Categories
شاعری

شکاری چینل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شکاری چینل

[/vc_column_text][vc_column_text]

فضاؤں میں بارود اور فاسفورس کی بو تحلیل ہو کر
مٹیالے غبار کی صورت اوپر کو اٹھتی ہے
جمے ہوئے خون اور جلتے گوشت کی چراند
کہیں سے آ رہی ہے جیسے یہ باس دماغ میں بس گئی ہے
کچھ دن سے کسی خود کش بمبار نے دھماکا نہیں کیا ہے
کوئی نئی اور سستی سنسنی خیز خبر کے انتظار میں
سادیت پسند شہری جماہی لیتے ہوئے چینل بدل رہا ہے
شکاری چینل کو اپنی ریٹنگ کی فکر ہے
کسی مارننگ شو کی پریزنٹر کی بے ہنگم ہنسی کا تسلسل
کراہتے چیختے زخموں کو چھیلیتی سی محسوس ہوتی ہے
لہجوں میں تھکن اترتی چلی جاتی ہے
مگر طوفان ہاؤ و ہو میں شل ہوتے اعصاب کا پتا نہیں چلتا
جیسے کسی جنگل میں جا نکلے
گیڈر وں کی اونچی آوازیں
اور بھی تیز اور تیز ہوگئی ہوں
جھینگروں کا شور اور بہتے جھرنوں کی مدھم لہریں مٹ چکی ہیں
بس سرسراتے سانپوں کی لپلپاتی زبانیں
تہذیب کے سینے سے گرتا لہو چاٹ کر
اور بھی توانا ہوتی جا رہی ہیں
پھر خاموشی سی چھا جاتی ہے
گہرا سکوت جیسے طوفان کی آمد سے پہلے شور تھم جائے
یکایک
سناٹا تڑاخ کی آواز سے چٹخ جاتا ہے
زناٹے دار تھپڑ کی بازگشت فضاء کو چیر جاتی ہے
ایکبارگی ہر طرف سکتہ چھا گیا ہے
مگر سرگوشیاں پھر سے تیز ہونے لگتی ہیں
کانٹوں بھری زبان
یہی ہونا چاہئے تھا اس کے ساتھ
نہیں نہیں کچھ بھی ہے
چہرہ تو پھول جیسا ہے
، عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتے
پھر سب کچھ گڈ مڈ ہونے لگتا ہے
سادیت پسند شہری
تھپڑ والا منظر ریوائنڈ کر کے دیکھتا ہے
شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے
تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں
اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
قدیم دیو مالائی چینل دیکھنے لگتے ہیں

Image: Sabir Nazar
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

شُتر بے مہار پاکستانی میڈیا

پاکستانی میڈیا کی رپورٹنگ ، خبریں پیش کرنے کے انداز اور بریکنگ نیوز کی بے نتیجہ دوڑ کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرز صحافت کی ستائش نہیں کر سکتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اس قدر آزاد ہوگیا ہے کہ صحافیانہ قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر حساس مسائل کی غیرذمہ دارانہ کوریج کررہا ہے ۔ یہ رحجان کوئی بھی صحت مند معاشرہ قبول نہیں کرسکتا۔ میرے خیال میں پاکستانی میڈیا نے ہندوستانی میڈیا کا اثر ضرورت سے زیادہ قبول کرلیا ہے۔ جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
ابھی چند ماہ قبل پاکستان کی ایک مشہور ماڈل ایان علی کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی تو تمام چینلوں پر آیان علی کی خوش روئی کے چرچے نظر آنے لگے۔ کوئی پوچھے کہ کیا ملزم کی خوبروئی بھی کبھی بریکنگ نیوز ہوئی ہے؟
جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
کیا یہ بھی خبر ہے کہ آیاجیل کے اندر بیوٹی پارلر کی سہولت موجود ہے یا نہیں؟
روزانہ کی میڈیا کوریج ” پروٹوکول “بن چکی ہے اور ایک قبیح جرم ”کارنامہ” بن گیا ہے۔
عدالت میں پیشی ”بریکنگ نیوز” اور جیل کی زندگی ”ایڈونچر”۔
ایسے جرائم کی بیخ کنی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے میڈیا نے آیان علی کا جُرم نظرانداز کرکے اُن کے بناو سنگھار، تراش خراش اور وضع قطع کو اپنا موضوع بنائے رکھا۔
میڈیا کا یہی دُہرامعیار پاکستان میں بااثر مجرموں کے تحفظ کا سبب بنتا ہے۔
امیر پکڑا جائے تو پروٹوکول اور غریب پکڑا جائے ، تو چھترول ۔
پھر بھی ہمارامیڈیا گلا پھاڑ پھاڑ کر حیرت سے پوچھتا ہےکہ پاکستان میں اتنی کرپشن کیوں ہے، پاکستان میں اتنی بدامنی کیوں ہے؟اس کا علاج کیا ہے؟
رہی سہی کسر انعام گھر جیسے پروگراموں نے پوری کردی،اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروڈیوسر صاحبان ایسے پروگراموں میں ہندوستان کی نقل اُتارنا کیوں بھول گئے؟ ذہنی صلاحیت کی بُنیاد پر لوگوں کو مقابلے کی دعوت دینے کی بجائے بیہودگی اور سطحیت میں بازی لے جانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ مقابلے اور صلاحیت کے امتحان کی بجائے جو جتنا بڑا خوشامدی ہے وہ اتنے ہی بڑے انعامات لے کر جارہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ٹی وی چینلوں کا انعام بانٹنے اور ذہنی آزمائش کا وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جس سے پروگرام کے شرکاء اور ناظرین فیض یاب ہورہے ہیں؟ ایسے پروگراموں سے تو طارق عزیز کا نیلام گھر ہزار درجے بہتر تھا جہاں لوگ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کار کا انعام جیت کر اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ ایسے پروگرام واقعی معاشرے میں علم کی اہمیت کے فروغ کا باعث بنتے تھے۔
