Categories
فکشن

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

محمد ساجد
یس سر
عبدل معید
یس سر
شاہکار عالم وارثی
یس سر
انیل کمار سنگھ
یس سر
صابر علی صدیقی
یس سر
ہرش سچدیو
’’حفیظ الدین بابر‘‘
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔

پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘
’’والد کا نام۔‘‘
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔

یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔

یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔

مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔

یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟

اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔

یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔

مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔

مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔

وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔

اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔

میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔

میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔

بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔

روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔

یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔

مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔

ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔

مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔

روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔

مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔

یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔

ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔

مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُن دنوں بھی شاید دسمبر کی کالی ہوا چل رہی تھی۔ آج بھی وہی کالی ہوا چل رہی ہے۔ انسانوں کو اس دوسری دنیا کے نادیدہ کنارے پر اُڑا کر لے جاتی ہوئی،ڈ ھکیلتی ہوئی، یہ کالی ہوا دنیا کوکالا کیے دیتی ہے۔ یہ دنیا جس کی اصل روحانی تاریخ ایک ایسی زبان میں لکھی گئی ہے جسے اب مجھے کچھ کچھ پڑھنا آگیا ہے۔ مگر اُن دنوں میں یہ سب کہاں جانتا تھا؟ ہاں! اُن دنوں میں یہ سب کہاںجانتا تھا، کہ دنیا محض انسانوں کے حواسِ خمسہ کو مطمئن کرنے کے لیے چل رہی تھی، وہ خواہش، وہ پاگل، وہ سنکی، وہ شہوت کے ذائقے میں لپٹا سرخ پھل، جما جماکر جس کو کترتے ہوئے دنیا کے دانت سفید، چمکدار اور مضبوط ہوتے گئے۔ اور پھر—؟

پھر ایک دن وہ دانت، ایک گندی سی بدرنگ موری میں گر کر، گل گل کر بہہ گئے۔ یہی اُن کا نروان تھا۔ خواہش ایک دن ختم ہوئی۔ جسم پر خوبصورت جھرّیاں پڑیں، جسم بوڑھا ہوا، اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کردیا گیا۔

وہ جو ایکسیڈینٹ میں مارے گئے۔ جو عین جوانی میں شہید ہوئے۔ وہ جو کسی ناگہانی بیماری کے باعث، عمر طبعی پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئے۔ انھوں نے زندگی کو اپنی عظیم اور دہشت خیز وسعت کے پس منظر میں کہاں دیکھا۔ انھوں نے کہاں دیکھا، ایک کمزور ڈبّے کو آہستہ آہستہ خالی ہوتے ہوئے، اپنا بوجھ، اپنی کنکریاں، اپنا گندا مٹّیالا تیل گراتے ہوئے اور دُکھ، سکھ دونوں سے بے نیاز ہوتے ہوئے، آزادی کے ایک عظیم الشان اونچے ٹیلے پر اپنی پاک کی گئی دھوئی گئی، روح کی نیلی قمیص کے لہلہانے کی خوبصورت آواز۔

اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ شعور کی اس ڈھلان پر سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی اور موت دونوں یہاں معمولی ذرّوں کی مانند پھسلتے جاتے ہیں۔ انسان کو ان حقیر ذرّات سے ماورا ہوکر کچھ سوچنا چاہئیے تھا۔ مگر ہیہات! انسان انھیں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ اس کا سر اُنہیں دھول بھرے معمولی، روز مرہ کے ذرّات سے بھر کر رہ گیا۔ انسان یہی خاک سر میں ڈالے گھوما، پھر ڈاکو اور رِشی بنا اور حافظے کے تیل میں ملے اس میل، اس دھول اور خاک سے اُس کے سر کے بال بالکل چیِکٹ ہوکر ہی رہ گئے۔ (خودمیرا مقدّر بھی یہی ہے)

کیسا انوکھا دن ہوگا، جب وہ اپنی دوا لینا بھول جائے گا۔ وہ بھول جائے گا کہ اُس نے کھانا کھایا بھی تھا یا نہیں؟
خواب منطقی شعور پر حاوی ہوں گے۔ خوابوںکے سرمئی دھوئیں میں بچپن اور جوانی کی چند محرومیوں کے، چند گلے شکوؤں کے سڑے گلے ٹکڑوںکے سوا سب کچھ ایک پاکیزہ ہوا میں اُڑ رہا ہوگا۔ آزادی—! آزادی!
حافظے کی ایسی کی تیسی!

بڑے ماموں اب اکثر اپنی دوا کھانا بھول جاتے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ پیٹ بھر کر وہ اپنا کھانا کھاچکے ہیں۔ وہ ہمیشہ جھٹلا دیتے کہ اُنہوں نے کھانا کھالیا ہے۔ اُن کے دماغ کے ریشے اور خلیے گل رہے تھے اور آنتوں اور معدے کے پیغام وصول کرنے سے قاصر تھے۔ وہ لوگوں کا نام بھول جاتے، اشیا کو غلط ناموں سے پکارتے۔ ’’رئیس میاں— اور ئیس میاں۔‘‘ وہ زور سے چلّاتے۔

رئیس میاں نام کا کوئی شخص گھر میں نہیں تھا۔ دراصل وہ مجھے پکار رہے تھے۔ میں سمجھ گیاا اوراُن کے پلنگ کی پائنتی جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’رات میں لوٹتے وقت کچھ کھانے کو لیتے آنا۔‘‘ انھوں نے اجنبی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کوئی بھی میٹھی چیز۔‘‘
’’مگر میٹھا تمھیں منع ہے، بڑے ماموں۔‘‘
’’تیری ماں کا منع۔۔۔‘‘ وہ گرجے اور اُن کی سانس بری طرح چلنے لگی۔

’’سن، تِل بُگہ لیتے آنا چار آنے کا۔‘‘ وہ ہانپتے ہانپتے بولے۔ ادھر آکر انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا،جہاں میں گھر سے نکلتا اور وہ واپسی میں کوئی میٹھی چیز لانے کی فرمائش کرتے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود، وہ لڑ جھگڑ کر میٹھا کھاتے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بھول جاتے کہ اُنہوں نے کیا کھایا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں یاد دلاتا تو وہ اُسے گندی گندی گالیوں سے نوازتے۔ حالانکہ اپنی تمام عمر کم از کم گھر میں، میں نے اُنہیں گالی بکتے نہیں سنا تھا۔
میرا بارہویں کلاس کا بورڈ کا امتحان سر پر تھا۔ میں رات رات بھر جاگ کر تیاری کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ علم بھی ہوگیا کہ بڑے ماموں کو اب رات بھر بڑبڑانے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ اسی بڑبڑاہٹ میں شاید صرف ایک بار میں نے اُن کے منھ سے ’’ثروت‘‘ نکلتے سنا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہی رہا ہو۔

مگر اُن کی حالت ویسی ہی نہیں رہی۔ ان میں لگاتار تبدیلی آتی رہی۔ ایک روز وہ اُٹھ کرڈگمگاتے قدموں سے جلدی سے باورچی خانے کی طرف لپکے۔
’’کیا ہے، کیا ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی اور کنیز خالہ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے پیچھے آئیں۔
’’کچھ نہیں، پیشاب کروں گا۔ ‘‘ بڑے ماموں نے اُنہیں اپنی پیلی آنکھوں سے گھورا۔
’’تو یہاں کہاں— یہ باورچی خانہ ہے۔‘‘ وہ حیرت اور خوف سے چلّائیں۔

’’یہ سالا کب سے باورچی خانہ ہوگیا۔ باورچی خانہ تو وہاں ہے۔‘‘انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اُٹھائی، جہاں ایک چیل کوئی اوجھڑی چونچ میں دبائے چلی جارہی تھی۔
اُنہیں بڑی مشکل سے تھام کر پیشاب کرانے کے لیے پاخانے کی طرف لایا گیا۔

کچھ عرصے بعد انھوں نے پیشاب پاخانے کے لیے پلنگ سے اُٹھنا چھوڑ دیا، ان کی آنکھیں بند رہتیں اور منھ کھلا رہتا۔ اس کھلے ہوئے منھ پر اکثر مکّھیاں بھنبھناتیں کیونکہ رات کو کھائے گئے میٹھے کے ذرّات اُن کی کھوکھلی داڑھوں اور زبان پر چپکے ہوتے۔ وہ زیادہ تر غنودگی کے عالم میں ہوتے۔

مگر اُس دن یہ غنودگی بے ہوشی میں بدل گئی جب دوپہر میں اُرد کی دال کی کھچڑی پکی تھی (اور جسے کھاتے وقت ہوا میرے کانوں میں بُدبُدائی تھی اورمیرا دل گھبرانے لگا تھا) اُن کا پیٹ پھولا پھولا اور بہت سخت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا گیا۔ اُس نے معائنہ کیا اوربتایا کہ اُن کا پیشاب بند ہوچکا ہے۔ گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ بے ہوشی کی وجہ خون میں آلودگی کا بڑھنا ہے۔ گندا یا زہریلا خون آہستہ آہستہ دماغ کو اپنی چپیٹ میں لے رہاہے۔

’’بڑے ماموں، بڑے ماموں۔‘‘ میں اُن کے کان کے پاس منھ لے جاکر زورسے چیخا۔ اُن کی آنکھوں کے پپوٹوں میں خفیف سی جنبش ہوئی اوربس۔
شام ہوتے ہوتے اُن کے کھلے ہوئے منھ سے زور زور کے خرّاٹے بلند ہونے لگے۔ میں اُن خرّاٹوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بہت وحشت انگیزتھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ایسے کوئی درندہ بہت گہری سانس لے رہا ہو اور کبھی ایسا لگتا جیسے باورچی خانے کے کواڑ باربار کھل رہے ہوں یا بند ہورہے ہوں۔ باورچی خانے کے کواڑ اینٹھ گئے تھے اور اُن کو کھولنے بند کر دینے پر ایسی ہی آواز آتی تھی۔

مغرب کی اذان ہوئی۔ اُن کے یہ وحشت ناک خرّاٹے رُک گئے۔ میں نے اُن کی ہچکی کو نہ سنا۔ نہ دیکھا مگر ریحانہ پھوپھی نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔
میں نے تو لالٹین کی روشنی میں اُن کا پھولا ہوا سخت پتھّر جیسا پیٹ دیکھا۔ میں نے اُن کی آنکھیں بنددیکھیں۔ میں نے اُنہیں ایک گہری نیند میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ میں نے اب اُن کا کھلا منھ نہیں بلکہ بند منھ دیکھا — اور اس طرح میں نے موت کا ’منھ‘ دیکھا۔ محلے کی ایک بڑی بوڑھی نے باورچی خانے میں جاکر دن کی بچی ہوئی اُرد کی دال کی کالی کھچڑی اور دودھ اُٹھاکر باہر سڑک پر پھینک دیے۔

اس کے بعد اگر کچھ یاد رہ گیا ہے تو بس وہی دسمبر کی کالی ہوا ہے جس نے شاید آج تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

اِدھر اُدھر کی اور رشتہ دار عورتیں سر کو دوپٹّے سے ڈھک کر، کلام پاک پڑھتی رہیں۔ بیچ بیچ میں کہیں سے رونے کی بھی کوئی کمزور آواز اُبھر آتی تھی، جیسے موسیقی سے بھٹکا ہوا ایک اکیلا سُر۔

اُن کے پلنگ کے نیچے لوبان سلگادیا گیا۔ تیز ہوا کے جھونکوں نے اِس لوبان کی پرُاسرار اور شاید موت جیسی خوشبو کو گھر کے ہر کونے میں پھیلا دیا۔
کوئی عورت (جس کا نام اور شکل آج میرے ذہن سے محو ہوگئی ہے)اُٹھی، باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور چولہے پر حلوہ پکانے لگی۔ اُس دن مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ حلوے کا مرُدوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔

ساری رات آنگن میں جنازہ رکھا رہا۔ میں ایک کونے میں دُبکا، دور سے میّت کے پلنگ کو دیکھتا رہا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی، مگر آج باورچی خانے کا چولہا ٹھنڈا تھا۔ اور وہ حلوہ؟؟
حلوہ گھر والوں کے لیے نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تئیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر وہ گلی آگئی جس کے بائیں موڑ پر میرا گھر تھا۔
وہاں ایک جم غفیر تھا۔

نیلی بتّی والی، پولیس کی ایک گاڑی گلی کے موڑ پر کھڑی تھی۔ میں ہمت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ اب میرا خوف ہی میرا حوصلہ اور میرا سہارا تھا اور پیروں کی کپکپاہٹ ہی میرے چلنے کی طاقت تھی۔ یہ نہ ہوتی تو شاید میرے پیر پتھّر کے ہوجاتے۔

گھر خاکی وردی والوں سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی جاچکی تھی۔ پولیس والے ایک ایک کا بیان لے رہے تھے۔ نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی تک کا بیان لیا گیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہہ دیا کہ صبح سے اسکول میں تھا۔ اورابھی آیا ہوں۔ پولیس کو میرے اوپر کوئی شک نہیں ہوا۔ ورنہ اسکول سے یہ معلوم کیا جاسکتا تھا کہ میں آج اسکول نہیں پہنچا تھا، مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا۔
بعد میں،پولیس کے چلے جانے کے بعد بڑے ماموں نے مجھ سے یہ بازپرس ضرور کی کہ میں نے اُن کا کہا کیوں نہیں مانا۔ مگر وہ صرف ایک باز پرس نہیں تھی کیونکہ بعد میں انھوں نے گہری سانس لے کر یہ بھی کہا تھا کہ اچھا ہی ہوا کہ میں اسکول گیا ہوا تھا۔ شاید اُنہیں یہ اندیشہ ہوا ہو کہ اگر میں گھر پر ہوتا تومیری جان بھی خطرے میں پڑسکتی تھی۔

’’یہ ضرور کنپٹی مار کا کام ہے۔‘‘چھوٹی خالہ نے کہا۔

اُن دنوں ایک مجرم جو نفسیاتی مریض تھا، لوگوں کے گھروں میں گھستا پھرتا اور کسی ہتھیار کے ذریعہ کسی بھی تنہا شخص کا قتل کرکے چلتا بنتا۔ پولیس کو ابھی تک اُسے گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک پولیس انسپکٹر کچھ سپاہیوں کے ساتھ دوبارہ آیا تھا۔

’’ہو سکتا ہے کہ یہ اس کنپٹی مار کا کام ہو۔ مگر اُس کے قتل کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ وہ اپنے عجیب و غریب ہتھیار سے ہی آدمی کی جان لیتا آیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ وہ ہتھیار اُس سے کہیں گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو۔ اس لیے ہم نے تو گھر کی تلاشی لے ہی لی مگر آپ لوگ بھی اپنے طور پر اس امکان کو نظرانداز نہ کریں اور اُس ہتھیار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

پولیس والے چلے گئے تھے مگر ہمارا گھر رشتہ داروں سے اور محلے والوں سے بھر گیاتھا۔

تھوڑی دیر بعد مجھے بہت زور کی سردی لگنے لگی۔ میرے دانت بجنے لگے۔ میرے اوپر لحاف ڈال دیا گیا۔ میں نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’بچّہ ہے— بری طرح ڈر گیا ہے، اسے بخار آرہا ہے۔‘‘

اور یقینا وہ آرہا تھا۔ میں نے بخارکے قدموں کی دھمک کو اپنے کانوں کے ٹھیک قریب سنا۔ میری کنپٹیاں تپتی ہوئی سلاخوں جیسی ہوگئیں۔ ماتھا اس طرح جل رہا تھا کہ اُس پر چنے بھونے جاسکتے تھے۔ میں جس بستر پر لیٹا تھا اس کی چادر اتنی گرم ہوگئی تھی کہ لگتا تھا تھوڑی دیر میں دھواں دے کر سلگنے لگے گی۔

میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

کیا میرے دماغ پر بھی فالج گر گیاہے۔ کیا یہ فالج کی بارش ہے؟ ایک گرم تپتی جلتی ہوئی بارش؟ میں نے ہوش کھوتے ہوئے سوچا۔ اس کے بعد صرف کچھ آوازیں تھیں جو میں سنتا تھا۔ اور ا نہیں آوازوں سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا گمان گزرتا تھا۔

’’ایک سو پانچ اعشاریہ سات۔‘‘
’’ایک سو چھ۔‘‘

باربار کوئی میرے منھ اور بغل میں کوئی لجلجی سی سلائی لگا دیتا تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دوسرے دن صبح صبح گھر کی کنڈی بجی۔ صبح صبح گھر کی کنڈی کا بجنا اُس زمانے میں کسی کی موت کی خبر آنا تھا اور وہی ہوا۔ معلوم ہوا کہ گاؤں میں عصمت چچّا ممّا ریل سے کٹ کر مر گئے۔ اُنہوں نے خودکشی نہیں کی تھی۔ وہ تو رساول کی ہانڈی لے کر کسی رشتے دار کے گھر جارہے تھے، مگر جس کو وہ سڑک یا پگڈنڈی سمجھ کر چلتے جارہے تھے، وہ دراصل گاؤں کے قریب سے نکلنے والی ریل کی پٹری تھی۔

عصمت چچّا ممّا کا کمزور اور تقریباً بوڑھا ہوچلا جسم، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا اور رساول کی ہانڈی پرزے پرزے ہوکر واپس مٹّی کی جون میں آگئی۔

یہ خبر سنتے ہی گھر کے تمام افراد پریشانی اور عجلت میں گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ صرف نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی رہ گئیں۔ اچھّن دادی تو کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث بالکل معذور ہوچکی تھیں اور بستر سے اُٹھ کر چلنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

وہ بستر پر ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی تھیں اور اب اُن کے جسم پرجگہ جگہ زخم بھی پڑ گئے تھے، کیونکہ وہ کروٹ بھی نہیں لے پاتی تھیں۔ اُن کے کھانے پینے کی اشیاء اُن کے سرہانے ہی رکھی ہوتیں، جنھیں جب اُن کی طبیعت چاہتی، ہاتھ اُٹھاکر منھ میں ڈال لیتیں۔ باقاعدہ کھانا کھانا تو نہ جانے کب کا چھوٹ گیا تھا، مگر بہرحال اُن کے پیٹ میں ابھی آنتیں زندہ تھیں اور اسی لیے اُن کے بستر کے قریب پہنچتے ہی بدبو کا ایک زبردست بھبکا ناک میں جاتا تھا۔ اِس لیے میں اُن کے پاس جانے سے ہمیشہ کتراتا تھا۔
نورجہاں خالہ ہمیشہ کی طرح زیادہ تر وقت نہانے یا نہانے کی کوشش میں ہی گزارتی تھیں۔ کبھی کبھی آنگن میں ہی کپڑے اُتار کر نہانا شروع کر دیتیں اور اُنہیں بڑی مشکل سے قابومیں کیا جاتا۔ باورچی خانے کو غسل خانہ سمجھتی تھیں اور غسل خانے کو باورچی خانہ۔ نورجہاں خالہ نے گھر کے سب لوگوںکی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔
عصمت چچّا ممّا کے کٹ کر مرنے کی خبر سنتے ہی وہ فوراً اپنا جمپر اُتارتے ہوئے باورچی خانے میں نہانے کے لیے بھاگیں۔ اُنہیں آہستہ آہستہ اپنے ننگے ہونے کا احساس بھی ہونا تقریباً بند ہو گیا تھا۔ آخر گھر والوں کو اُنہیں تقریباً زبردستی گود میں اُٹھا کر غسل خانے لے جانا پڑا، جہاں انھوں نے لوٹا بھر بھر کر نہانا شروع کردیا۔

’’گڈّو میاں تم گھر رہنا۔ آج اسکول کی چھٹی کر لو۔‘‘ بڑے ماموں نے چلتے چلتے کہا تھا۔
گھر خالی ہوگیا مگر میرا دل نہیں گھبرایا بلکہ مجھے ایک آزادی کا احساس ہوا۔ ایک خطرناک بیکراں آزادی۔ وجود کے اندر پھیلتا ہوا ایک وسیع تر سفید صحرا جس میں کالے سائے اپنی اصل شکل و صورت اور خدوخال کے ساتھ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اندر سے کنڈی لگا رکھی تھی، جاکر دروازہ کھولا۔

سامنے آفتاب بھائی کھڑے تھے۔ اپنی بھوری بے رحم رنگت اور آنکھوں کے ساتھ۔ منھ میں وہی گھٹیا اور بدبو دار سگریٹ تھا۔
آفتاب بھائی اندر آگئے۔
’’کیا ہوا؟ گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کہاں گئے ہیں؟‘‘
’’عصمت چچّا ممّا مر گئے۔‘‘
’’ہوں— اچھا! دیکھو یار گڈّو میاں باورچی خانے میں کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے ناشتہ نہیں کیا۔ بڑی بھوک لگی ہے۔‘‘

وہ شاید اپنی بیوی (یا جو بھی ہو) سے لڑکر آرہے تھے۔ وہ آنگن سے باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگے۔میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا، مگر میرے پاؤں کی ہڈیاں نفرت کے بھیانک بوجھ سے کڑکڑا رہی تھیں۔ اور گھٹنوں کی پیالیوں نے جیسے گھومنا بند کر دیا تھا۔ آفتاب بھائی نے برتن اور ہانڈیاں کھکوڑنا شروع کر دیں۔ میں چپ چاپ باورچی خانے کی چوکھٹ سے لگا کھڑا تھا۔

آخر اُنہیں ایک ہانڈی میں رات کی پکی فیرینی مل ہی گئی۔ وہ فرش پر اُکڑوں بیٹھ گئے اور ایک چمچہ ہانڈی میں ڈال کر جلدی جلدی فیرینی کھانے لگے۔ میری طرف سے اُن کی پیٹھ تھی۔

’’گڈّو میاں پانی لاؤ۔‘‘ اُنہوں نے بغیر گردن موڑے ہوئے کہا۔

میں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ میرے پیروں کے پاس مسالہ پیسنے کی پتھّر کی وزنی سل رکھی ہوئی تھی۔ اور میرا کن کٹا خرگوش اُس سل پر اُچھل کود کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پاگل چوہا جس کے دماغ پرفالج گر گیا تھا اور جو صرف رات میں ہی اپنے بِل میں سے باہر نکلتا تھا۔ آج دن کی روشنی میں بھی، اپنا سر ایک طرف کو ڈھلکائے ہوئے آٹے کے کنستر کے پیچھے سے چلتا ہوا چولہے کی طر ف جارہا تھا۔

میں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ برتنوں کے پیچھے دُبکے ہوئے کاکروچ بھی باہر آکر فرش پر رینگنے لگے ہیں۔

اچانک میرے اندر پلنے والا وہ تاریک، طویل القامت سایہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ میرے دونوں ہاتھوں میں منتقل ہوگیا۔ میرے ہاتھ ایک عفریت کے ہاتھوں میں تبدیل ہوگئے۔

اب اِن ہاتھوں کی اپنی الگ دنیا تھی، الگ ذہن اور الگ شخصیت اور الگ اعصابی نظام۔ یہ ہاتھ میرے باقی جسم اور میرے دماغ کے تئیں مکمل اجنبی تھے۔

ہاتھوں نے مجھے جھکنے کے لیے کہا۔ میں جھکا اور میرے ہاتھوں نے پتھّر کی اُس وزنی سل کو اِس طرح اُٹھا لیا جیسے کوئی زمین پر پڑا ایک سوکھا ہوا زرد پھول اُٹھا لیتا ہے۔ سل پر ہلدی کا رنگ جم گیا تھا۔

آفتاب بھائی اُسی طرح اُکڑوں بیٹھے بیٹھے، ہانڈی میں سے فیرینی کھارہے تھے۔ میں اُنھیں منھ چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مگر اُن کی پیٹھ باربار ایک فحش انداز میں جنبش کرتی نظر آتی تھی۔ میں نے اِس فحش منظر کو شاید پہلے بھی کہیں دیکھا ہو، یا محسوس کیا ہو۔

