Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں

سبین محمود ایک بہادر عورت تھی۔ معاف کیجئے گا، سبین محمود ایک بہادر عورت ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں عورت ہونا ایک قبیح فعل سمجھا جاتا ہے، اس پر طرہ یہ کہ عورت بھی اور بہادر بھی، یعنی یک نہ شد دو شد۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہم چار عدد بہادر عورتوں کو گولی مار چکے ہیں، ان میں سے ایک کو نیم مردہ حالت میں برطانیہ لے جایا گیا تو ہی وہ بچ پائی۔ بینظیر بھٹو کو کس نے کہا تھا کہ اس ملک میں انصاف اور سویلین اجارہ داری کی بات کرے، پروین رحمان کو کراچی کی کچی آبادیوں کی حالت زار پر کیوں مروڑ اٹھ رہے تھے، گل مکئی کو یہ کیا سوجھی کہ طالبان کی اصلیت فاش کرنے کا بیڑہ اٹھا لے، سبین محمود کو ہندووں، احمدیوں اور بلوچوں سے اتنی ہمدردی کیوں تھی؟ کیا یہ خواتین اس بات سے ناواقف تھیں کہ اس ملک میں عورت کا کام چادر، چار دیواری اور چولہے کی تکون تک محدود ہے؟ کیا یہ خاموش رہ کر اپنی زندگی نہیں بچا سکتی تھیں؟ ہمارے گھروں میں بھی عورتیں موجود ہیں، چاہے جس بھی حالت میں ہیں، خاموش ہیں، خوامخواہ اپنی زندگی خطرے میں نہیں ڈالتیں، اسی لیے اب تک محفوظ ہیں۔
اب تو ماما قدیر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسکی وجہ سے کبھی حامد میر تو کبھی سبین محمود کو گولی کھانی پڑتی ہے،اسکی بات کرنے پر نجم سیٹھی کی آواز اسکے پروگرام پر سنسر کر دی جاتی ہے۔
اور یہ بلوچوں کو چین کیوں نہیں پڑتا؟ ستر سال ہونے کو آئے ہیں، ان کے مسئلے ہی حل نہیں ہو پا رہے۔ ماما قدیر پورا پاکستان پیدل پھر چکا ہے، اور کیا چاہے اسکو؟ اور بھی تو بلوچ ہیں جن کے جوان بیٹے دن دیہاڑے اغوا کر لیے جاتے ہیں اور کبھی زندہ تو کبھی مردہ حالت میں انکے تشدد زدہ جسم صوبے کے مختلف حصوں سے برآمد ہوتے ہیں۔ وہ سب آواز کیوں نہیں اٹھاتے، یہ ماما قدیر ضرور کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ ہے جو کبھی LUMS تو کبھی اسلام آباد تو کبھی کراچی جا کر اپنا دکھڑا سناتا رہتا ہے۔ وہ جو تربت میں بیس پنجابی مزدور مارے گئے، ان کی بات کیوں نہیں کرتا یہ ماما، بڑا آیا انسانی حقوق کا علم بردار۔ اب تو ماما قدیر کو یہ بات سمجھ لینی چاہے کہ اسکی وجہ سے کبھی حامد میر تو کبھی سبین محمود کو گولی کھانی پڑتی ہے، اسکی بات کرنے پر نجم سیٹھی کی آواز اسکے پروگرام پر سنسر کر دی جاتی ہے۔ اب ہمیں مان لینا چاہیے کہ یہ یہاں کسی کو بندوق کی آواز سے اونچی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں، گولیوں کی سنسناہٹ میں سسکیاں لینے کی اجازت نہیں اور خاکی وردیوں کی آستینوں پر مقتولوں کے خون کے دھبے تلاش نہیں کیے جاسکتے۔
سبین نے گزشتہ دس سال میں بہت سی قوتوں سے تصادم کا راستہ اپنایا، ان میں ملا بھی شامل تھا، سیاسی جماعتیں بھی، حساس ادارے بھی اور افسر شاہی بھی۔ کچھ سال قبل خلافتی ملاؤں نے ملک بھر میں ہر سال منائے جانے والے محبت کرنے والوں کے دن کے خلاف اشتہار لگائے تو سبین اور اسکے ساتھیوں نے ان بینرز کے سامنے ’فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں‘ کے پیغام پر مشتمل پلے کارڈوں سمیت تصاویر کھچوائیں اور سوشل میڈیا پر لگا دیں۔ حسب معمول، ملا ؤں اور انکے حواریوں کے دلوں پر سانپ لوٹ گئے اور ایک کہرام برپا ہو گیا۔ ملا ہمارے ذہن پر، ہماری خوشی پر، ہمارے اظہار پر پہرہ بٹھانا چاہتا ہے، سبین کو یہ بات منظور نہ تھی اور وہ اظہار کے نت نئے طریقوں کو فروغ دیتی رہی۔ کراچی میں واقع T2F ایک ایسی جگہ ہے جہاں مختلف نقطہ ہائے نگاہ کو اظہار کا مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
