Categories
نقطۂ نظر

مرد،عورت اور قبائلی سماج

مردوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی اختیارات میں اضافے سے عورتوں سمیت ہر کمزور طبقے کی آزادی، مقام اور حقوق محدود ہوئے ہیں۔
تاریخ میں مرد اپنی جسمانی ہئیت اور (روایتی ذہن کے مطابق) جنگجو خصلت کی بنا پر طاقت کا محور اور حکمرانی کا خدائی حقدار خیال کیا جاتا رہا ہے لیکن عہدِقدیم میں ایک دور ایسا بھی تھا جب خاندانی نظام میں مرد کے مقابلے میں عورت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی جسے مادرسری نظام کا دور کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں وراثت کا سلسلہ ماں سے منسوب ہوتا تھا او رخاندانی زندگی میں عورت کو مرکزی اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن ذرائع پیداوار میں تبدیلی نے سماجی نظام میں بتدریج مرد کی حیثیت عورت سے ‘برتر’ تسلیم کر لی، قرونِ وسطیٰ سے دورِحاضر تک تقریباً ہر معاشرے میں پدرسری سماجی نظام قائم رہا۔ مردوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی اختیارات میں اضافے سے عورتوں سمیت ہر کمزور طبقے کی آزادی، مقام اور حقوق محدود ہوئے ہیں۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقاء کے بعد انسانوں کی اہمیت ان کی جسمانی ہئیت، جنسی اختلاف یا طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انہیں بلاامتیاز مساوی حیثیت کا حامل خیال کرنا شروع کیا۔ تاہم سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی اقدار بھی مکمل طور پر انسانی تفریق اور امتیازی سلوک کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اس کے لیے ایک طویل مسافت ابھی باقی ہے۔

 

پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں ایک جانب ملک کا بہت بڑا حصہ فرسودہ قبائلی رسم و رواج کا پابند ہے اور دوسری جانب جاگیردارانہ نظام اور زرعی معاشرت بھی اپنی تمام تر تضادات کے ساتھ اپناوجود برقرار رکھے ہوئے ہے وہاں انسانی مساوات اور امتیازی سلوک کے خاتمے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ اس قدامت پسند ماحول میں سرمایہ داری کی جڑیں ابھی پھوٹ رہی ہیں اور جدید انسانی تہذیب کی ہر شکل کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ گو تبدیلی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور تبدیلی کے سیلاب کو روکنے کی ناکام کوششیں بھی ہر دور میں ہوتی رہی ہیں لیکن ان حالات میں اگر کہیں سے تبدیلی کا ہلکاسا جھونکا بھی محسوس ہو تو قبائلی وجاگیردارانہ نظام کی بندشوں میں کسے ہوئے سماج میں ان کی مخالفت میں پرزور آوازیں اٹھتی ہیں۔ پاکستانی معاشرہ چونکہ رجعت پسند قبائلی، جاگیردارانہ اور مذہبی نظاموں کی کھچڑی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں اب بھی مذہب کی چادر تلے قبائلی وجاگیردارانہ رسوم ورواج کو تقدس کالبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین کا استحصال معمول کی بات ہے، بچوں پر تشدد عام ہے اور اقلیتوں کو بھی دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے۔

 

گزشتہ ایک دہائی کے دوران البتہ پاکستانی ریاست کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی تبدیلی کا ایک مظہر خواتین کے تحفظ کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران البتہ پاکستانی ریاست کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی تبدیلی کا ایک مظہر خواتین کے تحفظ کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہے۔ خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی نے’تحفظ نسواں‘ کے قانون کی منظوری دی تو مذہبی طبقات اور قدامت پسند حلقوں نے مذہب کی آڑ میں اس قانون کی مخالفت شروع کر دی۔ پاکستانی تاریخ میں اس قسم کے قوانین کی مخالفت نئی نہیں۔ نامور مورخ محترم ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ’المیہ تاریخ‘ میں لکھتے ہیں ’جاگیردارانہ سماج میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ملکیت کی ہوتی ہے جہاں اس کی آزادی، حقوق اور رائے مرد کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس معاشرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی اقدار کو فروع دیا جائے جن کے ذریعے عورتوں کو مرد کا تابع اور فرمانبردار رکھا جائے اور اس کی آزادی کے تمام راستے مسدود کر دئیے جائیں‘(ص67)۔