پتھّر کی سِل کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اونچا اُٹھائے اُٹھائے، میں ننگے پیر بہت آہستگی کے ساتھ آفتاب بھائی کی طرف بڑھنے لگا۔ میں اُن کے سر پر پہنچ گیا۔ اُبٹن اور خون کی ملی جلی بو نے میری ناک کے نتھنوں کو چھو لیا۔

اپنی سانس روک کر، تمام طاقت کے ساتھ پتھّر کی سِل کو تھوڑا اوراونچا اُٹھائے ہوئے، میں نے اُسے آفتاب بھائی کے سر پر دے مارا۔ اُن کے منھ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی زور سے ڈکار لیتا ہے۔ مگر یہ چیخ ہرگز نہ تھی۔ انھیں چیخنے کی بھی مہلت نہ ملی۔

اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اُن کا سر فرش پر جاکر لڑھک گیا۔ وہ سر جو پوری طرح کچل گیا تھا۔
میرے ہاتھوں سے سل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ سِل پر آفتاب بھائی کے بھیجے کے ریشے اور خون کے چھیچھڑے چپک کر رہ گئے۔

کھیر کی ہانڈی اپنی جگہ ویسی کی ویسی ہی رکھی تھی۔ مگر آفتاب بھائی کے منھ، حلق اور آنتوں تک میں پھنسی ہوئی سفید فیرینی باہر آکر کھرنجے کے فرش پر پھیل گئی۔

وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔

مگر میں نے صاف صاف اور واضح طو رپر دیکھا اس میں مجھے رتّی بھر بھی شبہ نہیں ہے۔ ایک کاکروچ فیرینی کی ہانڈی کے پاس بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ پھر شاید وہ ہنسا بھی تھا۔

میں نہ جانے کب تک وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا۔ باورچی خانے کے فرش پر گاڑھے گاڑھے خون کی ایک لکیر آگے بڑھتی جاتی تھی۔

غسل خانے میں سے لگاتار، نورجہاں خالہ کے لوٹے بھربھر کے جسم پر پانی ڈالنے کی وحشت انگیز آوازیںآرہی تھیں۔ وہ دنیا مافیہا سے بے خبر نہانے میں گم تھیں۔
تب آفتاب بھائی کی لاش کے قریب کھڑے کھڑے، اچانک جیسے مجھے ہوش آیا، میری سمجھ میں آگیا کہ میں نے آفتاب بھائی کا قتل کر دیا ہے۔ ان کی سفید قمیص اور بھوری پتلون ہی اس قتل کا حلیہ تھی۔

دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ سورج کا رُخ ٹھیک باورچی خانے کی طرف تھا۔ وہاں تیز چمک اور روشنی پھیل گئی۔ اور میرے دماغ میں بھی۔

میں وہاں سے اُلٹے پاؤں بھاگا اور اندر والے دالان میں جاکر جلدی جلدی اسکول کی یونیفارم کی خاکی پتلون پہنی۔ سفید قمیص تو پہلے سے ہی پہن رکھی تھی۔ کرمچ کے سفید پی ٹی جوتے پہنے اور پھر اپنے اسکول کا بستہ اُٹھایا۔ اسے گلے میں ڈالا اور سب کچھ ایسے ہی چھوڑ کر گھرسے باہر نکل آیا۔ باورچی خانے میں آفتاب بھائی کی لاش کو چھوڑ کر اور غسل خانے میں نورجہاں خالہ کو نہاتا چھوڑ کر اور وہاں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازوں کو چھوڑ کر، میں گھر سے دور، شاہراہ پر آکر ایک چھوٹی سی پُلیا پر بیٹھ گیا۔ اسی راستے پر تھوڑا آگے چل کر میرا اسکول تھا اور اسکول کی چھٹی ہونے میں ابھی کم از کم دو گھنٹے ضرور تھے۔ پھر پُلیا سے نیچے اُتر کر میں نے پانی میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ مجھے دھوکہ ہوا اب کچھ چھوٹی مچھلیاں میرے ہاتھوں کی طرف لپکی تھیں۔ مگر ہاتھوں پر خون کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہاں خون کی کوئی بو نہ تھی۔

میں پُلیا کے نیچے بہتے پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ چہرہ پانی میں اُگے ہوئے سیوار میں پھنس گیا تھا۔

تیسرے پہر جب اسکول کی چھٹی ہوئی اور بچّے باہر نکلنے لگے، تب میں بھی اُنھیں میں شامل ہوکر گھر کی طرف واپس چلنے لگا۔

مجھے خنکی سی محسوس ہوئی۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اب اتنی دیر بعد، پہلی بار مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ اور جسم میں جھرجھری کا احساس ہوا۔
جیسے جیسے گھر پاس آتا جارہا تھا، میرے پیر من من بھر کے ہوتے جاتے تھے۔ میرا سر گھومنے لگا۔ میں گھروں کی دیواروں کا سہارا لے کر چلا۔

میرا بستہ میرے گلے میں اول جلول ڈھنگ سے اِدھر اُدھر ڈول رہا تھا، اور میں اسے سنبھال پانے میں ناکام تھا۔

میرے کندھے جھک رہے تھے۔ بستے کا بوجھ اچانک اتنا بڑھ گیا کہ مجھے لگا میری کمر ٹوٹ جائے گی۔ گلا بہت خشک ہوگیا۔ میں نے تھوک نگلنے کی کوشش کی مگر تھوک ندارد تھا۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ ناجانے کب سے میں نے پیشاب نہیں کیا ہے۔ شاید میرے گردوں میں پیشاب کی ایک بوند بھی نہ تھی۔ میرے سارے وجو دمیں ایک خوفناک خشکی پھیلنے لگی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – پندرہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

میرے سہ ماہی امتحان ختم گئے تھے۔ میں نے پھر سے جاسوسی ناول پڑھنا شروع کر دیے اور زیادہ سے زیادہ وقت انجم آپا کے گھر گزارنے لگا۔ انجم آپا ایک سانولے بلکہ پکّے رنگ کی لڑکی تھیں۔ مگر اُن کا منھ ہاتھ پیروں کی بہ نسبت کافی صاف رنگت لیے ہوئے تھا جو ایک عجیب بات تھی۔ ان کا قد ٹھگنا تھا اور چہرہ بالکل گول تھا۔ کسی چپاتی کی طرح جس پر چیچک کے جابجا نشانات تھے۔ بالکل چپاتی پر لگی ہوئی چپتّیوں کی مانند۔ اس چہرے کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ وہ چہرہ مجھے ہمیشہ اپنا اپنا سا لگتا تھا۔ جیسے اپنے گھر میں کھانا کھاتے وقت، روٹی کی ڈلیہ میں رکھی چپاتی اپنی اپنی سی لگتی ہے۔ انجم آپا مجھ سے بہت خلوص سے پیش آتیں، کبھی کبھی تو مجھے لگتا جیسے وہ مجھے انجم باجی سے بھی زیادہ چاہتی ہیں۔
برسات کے بعد اُن کا باورچی خانہ بہت خستہ حال ہوگیاتھا۔ وہ ککیّا اینٹوں کا بنا تھا اور دیواروں پر ہر طرف جنگلی گھاس اُگ آئی تھی۔

اکتوبر کا مہینہ تھا جس میں دھوپ بہت تیز اور چمکدار ہوتی ہے اور شام کو کچھ دھند سی پھیلنے لگتی ہے۔

میں انجم آپا سے ایک جاسوسی ناول کے مجرم کے بارے میں باتیں کر رہا تھا کہ مجھے اُن کے باورچی خانے سے کچھ تلے جانے کی خوشبو آئی۔ میرے نتھنے مہک کر رہ گئے۔ دوپہر تھی اور مجھے زوروں کی بھوک پہلے سے ہی لگ رہی تھی۔ میں نے ناک کے نتھنے پھُلا کر خوشبو کو سونگھا۔

انجم آپا ہنسنے لگیں۔

’’امّاں دال بھرے پراٹھے تل رہی ہیں۔ ایک پراٹھا کھاکرجانا۔‘‘

’’پراٹھے—دال بھرے پراٹھے۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’ہاں!‘‘

ٹھیک اُسی وقت میرے دل پر جیسے ایک سوئی سی چبھی، ایک گیلی گیلی، پانی سے تر سوئی جس کی ٹھنڈی چبھن اب میرے بائیں کاندھے تک رینگ آئی۔ میں خوف زدہ سا ہو گیا۔ اُس خطرناک اور پوشیدہ ریاضی کا ایک سوال میرے سامنے تھا۔ اور میں اس کے حل کی حدود کا تعین کرنے کے لیے ایک مختلف شخصیت میں تبدیل ہوچکا تھا۔

’’نہیں، اب میں جاؤں گا۔‘‘ میں اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’کیوں؟ کیا غریبوں کے گھر کھانا نھیں کھاسکتے؟‘‘

’’یہ بات نہیں انجم آپا، مگر مجھے بازار سے سودا لانا ہے۔‘‘

میں نے بہانہ کیا اور کل پھرآنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کے گھر سے باہر آگیا۔ میری بھوک جیسے بالکل مر گئی تھی۔ ’’دال بھرے پراٹھے۔ دال بھرے پراٹھے۔‘‘ میرا ذہن لگاتار یہی گردان کیے جارہا تھا۔

میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

’’دیوار گر گئی، دیوار گر گئی۔‘‘ کوئی چیخ رہا تھا۔

’’کس کی دیوار گر گئی؟‘‘

مگر میں اچھی طرح جانتا تھا کہ کس کی دیوار گری ہے۔

میں بھاگتا ہوا انجم آپا کے مکان پر پہنچا۔ وہاں بھیڑ لگ گئی تھی۔

انجم آپا کے خستہ اور بوسیدہ حال باورچی خانے کی دیوار گر گئی تھی۔ اور اُن کی ماں اُس سے دب کر مر گئی تھیں۔
میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

گری ہوئی دیوارکے ملبے اور برسوں پرانی ککیّا اینٹوں اور خوردرو جنگلی گھاس کے نیچے وہ ساکت وجامد پڑی ہوئی تھیں۔ ان کے سارے جسم کو ملبے نے ڈھک لیا تھا۔ صرف اُن کا منھ باہر تھا۔ ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔

دیوار کے ملبے کے نیچے ہی شاید اینٹوں کاچولہا بھی دبا پڑا تھا جس کی آگ بجھ کر مٹّی، گارے اور خودروگھاس پودوں میں دفن ہو گئی تھی۔

’’ان دنوںہی تو مکان گرتے ہیں۔ برسات کے بعد کی دھوپ میں ہی دیواریں اپنی جگہ چھوڑتی ہیں۔‘‘ کوئی کہہ رہا تھا۔

مگر مجھے اچھی طرح علم تھا کہ دیوار کیوں گری ہے۔ دودھ میں پڑی ایک زہریلی چھپکلی نے مجھے تِگنی کا ناچ نچاکر رکھ دیا تھا۔ انجم آپا غش کھاکر گر پڑی تھیں۔ باورچی خانے کی اُسی دیوا رکی طرح۔ گھر میں بھیڑ بڑھتی چلی گئی۔ سارا محلہ اکٹھا ہوگیا۔

باورچی خانے میں دال بھرے پراٹھے مجھے نظر نہیں آئے۔ مگر اُن کی خوشبو اب دور دورتک پھیل رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب میں اپنے گھر پہنچا تو وہاں بھی ہوا کے زور پر دال بھرے پراٹھوں کی خوشبو اِدھر اُدھر رینگتی محسوس ہوئی۔

میں پریشان، سراسیمہ اور ایک بے وجہ کے احساسِ جرم سے مغلوب ہوکر طوطے کے پنجرے کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ میرا کن کٹا خرگوش آکر میری پتلون کے پائینچے پر منھ رگڑنے لگا۔