سبین محمود ایک بہادر عورت تھی۔ معاف کیجئے گا، سبین محمود ایک بہادر عورت ہے۔ اور یہ ملک شائد اب بہادر خواتین کا اہل نہیں رہا۔ یہ ملک اب محض “پیشہ وار قاتلوں” کا ملک ہے جو ہر روپ بہروپ میں بندوقیں اٹھائے ہمیں ہم سے بچانے کے لیے ہمیں ہی ماررہے ہیں ؛

 

روشنی میں مشکل تھا
قتل روشنی تم سے
اس لیے جوانمردو
رات کے اندھیرے میں
تم نے مجھ کو مارا ہے
تم بہت بہادر ہو
تم نشان حیدر ہو
Categories
نقطۂ نظر

پنچایتی انصاف

ہمارے رہنما عوامی اجتماعات میں بعض اوقات ایسی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جوعملی زندگی میں ممکن نہیں ہوتیں لیکن وہ جوش خطابت میں عوامی پذیرائی کی خاطر بلند و بانگ دعوے کرنے سے بھی نہیں چوکتے اور لگے ہاتھوں عوام کو”نادر”مشورے بھی دے جاتے ہیں۔ستر کی دہائی میں گجرات میں ایک صاحب سرور جوڑا ہوا کرتے تھے ،ان کے حوالے سے مشہور تھا کہ جب وہ تقریر کرتے تو سینما کا شو ٹوٹ جاتا ۔ ان کی تقاریر کے مندرجات ضبط تحریر میں نہیں لائے جاسکتے ۔اسوقت کچھ اس طرح ہی سیاست ہوتی تھی ۔ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے بعد بھٹو کے حامی اور انکے مخالف مجمع گرم کرنے کیلئے کافی کچھ کہہ جاتے تھے۔ذاتیات کی سیاست کا یہ سلسلہ اسی نوے کی دہائی تک جاری رہا ،مشرف کے دورا قتدارتک سیاستدانوں نے ذاتیات کو نشانہ بنانے سے گریز شروع کر دیا تاہم اب بھی کچھ لوگ پرانے دور میں رہ رہے ہیں اورپرانے خیالات سے لوگوں کو نوازتے رہتے ہیں ۔شیخ رشید صاحب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت پر جیسے حملے کرتے ہیں اس طرح پی ٹی آئی کی قیادت خود بھی نہیں کرتی ۔
بات ہو رہی تھی سیاست دانوں کے بیانات اور ان کی طرف سے قوم کی رہنمائی کی ۔چند روز قبل جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے سالانہ اجتماع کے دوران ملکی مسائل کا حل جہاد و قتال کو قرار دیا ۔ سید منور حسن کسی زمانے میں ترقی پسندوں کے ساتھ بھی رہے بعد میں جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے ۔ بڑے صاف گو ہیں جوسچ سمجھتے ہیں کہہ دیتے ہیں ، اس سے پہلے قبائلی علاقوں میں لڑنے والے دہشت گردوں کو مجاہد اور فوج کے ہاتھوں مرنے والے دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے رہے ہیں ۔ سابق امیر جماعت کے بیان پر میڈیا میں تھوڑی بہت لے دے ہوئی تاہم کسی بھی عالم یا مذہبی لیڈر نے سید منور حسن کی “تجویز”کو مسترد نہیں کیا اورنہ ہی ریاست نے مولانا کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کی۔ اس سے قبل بھی ایسے اشتعال انگیز” فتوے”جاری ہوتے رہے ہیں،بظاہر ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان فتووں کے زیر اثرکوئی نہ کوئی مذہبی انتہا پسند متحرک ہو جاتا ہے اور جنت کمانے کیلئے فتویٰ زدگان کو ہلاک کر دیتا ہے ۔بعدازاں مذہبی انتہاپسند ملزم کو غازی قرار دے کر اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں ،کوئی گواہی دینے پر تیار نہیں ہوتاپھر عدالتوں کو چار و ناچارقانون ہاتھ میں لینے والوں کو بری کرنا پڑتا ہے ۔ جج ، وکلا ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان بھی اس بھٹی کا ایندھن بن چکے ہیں لیکن انتہا پسندی کی کھلے بندوں ترویج بڑھتی جا رہی ہے ۔ منور حسن صاحب نے جو جہاد و قتال کے حوالے سے بیان جاری فرمایا ہے اسے عملی جامہ پہنانے کا کوئی قابل قبول اور قابل عمل طریقہ نہیں بتایا ۔اب لوگ خود ہی اس کو عملی جامہ پہناتے رہیں گے اور گلی گلی انصاف ہوتا رہے گا ۔
