پسینہ بہہ رہا تھا۔ جب وہ دفتر میں سے گزر رہے تھے تو اس کی بیوی ہاتھ چھڑا کر ایک لڑکی کی طرف لپکی تھی اور اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا تھا۔ لڑکی نے سسکی بھر کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی مگر اس کی بیوی نے ٹہوکا دے کر اسے دھکیل دیا تھا اور چیخ چیخ کر اس کا سینہ نوچنے لگی تھی۔ ’’بیہودہ! بیہودہ!‘‘ سب لوگ دم بخود دیکھتے رہ گئے تھے۔ چپراسی کی مدد سے وہ اس کو دفتر سے باہر لایا تھا۔ اس سہ پہر وہ پھر لوٹ کر دفتر نہیں گیا تھا۔

’’اچھا، بادشاہ اٹھاؤ،‘‘ اس نے اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوے کہا۔ اس کی بیوی پھونکیں مارتی رہی۔ اس کے گلے میں کچھ پھنسنے لگا اور اس کی آواز بیٹھ سی گئی۔ دفتر میں ہونے والے اس واقعے کی یاد نے اس کی تلخی میں اضافہ کر دیا۔

شاید اس تبدیلی کو اس نے محسوس کرلیا اور یک لخت پھونکنا بند کر دیا۔ اس کے بشرے پر تکان کا اثر نمایاں ہو گیا۔ اس کی آنکھیں گمبھیر ہو کر جھٹپٹے میں چمکنے لگیں۔ اس کا دایاں ہاتھ کانپا اور وہ بار بار اپنی انگلیاں کھولنے اور بند کرنے لگی۔ وہ بالکل چپ بیٹھی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اب وہ روئے گی یا اس پر چیخے گی۔

’’چلو اٹھاؤ،‘‘ اپنی آواز اور بھینچ کر اور اپنی تلخی کا مزہ لیتے ہوے اس نے اصرار کیا۔

اس کے بائیں رخسار کے عضلات جھٹکا لے کر پھڑکے اور جب اس نے گھبرا کر اپنا داہنا ہاتھ پھیلایا تو ساتھ ہی اس کو ٹکٹکی باندھ کر گھورنے لگی۔ اس کو گھورتے جو دیکھا تو اس نے اپنا سر ساکت رکھ کر اس کے آر پار دیکھنے والی ترکیب استعمال کی۔ اس بار اس نے ہتھیار ڈال دیے، اپنا سر جھکا کر اس نے اپنا ہاتھ پتوں کے عین اوپر ٹھہرا لیا۔ اچانک اس سکوت کو پہاڑی کی طرف اڑ کر جاتے ہوے ایک زرد پرندے کی سریلی آواز نے توڑ دیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور سر اٹھا کر پرندے کی اڑان دیکھنے لگی۔ جب اس نے پرندے کی اڑان کا رخ یہ دیکھا کہ وہ بڑے درختوں کی جانب لپک رہا تھا تو اس کے چہرے پر ہیبت چھانے لگی۔

’’یہ دیکھو۔۔۔‘‘ اس نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے کہا کیونکہ وہ بھی دیکھ چکا تھا کہ پرندے کی منزل کدھر تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، اس نے ہاتھ مار کر تاش چٹائی پر تتر بتر کردیے اور دونوں مٹھیوں سے گھاس پیٹ پیٹ کر بین کرنے لگی۔

’’کوئی بات نہیں، روؤ مت، کوئی بات نہیں!‘‘ اس کی تلخی کافور ہو گئی۔ اس نے اس گھور غم کو محسوس کیا جس نے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ اس پر اتنا اچانک ٹوٹا تھا کہ اس نے اسے بالکل پست کر دیا تھا۔ ایک بار تو اس نے بھی حقیقتاً ندامت محسوس کی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کانپتا ہاتھ اس کے شانے پر رکھ دیا۔ وہ ایک دم پرسکون ہو گئی۔ ’’آؤ لیٹ جاؤ، تم کو زیادہ آرام ملے گا۔‘‘ جب تک پہاڑی نظر نہ آئے، اس کا سکون برقرار رہے گا۔

اس نے بغیر کسی مزاحمت کے اُسے لٹانے دیا۔ چٹائی پر پاؤں پھیلا کر اس نے اپنے بازو پیٹ پر رکھ لیے اور آسمان کو تکنے لگی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگا، چھوٹی چھوٹی باتیں جو وہ سننا پسند کرتی تھی، ساتھ ہی ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے انگلیوں سے اس کی پیشانی سہلاتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ سو چکی تھی۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور آسمان گہرا اُودا ہو چکا تھا اور اکادکا بدلیاں تیر رہی تھیں۔ ہوا رک گئی تھی، زمین اپنی گرمی کے نم بھپارے رہ رہ کر چھوڑ رہی تھی۔ سڑک پر کاریں تواتر سے اپنی آوازیں بکھیرتی گزر رہی تھیں۔ جب وہ قریب سے گزرتیں تو ان کے ہیڈ ماپ باڑھ پر روشنی کی چتیاں ڈالتے اور سیاہ پتیوں میں جگنو سے اڑاتے۔ پہاڑی کی ڈھلانیں مدھم ہوتے جھٹپٹے کو جذب کر رہی تھیں۔ جیسے جیسے رات کے سائے پھنگیوں کی جانب بڑھ رہے تھے، ویسے ویسے درختوں کی گوبھی نما چوٹیاں اوجھل ہوتی جا رہی تھیں۔ اور وہ زرد پرندہ غالباً کسی بڑے درخت کی جھولتی شاخ پر بسیرا کیے نیچے کالی چٹانوں کو دیکھ رہا ہو گا۔ شام کے دھندلکے میں فرنجی پانی کا پیڑ وقفے وقفے سے اپنے سیاہ جسم سے چھوٹی چھوٹی سفید بوندیں ٹپکا رہا تھا۔

اور اسے سیوچو کا خیال آیا جو اپنے سفید لباس میں اس فرنجی پانی کے نیچے گرے ہوے پھولوں کے درمیان مثل ایک سائے کے بت بنی ششدر کھڑی پہاڑی کے عقب میں غروب ہوتے آفتاب کی بھڑک دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اس کو اندر بلا لے جانے کے لیے گھر کے اندھیارے سے نکل کر دبے پاؤں اس کے پیچھے پہنچا تو اس نے اس کو تقریباً ڈرا دیا تھا۔ وہ اس کی بیوی سے بہت چھوٹی تھی۔ سیوچو اپنی شادی کے دن کے انتظار کا وقفہ گزارنے کے لیے ان کے پاس رہنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ کنگ منگ کو اس کا نکاحی گواہ بننا تھا کیونکہ اس کے سسر کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کے کنبے میں اور کوئی مرد نہیں تھا۔ شادی میں ابھی کوئی دو ماہ باقی تھے۔ مگر وہ اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کرنا چاہتی تھی جو اس وقت رخصت ہو کر آ گئی تھی جب سیوچو ابھی بچی ہی تھی۔

غالباً پہاڑی کے حسن سے متاثر ہو کر گھر کے اندر جانے سے پہلے اس نے اس کے ساتھ بےتکلفی سے گفتگو کی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی سے بےتکلفی سے گفتگو کرنا اس کو ایک انوکھا تجربہ لگا تھا۔

پراسرار کمردرد اور پسینہ چھوٹنے کی تکلیف کے سبب اس کی بیوی کی صحت کچھ دنوں سے گر رہی تھی، اس لیے لڑکی کی میزبانی اس نے کنگ منگ کے سپرد کر دی تھی۔ بعض اوقات وہ سیوچو کو شہر لے جاتا تھا جہاں وہ خریداری کیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ اس کی خوش اخلاقی کا گرویدہ ہوتا گیا تھا۔ ہر شام کھانے کے بعد وہ دونوں باغیچے میں چلے جاتے تھے جبکہ اس کی بیوی معذرت کر لیتی تھی۔ اس کو آپس کی بیشتر گفتگو تو اب یاد نہیں رہی تھی؛ زیادہ تر تو وہی معمولی باتیں تھیں جن سے اس کو دلچسپی تھی۔ لڑکی کو بیرونی دنیا کی معلومات کی چیٹک تھی اور جلد ہی اس کی ابتدائی جھجک جاتی رہی تھی۔ اب وہ اس کو الجھن میں ڈالے بغیر اس کی طرف دیکھ سکتا تھا۔ دو چمکدار سیاہ آنکھیں جن سے رات کی روشنی منعکس ہوتی رہتی تھی، نازک بیضوی چہرہ اور آواز جو کھنکھناتی تھی۔ وہ اس کی بیوی کا بہتر مثنیٰ تھی اور حیرت انگیز طور پر نرم خو تھی۔ اس کی بیوی میں تو ایک مخصوص سی سنگدلی کا شائبہ تھا، ضبط کے پارچے تلے مستور ایک خوابیدہ ڈاہ۔ لڑکی کو دیکھ کر اسے پیلی چڑیا کا پوٹا یاد آ جاتا تھا۔
اب وہ صحیح صحیح تو دہرا نہیں سکتا تھا کہ یہ سب ہو کیسے گیا تھا۔ ایک شام وہ تاش کھیل رہے تھے کہ اتفاقاً اس کی انگلیاں اس کی ہتھیلی کی پشت سے چھو گئیں جو ٹھنڈی تھی مگر اس کو یوں معلوم دیا جیسے اچانک کوئی سلگتی چنگاری آ گری ہو۔ اس کی ریڑھ تن گئی تھی۔ اس رات کے بعد وہ اس سے کترانے لگا تھا۔ اس نے اپنے ان احساسات کو دبانا شروع کر دیا تھا جنھوں نے ایک عجیب پریشان کن صورت اختیار کر لی تھی۔ مگر چند ہی راتیں ڈانواڈول رہنے کے بعد اس نے اس واقعے کو ذہن سے جھٹک دیا تھا بلکہ اسے اس قسم کی بات سمجھنے لگا تھا جس کی پروا نہیں کرنا چاہیے تھی۔ آخر تھا تو وہ ایک امرِ اتفاقی۔

اول اول تو وہ لڑکی حیران پریشان رہی تھی اور اس کے اندر کی تبدیلی کو سمجھ نہ پائی تھی، قہقہے اس کے اب بھی کھنکتے تھے۔

آہستہ آہستہ اس کو گھورے جانے کا احساس ہوا تھا اور پھر جب بھی وہ اس پر سے اپنی نگاہ جلد نہیں ہٹاتا تھا تو اس کی تیوری پر تشویش نمایاں ہو جاتی تھی۔ وہ اس سے خوفزدہ نظر آتی تھی۔ مگر جب تک رات کی دبیز ہوا میں اس کی تازہ سنگتروں جیسی خوشبو آتی رہتی تھی تب تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی کہ وہ لڑکی اس کو پراسرار سمجھتی تھی۔

جس روز ملک کی آزادی کا اعلان ہوا تھا، وہ بار میں اپنے کاروباری ساتھیوں کی سنگت میں جام لنڈھا کر اور ویٹریسوں سے ٹھٹھولیاں کر کے جشن مناتا رہا تھا اور جب وہ معمول سے ذرا دیر میں گھر پہنچا تھا اور اپنے پنجوں پر اپنا توازن قائم کرتے ہوے کار سے نکلا تھا تو وہ اس کو فرنجی پانی کے نیچے آسمان کی طرف منھ اٹھائے کھڑی آتش بازی کا تماشا دیکھتے ہوے ملی تھی۔ جلوس بہت پہلے گھر کے پاس سے گزر کر دور جا چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتا اس کے نزدیک گیا تھا۔ وہ اس سے معلوم کرنے لگی تھی کہ شہر میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا۔ بےشک وہ شراب کی ترنگ ہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کی جلد کو چھیڑا تو برانڈی کے اثر سے نرالے احساسات اس کے تن بدن میں دوڑ گئے تھے، یہاں تک کہ اس کو پور پور مدہوش ہوتی لگی تھی۔ وہ شہر کی ان خوشی سے تمتماتے چہروں والی حسیناؤں کے تصور کا ہی اثر تھا جس نے اس سے وہ حرکت سرزد کروائی تھی۔ اس نے اس کو اپنی بغل میں کھینچا تھا اور سر ابھی چکرا ہی رہا تھا کہ اس کو چوم لیا تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ آتش بازی نے آسمان پر روشنی کی ایک چھتری سی چھا دی تھی اور اندھیارے میں اجالے کے نقطے سے بکھیر دیے تھے اور جیسے ہی اس نے اپنے آپ کو چھڑا کر علیحدہ کیا تھا، ان کی نظر پورچ میں کھڑی ہوئی بیوی پر پڑی تھی۔ لڑکی خود کو چھڑا کر بھاگی تھی اور اس کی بیوی کے پاس سے گزر کر دوڑتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ یہ سراسر اس کی نادانی تھی۔ اگر وہ اس رات بھاگی نہ ہوتی تو اس نے کوئی نہ کوئی عذر تراش لیا ہوتا۔

رات گئے تک آتش بازی چھوٹتی رہی تھی مگر گھر میں ایک بےچین کر دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجاے وہ جھونک میں آ کر پنکھے کے نیچے کوچ پر ہی پڑ رہا تھا۔ اس کی بیوی نے اس کا سامان کمرے کے باہر پھینک دیا تھا۔ اس کو گمان گزرا کہ ایک مرتبہ اس نے خواب میں کسی تاریک سائے کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا تھا اور جب اس نے کروٹ لی تھی تو سائے نے اس کے گال کو چھوا تھا۔ صبح ہوتے جب اس کی نیند اچٹ گئی تھی تو وہ اٹھ گیا تھا اور تادیر ہال میں ٹہلتا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے کمرے میں جھانکا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سو رہی تھی۔ وہ دوبارہ ٹہلنے لگا تھا۔ آخرکار وہ دوسرے کمرے کی طرف گیا تھا اور جب اس نے دروازہ کھولا تھا تو وہ کانپ رہا تھا۔ مگر سیوچو کا بستر خالی تھا۔ وہ اس کو پورے گھر میں چپ چاپ تلاش کرتا پھرا تھا اور پھر باغیچے میں نکل گیا تھا۔ جب وہ گھر میں جانے کے لیے پلٹ رہا تھا تو اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ باہر سڑک سنسان تھی۔ بےچینی محسوس کرتے ہوے وہ ہال میں آیا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو جگانے کی ہمت کی تھی اور جس وقت تک وہ کھوجیوں کو اکٹھا کر سکے تھے، دن نکل آیا تھا۔ ایک تنگ حلقہ بنائے انھوں نے پہاڑی کی ڈھلانوں کو کھنگالنا شروع کیا تھا۔ اس کی بیوی نے ہی سب سے پہلے اس کو رین ٹری کی اس ٹیڑھی میڑھی شاخ سے جھولتے لٹکتے دیکھا تھا۔ ایک چھوٹا سفیدپوش پیکر سیاہ چٹان کے اوپر لٹکا ہوا تھا۔ جب دوڑ کر وہ اُدھر گئی تھی اور اس لڑکی کو نیچے کھینچنے لگی تھی تو اس کی آہ و زاری نے دور دور تک پہاڑی کی خاموشی کو پاش پاش کر دیا تھا۔ سہارا دے کر وہ اپنی بیوی کو گھر لے آیا تھا اور ڈاکٹر بلوایا تھا۔

وہ حقیقتاً پشیمان تھا۔ ذہن ہی ذہن میں اس نے تقدیر سے شکوہ کیا تھا۔ آخر کو تھی تو وہ ایک معمولی سی بات، پھر اس کا انجام یوں کیوں ہوا؟ کنگ منگ نے کبھی بھی یہ حقیقت قبول نہیں کی کہ زندگی ایسے ہی صورت اختیار کرتی تھی جیسے جھینگر کے حلق سے نکلی ایک یکہ و تنہا تھرتھری رات کو پہاڑ بنا دے۔

یہ سات برس پہلے کی بات تھی۔ رات کی خنک ہوا نے اس کے چہرے کو منجمد کر دیا اور وہ کانپا۔ گھڑی کے روشن ڈائل پر 7:54 کے ہندسے نظر آئے۔ اس کی بیوی اب بھی چٹائی پر سوئی پڑی تھی۔ سڑک پر اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ دھیمے دھیمے ایک نئی آواز ابھری۔ شروع میں بہت مدھم، دور سے آتی ہوئی گاجے باجے کی آواز، جو بتدریج قریب آتی گئی۔ بیوی اب بھی سو رہی تھی اور وہ اس اُدھیڑبُن میں تھا کہ آیا وہ پھر وہی کچھ ہونے دے۔ گردن گھما کر اس نے ہال کی روشنیوں کو گلابی پردوں میں سے چھن کر آتے دیکھا اور اپنے ہونٹ چباتے ہوے اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ جس بات کا خیال اسے آیا تھا، وہ نہ ہو۔ سیوچو کی موت کے بعد وہ اندر سے ڈھے گیا تھا۔ بند ٹوٹ چکا تھا۔ آبِ زُلال اب غلیظ سیل بن چکا تھا۔ اس نے اپنے گھٹنوں میں سر دے لیا اور اپنی چپنیوں کو زور سے دبایا۔ یہاں تک کہ ماتھا دُکھنے لگا۔ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر باڑ کی سمت دیکھا۔ آتے ہوے جلوس کے گیس ہنڈوں سے آتی ہوئی روشنی کی وجہ سے باڑ سلمہ ستارے والی ہو گئی تھی اور ہوا میں سانپ کی طرح لہرا رہی تھی۔ جلوس کی آوازوں نے پھیل کر فضا کو پُرشور کر دیا تھا۔ گاتی بجاتی آوازیں، نفیریاں، بینڈباجوں پر فوجی نغمے… اور اچانک مائیکروفون نے تلوار کی طرح وار کیا۔ ایک تیز کرخت آواز آئی، ’’آزادی، ہماری قوم زندہ باد!‘‘ اور خلقت کی طرف سے نعرہ بلند ہوا، ’’آزادی، آزادی!‘‘

اس کی بیوی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور بغیر کچھ سمجھے دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ یک لخت تاریک آسمان میں دور اوپر آتش بازی پھٹ پھٹ کر اپنی شاخیں پھیلانے لگی تو جلوس میں سے زوردار نعرے بلند ہوے۔ ایک پل کے لیے اس کی بیوی بالکل حواس باختہ رہی اور پھر ایک جست مارکر چیخ پکار کرتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔

جب وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گھسا تو وہ اپنے بستر پر لیٹ چکی تھی اور اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔

’’آہ نوئی! آہ نوئی!‘‘ کنگ منگ بیوی کی چیخوں سے اپنی آواز زیادہ بلند کرتے ہوے پکارا، ’’اِدھر آؤ، فوراً!‘‘ اس نے خود کو بیوی پر گرایا اور جب وہ اٹھنے لگی تو اسے جکڑ لیا۔ گردن گھمائی تو اس نے ملازمہ کو دروازے میں ٹھٹکے ان دونوں کو دیکھتے ہوے پایا۔ ’’جلدی کرو! جلدی سے گولیوں کی شیشی اور ایک کپ پانی لے آؤ۔۔۔۔ جلدی کرو!‘‘ اس نے چیخ کر سہمی ہوئی لڑکی کو حکم دیا۔ لڑکی پھرتی سے گئی اور دوا کی شیشی اور پلاسٹک کپ لے کر آ گئی۔ ’’ادھر آؤ!‘‘ اس نے اپنا آزاد ہاتھ ہلایا۔ ’’جب میں دوا دوں تو تم ان کو کس کر دبائے رہنا۔‘‘ اس نے دل میں دعا مانگی کہ وہ اٹھ کر بھاگ نہ جائے۔ لڑکی نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔

جب اس کی بیوی نے دیکھا کہ اسے کون پکڑے تھا تو گالیاں کوسنے اس کے منھ سے ابل پڑے۔ لڑکی پیلی پڑ گئی۔ اپنی انگلیوں کی لرزش کو قابو میں کرتے ہوے اس نے شیشی کا ڈھکن کھولا اور گولیاں اپنی ہتھیلی پر انڈیلیں اور پھر جھک کر اس نے بیوی کے پے در پے چپتیں لگائیں اور اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی چمٹی سی بنا کر اس کے گالوں کو دبایا اور زبردستی اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ اس نے منھ سے غرغراہٹ پیدا کی، حیرت انگیز قوت سے بل کھا کر پہلو بدلا، اپنا چہرہ اس کی گرفت سے چھڑا لیا اور اسی لپیٹ میں لڑکی کو وہ اپنے ساتھ گھسیٹ لے گئی۔ اس اچانک زورآزمائی نے اس کا توازن بگاڑ دیا اور اس نے خود کو اس حالت میں پایا کہ اس کا سینہ لڑکی کے کندھوں کے اوپر تھا۔ زور لگا کر اس کی بیوی نے دوبارہ اٹھنا چاہا تو لڑکی کے سرین اچھلے اور اس کے پیٹ سے ٹکرا کر پچک گئے۔ اس کی رانوں میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اپنا بایاں ہاتھ لڑکی کے سر کے اوپر سے نکال کر اس نے بیوی کے رخسار پھر انگلیوں کی گرفت میں لیے، آہستہ آہستہ اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے گولیاں اس کے لرزتے منھ میں ڈالیں اور منھ بند کر کے دوسرے ہاتھ سے ناک دبا دی۔ اس کی بیوی نے گولیاں یوں نگلیں جیسے اُبکائی لے رہی ہو۔ لڑکی اب رونے لگی تھی۔ اس گڑبڑاہٹ میں اس نے اس کے سرین پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر کانپتے ہوے کمزوری محسوس کرنے لگا۔ تادیر تینوں اسی طرح ایک دوسرے میں الجھے رہے۔
ایک دھچکے کے ساتھ اس کو احساس ہوا کہ وہ تو لڑکی کے کان کے نیچے واقع گلابی مسّے کو چاٹ رہا تھا، اپنی زبان کی نوک سے اس کو تر کر رہا تھا اور اس کی ناک اس کی لیموں جیسی مہک کو یوں سونگھ رہی تھی جیسے کہ وہ کتّا ہو۔ وہ خود کو اس کے بدن سے مس کر رہا تھا، اور تب ہی غشی کی ایک لہر سی اس پر سے گزر گئی۔ اپنے جسم کو اس سے دور ہٹاتے ہوے وہ خود کو آپے میں لایا اور اپنے آپ کو تھکی تھکی آواز میں کہتے سنا، ’’تم اب جا سکتی ہو۔‘‘ اس کی بیوی اب بھی اس کے بوجھ تلے دبی پڑی تھی۔ لڑکی اس کے جسم پر دباؤ ڈالتی اٹھی اور جب وہ پلنگ سے اتری تو اس کا اسپرنگ اپنی جگہ آیا اور پلنگ چرچرایا۔ جب اس نے منھ گھمایا تو اس کی نظریں لڑکی کی عجیب الجھن میں گرفتار نظروں سے ملیں۔ وہ ابھی تک پلنگ کے قریب کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بات کو پا جانے والی چمک تھی۔ ’’تم جاؤ، میں ٹھیک ہوں…میں اب ٹھیک ٹھاک ہوں،‘‘ اس نے دہرایا اور منھ پھیر لیا۔ وہ ذرا سا کُب نکالے وہاں سے چل دی۔ جب وہ چلی گئی تو وہ اپنی بیوی پر جھکا چپکے چپکے روتا رہا جو کچھ اس طرح ساکت پڑی تھی جیسے مردہ ہو۔

دھوم دھڑکّا آدھا گھنٹہ ہوا ختم ہو چکا تھا۔ وہ آہستگی سے پلنگ سے اٹھا، باغیچے میں جا کر بکھرے ہوے تاش سمیٹے اور چٹائی کو لپیٹا۔ رات اندھیری تھی اور آتش بازی اب بھی آسمان پر چھوٹ رہی تھی۔ اس کو ناتوانی محسوس ہوئی تو اس نے ایک درخت سے ٹیک لگا لی۔ ایک بڑا سا چکنا پھول اس کے گال کو چھوتا ہوا زمین پر جا گرا۔

جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑا، لڑکی کے کمرے کی بتی بجھ گئی۔ اسے جُھرجُھری شروع ہوئی تو اس نے لان کے کنارے ٹھٹک کر آنکھیں موند لیں اور بڑی دقت سے اپنے قدم اٹھائے۔ اس نے غور سے اس کی آواز پر کان لگائے لگائے ہال کی بتیاں بجھائیں۔ جھینگر کے حلق سے ایک کراہ نکل کر فضا میں لرزنے لگی۔ فاختیٔ رنگ کی چھپکلیاں اپنے شکار کی تلاش میں چھت کے تختوں پر رینگیں۔ پچھلی بار کون سی تھی؟ کیا وہ آہ پن تھی جو پھرتی سے اپنا دروازہ بند کرتے ہوے ہکلائی تھی؟ یا وہ آہ کِم تھی جس نے کپڑوں پر استری کرتے ہوے عیّار نظریں مٹکائیں اور پھر اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی؟ یا آہ پوہ جس نے باہر نکل کر بھاگنے کے لیے بیرونی پھاٹک دھڑدھڑا ڈالا تھا؟ لگتا تھا اتنی بہت سی تھیں۔ تھکن محسوس کرتے ہوے وہ اپنی بیوی کے کمرے میں گیا اور کرسی پر مڑتڑ کے پڑ رہا اور بستر پر پڑے اس کے مبہم جسم کو دیکھتا رہا۔ خدا کا شکر کہ اگلے دن چھٹی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان ڈراؤنے خوابوں کی کشش سے پیچھا چھڑانے میں لگ گیا جو اب کثرت سے آنے لگے تھے۔ مکان کی بالائی منزل میں بلیاں دبے پاؤں گھوم رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ ایک طرح سے وہ خوش تھا کہ اس کا اپنا گھر تھا اور روپے پیسے کی طرف سے بھی کوئی فکر نہیں تھی۔ آزادی نے اس پر بڑا ہُن برسایا تھا۔ بس اگر سیوچو بھی زندہ رہتی۔۔۔۔ اگلے دن کے لیے جب اس نے گھڑی کو کوک دی تو اندھیرے میں اس کی روشن سوئی تھرتھرائی۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اس گلی کا نام باجے والی گلی کب اور کیسے پڑا، یہ بات کسی اور کو بھلے معلوم ہو لیکن یہاں رہنے والوں میں سے یہ بات شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ سواے اس ایک بوڑھے بدّو میاں کے، جس کے پاس بدن پر ایک جوڑ میلے کپڑے اور قصے کہانیوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ چہرے کی جھرّیوں اور جسم پر موجود خستہ حال کپڑوں کی گواہی سے یوں معلوم ہوتا کہ یہ شخص شہر بھوپال سے بھی پرانا بھوپالی ہے۔ دیکھنے میں ہر دم اکیلا، لیکن اس اکیلے کے وجود میں اس شہر کی ہر زندہ مردہ داستان سمائی ہوئی ہے۔ بس ایک تار چھیڑنے بھر کی دیر ہے کہ فقیر کے سُر آبِ ہفت دریا کی طرح بہہ نکلتے ہیں اور ہر بار “رہے نام اللہ کا!” پر جا کر ہی رکتے ہیں۔

