گلیڈی ایٹرزناصرہ زبیری: تو ہوئے کیا مری تاریخ پہ پھیلے وہ محبت کے الوہی قصے دردِ انساں کے زمینی دعوے وہ ترے عشق میں ڈوبے نعرے