اس سے قبل بھی ایسے اشتعال انگیز” فتوے”جاری ہوتے رہے ہیں،بظاہر ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان فتووں کے زیر اثرکوئی نہ کوئی مذہبی انتہا پسند متحرک ہو جاتا ہے اور جنت کمانے کیلئے فتویٰ زدگان کو ہلاک کر دیتا ہے ۔
پاکستان کا عدالتی نظام کم زور ہونے کے باعث پنچایتی انصاف اور سرعام مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سزائیں دینے کا عمل بڑھ رہا ہے۔ رائج عدالتی نظام سست ہے، مجرم کے خلاف مقدمہ کے اندراج سے سزا پر عملدرآمد کے درمیان ایک صبر آزما اور پیچیدہ طریقہ کار حائل ہے۔ مقدمہ درج ہوتا ہے ملزم گرفتار ہوتا ہے ،پھر تفتیش ہوتی ہے ، سماعت ہوتی ہے پھر ملزم کو سزا سنائی جاتی جس کے بعد اپیلوں کا سلسلہ شروع ہوجا تا ہے۔ سزا سنائے جانے کے بعد بھی مجرموں کی سزا پر عملدرآمد میں بہت عرصہ لگ جاتاہے جس دوران مدعی بیچارا بھی ساتھ ساتھ خوار ہوتا ہے ۔ سزا پر عملدرآمد ہونے تک لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے اور بعض دفعہ مجرم بری بھی ہو جاتا ہے ۔
سست رو عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ پنچایت ، جرگہ اورمشتعل ہجوم کے ہاتھوں سرعام سزاوں کا چلن بھی عام ہے ۔ پنچایت اور جرگہ کو تو ماضی میں حکومتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے تاہم اس پنچایتی انصاف کو حکومت تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن اپنے غیر موثر نظام انصاف کے ذریعے اس کی حوصلہ افزائی ضرور کررہی ہے ۔ پولیس بھی اس چلن کو پسند کرتی ہے اور عدالت سے باہر ہی مقدمات حل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔پنچایتی انصاف کے کچھ تو نپے تلے اصول ہیں اور کچھ ہمارے مقامی رہنما،چودھری وغیرہ موقع کی مناسبت سے سزاتجویز کر دیتے ہیں اور پھر عوام اس پر عملدرآمد کر دیتے ہیں ۔ ایسے واقعات سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے ، روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ دیکھنے کو مل جاتا ہے جہاں مشتعل ہجوم یا جرگے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ازخود سزائیں دیتے ہیں۔ جیسے توہین مذہب کے الزام میں اگر کوئی بندہ پکڑا جاتا تو اس کی سزا موت ہے ، یہ الگ بات ہے کہ موت کس طرح دینی ہے ،گولی مار کر، گھسیٹ کر ، چوراہے میں پھندا لگا کر، جلا کر یا تشدد سے ۔ چور ڈاکو کی سزا چھترول ،ڈنڈے سے تشدد ،رسہ پر چڑھانا،بھیڑ کی وجہ سے جو لوگ تشدد میں حصہ نہیں ڈال سکتے وہ گالیوں پر اکتفا کر لیتے ہیں ۔ لڑکیوں کو چھیڑنے پر مارپیٹ سے زیادہ بے عزتی کرنا مقصود وہوتی ہے اس لیے لڑکے کو کان پکڑوا دینے ، لڑکی کو باجی کہلوانے یاتھوڑی بہت چھترول پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ایسے لفنگوں کو بعض اوقات منہ کالا کرنے یا سر اوربھنویں مونڈھنے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے ۔اس “انصاف ” میں اکثر نا انصافی ہی ہوتی ہے اکثرمعمولی رنجشوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جاتی ہے ۔قانون ہاتھ میں لینے والی پنچایتیں، جرگے اور مشتعل ہجوم اکثر قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں۔
