Categories
نقطۂ نظر

ستیارتھی ، ملالہ اور امن

پاکستان اور بھارت اپنے قیام سے لے اب تک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اوربدقسمتی سے اب تک دونوں ممالک میں اس جنگی جنون میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی ۔ ان ممالک کے بیچ جہاں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے وہیں ان ممالک میں غربت کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ صدیوں سے اکھٹے رہنے والوں کے درمیان نفرت کی لیکریں دن بددن گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ جہاں اس نفرت کی دیوار کو بڑھانے والے افراد موجود ہیں وہاں امن کے متوالے ان نفرتوں اور عداوتوں کے خلاف کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ہمیں اوسلو میں نوبل امن ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کیلاش ستیارتھی اور ملالہ یوسف زئی نظر آتے ہیں جن کو دونوں دیسوں کے کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن سکرین پر براہ راست دیکھا۔ یہ لمحات یقینا” قابل دید اور قابل ستائش تھے جنہیں شاید لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ایوارڈ دنیا میں غیر معمول کام کرنے والے افراد کو ہر سال دیا جاتاہے۔ 1903ء سے 2014ء تک 103شخصیات اور 25عالمی تنظیموں کو نوبل انعام سے نوازاگیا ہے۔ 17 سالہ ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیت بن چکی ہیں ۔ سوات کی ملالہ یوسف زئی کو عالمی شہرت بی بی سی اردو پر گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھنے پر اس وقت ملی جب طالبان نے سوات میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کرنے اور ان کو تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کیلئے گولی و بارود کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ اس وقت ملالہ نے ان دل خراش واقعات کو قلم بند کرنا شروع کیا اور تعلیم کے حق کے لیے آوازاٹھائی۔
طالبان کے خلاف آواز اٹھانے پر 9 اکتوبر 2012 کو طالبان دہشت گردوں نے ملالہ کی سکول وین پر حملہ کر دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔ انہیں علاج اور اپنی اور گھر والوں کی جان کے تحفظ کےلئے برطانیہ منتقل ہونا پڑا جہاں صحت یاب ہونے کے بعد وہ اب زیرِ تعلیم ہیں۔ دو بین الاقوامی اداروں نے ملالہ کے حالات و واقعات پر دستاویزی فلمیں بھی بنائی ہیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر لڑنا ہے تو غربت کے خاتمے کے لیے لڑنا ہے ، اب اگر جنگ ہو گی تو وہ جہالت ، پسماندگی اور ناانصافی کے خلاف ہو گی۔
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے گاؤں ودیشا میں 11جنوری 1954 کو پیدا ہونے والے کیلاش ستیارتھی نے 1990 میں بچوں کے حقوق کیلئے ایک سماجی تنظیم بچپن بچاؤ آندولن کے قائم کی اور بچوں کی مزدوری کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اس تنظیم نے 80 ہزار بچوں کو مزدوری سے ہٹا کر تعلیم کے زیوار سے آراستہ کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ نوبل ایوارڈ کی اس تقریب میں کیلاش نے کہا کہ ’ہر بچے کو پڑھنے اور بڑے ہونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے، اپنی مرضی سے ہنسنے اور رونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے اور انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس اشلوک پر کیا ’ہمیں جہالت سے علم کی طرف، اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھنا ہے۔ “جبکہ ملالہ نے اپنے خطاب میں دنیا کے طاقت ور ممالک اور طبقات سے یہ سوال کیاکہ ’ایسا کیوں ہے کہ بندوقیں بانٹنا آسان ہے اور کتابیں بانٹنا مشکل ہے، ٹینک بنانا آسان لیکن سکول بنانا مشکل ہے۔ ملالہ نے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں بلکہ ان بچوں کا ہے جو تعلیم چاہتے ہیں، ان خوفزدہ بچوں کا ہے جو امن چاہتے ہیں اور ان بےزبان بچوں کا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ملالہ نے کہا کہ ’یہ ان بچوں پر ترس کھانے کا نہیں بلکہ اقدامات کرنے کا وقت ہے تاکہ یہ وہ آخری وقت ہو جب ہم کسی بچے کو ناخواندہ دیکھیں۔ اپنے انعام سے ملنے والی رقم سے ملالہ نے ملالہ فنڈ کے تحت اپنے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس خوشی اور مسرت کے موقع پر ستیارتھی اور ملالہ کا یہ مشترکہ ایوارڈ اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ہر شہری کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ امن کی خاطر اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ جنگ کے طبل بجانے کی بجائے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مسائل کو بات چیت کے ذریعے مل بیٹھ کر حل کریں ۔ دونو ں قوموں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر جنگ کرنی ہے تو اس خطے کی محرومیوں کےخاتمے کے لیے اس خطے کے مسائل کے خلاف کرنی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر لڑنا ہے تو غربت کے خاتمے کے لیے لڑنا ہے ، اب اگر جنگ ہو گی تو وہ جہالت ، پسماندگی اور ناانصافی کے خلاف ہو گی۔ اگر واقعی ہم امن ایوارڈ لینے والوں کو داد تحسین دینا چاہتے ہیں تو اان امن پسند اقدامات کی طرف بڑھنا ہو گا اور اپنے اپنے دیس کے مقتدر طبقات کو قائل کرنا ہو گا کہ وہ امن کے راستے کی طرف اپنے سفر کا آغاز کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے

محمد فہداریبyouth-yell-inner1

دھواں چار سو پھیلا ہے۔ کچھ نہیں دکھتا کہ آگے کیا ہورہا ہے اور ہوگا؟ ہماری نگاہ یا بقول اقبال مردمومن والی قلندرانہ نگاہ زائل ہوچکی ہے اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے۔اس دھندلے منظر میں سکوت طاری ہے حالانکہ نوحہ گاہ میں یا تو شام غریباں منائی جاتی ہے یا پھر چٹانی حوصلہ اور عزم وہمت سے نئی تاریخ رقم کرنے کی تیاری کی جاتی ہے لیکن یہاں کون ہے جو کسی مرنے والے کا نوحہ پڑھے یا کسی کو بچانے کو علم برداری کرے۔ اب تک تو قرب و جوار میں کوئی حادثہ یا دھماکہ ہوتا تو پورا معاشرہ دکھاوے کو ہی سہی ہمدردی اور اظہار تعزیت کی رسم پوری کرتی مگر اب تو منظر بدل گیا ہے۔ اب جذبہ انسانیت بیمار پڑچکا اور ہمدردی و تعزیت کے سہارے کمزور پڑتے پڑتے معدوم ہو چکے۔ اب صبر کے پیمانے تب ہی لبریز ہوتے ہیں جب کوئی اپنا رشتہ دار یا دلدوز قومی سانحہ رونما ہوتا ہے۔

اول تو اس معاشرے میں کوئی صدائے حق بلند کرنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی بہادر نڈر شخص آگے آتا بھی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ خاموش تماشائی بجائے لب کشائی کے اس آواز کو دبانے اور فتوے لگانے کے لیے چوکس و تیار بیٹھے تھے۔غم منائے زمانے بیت گئے اور خوشی محسوس کیے مدت ہوئی۔ اب اگر کوئی کونے کھدرے سے کوئی خبر حاصل ہوبھی جائے تو اسےشرلاک ہومز کی شکی نگاہوں سےگھورا جاتا ہے۔ سنسان کھیل کے میدانوں سے لے کر اولمپکس کے خالی دستوں تک، کرپشن کی کہانیوں سے لے کر دھشت گردی کی کا رروائیوں تک ہم دنیا میں اپنی پہچان سے واقف ہیں، مگر حیرت ہے کہ کوئی شرمساری نہیں۔

ایک سولہ سالہ بچی جس نے معاشرے میں شدت پسندی کی بجائے امن و بھائی چارہ کی بات کی اور پہلی وحی کو مقصد حیات بنایا ۔ اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر، بے نظیر کی شال اوڑھ کر “تعلیم سب کے لیے” کا نعرہ لگایا اور فنڈ قائم کر کے کڑوروں روپے تعلیم کے لیے مختص کر دیے۔ ہم نے اسے ہی اپنا دشمن گردانا۔ اور اس پر سوالات و اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی کیونکہ بقول ہمارے سازشی تھیوریوں کے وہ ایجنٹ ملک و مذہب کا امیج خراب کر رہی ہے۔

اس بے یقینی اور ناآسودگی میں سینکڑوں سوالات، جن کا جواب فقط اتنا ہے کہ “جو کرا رہا ہے امریکہ کر رہا ہے”تمام حقائق کا گلہ گھونٹ چکے ہیں۔ ہم جس شاہراہ پر گامزن ہیں اس پر “غیر ملکی ہاتھ” نے فریبی سائے ہیں جس سے آگے”راستہ عارضی طور پر بند ہے” کا عنوان پیوست ہے۔ جس دن ہم نے اصلیت جانی اور اپنی کمزوریوں کا ٹھندے دل و دماغ سے جائزہ لیا ہم اس زہریلے دھواں کو زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وگر نہ کتے کی شہادت اور فتووں کے گورکھ دھندوں میں پھنس کر رہ جایئں گے، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔


انتباہ: مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
یوتھ یلزایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

پاکستان کے مداری

مصطفی کمالyouth-yell-inner1

جاوید چودھری پاکستان کے اردو صحافتی حلقوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا صحافی ہیں۔ فیس بک پیج پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد پانچ لکھ کے لگ بھگ ہے ۔جو واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ آں حضرت پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالم نگار ہیں۔

چوہدری صاحب اسلامی نظام حیات کے داعی ہیں اور اس کے مساوات اور برابری کے زریں اصولوں کی ترویج کرتے ہیں ۔ جب بھی یورپ جاتے ہیں تو وہاں کی ترقی کو اسلا می نظام کا مرہون منت قرار دیکر مسلمانوں کی زبوں حالی پر آنسو بہاتے ہیں اور اس شعرکی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کویورپ میں ، تو دل ہوتا ہے سیپارہ
موصوف کے مطابق انہوں نے چودہ سو کی نوکری سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر ایک اخبار میں کالم لکھنے لگے۔ کالم لکھنے سے انہیں اتنا فائدہ ہوا کہ انہوں نےاپنے ایک بھائی کے لیے کمپنی کھول دی ۔ دوسرے سال موصوف نے دوسرے بھائی کےلیے بھی ایک کمپنی کی داغ بیل ڈال دی۔ دونوں بھائیوں کو کمپنی سونپنے کے بعد جناب دوبارہ کالم نگاری میں مصروف ہوگئے اور تاحال یہی شغل فرما رہے ہیں۔