اس کے پاس رہنے کو دوسروں کی طرح گھر نہیں ہے۔ پوری کی پوری گلی ہے ۔۔ باجے والی گلی۔ یہاں پر ہر گھر کے باہر نکلے ہوئے پٹیوں پر آپ کبھی، کسی بھی پٹیے پر بدو میاں کو بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ لیٹے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کھانستے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی روتے ہوئے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کیوں روتے ہیں کسی کو پتا نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح یہاں رہنے والوں میں سے کسی کو یہ پتا نہیں ہے کہ اس گلی کا نام باجے والی گلی کیوں ہے، جو کہ بدو میاں کو معلوم ہے۔ ان کو تو اپنے رونے کی وجہ بھی معلوم ہے لیکن ان سے کبھی کسی نے پوچھا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں اور انھوں نے بھی کسی کو بتایا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں۔

ایک بار میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تھی۔ جواب میں انھوں نے پہلے مجھے خوب گھور کر دیکھا۔ کچھ دیر تک مسکراتے رہے۔ پھر ایک دم اپنی گردن اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’کیوں خاں! بتا دوں؟‘‘ اور پھر زور کا ٹھہاکا لگا کر ہنسنے لگے۔ ایک بار پھر اوپر دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’چل رین دیتے ہیں۔ ابھی بچہ ہے۔ زرا سا بڑا ہون دو۔ سب بتا دوں گا۔‘‘

میں عجب سے بھری آنکھوں سے کبھی ان کو اور کبھی آسمان کو دیکھنے لگا تھا۔ مجھے تو آسمان میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر یہ بدو میاں بات کس سے کر رہے ہیں۔ سو میں نے سیدھے سوال ہی کر لیا، ’’کون ہے؟ کس سے بات کرے ہو؟‘‘

جواب تو مجھے نہیں ملا لیکن اس بار انھوں نے میرے دونوں گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا اور پھر سے رونے لگے۔ اس بار ان کے رونے سے میں ڈر گیا۔

میں تب بہت چھوٹا تھا۔ کچھ سال پہلے ہی اسی گلی میں سارے بچوں کی طرح اُواں اُواں کرتا پیدا ہوا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ آمد کی اس اذان کو بھی اس دنیا میں رونا کہا جاتا ہے۔

حقیقت میں رونے سے میری اصل پہچان ماں کے کارن ہی ہوئی۔ ماں بھی دن میں دوچار بار تو روتی ہی تھی۔ وہ بھی بنا آواز ۔ کبھی پتاجی سے جھگڑے کے نتیجے میں۔ کبھی حویلی کے اندر لگے اکلوتے نل پر حویلی کے آٹھ گھروں کی بھیڑ سے ہار کر اپنی خالی بالٹی کے ساتھ روتی تھی۔ کبھی کبھی اسی حویلی کے اندر کے دوسرے گھر میں رہنے والی اپنی ساس کی وجہ سے اور کبھی کسی ایسی بات پر جو میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
مجھے ماں کا رونا ذرا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں اس کے پاس جا کر اس سے رونے کی وجہ پوچھتا۔ ’’ماں، روتی کیوں ہیں؟‘‘ جواب میں وہ مجھے اپنی اور کھینچ کر سینے سے لگا لیتی اور پھر زور سے سُبکنے لگتی۔ کبھی کبھی صرف میرے گالوں کو ہاتھوں میں تھام لیتی اور بنا جواب دیے صرف مجھے چوم کر چھوڑ دیتی، کھیلنے کے لئے۔

اس وقت بدو میاں نے بھی میرے گال پکڑ لیے تھے اور جواب نہیں دیا تھا۔ بس پیار سے پچکارتے ہوے اتنا بھر کہا تھا، ’’میری جان! ذرا بڑے ہو جاؤ۔ سب بتا دوں گا۔ ابھی جاؤ اور جا کے کھیلو۔‘‘

میں چپ چاپ اٹھ کر چلا آیا تھا۔ گھر پہنچ کر ماں سے ضرور کہا تھا کہ بدو میاں آج پھر رو رہے تھے۔ ماں نے گھبرا کر مجھے پکڑ لیا اور پوچھا، ’’تو وہاں کیا کر رہا تھا؟ تجھے کتنی بار سمجھایا ہے کہ وہ پاگل ہے۔ تیری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ تیرے پتاجی کو بتا دیا تو سمجھ لینا کیا ہوگا۔ سمجھے؟ پاگل آدمی سے دور ہی رہنا چاہیے۔ پتا نہیں کب کیا کر دے۔ سمجھ گئے نا؟‘‘

ٹھیک سے تو یاد نہیں کس عمر میں جا کر ان باتوں کو سمجھا کہ کسی کو پاگل کیوں قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اُس گھڑی بھی میں نے ماں کے سامنے سہمتی میں گردن اس طرح ہلائی تھی مانو واقعی سب کچھ سمجھ گیا۔

٭٭٭٭٭٭

یوں تو ز مانے بھر کے تمام شہر اپنی شکل صورت، سڑک عمارت، مقامی لوگوں کے کھانے پہننے سے، اپنی زبان سے اور سب سے اوپر لوگوں کے کردار سے اپنی اپنی الگ پہچان پاتے ہیں۔ لیکن یہ شہر تو کچھ نرالا سا ہی ہے۔ نرالا بھی کیا، مستانہ سا شہر ہے۔ ایک دم پہلی نظر میں تو یہ دنیا کا سب سے پرانا شہر سا معلوم ہوتا ہے۔ مانو بابا آدم،اماں حوا کے ساتھ آسمان سے ٹپکے تو سیدھے یہیں آ کر دم لیا ہو۔

اُس گزرے دور میں جب کی میں کہانی کہتا ہوں، تب تو محل ہو کہ مٹی کا گھروندا، حالت دونوں کی یکساں تھی۔ چند ہنستی مسکراتی عمارتوں کے بیچ یہاں سے وہاں تک کے درو دیوار زخمی حالت میں کھڑے کھڑے، چراغِ سحر کی طرح بجھنے کو بیتاب دکھائی دیتے تھے۔ لیکن واہ رے خدا کی کرامت اور انسان کی حکمت، دونوں کی جُگل بندی نے اس شہر کو نہ جانے الہ دین کی کس غار میں باندھ چھوڑا تھا کہ نہ یہ چراغ پوری طرح بجھتے تھے اور نہ شہر کی اور نہ شہر کے باشندوں کی زندگی میں کوئی بڑا بدلاؤ آتا تھا۔

یوں نہیں کہ شہر بھر کی حالت ہی ایسی ہو۔ چند آسودہ اور خوش خرم لوگوں نے بڑے شوق سے دومنزلہ عمارتیں بھی تعمیر کی ہوئی تھیں، جو جگنوؤں کی روشنی کے مقابل آنکھوں کو چندھیاتی ٹیوب لائٹ کی روشنی سی نظر آتی تھیں۔ لیکن واہ رے اس شہر کے لوگ اور ان کا کردار۔ ان جگمگ عمارتوں پر اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوے کوئلے اور اینٹ کے ڈھیلوں سے ایسے ایسے قیامت خیز جملے لکھ چھوڑے تھے کہ اس کے بعد نظر عمارت پر کم اور جملوں پر زیادہ ٹکتی تھی۔ مثلاً ایک ایسی ہی چمکدار عمارت کی دیوار پر لکھا ایک جملہ یاد آتا ہے: ’’او زُہرہ جمال / تیری چھوکری کمال!‘‘
جنھیں لکھنا نہ آتا ہو گا وہ دوچار آڑی کہ کھڑی لکیریں کھینچ کر اپنی ذمےداری نبھانے کی کوشش کرتے۔ اور جو ان دونوں نعمتوں سے محروم رہے تو انھوں نے پان کی پیک سے بننے والی قدرتی پینٹنگز بنا کر اپنا فرض پورا کر رکھا تھا۔ اور جو کچھ کسر باقی رہ جاتی تو کاروباری اشتہار لکھنے والے پوری کر جاتے۔
اب دیوار پر اتنی ساری جگہ گھِر جانے کے بعد جب کہیں کچھ اور لکھنے کی گنجائش نہ ہوتی تب صرف ایک ہی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کاغذ پر چھپے اشتہار یا ننھے سے ہینڈبل ان سب کے اوپر کہیں بھی چپکا دیے جائیں۔ اور یہی ہوتا بھی تھا۔ سو دیوار پر ذرا نیچے کی طرف ’’جواں مردوں کی پسند – پہلوان چھاپ بیڑی‘‘ کا اشتہار لکھا ہے تو ٹھیک بیچ سے اس کو کاٹتا ہوا انھی جواں مردوں کی توجہ کا طلبگار تازہ تازہ لئی سے چپکا پوسٹر ہے: ’’اجمیر والے حکیم وِیرومل آریہ پریمی‘‘ کا جس پر مردانگی کے خفیہ مسئلوں کے علاج کی گارنٹی ہے: ’’ناامید نہ ہوں۔ حکیم صاحب پورے سات دن کے لیے یہاں سرائے سکندری میں ٹھہرے ہیں۔ آ کر ملیں۔‘‘ ملنے کا وقت تو لکھا ہوا لیکن فیس کا کوئی ذکر نہیں۔

اُدھر ایک دوسری گلی کی ایک دیوار پر کسی دل جلے نے دیوار کے سب سے اوپری حصے پر گویا سیڑھی لگا کر کوئلے سے خوب موٹے حروف میں لکھ چھوڑا ہے: ’’شبو کے دانت گندے ہیں۔‘‘ اسی کے نیچے بریکٹ میں ایک چنوتی بھی لکھی ہوئی ہے: ’’(اب مٹا کے بتاؤ۔)‘‘

اس سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبو اور ناراض مجنوں میاں یہیں کہیں رہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ اس ناکام عاشق نے پہلے بھی اسی طرح کا کوئی جملہ یہیں کہیں لکھا تھا جسے شبو یا اس کے کسی ہمدرد نے مٹا دیا تھا۔ شاید اسی لیے اس بار اس کھُنّس کا اعلان اتنی اونچی جگہ پر لکھا گیا ہے کہ جہاں تک آسانی سے ہاتھ نہ پہنچ سکے۔ اس جملے کی بےداغ موجودگی ہی اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت تھی کہ شبو اور شبو کے ہمدردوں کے نہ تو ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ اتنے اوپر تک پہنچ سکیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اونچی سیڑھی ہے۔ کل ملا کر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شبو غریب ہے، جسے کوئی سیڑھی کی اوقات والا لمڈا پریشان کر ریا ہے گا۔

اب آپ خدا کے واسطے مجھے اس بات پر نہ ٹوکیں کہ میں اچھی بھلی بات کرتے کرتے یہ رِیا پھِیا کیا کرنے لگا۔ اب جو زبان اپنی اوقات پر آ ہی گئی ہے تو میں کھل کے بتا ای دیتا ہوں کہ یہ اس شہر کی زبان ہے، جس میں دو ماترے والے حروف کی ایک ماترا حلق میں ای رے جاتی ہے اور جو ایک ماترا ہوئی تو سمجھو اس کا خدا حافظ۔ نتیجتاً گیہوں ذرا ہلکا ہو کر گہوں رہ جاتا ہے۔ چھوٹا اُو بچارا مڑ کر چھوٹا اِی رہ جاتا ہے، سو مُحلہ مِحلہ اور مُجھے مِجھے ہو جاتا ہے۔ اور ’’ہ‘‘ اس لیے گم ہو جاتا ہے گا کہ جاں بِنا وِسکے ای کام چل سکتا ہے تو پھر کائیکو اس بڑھاپے میں وِسے یہاں وہاں اَڑانا۔ اور آزادخیالی کا عالم یہ ہے کہ یہاں خان کا نون گم ہو کر غنّہ میں بدل کر خاں ہو جاتا ہے۔ جیسے اشرف خاں، مظہر خاں۔ سو حضور بھول چوک لینی دینی۔ اس قاعدے والی مادری زبان کے ساتھ بیچ بیچ میں یہ ‘پھادری‘ زبان تو آتی ریگی۔ اچھا، اس ‘پھادری’ کا پھنڈا بعد میں بتاؤں گا، پہلے ذرا بیچ میں لٹکی اس بیچاری شبو کی بات پوری کر لوں۔

تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ لگتا ہے کہ شبو بچاری غریب ہے اور صاحب، غریب کی پریشانی سے کسی کو کیا لینا اور کسی کا کیا دینا۔ الغرض نتیجہ یہ کہ شہر میں آپ کو ڈھیر سارے بےداغ لوگ بھلے مل جائیں لیکن بےداغ دیواریں ذرا کم کم ہی ہیں۔ اور ہاں، گھروں کے باہر پتھر کے خاصے چوڑے پٹیے ضرور دکھائی دے جاتے ہیں۔ ان پٹیوں کی چمک دیکھ کر ہی بڑی آسانی سے کوئی بھی جان سکتا ہے کہ ان کا استعمال اور دیکھ بھال خوب ہے۔ دن ڈھلتے ہی اس کے زندہ ثبوت بھی ملنے لگ جاتے ہیں۔ رات کی تیاری میں شام کو ہی محلے کا پکھالی (بھشتی) گلی میں موجود بمبے (نل) سے اپنا پکھال بھر کر حکم کے مطابق پٹیے پر پانی ڈال کر صاف کر دیتا ہے۔ مالک اگر زیادہ مالدار ہوا تو سڑک پر بھی چھڑکاؤ ہو جاتا ہے۔ اس گھڑی اُٹھتی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو آس پاس پھیل جاتی ہے۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[blockquote style=”3″]

ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب بھی ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی) شامل ہیں۔ ان کی کہانی The Slow sound of His Feet کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: ڈم بڈزو مارے چیرا (4 جون 1952 تا 18 اگست 1987)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ
لیکن جو کسی دن میں یکسوئی سے اس گوشے میں بیٹھ کر کان لگاؤں
تو شاید میں اس جانب اُس کے قدموں کی مدّھم آہٹ پاؤں
جے ڈی سی پےلو

گزشتہ شب میں نے خواب دیکھا کہ پروشیا کے سرجن جاہن فریڈرخ ڈائی فن باخ نے تشخیص کر دیا کہ میں بولنے میں اٹکتا اس لیے ہوں کہ میری زبان بہت زیادہ لمبی ہے اور اس نے نوک اور کناروں سے ٹکڑے کاٹ چھانٹ کر اس دراز عضو کو متناسب کر دیا۔ والدہ نے یہ بتانے کے لیے مجھے جگایا کہ والد کو چورنگی پر کسی تیزرفتار کار نے ٹکر مار دی۔ میں ان کی شناخت کے لیے مردہ خانے گیا۔ اُن لوگوں نے ان کی کھوپڑی دوبارہ دھڑسے ملا کر سی رکھی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی جتن بند ہی نہیں ہوئیں۔ اور پھر ہم نے ان کو اسی طرح دفن کر دیا کہ ان کی آنکھیں اوپر کی جانب تک رہی تھیں۔

جس وقت ہم نے ان کو دفنایا، بارش ہو رہی تھی۔

بارش ہو رہی تھی جس وقت میری آنکھ کھلی، اور میری نگاہیں انھیں تلاش کرنے لگیں۔ ان کا پائپ مینٹل پیس پر اسی جگہ موجود تھا جہاں رکھا ہوتا تھا۔ جس وقت میری نظر اس پر پڑی، بارش بہت تیز ہو گئی اور ٹین کی اس چھت پر جسے ان کی یاد کہیے، تڑاتڑ گرنے لگی۔ ان کی چرمی جلد والی کتابیں بک شیلف پر گم سُم اور سیدھی تنی کھڑی تھیں، جن میں سے ایک اولیور بلڈشٹائن کی لکھی ’’رہنمائے لکنت‘‘ تھی۔ وہیں ایک لوح بھی تھی جو اس اصل کی ہوبہو نقل تھی جس پر صدیوں قبلِ مسیح لکنت کی اذیت سے نجات پانے کی دلی دعا خطِ پیکانی میں تحریر تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ، ڈیموستھینیز اور ارسطو کو بھی لکنت کی شکایت تھی اور یہ کہ شہزادہ باٹس نے ہاتف کی ہدایت پر شمالی افریقیوں پر فتح حاصل کر کے اپنی لکنت کو زیر کیا تھا، اور یہ بھی کہ ڈیموستھینیز نے کنکر منھ میں لے کر سمندر کے شور سے زیادہ پاٹ دار آوازیں نکال کر خود کو بغیر اٹکے بولنا سکھایا تھا۔

جب میں بستر پر دراز ہوا اور میں نے اپنی آنکھیں موندیں، بارش جاری تھی اور میں ان کو بھیگی قبر میں پاؤں پسارے اور اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دینے کی کوشش کرتے دیکھ سکتا تھا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں خود اپنے وجود میں ان کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر میں بول نہیں سکتا تھا۔ ارسطو نے میری زبان کے بارے میں زیرلب کچھ کہا کہ غیرمعمولی موٹی اور سخت ہے۔ بقراط نے تب زبردستی میرا منھ کھولا اورآبلے ڈالنے والی اشیا میری زبان پر ڈالیں تاکہ فاسد مادّہ بہہ نکلے۔ کیلس نے سر ہلایا اور بولا، زبان کو بھرپورغرغرہ اور مالش درکار ہے۔ مگر جالینوس نے، وہ پیچھے کیسے رہ جاتا، بتایا کہ میری زبان محض بہت زیادہ سرد اور نم ہے۔ اور فرانسس بیکن نے تندوتیز شراب کا ایک جام تجویز کیا۔

شراب خانے کی طرف جاتے ہوے میں نے ٹاؤن شپ کے پھاٹک پر فوجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی۔ وہ سب کے سب گورے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک کودا اور اپنی بندوق میرے جسم میں چبھاتے ہوے میرے شناختی کاغذات دیکھنے کو مانگے۔ میرے پاس فقط یونیورسٹی کا شناختی کارڈ تھا۔ اس کی پڑتال میں اس نے اتنی دیر لگائی کہ میں حیران ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا خامی نکل آئی۔

’’پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں تمھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے جیب سے کاغذ اور پنسل نکالی، کچھ لکھا اور اسے دکھایا۔
’’گونگے ہو، ایں؟‘‘
میں نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’اور سمجھتے ہو میں بھی بس گونگا ہی ہوں، ایں؟‘‘
میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا، لیکن اس سے پہلے کہ میں سر کی جنبش کو روکتا، اس نے بڑھ کر میرے جبڑے پر ایک تھپڑ دے مارا۔ بہتے ہوے خون کو پونچھنے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کو راہ ہی میں روک کر اس نے مجھے دوبارہ مارا۔ میرے مصنوعی دانت چٹخ گئے اور میں ڈرا کہ کہیں کرچیاں نگل نہ جاؤں، سو اپنا ہاتھ منھ تک لائے بغیر میں نے ان کو تھوک دیا۔
’’دانت بھی نقلی،ایں؟‘‘
میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اس کو صاف طور سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، مگر میں نے اقرار میں سر کو ہلایا۔
’’تو شناخت بھی نقلی؟‘‘
بہت شدت سے جی چاہا کہ اپنے جبڑوں کو حرکت دوں اور اپنی زبان کو مجبور کروں کہ وہ سب کچھ دُہرا دے جو میرا شناختی کارڈ اس گورے پر ظاہر کر چکا تھا، لیکن میں صرف بےمعنی غوں غوں ہی کر پایا۔ میں نے اس کاغذ اور پنسل کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر گر چکی تھی۔
اس نے سر ہلا دیا۔
لیکن جوں ہی میں انھیں اٹھانے کے لیے جھکا، اس نے اچانک اپنا گھٹنا یوں دے مارا کہ میری گردن تقریباً توڑ ڈالی۔
’’توپتھر ڈھونڈ رہے تھے تم، ایں؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلایا جس سے اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ میں سر کا ہلنا روک نہیں سکا۔ اپنے پیچھے سے مجھے دوڑتے قدموں کی دھمک اور اپنی والدہ اور بہن کی چیخ پکارسنائی دی۔ پھر بندوق دغنے کا زوردار دھماکا ہوا۔ اَدھ رستے میں والدہ کو گولی لگی، اور ان کا جسم اس کی بُودار ہوا سے ٹھٹکا، اور ان کی نظریں سامنے گری رہیں۔ ایک سیکنڈ بعد ان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا اور وہ تیورا کر ڈھیر ہو گئیں۔

میری بہن کا میرے چہرے کو چھونے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ خود اس کے اپنے کھلے ہوے منھ کی سمت لپکا، اور میں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ میرے منھ سے چیخنے کی خاطر اپنے صوتی عضلات پر زور ڈل رہی ہو۔

والدہ نے ایمبولینس میں دم توڑ دیا۔

جب میں نے ان کو دفنایا، سورج اپنی بےزبانی سے چنگھاڑ رہا تھا۔ اس کی آب دار چمک کے گرد گرم اور سرد ہالے تھے۔ میری بہن اور میں، ہم دونوں واپس گھرلوٹنے کے لیے چارمیل پیدل چلتے صرف افریقیوں کے ہسپتال، صرف یورپیوں کے ہسپتال، برٹش ساؤتھ افریقہ پولیس کیمپ، پوسٹ آفس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے اور میل بھر چوڑے سبزہ زار کو پار کرتے، کالوں کی ٹاؤن شپ میں پہنچے۔

کمرہ اتنا خاموش تھا کہ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہونے کے لیے اپنی زبان ہلانے اور جبڑے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں کمرے کی کڑیوں کو گھور رہا تھا۔ میں اپنی بہن کو اپنے کمرے میں، جو میرے کمرے کے ساتھ ہی تھا، بےچینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوے سن سکتا تھا۔ میں خود ان کو اپنے وجود میں شدت سے محسوس کر سکتا تھا۔ میرے لوہے کے پلنگ، میری ڈیسک، میری کتابوں اور میرے ان کینوسوں کے سوا جن پر میں ایک مدت سے اپنے اندر کی خاموش مگر بےچین آواز کے احساس کو پینٹ کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا، میرے کمرے میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے جلتے ہوے آنسوؤں کو روکا اور ان کو اپنے وجود میں اتنی شدت سے محسوس کیا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ لیکن دروازہ رحم دلانہ وا ہوا، اور وہ ان کے ہاتھ کو سہارا دیے انھیں اندرلائے۔ وہ بےداغ سفید پیرہن میں ملبوس تھیں۔ ایک ہلکی نیلگوں روشنی ان میں ظہور کر رہی تھی۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں چمکدار سیف چمڑے کے سینڈل تھے۔ ان کے گوشت پوست سے عاری چہرے، آنکھوں کی جگہ خالی گڑھوں، نکلی ہوئی کھیسوں (ان کا ایک دانت تھوڑا جھڑ گیا تھا) اور رخسار کی ابھری ہڈیوں اور بےدردی سے گم ناک، ان سب کے مقناطیسی سحر سے میری نظریں ان پر جم کر رہ گئیں۔ یہاں تک کہ یوں لگا جیسے میری پھٹی پھٹی آنکھیں ان کی بےلوچ اور بےحس موجودگی میں دفعتاً جذب ہو گئی ہوں۔

وہ سیاہ لباس میں تھے۔ والدہ کا بے گوشت پوست ہاتھ ان کی بے گوشت پوست انگلیوں میں ساکت پڑا تھا۔ ان کا سر، جو دوبارہ ٹھیک طرح سے سیا نہیں گیا تھا، ایک جانب تشویشناک حد تک ڈھلکا ہوا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اب گرا کہ تب گرا۔ ان کی کھوپڑی میں پیشانی کے درمیان سے لے کر نچلے جبڑے تک ایک نوکیلے کناروں والی دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ کھوپڑی کو بھی اس حد تک بےڈھنگےپن سے اپنی اصلی حالت پر جمایا گیا تھا کہ لگتا تھا کسی بھی لمحے علیحدہ ہو کر بکھر جائے گی۔