پنچایتی انصاف کو حکومت تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن اپنے غیر موثر نظام انصاف کے ذریعے اس کی حوصلہ افزائی ضرور کررہی ہے۔
جن مقدمات کا تعلق مذہب سے ہوتا ہے ان میں تو لوگ پولیس یا عدالت کا انتظار نہیں کرتے اور فوری طوپرتصدیق کیے بغیر ہی “انصاف “کر دیتے ہیں اگر کبھی پولیس موقع پر پہنچ بھی جائے تو بپھرے عوام ان کو نزدیک نہیں پھٹکنے دیتے ۔ ابھی حال ہی میں کوٹ رادھاکشن میں ایک مسیح جوڑے کومشتعل ہجوم کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کا واقعہ اس چلن کی بدترین مثال ہے۔کچھ عرصہ قبل مریدکے میں یونین اور فیکٹری مالک کے درمیان تنازعے کے بعد اہل دیہہ فیکٹری پر حملہ آور ہوگئے اور فیکٹری مالک کو آیات کریمہ کی بے حرمتی کے الزام میں ہلاک کر دیا ۔ اس سے قبل گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک حافظ قرآن کو توہین قرآن کے الزام میں گلیوں میں گھسیٹا گیا ،پولیس نے تھانے میں بندکیا تو تھانے پر حملہ کر کے اس کو حوالات سے نکالا اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر مار ڈالا ، پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہواتو اس کی لاش کو آگ لگا دی گئی ۔ اگلے روز جماعت اسلا می کے امیر نے مذکورہ” ملزم”کا جنازہ پڑھایا ۔ ایک واقعہ سیالکوٹ میں بھی ہوا جہاں پولیس کی موجودگی میں دو بھائیوں کو قتل ڈکیتی کے الزام میں بد ترین تشدد کر کے ہلاک کیا گیا پھر انکی لاشوں کو سڑک پر الٹا لٹکایاگیا ، اس کے بعد ٹرالی پر رکھ کر پورے گاوں میں گھمایاگیا ( یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دونوں بھائیوں کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے تھا )۔ اس سارے عمل میں ریاست کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے ، مذہب کے نام پر بہت سی جماعتیں ریاست کے کنٹرول سے باہرہو چکی ہیں ۔قبائلی علاقوں میں مذہب کے نام پر ہی ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیاجس کی وجہ سے کافی جانی نقصان ہوا اورریاست کی رٹ بحال کرنے کیلئے فوج کو ایک بھرپورآپریشن کرنا پڑا ۔
مذہب کے نام پر اشتعال دلانے میں ہمارے علماکرام کسی تردد سے کام نہیں لیتے جس کے بعد معصوم لوگ بھی اسی بھٹی میں جل جاتے ہیں اورریاست بھی انہیں روکنے میں ناکام ہے ۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ برادراسلامی ممالک سعودی عرب ، ایران، امارات وغیرہ میں کوئی عالم اس طرح فتویٰ دیتا ہے؟ اگر کوئی بھول چوک میں کوئی فتوی دیدے جو ریاست کی پالیسی سے متصادم ہوتو اس کو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن وہاں پرنہ تواس طرح کے ہنگامے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی تلوار لے کر کسی کاسر تن سے جد ا کرتا ہے ،اگر ایسا نہ کیا جائے تو ریاست کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے ۔ ملک نظام سے چلتے ہیں اگر کوئی نظام نہ ہوتو ملک کمزور ہوتا جائے گا لہٰذا ہمارے رہنماوں کو کچھ کہنے سے قبل سوچنا چاہئے ، لوگ انہیں سنتے ہیں اور ان کے کہے پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں ۔ اگر کسی رہنما کے کسی بیان سے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو وہ اس میں برابر کا حصہ دار ہوتا ہے ۔حکومت کو اس حوالے سے کچھ قانون سازی بھی کرنی چاہئے اور اس پر عملدرآمد بھی کرانا چاہئے۔
Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