سوال مگر یہ ہے کہ کیا کالم نگاری سے اتنا پیسہ کمایا جا سکتا ہے کہ دو بھائیوں کے لئے کمپنی کھولی جا سکے ؟ یہی چوہدری صاحب اپنے ٹی وی شو زمیں سیاستدانوں کے اس بات پر لتے لیتے ہیں کہ وہ میریٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال جناب وہ مڈبھیڑ ہے جو ان کی سینیٹر فیصل رضا عابدی سے ہوئی۔ چوہدری صاحب کے اس اعتراض پر پروگرام کے دوران عابدی نےان کو کہا “تم خود تو پچاس ہزار کی ٹائی پہنتے ہو اور مجھ سے میرے خرچے کا حساب مانگتے ہو ” ایک صاحب اگر کالم نگاری کر کے دو بھائیوں کے لئے کمپنی کھول سکتے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک سیاستدان سیاست کرکے میریٹ ہوٹل میں قیام کر سکے اور ایک آدھ کمپنی کھول کے اس کا سربراہ بن جائے؟

موصوف طالبان کے کٹر حامیوں میں سے ہیں اور اوریا مقبول جان کی طرح پانچ سالہ طالبانی حکومت کو افغانستان کے سنہری ادوار میں شمار کرتے ہیں – موصوف ہر وقت قوم کے شاہینوں کو اخلاقیات کا درس دیتے رہتے ہیں ۔یہی اخلاقیات کے مبلغ کچھ عرصہ قبل اپنے ٹی وی کے دفتر میں اپنے ایک ساتھی اینکر پر بندوق لے کر حملہ آور ہوئے۔ اگرچہ یہ واقعہ پریس میں رپورٹ نہیں ہوا مگر کل تک پروگرام میں ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے اس بات پر چودھری کی خوب کلاس لے لی اور ان سے کہا کہ اخلاقیات کا جو سبق وہ دوسروں کو دے رہے ہیں وہ خود کو بھی اس سے بالاتر نہ سمجھیں

موصوف نے حال ہی میں ایک پروگرام مشرف کے کیسوں سے بری ہونے کے حوالے سے کیا – حیرت انگیز طور پر چودھری نے اپنے پروگرام میں مولانا عبدالعزیز کو مدعو کیا اور مولانا صاحب سے مشرف کے مستقبل پرتبصرے لیے۔موصوف کی علمی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسی پروگرام میں مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے یہ جھوٹا بیان داغ دیا کہ ستر کی دہائی میں جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا تو پاکستان آرمی کے تب کے بریگیڈیر مشرف نے خانۂ خدا کو قابضین سے چھڑوایا ۔ چودھری صاحب نے اس بیان پر سبحان اللہ کہنے کے بعد مشرف کو ایک اسلامی ہیرو قرار دیا اور مختصر سی بریک پر چلےگئے۔ وہ تو بھلا ہوا کہ بریک سے واپسی پر پاکستان آرمی کے ہی ایک اور ریٹائرڈ افسر نے اس واقعے کی تردید کر کے چودھری صاحب اور قصوری کی جہالت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

موصوف سائنس پر بھی بھرپور تبصرے فرماتے رہتے ہیں اور یورپ کی ایجادات و افکار کو مسلمانوں کی ذہنی کاوشوں کا چربہ قرار دیتے ہیں ۔ اپنے ایک آرٹیکل میں موصوف نے نیوٹن کے عمل اور ردعمل کے قانون کی جڑیں افغانستان میں پی جانے والی قہوہ اور اس کے بعد آنے والے پیشاپ میں ڈھونڈ نکالیں ۔اس آرٹیکل میں جناب لکھتے ہیں “نیوٹن زندگی بھر یہ حقیقت فزکس کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر افغان نیوٹن کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل نہ صرف اس حقیقت سے واقف ہو چکے تھے بلکہ یہ پیشاپ کو جواب چائے کا نام دیکر نیوٹن سے آگے نکل گئے ” ہمیں اس بات پر کسی قسم کا تعجب نہیں ہوتا جب مسلمان اس قسم کے دانشوروں کو پڑھ کر تمام ایجادات کو مسلمانوں کی مہربانی سمجھتے ہیں ۔

چوہدری صاحب شدّت پسندی اور جدّت پسندی میں حسین امتزاج پیدا کرنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ موصوف نے حال ہی میں ملالہ پر ایک آرٹیکل لکھ ڈالا ۔ آرٹیکل میں یہ قادیانیوں میں پاکستانیوں کو مساوی شہری حقوق حاصل ہونے کا انکشافی دعویٰ کیا، جبکہ اسی آرٹیکل کے شروع میں ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی اور آئینی طور پر غیرمسلم ہونے کا طعنہ بھی دے لیا، اور ان کی ناقدری ہونے پر اپنے لوگوں کی علم دشمنی کا ماتم بھی کر لیا، اور یورپ کی علم دوستی اور جوہر شناسی کے گن گانے لگے۔

جاوید چودھری ، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور اس قبیل کے دوسرے خود ساختہ دانشور ہی اس ملک میں پھیلی کئی ایک بیماریوں کے متعدی جراثیم ہیں ۔یہ لوگ لاکھوں جوانوں کے اذہان کی پراگندگی کے ذمہ دار بن رہے ہیں۔شاید انہی لوگوں کے بارے میں خلیل جبران نے کہا تھا “افسوس اس قوم پر جس کا فلسفی مداری ہو”۔