میری آنکھوں کا درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں، وہ جا چکے تھے۔ ان کی جگہ اب میری بہن کھڑی تھی۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، جن کی وجہ سے میرے سینے میں ایک درد اٹھا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کو چھوا۔ وہ حرارت سے پُر تھی اور زندہ تھی اور اس کی ہی سانس میری آواز میں ایک دردناک اندیشہ بن گئی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کہنا لازم تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میری ذرا سی بھی آواز نکلتی، وہ میرے اوپر جھکی اور پیار کر لیا، جس کی تپتی تمتماہٹ سے لرز کر ہم دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔ باہر رات ہماری چھت پر منھ ہی منھ میں اول فول بک رہی تھی اور ہوا نے کھڑکیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی اورہم کہیں دور سے فوجی بینڈ کو تانیں اڑاتے سن سکتے تھے۔

Artwork by Dariusz Labuzek
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
تبصرہ

آج کا پانچواں شمارہ: تاثراتی جائزہ (تالیف حیدر)

کہانی:مرگ/مصنف:منوچہر خسرو شاہی:

آج کے پانچویں شمارے کی پہلی کہانی ہے۔ جس کا فارسی زبان سے اردو میں نیر مسعود نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ کہانی بھی نیر مسعود کی کہانیوں کی طرح علامتی ہے۔ جس میں ایک بوڑھا درخت جو کیڑوں سے اٹا پڑا ہے۔ اس کو بنیادی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایک بچہ جو اپنے گھرمیں پھیلے کیڑوں اور اور کیڑوں کو چباتی چینٹیوں کا بغور مشاہدہ کرتا رہتا ہےاس کے اعصاب پر وہ کیڑے اور چینٹیاں کس طرح سوار ہوتے چلے جاتے ہیں اس کو اشاراتی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک بوڑھا درخت اور ایک بوڑھا باپ ان دونوں کی زندگیوں میں موت کے گہرے ہوتے آثار کو مصنف نے بیانیے کی شکل میں ظاہر کیا ہے۔ ایک بوڑھا شخص بھی ان کرداروں کے درمیان ہے جو اپنے بڑھاپے اور تجربے کے ساتھ موت کے اندیکھے غار کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بچہ ان سب کو کیڑوں کی کی شالوں میں لپٹا ہوا دیکھتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سب خود کیڑے بن جاتے ہیں اور اسے چاروں طرف چیزوں کو نگلنے والے اور موت کے سائے کو گہرا کرنے والے کیڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کہانی میں ماں کا کردار بھی خاصہ دلچسپ ہے جس کی سسکیوں اور بین میں جوان شوہر کے گھلتے چلے جانے کا کرب ہے۔کیڑا اس کہانی میں موت کی علامت ہےاور چینٹیاں مرگ کے آثار کو مزید گہرا کرنے کا کام کرتی ہیں۔ منوچہر خسرو شاہی کی اس کہانی میں موت اپنی حقیقت کے ساتھ چاروں جانب کس طرح موجود ہے اس کا دلچسپ منظر پیش کیا گیا ہے۔

کہانی: بارش اور آنسو/مصنف: بابا مقدم:

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ آج کی کہانیوں کا انتخاب کمال کا ہوتا ہے اور طرفہ تماشا یہ کہ نیر مسعود کی زبان اس کی کہانی کی ترجمانی کرے۔ غالباً اسی کو سونے پر سہاگا کہتے ہیں۔اس شمارے کی دوسری کہانی بابا مقدم کی ہے۔ بابا مقدم فارسی زبان کے افسانہ نگار ہیں،جن کہانی بارش اور آنسو کا ترجمہ نیر مسعود نے کیا ہے۔ کہانی میں تین سے چار مناظر ہیں، یا یوں سمجھا جائے کہ تین مکمل اور چھوتا ادھورا منظر۔ سمندر کی فضا، اپنے جانور سے انسیت اور آنکھوں کی نمی یہ ان چار مناظر کی مختصر تفصیل ہے، کہانی چھوٹی سی ہے، مگر نہایت دلچسپ۔ عام حالات اور واقعات سے الگ ایک خاص ذہنی حالت سے متعلق۔ حالاں کہ اس میں دو نہایت عمدہ گھوڑوں کو موضوع بنایا گیا ہے جس سے کہانی میں ایک الم ناک فضا قائم ہو گئی ہے، لیکن یہ ان تمام جانوروں سے متعلق ہے جو انسانی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور ان سے انسانوں کا گہرا رشتہ بن جاتا ہے۔ جانور کیسا ہی بے عقل کیوں نہ ہو اس میں وفاداری کا جذبہ بہت ہوتا ہے۔ ایسی وفاداری جو انسان کے حصے میں کبھی نہیں آ سکتی۔ حالاں کہ جانور سے انسان کی محبت بھی ایک نوع کی خود غرضی کا ثبوت دیتی ہے جس کی مثال بھی محمود کی محبت سے ملتی ہے، کیوں کہ انسان اسی جانور سے پیار کرتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہوتا ہے، مگر جانور کا لگاو بے لوث ہوتا ہے۔ بابا مقدم نے اس کیفیت کی مختصر تصویر کشی کی ہے۔ جن لوگوں نے سمندر کی فضا کو دیکھا ہے انہیں بابا مقدم کا پیش کردہ یہ منظر بھی خوب بھائے گا۔ آخر میں انسان کی کمزوری کا ایک ادھورا عکس بھی اس کہانی میں ہے، وہ کمزوری جو انسان اپنے ہمسائے پر بھی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا۔ کہانی کے ترجمے میں بعض الفاظ و تراکیب میرے لیے بالکل نئی تھیں۔ مثلاً گردن باندھنا،بارک،مان گون،ملائی دلائی،کوتل،کمیت،کنوتیاں،چھل بل،کھریرا،پویا اورفٹن۔ اس کے علاوہ ایک محاورہ “معاملہ کس کروٹ بیٹھے گا” بھی پہلی بار پڑھا۔ اونٹ کا کس کروٹ بیٹھنا تو پڑھا تھا، مگر یہ معاملہ کیسے کروٹ بیٹھتا ہے اس کا علم نہ تھا۔

کہانی:ہوا کی ہوک/مصنف:جمال میر صادقی:

عام طور پر ایسی کہانیاں پڑھنے کو نہیں ملتیں، جن میں کوئی تحدید نہ ہو۔ جمال میر صادقی کی کہانی “ہوا کی ہوک” پڑھ کر اس کی تلافی ہو گئی۔ اس کہانی میں انہوں نے پانچ کردار تراشے ہیں،ایک بوڑھا شخص، دو اجنبی آدمی، ایک لڑکی اور ایک نہر(سڑک)۔ پوری کہانی میں ہوا کی ہوک کا منظر سب سے زیادہ دلکش ہے۔ ایک بوڑھا جو ایک لڑکی کو بچا رہا ہے اور پھر اسی کو مار رہا ہے۔ کہانی میں کسی کا کسی سے کوئی رشتہ بیان نہیں کیا گیا ہے اور یہ ہی کہانی کا حسن ہے۔ پڑھنے والا خود قیاس کرتا رہ جاتا ہے کہ آخر کس کے کردار کو اچھا سمجھے اور کس کے کردار کو برا۔ یہ کہانی ہماری زندگی کے ان لمحات کا بہترین عکس ہے جن میں ہم کوئی انجان واقعہ بلا ابتدا دیکھتے ہیں اور اسے بھی اختتام سے پہلے پہل تک دیکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ فیصلوں کی جلد بازی کے عہد میں اس کہانی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کہانی کا اصل متن فارسی زبان میں ہے، جس کا ترجمہ نیر مسعود صاحب نے کیا ہے۔ ایک لفظ خرافاتی غلط استعمال ہوا ہے، عام بول چال میں بھی یہ لفظ کسی بڑ بولے یا جھوٹے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اس کہانی میں ایک انجانے عمل سے گزرنے والے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک گالی قرمساق بھی بہت کم پڑھنے کو ملتی ہے، جس کا استعمال اس کہانی میں کیا گیا ہے۔ قرم ساق کو عام زبان میں بھڑوا یا اس سے کچھ بہتر زبان میں دیوث کا جا تا ہے جو اپنی عورت سے پیشہ کرواتا ہے۔

نظمیں/ ثروت حسین:

ثروت حسین کی گیارہ مختصر نظمیں اس شمارے میں شامل ہیں۔ سب کی تاثیر جدا ہے، ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ وہ آپ کو مختلف خیالات کی تہہ میں لے جاتی ہیں، بنا لفاظی کے۔ سامنے کی باتیں جن میں گہرے معنی چھپے ہوئے ہیں۔ آپ انہیں پڑھیے، پہلے لطف اندوز ہویئے، پھر ان کے معنی کی تہوں پر غور کیجیے، پھر مزید لطف اندوز ہویئے۔ اچھا ادب ایسا ہی ہوتا ہے۔ معنی بہت ہیں، مگر اسلوب بھی دلکش ہے۔ ان کی نظم منہ زور گھوڑے اس کی بہترین مثال ہے۔ ایک ایک سطر میں صرف ایک ایک لفظ کا اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ قاری ہر سطر پہ خوش ہوتا ہے، چونکتا ہے اور نظم ختم کر کے مسکرا دیتا ہے۔ سچی اور سامنے کی باتیں۔ جن سے زندگی کی نئی حقیقتوں کا تانا بانا بنا گیا ہے۔ ان کی نظموں کی یہ خصوصیت ہے کہ ان میں ایسا کرب ہے جس میں حسن کی جھلکیاں شامل ہیں، ماضی کا حسین خواب ہے، منظر کشی ہے، حقیقت میں سراب کا بھکرا ہوا رنگ ہے اور تازہ کاری ہے۔ ان کی مختصر نظموں میں حمد، بنفشئی دھنداور منہ زور گھوڑے مجھے خاص طور پر پسند آئیں۔

نظمیں /ذیشان ساحل:

اس شمارے میں ذیشان ساحل کی چھ نظمیں شاعر اور مسخرے، کشتی، ہیر نگ ایڈ، پتھر، نظم بعنوان نظم اور ایک گیت جو کبھی پرانا نہیں ہوتا شامل ہیں۔ ذیشان ساحل کی نظمیں خواب اور حقیقت کے ملے جلے اثرات سے مزین ہوتی ہیں، جن میں سادہ الفاظ اور مشکل استعاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ کسی جذبے یا احساس کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اور غیر مانوس الفاظ کو لغت کے مردہ گھروں سے کھود کھود کر نہیں لاتے، بلکہ روز مرہ کی محاوراتی زبان میں خواب آلود عناصر شامل کر دیتے ہیں۔ ان کی یہ چھ نظمیں بھی اسی نوعیت کی ہیں جن میں بصیرتوں کا المیہ، فنکار کی ناقدری کا نوحہ،لطیف طنز کی جھلکیاں،تلخ تجربات کے مرثیے،معصوم شکایتیں، امیجری، استعاراتی زبان اور ماضی اور مستقبل کے حسین خواب پروئے گئے ہیں۔نظمیں زیادہ طویل نہیں ہیں، مگر معنی خیز ہیں۔ اردو میں ایسی نظمیں کہنے کا ملکہ کم ہی شعرا کو حاصل ہے۔ ایک خاص بات ان نظموں میں یہ بھی ہے کہ آزاد نظموں کے نام پر جھوٹی اور بے ترتیب جذباتیت کا اظہار ان میں نہیں کیا گیا ہے اور صنف کی تذلیل کرنے سے شاعر نے سر مو انحراف کیا ہے۔

کہانی :نیلی آنکھوں کا گلدستہ /مصنف:اوکتایو پاز:

چھوٹی سی کہانی جسے آپ، افسانچہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک واقعہ مکمل یا ادھورا کچھ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کی کوئی واضح ابتدا نہیں اور نہ ہی انتہا۔ بس ایک تجسس۔ جس میں ایک شخص ہاتھوں میں چھرا لیے سڑک پر اسے روک لیتا ہے جو رات کے اندھیرے میں ماحول کے سناٹے اور خاموشی سے بیزار ہو کر چہل قدمی کے لیے نکلا ہے۔ گپ اندھیرے میں۔ اچانک مدبھیڑ ہوئی۔اجنبی کے ہاتھ میں چھرا ہے اور وہ ماحول سے بیزار شخص سےا س کی نیلی آنکھیں طلب کر رہا ہے۔ دونوں پریشان، دونوں ڈرے ہوئے، دونوں کی الجھنیں ان کی آوازوں سے عیاں۔ نیلی آنکھوں والے کا مطالبہ بھی عجیب کہ اسے اپنی محبوبہ کے لیے ایک گلدستہ بنانا ہے جو نیلی آنکھوں کا ہو۔ بیزار شخص بھی پریشان کہ اس کی آنکھیں تو بھوری ہیں۔ پھر ماچس کی تیلی رات کے اندھیرے کا کلیجہ چاک کرتی ہے،بیزار شخص کی آنکھوں کو چمکتا خنجر چھوتا ہے اور نیلی آنکھوں کا طالب اسے اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے۔ پھر خود اس پر اپنی گرفت ڈھلی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جاو تمہاری آنکھیں نیلی نہیں ہیں۔ کہانی ختم ہو جاتی ہے اور قاری پر سکوت چھا جاتا ہے۔ زندگی کا ہر وہ اتفاقی واقعہ اور وہ مشکل گھڑی اس کی آنکھوں میں روشن ہو جاتی ہے جب ا س کی آنکھوں کا نور وقت کے ہاتھوں چھنتے چھنتے رہ گیا۔اس کہانی کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

کہانی:لہر کے ساتھ میری زندگی/مصنف: اوکتایو پاز:

کسی ادبی فن پارے سے خواہ وہ کہانی ہو یا شاعری اس وقت تک آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے جب تک آپ میں زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی خواہش نہ ہو۔اگر آپ لکیر کے فقیر ہیں، تو یقیناً آپ کے لیے ادب ایک بے کار چیز ہے۔ اوکتایوپاز کی کہانی لہر کے ساتھ میری زندگی کو عام قاری مجھ جیسا،پہلی قرات میں الجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس کے معنی کی تہوں میں بکھری ہوئی صورت حال میں یکسانیت تلاش کرتا ہے۔ پھر دوبارہ اور سہ بارہ اس کہانی کو پڑھتا ہے اور ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک ایسا قصہ جس میں زندگی کو بالکل ایک نئے زاویہ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اس میں مصنف نے کتنی چابکدستی سے حیرتوں کے چراغ روشن کر دیئے ہیں۔ ہم اس طرح نہیں سوچتے، زیادہ تر لوگ یا یوں کہا جائے کے بے شمار تخلیق کار اس طرح نہیں سوچتے،بس سوچتے ہیں جس میں روایت کو بڑا دخل ہوتا ہے۔ اس کہانی میں لہر کا کردار ایک جاندار استعارہ ہے، زندگی کے بدلتے رنگوں کا، عشق کی تازہ کار دنیاوں کا، الجھنوں کا اور نئے المیوں کا۔ میں اس کہانی کو عشق کی جدید الف لیلہ کہہ سکتا ہوں، جس میں ایک ہزار واقعات نہیں ہیں، صرف ایک واقعہ ہے، مگر اتنا پر پیچ کہ اس میں جذبوں کی اتھل پتھل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ نئے تجربوں کی حیرانی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔آپ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے ایک بالکل ہی انوکھی افسانوی دنیا میں چلے جائیں گے۔ مختلف حقیقتوں کی بوقلمونی سے لطف اندوز ہوں گے اور زندگی کے نئے استعاروں سے روشناس ہوں گے۔ اس کہانی کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے اور یقیناً انہوں نے اپنی سحر بیانی سے اسے مزید آتش بار بنا دیا ہے۔ جملوں میں اتنی روانی بھر دی ہے کہ ترجمے کا گمان ہی نہیں ہوتا۔ اگر اوکتایو پاز نے اس فن پارے کو پہلی مرتبہ تخلیق کیا ہے تو اس کے ترجمے کی صورت میں آصف فرخی نے اسے کہانی کے تخلیق نو کے فرائض انجام دیئے ہیں۔

نظمیں/یہودا امیحائی:

Yehuda Amichaiایک مشہور فلسطینی شاعر ہیں، جن کی بیس نظموں کا ایک انتخاب اس شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ جن میں آٹھ نظموں کا ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے اور بقیہ کا اجمل کمال ہے۔ ان کے عناوین بم کا قطر، میری سابقہ طالب علم ذینس بہت بیمار تھا، پرچم کیسے بنا، وہ مکان جس میں میں نے کئی خواب دیکھے، جو لوگ اپنا گھر چھوڑتے ہیں، زندگی میں بعد از وقت، تم سیب کے اندر مجھ سے ملنے آتی ہو(ترجمہ : ا۔ا۔ س)،ہماری محبت کے عرصے بعد،ہمارے جسموں کے نشان کی طرح، بہت دنوں سے کوئی نہیں پوچھتا، بیل گھر لوٹتا ہے،اونچی ایڑی کے جوتے، میدان جنگ پر بارش، خدا کی تقدیر، ایک بار،جاسوس،وہ مجھے بلاتے ہیں، میں جس شہر میں پیدا ہوا اور میرے پاس جنگ کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں(ترجمہ:ا۔ک) ہیں۔ ان کی زیادہ تر نظمیں مختصر ہیں، دو چار طویل بھی ہیں۔ ان نظموں کے ترجمے میں سادہ لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ نظموں کا اصل متن عبرانی میں ہے، جس کا انگریزی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ نظموں کی فنی حیثیت اردو شاعری سے بہت مختلف ہے۔شاعرانہ تاثیر سے بھری ہوئی،لیکن مختلف المزاج۔ کچھ نظموں میں بلا کی جاذبیت ہے۔آپ پڑھیں گے تو یوں محسوس ہوگا کہ گویا یہ موجودہ حالات کی سچی تصویریں ہیں۔ مثلاًبم کا قُطر۔ کچھ نظمیں علامتی ہیں، مگر ان کی علامتیں بہت زیادہ پیچیدہ نہیں، مثلاًایک بار،تم سیب کے اندر مجھ سے ملنے آتی ہو اور وہ مجھے بلاتی ہے۔ مجھے ان نظموں میں جن دو نظموں نے سب زیادہ متاثر کیا وہ پرچم کیسے بنا اورمیرے پاس جنگ کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں، ہیں۔

کہانی: ایما بوواری کی آنکھیں/مصنف: جولین بارنز:

Julien Barnesکی تحریر” ایمابوواری کی آنکھیں” ان کے مشہور ناول Flaubert’s Parrotکا چھٹا باب ہے۔ جس کا ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے۔ مدیر نے اس تحریر کے اختتام میں Julien Barnesکا مختصر اً تعارف بھی کروایا ہے، لیکن یہ بات اس میں شامل نہیں ہے کہ اس ناول کو بوکر انعام سے نوازا گیا تھا۔ پورے ناول کا مطالعہ قاری پر کیا تاثر مرتب کرتا ہے اس سے قطع نظر اگر ہم اس تحریر کو صرف ایک مختلف مکمل تحریر کی صورت میں پڑھیں تو اس کا اثر تنقید کی کارگزاریوں سےدلچسپ بحث کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ پورے ناول کی فضا کیسی ہے، لیکن اس تحریر کی نمایاں خصوصیت کے پیش نظر محسوس ہوتا ہے کہ پورے ناول میں یہ ہی انداز روا رکھا گیا ہوگا۔ میں اس تحریر پر کوئی تنقیدی گفتگو نہیں کروں گا، اسے اچھا برا بھی نہیں کہوں گا، بس ایک جملے میں مضمون کی منجملہ فضا کو ظاہر کرنے کی کوشش کروں گا کہ اگر میں اس تحریر کو نہ پڑھتا تو ایسی بہت سی باتوں اور مثالوں سے نا آشنا رہتا کہ مجھےنقادوں سے نفرت کیوں ہے؟آپ خود اس تحریر کو پڑھیے اور جانیے کہ مصنف نےایک ناول میں فلوبیر اور بالزاک کے موازنے کا بخیہ کس طرح ادھیڑا ہے۔ ساڑے آٹھ صفحات کا جدید مقدمہ جو حالی کے مقدمے سے بہت مختلف ہے۔اس تحریر کا انتساب مترجم نے مظہر علی جید کے نام کیا ہے۔

ناول:اپنی دعاؤں کے اسیر-2/مصنف : فاروق خالد:

کہانیاں ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہیں، سب سے اہم چیز یہ کہ زندگی کتنے بدلتے رنگوں کی داستان ہے۔ اسے کہنے سے زیادہ محسوس کرنے کےعمل سے ہم کہانیوں کے مطالعے کے درمیان گزرتے ہیں۔ اجمل صاحب نے اسے اور قریب الفہم بنا دیا ہے، کیوں کہ وہ تکمیل اوتاثیر کو کہانیوں کے قالب میں اوروں کی طرح نہیں دیکھتے۔اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ کہانیاں جن کو آج نے شائع کیا ہے ان کا کوئی سر پیر نہیں، بس آپ انہیں دوسری کہانیوں کے سر پیر سے جدا ظاہری حسن سے مزین کہہ سکتے ہیں۔ فاروق خالد کے ایسے ہی ایک ناول ” اپنی دعاؤں کے اسیر-2″کے ایک باب کو شامل کر کے اجمل صاحب نے اس کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ناول کی کہانی کے مختلف حصے ہیں،جن میں ظاہری یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ کچھ کردار ہیں جن میں بشیر، کلثوم، سیما، ساجھی، ظفر احمد،امتیاز علی، افتخار حمید، روشی، بونا عبدالرحمن،کریم، ڈاکٹر، انڈے والا اور کنڈکٹر وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف حالتیں، مختلف نفسیاتی مسائل۔ کہانی کا ایک تار ایک سرے سے دوسرے سرے تک جڑا ہواہے، اس کے باوجود ایک دم سے منظر کا تبدیل ہوجانا اور خیالات کے بہاو کو نیا رخ مل جانا، یہ اس کہانی کی خاصیت ہے۔ جن لوگوں کو کہانی کے بے ترتیبی سے محظوظ ہونا نہیں آتا وہ یقیناً کہیں کہیں اکتا جائیں گے۔ مگر مجھے اس میں نہایت دلچسپ نفیساتی حالتوں کا بیان نظر آیا ہے۔ ایسے لوگ اور حالات ہمیں اصل زندگی میں کم نصیب ہوتے ہیں، انہیں خواب کی مانند کہا جا سکتا ہے۔ آپ کہانی کے باطن میں اترتے چلے جاتے ہیں اور مختلف احساسات سے دو چار ہوتے ہیں۔ کبھی ساجھی کی حالت پر مچل جاتے ہیں، کبھی ظفر کے معاملات پر حیران ہوتے ہیں، کبھی روشی کی حرکتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور کبھی بونے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ بشیر سے لے کر کنڈکٹرتک ہر شخص کا جادو جدا ہے اور کہانی کے مختلف منظر ناموں کا سحر الگ۔ دلچسپ ناول کا دلچسپ باب۔

زبان کہیں کہیں مشکل ہے۔ کچھ الفاظ سمجھ میں نہیں آتے، مثلاًپنگوڑا،دسمالی،مندریاں،مرام اورمالٹوں وغیرہ۔ یہ غالباً علاقائی زبان کے الفاظ ہیں اس لیے عام فہم نہیں ہیں۔ایک، دو جگہ پروف کی اغلاط بھی راہ پا گئی ہیں۔ مثلاً:
• گتے کا بڑا ڈبا اٹھا کر رکھا تھاٹ(ٹ اضافی ہے۔ ص:67)
• رات کا شو شروع ہوا تھا۔(شور میں ر چھوٹ گیا ہے۔ص:69)

کہانی : میراث/مصنف: علی امام نقوی:

علی امام نقوی کی کہانی میراث آج کےپانچویں شمارے کی دوسری سب سے اچھی کہانی ہے۔مجھے اس کہانی نے بے حد متاثر کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مصنف نے جس ماحول اور معاملات کا کہانی میں ذکر کیا ہے، میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عورت جو کہانی کا مرکزی کردار ہے اس میں دیہی اور شہری دونوں طرح کی زندگی میں سانس لینے والی غریب اورعام عورت کے مسائل نظر آتے ہیں۔ کہانی کا اختتام نہایت متاثر کن ہے۔جس سے کہانی معنویت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے:

“بڑی کی موت کی خبر دیواریں پھلانکتی گڑھی کے ہر گھر میں پہنچ چکی تھی۔ برادری کے ہی کسی آدمی نے منٹوں میں یہ خبر گھر کے مردوں تک پہنچا دی، تینوں بھائی اپنی اپنی رکشائیں ساتھ ہی لائے تھے۔ بڑا سر جھکائے بچوں کو سنبھال کر مردانے میں بیٹھ گیا۔ برادری والے کفن دفن کے انتظام میں جٹ گئے۔ گھر میں عورتوں نے رورو کر برا حال کر لیا تھا اور صابرہ باورچی خانے میں بیٹھی اپنی بھیگی آنکھوں سے چاول، سالن کی دیگچیوں اور روٹی کی چنگیری کو غور سے دیکھ رہی تھی۔”
(ص:105، کہانی : میراث،مصنف:علی امام نقوی، شمارہ :5، آج)

انتخاب :خوخے لوئس بورخیس: (Jorge Luis Borges)
کہانی:رخم کا ہلال:

چونکا دینے والی لا جواب کہانی۔میں اس جملے سے اپنی بات اس لیے شروع کر رہا ہوں کیوں کہ اس کہانی کے لیے اس سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ہو سکتے۔ ایک زخم کی چھوٹی سی داستان۔ جس میں خونی جنگوں کی گاتھائیں ہیں، فوجیوں کی دلیری ہے، موت کے بھیانک سائے ہیں، انقلابی نعرے ہیں، آزادی کے خواب اور سب سے بڑھ کر انسانی دغابازی اور چالاکی کا گہرا رنگ ہے۔ غالباً یہ بات کہانی پڑھنے والوں کو عجیب لگے کہ میں اس کہانی کا ہیرو لاکورا دا کے انگریز کے بجائے جون ونسنٹ مون کو سمجھتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ حقائق کا اظہار کرتا ہے، نہ اس لیے کہ وہ ہی ہمیں چونکاتا ہے، بلکہ اس لیے کیوں کہ وہ زندہ ہے۔ ذہین ہے اور مشکل حالات میں زندگی سے بھر پور فیصلے لینے کا مہتو جانتا ہے۔ ہر وہ فیصلہ جو انسان کو زندہ رکھے وہ میرے نزدیک مشکل گھڑی کا سب سے زیادہ ذہانت آمیز فیصلہ ہے۔ بورخیس اگر اس کہانی کا اختتام اس انداز میں نہ کر تا جس انداز میں اس نے کیا ہے اور جسے میں چاہ کر بھی بیان نہیں کر سکتا کیوں کہ کہانی کے رازوں تک پہنچنے کا چور دروازہ وہیں ہے تو اس میں غالباً ایسی چونکا دینے والی صفت نہ پیدا ہوتی۔ یقیناً مجھے اس کے ایسے اختتام کی قطعاً امید نہ تھا۔ کہانی کا اصل متن ہسپانوی زبان میں ہے اور انگریزی سے اس کا ترجمہ ممتاز شیریں نے کیا ہے۔ ترجمہ نہایت سلیس ہے۔ کہیں کہیں ملکوں اور علاقوں کے نام سمجھ میں نہیں آتے اور انسانی ناموں کی درست ادائیگی بھی مشرقی لوگوں کے لیے ذرا مشکل ہے۔دو مقامات پر پروف کی اغلاط بھی ہیں۔مثلاً:

• لہذا مجھ رات بھر۔(مجھ کی جگہ مجھے ہوگا۔ص: 109)
• خواب دیکھے عادی تھے۔( دیکھے عادی کی جگہ دیکھنے کے عادی ہوگا۔ ص: 109)
یہ کہانی اولین لاہور کے رسالے ادب لطیف میں شائع ہوئی تھی اور مدیر نے اس رسالے کے شکریے کے ساتھ اسے آج میں شامل کیا ہے۔

کہانی: المعتصم تک رسائی:

میں اس بات سے ناواقف ہوں کہ میر بہادر علی واقعی کوئی ناول نگار تھا، جس نے The Approach to Al-Mu’tasimنام کا کوئی ناول لکھا تھا یا نہیں یا یہ خود بوخیس کی ایجاد ہے یا کسی دوسرے فکشن نگار کی اختراع۔ کچھ بھی ہو اس تحریر سے میں نے کہانی کہنے اور تخلیقی پیرایے کو سنوارنے کا ایک اور ہنر سیکھا۔ یہ کہانی ایک تبصرہ ہے۔ جو میر بہادر علی کے ناول المعتصم کی واپسی پر کیا گیا ہے۔ مصنف نے فلپ گیڈالا کے ایک تنقیدی بیان سے اپنی بات کا آغاز کیا ہے، جس کے بعد جان –ایچ-واٹس، برائٹن، مسٹر سیسل رابرٹس اور فرید الدین عطار وغیرہ کا تذکرہ آتا ہے۔ ناول کے مزاج، موضوع اس کی تکنیک اور معیار پر گفتگو ہوتی ہے۔اس کی تقابلی تنقید کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ منطق الطیر سے اس کا رشتہ جوڑا جاتا ہے۔ اسے بمبئی میں لکھا گیا سراغ رسانی کا پہلا ناول بتاتے ہوئے اس کی شہرت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ریویوز کی یادیں تازہ کرتے ہوئے یہ معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ بومبے کوارٹرلی ریویو، بومبے گزٹ، کلکتا ریویو، ہندوستان ریویو (الہ آباد) اور کلکتا انگلش ریویو وغیرہ میں کتاب پر توصیفی تبصرے کیے گئے۔ اس ناول کے مصور ایڈیشن کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے مختلف ایڈیشنس پہ بات ہوتی ہے اور پھر اس ناول کی کہانی کو مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔

کہانی بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ ایک نوجوان طالب علم جو مسلم گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن زیادہ مذہبی نہیں ہے۔ وہ کس طرح ایک فسادی صورت حال میں پھنس کر ایک ہندو کا خون کر دیتا ہے اور اس کے بعد ایک خاص نفسیاتی حالت کا شکار ہو کر کسی روحانی وسیلے کی تلاش میں سفر شروع کر دیتا ہے۔ ناول میں غالباً بیس ابواب ہیں۔اس کے پلاٹ پر بھی مصنف نے بہت دلچسپ گفتگو کی ہے۔ اگر ایسا کوئی ناول واقعتاً موجود نہیں ہے تو یہ بورخیس کی تخلیق کا انوکھا کارنامہ ہے۔ بورخیس اس ناول کے قصے کو بیان کر کے اس کے بنیادی خیال وغیرہ پر گفتگو کرتا ہے اور پھر اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے تنقیدی جملوں میں عامیانہ پن نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کی مبہم گفتگو ہے۔ سادی اور سیدھی باتیں ہیں جو کسی ناول کے مطالعے کا لب لباب بیان کرتے ہوئے اس کی معنویت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اپنی تنقیدی بحث میں بورخیس نے دلچسپ نکات بیان کئے ہیں،مثلاً یہ دونکتے نہایت معنی خیز ہے کہ:

• یہ بڑی معزز بات سمجھی جاتی ہے کہ آج کی لکھی ہوئی کوئی کتاب کسی قدیم کتاب سے مشتق ہو۔
• یہ انتہائی غیر فطری بات ہوگی کہ محرم کی دسویں رات پر بنائی گئی دو تصویروں میں کچھ مطابقت نہ ہو۔
تبصرے کے آخر میں مصنف نے ایک نوٹ دیا ہے جس میں اس نے ایرانی صوفی فرید الدین عطار کی طویل نظم منطق الطیر کا خلاصہ پیش کیا ہے۔

مختصر تحریریں(The Book of Imaginary Beings):

مختصر تحریریں میں پیراڈائزو،گواہ،تغیرات،خنجر،الوداع، یونانی انتھو لوجی کے ایک چھوٹے شاعر سے،شطرنج،متیXXV اور دو مابعد الطبیعیاتی پیکر ان نو عناوین سے مختلف موضوعات پر نثریہ اور نظمیہ تحریریں شامل ہیں۔ جن سے بوخیس کے تخلیقی رجحانات کا علم ہوتا ہے ساتھ ہی اس کی اس کی فکر سے شناسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان تمام تحریروں میں ایک مشترک چیز ابہام ہے۔ معنی خیز تحریریں جن سے کسی تاریخی واقعے یا کسی اعتقادی صورت حال کی طرف ذہن جاتا ہے۔ ان کا طرز فلسفیانہ ہے اور ان زندگی کے غیر معلوم حقائق پر سوالات قائم کیے گئے ہیں۔ تحریریں دلچسپ ہیں۔ ان کا مختصر تعارف فرداً فرداً مندرجہ ذیل ہے۔یہ اصلاً ہسپانوی زبان میں ہیں اور ان کا ترجمہ انگریزی سے اجمل کمال نے کیا ہے۔

پیراڈائزو:اس میں ایک مسخ خدا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جو پتھر کا بنا ہوا یک مجسمہ ہے۔ جس کی شبیہ مسخ ہو چکی ہے۔ مصنف نے عیسائی اعتقاد کے زیر اثر خدا کے وجود پر سوال قائم کیا ہے اور اسے خود کی ذات میں ضم بتایا ہے۔

گواہ:اس نثریے میں موت کے تصور پر اظہار خیال کیا گیا ہے جس میں ایک مرتا ہوا شخص ہے جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور مصنف اس کے وجود کو استعارہ بنا کر موت کے فلسفے کا اظہار کر رہا ہے۔نثریے کے آخری اقتباس میں دلچسپ استفسارات قائم کیے گئے ہیں۔

تغیرات:سچے خیالات پر منحصر معنی خیز نثریہ۔ انسانی زندگی کے بدلتے حالات سے عبارت جس میں اشیاء کی تبدیل شدہ ہئیتوں سے انسانی زندگی کے تغیرات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

خنجر: انسانی جبلت سے آراستہ پر مغز نثریہ۔

الوداع:بورخیس اور ڈیلیا کی چھوٹی سی کہانی جس میں انسانی وجود کے دائمی اور غیر دائمی احساس کی کشمکش کو پرویا گیا ہے۔ استعاراتی اور علامتی نثریہ۔روح اور بدن کے افتراق کے مباحث سے نبر د آزما۔

یونانی انتھو لوجی کے ایک چھوٹے شاعر سے،شطرنج،متیXXV : تین علامتی نظمیں۔

دو مابعد الطبیعیاتی پیکر: انسانی شعور، حسیات، تصورات، اوصاف، ادراکات اورانکشافات وغیرہ سے متعلق فلسفیانہ اور جمالیاتی تحریر، جس میں دو مخلوقات کی تلمیحاتی اور استعاراتی گفتگو ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کا کوئی ثقافتی یا تاریخی سیاق ہو، جس سے میں ناواقف ہوں۔

Categories
تبصرہ

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ

تمہید:

اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف اور سلیس زبان میں انگریزی سے اس ناول کا ترجمہ کیا ہے۔
اس ناول کو کیوں پڑھنا چاہیے؟

اگر یہ سوال آپ کے ذہن میں آتا ہے تو میں اپنے تجربے کو آپ کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں کہ مجھے اس ناول کو پڑھ کر کیا حاصل ہوا اور کسی بھی شخص کو یہ ناول کیوں پڑھنا چاہیے۔

سب سے بنیادی بات تو یہ کہ فکشن کا مطالعہ کسی بھی انسان کو اپنے محدود دائرہ نگاہ سے باہر نکال کر ایک ایسی دنیا میں لاتا ہے جہاں زندگی کی بے شمار تصویریں موجود ہوتی ہیں۔ لاتعداد آئینے جن میں زندگی کا عکس الگ الگ انداز میں پایا جاتا ہے۔ ہم اور آپ جب تک فکشن کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک اپنی معمولی معمولی خواہشوں کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے رہتے ہیں۔ اپنے فیصلوں، صداؤں، المیوں اورعمومی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جذباتی انداز میں سوچنے کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور زندگی کی ان سچائیوں سے ناواقف رہتے ہیں جو موجود تو ہیں، مگر ہمارے تجربے کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

میں بھانت بھانت کا فکشن زیادہ تر انہیں وجوہات کی بنا پر پڑھتا ہوں، کیوں کہ زندگی کے اس پھیلاو سے آشنا ہونا چاہتا ہوں جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں یا جس کا ذکر سنتے رہتے ہیں۔

دنیا حقیقت میں کوئی چھوٹی جگہ نہیں اور نہ اتنی معمولی ہے جتنا اسے مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ دنیا کے لا تعداد رنگ ہیں، بے شمار چہرے، جن کا احساس ہمیں فکشن کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ آپ کسی شخص کو جاننا چاہتے ہیں تو کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو بھی کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی سے نزدیک یا دور ہونا چاہتے ہیں تو ان معاملات میں بھی کہانیاں ہی آپ کی سب سے بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں آپ کسی کے دل کا غبار کہیں، جھوٹ کہیں، تجربہ کہیں، افسانہ کہیں یا کچھ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہانی تو بس کہانی ہے جس سے اگر آپ کو عشق ہے تو آپ زندگی کے اس پھیلاؤ سے آشنا ہوتے چلے جائیں گے جہاں انسانی احساس،جذبات، شعوراور ادراک کا ٹھاٹھے مارتا سمند ر موجود ہے۔آپ کو بڑی سے بڑی حقیقت افسانہ معلوم ہونے لگے گی اور بڑے سے بڑا افسانہ حقیقت۔

بکر بیتی کا قصہ:

اس سے پہلے کہ میں یہ بتاوں کہ یہ کہانی ہمیں کیوں پڑھنا چاہیے، مختصراً اس ناول کا قصہ بیان کیے دیتا ہوں:
بکر بیتی ایک شخص نجیب محمد کی کہانی ہے جو بنیادی طور پر مالابار کا رہنا والا ایک غریب مسلمان ہے۔ اس کے بہت سے خواب ہیں، بہت سی خواہشیں ہیں، مگر وہ ان خواہشوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے، کیوں کہ اس کے حالات اور کمائی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان خوابوں کو پورا کر سکے۔ نجیب ایک شادی شدہ شخص ہے جس کی بیوی سینو ایک صابر اور سمجھ دار عورت ہے۔نجیب کو ایک روز اپنے ایک ساتھی سے خلیجی ملک جانے کے ایک عدد ویزے کے متعلق معلوم ہوتا ہے، یہ ویزا خلیجی ملک میں مزدوری کے لیے ہے۔ جس کی قیمت تیس ہزار ہے۔ نجیب اس ویزے کے متعلق اپنی بیوی سینو سے بات کرتا ہے اور اسے حاصل کر کے عرب ملک جا کر مزدوری کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ سینو اس بات سے بہت خوش ہوتی ہے اور اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں بہت زیادہ دولت جمع نہیں کرنی ہے، بس کسی نہ کسی طرح اتنا ہو جائے کہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوار لیں اور ایک متوسط زندگی گزار سکیں۔

نجیب ویزا کے لیے تیس ہزار رپیوں کا انتظام کرتا ہے اور ادھار قرض لے کر ویزا حاصل کرلیتا ہے۔ سفر کی شروعات میں بمبئی پہنچتا ہے اور وہاں ایک نوجوان لڑکے حکیم سے اس کی ملاقات ہوتی ہے،جو نجیب کا ہم سفر ہے اور اس کے ساتھ مزدوری کر نے عرب جارہا ہے۔ حکیم کی ماں نجیب کو بڑا سمجھ کر حکیم کا دھیان رکھنے کے لیے کہتی ہے۔ یہ دونوں خوشی خوشی عرب پہنچتے ہیں اور ایر پورٹ کے باہر آکر اپنے ارباب کا انتظار کرنے لگتے ہیں، مگر انہیں لے جانے کوئی نہیں آتا، بہت دیر تک انتظار کرنے کے بعد ایک گاڑی آتی ہے جس میں سے ایک بد بو دار عرب اتر کر ان سے کسی عبداللہ کے متعلق پوچھتا ہے،جس کے جواب میں وہ انکار میں سر ہلا دیتے ہیں، وہ عرب غصے میں ایر پورٹ پر ٹہلنے لگتا ہے، پھر کچھ دیر بعد وہ حکیم کے پاس آکر اسے گاڑی میں بیٹھے کے لیے کہتا ہے اور حکیم اور نجیب اسے اپنا ارباب سمجھ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ ارباب انہیں شہر سے دور ایک ریتیلے میدان کے بیچوں بیچ لا کر ایک بدبو دار جگہ پر اتار دیتا ہے اورارباب، نجیب اور حکیم دونوں کے پاس پورٹ ضبط کر لیتا ہے۔

پہلے حکیم کو ایک ٹینٹ کے پاس اتارتا ہے اور نجیب کو گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے، پھر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نجیب کو بھی اتار کر اسی طرح کے ٹینٹ میں بھیج دیتا ہے۔وہاں ایک اور ارباب سے نجیب کی ملاقات ہوتی ہے۔ جو اس سے بات تک نہیں کرتا اور ٹینٹ کے باہر بھیج دیتا ہے۔ گاڑی میں لانے والا ارباب انہیں وہیں صحرا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

نجیب کو یہاں بڑا عجیب سا محسوس ہوتا ہے، دوسرے دن صبح میں نجیب کی ملاقات وہیں ٹینٹ میں ایک اور شخص سے ہوتی ہے جو نہایت بدبو دار ہے، اور اس کی شکل بہت خوف ناک ہے۔ نجیب اسے دیکھ کر کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہاں سے اصل کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔

نجیب کو اس ٹینٹ کے پاس موجود بکریوں،بھیڑوں اور اونٹوں کی گلہ بانی کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ جہاں اسے بہت سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔ وہ بے انتہا بدبودار ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں نہ پینے کے لیے پانی ہے نہ کھانے کے لیے اچھا کھانا۔ صرف ایک عدد پکوان پہ اس کا گزارا ہوتا ہے اور جب وہ بے انتہا تھک جاتا ہے تو اسے زندہ رہنے کے لیے ایک پیالہ پانی ملتا ہے۔ ارباب اس پر بے انتہا مظالم کرتا ہے، اسے مارتا پیٹتا ہے اور گدھوں کی طرح اس سے کام لیتا ہے۔ وہ بد شکل شخص جو نجیب کو پہلے دن اس بکروں کے ریوڑ میں ملتا ہے۔ وہ وہاں کا پرانا ملازم ہوتا ہے جو نجیب کے آتے ہی وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ نجیب وہاں، بکرے،بکریوں کو چرانے، ان کا دودھ نکالنے، انہیں بھونسا ڈالنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اوربھیڑوں کے چرواہے کے فرائض انجام دینے وغیرہ جیسے کاموں پر معمور کیا جاتا ہے، جہاں صرف وہ ہے اور اس کا ارباب۔

ارباب ایک خیمے میں رہتا ہے جہاں جانے کی نجیب کو اجازت نہیں ہے اور وہ سردی گرمی برسات میں کھلے آسمان کے نیچے ریت پر پڑا رہتا ہے۔ نہانے دھونے، غسل، رفع حاجت یا کسی صفائی کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ پانی ایک قیمتی چیز ہے جس کو ان بے کار کاموں پر صرف کرنے پر سزا دی جاتی ہے۔ ارباب کے بے شمار مظالم، موسم اور محنت، مزدوری کی وجہ سے نجیب بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے۔ وہ تین سال تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ اسی طرح حکیم بھی اسی عالم میں اس سے ایک کلو میڑ کی دوری پر زندگی گزارتا رہتا ہے۔ نجیب اور حکیم موت کی دعائیں مانگتے ہیں، مگر انہیں موت نہیں آتی،بس زندگی ان پر ظلم کرتی رہتی ہے۔

حکیم کے جائے کار پر بہت عرصے بعد ایک اور ملازم ابراہیم خضری آتا ہے، جو ایک دیو قامت شخص ہے۔ وہ نجیب اور حکیم کو بتاتا ہے کہ وہ اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی روز انہیں یہاں سے بھگا لے جائے گا۔ حکیم اور نجیب یہ سن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کی امید پختہ ہو جاتی ہے۔ ایک روز جب تمام ارباب ایک شادی میں گئے ہوئے ہوتے ہیں، حکیم، نجیب اور ابراہیم خضری وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ یہاں سے داستان غم کا ایک دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔

صحرا میں بھاگتے بھاگتے ان کی حالت بہت بری ہو جاتی ہے، حکیم راستے ہی میں پاگل ہو کر مر جاتا ہے۔ نجیب کو اس کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ نجیب اور ابراہیم خضری ایک ایسے مقام کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جہاں سے سڑک نزدیک ہے، لیکن ایک صبح جب نجیب کی آنکھ کھلتی ہے تو ابراہیم خضری غائب ہوتا ہے۔ وہ خضر کی صورت نجیب کو صحیح راہ پر لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔ نجیب سڑک پر آکر بہت سی لاریاں اور ٹرک روکنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کی حالت اتنی بھیانک اور بدبو دار ہے کہ کوئی گاڑی نہیں رکتی۔ ایک بہت شفاف گاڑی جس پرنجیب کو یقین بھی نہیں ہوتا کہ وہ رکے گی اس کے ہاتھ دکھانے پر رک جاتی ہے۔ وہ ایک امیر عربی کی گاڑی ہوتی ہے جو اسے شہر تک لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں سے وہ ایک ملیالی کے ہوٹل جس کا نام کنجیکا کا ہوٹل ہے وہاں اتفاق سے پہنچ جاتا ہے۔ کنجیکا کے ہوٹل کی سیڑیوں پر ہی وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، جہاں سے کنجیکا کے ملازم اسے اٹھا کر ایک کمرے میں لاتے ہیں اور اسے نہلا دھلا کر اس کا علاج کرواتے ہیں۔ نجیب کو ہوش آتا ہے تو وہ اپنے قریب ملیالیوں کا ایک جمگٹھا دیکھتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ کنجیکا اس کا حوصلہ بڑھاتا ہے او ر اس کے غموں کی داستان پوچھتا ہے۔ نجیب اسے سب کچھ بتاتا ہے جس پر سب حیران ہو جاتے ہیں۔نجیب کنجیکا کے ہوٹل میں تین ماہ رہتا ہے اور یہیں سے اپنی بیوی سے فون پر بات کرتا ہے۔ وہاں یہ طے ہوتا ہے کہ نجیب خود کو پولس کے حوالے کر دے تاکہ پولس اسے بنا پاس پورٹ انہیں ان کے ملک بھیج دے۔ جیل کے واقعات بھی بہت دلچسپ ہیں۔ کنجیکا میں اپنی طرح کے ایک دوسرے مظلوم شخص حمید سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، جس کے ساتھ نجیب جیل جاتا ہے۔ سب سے آخری سین میں یہ سسپنس بھی کھل جاتا ہے کہ نجیب کا وہ ارباب جو اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر صحرا میں لے جاتا ہے وہ واقعتاً نجیب کا ارباب ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس رات نجیب اور حکیم کو ایک عرب شخص اغوا کر لیتا ہے اور نجیب اور حکیم یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ اسی کام کہ لیے خلیجی ملک آئے تھے۔

اس ناول کو کیوں پڑھا جائے:

یہ ناول 43 حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سے زیادہ تر حصے نجیب کی مسارے میں ملازمت اور ریگستان کے سفر پر مشتمل ہیں۔ یہ ہی حصے کہانی کی جان ہیں۔ بن یامین کے بقول انہوں نے نجیب نامی ایک شخص سےملاقات کر کے یہ کہانی سنی تھی، جسے بنا کسی مبالغے انہوں نے من و عن بیان کر دی۔ ایک سچا واقعہ جس میں انسانی زندگی پر ہونے والے مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے۔ کہانی فلیش بیک تکنیک میں لکھی گئی ہے، جس سے پڑھنے والا مزید لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ بات کہانی کی شروعات میں ہی طے ہو جاتی ہے کہ جو شخص کہانی سنا رہا ہے وہ مرا نہیں ہے، لہذا وہ تمام مناظر جہاں مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے وہاں بھی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ جس پر یہ سب کچھ گزر رہا ہے وہ اتنے قہر کے باوجود بھی جیتا رہا۔اس سے پڑھنے والے کو زندگی کے مشکل ایام میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے، ساتھ ہی انسان کی قوت برداشت کا علم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص مشکل سے مشکل حالات میں یہ ٹھان لےکہ اسے زندگی سےلڑتے رہنا ہے اور شکست کا منہ نہیں دیکھنا تو قدرتی طور پر اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی باہر آنے لگتی ہے اور وہ ایسے مشکل ترین حالات کا بھی سامنا کر لیتا ہے جس کے متعلق سوچ کر بھی ا س کی روح کانپ جائے۔
ناول میں بے شمار مقامات پر ہمیں اس کا درس ملتا ہے، مثلاً وہ منظر جب ارباب نجیب سے اس کے نئے کپڑے اتارنے کے لیے کہتا ہے اور اسے ایک نہایت بدبو دار چوغہ دیتا ہے جسے دیکھ کر نجیب کو قے آنے لگتی ہے، پھر بھی نجیب اسے پہنتا ہے، یا وہ منظر جس میں نجیب کا ہاتھ بکرے کی ٹکر سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی چھاتی پر بھی ورم آجاتا ہے اس کے باوجود ارباب اس سے بکری کا دودھ دوہنے کے لیے کہتا ہے اور نجیب بے انتہا تکلیف میں بھی اس کام کو کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحرا میں پانچ کلو میٹر تک بکھری ہوئی بکریوں کو جمع کرنے والا منظر، اپنے بیٹے نبیل کی طرح پالے ہوئے بکری کے بچے کی مردانگی کو قطع کرنے والا منظر، مسارے میں گھسےسانپ کو مارنے والا منظر، گرم ریت میں کوئے کے پر کے برابر سایہ ڈھونڈنے والا منظر اوروہ تمام مناظر جن میں نجیب پر اسی طرح کے کرب ناک مظالم ہوتے ہیں۔

ایسے کرب ناک حالات کو بیان کرنے والے ناول کے متن میں داخل ہونے والا قاری خود بہ خود نجیب کی طرح اپنے آپ کو حالات کا شکار ہوتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے اور جب وہ مسارے کی زندگی میں خود کو نجیب کی طرح بالکل پھنسا ہوا پاتا ہے تو اس کےا ندر ایک نئی نفسیاتی حالت جنم لینے لگتی ہے۔ جس حالت میں وہ کبھی خود کو خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کی حرکتیں کرتا ہے، کبھی اپنے ماضی کے اہم کرداروں کو مصنوعی طور پر اپنے آس پاس زندہ کر لیتا ہے، کبھی خوشی کے حصول کے لیے جانوروں کی کسی حرکتیں کرنے لگتا ہے، کبھی غم کی انتہا کو خود سے چھپانے کے لیے اپنے ضمیر سے دروغ گوئی کرنے لگتا ہے۔

