مرد،عورت اور قبائلی سماج

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔
صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز کیوں اٹھائیں؟

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔
عورت اور ہمارا معاشرہ۔۔۔

حفیظ درویش عورت بھی کتنی بد قسمت واقع ہوئی ہے۔ اور اس بد قسمتی میں کافی عمل دخل اس کی خاموشی کو حاصل ہے۔ کیونکہ یہ بہت کم کسی ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ معاشرہ بھی ایسی عورت کو سراہتا ہے جو خاموشی اور صبر کے ساتھ ظلم کو سہہ جاتی ہے۔ […]