Categories
فکشن

قاری ظفر

قاری ظفر اپنی کوٹھڑی کے فرش پرنگاہ ڈال رہا ہے۔ فرش خون کی ٹیڑھی میڑھی لکیروں سے سجا ہوا ہے۔ یہ اُس کا خون ہے۔۔۔۔ ظفر کو اِتنے زور کی کھانسی آتی ہے کہ اُس کے منہ سے خون بہنے لگتا ہے۔ یہ کھانسی اُس کے جسم میں ایک زلزلہ پیدا کر رہی ہے۔ اُس کے جسم کا انگ انگ کانپ رہا ہے۔ اُسے کچھ ہفتوں سے زکام ہے جس نے بہت خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔

 

ظفر کمزور ہے اَور اُس کی یہ کمزوری اُسے سیمنٹ کے اُس چبوترے پر سیدھا لیٹنے پر مجبور کرتی ہے جو یہاں پلنگ کا کام دیتا ہے۔ اَور وہ سارا دِن چبوترے پر لیٹ کر فرش کی طرف تکتا رہتا ہے اور خون کی لکیروں کی گنتی کرتا ہے اَور لکیروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہاں مکھیاں بے شمار ہیں۔ ظفر کی کوٹھڑی اُن کی عبادت گاہ ہے۔ مکھیوں کا طواف دِن رات جاری رہتا ہے۔ بعض مکھیاں تھک ہار کر ظفر کے جسم پر بیٹھ جاتی ہیں۔ مگر ظفر میں اُنھیں جسم سے ہٹانے کی طاقت نہیں ہے۔

 

ساتھ والی کوٹھڑیوں سے مختلف آوازیں اُبھر رہی ہیں۔ وہ غلیظ گالیاں سُنائی دے رہی ہیں جو سِکھ قیدی ظفر کے پاک وطن کو دیتے رہتے ہیں۔ اور وہ فحش پنجابی گانے گونج رہے ہیں جنھیں گستاخی والے قیدی اپنے ریڈیو پر تمام دِن سُنتے رہتے ہیں۔ اور وہ خوبصورت تلاوتیں بھی سُنائی دیتی ہیں جو خود کش حملہ آور ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔ یہ قیدی ظفر کے پسندیدہ قیدی ہیں۔ وہ غازی ہیں۔۔۔۔ غازی۔ ظفر اگراُن جیسا جوان ہوتا تو وہ غازی بن جاتا؛ مگر خدا کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔ رب نے ظفر کو اپنا غازی نہیں‘ اپنا پولیس مین بنایا ہے۔۔۔۔

 

اب ظفر کی کھانسی شروع ہو گئی ہے۔ ایک نیا زلزلہ اُس کے جسم کو ہلانے لگا ہے۔ کچھ دیر بعد خون کا ایک فوارہ اُس کے منہ سے چھوٹنے لگتا ہے اور وہ فرش پر نگاہ ڈالتا ہے۔ فرش کی سُرخ لکیروں میں مزید اِضافہ ہو گیا ہے۔ اُس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔

 

پہلے ظفر کو انتظامیہ کی طرف سے علاج کی اُمید تھی؛ مگر اُس نے جلد ہی یہ اُمید گنوا دی۔ اُسے اینٹی بائیوٹک اور ڈر پس کی ضرورت تھی، مگر اُسے صرف بروفین کی جعلی گولیاں نصیب ہوئیں۔ ظفر سزائے موت کا قیدی ہے؛ مگر عین ممکن ہے کہ وہ پھانسی لگنے سے پہلے ہی اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا۔ وہ اپنی کوٹھڑی کے تھڑے پر لیٹا لیٹا مر جائے گا۔ اَب اُس کی کھانسی بند ہو گئی ہے۔۔۔۔ زلزلہ ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔ وہ سُکھ کا سانس لے رہا ہے۔۔۔۔

 

ظفر اِس جیل کی کوٹھڑی میں کیا کر رہا ہے؟ وہ کوئی مجرم نہیں ہے۔ جُرم سے اُسے سخت نفرت ہے۔۔۔۔ مگر انسان اندھے اور احمق ہیں۔ شیطان نے اُن کی سمجھ بوجھ ختم کر دی ہے، اَور اُنھوں نے ظفر کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ اُس کا جرم؟ اُس نے صرف اپنا فرض اَدا کیا۔ اُس نے اپنے شہر میں خدا کا قانون نافذ کیا۔ وہ رب کا پولیس مین ہے۔۔۔۔

 

شیطان اَور ظفر کے مابین ایک ازلی دُشمنی ہے۔ شیطان ظفر سے اِس وجہ سے نفرت کرتا ہے کہ ظفر نے اُس کی بہت سی مخلوقات کو جان سے مار ڈالا۔ پھر شیطان نے اُس کے خلاف ایک سازش رچائی۔ ظفر کی گرفتاری اَور اُس کی سزائے موت اِسی سازش کا نتیجہ ہیں۔ مگر اُسے اِس شیطانی سازش کا شکار ہونے کا ملال نہیں ہے۔ اُس نے بھرپور زندگی بسر کی ہے اَور اپنی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے نبھائی ہیں۔ ظفر اس دُنیا سے رخصت ہو نے والا ہے۔

 

مگر دُنیا کی رِیت یہ ہے کہ مرنے والا‘ دُنیا چھوڑنے سے پہلے اپنی زندگی کی فلم کے اہم مناظر دیکھتا ہے۔ سو ظفر کی آنکھوں کے سامنے کچھ اَہم منظر اُبھرنے لگے ہیں۔

 

2

 

ظفر کی شادی طے ہو گئی ہے؛ مگر وہ مجبوری میں شادی کرے گا۔ اُس کے والدین نے اُسے مجبور کیا ہے۔ وہ کئی سال سے ایک مدرسے میں درسِ نظامی پڑھ رہا ہے اَور اپنی زندگی دِین کی خدمت میں وقف کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اُس کے دِل میں شادی کرنے کی کوئی تمنا نہیں ہے؛ مگر اُس کے والدین ضعیف ہو چکے ہیں اَور اُن کی آنکھیں ظفر کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترستی ہیں۔۔۔۔ والدین بڑی ضد کر رہے ہیں اَور ظفر بالآخر اُن کی ضد مان رہا ہے۔ وہ شادی کے لیے راضی ہو رہا ہے؛ مگر شادی سے پہلے وہ اپنے والدین کے سامنے اپنی شرطیں رکھ رہا ہے۔۔۔۔ شادی والے دِن نہ تو اُس کی بارات جائے گی اَور نہ ہی دُلہن کی ڈولی اُٹھے گی۔۔۔۔ نہ گیت گائے جائیں گے، نہ بھنگڑے ڈالے جائیں گے۔۔۔۔ اَور جوتا چھپائی کی رسم بھی نہیں ہو گی وغیرہ۔۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی شادی شریعت کے عین مطابق ہو۔ وہ خاندان کی پہلی اسلامی شادی ہو گی۔۔۔۔ ظفر کے والدین ساری شرطیں مان رہے ہیں۔ چھے ماہ بعد اُس کی شادی ہو رہی ہے۔

 

نکاح پڑھا گیا ہے۔ رخصتی ہو رہی ہے۔ اَب سہاگ رات شروع ہو رہی ہے۔ دُلھن گھونگھٹ میں سیج پر بیٹھی ہے اَور اُس کا گھونگھٹ اُس کے آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہے؛ اَور اُس کا بدن ڈر کے مارے کانپ رہا ہے۔ ظفر اپنی دُلہن کے مانند سہما ہوا ہے کیونکہ وہ آج پہلی بار اِزدواجی وظیفہ اَدا کرے گا‘ اَور اِس عمل کے بارے میں اُس کی معلومات صفر ہیں۔ مگر وہ کوشش کر رہا ہے اَور دُلہن کے مُکھڑے پر سے گھونگھٹ اُتار رہا ہے۔ دُلہن کا چہرہ اُجاگر ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس کا ناک نقشہ بہت معمولی ہے۔۔۔۔ آنکھیں چھوٹی، ہونٹ پتلے، ناک لمبی ہے۔۔۔۔ اَور اُس کی رنگت صاف نہیں ہے‘ دُلہن کالی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی؟ (بڑا دھوکا ہوا)۔ ظفر کی ماں نے اُسے کہا تھا کہ دُلہن بڑی خوبصورت ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ ظفر بتی بجھا رہا ہے؛اَور اندھیرے میں اپنا مردانہ فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر دُلہن دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اَور اُس کی منّتیں کر رہی ہے۔۔۔۔ ”درد ہو رہا ہے۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔ خدا کا واسطہ‘ مجھے چھوڑ دیں!“۔۔۔۔ رب کا پاک نام سن کر ظفر فوراً رُک رہا ہے اَور دُلہن سے ُمنہ‘ دُوسری طرف کر کے سو رہا ہے‘ اَور وہ ایک ڈراؤنا سا خواب دیکھ رہا ہے۔

 

خواب میں وہ اپنے ولیمے کا منظر دیکھ رہا ہے۔ مگر منظر بڑا انوکھا ہے! سارے مہمان خنزیر بن گئے ہیں۔۔۔۔ اُن کی جلد گلابی ہے اَور اُن کی ناک سے گندی آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ ایک دُوسرے کو دھکّے دے رہے ہیں؛ اَور میزوں، کرسیوں اَور پلیٹوں پر گِر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ جواب بڑا آسان ہے۔ ولیمے میں اُنھوں نے حرام کی روٹیاں کھائی ہیں۔ روٹیاں اس وجہ سے حرام کی ہیں کہ دُولھا ابھی تک ازدواجی وظیفہ اَدا نہیں کر سکا ہے۔۔۔۔ ظفر اچانک بیدار ہو جاتا ہے۔ اُس کا دِل تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ اُسے ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں۔۔۔۔ آج چاندنی رات ہے۔ چاند کی ہلکی ہلکی چاندنی میں وہ اپنی دُلہن کو دیکھ رہا ہے۔ دُلہن گہری نیند سو رہی ہے اَور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ہے۔ ظفر خوف زدہ ہو رہا ہے۔ دُلہن ّپکی ڈائن ہے۔۔۔۔ ّپکی شیطانی مخلوق ہے! کل پورے محلّے کو حرام کی اَشیا کھلائی جائیں گی‘ اور وہ مسکرا رہی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس سے شدید نفرت ہو رہی ہے۔۔۔۔

 

ظفر ساری رات جاگ رہا ہے اَور غور و فکر کر رہا ہے۔ یہ بات اب اُس کے لیے ثابت ہوئی ہے کہ عورت ایک شیطانی مخلوق ہے اَور اُس کا مقصد دُنیا میں فتنہ پھیلانا ہے۔ اُس کی حیثیت چاہے دُلہن کی، ماں کی، بہن کی یا بیٹی کی ہو، اُس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ مردوں کو تباہ کر کے زمین پر فتنہ برپا کرنا۔۔۔۔ اَور اِس وقت اُس کے قریب سیج پر ایک شیطانی مخلوق سوئی پڑی ہے۔۔۔۔

 

شیطان نے ظفر کو تباہ کرنے کے لیے اُس کے پاس اپنی مخلوق بھیجی ہے۔ مگر ظفر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شیطان سے نہیں ہارے گا۔ وہ اپنی دُلہن کو اَپنے بس میں کرے گا اَور اُسے ایک فرمانبردار دُلہن میں تبدیل کرے گا! ظفر کا اِرادہ نیک ہے۔ مگر اُس کی دُلہن اڑیل اَور سازشی ہے۔ وہ اُسے قریب نہیں آنے دیتی اَور اُس سے دُور بھاگتی ہے۔۔۔۔ شادی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، اَور ظفر ابھی تک اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اُس نے بارہا کوشش کی مگر وہ ہر کوشش میں نامُراد ہی ٹھہرا۔

 

وہ تنگ آ کے اپنی دُلہن کو طلاق کی دھمکی دے رہا ہے؛ مگر وہ اُس کی دھمکی سن کر مسکرا رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ طلاق ناممکن ہے۔ دُولہا بدنام ہو جائے گا۔ برادری والے سوچیں گے کہ وہ نامردی کا شکار ہے‘ وہ دُلہن کو قابو نہیں کر سکا، اِس لیے وہ اُسے چھوڑ رہا ہے۔ ظفر یہ ساری باتیں جانتا ہے اَور وہ سخت پریشان ہے۔ اُسے کسی سیانے بندے سے مشورہ لینا ہے۔۔۔۔

 

ظفر کا ایک پرانا دوست شہر کے مرکزی چوک پر گاڑیوں کا ایک شو رُوم چلا رہا ہے۔ اُس نے ولایت میں کچھ سال گزارے ہیں۔ اُس نے دُنیا دیکھی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے معتبر ہے۔ ظفر مشورے کے لےے اُس کے شو روم کو جا رہا ہے۔ اُس کا دوست اُسے اپنے کمرے میں بٹھا رہا ہے اور چائے پلا رہا ہے‘ اَور ظفر اُسے اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہے۔ دوست سوچ میں ڈُوب رہا ہے۔ پھر وہ ظفر کو ایک عجیب سا طریقہ تجویز کر رہا ہے۔ ظفر اُسی رات وہی طریقہ اِختیار کر رہا ہے اَور دُلہن اُس کے قابو میں آ رہی ہے۔ ظفر کامیابی سے اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