 

علماء کا ایک مخصوص طبقہ اپنے روایتی رجعت پسندانہ خیالات کی آڑ میں نہ صر ف اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے بلکہ اسے اسلام اور آئینِ پاکستان سے متصادم اور بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی سے تعبیر کر رہا ہے۔ افسوس اس بات کی ہے کہ جو علماء آج تحفظ نسوان کے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہی کل تک طالبان کی حمایت کر رہے تھے۔ اُس وقت ان حضرات کو بے گناہوں پاکستانیوں کا قتلِ عام نظر نہیں آ رہا تھا اور آج خواتین پر ہونے والا تشدد۔ علماء تحفظ نسوان کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے عورت کو حقیر اور مرد سے کم تر مخلوق قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ علماء کے اس گروہ کی نمائندگی مفتی نعیم کر رہے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس کاروان کے سالاروں میں نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے تبصروں اور تجزیوں کے نام پر الیکٹرانک میڈیا میں انہی مخصوص افراد کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا محض سنسنی کی خاطر اس معاملے کو متنازع بنا کر پیش کر رہا ہے۔
مفتی نعیم کے علاوہ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ بھی تسلسل کے ساتھ ایک ہی نقطہ نظر کی تکرار کر رہے ہیں کہ موجودہ قانونی مسودہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے ۔عورت جذباتی، کمزور اور بے وقوف جنس ہے جسے اگر آزادی ملی تو نہ صرف مردوں کا جینا دوبھر ہوگا بلکہ اس سے خاندانی نظام بھی تہس نہس ہوسکتا ہے”۔ شیعہ عالم علامہ شہیدی بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بل کو پنجاب اسمبلی سے پاس کروانے سے قبل اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے سامنے لا کر اس کی اصلاح کروائی جاتی تو اس قسم کے ہنگاموں کے امکانات کم ہوتے۔ بندہ پوچھے کہ بھیا! پاکستان کے آئین میں صرف تین اداروں یعنی مقننہ (صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ)، عدلیہ اور انتظامیہ کی گنجائش موجود ہے ۔ مقننہ کی ذمہ داری قانون سازی ہے، عدلیہ کسی قانونی پیچیدگی کی تشریح کی مجاز ہے اور انتظامیہ کا کام آئین وقانون کو نافذ کرنا ہے پھر اسلامی نظریاتی کونسل کو پاسلیمان اور عدلیہ سے مقدم جاننے کا جواز کیا ہے؟

 

علماء کا ایک مخصوص طبقہ اپنے روایتی رجعت پسندانہ خیالات کی آڑ میں نہ صر ف اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے بلکہ اسے اسلام اور آئینِ پاکستان سے متصادم اور بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی سے تعبیر کر رہا ہے۔
ان سارے مظاہر پر بات کرنے سے قبل ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا تحفظ نسوان کے قانون کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہوسکتا ہے؟ جبکہ اس قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی بھی کمزور پر ظلم و تشدد ہو جائے بالخصوص گھریلو تشدد تو متاثرہ فرد (مرد یاعورت) قانون کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تشددکرنے والا مرد خواہ کسی بھی خاندانی حیثیت میں ہو اگر کوئی عورت اپنے شوہر، باپ، بھائی یا بیٹے کے خلاف شکایت درج کرائے گی تو اس سے مرد کو ملنے والی سزا کے باعث خانگی اور ازدواجی زندگی میں مزید رہنا ممکن نہیں ہو گا اور یوں خاندانی نظام برباد ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ خاندانی نظام کا مطالعہ فرقہ وارانہ انداز یا الماوردی، المودودی یا امام خمینی کی تصنیفات کی بجائے علم عمرانیات کے اصولو ں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں ۔ خاندانی رشتوں کو طاقتور اور کم زور، حاکم اور محکوم، نگران اور رعیت کے تعلق پر قائم رکھنا کسی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ خاندانی رشتوں کی بنیاد باہمی اخوت اور محبت ہونی چاہیئے اگر ان کی جگہ تشدد،ظلم اور بربریت لے لیں تو ایسے میں رشتوں اور خاندانی نظام کو برقرار رکھنے کی بجائے انسانوں کو ایسے جابرانہ بندھنوں سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے خاندانی نظام کو ڈر اور خوف کی بجائے خوشی اور محبت کے جذبوں پر استوار کئے ہوتے توپھر عورت اور مرد کو جتنی بھی آزادی دی جائے خاندانی نظام ٹوٹنے کی بجائے مزید مستحکم ہوسکتے ہیں۔

