Categories
شاعری

گلیڈی ایٹرز

گلیڈی ایٹرز
(ہجوم کی وحشت کا شکار ہونے والوں کے نام ایک نظم)

اے خدا!
یہ ہے مرے دیس کی بستی
کہ کوئی روم کےاس عہد کا منظر
کہ اکھاڑے میں جہاں چار طرف
خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے
کچھ وحشی درندوں کا ہجوم
جن کے نرغے میں گھرے
درد کی شدت سے بلگتے یہ نہتےانساں
اور اطراف میں ہنستی ہوی احساس سے عاری مخلوق
جس کو تہذیب کوئی نام نہیں دے پائی
آج بھی محض تماشائی کہا جاتا ہے

اے خدا!
یہ تو مرے دیس کا دستور نہ تھا
مری تعلیم کا، تہذیب کا منشور نہ تھا
اور گر خون میں بہتی ہوی دیرینہ جبلت کی بدولت پھر سے
جاگ اٹھی ہے کوئی لذتِ وحشت
تو ہوئے کیا
مری تاریخ پہ پھیلے
وہ محبت کے الوہی قصے
دردِ انساں کے زمینی دعوے
وہ ترے عشق میں ڈوبے نعرے
وہ طریقت کی کتابیں
وہ صحیفوں کے ورق
وہ محبت کی رسومات
وہ صوفی کے سبق

اے خدا!
کچھ بھی نہیں
کچھ بھی نہیں کہنےکو
جھوٹ کی نذر کئے سب ترے
فرماں برحق
تجھ سے کیا عشق کریں گے
کہ نہیں ہے باقی
ہم میں انساں سے محبت کی ذرا سی بھی رمق
شرمساری ترے دربار میں لائی ہے ہمیں
جرم ثابت ہے
کہ ہم تیری خلافت کے تقاضوں سے وفادار نہیں
تری امید کو جو زخم دیا ہے ہم نے
وہ ہماری ہے، تری ہار نہیں
چھین لے ہم سے مقدس عہدہ
کہ زمیں پر ترے نائب ٹھہریں
ہم کسی طور سے حق دار نہیں
Categories
نقطۂ نظر

شک تشدد کی بنیاد ہے؟

وہ شکل سے بچے اغواء کرنے والا لگتا ہے، اس کے بیٹے کی شکل اس کی اپنی شکل سے نہیں ملتی سو یہ بچے اٹھانے والی ہے، اس کا بچہ مسلسل رو رہا ہے تو اس نے اس بچے کو زبردستی اٹھایا ہے، وہ شکل سے ہی دھندا کرنے والے لگتی ہے، یہ تو بولتا ہی کھسروں کی طرح ہے، اس کے چہرے پر داڑھی ہے، اس کی تلاشی لینا ضروری ہے، یہ جینز پہن کر پھر رہی ہے اس کا چال چلن مشکوک ہے۔۔۔۔۔۔ کیا ہماری شکلیں، حلیے، چال ڈھال اور بول چال کی بنیاد پر ہی یہ فیصلے کیے جائیں گے کہ ہمیں ایک ہجوم اکٹھا ہو کر مارنے پیٹنے لگے، یا پولیس والے ہمیں ناکے پر روک لیں، یا ہمارے ہم جماعت ہمارا مذاق اڑنا شروع کر دیں یا پورا دفتر ہمارے بارے میں مشکوک ہو جائے؟؟

 

یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔
یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔ کیا آوازوں سے بدکنا، داڑھیوں سے ڈرنا، جینز کی پتلونوں سے نفرت کرنا بھی ہمارے جینز کی کارستانی ہے؟ آخر کس طرح سے ایک شبہ ایک الزام کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر ایک ہجوم کو مشتعل کر دیتا ہے جو کسی بھی قسم کی تحقیق کے بغیر اپنے ہی جیسے انسانوں کو مارنے لگتے ہیں، جلا دیتے ہیں یا ان کی بستیوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ شامی مہاجروں، افغان مہاجروں، ہندوستان سے آنے والے مہاجروں سمیت ہر کسی کے بارے میں جس کے رسم و رواج، مذہبی رسوم اور ثقافتی اقدار ہم سے مختلف ہیں وہ ہمارے لیے مشتبہ ہے اور ہمارے طرزِ زندگی کا دشمن ہے۔

 

ہمارے بچے کب اور کہاں اور کیوں یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی شکل و شباہت کی بنیاد پر دیکھو اور فیصلے صادر کر دو۔ انہیں کون یہ بتاتا ہے کہ ہر وہ حلیہ یا شکل و شباہت جو تمہیں مشکوک محسوس ہو اس پر پتھر برساو، اسے لہو لہان کر دو اور اسے آگ لگا دو۔ یہ صرف پاکستان نہیں یہ ہر جگہ ہے۔ کہیں برقینی پہن کر نہانے سے مسئلے ہیں، کہیں جینز سے خار کھائی جاتی ہے، کسی کو عربی سن کر دہشت گردی کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو کسی کو ہر یہودی، ہندوستانی اور امریکی دشمن نظر آتا ہے۔ کوئی برقع اور داڑھی دیکھ کر انتہا پسند قرار دے رہا ہے اور کوئی لڑکے لڑکی کو ساتھ دیکھ کر ان کے جسمانی تعلق کی گواہی دینے کو تیار ہے۔

 

ہمیں مشکوک حلیے سے کیا مسئلہ ہے؟ یہ شک کہاں سے پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کو لوگوں کو قتل کرنے، گرفتار کرنے پر اکساتا ہے یا مسکرا کر بات کرنے تک سے منع کر دیتا ہے۔ ہم نے کیوں یہ فرض کر لیا ہے کہ پشتون ہو گا تو نسوار کھاتا ہو گا، سکھ ہو گا تو بے وقوف ہو گا، شیخ ہو گا تو کنجوس ہو گا، یہودی ہو گا تو مسلمان دشمن ہو گا، مولوی ہو گا تو بنیاد پرست ہو گا، داڑھی والا ہو گا تو دہشت گرد ہو گا، جینز والی ہو گی تو فاحشہ ہو گی۔۔۔۔۔۔ کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟

 

کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟
شک کو الزام بننے اور الزام سے ایک مشتعل ہجوم بننے کے دوران کہیں کی بھی مرحلے پر سوچنے کا موقع کیوں نہیں ملتا؟ حکومتیں، مذہب، معاشرے اور خاندان بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ خوف کا مقابلہ کیسے کیا جائے، شک کو رفع کیسے کیا جائے، انسانوں پر بھروسہ کیسے کیا جائے بلکہ یہ سب کہ سب مل کر ہمیں لوگوں سے کہیں زیادہ ڈرنے، نفرت کرنے اور انہیں خود سے کم تر سمجھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ یہ سب مل کر ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے خوف کھائیں اور اس خوف کو شک، نفرت، غصے اور اشتعال کی شکل دے کر اس آگ میں سب کو جلا دیں۔ ہمیں بچپن سے ہی غیر مذہب والوں، غیر ملکیوں، دوسری برادری والوں، دوسری زبان والوں اور دوسری رنگت والوں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں نفرت کے تیزاب کتابوں کی صورت میں انڈیلے جاتے ہیں۔

 

اپنے آس پاس توہین مذہب کے الزامات کے تحت، اغواء کرنے والے کے شبے کے تحت یا دشمن کا ایجنٹ ہونے کے شک کی بناء پر ہجوم کو اکٹھا ہوتے دیکھ کر میں سمجھ گیا ہوں کہ کس طرح تقسیم کے وقت ساتھ ساتھ رہنے والے ایک اجتماعی اشتعال کے تحت لوٹ مار اور غارت گری کا حصہ بن گئے۔ تب بھی یونہی افواہیں پھیلتی ہوں گی کہ فلاں جگہ ہندووں نے اتنے مار دیے، فلاں جگہ مسلمانوں نے اتنے لوٹ لیے، وہاں سکھوں نے حملہ کر دیا، یہاں مسلمانوں نے عزتیں لوٹ لیں اور بس۔۔۔۔۔ یہ افواہ، شک اور اشتعال کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ ہم سب اکٹھے ہو کر کسی کے بھی خلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ وہ سب کچھ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ ہم کر سکتے ہیں، ہم کسی کا گھر جلا سکتے ہیں، کسی کو مار پیٹ کو معذور کر سکتے ہیں، کسی کو قتل کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور کریں گے، کسی بھی افواہ کے تحت یا کسی بھی شبے میں۔

 

ہم نے ڈرتے ہیں، ہم شک کرتے ہیں، ہم الزام لگاتے ہیں، ہم ہجوم بناتے ہیں اور پھر کسی بھی شخص کو مارنے پر تُل جاتے ہیں۔ ہم افواہ سنتے ہیں، افواہ کو پھیلاتے ہیں اور پھر افواہ کو سر پر سوار کر کے پٹرول کے کنستر، ماچس کی تیلیاں، لاٹھیاں، ڈنڈے اور بندوقیں لے کر افواہ کا مقابلہ کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم الزام لگاتے ہیں، الزام پر ایمان لے آتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں اس الزام کے تحت کسی نہ کسی جگہ توڑ پھوڑ کی راہ نکال لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم کرتے ہیں یا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں یا اپنے ساتھ ہوتا ہوا برداشت کرتے ہیں مگر ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو چلا کر ایک افواہ، ایک شبے، ایک الزام اور ایک ہجوم کا راستہ روک سکے۔۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

سولی چڑھنے کو تیار رہیں

کئی برس گزرے، شہر سیالکوٹ کے بانو بازار میں ایک مانوس عیسائی دکان دار نے مجھ سے ایک انوکھی فرمائش کی۔ اسے اس بات کا علم تھا کہ مجھے کمپیوٹر اور ای میل تک رسائی حاصل ہے اور ان دنوں یہ چیزیں ہر خا ص وعام کی دسترس میں نہیں تھیں۔ اس نے استدعا کی کہ میں اسے انگریزی میں پوپ اور ملکہ برطانیہ کے نام درخواستیں لکھ کر دوں۔ ان درخواستوں میں اس نے اپنے مخدوش مالی حالات کا ذکر کیا اورکسی طور پاکستان سے باہر جانے کیلئے مدد طلب کی۔ اس نے کئی روز پوپ اور ملکہ برطانیہ کا ذاتی پتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی اور ناکامی پر مجھ سے درخواست کی کہ اسکی عرضیاں ای میل کے ذریعے بھجوا دی جائیں۔ میں نے گوگل کی مدد سے ان دو شخصیات کے ای میل ڈھونڈے اور وہ درخواستیں انہیں ارسال کر دیں۔ وہ دن اور آج کا دن، میرا دکان دار دوست انتظار میں ہے کہ جواب بس اب آئے کہ آئے۔
ابتدائی دنوں میں دار الحکومت کراچی کے حالات یہ تھے کہ گندگی کے ڈھیر اٹھانے کو کوئی تیار نہیں تھا اور جناح صاحب کو اعلانیہ کہنا پڑا کہ غیر مسلم پاکستان چھوڑ کر نہ جائیں، انکے جان ومال کی حفاظت کی جائے گی۔
پاکستان میں موجود بیشتر عیسائی آبادی انیسویں صدی میں عیسائی مشنریوں کی تبلیغ کے باعث ہندو مت ترک کر کے عیسائیت میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انگریز بہادر نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں تو ان کی اولادیں بھی ابھی تک ہمارے دیس کی باسی ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر ملک بنایا تو آغاز میں ہی غیر مسلم آبادی نے جوق در جوق بھارت کا رُخ کیا۔ ابتدائی دنوں میں دار الحکومت کراچی کے حالات یہ تھے کہ گندگی کے ڈھیر اٹھانے کو کوئی تیار نہیں تھا اور جناح صاحب کو اعلانیہ کہنا پڑا کہ غیر مسلم پاکستان چھوڑ کر نہ جائیں، انکے جان ومال کی حفاظت کی جائے گی۔ یعنی ہم نے اول دن سے ہی عیسائیوں کیلئے ایک نیچ درجہ مختص کر دیا اور انکو عام شہر یوں کی بجائے صفائی ستھرائی کرنے والے قرار دیا۔ وہ ملک جو متحدہ ہندوستان میں رہنے والی ایک اقلیت نے اکثریت کی بالادستی کے خوف سے بنایا تھا اس اقلیت نے جب اکثریت کا رنگ اختیار کیا تو باقی ماندہ اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔
’اسلامی جمہوریہ‘ پاکستان کے پہلے پچاس برس میں عیسائیوں کی حالت میں کچھ خاص بہتری نہیں آئی ۔ مختلف شہروں میں انکی الگ آبادیاں مختص تھیں، معدودے چند افراد کے، سیاست یا فوج یا کھیل کے میدان میں عیسائیوں کو نمایاں حصہ نہیں دیا گیا اور انہیں ہر صورت دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھا گیا۔ ضیائی دورِ ظلمت کے دوران توہین رسالت کے قانون کی تلوار پاکستان کی تمام اقلیتوں اور غیر اقلیتوں کے سر پر لٹکا دی گئی۔فروری1997ء میں توہین کے الزام پر خانیوال کے علاقے شانتی نگر میں ہزاروں گھر اور ایک درجن گرجا گھر جلا کر راکھ کر دیے گئے۔ اس ہلڑ بازی میں پولیس اہلکار بھی ملوث تھے۔ کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں، نئے حکمران آکر چلے بھی گئے اور پرانے حکمران واپس آئے لیکن شانتی نگر کے باسیوں کو اٹھارہ سال گزرنے کے بعد بھی انصاف کا انتظار ہے کہ وہ بس آئے کہ آئے۔
کئی نسلوں سے کمی کمینوں والا سلوک برداشت کرنے کے بعد اب عیسائی برادری میں اپنی شناخت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ٹیلی وژن کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب ایک خصوصی چینل عیسائی برادری کی نمائندگی کرتا ہے۔
سال2009ء میں پنجاب کے شہر گوجرہ کے ایک نواحی علاقے میں توہین کے الزام پر عیسائیوں کی ایک بستی پر مشتعل ہجوم نے ہلہ بول دیا۔اس ہنگامے میں آٹھ افراد اور سو سے زائد گھروں کو جلا دیا گیا۔ اس واقعے میں ملوث سیاسی کارکنان اور دیگر ملزمان کے خلاف کارروائی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ سال 2013ء میں لاہور کی بستی جوزف کالونی کو ایک مشتعل ہجوم نے جلا کر راکھ کر دیا اور ایک سو ستر خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ اس شرمناک و اقعے کی تصاویر انٹر نیٹ پر موجود ہیں جن میں کچھ نوجوان لڑکے فخریہ انداز میں جلتے ہوئے گھروں کے سامنے پوز(Pose)کر رہے ہیں۔ تصویری ثبوت کے باوجود ابھی تک اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ آسیہ بی بی جیسے کئی بے گناہ پاکستان کی جیلوں میں توہین کے الزام کے باعث ذلیل ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کا قصور محض یہ ہے کہ وہ پاکستان جیسے گھٹیا معاشرے میں پیدا ہوئے اور وسائل کی کمی کے باعث کسی بہتر جگہ منتقل نہ ہو سکے۔کئی نسلوں سے کمی کمینوں والا سلوک برداشت کرنے کے بعد اب عیسائی برادری میں اپنی شناخت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ٹیلی وژن کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب ایک خصوصی چینل عیسائی برادری کی نمائندگی کرتا ہے۔
یسوع مسیح نے ایمان چھوڑنے سے انکار کیا تھا اورانہیں سولی پر چڑھنا پڑ گیا، عیسائی برادری کو یہ سبق اب پلّو سے باندھ لینا چاہیے کہ اس بھیانک نگری میں یسوع کا پیروکاربننا ہے تو سولی پر چڑھنے کیلئے ہر دم تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں امن وامان کی صورت حال یہ ہے کہ عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں عیسائی برادری مزید مشکل کا شکار ہے اور ان کی عبادت گاہوں پر کئی دفعہ دہشت گرد حملہ کر چکے ہیں۔ بہاولپور اور پشاور کے بعد گزشتہ اتوار لاہور کے ایک گرجا گھر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ خود کش حملوں کے بعد مقامی افراد نے دو مشتبہ افراد کو پکڑا اور قانونی اداروں کے حوالے کرنے کی بجائے انکی مرمت کر دی اور بعدازاں انہیں نظر آتش کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ان دو افراد سے اسلحہ برآمد ہوا تھا اور وہ خودکش حملوں کے حق میں بات کر رہے تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ افراد بے قصور تھے یا حملے میں ملوث، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ایک قابل سرزنش اقدام ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد سازشی نظریات کی بھرمار ہو جاتی ہے، مشتعل عیسائی بھائیوں کے اس اقدام کے بعد دہشت گردی کے واقعے کو فراموش کر دیا گیا اور ہر طرف سے مشتعل مظاہرین کے خلاف آواز اٹھنی شروع ہو گئی۔جوابی کارروائی کے طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے یوحنا آباد کے دروازے سے اس آبادی کا نام ہٹانے کی کوشش کی اور توڑ پھوڑ کی۔ حالات قابو سے باہر ہونے پر رینجرز کو طلب کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر حسب توقع ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو گیا۔ عیسائیوں کو ’چوڑا‘ ہونے کے طعنے ملنا شروع ہو گئے، حالانکہ اس سے پہلے کراچی اور فیصل آباد میں چوری کے مرتکب افراد کو بہیمانہ انداز میں جلایا جا چکا ہے۔ ہمارے بھائی بند دوسرے ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک میں جا کر وہی کام سرانجام دیتے ہیں جس کا طعنہ وہ آج عیسائیوں کو دے رہے ہیں۔ آج ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا اس ملک میں صرف فوجیوں کے بچوں کی جانیں ہی قیمتی ہیں؟ پاکستان میں مقیم عیسائی برادری پہلے معاشرتی رویوں اور اب دہشت گردی کا نشانہ بن چکی ہے۔ امید کی کوئی کرن موجود نہیں۔ سیاست دانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ یا فوج سے انصاف یا مدد کی توقع رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔بین الاقوامی برادری کو اس بات سے کچھ سروکار نہیں کہ پاکستان میں عیسائی کس حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یسوع مسیح نے ایمان چھوڑنے سے انکار کیا تھا اورانہیں سولی پر چڑھنا پڑ گیا، عیسائی برادری کو یہ سبق اب پلّو سے باندھ لینا چاہیے کہ اس بھیانک نگری میں یسوع کا پیروکاربننا ہے تو سولی پر چڑھنے کیلئے ہر دم تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