نو ماہ کے بعد ظفر کی پہلی اَولاد پیدا ہو رہی ہے۔ مگر ظفر اُس اولاد کو دیکھ کر بیزار ہو رہا ہے۔ بچی ہے بچی۔۔۔۔ چھوٹی عورت۔۔۔۔ اتنی مشکل سے دُلہن قابو میں آئی اَور شیطان نے ظفر کا امتحان لینے کے لیے اُس کے پاس ایک اَور مخلوق بھیج دی! چلو، کوئی بات نہیں! ظفر اُسے بھی قابو کرے گا! وہ اُس کا نام ”خدیجہ“ رکھ رہا ہے اَور بیٹے کی پیدائش کی اُمید میں باقاعدگی سے اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

3

 

وقت بیت چکا ہے۔ ظفر کا درسِ نظامی مکمل ہو چکا ہے‘ اَور اُسے ایک نامور مدرسے میں مدرّس کی نوکری مِل گئی ہے۔ اُس کے والدین دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اُن کی ساری خواہشیں پُوری ہو چکی تھیں۔ اُن کے بیٹے کی شادی ہوئی اَور اُس کے ہاں اَولاد پیدا ہوئی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ظفر کی دُلہن کی کوکھ میں سے صرف لڑکیاں جنم لیتی ہیں۔ خدیجہ کے بعد فاطمہ پیدا ہوئی، پھر مریم، پھر تسنیم، پھر ُ طوبہ، پھر نصیبہ۔۔۔۔ ظفر کو بیٹے کا ابھی تک اِنتظار ہے۔ اُس کا گھر شیطانی مخلوقات سے بھرا ہوا ہے۔ اَور یہ مخلوقات ہر وقت شور شرابا مچائے رکھتی ہیں۔ جب اُن کا شور ظفر سے برداشت نہیں ہوتا تو وہ ڈنڈا اُٹھاتا ہے اور مار مار کر مخلوقات کو چُپ کراتا ہے۔ شور اُس سے برداشت نہیں ہوتا۔ مدرسے میں جب بچے شور مچاتے ہیں تو وہ اُنھیں بھی ڈنڈے مار کر چُپ کراتا ہے۔ مگر گھر کی مخلوقات کے برعکس بچے آسانی سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ چیختے، ّچلاتے، معافیاں مانگتے، مِنتیں کرتے۔۔۔۔ اَور اِس طرح بہت زیادہ شور مچانے کے بعد چُپ ہو جاتے ہیں۔

 

مدرسے کے مہتمموں کو ظفر کے کمرے سے اکثر بچوں کی چیخیں سُنائی دیتی ہیں۔اَور اُنھیں آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ ظفر ضرورت سے زیادہ ہی ڈنڈے کا استعمال کرتا ہے۔ اُنھیں یہ اَندیشہ ہے کہ ظفر کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔ اُس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے؟ مہتمم آپس میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں؛ اَور ظفر کو پگڑی والے تبلیغیوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ظفر اُن کے ساتھ لمبے َدوروں پر جائے گا، گھومے پھرے گا، ملک کے مختلف حصّے دیکھے گا اور مختلف نسلوں سے ملے گا تو اُس کا دماغ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ اُس میں یقینا صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے گا۔

 

ظفر پگڑی والوں کے ساتھ ایک لمبے َدورے پر جا رہا ہے اَور نو ماہ تک ملک کی سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے۔ اَور وہ لوگوں کے سیاہ دِلوں میں سچے مذہب کا ُنور بھی بکھیر رہا ہے۔ اَور اِس کام میں وہ خاصا کامیاب ہو رہا ہے۔ شمالی علاقے کے نیلی آنکھوں والے کافر، درمیانی علاقے کے کالے عیسائی اور جنوبی علاقے کے نیلے ہندو‘ اُس کے دلائل سن کر دِین کی جانب ملتفت ہو رہے ہیں اَور کلمہ پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔ پگڑیوں والے اُس کے کارنامے دیکھ کر بہت متاثر ہو رہے ہیں اَور َدورے کے اختتام کے فوراً بعد اُسے اپنے سالانہ اجتماع میں لیے جا رہے ہیں۔

 

4

 

اجتماع ہر سال بڑے شہر کے قریب ایک کھلے میدان میں برپا ہوتا ہے۔ میدان میں جہاں تک نظر کام کرتی ہے، پگڑی والوں کے لمبے لمبے خیمے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یونانیوں یا مغلوں کی عظیم فوج نے دوبارہ جنم لیا ہے اَور اس میدان میں ڈیرا لگایا ہے۔ اِجتماع کے رُوحِ رواں مولانا عباسی ہیں جو پگڑی والوں کے سربراہ ہیں۔ اُن کا دیدار ہر جگہ اَور ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ وہ کبھی سٹیج پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے ہیں، کبھی مسجد میں امامت فرماتے ہیں اَورکبھی کینٹین میں کباب کھاتے ہیں؛ اَور کھاتے کھاتے وہ اپنے اِرد ِگرد کھڑے پگڑی والوں کو اشیرباد دے رہے ہیں۔ ایک روز، کینٹین میں ظفر کو مولانا کا اشیرباد مل رہا ہے۔ ایک پرانا پگڑی والا اُسے مولانا سے ملا رہا ہے اَور جی بھر کے اُس کی تعریفیں کر رہا ہے‘ اور مولانا تعریفیں سن کر ظفر کے کندھے تھپتھپا کر َکہ ‘رہے ہیں: ”شاباش! آپ نے اچھا کام کیا۔ اجتماع کے بعد کسی دِن آپ میرے پاس تشریف لائیں، سکون سے باتیں کریں گے۔۔۔۔“ پھر مولانا اجازت لے کر اُٹھ رہے ہیں۔۔۔۔ اُنھوں نے بہت کباب کھائے ہیں۔ اَب مومنوں کو نماز پڑھانی ہے۔۔۔۔ دس منٹ کے بعد نماز شروع ہو رہی ہے۔ صفیں بچھ رہی ہیں اَور ظفر نمازیوں کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ مولانا عباسی نے اُس کی خدمات کے اعتراف میں اُسے اِس شان دار صف میں نماز پڑھنے کا اِعزاز بخشا ہے۔

 

نماز جاری ہے۔ مولانا عباسی کے پیچھے ہزاروں پگڑیوں والے کبھی کھڑے ہو کر، کبھی سجدہ کر کے دُعا پڑھ رہے ہیں‘ اَور اُن کی آوازیں باری باری اُبھر رہی ہیں۔۔۔۔ اَور آوازیں ایک دُوسرے کے ساتھ ملتے ملتے‘ ایک ہوائی گنبد تعمیر کر رہی ہیں، جس کے کلس پر ایک گہری اَور جلالی آواز گونج رہی ہے۔۔۔۔ مولانا عباسی کی آواز!

 

5

 

اِجتماع ختم ہو گیا ہے۔ ظفر اپنے شہر کو َلوٹ آیا ہے اَور اپنی تدریسی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا ہے‘ اَور وہ اِس حد تک مصروف ہو گیا ہے کہ بڑے شہر جا کر مولانا عباسی سے ملاقات کا وقت نہیں نکال سکا۔ َدورے سے اُسے فائدہ ہوا۔ اُس کا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہوا اَور وہ گھر یا مدرسے میں ڈنڈا اُٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ مہتمم بہت خوش ہیں۔

 

چار ماہ گزر گئے۔ ظفر کی مصروفیت کم نہیں ہوئی۔ وہ ابھی بڑے شہر نہیں گیا؛ اَور ایک دِن مدرسے کا ایک پگڑی والا ساتھی اُسے مولانا عباسی کی شہر میں تشریف آوری کی خوش خبری سُنا رہا ہے۔ مولانا نگینہ ہوٹل کے پریذیڈنٹ سوئیٹ میں ٹھہرے ہیں۔ ظفر موقع غنیمت جانتا ہے اَور اپنی موٹر سائیکل پر مولانا کی زیارت کرنے کی خاطر نگینہ ہوٹل کی طرف چل پڑا ہے۔

 

اَب ظفر مولانا کے سوئیٹ کے باہر کھڑا ہے اَور دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ مولانا دروازہ کھول رہے ہیں اَور ظفر کے دینی حُلیے کو دیکھ کر اُسے فوراً اَندر آنے کا َکہہ رہے ہیں۔ مولانا اکیلے ہیں۔ وہ ظفر کو ایک کرسی پر بٹھا رہے ہیں اَور خود ساتھ والے صوفے پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر اِجتماع میں ملاقات کا ذ ِکر کر رہا ہے؛ مگر مولانا کو ملاقات یاد نہیں ہے۔ اَور یاد کس طرح ہو گی؟ ہر اِجتماع میں اُنہیں ہزاروں افراد ملتے ہیں۔ اَور وہ سب کے کندھے تھپتھپاتے ہیں اَور فراغت ہونے پر ملنے کا کہتے ہیں۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ مولانا کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ اُنھیں بہت نیند آ رہی ہے۔ اُن کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی ہیں۔ شاید اُنہیں بخار ہے۔۔۔۔ کمرے میں ایک غیر مانوس سی ُبو پھیلی ہوئی ہے۔ ظفر اس ُبو کو پہچان رہا ہے۔ رات کے وقت اُس کے محلّے کے عیسائی گھروں سے یہی ُبو آتی ہے۔۔۔۔ سو مولانا نے عیسائیوں کا مشروب پیا ہے؟۔۔۔۔ اچانک مولانا کا موبائل بج رہا ہے اَور مولانا کال لے رہے ہیں۔ ایک لڑکی پوچھ رہی ہے: ”جناب جی، میں اپنی دوست کے ساتھ آ جاؤں؟“ اَور مولانا ایک شرارتی مُسکان کے ساتھ جواب دے رہے ہیں:” ضرور سوہنیے، فوراً سے پہلے آ جاؤ۔۔۔۔“ پھر مولانا فون بند کر رہے ہیں اَور ڈکار رہے ہیں اَور اُن کی ڈکار قریب بیٹھے ظفر کے چہرے پر بج رہی ہے۔ ظفر کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔۔۔۔ وہ اُٹھ رہا ہے، اور بھاگتے بھاگتے کمرے سے باہر آ رہا ہے۔۔۔۔ وہ بھاگے جا رہا ہے۔۔۔۔ اور بھاگتے بھاگتے کوریڈور سے گزر رہا ہے۔ اَور اچانک اُس کے سامنے دو ُبر ِقع والیاں نمودار ہو رہی ہیں۔۔۔۔ ُبر ِقع والیوں نے خاصا میک اپ کیا ہوا ہے۔۔۔۔ اُن کی آنکھوں میں ُسرما چمک رہا ہے اور اُن کے چہروں پر سفید پاؤڈر کی ایک موٹی َتہ ‘جمی ہوئی ہے۔ اِن دونوں ُبر ِقع والیوں کے پیشے کے متعلق شک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ دونوں ُبر ِقع والیاں ظفر کی حالت دیکھ کر اپنے برقعوں میں ہنس رہی ہیں۔ ظفر اُن سے کترا کر گزر رہا ہے اَور ہوٹل کے گیٹ تک پہنچ رہا ہے‘ اَوراُن دونوں کی میلی ہنسی گیٹ تک اُس کا پیچھا کر رہی ہے۔ پھر ہنسی ختم ہو رہی ہے۔ ظفر ہوٹل سے باہر آ گیا ہے اَور وہ قے کر رہا ہے۔

 

ظفر کی قے ختم تو ہو چکی ہے؛ مگر اب وہ کیا کرے گا؟ مولانا کے پاس واپس جانا دانشمندی نہیں ہے۔وہ اِس وقت اُن دونوں فاحشاؤں کے ساتھ مصروف ہوں گے، جنھوں نے اپنے بے ہودہ قہقہوں کے ساتھ اُس کی بے عزتی کی ہے۔ اُس کی موٹر سائیکل سامنے کی پارکنگ میں کھڑی ہے۔ وہ اُس پر سوار ہو رہا ہے اَور گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اَور وہ سارے راستے سوچے جا رہا ہے۔ طرح طرح کے خیال اُس کے دماغ میں ّچکر کاٹ رہے ہیں۔ اُسے یقین ہے کہ مولانا فطرتاً نیک ہیں۔ نیک نہ ہوتے تو وہ پگڑی والوں کی تنظیم کیوں بناتے؟ وہ شرابی اَور زانی ہو گئے، مگر اُن کا کوئی قصور نہیں۔ قصور شیطانی مخلوقات کا ہے جو فتنہ پھیلا رہی ہیں۔ اُن کی مہم تیز ہو گئی ہے۔۔۔۔ اُنھوں نے مولانا جیسے نیک انسان کو بھی نشانہ بنایا۔۔۔۔ اُنھیں کچھ زیادہ ہی جوش آ گیا ہے۔ اُن کے حوصلے کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں۔ اُنھیں روکنا لازم ہو گیا ہے۔

 

اَور ظفر اپنی موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھے بیٹھے، شہر کی سڑکوں سے گزرتے گزرتے خدا کا پولیس مین بن جانے کا فیصلہ کر رہا ہے۔

 

6

 