 

اگر علماء کی اس دلیل کو ماضی میں درست مانا جاتا رہا ہے کہ عورت جذباتی، کمزور اور بے وقوف ہوتی ہے، تو بھی جدید سماجی تصورات اس دلیل کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ بحیثیت انسان مرد اور عورت دونوں جذباتی ہوتے ہیں اور دونوں ہی مختلف حالات میں کمزور ہو سکتے ہیں۔ فرق اس سماجی پس منظر کا ہے جس میں مرد اور عورت کو مختلف سماجی کرداروں میں ڈھالا جاتا ہے۔ روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔ لیکن جدید معاشرے میں انسانوں کا کردار جسمانی ہئیت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ آج کا معاشرہ انسانی مساوات کی بنیاد پر استوار ہے۔ خواتین اور مرد کے مابین موجود جسمانی فرق کی بنیاد پر مردانہ برتری کا جواز بھی ناقابل قبول ہے۔ طبی علوم کی ترقی کے باعث یہ دلیل اپنا وزن کھو چکی ہے۔ عورت اپنی روایتی حیثیت میں بھی بے پناہ جسمانی مشقت کر رہی ہے جسے کسی بھی طرح مردانہ مشقت سے کم تر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں پالنا اور اس دوران گھر والوں بالخصوص شوہر کے ناز نخرے برداشت کرنا کسی مرد کے بس کا روگ نہیں۔ زچگی کے دوران خواتین کی اموات کے امکانات بے حد زیادہ ہوتے ہیں۔ حمل کے دوران اور زچگی کے بعد بھی اسے بچے کی نگہداشت کے دوران اپنے جسم سے خوراک تیار کرکے بچے کو پالتی ہے، کیا یہ سب کسی کمزور یانحیف انسان کے بس کی بات ہے؟

 

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔
رجعت پسند ذہن عورت کو صرف جنسی مباشرت کے حوالے سے دیکھنے کا عادی ہے اور اس تناظر میں عورت کو مفعول اور زیردست سمجھتے ہوئے کم تر خیال کرتا ہے۔ جو لوگ عورت کے جسمانی ساخت کا مذاق اڑاتے ہیں وہ دراصل اپنی کم علمی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑتے ہیں۔ کیونکہ اگر مرد کا جسمانی ساخت عورت سے مختلف ہے تو اسی طرح عورت کی جسمانی ساخت اسے مرد سے ممتاز کرتی ہے ۔ عورت اور مرد کی جسمانی اختلافات کو کم تر یا برتر قرار دے کر اس کی بنیاد پر معاشرے کو تشکیل دینے کی بجائے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انسان کی بقاء ہی عورت اور مرد کے جسمانی اختلاف پر ہے۔ مرد اور عورت کی جنس قدرت کا فیصلہ ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کو کسی پر برتر یا کم تر نہیں ثابت کیا جا سکتا۔ آج مرد کو عورت کا نگران یا حاکم قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ عورت مرد کے مساوی انسانی حیثیت کی حامل ہے اور مردکے ساتھ ہر تعلق میں اپنی رضامندی سے شریک ہونے یا الگ ہونے کا حق رکھتی ہے۔

 

خواتین پر گھریلو تشدد کے قانون پر علماء کے اعتراضات سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا مذہبی ذہن انیسویں صدی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ دوسو برس قبل مولانا اشرف علی تھانوی نے ’بہشتی زیور‘ لکھ کر عورت کو مرد کی اچھی خدمت گار بننے کی ترغیب دی تھی۔ آج مفتی نعیم، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چل کر معاشرے کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