اس ناول میں انسان کی ذہنی حالت کے مختلف رویوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان خواہ آبادی میں رہے یا ویرانے میں اس میں اگر زندہ رہنے کا حوصلہ ہے تو وہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے باوجود اپنے ارد گرد ایک تماشا پیدا کرلیتا ہے۔ صحرا کی وہ کرب ناک زندگی جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، جہاں نہ انسان ہے نہ بھیڑ، بکریوں اور اونٹو ں کے علاوہ کوئی جانور۔ وہاں بھی نجیب خود کو کس طرح اپنے لوگوں میں شامل رکھتا ہے، وہ اپنے مسارے کی بکریوں اور بکروں میں اپنے محلے کے انسانوں کی صفات تلاش کر لیتا ہے اور انہیں ایک انسانی ہیولے میں ڈھال کر اپنے قریب ماضی کا میلا لگا لیتا ہے۔ وہ کسی کو میری میمونہ سمجھتا ہے تو کسی کو اراووتھر، کسی کو پوچا کری رامنی بنا دیتا ہے تو کسی کو پھراندی پوکر، اس کے نزدیک کوئی جاندوراگھون ہے تو کوئی پریپو وجیبا، کوئی نبیل ہے تو کوئی رافت کوئی کاسو ہے تو کوئی اور آمنی۔ان سب میں سب سے زیادہ پر لطف قصہ پوچا کری رامنی کا ہے، جس کے کردار کی اصلی جھلک دیکھ کر قاری تمام المیے سے باہر آجاتا ہے۔

بن یامین کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ناول میں المیے اور طربیے ان دونوں صورتوں کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ بہت سے صحرائی واقعات ایسے ہیں جن میں حالات کی سفاکی کے باوجود غم کی لہر نہیں ہے بلکہ حیرانی کا سحر ہے۔مثلاً وہ منظر جس میں سانپوں کا ایک غول کا غول چلا آرہا ہے اور نجیب اور ابرہیم خضری ان سے بچنے کے لیے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا منہ دبا لیتے ہیں یا وہ مقام جہاں نجیب اڑتے ہوئے گرگٹوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ایسے تمام مناظر میں ارباب کا پانی سے ڈرنے والا منظر ایسا ہے جس پر قاری بھونچکا رہ جاتا ہے۔ ارباب جو پورے ناول میں ظلم کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ جو آخری درجے تک سفاک ہے، جسے سوائے ظلم کے کچھ نہیں آتا اور جو کسی جری مرد کی طرح پورے ناول میں طاقت کی مثال نظر آتا ہے وہ پانی سے وہ بھی بارش کے پانی سےڈر کر ایسا سکڑا پڑا ہے جیسے ہزاروں شیروں نے اسے گھیر لیا ہے۔ نجیب جو خود اس کے ظلم کا شکار ہے ارباب اس کی موجودگی پر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے اور پانی کی ایک ایک بوند سے ایسے ڈر رہا ہے جیسے آسمان سے شعلے برس رہے ہوں۔نجیب اس مقام پر جب یہ کہتا ہے کہ ارباب پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی نہیں نہایا تو ناول میں ایک نئی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے چھوٹے بڑےکئی مناظر ہیں جن سے کہانی میں مختلف حالتوں کا ظہور ہوتا ہے اور ایک مکمل المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول میں دیگر اجزائے تاثیر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

فلیش بیک تکنیک:

ایک خاص بات اس ناول کا فلیش بیک کی تکنیک میں ہونا بھی ہے،اس سے ناول کی ابتدا میں ایک تجسس کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دو لوگ حمید اور نجیب عربی ملک میں کئی دنوں سے سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح پولس گرفتار کر لے۔ اس کے لیے وہ کچھ کوششیں بھی کرتے ہیں، مگر ناکام رہتے ہیں۔ بہت مشکل سے انہیں جیل کی راہ ملتی ہے جس پر وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس فضا سے قاری کا ذہن ایک مخمسے میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جس کی وجہ سے کوئی جیل میں جانے کو اپنی منزل تک پہنچنا تصور کر رہا ہے۔ فلیش بیک کی وجہ سے بعض ایسی باتوں کی طرف بھی اشارہ کرنا ممکن ہوا جن کا ناول کی کہانی سے کوئی راست تعلق تو نہیں، مگر کہانی کے موثر ہونے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً پوچا کری رامنی کی کہانی۔

فلیش بیک تکنیک سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ کہانی کے بعض اہم کردارمثلاً حمید، حکیم، ارباب، ابرہیم خضری، سینو، بدنما بدبو دار شخص اور کنجیکا کی عادات و اطوار اور خصائل کی بہتر انداز میں وضاحت ہو گئی۔اسی طرح جیل کے حالات کا بیان بھی کامیابی سے ہو سکا۔ اگر یہ ناول فلیش بیک بیانیہ تکنیک میں نہ ہوتا تو غالباً اس کے تمام حصے جہاں قاری کو بوریت محسوس ہوتی ہے وہ بہت زیادہ بوجھل ہو جاتے اور ناول کا پھیلاو غیر ضروری معلوم ہونے لگتا۔

منظر نگاری:

منظر نگاری میں مصنف کو مہارت حاصل ہے۔ ناول میں بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں مصنف نے اس ضمن میں کمال کیا ہے۔میں یہاں مثال کے طور پر ایک پیش کرتا ہوں:

“سینکڑوں عرب ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ مرد اور عورتیں۔ میں نے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے تصور کیا کہ میں قطب جنوبی پر ہوں اور میرے سامنے سیاہ و سفید پینگوئن پھر رہے ہیں۔ میں ملتجی نظروں سے ہر پینگوئن کی شکل (ان مادہ پینگوئنوں کی آنکھیں جن کی شکل نظر نہیں آرہی تھی) دیکھ رہا تھا۔ میں وہی نجیب ہوں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔ میرے ساتھ یہ چھوٹا سا لڑکا وہی حکیم ہے جس کی تمھیں تلاش ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں اور درخواست گزار چال ڈھال کی مدد سے ہر ایک سے مواصلاتی تعلق قائم کیا۔ لیکن کوئی میری التجا پر مائل نہیں ہوا۔ ہو کوئی دور جاتے ہوئے اپنی مصروف زندگی میں گم ہو رہا تھا۔”(حصہ نمبر 6)

جذبات نگاری:

ناول میں جذبات نگاری کو بھی متاثر کن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر اس مقام پر قاری کی آنکھیں نم کر دی ہیں جہاں ذرا بھی جذباتی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ بعض مواقع تو ایسے ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور حلق میں الفاظ پھنسنے لگتے ہیں۔ مثلاً وہ مقام جہاں نجیب خیالی انداز میں سینو کو خط لکھ رہا ہے یا وہ موقع جہاں سینو،اکایعنی نجیب کو لائق گزارہ کما کر واپس لوٹ آنے کی تلقین کر رہی ہے۔اسی طرح حکیم کی ماں کا نجیب سے التجا کرنے والا منظر اور نجیب کا سینو سےتین برس چار ماہ بعد فون پر بات کرنے والا منظر۔یہ تمام مناظر جذباتیت سے بھرے ہوئے ہیں۔

مزاح نگاری:

ناول کے بعض مقامات پر مزاح بھی پیدا کیا گیا ہے، جس سے ناول کی بوجھل فضا میں لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے مناظر میں پوچا کری رامنی کا قصہ سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مسارے کا ایک منظر جو بظاہر المیہ ہے مگر یامین کے بیانیہ نے اسے طربیہ بنا دیا ہے۔ملاحظہ کیجیے:

“میں آہستگی سے جھکتے ہوئے ایک بکری کے پیچھے بڑھا،برتن قریب کیا اور تھن کو کھینچا۔ دودھ تو خیر کیا نکلنا تھا، بکری کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ چھلانگ مار کر برتن اور مجھے لات مارتی ہوئی ریوڈ سے دور بھاگ گئی۔ اسے پاگلوں کی طرح بھاگتے دیکھ کردوسری بکریوں میں بھی افراتفری پھیل گئی۔ ایک تو میری کمر کو روندتی ہوئی نکل گئی۔ میں درد سے جھنجھلا اٹھا۔ کسی نہ کسی طرح سنبھلتے ہوئے ایک اور ایسی بکر ی کے پیچھے بڑھا جو اب دوڑتے دوڑتے رک چکی تھی۔ چوچیوں کو ہاتھ لگانا تھا کہ وہ بھی بھڑک کر دوسری طرف چھلانگ مار گئی۔ ایک اور سے دودھ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی بھاگ گئی۔ میں نے سوچا، یا میرے مالک! بھاگتی ہوئی بکری سے دودھ کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ میں حیران و پریشان تھا۔”(حصہ نمبر ق13)

کردار نگاری:

ناول میں کردار نگاری پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ کہانی خواہ حقیقت پر مبنی ہو یا افسانہ ہو اس میں کردار نگاری کا سب اہم رول ہوتا ہے۔ بن یامین نے ناول کے کرداروں میں اپنے بیانیے سے جان ڈال دی ہے۔ناول کے کرداروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سب کے سب مختلف رویوں کا شکار ہیں۔ جس طرح عام زندگی میں ہم کسی بھی ایک معاملے میں کمزوراور ایک میں مضبوط ہو تے ہیں اسی طرح ناول کے کرداروں کا بھی معاملہ ہے۔ بنیادی کرداروں میں نجیب اور ارباب اس طرح کی صفات سے مزین نظر آتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں میں مضبوط بھی ہیں اور کمزور بھی۔ ڈرتے بھی ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔ خود سے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور سچے بھی ہیں۔ لالچی بھی ہیں اور رحم دل بھی۔ منافق بھی ہیں اور ایمان دار بھی۔ الگ الگ مواقع پر ان کی الگ الگ صفات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔اس ناول میں نجیب ایک سیدھا، سچا اور مظلوم کردار ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے ظلم، حسد اور کمینے پن کی واضح تصاویر بھی ناول میں موجودہیں۔ مثلاً ایک موقع پر جب اسے لگتا ہے کہ حکیم اور ابراہیم خضری اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتا ہے:

“میں حسد کے مارے سکڑ کر رہ گیا۔ دل میں ساری دنیا کے لیے نفرت اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔ میں نے اپنی ساری کڑواہٹ مسارے میں موجود بکریوں پر نکالی، یعنی نو مولود بکریوں کے خصیے دبانا، اپنی چھڑی دودھ دینے والی بکریوں کے تھنوں پر مارنا اور بھیڑوں کے پچھواڑے میں لکڑیاں گھسیڑنا۔”(حصہ نمبر 29)

حکیم ایک لڑکا ہے اس لیے اسے بہت کمزور اور جذباتی دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مضبوط بھی ہے۔ مثلاًجب ابراہیم خضری اسے مسارے سے بھگا لے جانے کی بات کرتا ہے تو اس میں توانائی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ پر مسرت نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے کردار میں ہمیں قوت کی ایک لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔

ناول کا ایک متاثر کن کردار ابراہیم خضری بھی ہے۔ یہ خضر کی طرح دو مظلوموں کی مدد کے لیے اچانک کہانی میں داخل ہو جاتا ہے اور اپنے مقصد کو پورا کر کے اسی طلسماتی طریقے سے غائب ہو جاتا ہے۔ ابراہیم خضری کا کردار الف لیلوی کردار ہے جس کے واقعات سے ناول میں داستانی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً اس کا جانوروں، درختوں، پودوں، صحراوں اور وادیوں کی خصوصیات سے آگاہ ہونا۔ حالات کی نزاکت کو جاننا اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینی کی صلاحیت کا پایا جانا اس کے کردار کو ایک معمہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک مکمل راہ نما ہے جو نجیب اور حکیم کی مدد کے لیے آسمانی مخلوق بن کر آتا ہے۔

کنجیکا اور حمید کے کردار ذرا کمزور ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا کہانی میں زیادہ عمل دخل نہیں۔
سینو ایک جذباتی عورت ہے جو بہت مختصر وقفے کے لیے ناول کاحصہ بنتی ہے، مگر اس سے عورت کی وفا شعاری کادرس ملتا ہے۔
ان کے علاوہ ایک عربی جو نجیب کو شہر تک لا کر چھوڑتا ہے وہ انسانیت کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ حالاں کہ ایسا عام زندگی میں نہیں ہوتا کہ کوئی امیر ترین شخص کسی نہایت بھیانک اور بدبودار انجان شخص کو اپنی چمچماتی گاڑی میں بٹھائے،لیکن پھر بھی استثنائی صورت میں ایسے لوگ کبھی کبھی ٹکرا جاتے ہیں۔ اس کردار کی ناول میں کیا اہمیت ہے اس کےلیے صرف مصنف کے یہ جملے ہی کافی ہے کہ:

“میں کیسے اس عظیم آدمی کا شکریہ ادا کر سکتا تھاجس نےمجھے اتنی دیر برداشت کیا۔ اس کے احسان کی قیمت میں بس ایک قطرہ اشک کے ذریعے ہی چکا سکا۔ اس نے کچھ بھی نہ پوچھا۔ ایک لفظ بھی نہ کہا۔میں گاڑی سے نکلا اور دروازہ بند کردیا۔ مجھے شہر کے بیچوں بیچ چھوڑ کر عرب نے اپنی راہ لی۔ میں کافی دیر روتا رہا۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ خدا پر تعیش گاڑیوں میں بھی سفر کرتا ہے۔”(حصہ نمبر 40)

جمالیات:
ناول میں بعض مقامات پر جمالیات کا بھی بھر پور اظہار ملتا ہے۔ ایسے موقعوں پر بن یامین کی ناول نگاری اور جمالیاتی حس کی طرف ذہن مبذول ہوجاتا ہے اور نجیب کی کہانی ذہن سےیکسر غائب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اونٹ کی شبیہ کا یہ بیان دیکھیے:

” اونٹ میرے قریب آئے تو میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی بھاری پلکیں صحرا کی شدت کا کامل استعارہ ہوں۔پھیلتے سکڑتے مچھلی کے گلپھڑوں جیسے نتھنے۔کشادہ کھلا منھ،مضبوط گردن،گھوڑے کی ایال جیسے کھردرے بال،کان سینگوں کی طرح کھڑے ہوئے۔ان کی الگ تھلگ سی بے تعلقی میرے لئے سب سے زیادہ کشش اور دہشت کا باعث تھی۔”(حصہ نمبر 11 )

جنسیت

جنسیت انسانی زندگی کا ایک لازمی جز ہے، مگر اس ناول میں اس کی جھلکیوں کے پائے جانے کی امید کم تھی۔اولاً تو نجیب کے حالات اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے اور پھر اس ناول کا یہ موضوع نہیں کہ اس میں جنسیت کا ذکر کہیں تلاش کیا جائے۔ رہی سہی کسر اس منظر میں پوری ہو جاتی ہے جہاں نجیب خود اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کےبیٹے نیبل کی مانند جس بکری کے بچے کو خصی کیا گیا،تو اس واقعے سے خود اس کی مردانگی بھی بکری کے بچے کے ساتھ سلب ہو گئی۔ اس کے باوجود ایک مقام پر نجیب اس جذبے کو ابھرنے سے نہیں روک پاتا، وہ منظر اتناحیران کن ہے کہ قاری اسے پڑھ کر کچھ دیر کے لیے ساکت ہوجاتا ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:

“ان دنوں جب میرے ساتھ بس بکریاں ہی تھیں، ایک واقعہ ایسا ہواکہ میں نے نہ صرف اپنے غم و الم بلکہ اپنا جسم بھی ان کے ساتھ بانٹا۔ ایک رات لیٹا تو نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی۔ نہ جانے کیوں پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ ایک عجیب سی شدت طلب تھی، بدن میں ریگستانی بگولےسے چل رہے تھے۔ کافی عرصے سے میں خود کو نامرد ہی سمجھ رہا تھا۔ گمان نہیں تھا کہ کبھی دوبارہ جنسی طور پر فعال ہو سکوں گا۔ لیکن یہ کیا ہوا؟ اندر پڑی کوئی ساکت اور جامد خواہش کسمسانے لگی۔ اسے دبانے کی تمام کوششیں بد ستور اس کے بھڑکنے کا سبب بن رہی تھیں۔ پردہ چشم کے سامنے کچھ برہنہ شبیہیں ظاہر ہو کر ورغلانے لگیں۔ میں جذبے کی حدت سے پگھل رہا تھا۔ کسی جسم کی قربت کی خواہش تھی۔ کسی غار میں پناہ درکار تھی۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔ اسی غلبہ دیوانگی میں باہر بھاگا۔ صبح جب تھکی تھکی آنکھیں کھلیں تو میں مسارے میں تھا۔ پوچا کری رامنی(بکری) میرے قریب ہی نیم دراز تھی۔”(حصہ نمبر26)

فلسفہ

ناول میں مصنف نے بہت سے مقامات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ چونکہ ناول بیانیے کی تکنیک میں ہے اس لیے مصنف کا فلسفہ گاہے بہ گاہے نظر آتا رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت پر اپنی رائے کا اظہار کر کے انسانی نفسیات اور اس کی صفات کے متعلق فلسفہ پیش کرتا ہے۔ کچھ مقامات پر قدیم فلسفوں کا اظہار کرتا ہے اور کچھ دقیانوسی باتوں کو فلسفے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ مذہبی فلسفہ ناول میں بیش تر مقامات پر نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجیب جس کی کہانی ہے اس کے خیالات سے مصنف کے خیالات کہیں کہیں متصادم ہوتے ہیں، مگر ان میں بہت زیادہ اختلاف کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح مصنف بیانیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے تکلفانہ انداز میں بعض جگہ اپنی بات کہہ جاتا ہے جہاں مصنف اور نجیب ان دونوں کے مختلف شخصیات واضح ہو جاتی ہیں۔ مثلاًیہ جملے کہ:

• نامعلوم دنیاوں کے خواب کسی کو راس نہیں آتے، دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ جب خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں تو اکثر نا قابل برداشت ہو جاتے ہیں۔(حصہ نمبر18)
• سچ اس خط میں نہیں بلکہ میری آنکھوں میں تھا۔ سچ کون پڑھ سکتا ہے۔(حصہ نمبر 19)
• اس دن مجھے معلوم ہو ا کہ خدا پر تعیش کاروں میں بھی سفر کرتا ہے۔(حصہ نمبر 40)

مذہبی جذبات:

نجیب ایک کٹر مسلمان ہے، جسے اللہ کی ذات پر بہت زیادہ بھروسا ہے۔ وہ جتنے مشکل حالات میں زندگی گزارتا ہے اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ ناول میں اللہ کو پکارنے اور اس کی مدد چاہنے کے بے شمار مناظر ہیں۔ اس کی حمد و ثنا کے مناظر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ بعض مواقع پر نجیب اللہ کو برا بھلا بھی کہتا ہے۔لیکن اس کا انکار نہیں کرتا اور اپنے مذہبی جذبات کو اپنے مشکل حالات کا سامنا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتا ہے۔

غیر مانوس الفاظ:

ناول میں بہت سے الفاظ قاری کے لیے غیر مانوس ہیں۔ ان میں بعض عربی بعض ملیالی اور بعض اردو کے ثقیل الفاظ ہیں۔ ایسے الفاظ میں سے زیادہ تر الفاظ کے معنی ناول میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوجاتے ہیں، کچھ کے معنی خود مصنف نے بتا دیئے ہیں اور کچھ سیاق سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک عام قاری کے لیے نئے ہیں۔ مثلاً:

بطاقہ،مطوع،عقال،کاروتا،ساسی،اپیری،چمنتی پوری،موپلوں،ارباب،چچڑ مکھی،ماہ مکارم،چڑی مڑی، ثوب، شیلادی، مسارا، سمانے،شف،ماعن،حوائج،قلما،خنز،کاڈی،شڑپ،ساوا،مونجی،غنم،حلیب،تبن،برسی،یلا،تناقضات اورگوہ۔

زبان اور چھپائی کی اغلاط:

بہت سے مقامات پر چھپائی کی غلطی سے کچھ حرف چھوٹ گئے ہیں اور کہیں کہیں جملہ ہی غلط ہے۔ ایسے الفاظ اور جملوں کی مثالیں مندجہ ذیل ہیں:
• کوئی مجھے تلاش کرنے نہیں آیا۔ شایہ یہ مسلسل تکرار کا نتیجہ تھا۔(غلطی: شایہ کی جگہ شاید ہوگا/حصہ نمبر 3)
• مہمان نوازی کے انعام کے طور پر میں نے ساسی کو وہ اپنی وہ گھڑی اتار کر دے دی۔(وہ۔ دو مرتبہ ہے/حصہ نمبر 5)
• اب آنتیں قل ہو اللہ احد پڑھ رہی تھیں۔(اس میں صرف قل ہو اللہ آئے گا احد اضافی ہے/ حصہ نمبر 7)
• اپنے ذہن میں اسے گالیاں نکال رہا تھا۔(غیر فصیح ہے۔ گالی دینا، بکنا،داغنا، سنانااور ٹکانا محاورہ ہے۔ نکالنا نہیں/حصہ نمبر 18)
• چہرہ صاف کیا اور ہم دونوں سے اسے زبر دستی بٹھا دیا۔(سے کی جگہ نے ہوگا/حصہ نمبر 35)
• آخر کار جب کافی پانی چکا تو تھک کر زمین پر گر پڑا۔(پی۔ چھوٹ گیا ہے/حصہ نمبر 37)

فن ترجمہ نگاری:

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم بخشی نے بکر بیتی کا نہایت آسان زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی زبان شستہ اور معیاری ہے۔ وہ الفاظ اور جملوں کو اس طرح سجا بنا کر بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو تر جمے کے اصل متن ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔مختلف مقامات پر ان کی فن ترجمہ نگاری کے جوہر کھلتے ہیں۔مثلاً کچھ مناظر ایسے ہیں کہ اگر میں ان کا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔ عاصم بخش زیادہ تر مواقع پر ناول کے متن کو اردو کاحقیقی متن بنا کر اسے یوں تحریر کرتے ہیں کہ وہ دوزبانوں میں ایک معنی رکھنے والے دو متن بن جاتے ہیں۔ ان کی زبان شناسی کی یہ خاصیت ہے کہ کسی مطلب کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس بے شمار الفاظ ہیں، اسی لیے کسی بھی حالت کو بار بار ایک ہی لفظ کے ذریعے ظاہر نہیں کرتے۔ الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں جس سے روانی پہ حرف نہیں آتا۔ مطلب کی ادائیگی کے لیے قریب الفہم لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے ماہ مکارم جیسے ثقیل الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے، لیکن ایسے مقامات بہت کم ہیں۔ ملیالی زبان کے ان الفاظ کا تلفظ جو اس ناول میں استعمال ہوئے ہیں کتنا درست ہے میں اس سے ناواقف ہوں، لیکن ایک جگہ جہاں لفظ کاڈی کا استعمال ہوا ہے وہاں مجھے کچھ احتمال ہوا کہ غالباً یہ لفظ کڑھی ہے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک مشروب ہے اور مصنف نے بھی کسی مشروب کے لیے ہی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔

Categories
فکشن

تاثیر کا متن خانہ (تالیف حیدر)

“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Listens” کا طلسم کدہ”بادشاہ سنتا ہے”،”عاصم بخشی“کی زبان میں
آج شمارہ نمبر:101

میں نشے میں ہوں:
میں کہانیوں کو تلاش کرتا ہوں ، انہیں پڑھتا ہوں ، ان میں کھو جاتا ہوں اور حسن اتفاق یہ ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس لوٹ آتا ہوں جہاں کہانیوں کا وجود عرضی حقیقتوں کی خاک میں پیوست، رلتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض قصے میری روح سے ٹکراتے ہیں۔ میں انہیں اپنی روح سے ٹکراتا ہوا قصہ کہنے پر مجبور ہوں، اس لیے کیوں کہ میرے پاس وہ زبان نہیں جس میں ان کی کسک کو بیان کر سکوں۔ ایسی کہانیاں جن میں جیون کا تازہ ، گھلاہوا اور گرم امرت پایا جاتا ہے۔ جس کے شوق سے میں زندگی کے پھیلاو سے آنکھیں ملانے کے قابل ہوتا ہوں۔ ایسی کہانیاں مجھے اپنے حصار میں رکھتی ہیں، مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ بے ثباتی دہر اور زندگی کی نغمگیوں اور تراوٹوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ میں ان قصوں کا ممنون ہوتا ہوں، انہیں سجدے کرتا ہوں۔ انہیں قصوں سے بڑھ کر سمجھتا ہوں، ان کے متن کی رگوں میں داخل ہو کر اپنی لاچاریوں سے بے نیاز ہونے کا غل مچاتا ہوں ۔ زندگی کے پھیلاو کے مکمل ادراک کے نہ حاصل ہونے کا احساس مجھے ان کہانیوں میں داخل ہونے کے بعد باطل لگنے لگتا ہے۔ ایسی کہانیاں میرے لہو کی تصویر بناتی ہیں، میرا کھیل درست کرتی ہیں۔ اس وجدان کو بھلاوے میں ڈال کر جس پر میں ناز کرتا ہوں مجھے ایک بچے کی مانند لوریاں سناتی ہیں۔
یہ ساری باتیں میں یوں ہی نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ “اتالو کالوینو” کی تحریر “بادشاہ سنتا ہے” جس کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے، اس کو پڑھ کر اپنے ان ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہا ہوں جو مجھ میں اکثر تنہائی میں اور ایسی کہانیوں کو پڑھنے کے بعد رقص کرنے لگتے ہیں ۔ یہ کہانی ایک ادھورے یا یوں کہیے کہ زندگی کے مختلف ادھورے فریمس کو یکجا کر کے مکمل کی گئی ہے۔ ایک ایسا متن جس کی کثرت میں انتہا کی لامتناہی وحدت ہے۔ وہ ساری باتیں کہ یہ کہانی کیا ہے؟ شائد میں کسی زبان میں بیان نہ کر پاوں۔ ایسی کہانیاں جن کا تجزیہ نا ممکن ہو، جن پر تنقید لا حاصل ہو اور جن کا تعارف محال ہو۔ ان پر زیادہ بات کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔مجھے اس کے پڑھ لینے کے بعد یقیناً اس بات سے بھی زیادہ سروکار نہیں رہا کہ یہ اتالو کالوینو نے لکھی ہے یا کسی اور نے ، یہ عاصم بخشی کا ہنر ترجمہ نگاری ہے یا کسی اور کا۔اس میں کتنے کردار ہیں؟ یہ کون سا بیانیہ ہے؟ اس میں کون سی تکنیک استعمال کی گئی ہے؟ کس معاشرت کی عکاسی کی گئی ہے یا کن مسائل سے اس کا علاقہ ہے؟ یہ ساری باتیں ایسی دلچسپ تحریروں کو پڑھنے کے بعد بے کار معلوم ہوتی ہیں۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ تحریر ایک ایسا “متن خانہ” ہے جہاں مجھے اپنی تاریخ اور سیاسیات کے بے شمار کالے بت نظر آئے ، جہاں میرا بچپن ہے، بادشاہوں کی بے بسی ہے، مصنفوں کے جھوٹ ہیں ، آقاوں کی غلامی ہے، معجزوں کی شعبدہ بازیاں ہیں۔ جہاں خیالات کی اور مناظر کی ایک دوڑتی ہوئی فوج ہے، جو ہمیں کسی انجان چوٹی سے کبھی دل کے نہا ں خانے میں دھکیل دیتی ہے اور کبھی بدن کی سرگوشیوں سے ایوان زیریں و بالا کی چشمکوں میں کھیچ لاتی ہے۔ مجھے اس تحریر میں بہت دبیز لہریں ملی ہیں ان سچائیوں کی جو عام زندگی کے گدلے پانی میں پیدا ہوتی ہیں ۔بے شمار الہامی ستون ملے ہیں،ایسے جن سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے۔یہ تحریر کسی علاقے یا کسی شخص کی نہیں ، بلکہ ایک حصار کی ہے۔ ایسا حصار جس میں تہذیبوں کے بے شمار مسکن سما جاتے ہیں ، جس میں زمینوں کے لا تعداد ٹکڑے جذب ہو جاتے ہیں۔ حکمرانوں کی اندھی بصیرتیں اور لاچاریاں پیوست ہوتی ہیں اور چشم کشاؤں کےٹوٹے ہوئے خواب دفن ملتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ آپ کو یہ تحریر کسی مجذوب کی بڑ لگے ، مگر میرا سفر مجھے اس بڑ میں بڑا آشچریہ لگا۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اس کہانی کے متن سے لپٹ کر اس کی گہری حقیقتوں کو پا لے ، مگر مجھے تو اس میں ایسے ٹوٹے ہوئے تسلسل کے رنگین کنوئیں نظر آئے جن میں گر کر میں ایک تاثیر سے دوسری تاثیر میں تحلیل ہوتا چلا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کہانی کی بے شمار کڑیاں کسی کو ایک ایک تاگھے میں پروئی ہوئی محسوس ہوں ، مگر مجھے تو اس کی غیر منتظم حالت پر رشک آیا۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے مجھے کسی مقام پر اس کے متن سے اجنبیت کا احساس نہیں ہوا، ہر وہ جذبہ جو کسی جملے یا لفظ سے میرے اندر پیدا ہوا وہ مجھے اپنا ازلی حصہ معلوم ہوا۔ پھر خواہ وہ سنجابی چوغے کی شرارتوں کا بیان ہو یاموٹے کمر بند کے سنہرے قبضے کا اعجاز۔دمدموں کا سرور ہو یاتُرم کی ترشیدہ آواز۔
اس تحریر کی یہ خاصیت ہے کہ یہ میرے قدموں کو پکڑتی ہے، مجھ سے لپٹ جاتی ہے اور ان بے شمار جملوں پر مجھ سے ہم آغوش ہو جاتی ہے جن پر میرےمنہ سے ایک بے ساختہ کلمہ ادا ہوتا ہے۔مثلاً یہ سطور کہ:
1. اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔
2. گھبراہٹ اُس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے۔
3. قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
4. محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمھارا بدن تمھیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے۔
5. کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کیے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہیں جو انھیں الگ الگ کرتے ہیں۔
6. ہر وہ قصہ جو تمھاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے، خود تمھیں تمھارے ہی پاس واپس لے آتا ہے۔
7. گلیاں کیا ہیں، گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں۔
8. وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لیے تمھیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ترالالالا‘‘ کرتے ہوے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمھارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔ اب ’’ترالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمھارے ذہن میں نہیں آتا۔
یہ جملے کوئی کلیہ نہیں اور نہ ہی انتخاب بس میرے سرور کا ایک حصہ ہیں اور اس تحریر میں ایسے بے شمار حصے بکھرے پڑے ہیں ۔ یہ خیال کہ اس کہانی سے کسی شخص کا رشتہ کیسا ہو سکتا ہے یہ میرے لیے معمہ ہے ، لیکن اس کے باوجود اس کاتسلسل اور گھماو ہر اس پڑھنے والے کو جوکسی مسحور کن تحریر کی تلاش میں سر گرداں ہے جو سچی کہانی کا عاشق ہے، جس میں حقیقت کو کہانی کی دنیا میں مزید حقیقت کی صورت میں دیکھنے کی جستجوہے، جو واقعات کے لطافت اور زور بیان کے بلند آہنگی کو ایک جگہ دیکھنے کا خواہش مند ہے وہ اس تحریر کے وصال پر اپنی امید کو پہنچے گا۔بشرط کہ اس تحریر کو وہ کسی شاعر کا ترنم سمجھ کر نہ پڑھے اور نہ کسی مصلح کا ہدایت نامہ۔ اس میں کسی علاقے کی معاشرت کو نہ ڈھونڈے اور نہ کسی تخلیق کار کے شاہکار کو۔ بس پڑھے ، بڑھے اور متن کے تاروں سے الجھتا چلا جائے۔

سخنور بہت اچھے:
فن ترجمہ نگاری فن سخنوری کی اولاد ہے۔ ایسی اولاد جو بعض اوقات اپنی کرشمہ سازیوں سے اپنی ماں کو شرما دیتی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اتالو کالوینو کی لکھی ہوئی تحریر یں شاہ کا ر ہوتی ہیں ، ان کی چندتحریر یں میں آج کے گذشتہ شماروں میں بھی پڑھ چکا ہوں ۔لیکن اردو والوں کے لیے یہ تحریریں اپنی اصل صورت میں نہیں، بلکہ اردو زبان میں شاہ کار کا درجہ رکھتی ہیں ۔ ایسی صورت حال میں اتالو کالوینو اور مترجم کا فن ایک مقام پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ عاصم بخشی نے اس تحریر کے ترجمے میں جو طرز اختیار کیا ہے اس کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن فوری طور پر عبدالحلیم شرر کی گذشتہ لکھنو کی طرف گیا۔ یقیناً اس تحریر کا اور گذشتہ لکھنو کاایک دوسرے سے موضوع کے اعتبار سے کوئی خاص رشتہ نہیں ، لیکن ان دونوں تحریروں میں یکساں تاثیر کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ گذشتہ لکھنو کے بعد جس کتاب کی طرف ذہن جاتا ہے وہ طلسم ہوش ربا اور اقبال کی بعض نظمیں ہیں ۔ اقبال کا شاعرانہ بہاو عاصم صاحب کی نثر کی جڑوں میں اتر گیا ہے۔ یقیناً یہ میرا، اس ترجمے کا اور اقبال کی شاعری کا رشتہ بول رہا ہے۔ مثلاً بعض اقتباسات تو ایسے رواں نثر میں ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ طلوع اسلام کےبند زبان پر جاری ہو گئے ہوں ۔ اس ترجمے سے دو نسبتوں کا اور تعلق مجھے نظر آیا ایک تو راشد اور اختر الایمان کی بعض نظموں کا اورناصر نذیر فراق کی تحریروں کا۔ میں عاصم بخشی سے واقف نہیں اور نہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ان شاعروں اور کتابوں کا مطالعہ کر کے اس تحریر کا ترجمہ کیا ہے، بس میرا اس تحریر سے جو رشتہ قائم ہوا اس میں عاصم بخشی مجھے ان ادیبوں کی طرز نگارش کی تاثیر سے وابستہ نظر آئے۔

انشائیہ نگاری کے فن سے وہ کماحقہ واقف ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ بے شمار جملے جو یقیناً اصل متن میں اتنے متاثر کن نہ رہے ہوں گے جو ترجمے کی صورت میں ہو گئے ہیں یا کم سے کم درجے میں اردو والے تو ہر گز اس کے اصل متن سے واقفیت کے باوجود ویسا لطف نہ لے پائیں گے جیسا کہ ان جملوں کوعاصم بخشی کےفن ترجمہ نگاری نے بنا دیا ہے۔اردو لغت اور محاورے سے ان کی واقفیت بھی بلا کی ہے۔ کون سا لفظ کس جگہ زیادہ بااثر معلوم ہوگا یا کس محاورے کے استعمال سے پڑھنے والے کا تسلسل منقطع نہیں ہوگا اس کا انہیں بھرپور ادراک ہے۔ قدیم و جدید اصطلاحات اور جدید استعاراتی نظام سے بھی ان کی کماحقہ شناسائی ہے۔ لہذا یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ترجمے کو اصل سے دو ہاتھ آگے لے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی اردو والا ان کی اس تحریر کو پڑھتے وقت بہت کم اس بات پر غور کر پائے گا کہ وہ کسی ترجمہ شدہ متن کا مطالعہ کر رہا ہے۔بعض اقبتاسات کی منظر کشی اور جذیات نگاری میں تو پڑھنے والا اس قدر کھو جاتا ہے کہ متن پڑھنے کا خیال تک ذہن سے محو ہوجاتا ہے ، بلکہ یو ں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ غیر حقیقی حالات کا چشم دید گواہ بن گیا ہے۔ پھر جہاں وہ جملوں کو ایسی وضع میں تراشتے ہیں کہ اس سے دلوں کے دہلنے کا سما بندھے اور سماعتیں فکر کے روشن دانوں سے کان لگا گر محو ہو جائیں یا انسانی تہذیب کی تازہ کاریوں کے راز کھلتے چلیں جائیں اور شاعری کو نئی زبان مل جائے تب تو پڑھنے والے پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ کہیں کہیں مزاح جو یقیناً اتالوکالوینو کی ذات کا نقش ہے وہ عاصم بخشی کی لفظیات میں گھل کر ایسا نمایاں ہوتا ہے کہ بانچھیں کھل جاتی ہیں اور آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ طنز کی طعن کے لیے عاصم بخشی مزاح سے بالکل مختلف زبان استعمال کرتے ہیں اور لفظوں کی انی سے مزاح کو طنز سے یکسر جدا کر دیتے ہیں۔ ترکیبیں استعمال کرتے ہیں تو انیس کی چوکڑ منڈی یاد آ جاتی ہے جہاں طرح طرح کی زمانی و مکانی حالتوں کو ترکیبوں کے قالب میں ڈھال کر مقید کر لیا گیا ہے۔ علامتوں کو نمایاں کرتے ہیں تو ابہام کا رنگ نکھرنے لگتا ہے۔ ان کے بساط لفظ پر ہر حرف اشاروں کی معنوی دنیا کو مزید معنی خیز بنانے کے استعمال میں آتا ہے ۔ خواہ پھر وہ جنوب کے قصے ہوں یا شمال کے، یہ اتالو کالوینو کا کمال کم عاصم بخشی کا زیادہ ہے کہ انہوں نے تحریر کے تانوں بانوں کو مشرقی لفظیات کے ایسے ذخائر سے مرصع کیا ہے کہ پڑھنے والا اتالو کی معنیاتی تفہیم کا بھی لطف لیتا ہے اور عاصم بخشی کی معجزاتی ترسیل کا بھی۔ میں سیکڑوں لفظوں، ترکیبوں، استعاروں ،علامتوں اور کنایوں کی مثال دے سکتاہوں جہاں جہاں عاصم کا فن ہمیں عروج پر نظر آتا ہے ، لیکن پھر بھی اس صورت حال کو واضح نہیں کر سکتا جو لطف متن کے ساتھ ابتدا سے انتہا تک بہتے چلے جانے میں آتا ہے۔ صرف اتنا اشارہ کر سکتا ہوں کہ تحریر کی مکمل زبان انتخاب کلام کا درجہ رکھتی ہے۔ تمت باالخیر۔

Categories
تبصرہ

آج کا تیسرا شمارہ؛ تاثراتی جائزہ

• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی ایک خاص حالت میں پہنچنے کے بعد اس کے ابطال کا اندازہ ہمیں ہو جاتا ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ انسان خود سے بے انتہا جھوٹ بولتا ہے، یا پھر اس با ت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کی مختلف حالتوں کا سچ مختلف ہے۔ محبت کے معاملےمیں ایسا بہت ہوتا ہے اور اس کا علم ہمیں محبت کی مختلف کہانیوں سے ہی ہوپاتا ہے۔ اتالوکلوینو(Italo Calvino)جو اطالوی زبان کے ایک مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کی کہانی چاند کی دوری اس کی اچھی مثال ہے۔اجمل کمال یا زینت حسام ان دونوں میں سے جس نے بھی ان کی کہانی سے قبل ان کے تعارف کے طور پر چند جملے لکھتے وقت اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی افسانوی تحریروں میں قاری کی ملاقات ایک بے حد فراواں تخیل اور بیان پر بے پناہ گرفت سے ہوتی ہے ۔ اس سے مجھے مکمل اتفاق ہے۔ (بیان پر قدرت کی شدت اتنی تھی کہ وہ ترجمے کی صورت میں بھی زائل نہیں ہوئی۔)اس کہانی میں اتالو کلوینو نے محبت کے دو مختلف احساسات کو نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ حالاں کہ ان دو محبتوں کے درمیان بھی مختلف النوع محبتیں پائی جاتی ہے۔ مثلاً مسز وحد وحد کا گونگے عم زادکو چاہنا، گونگے کاچاند کو چاہنا ، کشتی والوں کا پنیر یا دودھ کے ٹکڑوں کو چاہنا ، بوڑھے قفوفق کو کپتان کی بیوی، اس کے پستانوں ، کولہوں، بدن کی گدازی اور چاند کے ایک ماہ کے سفر (جو کہ مسز وحد وحد کے ساتھ مطلوب ہے) ان سب کو چاہتے ہوئے زمین کو چاہنا اور اپنے زمینی احساسات کے ادراک کو چاہنا۔ ان تمام چاہتوں سے اتالو کلووینو نے کشمکش سی بھری ہوئی انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیوں کو دلچسپ کہانی کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پھر احساسات کو پیش کرنے کے لیے چاند کے ان تاریخی دنوں کی کہانی گڑھنا بھی خوب ہے کہ جب چاند زمین سے بالکل ایسا لگا ہوا تھا جیسے ہمارے سروں پر گھر کی چھت۔ گونگا اور مسز وحد وحد اور قفوفق تواس کہانی کے جاندار کردار ہیں ہی ساتھ ہی کپتان کی وہ صورت حال بھی قابل توجہ ہے جس کے تحت وہ اپنی بیوی سے لا تعلق سا نظر آتا ہے۔ وہی مسز وحد وحد جن کے لمس کی حرارت کے لیے قفوفق اپنے عم زاد گونگے سے حسد کر رہا ہے اور اس کے پستانوں کی گھلاوٹ پہ مرا جا رہا ہے، اسی سے کپتان لا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کہانی کے مختلف موڑ بھی قابل توجہ ہیں جس کے تحت کہانی چاند سے شروع ہو کر محبت کے ایک نازک احساس پر ختم ہوتی ہے۔۔کہانی کا بنیادی خیال یعنی چاند کی زمین سے قربت اور اس کے بعد بتدیج دوری اتالوکلوینو کو سر جارج ایچ ڈارون George Howard Darwinجو چارلس ڈارون Charles Darwinکے بیٹے تھے ان کی تھیوری کے مطالعے سے آیا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک زمانے میں چاند زمین سے بے حد قریب ہوا کرتا تھا، پھرسمندر کی لہروں نے اسے دور دھکیل دیا۔ حالاں کہ یہ ایک سائنسی اور تحقیق نکتہ ہے اور یقیناً اس برطانوی Astronomerکا اتا کلوینو کے عہد میں اٹلی میں چرچا شباب پر ہوگا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اتالو کلوینو نے ایک فلکیاتی مقدمے کو بیناد بنا کر کس خوبصورتی سے ادبی متن تراش لیا۔ایک ادیب واقعتاً ایسا ہی ہوتا ہے۔

• عام زن جرکسی امین مالوف کے مشہور ناول (Leo Africanus) کی تیسری کتاب کا دوسرا باب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے، عمر میمن نے اس ترجمے کی شروعات میں ایک مختصر سا تبصرہ اس کہانی کے متعلق کیا ہے جو عام زن جرکسی میں بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے ترجمے سے قبل انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جرکس شمال غربی قفقاض کے وہ قبائل تھے جو ہجرت کر کے ترکی شام اور اردن میں آباد ہو گئے۔قفقاض کا املا زیادہ تر قفقاز دیکھنے میں آیا ہے ،اسے انگریزی میں Caucasusکہتے ہیں۔(بشکریہ سید کاشف رضا) اسی قوم کی ایک حسین عورت کی کہانی اس ترجمے میں بیان کی گئی ہے۔ جس کا حسن نایاب ہے۔ حسن الوزان وہ جغرافیہ داں ہےجس کی آپ بیتی یہ ناول ہے۔ وہ اس جرکسی عورت سے اتفاقاً ملتا ہے، پھر ان دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے۔ باب بہت مختصر ہے اس لیے عشق کے تمام مراحل بہت جلد طے ہوتے دکھائے ہیں ، جس سے بعض مقامات پر کہانی کے تاثر پر حرف آتا ہے ۔ناول کا بیانیہ الف لیلوی داستانوں جیساہے، کہانی میں عشقیہ داستان کے علاوہ جو قصے ہیں وہ بھی مشرقی داستانوں سے ملتے جلتے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امین مالوف نے عربی داستانوں سے استفادہ کر کے اس رنگ کو وضع کرنے کی کوشش کی ہے یا ممکن ہے کہ مترجم نے ترجمے میں اپنے حافظے کو داخل کیا ہو۔ کہانی پر مترجم نے نہایت عمدہ تبصرہ کیا ہے جس کے بعد اس کے عشقیہ تاثر پر کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔بقول عمر صاحب:

اس کہانی میں حسن نہ اپنے تغافل میں جرات آزما ہے ، نہ جسم و جاں کے تقاضوں کے اظہار میں مظاہراتی۔ دوسری طرف عشق اپنی بر انگیختگی میں توانا سہی ، بے وقار نہیں ۔ یہ توازن ہی اس کہانی کی جان ہے ۔ ایک دھیما پن ! ایک قابل برداشت اور اتنی ہی دل نواز حسرت زندگی کا حزنیہ احساس جو دشنام طرازی کی ادنا ترین کوشش کا بھی سزاوار نہیں ، عورت کی خود آگاہ سپردگی ! مرد کی بے وقار بے تابی ! زبان کی تلمیحی وسعت ، جس سے پیدا شدہ نت نئے تلازمے احساس کی رگ رگ میں ایک جاندار لمس کو جگا دیتے ہیں ! اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں تعلق خاطر یک طرفہ نہیں اور نہ ہی اس میں انائے بے جا کا گھمس ہے! بلکہ اس کی پرورش باھمی پاس داری کے ارفع ترین اصولوں پر ہوئی ہے۔ یہاں مرد عورت کو استعمال نہیں کر رہا، بلکہ جسم بڑی صحت مند بے قراری کے ساتھ اپنے ہم نفس کا جویا ہے۔ آخراً یہ زندگی کا اس کی تمام مہجوریو کا باوصف جشن ہے۔(ص:20، عمر میمن، آج :شمارہ نمبر 3۔)

کہانی میں صرف ایک مقام ایسا آتا ہے جب مصر کے اہراموں کی طرف سفر کرتے ہوئے ابن بطوطہ کے تذکرے پر جرکسی خاتون جس طرح قہقہہ لگاتی ہے وہاں کہانی کا عشقیہ تاثر متاثر ہوتا ہے اورایک نوع کی بے لاگ اور غارت گر ہنسی سے جرکسی خاتون کا تصور کہانی کے تسلسل سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابن بطوطہ پر اس کی رائے سے اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ جرکسی خاتون نہیں بلکہ حسن الوزان ایک جغرافیہ داں کی حیثیت سے ابن بطوطہ پر تنقید کر رہا ہے۔

ترجمے میں کہیں کہیں جملے ادھورے رہ گئے ہیں یا انہیں انشا یا پروف کی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
وہ اس سیر سے کافی متاثر ہوتی تھی ، گو اس کی وجہ میری سمجھ نہ آسکی۔(ص:28)
صفحہ 27 پر بلسان کا ذکر آیا ہے جو ایک درخت کا نام ہے ، لیکن اس جگہ یہ بھی جملہ لکھا ہے کہ: وہ واحد درخت جس سے بلسان پیدا ہوتا ہے۔ گویا اس سےیہ بات واضح نہیں ہوتی کہ بلسان کوئی پھل ، پھول یا اسی طرح کی کوئی اور شئے ہے یا خود درخت ہے۔ حالاں کہ لغت کی رو سے بلسان ایک درخت ہوتا ہے جس سے ایک مخصوص روغن نکلتا ہے۔ جسے حکیم نفس کو موٹا اور لمبا کرنے کے لیے تجویز کرتے ہیں۔

• اس شمارے میں موجود محمدعمر میمن کا مضمون یا وہ جو بھی ہے جس کا عنوان”کولاژ،مونتاژ،اسمبلاژاور سبوتاژ” ہے ، میری سمجھ سے باہر ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی یا ان کی نسل کے دیگر لوگوں کے لیے ہی لکھا گیا ہو۔ اس لیے غور کرنے کے با وجود کہ آخر یہ مجذوبا نہ باتیں ہیں کیا ، میرے پلے کچھ نہیں پڑا۔

• محمد سلیم الرحمن کی تحریر ایک نا مکمل ناول کے اوراق اگر آج میں شائع نہ ہوتے تو غالباً کسی اور پرچے میں بھی جگہ نہ پاتے۔ یہ میرا خیال ہے کہ آج میں اس نےاپنا صحیح مقام حاصل کیا۔ تنہا بھی اسے نہیں شائع کیا جا سکتا تھا کیوں کہ یہ کوئی باقاعدہ ناول نہیں ۔ جتنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اتنا تو ہرگز نہیں ۔ لیکن یہ اس تحریر کا کمال ہے کہ اس کے مطالعے سے ایک مکمل ناول کا تاثر حاصل ہے۔ میں نے سلیم الرحمن کی چند ایک تحریریں اس ناول سے قبل بھی پڑھی ہیں ، لیکن ان کا اس طرح کا بیانیہ ان میں نہ تھا۔ نہایت دل گرفتہ ۔بلا کی منظر کشی جس کو پڑھتے ہوئے دل پر وہ کیفیت گزرتی ہے جس کا اظہار وہ اپنے منظر میں کرتے ہیں ۔ یہ تحریر کیا ہے اچھا خاصا ایک سفر ہے جس پر قاری مشیر کے ہمراہ نکل سکتا ہے۔ کبھی دھوپ، کبھی چھاوں ، کبھی جنگل ، شہر ندیا ں تو کبھی اوبڑ کھابڑ راستے۔ ہر طرف ایک گہری فکر کے ساتھ موسم اور ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سفر جاری رہتا ہے۔ کبھی ذہن ان حالات میں گھر کر مشیر کی طرح سوچنے لگتا ہے اور دنیا جہان کی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں ۔ کبھی ایک عجیب سی مایوسی دل پر چھا جاتی ہے جس کا لطف متن سے جڑنے والا قاری ہی محسوس کر سکتا ہے۔ ناول کے واقعات کبھی اتنے حقیقی ہو جاتے ہیں کہ ان پر اصل زندگی کا گمان ہونے لگتا ہے اور کبھی ایسے پیچیدہ کے ان کی گتھیوں کو سمجھنا اور سمجھانا ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے۔ نہایت گہری بصیرت کے ساتھ مشیر کے ساتھ چلتے چلتے مجید کی اٹکھیلیاں اکتادینے والی معلوم ہوتی ہیں ۔ مگر زندگی سے بھر پور اس کا قہقہہ ہمیں زیست کی دوسری سچائیوں سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ واجدہ کا کردار بھی سلیم الرحمن نے خوب نکالا ہے ، جس سے ناول میں ایک جمالیاتی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ پورے ناول میں ان کا ایک جملہ کہ جب واجدہ چائے کا ایک گھونٹ لیتی ہے اور مشیر اس کے چمکتے ہوئے ہونٹوں کو للچائی ہوئی نگاہ سے دیکھ کر اپنا چہرا دوسری طرف گھما لیتا ہے کہانی کو رومانی رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ ناول کی زبان اس کا بیانیہ اور اس کے کردار تینوں لا جواب اور دلچسپ ہیں۔ ایسا مختصر ناول اردو کے ان ہزار ہا ضخیم ناولوں پر بھاری ہے جن میں نہ کہانی ہوتی ہے نہ بیایانیہ۔

• محمد انور خالد انگریزی زبان کے استاد اور اردو کے نظم گو ، ان کی اس شمارے میں موجود چھ نظمیں اردو کی نئی شاعری کی پرتیک ہیں ۔ ان کی نظموں کی زبان صاف اور سرل ہے۔ کہیں کہیں تراکیب کی ژولیدگی نظر آتی ہے ، مگر اکثر مقامات پر سیدھے اور سامنے کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ نظمو ں کا معنیاتی نظام پیچیدہ سہی مگر شاعرانہ اور پر لطف ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشرقی استعاروں کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔ جو اردو کلاسکل شاعری میں بہت ملتے ہیں ۔ نظمیں طویل نہیں ہے، اس لیے قاری کو پڑھنے میں الجھن نہیں ہوتی۔ ایک ستھرا ادبی ذوق رکھنے والا قاری جو نئی نظم کو غیر مربوط اور آزادانہ اظہار کی طرح قبول کرتا ہے اس کے لیے نظموں میں گہرے راز چھپے ہیں جن سے داستانی رنگ کی کہانیاں مترشح ہوتی ہیں ۔ اسلوب کی سادگی نے شاعری کو مزید بلیغ بناا دیا ہے۔ کہیں کہیں کوئی ترکیب بوجھل لگتی ہے اور کہیں کہیں کوئی استعارہ یا تلمیح خاصی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود ہر نظم میں ایسے چار سے آٹھ مقام ہیں جن پر بے ساختہ دل سے آہ نکلتی ہے۔ محمد انور خالد کی نظموں میں رومان بھی ہے اور زندگی کی پیچیدہ حقیقتیں بھی۔ ان کے یہاں معنی کا ٹھہراو بھی ہے اور تحرک بھی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی نظم “یخ زدہ انگلیاں ” اور “آسماں خاکداں”خاصی دلچسپ لگیں۔

• محمد انور خالد کے بعد زیبا الیاس کی آٹھ نظمیں دی گئی ہیں ۔ ان میں زیادہ تر جذباتی نوعیت کی نظمیں ہیں جن میں رشتوں، لمحوں اور یادوں کے جذبات کام کررہے ہیں ۔ کہیں کہیں سیاسی نوعیت کے مصرعے بھی ہیں ۔ان کی نظموں میں عورت کے احساسات کا بیان کثرت سے کیا گیا ہے۔ نظمیں اتنی زیادہ متاثر کن نہیں ۔ کچھ کچھ” تعفن “کو چھوڑ کر۔

• اس شمارے میں شامل جیک لنڈن کی کہانی الاو انگریزی زبان سے ترجمہ کی گئی ہے۔ جس کا ترجمہ صغیر ملال نے کیا ہے۔ جیک لنڈن ایک مشہور امیریکی ناول نگار تھے جن کی پیدائش 12 جنوری 1876 میں سن فرانسسکو ، کیلی فورنیا میں ہوئی تھی۔ بنیادی طور پر وہ ایک صحافی اور سماجی کارکن تھے لیکن ان کی ادبی حیثیت بھی مثلم ہے۔ ان کی کہانی To Build of Fire (الاو)بہت مشہور ہوئی ۔ اس کا کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ اردو میں صغیر ملال نے اس کا ترجمہ بہت آسان زبان میں کیا ہے۔ اس کہانی میں ایک مسافر کی داستان بیان کی گئی ہے جو برفیلے علاقوں کا سفر کرتا ہے اور اپنے احباب کو ان اسفار کے قصے سناتا ہے۔ برفیلے علاقوں میں سفر کرنا اس کی ہابی ہے۔ لیکن اپنے تیسرے سفر میں وہ ایک ایسے خطر ناک برفیلے علاقے میں چلا جاتا ہے جہاں کا درجہ حرارت صفر سے ستر درجے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس سفر میں اس پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح وہ اپنے پالتو کتے کے ساتھ اس برفیلے علاقے کے شدائد برداشت کرتا ہے۔ ان واقعات کا بیان نہایت دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے۔ کہانی کی جان وہ حصہ ہے جب اس کہانی کا مین کردار الاو جلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا کتا اس کوشش میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا نظر آتا۔ جانور اور انسان کا رشتہ، جانور کی جبلت، انسان کی خطرات سے لڑنے کی فطرت اور ڈر کے غلبے سے نجات پانے کی صورت حال کو اس کہانی میں متاثر کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیک لنڈن نے ایک انسان اور کتے کے کردارسے کہانی کی نفسیاتی فضا کو تشکیل دیا ہے۔ کہانی میں ایک مقام اور بھی بہت اہم ہے جہاں کہانی کا مین کردار ٹھنڈ کی شدت سے نجات پانے کے لیے اپنے پالتوکتے کو مارنے کی کوشش کرتا ہے اور کتا کسی انجانی قوت سے اس خطرے کو بھانپ لیتا ہے ۔اس کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیک لنڈن کو جانوروں کی نفسیات کا بہت گہرا علم تھا۔

• تادیوش روزے وچ(Tadeusz Rozewicz)پولینڈ کا ایک مشہور شاعر جس کی چند نظمیں اس شمارے میں دیگر تین پولینڈ کے شعرا کے ساتھ دی گئی ہیں ۔ تادوش روزے وچ انیسویں صدی کے شاعر ہیں جنہوں نے پولینڈ میں اس زمانے میں ہوش سنبھالا جب وہاں کے سیاسی حالات بہت خراب تھے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک اچھے اور بڑے شاعر ہیں ، جن کی نظموں میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے علاوہ بھی بہت کچھ نظر آتا ہے ،لیکن بیسویں صدی کے یورپی سیاسی حالات کے سیاق میں ان کی شاعری زیادہ معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ اس شمارے میں افضال احمد سید، اجمل کمال اور آصف فرخی کی ترجمہ شدہ نظموں کا مطالعہ کر کے ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے تو نہیں قائم کی جاسکتی ۔ لیکن غالب رجحان یہ بنتا ہے کہ وہ اپنی آس پاس کی دنیا سے اتنے متاثر تھے کے ان کی شاعر میں اپنے ماحول کی زمینی حقیقتیں کثرت سے شامل ہو گئیں (اس کی ایک وجہ ان کا پولینڈ کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ہونا بھی ہے)۔ ان کی نظم پونی ٹیل اس کی ایک اچھی مثال ہے جس میں ہالوکوسٹ کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ تادیوش کی نظموں کو ایک اردو طالب علم کی حیثیت سے پڑھنے کے بعد ان کی نظموں کے تاثر کو بیان کرنا بھی ذرا مشکل کام ہے۔ ان کی نظمیں بہت الگ نہیں ہے ، لیکن ان کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اردو شاعری سے ملتی ہوئی بھی نہیں ۔ حالاں کہ بیسویں صدی کے عالمی حقائق پوری دنیا میں خاصے ملتے جلتے تھے، جن میں سیاسی اور سماجی افراتفری ، شخصی آزادی، سرحدی اور مذہبی منافرت اس کا پر تو ہر جگہ نظر آتا ہے ۔ اس کے باوجود آپ ان کی نظموں کو فیض یا جوش یا اسی قبیل کے اردو کے کسی اور شاعر سے مشابہ قرار نہیں دے سکتے۔ ان کی شاعری میں ایک نوع کی اجنبیت ہے جو ملکی یا جغرافیائی اظہار کی حالت سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کے یہاں جرات اور اظہار کرب ہے، سماجی مظلومیت ہے اور باطنی خلش بھی،لیکن ایک نئی تشبیہ اور استعارے کے ساتھ۔ تادیوش کی شاعری میں کھردراہٹ نہیں ہے ایک طرح کی لطیف جاذبیت ہے جو قاری کو ان مسائل کے قریب لے جاتی ہے جو ان کے ملک کے ہیں اوران کی شاعری پڑھتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے مسائل و معاملات کو شاعرانہ زبان دے کر انسانیت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ مجھے ان کی دو تین نظموں نے ذاتی طور پر خاصہ متاثر کیا جن میں سبک دوشی پونی ٹیل، محبت 1944،ایک ملاقات، سیب اورضروری کاموں میں مصروف شامل ہیں۔تادیوش کا تعارف اجمل صاحب نے اپنے اس انتخاب کی ابتدا میں دیا ہے جس میں مجھے ایک صفائی نظر نہیں آئی کہ تادیوش نے اپنی تعلیم کراکو یونیورسٹی سے مکمل کی تھی لیکن اس یونیورسٹی کا اصل نام Jagiellonian Universityہے جسے عرف عام میں Krakow Universityبھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ کراکو میں واقع ہے۔

• تادیوش کے بعد زبگنیو ہربرٹ کی نظمیں پیش کی گئی ہیں ۔ زبگنیو بھی پولینڈ کے اسی عہد کے شاعر ہیں جس عہد کے تادیوش ہیں ۔ ان کی نظموں کے عناوین تاریخی واقعات اور اساطیری کرداروں سے ماخوذ ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے ان کی شاعری میں تلمیحاتی عناصر کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ زبگنیو کی 20 نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ جن میں سے بعض نظموں کو نثریئے بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان 20 نظموں کا ترجمہ انگریزی سے افضال احمد سید اور آصف فرخی نے کیا ہے۔ نظموں کے عناویں سے ہی ان کی دلچسپی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً فورٹن براس کا مرثیہ(فورٹن براس شکسپیر کے مشہور ڈرامے ہیملٹ کا کردار)،سلطنت روم کے ایک صوبے دار کی واپسی، وادی کے دروازے پر، آنسووں کی صنعت،واں کے نکالے ہوئے،بادشاہ کا خواب،زبان یار ، کتب خانے میں ایک سانحہ اور بادشاہت کا خاتمہ وغیرہ۔ان میں کچھ نظمیں طویل ہیں اور کچھ مختصر، ان نظموں کو اردو زبان میں پڑھتے ہوئے اس وقت تک کچھ خاص لطف نہیں ملتا جب تک ہم شاعر کی تہذیب اور اس کے تاریخی سیاق کو اچھی طرح سمجھ نہ لیں ۔ کچھ ادھورے سے واقعات کا تاثر ذہن پر مرتسم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم شاعر سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں تو ان نظموں کا اصل جوہر سامنے آتا ہے۔ فورٹن براس کے مرثیے کا مطالعہ کرنے کے لیے ہیملٹ کا مطالعہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی تین نظموں بارش ، آنسووں کی صنعت اور مرغی نے متاثر کیا۔ نظم بارش ایک بھر پور المیہ ہے جس میں تاریخی حالات، جنگی اور خونی حادثات کے ساتھ ساتھ جذباتی اشتعال کو جذب کیا گیا ہے۔ اس میں شاعر نے زندگی کی گہری سچائیوں کو مختلف استعاروں سے بیان کیا ہے۔ نظم کا پہلا تاثر پر لطف ہے ۔ دوسرا گہرا اور تیسرا تفکر آمیز۔ ایک بھر پور نظم جس میں احساسات کی برستی بوندوں کا منظر دکھایا گیا ہے۔ آنسووں کی صنعت میں ایک نوع کی ٹیس ہے ۔ ایک طنز بھی اور نئی تہذیب کا المیہ بھی۔ مرغی ایک لاجواب تشبیہاتی نظم ہیں ۔ اس میں انسانی رویوں کی تشبیہات ہیں ۔شاعر کا یہ کمال ہے کہ اس نے مرغی کے اعمال اور प्रभावکو حکایت بنا کر پیش کیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس نظم کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

• وسلاواشمبورسکا(Wislawa Symborska) کی ایک نظم یاسلوکے قریب فاقہ کیمپ اس شمارے کی زینت ہے۔ مصنفہ پولینڈ کی بہت مشہور خاتون ہیں۔ان کو 1996 میں نوبل انعام بھی مل چلا ہے۔ انہوں فرانسسی زبان سے پولش زبان میں کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے اور 2012 میں ان کی موت 88 برس کی عمر میں کراکو، پولینڈ میں ہوئی۔ وسلاوا کی نظم کا عنوان یاسلو کے قریب فاقہ کیمپ ہے ۔ یہ لفظ یاسلو دراصل یسوو ہے جس کو انگریزی میں Jasloلکھا جاتا ہے۔ اس کا پولش تلفظ بھی یسوو ہی ہے ۔ یہ ایک قصبے کا نام ہے جو پولینڈ کے جنوب مشرقی علاقے میں ہے۔خاصہ خوبصورت اور مجلا ومصفا۔ نظم کا عنوان چونکہ فاقہ کیمپ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظم میں ایک نوع کے طنزیہ لہجے کو روا رکھا گیا ہے کیوں کہ وہ یسوو کے قریب آباد ہے۔اس نظم میں ایک فاقہ زدہ کیمپ کی ابتری کو استعاراتی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک گہرے المیہ کی صورت۔ جس سےانسانی ابتری اور زندگی کی بے مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک شکستہ خیال جس میں بار بار تاریخی زندہ حقیقتوں پر سوال قائم کیے گئے ہیں اور انسانی رویوں کی تغلیب کو بیان کیا گیا ہے۔

• الیگزانڈر واٹ(Aleksander Wat) کی صرف تین نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ پہلی بہ عنوان نظم دوسری عہد نامہ عتیق کے ایک باب کی تفسیر اور تیسری یکے از حکایات فارسی۔ ان تنیوں نظموں میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں ایک الہامی کیفیت نظر آتی ہے۔ نظم کا بیانیہ مترجم کا تراشا ہوا ہے مگر متاثر کن ہے ، شاعر کے اصل اسلوب کا علم نہیں مگر نظم ترجمے کی صورت میں مختلف طرز کی معلوم ہوتی ہے۔ پولینڈ میں ایسی شاعری اللہ جانے کتنے لوگوں نے کی ہے۔ لیکن ان چار شاعروں میں یہ لہجہ ذرا الگ ہے۔ عہد نامہ عتیق کی تفسیر بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان نظموں کا ترجمہ افضال احمد سید(پہلی اور دوسری) اور آصف فرخی(تیسری) نے کیا ہے۔

Categories
گفتگو

نئے پڑھنے والوں پر وہ ثقافتی بوجھ نہیں ہے جو ہماری نسل پر تھا؛ اجمل کمال

اجمل کمال فکشن نہیں لکھتے، لیکن اردو زبان میں فکشن کا شاید ہی کوئی اچھا قاری ہو جو ان کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ کراچی سے چھپنے والے ایک اہم ادبی جریدے “آج” کے ایڈیٹر اور کتابوں کے پبلشر ہیں۔ بحیثیت مترجم وہ انگریزی، ہندی اور فارسی زبانوں سے فکشن کا ایک گرانقدر ذخیرہ اردو میں منتقل کر چکے ہیں۔ “لالٹین” نے ان کے ساتھ ایک مفصل نشست کا اہتمام کیا ہے تاکہ قارئین “آج” کہانیوں کےگرانقدر ادبی خزانے کو ہم تک پہنچانے والے کی اپنی کہانی اور خیالات جان سکیں۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”2″]

لالٹین:رسالہ”آج” کے تعارف میں کیا کہیے گا، اس کے اجرا کا خیال کیسے آیا، آغاز سے لے کراب تک کیا مسائل شاملِ حال رہے؟
اجمل کمال: “آج” کا کام میں نے 1981ء میں شروع کیا، تب میں 23 برس کا تھا۔ مطالعہ کی عادت تھی، تو مجھے خیال آیا کہ اردو میں، اور دوسری زبانوں میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے، ان کو ملا کر دیکھا جائے۔ تب میں حیدر آباد میں تھا، پہلا شمارہ 1981ء میں حیدرآباد سے نکلا تھا۔ تو کچھ ایسے نئے رجحانات تھے، جن کو ہمارے روایتی ادبی رسالے جگہ نہیں دیتے تھے، مثلا نثری نظم کا اس میں کافی حصہ تھا۔ پھر اس میں بھارت، ایران اور دوسری جگہوں سے تراجم اس میں شامل کیے۔ پولینڈ کے ایک شاعر کی نظمیں تھیں، پھر بورخیس سے ہم نئے نئے متعارف ہوئے تھے۔ اس کے تراجم کا ایک سیکشن بنایا تھا۔ پھر ہم اسے چلا نہیں سکے، پھر سن 89 میں ہم اسے دوبارہ شروع کر سکے۔۔ اس کے بیچ میں ہم نے ایک نمبر نکالا جو میلان کنڈیرا پر تھا، 1986ء میں۔ تو بنیادی طور پر یہ ایک قاری کی حیثیت سے یہ کوشش تھی کہ دوسرے قاریوں کو بھی اپنے مطالعے میں شامل کیا جائے۔ ایک مترجم بھی ایسے ہی ہوتا ہے، کہ آپ مختلف چیزیں پڑھتے ہیں تو اسے ایک خاص ترتیب میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک قاری کا دوسرے قاریوں کے ساتھ ایک مکالمے کی طرح ہے۔
اس کی سرکولیشن تو بہت تھوڑی سی ہے، پانچ سات سو کاپیاں چھپتی ہیں۔ میں نے ایک بینک میں نئی نئی نوکری شروع کی تھی، ایک ڈویلپمنٹ بینک تھا۔ تو وہاں سے ہمیں سال میں چار بونس ملتے تھے، یوں چار شماروں کے پیسے نکل آتے تھے۔ شروع میں ہم نے اشتہار لینے کی کوشش بھی کی، لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس سے میگزین کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ یا یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی ادارے کا پی آر او غزل گو ہوتا ہے یا اس کی بھتیجی غزل گو ہوتی ہے۔ لیکن غزل تو ہم چھاپتے نہیں ہیں۔ پھر ویسے بھی اتنے محدود قارئین والے رسالے کو اشتہار دے کر کسی کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کارپوریٹ کی ایک طرح کی سماجی ذمہ داری ہی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کو سماجی ذمہ داری کی بجائے اپنی مہربانی سمجھتے ہیں۔ پھر میں نے اس کی قیمت کم کرنے کا سوچا۔ ہم اپنے لکھنے والوں اور ترجمہ کرنے والوں کو کچھ پیسے نہیں دیتے، اور زیادہ تر کام میں خود ہی کرتا رہا۔ تب ایپل کا ایک پروگرام تھا، اس کا نام تھا نستعلیق نظامی۔ میرے پاس ایک چھوٹا سا ایپل کا کمپیوٹر تھا، اس پر میں سبھی خود کمپوز کیا کرتا تھا۔ اس کی سبھی پیسٹنگ وغیرہ بھی میں خود ہی کرتا تھا۔ تو لے دے کے اس پر ہماری لاگت وہی بنتی تھی جو اس کی چھپائی کی لاگت تھی۔ تو میرا خیال یہ تھا کہ رسالے کا جو خرچہ ہے، وہ اس کے پڑھنے والوں کو اٹھانا چاہیے۔ تو میں نے اس کی لاگت کو اتنا کم کر لیا تھا کہ اگر ڈھائی سو کے قریب اس کے سبسکرائبر ہوں تو اس سے اس کا خرچہ نکل آتا تھا۔ تو اب کوئی چار سو کے قریب ہیں۔ جب تک میں بینک میں کام کرتا تھا کوئی دس سال، تو تب میرا ذریعہ معاش وہ تھا، تو اس کے بعد انہوں نے ایک گولڈن ہینڈ شیک اسکیم نکالی، وہ لے کر میں نے وہ نوکری چھوڑ دی۔ ان پیسوں سے ہم نے کراچی صدر میں ایک دفتر خرید لیا، ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان بھی بنا لی۔کچھ میں نے خود لکھنا شروع کیا۔ کچھ عرصہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے لیے لکھا، آج کل کے لیے لکھتا رہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے لیے کوئی ایک سال لکھا۔ مطلب یہ کہ یہ رسالہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی بنانا چاہا۔

 

لالٹین:رسالے کے مشمولات کیا ہیں، اور اس کے اہم ادبی سنگِ میل کیا رہےہیں؟
اجمل کمال: ابتدا میں تو صرف ادب ہی تھا، اور وہ بھی صرف فکشن اور شاعری۔ تو بعد میں ہم نے ایران کے بارے میں ایک پولش لکھاری ریشارد کاپوشینسکی کی ایک پوری کتاب ترجمہ کر کے اس میں شائع کی، Shah of Shahs اس کا نام تھا، لیکن یہ ناول یا کسی باقاعدہ تخلیقی ادبی صنف میں نہیں آتی تھی۔ تو ہمارے کچھ پڑھنے والوں نے کہا کہ کیا اس کو ادب کہنا چاہیے؟ اگر ایک شخص نے کسی معاشرے کو اتنی باریک بینی سے دیکھ کر اسے بیان کیا ہو، میں تو اسے ادب کہوں گا۔ اس بحث سے ادب کے بارے میں میرا اپنا تصور خاصا وسیع ہوا اور اس سے اس کے فارمیٹ میں کچھ تبدیلی آئی۔ تو سن 94ء میں ہم نے ایک پورا شمارہ نکالا بوسنیا کے بارے میں۔ وہاں نسلی بنیادوں پر لڑی گئی ایک سول جنگ چل رہی تھی بوسنیا ۔ کراچی میں بھی اس وقت ویسا ہی ہو رہا تھا۔ تو ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ بوسنیا اور کراچی کی صورت حال میں کیا باتیں مشترک ہیں۔ ظاہر ہے کہ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب ایک ادبی پرچے کے محیط سے باہر کی چیز ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں اس اعتراض کی زیادہ پروا نہیں رہی تھی۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ایسا ہی کام کراچی کے موضوع پر بھی ہونا چاہیے۔ لیکن کراچی پر کیا گیا اس نوعیت کا کام ہمارے علم میں نہیں تھا۔ تو کوئی ایک سال کی مشقت سے ہم نے “کراچی کی کہانی” کے نام سے دو جلدوں میں ایک نمبر چھاپا۔ کراچی پر جتنا بھی مواد تھا، وہ یا تو انگریزی میں تھا، یا پھر سندھی میں تھا۔ ہم نے اس سے منتخب مواد کو ترجمہ کروایا۔ کراچی چونکہ لاہور کی طرح بہت پرانا شہر نہیں ہے، ہم نے اس کی تاریخ ٹریس کی۔ اور مختلف کمیونیٹیز کے درمیان ابلاغ کی کمی تھی، سندھی والوں کو اردو والوں کے موقف کا پتہ تھا اور نہ اردو والوں کو سندھیوں کے موقف کا۔ تو ہم نے سب کے موقف کو یکجا کر کے ایک مجموعی منظر ابھارنے کی کوشش کی۔
“آج” کے زیادہ تر پڑھنے والے، چاروں صوبوں کے چھوٹے شہروں سے قارئین کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بہت دلچسپ لوگ ہیں۔ ان پر اس طرح کا ثقافتی بوجھ نہیں ہے، جس طرح کا ہماری نسلوں کے اوپر تھا۔ دوسرا یہ کہ ان کے ہاں زبانوں کے درمیان کی عداوت نہیں ہے۔
اردو کے قریب کی زبانوں کو ہم نے مربوط انداز میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ مثلا ہندی، فارسی اور عربی۔ تو اس پر ہم نے مختلف ادیبوں مثلا مارکیز، میلان کنڈیرا اور نرمل ساہنی وغیرہ پرکئی ایک خصوصی شمارے نکالے۔ اس میں زیادہ تر ترجمے شامل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب آپ ایک سہ ماہی نکالتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کو تین ماہ میں اپنے مطلوبہ معیار کا کافی مواد بھی مل جائے۔ ایسے میں یا تو آپ کو وہ تاخیر سے نکالنا پڑے گا، یا پھر آپ نے اپنے ذہن میں جو معیار رکھا ہوا ہے، اس پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔کئی بار یوں بھی ہوتا ہے کہ پورے پرچے میں کوئی طبعزاد چیز نہیں ہوتی، صرف ترجمے ہوتے ہیں۔ پھر ہم کتابیں بھی شائع کرتے رہے۔ جریدے کا تو رفتہ رفتہ قارئین کا ایک حلقہ بن گیا، لیکن کتابیں زیادہ نہیں بکتی تھیں۔ تو پھر یوں کیا کہ طویل افسانہ یا خوددنوشت وغیرہ، ہم نے پوری پوری اپنے جریدے میں چھاپنی شروع کر دیں۔ سب سے لمبی چیز ہم نے چھاپی وہ ساڑھے چار سو صفحوں کا ایک ناول تھا، وہ ہم نے پورے کا پورا ہی ایک پرچے میں شامل کر لیا تھا۔ خالد طور کا ایک ناول تھا “بالوں کا گچھا”۔۔ ان کی کہانی “کانی نکاح” کا مجھے پتہ چلا کہ وہ ایک بہت غیر معمولی کتاب تھی، ان کی ایک اور کہانی مجھے ملی، وہ فنون میں چھپی تھی۔ تو اس کو ہم نے ری پرنٹ کیا۔ تو اس سے ہمیں نیا زاویہ یہ ملا کہ ایسی چیزیں جو شائع ہو چکی ہیں، لیکن لوگوں کی پوری توجہ نہیں لے پائیں، ان کو شامل کیا جائے۔ تو لاہور کے ایک صاحب تھے حمید شیخ۔ جو پاکستان ٹائمز میں تھے اور لاہور کے بارے میں ایک کالم لکھا کرتے تھے۔ تو انہوں نے اردو کا ایک ناول لکھا تھا، جس کا نام تھا گینڈا پہلوان۔ تو وہ بہت ایکسٹرا آرڈینری تحریر تھی۔ تو یوں ہوتا رہا کہ جو اچھی چیز سامنے آئی، قارئین تک پہنچاتے رہے۔

 