تین دِن بعد خدا کا پولیس مین رات کے بارہ بجے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ کی ایک اندھیری ّنکڑ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور اُس کے ساتھ ٹیک لگا کر اِنتظار کر رہا ہے۔

 

ظفر کو پتا ہے کہ مولانا عباسی کو خراب کرنے والی مخلوقات اسی ہوٹل میں ہر رات دھندے کی غرض سے آتی ہیں۔ اُسے صرف اُنھِیں کا اِنتظار کرنا ہے۔ وہ ہوٹل سے باہر آتے ہی اُس کے جال میں پھنس جائیں گی۔ ظفر نے اپنے ویسٹ کوٹ کی اندر والی جیب میں ایک چاقو چھپایا ہوا ہے اَور وہ اُن کی جان لینے کے لیے تیار ہے۔۔۔۔

 

ظفر کو زیادہ دیر تک اپنی مطلوبہ مخلوقات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُس کے آنے کے آدھ گھنٹہ بعد ایک ُبر ِقع والی ہوٹل سے باہر آ رہی ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چمکیلا بیگ ہے جو طرح طرح کی حرام کی اَشیا سے بھرا ہوا ہے۔ چرس، شراب، کنڈوم۔۔۔۔ اَور حرام کے پیسے۔ ُبر ِقع والی مین روڈ پر کھڑی ہو رہی ہے اَور ایک رکشے کو روک رہی ہے۔ وہ رکشے میں سوار ہو رہی ہے۔ رکشا چل پڑا ہے۔ اتنی دیر میں ظفر اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو رہا ہے۔ اَب وہ رکشے کا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔۔

 

رکشا سُنسان سڑکوں سے گزر رہا ہے‘ اَور شہر کی ایک غریب آبادی میں پہنچ رہا ہے۔ یہاں مکان کچے ہیں، بجلی بے وفا ہے، اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ملبے کے ڈھیر ہر قدم پر موجود ہیں۔ اِس آبادی کے باسی غلیظ ہیں۔ اَور وہ فاحشہ جس نے ابھی ابھی ہوٹل میں کسی شرابی کے ساتھ زنا کیا ہے، وہ اُن کی اَولاد ہے۔۔۔۔

 

رکشا ایک گھر کے لوہے والے گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔ ظفر ایک ملبے کے ڈھیر کے پیچھے موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور تھوڑے فاصلے سے منظر دیکھ رہا ہے۔ اُس کا د ِل تیزی سے دھڑک رہا ہے آنے والے پَل اُس کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ اَب پتا چل جائے گا کہ اُس میں خُدا کا پولیس مین بننے کی ہمت ہے یا نہیں۔

 

ُبرقع والی رکشے سے اُتر رہی ہے‘ ڈرائیور کو ایک نوٹ پکڑا رہی ہے اَور رکشا چل پڑتا ہے۔

 

ُبر ِقع والی اب اکیلی ہے۔ مطلع صاف ہے۔ ظفر موٹر سائیکل سٹارٹ کر رہا ہے اَور تیز رفتاری سے فاحشہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اُس کے داہنا ہاتھ ہینڈل بار کو تھام رہا ہے جبکہ بائیں ہاتھ میں اُس نے چاقو پکڑ رکھا ہے۔ یہ چاقو فاحشہ کے پیٹ میں گھُس گیا ہے۔ خون بہہ رہا ہے اور فاحشہ ایک چیخ مار رہی ہے اور پھر زمین پر گر رہی ہے۔۔۔۔

 

اب خُدا کا پولیس مین اپنی پہلی ڈیوٹی دے کر گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اُس نے شہر کی فاحشاؤں کو اُن کی ایک ہم پیشہ کو ذبح کر کے ایک تنبیہ دی ہے۔۔۔۔ اس تنبیہ کا اُن پر کیا اثر پڑے گا؟۔۔۔۔ ظفر کو نگینہ ہوٹل جا کر پتا چل جائے گا۔ اگر کسی فاحشہ نے اس تنبیہ کے بعد یہاں دھندا کرنے کی گستاخی کی تو وہ اُسے اُسی ڈھنگ سے ذبح کرے گا جس ڈھنگ سے اُس نے آج رات ایک لڑکی کو ذبح کیا۔ اَور ذبح کرنے کا یہ سلسلہ فاحشاؤں کی توبہ یا فنا تک جاری رہے گا۔

 

7

 

دو مہینے گزرے۔ فاحشاؤں نے ظفر کی پہلی تنبیہ کو نظر اَنداز کر دیا۔ اُنھوں نے توبہ نہیں کی۔ چنانچہ ظفر نے اُنھیں نئی تنبیہیں دیں۔ اُس نے اب تک بارہ فاحشاؤں کو مار دِیا ہے۔

 

ظفر کی زندگی بہت مصروف ہے۔ وہ ساتھ ساتھ دو طرح کے فرائض روزانہ نبھا رہا ہے۔ دِن کے وقت وہ مدرسے میں اپنے تدریسی فرائض نبھا رہا ہے، بچوں کو کلامِ پاک پڑھا رہا ہے۔ رات کو وہ رب کی ڈیوٹی اَدا کر رہا ہے اور فاحشاؤں کو ذبح کر رہا ہے۔

 

اُس نے تمام فاحشاؤں کو ایک ہی ڈھنگ سے ذبح کیا۔ اُس نے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ میں اُن کا انتظار کیا، اُن کا تعاقب کیا اَور اُنھیں اُن کے گھر کے باہر چاقو سے مار دِیا۔ اُسے اس کام میں بہت مزہ آیا۔ اُسے افسوس بھی ہوا کہ اُسے اپنا نیک کام کرنے کے فوراً بعد بھاگنا پڑتا ہے۔ اگر تھوڑا وقت ملتا تو وہ موٹر سائیکل سے اُترتا اور فاحشہ کی آنکھوں کو چاقو سے حلقوں سے باہر نکالتا، یا اُن کی ناک یا کان کاٹتا اَور گلی کوچوں کے کتوں کے آگے ڈال دیتا۔۔۔۔ مگر کیا کریں؟ وقت نہیں ملتا تھا۔۔۔۔ فاحشائیں ذبح ہوتے وقت اِتنا شور مچاتیں کہ سارا محلّہ جاگ اُٹھتا۔ خلقت گھروں سے باہر نکلتی اَور ظفر کو موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگنا پڑتا۔۔۔۔
ہر قتل کے بعد ظفر کو ٹی وی پر اپنی کارروائی کے بارے میں خصوصی رپورٹ دیکھنے کو ملتی۔ رپورٹ میں مقتولہ فاحشہ کا نام اور عمر بتائی جاتی۔ اُس کے سوگوار گھر والوں اور ناراض ہمسایوں کا انٹرویو بھی دکھایا جاتا اَور ظفر بہت مطمئن ہوتا۔ میڈیا کے ذریعے اُس کی تنبیہ ‘ دُنیا کی سب فاحشاؤں تک پہنچ رہی ہے۔۔۔۔

 

8

 

ظفر کو ایک طرف اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ میڈیا والے اُس کی کارروائیوں کو پوری کوریج دے رہے ہیں۔ مگر دُوسری طرف اُسے یہ بات ستا رہی ہے کہ اُس کی کارروائیوں کا اصل مقصد کبھی بیان نہیں کیا جاتا۔ ظفر کا مقصد واضح ہے۔ مگر خدا جانے کیوں میڈیا والے اُس کی سب کارروائیوں کو ایک ”سیریل کلر“ کا کام گردانتے ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے؟ ”سیریل کلر“ کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیریل کلر ”قتل برائے قتل“ کے قائل ہیں۔ اُن کی کارروائیاں بے مقصدہوتی ہیں۔ مگر ظفر کے قتل ایک مقصد کے تحت انجام پاتے ہیں۔ ”سیریل کلرز“ ذہنی اُلجھنوں کا شکار ہیں۔ مگر ظفر کا دماغ دورے پر جانے کے بعد بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ اَور ابھی تک بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ میڈیا والے عوام کے دماغوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔۔۔۔اور ظفر سوچنے لگا ہے کہ اُسے اِن غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے لیے کسی دِن میڈیا کے سامنے آنا پڑے گا، اور تفصیلی بیان دینا پڑے گا۔۔۔۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو غلط فہمیاں بڑھ جائیں گی، پھیل جائیں گی اَور اُس کی سب کارروائیوں کا مقصد بالکل فوت ہو جائے گا۔

 

مگر اُس کی کارروائیوں کو پہلے ہی نظر لگ چکی ہے۔ وہ اچانک ختم ہو گئی ہیں۔ ظفر ہر رات نگینہ ہوٹل کے باہر کھڑا ہوتا ہے اَور گھنٹوں فاحشاؤں کی راہ تکتا ہے، مگر کوئی بُر ِقع والی نظر نہیں آتی۔۔۔۔ فاحشاؤں نے دھندے سے توبہ کر لی؟ نہیں’ بالکل نہیں! اُنھوں نے صرف نقل مکانی کی ہے۔ ظفر کی کارروائیوں نے اُنھیں چوکنا کر دیا اَور اُنھوں نے ہوٹل کو چھوڑ کر عام گھروں میں دھندا شروع کر دیا ہے۔ ظفر اُن دو نمبر گھروں کو کیسے پہچانے گا؟ اُسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ فاحشائیں اُ س کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔

 

مگر حوصلہ ہارنا رب کے پولیس مین کے اِیمان کے خلاف ہے۔۔۔۔ اُس کی کارروائیاں نیک ہیں۔ وہ ایسے رُک نہیں سکتیں! فاحشاؤں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا ہے۔ ظفر بھی اپنا طریقہ واردات بدل لے گا اَور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا!

 

9

 

فریدہ فاروق، ایک جانی پہچانی سیاست دان، ایک جلسے میں شرکت کے لیے شہر آنے والی ہے۔۔۔۔ شہر کی سب دیواریں اُس کے بڑے بڑے پوسٹروں سے سجی ہوئی ہیں۔ ظفر روزانہ مدرسے کو جاتے وقت اُن پوسٹروں کے سامنے سے گزرتا ہے اور فریدہ فاروق کے گول سے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے جو پوسٹروں کے کناروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک بے شرم چہرہ ہے۔ آنکھیں دیکھنے والوں کو دعوتِ نفسانی دیتی ہیں۔ ہونٹوں پر ایک فحش مُسکان ہے۔ اَور زُلفیں وحشی ہو کر ماتھے اَور گالوں پر بکھر گئی ہیں۔ فریدہ فاروق یقینا چادر اوڑھنے کو گناہ سمجھتی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔۔۔۔ یہ بی بی مغرب زدہ ہے اَور معاشرے کے اُونچے طبقے سے تعلق رکھتی ہے مگر دراصل وہ ایک فاحشہ ہے۔۔۔۔ ایک شیطانی مخلوق‘ جو اپنی فحاشی کے ذریعے عوام کو تباہ کر رہی ہے۔ اَور اُسے دیکھتے دیکھتے ظفر ایک فیصلہ کر رہا ہے۔ وہ اُسے دُوسری فاحشاؤں کی طرح ذبح کرے گا۔۔۔۔

 

مگر اُسے گھیرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ ایک وی آئی پی ہے۔ وہ رکشوں میں نہیں‘ بکتربند گاڑیوں میں سفر کرتی ہے۔ اُس کے ساتھ چوبیس گھنٹے سیکیورٹی ہوتی ہے۔ کارروائی کے دوران میں مارے جانے یا پکڑے جانے کا بڑا خطرہ ہے۔۔۔۔ مگر دونوں صورتیں رب کے پولیس مین کو منظور ہیں۔ اگر اُسے مار دیا گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ اگر اُسے پکڑ لیا گیا تو وہ جج کے سامنے بھری عدالت میں اپنا بیان دے گا۔ اَور میڈیا والے اُس کی عدالت میں حاضری اَور بیان کو پوری کوریج دیں گے۔ اَور اُن غلط فہمیوں کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا جو عوام کے دماغوں میں رچ بس گئی ہیں۔ عوام کو پتا چل جائے گا کہ فاحشاؤں کو ذبح کرنے والا بندہ کوئی پاگل اَور بے مقصد سیریل کِلر نہیں،وہ بچوں کو پڑھانے والا باریش آدمی ہے جس نے رب کی جانب سے شہر کو شیطانی مخلوقات سے پاک کرنے کی مہم شروع کی ہے۔

 

فریدہ فاروق کے پوسٹروں پر جلسے کی تاریخ، وقت اَور مقام لکھا ہوا ہے۔ یہ ظفر کے لیے ایک کھلی دعوت ہے۔ وہ جلسے کے دوران میں فریدہ فاروق کو ذبح کرے گا، جب وہ سٹیج پر کھڑی ہوگی اَور عوام کو مخاطب کرے گی۔ اَور وہ ایک چاقو کے بجائے ایک پستول سے کام لے گا۔ گولیاں چلتے ہی جلسے میں بھگدڑ مچ جائے گی، جس سے فائدہ اُٹھا کر ظفر فرار ہو جائے گا۔

 