جنرل مشرف کے دور میں جب میڈیا آزاد ہوا تو پورے ملک میں تبدیلی کی لہر اُٹھی۔ ہم نے دیکھا کہ ججز بحالی کی تحریک میں ٹی وی چینل پیش پیش تھے۔ اپنی رپورٹنگ کے باعث میڈیا نے پاکستان کے چوتھے ستون کا مقام حاصل کرلیا تھا۔ لیکن یہ اتحاد بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ کچھ خفیہ طاقتوں نے لڑاؤ اور تقسیم کرو کے اُصول کو اپنایا اور میڈیا کو بڑی آسانی سے تقسیم کردیا۔ کچھ ٹی وی چینل تو حریف چینلوں کی ضد میں ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ہ اُن کا بس نہیں چلتا تھا کہ مخالف ٹی وی چینل کی نشریات ہی بند کروادیں۔ وہ میڈیا جو اپنے آپ کو اس ملک کا چوتھا ستون کہلواتا تھا اسے سبق سکھانے اور اس کی “اوقات “یاددلانے کے لیے سب سے پہلے جیو ٹی وی کو چُنا گیا جو پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے۔ اُسے دیوار سے لگادیاگیا، اخبارات کی ترسیل روک دی گئی، پورے ملک میں جیوٹی وی کی نشریات کا بائیکاٹ کروایا گیا۔ چند نامعلوم افراد نے کیبل آپریٹرز کو یوں رام کیا کہ کیبل آپریٹر جیو کا نام سُن کر ہی اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے تھے۔ جب جیو اور جنگ گروپ کی انتظامیہ کی طبعیت قدرے بہتر ہوگئی تو اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی گئی لیکن ساتھ ہی ایک سُرخ لکیر بھی لگا دی گئی کہ خبردار اس لکیر کو عبور کرنے کی کوشش نہ کرناورنہ۔۔۔
اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں
بظاہر آزاد نظر آنے والا میڈیا کچھ موضوعات پر خاموش ہے، اب پہلے کی سی بے باکی اور حق گوئی نظر نہیں آتی کیونکہ میڈیا گروپس کو سمجھا دیا گیا ہے کہ آپ کی حدود اتنی ہیں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے۔ ہمیں برما کے مُسلمانوں کا تو بہت درد ہے اور ہر درد دل رکھنے والے مُسلمان کو ہونا بھی چاہیے۔ لیکن جو آوازیں برما کے مُسلمانوں پر ظلم کے خلاف بُلند ہورہی ہیں جانے کیوں اُنہیں پاکستان میں تین عورتوں اور ایک بچی سمیت زندہ جلائے جانے والا احمدی خاندان کیوں نظر نہیں آیا؟ اُنہیں ہر روز ہزارہ برادری کے گرتے لاشے کیوں نظر نہیں آتے؟ اسی ملک میں اسماعیلی کمیونٹی کے ڈیرھ سوسے زائد مرد وزن کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن کسی ٹی وی چینل نے اپنے لوگو کو سیاہ رنگ دینا مُناسب نہ سمجھا۔ اس ملک میں ماما قدیر چند عورتوں اور ایک سات سالہ بچے کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا پُرامن احتجاج کرتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا اُسے بالکل نظر انداز کرتا ہے ۔ صرف ایک حامد میر نے جرات کی تھی تو اُس کے پیٹ میں بھی پانچ گولیاں اُتار دی گئیں اور باقی سب دبک کر بیٹھ گئے۔ دیکھا صرف یہ جارہا ہے کہ کونسی چیز بک رہی ہے۔ غلط یاصحیح کی بحث سے قطع نظر بس سودا بکنا چاہیئے بھلےساری اخلاقی، معاشرتی اور صحافیانہ اقدار کو بالائے طاق رکھنا پڑے۔
اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے
پچھلے دنوں پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد تربیت کے لیے امریکہ گیا۔ تربیت کے دوران ایک صحافی نے امریکی اہلکار سے پوچھا کہ آپ کے ہاں روزانہ کتنی بریکنگ نیوز چلتی ہیں؟ امریکی اہلکار حیرت سے اس صحافی کا منہ تکنے لگا۔ اُس نے کہا میں معذرت خواہ ہوں ہمارے ہاں تو مہینے میں ایک یا دو بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔ وہ پاکستان صحافی کہنے لگا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا کہ ہمارے ہاں تو کسی سیاسی لیڈر کے ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو وہ بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔
آخرکبھی نہ کبھی تو حکومت اور صحافی برادری کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ایک ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا تاکہ معاشرے میں مثبت صحافتی اقدار فروغ پاسکیں تاکہ کم از کم ہم نہیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہی کچھ اچھا دیکھ سکیں۔
Categories
نقطۂ نظر

تمہارے اتنے سوالوں کا ایک جواب