فیصلہ کرنا جرم ہے

27 مئی 2014 لاہور کی ایک عدالت کے احاطہ میں پولیس کی موجودگی میں فرزانہ نامی ایک عورت کواینٹوں کے وار سے اسی کے باپ،بھائی اور 20 افراد نے سنگسار کردیا ۔ رابعہ کا جرم یہ تھا کہ اس نے پسند کی شادی کی تھی جو کہ پاکستانی معاشرے میں یقیناً بہت ہی سنگین جرم ہے۔پاکستان میں ایسے واقعات نئے نہیں۔ پاکستاں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جا تی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کے خلاف ملک بھر میں کہیں بھی کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں کیا گیا۔ انتخابات میں دھاندلی پر احتجاج کیا جا رہا ہے تو کہیں فوج کو ٹھیس پہنچا نے پر احتجاج کر کے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا جا رہا ہے مگر اس غیر انسانی فعل کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرنے کا خیا ل ان چند سر پھروں کا ہی آیا جو کڑی دھوپ میں انسانی حقوق کا علم بلند کرنے کی رسم نبھانے پریس کلب کے سامنے اپنی بے بسی اور نسبتاً کم تر بے حسی کا اعلان کرنے جمع ہو جاتے ہیں۔ایسے سنگیں واقعات پر بے حسی ہماری اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم میں کمی نہ ہونے کا ایک بڑا سبب عورت کے اپنی مرضی سے شادی کرنے، میل جول رکھنے، مخلوط ماحول میں ملازمت کرنے یا گھر سے باہر آنے جانے کو بے حیائی اور گناہ سمجھنا ہے۔
ہمارے یہاں عورتوں کو انسان یا کم از کم مرد کے برابر انسان تسلیم نہیں کیا جاتا۔ تقدیس، حیا اور مشرقیت کے نام پر صدیوں پرانےتصورات پر مبنی رسم و رواج اور عقائد کی پیروی صرف عورتوں کو مردوں کا مطیع رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور پردہ کو عورت کو محکوم اور خود سے کم تر ثابت کرنے کے لئے نہ صرف استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ان جرائم کو تحفظ بھی دیا جاتا ہے۔ قصاص اور دیت کے قوانین کی وجہ سے عورت کے خلاف غیرت کے نام پر جرائم کرنا اور پھر ان کا ارتکاب کرنے والے محرمین کو معاف کرنا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ کسی بھی عورت کو اس کے فیصلو ںکی سزادینے کے لئے باپ ، بھائی، شوہر یا بیٹے کو قتل کے بعد تعزیرات پاکستان میں معاف کرنے کی گنجائش کی وجہ سے غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم کی روک تھام تقریباً ناممکن ہے۔ کارو کاری، ونی، سوارا اور غیرت کے نام پر قتل کو حاصل قبولیت عام کی وجہ وہ مردانہ سوچ ہے جس کے باعث عورت کو اپنی ذات اور وجود کی شناخت اور فیصلے کے اختیارسے محروم کر کے اسے خاندان کی عزت یا وقار قرار دیا جاتا ہے ۔
غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم میں کمی نہ ہونے کا ایک بڑا سبب عورت کے اپنی مرضی سے شادی کرنے، میل جول رکھنے، مخلوط ماحول میں ملازمت کرنے یا گھر سے باہر آنے جانے کو بے حیائی اور گناہ سمجھنا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مردوں کے عورت پر قادر اور مختار ہونے کے تصور کو عوامی سطح پر حاصل قبولیت کی وجہ سے مردوں کو عورت پر تشدد کرنے ، زبردستی کرنے اور سزادینے کا غیر انسانی اختیار حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت کو آزادانہ فیصلے کرنے کی صورت میں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رابعہ کا قتل پاکستانی معاشرے میں انسانی جان بالخصوص عورت کے لئے پائے جانے والی بے حسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ رابعہ اور اس جیسی عورتوں کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی سزا دی جاتی ہے، کیوں کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوتی ہیں جہاں عورت ہونا اور عورت ہو کر اپنے فیصلے خود کرنا ناقابل معافی جرائم ہیں۔ عورتوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے قانون اور انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اجتماعی معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا جو عورت کی آزادی اور اختیار کا حق چھیننے کا باعث بنتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں انسانی حقوق: ایک لمحہ فکریہ