ظفر کا منصوبہ بن گیا مگر پستول کا بندوبست کرنا ہو گا اَور اُسے چلانا بھی سیکھنا ہو گا۔ جلسہ اگلے ہفتے ہے۔ ظفر کے پاس صرف چھے دِن ہیں۔ ظفر پستول کے سلسلے میں اپنے محلّے کے ایک سابقہ مجاہد سے رجوع کر رہا ہے، جس نے جوانی میں افغانستان اَور کشمیر میں جہاد کیا تھا اَور جس کے بچے ظفر سے مدرسے میں پڑھ رہے ہیں۔ ظفر اُسے سمجھا رہا ہے کہ جائیداد کی وجہ سے اُس کا دُور دراز کے کچھ رشتے داروں سے جھگڑا ہو گیا ہے اَور اُسے اپنے تحفظ کے لےے پستول کی ضرورت ہے۔ سابقہ مجاہد اُسے ایک عمدہ پستول دے رہا ہے‘ اور کسی ویران مقام پر لے جا کر اُسے پستول چلانے کی مشق کروا رہا ہے۔ ظفر مجاہد کی نگرانی میں تین دِن مشق کرتا ہے اور اُس کا نشانہ بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔

 

10

 

جلسہ شہر کے جناح باغ میں ہو رہا ہے۔ ظفر وہاں پہنچ چکا ہے۔ سٹیج کو فریدہ فاروق کے پوسٹروں سے سجایا گیا ہے اور کرسیوں کی صفیں سٹیج کے سامنے بچھ گئی ہیں۔ ظفر جلدی پہنچ گیا ہے۔ اس لیے اُسے پہلی صف میں جگہ ملی ہے۔۔۔۔ وی آئی پی لوگوں کی کرسیوں کے نزدیک۔ پہلی صف میں بیٹھتے ہی اُس نے سُکھ کا سانس لیا ہے۔ سٹیج بالکل سامنے ہے۔ اُس کی گولیاں نشانے پر ضرور لگ جائیں گی۔ فریدہ فاروق نہیں بچے گی۔

 

ظفر اِطمینان سے جلسے کے شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ بے چینی ختم ہو گئی جسے وہ شروع میں قتل کرنے سے پہلے محسوس کرتا تھا۔ اُسے قتل کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب وی آئی پی قریب والی کرسیوں پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر بار بار اپنے ویسٹ کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا ہے اور اُنگلیوں سے اپنے اُس پستول کو سہلا رہا ہے جو کچھ دیر بعد دُنیا پر ایک بڑی مہربانی کرے گا۔

 

جلسے کا آغاز ہو رہا ہے۔ فریدہ فاروق سٹیج پر تشریف لا رہی ہے۔ حاضرین بھرپور تالیوں سے اُس کا استقبال کر رہے ہیں۔ اُس کی پارٹی کے کچھ جوشیلے کارکن اُس پر پھُولوں کی بارش کر رہے ہیں۔ اُنھیں دیکھ کر ظفر کو وہ تماش بین یاد آ رہے ہیں جو مجرے کے دوران میں فاحشاؤں پر نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔۔۔۔ پھر تالیاں رُک رہی ہیں اَور پھولوں کی بارش ختم ہو رہی ہے۔ فریدہ فاروق مائیک کے پاس کھڑی ہو رہی ہے اَور اپنی تقریر شروع کر رہی ہے۔۔۔۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔ میں آپ سب لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ آپ اِتنی بڑی تعداد میں اس جلسے میں تشریف لائے ہیں۔ میں چودھری سلیم، ملک احسان اللہ اَور راجا مبشر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنھوں نے اِس شان دار جلسے کا اہتمام کیا ہے اَور مجھے۔۔۔۔“ فریدہ فاروق اپنا فقرہ مکمل نہیں کر پا رہی ہے۔ رب کا پولیس مین اپنی کرسی سے اُٹھ رہا ہے اَور پستول نکال کر فریدہ فاروق پر گولیاں چلانا شروع کر رہا ہے۔۔۔۔ اُس کی تین گولیاں فضا میں گم ہو رہی ہیں، مگر دو گولیاں نشانے پر لگ رہی ہیں۔ فریدہ فاروق نیچے گر رہی ہے۔۔۔۔ جلسے میں بھگدڑ مچ رہی ہے۔ حاضرین چیخ رہے ہیں اَور چاروں طرف بھاگ رہے ہیں۔ کرسیاں اُلٹ رہی ہیں اَور زمین ہل رہی ہے۔ مگر پارٹی کے کارکنوں کو اچھی تربیت ملی ہے۔ وہ جلد ہی حرکت میں آ گئے ہیں۔ کچھ کارکن فریدہ فاروق کو ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ دیگر کارکن رب کے پولیس مین پر گھیرا ڈال رہے ہیں۔ اُس کا پستول چھین رہے ہیں۔ اُسے ُمنہ ‘کے بل زمین پر لٹا رہے ہیں۔ پھر پولیس اہلکار پہنچ رہے ہیں اَور کارکن فریدہ فاروق کے قاتل کو اُن کے حوالے کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار اُسے ہتھکڑیاں ڈال کر اپنی پِک اَپ میں صدر تھانے لے جا رہے ہیں۔

 

پِک اَپ میں بیٹھے بیٹھے ظفر سوچ بچار کر رہا ہے۔ رب نے اپنے وفادار پولیس مین پر کرم کیا۔ کارکن اُسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنا سکتے تھے، خلقت اُسے زندہ جلا سکتی تھی۔ مگر خلقت گولیوں کی آواز سنتے ہی تتر بتر ہو گئی اَور کارکنوں نے ضبط کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ اُسے ایک تھپڑ بھی نہیں پڑا۔۔۔۔ دراصل لوگوں نے اُس کی ڈاڑھی اور ٹوپی کا لحاظ کیا۔ لوگ اچھے ہیں مگر کتنے گمراہ ہیں۔۔۔۔ اُنھیں یہ نہیں پتا کہ اُن کا اصل دُشمن رب کا پولیس مین نہیں‘ وہ فاحشہ ہے جس کی خاطر وہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔

 

صدر تھانے میں ایس پی صاحب بڑی عزت سے ظفر سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ وہ پہلے کچھ رسمی سے سوال پوچھ رہے ہیں:”صوفی صاحب، آپ نے یہ مرڈر کیوں کیا؟۔۔۔۔آپ کی کسی تنظیم یا پارٹی سے وابستگی ہے؟۔۔۔۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟“۔۔۔۔ اور ظفر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہا ہے:

 

”ایس پی صاحب‘ ہمارے درمیان ایک بات مشترک ہے۔ ہم دونوں پولیس والے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ آپ ریاست کی طرف سے ڈیوٹی نبھا رہے ہیں، اَور میں خدا کی طرف سے۔۔۔۔“

 

پھر ظفر اعلان کر رہا ہے کہ فریدہ فاروق کا قتل ایک ایسی مہم کا آخری مرحلہ ہے جو تین ماہ پہلے شروع ہوئی ہے‘ اَور ظفر اپنی پچھلی کارروائیوں کا تفصیلی ذکر کر رہا ہے۔۔۔۔ ایس پی صاحب خاموشی سے اُس کی باتیں سن رہے ہیں۔ ایک ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں محر بیٹھا ہے جو اپنی مشین سے ظفر کے بیان کا ہر لفظ ٹائپ کر رہا ہے۔ ظفر خوش ہے۔ اُس کا بیان اس وقت محفوظ ہو رہا ہے۔ آنے والی نسلیں اُس سے عبرت پکڑیں گی۔

 

ظفر خاموش ہو رہا ہے۔ اُس نے اپنا پورا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ایس پی صاحب بھی خاموش ہیں۔ اُنھیں مزید پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے۔ ظفر نے اپنے بیانات کے ذریعے اُن کے سب سوالوں کا جواب دے دِیا ہے۔ ظفر کو حوالات میں بند کیا جا رہا ہے۔اَور ایس پی صاحب اُس کا ٹائپ شدہ بیان لے کر عدالت جا رہے ہیں۔ اُن کے جانے کے بعد ایک مشہور ٹی وی چینل کا وفد ظفر کا اِنٹرویو لینے آ رہا ہے۔ وفد نے سپاہیوں کو رشوت دے کر ظفر تک رسائی حاصل کی ہے۔ ظفر بڑی خوشی سے اُن کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے اَور اُن کا کیمرہ اُسے فلمائے جا رہا ہے۔ وہ کتنا خوش نصیب ہے!۔۔۔۔ وہ گمنامی سے نکلا ہے۔ وہ پولیس مین سے ہیرو بن گیا ہے۔ آج رات لاکھوں لوگ اپنے ٹی وی پر اُس کا اِنٹرویو دیکھیں گے اَور بیان سُنیں گے!

 

ٹی وی والے اچانک اجازت لے رہے ہیں۔ سپاہیوں نے اُنھیں اطلاع دی ہے کہ ایس پی صاحب عدالت سے چل پڑے ہیں۔۔۔۔ پھر دس منٹ بیت گئے ہیں اَور ایس پی صاحب تھانے میں قدم رکھ رہے ہیں‘ اَور حوالات کے سامنے کھڑے ہو کر ظفر کو مخاطب کر رہے ہیں: ”صوفی صاحب، آج دوپہر آپ جیل جا رہے ہیں! آپ کا مقدمہ وہیں چلے گا“۔۔۔۔

 

ظفر کا مقدمہ کچھ ہفتے جیل کی حدود میں چلے گا۔۔۔۔ مگر اُس کی طبیعت اُسے ایک ہی بار عدالت کے سامنے حاضر ہونے کی اجازت دے گی۔۔۔۔ اَور جج صاحب اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنائیں گے۔

 

11

 

فلم ختم ہو گئی۔ ظفر ماضی میں گھوم پھر کر اپنی کوٹھڑی میں پلٹ آیا ہے۔ وہ سیمنٹ والے چبوترے پر لیٹا ہواہے۔ مکھیوں کا طواف ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ اَور اُس کی نظریں فرش پر خود ہی ٹِک رہی ہیں‘ اور ظفر خون کی لکیروں کی گنتی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔

 

مگر ظفر زیادہ دیر تک لکیروں کی گنتی نہیں کر پائے گا۔۔۔۔ نور آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں سے علیٰحدہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ نابینا ہو رہا ہے۔

 

ظفر کی آنکھیں بے کار ہو گئی مگر اُس کے کان ابھی تک کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ اُسے سب آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سِکھوں کی گالیاں، گستاخوں کا ریڈیو، غازیوں کی تلاوتیں۔ اَور اُن آوازوں میں انوکھی آوازیں شامل ہو گئی ہیں۔۔۔۔ چالیس نئے قیدی آ گئے ہیں۔ گارڈز اُنھیں ظفر کی وارڈ کے پیچھے لاتے اَور تلاشی کے بہانے اُن سے پیسے، گھڑیاں اَور لاکٹ چھین رہے ہیں۔ نئے قیدی اُن کی منّتیں کر رہے ہیں، مگر گارڈز اُنھیں کچھ بھی واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔۔ اَور جب کوئی نیا قیدی تلاشی دینے سے اِنکار کر رہا ہے، تو گارڈز اُس کی شلوار اُتار کر اُس کی چھترول کر رہے ہیں اَور قیدی کی چیخیں فضا میں بلند ہو رہی ہیں۔ ظفر کو اُن کی چیخیں سن کرمدرسے کے بچوں کی چیخیں یاد آ رہی ہیں۔۔۔۔ اَور اُسے تھوڑا سا افسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس نے اُن معصوموں پر بہت ظلم کیا۔۔۔۔

 

ظفر کے کان آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں کے مانند بے کار ہو رہے ہیں۔۔۔۔ باہر کی آوازیں گم ہو گئی ہیں۔۔۔۔ اب ظفر کو صرف اپنے بدن کے اندر کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔۔۔۔ رگوں میں لہو کا بہنا، سینے میں دِل کا دھڑکنا، پیٹ میں انتڑیوں کا لڑنا۔۔۔۔ اور اُس کی روح آہستہ آہستہ اُس کے بدن سے رخصت ہو رہی ہے۔ وہ پرلی طرف جا رہی ہے۔۔۔۔ وہاں اندھیرا پھیل چکا ہے اَور اندھیروں میں ایک دھیمی سی َلو جل رہی ہے۔۔۔۔ نیچے پانی ہے۔۔۔۔ ظفر کی رُوح پانیوں پر پھسل رہی ہے۔ سردی اِس وقت بہت زیادہ ہے۔ رُوح سردی کے باعث سکڑتی جا رہی ہے اَور اتنی چھوٹی ہو رہی ہے کہ رب کی طاقتور آنکھیں بھی اُسے نہیں دیکھ سکتیں۔۔۔۔ ظفر کے مرنے کے بعد اُسے جیل کی باہر والی دیوار کے نیچے ایک بے نام قبر میں دبایا جائے گا۔۔۔۔
Categories
گفتگو