’’کاش میں وہاں آج اِس وقت نہ جاتا۔‘‘ میں نے پشیمان ہوکر سوچا۔
’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ :‘‘ طوطا زہرخند لہجے میں بولا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – آٹھویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ گھر جس محلے میں واقع تھا، میرے بڑے ماموں اکثربتایا کرتے تھے، ایک قبرستان پر آباد کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر ہر گھر کی زمین میں ایک قبر موجود تھی۔ جب بھی کسی کے گھر کی زمین کو گہرے کھودے جانے کا موقع آتا تو مزدوروں کا پھاوڑا کسی نہ کسی ہڈیوں کے ڈھانچے سے جاکر ضرو رٹکراتا۔ محلّے کے باشندوں کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ وہ سب اس کے عادی ہو چکے تھے۔

 

گلیوں میں بھی جگہ جگہ پکّی قبریں نظر آتیں جن کے تکیوں پر آورہ لونڈے دن بھر بیٹھے ہڑڈنگ مچاتے نظر آتے۔ رات میں انھیں قبروں پر بیٹھ کر جو ا بھی کھیلا جاتا۔ کچھ قبریں ایسی بھی تھیں جنہیں مزار کہا جاتا تھا اور ہر جمعرات کو وہاں چادریں چڑھائی جاتی تھیں۔ اگربتّی اور لوبان کے دھوئیں سلگتے، کھیلیں اور بتاشے تقسیم ہوتے اور قوّالیاں بھی ہوتیں۔ ہر گھر میں نیاز نذر کا ماحول تھا اور دوسرے مسلک والوں کا حقہ پانی یہاں بند تھا۔

 

اُس پار کھیتوں کے ایک لمبے سلسلے کے بعد جو محلہ تھا وہاں دوسرے مسلک اور عقیدے والے لوگ رہتے تھے۔ ا دھر کا آدمی اُدھر اور اُدھر کا آدمی اِدھر آکر مسجد میں نماز تک پڑھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے محلے کے بعض گھروں کی لڑکیاں زندگی بھر کنواری رہیں اوربوڑھی ہوگئیں، صرف اس وجہ سے کہ اپنے عقیدے کے لوگوں میں اُنہیں اپنے معیار کے مطابق رشتہ نہ مل سکا اور بد عقیدوں میں شادی ہوجانے سے بہتراُن کا زندگی بھر کنوارا رہنا ہی تھا۔

 

ہماراگھر بھی انھیں میںسے ایک تھا۔ نورجہاں خالہ، ثروت پھوپھی، شاہین باجی اورنہ جانے کون کون تمام عمر کنواری رہیں۔ اور اُن سب کا بڑھاپا یقینا بہت خراب گزرا ہوگا اگرچہ اس بارے میں مجھے بہت زیادہ علم نہیں ہے۔

 

گھرمیں ہر وقت شور سا مچا رہتا۔گرمیوں کی دوپہر اور رات کے وقفے کو چھوڑ کر بس آوازیں ہی آوازیں تھیں۔ زنانہ، مردانہ، جوان اور بوڑھی آوازوں کا ایک سیلاب تھا جس سے گھر کی دیواریں چٹخی جاتی تھیں۔ ہاں وہاں بچّوں کی آوازیں نہ تھیں۔ بچّہ تو صر ف میں تھا۔ اکیلا بچّہ مگر جس زمانے کا میں ذکر کررہا ہوں، اُس وقت تک تو میری آواز بھی بچّے کی نہ رہی ہوگی۔ یوں بھی میں نے اپنے آپ کو کبھی بچّہ نہ سمجھا۔ باورچی خانے اورانجم باجی کی گود نے مجھے اپنے اندر ایک کینہ پرور اور خطرناک مرد کے وجود سے شاید ہوش سنبھالتے ہی روشناس کر دیا تھا۔

 

ہر جمعرات کو گھر میں عصر اور مغرب کے درمیان فاتحہ ہوتی اور لازمی طو رپر گوشت کا سالن پکایا جاتا۔ زیادہ تر بڑے ماموں ہی بیٹھ کر سر پر تولیہ ڈال کر فاتحہ دیتے۔ کبھی انجم باجی، کبھی نورجہاں خالہ اور کبھی ثروت پھوپھی جمعرات کا کھانا پکاتیں۔ یوں تو بہت سی عورتیں جن میں ممانیاں، خالائیں اوراُن کی لڑکیاں اور کچھ خادمائیں بھی باورچی خانے میں کچھ نہ کچھ کام کرتی نظر آتیں، مگر چند خاص کھانے جو ہر جمعرات کو اہتمام کے ساتھ پکائے جاتے، ان کا ذمہ انجم باجی،نورجہاں خالہ اور ثروت پھوپھی کے ہی سر تھا۔

 

بڑے ماموں کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام کو، مغرب سے پہلے گھر کے آبائو اجداد کی روحیں اپنی اپنی قبر کے باہر بیٹھ کر فاتحہ کے کھانے کا انتظار کرتی ہیں۔ اورجن کے پیارے اُنہیں بھول چکے ہیں اور فاتحہ نہیں دلاتے اُن روحوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ بڑے ماموں یہ بھی بتاتے تھے کہ رات میں کسی نہ کسی وقت گھر کے مکینوں کی روحیں گھر میں گشت کرنے کے لیے ضرور آتی ہیں۔

 

میں فاتحہ کے وقت بڑے ماموں کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔ اگر بتّی کے دھوئیں میں پیالوںمیں رکھا سالن صاف صاف نظر نہیں آتا تھا۔ اُس وقت کچھ بھی صاف صاف نظرنہیں آتا تھا۔ دونوں وقت مل رہے ہوتے۔ سارے ماحول پر ایک ناقابل فہم دھند سی پھیل جاتی اور جب مغرب کی اذان ہونے لگتی تو میں شدّت سے اُداس ہو جاتا۔ اُس وقت چاروں اطراف میں اُداسی پھیل جاتی اور میں قبروں کے باہر، اپنے اپنے کھانے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے مُردوں کے بارے میں سوچنے لگتا۔ وہاں کون کون ہوگا؟ کیا میرے ماں باپ بھی؟

 

مگر کچھ ہی دیر بعد یہ منظر ایک حیرت انگیز خاموشی کے ساتھ وہاں سے سرک کر نہ جانے کہاں چلا جاتا، داسے میں لالٹین روشن ہوجاتی۔ گھر میں رونق ہی رونق پھیل جاتی اور باورچی خانہ چوڑیوں کی جھنکار سے گونجنے لگتا۔

 

مجھے صرف انجم باجی کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا پسند تھا۔

 

ہاتھ؟

 

دراصل ہاتھوں کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ مجھے اب معلوم ہوا ہے، ہاتھ تو انسان کے دماغ سے بھی پہلے قوت نمو حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہاتھوں کی ایک ایک انگلی کی اپنی ایک الگ داستان ہے۔ انسان کے ہاتھوں کا لگاتار ارتقا ہو رہا ہے مگر ممکن ہے کہ ہاتھوں کا یہ ارتقا ایک معکوسی ارتقا ثابت ہو اور انسانی ہاتھ انجام کار ایک روز آکٹوپس کے ہاتھ پاؤں میں تبدیل ہو جائیں۔

 

غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہاتھوں سے زیادہ گنجان ہڈیوں کے گچھّے جسم میں اور کہیں نہیں پائے جاتے۔ ہاتھ انسان سے الگ ہیں، کبھی کبھی تو اُس کے ذہن و دماغ اور جسم کے لیے یکسر اجنبی اور بیگانے۔

 

یہی سبب تھا کہ وہاں الگ الگ ہاتھوں کے الگ الگ کھانے تھے، اُن کے ذائقے الگ، ان کی خوشبوئیں الگ اور اُن کی شکلیں الگ۔ باورچی خانہ ان ہاتھوں کی حرکات و سکنات کا ایک عجائب گھر تھا۔

 

مجھے یاد ہے کہ کچھ دنوں کے لیے ہمارے یہاں ایک باورچی بھی رکھا گیا تھا۔ جو پیروں سے لہسن چھیلتا تھا اور سب اُسے انگشت بدنداں دیکھتے تھے، مگر ایک بار جب اُس نے پیروں سے کھانا پکانے کی خواہش ظاہر کی تو ہر شخص نے اِس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ کھانا ایک پاک صاف شئے ہے۔ اس کا احترام کرنا چاہئیے۔ چاہے حلق سے اُترتے ہی وہ ناپاک کیوں نہ ہو جائے اور بڑی آنت میں جاکر فضلے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے۔ اس لیے باورچی خانے کے سرکس میں کوئی بھی اُس غریب کا یہ کرتب دیکھنے پر آمادہ نہ ہوا۔ باورچی کو بے عزتی ہونے کا احساس ہوا۔ اپنے سے زیادہ اپنے آرٹ کی۔ وہ نوکری چھوڑ کر فوراً ہی چلا گیا مگر جاتے وقت اُس نے یہ ضرو رکہا تھا کہ افسوس وہ لوگ نہیں جانتے کہ کبھی کبھی کچھ انسانوں کے ہاتھ اُن کے پائوں میں اُتر آتے ہیں۔ یہ ایک مرض بھی ہو سکتا ہے جس طرح آدمی کی آنت اُترجاتی ہے، اس لیے میں باربار یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہاتھوں کی اپنی ایک الگ ہی پُراسرار دنیا ہے۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کہیں بھی جاسکتے ہیں، وہ کسی کا سر سہلا سکتے ہیں، کسی کے آنسو پونچھ سکتے ہیں اور گال پر تھپّڑ بھی رسید کر سکتے ہیں۔ ہاتھ قتل تک کر سکتے ہیں۔

 

باورچی خانے میں الگ الگ ہاتھوں سے ایک ہی قسم کی اشیا ایک ہی جگہ پر الگ الگ انداز سے رکھی جاتی تھیں، وہی نمک کا ڈبہ تھا، وہی سوکھے دھنیے کا۔ پسی ہوئی مرچوں کا اور ہلدی کا مگر ہر ہاتھ اُنہیں ایک نئے ڈھب کے ساتھ استعمال کرتا تھا۔ اُنہیں کھولتا، بند کرتا اور رکھتا تھا۔ کھرنجے کے فرش پر کسی کے ہاتھ سے جھاڑو دینے پر کوڑا بچا رہتا تھا اور کوئی دوسرا ہاتھ جھاڑو دیتا تو فرش آئینے کی طرح چمکنے لگتا، اپنی بوسیدگی کے باوجود ہر ہاتھ کا اپنا تماشہ تھا، اور ہر تماشے کو اپنے اداکاروں پر ناز تھا، اداکار جو صرف ہاتھ تھے۔

 

باورچی خانہ ایک متوازی دنیا تھا جس پر حکومت کرنے کے لیے عورتیں آپس میں جھگڑا کرتی تھیں، چلّاتی تھیں، ایک دوسرے پر مارنے کے لیے برتن اُٹھا لیتی تھیں، پھر ٹسوے بہاتی تھیں اور چولہے کی گرم بھوبل کو اپنے سر میں بھر لینے کی دھمکیاں دیتی تھیں اور وہ ہاتھ جن میں کبھی چوڑیاں کھنکتی تھیں اور کبھی وہ گھونسے کی شکل میں فضا میں تنتے۔ وہ ایک دوسرے کے دوست تھے۔ وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔

 

باورچی خانے کی اس چھوٹی سی دنیا میں ایک گھسمان مگر زنانہ رن برپا تھا۔

 

گھر کے مرداِس جنگ سے بالکل متاثرنہ تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ جہاں چار برتن ہوتے ہیں تو آپس میں ٹکراتے ہی ہیں، اس گھر کے افراد کو اپنی پرانی (چھین لی گئی زمینداری) زمینداری، اعلیٰ حسب و نسب اور مدّتوں سے چلی آرہی مشترکہ خاندان کی روایت پر بے حد غرور اور گھمنڈ تھا۔ انھیں باورچی خانے کی پُراسرار دنیا کا کوئی علم ہی نہیں تھا۔ باورچی خانے کے دھوئیں سے، وقت سے پہلے جالے بھرتی ہوئی اور اندھی ہوتی آنکھوں، جلتے ہوئے ہاتھوں اور سُن ہوتے ہوئے گھٹنوں سے وہ انجان تھے۔

