Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔
Categories
گفتگو

کچھ باتیں شاعری اور ادب کی… شاعرشہزاد نیرّسے بات چیت

247279_2108064386078_1379623714_32539359_5669952_n

لالٹین: اپنے پس منظر کے بارے میں بتائیں ۔ شاعری کی طرف کس طرح راغب ہوئے؟
شہزاد: اظہار انسان کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ انسان اظہار کس شکل میں کرے گا، شاید یہ اس کے لیے طے کرنا مشکل ہے۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ خود بخود اندر سے ہی طے ہوتاہے۔
میرے خاندان میں تو شاعری کی کوئی روایت نہیں تھی۔ البتہ میں بچپن سے ہی شاعری کی طرف مائل تھا۔ پہلی نظم میں نے سکول کے زمانے میں لکھی جب استاد نے مجھے پیٹا۔ میں استاد کا کچھ بگاڑ تو نہیں سکتا تھا، یوں وہ نظم میرا اظہارِ احتجاج بن گئی۔
لالٹین: اگریہ ایک خود کار، فطری عمل ہے تو گویا شاعری سیکھنے کی کوشش بے سود ہے؟اور یہ کیسے طے ہو گا کہ شاعری کے لیے کون سی قسم کا انتخاب کیا جائے؟
شہزاد: دیکھیں اس کے دو پہلو ہیں ۔ایک آرٹ اور دوسرا کرافٹ۔ آرٹ کی حِس ہر کسی کے اندر ودیعت ہوتی ہے جسے آپ مطالعے اور مشاہدے سے بڑھا سکتے ہیں ۔ بعض کے اندر یہ فطری طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کرافٹ آپ کو سیکھنا ہوتا ہے۔اس کے کچھ معیارتو طے شدہ ہیں ، مگر اپنی کوشش سے آپ نیا انداز اور تکنیک اپنا سکتے ہیں ۔ لیکن اس سب کے لیے ضروری ہے کہ آپ پہلے یہ طے کرلیں کہ آپ نے اظہار کرنا ہے اور کس شکل میں کرنا ہے۔
شاعری کی مختلف اصناف ہیں جن میں سے کچھ توشاید اپنا وقت پورا کر چکی ہیں جیسا کہ شہر آشوب، کہہ مکرنی، مثنوی اور رباعی وغیرہ۔ مگر دیگر اصناف اپنی اپنی جگہ پر اپنے قارئین میں مقبول ہیں ۔ ایسے میں آپ کو اپنے مزاج کے مطابق شاعری کی قسم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ شاعری کی صنف کی مقبولیت اس دور کے حالات کے تابع بھی ہوتی ہے ۔جیسا کہ آج کے دور کے مزاج کو آزاد نظم ہی بہتر طریقے سے بیان کر سکتی ہے۔اسی لیے میں نے اپنے لیے آزاد نظم کو بہتر سمجھا۔
لالٹین: لیکن ہمارے ہاں تو سماجی گھٹن ہی بہت زیادہ ہے، ہم پر بہت سی پابندیاں عائد ہوتی ہیں ۔ شاعری تو ایسے نہیں ہوتی؟ کون سے فکری زاویے ہیں جو ہمیں ان پابندیوں سے نکال کر شاعری کے قابل بنا سکتے ہیں ؟
شہزاد: ہمارے ہاں مطلق العنانیت بہت زیادہ ہے۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں ہم حتمی وناقابلِ تردید سچائیاں کہہ کر من و عن مان لیتے ہیں ، ان پر سوال نہیں اٹھاتے۔ دیکھیں فکر کو زنجیر نہیں پہنائی جاسکتی۔ آزادانہ فکر سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی، سوچنے دو جو سوچ رہا ہے، لکھنے دو جو لکھ رہا ہے۔کسی چیز کو قابلِ تعزیر اور گردن زدنی قرار نہ دیں ۔آزادی فکر و رائے کو تسلیم کرنا ہو گا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ توہم و عقیدہ پرستی، dogma ismسے باہر آئیں ۔
لالٹین: آج کے پاکستانی ادب کے بارے میں کیا کہیں گے؟کیا یہ زوال پذیر ہے ؟
شہزاد: تخلیق کی سطح پرکوئی بحران نہیں ہے، ہمارے ہاں آج بھی بہت اعلیٰ شاعر، افسانہ اور ناول نگار موجود ہیں ۔ قاری یا عوام کی سطح پر بحران ضرور ہے۔ کتابوں کی فروخت کم ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں جو ادب کو زندگی کے لیے رہنمائی کے طور پر لیتے ہیں ۔اصل میں اسیّ کی دہائی سے ہمارے ہاں زندگی سے رہنمائی لینے کا عمل ایک خاص نقطہ نظر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ فکری انتشار بڑھا ہے۔
لالٹین: اس فکری انتشار میں شاعر و ادیب کا کیا کردار ہے؟اور یہ کردار کس سمت میں استعمال ہونا چاہیے؟
شہزاد: اقبال نے شاعر کو قوم کی آنکھ قرار دیا ہے۔ اس کا کام پیش بینی کرنا ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ جدید علوم سے آگاہ ہو، ذمہ دار ہو اور اپنی فکر میں واضح ہو۔ اسے چاہیے کہ وقت کی رفتار اور معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھے۔ اسی سے ایک مربوط نظامِ فکر کی تشکیل ہوسکتی ہے۔
مگر مربوط نظامِ فکر سے مرادیہ نہیں کہ تمام لوگ ایک ہی طرح سوچنا شروع کر دیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے اور اسی میں ہماری بہتری ہے۔ پاکستان زبان، کلچر، مذہب، غرض ہر لحاظ سے ایک متنوع سوسائٹی ہے۔ ہمیں بنیادی اصولوں پر متفق ہونے کی ضرورت ہے جیسا کہ امن وسلامتی، جمہوری اقدار، رواداری اور آزادی۔حتمی نقطہ نظر میں ان سب کی ترویج ہی شاعر کا بنیادی کام ہے۔
لالٹین: آپ کی شاعری کی طرف آتے ہیں ۔ آپ نے طویل نظمیں بھی لکھیں جو شاعری میں ایک غیر معمولی کام ہے۔ ذرا ان پہ روشنی ڈالیں ۔
شہزاد: دیکھیے طویل نظم ایک تو اپنے متن کے تناسب سے طویل ہوتی ہے۔ دوسرا اس کا خیال یا بیان بھی وسیع اور آفاقی ہوتا ہے۔ طویل اور چھوٹی نظم میں وہی فرق ہے جو افسانے اور ناول میں ہے۔ میں نے اپنی ایک طویل نظم ’خاک‘دورانِ جنگ انتہائی نامساعد حالات میں سیاچن گلیشیر پر لکھی۔ وہاں انسان کا انسان سے تصادم بھی تھا اور فطرت کے ساتھ بھی۔ا ور اس کے پس منظر میں برف ہی برف جو مجھے سفاکی اور موت کی علامت دکھائی دیتی تھی، اس کے علاوہ وقت کا ایک لامتناہی فلسفہ۔ لہذا اس موضوع کا پھیلائو اور مضمون کا مواد اتنا زیادہ تھا کہ چھوٹی نظم میں بات بنتی نہ تھی۔
لالٹین: آج کے جدید دور میں کوئی نوجوان شاعری کی طرف کیوں رجوع کرے؟
شہزاد: میں سمجھتا ہوں کہ آج کا ماڈرن نوجوان چراغ، تیرکمان وغیرہ سے بھرے روایتی بیانیے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسی لیے ہمیں شاعری میں بھی نئے انداز اور نئے موضوعات کو لانا ہو گاجو نئے انسان کے مزاج کے مطابق ہوں ۔ نئی شاعری یہ کر رہی ہے اور میری بھی اپنی شاعری میں یہی کوشش ہوتی ہے۔
شاعری سے تعلق ہونا بہت ضروری ہے اور نوجوانوں کے لیے خصوصی طور پر ضروری ہے کہ اس سے کنارہ کشی نہ کریں ۔ یہ آپ کا تھوڑا سا وقت ضرور لے گی مگر بدلے میں سمجھ بوجھ اور جذباتی سطح پر کئی طرح سے رہنمائی کر ے گی۔ اس سے جذباتی پختگی پیدا ہوتی ہے۔ شاعری ہمیں حتمیت کے فریب سے نکال کر ذہن کو کشادہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ شاعری اور ادب سے لگائو رکھنے والا انسان کرخت نہیں ہوتا، تحمل سے اپنی بات کرنا اور دوسرے کی سننا سیکھتا ہے ،جس کی
میرے خیال میں اس وقت بہت زیادہ ضرورت ہے۔

 

شہزاد نیرّکی نظمیں

 

سقراط

 

پتھر کاٹنے والے کو معلوم نہیں تھا
اپنا آپ ہی سب سے بھاری پتھر ہے
جسم کا پتھر کٹ جائے تو رستہ بہتر کٹ جاتا ہے
ڈھیروں پتھر کاٹ کاٹ کے
وہ روزوشب کاٹ رہا تھا
اُس کو یہ معلوم نہیں تھا اس کا بیٹا
پھٹی ہوئی پوشاک میں چھپ کر
ایسا مر مرکاٹ رہاہے جس کے کٹتے ہی زنجیریں کٹ جاتی ہیں
جو کہتا تھا، سارے رستے اپنے اندر سے آتے ہیں
راہیں کھولو، اپنا اپنا پتھر کاٹو، اپنا آپ تراشو
تم اپنی تعظیم کے رُخ سے دیکھ کے دیکھو
تم اونچے ہو، اور خدائوں والا پربت نیچا ہے
اَن جانے میں مانتے جانے سے اچھا ہے
….کچھ مت مانو!
بِن جانے سب مانتے ہو تو عقل پہ پتھر پڑ جاتے ہیں !
وقت کے گہرے سناٹے سے
تُند سوال کا اک کنکر ٹکراجائے تو…..
لاکھ جواب اُبھر آتے ہیں
….دیکھتے دیکھتے مٹ جاتے ہیں
ایک سوال نہیں مٹتا!!
….اور پھر اک دن
پتھر آنکھیں دیکھ رہی تھیں ، سنگ تراش کا بیٹا….
اک آتش سیال کی دھار سے
اپنے آپ کو کاٹ رہاتھا
لاکھوں رستے بہہ نکلے تھے!