اردو ادب کی عمارت جنسیت کی نفی پر کھڑی ہے: ژولیاں

ہند و پاک کے خطے کے ساتھ اہل یورپ کے تعارف اور میل جول کی کہانی جتنی پرانی ہے، یہاں کی زبانوں میں یورپی نژاد اہل قلم کی فہرست کا محیط بھی اتنا ہی قدیم اور تاریخ گیر ہے۔ فرانس کے خطے نے گزشتہ تین صدیوں میں اردو سے وابستہ متعدد قادر الکلام اور صاحب دیوان شعراء اور ماہر فن محقق اور نقاد پیدا کیے ہیں۔
ژولیاں اردو کے پہلے فرانسیسی نژاد افسانہ نگار ہیں، جو اردو کے ساتھ ساتھ ہندی، سنسکرت، پنجابی اور سرائیکی بھی جانتے ہیں، اور وہ بجا طور پر ان زبانوں کے توسط سے یہاں کے سماج، طرز زندگی اور طرز فکر کو سمجھنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اب تک ان کی کہانیوں کے دو مجموعے “تین ناولٹ” (ساغر، میرا جی کے لیے، اور منیر جعفری شہید)، اور “زاہد اور دو کہانیاں” شائع ہو چکے ہیں، اور تخلیق کا یہ سفر ابھی تک جاری ہے۔ لالٹین نے ژولیاں کے ساتھ بات چیت کی ایک نشست کا اہتمام کیا ہے، یہ گفتگو اردو کے سنجیدہ قارئین کی نذر ہے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”2″]

لالٹین: اپنے بچپن اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیے، بچپن میں کن چیزوں سے متاثر رہے؟
ژولیاں: بچپن میں مجھے اکیلا پن بہت اچھا لگتا تھا، درختوں پر چڑھنا، ان میں چھپ کر گھنٹوں بیٹھے رہنا، پرندوں کو دیکھنا، یہ سب مجھے بہت پسند تھا۔ میں بہت سوشل بچہ نہیں تھا، اب بھی میں بہت مجلسی بندہ نہیں ہوں، ابتدا سے ہی مجھے سمجھ آ گیا کہ زندگی تنہا گزارنا ہے۔ میں کلاس روم میں بہت کم بولتا تھا، الگ تھلگ رہتا تھا، اٹھارہ سال کی عمر تک شاید ایک یا دو دوست بنے۔ کتاب پڑھ لینا، لکھ لینا۔ البتہ یہ چیز ہے کہ میں نے لکھنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا، بچپن میں مجھے مصوری سے شغف تھا، میں پینٹنگ کرتا تھا اور مصور بننا چاہتا تھا۔
ہم فرانسیسی کو لانگ کہتے ہیں، علاقائی زبانوں کو ہم پتھوا کہتے ہیں۔ پتھوا کو حقیر اور ناپختہ زبان سمجھا جاتا ہے جس میں خیالات کا اظہار نہیں ہوتا۔ پنجابی، اور پنجابی کے اندر جو پنجابیاں ہیں، انہیں دیکھ کر میری پنجابی سے ہمدردی ہو گئی، مجھے لگا کہ یہ میری کھوئی ہوئی زبان ہے۔
والدین کا پس منظر عام سا تھا، ماں گھریلو عورت اور باپ کسی کمپنی کے نمائندہ تھے۔ وہ سن 80ء کا زمانہ تھا، جو کہ فرانس میں بحران کا زمانہ بھی تھا۔ والد کو بار بار نوکری سے نکالا جاتا تھا، لیکن محنتی آدمی تھے، اسی لیے انہیں نئی نوکری جلد مل جاتی تھی۔ تو ہم فرانس میں جگہ بدلتے رہے۔ ہمارا آبائی شہر مارسائی تھا، میں وہاں زیادہ عرصہ نہیں رہا۔ بزرگوں کا اثر بہت زیادہ رہا، نانا، نانی، دادا اور دادی، سب داستان گو تھے۔ میرے خیال سے سبھی بزرگ داستان گو ہوتے ہیں۔ بزرگ یا تو خاموش طبع ہوتے ہیں، یا داستان گو ہوتے ہیں۔ میں ان کی داستانیں سنتا تھا۔ دادا دادی نے دو جنگیں دیکھی تھیں، انہوں نے 30 کی دہائی کے حالات دیکھے تھے۔ ان کا تجربہ بہت وسیع تھا۔ جرمنوں کا آنا، چھاپے مارنا، اور اس وقت آپ کو فیصلے کرنا ہوتے تھے، یا تو آپ کمیونسٹوں کے ساتھ ہوتے تھے، یا نہیں ہوتے تھے۔ آج کل تو لوگ فیصلہ ہی نہیں کرتے، وہ لوگ بہت سیاسی شعور رکھتے تھے۔ دوسری طرف وہ بہت زیادہ مذہبی اور روحانیت پرست تھے۔ دادا جان ہر سال زیارات پر جاتے تھے، پیسے ان کے پاس بہت تھے، ایک محل نما گھر میں رہتے تھے، وہ ہر سال ایک چغہ پہنتے تھے اور ننگے پاؤں کسی زیارت کی طرف نکل جاتے تھے۔ اور پیسے کیا چغے میں جیب تک نہیں ہوتی تھی۔ وہ ننگے پاؤں جاتے تھے اور تین چار مہینے بعد واپس آتے تھے۔ وہ کیتھولک عیسائی تھے۔ دادی رات کو باہر نکلا کرتی تھیں، انہیں کچھ پراسرار چیزیں نظر آتی تھیں، ان کی بینائی کم تھی، اور وہ موٹے شیشوں کا چشمہ لگاتی تھیں۔ وہ رات کو بغیر چشمے کے باہر نکل جاتی تھیں، لیکن کبھی گری نہیں، کبھی گم نہیں ہوئیں۔ وہ سیر کر کے واپس آ جاتی تھیں۔ شاید وہ کچھ ہیولوں سے باتیں بھی کرتی تھیں۔ یہ ان کے خاندان میں چل رہا تھا، ان کی ایک بہن نے بھی اسی کی وجہ سے خودکشی کی، انہیں شیزوفرینیا تھا اور وہ کھڑکی سے کود کے مر گئیں۔ وہ ماحول ایک طرح سے کہانیوں سے مملو تھا۔ ہمیں داستان سنائی جاتی تھی، لیکن بہت سی چیزیں ہم سے چھپائی بھی جاتی تھیں۔
میں نے سوچا کہ یونانی اور لاطینی جاننے والے بہت ہیں، لیکن سنسکرت جاننے والے بہت کم ہیں، سو میری سنسکرت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ہندوستان پہنچ کر مجھے لگا کہ یہاں آیا ہوں تو کوئی ورنیکولر زبان بھی سیکھنا ہو گی، تو میں نے ہندی سیکھنا شروع کی، یعنی اردو کے قریب آ گیا، اردو تک پہنچنے کا سلسلہ سال در سال پر محیط رہا۔

 

لالٹین: ایک اجنبی خطے کی ثقافت اور زبان میں دلچسپی پیدا ہونے میں آپ کے بچپن کے پرتجسس تجربات کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟
ژولیاں: میں نے ایک خواب دیکھا تھا، جس کی تعبیر بعد میں میں نے خود کی۔ جب میں چھوٹا سا تھا تو مجھے بہت سی باتیں نہیں بتائی گئیں، مجھے اپنے دادا کے بارے میں بہت زیادہ نہیں پتہ تھا۔ وہ ویسے تو خاموش طبع تھے، لیکن جب وہ داستان سناتے تھے تو سارا ہال گھر والوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ لیکن ان کی داستانوں سے میں مجھے ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔ پھر جب میں تیس سال کا تھا تو کافی دیر ہندوستان میں رہا۔ مجھے اپنی پھوپی کے پاس جانے کا اتفاق ہوا، وہاں دادا کی سبھی کتابیں رکھی تھیں۔ تو میں نے وہاں اپنیشد، رگ وید اور ایسی دوسری بہت سی کتابیں دیکھیں۔ ان کی ہندوستان میں بہت دوستیاں تھیں۔ ہمارے علاقے میں ایک انگریز تھا، جو دادا جان کا بڑا دوست تھا، اس نے دادا کی عطیہ کی رقم سے فرانس میں پہلا آشرم قائم کیا تھا، گاندھی جی سے اس کی بڑی دوستی تھی، گاندھی نے اس آشرم کا نام شانتی داس رکھا۔ وہ انگریز 20ء کی دہائی میں ہندوستان گیا، اور انگریز کی طرح پالکی میں سفر کرتا تھا، مقامی لوگ پالکی کو اٹھاتے تھے۔ ایک بار وہ ایک ندی کے پاس سے گزر رہا تھا، تو اس نے ندی میں نہانا چاہا۔ وہ کافی دیر ندی میں تیرتا رہا، جب واپس کنارے پر آیا تو دیکھا کہ کپڑے اور پالکی غائب تھے۔ وہ الف ننگا تھا۔ اس نے باوا آدم کی طرح پتوں کے ساتھ اپنا ستر چھپایا اور پاس کے ایک گاؤں تک آیا، وہاں کے لوگوں نے اسے سادھو سمجھ لیا۔ انہوں نے اسے کپڑے دئیے، کھلایا پلایا۔ تو وہ سادھو بن کے کئی سال تک وہاں رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ دولت کے ہونے سے سبھی حرص کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن پہننے کو کپڑے تک نہ ہوں تو سبھی کو اندر کا انسان بھی نظر آ جاتا ہے۔ اس کا اصل نام لونزا دلواستو تھا۔ دادا تو بڑی خواہش کے باوجود کبھی ہندوستان نہیں جا سکے، اور پھر یہ میرا بھی خواب رہا۔

2

لالٹین: آپ کی مادری زبان کون سی ہے؟ اور آپ کو یہاں کی زبانوں میں ان کے ساتھ کوئی مشترک قدر نظر آتی ہے؟
ژولیاں: فرانسیسی بھی میری زبان ہے، اور اس کی تہہ میں ایک اور علاقائی زبان پرووانسال ہے، اور اوکسیتان بھی کہلاتی ہے۔ وہ کسی زمانے میں بہت وسیع زبان ہوا کرتی تھی۔ تقریبا ایک صدی پہلے ختم ہو گئی ہے۔ میرے بزرگ وہ زبان اور وہ محاورہ بولا کرتے تھے۔ زبانوں کے معدوم ہو جانے کے بعد ان کی جگہ اگلی زبان لے لیتی ہے، لیکن پہلی زبان کا اثر اس کی تہہ میں رہتا ہے۔ فرانس میں بہت عرصے تک تمام علاقائی زبانوں پر پابندیاں لگی رہیں۔ سن 81ء یا 82ء میں جب میتراں اقتدار میں آئے تو انہوں نے وہ سب پابندیاں ہٹا دیں۔ اب پرووانسال اسکول میں پڑھائی جا رہی ہے۔ جب میں بچہ تھا تو میں نے کچھ پرووانسال سیکھی۔ پھر جب میں ہندوستان آیا میں نے شاعری کی، تو پتہ نہیں کیسے لیکن شاعری پرووانسال میں ہی نکلی، جو زبان میں نے دس پندرہ سال سے نہیں سنی تھی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔ میرے نانا آخری شخص تھے جو پرووانسال کو پوری طرح سے بول لیتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے
لکھنا بند کر دیا۔
فکشن میں پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے ضمیر غائب استعمال کرتے ہیں۔ اور جب آپ کو کہانی کی شکل نظر آنا شروع ہو جاتی ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی تحریروں میں وقت داخل ہو گیا۔ جبکہ شاعری کا دائرہ وقت سے باہر ہے۔
فرانس میں اس وقت زبان کو لے کر احساس کمتری بہت زیادہ تھا۔ حتی کہ لوگوں نے اپنے بچوں سے علاقائی زبانیں بولنا بند کر دیا۔ اسکول میں ہمیں یہ تربیت دی گئی کہ جو علاقائی زبان بولتا ہے، وہ پینڈو ہے، گنوار ہے۔ صبح جب استاد اسکول آتا تھا تو وہ ایک بچے کو ایک سکہ دیتا تھا۔ اس کو سگنال کہتے ہیں، ہماری زبان میں سینیال، یعنی علامت۔ وہ جہالت کی علامت تھی۔ تو جس بچے کے پاس سینیال ہوتا، اگر وہ کسی دوسرے بچے کو علاقائی زبان بولتے سنتا تو وہ اسے سینیال تھما دیتا، اس طرح وہ سکہ گردش کرتا رہتا۔ شام کو جب کلاس ختم ہوتی تو ٹیچر آ کر پوچھتا کہ سینیال کس کے پاس ہے۔ اس بچے کو کھڑا کر کے دس منٹ تک اس کی تضحیک کی جاتی، انگلی دکھائی جاتی۔ کہ اس نے ہمت کیسے کی علاقائی زبان بولنے کی۔ ہم فرانسیسی کو لانگ کہتے ہیں، علاقائی زبانوں کو ہم پتھوا کہتے ہیں۔ پتھوا کو حقیر اور ناپختہ زبان سمجھا جاتا ہے جس میں خیالات کا اظہار نہیں ہوتا۔ پنجابی، اور پنجابی کے اندر جو پنجابیاں ہیں، انہیں دیکھ کر میری پنجابی سے ہمدردی ہو گئی، مجھے لگا کہ یہ میری کھوئی ہوئی زبان ہے۔ یہ بھی اتنی ہی مظلوم زبانیں ہیں۔ ہمارا معاشرہ بھی زیادہ تر دیہاتی معاشرہ تھا، آپ ہمارے پرانے رزمیے پڑھیں، اس میں چوہدری بھی ہیں، چوہدری کی بیٹیاں بھی ہیں۔ اس میں عاشق کے عورت کو اغوا کرنے کے قصے ہیں، چھپنے چھپانے کے قصے۔ عورت کے بھائی اس کو مار ڈالنے کے لیے اس کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اشتہاریوں کی باتیں، کھیتی باڑی۔ آپ افریقہ چلے جائیں، فرانس چلے جائیں، قدیم معاشرہ سبھی جگہ ایک جیسا ہے۔