انتباہ: مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
یوتھ یلزایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

آگہی سے ڈرتے ہو

تحریر: تماشہ اور تماشائی111

یہ تحریر اوریا مقبول جان کے ایک نجی ٹیلی وژن چینل پر ملالہ سے متعلق گیارہ اکتوبر کو کئے گئے تجزیے کے ردعمل میں لکھی گئی ہے۔ اس تجزیے کے دوران انہوں نے کہا کہ ملالہ کو امن کی سفیر وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو عراق پر حملہ کرنے اور مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں، نوبل انعام کی حیثیت کچھ نہیں ہے، اس ایوارڈ کا مطلب قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
اکوڑہ خٹک کے ان علماء کے لئے بھی جو سمجھتے ہیں ملالہ مغرب کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے اور ان کے ایجنڈا پر ہے۔ عدنان رشید کے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جو کہتے ہیں کہ ملالہ جرات مند نہیں، وہ لوٹی تو اسے دوبارہ نشانہ بنائیں گے ۔ فیس بک پر ان سب تبصروں کے لئے بھی جو سمجھتے ہیں کہ ملالہ پاکستان کی بدنامی ہے، اور ملالہ ڈرون حملے میں زخمی ہوتی تو شاید اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا ۔ ان کے لئے بھی جو سمجھتے ہیں کہ گولی کھانے میں بھلا کیا ہے ملالہ نے خود اپنی مرضی سے تو گولی نہیں کھائی اور پھر یہ تو پاکستان میں یہ کون سی نئی بات ہے۔

آگہی سے ڈرتے ہو؟؟
صاحب!
وہ جو تاریک راہوں میں نہیں مارے گئے کیا وہ ذمہ دار ہیں ان کے جو تاریک راہوں کا رزق ہوئے؟ وہ جو زندہ رہ گئے ہیں ان سے مرجانے والوں کی لاشوں پر خراج مانگا جائے گا کیا؟ بہتر تھا کہ عیسیٰ ابن مریم کی صلیب کسی اورسے اٹھوائی جاتی خاص طور پر ان سے جو روم کے روساء کی امارت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ،اسے کیوں مسیح کہتے ہو ؟یہ کیسے مسیح ہو سکتا ہے اس کو تو تین سو برس بعد وہ لوگ مسیح کہیں گے جو آج اسے مصلوب کر رہے ہیں؟ گوتم کو نروان ملا تو برگد کے پتوں نے اعتراض کیوں نہیں کیا جاو بھئی نروان سے تمہارا کیا لینا دینا یہ تو ان کو ملنا چاہئے جو تمہاری راج دھانی کی ہر کونے میں اپنے پرکھوں کی طرح بیجائی کرتے ہیں، دھوپ سہتے ہیں، اور پسینے کی ہر بوند کے ساتھ اس دھرتی سے نروان کی فصل کا پھل پاتے ہیں؟ تم بدھا نہیں ہو تمہیں تو وہ لوگ بدھا کہہ رہے ہیں جو خود آگہی کے ہر دکھ سے محروم ہیں۔ کسی نے کیوں نہیں کہا کہ رسول اللہ !کیا کرتے ہیں؟ ان کو معاف کرتے ہیں جو آپ کے بعد کبھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوں گے، جو آپ پر پتھر برساتے رہے، جھوٹا کہتے رہے، جو آپ کے خانوادہ کو بھی نہیں بخشیں گے؟ کوئی کیوں نہیں تھا وہاں تیان من سکوائر پر جو سمجھاتا کہ اس ایک آدمی کی تصویر کیوں کھینچتے ہو ظلم کے خلاف تو بہت سے اور لوگوں کی تصویر کھینچی جاسکتی ہے۔ کہاں تھے وہ جو کہتے کہ لو بھئی جیل میں رہنے اور نظر بند ہونے سے بھی بھلا کوئی تبدیلی آتی ہے،جیل تو چور اور لٹیرے بھی جاتے ہیں پھر یہ جو کالے گورے کی تقسیم ختم کرنے کو تیس برس جیل میں رہا یہ کون سا کارنامہ ہے۔ مفت کا کھانا اور رہنا۔ اس میں کیا عظمت ہے؟ اور کیا ایک گولی کھانا بھی کوئی کارنامہ ہو سکتا ہے ؟ گولی بھی وہ جس کا چلنا اور پھر اس کے زخم کا مندمل ہونا دونوں ابھی تک مشکوک ہیں۔ اب بھلا اس ملک میں گولی کھانا بھی کوئی مسئلہ ہے۔ ہزاروں ہی ہیں جو مرتے ہیں مگر کسی فائل میں ، کسی اخباری تراشے میں اور کسی بریکنگ نیوز میں ان کے لئے تو کوئی تمغہ کوئی سند امتیاز نہیں، پھر ایک ملالہ ہی کیوں؟؟

مگر صاحب اگر یوں ہے تو پھر تاریخ کی کوئی عظیم شخصیت عظیم نہیں۔ وہ شخص جس نے پہلی بار آگ دریافت کی، جس نے سوچا کہ مجھے بنانے والا کون ہے، جس نے کہا کہ علم نیکی ہے، جو جنگ کریمیا میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، جو ملیشیا پہنتا ہے اور ایمبولینس میں لاشے، مریض اور زندگیاں ڈھوتا ہے، جس نے کہا کہ میں حق ہوں اور جس نے کہا کہ ہر شے پر شک ہو سکتا ہے مگر اس پر نہیں کہ میں شک کر رہا ہوں، جس نے خیال کو رنگ کی صورت میں غار کی دیوار پر ابھار دیا، جس نے کھیتی میں پہلا بیج ڈالا، جسے لگا کہ کھیتی کسان کی اور کارخانہ مزدور کا۔۔۔ جو اٹھا اور کہا کہ سیاہ رنگت کمتری کی علامت نہیں۔ جس نے دھوتی پہن کر ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی جو جیل میں رہے اور جیت گئے، جو انقلاب زندہ باد کہتا تھا اور شادمان چوک پر جھول گیا۔ جس نے پہلا حرف لکھا تھا۔ جو یہ سوچتا تھا کہ سمندر کے اس پار بھی کوئی نئی دنیا ضرور ہے۔ جس کے لئے زمین چپٹی اور کائنات کا محور نہیں تھی۔ وہ بھی تو جو بس کی سیٹ گورے کے لئے خالی کرنے کو تیار نہ ہوئی اور جو کہتی تھیں کہ وہ بھی ووٹ ڈالیں گیں؟ جس نے بھرے مجمع میں کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ پھریہ سب معمولی لوگ ہی تو تھے۔ لاکھوں جو ان کا نام لیتے ہیں ، ان کے دن مناتے ہیں ، اپنے کمروں کی دیواروں پر ان کے پوسٹر چپکاتے ہیں اور فیس بک وال پر ان کے اقوال اور تصاویر شئیر کرتے ہیں سبھی مغالطے میں ہیں۔نہیں سبھی مغالطے میں نہیں ؛ ان میں، مجھ میں اور آپ میں ایک فرق ہے، ان کے پاس ایک بڑا مقصد تھا اور ہمارے پاس ایک بڑی بے یقینی۔ صاحب ڈرئیے نہیں جب تاریخ لکھی جائے گی تو کسی گولی چلانے والے اور مایوسی پھیلانے والے کا نام بھی ملالہ ہی کے نام وجہ سے زندہ رہے گا۔۔۔۔

کون کس کا ساتھ دے گا یہ فیصلہ تو آج ہم سب نے کرنا ہے لیکن آنے والے زمانے کسے کس نام سے یاد رکھیں گے اس کا فیصلہ آج سچ کی حمایت کرنے والوں سے ہوگا، کیوں کہ ماتم حسین بھی کسی زینب کا محتاج ہے۔

مگر اس نام کے دیے جلانے والے اور شمعیں روشن کرنے والے کون ہوں گے اس کا فیصلہ تاریخ کر ے گی۔ کون کس کا ساتھ دے گا یہ فیصلہ تو آج ہم سب نے کرنا ہے لیکن آنے والے زمانے کسے کس نام سے یاد رکھیں گے اس کا فیصلہ آج سچ کی حمایت کرنے والوں سے ہوگا، کیوں کہ ماتم حسین بھی کسی زینب کا محتاج ہے۔ کسی حواری کو مخبری کی بھینٹ چڑھنے والے کے زندہ ہونے اور پانی پر چلنے کی کرامات کا بیان بھی تو کرنا ہے۔ کوئی تو ہو جو کنعان میں یوسف کے انتظار میں نابینا ہو جائے۔ اعتراف کرنے اور ایمان لانے کی روایت بھی تو کسی کو زندہ رکھنی ہے۔ کسی کو تو گولی کھانے والی کے استقلال کا ساتھ دینا ہوگا۔ مگر سچ کا ساتھ دینے کی روایت کو زندہ رکھنے والوں کو اپنے قبیلے کے ہر جرم کی صفائی کب تک دینی ہے؟ کب تک روایت کرنے والوں کی شناخت کی پرچیوں پر درج قومیت اور ولدیت پر بتایا جائے گا کہ کون مستند ہے اور کون غیر مصدقہ؟ تاریخ کے تعصب کا بوجھ کتنی نسلیں اٹھائیں گی؟کیا ملالہ کی تحسین کرنے والوں کا شجرہ دیکھ کر ان کی نیت اور مقصد کی پرکھ ہو گی؟ مانا کہ وہ مغرب جو ملالہ کے ساتھ کھڑا ہے اس کے ماضی میں نو آبادیاتی استحصال بھی ہے اور دو عالمی جنگوں کے کروڑوں مقتولین بھی۔وہ امریکہ بھی ہے جو سرخ امریکیوں کی نسل کشی سے تعمیر ہوا، جو عراق اور افغانستان پر فوج کش ہوا ۔لیکن ملالہ کو اعزاز دینے والا مغرب وہ مغرب ہے جہاں والٹئیر، روسو اور سارتر تھے، ہٹلر، مسولینی یا چرچل نہیں۔ میرے لئے امریکہ کی پہچان مارٹن لوتھر کنگ، ویت نام جنگ اور گوانتانا مو کے خلاف تحریکیں ہیں بل اور میلنڈا گیٹس فاونڈیشن ہیں، میرے لئے اسرائیل کی پہچان ایریل شیرون یا شیمون پیریز نہیں اسرائیلی یہودیوں اور ماوں کی وہ امن تحریکیں ہیں جو فلسطین کے ساتھ امن چاہتی ہیں۔ وہ یورپ امن، مساوات اور حقوقِ انسانی کے تصورات کا یورپ ہے جو صرف جنگی جنون کی حامل حکومتوں کا ہی نہیں دنیا کو امن دینے کی تحریکوں کا بھی وطن ہیں۔ کیا نوبل انعام صرف وہ ہے جو براک اوبامہ اور اسرائیلی وزراءاعظم کو ملا یا وہ بھی ہے جو نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھر کنگ، مدر ٹریسا، دلائی لامہ،آنگ سان سوچی، یاسر عرفات، شیریں عبادی، ٹی ایس ایلیٹ، رسل، ہیمنگوے، نجیب محفوظ، جوزے ساراماگو، مارکیز اور پابلو نیرودا کو بھی ملا ہے۔ ملالہ کی حیثیت کا تعین اس کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے ماضی پر نہیں ہوگا بلکہ یہ دیکھ کر ہو گا کہ بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے لئے کون کب کہاں اور کیسے اپنے حصے کی دشنام سمیٹ کر طعن و تشنیع کی سنگ باریوں اور سازشوں کے دھندلکے میں اپنے اور دوسروں کے لئے علم برداری کی صعوبت سہتا ہے۔