لالٹین:“آج” کے قارئین زیادہ تر کون لوگ ہیں؟
اجمل کمال: “آج” کے زیادہ تر پڑھنے والے، چاروں صوبوں کے چھوٹے شہروں سے قارئین کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بہت دلچسپ لوگ ہیں۔ ان پر اس طرح کا ثقافتی بوجھ نہیں ہے، جس طرح کا ہماری نسلوں کے اوپر تھا۔ دوسرا یہ کہ ان کے ہاں زبانوں کے درمیان کی عداوت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ تو یوں تھا کہ اردو کے اہل زبان اور پنجاب کے اردو لکھنے والوں کے درمیان ایک کشمکش تھی، اور سب کچھ اسی بنیاد پر دیکھا جاتا تھا۔ نئے پڑھنے والے چونکہ اس سبھی قصے سے بے خبر ہیں تو وہ چیزوں کو زیادہ براہ راست انداز میں دیکھتے ہیں۔ پھر یہ ہے کہ اعلی درجے کی تعلیم سے ان کو محروم رکھا گیا ہے۔ ان کو اردو سکھائی گئی ہے اور اردو ان کو آتی ہے۔ تو وہ انگریزی میں لکھا گیا عالمی ادب تو پڑھ نہیں سکتے، اسی لیے وہ ترجموں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بہت ماڈرن لوگ ہیں اور وہ ساری دنیا کا ادب پڑھنا چاہتے ہیں۔ ان سے جب بھی ملنا جلنا ہوتا ہے تو بڑی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ رسالہ تو میں نے اپنے باطنی اطمینان کے لیے نکالا تھا، اس میں اشتہار وغیرہ بھی نہیں ہوتے، جس سے اس کی آزادی بھی برقرار رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح کا اطمینان میں چاہ رہا تھا، وہ تو مجھے مل ہی رہا تھا، لیکن جب پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگوں تک پہنچ بھی رہا ہے، تو کچھ اضافی خوشی ہوتی ہے۔
شناخت کا جو مسئلہ تھا، اس نے ریاست کے ویژن کو بہت محدود کر دیا۔ ہم نے بالکل دفاعی انداز اختیار کر لیا کہ ہم نے یہ جو ملک بنایا ہے، اس کا جواز گھڑنے کی ضرورت ہے۔آئیڈیالوجی کی حدود نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا۔ تعلیم کے معیار کو بہت نقصان پہنچا۔

 

لالٹین:بحیثیت مترجم، آپ اردومیں ادبی، علمی اور صحافتی تراجم کی صورتِ حال کو ماضی کے مقابلے میں، اور فارسی، عربی اور ہندی وغیرہ کے مقابلے میں کس مقام پر دیکھتے ہیں؟
اجمل کمال:ان زبانوں میں ترجمے کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جدت جو ہے، وہ ان کے ہاں بھی مغرب سے ہی آتی ہے۔ ان کی زندگی تو بدل گئی ہے لیکن ان جدید زندگیوں کی تشریح کرنے والی چیزیں ظاہر ہے کہ مغربی زبانوں میں ہیں۔ ان زبانوں نے ترجمے کے ذریعے خود کو مالا مال کیا ہے۔ مثلا عربی میں بہت ترجمے ہوئے ہیں۔ فارسی میں بڑے منظم انداز میں بہت ترجمے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی ادب کی کوئی ایسی اہم کتاب نہیں ہو گی جو فارسی میں ترجمہ نہ ہوئی ہو۔ انگریزی سے بھی، اور انگریزی کے توسط سے دوسری زبانوں سے بھی۔ لیکن اس طرح کا منظم کام یہاں مقامی سطح پر تو نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں ترجمہ تو شروع ہو گیا تھا جونہی یہاں پرنٹنگ پریس آیا ہے۔ جنوبی ایشیاء کی زیادہ تر زبانوں میں پرنٹنگ شروع ہوئی تھی بائبل کے ترجمے سے۔ اردو میں بھی بائبل کا ترجمہ ہوا۔ تو اس کے بعد اردو کی پبلشنگ، صحافت اور دوسرے میدانوں میں لوگوں نے کام شروع کیا۔ انہوں نے پھر انگریزی سیکھی، اور وہ ترجمے کا ایک بہت بڑا دور تھا۔شروع میں جو ترجمے ہوتے تھے، وہ ذاتی کوششیں ہوتی تھیں۔ ریاست کا اس میں کچھ خاص عمل دخل نہیں تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ریاست کی ترجیحات وہ نہیں رہیں، وہ رہنی بھی نہیں چاہئیں تھیں، لیکن لوگوں کا خیال تھا کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ لیکن شناخت کا جو مسئلہ تھا، اس نے ریاست کے ویژن کو بہت محدود کر دیا۔ ہم نے بالکل دفاعی انداز اختیار کر لیا کہ ہم نے یہ جو ملک بنایا ہے، اس کا جواز گھڑنے کی ضرورت ہے۔ آئیڈیالوجی کی حدود نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا۔ تعلیم کے معیار کو بہت نقصان پہنچا۔
صحافتی ترجموں کی بات کی جائے تو پہلے فرائیڈے ٹائمز کا اردو ورژن نکلا کرتا تھا “آج کل” کے نام سے، اس اخبار کے خالد احمد صاحب بتاتے تھے کہ انہیں ترجمہ کروانے میں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ کیونکہ جن لوگوں کو اردو آتی تھی، وہ بڑے بنیاد پرستانہ قسم کے مدارس کے پڑھے ہوئے ہوتے تھے، اور جن کے نظریات معتدل ہوتے تھے، انہیں اردو آتی نہیں تھی۔ لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ صحافتی تراجم جیسا کہ اردو اخبارات میں چھپنے والے انگریزی سے ترجمہ شدہ کالم جو مشاہدے میں آتے ہیں، ان کا معیار بہت بہتر ہوا ہے۔ ایاز امیر ہیں، پہلے اردشیر کاووس جی کا کالم چھپتا تھا۔ ادبی تراجم کی بھی اب طلب بڑھی ہے، تو ان کی رسد میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان کا معیار تو ظاہر ہے کہ مختلف ہوتا ہے، بہت اچھے تراجم بھی چھپتے ہیں، بہت برے تراجم بھی ۔ یہ تو میرے خیال سے ہر جگہ ہوتا ہے۔ جب اس کی مارکیٹ بڑھے گی مقابلہ بھی بڑھے گا اور معیار بہتر ہو گا۔ فارسی میں بھی یہی ہے۔ میں 1991ء میں ایران گیا تو وہاں میں نے مارکیز کی کتاب کے تین الگ الگ ترجمے دیکھے۔ اسی طرح حال میں گیا تو دیکھا کہ ارون دھتی رائے کے ناول کے دو ترجمے دستیاب تھے۔ تو یہ اسی بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ترجمے کی صنعت کتنی بڑی ہے، اس کے قارئین کتنے زیادہ ہیں۔
دنیا کی جتنی بھی ثقافتیں ہیں، سب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ ہم اس طرح کی دو ٹوک اصول بندی نہیں کر سکتے۔ مختلف ثقافتوں میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہوتی ہیں اور مختلف بھی۔

 

لالٹین:ایک اچھاادبی ترجمہ ایک ثقافت سے دوسری ثقافت کے ادب کو منتقل کرتے ہوئے، پہلی ثقافت کے اثرات کو کس حد تک ڈھال لیتا ہے اور کس حد تک برقرار رکھتا ہے؟
اجمل کمال:دنیا کی جتنی بھی ثقافتیں ہیں، سب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ ہم اس طرح کی دو ٹوک اصول بندی نہیں کر سکتے۔ مختلف ثقافتوں میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہوتی ہیں اور مختلف بھی۔ مثال کے طور پر ہندی ہمارے قریب کی زبان ہے، جب ہندی زبان سے ترجمہ کر کے ہم نے ایک نمبر نکالا، تو اس میں سے کوئی پانچ فیصد لفظ ایسے ہوں گے جو ہمیں تبدیل کرنا پڑے۔ جملے کی ساخت اورافعال تمام کے تمام وہی ہیں۔ وہاں ثقافتی فرق جو ہے وہ اصل میں ذیلی ثقافتوں کا فرق ہے۔ اسی طرح فارسی کا اردو پر بہت اثر رہا ہے۔ ایک زمانے میں فارسی ادب کی یہاں وہی حیثیت رہی ہے جو آج کل یہاں انگریزی ادب کی ہے۔ تو ثقافتی طور پر فارسی سے ہم کافی زیادہ واقف ہیں۔ شعری اصناف میں تو ہمیں فارسی سے کچھ خاص فرق نہیں ملتا۔ لیکن فکشن میں آئیں تو ہمیں کافی فرق ملتا ہے۔ اسی طرح آپ لاطینی امریکا کو لے لیں۔ مثلا مارکیز کا ہم نے ترجمہ کیا۔ وہ جغرافیائی طور پر اتنے دور کی ایک ثقافت تھی، دیکھیے وہ کس طرح ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس میں ایک ناول تھا ‘Chronicle of a death foretold’، تو وہ غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں تھا۔ تو اس کہانی میں کرداروں کے جو محرکات ہیں، وہ بڑی آسانی سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو سمجھ آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ معاشرے بھی نوآبادیاتی دور سے گزرے تھے۔ یہ ساری چیزیں انہوں نے دیکھی تھیں۔ اس کے بعد گلوبلائزیشن اور ان کے فطری ذخائر کا جس طرح استحصال ہوتا رہا۔ ترجمہ اپنی جگہ ایک یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ جب اتنی ساری قدریں ان کے ساتھ مشترک ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کے لکھاریوں میں وہ بات نہیں آتی۔جہاں پر ثقافتی معاشرتی فرق آتے ہیں، وہاں بھی بہت کچھ سیکھنے کو پڑا ہوتا ہے۔ ہم نے ایک ہسپانوی ناول شائع کیا جو گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت کے بارے میں تھا۔ لیّامازاریس کا ناول تھا، “ییلو رین”۔ ہمارے ہاں جو گاؤں سے شہر کو ہجرت آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوتی ہے، وہاں مسئلہ کی وجہ بڑھتی آبادی نہیں ہے۔ وہ ایک شخص کی کہانی ہے، جو اپنے گاؤں میں اکیلا رہ گیا ہے، وہ مر رہا ہے، اور گاؤں بھی اس کے ساتھ مر رہا ہے۔ تو شہر سے دیہاتوں کی طرف جو ہجرت ہے، وہ ہماری زندگیوں کی ایک نہایت اہم حقیقت ہے۔ جو شہر بنے ہیں، وہ بھی یونہی بنے ہیں، اور ہمارے دیہات جو تبدیل ہوئے ہیں، وہ بھی ایسے ہی تبدیل ہوئے ہیں۔ ایسے مراحل کو سمجھنے کے لیے بہت سی دوسری ثقافتوں کی لکھی گئی تحریریں بہت مدد دے سکتی ہیں۔
جب آپ کا جاپانی زبان سے ترجمہ کرتے ہوئے کسی ایسے لفظ سے سامنا ہوتا ہے جس کے لیے کوئی دیسی لفظ نہیں ملتا، تو بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی لفظ ہی استعمال کر لیا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اتنا ہی نامانوس فارسی یا عربی لفظ استعمال کیا جائے، کہ وہ لفظ ہمارا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ لفظ کم ہمارا ہے، لیکن انگریزی کا ایک لفظ اگر ہمارے عام استعمال میں آ گیا ہے، وہ زیادہ ہمارا ہے۔

 

لالٹین: ایک ادبی ترجمہ کرتے ہوئے، کسی پڑوسی ثقافت کی مشابہہ زبان سے اپنی زبان میں میں ترجمہ کرتے ہوئے، ان مشابہتوں کے بیچ سے تخلیقی گنجائشیں کس طرح نکالی جا سکتی ہیں؟
اجمل کمال:یوں کرتے ہوئے مترجم کی اپنی ترجیحات اور اس کی اپنی شخصیت شامل ہو جاتی ہے۔ مثلا زبان، افعال سے بنتی ہے۔ جب آپ فارسی سے اردو میں ترجمہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو افعال سبھی اردو کے لانا پڑتے ہیں۔ باقی چیزوں کے ناموں کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔ صادق ہدایت کے ناول “بوف کور” کا ترجمہ کرتے ہوئے فارسی کے ساتھ ساتھ میں نے ایک انگریزی ترجمے سے بھی مدد لی تھی۔ اس میں ایک جگہ آیا کہ ایک طاق کے اوپر ایک کوزہ رکھا ہے۔ انگریزی ترجمے میں کوزے کے لیے ‘کپ’ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، لیکن کپ اور کوزہ ہمارے لیے بہت مختلف مزاج کے لفظ ہیں۔ فارسی سے بہت سے مطالب ہمارے ہاں مشترک ہیں۔ اور اس طرح آپ بہت سی اصل چیزوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ دوسری مثال میں نجیب محفوظ کے ایک ناول کی مثال دوں گا، جسے ہمارے لیے فہمیدہ ریاض نے انگریزی سے ترجمہ کیا تھا۔ تو انہوں نے ہمیں کہا کہ کسی طرح انہیں اس کا اصل عربی متن بھی منگوا کر دیا جائے۔ انہیں عربی بہت نہیں آتی تھی لیکن پھر بھی اصل متن سے بہت فرق پڑا۔ اس میں اس کی مرکزی کردار جو خاتون تھی، اس کا نام لکھا تھا ڈوریا (Doria)، لیکن عربی میں اس کا نام تھا درّیہ۔ تو کلمہ نویسی کے بہت سے مسائل اس سے حل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس میں ایک اور جملہ تھا؛ “the coffin was brought to the courtyard” تو جب آپ اردو میں Coffin کا ترجمہ کریں گے تو پہلا لفظ تابوت آپ کے ذہن میں آئے گا۔۔ لیکن عربی متن میں اس کی جگہ لفظ تھا میّت۔۔ تو میّت کا لفظ ایسا ہے جو ہمارے لیے بالکل اپنا اپنا ہے۔ تو جب میّت صحن میں لایا گیا، اور تابوت لایا گیا، تو دونوں کی ثقافتی فضا بڑی مختلف ہوتی ہے۔ انگریزی اب بہت سی ثقافتوں کو جوڑنے والی زبان بن گئی ہے۔ مثلا جب آپ کا جاپانی زبان سے ترجمہ کرتے ہوئے کسی ایسے لفظ سے سامنا ہوتا ہے جس کے لیے کوئی دیسی لفظ نہیں ملتا، تو بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی لفظ ہی استعمال کر لیا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اتنا ہی نامانوس فارسی یا عربی لفظ استعمال کیا جائے، کہ وہ لفظ ہمارا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ لفظ کم ہمارا ہے، لیکن انگریزی کا ایک لفظ اگر ہمارے عام استعمال میں آ گیا ہے، وہ زیادہ ہمارا ہے۔ جب آپ زبان کو مائیکرو سطح پر دیکھتے ہیں تو اس میں مترجم کی اپنی ترجیحات کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم کسی دوسرے کی ترجیحات کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ البتہ ہم امتیاز کر سکتے ہیں۔
ایک نوجوان جب غزل لکھنا شروع کرتا ہے تو پہلے دس پندرہ سال تک تو وہ اس غیر یقینی حالت میں رہتا ہے کہ وہ بحر میں ہے یا نہیں۔ اسے کوئی بھی یہ کہے کہ وہ بحر سے خارج ہے تو وہ اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے میٹرز جو ہیں وہ یہاں کے نہیں ہیں۔ اور پھر بہت سے لوگ خلیفے بن جاتے ہیں کہ ہمیں عروض پر کامل دسترس حاصل ہے۔ عروض ایک دوپٹے کی طرح ہیں، جو آپ ایک عورت کو دے دیتے ہیں اور آپ کی ساری زندگی اس کو سنبھالنے میں گزر جاتی ہے۔

 

لالٹین:ادبی میلوں کے روز افزوں رجحان کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اجمل کمال: یہ ایک طرح کی ادبی سماجی سرگرمی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں ایک روایت تھی ادبی نشست کی، اس میں لوگ جمع ہوتے تھے جو بڑی حد تک ہم خیال ہوتے تھے۔ وہ ایک چیز کو سنتے تھے، اس پر اپنی رائے دیتے تھے۔ تو یہ ایک طرح سے اس کی وسیع تر شکل ہے۔ اس کی افادیت محدود ہے۔ کیونکہ اس سے یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ادبی میلوں کو پڑھنے کا نعم البدل سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ادبی نشستوں کے بارے میں بھی مجھے یہی اعتراض تھا کہ وہاں لوگ آتے ہیں اور ادب کے بارے میں گفتگو کر سن کر یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے ادب پڑھ لیا۔ جبکہ یہ پڑھنے کا جو کام ہے، یہ محفل میں بیٹھ کے نہیں ہو سکتا۔ اس کا اتنا ہی فائدہ ہے کہ وہاں جا کے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سی چیز پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کے بعد آپ اس چیز کو حاصل کر کے گھر جا کر پڑھیں۔ ایک لکھاری نے ایک چیز اکیلے بیٹھ کر لکھی ہے، تو اس کو اکیلے بیٹھ کر ہی پڑھا جانا چاہیے۔ ادبی میلوں میں یوں ہوتا ہے کہ لوگ جاتے ہیں، اور ادب پر گفتگو میں حصہ لے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ادب کی پیاس بجھ گئی ہے۔ یہ لوگوں کا اپنا انتخاب ہے۔ باقی یہ ہے کہ وہاں بہت سے لوگوں کو ملنے کا موقع مل جاتا ہے۔ وہ بھی ایک مثبت بات ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ان میں کتابوں کے اسٹالز ہوتے ہیں۔ تو ایسی اچھی کتابیں جو بری تقسیم کاری کی وجہ سے دوسرے شہروں تک نہیں پہنچ پاتیں، وہ آپ کو وہاں مل جاتی ہیں۔ تو اگر آپ عام طور پر ان سے بہت زیادہ کی توقع نہ رکھیں تو مجموعی طور پر وہ اچھی چیز ہے۔

 

لالٹین:“آج” کے گوشۂ شاعری میں صرف نثری نظم ہی کیوں؟
اجمل کمال: اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ غزل تقریبا ہر رسالے میں چھپتی ہے۔ تو اس کو ظاہر ہے کہ ہمارے رسالے کی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے۔ غزل جو ہے، وہ باقی ہر کہیں یعنی فارسی میں، عربی میں اور ہندی میں۔۔ ہر جگہ اس کی ایک ہی ہیئت ہے۔ تو شاعری میں ایسا تو مناسب نہیں ہے ناں کہ شاعر جو کہنا چاہ رہا ہے، اس کی ہیئت کی وجہ سے اس کو بدل کر کہنا پڑے۔ تو میرے خیال سے نثری نظم جو ہے وہ آج کی شاعری کی اصل ہیئت ہے۔ غزل جو ہے وہ میرے خیال سے شاعری کی مصنوعی قسم کی ہیئت ہے۔ اس کا آپ کے اپنے اندر کے شاعرانہ اظہار سے کم تعلق ہوتا ہے پھر ہمارے پاس جگہ بہت محدود ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے پیسوں سے چھاپنا ہوتا ہے۔ تو میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ غزل کو ہمارے رسالے میں بھی چھاپا جائے۔
ایک نوجوان جب غزل لکھنا شروع کرتا ہے تو پہلے دس پندرہ سال تک تو وہ اس غیر یقینی حالت میں رہتا ہے کہ وہ بحر میں ہے یا نہیں۔ اسے کوئی بھی یہ کہے کہ وہ بحر سے خارج ہے تو وہ اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے میٹرز جو ہیں وہ یہاں کے نہیں ہیں۔ اور پھر بہت سے لوگ خلیفے بن جاتے ہیں کہ ہمیں عروض پر کامل دسترس حاصل ہے۔ عروض ایک دوپٹے کی طرح ہیں، جو آپ ایک عورت کو دے دیتے ہیں اور آپ کی ساری زندگی اس کو سنبھالنے میں گزر جاتی ہے۔ وہ جیسے ارشد محمود صاحب کہتے ہیں ناں کہ دوپٹے کا کوئی استعمال تو ہے نہیں۔ وہ صرف اس کی خود اعتمادی ختم کرنے کے لیے اس کو تھمایا جاتا ہے۔ کہ موٹرسائیکل پر بیٹھتے ہوئے کہیں پہیے میں نہ آ جائے۔ فیض صاحب کا ایک مکالمہ ہوا تھا ناظم حکمت سے۔ تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی شاعری میں کس طرح کے ماترے استعمال ہوتے ہیں۔ فیض نے کہا کہ ہماری شاعری میں تو سبھی فارسی کے میٹرز ہوتے ہیں، جو کہ حقیقت ہے۔ تو ناظم حکمت بہت حیران ہوئے۔ ان کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل تھا کہ آپ ایک زبان کی شاعری کا پورا فارمیٹ باہر سے درآمد کر لیں۔ تو اب بھی جس آدمی نے غزل میں تیس چالیس سال گزارے ہوں، ان سے آپ یہ بات کہیں تو وہ آپ کو ماریں گے۔ کہ یہ تو ہماری اپنی اصناف ہیں۔ غزل میں اس طرح کے اعتراضات ہیں میرے۔
ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں جس طرح کی زندگی ہے، اس کی تشریح کے لیے سب سے مناسب میڈیم فکشن ہے۔ اس سب کچھ کا نقشہ کھینچنے کے لیے ہمیں جزویات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس طرح کی جزویات ہم شاعری میں نہیں لا سکتے۔ شاعری میں ایک مرکوز قسم کا احساس ہوتا ہے، ایک خاص قسم کے احساس کا مرکوز قسم کا اظہار ہوتا ہے۔ فکشن اسی احساس کا پھیلاؤ ہے۔

 

لالٹین:فکشن کی طرف جھکاؤ کی کوئی شخصی وجہ؟
اجمل کمال: ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں جس طرح کی زندگی ہے، اس کی تشریح کے لیے سب سے مناسب میڈیم فکشن ہے۔ اس سب کچھ کا نقشہ کھینچنے کے لیے ہمیں جزویات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس طرح کی جزویات ہم شاعری میں نہیں لا سکتے۔ شاعری میں ایک مرکوز قسم کا احساس ہوتا ہے، ایک خاص قسم کے احساس کا مرکوز قسم کا اظہار ہوتا ہے۔ فکشن اسی احساس کا پھیلاؤ ہے۔ معاشرے کے مختلف کرداروں کے رویے، ان کا مکالمے اور اظہار کا انداز۔۔ فکشن کے ساتھ بنیادی دلچسپی کی وجہ تو یہ ہے۔ ہمارے ہاں جو ایک طرح کا تکلف تھا کہ بالکل کتابی سی زبان لکھنی ہے۔ تو وہ اچھے فکشن کے راستے میں آ جاتا تھا۔ مثلا احمد ندیم قاسمی نے گاؤں کی زندگی کے بارے میں لکھا۔ لیکن ان کے کردار جو زبان بولتے ہیں، وہ بالکل شہری زبان ہے۔ تو آپ کو اس پر یقین کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ تو اب وہ تکلف بڑی حد تک ٹوٹ رہا ہے۔ مثلا خالد طور صاحب جب لکھتے ہیں، تو وہ اس کے مکالمے تک پنجابی میں لکھتے ہیں، اور اسی علاقے کی پنجابی، جس کے بارے میں وہ لکھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کو بدل نہیں سکتے۔ جو چیز زیادہ مشکل ہو جاتی ہے، اس کو وہ قوسین یا حواشی میں لکھ دیتے ہیں، لیکن وہ اس کو مسخ نہیں کرتے۔ تو ظاہر ہے کہ جس کردار کے بارے میں آپ لکھ رہے ہیں، وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں، تو وہ بے تکلفی سے بات کرتے ہیں۔ اس میں گالیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن خالد طور صاحب ایک نفیس آدمی ہیں، وہ گالیاں والیاں نہیں لکھتے، لیکن جیسے بہت سے دوسرے لوگ آج کل لکھ رہے ہیں۔ مرزا اطہر بیگ ہیں جیسے، وہ اس کو ویسے ہی لکھتے ہیں۔ کرداروں کی زندگی میں جتنا تشدد ہے، ان کی زبان میں بھی اتنا ہی تشدد ہو گا۔ تکلف کی حدیں بھی ٹوٹ رہی ہیں۔ یہ سب کام سب سے اچھی طرح فکشن میں ہو سکتا ہے۔

 

لالٹین:آپ فکشن کےایک جیّد قاری ہیں،آپ کےخیال میں افسانے کی مغربی روایت نے کہانی کی لوک اورکلاسیکی روایت پر کیااثرات مرتب کیے ہیں؟
اجمل کمال: افسانے کی روایت تو ہمارے ہاں مغرب سے ہی آئی ہے۔ ہمارے ہاں جب افسانہ لکھا جانے لگا تو شروع میں روسی روایت سے اکتساب کیا گیا۔ ہمارے لکھنے والے اپنے آپ کو یہاں کا نمائندہ سمجھتے تھے اور مغرب کو وہ دوسری دنیا سمجھتے تھے، ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہی کام یہاں کی دوسری زبانوں میں بھی ہو رہا ہے۔ کہانی تو ہوتی ہی لوک ہے، لوگ جو سناتے ہیں وہ کہانی ہے، اس کی طرف ان کی توجہ کم گئی۔ تو دس پندرہ بڑے لکھاریوں کو چھوڑ کے، باقی سب ایک طرح سے کہانی میں بطور صنف میں اضافے کرتے تھے۔ ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا حقیقی زندگی سے فارم اور کانٹینٹ نکالا جائے۔ جب بھی آپ کسی ادبی نشست میں جاتے ہیں تو یہی بات رہتی ہے کہ سب سے پہلے یہ بات طے کر لی جائے کہ یہ افسانہ ہے یا نہیں، یہ تو بیوقوفی کی بات ہے۔ پھر انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی برابر کی زبانیں بھی وہ اثر لے رہی ہیں۔ کچھ ان کو دیکھیں کہ انہوں نے کیا کچھ اثر لیا۔ تو اردو اس لحاظ سے تو آس پاس کی زبانوں سے بہت پیچھے ہے۔