3

لالٹین: لکھنے لکھانے کی طرف کیسے مائل ہوئے؟
ژولیاں: میں مصور بننا چاہ رہا تھا، لیکن میرے ماں باپ نے مجھے سمجھایا کہ تم ایک شریف خاندان کے لڑکے ہو، ہم تمہیں مصور نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ بہتر ہو گا کہ میں استاد بن جاؤں۔ سو میں نے لاطینی یا یونانی کا استاد بننا چاہا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ بروتوں اور فلپسوپو جیسے لوگوں کو پڑھا، پھر فرانس کی ادبی تاریخ میں پہلی کتاب ہے جس میں سریئلسٹ شاعری ملتی ہے؛ لے شامانتیک (Les Champs Magnétiques)، نام کا ترجمہ تو شاید میں نہیں کر سکتا، میں نے اسے پڑھا تو مجھے شوق پیدا ہوا اور میں نے آٹومیٹک رائٹنگ کے تحت لکھنا شروع کر دیا۔ ایسے ہی میں ایک کتاب میلے پر گیا، وہاں ایک شاعر اور افسانہ نگار اپنی کتاب کے ڈھیر کے ساتھ بیٹھے اپنے دستخط کر کے دے رہے تھے، Daniel Boulanger نام تھا، ٹکلو آدمی تھے، بہت خوبصورت اور مہم جو انسان۔۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا؛ کیا آپ لکھتے ہیں، میں نے بتایا کہ میں لکھتا ہوں۔ اصل میں ہر وہ جوان جو تھوڑا بجھا بجھا اور کھویا کھویا ہوا نظر آتا تھا، وہ اس سے اسی طرح مخاطب ہوتے تھے۔ انہوں نے ایک نظم اٹھائی، اور مجھے اس کی تکنیک کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔ اس بندے کی باتوں نے مجھ پر بالکل جادو چلایا تھا۔ میرا بلاک اسی وقت دور ہو گیا۔ تیرہ سال تک میں شاعری کرتا رہا، تیس سال کی عمر میں میں نے شعر کہنا بند کر دیا۔ میں سنسکرت سیکھنا چاہ رہا تھا، یونیورسٹی میں ابتدائی سال ادھر ادھر مضمونوں کی طرف بھٹکتا رہا۔ یونانی اور لاطینی پڑھائے جانے کے دوران ان زبانوں کی ساخت کو اکثر سنسکرت کی ساخت سے ملایا جاتا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ یونانی اور لاطینی جاننے والے بہت ہیں، لیکن سنسکرت جاننے والے بہت کم ہیں، سو میری سنسکرت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ہندوستان پہنچ کر مجھے لگا کہ یہاں آیا ہوں تو کوئی ورنیکولر زبان بھی سیکھنا ہو گی، تو میں نے ہندی سیکھنا شروع کی، یعنی اردو کے قریب آ گیا، اردو تک پہنچنے کا سلسلہ سال در سال پر محیط رہا۔
شروعات میں تو میں باغی تھا، اب میں مانتا ہوں۔ موضوع خود تعین کرتا ہے ہیئت کا۔ ایک چیز مجھے بہت تنگ کرتی ہے، اور اس میں مجھے ماننا ہو گا کہ اس کی بہت گہری بنیاد ہے، اس کا ایک جواز ہے۔ اور وہ ہے غزل۔

 

لالٹین: آپ دریدا کے شاگرد رہے، ان کی شخصیت نے کس حد تک آپ کو متاثر کیا؟
ژولیاں: ہاں میں ایک لمبے عرصے تک ان کے سحر میں رہا۔ بالکل جیسے ایک سانچہ ہو، اور کوئی اس میں ڈھل جاتا ہے۔ دریدا کی طرح سوچنا، دریدا کی طرح بولنا۔ ہم اسی دباؤ کے تحت سوچتے رہتے تھے کہ اگر ہم دریدا نہیں بنے تو ہم تو کام سے گئے۔ ہم بیس بیس سالوں کے فقرے تھے، چائے خانوں پر لڑکیوں کے بارے کم اور دریدا کے بارے میں زیادہ باتیں کرتے تھے۔ پھر عرصے بعد جب ان کے کاموں کو پڑھا تو اندازہ ہوا کہ یہ نری لفاظی ہے۔ کبھی یوں لگتا کہ جس چیز کا تجزیہ کیا ہے، وہ گھوم پھر کے ایسے نتیجے پر پہنچا ہے جو کہ نتیجہ بھی نہیں ہے، اور اس نتیجے کے اندر اس نتیجے کا رد بھی موجود ہے۔ ڈی کنسٹرکٹ نہیں کیا، بیان بہت متضاد ہیں۔ البتہ جب دریدا صاحب بولتے تھے، تب آپ کو ایسا کوئی تاثر نہیں جاتا تھا۔ جب وہ ہمیں ہائیدگر کے بارے میں بتاتے تھے تو ہائیدگر کے فرانسیسی اور انگریزی تراجم اور جرمن متن ان کے سامنے رکھے ہوتے تھے، آگے دقیق نکات والے نوٹس بنا کر رکھے ہوتے تھے۔ وہ پڑھانے میں سنجیدہ اور پرجوش تھے، ان کا انداز جدلیاتی تھا، جو انہوں نے ایکول نومیل سپیرئیر میں التھوسر جیسے لوگوں سے سیکھا تھا۔ لیکن اس میں سے ایک تعمیری سوچ ابھرتی نظر آتی تھی، ڈی کونسٹرکشن تو وہ تھی ہی نہیں۔ لیکن لکھتے ہوئے وہ بہک جاتے تھے۔ لکھتے ہوئے متن کے اندر سے ہمیں ایک ماتحت المتن نکالنا ہوتا ہے، جو کہ اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ ایک مہابیانیہ (ڈاکٹر علی صدیقی کے بقول) ہمیں اس میں سے نکالنا ہوتا ہے۔ ان کے اندر ادب کا کیڑا تھا، ان کے بڑے استاد سبھی فلسفی تھے، لیکن جن لوگوں سے ان کی گہری دوستی تھی، وہ سبھی ادیب تھے۔ انہوں نے شروعات شاعری سے کی تھی لیکن بعد میں وہ فلسفی بن گئے۔ لیکن ان کے اندر فکشن لکھنے والے کا مزاج نہیں تھا، انہیں کہانی سنانا نہیں آتا تھا۔

 

لالٹین: آپ شاعر بھی ہیں، آپ نے کس کس زبان میں شاعری کی اور کس طرح سے کی؟
ژولیاں: شاعری میں نے فرانسیسی میں کی، ایک خاص دور میں اپنی علاقائی زبان پرووانسال میں کی۔ وہ سریئلسٹ شاعری تھی۔ لیکن پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں ایک کہانی سنا رہا ہوں۔ میری شاعری میں بیانیے کے کئی عناصر ہیں، یعنی میں آہستہ آہستہ تجریدیت سے افسانے کی طرف آ رہا تھا، اور شاعری سے نثر کی طرف آ رہا تھا۔ میں ایک بندے کی کہانی لکھتا تھا، وہ بندہ ظاہر ہے، میں خود تھا۔ لیکن میں ضمیر غائب میں لکھتا تھا۔ فکشن میں پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے ضمیر غائب استعمال کرتے ہیں۔ اور جب آپ کو کہانی کی شکل نظر آنا شروع ہو جاتی ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی تحریروں میں وقت داخل ہو گیا۔ جبکہ شاعری کا دائرہ وقت سے باہر ہے۔
سب لوگوں نے میرا جی کی شخصیت پر زیادہ بات کی ہے۔ اور یہ ان کی خواہش بھی تھی کہ ان کی شخصیت پر زیادہ بات ہو۔ وہ ڈرامے باز تھے۔ یہ بات مجھ پر ناولٹ لکھ چکنے کے بعد کھلی تھی۔

 

لالٹین: آپ نے کہا کہ آپ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے ضمیر غائب کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ آپ کے سوانحی ناولوں میں، جو کہ بظاہر کسی اور شخص کا احوال ہیں، اس میں آپ زیادہ تر متکلم کا ضمیر استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس فرق کی کیا وجہ ہے؟
ژولیاں: جی یہ شعوری ہے۔ جب بھی میں کوئی چیز لکھتا ہوں تو میں پہلے آزما لیتا ہوں کہ اس میں کون سے ضمائر بہتر ہیں۔ غائب میں لکھوں گا، حاضر میں یا متکلم میں۔ اور میں دیکھوں گا کہ کون سا ضمیر زیادہ جچتا ہے، یا کون سے ضمیر میں لکھتے ہوئے مجھے سہولت رہتی ہے۔ کس ضمیر میں لکھتے ہوئے میں محسوس کر سکتا ہوں کہ میں اپنے کردار کے ساتھ ہوں اور ہم ایک ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ متکلم کا صیغہ استعمال کریں۔ کیونکہ متکلم بڑا مبہم صیغہ ہے، یہ آپ کو بہت زیادہ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ پہلے غائب میں لکھا، بعد میں سارے کا سارا دوبارہ متکلم میں لکھا۔ میرا جی کے بارے میں جو میں نے لکھا، وہ میں نے ضمیر غائب میں لکھا تھا، وہ سب سے پہلے میں نے متکلم میں لکھا تھا۔ تو جب میں نے متکلم میں لکھا تو مجھے لگا کہ یہ تو سارا چربہ ہے ساغر کا۔ اب ساغر اور میرا جی میں کیا فرق رہ گیا۔ اور جب میں نے اس کو پڑھا تو مجھے لگا کہ یار دونوں کا انداز اور اسلوب ایک جیسا ہے ۔ میں کیا بیچ رہا ہوں ۔ تو پھر جب میں نے اس کو دوبارہ حاضر کے صیغے میں لکھا تو اسلوب خود بخود بدل گیا۔ تب ایک الگ آدمی بول رہا تھا، اور ایک الگ آدمی لکھ رہا تھا۔ آپ لکھتے ہیں، کہ آپ لکھ سکیں ایک بندے کی آواز میں۔ لیکن وہ آواز آپ پر اتنی زیادہ حاوی ہو جاتی ہے، آپ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہاں یہ مجہول اور مفعول کون ہیں، کیا چل رہا ہے۔ غائب میں لکھتے ہوئے پھر مجھے اندازہ ہوا کہ بس اب ٹھیک ہو گیا۔ لیکن ابھی بھی مجھے غائب کے صیغے سے کافی چڑ ہے۔ میں جعلی ضمیر غائب میں لکھتا ہوں، کہ آپ متکلم میں لکھیں، اور بدل دیں غائب میں۔ تو آپ کے جذبات ہوں گے متکلم والے، اور آپ غائب کے صیغے میں اس کو پڑھیں گے تو آپ کو بہت غیر آرام دہ سا، عجیب سا لگے گا، جو کہ میں چاہتا بھی ہوں۔ کہ غائب کا صیغہ آپ پر توازن اور غیر جانبداری مسلط کر دیتا ہے، متکلم کا صیغہ آپ پر جذباتیت مسلط کر دیتا ہے۔ آپ اس جذباتیت کو اس اعتدال میں بدل دیں تو عجیب سا لگتا ہے۔

 

لالٹین: اردو میں بھی شعر کہتے ہیں؟ اگر ہاں تو کچھ سنائیے گا؟
ژولیاں: جی اردو میں شاعری کرتا ہوں۔ (کتاب زاہد کھولتے ہوئے) کہیں سے بھی کھولیں؛
سورج طلوع ہوا،
اجالا دھڑکنے لگا،
جنگل میں نور کا سیلاب تھا
شجر اس سیل رواں میں غلطاں تھے
رات کے پرندے ان کی ذیلی شاخوں پر استراحت فرما رہے تھے۔۔ الخ
یہ شاعری نہیں ہے تو کیا ہے۔۔
آتشک اصل میں جنسیت ہی ہے، اور جنسیت سے ڈر رہے ہیں اردو والے، بہت سالوں سے۔ فیض کو پڑھو، راشد کو پڑھو، عورت کدھر ہے؟ عورت تو ہے لیکن اس کو سنگ مرمر میں ڈھانپا ہوا ہے۔ آپ کو جنسیت نہیں نظر آتی۔ ایک ہی شاعر نے جنسیت کے بارے میں لکھا۔ اور وہ تھا میرا جی۔

 