human rights

شہزاد یوسف

لغات کے مطابق انسانی حقوق سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ہوتے ہیں جو ان کے محض انسان ہونے کی وجہ سے ملنا چاہیئں۔ جیسا کہ خوراک، صحت، تعلیم اور آزادیءاظہار وغیرہ۔اور پھر ان کے ثقافتی، سیاسی اور معاشی حقوق جو کہ جدید معاشروں کا لازمہ ہیں۔
انسانی حقوق کی جدوجہدکی ابتدا 1215ءمیں یورپ میں میگنا کارٹا نامی قانون کی منظوری سے ہوئی البتہ عہد جدید میں اس جدوجہد کا پس منظر دوسری جنگ عظیم میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے جڑاہوا ہے۔ اسی جنگ کی تباہیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے 1948ءمیں اقوام متحدہ نے 30نقات پر مشتمل انسانی حقوق کا منشور پیش کیاجو کہ اس وقت کے ممبر ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ معاشروں میں اس وقت انسانی حقوق کی صورت حال، انسانوں کے نان و نفقہ سے لے کرشخصی آزادی تک، خاصی تسلی بخش ہے۔
دیکھا جائے تو اسلام نے دوسرے معاشروں سے بہت پہلے شخصی آزادی اور حقوق کا نعرہ بلند کیاتھالیکن آج مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں اس نعرے کو مغرب کی سازش سمجھا جاتا ہے۔ اور انسانیت کی تکریم کی بات کرنے والوں کو لادین اور مغرب کے پروردہ کہا جاتا ہے حالانکہ اسلام مساوات اور رواداری کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کے نعرے کو مغربی رنگ دینے میں ان استحصالی قوتوں کی بدنیتی اور کاوشیں کارفرما ہیں جو پسے ہوئے طبقوں کو جینے کا حق دینے پر کسی طور بھی تیار نہیں۔اور کیوں نہ ہوں عوام الناس کی محرومی اور کمزوری ہی ان کی طاقت اور اقتدار کا راز ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی معمول کی بات ہے اور اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انسانیت سوزواقعات پر حکومتی ایوانوں اور عوام میں اضطراب کی لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال 2010ءانسانی حقوق کے حوالے سے نہایت مایوس کن رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر تا نومبر صرف تین ماہ کے دوران 1136خودکشی کے واقعات ہوئے جن میں 578 لوگوں نے جان کی بازی ہاری جبکہ 558کو بروقت امداد سے بچا لیا گیا۔ خود کشی کی یہ شرح دنیا کے پس ماندہ ترین ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اوسطاً دس لوگوں نے روزانہ خودکشی کی کوشش کی جن میں سے پانچ کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اسی طرح ڈیرہ غازی خان کے علاقے مرہٹہ میں دو بچیوں کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے ماموں اور باپ کے ساتھ جیل سے رہائی پا کر آرہی تھیں ۔ اس واقعہ کے پیچھے کی کہانی نہایت المناک اور جان سوز ہے، کچھ عرصہ قبل یہ دونوں لڑکیاں زبردستی کی شادی طے ہونے کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئی تھیں۔
ہمارے معاشرہ میں خودکشی، غیرت کے نام پر قتل، خاندانی دشمنیاں ، زنا باالجبر ، جنسی طور پر ہراساں کرنا، جبری مشقت، مذہبی تنگ نظری اور دوسرے مذاہب سے عدم رواداری وہ تمام پہلو ہیں جن کی وجہ سے زندگی د ن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال 2010ءانسانی حقوق کے حوالے سے نہایت مایوس کن رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر تا نومبر صرف تین ماہ کے دوران 1136خودکشی کے واقعات ہوئے جن میں 578 لوگوں نے جان کی بازی ہاری جبکہ 558کو بروقت امداد سے بچا لیا گیا۔ خود کشی کی یہ شرح دنیا کے پس ماندہ ترین ممالک سے بھی زیادہ ہے۔