ملالہ کو اعزاز دینے والا مغرب وہ مغرب ہے جہاں والٹئیر، روسو اور سارتر تھے، ہٹلر، مسولینی یا چرچل نہیں۔ میرے لئے امریکہ کی پہچان مارٹن لوتھر کنگ، ویت نام جنگ اور گوانتانا مو کے خلاف تحریکیں ہیں بل اور میلنڈا گیٹس فاونڈیشن ہیں، میرے لئے اسرائیل کی پہچان ایریل شیرون یا شیمون پیریز نہیں اسرائیلی یہودیوں اور ماوں کی وہ امن تحریکیں ہیں جو فلسطین کے ساتھ امن چاہتی ہیں۔

اور اگر ملالہ پر تنقید اور اس کی پذیرائی سے انکار کی وجہ یورپ اور امریکہ کی تاریخ پر پڑے خون کے چھینٹے ہیں اور یورپ اور امریکہ کا ہر فرد اس کا ذمہ دار ہونے کے باعث کسی سازش کا حصہ ہے تو اپنے اجداد کی خونریزیوں کا حساب ہم سب کو بھی دینا ہوگا۔ وہ جو تلواریں اٹھائے ہندوستان پر چڑھ دوڑے، بحر ظلمات کے اس پار کی ہر بستی کو تاراج کرتے رہے وہ جو بغداد کے حرم آباد کرنے کو دشمن کی عورتیں غنیم کا مال بنا کر لے آئے، جو اسکندریہ کے کتب خانوں کو جلانے والے تھے جو آئے اور پانچ ہزار مندروں کو ڈھا کر ہندوستان کو کلمہ پڑھاتے رہے، جو ہر اختلاف کرنے والے کے منہ پر کفر تھوکتے رہے جو شہروں کے دروازوں پر پہنچتے تھے تو خوف وبا بن کر ہڈیوں کے ڈھانچ تک چاٹ گیا، وہ اسلاف کی میراث کون اٹھائے گا۔ ہلالی تلوار سے رستے لہو کے قطرے جو اگرچہ لال ہی ہے مگر بہانے کو جائز تھا اس کاخون بہا کون دے گا۔ کل کو اگر ہر کسی نے اپنے اپنے گڑے مردے اکھاڑ کر عدالتیں سجا لیں تو کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جس کے اسلاف کے ہاتھوں کسی دوسرے کے بڈھڑوں کی داڑھیاں خون سے تر نہ ہوں۔ کوئی ایک بھی نہیں ہو گا جس کے اسلاف میں لوٹی گئی اور لٹوائی گئی عورتوں کے دودھ کی کوئی دھار نہ ہو۔ اوریا صاحب اگر ہر یہودی اسرائیل کی ہر گولی کا ذمہ دار ہے تو پھر آپ بھی پرکھوں کے بہائے گئے خون کے ہر قطرے کے زمہ دار ہیں۔ اگر ہر امریکی بغداد کی عورتوں سے جنسی زیادتی کا ذمہ دار ہے تو پھر بنگالیوں کے ہاں نیلی آنکھوں والے بچوں کی ولدیت میں بھی پاکستانی مردوں کا نام لکھنا پڑے گا۔ اگر ہر یورپ واسی نوآبادیاتی استحصالی ہے تو پھر مال غنیم کی ایک ایک پائی ہم سے بھی وصول کی جانی چاہئے جس سے بغداد، دمشق اور بصرہ کی گلیاں آباد ہوئیں۔ پھر بنگال میں دھوتیاں کھول کھول کر مسلمانیاں سبھی نے جانچی ہیں۔ وہ ایک گولی جو سکول جاتی وین میں بیٹھی لڑکی کو لگی اس کا ٹریگر سب نے دبایا ہے۔ پھر مغرب کس مسلم دنیا کو جانے اور اس سے بات کرے؟ مغرب کیا طارق بن زیاد ، اسامہ بن لادن اور حکیم اللہ محسود کی مسلم دنیا سے بات کرے یا عبدالسلام، نصرت فتح علی خان اور ملالہ سے جو علم، فن اور تحریک کی علامت اور مغرب سے ہمارے رابطے کی بنیاد ہیں۔ خون کی لکیریں تاریخ میں ہر قوم ہر خطے ہر مذہب اور ہر انسان کے ہاتھوں پر ہیں اور انہیں ہاتھوں میں کتاب دینے کا خواب وہ واحد امید ہے جو اس دنیا کا مستقبل ہے۔ ملالہ نہیں ملالہ کا خواب اہم ہے جو سبھی کو لفظ سے روشناس کرانے کا ہے،جو ہر زبان سے “کُن” کی تکرار سننے کا ہے اور ہر “فیکون” کے معجزے کے اظہار کا ہے۔

اگر ہر امریکی بغداد کی عورتوں سے جنسی زیادتی کا ذمہ دار ہے تو پھر بنگالیوں کے ہاں نیلی آنکھوں والے بچوں کی ولدیت میں بھی پاکستانی مردوں کا نام لکھنا پڑے گا۔ اگر ہر یورپ واسی نوآبادیاتی استحصالی ہے تو پھر مال غنیم کی ایک ایک پائی ہم سے بھی وصول کی جانی چاہئے جس سے بغداد، دمشق اور بصرہ کی گلیاں آباد ہوئیں۔ پھر بنگال میں دھوتیاں کھول کھول کر مسلمانیاں سبھی نے جانچی ہیں۔

وہ معجزہ جو صرف امید کے بطن سے پھوٹتا ہے ، وہ امید جو ہر زمانے اور خطے میں چہرے بدلتی رہی ہے،جو آگہی اور زندگی کی امید ہے۔میرے زمانے میں ملالہ امید کا استعارہ ہے ان بچیوں کے لئے جنہیں بیٹوں کی چاہ میں پیدا نہیں ہونے دیا جاتا یا پیدا کیا جاتا ہے، ان ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بچیوں کے لئے جو کم عمری میں ماں بنتی ہیں اورسکول جانے سے محروم ہو جاتی ہیں، ان کے لئے جو جبری جنسی مشقت کے لئے استعمال ہوتی ہیں، ہر اس عورت کے لئے جو اپنی کفالت کے لئے مردوں کی محتاج صرف اس لئے ہے کیوں کہ وہ بچپن میں سکول جا کر پڑھ نہیں پائی، ان ساڑھے تین ارب عورتوں کے لئے جو س دنیا کا نصف ہوتے ہوئے بھی مواقع اور وسائل میں عورت ہونے کی وجہ سے پسماندہ رکھی گئی ہیں۔ ان سات ارب انسانوں کے لئے جو ایک بہتر دنیا کی امید رکھتے ہیں۔ کیا یہ کم ہے کہ امید ہے؟ اس دنیا میں جس کا بیانیہ، تاریخ اور رُخ مرد طے کرتے آئے ہیں ایک لڑکی نہیں ہر لڑکی کی اہمیت سے انکار کا رویہ ہے جو ملالہ اور اسکے خوابوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کا رویہ ہے۔ یہ ان مردوں اور عورتوں کا شکست خوردہ رویہ ہے جو زندگی کا سامنا اب صرف اس لئے کرنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں زندگی کے نام پر پھر سے انہیں دھوکہ نہ دے دیا جائے، آگہی کے نام پر تیرگی نہ مل جائے، جو ہر امکان سے اور ہر انہونی سے ڈرتے ہیں۔ دکھ تو یہ ہے کہ اب ہم سب ہر امید سے اور کسی خوش گوارساعت کی آمد سے بھی ڈرتے ہیں ۔ اس گھڑی کیا اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہیں۔ یہاں کسی کے لئے اب یہ کوئی بات ہی نہیں کہ وہ خوف زدہ اور اور سہمے ہوئے لوگوں کے بیچ بھی اپنی آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہے اور آج بھی جب لوگ شناخت دیکھ کر مارے جاتے ہیں تو وہ اپنی پہچان پر شرمندہ نہیں ،کہتی ہے کہ میں ملالہ ہوں۔ جہاں طاقتور اور لاکھوں ووٹرز کی حمایت والے طالبان کا نام تک نہیں لے سکتے وہ ایک بستہ اٹھا کر چند کتابوں کے حرف اپنا نے کے لئے ان کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے؟ جو پھیلے ہوئے ہاتھوں میں کتابوں کی خیرات بانٹنے کا سوچتی ہے؟ اس معاشرے میں جہاں گولی کی آواز تو کیا گولی چلنے کے امکان پر ہی لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر کنڈیاں چڑھا لیتے ہیں، رات پڑتے ہی گلیوں میں قدم رکھتے ڈرتے ہیں وہاں گولی کھانے والے ہی امید کی کرن ہوتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ایک ٹوٹتے وطن کی تعمیر اور اندھیرے میں خواب دیکھنے کی کوشش کرنے والے آنکھیں کھولنے کی جرات کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سب نے آنکھیں اندھیرے سے ڈر کر نہیں روشنی سے گھبرا کر بند کر لی ہیں۔ایسے میں اگر ملالہ خواب دیکھتی ہے تواس شہرِ آشوب میں ہمیں اس سے زیادہ کچھ اور نہیں چاہئے۔