لالٹین: اردو شاعری میں جو رائج ہیئتیں ہیں، انہیں آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ژولیاں: توڑنا چاہیے سب۔۔ کس احمق نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ نثر لکھتے ہیں یا شاعری لکھتے ہیں، ہمارے ہاں مولئیر کا ایک پلے ہے، اس میں کوئی حریص قسم کا آدمی ہے۔ اس کے پاس ایک استاد آتا ہے اور وہ اسے شاعری اور نثر کا فرق بتاتا ہے۔ کہتا ہے کہ جب آپ بول رہے ہوتے ہیں تو نثر ہوتی ہے، جب آپ بحر استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو شاعری ہو گئی۔ اور وہ بندہ پریشان ہو جاتا ہے کہ میں تو نثر میں بول رہا تھا اتنے سال سے، اور مجھے پتہ نہیں تھا۔ شروعات میں تو میں باغی تھا، اب میں مانتا ہوں۔ موضوع خود تعین کرتا ہے ہیئت کا۔ ایک چیز مجھے بہت تنگ کرتی ہے، اور اس میں مجھے ماننا ہو گا کہ اس کی بہت گہری بنیاد ہے، اس کا ایک جواز ہے۔ اور وہ ہے غزل۔ یہاں میں تنگ آ جاتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر ساری ہیئتوں کو توڑنا ہے، اصناف سخن کو توڑنا ہے، ٹھیک ہے، لیکن غزل کو توڑا نہیں جا سکتا۔ پتہ نہیں کیوں۔ یہاں آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی چیز ہے کہ بالکل منظوم ہے، اس کی اپنی رسوم ہیں، بحر ہے۔ لیکن وہ آپ کو قید نہیں کرتی، آپ کو آزاد کر دیتی ہے۔ آپ کے سر پر لوہے کی ٹوپی رکھ دی جاتی ہے، غزل لکھتے ہوئے آپ بے وزن ہو سکتے ہیں، بڑے لوگ بے وزن ہوئے۔ آپ کی لی جاتی ہے اس میں، لیکن آپ آزاد ہو گئے اس میں۔ مجید امجد نظم لکھتے ہیں، کمال کی لکھتے ہیں۔ آج کل میں ان کو دوبارہ پڑھنے لگا ہوں۔ نظمیں بھی، اور غزلیں بھی میں پڑھ لیتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ غزل میں وہ پہنچے ہیں، ہر نظم میں نہیں پہنچے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ ان کی کوئی نظم کمزور ہے، یہ ممکن ہی نہیں ہے، ہر نظم کمال کی ہے، لیکن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ایک محور ہے جس کے گرد وہ یوں گھوم رہے ہیں۔ ان کی غزل میں اس کے درمیان میں ایک آگ سی محسوس ہوتی ہے، اور آپ اس کے بہت قریب آ گئے ہیں اور اس کی تپش محسوس کر رہے ہیں۔ الفاظ تپاں ہیں، لیکن خود آگ نہیں ہیں۔ یہاں غزل کے کنونشن اور ہیئت نے اس کو آزاد کر دیا ہے۔ کوئی بندش نہیں رہی، نہ تخیل پر نہ لفاظی پر۔ اس کی سوچ محدود نہیں رہی۔ جبکہ آزادی ان کی سوچ کو محدود کر دیتی ہے، گمراہ کر دیتی ہے، آپ بھٹکتے ہیں۔ جبکہ غزل آپ کو بھٹکنے نہیں دیتی۔

 

لالٹین: میرا جی پر آپ نے ناولٹ لکھا، ان کی شاعری پر اب تک بات بہت کم کی گئی ہے۔ زیادہ تر بات ان کی شخصیت پر کی گئی۔ آپ نے ان کی شاعری کو قریب سے دیکھا ہو گا، ان کی نظموں، غزلوں، گیتوں پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ژولیاں: ان کی شاعری کو پہلے میں بہت زیادہ مانتا تھا، اب میں اتنا نہیں مانتا۔ ان کی کلیات میں بہت اچھی نظمیں ہیں، بہت خوبصورت نظمیں ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت میرے لیے بہت کم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اختر الایمان جو ان کا ہم عصر ہے، ان کی شاعری بہت زیادہ بہتر ہے۔ سب لوگوں نے میرا جی کی شخصیت پر زیادہ بات کی ہے۔ اور یہ ان کی خواہش بھی تھی کہ ان کی شخصیت پر زیادہ بات ہو۔ وہ ڈرامے باز تھے۔ یہ بات مجھ پر ناولٹ لکھ چکنے کے بعد کھلی تھی۔
مستشرق کو رومانویت کے عہد نے پیدا کیا اور پروان چڑھایا تھا۔ یہ ماضی کا رومان ہے، مستشرق کو زبان میں مستقبل نظر نہیں آتا، ماضی ہی نظر آتا ہے۔

 

لالٹین: اب تک آپ کے کاموں کے بارے میں دو اہم تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ایک فہمیدہ ریاض بیگم کا اور دوسرا انتظار حسین صاحب کا۔ انتظار حسین صاحب نے مظفر علی سیّد کے اس قول کو ایضاً کیا جس میں انہوں نے میرا جی اور بودلیئر میں مشترک قدر “فرانسیسی بیماری” کا ذکر کیا تھا، لیکن آپ کے بارے میں مفصل بات کرنے سے انہوں نے گریز کیا ہے، انتظار حسین نے مظفر علی سیّد کے جس قول کو “ایضا” کیا ہے، آپ کے خیال میں وہ کیا چیز ہے جسے ہمارے بزرگ “بیماری” کہہ رہے ہیں؟
ژولیاں: فہمیدہ بیگم کا جو سب سے بڑا اعتراض تھا، وہ ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کی شکایت تھی کہ میں فرانسیسی ہوں۔ میں معافی چاہتا ہوں، یہ شکایت تو میں دور نہیں کر سکتا۔ انتظار حسین صاحب نے کہا کہ آپ نے ان کی شاعری کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب سال گزر گیا تو میں نے سکون سے بیٹھ کر ان سے کہا کہ انتظار صاحب، ‘میرا جی کے لیے’ میں میں نے ان کی تین نظموں کو ری کری ایٹ کیا، میں نے کوشش کی کہ وہ بھی کسی طرح اس میں آ جائیں۔ ‘لب جوئبارے’ بھی اس میں، پھر ‘سمندر کا بلاوا’ بھی ہے۔ ایک تیسری نظم کا نام مجھے بھول رہا ہے، جس میں وہ کوٹھے پر جاتا ہے، اور وہ خنجر استعمال کرتا ہے، اور لہو لہان ہونا۔۔ یہ سب میرا جی کا لکھا ہوا ہے۔ دوسرا میرا جی کی زبان کا تبدیل ہونا اس کے لباس کے ساتھ ساتھ۔۔ اردو کو ایک طرح سے ترک کرنا، اور ہندی سنسکرت کو اپنا لینا۔ اور ادھر ادھر اس کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے تو پڑھا نہیں ہے میرا جی کو، ورنہ انتظار حسین صاحب کو اشارے تو نظر آ جاتے۔
فرانسیسی بیماری کسے کہیں گے، آتشک وہ بیماری ہے جس سے سب ڈرتے ہیں، اسی سے بودلیئر اور میرا جی مرے تھے۔ آتشک اصل میں جنسیت ہی ہے، اور جنسیت سے ڈر رہے ہیں اردو والے، بہت سالوں سے۔ فیض کو پڑھو، راشد کو پڑھو، عورت کدھر ہے؟ عورت تو ہے لیکن اس کو سنگ مرمر میں ڈھانپا ہوا ہے۔ آپ کو جنسیت نہیں نظر آتی۔ ایک ہی شاعر نے جنسیت کے بارے میں لکھا۔ اور وہ تھا میرا جی۔ اور اس نے اعلان بھی کیا کہ میں جنسیت کے بارے میں ہی لکھتا ہوں۔ تو وہ ڈر گئے ہیں سارے۔ اور انہوں نے اسے بھی اسی کھاتے میں شامل کر لیا کہ یہ تو ذہنی مریض ہے، بلکہ جنسی مریض ہے۔ صحیح انگلی کرنے والے دو لوگ ہیں جو اس زمانے میں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے، اور ناپسند بھی کرتے تھے، منٹو اور میرا جی۔ منٹو نثر میں اور میرا جی شاعری میں۔ بعد میں جو بھی ہوا اردو میں، وہ تو ماضی کی طرف ایک مراجعت تھی۔۔ آپ دیومالائی قسم کی کہانیاں لکھیں گے، یا آپ میر جیسی غزلیں لکھیں گے۔۔ وہ تو مراجعت ہوئی، کس چیز سے آپ ڈر گئے ہیں؟ تقسیم سے نہیں ڈرے، بلکہ اس طوفان سے ڈرے جو کھڑا کیا
منٹو اور میرا جی نے۔
پہلے مشرق آپ کو مسحور کر لیتا ہے۔ پھر آخر میں وہ آپ کو اتنا بیزار کر دیتا ہے کہ آپ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ اور اس دشمنی میں آپ اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ کامیو کے کردار کی طرح آپ ایک عرب کو مار دیتے ہیں۔
ادب اور ادبیات کو بہت خلط ملط کیا گیا ہے۔ ادبیات ایک ادارہ ہے، ادب تو ایک سیّال چیز ہے۔۔۔ ادب کی بنیاد جو اس وقت مجھے نظر آ رہی ہے، وہ ایک ہی ہے، مراجعت ہے بلکہ تابو (taboo) ہے۔ تو کنی کترانے، اس پردے اور اس منافقت پر اس وقت ادب کی ساری عمارت کھڑی ہے کہ ہم اس کے بارے میں بات نہ کریں۔ اور اگر ہم بات کریں گے تو استعاروں تشبیہوں میں۔ جنسیات کی نفی پہ ادب کی ساری عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ یہاں آپ تضاد کو استعمال نہیں کر سکتے، دیکھیں جب لوگوں نے کہا کہ کمیونزم تو ختم ہو گیا، لیکن تب کمیونزم اتنا اہم نہیں تھا جتنا کہ کمیونزم کا بھوت، جو اب منڈلاتا رہے گا۔ اس کا نہ ہونا، اب ہمارے لیے اس کے ہونے سے زیادہ اہم ہو گا۔ ایک نظریاتی خلا جو پیدا ہوا ہے، سیاسی خلا ایک طرح کا۔ بالکل ایسے ہی، جنسیت کو آپ نے نکال دیا۔ لیکن جنسیت کا نہ ہونا آپ کو بہت تنگ کرتا ہے، اور آپ احساس کرتے رہتے ہیں کہ جنسیت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے آپ حظ انگیزی (Titillation) کی طرف آ جاتے ہیں، وہ بھی جنسیت کی ہی نفی ہے۔

 

لالٹین: ہم دیکھتے ہیں کہ جنسیت میرا جی کی شخصیت کا ایک بہت اہم پہلو ہے، جبکہ ساغر کی شخصیت وجودی سوالات کے گرد گھومتی ہے، جبکہ فرانسیسی ادبی روایت میں ہمیں یہی دو مرکزی خیال بہت بنیادی اہمیت کے حامل نظر آتے ہیں۔آپ نے اپنے سوانحی ناول لکھتے ہوئے میراجی اور ساغر کا انتخاب اسی روایت کے زیراثر کیا یا اردو شعراء کے باقاعدہ موازنے کے بعد آپ نے ان شخصیات کو منتخب کیا؟
ژولیاں: ہاں یہ میں نے خود ایک بیانیہ تشکیل دیا تھا، اور کچھ یوں بھی تھا کہ مجھے ان میں اپنے ادب کے کچھ لوگ نظر آئے، انیسویں صدی کے آخر کے ملعون شعراء۔۔ میرا جی اور ساغر جیسے ملامتی شاعر مجھے ایک طرح سے ان کے ہمزاد نظر آئے۔۔ لیکن یہ بیانیہ میں نے اپنی سہولت کے لیے بنایا۔ اب میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ بیانیہ بالکل بیوقوفانہ ہے۔ میں نے ان لوگوں کو چنا، جن کے بارے میں میں اس زمانے میں لکھ سکتا تھا کیونکہ وہ میرے ہمزاد تھے۔ وہ کسی بودلیئر، ویرلین، کسی رینبو کے ہمزاد ہوتے تو مجھے کسی طرح ان کے بارے میں لکھنے میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔ ان کا ملعون ہونا بھی مجھے بہت اچھا نہیں لگا، یا وہ میرے لیے کوئی قابل تحسین بات نہیں ہے۔ وہ میرے ہمزاد تھے اس زمانے میں۔ جب میں ساغر لکھ رہا تھا، تو میں جس فضا میں رہتا تھا، ساغر بالکل میرا ہمزاد ہو گیا تھا۔ اور میرا جی جب میں لکھ رہا تھا تو وہ بھی اسی طرح کی ایک صورتحال تھی۔ آپ کو ایک شخصیت چاہیے ہوتی ہے، جس کے توسط سے آپ کا کتھارسس ہو سکے۔ چونکہ میرے ناولوں میں ہمیشہ ان کے ساتھ برا ہوتا ہے، ہمیشہ مر جاتے ہیں۔ تو ساغر لکھتے وقت میری مرنے کی خواہش تھی اور تباہ ہونے کی بھی خواہش تھی۔ میں نے اچھی طرح سے اپنا کتھارسس کر لیا۔ میرا جی لکھتے ہوئے بھی مجھے آتشک زدہ ہو کر یا کسی بھی شدید بیماری سے مرنے کی خواہش تھی۔ پہلے تو میں خودکشی کا سوچ رہا تھا۔ پھر بعد میں میں نے سوچا کہ کسی اذیت ناک قسم کی بیماری سے مرنا بھی ٹھیک ہے، کہ آپ کے حواس ایک ایک کر کے کام کرنا چھوڑ دیں۔ منیر جعفری شہید جب میں لکھ رہا تھا تو میں قتل ہونا چاہ رہا تھا۔ تو یہ سب لاشعوری چیزیں تھیں۔
یہاں کے لکھنے والوں کے بارے میں ایک بات کہوں گا کہ اگر وہ اپنی سیاست بازیاں، انعامات کے پیچھے بھاگنا، جوڑ توڑ کرنا، لالچ میں رہنا چھوڑ دیں تو بقا حاصل ہو گی، ورنہ تو بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ انگریزی کے لکھنے والوں میں ایک بات ہے، وہ جس طرح کے ہوں گے، حریص ہوں گے، لیکن وہ دنیا کے ساتھ جڑے ہوں گے، اور وہ زیادہ روشن خیال بھی ہیں۔