جعلی ڈگری اسکینڈل پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیاہے، وزیر داخلہ نے انٹر پول اور ایف بی آئی سے بھی مدد مانگ لی ہے اور فرمایا ہے کہ میڈیا کسی کے پیچھے لگ جائے تو اسے اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ واقعی اس میں کوئی شک نہیں، میڈیا سے وابستہ ہوئے مجھے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن کئی اتار چڑھاو ضرور دیکھ رکھے ہیں۔ مگرجو ہڑ بونگ اس بار دیکھی ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ میرا پہلا ادارہ جیو تھا جہاں میں نے ڈھائی برسوں میں ہر اس شخص کے ساتھ کام کیا جس نے جیو کو بنایا اور اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ تجربے اور قابلیت میں ہر وہ شخص جو اس ادارے سے وابستہ رہا میرے کام میں مددگار رہا۔ صحافتی ذمہ داریاں کیسے ادا کرنی ہیں یہ میں نے جیو ہی سے سیکھا ہے۔ وہاں کا پروڈیوسر ہو یا ذمہ داریاں تفویض کرنے والا اسائمنٹ ایڈیٹر (Assignment Editor)میں نے سب سے بہت کچھ سیکھا ۔ پھر بھی میں کھلے دل سے تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے صحافی میرے کیمرا مین نے بنایا۔ کیمرا مین ہی میری طاقت بنے۔میں کسی مشکل میں پھنستی تو اس بچے کی مانند اپنے کیمرا مین کو دیکھتی جسے پانی کی گہرائی میں اتارا گیا ہو اور اسے ابھی ٹھیک سے تیرنا بھی نہ آتا ہو، اس کڑے وقت میں میرا کیمرا مین چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ کہتا ” میرے ہوتے ہوئے تمہیں فکرمند ہونے کی کیا ضرورت ہے” ۔یہ ایک جملہ میرڈھارس بھی تھا اور ڈھال بھی۔
ہمارے ادارے کا لوگواور ڈی ایس این جی وین دیکھ کر ہمارے خلاف نعرے بازی کی جاتی تھی تب مجھے متعدد بار کہا گیا کہ یہ چینل چھوڑ دو لیکن میرا ایمان تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں میں اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتی
اس بے لگام میڈیا میں جہاںمیرے کئی استاد ہیں وہیں فیلڈ میں کام کیسے اور کس طرح کرنا ہے یہ میرے کیمرامین نے مجھے سکھایا۔ شفٹ ختم ہونے کے بعد بھی میرے ساتھ کام کرنے والے کیمرا مین نے اپنے اوقات کار مکمل ہوجانے کے باوجود میرے ساتھ کام کیا۔ میں نہیں بھول سکتی وہ وقت جب پی ٹی آئی کی جانب سے شاہراہ فیصل پر مجھ سمیت دیگر ساتھیوں کو تحریک انصاف کے بلوائیوں نے بوتلوں، پتھروں اورمغلظات کا نشانہ بنایا، جب میرے ادارے یہاں تک کے میری ذات اور میرے والدین تک کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے اس وقت بھی میرا کیمرا مین مجھے یہ کہتا رہا کہ پریشان نہیں ہونا میں یہاں کھڑا ہوں تم نے ہمت نہیں ہارنی۔ میرے پروڈیوسر جو محفوظ جگہ پر تھے میری وجہ سے اس مقام پر آئے جہاں میں موجود تھی میرے رپورٹرنے بھی میرا ساتھ دینے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا۔ میرے اہل خانہ نے یہ مناظر براہ راست دیکھے تو میری ماں کو کیا محسوس ہوا ہوگا یہ آپ بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کٹھن گھڑی میں بھی میرے گھروالوں کا کہنا تھا کہ سدرہ اکیلی نہیں ہے اس کی ٹیم اس کے ساتھ ہے تو اسے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ وہ اعتبار، اعتماد اور بھرم تھا جو میرے رفقائے کار نے میرے گھر والوں کو اسی دن دیا تھا جب میں نے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ جب جیو نے فوج کوللکارا ، جب سب چینل ایک طرف تھے اورہم اکیلے ایک طرف، جب ایک سیاسی جماعت ہمارے خلاف زہر اگل رہی تھی ، جب ہماری نشریات بند کی گئیں تب بھی ہم نے فیلڈ میں اسی طرح کام کیا۔ ہمارے ادارے کا لوگو(logo) اور ڈی ایس این جی وین دیکھ کر ہمارے خلاف نعرے بازی کی جاتی تھی تب مجھے متعدد بار کہا گیا کہ یہ چینل چھوڑ دو لیکن میرا ایمان تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں میں اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتی۔
جب بول کے آنے کا چرچا ہوا ابلاغیات کی صنعت کے کئی بڑے اور معتبر نام اس ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ ان ناموں کے بول سے وابستہ ہونے کی کئی وجوہات تھیں، سب سے بڑی وجہ یہ کہ لوگ کھل کربولنا چاہتے تھے، دوسری وجہ ان کا یہ ماننا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ مالکان کا رویہ نامناسب اور استحصالی ہے وہ صحافی کو اس کا جائز حق نہیں دے رہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ میڈیا میں کام کرنے والے کئی ہزار ملازمین کی تنخواہیں کئی برسوں سے نہیں بڑھیں، اس پر مستزاد یہ کہ قلیل تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔یہ انتظار ان ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے شب وروز اور زندگیوں کو جس طرح متاثر کر رہا تھا اس سے مالکان آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ جب کوئی صحافی، کیمرا مین یا عملے کا کوئی اور رکن اپنی عرضی لیکر مالکان کے پاس جاتا تو اسے یہ کہا جاتا کہ ادارہ اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے وہ تنخواہ وقت پر ادا نہیں کر پارہا ۔ ایسے میں تنخواہ بڑھانے کا تقاضا سراسر بیوقوفی ہے، لیکن جب ملازم دیکھتا کہ اینکرز کی مراعات میں اضافہ ہورہا ہے، نئے لوگوں کو مارکیٹ سے دگنے داموں خریدا جارہا ہے، خوشامدی ٹولے کے پیسے بڑھا کر پارٹیاں کی جارہی ہیں تو وہ سوچتا کہ اس کی حالت کون بدلے گا؟ بول نے جب یہ نعرہ لگایا کہ وہ صحافی کو جینے کا حق دےگا اور سب سے بڑھ کر وقت پر تنخواہ دے گا تو میڈیا مالکان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ملازم بھی ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے لگا۔ ہر شخص کو جینے کا حق ہے، ملازم کوبھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا سوچے۔ مالک اگر اپنے بچوں کے لیے عالیشان گھر، آسائشیں اور مراعات وراثت میں چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو ایک عام ملازم بھی کرائے کے مکان سے نکل کر ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے، اپنی اولاد کو بیرون ملک نہ سہی اسی ملک میں اچھے اسکول، کالج سے پڑھانا چاہتا ہے۔ وہ مالک کی طرح ڈالرز یا اربوں روپے بیرون ملک کے اکاونٹ میں نہ سہی اپنے اکاونٹ میں اتنی رقم ضرور رکھنا چاہتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں کام آسکے۔
بول نے جب یہ نعرہ لگایا کہ وہ صحافی کو جینے کا حق دےگا اور سب سے بڑھ کر وقت پر تنخواہ دےگا تو میڈیا مالکان کے ہاتھوں استحصال کا شکارملازم بھی ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے لگا
فیلڈ میں کام کرنے والا ہر شخص محاذ پر موجود اس سپاہی کی طرح ہوتا ہے جو گرمی، سردی، طوفان اور سیلاب کی پرواہ کیے بغیراپنے فرائض سرانجام دیتا ہے، میری یہ مثال شاید ان “معتبر” ہستیوں کو ناگوار گزرے جو یہ کہتے ہیں کہ وطن سے محبت کا دعویٰ کرنے والے سپاہی ملک کی حفاظت پیسے لےکر کرتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ جب ٹھنڈے کمروں میں کافی کی چسکیاں لیتے، ٹوئیٹ کرتے، اسکرین تکتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیمرا مین سے کہودھماکے کی فوٹیج(Footage) قریب سے بنائے اور ایسی ایکسکلوزو(Exclusive) بنائے جو ہمارے چینل کی ریٹنگ بڑھائے کیا آپ کبھی ایسے محاذ پر کھڑے ہوسکے ہیں جہاں دھماکہ ہوا ہو یا ہونے کا خدشہ ہو؟ نہیں ہر گز نہیں آپ کا شمار اسی طبقے میں میں ہوتا ہے جن کی تنخواہیں اور مراعات مالک بنا کہے بنا سنے بڑھاتے چلےجاتے ہیں۔آپ کی تنخواہ بڑھتی ہے تو آپ کی فرمائشیں ملازمین سے بڑھنے لگتی ہیں۔ میڈیا ملازمین کے گھر والے ان سے کوئی فرمائش نہیں کرتے سوائے اس کے کہ تم جو اتنی محنت کرتے ہو اس کا معاوضہ تو وقت پر لے آیا کرو تاکہ بچے اسکول کی فیس ا دا نہ کرنے کے باعث گھر واپس نہ بھیجے جائیں، بل وقت پر ادا ہوجائے، مالک مکان گھر خالی کرنے کا نوٹس نہ دےدے۔ ایسے میں کوئی ملازم کہیں اور نہ جائے تو کیا کرے؟ ایسے ہی بہتر مستقبل کا خواب لیے، تنخواہوں میں تاخیر کے باعث ذلت کا سامنا کرنے والوں، اداروں میں ترقی کے مواقع سے محروم ، اپنے سامنے نئے آنے والوں کو چند مہینوں میں اوپر سے اوپر جاتا دیکھنے والوں نے ایک نئے ادارے میں خود کو ضم کیا۔ میں نے کئی لوگوں سے سنا جن کی آواز میں دکھ اور لہجے میں تھکاوٹ تھی جو یہ بتا رہے تھے کہ ہم نے تو فلاں ادارے کی بنیاد رکھی، ہم شروع کے ساتھیوں میں سے تھے جب ہم نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں کسی نے نہیں روکا۔ ورنہ ہمیں تو بہت پیار تھا اس جگہ سے لیکن ہماری ضرورتیں، ہمارا خاندان ، ہمارے مستقبل نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔
یہ جنگ مالکان کی ہے جنہوں نے ایگزیکٹ اسکینڈل کی آڑ میں بول کو شکست دینے کی کوشش کی، سارا میڈیا ایک ہوا اس لیے نہیں کہ جعلی اصلی کو بے نقاب کرے اس لیےکہ سالوں سے ان کے اداروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والوں کو علیحدہ ہونے کی جرات کیسے ہوئی
وہ معتبر نام جوبول سے وابستہ ہوئے اس کڑے وقت میں ان کا چھوڑ جانے کا فیصلہ درست ہے کہ نہیں؟ وہ اپنامستقبل محفوظ کر چکے ہیں۔ ان کی اولادوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہیں نوکری ملنے نہ ملنے کی پرواہ نہیں کیونکہ انہوں نے “ضمیر کی آواز” پر فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے جاتے وقت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ ان کے پیچھے کون کون کہاں کہاں سے بہتر مستقبل کا خواب لیکر آیا تھا۔ وہ جا چکے یہ ایک حقیقت ہے اور سب کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کل مجھ سے میرے خیر خواہوں نے پوچھا سدرہ تم کب جارہی ہو؟ ان کا سوال کرنے کا انداز ایسا ہی تھا جیسے انھیں گہرے پانی میں اتار دیا گیا ہو، وہ تیراکی بھول چکے ہوں اور پوچھ رہے ہوں کہ تم کب کنارے پر جاو گی؟ میں نے ہنس کر جواب دیا ،”ہمیشہ آپ نے میرا ساتھ دیا جب میرِی ڈیوٹی ختم ہوجاتی تھی تو آپ میری وجہ سے اوور ٹائم لگا لیا کرتے تھے، اس بار میری باری ہے۔جب تک آپ کی ڈیوٹی ختم نہیں ہوجاتی میں اوور ٹائم لگاوں گی، ساتھ رہوں گی۔ جن لوگوں نے مجھے تیرنا سکھایا انھیں ڈوبتا کیسے چھوڑ جاوں۔ یہ جنگ مالکان کی ہے جنہوں نے ایگزیکٹ اسکینڈل کی آڑ میں بول کو شکست دینے کی کوشش کی، سارا میڈیا ایک ہوا اس لیے نہیں کہ جعلی اصلی کو بے نقاب کرے اس لیےکہ سالوں سے ان کے اداروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والوں کو علیحدہ ہونے کی جرات کیسے ہوئی؟ اصل لڑائی مالک کی مالک سے نہیں اس سوچ سے تھی جس میں صحافی کو بہتر مستقبل اور جینے کا راستہ دکھایا گیا۔ یہ سب کرکے مالک نے پیغام دیا کہ ” دوٹکے کے ملازمواپنی اوقات میں رہنا سیکھو” اور شاید مالک نے اپنے خوشامدی ٹولے کو بھی یہی لائن دی کہ پہلے تذلیل کرو بعد میں تعزیت کردینا۔ تو صاحب ہمیں آپ کی ٹوئیٹس، فیس بک اسٹیٹس، کہانیوں، عبارتوں اور لفظی دلاسوں کی ضرورت نہیں آپ اپنا مستقبل بنا چکے ہمیں اب یہ جنگ اس وقت تک لڑنی ہے جب تک آخری مورچے پر آخری سپاہی بیٹھا ہے۔ بس آپ اتنا کیجئے کہ آج ایک اور ٹوئیٹ کر دیجئے کہ سپاہی پیسے لےکر وفاداری نبھا رہا ہے، اوقات سے باہر ہورہا ہے۔ آپ کی شان سلامت رہے ہماری تو بس یہی دعا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

انتشار کی ابتدائی علامات

15 مارچ کو مسیحی عبادت گاہوں کو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور لاہور میں مسیحی آبادی یوحنا آباد کے دو چرچوں پر یکے بعد دیگرے خود کش حملے ہوئے۔ ان حملوں میں سترہ افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ایک اور افسوس ناک سانحہ ہوا جب ایک مشتعل ہجوم نے دو مشتبہ افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعدازاں ان کے جسموں کو کھلے عام پیٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا اور اس دوران ہجوم تصاویر کھینچتا رہا۔ سردست ان دو افراد کا کسی جرم میں ملوث ہونا رپورٹ نہیں ہوا اور دونوں کی شناخت معصوم محنت کشوں کے طور پر کی جا چکی ہے۔
یہ بہت ہی خطرناک صورتحال تھی کیوں کہ اس واقعہ کا “مشتعل ہجوم کا مشتبہ افراد پر بم دھماکے کے فوری بعد تشدد” کی بجائے “مسیحیوں کا داڑھی والے مسلمانوں پر تشدد” کا رنگ دیا گیا۔
پچھلے چند سالوں میں ہجوم کی طرف سے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں جن میں کئی جانیں گئی ہیں۔ گوجرہ، جوزف کالونی سمیت توہین رسالت کے الزام میں کوٹ رادھا کشن کے مسیحی جوڑے کو جلانے جیسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہجوم نے محض الزام کی بناء پر جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کی۔ سیالکوٹ میں ہجوم کی جانب سے دو بھائیوں کو ڈکیتی کے شبے میں بہیمانہ تشدد کے بعد پولیس کے آنے سے پہلے مار دینے کا واقعہ بھی پرانا نہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ روز بروز ان واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ کراچی میں ڈاکو پکڑ لو تو مار دو ورنہ وہ پولیس سے چھوٹ جانے کے بعد آپ کو مار دے گا۔
یہ سوچ بڑھتی جا رہی ہے کہ ریاستی قانون و انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ جب بھی موقعہ ملتا ہے قانون ہاتھ میں لے کر موقعہ پر ہی چوروں، ڈاکوؤں اور توہین رسالت کے ملزموں کو مار دیتے ہیں جو یقیناً ایک غیرانسانی فعل ہے۔ انصاف فراہم کرنے والے سول اداروں کی ناکامی سرکاری سطح پر بارہا تسلیم کی جاچکی ہے اور ایک کم زور نظام انصاف کے باعث ایک جمہوری ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی ہے۔ رینجرز عرصہ دراز سے کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں، بلکہ کراچی پر ان کی گرفت اتنی ہے کہ فی الوقت کراچی آپریشن میں رینجرز بمقابلہ متحدہ کا تاثر ابھر رہا ہے۔ سول اداروں کا فوجی اور نیم فوجی اداروں پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ یوحنا آبادواقعہ میں دیکھیے تو پولیس کی مکمل ناکامی کے بعد رینجرز نے آ کر علاقے کا نظم و نسق سنبھالا اور کسی متوقع فساد سے بچاؤ ممکن ہوا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب سیاستدان یا حکمران پولیس کو ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات میں ملوث کریں گے اور بعد میں سب ملبہ بھی ان پر ڈال دیں گے تو ریاستی ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں اسی طرح ناکام ہوں گے جیسے یوحنا آباد واقعے میں پولیس حالات قابو میں کرنے میں ناکام رہی۔
