Categories
شاعری

بلبلے

دل کرتا ہے
بچپن کی وادیوں میں
پھر سے چلا جاؤں
پرانی رسی کے جھولے میں جھولوں
سارے دکھ صابن میں گھولوں
بلبلے بناؤں
اور ہوا میں انہیں اڑاتا جاؤں
مگر ظالم وقت
جاتے ہوئے
بے فکر خوابوں کے رنگ ،
نلکی اور صابن کی پیالی بھی لے گیا
سچ بتاؤں تو
بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے

Categories
شاعری

صبح کا ستارہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صبح کا ستارہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

صبح کا ستارہ

 

ننھے بچے کی روشن آنکھ کی طرح
چمک رہا ہے
اور کسی وقت
چھوٹے بادل کے نیچے
چھوٹی سی نیند بھی کر لیتا ہے

 

اور بچہ
ماں کے سینے کے آسمان میں
رینگنے لگتا ہے

 

کیونکہ آسمان
ماں کے سینے جیسا وسیع و عریض نہیں ہو سکتا
اس لیے اک بچے کے
بڑے ہونے کی مسافتوں کو
سال بلکہ صدیاں بھی بیت سکتی ہیں

 

زندگی کے کھلے مرتبان کے اوپر
مکھیاں بھنبھناتی ہیں
مگر لوگ کانٹے دار باڑوں کے اندر
محفوظ ہیں
اور صبح کے پرندے
ماؤں کے ہاتھوں کی دعاوں کو
اپنی چہچہاہٹ کی نغمگی دیتے ہیں

 

جھونپڑیوں کے باہر
مٹی میں لتھڑے کپڑوں کی زندگی میں
کوئی ستارا ٹانکا نہیں ہوا

 

مگر شہر کو جاتی کچی پٹڑیوں کے بیچ
جہاں پاؤں کے نشان
گوبر اور کانٹے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں
ایک ننگے بچے کے سفر کے لیے
ایک آسمان ہمیشہ کھلا رہتا ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بچپن کی سماعتیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بچپن کی سماعتیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

شکر دوپہروں میں
کوئلوں سے دیواروں پر
کھڑکیوں اور دروازوں کی شکلیں بناتے ہوئے
حملہ آور گالیوں کی طرح
اچانک امنڈ آنے والا
گلیوں کا سناٹا ہو
یا دالانوں میں گھسٹتی
ننگ دھڑنگ طفلانہ خاموشی ۔۔۔۔۔۔
نیم تاریک پساروں میں
دکھائی نہ دینے والے جسموں کی
دبی دبی ہنسی آلود باتیں ہوں
یا رسوئیوں اور برآمدوں میں چلتی پھرتی
نئی نئی سہاگنوں کی ذائقے دار سرگوشیاں ۔۔۔۔۔
اُڑتے ہوئے پرندوں کی
گھونسلوں میں رہ جانے والی پروازیں ہوں
یا آسمان کی گونجیلی نیلاہٹوں میں
بے آواز پروں کی
ہلکورے لیتی، لہریے بناتی
پھڑپھراہٹیں ۔۔۔۔۔
گِل خوروں کے رینگنے کی سرسراہٹ ہو
یا بارش میں نہاتے ہوئے
قدموں کی شپ شپ ۔۔۔۔۔۔
درختوں کی شاخیں کٹتے ہوئے
پتوں اور تتلیوں کی سسکیاں ہوں
یا جنگلوں، راستوں اور پہاڑی دروں سے گزرتی ہوئی
ہوا کی کلکاریاں ۔۔۔۔۔
سرحدوں کے آر پار بنے
اونچے بنکروں سے برستی تڑ تڑ گولیاں ہوں
یا نشیبی رات کا سینہ چیرتی
پہرے داروں کی سیٹیاں ۔۔۔۔۔۔۔
بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

Image: Dilip Oinam
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]