اگست 2010ءمیں وزرات برائے انسانی حقوق کے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعدادو شمار کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے عرصہ کے د وران کل گیارہ ہزار ایسے کیس رپورٹ ہوئے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی اور ان میں 8000کیسز بغیر کسی تفتیش اور انجام کے پولیس کی طرف سے یا دوسرے اداروں کی طرف سے ختم کر دئیے گئے۔ اسی طرح انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے پیش کردہ اعدادو شمار اس سے بھی زیادہ ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر تا نومبر 2010تین ماہ کے دوران کاروکاری کے الزامات لگا کر 64مرد و خواتین کو موت کے گھاٹ اتار گیا ان میں اکثریت خواتین کی تھی۔ ان واقعات میں سے بھی زیادہ ترکی تو رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی اور جن کی ہوئی تھی وہ بھی سرد خانے کی نذرہو گئےکیونکہ پاکستان میں غیرت کے نام پر کبھی بھی بہن بھائی ، ماں یا باپ کو قتل کرنے والے کو سزا نہیں ملی۔
اس سلسلے میں حکومتی عدم توجہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 4اگست2010ءمیں گھریلو تشدد سے بچاﺅ اور حفاظت کا ایک بل پارلیمنٹ میں منظور ہوا مگر سینٹ سے منظوری حاصل نہ کر سکا اس کے لئے حکومت نے نہ تو کوئی کمیٹی بنائی اور نہ ہی کوئی اورتگ و دو کی حالانکہ یہ بل خالصتاً عوامی مفاد کا بل تھا چنانچہ یہ بل اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ تاہم ایک دوسری سطح پر حکو مت کی تمام تر کوششوں کو مذہب کے نام پر سیا ست کر نے والی جما عتیں ناکام بنانے کے در پے رہتیں ہیں۔ Women Protection Billاس کی ایک مثال ہے۔
2ماہ قبل میر پور خاص کے علاقے میر واہ گور چانی میں ہندوﺅں کی میگھواڑ برادری کی ایک کالونی پر حملہ کرکے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا گیا۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک ایسے نوجوان کو پنا ہ دی ہے جس نے شہر کی دیواروں پر نبی کریم اور مسلمانوں کے بارے میں غلط ریمارکس لکھے ۔ اس طرح اس کالونی پر حملہ کرکے کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا اور گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ راجپوت برادری اس کالونی سے گزرنے کا راستہ مانگ رہی تھی جو کہ اقلیتی ہندوﺅں نے دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے یہ ناموس رسالت کی توہین کا ڈرامہ رچا کر اقلیتوں کو سبق سکھانے کا حیلہ بنایا گیا ۔ پاکستان میں ضیاءالحق کے دور حکومت سے لےکر آج تک اقلیتوں سے عدم برداشت کا جو رویہ روا رکھا گیا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بہت زیادہ شکوک و شبہات کا اظہار کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گوجرہ میں مسیحیوں پر ہونے والے ظلم اوردوسرے ایسے واقعات کی روشنی میں اور حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ”حکومت پاکستان اقلیتوں اور مذہبی اکائیوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔“

آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد ہوں یا سیلاب زدگان، ایجنسیوں کے لاپتہ کئے گئے افراد ہوں یا کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ ،بچوں ، مزدوروں، عورتوں اور کسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے لےکر اقلیتوں کے عدم تحفظ تک کے تمام معاملات میں ہماری حکومت نے حد درجہ بے اعتنائی اور عدم توجہ کا رویہ روا رکھا ہوا ہے۔