 

بس ایک میں تھا، ایک اکیلا۔ بڑا ہوتا ہوا ایک بچّہ۔ جو باورچی خانے کے تماشے کا ایک عینی شاہد تھا۔ یا اُس عدالت کا جو روز وہاں لگتی تھی اور جس کے کٹہرے میں ایک دن مجھے بھی مجرم بن کر کھڑا ہوجانا تھا۔

 

انسان اپنے مقدّرسے بچ کر نہیں جاسکتا۔ مقدّر تو خود چل کر اُس کے پاس آتا ہے۔ ٹیڑھے میڑھے راستوں اور بھول بھلیّوں سے نکل کر اچانک کسی آسیب کی صورت آپ اپنے مقدّر کو اپنے سامنے کھڑا دانت نکالے ہوئے دیکھتے ہیں۔ آپ کے پیر پتھّر کے ہو جاتے ہیں۔

 

بارہ تیرہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے مجھے اُردو کے جاسوسی ناولوں کا چسکہ لگ گیا۔ یہ چسکہ بھی مجھے بڑے ماموں نے ہی لگایا تھا۔ ساٹھ کی دہائی کا زمانہ اُردو کے مقبول عام ادب کا زمانہ تھا۔ میں بری طرح اس ادب کا شکار ہوگیا۔ جاسوسی ناولوں کے ساتھ ساتھ میں نے ہر قسم کے رومانی ناول بھی چاٹ ڈالے۔ فلموں کا بھی شائق ہو گیا۔ اگرچہ فلمیں دیکھنے کو کم ملتی تھیں، مگر فلمی رسائل گھر میں پابندی کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ اور پھر ریڈیو تھا، اُس پر فلمی گانے آتے رہتے تھے۔

 

سچ بات تویہ ہے کہ میری شخصیت کی تشکیل میں جاسوسی ناول، گھٹیا قسم کے رومانی ناول اور چونّی والی فلموں اور اُ ن کے گانوں کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔

 

گھر سے نکل کر بائیں طرف دس بارہ قدم چلنے کے بعد ٹوٹی پھوٹی تین چار قبریں پڑتی ہیں، اُن قبروں کے پار انجم آپا کا مکان تھا۔ انجم آپا ہماری دور کی رشتہ دار تھیں اور عمر میں مجھ سے آٹھ نو برس بڑی تھیں۔ ان کا خاندان ہمارے مقابلے معاشی اعتبار سے کمتر تھا اور اُن کا باورچی خانہ بھی بہت چھوٹا سا تھا۔ جس میں سامان رکھنے کے لیے کوئی اندھیری کوٹھری نہیں تھی برتن بھی بہت کم تھے۔ اُن کے یہاں چولہے میں زیاد تر اُپلے ہی استعمال کیے جاتے تھے یا پھر ایک زنگ آلود بھدا سا مٹّی کے تیل کا اسٹوو تھا۔ مٹّی کے تیل کی انجم باجی کے یہاں بہتات تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے والد کی سرکاری راشن کی دوکان تھی۔ جہاں گیہوں، چاول،شکر، سستے کپڑے کے ساتھ ساتھ مٹّی کا تیل بھی رعایتی داموں پر فروخت ہوتا تھا۔ وہ آج کی طرح بازاری معیشت کا دورنہیں تھا اور اس چھوٹے سے شہر میں ایسی دوکانوں کی بہتات تھی۔ انجم آپا کو بھی فلموں سے اورجاسوسی ناولوں سے بہت دلچسپی تھی۔ وہ محلے کی لائبریری اور کتابوں کی دوکانوں سے دو آنہ کرایہ پر لے لے کر ناول اور رسائل پڑھا کرتی تھیں۔ میں اُن کو محبوب ناول ہائوس سے کرایہ پر لا لا کر ناول دینے لگا اور مشترکہ شوق کے باعث دوپہر میں میرا زیادہ تر وقت اُن کے ساتھ باورچی خانے میں گزرنے لگا۔ جہاں وہ اکثر مجھے گھر میں پلی ہوئی بکری کے دودھ کی چائے بناکر پلاتی تھیں۔ اُپلوں پربنی ہوئی چائے، فطرت کے زیادہ قریب مگر مقدّر—؟ ہاں مقدّر آہستہ آہستہ وقت کی لکیروں کے ساتھ رینگتا ہوا میرے پاس آرہا تھا۔ پتہ نہیں جاسوسی ناولوں کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔ میں نے اپنے اندر ایک چھٹی حس کو آہستہ آہستہ پروان چڑھتا پایا۔ مجھے اپنے اندر ایک خطرناک صلاحیت ہونے کے وجود کا خوفناک انکشاف ہوا۔

 

اس خطرناک صلاحیت یا خوفناک علم کی خبر سب سے پہلے مجھے میری آنتوں نے دی تھی۔ آنتوں کی وہ چکنائی جو میرے منھ سے نکلی، یہ اُسی کا دیا ہوا ایک وردان تھا یا کہ شاپ، ایک دُعا یا بددُعا؟ یہ تومیں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا مگر تمام عمر اس دُعا یا بددُعا کو سود کے ساتھ ادا کرتا رہا ہوں، بچپن سے اب تک۔ اِس عمر تک پہنچ جانے کے باوجود۔

 

میں ریاضی میں کتنا کمزور تھا، نہ عدد سمجھ میں آتے تھے، نہ ہندسے اور نہ اُن کے آپسی رشتے اور اُلجھاوے۔ مگر یہ ایک دوسری ریاضی تھی۔ ایک دوسرا حساب جس میں سوال کو حل کرنے کے لیے کھانے کے مختلف اقسام ہندسوں میں بدل گئے تھے اور باورچی خانہ ہی وہ منحوس جگہ تھی جہاں سے اِس علم میں علّت و معلول کے بظاہر مضحکہ خیز اور ناقابل تشریح سراغ ملنا شروع ہو جاتے تھے۔

 

یہ سب اچانک شروع ہوا تھا، ایک واقعہ کے بعد جو انجم آپا کے باورچی خانے میں پیش آیا تھا۔ اِس پُراسرار صلاحیت کی ابتدا انجم آپا کے باورچی خانے میں فرش پر رکھی ایک بنا ڈھکی بدقلعی دیگچی سے ہوئی تھی۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – ساتویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہمارا گھر ایک عجیب و غریب اور مثالی مشترکہ خاندان تھا۔ میرے ماں باپ کو چھوڑ کر وہاں سب ہی رہتے تھے۔ ماں میری پیدائش کے کچھ ہی مہینوں بعد چل بسی تھیں۔ اُنھیں پرانی ٹی بی تھی اور باپ پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ میری عمر شاید دوسال رہی ہوگی جب ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ اُن کی گولیوں سے ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ماں باپ کا ذکر ہی کیا کرنا، وہ ایک بند کتاب کی طرح ہے، جسے شاید کبھی نہیں کھولا جا سکے۔

 

مگر اُن کے علاوہ گھر میں افراد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ خاص طور پر چچازاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بھائیوں اور بہنوں کی، دادیہال کے علاوہ شاید میری پوری نانہال بھی یہیں آبسی تھی۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا حالات تھے جس کے سبب میری نانہال کے بہت سے لوگ مثلاً ماموں اور خالہ وغیرہ بھی اس گھر میں رہتے تھے جسے میں اپنا گھر کہہ رہاہوں۔ اصل میں گھر کس کا تھا اور کس کے نام تھا۔ نہ مجھے معلوم تھا اور نہ کبھی یہ دریافت کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوئی۔ مجھے اصل میں کون پال رہا تھا، میری پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری کس کی تھی مجھے یہ بھی نہیں معلوم۔ گاؤں میں ایکڑوں کے حساب سے زمین تھی اور وہاں سے اتنا اناج اور غلّہ آتا تھا کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نہ بچتی تھی۔

 

گھر میں کتنے افراد تھے، میں گن گن کر بتا سکتا ہوں، مگر مانا کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے لیکن آخر اُس پر زور کیوں ڈالاجائے۔ دماغ کے ایک چھوٹے سے حصّے میں اگر اتنی تصویریں زبردستی اکٹھا کرکے اُن کے نام لے لے کر گنایاجائے تو اس سے نہ تو اُن تصویروں کا کوئی بھلا ہوگا نہ دماغ کا۔ بہتر یہی ہے کہ میں پیچھے پیچھے آنے والے اُس وفادارکتّے کی چاپ ہی سنوں۔ اِدھر اُدھر کی دوسری آہٹوں کو نظرانداز کر دوں۔

 

انجم باجی میری خالہ زاد بہن تھیں۔ عمر میں مجھ سے کم از کم دس سال بڑی ضرور رہی ہوںگی۔ اس بھرے پرے گھر میں شاید وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں۔ چھ سات سال کی عمر تک تو وہ مجھے گود میں لیے لیے بھی گھوما کرتیں اور باہری دالان کے داسے کے کنڈے میں لٹکے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس مجھے لے جاتیں۔ اور طوطے سے کہتیں، “لو گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔” طوطا بڑا باتونی تھا، نقل اُتارنے کا ماہر، سُنبل اُس کا نام تھا۔ دو تین منٹ تک تو طوطا خاموشی سے اپنی آنکھیں گھما گھماکر ہم دونوں کو دیکھتا رہتا، پھر فوراً ہی اپنی واضح طور پر توتلی مگر غیر انسانی آواز میں بولتا۔

 

“ گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آ گئے”
انجم باجی ایک ہری مرچ میرے ہاتھوں میں تھما کر کہتیں۔
“لو سنبل کو مرچ کھلاؤ۔”

 

مرچ کو چونچ میں دبائے دبائے وہ ہم دونوں کو دیکھتا رہتا۔ پھرانجم باجی اسی طرح مجھے گود میں لیے لیے نل پر چلی جاتیں، اور اُس سے ملی دیوار پر مٹّی کے وہ گھر دِکھانے لگتیں جو بھڑیں بنا رہی تھیں۔

 

انجم باجی بہت گوری اور دُبلی پتلی نازک سی لڑکی تھیں۔ تب تو نہیں مگر بہت بعد میں غصّے کے کچھ کمزور اور کمینے لمحات میں، میں نے جب اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنا چاہا تو یہ ممکن ہی نہ ہوا۔ شاید کپڑوں کے اندر اُن کا جسم تھا ہی نہیں، یا کپڑے اُتارتے ہی اُن کے بدن کے تمام نشیب و فراز دھواں دھواں ہوکر تحلیل ہوجاتے تھے۔

 

اُن کے گورے بدن میں ایک پیلاہٹ تھی، وہ جس رنگ کا بھی کپڑا پہنتیں، اُس پر مجھے پیلے پن کی ایک پاکیزہ مگرپُراسرار سی چھوٹ پڑتی ہمیشہ محسوس ہوتی۔

 

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کسی شخص میں بس کوئی ایک ہی چیز نظر آتی ہے۔ آخر آنکھوں کی اپنی حماقت بھی تو ہوتی ہے یا اُن کا اپنا انفرادی المیہ۔

 

میری آنکھوں کو نہ تواُن کی آنکھیں کبھی صاف طورپرنظر آئیں اورنہ ناک یا ہونٹ اور جہاں تک گردن کے نیچے کا سوال ہے تواُن کے دوپٹے کا اُبھار مجھے دلکش تو لگتا تھا مگر جتنا دلکش لگتا تھا اُتنا ہی فطری اور عام بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ عورت اور مرد کا فرق تھا جس طرح ایک میز کرسی سے مختلف ہوتی ہے یا ایک کتاب پتھّر کی سل سے۔ اس لیے میرے اندر انجم باجی کے سینے کے اُبھاروں کے بارے میں کوئی تجسس نہ تھا۔ یاد رکھئے جنسی معاملات میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

 

اس لیے مجھے تو صرف ان کی گوری، اجلی، صاف ستھری رنگت ہی نظر آتی تھی۔ پتہ نہیں وہ خوبصورت تھیں یا یونہی سی تھیں۔ میں اپنی فطری یادداشت کو اُلجھن میں کیوں مبتلا کروں؟ میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

 

مجھے انجم باجی سے محبت ہو گئی تھی، بچپن میں، جب میں نیکر پہنتا تھا اور زیر ناف میرے بال بھی نہیں اُگے تھے، مگر میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اپنی ماہیت میں بچپن کا یہ عشق، جوانی بلکہ کسی بوڑھے بوالہوس کے عشق سے مختلف نہ تھا۔ باورچی خانے میں رکھے کچّے گوشت کے مانند جس پر گرم مسالوں کی تہہ نہ لگی ہو اور جو ابھی ہانڈی میں اُبلنے کے لیے نہ رکھا گیا ہو۔

 

محبت اورنفرت میں ایک بڑا واضح اور خطرناک فرق ہے۔ محبت کی شکل صورت، اس کا جسم، اس کے خطوط اور خدوخال یاد نہیں رہتے، مگر نفرت ہمیشہ ایک جسم اور چہرہ رکھتی ہے۔
آفتا ب بھائی سے مجھے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے،چاہے انھوں نے مجھے کتنی بھی ٹافیاں اور قلاقند کھلائے ہوں۔ آفتاب بھائی لمبے چوڑے جسم کے مالک تھے، رنگت اُن کی بھی گوری تھی مگر وہ انجم باجی کی طرح ایک پاکیزہ پیلی سفیدی نہ تھی۔ اُن کی جلد کی سفیدی میں لال رنگ چھپا ہوا تھا۔ ایسی سفیدی ہمیشہ اندر سے داغ دار اور تشدّد کی سیاہی سے پُتی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا پتہ بھلے ہی بعد میں چلتا ہو۔

 

اُن کی آنکھیں بھوری اوربے رحم تھیں اور دہانہ کسی بل ڈاگ سے ملتا جلتا تھا۔ جس کو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور مردانہ پن کی شان سمجھتے تھے۔

 

آفتاب بھائی، انجم باجی کے پھوپھی زاد بھائی تھے تومیرے کون ہوئے؟ پتہ نہیں بڑی گڑبڑ ہے۔ نہ جانے کیوں اس گھر میں اتنے عم زاد آکر کیوں اکٹھا ہوگئے تھے؟ غنیمت یہی تھا کہ یہاں بندروں نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تھا ورنہ وہ بھی ان تمام زادوں میں شامل ہو جاتے تو کوئی بعید نہ تھا۔
یقیناً آفتاب بھائی میں ایسی کوئی شے نہیں تھی جو اُن کے جسم سے ماورا ہونے کا امکان رکھتی۔ وہ پیٹو تھے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے تھے۔ جس کے فوراً بعد مٹھی میں سگریٹ داب کر لگاتار گہرے گہرے کش کھینچتے۔ سگریٹ کی بو اُن کے آس پاس ہونے کی علامت تھی۔
آفتاب بھائی سے میری نفرت کی شدّت میں اُس دن غیر معمولی اضافہ ہوگیا جب میں نے انجم باجی کی سانسوں سے اُس سگریٹ کی بو آتی ہوئی محسوس کی۔

 

میں بڑا ہورہا تھا یا یہ کہاجاسکتا ہے کہ میرے جسم کے اندر عمر کی مقدار بڑھ رہی تھی۔ جس سے جسم آہستہ آہستہ۔ آخر کا ربڑھاپے کی طرف بلکہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

 

اب انجم باجی مجھے گود میں نہیں لیتی تھیں۔ نیکر میں میری پنڈلیاں اور رانیں موٹی موٹی ہو گئی تھیں۔ میں واقعی موٹا ہورہاتھا اور زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزرا کرتا تھا۔ باورچی خانے میں ایک دن جب میں شکر میں دیسی گھی ڈال کر اُسے باسی روٹی کے ساتھ کھا رہا تھا تو میں نے دیکھا۔

 

میں نے باورچی خانے کی جالی میں سے زینے کی چوتھی سیڑھی پر دیکھا، آفتاب بھائی انجم باجی کو اپنے ہاتھ سے کیک کھلا رہے تھے۔

 

میرے ہاتھ سے روٹی گر گئی۔

 

انجم باجی کا منھ چل رہا تھا۔ میں نے شاید پہلی بار اُن کا منہ کھلا دیکھا۔ وہ جلدی جلدی، گھبرا گھبرا کر کیک نگل رہی تھیں۔ میں نے پہلی بار اُن کے حلق کی حرکت اور اُس کی ہڈی کو دیکھا۔ شدید قسم کے غم و غصّے نے مجھے آکر گھیر لیا۔

 

دوپہر تھی، مئی کی تپتی ہوئی دوپہر۔ باورچی خانے کی جالیوں میں زینے سے ہوکر آتی ہوئی لُو ہوک رہی تھی۔ آفتاب بھائی سے مجھے خوف سا محسوس ہوا اور اِس بات پر افسوس بھی کہ اب تک میں نے یہ غور کیوں نہیں کیا تھا کہ انجم باجی کے پیٹ میں بھی آنتیں تھیں۔ نہ جانے کتنی بار میں نے اُن کے ہاتھ ہی کا پکا ہوا پلاؤ کھایا تھا۔ وہ بہت نفیس پلاؤ پکاتی تھیں، جس کا رنگ خود اُن کی اپنی رنگت سے ملتا جلتاہوتا۔ اور اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا پتلا شوربہ جسے میں تام چینی کی سفید رکابی میں اُتار کر بڑے اہتمام سے کھاتا تھا، جس دن بھی انجم باجی کے کھانا پکانے کی باری آتی، میں پڑھنا لکھنا چھوڑ کر باورچی خانے میں اُن کے ساتھ ہی کھڑا رہتا۔ مجھے اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ہی اچھا لگتا تھا اور باورچی خانہ بھی اُس وقت مجھے دنیا کا سب سے حسین مقام معلوم ہوتا تھا جب وہاں انجم باجی کچھ کام کر رہی ہوتیں۔توا رنگ برنگی چنگاریاں بکھیرتے ہوئے ہنسنے لگتا جب وہ روٹیاں پکاتیں۔

 

بارہا میں نے انجم باجی کو کھانا کھاتے دیکھا تھا، مگر نہ جانے کیوں مجھے کبھی اُن کے جسم میں (اگر اُن کا کوئی جسم تھا) آنتوں کے ہونے کا رتّی برابر شائبہ تک نہ ہوا۔

 

مگر آج مئی کی اس سنسان گرم، تپتی ہوئی دوپہر میں۔ جب آسمان پر چیل انڈا چھوڑ رہی تھی، اچانک انجم باجی کے پیٹ میں نہ جانے کہاں سے آنتیں آگئیں۔ پل بھر کو آفتاب بھائی مجھے وہ نفرت انگیز چیل نظرآئے جو سڑک کے کنارے سڑتی ہوئی کسی اوجھڑی کو اپنی چونچ میں دبائے وہاں اُڑ رہی تھی۔

 

یہ غلیظ اور کراہیت سے بھری ہوئی اوجھڑی کسی بھی پاک صاف مقام پر، پاکیزہ جسم پر گر سکتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں چولہے کی بھو بل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔

 

میں نے زینے سے آتی ہوئی سرگوشی سنی۔

 

“باورچی خانے میں گڈّو میاں ہیں۔” انجم باجی تھیں۔

 

“وہ احمق موٹا ہوتا جارہاہے، سب اُسے گڈّو میاں کیوں کہتے ہیں، اُس کا اصل نام حفیظ ہے، حفیظ ہی کہنا چاہئیے۔” آفتاب بھائی ہنسے۔

 

“ابھی چھوٹا ہے، بن ماں باپ کی اولاد— وہ گڈّو ہی ہے۔ گڈّو میاں۔” انجم باجی کے لہجے میں پیار تھا۔

 

“یہ چھوٹاہے۔۔۔ اب کیا بتاؤں اُس دن جب یہ سورہا تھا۔ میں نے دیکھا۔۔۔” آفتاب بھائی نے کچھ آہستہ سے کہا تھا۔ یا جملہ غیر مکمل چھوڑ دیا تھا

 

“شرم نہیں آتی۔” انجم باجی غصے سے بولیں۔

 

اُس کے بعد سناٹا چھا گیا۔ میں چولہے کی بھوبل کے پاس اُسی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں اب رو نہیں رہاتھا۔ میرے کان آفتاب بھائی کے غیر مکمل جملے کے فحش پن کومکمل کر رہے تھے۔

 

اسی لیے میں نے کہا تھا کہ نفرت کا جسم بھی ہوتا ہے۔ اور چہرہ بھی۔ میں اپنی یادداشتوں پر تبصرہ کرتے رہنے کے لیے بھی مجبور ہوں۔ آخر جسم میں اتنی عمر آگئی ہے اور دماغ کے خلیے کمزور ہوکر مٹ رہے ہیں۔ میں جھکّی ہوتا جارہا ہوں۔

 

آفتاب بھائی اب میرے لیے سراپا نفرت کی ایک رسّی تھے جس سے میں بندھا ہوا تھا۔ اس رسّی سے بندھے ہوئے کسی وحشی جانور کی طرح میں انجم باجی کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔

 

وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں یا جان بوجھ کر انجان تھیں۔ اُنھیں دنوں اُنہوںنے مجھے اپنے ہاتھوں سے لال رنگ کا ایک سویٹر بھی بُن کر دیا تھا۔ میں نے وہ سویٹر آج تک نہیں پہنا، وہ اُسی طرح اُس لوہے کے کالے صندوق میں بند ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے سنا تھاکہ وہ میرے ماں باپ کا صندوق تھا۔

 

میں بظاہر اپنا وقت اسکول کی کتابوں میں گزارنے لگا۔ میں نے انجم باجی کے پاس جانا کم کر دیا۔

 

بس کبھی کبھی میں طوطے کے پنجرے کے سامنے جاکر اُداس کھڑا ہوجاتا۔ طوطا دیر تک آنکھیں گھما گھما کر مجھے دیکھتا اور پھر زو رزور سے بولنا شروع کر دیتا۔

 

“گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔ “
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھٹی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اپنی یادداشت پر اتنا غرور ہونے کے باوجود افسوس، میں یہ بتانا توبھول ہی گیا کہ ہمارے گھر میں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔

 

اس گھر میں، باورچی خانہ کبھی کبھی کھسک کر چاروں طرف رینگنے لگتا تھا۔ ٹین میں داسے پر لٹکا ہوا چھینکا جس میں زیادہ تر دودھ کا برتن ہوتا۔ (برابر میں سنبل کا پنجرہ جھولتا رہتا تھا) کبھی کبھی چھینکے میں سالن بھی ہوتا۔

 

داسے کے دوسرے سرے پر مدّھم اور اُداس روشنی والی لالٹین۔ اس روشنی میں چھینکے کا سایہ ہوا میں آہستہ آہستہ ڈولتا تھا۔ اُس وقت آنگن میں پُراسرار طریقے سے غیر مرئی اشیا اکٹھا ہوتی جاتی تھیں۔ کہیں کسی چھینکے میں اُبلا ہوا گوشت لٹکا تھا، کہیں درختوں کی کیاری کے پاس رکھے ایک چھوٹے سے لکڑی کے اسٹول پر بچی ہوئی روٹیاں ڈلیا میں رکھی تھیں۔ باورچی خانے کے جھوٹے برتن نل کی حوضیہ میں پڑے تھے۔ گھر میں کتّا کوئی نہ تھا ا ور بلّیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ توپاک صاف جانور تھے۔

 

آنگن میں کھانوں کی بے ہنگم ڈولتی اور کانپتی ہوئی پرچھائیاں جو چاندنی راتوں میں اپنی سیاہ لکیروں کی حدود سے، پُراسرار اندازمیں ماورا ہوجانے کے درپے تھیں۔ اور ایک نعمت خانہ بھی تو تھا۔باہر والے دالان میں، اندر کی طرف، مغربی دیوار سے لگا ہوا نعمت خانے میں ایک سیاہ جالی تھی۔ سیاہ تو وہ دُھول دھکّڑ سے ہو گئی تھی۔ جالی کے چھید، دھول خاک اور میل سے بند ہوچکے تھے۔ نعمت خانے کا لکڑی کا ڈھانچہ جگہ جگہ سے گل رہا تھا۔ کبھی لکڑی پر سفید رنگ پوتا گیا تھا، مگر اب یہ سفیدی بھی کلجماہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی۔

 

نعمت خانے میں انڈے، ڈبل روٹی، بڑے بڑے گول بسکٹ، کچھ پھل مثلاً زیادہ تر تو امرود یا خربوزے وغیرہ رکھے رہتے تھے۔ سیب اور انار کبھی کبھی ہی آتے اور وہ بھی شاید بیمار لوگوں کے لیے پتہ نہیں اُس کو نعمت خانہ کیوں کہتے تھے۔ مجھے تو وہ نعمت خانہ صرف اسی روز محسوس ہوتا تھا جب اُس میں شاہی ٹکڑے یا فیرینی کے پیالے رکھے ہوتے تھے۔ یا پھر کوئی مٹھائی۔ مگر یہ اشیا نعمت خانے کو روز روز کہاں نصیب تھیں۔

 

تو بس کھانا، کھانا اور کھانا۔ پورا گھر گویا مٹّی، گارے اور اینٹوںسے نہ بن کر پیاز، لہسن، ہلدی، دھنیہ، گرم مصالحوں اور گوشت اور ہڈیوں سے تعمیر ہواتھا۔ سارا سفر باورچی خانے سے شروع ہوتا تھا اور باورچی خانے پر ہی ختم ہوتا تھا۔

 

ساری محبت، ساری نفرت، ہر قسم کی لگاوٹ اور ہر قسم کا تشدّد باورچی خانے کے چولہے کی راکھ اور دھوئیں سے ہی نکل نکل کر گھر کے باقی حصوں یعنی برآمدے، دالان اور کوٹھریوں اور دروازوں تک پہنچتے تھے۔ باورچی خانہ ہی انسانوں کا گڑھا ہوا وہ متن تھا جس میں ہزار ہا معنی پوشیدہ تھے بلکہ معنی لگاتار پیدا ہوتے رہتے تھے۔

 

شادی، موت، ہر ہنگامے پر باورچی خانہ کا ایک انفرادی کردار ہوا کرتا تھا۔ نیاز، نذر اور تیوہار بس اِسی مقام پر اپنی معنویت کا مرکز رکھتے تھے۔ رَت جگوں کے گلگلے، کونڈوں کی پوریاں، کھیر، سویّاں اور موت کا حلوہ، سب اپنے ذائقے اور خوشبو کے لیے اسی کے مرہونِ منت تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ بقیہ تمام گھر، اُس کے آگے کمزور اور بے بس نظر آتا تھا۔ وہ قوت کا مرکز تھا۔ نئے زمانے کے جدید کچن کا باورچی خانوں کی عظیم مگر بھیانک روایت سے بظاہر کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔

 

چندرگُپت موریہ کے زمانے سے لے کر مغلیہ دورِ حکومت کے اختتام تک تاریخ اِس امر کی شاہد ہے کہ رسوئی اور باورچی خانے کا رول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت اہم مگر خفیہ نوعیت کا رہاہے۔ مہاتما بُدھ کی موت بھی بھکشا میں ملے ہوئے سڑے ہوئے گوشت کے کھانے سے ہی ہوئی تھی۔

 

باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔

 

منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔

 

مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟

 

آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!

 

ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔

 

مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔

 

بچپن سے ہی مجھے باورچی خانے سے ایک اجنبی اور نامانوس بُو کے آتے رہنے کا احساس تھا۔ یہ بُو ہلدی، مرچ، پیاز اور لہسن اور سرسوںکے تیل کے بگھار سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اُن سے الگ تھی۔ یہ زیادہ بھاری تھی اور اِسی لیے اس بُو کے سالمے بقیہ سے الگ اپنی ایک تہہ بناتے تھے۔ وہ ان سب اشیا کی بو میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔

 

وہ نامانوس بو کس چیز کی تھی؟

 

تب تو نہیں مگر اب اِس عمر میں، تقریباً بوڑھا ہوجانے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درندوں اور جنگلی جانوروںکے جسم سے آنے والی بو تھی۔

 

باورچی خانہ، آخر سرکس کا ایک تنبو بھی تو تھا۔

 

سرکس کے اس تنبو میں، ایک مسخرہ بن کر جیتے جیتے اور جانوروں کی بدبوئوں کے ساتھ رہ کر میری روح کی تمام خوشبو گھل گھل کر ختم ہوگئی۔

 

شایداب بھی میں کچھ جانوروں کے ساتھ رہتاہوں۔ اُن کا رِنگ ماسٹر اگرچہ مجھے قابو نہیں کرتا مگر میں اپنے آپ ہی اُس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں اُس کے چہرے اور اُس کے کوڑے دونوں ہی کے مزاج پہچانتا ہوں۔

 

میں جانوروں کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھ رہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ہی میرا آب و دانہ ہے اوراُن کے ساتھ ہی میرا پیشاب پاخانہ۔

 

میں اِن سب سے اور باورچی خانے سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ کوئی بھی نہیں جاسکتا۔
انسان کہیں نہیں جاتا۔ سب چیزیں اُس کے پاس آتی ہیں، بالکل آنے والے کل کی طرح۔
آنے والا کل، شاید صرف اُس جسم کے لیے نہ ہو جو آنتوں اور معدے سے خالی ہو۔

 

مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔ اور بھوک ایک آگ۔ پیٹ کی آگ کے لیے کھانا چاہئیے۔ کھانا کھانا ایک یگیہ سے مماثل ہے۔

 

ویسے بات کچھ خاص نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں استعارے سے کتراتا ہوں، مجھے تشبیہ پسند ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ ہو گا بعد میں، ہماری موت کے بعد
کہ وہ مُردہ ہو جائے گا
اور گھنٹیاں بجیں گی مرنے والوں کی
اُس کے لیے
ملارے

 

……………..

 

ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آرہا تھا۔ وہ پُرانے مُردوں کے پاس آیا تھا اور ہر جذبے، احساس اور کیفیت سے خالی محض ایک چکراتا ہوا بگولا تھا یا ایک ایسی ممی بن چکا تھا جس کے دماغ کو اُس کی ناک کے ذریعے مہارت کے ساتھ باہر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے تاکہ جسم سڑ گل نہ سکے۔ دماغ کوڑے دانوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جسم ہواﺅں میں۔

 

دماغ اور جسم کی اس دائمی جدائی کے سبب دونوں کے درمیان صرف سائے پیدا ہوتے ہیں، جذبوں اور احساس سے خالی، محض تاریک سائے۔

 

یقینا وہ جذبات ہی تو تھے جن کے دریا جیسے پاٹ پر وہ گناہوں اور جرائم کے گھڑے رکھ کر کھینچا کرتا تھا اور وہ دماغ ہی تو تھا جو ان گھڑوں کو بنانے اور پھر چھپانے کی ترکیبیں سجھایا کرتا تھا۔

 

تب یہ گھڑا آسانی سے کھنچتا چلا جاتا تھا کیونکہ اس میں اُس گھڑے کی مٹّی کے خالق اور اس کے دریا کا زور اور بہاﺅ بھی شامل تھا۔ ایک زائد طاقت، ایک بیرونی امداد۔

 

مگراب وہ ایک اکیلا آدمی تھا۔ دنیا کے پہلے آدمی کی طرح اکیلا اور غریب۔ خدا کے رحم و کرم پرمبنی کیونکہ جہاں دریا بہتاتھا وہاں ریت کی ایک لمبی اور گہری کھائی ہے۔ اب اس پاپ کے گھڑے کو اکیلا، ریت پر وہی کھینچتا ہے۔ زوالِ آدم کے اِس تماشے کو ہوا دیکھ رہی ہے اور یہ بھی کہ اُس کے پاﺅں کے نشانوں سے ریت پر سانپ کی سی لکیر بنتی جاتی ہے۔

 

یہ ہے میرا سانپ! مگر تمھارا سانپ کہاں ہے؟

 

اپنا سانپ بھی تو دِکھاﺅ، اے فرشتو اور شریف نیک دل انسانو!

 

اُسے چیخ کر غصّے اور احتجاج کے ساتھ کہنا چاہئیے تھا مگر نہیں کہا۔ اُس کے ہونٹ سڑے ہوئے شہد سے سنے ہوئے تھے اور ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بھنچ گئے تھے تاکہ اب تالو اور حلق میں خاموشی بھی سڑنے لگے۔

 

اُس کا کاکروچ باورچی خانے کی اینٹوں تک پہنچ گیا۔

 

ہوا نے دیکھ لیا کہ ٹھیک یہی وقت تھا جب اُس کا بایاں پیر مٹّی کے گارے میں پھنس گیا اور اندر— گہرائی میں دھنستا ہی چلا گیا۔ اُس نے لوہے کے ایک پائپ کو کس کر پکڑ لیا، ورنہ منھ کے بل اپنے ہی سائے کے اوپر گرپڑتا، اگرچہ سایہ نظر نہ آتا تھا، وہ خود ہی ایک سایہ تھا۔

 

زنگ لگا ہوا لوہے کا یہ موٹا پائپ دراصل گزرے زمانوں کے پانیوں کا نل تھا۔

 

اس کی قسم کھائی جاسکتی ہے کہ ہوا چاہے کتنی بھی دبی کچلی ہو، وہ پھپھوندی لگی ایک چٹان یا پھر خدا کی مہربانی سے پتھّر کی مورت ہی کیوں نہ بن جائے، وہ بارش کی آہٹ کو ہمیشہ، دور بہت دور سے ہی پہچان لیتی ہے۔ بارش سے ہوا کا ایک ابدی اور پُراسرار رشتہ ہے۔ ایک بھید، کچھ کچھ انسانوں کے درمیان کے بھیدوں جیسا۔

 

ہوا نے پہچان لیا کہ بارش آرہی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری، اجنبی ہوا بھی تھی۔ ایک ایسی ہوا جس کا تعلق اس گھر سے نہیں تھا؛ بارش کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ مُردوں کو گھسیٹ کر لے آنے والی ہوا۔

 

چلنے سے معذور، درخت کی سوکھی لاش کے نیچے دبی ہوئی ہوا نے اس غیر، اجنبی اور زور زور سے چلتی ہوئی، آنے والی ہوا کو سونگھا اور اُس کی بے رحمی کو پہچان لیا۔ اُسے اِس پرائی ہوا سے کوئی حسد نہیں ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ ہر ہوا کو ایک دن پتھّر بن کر سنّاٹے میں جذب ہوجانا ہے۔

 

اور یقیناً وہ آئی۔

 

بارش آ گئی، کسی دوسری دنیا کی ہوا کے کاندھوں پر سوار۔

 

بے آواز بارش میں اُس کا سر بھیگ رہا تھا۔

 

بارش ہوتی رہی۔ اُ س کا سر بھیگ بھیگ کر جوﺅں سے بھر گیا۔ وہ ایسے ہی، ملبے پر کھڑا رہا، خاموش، مٹّی میں دبے اپنے ایک پاﺅں کے ساتھ ۔ وہ اُس پرائی اور کالی ہوا کی چپیٹ میں آگیا۔ اس کا سرخ سویٹر، نیلی قمیص اور کرمچ کے سفید جوتے کالے پڑ گئے۔ اُ س کی آنکھوں تک میں کالی ہوا بھر گئی، مگر ہر فیصلہ موت تک ہی نہیں منحصر ہوتا۔ وہ بعد میں بھی سنایا جاسکتا ہے، وہ کالی ہوا میں جھومتا اور بارش میں بھیگتا ایک پاﺅں پر اِسی طرح کھڑا رہا۔

 

”گڈّو میاں آ گئے، گڈّو میاں آگئے، “

 

ہوا نے سنّاٹے کی سفید چادرکے تھان سے کٹنے کی آواز کو سن لیا۔ یہ وہی آواز تھی جو کپڑے کی چادر کو تیز دھار والی سفاک قینچی سے کاٹنے پر پیدا ہوتی تھی۔
وہ اس سفید سنّاٹے کی دوگز کی کترن کو اپنے جسم پر لپیٹنا چاہتا تھا۔ وہ موت کا بہی کھاتا تیار کرنا چاہتا تھا، تاکہ اُس میں اپنی موت کے اندراج کے ساتھ دوسروں کا حصّہ بھی لکھ سکے۔ روٹی اور حلوے کے حصّے کی طرح تاکہ جلد ہی لگنے والی عدالت میں ایک ملزم کی حیثیت سے وہ غیر حاضر نہ ہو، چاہے عدالت میں کوئی منصف ہو یا نہ ہو۔

 

”گڈّو میاں آگئے۔“

 

ہوا نے کچھ خوش اور کچھ مغموم ہوکر دیکھا کہ بارش میں بھیگتے ہوئے اُس کے سائے نے اس بار اِس توتلی آواز کو پہچان لیا تھا۔

 

ہوانے مُردوںکے قدموں کی دھمک کو خاموشی سے سنا۔ وہ سب آرہے تھے، ان کی تعداد کو اُن کے قدموں کی دھمک سے نہیں گنا جاسکتا تھا۔

 

لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو۔

 

مگر یہ سب ہوا نے ہی دیکھا۔ وہی اِس المیے یا طربیے کی اِکلوتی عینی شاہد تھی۔

 

اور اگر وہاں ایک بار، بارش کے ساتھ کوندا نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی ہوا یہ دیکھ لیتی کہ باورچی خانے کی گرتی ہوئی دیواروں پر بے شمار کاکروچ اکٹھا ہوگئے ہیں۔ عدالت لگ گئی ہے۔

 

باورچی خانہ— ایک خطرناک جگہ ہے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پہلی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہر آنے والا ضروری نہیں کہ آیا ہی ہو
کہ خود نہ آیا ہووہ صرف اس کا سایہ ہی ہو
(فرحت احساس)

 

میں پُر اسرار ہوں
مگر صرف جسم کے تعلق سے
میری روح عام اور معمولی ہے
اور سوچتی نہیں ہے
(فرنانڈو پیسوا)

 

ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

 

اُس کی اُداسی اُس کے پیروں سے گر گر کر زمین پر اکٹھا ہوتی جاتی تھی۔ یہ اُداسی بھی کیسی تھی؟ یہ کسی بند کنویں میں جھانکنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھنے والی ایک افسردہ نظر کی طرح تھی اور آسمان لامتناہی طو رپر بے رحم تھا۔ یہ لامتناہیت صرف خوف پیدا کر سکتی تھی۔ سارے معنی، سارے مفہوم اسی لامتناہیت میں ڈوب ڈوب جاتے تھے۔

 

اس وسیع تر، بھیانک منظر میں محبت سے پکائی گئی دو روٹیاں ہی تھیں جو پرچم بن کر لہرا رہی تھیں۔ مگر یہ روٹیاں اب کسی معدے کے لیے نہ تھیں، یہ خون بن کرجسم میں دوڑنے کے لیے نہ تھیں۔ یہ فُضلہ بن کر جسم سے نکل کر تاریک موریوں میں بہہ جانے کے لیے بھی نہ تھیں، یہ تو دو گواہیاں تھیں۔ روح کی گواہیاں، ریاضی کے دو شفاف ایماندار ہندسوں کی مانند— لُٹی پٹی، اُجاڑ شکل دنیا کے ماتھے پر، لافانی اور پاکیزہ بندیا کی طرح چمکتی ہوئی، چولہے کی راکھ تک ٹھنڈی ہوئی مگر یہ لافانی ہیں اور گرم ہیں۔

 

اِس لیے ہوا نے دیکھا کہ وہ صرف اُداس ہے ۔وہ رو نہیں رہا، وہ شاید روئے گا بھی نہیں۔ وہ اپنے نمک کو سنبھال کر رکھے گا، نمک میں لاشیں دیر سے سڑتی ہیں۔ اُسے ابھی کتنا کچھ بچا کر رکھنا ہے۔

 

ہوا نے بہت سائے دیکھے تھے، ایک زمانے سے وہ صرف سائے ہی دیکھتی آئی تھی۔ کتنے سائے گہری، چوڑی اور ایک تاریک ندی میں چلتے چلے گئے ہیں۔ اُن کے پاؤں ریت سے اُتر کر گہرے پانیوں میں چلے گئے اور تب وہ اور بھی دبیز گہرے سایوں میں بدل گئے۔ ہر سفر سے واپسی پر پانی ہی کی طرف جانا ہوتا ہے۔ خلا نام کی کوئی شے نہیں، سب کچھ پانی ہے جو نظر نہیں آتا، مگر وہ ہر اُس جگہ موجود ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے، یا پھر نفرت۔

 

وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ دو نفس اور بھی تھے، ایک کن کٹا اورلنگڑاتا ہوا خرگوش کا سایہ جو اُس کے پیچھے پیچھے تھا اور ایک کاکروچ تھا جو اُس کی قمیص کے کالر پر تتلی کی طرح بیٹھا تھا۔

 

ہوا، اس گھر کی یا اِس مقام کی پرانی ہوا، یہاں کی ازلی مکین، ایک گرے ہوئے بھاری اور سوکھے درخت کے نیچے دبی کچلی پڑی تھی اور اب تقریباً پتھّر بن چکی تھی۔

 

درخت اپنے پتّوں، اپنی شاخوں کو نہ جانے کب کا کھو چکا تھا۔ صرف کچھ سوکھی جڑیں رہ گئی تھیں۔ زمین کے اندر ایک بے معنی اور مضحکہ خیز حد تک قابل رحم انداز میں پیوست، اور ہاں درخت کا تنا بھی تھا جو ایسی لکڑی بننے کے بہت قریب آچکاتھا جس سے گھر کے دروازوں کے جوڑ اور چوکھٹیں بنائی جاسکتی تھیں۔

 

ایسی ہوا چلتی نہیں ہے ۔یہ نہ کسی کے جسم کو لگتی ہے نہ الگنی پر لٹکے کپڑے سکھاتی ہے۔ یہ بس پتھّر بن کر اُس ملبے کے نیچے سے جھانکتی ہے۔ یہ اُس درخت کا ملبہ ہے جس سے نکل نکل کر وہ باہر آتی تھی۔ جھونکوں کی صورت چلتی تھی یا میلوں لمبی مسافت طے کرکے، جس کے پتّوں اور ٹہنیوں تک وہ آتی تھی۔ وہ درخت!

 

وہ آم کا درخت جو گزرے زمانوں کے آنگن میں لگا تھا، ہوا کو معلوم تھا کہ درخت کی کب کی موت ہو چکی۔ پھر بھی وہ اُسے چھوڑ کر نہیں گئی۔ جس طرح ایک بدنصیب بندریا اپنے مُردہ بچّے کی لاش کو لادے لادے، اپنے قابلِ رحم پیٹ سے چپکائے چپکائے پھرتی ہے، بالکل اُسی طرح ہوا اپنے درخت کی لاش کو ڈھو رہی تھی اور اُس کے ملبے کے نیچے پتھّر بن گئی تھی۔

 

پتھّر سے بڑا چشم دید گواہ کون ہے؟

 

وہ لڑھکتا، ٹھوکر کھاتا، بچتا بچاتا چل رہا تھا۔ ہوا نے محسوس کیا، زمین کے سینے پر پڑے پڑے، کہ اب زمین اپنا رونا نہیں روک پائی ۔ زمین اس کے کرمچ کے جوتوں پر رو رہی تھی جو گیلی مٹّی پر پھسل رہے تھے، وھنس رہے تھے ۔ ہوا کو یہ بھید بھی جلد ہی معلوم ہوگیا کہ وہاں ایک سنّاٹا بھی اپنی کہانی لکھ رہا تھا۔ ہوا کے لمبے لمبے کانوں میں سناٹا اپنی کہانی اُنڈیل رہا تھا۔

 

اور وہ —؟ اس نے سنّاٹے کو اپنے ٹھنڈے، گیلے جوتوں میں بھر لیا— اُسے شاید معلوم تھا کہ کیا رُونما ہونے والا ہے۔ ایک پتلی ندی کا شکار کرنے کے لیے، کہیں سے گھوم کر ایک بھیانک دریا چلا آرہا تھا۔ اور ندی، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس دریا میں ملنے کو اپنا مقدّر مانتی ہوئی آہستہ آہستہ خود ہی اُس کی طرف رینگ رہی تھی۔ یہ ایک جال تھا جس میں وہ خود ہی پھنستی جاتی تھی۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ سائے کی طرح، ایک کونے میں کھڑا ہے۔

 

اُسی لمحے وہ سو سال پرانا سانپ جس کی پھنکار سے گھر کی مرغیاں دہشت زدہ ہوکر مر جاتی تھیں، لہراتا ہوا، تقریباً اُسے چھوتا ہوا گزر گیا۔ یہ سانپ بھی اس گھر کا پرانا مکین تھا، مگر اُس نے نہ اُسے دیکھا نہ محسوس کیا۔ اُس نے اُن بے شمار بندروں کے سائے بھی نہیں دیکھے جن سے یہ گھر بھرا ہوا تھا۔
ہوا نے دیکھا کہ ایک جھولتے ہوئے وزنی مگر دیمک زدہ شہتیر کے نیچے سے نکلتے وقت شہد کی مکھّیوں کا ایک خالی چھتّہ اُس کے سر سے ٹکرایا تھا مگر اُسے پتہ نہ چلا۔ چھتہ جس میں کوئی مکھی نہ تھی۔ وہ ویران پڑا تھا، اس لیے اب وہ کتھئی سنہرے رنگ کا نہ ہوکر خالی اور سوکھے اجسام کی ایک سفید صورت تھا۔ اس کی مکھّیاں بھٹکتی ہوئی کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گئی تھیں۔ وہ اب چھتہ نہ ہوکر چھتّے کا کفن نظر آتا تھا۔ اتنا ہلکا، اتنا کمزور اوربے وقعت کہ بے حد حبس میں بھی، وہ آہستہ آہستہ ہلتا اور کانپتا تھا۔

 

مایوس کُن حد تک خطرے سے خالی یہ چھتہ جب اُس کے سائے سے ٹکرایا تو گر جانے سے بال بال ہی بچا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ اُس نے ٹھوکر کھانے سے بچتے ہوئے، درخت کے مردہ، سوکھے تنے کو پھلانگا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ سے جہاں وہ تنہا اور سنسان کھوکا ہے جس میں لوسی اور جیک بارش سے پناہ لینے کے لیے آکر بیٹھ جاتے تھے۔

 

کھوکا اُس تنے کے ”اکیلے پن“ پر گدا ہوا ایک دوسرا اکیلا پن ہے۔ خالی گھونسلہ جو ایک بار چھوڑ د یئے جا نے کے بعد پھر کبھی آباد نہیں ہوتا، وہ لوہے کا گھونسلہ بن جاتا ہے، اور درخت کا تنا اپنے پھولوں، پھلوں، پتّیوں اور شاخوں سب سے الگ، اکیلا اور اُس کے نیچے ایک کچلی ہوئی مگر زندہ ہوا، ہوا کو موت نہیں آتی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اکیلی ہے۔ وہ جم کر پتھّر بن سکتی ہے یا برف۔

 

ہوا چشم دید گواہ ہے کہ وہ اس طرح بھٹک رہا تھا جس طرح اگھوری سادھو شمشان میں بھٹکتے رہتے ہیں تاکہ کسی لاش میں اپنی روح داخل کرکے اُسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں۔

Image: Mathew Borrett