 

لالٹین: آپ کے ہاں اردو کا جو رومان ہے، اس میں یہاں کی تہذیب، ثقافت اور لوگوں کا کس حد تک اثر ہے؟
ژولیاں: دیکھیں جب ہم کسی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں، ایک چادر تاننا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی سرا پکڑنا ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ زبان وہ سرا ہے۔۔ آپ جب وہ سرا کھینچ لیتے ہیں تو آپ کے پاس ساری چادر آ جاتی ہے۔ مذہب بھی، ثقافت بھی، معاشرہ بھی۔۔ مجھے لگتا ہے کہ ان سب چیزوں کی بنیاد وہ زبان ہے۔ حالانکہ وہ ان سب چیزوں کا نتیجہ ہونی چاہیے، لیکن مجھے الٹا لگتا ہے۔ مجھے ایک دروازہ کھولنا ہے اور میرے لیے اس کی کنجی کا نام ہے زبان۔ ایسا نہیں ہے کہ اردو سے بے پناہ محبت ہے یا یہ روسی اور فارسی زبان سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن اردو کی طرف مشتشرقین کے جھکاو میں اردو کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے، یہ اردو کی رومانویت ہے۔ مستشرق کو رومانویت کے عہد نے پیدا کیا اور پروان چڑھایا تھا۔ یہ ماضی کا رومان ہے، مستشرق کو زبان میں مستقبل نظر نہیں آتا، ماضی ہی نظر آتا ہے۔ یہ اس کا مشرق کے ساتھ رومان تھا، شاید اسی لیے اس نے مشرق کا رخ ہی نہیں کیا۔ ہمارے سنسکرت کے استاد کہتے تھے کہ وہ کبھی ہندوستان نہیں گئے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں ہندی اور بنگالی بولی جاتی ہے۔ اس لیے کہ انہیں یہ جان کر بہت افسوس ہوتا کہ سنسکرت کتنی بگڑ گئی ہے۔ گارساں دتاسی کا معاملہ بھی وہی ہے۔ اس کو اردو میں ایک خالص پن نظر آتا ہے۔ میں کوئی اور بھی زبان اختیار کر لیتا، لیکن مجھے اس وقت دو چیزوں کا احساس ہو رہا تھا۔ پہلے مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں فرانسیسی میں ہی لکھ لکھ کے خود کو دوہرا رہا ہوں، تو مجھے لگا کہ میں ایک الگ زبان میں لکھوں۔ اردو کی امیجری، اس کا مزاج، اس کا بیانیہ سب فرانسیسی سے مختلف ہے۔ تو آپ کو سب کچھ دوبارہ سے سوچنا ہوتا ہے۔ آپ اپنے پہلے لکھے ہوئے کا سہارا نہیں لے سکتے۔ آپ فصاحت کا سہارا نہیں لے سکتے۔ کیونکہ فصاحت تو ایک زبان تک محدود ہے، آپ دوسری زبان میں آ گئے ہیں تو جب تک آپ فصاحت کو پوری طرح نہ سیکھیں گے، آپ بھٹکتے رہیں گے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ تخلیقی رہیں گے۔ تو وہ زبان تو کوئی بھی ہو سکتی تھی، اور اس زبان کے اور میرے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہونا تھا، جتنا کہ اردو اور میرے درمیان۔

 

لالٹین: آپ نے کہا کہ مستشرقیت، رومانویت کے عہد کی پیداوار ہے، لیکن ایڈورڈ سیڈ اور بعد کے دانشوروں نے رد مستشرقیت کا جو خیال پیش کیا ہے، اس اور اس سے جنم لینے والے سیاسی بیانیے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ژولیاں: جب میں مستشرقیت کی بات کر رہا تھا، تو میں ایک خاص نسل کی بات کر رہا تھا، جو پہلی پہلی پود تھی۔ ان مصوروں اور سائنسدانوں وغیرہ کی پود جو نپولین کے ساتھ مصر گئے تھے۔ اور جب وہ تصویریں لے کے آئے مصر سے، تو وہ انتہائی رومانٹیک تھا۔ انہیں وہاں تحریک نظر آ گئی، روشنی نظر آئی۔ انہوں نے ایک دنیا دیکھی جو وقت سے ماورا تھی۔ تو بعد میں، مجھے لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ وہ رومانویت ختم ہو گئی تو انہوں نے ایک اور عجیب سا روپ دھار لیا۔ پہلے مشرق آپ کو مسحور کر لیتا ہے۔ پھر آخر میں وہ آپ کو اتنا بیزار کر دیتا ہے کہ آپ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ اور اس دشمنی میں آپ اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ کامیو کے کردار کی طرح آپ ایک عرب کو مار دیتے ہیں۔ عرب کدھر ہے؟! آپ نے ان کو نکالا ہوا ہے۔ اور عرب کہہ کے سب سے پہلے آپ نے انہیں اپنے بیانیے سے ان کو نکالا ہوا ہے۔ جو وہاں کے آبادکار ہیں، جو وہاں کی کہانی سناتے ہیں، جو مقامی لوگ ہیں، وہ غائب ہیں اس بیانیے سے۔ کتنا عجیب ہے۔ جیسے کامیو نے الجیرز کے بارے میں لکھا تھا، لوگ تو بالکل ناپید ہیں اس میں۔ عجیب ہے ناں؟ پہلے تو عرب تھے، فطرت تھی، خوبصورتی تھی۔ ایک صدی کے اندر اندر اس مشرقی سحر نے کیا روپ اختیار کیا ہے۔
پرانے مستشرقین کا سائنسی کام جو تھا، اس میں عمرانیات بھی ہے، انسانیات کا علم بھی ہے، نسل شناسی کے علم کی بھی شروعات انہوں نے کی وہاں، جو بعد میں بہت زیادہ بدل گئی۔ سائنسی کام میں مانتا ہوں کہ بہت بڑا ہے، وہ آئے تھے نوآبادیاتی نظام کے ساتھ۔ جب سائنسدان، نوآبادیاتی نظام کے ساتھ آتا ہے تو اس کا کیا کردار رہ جاتا ہے، یہ مجھے سمجھ نہیں آتا۔ باقی جو امیجری ہے، پینٹنگ کا کام ہے، یہ انیسویں صدی میں فرانس میں بہت ہوا۔ وہاں پہ تو مجھے بکواس نظر آتی ہے، تذلیل نظر آتی ہے۔

 

لالٹین: آپ خود کسی مستشرق قسم کے طلسم کے زیرِ اثر رہے ہیں؟
ژولیاں: ہاں شاید پندرہ سال کی عمر میں، کچھ مہینوں کے لیے۔ لیکن اس کے بعد جب آپ دستاویزی فلمیں دیکھتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، تو وہ سحر تو نہیں رہتا۔ تو حقائق آپ کے سامنے آ جاتے ہیں۔ مستشرقیت اس حقیقت کے ساتھ میل نہیں کھاتی جس میں ہم رہتے ہیں۔ جب میں پندرہ سال کا تھا، ایک پینٹر تھا اس زمانے میں، Geromeاور اتفاق سے وہ ایک مستشرق مصور بھی تھا اور اس نے کچھ سفر بھی کیا تھا، ترکی وغیرہ گیا تھا، اس نے کچھ پینٹگز بنائی تھیں۔ ان چیزوں نے مجھے بہت ذیادہ مسحور کیا۔ اب جب میں ان کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بہت بڑا تھئیٹر ہے۔ اس نے ایک ننگے آدمی کو لے لیا، اور اس کو مشرقی کپڑے پہنا دیے اور ایک اورئینٹل پینٹنگ بنا لی۔ اور یہ بھی دیکھیں ناں کہ جب میں بڑا ہوا تو اس وقت وہ اورئینٹ بھی نہیں رہا تھا۔ کیونکہ اس زمانے میں سیاسی نظام بالکل الگ تھا۔ اس وقت تو سلطنتیں تھیں، اس وقت تک وہ سب کچھ موجود تھا جو انہوں نے الف لیلہ میں پڑھا تھا۔ تو اورینٹل ازم کے ہونے کا امکان تو ختم ہو گیا۔ اگر اب مستشرقیت کے اوپر کوئی سوچ ہے تو وہ سامراجی سوچ ہے یا نسل پرستانہ سوچ ہے۔

 

لالٹین: پاکستان کے لوگوں، یہاں کے لکھنے اور پڑھنے والوں اور یہاں کے سماجی سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی امید یا کوئی خدشہ؟
ژولیاں: اس پر تو میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ یہی کہوں گا کہ تمام حالات، تمام امکانات موجود ہیں۔ لیکن کیسے ٹھیک ہو گا، یہ مجھے نہیں پتہ۔ میرے مشاہدے اتنے مختلف قسم کے ہیں۔ میں اگر صرف دو لوگوں سے ملا ہوتا تو شاید کوئی تبصرہ بھی کر سکتا۔ وہ لوگ جن پر عوام مشتمل ہے، ان کو مل کر پتہ چلتا ہے کہ یہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ تو لوگوں کے آدرش اتنے مختلف طرح کے ہیں، کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آگے کیا ہو گا۔
افسانے کے حوالے سے اب جو رجحان چل رہا ہے، ستر کی دہائی میں تو وہ نہیں تھا۔ چلو میں نے کل (لاہور ادبی میلے میں) علامتی افسانہ نگاری کو بہت برا بھلا کہا۔ لیکن اب اس کے بعد کوئی راستہ نہیں اپنایا گیا۔ اس کے بعد کیا چیزیں لکھی گئیں؟! بکواس!! مجھے بتائیں کہ پچھلے پچیس تیس سالوں میں کون سے بڑے افسانے لکھے گئے ہیں۔ بابوں نے لکھے ہیں، جو ایک ہی انداز میں پچاس سال سے لکھ رہے ہیں۔ تب علامت کے رجحان میں یوں تھا کہ تجربے ہو رہے تھے۔ تجربوں سے الفاظ کے نظام کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش تھی۔ وہ مجھے بہت حد تک انور سجاد کے افسانوں میں نظر آتی ہے۔ وہ ایک طرح سے صحیح انارکسٹ تھے۔ وہ انارکی اس کے بعد دیکھنے کو کہاں ملی؟!۔ ہاں، انیس ناگی بھی۔۔ آپ کچھ بھی کہیں، اس کے ہاں انارکی کی خواہش تو موجود ہے ناں۔۔ خواہش تو تھی۔۔۔
یہاں کے لکھنے والوں کے بارے میں ایک بات کہوں گا کہ اگر وہ اپنی سیاست بازیاں، انعامات کے پیچھے بھاگنا، جوڑ توڑ کرنا، لالچ میں رہنا چھوڑ دیں تو بقا حاصل ہو گی، ورنہ تو بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ انگریزی کے لکھنے والوں میں ایک بات ہے، وہ جس طرح کے ہوں گے، حریص ہوں گے، لیکن وہ دنیا کے ساتھ جڑے ہوں گے، اور وہ زیادہ روشن خیال بھی ہیں۔ قاری طبقے میں میں انگریزی والوں کا ساتھ دیتا ہوں۔ انگریزی میں اگر آپ کو گھٹیا قسم کا رومانس پڑھنا ہے، تو وہ جائیں ریڈنگز کے اسٹال پر دو کلومیٹر تک لگے ہوئے ہیں، انگریزی میں آپ پورنوگرافی لکھنا یا پڑھنا چاہتے ہیں، لکھیں، پڑھیں۔ اس کے برعکس اردو کے اسٹال پر جائیں، ڈائیوو کے اڈے پر۔۔ وہ کیا پڑھتے ہیں، فضول قسم کے مٹھی بھر ڈائجسٹ۔۔ کوئی پورنوگرافی اردو میں لکھ دے تو سب پریشان ہو جائیں گے۔۔ پچیس تیس روپے کی کتابیں ہوتی ہیں، گھٹیا سی بلیک اینڈ وائٹ چھپائی میں، فٹ پاتھ والوں نے چُھپا کے رکھی ہوتی ہیں، صرف شوقین لوگوں کو دیتے ہیں، پسند نہ آئے تو واپس لے کر، مزید دس روپے لیکر ساتھ میں ایک اور دے دیتے ہیں۔ یہ اردو کی ریڈرشپ ہے۔ اردو اور انگریزی کا قاری بٹا ہوا ہے، پھر پنجابی اور اردو کے قاری میں تقسیم ہے۔ کیوں بٹے ہوئے ہیں لوگ؟!