یہ واقعہ اپنی نوعیت میں ایسے ہی دیگر واقعات سے منفرد تھا کیوں کہ پہلی بار کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے داڑھی والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ یقین مانیے یہ بہت ہی خطرناک صورتحال تھی کیوں کہ اس واقعہ کا “مشتعل ہجوم کا مشتبہ افراد پر بم دھماکے کے فوری بعد تشدد” کی بجائے “مسیحیوں کا داڑھی والے مسلمانوں پر تشدد” کا رنگ دیا گیا۔ جہاں ابلاغ عام کے ذرائع کبھی کھلے الفاظ میں تو کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اس تعصب کا اظہار کر رہے تھے تو وہیں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک چیخ و پکار لگی ہوئی تھی۔ “مسلمانوں آج اٹھو ورنہ ہر دھماکے کے بعد داڑھی والوں کو قتل کیا جائے گا”، ” یہ ہے پاکستانی اقلیتوں کا اصل چہرہ”،”مسلمانو اپنے بھائیوں کا بدلہ کون لے گا؟؟”، “پاکستان کے گٹر صاف کرنے والوں کی ایسی ہمت!!”،”چُوڑوں نے داڑھی والوں کو جلا کر رکھ کر ڈالا”، “بلوائیوں کی توڑ پھوڑ” جیسے جملے جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر کے ساتھ کئی روز سوشل میڈیا پر وائرل رہے۔
میڈیا پر مشتعل ہجوم کی جب بھی خبر آئی ہجوم کو “بلوائی” کہاگیا جو فرقہ وارانہ تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ واقعہ کے ردعمل میں حکمرانوں کے بہت سخت بیانات آئے جو اس سے پہلے ایسے ہی یا اس سے بھی بھیانک واقعات کے بعد کبھی دیکھنے کو نہیں ملے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میڈیا اور حکمران عقیدے کی بنیاد پر “مشتعل ہجوم” سے متعلق امتیازی سلوک برتنے کے قائل ہیں اور قاتل و مقتول میں بھی مذہب کی بنیاد پر فرق روا رکھا جارہا ہے۔ ملک کے مقتدر حلقوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے اگر مذہب کی بنیاد پر کہیں فوری انصاف اور دادرسی میں رکاوٹیں دیکھنے میں آئیں گی تو مذہبی اقلیتوں کا ملک کے آئیں و قانون سے مکمل اعتبار اٹھ جائے گا۔
پاکستانیت کی عصبیت معاشی و سماجی ناہمواری ،مذہبی تنازعات میں متعصبانہ فیصلوں اور امتیازی پالیسیوں کی بدولت آج تک پروان نہیں چڑھی۔
پاکستان میں ریاست کے کمزور ہونے کی ایک وجہ سماجی ناکامی بھی ہے۔ ہم تقریبا ستر سال کے عرصے میں بھی تمام گروہوں اور فرقوں کو ایک لڑی میں پرونے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستانیت کی عصبیت معاشی و سماجی ناہمواری ،مذہبی تنازعات میں متعصبانہ فیصلوں اور امتیازی پالیسیوں کی بدولت آج تک پروان نہیں چڑھی۔ یوحنا آباد واقعے میں بھی ایک معاشی اور سماجی طور پر پسی ہوئی اقلیت کے چند افراد کی حرکت (جو مذہب کے نام پر بھی نہیں کی گئی تھی) کی بنیاد پر مکمل عیسائی برادری کو دشمن کی نظر سے دیکھا گیا۔ مذہبی تعصب اور امتیازی سلوک ریاست سے معاشرے تک ہر جگہ موجود ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ یوحنا آباد سانحےکے بعد انہوں نے یہ کہہ کر ایک عیسائی موٹر سائیکل سوار کی لفٹ کی پیشکش ٹھکرادی کہ تم مجھے آگے جا کر جلا دو گے۔ میرے لیے یہ اس لیے حیران کن تھا کہ ان صاحب کو میں عرصے سے جانتا ہوں اور وہ نہایت معقول آدمی ہیں۔ اس واقعے کے بعد عمومی ردعمل سے لوگوں کے دلوں میں غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف چھپا تعصب ابھر کر باہر آگیا ہے اور بدقسمتی سے اسے مزید ہوا دی جارہی ہے؛ اگر اس رحجان کا جلد تدارک نہ کیا گیا تو کسی بڑےسانحے کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا ۔
یوحنا آباد واقعے کے بعد مسیحی برادری کے احتجاج کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو دو نتائج نکلتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ من حیث الجماعت عیسائی برادری نے ایسے حملوں کو مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اوران میں مزاحمت کی ایک پر زور لہر نظر آئی۔ان کی جانب سے اس عزم اک اظہار کیا گیا کہ اب وہ کسی صورت لاشیں اٹھا کر گھروں میں صبر کے نام پر بیٹھے نہیں رہیں گے ۔ ان کاارادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت پر اپنا غم و غصہ ظاہر کرنے کا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ خوش آئند بات ہے کیوں کہ جب تک حکمرانوں کو جھنجوڑا نہ جائے تب تک انہیں سمجھ نہیں آتی۔ دوسرا منفی نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے اور انسانی جانیں لینے تک کو تیار ہیں۔ اس ردعمل کو درست کیسے کہا جائے جب اس میں بہیمانہ طور پر جانیں لی جائیں اور سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑکی جائے۔
یہ سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت کی ناکامی بھی ہے، ہجوم کتنا ہی مشتعل کیوں نہ ہو اپنے میں سب سے معتبر اور جانے پہچانے شخص کی بات پر چلتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ہمیشہ مقامی حکومتوں کے نظام کی قربانی دی تاکہ کوئی نئی قیادت ان کے بچوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے پیدا نہ ہو جائےجس سے آج ملک میں مقامی سطح پر قیادت ک فقدان ہے۔ گاؤں کی سطح پر تو زمین دار، سردار یا جاگیردار جگہ لے لیتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں ماجے گامے شیدے میدے اور غنڈے ایسے مواقع پر مشتعل ہجوم کو تخریب پر مائل کرتے ہیں۔ یوحنا آباد واقعے سے معاشرے کی برداشت کی حد کاختم ہوناواضح ہوچکا ہے اور سماج میں موجود معاشی، سماجی و مذہبی تقسیم کھل کر سامنے آگئی ہے؛ اور یہ دونوں ایسے اشاریے (indicators) ہیں جو نراجیت(Anarchy) اور انتشار کی ابتدائی علامات قرار دیے جاسکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

شکریہ کپتان، شکریہ مصباح الحق

کبھی بابائےٹک ٹک کہاگیاتوکبھی سست اوربزدل کپتان کے طعنے ملے لیکن مصباح اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور تنقید کے نشتر سہتے سہتے ستاسی ایک روزہ میچوں میں گرین شرٹس کی کپتانی کر گئے۔ یوں کہیں کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈلزمیں ڈوبی ٹیم کو سنبھال کر مصباح الحق نے کپتانی کا حق ادا کر دیا۔ 2010 میں چھتیس برس کی عمرمیں مصباح کےکندھوں پر قومی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری اس وقت ڈالی گئی جب پاکستان کرکٹ سپاٹ فکسنگ کی دلدل میں دھنس چکی تھی۔ اس سکینڈل کے مرکزی کرداروں سلمان بٹ ، محمد آصف اور محمد عامر کو سزا ملی اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ ستم ظریفی یہ کہ ملک کو بدنام کرنے والے یہی انوکھے لاڈلے آج کل ٹی وی چینلز پر شرفاء کے کھیل کرکٹ پرتجزیے اور تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مصباح کی بدقسمتی کہیے یا پاکستان کی کہ انہیں کپتانی سنبھالنے کے بعد ساتھی کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے وہ تعاون اور حمایت نہ ملی جو کسی بھی کپتان کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔
مصباح کی بدقسمتی کہیے یا پاکستان کی کہ انہیں کپتانی سنبھالنے کے بعد ساتھی کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے وہ تعاون اور حمایت نہ ملی جو کسی بھی کپتان کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث وہ اپنے ملک میں ایک بھی میچ کی قیادت نہ کرسکے،دنیا کا شاید ہی کوئی کپتان ہو جو اپنے ملک میں کپتانی سے محروم رہا ہو۔ ٹیم میں دھڑے بندی ، کپتانی کے خواہش مند دیگر بزرگ کھلاڑی ، سلیکٹرز اور انتظامیہ کی بے رُخی بھی مصباح کی راہ میں مشکلات کی دیواریں کھڑی کرتی رہی۔مصباح نےہمیشہ مشکل حالات میں ٹیم کی ڈوبتی نیا کو کنارے پر لگایااسی لیے انہیں مردبحران بھی کہاگیا۔ تمام کپتانوں کی طرح ان میں بھی چند خامیاں تھیں، مصباح بوجوہ جرات مندانہ فیصلے نہ کرسکے۔اگر دلیری اور خطرہ مول لینےکی صلاحیت ہمارے کپتان جی میں ہوتی تو کرکٹ کی تاریخ میں انہیں کچھ اور الفاظ میں یاد کیا جاتا۔ٹیم میں تبدیلی سے ڈرنا بھی مصباح کی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری تھی ۔
کم زوریوں اور بحرانوں میں گھرے رہنے کے باوجود مصباح کی انفرادی کارکردگی مثالی رہی ہے۔ مصباح نے ایک سو باسٹھ ایک روزہ میچوں میں43.40 کی اوسط سے 5122 رنز بنائے۔ہمیشہ مشکل وقت میں میدان میں اترنےوالےمصباح الحق کوشش کے باوجود ایک روزہ کرکٹ میں سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ کپتان کا زیادہ سے زیادہ سکور چھیانوےناٹ آؤٹ ویسٹ انڈیزکے خلاف سکور تھا۔
اگر میچ فکسنگ کی وجہ سے کسی اور ملک میں کسی کھلاڑی کو کپتانی کی پیشکش کی جاتی تو وہ یہ عہدہ قبول کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتالیکن مصباح نے اس چیلنج کو نا صرف قبول کیا بلکہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بھی بنے۔
مصباح ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے کامیاب ترین کپتان بھی ہیں ان کی سربراہی میں ٹیم 15 ٹیسٹ سیریز میں سے صرف تین ہاری ہے۔متحدہ عرب امارات جہاں اب پاکستانی ٹیم کھیلتی ہے، وہاں مصباح کی قیادت میں پاکستان سات سیریز جیت چکا ہے اور آسٹریلیا اور انگلینڈ کو وائٹ واش کر چکا ہے۔ہونا تو ایسا چاہیے تھاکہ ان حالات میں کامیابیاں حاصل کرنے اور 50 کے قریب اوسط سے ٹیسٹ میچوں میں رنز بنانے والے مصباح کو پاکستان میں پذیرائی ملتی لیکن ایسا نہیں ہوسکا ان کی ایک روزہ کرکٹ کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم رہی ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر، محمد یوسف اورسکندر بخت اپنے کرکٹ تجزیوں کے دوران مصباح کو بزدل اور خود غرض کپتان کہتے رہے ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر کے اعتراضات ذاتی پرخاش اور کسی حد تک بغض کی وجہ سے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ ان کے اپنے کیرئیر میں کتنے مقابلے جیتے گئے اور کتنے عالمی کپ ان کی قیادت پاکستان ہارا۔ عمران خان، وسیم اکرم اور رمیض راجہ اگر تنقید کریں تو سمجھ آتی ہے لیکن خود ساختہ کرکٹ پنڈت جو کبھی پاکستان کے لیے کوئی بڑا مقابلہ نہ جیت پائے اور نہ ہی مصباح کی طرح مسلسل ذمہ دارانہ انداز میں کھیل سکے ان کی جانب سے بے جاتنقید کا کوئی جواز نہیں، مثبت تنقید ضروری ہے لیکن ذاتیات کو بیچ میں لے آنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ہم شاید بحران کے دوران بلے بازی کے لیے آنے والےاور ایک کم زور ٹیم کے ساتھ میدان میں اترنے والے مصباح الحق کے جذبات اور ذہنی حالت کا اندازہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔
سابق کھلاڑیوں کے علاوہ صحافیوں کی توپیں بھی مصباح پر گولے برساتی رہیں۔ پاکستانی صحافیوں کو ہر وقت کسی ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ برا کہہ سکیں اور جس کی وہ تذلیل کر سکیں اور مصباح ہمیشہ ان کے لیے آسان ہدف رہے۔ملکی ذرائع ابلاغ نے مصباح کو کبھی وہ عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے تا ہم غیر ملکی میڈیا قومی کپتان کے گن گاتا رہا۔ دنیا کے نامور سپورٹس چینل سکائی سپورٹس نے مصباح الحق کے بارے میں لکھا کہ جن مشکل حا لات میں انہوں نے پاکستانی ٹیم کی قیادت سنبھالی وہ قابل تعریف ہے۔ اگر میچ فکسنگ کی وجہ سے کسی اور ملک میں کسی کھلاڑی کو کپتانی کی پیشکش کی جاتی تو وہ یہ عہدہ قبول کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتالیکن مصباح نے اس چیلنج کو نا صرف قبول کیا بلکہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بھی بنے۔ سکائی سپورٹس نے لکھا کہ مصباح نہ صرف اپنی کپتانی سے پاکستان ٹیم کے لیے معیار طے کیا بلکہ مشکل وقت میں انفرادی کارکردگی سے آنے والے کپتانوں کے لیے مثال قائم کی۔ مصباح نے ہمیشہ ایک کم زور ٹیم کے ساتھ مضبوط ٹیموں کو ہرایا بلکہ ہر موقع پر خراب کارکردگی کے بعد ٹیم کو سنبھالا دیا۔ ورلڈ کپ 2015 میں سعید اجمل، محمد حفیظ اورجنید کی عدم موجودگی میں پہلے دو میچوں کی شکست کے بعد کھیل میں واپسی مصباح کی قیادت کی ہی بدولت ممکن تھی۔ ایک کم زور اور نا تجربہ کار ٹیم کے ساتھ ساوتھ افریقہ کو شکست دینا یقیناً ایک کارنامہ ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف صہیب مقصود اور حارث سہیل کے سلی پوائنٹ پر کھڑا ہونے سے انکار کے بعد خود ہیلمٹ پہن کر کھڑے ہو نے والے مصباح نے تمام عمر اپنی کارکردگی کو مثال بنا کر ٹیم کو پیروی کرنے پر مجبور کیا۔ ورلڈ کپ 2015میں پاکستان کے کامیاب ترین بلے باز بھی سات میچوں میں تین سو پچاس رنز بنانے والے مصباح الحق ہی ہیں۔ سیلفی ماسٹر احمد شہزاد، عمر اکمل، صہیب مقصود اور خود ساختہ ہیرو شاہد آفریدی سمیت کسی کھلاڑی نے مصباح کی طرح ذمہ داری سے کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔ کاش کوئی یہ محسوس کر پاتا کہ جب بیس رنز پر چار پاکستانی بلے باز واپس لوٹ جاتے ہیں تو تب ایک ہی بلے باز پوری ٹیم کو سنبھالا دیتا ہے ، شاید کبھی ہم اس بات کا اعتراف کرسکیں جب پاکستانی کرکٹ کا سورج غروب ہو رہا تھا، جب میچ فکسرز نے ملک کا نام بدنام کیا تب ایک ہی فرد نے ذمہ داری لی اور خوب نبھائی۔ ہم شاید بحران کے دوران بلے بازی کے لیے آنے والےاور ایک کم زور ٹیم کے ساتھ میدان میں اترنے والے مصباح الحق کے جذبات اور ذہنی حالت کا اندازہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔ شاید کسی نے سچ کہا تھا دنیا کا مشکل ترین کام مصباح الحق ہونا ہے۔مستقبل میں جب بیس پر چار اور پوری ٹیم ایک سو بیس پر آؤٹ ہو ا کرے گی گی تویقیناً مرد بحران مصباح کا نام ہم سب کے ذہنوں میں ابھرے گا جو اگرمیچ جتا نہیں پاتا تھا تو پاکستان کی لاج ضرور رکھتا تھا۔