پیرس میں دہشت گردی کے اثرات

لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکہ میں دہشت گردی کی نائن الیون جیسیبڑی کارروائی کے بعد شدت پسند پہلے سے زیادہ مظبوط ہوگئے ہیں جبکہ ان سے ہمدردی کرنے والوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اس لیےشدت پسندوں کے لیے ایسے حملے کرنا ممکن ہے۔
میں لاشوں کی مساوات کا قائل ہوں

سوال یہ ہے کہ کیا ایک لاشہ اپنی شناخت کی وجہ سے دوسری لاشوں سے زیادہ اہم کیسے ہو سکتا ہے؟ یا یہ کہ پیرس کی گلی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنا زیادہ اہم ہے یا شام، افغانستان اور پاکستان میں؟ یہ سوچنا کتنا ضروری ہے کہ ایک مسلمان مردے کو ایک غیر مسلم مردے اور ایک غیر مسلم مردے کو ایک مسلمان مردے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں؟
Paris Attacks: Testing the Secularist Faith
Not since the Danish cartoons case of 2005, has the freedom to express or offend come under such threat in Europe. The attack on Charlie Hebdo is a chilling escalation of radical outfits waging war against European democracy and liberalism. World leaders and Muslim leaders condemned the attack, yet this case has now become a […]