Categories
اداریہ

عبدالسلام سے ملالہ: قومی ناقدری کا شرمناک تسلسل

جلد ہی اس سال کے امن کے نوبل انعام کا اعلان ہونے جارہا ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ کوئی پاکستانی اس انعام کے اہم ترین حق داروں کی فہرست میں ہے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر تمام پاکستانیوں کو فخر ہونا چاہیے۔
تاہم اس تاریخی موقع پر قومی یک جہتی اور خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملالہ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے پر نالاں ہے۔ میڈیا اور رائے عامہ میں ایک واضع دراڑ ہے اور کئی عظیم ‘اصحاب رائے’ چپ سادھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ملالہ کی مخالفت کرنے والوں میں کئی ایسے گروہ بھی ہیں جو اپنی تنقید میں اخلاقیات اور عقل سلیم کی پست ترین سطح پر اترے ہوئے ہیں۔ ملالہ کی مخالفت کرنے والے عمومی طور پر دو قسم کی وجوہ کو بنیاد بناتے ہیں۔
امن کے نوبل انعام کی سیاست اپنی جگہ، یہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔
پہلی قسم میں ملالہ پر ہونے والے حملے اور اس میں طالبان کی شمولیت سے انکار کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس پورے واقعے سے انکار کے لیے اس کی جملہ تفصیلات کو غلط ثابت کرنا پڑتا ہے لہذا سازشی مفروضوں کی کئی کڑیاں جوڑی جاتی ہیں جنہیں جھوٹے واقعات، بیانات اور تصویروں کی مدد سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر معروضی انداز میں اس سارے بیانیے کو شروع سے آخر تک دیکھا جائے تو فوراً اس کی صداقت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ دنیا بھر بشمول پاکستانی میڈیا کے کسی بھی معتبر ذریعے نے اتنی بڑی “سازش” کو بے نقاب کیوں نہ کیا۔ درحقیقت مکمل حقائق جانے بغیر ملالہ کے واقعے کو فراڈ ثابت کرنے کی کوشش کرنا جہالت اور اوہام پرستی کی ایک شرمناک مثال ہے۔
دوسری قسم کی مخالفت کی جڑیں پاکستان میں کئی دہائیوں سے پنپنے والے انتہا پرستانہ بیانیے میں ہیں۔ اس بیانیے کی کئی شکلیں ہیں جنہیں مختلف سیاسی جگادری اور رائے عامہ کے تخلیق کار اپنی اپنی سیاسی و مالی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ اس بیانیے کا جو حصہ ملالہ کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کے مطابق دنیا کے تمام ممالک مذہبی طور پر کچھ یوں منقسم ہیں کہ ان کا کسی ایک مسئلے پر متفق ہو جانا ممکن نہیں۔ اگر کہیں ایسا اتفاق ہوتا نظر آئے تو یقیناً یہ یہود و نصاریٰ کی کوئی سازش ہے۔ اور اگر وہ ایک دفعہ سازش کی موجودگی کی بُو پالیں، تو پھر بعد کے تمام حقائق کی وضاحت اس پہلے سے فرض کر لیے گئے نتیجے کے مطابق ہوتی ہے۔
آج 34سال بعد پاکستان کو سائنسی تحقیق کے بعد فروغ امنِ عالم کے زریں ترین تمغے سے نوازے جانے کی امید نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی قوم ایک بار پھر اس عزت یابی پر شرمسار اور پریشان نظر آ رہی ہے۔
ملالہ کی جرات، قابلیت اور مساعی پر دنیا بھر سے اتنے انسانوں اور لیڈروں کا متفق ہونا نا تو محض اتفاق ہے، نہ ہی کسی سازش کا نتیجہ۔ یہ بات درست ہے کہ بڑے عسکری تنازعات میں کئی لوگ اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں اور بہت سے جرات کا مظاہرہ کر کےبڑی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اتنی کمسنی میں کسی ایسی جنگ میں شعوری طور پر واضح موقف لے کر ڈٹ جانے کی کتنی ایک مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اینےفرینک اور ریشل کوری کے علاوہ کوئی اور نام ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے۔
امن کے نوبل انعام کی سیاست اپنی جگہ، یہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔ کیونکہ یہی قوم جو کبھی تو وقت بے وقت ایدھی صاحب اور کبھی کسی اور کے لیے نوبل انعام کی مہم چلاتی رہی ہے، آج اس انعام کو اتنا قریب دیکھ کر خاموش کیوں ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ ملالہ پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ لیکن ملالہ کے مسئلے میں ساری دنیا کے مخالف اپنی بدنامی کے ڈر سے اس معصوم بچی پر انگلیاں اٹھانا اصل بدنامی ہے۔
دنیا بھر میں لوگ انسانیت کی خدمت میں اپنی قومی حصہ داری کی داد پانے کے لیے اپنے ہم وطن نوبل انعام یافتگان کو قومی سرمایہ افتخار قرار دیتے ہیں۔ آج 34سال بعد پاکستان کو سائنسی تحقیق کے بعد فروغ امنِ عالم کے زریں ترین تمغے سے نوازے جانے کی امید نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف  پاکستانی قوم ایک بار پھر اس عزت یابی پر شرمسار اور پریشان نظر آ رہی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم تاریخ  سے سبق سیکھیں گے یا پھر اپنے ہیروز کی ناقدری کی تاریخ دہراتے رہیں گے؟