اقلیتوں کو تحفظ اور انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نامور مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے بنگلہ دیش سے موازنہ کرتے ہوئے کہا، ”بنگلہ دیش نے گذشتہ چالیس سال میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اور مجموعی طور پر بھی اپنے کلچر میں رواداری اور باہمی سمجھوتے کی فضا پید اکرتے ہوئے ہم سے بازی لے گیا ہے جبکہ ہم نے عدم برداشت اور مذہبی جنونیت کے ہاتھوں خود کو مزید گہرائی میں دھکیل دیا ہے۔“ ڈاکٹر مبارک علی پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے آمر ضیاءالحق کے دور کو بدترین قرار دیتے ہیں کہ اس دور کے بنائے ہوئے قوانین اور اقدامات آج بھی جنونیت اور شرپرستی کو ہوا دیتے ہیں۔
جنوبی پاکستان میں سندھ کے علاقے میں ایک ہندو اقلیتی تنظیم کے مطابق قریبا 20لاکھ ہندو جبری مشقت کےلئے غلاموں کے طور پر رکھے گئے ہیں اور ان میں غالب اکثریت نچلی ذات کے ہندوﺅں کی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بننے والے متعصب قوانین نے بھی عدم برداشت، جنسی عدم توازن اور اقلیتوں کے لیے مشکلات کو جنم دیا ہے ان متعصب قوانین میں حدود آرڈیننس ، قانون شہادت 1984، اور قصاص اور دیت کا 1991کا آرڈیننس قابل ذکر ہیں۔
انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیموں کے نزدیک ترقی یافتہ دنیا 2014ءتک پوری دنیا سے چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے جب کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب پاکستان میں چائلد لیبر کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔اس وقت پاکستان میں لگ بھگ دو کروڑ سے زیادہ بچے رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں معاشی سرگرمیوں میں متحرک ہیں۔
خفیہ ایجنسیا ں پاکستان میں آئے دن لوگوں کو اغوا کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتی ہیں ،اغوا شدگان کا کسی بھی عدالت یا کچہری میں مقدمہ چلائے بغیر اکثریت کو گمشدگی کے دوران ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار حکومت کو باقاعدہ خط لکھ کر کیا اور سپریم کورٹ آف پاکسان کے گمشدہ افراد کے بارے میں از خود نوٹس لینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ گذشتہ ششماہی میں سو کے قریب لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سےاسی کارکنان کی ہے ۔یہ صورتِ حال جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بد ترین مثال ہے وہیں بلوچستان میں بدامنی کا موجب بھی بن رہی ہے۔
اس کے علاوہ مزدوروں، کسانوں، اور ہاریوں کے حقوق کے حوالے سے بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ حکومت نے کم از کم اجرت کا اعلان تو کر دیا ہے مگر اس پر عمل در آمد کی صورتحال کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود حکومت کا شروع کر دہ قومی سطح کا صحت پروگرام جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کرتی ہیں ان کو کم از کم اجرت کے نصف سے بھی کم یعنی صرف پچیس سو سے تین ہزار ماہانہ ادا کئے جا رہے ہیں۔
سوات آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد ہوں یا سیلاب زدگان، ایجنسیوں کے لاپتہ کئے گئے افراد ہوں یا کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ ،بچوں ، مزدوروں، عورتوں اور کسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے لےکر اقلیتوں کے عدم تحفظ تک کے تمام معاملات میں ہماری حکومت نے حد درجہ بے اعتنائی اور عدم توجہ کا رویہ روا رکھا ہوا ہے۔
اس حکومتی بے حسی اور بے اعتنائی کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر زاہدہ حنا کہتی ہیں ”پاکستان نے جتنی نیک نیتی سے بین الاقوامی میثاق برائے سول و سیاسی حقوق پر دستخظ کئے ہیں اس کا اندازہ ان تحفظات سے لگایا جا سکتا ہے جو حکومت نے شامل کئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان آرٹیکلز 2،7،18 اور 19پر صرف اس حد تک عمل کرے گا جہاں تک وہ ملکی قوانین اور شرعی قوانین سے متصادم نہیں ہوگا۔ آرٹیکل 6کی ذیلی شق کہتی ہے کہ زندہ رہنا اور زندگی کی حفاظت حاصل ہونا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پاکستانی حکومت شاید زندہ رہنا بھی آئین سے متصادم سمجھتی ہے۔ اور جب پاکستانی حکومت آرٹیکل 6اور7 پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے تو وہ دراصل یہ اعتراف کرتی ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر غیر انسانی جرائم کا ارتکاب اس کی مرضی سے ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔“