پھول (عظمیٰ طور)

میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے
اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر
جنہیں تم اپنی توجہ سے راکھ ہونے سے روکے ہوئے ہو
سمندر خالی ہو گئے؟ (رضی حیدر)

ہم فقط تمہارے چہرے کو دیکھ کر وقت بتا سکتے تھے
شگاف جو زیر تعمیر ہے (عرفان خان کے لیے) — مدثر عباس

بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر ہمارے اس شخص کے ہاتھ کیسے لگ گئے جس شخص کو ہم ابھی تختی پر زندگی لکھنا سکھا رہے تھے جلد باز دن نے ہمیں اتنی بھی سہولت نہیں دی کہ ہم ایک موت کی […]
ہینگروں میں لٹکے سائے اور دیگر نظمیں (عظمیٰ طور)

آدمی زندان ہے
اور بنا روزن کے اپنے ہی بدن میں پڑا سر کو ڈھلکائے ہوئے
ہے کوئی لینے والا ‑نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر: میرے پاس بہت سی دھوپ ہے
اور بہت سی چھاؤں
گوشہ نشینی — ثروت زہرہ

ثروت زہرہ: میں مری نہیں ہوں
مگر سانس روک کر دیکھنا چاہتی ہوں
بے وطن عورت کا مارچ اور دیگر نظمیں — سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران: میں زوجہ فلاں ابن فلاں
تمہاری وردیوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
قہقیوں کے گھونٹ اور دیگر نظمیں — عظمیٰ طور

عظمیٰ طور: میں نے طویل چیخ کے بعد
چیخ کے خلا کو پر کرنے کے واسطے
قہقہوں کے کئی بڑے بڑے گھونٹ نگلے ہیں
انتظار — غنی پہوال

غنی پہوال: اُداسیوں کی بانجھ آنکھیں
روشنی کو حاملہ کر کے
دیمک کی چال سے اندر بھیج رہی تھیں
ہم زندہ رہیں گے! — ایچ- بی- بلوچ

ایچ-بی-بلوچ: جب تک ہم زندہ رہیں گے
خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی
اور سنگینوں کی نوک کو گدگداتی رہے گی
نمبردارکی حویلی — حسین عابد

سات زمینوں
سات آسمانوں کے پار
خدا کی انگلیوں پر
جو ہمارے گناہ ثواب
اپنی پوروں پر گن رہا ہے
چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے لڑکیاں جو شادیوں کی […]
ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو […]
تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا تمہاری وجہ سے میں ان عمارتوں کا افتتاح […]
آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں، تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی، گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم، آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب […]